Translater

Journalist Killed in Pakistan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Journalist Killed in Pakistan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

20 جولائی 2012

ہند ۔ پاک کرکٹ میچوں کا متنازعہ فیصلہ

مرکزی سرکار نے بھارتیہ کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کو پاکستان کے ساتھ تین ایک روزہ اور دو ٹوئنٹی میچ کھیلنے کیلئے ہری جھنڈی دے دی ہے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان کرکٹ رشتے بحال کرنے کا فیصلہ بی سی سی آئی کی ورکنگ کمیٹی نے لیا۔ بورڈ نے ایک بیان میں بتایا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو دسمبر2012ء سے2013ء کے درمیان تین ایک روزہ ،دو ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کھیلنے کے لئے مدعو کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ کولکتہ، چنئی ،دہلی میں ایک روزہ جبکہ بنگلورو اور احمد آباد میں ٹی ٹوئنٹی کے مقابلے ہوں گے۔ بورڈ کے سینئر ممبر راجیو شکلا کے مطابق پی چدمبرم نے وزارت داخلہ کی طرف سے اس سیریز پر کسی طرح کا اعتراض نہ ہونے کی بات کہی ہے۔ حالانکہ وزارت نے اس فیصلے کے تئیں کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی ہے۔ اتنا ہی نہیں وزارت خارجہ سے بھی ہری جھنڈی ملنے کی اطلاع ہے۔ مرکزی سرکار اور بی سی سی آئی کا یہ فیصلہ حیرت اور ساتھ ہی سوال کرنے والا ضرور ہے۔ دیش کی عوام کے دل میں یہ سوال اٹھنا فطری ہی ہے کہ آخر اس درمیان ایسا کیا خوشگوار معاملہ ہوا جس سے بھارت سرکار نے پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو ملک میں کھیلنے کی اجازت دے دی؟ ابھی بھی تو نئے سرے سے یہ سامنے آیا ہے کہ ممبئی حملے میں پاکستان کی سرکاری ایجنسیوں کی ساجھیداری تھی۔چونکانے والی بات یہ ہے کہ قصاب ، ڈیوڈ ہیڈلی اور ابو جندال کے خلاصوں کے بعد بھی پاکستان نے 26/11 کے گنہگاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس فیصلے کی سنیل گواسکر نے بھی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے ممبئی کے باشندہ ہونے کے ناطے مجھے لگتا ہے کہ جب ممبئی حملے کی جانچ میں پاکستان سے تعاون نہیں مل رہا ہے تو میچ کے انعقاد میں جلد بازی کیوں کی گئی؟ بھاجپا ترجمان شاہنواز حسین کا تبصرہ دلچسپ تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ میچ کے لئے پہلے بھی بھارت آچکی ہے ،اب ممبئی حملے کے گنہگار آتنکیوں کی ٹیم کو بھی بھارت بلایا جانا چاہئے۔ سپا لیڈر ابو اعظمی کا کہنا تھا ممبئی حملے کے ذمہ داردیش کے ساتھ ہم کیسے کھیل رشتے رکھ سکتے ہیں۔ میں نے اسی کالم میں آئی پی ایل میچوں کے دوران تجویز رکھی تھی کہ جب پاکستان امپائر آسکتے ہیں تو اظہر محمود لندن کے ذریعے آسکتے ہیں تو پاکستانی کھلاڑیوں کے آئی پی ایل کھیلنے پر پابندی کیوں۔ آئی پی ایل میں پاکستانی کھلاڑیوں کا کھیلنا سمجھ میں آتا ہے کیونکہ وہ بھارت سرکار کے مدعو کردہ نہیں ہیں لیکن بھارت۔ پاک سیریز وہ بھی بھارت سرکار کی دعوت پر کھیلی جائے تو اور بات بن جاتی ہے۔ آج بھارت سمیت سبھی مہذب دنیا کا پاکستان پر دہشت گردی پر لگام لگانے کا دباؤ بڑھ رہا ہے ایسے وقت پاکستان کے ذریعے آتنک واد پر منفی نظریہ دکھانے کے باوجود انہیں اپنے دیش میں بلانا کیا مناسب ہوگا؟ ہمیں نہیں معلوم کے اس فیصلے کے پیچھے مرکزی سرکار کی کیا رائے ہے لیکن شبہ یہ ہی جاتا ہے کہ پاکستان کے تئیں ان کی پالیسی پہلے کی طرح ٹال مٹول والی بنی ہوئی ہے۔ بیشک بھارت سرکار کی پالیسی ٹال مٹول والی ہو لیکن پاکستان کا رویہ دہشت گردی کے تئیں پرانا ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اس سے زیادہ مایوس کن اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو بھارت آکر کھیلنے کی اجازت دینے کے 24 گھنٹے کے اندر وہیں کی ایک عدالت نے ممبئی حملے کی جانچ کے لئے بنائے گئے کمیشن کی رپورٹ کو غیر قانونی بتاتے ہوئے سرے سے خارج کردیا۔ اس سے یہ پرانا سوال نئے سرے سے اٹھنا فطری ہے کہ کیا پاکستان ممبئی حملے کی سازش رچنے والوں کو سزا دینے کیلئے ذرا بھی خواہشمند ہے؟ یہ سوال اس لئے اور سنجیدہ ہوجاتا ہے کہ کیونکہ ممبئی حملے کی سازش رچنے کے 7 آتنکیوں کے خلاف سماعت شروع ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔

20 ستمبر 2011

سلیم شہزاد کا قتل جنرل کیانی کے اشارے پر ہوا؟


Published On 20th September 2011
انل نریندر
امریکہ کی مقبول اور تفتیشی میگزین ’’نیویارکر‘‘نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے اشارے پر وہاں کے تفتیشی صحافی سلیم شہزاد کا قتل ہوا تھا۔جریدے کے تازہ شمارے میں شہزاد کی موت کے بارے میں شائع مضمون میں کہا گیا ہے کہ جنرل کیانی کے اسٹاف کے ایک بڑے افسر نے اپنے آقا کے اشارے پر اس صحافی کو مارنے کا حکم دیا۔میگزین نے امریکہ کے خفیہ ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی شہزاد کی شائع رپورٹوں سے ناراض تھیں۔جریدے کے مطابق فوج اور آئی ایس آئی کا غصہ اس وقت ساتویں آسمان پر چڑھ گیا جب شہزاد نے ایشیا ٹائمز میں اپنی ایک رپورٹ میں اس بات کا خلاصہ کیا کہ کراچی کے مہران بحری اڈے پر گذشتہ22 مئی کو آتنک وادی حملے بحریہ اور القاعدہ کے درمیان سانٹھ گانٹھ کا نتیجہ تھا۔ اس میں فوج کے انتہائی جدید جاسوسی جہازوں کو تباہ کردیا گیا تھا۔نیویارکر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے شہزاد کو 29 مئی کو اغوا کیا۔ ابتدا میں اغوا کاروں کو اس صحافی کو سبق سکھانے کیلئے ہدایت دی گئی تھی لیکن بعد میں اسی وقت اوپر سے فرمان آیا کہ شہزاد کو موت کی نیند سلا دو۔ شہزاد کی لاش صوبہ پنجاب میں ایک نہر کے کنارے پڑی پائی گئی تھی جس پر شدید اذیتوں کو نشان تھے۔جریدے میں یہ بھی قیاس آرائی کی گئی ہے پاکستانی فوج کو یہ شبہ تھا کہ شہزاد اپنی تفتیشی صحافت کے سلسلے میں برطانیہ کی خفیہ ایجنسی MI6 اور بھارت کی خفیہ ایجنسی RAW کے رابطے میں تھا ۔
پولٹ زر انعام یافتہ صحافی ڈیکسٹر فلکنس نے اپنے مضمون میں کڑی سے کڑی ملاتے ہوئے لکھا ہے کہ الیاسی کشمیری کا قتل شہزاد کے قتل کے بعد ہوا تھا۔ اس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ آئی ایس آئی نے شہزاد کو ٹارچر کیا اور الیاس کا پتہ بتانے کے لئے مجبور کیا گیا۔ شہزاد سے ملی جانکاری اس نے امریکہ کو دے دی۔ اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس نے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ شہزاد کے فون سے پتہ چلا کہ اس نے ایک مہینے کے وقفے میں الیاس کشمیری سے 258 بار بات کی تھی۔ مضمون میں بتایا گیا ہے کہ شہزاد آئی ایس آئی کے راڈار پر مہینوں سے تھا۔ آئی ایس آئی نے اس پر اس بات کا دباؤ بھی بنایا تھا کہ ان کا تعلق طالبان لیڈروں سے قائم کرائے۔ شہزاد نے ایسا کرنے سے صاف انکار کردیا تھا۔ مضمون میں آگے بتایا گیا ہے کہ پچھلے سال شہزاد نئی دہلی کی ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے آیا تھا۔ اس وقت ہندوستانی خفیہ ایجنسی نے اسے RAW میں شامل ہونے کی تجویز رکھی تھی لیکن شہزاد اس کے لئے تیار نہیں ہوا تھا۔ اس قصے سے پتہ چلتا کہ آج کی تاریخ میں پاکستانی صحافی کتنے خوفناک ماحول میں اپنا کام کررہے ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, General Kayani, ISI, Journalist Killed in Pakistan, Pakistan, Vir Arjun

07 جون 2011

بھارت کو امریکہ کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کشمیری کو مار گرایا


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
7 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد امریکہ کو دوسری قابل ذکر کامیابی ملی ہے۔امریکہ کی پانچ انتہائی مطلوب آتنکی فہرست میں شامل الیاس کشمیری مارا گیا۔ امریکہ نے اس پر 50 لاکھ ڈالر کا انعام رکھا ہوا تھا۔ شکروار تقریباً رات سوا گیارہ بجے جنوبی وزیرستان میں ایک ڈرون حملے میں الیاس اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ شکار ہوگیا۔ اس کی تصدیق حرکت الجہاد اسلامی نے کردی ہے۔ خونخوار 313 برگیڈ نے ایک فیکس جو پیشاور میں اخبار نویسوں کو بھیجا گیا اس کی تصدیق اس سے ہوتی ہے۔بھارت کو امریکہ کا شکر گذار ہونا چاہئے کہ اس نے بھارت کے ایک بہت بڑے دشمنوں کو ماردیا ہے، ہم تو اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے حالانکہ الیاس امریکہ کے زیادہ بھارت کا بڑا گناہگار تھا بھارت نے اس خونخوار دہشت گردی کی کئی خطرناک سازشوں کے لئے مانگ کی تھی۔ اسامہ بن لادن کے چیلے کے مارے جانے کے بعد اب اس کے جانشین کی شکل میں بھی کشمیری کا نام ہی چل رہا تھا۔ اس نے 26 نومبر2008 کو ممبئی کو دہلانے کیلئے رچی گئی سازش میں اہم کردار نبھایا تھا۔ جموں و کشمیر میں دہشت گردی اگر اتنی بڑھی ہے تو اس کے پیچھے الیاس کشمیری ایک بہت بڑا سبب تھا کیونکہ وہ خود پاکستان کے مقبوضہ کشمیر کے کوٹلی علاقے میں پیدا ہوا تھا، تو اس وجہ سے اس کی ہمیشہ توجہ کشمیر میں لگی رہی۔ الیاس پر الزام ہے کہ اس نے کئی ہندوستانی فوجیوں کے سر قلم کئے اور اسی کے انعام کی شکل میں پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے اسے باقاعدہ اعزاز سے سرفراز کیا تھا۔ بعد میں یہ ہی الیاسی اسی مشرف کو مارنے کی سازش میں ملوث تھا۔ دہشت کی دنیا میں کشمیری نے سب سے پہلے لشکر طیبہ کاساتھ چنا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب کشمیری نے خود ایک آتنکی تنظیم کی بنیاد رکھی اور اس کا نام حرکت الجہاد الاسلامی (ہجی) کا نام دیا گیا۔ یہ آتنک تنظیم کئی برسوں سے ہند مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھی۔ گذشتہ دنوں سید سلیم شہزاد کا قتل ہوا تھا ،شہزاد نے اسی الیاسی کے بارے میں دو مضمون لکھے تھے۔ اپنے ایک بلاگ میں انہوں نے بتایا کہ 23جولائی2003 ء کو ہندوستانی فوج کو اکنور کیمپ پر ایک حملہ ہوا تھا۔ اس میں 9 فوجی افسر مارے گئے تھے۔ جس میں برگیڈیئر وی کے گوول بھی شامل تھے۔نارتھ کمان کے چیف لیفٹیننٹ جنرل ہری پرساد زخمی ہوئے تھے۔ الیاس 1994 ء میں دہلی میں بھی اپنی سرگرمیاں چلا رہا تھا۔ عمر شیخ کے ساتھ الیاس بھی وہی وال اسٹریٹ جنرل کے صحافی ڈینیل پرل کے قتل میں شامل تھا۔
بھارت کو امریکہ کا شکر گذار ہونا چاہئے کہ اس نے وہ کام کردیا جو شاید ہم کبھی نہیں کرسکتے تھے۔ ہم نے تو اس الیاس کو ایک نہیں دو بار پکڑ کر بھاگنے کا بھی موقع دیا۔ پہلی بار فوج نے اور دوسری بار 1994 میں غازی آباد کے مسوری تھانہ علاقے میں پولیس کے ساتھ مڈ بھیڑ میں زخمی ہوا تھا۔ اس کے دو ساتھی مارے گئے تھے۔ ان کے قبضے سے ایک امریکی نژاد غیر ملکی شہری کو چھڑایا بھی گیا تھا۔ الیاس کشمیری جو مشن پورا کرنے کے لئے بھارت آیا تھا وہ بھلے ہی پورا کرلیا ہو، مگر پاپ کا گھڑا بھرتاہے تو ایک نہ ایک دن پھوٹ ہی جاتا ہے۔آخر کار الیاس کشمیری پاکستان میں ماراگیا۔ امریکہ کو اس لائق تحسین کامیابی پر مبارکباد۔ اسامہ کے بعد یہ امریکہ کو دوسری بڑی کامیابی ملی ہے۔
Tags:America, Anil Narendra, Daily Pratap, Ilyas Kashmiri, India, Journalist Killed in Pakistan, Pakistan, Terrorist, Vir Arjun

05 جون 2011

۔26/11حملے کی سازش آئی ایس آئی نے رچی تھی: شہزاد


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

5 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
پاکستانی صحافی سید سلی شیخ شہزادکے بے رحمانہ قتل نے پاکستان میں بھی کھلبلی مچا دی ہے۔ پورے ملک میں اس کے قتل کی مذمت کی جارہی ہے۔ پاکستانی میڈیا کھل کر لکھ رہا ہے۔ پاکستان صحافیوں کیلئے کتنا خطرناک ملک بن چکا ہے ایک طرف جہاں پاکستانیت ڈاٹ کام کے بلاگر عدیل نظام نے شہزاد کی موت کو دیش کے لئے ایک وارننگ بتایا ہے ، وہیں ایک کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز کے مصنف محمد حنیف نے اپنے ٹوئیٹر پر لکھا ہے ، کیا یہاں کوئی ایسا صحافی ہے جو یہ مانتا ہو کہ اس کے پیچھے خفیہ کا ہاتھ نہیں ہے۔ نظام نے اپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ پاکستانیوں کو غیر محفوظ اور خوفزدہ رہنے کی عادت سی بن گئی ہے۔ آج وہ اور زیادہ اپنے آپ کو غیر محفوظ اور خوفزدہ محسوس کررہے ہیں۔ ڈیلی ٹائمز نے اپنے اداریے میں لکھا ہے، صحافی کا قتل صحافیوں کیلئے ایک وارننگ ہے ،اگر وہ ایمانداری سے صحافت کریں گے تو ان کا یہ ہی انجام ہوگا۔ انگریزی اخبار ڈان لکھتا ہے کہ اگر دنیا پاکستان کو صحافیوں کے لئے ایک جان لیوا ملک کہتی ہے تو اس تہمت سے چھٹکارا پانا ا س کے لئے واقعی مشکل ہے۔
شہزاد نے ایک کتاب ’ان سائڈ القاعدہ اینڈ طالبان بی اونڈ بن لادن اینڈ9/11‘ لکھی تھی۔ گذشتہ20 مئی کو شائع اس کتاب کو ڈان اخبار نے مفصل سے شائع کیا۔ کتاب میں 40 سالہ مصنف شہزاد نے ممبئی حملے کے پس منظر کی تفصیل بیان کی ہے۔ اس میں شہزاد نے بتایا کہ کس طرح 2008ء میں ممبئی حملے کو انجام دیا گیا۔ ہندوستان کے خلاف مہم میں الیاس کشمیری کو اولیت حاصل رہی ہے۔ اس نے یہ تجویز دے کر القاعدہ کے لیڈروں کو حیرت زدہ کردیا تھا کہ وہ موجودہ تعطل کو ختم کرانے کا ایک واحد راستہ جنگ ہے۔ اس نے بھارت میں ایسی بڑی کارروائی چلانے کی تجویز پیش کی تھی جس سے ہند اور پاکستان میں جنگ چھڑ جائے اور اس سے القاعدہ کے خلاف سبھی مجوزہ کارروائیاں رک جائیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ القاعدہ نے بھارت پر آتنکی حملے کی تجویز کو منظوری دے دی۔ شہزاد نے لکھا کہ الیاس کشمیری نے تب حملے کی پوری سازش کا خاکہ فوج کے سابق میجر ہارون عارف کو سونپا تھا۔ کتاب میں شہزاد نے لکھا ہے کہ فوج کے سابق میجر اے الیاس کشمیری کے گرگوں کی مدد سے آئی ایس آئی کی سازش کو ہڑپ کرکے اسے 26 نومبر2008 ء کو ممبئی کے تباہ کن حملے کی شکل میں بدل دیا۔
دراصل شہزاد آئی ایس آئی اور القاعدہ کے بارے میں ضرورت سے زیادہ جانکاری پا چکا تھا۔ یہ ہی تفتیشی صحافی شہزاد کی موت کا سبب بنی۔ شہزاد نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ آئی ایس آئی دیش کے انتہائی اہم ترین نیوکلیائی ہتھیار پروگرام کے علاوہ ایک خفیہ پروگرام چلا رہی ہے۔ اس کے تحت کام چلاؤ نیوکلیائی بم تیار کئے جارہے ہیں۔اگر آئی ایس آئی کے کچھ افسر تباہی مچانے والے ہتھیاروں کو آتنکی گروپوں تک پہنچا سکتے ہیں ۔ افغانستان اور پاکستان میں آتنک واد کے بارے میں شہزاد بہت کچھ جان چکے تھے۔ آئی ایس آئی کو یہ بات بہت کھٹک رہی تھی۔ سید سلیم شہزاد کو شاید القاعدہ کے پاس ایٹمی ہتھیار ہونے، بھارت یا اسرائیل کے خلاف ان کے استعمال کی سازش کی جانکاری تھی۔ اس سے پہلے کے وہ ایسی سرگرمیوں کا مزید خلاصہ کرتے ان کا منہ ہمیشہ کے لئے بند کردیا گیا۔ منہ تو بند کردیا گیا لیکن ان کی تحریریں امر ہوگئی ہیں۔
Tags: 26/11, Anil Narendra, Daily Pratap, ISI, Journalist Killed in Pakistan, Pakistan, Terrorist, Vir Arjun

03 جون 2011

ایک اوربہادر قلم کا سپاہی آتنک کی بلی چڑھا

 
Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
3  جون 2011 کو شائع
انل نریندر
ایک اور قلم کا سپاہی آتنکواد کی بلی چڑھ گیا۔ پاکستان کا ایک بہادر صحافی سید سلیم شہزاد ہفتے بھر سے لا پتہ تھا۔ منگلوار کو پنجاب صوبے سے اس کی لاش برآمد ہوئی۔ لاش کی حالت دیکھ کر لگ رہا ہے کہ مارنے سے پہلے اسے بری طرح سے پیٹا گیا ہے۔ لاپتہ ہونے سے دو دن پہلے شہزاد نے ایک مضمون میں پاکستانی بحریہ کے کچھ افسروں اور آتنکی تنظیموں القاعدہ کی سانٹھ گانٹھ کا ذکر کیا تھا۔ سید سلیم شہزاد40 سال کے تھے۔ وہ اپنے پیچھے بیوی عقیلہ، دو لڑکے فحاد14 سال، اورسید8 سال و ایک بیٹی امینہ 12 سال کو چھوڑ کر آتنک واد کی بلی چڑھ گئے۔شہزاد ایشیا ٹائمز( آن لائن) اخبار ہانگ کانگ کے پاکستانی بیورو چیف تھے۔ شہزاد نے دو کتابیں ان سائٹ القاعدہ اینڈ طالبان دی بی آرڈ بن لادن اینڈ 9/11 بھی لکھی تھیں۔ شہزاد نے کچھ وقت کیلئے ٹائمس آف انڈیا کے لئے بھی رپورٹنگ کی تھی۔
سید سلیم شہزاد کی لاش منگلوار صبح لاہور سے قریب200 کلو میٹر اولم قصبے کے سرائے عالمگیر علاقے سے ایک نہر سے ملی۔ پاس ہی میں اس کی کار لاوارث حالت میں کھڑی ملی اور لاش پر اذیتوں کے نشان صاف تھے۔ اطالوی نیوز ایجنسی کے لئے بھی کام کرنے والے شہزاد اکثر اپنی رپورٹنگ میں پاکستان۔ افغانستان کے دہشت گردوں ، پاکستانی اداروں کے ساتھ ان کے روابط کے بارے میں لکھتے رہتے تھے۔ لاپتہ ہونے سے2 دن پہلے شہزاد نے اپنے ایک آرٹیکل میں پاکستانی بحریہ کے کچھ افسروں اور دہشت گرد تنظیم القاعدہ کی سانٹھ گانٹھ کے بارے میں مفصل طور پر ذکر کیا تھا۔ شہزاد آئی ایس آئی کے نشانے پر کافی وقت سے تھے۔ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی آئی ایس آئی دے چکی تھی۔ ایک چینل جی او ٹی وی نے ایک کالی سفید تصویر دکھائی جس میں شہزاد کے چہرے پر ٹارچر کئے جانے کے نشان صاف دکھائی دے رہے تھے۔ 27 مئی کو شہزاد نے آرٹیکل لکھا جس کا عنوان تھا’’ القاعدہ ہیڈ وانڈ آف پاکستان اسٹرائک سیریا‘‘ ٹائمس آن لائن میں یہ لکھا گیاتھا ۔ اس مضمون میں انہوں نے بتایا تھا کہ پی این ایس مہران بحری اڈے پر 22 مئی کو القاعدہ کا جو حملہ ہوا تھا تب القاعدہ اور بحریہ کے افسروں کے درمیان بات چیت کے ٹوٹنے کے بعد ہوا تھا۔ القاعدہ چاہتا تھا کہ پاکستانی بحری افسر ان کے کچھ حمایتی جو پاکستانی بحریہ کے قبضے میں ہیں انہیں چھوڑا جائے۔ القاعدہ آتنکی روابط کے چلتے گرفتار کئے گئے بحریہ کے ملازمین کی رہائی چاہتا تھا۔ ایتوار کی شام کو اسلام آباد میں واقع اپنے گھر سے نکلنے کے بعد یہ صحافی لا پتہ ہوگیا تھا۔ وہ بحریہ کے مہران بحری اڈے پر آتنکی حملے سے متعلق ایک ٹی وی پروگرام میں حصہ لینے کے لئے ’’دنیا‘‘ نیوز چینل کے دفتر جا رہے تھے۔
پاکستانی میڈیا میں ایسی خبریں آئی تھیں کہ ملک کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے انہیں اغوا کرلیا ہے۔ کئی انٹر نیشنل صحافی تنظیموں اور انسانی حقوق تنظیموں نے پاک سرکار سے شہزاد کا پتہ لگانے کی اپیل کی تھی۔ شہزاد کے قتل کی ذمہ داری ابھی تک کسی دہشت گرد تنظیم نے نہیں لی ہے۔ شہزاد کی موت سے پتہ چلتا ہے پاکستان میں قلم کے سپاہی اپنی جان ہتھیلی پر لیکر زندہ ہیں۔ ہم مسٹر سید سلیم شہزاد کو سلام کرتے ہیں اور ان کے کنبے کے افراد کو کہنا چاہتے ہیں کہ وہ دکھ کی اس گھڑی میں تنہا نہیں ہیں، ہم ان کے ساتھ ہیں۔
Tags: Anil Narendra, Daily Pratap, ISI, Islamabad, Journalist Killed in Pakistan, Pakistan, Vir Arjun

طالبہ کے پتا کا حملہ آور گرفتار !

کاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کے دوران ایک دلت نابالغ طالبہ کے والد پر قاتلانہ حملہ کے الزام میں خودساختہ اپنے آپ کو ہندو وادی و...