Translater

Parliament لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Parliament لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

15 مئی 2012

60 برس کی ہوئی ہندوستانی سنسد!



Published On 15 May 2012
انل نریندر
ہندوستانی جمہوریت کے سپریم ادارے یعنی پارلیمنٹ نے اپنے 60سال کا سفر پورا کرلیا ہے۔ 3 اپریل 1952ء کو پہلی بار اوپری ایوان یعنی راجیہ سبھا تشکیل دی گئی۔ اس کا پہلا اجلاس 13 مئی 1952 ء کو بلایا گیا۔ اسی طرح17 اپریل 1952 ء کو پہلی لوک سبھا کی تشکیل ہوئی اور پہلا اجلاس13 مئی 1952 ء کو بلایا گیا۔ ہندوستانی پارلیمنٹ کے 60 سالوں کے سفر اور کارناموں اور چیلنج کے نکتہ نظر سے ملا جلا رہا ہے۔ جب پارلیمنٹ کی تشکیل ہوئی تھی تو دیش کے عام اور غریب لوگوں کی توقعات تھی کہ آزاد بھارت میں ان کی ساری امیدیں پوری ہوجائیں گی اور اب اپنی سرکار بنی ہے جس کا پہلا فرض اپنی عوام کے تئیں سیوا ہوگا۔ ان 60 برسوں میں دیش نے بہت ترقی کی ہے۔ شہروں میں جدید بہتر سہولیات بڑھی ہیں، دیہات میں ترقی ہوئی ہے، فی شخص آمدنی بڑھی ہے۔ ریلوے، ہوائی جہاز، میٹرو جیسی سہولیات بڑھی ہیں لیکن پچھلے کچھ برسوں میں پارلیمنٹ کے وقار کو ٹھیس پہنچی ہے۔ پارلیمنٹ کا وقار دن بدن گرتا جارہا ہے۔ ممبران کا برتاؤ بھی بدسے بدتر ہوتا جارہا ہے۔ آج عام جنتا پارلیمنٹ سے کچھ حد تک ناراض ہے ،مایوس ہے۔ موجودہ پارلیمنٹ کی کارروائی اور ممبران کے برتاؤ کو دیکھ کر کافی دکھ ہوتا ہے۔ دیش میں اقتصادی ترقی اچھی ہوئی ہے۔ بیشک دیش نے ترقی کی لیکن اس حساب سے جمہوری دیش کی سیاست و سماج اور سسٹم اور انتظامی ڈھانچہ بہتر نہیں ہوسکا۔ عوامی لیڈروں کی دیش میں کمی ہوگئی ہے اور پارلیمنٹ میں پہلے کی طرح اب جنتا سے جڑے اشو کم اٹھتے ہیں۔ سیاست میں بھاری گراوٹ آئی ہے۔ سیاست میں جرائم کرن بڑھا ہے اور اس کی وجہ سے لوک سبھا میں کئی مجرمانہ نظریئے کے ایم پی بھی نظر آرہے ہیں۔ پارلیمنٹ میں ممبران کے برتاؤ پر آئے دن سرخیاں بنتی رہتی ہیں۔ ایک دوسرے پر چیخنا ،گھونسے بازی، کاغذات چھینناپھاڑنا،دستاویزات کو وزرا پر پھینکنا، آئے دن ایوان کا التوا ہونا ، ایک رواج سا بن گیا ہے۔ آج کی ہندوستانی پارلیمنٹ نے پچھلے برسوں میں کئی بڑے لیڈر بھی دیکھے ہیں ۔ جواہر لعل نہرو، سردار بلب بھائی پٹیل، مولانا ابوالکلام آزاد، اٹل بہاری واجپئی، فیروز گاندھی، چندر شیکھر، رام منوہر لوہیا، جوترمے بسو ، موہن دھاریہ، مدھولمے جیسے سرکردہ لیڈروں نے اسی پارلیمنٹ کو زینت بنایا۔ یہ سبھی لیڈر اصول پرست اور دور اندیش عوام کے صحیح نمائندہ تھے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کئی ایم پی صنعتی گھرانوں کی نمائندگی کرتے ہیں تو کئی ایم پی مافیہ گروہ کی، جو ایک دہائی سے چلے آرہے ہیں۔ ان میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے کردار اور تشکیل اور آپسی تنازعے اور پروگرام میں جو بھی تبدیلی ہوئی ہے ان سے سارا پارلیمانی کلچر بدل گیا ہے۔ ہاں بھارت اس بات پر فخر کرسکتا ہے کہ ساری کمیوں کے باوجود ہمارے دیش میں 60 برسوں میں پارلیمانی جمہوریت چلی آرہی ہے۔ ہمارے دیش میں بیلٹ سے تبدیلی اقتدار ہوتا ہے ،گولی سے نہیں۔ آزادی اور پارلیمنٹ دونوں ہی انتہائی نازک پودے ہیں۔ اگر انہیں توجہ سے نہیں سینچا گیا اور بنائے نہ رکھا جائے تو یہ جلد ہی مرجھا جاتے ہیں۔ اگر ہمیں پارلیمنٹ اور پارلیمانی جمہوریت کو مضبوط بنانا ہے تو سب سے پہلے ایسا کچھ کرنا ہوگا جس سے پارلیمنٹ اور ممبران کے روایتی وقار پھرسے قائم ہوں اور پھر سے انہیں مینڈیڈ سے احترام اور پیار کی جگہ مل سکے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Parliament, Vir Arjun

05 مئی 2012

اور اب بابا رام دیو نے پارلیمنٹ کو کوسا



Published On 5 May 2012
انل نریندر

یہ دکھ کی بات ہے کہ کچھ لوگ اپنی بھڑاس نکالنے کے لئے کچھ بھی کہہ دیتے ہیں وہ بولنے سے پہلے یہ بھی نہیں سوچتے وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں کیا وہ ٹھیک ہے۔ پارلیمنٹ کے وقار کے مطابق میں بابا رام دیو کی بات کررہا ہوں۔ اپنی بوکھلاہٹ میں بابا رام دیو نے گذشتہ دنوں چھتیس گڑھ کے درگ میں ممبران پارلیمنٹ کو ڈکیت، قاتل اور جاہل بتا ڈالا۔ اس سے پہلے ٹیم انا کے اروند کیجریوال نے بھی پارلیمنٹ کے بارے میں اول فول بکا تھا۔ بابا رام دی درگ میں بولے کہ ممبران پارلیمنٹ میں اچھے لوگ بھی ہیں اور میں ان کا احترام کرتا ہوں لیکن وہاں ڈکیت، قاتل ،جاہل بھی بیٹھے ہوئے ہیں انہیں کسانوں ،مزدوروں اور لوگوں کی کوئی فکر نہیں ہے وہ صرف پیسے کے غلام ہیں۔ وہ انسان کی شکل میں شیطان ہیں۔ ہمیں پارلیمنٹ کو بچانا ہے۔ ہمیں کرپٹ لوگوں کو ہٹانا ہے۔ جب بابا کے اس بیان پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ ہوا تو بابا بولے میں اپنے بیان پر قائم ہوں۔ پارلیمنٹ میں بیٹھے زیادہ تر ایم پی چور ہیں بابا کے اس بیان پر ممبران کا بھڑکنا فطری ہی تھا۔ بابا نے یہ بیان منگل کے روز دیا تھا تو بدھ کو ہی سبھی پارٹیوں کے ممبران نے ایک آواز میں کہا کہ اس طرح کی بے عزتی نا قابل قبول ہے۔ ممبران نے یوگ گورو پر جم کر بھڑاس نکالی۔ آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو نے کہا کہ لگتا ہے بابا کا ذہنی توازن بگڑ گیا ہے جبکہ کانگریسی ایم پی ستیہ ورت چترویدی نے کہا کہ رام دیو خود ڈھونگی بابا ہیں ایسے میں ان کی رائے زنی پر زیادہ توجہ نہیں دی جانی چاہئے۔ سابق وزیر خزانہ اور بھاجپا لیڈر یشونت سنہا نے کہا ممبران اور دوسرے لیڈروں کو کوسنے کا فیشن سا چل پڑا ہے۔ پارلیمانی وقار کے لئے یہ تشویشناک پہلو ہے۔ حالیہ مہینوں میں کئی بار پارلیمنٹ کی ساکھ پر سوال کھڑا ہوا ہے۔ یہ سارا معاملہ پچھلے سال اگست میں رام لیلا میدان میں انا ہزارے کی تحریک سے شروع ہوا۔ اسی وقت فلم اسٹار اوم پوری نے ممبران کے خلاف جم کر بھڑاس نکالی تھی۔ ممبران کو وہ گنوار اور چور ،نالائق تک کہہ گئے۔ جب پارلیمنٹ میں سخت تیور دکھائے گئے تو اوم پوری نے معافی مانگ لی۔ پھر آئی باری اروندکیجریوال کی انہوں نے کہہ دیا کہ زیادہ تر ایم پی آبروریز، لٹیرے اور جرائم کے کردار والے ہیں۔ اس پر پارلیمنٹ کی توہین کا معاملہ ان پر چل رہا ہے۔ اس کے بعد بھی کیجریوال پارلیمنٹ کے سامنے معافی مانگنے کو تیار نہیں ہوئے تھے یہ معاملہ ابھی تک لٹکا ہوا ہے۔ ہم بابا رام دیو کی بات سے متفق نہیں ہیں۔ سارے ایم پی چور بے ایمان نہیں ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ پر مجرمانہ معاملے درج ہوں لیکن اس سے آپ سبھی کو غلط نہیں بتا سکتے۔ ایک جمہوریت میں آخری فیصلہ جنتا کا ہوتا ہے۔رام دیو اور کیجریوال جیسے تلخ نیتا جنتا سے کیوں نہیں سیدھی بات کرتے۔ لوک سبھا چناؤ ہونے والے ہیں کیوں نہیں وہ جنتا کو سمجھاتے کہ مجرمانہ ریکارڈ اور غلط کردار کے امیدواروں کو وہ ووٹ نہ دیں۔ جمہوری اداروں کو یوں گالی نکالنا صحیح نہیں ہے۔ یوں تو کیا بابا رام دیو اس بات سے انکارکرسکتے ہیں کہ سادھوؤں میں بھی ہر طرح کے بدکردار لوگ ہیں تو کیا ہم سبھی سادھوؤں کو گالی دیں؟
Anil Narendra, Baba Ram Dev, Daily Pratap, Parliament, Vir Arjun

29 فروری 2012

کیجری ۔۔۔۔ بوال



Published On 29 February 2012
انل نریندر
ٹیم انا کے بڑبولے ممبر اروند کیجریوال نے تو ساری حدیں پار کردی ہیں۔ گریٹر نوئیڈا میں ایک چناؤ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں چور، لٹیرے اور آبروریز بیٹھے ہیں ان سے انہیں کوئی امید نہیں ہے۔ کیجریوال نے کہا پارلیمنٹ میں 163 ایم پی ایسے ہیں جن کے خلاف گھناؤنے جرائم کے مقدمے چل رہے ہیں۔ کیجریوال کے مطابق پارلیمنٹ دیش کا سب سے بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے اور جب تک اس کا کردار نہیں بدلا جائے گا دیش میں بہتری نہیں آسکتی۔ انہوں نے آر جے ڈی کے لالو پرساد یادو ، سپا کے ملائم سنگھ یادو پر جم کر نشانہ لگایا اور کہا کہ ایسے لوگ پارلیمنٹ میں کبھی بھی لوکپال بل پاس نہیں ہونے دیں گے۔ کیجریوال کے اس تلخ رویئے کے خلاف سبھی پارٹیوں نے ایک آواز میں ناراضگی ظاہر کی لیکن کیجریوال کو شاید اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ اگلے ہی دن انہوں نے ٹوئٹر پر لکھ دیا کہ پارلیمنٹ اور سرکار مجرموں کے ہاتھ یرغمال ہے۔
انہوں نے میڈیا سے کہہ دیا کے چناؤ ریلی میں کچھ بھی غلط نہیں کہا تھا ایسے میں معافی مانگنے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے دوہرایا کہ اگر پارلیمنٹ میں سینکڑوں جرائم پیشہ بیٹھے ہیں تو اس حقیقت کے بارے میں بولنا گناہ کیسے ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں چور، گریکٹ جیسے معمولی جرائم پیشہ نہیں وہاں تو 15 ایسے ایم پی ہیں جن پر قتل کا مقدمہ چل رہا ہے۔ 23 ایسے ایم پی ہیں جن پر اقدام قتل کے معاملے چل رہے ہیں،13 ایم پی ایسے ہیں جن پر اغوا کے مقدمے چل رہے ہیں،11 پر دھوکہ دھڑی کے معاملے ہیں۔ اروند کیجریوال کے اس بیان سے سیاسی پارٹیوں کا بھڑکنا سمجھ میں آتا ہے۔ کیجریوال نے ساری حدیں پار کردی ہیں۔ کچھ ایم پی مجرمانہ پس منظر کے ہو سکتے ہیں لیکن یہ کہنا کے پارلیمنٹ ہی چوروں اور لٹیروں کا ڈیرا ہے، غلط ہے۔ آخر یہ پارلیمنٹ پہنچے کیسے؟ جنتا نے انہیں کیونکر بھیجا۔قصور جنتا کا زیادہ ہے یا ان قوانان کا جو ایسے کردار کے امیدواروں کو چناؤ لڑنے سے نہیں روکتے۔ پھر پارلیمنٹ میں صاف ستھری ساکھ والے ممبران پارلیمنٹ کی بھی اکثریت ہے۔ ہر ایک کو ایک ہی تھالی کا چٹا بٹا کہنا غلط ہے اور یہ اخلاقیات سے پرے ہے۔ ظاہر ہے کہ جیسے ہی پارلیمنٹ کا اجلاس چلے گا پہلا کام ممبران اروند کیجریوال کو کٹہرے میں کھڑا کریں گے اور انہیں سزا ملنا طے ہے۔ کانگری کے ترجمان راشد علوی نے کہا کہ کیجریوال کا بیان رائے زنی کے لائق نہیں لیکن اس طرح کے بیان جمہوریت اور پارلیمنٹ کی ہی نہیں جنتا کی بھی بے عزتی ہے۔ سپا کے سکریٹری جنرل موہن سنگھ کا کہنا ہے کیجریوال کے منہ سے ایسے الفاظ کا استعمال قابل مذمت ہے۔ باہری اشاروں پر اپنے این جی او کے لئے پیسے بٹورنے کے لئے وہ پارلیمنٹ کو بدنام کررہے ہیں۔ ان کی خبر لی جانی چاہئے کیونکہ کیجریوال تو جمہوری نظام کے ہی دشمن بن گئے ہیں۔ آر جے ڈی پردھان لالو پرساد یادو نے کل کہا کہ کیجریوال تو غیر ملکی ایجنٹ ہیں۔ لگتا ہے ان کی پارٹی لوک سبھا میں کیجریوال کے خلاف تحریک ملامت لائے گی۔ بھاجپا کے ترجمان پرکاش جاویڈکر نے بھی کیجریوال کے بیان کی نکتہ چینی کی ہے۔ اسے قابل مذمت اور لوگوں کی جمہوریت کے تئیں عقیدت کمزور کرنے والا بتایا ہے جبکہ ٹیم انا کے اہم ممبر کمار بشواس کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کیجریوال کے بیان پر ہنگامہ کیوں برپا ہے؟
Anil Narendra, Arvind Kejriwal, BJP, Congress, Corruption, Daily Pratap, Lalu Prasad Yadav, Parliament, Vir Arjun

30 دسمبر 2011

لوکپال بل کا یہ حشر ہوگا سبھی کو معلوم تھا


Published On 30th December 2011
انل نریندر
حقیقت تو یہ ہے کہ لوکپال بل کو لیکر نہ تو منموہن سرکار سنجیدہ تھی اور نہ ہی اپوزیشن۔ ہمیں تو لگتا یہ ہے کہ حکومت اور کانگریس پارٹی لوکپال بل کو صرف لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں پیش کرنا چاہتی تھی۔ پاس ہو جاتا تو بھی ٹھیک تھا نہ ہوتا تو بھی ٹھیک تھا۔ زور زبردستی سے لوک سبھا میں اس کو پاس کروالیا لیکن آئینی درجہ دلوانے میں وہ نا کام رہی۔ ادھر اپوزیشن کا کبھی بھی ارادہ اسے پاس کرانے اور آئینی درجہ دلانے کا نہیں تھا اس لئے اس نے بحث میں حصہ تو لیا لیکن ووٹنگ کے وقت بٹن نہیں دبایا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور مارکسوادی پارٹی کو لوکپال کے موجودہ خاکے پراعتراض تھا اور اس نے لوکپال کی بنیادی شکل میں کچھ ترامیم چاہیں لیکن حکومت ان ترمیمات کو نہیں مانی اس لئے اپوزیشن نے بل کی حمایت میں ووٹ نہیں دیا۔ کانگریس اب یہ کہہ رہی ہے کہ ہم نے تو لوکپال بل پاس کروادیا ہے لیکن بھاجپا نے حمایت نہ کر اپنے آپ کو بے نقاب کرلیا ہے۔ بھاجپا کا کہنا ہے کہ ایسے بے اثر لوکپال بل کی حمایت کرکے ہمیں اپنی ناک تھوڑی ہی کٹوانی تھی۔ ہم ایسے کھوکھلے لوکپال بل کی حمایت کیسے کرسکتے ہیں؟ کانگریس کامقصد موثر لوکپال لانے کا نہیں تھا وہ تو بس پارلیمنٹ میں اسے پیش کرنا چاہتی تھی تاکہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ میں اس کا پارٹی کوفائدہ ملے تاکہ وہ عوام کے درمیان یہ کہہ سکے دیکھو ہم تو لوکپال لے آئے لیکن بھاجپا نے بٹن نہیں دبایا اور اپنے آپ کو بے نقاب کرلیا ہے۔ لوک سبھا میں جس طرح سرکار کی اس بل کو آئینی درجہ دینے کی کوشش میں کرکری ہوئی اس سے بھی زیادہ کرکری راجیہ سبھا میں ہوسکتی ہے۔ اس ایوان میں تو اپوزیشن کا بول بالا ہے۔ کانگریس اور ان کی ساری ساتھی پارٹیوں کی تعداد 99 بنتی ہے۔ 8 نامزد ہوتے ہیں اور 6 آزار ہوتے ہیں تو اگر ان کو بھی ملالیں تو تب بھی کانگریس کو ہار کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ اپوزیشن کے کل ممبروں کی تعداد131 ہے اور ان میں ایسی پارٹیاں ہیں جو کسی بھی حالت میں حکومت کا ساتھ نہیں دے سکتیں اس لئے راجیہ سبھا میں بھی سرکار اس بل کو آئینی درجہ نہیں دلوا سکتی۔ اس پورے معاملے کو کیسے دیکھا جائے؟ ایک نکتہ نظر سے سوائے دو تین نکات کے باقی میں تو کامیابی مل رہی ہے۔ جو کام پچھلے 40 سالوں میں نہیں ہوسکا وہ پہلی بار یہاں تک پہنچا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ٹھیک ہے کہ جس مقصد سے انا ہزارے نے اپنی تحریک چلائی تھی اس کا بھی مقصد پورا نہیں ہوا۔ لوک سبھا میں نمبروں کے کھیل میں اگنی پریکشا کے بعد سرکاری لوکپال کی تصویر بدل چکی ہے۔ ترمیمات کے ساتھ راجیہ سبھا کی مہر کا جنتا کو بے صبری سے انتظار ہے۔ لوکپال اب نہ تو آئینی ادارہ ہوگا اور نہ ہی اس کے ذریعے لوک آیکت کی تقرری ریاستوں کے لئے ضروری ہوگی۔ لوکپال میں ممبران کے خلاف شکایت پر کارروائی کو لیکر لوک سبھا اسپیکر یا راجیہ سبھا چیئرمین کی رپورٹ کے تقاضوں پر سخت احتجاج کے بعد سرکار نے اسے واپس لے لیا۔ بدلے ہوئے تقاضوں کے مطابق وزیر اعظم کے خلاف کسی شکایت کی جانچ شروع کرنے کیلئے 9 نفری لوکپال میں اب دو تہائی ممبروں کی رضامندی ضروری ہوگی۔ پہلے اس کے لئے تین چوتھائی ممبروں کی منظوری کی بات کہی گئی تھی۔ لوکپال بل کا ٹکراؤ کا سب سے بڑا نکتہ رہا لوک آیکت کی تقرری میں ریاستوں کے اختیارات پر قبضے کا۔ صوبوں میں لوک آیکت کے قیام کی پابندی ختم کر اسے متبادل بنانے کی بات بھی سرکار کو ماننی پڑی۔ لوکپال کے دائرے سے مسلح افواج کو بھی باہر کردیا گیا ہے۔ گویا 40 برسوں سے دیش کے ساتھ آنکھ مچولی کا کھیل کھیل رہا لوکپال پر اب زیادہ اپوزیشن ٹکراؤ کے موڈ میں نظر نہیں آرہی ہے۔ وہ تو بھلا ہو انا ہزارے اور ان کے انشن کی تحریک کا کہ بدعنوانی پر پہلی بار عام آدمی کے تیور چڑھے اور لوکپال قانون عوام کی آواز کا حصہ بن گیا۔اب سرکار لوکپال بل راجیہ سبھا میں پاس کرانے کے بجائے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا سکتی ہے۔ یہ راستہ بھی سرکار کے لئے آسان نہ ہوگا کیونکہ ایک تو وہ آئینی طور طریقوں کا سوال کھڑا ہوتا ہے اور دوسرے سرکار کی اتحادی پارٹیوں کی ناراضگی بھی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ یہ عجب ہے کہ خود حکمراں سرکار میں سانجھیدار سیاسی پارٹی لوکپال کے موجودہ شقوں سے متفق نہیں۔ ترنمول کانگریس کو اب لگ رہا ہے کہ یہ بل ریاستوں کے اختیارات پر قبضہ کرنے والا ہے۔ لوکپال کو آئینی درجہ نہ حاصل ہوپانے کیلئے مخالف پارٹیوں میں ناراضی پیدا ہورہی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ حکمراں فریق کو پہلے اس سوال کا جواب دینا چاہئے کہ کیا ان کی ساتھی پارٹیاں پوری طرح اس مسئلے پر ان کے ساتھ ہیں؟ لوک سبھا میں بحث کے رنگ دیکھ کر تعجب ہوا کے دیش کی بنیاد کھود رہے کرپشن کے خاتمے کو لیکر ہمارے جمہوری نظام کے سپریم ادارے اتنی کشیدگی میں کیوں ہیں؟ ایسی دلیلیں گڑھی جارہی ہیں۔ ایک اثر دار لوکپال ہماری جمہوریت کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے جو توانائی کرپشن کے خاتمے کے انتظام ڈھونڈنے میں لگنی چاہئے اسے انا کی سول سوسائٹی کو نشانہ بنانے میں کیوں خرچ کی گئی۔ یہ بھی تعجب ہوا کہ سخت ہدایات جاری کرنے کے باوجود حکمراں پارٹی کے دو درجن سے زیادہ ممبران پارلیمنٹ کیسے عین موقعے سے لوک سبھا سے غائب ملے اور اپنی ہی سرکار کی کرکری کروانے کے لئے ذمہ دار بنے۔ ان میں خود کانگریس کے قریب ڈیڑھ درجن ایم پی شامل ہیں۔ دیش جس اشو پر جل رہا ہے اس پر ہمارے نمائندے کیا اتنے غیر ذمہ دار ہیں کہ اسے لوک سبھا میں لوکپال بل پاس ہوجانے کا دباؤ کہیں یا پھر غیر متوقع حمایتیوں کی بھیڑ نہ جٹانے پانے کا اثر۔ بدھوار کو انا ہزارے نے اپنا انشن بیچ میں ہی توڑدیا۔ یہ ہی نہیں انہوں نے30 دسمبر سے ممبران پارلیمنٹ کے گھروں پر اپنا مجوزہ دھرنا اور جیل بھرو تحریک بھی ملتوی کردی۔ تحریک سے اس طرح پیچھے ہٹنے کو ٹیم انا کا حوصلہ ٹوٹنے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ انا ممبئی میں تین دن کے انشن پر بیٹھے تھے۔ حالانکہ انہیں پہلے ہی سے بخار کی شکایت تھی لیکن وہ اپنے انشن کے فیصلے پر اڑے رہے۔ اس کے بعد کئی بار ان کی حالت کافی بگڑی اور ڈاکٹروں اور ساتھیوں نے ان کا انشن ختم کرانے کیلئے صلاح دی تھی لیکن وہ انکار کرتے رہے۔ بدھ کی شام انا نے اسٹیج پر آکر لوگوں سے خطاب کیا اور اسی دوران اپنا انشن توڑنے کا اعلان کیا۔ انا نے کہا ''سنسد میں جو کچھ ہوا وہ افسوسناک ہے۔ اب ہمارے پاس ایک ہی راستہ ہے ہم اب نیا پروگرام بنائیں گے اور ریاستوں میں جا کر کرپشن کے خلاف عوامی بیداری مہم چلائیں گے۔ لوگوں کو بتایا جائے گا کہ موجودہ حکومت نے کس طرح دیش کی جنتا کے ساتھ دھوکہ کیا ہے''۔ لوکپال بل کا یہ حشر ہوگا اس کا ہمیں پہلے ہی سے اندازہ تھا۔
Anil Narendra, Anna Hazare, BJP, Congress, Daily Pratap, Lokpal Bill, Manmohan Singh, Parliament, Vir Arjun

16 دسمبر 2011

ہم پارلیمنٹ کے شہیدوں کے ورثا کا دکھ سمجھتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں



Published On 16th December 2011
انل نریندر
پارلیمنٹ پر حملے کی دسویں برسی پر شہید ہوئے جوانوں کے ورثا نے کہا کہ جب تک حملے کے قصوروار افضل کو پھانسی نہیں دی جاتی تب تک وہ کسی بھی سرکاری پروگرام میں شریک نہیں ہوں گے۔ یہ ہی نہیں انہوں نے پارلیمنٹ میں شردھانجلی دینے کیلئے منعقدہ تعزیتی پروگرام میں بھی شرکت سے انکارکردیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے صدر کو بھی ایک میمورنڈم سونپا۔ وہیں اے آئی ٹی ایف کی جانب سے امر جوان جوتی پر ہوئی ایک شردھانجلی سبھا میں شہیدوں کو یاد کیا گیا۔ حملے میں شہید ہوئے دہلی پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل کے والد سرکار سنگھ ، شہید جے پی یادو کی بیوی پریم یادو ، شہید حولدار وجیندر سنگھ کے سسر کیپٹن جگموہن سنگھ ، سی آر پی ایف کی شہید مہلا کانسٹیبل کملیش یادو کے پتے اودھیش کمار سمیت دیگر شہیدوں کے متاثرہ رشتے دار موجود تھے انہوں نے ایک آواز میں کہا جب تک افضل کو پھانسی نہیں دی جاتی تب تک وہ کسی سرکاری پروگرام میں حصہ نہیں لیں گے۔ ہم مصیبت زدہ خاندانوں سے نہ صرف ہمدردی رکھتے ہیں بلکہ ان کے مطالبے کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ آخر آتنکی افضل کو سزا کب ملے گی؟ اس سوال سے دیش کے حکمرانوں کو شاید کوئی فرق نہ پڑتا ہو لیکن عام شہری کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ ہم یہ نہیں سمجھ سکتے کہ آخر جس آدمی نے دیش کی عزت پر حملہ کیا ہو ہماری آن بان شان مٹی میں ملا دی ہو اس آدمی کو یوپی اے سرکار بطور سرکاری مہمان بنا کر کیوں پال رہی ہے؟کیا صرف ووٹ بینک کا تقاضہ ہی ایسے اہم فیصلے کے لئے بنیاد ہوگا؟ کیا یہ سرکار اتنی سی بات نہیں سمجھ پاتی کہ اس کی موجودگی کا ہماری سکیورٹی فورس کے حوصلے پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔ یہ نہایت افسوس کی بات ہے پچھلے سات سالوں سے افضل کا معاملہ فضول کے بہانوں کے سبب لٹکا ہوا ہے۔
ہماری رائے میں یہ نہ صرف آتنکیوں کو حوصلہ افزائی کے برابر ہے بلکہ ان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے جیسا ہے۔ جنتا میں یہ سوال آج کھلے عام پوچھا جارہا ہے کہ اس طرح کے آتنک واد سے لڑنے کی قوت ارادی ہے بھی یا نہیں۔ سرکار اپنے ووٹ بینک کی سیاست کو اوپر رکھ کر دیش کی سلامتی سے سمجھوتہ کرتی ہے وہ دیش واسیوں کی سلامتی کتنی کر پائے گی؟ افضل کی رحم کی اپیل سے متعلق فائل پچھلے سات سالوں سے جس طرح وزارت داخلہ، دہلی سرکار اور راشٹرپتی بھون کے دوچار کلو میٹر کے دائرے میں گھوم رہی ہے ، اسے دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے افضل کی سزا پر عمل میں ابھی کئی اور برس لگ جائیں گے۔ سرکار بے شرموں کی طرح جواب دے دیتی ہے کہ افضل گورو کی رحم کی اپیل کی فائل صدر کے پاس ہے اور راشٹرپتی بھون کو ہی اس بارے میں فیصلہ کرنا ہے۔ وزارت داخلہ نے افضل گورو کا معاملہ راشٹرپتی کے سکریٹریٹ کو 27 جولائی 2011 کو بھیجا تھا اور سفارش کی تھی کہ اسکی رحم کی اپیل کو نا منظور کیا جانا چاہئے۔ اگر مرکزی داخلہ سکریٹری آر کے سنگھ کا یہ کہنا صحیح ہے تو پھر افضل کی پھانسی میں اڑچن کہاں ہے؟ دہلی سرکار، وزارت داخلہ دونوں نے ہی اپنی منظوری دے دی ہے اب تو صدر کو بس اپنی مہر لگانی ہے۔ رحم کی اپیل کو مسترد کرنا ہے۔ اس میں کتنا اوروقت لگے گا؟
Afzal Guru, Anil Narendra, Daily Pratap, delhi Police, Martyres, Parliament, Vir Arjun

30 اگست 2011

انا کیلئے عوامی ہجوم کیوں اترا یہ سمجھناچاہئے





Published On 31st August 2011
انل نریندر
انا ہزارے کی تحریک سے کئی سبق ملتے ہیں۔ یہ ایک عجب تحریک تھی جس نے سارے دیش کو ایک بار ہلا کر رکھ دیا۔ سارے طبقوں ،مذاہب، فرقوں سبھی کو ملادیا۔ برسوں کے بعد مڈل کلاس کے لوگ سڑکوں پر اترے۔ اپنی گاڑیوں سے اترپر رام لیلا میدان میں صفائی کررہے ، کھانا کھلا رہے ، ان لوگوں نے شاید اس سے پہلے کبھی بھی یہ سب نہیں کیا ہوگا۔ وہ مڈل کلاس جو ووٹ نہیں دیتا وہ12 دن تک رام لیلا میدان میں انا کے ساتھ کھڑا دکھائی دیا۔ اس تحریک میں دیش کا ہر طبقہ شامل تھا۔ بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ موم بتی مارچ کرنے والے لوگ وہ ہیں جوکبھی ووٹ ڈالنے بھی نہیں جاتے۔ مگر یہ سب کہنے والے بھول جاتے ہیں کہ دیش کا یہ ہی طبقہ انتخابات میں آپ کو نظرانداز محسوس ہوتا ہے۔ جس طرح چناؤ ذات پات اور علاقائیت جیسے مسئلوں پر جیتے جاتے ہیں وہاں دیش کا یہ شہری طبقہ اپنے آپ کو اقلیت میں محسوس کرتا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ ان کی تعداد مٹھی بھر ہے اور وہ چناؤ میں اپنا کوئی کردار ہی نہیں مانتے۔ مگر اب انہیں لگ رہا ہے کہ کم سے کم ہمارا کردار اس قانون کو بنانے میں تو ہے جو کرپشن پر لگام لگا سکے۔ وہی بدعنوانی جو دیش کو پوری طرح سے گھن کی طرح کھا گئی ہے، اس تحریک نے ان میں ایک سنجیدگی پیدا کی ہے۔
دانشوروں اور سیاسی پنڈتوں کو بھی یہ بات حیرت میں ڈال رہی ہے کہ جو جنتا یوم آزادی یا یوم جمہوریہ کو ایک چھٹی کے دن کی طرح سے دیکھتی ہے اسے اس تحریک میں ایسا کیا نظر آیا کہ وہ بغیر بلائے رام لیلا میدان کی طرف دوڑ پڑی۔ آج بیشک بھاجپا اس بات کا سہرہ لینے کی کوشش کررہی ہے کہ انا تحریک آخر کامیاب کرانے میں اس کا اہم کردار رہا۔ بیشک رہا بھی، اگر بھاجپا کھلے عام اعلان نہیں کرتی کہ وہ انا کی تینوں شرطوں کو بغیر کسی قباحت کے قبول کرتی ہے اور حمایت کرتی ہے تو شاید حکومت اب بھی اتنی آسانی سے ہار نہیں ماننے والی تھی۔ بھاجپا کے قدم نے انا کا پلڑا بھاری کردیا لیکن بھاجپا کو یہ سوال اپنے سے ضرور پوچھنا چاہئے کہ اتنے برسوں سے وہ کرپشن کو اشو کیوں نہیں بنا پائی۔ آخر انا اسے اشو بنا لے گئے؟ حکومت نے بھی جنتا کی پکار و جنتا میں بے چینی کو ہمیشہ نظر انداز کیا۔ کرپشن اور مہنگائی سے دبی ہندوستان کی جنتا چیخ چیخ کر پکارتی رہی کہ کچھ کرو، کچھ کرو۔ لیکن کانگریس پارٹی اور حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ ہمارے سیاستداں اپنے کو تسلی دینے کے لئے یہ دلیل دینی شروع کردی کہ کرپشن اب کوئی اشو نہیں رہا ہے۔
سیاستدانوں کا یہی خیال تھا کہ جنتا نے ترقی کے نام پر کانگریس کو ووٹ دیا اور کرپشن اب جنتا میں قابل قبول ہوچکا ہے۔ یعنی کرپشن اب نہ اشو بنایا جاسکے گا اور نہ ہی کرپشن کے خلاف بھارت میں کوئی تحریک چل سکتی ہے لیکن محض ساتویں کلاس پاس رائے گن کے ایک سنت نے سیاسی پانڈتوں کی ساری تھیوریوں کو ناکام کردیا۔ انا کی اپنی صاف ستھری ساکھ اور سیدھی آواز نے لوگوں کے دل کو چھولیا اور وہ سڑکوں پر آگئے۔ انا کی تحریک کامیاب ہونے کے پیچھے سب سے بڑی وجہ تھا ان کا اپنا بھروسہ ۔ اور اس کے پیچھے سبب تھا انا کا اخلاقی قد اور ان کی بے غرضی اور انا کی غیر جانبدار شخصیت۔ انا ہزارے کو دیکھ کر عام آدمی کو یہ لگا کہ یہ 73 سالہ شخص اپنے لئے جدوجہد نہیں کررہا ہے بلکہ یہ ان کے لئے محاذ آرا ہے جب کوئی سیاستداں انہی باتوں کو کہتا ہے تو جنتا اس کا مطلب دوسرا نکال لیتی ہے۔ اسے پتہ ہوتا ہے کہ موقعہ پڑنے پر یہ پارٹی یا ستداں بھی وہی برتاؤ کرے گا جس کے خلاف وہ تقریر کررہا ہے۔ سیاستدانوں پر سے جنتا کے اٹھتے بھروسے کا ہی نتیجہ ہے سیاسی پارٹیوں کو اپنی ریلیوں میں 10-20 ہزار کی بھیڑ اکٹھے کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑتا ہے۔ پارٹی چھٹ بھیا نیتاؤں پر بھی بھاری بھیڑ اکٹھے کرنے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ چائے ،ناشتے اور گاڑیوں کا انتظام کیا جاتا ہے۔ ان نیتاؤں کا قد پارٹی میں ان کے ذریعے اکٹھے کردہ بھیڑ سے ہی طے ہوتا ہے۔ اور انا کی تحریک میں جنتا خود اپنے خرچ پر اپنا کھانا پینا لیکر خدمت کے جذبے سے آئی، اسے کسی نے مجبور نہیں کیا۔ سیاستدانوں کو اس تحریک سے سبق لینا چاہئے اور انا کی کامیابی کوسنجیدگی سے بلاغرض سمجھنا چاہئے۔ پتہ نہیں اب بھی ان کو سمجھ آئی ہے یا نہیں؟

انا کی تحریک! سنسد میں نوجوان برگیڈچھائی رہی




Published On 31st August 2011
انل نریندر
سنیچر کو لوک سبھا میں جب انا کی تین شرطوں پر بحث چل رہی تھی تو ایک بات خاص طور پر سامنے آئی۔ وہ یہ تھی کہ دونوں کانگریس اور بھاجپا نے اپنی نوجوان پیڑھی کو آگے کرکے انہیں بولنے کا اور اپنی بات رکھنے کا موقعہ دیا۔ وہ اتنی اہم بحث میں اپنا ہنر دکھا سکیں۔ کانگریس کے نوجوان ممبر پارلیمنٹ سندیپ دیکشت اپنی والدہ محترمہ شیلا دیکشت کی چھایا سے بھی باہر نکل آئے۔ انہوں نے اپنے دم خم پر آگے بڑھنے کا جو فیصلہ کیا وہ لائق تحسین ہے۔ سندیپ دیکشت نے نہ صرف اپنی پارٹی میں اپنا قد بڑھایا ہے بلکہ اپوزیشن نے بھی کئی بار ان کی دلیلوں سے اتفاق ظاہر کیا۔ جب انا کو گرفتار کیا گیا تھا تو سندیپ پہلے ممبر پارلیمنٹ تھے جنہوں نے کھلے طور پر کہا تھا یہ غلط ہوا ہے۔ پہلے دن سے ہی وہ صلاح صفائی میں لگ گئے تھے۔ جب ایتوار کو ولاس راؤ دیشمکھ وزیر اعظم کا خط لیکر رام لیلا میدان پہنچے تو ان کے ساتھ پارٹی اور حکومت نے سندیپ دیکشت کو بھیج کر یہ واضح کردیا کہ اب ان پر کتنا بھروسہ ہے۔ سندیپ دیکشت کے تئیں سب کی نظروں میں عزت بڑھی ہے اور یہ ان کے آگے کام آئے گی۔ ادھر ورون گاندھی کو اتارنے کے پیچھے بھاجپا کا خاص مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ ان کا گاندھی انا ہزارے کی تحریک اور عوامی جذبے کے زیادہ قریب ہے۔ اس سے پہلے ورون گاندھی نے ٹیم انا کے عوامی لوکپال کو بطور پرائیویٹ ممبر بل لوک سبھا میں لانے کی کوشش کی تھی۔ وہ رام لیلا میدان بھی گئے تھے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ ورون گاندھی نے سشما سوراج کے ساتھ پارٹی کے دوسرے مقرر کے طور پر بحث کی دفعہ کے برعکس بیان دے ڈالا۔ جہاں سبھی مقررین نے بار بار پارلیمنٹ کی سرداری اور پارلیمانی جمہوریت کی اپیل دوہرائی وہیں ورون گاندھی نے ٹیم انا کے نمائندوں کی زبان بولتے ہوئے کہا کہ بیشک قانون پارلیمنٹ میں بنتے ہیں اور ممبران پارلیمنٹ کا مخصوص اختیار ہے مگر عوام بالاتر ہے۔ اس سے پہلے ایوان میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے اپوزیشن کی لیڈرمحترمہ سشما سوراج نے جمعہ کے روز راہل گاندھی کی تقریر پر سخت اعتراض کیا۔ ان کا الزام تھا کہ راہل گاندھی نے جو کہا اس سے انا ہزارے کا انشن ختم کرنے کیلئے پارلیمنٹ کی اپیل کے لئے کئے کرائے پر پانی پھر گیا ہے۔ کانگریس کے دوسرے مقررین تھے نوجوان وزیر جوترادتیہ سندیہ۔
انہوں نے سول سوسائٹی کو اہمیت دینے کیلئے سونیا گاندھی کو سہرہ دیا ہے۔ اور ان کوششوں میں بھاجپا کے کردارپر بھی سوال اٹھایا۔ راشٹریہ لوک دل کی جانب سے متھرا کے ممبر پارلیمنٹ جینت چودھری نے اپنی بات رکھی۔ انہوں نے ٹیم انا کے تمام مطالبات کی حمایت کی ہے۔ اس سے کئی دیگر پارٹیوں کے نوجوان ممبران پارلیمنٹ میں بھی جوش پیدا ہوگیا۔ انہوں نے بھی اسپیکر صاحبہ سے موقعہ دینے کیلئے پرزور درخواست کی تھی۔ ان میں سپا کے نیرج شیکھر و دھرمیندر یادو اور بسپا کے دھننجے سنگھ قابل ذکر ہیں۔ پروین سنگھ سرن نے اناکا جن لوکپال بل پارلیمنٹ کی اسٹیڈنگ کمیٹی کے سامنے پیش کیا۔ پریہ دت، سنجے نروپم، ملند دیوڑا، سچن پائلٹ وغیرہ نوجوان ممبران نے انا کی حمایت کی اور حکومت اور پارٹی پر دباؤ بنایا۔ کل ملاکر انا کی تحریک پر پارلیمنٹ میں ہوئی بحث میں نوجوان برگیڈ ہی چھائی رہی۔

انا ہزارے کی تحریک اور میڈیا کا کردار



Published On 30th August 2011
انل نریندر
سنیچر کے روز لوکپال بل پر ٹیم انا کی تین شرطوں پر پارلیمنٹ میں ہوئی بحث میں میڈیا کے کردار پر بھی تبصرہ کیا گیا ہے۔اس کے کردار کو لیکر اکثر ناراضگی جتانے والے جنتادل متحدہ کے شرد یادو اور آر جے ڈی کے سربراہ لالو پرساد یادوسنیچر کو بھی اپنی بات کہنے سے نہیں چوکے۔ ان دونوں نے ایک آواز سے ایک دوسرے کے سُر میں سُر ملاتے ہوئے کہا کہ انا کی پوری تحریک میڈیا کی دین ہے۔ زمین سے جڑے جدوجہد کرنے والے سماجوادی نیتا شرد یادو نے انا کے تین مطالبات پر لوک سبھا میں ہوئی بحث کے دوران نہ صرف اتفاق رائے ظاہر کیا بلکہ انہوں نے کہا کہ انا ہزارے ایماندارانہ تحریک چلانے والے ایک سرکردہ شخصیت ہیں۔ میں ان کی عزت کرتا ہوں لیکن ان سے شکایت بھی ہے ۔ انہوں نے ان 12 دنوں میں کبھی بھی مہاتما پھولے کو یادنہیں کیا۔ شرد یادو کا کہنا تھا کہ انا کو ان کے آس پاس کے لوگ اور میڈیا گمراہ کررہا ہے۔ ان کی اس مہم کو اپنی ٹی آر پی بڑھانے کے لئے الیکٹرانک میڈیا ہوا دے رہا ہے۔ یہ حالت ہوگئی ہے کہ ڈبہ(ٹی وی) رات بھر بجتا رہتا ہے۔ پورے دیش میں کہیں باڑھ سیلاب تو کہیں غریبی سے تباہی مچی ہوئی ہے لیکن اس ڈبے کو فرصت نہیں۔ انہوں نے سرکار سے کہا اسے آپ فرصت دلائیے۔ آپ انا کی باتوں کو مان کر اپنی رضامندی ڈبے والوں بھیج دیں تاکہ یہ بند ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ رام لیلا میدان میں رات میں جو بھی بھیڑ دکھائی جاتی ہے اس میں زیادہ تر وہاں گھومنے اور پکنک منانے کے لئے جارہے ہیں۔ پہلے لوگ بوٹ کلب جایا کرتے تھے اب رام لیلا میدان جارہے ہیں اور میڈیا انہیں بار بار دکھا کر اپنی ٹی آر پی ریٹنگ بڑھا رہا ہے۔ شرد یادو نے کہا کہ چار مہینے سے ڈبہ بج رہا ہے۔اس ڈبے سے بہت دقتیں ہیں۔ یہ چینل انا سے اتنے زیادہ متاثر ہیں کہ انہیں دیش میں آئے سیلاب تک کی خبر دکھانے کی ضرورت نہیں محسوس ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پچھلے دس سال سے کسی چینل پر نہیں گئے۔ انہوں نے وہاں بیٹھے جتن پرساد اور سچن پائلٹ سے پوچھا کہ تم لوگ تو عقلمند ہو کیوں ان کے بلاوے پر چلے جاتے ہو؟ انہوں نے ایک چینل خاص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک ڈبے میں بنگالی بابو مشائے تو بات ہوئے اتنے جارحانہ ہوجاتے ہیں کہ لگتا ہے منہ ہی نوچ لیں گے اور دوسروں سے بھی نیتاؤں کا منہ نچواتے ہیں۔ اب تو انا کی باتیں مان کر ان چینلوں سے ہمیں نجات دلواؤ۔ اس پر ممبران نے میزیں تھپتھپا کر ان کا حوصلہ بڑھایا۔
ہم شرد یادو صاحب کا بہت احترام کرتے ہیں لیکن ان کی دلیلوں سے متفق نہیں ہیں۔ میڈیا وہی کرے گا جو جنتا چاہے گی اور اسی کے چلتے میڈیا اپنے فیصلے کرنے کا حقدار ہے اور یہ بات پچھلے 15 روز میں ثابت ہوچکی ہے۔اس دوران ٹی وی دیکھنے والوں کی ریٹنگ بڑھی ہے۔ انا کی تحریک نے ساس بہو یا کھیل کے چینلوں پر یا دیگر سیریلوں کے چینلوں کی مقبولیت کا گراف گرادیا ہے۔ لوگ نیوز چینلوں کے سامنے چپکے رہے۔ کھیل چینل 33 فیصد اور ہندی سنیما کے چینلوں کے4 فیصدی ناظرین گھٹے ہیں۔ اس کے برعکس ہندی نیوز چینلوں کے ناظرین میں6 فیصدی اضافہ ہوا ہے۔ ہندی کے اسٹارنیوز نے تین کروڑ ناظرین کا اعدادو شمار پار کرلیا ہے تو انگریزی میں ٹائمس ناؤ زبردست ہٹ ہوا ہے۔ ایسا سب کچھ اس لئے کیونکہ جنتا بیدار ہے، سمجھدار ہے اور اسے میڈیا میں اپنی بات کے تئیں آواز چاہئے۔ جنتا کا غصہ مجبور کررہا ہے کہ چینل اور اخبار اس کی سوچ پر بے دھڑک اور بے خوف بات کیا کریں۔ میں خود پچھلے 15 روز سے صرف انا کی تحریک کے بارے میں اپنے پہلوؤں پر ہی اپنے خیالات دے رہا ہوں اور کسی موضوع پر لکھنے کا دل ہی نہیں چاہا۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر دیش میں جمہوریت مضبوط ہورہی ہے ، اگر دیش میں لوگوں کو اظہار آزادی کا بھرپور موقعہ مل رہا ہے تو بھلا میڈیا اپنے مضبوط کردار کو کیوں نہیں نبھائے گا۔ جو لوگ میڈیا پر انگلی اٹھا رہے ہیں وہ کہہ رہے ہیں انا کی تحریک تو بنیادی طور پر میڈیا کی تحریک ہی ہے۔ ایسے دانشوروں سے پوچھا جانا چاہئے کہ اگر دیش میں سماجی تبدیلی لانے والی کسی تحریک میں میڈیا مثبت رول نبھا رہا ہے تو کیا وہ جمہوریت اور دیش واسیوں کے لئے خراب ہے؟ کیا اس سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے یا اس کی جڑیں کھوکھلی ہورہی ہیں؟ کسی دیش میں جمہوریت کی کامیابی کی کسوٹی یہ ہی ہوتی ہے کیا؟۔ یہ سمت میڈیا بھی ریفلٹ کررہا ہے۔اگر جمہوریت کے تئیں میڈیا کا رویہ مثبت اور سرگرم کردار والا نہیں ہے تو ایسے میں جمہوریت مضبوط نہیں ہوسکتی۔ جہاں بھی میڈیا کی سرگرمی ہے وہاں جمہوریت زندہ ہے ۔ آخر تمام طاقتور سازشوں کے باوجود امریکہ جیسے ملک میں بار بار یہ میڈیا تو ہے جو اجاگر کرتا ہے کہ کس طرح صدر نکسن نے واٹر گیٹ اسکینڈل کروایا تھا۔ کس طرح امریکہ کی آتنک واد کے خلاف لڑائی میں امریکی فوجی مارے جارہے ہیں۔ یہ میڈیا ہی ہے جس نے گوانتاناموبے جیل میں عراق کے لوگوں سے کچھ امریکی فوجیوں نے غیر انسانی سلوک کیا۔ یہ میڈیا ہی ہے جو انگلینڈ میں میڈیا مغل روپرڈ مارڈوک کو بیک فٹ پر جانے کیلئے ہی نہیں بلکہ شارے عام طور سے معافی مانگنے اور میڈیا کے ایک قدیم اور مقبول اخبار کو بند کرادیا۔ یہ میڈیا ہی ہے جس نے پاکستانی فوج کے کچھ افسروں کی سانٹھ گانٹھ کا پردہ فاش کیا اور اس کی بھاری قیمت بھی وہاں کے صحافیوں کو چکانی پڑ رہی ہے۔اس لئے یہ سوچنا یا کہنا کہ میڈیا کے طور طریقے صحیح نہیں ہیں غلط ہیں۔ اگر میڈیا سرگرم نہیں ہوگا ،اگر میڈیا بڑھ کر اپنا کردار نہیں نبھائے گا تو جمہوریت مضبوط نہیں ہوگی۔ حکومتیں کارپوریٹ دنیا کیا میڈیا کا اپنے مفادات اور اغراز کو آگے بڑھانے کے لئے استعمال نہیں کرتا؟سب سے تعجب کی بات تو کھل کر ان سوشل نیٹورکنگ سائٹوں میں دیکھنے کو ملی جہاں لوگ بہت ہوشیاری سے یہ رائے زنی کررہے تھے کہ میڈیا تو اینٹی اسٹیبلشمنٹ کا نظریہ ہی ہوتا ہے اور یہ بھی کے میڈیا کے پاس کوئی مسئلہ نہیں اس لئے وہ انا ہزارے کی تحریک کو ہوادے رہا ہے ۔دنیا میں جتنی بھی تبدیلی یا بڑی تحریکیں چلی ہیں وہ تحریک عام طور پر کامیاب تبھی ہوئی جب ان میں میڈیا بڑھ چڑھ کر اور سرگرم کردار نبھانے کیلئے کھل کر سامنے آیا ہے۔ یہاں تک کہ شکل میں بالشوک انقلاب کو بھی میڈیا زبردست حمایت دے رہا تھا اور امریکہ میں مارٹن لوتھر کنگ کے ذریعے چلائی گئی سیاہ فام تحریک کو بھی میڈیا نے زبردست حمایت دی تھی۔ تبھی امریکی گورے اس سطح پر جھکنے کو تیار ہوئے تھے کہ وہ سیاہ فاموں کو بھی یکساں طور پر دو قدم اپنے ساتھ مل کر چلنے پر مجبور ہوئے۔ حالیہ دہائیوں میں جنوبی افریقہ کی نسل پرستی تحریک کو بھی اگر پوری دنیا میں مقام ملا اور جنوبی افریقہ کی گوری سرکار نسل پرستی کے مسئلے پر جھکنے کو تیار ہوئی تو اس کی بڑی وجہ صرف اور صرف یہ ہی تھی کہ میڈیا نیلسن منڈیلا کی نسل پرستی کے خلاف تحریک کے ساتھ تھا۔ اگر میڈیا کی حمایت منڈیلا کو نہیں ملتی تو وہ جیل کی کوٹھری میں ہی سڑ رہے ہوتے۔ وہاں سے نکل کر غرور میں ڈوبے افریقہ کے ستارے مدھم نہ ہوتے۔ کیا میڈیا کے بغیر کسی سماج کا کم سے کم آج کی تاریخ میں تصور کرسکتے ہیں؟ اگر میڈیا شاندار واچ ڈاگ کا کردار نہیں نبھائے گا تو سرکارکیا نبھائے گی؟ کیا یہ ممبران پارلیمنٹ نبھائیں گے؟ سرکاریں اور سیاستداں کبھی بھی آزاد میڈیا کو برداشت نہیں کرتے۔ اکثر دیکھا جاتا ہے جب میڈیا کسی حکومت کی تعریف کرتا ہے تو وہ اچھا ہوجاتا ہے اور اگر وہ سرکار کی خامیوں کو اجاگر کرے تو وہ ولن بن جاتا ہے۔ یہ بدقسمتی ہی ہے کہ انا کی تحریک کو ہوا دینے کا الزام میڈیا پر لگایا جارہا ہے۔ میڈیا اپنا کام کررہا ہے جو دیش کے مفاد میں ہے۔ جن ملکوں میں جن وادی سیاسی پھیلاؤ اور سول سوسائٹی کو میڈیا کی حمایت نہیں ملتی وہاں جمہوریت کبھی پھول پھل نہیں سکتی۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Daily Pratap, Lokpal Bill, Parliament, Role of Media, Vir Arjun

19 اگست 2011

راجیہ سبھا میں جسٹس سین کیخلاف مقدمہ

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 19th August 2011
انل نریندر
راجیہ سبھا میں بدھ کو ایک تاریخی واقعہ کا آغاز ہوا۔ کولکتہ ہائی کورٹ کے ایک جج سمتر سین کے خلاف تحریک ملامت راجیہ سبھا میں شروع ہوئی ۔ یہ ایوان کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہورہا ہے۔ ویسے جسٹس سین دیش کی عدلیہ تاریخ میں ایسے دوسرے جج بن گئے ہیں جن کے خلاف پارلیمنٹ کے کسی ایوان میں تحریک ملامت کی کارروائی کی جارہی ہے۔ راجیہ سبھا پہلی بار ایک عدالت میں تبدیل ہوئی ہے۔ ایوان کی چیئر کے سامنے والے دروازے کے پاس بنے کٹہرے میں جسٹس سین نے اپنا موقف رکھا۔ جسٹس سمتر سین پر لگے الزامات کی جانچ کے لئے کمیٹی راجیہ سبھا کے چیئرمین حامد انصاری نے بنائی تھی۔ کمیٹی نے 33 سالہ جج کو بدعنوانی کے الزامات میں قصوروار پایا ہے۔ آئین کے تحت سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے کسی جج پر پارلیمنٹ میں تحریک ملامت پیش کر اس کو عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے۔ایسی تجویز دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت سے پاس ہونا ضروری ہے۔ بدگمانی اور الزامات کو ثابت کرنے والے ریزولیوشن پارلیمنٹ کے اجلاس میں ہیں پاس ہونا ضروری ہیں۔ پارلیمنٹ کی تاریخ میں یہ دوسرا موقعہ ہے جب کسی جج کو ہٹانے کے لئے کارروائی کی جارہی ہے۔ 1993 میں جسٹس راما سوامی کو ہٹانے کیلئے اس طرح کی کارروائی شروع ہوئی تھی لیکن لوک سبھا میں اس سے متعلق تحریک ملامت ریزولیوشن پاس نہیں ہوپایا تھا۔ تب علاقائی بنیاد پر ممبران پارلیمنٹ میں اختلافات ہونے کی وجہ سے فائدہ بدعنوانی کے ملزم جج کو مل گیا تھا۔ تب کانگریس کے یہ ہی شری کپل سبل، جسٹس راما سوامی کی جانب سے پیروی کرنے لوک سبھا میں پیش ہوئے تھے۔ نرسمہاراؤ والے کانگریس حکومت نے تحریک ملامت کی تجویز کی مخالفت کرکے سب کو چونکادیا تھا۔ پہلی تحریک ملامت خارج ہونے کے بعد بڑی عدالتوں میں ججوں کے خلاف بدعنوانی کی شکایتیں بڑھ گئیں تھیں۔ راجیہ سبھا میں جو ریزولوشن جسٹس سین کے خلاف پیش کیا گیا ہے اس کا مسودہ کہتا ہے کہ یہ ایوان کولکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس سمتر سین کے خلاف مبینہ بدعنوانی کے ثبوتوں اور جانچ کے متعلق جانچ کمیٹی کی اس رپورٹ پر غور کرتا ہے جو 10 نومبر2010 کو ایوان کی ٹیبل پر پیش کی گئی تھی۔ چیئر مین حامد انصاری نے 15 فروری کو جسٹس سین کو ہٹائے جانے کے متعلق ریزولوشن کو قبول کرلیا تھا۔ ادھر سکم ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پی ڈی دناکرن کے خلاف لگے بدعنوانی کے الزامات کی جانچ کے لئے بھی راجیہ سبھا کے چیئرمین نے ایک عدلیہ کمیٹی بنائی ہے۔ حالانکہ جسٹس دنا کرن نے پچھلی 20 جولائی کو خود ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اگر جسٹس سین بھی استعفیٰ دے دیتے تو ان کے خلاف بھی کارروائی نہ ہوتی۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں جو رپورٹ تین نفری انکوائری کمیٹی نے پیش کی تھی اس میں کہا گیا ہے کہ جسٹس سمتر سین کو ہندوستان کے آئین کی دفعہ217(1) کے (بی) سیکشن کے ساتھ شق 124 (بی) کے تحت بدعنوانی کا قصوروار پایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے جج بی سدرشن ریڈی کی سربراہی والی انکوائری کمیٹی نے کہا ہے کہ کولکتہ ہائی کورٹ کے ریسیور کی شکل میں جسٹس سین کے ذریعے بڑی رقم بیجا ذرائع سے اکٹھے کرنے اور اس سلسلے میں غلط حقائق پیش کرنے کے الزام مناسب طور سے درست ثابت ہوئے ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Justice Sen, Parliament, Vir Arjun

07 اگست 2011

اناہزارے کچھ حد تک اپنے مقصد میں کامیاب رہے

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 7th August 2011
انل نریندر
جن لوکپال بل پر حکومت اور ٹیم انا میں جنگ کا اعلان ہوگیا ہے۔ یہ تو ہونا ہی تھا۔ کیونکہ دونوں فریقین میں کئی اہم نکتوں پر اختلافات تھے۔ ادھر جمعرات کو حکومت نے لوک سبھا میں لوکپال بل پیش کیا تو ادھر انا نے بیمار ہونے کے باوجود مہاراشٹر کے رالے سدھی گاؤں میں بل کی کاپیاں جلا کر اس کی مخالفت کا بگل بجادیا۔ اب ٹیم انا نے سادگی سے تحریک کی وارننگ دی ہے۔ بل جلانے کے بعد انا نے ایک بار پھر سرکار پر حملہ بول دیا ہے اور کہا کہ سبھی ملازمین افسران کو لوکپال کے دائرے میں لایا جانا چاہئے۔ انہوں نے سوالیہ لہجے میں کہا’’ہر ریاست میں لوک آیکت کی تقرری نہیں ہوئی تو بدعنوانی پر قابو کیسے پایا جاسکتا ہے؟ انہوں نے حکومت کی نیت پر سوال کھڑا کرتے ہوئے وارننگ دی تھی کہ سرکار کے لوکپال بل کی ہولی دیش کے گاؤں گاؤں میں جلے گی۔16 اگست تے انشن شروع کرنے پر انا نے کہا کہ اگر دیش سے بدعنوانی مٹانی ہے تو تحریک کا یہ ایک اچھا موقعہ ہے اور اسے ہاتھ سے نکلنے نہیں دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا نوجوانوں سمیت سبھی ملک کے شہریوں کو اسے آزادی کی دوسری لڑائی سمجھ کر16 اگست سے شروع ہو رہے انشن میں شامل ہونے کی اپیل کرتا ہوں۔
بڑی اپوزیشن پارٹی نے حکومت کے ذریعے پیش کئے گئے لوکپال بل کی تلخ تلقین کی ہے۔ بھاجپا نیتا اور لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج نے کہہ دیا کہ آخر وزیراعظم کو لوکپال کے دائرے سے باہر کیوں رکھا جارہا ہے؟ جبکہ وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ خود کہہ چکے ہیں کہ مجھے شخصی طور سے اس قانون کے دائرے میں لائے جانے سے کوئی پرہیز نہیں ہے۔ تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سشما سوراج نے سرکار سے پوچھا کہ آخر کار پھر وزیر اعظم کو وہ لوگ ’’پوترگائے‘‘ مان کر کیوں دائرے سے باہر رکھنے پر آمادہ ہیں؟ بھاجپا لیڈروں نے کہا کہ وہ لوگ اپنی مخالفت پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے درج کرا کر دباؤ ڈالیں گے کہ وزیراعظم کو لوکپال بل کے دائرے میں لایا جائے۔ مرکزی وزیر کپل سبل نے پلٹ وار کرتے ہوئے بھاجپا سے پوچھا کہ جب بھاجپا کے اٹل بہاری واجپئی وزیر اعظم تھے اس دور میں بھاجپا نے یہ قانون کیوں نہیں پاس کرادیا جبکہ این ڈی اے سرکار کے دور میں 2002ء میں لوکپال کا بل باقاعدہ لوک سبھا میں رکھا گیا تھا۔ اس وقت اس بل میں وزیر اعظم کو لوکپال کے دائرے میں رکھنے کی بات رکھی گئی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ لوکپال بل پچھلے 42 سالوں سے لٹکا ہوا ہے۔ پارلیمنٹ میں اسے پہلے بھی 9 مرتبہ رکھا جاچکا ہے لیکن وقت اور میعاد ختم ہونے کے سبب یہ بے موت مارا جاتا رہا ہے۔ انا کی تحریک سے اتنی امیدیں تو ضرور بندھی ہیں کہ اس بار دیر سویر بل پارلیمنٹ میں پاس تو ہوہی جائے گا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ لوک سبھا میں پیش کیا گیا لوکپال بل انا اور عوامی توقعات کے مطابق نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی یہ ایک شروعات تو ہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ اسے آگے بڑھایا جائے۔ چاہے یہ لچر اور توقعات سے پورا نہ ہو لیکن اس کو لوکپال سمت کا وجود لینا ضروری ہے ۔ بلا شبہ سرکار چاہتیتو کہیں زیادہ پائیدارور عام لوگوں کو مطمئن کرنے والا لوکپال بل لا سکتی تھی۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا اس سے مایوسی ہونا فطری ہی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جمہوریت میں کئی بار کچھ اداروں کی تعمیر میں تھوڑی تاخیر ہوتی ہے۔ مرکزی اقتدار انا ہزارے اور ان کے ساتھیوں کو دہلی میں احتجاج کرنے کی اجازت دینے کے لئے آنا کانی کررہی ہے۔ اور اسے پارلیمنٹ کی توہین بتا رہی ہے۔ کیا عام جنتا کے احتجاج کے آئینی حق کی خلاف ورزی کرنا آئین کی توہین کرنا نہیں ہے؟ سرکار اپنے بل کی بیشک جتنی بڑائی کرے لیکن اسے یہ بھی خیال رکھنا چاہئے کہ انا کے مطالبات کو عام جنتا سے حمایت حاصل ہے۔ انا فیل نہیں ہوئے بیشک وہ اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوئے لیکن سرکار کو اتنا بھی مجبور کرنا ان کا ایک بڑا کارنامہ ہی ہے۔
Tags: Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Parliament, Price Rise, Vir Arjun

06 اگست 2011

ایک بار پھر بھاجپا ہوئی بے نقاب

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 6th August 2011
انل نریندر
مہنگائی اور بدعنوانی جیسے برننگ اشوز پر یہ سرکار اور یہ پارلیمنٹ کتنی سنجیدہ ہے یہ ہمیں پچھلے دو دن میں لوک سبھا کے اندر چھائے واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ حکمراں اور اپوزیشن کے بیچ یہ نورا کشتی بھارت کی جنتا کو بیوقوف بنانے کیلئے محض ایک ڈرامہ تھا۔ دراصل صاف ہے کہ کانگریس پارٹی اور بڑی اپوزیشن پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی میں ایک خفیہ سمجھوتہ ہوگیا تھا۔ اس سمجھوتے کے تحت بھاجپا سے سرکار نے یقین دہانی لی تھی کہ آپ تقریر کریں گے ۔ بس اس سے کچھ زیادہ نہیں۔ آخر میں ایک ریزولوشن پاس کردیا جائے گا جس میں مہنگائی پر گہری تشویش جتائی جائے گی اور یقین دہانی کرائی جائے گی کہ سرکار اس سے نمٹنے کیلئے سنجیدہ ہے اور ہوا بھی یہی، تقریروں کے بعد بڑھتی مہنگائی پر ممبران پارلیمنٹ کی تشویش سے اتفاق کرتے ہوئے حکومت نے کہا کہ وہ اسے قابو کرنے کی پوری کوشش کررہی ہے۔ ایوان میں بعد میں اس سلسلے میں پیش پرستاؤ کو بابلند آواز سے پاس کردیا گیا۔ اس پرستاؤ میں قیمتوں میں اضافے پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے افراط زر کو روکنے کے لئے فوری موثر قدم اٹھانے کی اپیل کی گئی تاکہ عام آدمی کو راحت مل سکے۔
ووٹ تقسیم سے پہلے سپا، بسپا اور آر جے ڈی کے ممبر وزیر مالیات کے جواب سے مطمئن نہ ہونے کا بہانہ بنا کر ایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔ اس کے بعد ایوان نے کمیونسٹ پارٹی کے گورو داس داس گپتا کی جانب سے پرستاؤ میں پیش ایک ترمیم کو 51 کے مقابلے 320 ووٹوں سے نامنظور کردیا۔ جس پر لیفٹ پارٹیاں انا ڈی ایم کے اور بیجو جنتا دل کے ممبربھی ایوان سے واک آؤٹ کر گئے صرف لیفٹ پارٹی کے ہی ممبر تھے تو چاہتے تھے کہ ریزولوشن میں مہنگائی روکنے میں سرکار کی ناکامی کے لئے مذمت کی جائے لیکن بھاجپا کو ایسا کرنا ضروری نہیں لگا۔
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے پہلے بڑی بڑی دھمکیاں دینے والی بھاجپا ایک بار پھر بے نقاب ہوگئی اور بھاجپا کے ذریعے اپنائے گئے رویئے عام جنتا اپنے آپ کو ٹھگا محسوس کررہی ہے۔ مہنگائی پر سرکار کو پانی پی پی کر کوسنے والی بھاجپا نے پارلیمنٹ میں سرکار کو مہنگائی کے معاملے میں گھیرنے کے لئے ووٹ کے تقاضے والے قاعدے184 کے تحت لوک سبھا میں بحث کی مانگ کی۔ حکومت نے تھوڑا ہاں نہ کے بعد اس مانگ کو مان لیا۔ اب باری اپوزیشن کی تھی، وہ پوری طاقت اور دلائل کے ساتھ حکومت کو پارلیمنٹ میں گھیرتی لیکن بڑی اپوزیشن پارٹی بھاجپا اپنی ذمہ داری کو پوری کرنے میں بحث کے پہلے دن ہی پوری طرح ناکام رہی۔ وہیں رہی سہی کسر اس نے دوسرے دن پوری کردی۔ پارلیمانی قواعد کے تحت اگر کوئی بحث قاعدہ184 کے تحت کرائی جاتی ہے تو بحث کے آخر میں کسی بھی ایک ایم پی کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ ووٹ کی تقسیم کی باقاعدہ مانگ کرے لیکن بھاجپا نے جہاں پہلے دن سے ہی نہ تو مہنگائی کے مسئلے پر سرکار کو گھیرنے میں دلچسپی دکھائی اور نہ ہی بحث کے آخر میں کراس ووٹنگ کی مانگ کی۔ آئین کے مطابق اگر قاعدہ184 کے تحت کسی بحث میں حکمراں فریق کو منہ کی کھانی پڑتی ہے تو اس پر اخلاقی دباؤ بنتا ہے اور اخلاقی بنیاد پر اس سرکار کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں بچتا۔ بھاجپا نے کراس ووٹنگ کی مانگ نہ کرکے ایک طرح سے اس سرکار کو بنے رہنے کا کام کیا ہے اور یہ سب اس خفیہ سمجھوتے کے تحت کیا گیا ہے جو کانگریس پارٹی کے حکمت عملی سازوں نے بھاجپا کے نیتاؤں سے کی تھی۔ اگر بھاجپا چاہتی تھی وہ اس موقعے پر لیفٹ پارٹیوں اور دیگر چھوٹی پارٹیوں سے مل کر ان کی حمایت کافائدہ اٹھاتے ہوئے اگر کراس ووٹنگ کی مانگ کرتی تو کافی امکان یہ بنتا کہ سرکار دباؤمیں کچھ ٹھوس قدم اٹھانے کو مجبور ہوتی جس کا سیدھا فائدہ عام جنتا کو ملتا۔
آخر کار اس کا فائدہ اپوزیشن پارٹیوں کو ہی ملتا ہے۔ ایسے میں جب بھاجپا بار بار لوگوں کے سامنے کانگریس کے متبادل کی شکل میں ابھرنا چاہتی ہے تو اس کے ذریعے پارلیمنٹ میں اپنایا گیا رویہ اس کی توقعات پر ایک طرح کا دھکا لگنا ثابت ہو سکتا ہے۔
Tags: Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Parliament, Price Rise, Vir Arjun

عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے مہنگائی پر نورا کشتی

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 6th August 2011
انل نریندر
جمہوریت میں جب جنتا کی منتخب کردہ حکومت بے شرم ہوجائے جسے کسی ساکھ و عزت کی فکر ہو نہ روایت کی اور نہ ہی پراپرٹی آف گورنینز کی تو یہ ہی حال ہوتا ہے جو آج ہندوستان میں ہورہا ہے۔ اس حکومت کو نہ تو جنتا کی پرواہ ہے اور نہ اقتدار سے ہٹنے کی۔ اقتدار میں بنے رہنے کیلئے اسے صرف پارلیمنٹ کے ایوان لوک سبھا میں اپنا نمبروں کا کھیل صحیح رکھنا ہوتا ہے۔ اور پچھلے دو دنوں کی کارروائی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ حکمراں پارٹی کے منیجر اس کام میں ماہر ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں کو کیسے پٹا کر رکھنا ہے ایک بار پھر انہوں نے ثابت کردیا ہے۔ رہی بیچاری بھارت کی مرتی، پستی جنتا ، تو وہ اب اگلے چناؤ تک بے سہارا ہے۔
مہنگائی جیسے برننگ اشو پر جو 95 فیصد جنتا کو براہ راست متاثر کرتا ہے اس سرکار اور پارلیمنٹ کا کیا رویہ ہے؟پارلیمنٹ میں مہنگائی کو لیکر ہوئی بحث کو دیکھتے ہوئے اس نتیجے پر آسانی سے پہنچا جاسکتا ہے کہ اس طرح کی مبینہ سنجیدہ بحث میں دیش کو کچھ بھی حاصل نہیں ہونے والا۔ اگر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں تقریر کرنے سے مہنگائی قابو میں آسکتی تو ایسا نہ جانے کب سے ہوجاتا۔ مہنگائی پر بحث تقریباً ہر اجلاس میں ہوئی لیکن نتیجہ صفر کا صفر رہا۔الٹا مہنگائی بڑھتی گئی۔ سرکار کے پاس ہر بار کوئی نہ کوئی دلیل ضرور آجاتی ہے جس سے وہ اپنی خامیوں کو چھپا سکے۔ کبھی کمزور مانسون کو سبب بتایا جاتا ہے تو کبھی بین الاقوامی مالی حالت کو ،تو کبھی بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں کو۔ یہ سرکار تو جنتا کو بیوقوف بنانے کے لئے ہر بحث کے بعد نئی تعویل کا اعلان کردیتی ہے ۔ اب اس میں کوئی شبہ نہیں رہا کہ مرکزی حکومت ان اسباب کو جان بوجھ کر نظر انداز کرتی ہے جو حقیقت میں مہنگائی کے سبب ہیں۔ جب انہیں مانیں گے ہی نہیں تو اصلاحات کیسے ہوں گی؟ ہمارے ممبران پارلیمنٹ کا حال تو یہ ہے کہ وہ مہنگائی جیسے مسئلے پر وہ اتنا ہلکا پھلکا برتاؤ کرتے ہیں۔
پارلیمنٹ میں تعطل کو توڑنے کے لئے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہوئی سیاسی ڈیل کا اثر ایوان میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ مہنگائی پر سرکار کی تابڑ توڑ کھنچائی کرنا تو دور رہا اپوزیشن ممبران نے ایوان میں آنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ دو روز پہلے تک مہنگائی کو لیکر سرکار پر نشانہ لگانے میں مشغول ممبران پارلیمنٹ نے بحث کے دوران ندارد ہوکر اس مسئلے پر اپنی غیر سنجیدگی سے عام آدمی کو ایک بار پھر روبرو کرادیا ہے۔
مہنگائی پر نمبروں کا جال بن کر ایوان کے ریکارڈ میں اپنی تقریر درج کرا رہے مقررین کو چھوڑ کر باقی جو پارلیمنٹ میں موجود تھے ان میں سے بہت سے تو آپسی گپ شپ میں مشغول تھے۔ ایک سپا ایم پی شیلندر کمار نے تو ایوان میں اس نظارے پر تنقید بھی کردی۔ انہوں نے ایوان میں کم ممبران کی موجودگی پر مایوسی جتائی اور ساتھ ہی کہہ دیا کہ اہم مسئلوں پر بحث میں بریک دے کر سرکار نے مہنگائی پر اپنی کھوکھلی سنجیدگی کا اظہار ضرور کردیا ہے۔ ممبران کی بات تو چھوڑیئے اپوزیشن پارٹیوں کے بڑے نیتا تک پورے وقت ایوان میں موجود نہیں رہے۔ لمبے چوڑے مہنگائی کے بنیادی اسباب سے منہ ہی چرایا جارہا ہو تو پھر اس پر لگام کی امید کیسے کی جاسکتی ہے۔ لیفٹ پارٹیوں سے نہ تو اس یوپی اے سرکار سے اور نہ ہی اس بڑی اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے۔ اب تو اس سرکار کو ہی لائسنس مل گیا ہے کہ وہ منمانی کرے۔
Tags: Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Parliament, Price Rise, Vir Arjun

04 اگست 2011

ووٹنگ قاعدے کے تحت بحث کا جوا

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 4th August 2011
انل نریندر
یسا کہ امید تھی بھارتیہ جنتا پارٹی نے پارلیمنٹ میں یوپی اے حکومت پر ہلا بول دیا ہے۔ اور بدعنوانی و مہنگائی کے مسئلے پر مرکز میں حکمراں کانگریس لیڈر شپ والی یوپی اے سرکار کو گھیرنے میں لگی بھاجپا نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو چاروں طرف سے گھیرنے کا پورا پلان بنا لیا ہے۔ بھاجپا نے ان پر مانسون اجلاس کا ماحول خراب کرنے کا بھی الزام لگا دیا ہے۔ بھاجپا کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے ہی پہل کرتے ہوئے اپوزیشن کے سلسلے میں جو غیر ضروری بیان دیا ہے اس کے پیچھے اس کا واحد مقصد اپوزیشن کو مشتعل کرنا اور پارلیمنٹ کا ماحول خراب کرنا لگتا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ارون جیٹلی نے منموہن سنگھ اور پی چدمبرم پر تلخ حملے کئے۔ جیٹلی کا کہنا ہے اسپیکٹرم الاٹمنٹ کے معاملے میں سابق وزیر مواصلات اے راجہ اور وزیر اعظم منموہن سنگھ و ان کے دفتر کے درمیان 18 مرتبہ خط و کتابت ہوئی ۔ اس خط و کتابت کے ذریعے راجہ نے وزیر اعظم کو اسپیکٹرم معاملے میں اپنی وزارت کے فیصلے اور پالیسی سے پوری طرح واقف کرایا تھا۔ اس لئے وزیر اعظم یہ کہہ کر اپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتے کہ انہیں کچھ پتہ نہیں تھا۔ سشما سوراج نے وزیر اعظم پر پارلیمنٹ کا ماحول خراب کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ این ڈی اے پارلیمنٹ میں مہنگائی اور بدعنوانی کے مسئلوں پر ووٹنگ کرانے والے قواعد کے تحت بحث کرانے کا نوٹس دے گی۔ سشما نے کہا کہ این ڈی اے بدعنوانی اور مہنگائی کے مسئلوں پر لوک سبھا میں قاعدہ 184 اور راجیہ سبھا میں قاعدہ167 کے تحت نوٹس دے گی۔
بدعنوانی اور مہنگائی کے مسئلوں پر کانگریس کی قیادت والی یوپی اے حکومت کو پارلیمنٹ میں گھیرنے کے لئے بھاجپا اور اس کی لیڈر شپ والے این ڈی اے نے ووٹنگ قاعدے کے تحت بحث کرانے کی تجویز لوک سبھا سکریٹریٹ کو بھیج دی ہے۔ بھاجپا چاہتی ہے کہ بدعنوانی اور مہنگائی کے مسئلے پر ایوان میں صرف بحث ہی نہیں بلکہ ووٹنگ بھی کرائی جائے تاکہ ان مسئلوں پر یہ صاف ہوسکے کہ کون سرکار کے ساتھ ہے اور کون سرکار کے خلاف ہے۔ یہ داؤ چل کر بھاجپا کانگریس کے ساتھ اس کی اتحادیوں کو بھی بے نقاب کرنا چاہتی ہے۔ بھاجپا کا تجزیہ ہے کہ بدعنوانی اور مہنگائی کے مسئلوں پر ووٹنگ ہوئی تو یوپی اے سرکار پھنس سکتی ہے۔ حکومت کو باہر سے حمایت دینے والی سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کا ان مسئلوں پر نظریہ صاف ہے۔ سپا کے رام گوپال یادو نے کہا کہ بدعنوانی پر اب حکومت بھاگ نہیں سکتی۔ اسے پارلیمنٹ کا سامنا کرنا ہوگا اور دیش کی عوام کے سوالوں کا جواب دینا ہوگا۔ بسپا کی جانب سے مورچہ ستیش مشرا نے سنبھالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی سب سے بڑا اشو ہے اس کے خلاف ان کی پارٹی پائیدار لوک پال سے کم راضی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ انا ڈی ایم کے، بیجو جنتا دل، راشٹریہ جنتادل اور جنتا دل سیکولر اور لوکدل جیسی چھوٹی موٹی پارٹیوں نے بھی اپنے انداز میں حکومت کو آنکھیں دکھائی ہیں۔ کانگریس ممبر چپ چاپ سنتے اور دیکھتے رہے۔ مجبوراً ایوان کے پہلے دن چیئرمین کو ایوان کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔ اترپردیش اسمبلی چناؤ کو دیکھتے ہوئے بھاجپا مہنگائی اور بدعنوانی پر کانگریس سپا اور بسپا کے اتحاد کو پھر سے اجاگر کرنا چاہتی ہے ۔ سپا اور بسپا نے اگر کانگریس کو حمایت دی تو بھاجپا ۔سپا ،بسپا اور کانگریس اتحاد کو اشو بنائے گی۔ اگر سپا اور بسپا نے ووٹنگ کے وقت کانگریس کا ساتھ نہیں دیا اور یوپی اے پارٹیوں نے بھی الگ الگ سر اور تیور دکھائے تب ایسے میں یوپی اے حکومت کی فضیحت ہوسکتی ہے۔ لیفٹ پارٹیوں کا موقف پہلے ہی واضح ہے کہ وہ سرکار کی جم کر مخالفت کریں گے۔ بھاجپا نے ان ساری باتوں کو بھی دھیان میں رکھ کر یہ داؤ چلا ہے۔ ہمیں نہیں لگتا کہ سرکار ووٹنگ والے قاعدے کے تحت کسی بھی بحث کو تیار ہوگی۔ ظاہر ہے کہ اگر بھاجپا کی مانگ نہیں مانی گئی تو پارٹی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر یہ ہی سندیش دے گی کہ سرکار بدعنوانی اور مہنگائی کے مسئلے پر سنجیدہ نہیں ہے، اس لئے صرف بحث کر اشو کو ٹال رہی ہے۔ بھاجپا کی جانب سے بدعنوانی پر قاعدہ184 کے تحت بحث کرانے کے لئے سینئر لیڈر مرلی منوہر جوشی نے تجویز بھیجی تھی۔ مہنگائی پر بھاجپا نیتا یشونت سنہا اور این ڈی اے کے کارگذار کنوینر شرد یادو نے تجویز رکھی ہے۔ اب سرکار نے ووٹ قاعدے کے تحت بحث کرانا قبول کرلیا ہے۔ دیکھیں اس جوئے میں وہ کتنی کامیاب رہتی ہے؟ 
Tags: Anil Narendra, Arun Jaitli, BJP, Congress, Daily Pratap, Manmohan Singh, Parliament, Sushma Swaraj, Vir Arjun

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...