Translater

Election Commission لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Election Commission لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

04 اپریل 2012

چناؤ کمیشن نے پہلی بار جھارکھنڈ راجیہ سبھا چناؤ منسوخ کیا


Published On 4 April 2012
انل نریندر
چناؤ کمیشن نے گڑ بڑی کی شکایت ملنے کے بعد جھارکھنڈ کا راجیہ سبھا چناؤ منسوخ کردیا ہے۔ شاید ایسا پہلی بار ہوا ہے جب چناؤ کمیشن کو اتنا سخت فیصلہ لینا پڑا ہے۔ جھارکھنڈ میں اب اس چناؤ کانوٹیفکیشن نئے سرے سے جاری ہوگا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ نامزدگی اور ووٹنگ بھی نئے سرے سے ہوگی۔ غور طلب ہے کہ جمعہ کے روز جھارکھنڈ کی دو اور اتراکھنڈ کی ایک راجیہ سبھا سیٹ کے لئے ووٹنگ ہوئی، اسی درمیان ایک واقعہ ہوا یہ کہ جھارکھنڈ میں ووٹنگ سے پہلے ایک آزاد امیدوار آر کے اگروال کے قریبی کے پاس 2.15 کروڑ روپے برآمد ہوئے۔ چناؤ کمیشن کو اندیشہ ہوا کے یہ رقم ووٹ کے بدلے ممبران اسمبلی کو دی جانی تھی۔ بھاجپا کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے اس فیصلے کیلئے چناؤ کمیشن کی تعریف کی ہے۔ میل کا پتھر قرار دیتے ہوئے اڈوانی نے کہا اس قدم سے پیسے کے زور پر چناوی اکھاڑے میں کودنے والے لوگوں پر لگام لگائی جانے کا راستہ صاف ہوجائے گا۔ انشمن مشرا کی امیدواری کو لیکر بھاجپا کے اندر گھمسان ابھی ٹھنڈا نہیں پڑا تھا کہ جمعہ کو صبح سویرے پولنگ سے پہلے آزاد امیدوار آر کے اگروال کے چھوٹے بھائی سریش اگروال کی کار سے انکم ٹیکس محکمے نے چھاپہ مار کر 2 کروڑ15 لاکھ روپے ضبط کئے۔ اسی کے ساتھ ممبران کی ایک فہرست بھی ملی۔ جھارکھنڈ کا تازہ تنازعہ تاریک وطن کاروباری انشمن مشرا کے ساتھ ہوا۔ بھاجپا صدر نتن گڈکری نے انشمن مشرا کی حمایت کرنے کے اعلان کے بعد بھاجپا میں بغاوت ہوگئی۔ سینئر لیڈروں کے دباؤ میں مشرا سے بھاجپا کی حمایت واپس لینی پڑی اور اسی معاملے سے بھاجپا کی خوب خفت ہوئی۔ انشمن مشرا نے غصے سے کارروائی کے طور پر ارون جیٹلی اور ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی پر الزام لگا دئے ، لیکن جلد انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا یا کرایا گیا اور انہوں نے معافی مانگ لی۔ لیکن تب تک دیر ہوچکی تھی۔ ارون جیٹلی نے انشمن مشرا پر ان کے خلاف مبینہ جھوٹا الزام لگانے پر 100 کروڑ روپے کے ہتک عزت کا مقدمہ ٹھوک دیا ہے۔ مجرمانہ ہتک عزت عرضی میں جیٹلی نے ایک اور اینگل جوڑدیا۔ اس تنازعے میں اب کرناٹک کے گورنر ایچ آر بھاردواج کو بھی زد میں لے لیا ہے۔ اس عرضی میں ارون جیٹلی نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی مشرا سے ملاقات 2011ء کے وسط میں بینگلور کے راج بھون میں ہوئی تھی۔ جب بھاردواج نے مشرا کو ناشتے کے لئے مدعو کیا تھا۔ جیٹلی نے عرضی میں تذکرہ کیا ہے کہ وہ مشرا کی راج بھون میں ہیں مہمان نوازی اور ان کے ناشتے کے ٹیبل پر ہوئی موجودگی پر حیرت زدہ تھے۔ بقول جیٹلی مشرا کی موجودگی کے دوران ہی بھاردواج نے ریاست سے متعلق معاملوں پر غور وخوض کیا جبکہ مشرا کا ریاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اگر مشرا کا معاملہ کورٹ میں سنا جاتا ہے تو اس سے ہنسراج بھاردواج کی کرکری ہوسکتی ہے۔ادھر جیٹلی نے مشرا سے بات چیت ٹیلی کاسٹ کرنے والے ٹی وی چینلوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ انٹرویو میں مشرا نے جیٹلی سمیت بھاجپا کے دیگر لیڈروں پر سنگین الزام لگائے تھے۔ مشرا نے تو معافی مانگ لی ہے لیکن لگتا ہے ٹی وی چینل جیٹلی سے ضرور پریشان ہوں گے۔ جیٹلی نے قانونی نوٹس میں مطالبہ کیا ہے کہ جن چینلوں نے جتنے منٹ تک مشرا کا انٹرویو ٹیلی کاسٹ کیا ہے اتنی ہی مدت تک وہ جیٹلی سے معافی مانگیں۔ جھارکھنڈ ریاست کی تشکیل ایک قبائلی اکثریت ریاست کی شکل میں ضرور ہوئی لیکن یہاں سے راجیہ سبھا میں شروع سے ہی باہر کے لوگ خاص طور پر سرمایہ داروں نے اپنی موجودگی درج کرائی۔ اس سلسلے میں ایک کرپٹ روایت کی شکل میں منظوری ملے اس سے پہلے چناؤ کمیشن نے جمہوری روایات کو بچانے میں اہم کردار نبھایا ہے۔ جھارکھنڈ میں سرکاروں کی تشکیل کو لیکر بھی گٹھ جوڑ اور حمایت اور مخالفت کی کافی گھناؤنی سیاست ہوتی رہی ہے۔ اب بھی وہاں ایک اتحادی حکومت ہے جس کے تال میل کے بجائے اندرونی رسہ کشی کے خبریں آئے دن سرخیاں بنتی ہیں۔ چناؤ کمیشن نے راجیہ سبھا چناؤ تو منسوخ کردیا ہے اس سے شاید ہی بھاجپا میں گھمسان رک پائے۔ صدر نتن گڈکری نشانے پر ہیں۔ ادھر ارون جیٹلی مشرا کو سبق سکھانے پر تلے ہوئے ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Election Commission, Jharkhand, Rajya Sabha Poll, Vir Arjun

28 فروری 2012

کانگریس نے چناؤ مریادا کو تار تار کردیا ہے



Published On 28nd February 2012
انل نریندر
اب کی بار اترپردیش چناؤ میں کچھ کانگریسی لیڈروں نے تو ساری حدیں پار کردی ہیں نہ تو انہیں چناؤ کمیشن کی فکر ہے اور نہ اس کی مان مریادا کی۔ جو منہ میں آتا ہے بول دیتے ہیں یہ نہیں سوچتے کے اس کا پارٹی کے مستقبل پر کیا اثر پڑے گا؟ اس زمرے میں ایک نام ہے مرکزی وزیر شری پرکاش جیسوال کا۔ ابھی آپ کے اس تنازعے کا طوفان رکا نہیں تھا کہ کانگریس کی صوبے میں سرکار نہیں بنی تو صدر راج لگا دیا جائے گا، کہ انہوں نے ایک اور متنازعہ بیان دے ڈالا۔ اترپردیش اسمبلی چناؤ میں لگتا ہے جو زبان مرکزی وزیر بول رہے ہیں یا جو اپنا برتاؤ ظاہر کررہے ہیں کیا وہ کانگریس کی کوئی نئی حکمت عملی تو نہیں ہے؟ اس زبان اور کانگریس کے مرکزی لیڈروں کے برتاؤ میں اس چناؤ کو چناؤ کمیشن بنام کانگریس میں بدل دیا ہے۔ سنیچر کو پھر مرکزی وزیر شری پرکاش جیسوال نے متھرا میں چناؤ ریلی میں کہہ ڈالا کہ راہل اگر چاہیں تو آج آدھی رات کو ہی وزیر اعظم بن سکتے ہیں اور کوئی انہیں ایسا کرنے سے نہیں روک سکتا ، لیکن وہ نہ وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں اور نہ وزیر اعلی۔ جیسوال اس سے پہلے وزیر اعلی بننے کی بھی خواہش جتا چکے ہیں۔ چناؤ مہم کے دوران ہی انہوں نے یہ کہہ کر واویلا کھڑا کردیا تھا کہ یوپی میں کانگریس کی سرکار بنتی ہے تو مکھیہ منتری بھلے ہی کوئی بنے لیکن ریمورٹ کنٹرول توراہل گاندھی کے ہی ہاتھ میں ہوگا۔ اپوزیشن نے اس پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہارتی ہوئی کانگریس نے جمہوریت کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ یہ پہلا چناؤ ہے جس میں کانگریس کے سینئر لیڈر الگ الگ زبان بول رہے ہیں۔ راہل گاندھی خود لگاتار دو حکومتوں کو غنڈوں اور چوروں کی حکومت بتا چکے ہیں۔ یہ بات الگ ہے کامن ویلتھ گیمز سے لیکر ٹوجی گھوٹالے میں مرکزی حکومت پر کوئی تبصرہ نہیں کرتے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے سینئر وکیل ستیش شکل نے کہا کہ قانون میں غنڈہ چور کی تشریح طے ہے ، اگر اس دائرے میں کوئی نیتا آتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہوتی ہے۔ ایسے میں ان الفاظ کا استعمال پوری سرکار کے لئے کیا جانا سمجھ سے پرے ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اپوزیشن اسے چناؤ میں کانگریسی رویئے کو نیا ضابطہ بتا رہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ مانو کانگریس چناؤ کمیشن سے دو دو ہاتھ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ کانگریس لیڈروں کے بیان پر تمام اپوزیشن پارٹیوں کا احتجاج فطری ہی ہے ۔ سپا کے ترجمان راجندر چودھری نے کہا کہ کانگریس کے نیتا اور وزیر یہاں تک کہ راہل گاندھی جو زبان بول رہے ہیں اس میں پورے چناؤ کی مریادا کو تار تار کردیا ہے۔ اس بار تو لگ رہا ہے کانگریس پارٹی چناؤ کمیشن سے ہی لڑ رہی ہے مرکزی وزیر کیا بول رہے ہیں انہیں پتہ ہی نہیں۔ کوئی ایک وزیر اعظم کے رہتے آدھی رات میں راہل گاندھی کو وزیر اعظم بنانے کا اعلان کرتا ہے تو کوئی دھمکاتا ہے کانگریس کو ووٹ نہیں دیا تو صدر راج لگا دیں گے۔ بعد میں یہ سب اپنے بیانوں سے مکر جاتے ہیں۔ بینی پرساد ورما ،سلمان خورشید اور سری پرکاش جیسوال اس طرح کے بیان دے چکے ہیں۔ بسپا چیف مایاوتی نے کہا کہ کانگریس اس چناؤ میں مختلف طرح کی سازشیں رچ کر جنتا کو گمراہ کررہی ہے۔ کانگریس پارٹی اب پوری طرح سے مایوس اور بیزار ہوچکی ہے۔ بھاجپا کے ترجمان وجے پاٹھک کا کہنا ہے سری پرکاش جیسوال رات میں 12 بجے راہل کو وزیر اعظم بنا کر کیا سندیش دینا چاہتے ہیں؟ جب ایک وزیر اعظم کام کررہا ہے تو اس طرح کی بات کرنے سے اپنی سرکار کی ہی کھلی اڑوا نا ہے۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Election Commission, Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

24 فروری 2012

چناؤ کمیشن کے اختیارات میں کٹوتی کا ارادہ

اترپردیش چناؤ میں دیگر پارٹیوں کے خلاف زور آزمائش کررہی کانگریس کا ایک مورچہ چناؤ کمیشن کے خلاف بھی نظر آرہا ہے۔ دراصل کانگریس پارٹی کانپور کے ضلع افسر کی جانب سے پارٹی سکریٹری جنرل راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے احکامات سے سخت نالاں ہیں۔ پارٹی جہاں اس حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرے گی وہیں چناؤ کمیشن کے دائرہ اختیار کو بھی کترنے کی تیاری کررہی ہے۔ بتاتے ہیں کہ کیبنٹ گروپ کی میٹنگ میں چناؤ ضابطے کو چناؤ کمیشن کے دائرہ اختیار سے ہٹانے کا ایجنڈا تیار ہورہا ہے۔ اس سے پہلے مرکزی وزیر سلمان خورشید اور دوسرے وزیر بینی پرساد ورما بھی چناؤ ضابطے کے معاملے میں چناؤ کمیشن کو درپردہ طور پر چیلنج کرچکے ہیں۔ ابتدائی دور میں چناؤ کمیشن بھلے ہی بسپا اور اکالی دل کے لیڈروں کے نشانے پر رہا ہو لیکن اب لڑائی چناؤ کمیشن بنام کانگریس ہوگئی ہے۔ کانگریس کے اب نشانے پر چیف الیکشن کمشنر ایس۔ وائی قریشی ہیں۔ ویسے چیف الیکشن کمشنر نے اپنے اکھڑ رویئے سے ایک بار پھر ٹی این شیشن کی یاد دلادی ہے۔ ایک دور میں جس طرح سے چیف الیکشن کمشنر شیشن نے اپنی دھاک سے تمام پارٹیوں کو چناؤ کمیشن کی طاقت دکھا دی تھی کچھ اسی طرح کا کام قریشی کررہے ہیں۔ شاید یہ ہی بات کانگریس کے بڑے لیڈروں کو ہضم نہیں ہورہی ہے۔ ایسے میں چناؤ کمیشن کے پر کترنے کی چپ چاپ تیاریوں کی خبر سے تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ ایک انگریزی اخبار نے دو دن پہلے خلاصہ کیا تھا کہ مرکزی سرکار ماڈل چناؤ ضابطہ وغیرہ کے معاملے میں چناؤ کمیشن کے اختیار کو کم کرنے کی پہل کرنے والی ہے۔ اس خبر میں قریشی کی رائے بھی بتادی گئی تھی قریشی نے کہا کہ اگر سرکار ایسی کوئی کوشش کرے گی تو اسے چناؤ ضابطے کی تعمیل کرانا اور مشکل کام ہوجائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا چناؤ کمیشن کے اختیارات کو کم کرنے کی کوئی کوشش جنتا پسند نہیں کرے گی۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی کا کہنا ہے کہ سرکار کی ایسی کوشش سراسر سیاسی بے شرمی ہے۔ ایسا اس لئے کیا جارہا ہے کیونکہ حال ہی میں چناؤ کمیشن نے وزیر قانون سلمان خورشید کو بھی چناؤ ضابطے کی خلاف ورزی کے معاملے میں کٹہرے میں کھڑا کردیا تھا۔ اس پر انہیں معافی بھی مانگنی پڑی تھی۔ ایک اور معاملے میں مرکزی وزیر بینی پرساد ورما بھی پھنسے ہیں۔ راہل گاندھی بھی کانپور میں چناؤ ضابطے کو ٹھینگا دکھا کر پھنس گئے ہیں۔ اسی چڑ کو اترانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کے منموہن سرکار کیا واقعی ایسا کوئی قدم اٹھانے کے بارے میں غور کررہی ہے؟ اگر سوچ رہی ہے تواس کا نظریہ غلط ہے۔ چناؤ کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اس کا کام آزادانہ، منصفانہ اور صاف ستھرے چناؤ کرانا ہے اور ایسا وہ کر بھی رہا ہے۔ ایسا نہیں کہ چیف الیکشن کمیشنر ایس۔ وائی قریشی خاص طور پر کانگریس کو ہی نشانہ بنا رہے ہیں ان کے نشانے پر سبھی پارٹیاں ہیں جو چناؤ ضابطے کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔ ہندوستان کی جمہوریت کی مضبوطی کی ایک بڑی وجہ ہے آزادانہ اور منصفانہ چناؤ ۔ اس کام میں سب سے اہم کردار چناؤ کمیشن کا ہے۔جنتا چناؤ کمیشن کے اختیارات میں کٹوتی منظور نہیں کرسکتی بہتر ہے سرکار اگر ایسا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو اسے ترک کر دے۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Election Commission, Rahul Gandhi, S.Y. Qureshi, Salman Khursheed, Vir Arjun

14 فروری 2012

کانگریس کے جب ایسے دوست ہو تو دشمنوں کی ضرورت نہیں


Published On 14th February 2012
انل نریندر
چناوی ماحول میں الٹے سیدھے بیان دینا کوئی خاص بات نہیں ہوتی چناوی مہم کے دوران ووٹوں کی خاطر نیتا لوگ بہت غیرضروری بیان دے دیتے ہیں۔ لیکن اترپردیش میں جس طرح کے بیان کچھ کانگریسی نیتا دے رہے ہیں وہ حیرت انگیز اور کچھ حد تک چونکانے والے ضرور ہیں۔ ہمیں نہیں لگتا کہ یہ بیان یا تنازعہ کسی حکمت عملی کے تحت دیئے جارہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان سے کانگریس اعلی کمان خوش تو نہیں ہوسکتا کیونکہ ایسے دوست ہو تو دشمنوں کی ضرورت نہیں ہے۔ ان شیخ چلی ٹائپ کے بیانات سے کانگریس کی مشکلیں ہی بڑھی ہے کانگریس نے جن لوگوں کو یوپی میں پارٹی کی نیا پار لگانے کے لئے مقرر کیا ہے وہی اس کی لوٹیا ڈبونے پر تلے ہوئے ہیں۔ اور ہائی کمان کے ذریعہ کئے جارہے اشارے کے باوجود بھی اپنی غلطی نہیں سدھاررہے ہیں۔ ان لوگوں میں پہلا نام سلمان خورشید کاہے ۔وہ وزیرقانون ہے اور چناؤ ضابطہ کے بارے میں بخوبی جانتے ہوئے بھی وہ نوفیصدی اقلیتی ریزرویشن کا مسلسل راگ الاپ رہے ہیں۔ چناؤ کمیشن کی تنقید کے بعد بھی وہ باز نہیں آرہے ہیں۔ کہتے ہیں چناؤ کمیشن چاہے پھانسی پر چڑھا دے یا کچھ بھی کرے میں پسماندہ مسلم فرقے کے لوگوں کو ان کا حق دلا کر ہی رہوں گا۔ مجھ میں بہت ساری پابندیاں لگا دی گئی ہے۔ کیا میں پسماندہ لوگوں کے حق کے بارے میں بول نہیں سکتا۔ پسماندہ لوگوں کو ریزرویشن نہیں ملے گا۔ تو کسے ملے گا۔ کانگریس کے پاس اس کاجواب نہیں بن پارہا ہے۔ جب کہ میڈیا ان سے خورشید کے بیان کے بارے میں سوال کرتا ہے کہ سلمان خورشید کے بعد دوسرا نام آج کل یوپی میں راہل گاندھی کی ناک کا بال بنے بینی پرساد ورما کا ہے وہ کبھی اپنے ہی ایم پی پی ایل پنیا کو یوپی کے بجائے باہری ( پنجاب) کابتا رہے ہیں تو کبھی وزیراعظم پر رائے زنی کرتے ہیں کہ دیش کے وزیراعظم بوڑھے ہو چلے ہیں وہ اب دیش چلانے کے لائق نہیں ہے موجودہ عہد ختم ہوتے ہوتے ان کی عمر میں دوسال کا اضافہ اور ہوجائے گا ایسے میں دیش کی باگ دوڑ نوجوان کے ہاتھ میں آنی چاہئے۔ یہ باتیں مرکزی وزیر فولاد بینی پرساد ورما گزشتہ جمعہ کو شہر کے مڈیاڈو اسمبلی حلقہ سے کانگریس امیدوار پرمندرسنگھ کی حمایت میں منعقدہ چناوی ریلی کے بعد میڈیا سے کہی انہوں نے کہا کہ دیش وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ 80 برس کے ہوچکے ہیں۔ اپنے بڑ بولے پن سے دونوں دن سرخیوں میں رہنے والے ورما نے کہا کہ دیش کی کمان اب نوجوان ہردے سمراٹ وکانگریس کی یورراج ایم پی راہل گاندھی کے ہاتھ میں آنی چاہئے۔ اعظم گڑھ میں چناؤ کے ٹھیک پہلے سلمان خورشید نے ایک اورہنگامہ کھڑا کرا دیا ہے کہ ایک چناوی ریلی میں آپ نے فرمایا کہ کانگریس صدر سونیاگاندھی نے جب بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کی تصویریں دیکھی تھیں تو وہ رو پڑی تھی۔ اس پر کانگریس سکریٹری جنرل دگ وجے سنگھ خورشید کے اس بیان کو غلط مانتے ہوئے یہ کہا تھا کہ کانگریس صدر سونیا گاندھی نہیں روئی تھی۔ اس کے بعد دگ وجے سنگھ نے ریاست میں صدر راج لگانے کی بات کہہ کر لوگوں کو چونکا دیا۔ سلمان خورشید کے ساتھ مانو مسلمانوں کے نیتا بننے کے لئے جم کر مقابلہ چل رہا ہے۔ اس کے علاوہ مرکزی وزیرغلام نبی آزاد کہتے ہیں کہ پارٹی کو 100سیٹیں ملے گی۔ وہی جے پرکاش جیسوال فرماتے ہیں کہ یوپی میں کانگریس کی سرکار بننے جارہی ہیں۔ اور پردیش میں چاہے کانگریس کا وزیراعلی بھلے کوئی بنے۔ لیکن ریمورٹ کنٹرول راہل گاندھی کے ہاتھ میں ہی ہوگا۔ رابرٹ وڈرا کہتے ہیں کہ پرینگا سیاست میں آئے گی۔ اور پرینکا کہتی ہے کہ میراکوئی ایساارادہ نہیں۔ اس لئے کہتا ہوں کانگریس کے جب ایسے دوست ہو تودشمنوں کی ضرورت نہیں ہے۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Election Commission, Salman Khursheed, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا مستقبل؟


Published On 14th February 2012
انل نریندر
بحرانوں سے گھرے پاکستانی وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کے ستارے آج کل گردش میں چل رہے ہیں۔پچھلے کئی مہینوں سے پاکستان سپریم کورٹ اور گیلانی کے درمیان زبردست کشمکش جاری ہے۔ جیسے لگتا ہے شاید اب گیلانی صاحب کو تھوڑی راحت ملے۔ ویسے ہی سپریم کورٹ ایسے احکامات دے دیتی ہے جس سے حالات کشیدہ بن جاتے ہیں۔ جمعہ کو پاکستانی سپریم کورٹ نے یوسف رضا گیلانی کو زبردست جھٹکا دیتے ہوئے ان کی اپیل خارج کردی تھی۔ اور ساتھ ہی صاف الفاظ میں انہیں 13 فروری کو عدالت میں حاضر ہونے کو کہاتھا جس پر تعمیل کرتے ہوئے وزیراعظم مسٹر گیلانی عدالت میں حاضر ہوئے۔ ان پرالزامات طے ہوگئے ہیں ۔لیکن تازہ اطلاعات کے مطابق مسٹر گیلانی معاملے کی سماعت 28 فروری تک ملتوی کردی گئی ہے۔ اس روز اگرعدالت ان پر مقدمہ چلانے کی اجازت دیتی ہے تو انہیں کرسی چھوڑ نی پڑسکتی ہے ۔ 13فروری کوعدالت نے معاملے کو ٹال دیا ہے۔ جس سے انہیں تھوڑی راحت ضرورملی ہے۔ قابل ذکر ہے مسٹر گیلانی نے اپنے خلاف توہین عدالت کے الزام طے کرنے کے لئے انہیں طلب کرنے والے حکم کو منسوخ کرنے کی اپیل کی تھی۔ عدالت عظمی نے صدر آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے معاملے پھر سے کھولنے میں ناکام رہنے پر گیلانی کو سمن بھیج کر 13فروری کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کو کہاتھا۔ گیلانی کے وکیل اعتزازا حسن کی جانب سے 200 صفحات کی اپیل میں کورٹ میں وزیراعظم کے 13فروری کو بذات خود پیش ہونے کے متعلق حکم پر روک لگانے کی اپیل کی تھی۔ جسے جمعہ کو خارج کردیا تھا۔ 13فروری کو صدر آصف زرداری کے خلاف رشوت خوری کے معاملوں کو پھر سے کھولنے کے حکم کی تعمیل نہ کرنے کے لئے وزیراعظم گیلانی پر الزامات طے کئے گئے ہیں۔گیلانی کی اپیل خارج کرنے سے پہلے سپریم کورٹ کی 8رکنی بنچ کے چیف اورچیف جسٹس افتخار چودھری نے گیلانی کے وکیل سے صاف جواب مانگا تھا ۔کیا وزیراعظم صدر زرداری کے خلاف رشوت کے معاملوں کو پھر سے کھولنے کے لئے سوئز حکومت کو خط لکھیں گے یا نہیں؟ انہوں نے کہا ''ہم آپ کو فون پر وزیراعظم سے بات کرنے کے لئے دس منٹ کاوقت دیتے ہیں اور آپ ہمیں بتائیں لیکن گیلانی کے وکیل نے جواب میں کہا ہے کہ مجھے ایسا کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اپیل خارج کی جاتی ہے۔'' سوال یہ اٹھا ہے کہ اب آگے کیاہوگا؟ کیاگیلانی اب استعفی دیں گے؟ گیلانی اگرہٹتے ہیں تو سرکار نہیں گرے گی کیونکہ حکمراں محاذ کے پاس مطلوب اکثریت ہیں وہ گیلانی کی جگہ کسی اورکو وزیراعظم مقرر کرسکتے ہیں۔ سپریم کورٹ سے چل رہی تکرار سے حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی کمزور ضرور ہوئی ہے اور اگلے عام چناؤ 2013میں ہوسکتے ہیں چاروں طرف مشکلات سے گھیرے پاکستان میں اگر سیاسی عدم استحکام بڑھ جاتا ہے تو یہ اچھا اشارہ نہیں مانا جاسکتا۔ ایک طرف طالبانی معاملہ دوسری طرف بڑھتی غریبی ، بے روزگاری ، آج پاکستان سب طرف سے گھرتا جارہا ہے حکمراں محاذ سرکار پر ایک طرف سنگین الز ام لگائے جارہے ہیں ۔ٹرانسپرینسی انٹر نیشنل پاکستان (ٹی آئی پی) نے تازہ رپورٹ میں کہاہے کہ وزیراعظم گیلانی کے عہد میں پاکستان کو 805 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ یہ نقصان کرپشن، ٹیکس چوری وخراب انتظامیہ کی وجہ سے ہوا ہے ڈی نیوز سے ٹی آئی پی کے مشیر عادل گیلانی نے کہا کہ کرپشن کے اثر کافی سنگین ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی موجودہ حکومت جو سال 2008میں برسراقتدارآئی ہے ۔اب تک یہ سب سے کرپٹ حکومت ہے یہ سرکار کے عہد میں کرپشن کے سارے پچھلے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں اور دیش سب سے کرپٹ ملکوں کی فہرست میں اوپر پہنچ گیا ہے۔ پاکستان میں سرکار اور عدلیہ کے درمیان ٹکراؤ کی ایک اور وجہ سے بھی تیز ہوگیا ہے۔ سپریم کورٹ نے تین وزراء سمیت 28 نمائندوں کو معطل کردیا ہے معاملہ کی سماعت کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ سینٹ، نیشنل اسمبلی اورصوبائی اسمبلیوں کے لئے 28 ضمنی چناؤ ادھورے کمیشن نے کرائے تھے۔ ان چناؤ کے وقت کمیشن کے کچھ ممبران کے عہدے خالی پڑے تھے اس لئے کورٹ نے ان ضمنی انتخابات کو غیر آئینی قرار دے کر سبھی ممبران کو معطل کردیا تھا۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا سیاسی مستقبل اندھیرے میں ہیں ممکن ہے انہیں وزیراعظم کے عہدے سے استعفی دینا پڑے وہ بھی 6مہینے کے لئے جیل بھی جاسکتے ہیں۔بہرحال دیکھیں 13فروری کو عدالت نے معاملے کو 28فروری تک ٹال دیا ہے۔ اس روز عدالت کیا فیصلہ سناتی ہیں۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Election Commission, Salman Khursheed, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

07 فروری 2012

پنجاب۔ اتراکھنڈ میں37 دنوں کیلئے حکومت و انتظامیہ ٹھپ



Published On 7th February 2012
انل نریندر
بھارت کے چناؤ کمیشن نے اپنے فیصلے سے پنجاب اور اتراکھنڈ ریاستوں کے انتظامیہ کو ایک مہینے سے زیادہ وقت کے لئے پنگو بنادیا ہے۔ حالانکہ دونوں ریاستوں میں پولنگ ہوچکی ہے لیکن چناؤ ضابطہ ابھی بھی لاگو ہے۔ یہ چناؤ ضابطہ 37 دن کے لئے یعنی 6 مارچ تک چالو رہے گاجس دن ووٹوں کی گنتی ہوگی۔ ایک پنجاب کے افسرکا تبصرہ تھا کہ ہم تو اپنا سارا وقت ٹی وی دیکھ کر گذار رہے ہیں، کام تو کوئی ہے ہی نہیں۔ پنجاب، اتراکھنڈ و منی پور تینوں ریاستوں میں چناؤ ہوچکے ہیں اور کسی کو صحیح سے معلوم نہیں کہ ریاست کا مالک کون ہے؟ وزیر اعلی،گورنر اور چیف الیکٹرول آفیسر یا چیف الیکشن کمیشن دہلی کون ہے، جس کے احکامات پر ریاست کا انتظام چلے؟ بدقسمتی یہ ہے کہ اس حالت کو پیدا ہونے سے بچایا جاسکتا اگر چناؤ کمیشن تھوڑی سی توجہ دیتا۔اگر پنجاب اتراکھنڈ میں چناؤ 3 مارچ کو ہوتے اور نتیجہ6 مارچ کو آتا تو اس بے یقینی کی صورتحال سے بچا جاسکتا تھا۔ سوال یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ ایسی کونسی مجبوری تھی جس کی وجہ سے ریاستوں کے انتظامیہ کو پوری طرح ٹھپ کردیا گیا۔ چناؤ کمیشن بیشک یہ دلیل دے کہ ہم وہاں جلد ہی چناؤ کروانا چاہتے تھے کیونکہ چناؤ کی تاریخوں کو بہت سی باتوں کو دیکھ کر ہی طے کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سیاسی پارٹیوں کی رائے ،دوسرے ریاستوں میں چناؤ کے انتظامات کو دیکھنا، موسم و اسکول امتحانات و چھٹیاں،تہوار وغیرہ وغیرہ؟ اکالی دل کے ایک لیڈر کا کہنا ہے کہ ہم تھوڑا حیران ضرور ہوئے ہیں جب 30 جنوری کو پولنگ کی تاریخ کا اعلان ہوا۔ کیونکہ ہم امید کررہے تھے کہ چناؤ 10 سے15 فروری کے درمیا ن ہوں گے کیونکہ پچھلے اسمبلی چناؤ 2002 اور 2007 میں13 فروری کو ہوئے تھے۔
اتراکھنڈ کی چناوی تاریخ میں یہ پہلی بار تھا جب چناؤ ایسے وقت ہوئے جب ریاست میں کڑاکے کی سردی تھی۔ پہاڑی علاقوں میں برف پڑی ہوئی تھی۔ ریاست بننے کے بعد 2002 اور 2007 میں دو بار اسمبلی انتخابات ہوئے۔ 2002 ء میں چناؤ14 فروری کو ہوئے تھے اور نتیجہ24 فروری کو اعلان کردیا گیا۔ اسی طرح2007ء میں چناؤ21 فروری کو ہوئے تھے اور چھ دن بعد نتیجہ 27 فروری کو اعلان ہوا تھا۔ چناؤ کمیشن کے حکام نے کہا کہ ابھی تک وزیر اعلی نے چناؤ ضابطے کو نرم کرنے کی کوئی خواہش نہیں ظاہر کی ہے۔ بیشک وزیر اعلی ابھی بھی نگراں وزیر اعلی ہیں لیکن وہ کسی بھی افسر کا ٹرانسفر نہیں کرسکتے اور نہ ہی صحیح معنوں میں جواب طلبی کرسکتا ہے۔ افسر شاہی اس لئے بھی وزیر اعلی کو سنجیدگی سے نہیں لیتی کیونکہ وہ کہتے ہیں پتہ نہیں یہ دوبارہ اقتدار میں آئیں بھی یا نہیں؟ اتراکھنڈ کے وزیر اعلی بھون چند کھنڈوری نے چناؤ کمیشن کے ذریعے طے کردہ چناؤخوف پر اعتراض کیا تھالیکن چناؤ کمیشن نے اسی نظرانداز کردیا۔ ایسی صورت سے بچایا جاسکتا تھا اگر ان دونوں ریاستوں میں چناؤ نتائج آنے سے کچھ دن پہلے ہوتے۔اس لئے سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے حساب سے چناؤ کمیشن کے اس فیصلے کا مطلب نکال رہی ہیں۔ اکالی بھاجپا کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمیشنر نے کانگریس کو خوش کرنے کے لئے یہ کہہ دیا تاکہ پارٹی ان کے ریٹائرمنٹ کے بعد کہیں نہ کہیں ایڈجسٹ کردے۔
Akali Dal, Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Election Commission, Punjab, State Elections, Uttara Khand, Vir Arjun

01 فروری 2012

یوپی میں کھڑا ہوا نیا تنازعہ آئی اے ایس بنام آئی پی ایس



Published On 1st February 2012
انل نریندر
ہماری سرکاری مشینری کے دائیں اور بائیں ہاتھ ہیں آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسر۔ ان میں ایک کے ذمہ انتظامی نظام تو دوسرے کے ذمہ قانونی نظام ہے۔ ان کے تال میل سے ہی پورا انتظامیہ چلتا ہے اس لئے دونوں ہی اہم ہیں اور ان کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔ دونوں ہیں ہاتھ برابر ہیں اور ضروری بھی۔ یہ آپس میں لڑ نہیں سکتے۔وجہ صاف ہے ایک ہاتھ کمزور ہوگا تو دوسرا خود متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکتا۔ دونوں میں سے ایک بھی کمزور ہوا تو سارا نظام چرمرا سکتا ہے۔ آج اترپردیش میں یہی ہورہا ہے۔ چناوی ماحول میں سدھارتھ نگر کے ایس پی موہت گپتا کے تبادلے نے اترپردیش میں گذشتہ تین دنوں سے جاری آئی پی ایس بنام آئی ایس کی لڑائی کو اس قدر بھڑکایا کے ایتوار کی دیر شام تک قریب ڈھائی درجن اعلی پولیس افسران نے استعفے کی پیشکش کردی۔ معاملہ کیا تھا؟ سبھی افسر سدھارتھ نگر کے ایس پی موہت گپتا کے تبادلے سے ناراض ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے برا برتاؤ کرنے والے بستی کے کمشنر انوراگ شریواستو اور چیف سکریٹری وزیر اعلی کنور فتح بہادر کو عہدوں سے ہٹاتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ارون کمار( سکریٹری آئی پی ایس ایسوسی ایشن ) نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کئی افسروں نے استعفے بھیجے ہیں ان کے بارے میں ڈی جی پی کو بتادیا گیا ہے۔ ان افسران کو سمجھانے کی کوشش ہورہی ہے۔ ادھر چناؤ کمیشن نے فوراً کارروائی کی ہے اور سدھارتھ نگر کے سابق ایس پی گپتا کے بیہودہ زبان کا استعمال کرکے انہیں میٹنگ سے باہر نکالنے پر سخت رویہ اپناتے ہوئے انوراگ شریواستو کو منڈل کمیشنر کے عہدے سے ہٹادیا ہے اور ان سے 31 جنوری تک جواب طلب کیا گیا تھا۔معاملے کو آئی پی ایس افسروں کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے چناؤ کمیشن نے ایتوار کی شام ہی شریواستو کو عہدے سے ہٹا کر رفع دفع کرنے کی کوشش کی ہے۔ انتظامیہ نے انوراک شریواستو کو ایسے عہدے پر رہنے کو کہا ہے جو چناؤ سے وابستہ نہ ہو۔ انوراگ کا جواب ملنے کے بعد چناؤ کمیشن آگے کی کارروائی پر غور کرے گا۔ معاملے کی خبر ملتے ہی مایاوتی سرکار حرکت میں آگئی اور شام کو ہی ریاستی حکومت نے اس معاملے کی جانچ کے لئے دو نفری کمیٹی بنا دی جو تین دن میں اپنی رپورٹ سرکار کو سونپے گی۔
آئی پی ایس ایسوسی ایشن نے پولیس آفیسرز میس میں ضروری میٹنگ کرنے کے بعد کیبنٹ سکریٹری ششانک شیکھر سنگھ سے ملاقات کی اور اپنا موقف رکھا۔ اس میٹنگ کے بعد پھر میٹنگ ہوئی اور اس کے بعد سے استعفیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ اسی درمیان بات پھیلی کے منڈل کمشنر انوراگ شریواستو نے چیف سکریٹری کنور سنگھ بہادر سے ملاقات کی اور منڈل کمشنر کو بچانے کی کوشش ہورہی ہے۔ اسی وجہ سے حکام نے اپنی ایسوسی ایشن کے سکریٹری کو اپنے استعفے بھیجے ہیں یہ استعفے مشروط بتائے جارہے ہیں۔ یعنی کمشنر کے خلاف کارروائی نہ ہونے کی صورت میں وہ اپنے استعفے دینے پرمجبور ہوں گے۔ ایک مشکل یہ ہے کہ چناؤ کارروائی شروع ہوچکی ہے اور سرکار کے ہاتھ بندھے ہیں۔چناؤ کمیشن کو ہی معاملے کو آگے آکر رفع دفع کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Election Commission, IAS, IPS, Uttar Pradesh, Vir Arjun

17 جنوری 2012

مورتی ڈھکنے کا آدیش مایاوتی کے حق میں نہ چلا جائے؟


Published On 17th January 2012
انل نریندر
ایتوار کو اترپردیش کی وزیر اعلی و بسپا چیف مایاوتی کی 56 ویں سالگرہ تھی۔چناؤ ضابطہ و چناؤ کمیشن کی سختی کے سبب بہن جی نے اس سال اپنی سالگرہ سادگی سے لکھنؤ میں منائی۔اس موقعہ پر مایاوتی نے چناؤ کمیشن کو کھری کھوٹی سنائیں۔ مورتیوں کو ڈھکنے کے فرمان سے ناراض بہن جی نے کہا کہ چناؤ کمیشن کانگریس کے دباؤ میں کام کررہا ہے اور چناؤ کمیشن کو چنوتی دی کہ جس طرح اترپردیش میں ان کے مجسموں اور بسپا کے چناؤ نشان ہاتھی کو ڈھک دیا ہے اسی طرح وہ کانگریس کے چناؤ نشان ہاتھ کو ڈھکنے کی ہمت دکھائے۔ انہوں نے کہا کہ میری حکومت نے کانشی رام کی وصیت کے مطابق ان کے بت کے ساتھ لگی میری مورتیاں ڈھک کر چناؤ کمیشن کے حکم کی تعمیل کی۔ چناؤ کمیشن کو چنڈی گڑھ میں کانگریس کی حکومت کے عہدۂ میعاد میں سرکاری خرچ سے سینکڑوں ایکڑ زمین میں بنے پارک میں 45 فٹ اونچے ہاتھ کے پنجے اور یوپی میں سرکاری خرچ سے لگائے گئے راشٹریہ لوکدل کے چناؤ نشان ہینڈ پمپ کو بھی ڈھکنے کا فرمان جاری کرنا چاہئے۔ کمیشن کا یہ فیصلہ کانشی رام کی وصیت کی توہین ہے۔ کانگریس کے ترجمان راشد علوی نے تسلیم کیا ہے کہ چناؤ کمیشن کے اس حکم سے بسپا کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کی شکایت پر چناؤ کمیشن نے یوپی میں مایاوتی اور بسپا چناؤ نشان ہاتھی کو ڈھکنے کا حکم تو دے دیا لیکن یہ نہیں سوچا کہ اس قدم کا نفع نقصان کیا ہوگا؟ ہمیں تو لگتا ہے کہ چناؤ کمیشن کا یہ فیصلہ بسپا کے حق میں جاسکتا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ چناؤ کمیشن کے اس فیصلے سے مایاوتی کو ہی فائدہ ہوگا۔ پارٹی نے اس فیصلے کو ''دلت وقار '' سے جوڑ دیا ہے۔ پوری طرح سے ذات پات پر مبنی انتخابات میں چناؤ کمیشن کے اس فیصلے نے ایک بار پھر بسپا حمایتیوں کو متحد کردیا ہے۔ بی ایس پی نے ہائیکورٹ میں اس سلسلے میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جو تکنیکی اسباب کے سبب خارج کروادی ہے لیکن چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ کر پارٹی سکریٹری جنرل ستیش مشرا نے یہ صاف کردیا ہے کہ اس فیصلے سے دلت سماج خود کو ٹھگا سا محسوس کررہا ہے۔ چناؤ کمیشن کو اس طرح کا فیصلہ دیگر پارٹیوں کیلئے بھی لینا چاہئے نہیں تو یہ فیصلہ آئین کی دفعہ14شق کی خلاف ورزی ہوگی۔ چناؤ کمیشن کے یہ متنازعہ فیصلے بہن جی کے الٹے حق میں جارہے ہیں۔ اب دلتوں کو مورتیوں کو ڈھکنے میں جانبداری نظر آرہی ہے۔ بسپا نے اسے دلت وقار سے سیدھا جوڑدیا ہے۔ ٹی وی اور اخباروں کے سبب چناؤ کمیشن کا یہ فیصلہ گاؤں گاؤں تک پہنچ چکا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہورہا ہے کہ یہ اشو دن بہ دن گرما رہا ہے۔ ذات کی بنیاد پر بٹے یوپی کے ووٹروں میں بھی اس مسئلے کو عزت و بے عزتی سے جوڑدیا گیا ہے۔ اس بنیاد پر ایک طبقہ دلتوں کو طعنے دے رہا ہے۔ اس کے چلتے وہ متحد ہورہے ہیں۔ کچھ فیصدی دلت ووٹ جو اس فیصلے سے پہلے بسپا سے بدک رہا تھا اب وہ پھر واپس بہن جی کی پناہ میں آتا نظر آرہا ہے۔ جب سبھی پارٹیاں ذات کی بنیاد پر اپنے امیدوار طے کررہی ہوں تب تک کسی ایک طبقے سے وابستہ پارٹی کے لئے ایسا فرمان تاحیات حامی ثابت ہوسکتا ہے۔ہمیں لگتا ہے کہ مایاوتی اپنی چناؤ مہم کا آغاز اسی اشو سے کریں گی اور لوگوں کو بتائیں گی کہ ان کی حکومت نہ بننے پر اپوزیشن دلتوں کے نیتاؤں کے بتوں کو اکھاڑ کر دلت وقار سے کھلواڑ کریں گے اور ان کی بے حرمتی کریں گے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Election Commission, Elephant, Mayawati, Uttar Pradesh, Vir Arjun

15 جنوری 2012

چناؤ کمیشن کی سختی رنگ دکھانے لگی ہے


Published On 15th January 2012
انل نریندر
ووٹروں کو بہلانے کیلئے امیدوار اور سیاسی پارٹی ہر طرح کے ہتھکنڈے اپناتی ہیں۔ چاہے اس میں پیسہ ہو، طاقت ہو، چاہے شراب ہو یا شباب یا پھر نشے کے دیگر وسائل ہی کیوں نہ ہوں۔ چناؤ کمیشن نے اس مرتبہ ان سب پر روک لگانے کی ٹھان لی ہے۔ تبھی تو آئے دن روپیہ پکڑا جارہا ہے اکیلے اترپردیش میں ہی پولیس نے چناؤ کمیشن کی ہدایت پر چلائے گئے آپریشن میں جمعرات کو76 لاکھ روپے برآمد کئے ہیں۔اب تک ریاست میں نقدی برآمدگی کا گراف38کروڑ53 لاکھ53 ہزار 604 روپے ہوگیا ہے۔اے ڈی جی سدیش کمار سنگھ نے لکھنؤ میں بتایا کہ پولیس کی چوکسی نگرانی ٹیم کی کارروائی میں جمعرات کو 76 لاکھ روپے برآمد ہوئے۔ اس میں لکھنؤ کے تالکٹورہ علاقے میں وین سے12 لاکھ روپے اور ٹھاکر گڑھ علاقے میں ایک اینووا گاڑی سے3 لاکھ روپے برآمد ہوئے۔
چناؤ کمیشن کو اندیشہ ہے اکیلے اترپردیش اسمبلی چناؤ میں کالی کمائی کی شکل میں قریب 10 ہزار کروڑ روپے کا استعمال ہوسکتا ہے۔اس کے پیش نظر اس کی ہدایت پر ہی محکمہ انکم ٹیکس نے پوری ریاست میں گہرہ تلاشی آپریشن چلا رکھا ہے۔جمعرات کو ہی کمیشن نے ریزرو بینک آف انڈیا کو بھی خط لکھا۔ اس میں ایسا سسٹم یقینی کرنے کوکہا گیا ہے جس سے بینکوں کا بیجا استعمال نہ ہوسکے۔ اترپردیش میں اب تک جو 38 کروڑ روپے ضبط کئے گئے ہیں اس کا60 فیصدی حصہ غازی آباد اور پنچ شیل نگر(ہاپوڑ) سے ملا ہے۔
غازی آباد کے صاحب آباد میں 9 جنوری کو12.38 کروڑ روپے ضبط کئے گئے جو آئی سی آئی سی آئی بینک سے لائے گئے تھے۔یہ رقم آر بی آئی کے ذریعے مقرر نقدی آمدورفت(بینک کی چھوٹی شاخ کے ذریعے بڑی شاخ میں جمع کرانے کے لئے یا کسی اے ٹی ایم میں ڈالنے کے لئے پیسے لے جانا)سسٹم کے تحت نہیں لیجایا جارہا تھا۔اس کے بعد کمیشن نے آر بی آئی کو خط لکھا اس میں کہا گیا ہے''ہم درخواست کرتے ہیں کہ اس واقعہ (غازی آباد میں بینک پیسوں کی ضبطگی) کی جانچ کرائیں۔ ساتھ ہی یقینی بنائیں کہ چناؤ عمل میں بینک ناجائز پیسے کے لین دین کا ذریعہ نہ بنیں۔'' ممبئی میں کمیشن کے ڈپٹی گورنر کو یہ خط ملا ہے۔
عموماً پیسہ ، طاقت اور دبنگی کی خبریں اکثر آتی رہتی ہیں لیکن اس بار جو ہتھکنڈے اپنائے جارہے ہیں وہ بہت ہی عجیب و غریب ہیں۔ چناؤ کمیشن نے پانچ ریاستوں میں ہونے والے چناؤ کے دوران جمعرات تک ساڑھے تین لاکھ لیٹر شراب کے ساتھ ساتھ 6 کلو ہیروئن،2.3 لاکھ نشے کے کیپسول و گولیاں ضبط کی ہیں۔ پنجاب سے85 ہزار نشیلے کیپسول و ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ گولیاں برآمد ہوئی ہیں۔
کمیشن کے افسر نے بتایا گاؤں گاؤں پہنچ رہی ہیں یہ نشے کی گولیاں۔ چناؤ کمیشن کے ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میں نشے کا سامان جتنی مقدار میں ضبط ہوا اتنا پہلے نہیں ہوا۔ پہلے صرف شراب برآمد ہوتی تھی لیکن اس مرتبہ تو ہیروئن، نشے کے کیپسول و گولیاں تک مل رہی ہیں۔ یہ ٹرینڈ یقینی طور سے تشویش کا باعث ہے۔ ایسے میں نشے کا استعمال روکنا چناؤ کمیشن و متعلقہ سرکاری انتظامیہ کے لئے ایک سنگین چنوتی ثابت ہورہا ہے۔ چناؤ کمیشن کی اس سمت میں سختی قابل خیر مقدم ہے۔ اگر انتخابات کو ان لعنتوں سے نجات دلائی جاسکے تو یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہوگا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Election Commission, Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

10 جنوری 2012

یوپی میں مورتیوں پر پردہ ڈالنے سے کیا حاصل ہوگا؟



Published On 10th January 2012
انل نریندر
چناؤ کمیشن نے حکم دیا ہے کہ اترپردیش میں آزادانہ ، منصفانہ چناؤکرانے کے غرض لکھنؤ اور ریاست کے کئی حصوں میں لگی وزیراعلی مایاوتی اور بہوجن سماج کا چناؤ نشان ہاتھی کے مجسموں پر چناؤ تک پردہ ڈال دیا جائے۔ چناؤ کمیشن کا یہ فرمان اندرا گاندھی، راجیوگاندھی اور ایسے دیگرسیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کے مجسموں پر بھی لاگو ہوتا ہے جن سے ووٹر متاثر ہوسکتے ہیں۔ چناؤ کمیشن نے کہا کہ چناؤ ضابطہ لاگو ہونے کی وجہ سے اس حکم کو فوراً نافذ کردیا جائے۔ چناؤ کمیشن کے اس فیصلے کے سبب نوئیڈا کے قومی دلت پریرنا استھل اور لکھنؤ میں 9 مقامات پر مایاوتی اور ہاتھی کے بت متاثر ہوں گے۔ بسپا میں اس کا سخت احتجاج ہونا فطری تھا۔ چناؤ کمیشن کے اس متنازعہ فیصلے پر اپنا رد عمل ظاہرکرتے ہوئے بسپا کے سکریٹری جنرل ستیش مشرا نے کہا کہ اگر چناؤ نشان ڈھکنے کی بات ہے تو کیا کمیشن ہر کسی کو اپنے ہاتھ کے پنجے کٹوانے یا ڈھکنے کا حکم دے گا کیونکہ یہ کانگریس کا چناؤ نشان ہے؟ یہ ہی نہیں بھاجپا کا چناؤ نشان کمل کا پھول ہے ،تو کیا کمیشن ہر تالاب سے کمل کے پھول نکلوا لے گا؟ انہوں نے کہا سائیکل سپا کا چناؤ نشان ہے تو کیا چناؤ کمیشن اسے چلانے پر روک لگادے گا۔ مشر کا کہنا ہے کہ مرکز کی حکومت کی قریب 150 اسکیمیں گاندھی ،نہرو پریوار کے نام سے چلتی ہیں تو کیا کمیشن انہیں بھی بند کردے گا؟ یہاں ہم یہ بات قبول کرتے ہیں کہ یہ قدم بھلے ہی سبھی سیاسی پارٹیوں کو یکساں طور پر عمل کرنے کی بنیاد پر اٹھایاگیا ہے لیکن ہم اس کا وقت اور اس کے جواز پر ضرور اختلاف رکھتے ہیں۔ ہم سمجھ سکتے تھے کہ چناؤ کمیشن کو اگر ایسا کوئی فیصلہ لینا ہی تھا تو اسے قریب15 مہینے پہلے جب یہ معاملہ سامنے آیا تھا مایاوتی سرکار پبلک خزانے سے مختلف پارکوں میں ہاتھیوں کی مورتیاں لگوا رہی ہے ، تو کیوں نہیں اسے روکا گیا؟ ایک لمحے کے لئے یہ تو سمجھ میں آتا ہے کہ مایاوتی اور ہاتھیوں کی ان مورتیوں کو ڈھک دیا جائے جو سڑکوں اور چوراہوں پر لگائی گئی ہیں لیکن آخر چار دیواری سے گھرے پارکوں میں بنی مورتیوں پر پردہ ڈالنے سے کیا حاصل ہوگا؟ پارکوں میں آنے والوں کو ان مورتیوں کے وہاں ہونے کا پتہ ہے اور ڈھکی ہوئی مورتیاں الٹے انہیں زیادہ ہی احساس کرائیں گی۔ اگر چناؤ کمیشن اتنا ہی غیر جانبدار ہے تو اس نے پانچ ریاستوں میں اسمبلی چناؤ کے اعلان سے پہلے مرکزی سرکار کے ذریعے اقلیتوں کو ساڑھے چار فیصدی ریزرویشن دینے کے فیصلے پر اعتراض کیوں نہیں کیا؟ اتنا ہی نہیں کمیشن نے چناؤ ضابطہ لاگو ہونے کے بعد دلتوں اور پسماندہ طبقوں کی خالی آسامیوں کو بھرنے کے لئے مرکزی حکومت کے اعلان پر بھی خاموشی اختیار کرنا بہتر سمجھا۔ اترپردیش کے مختلف اضلاع میں سفید سنگ مرمر کے یہ ہاتھی ''دلت وجے'' کی علامت کی شکل میں کھڑے کئے گئے ہیں۔ اب پردے میں ڈھکے یہ ہی ہاتھی اگر دلتوں کی توہین کی شکل میں ان چناؤ میں پروپگنڈہ کئے جائیں تو مقابلتاً اس کا کیا توڑ نکالیں گے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔ بیشک بسپا اس کی مخالفت کرے گی لیکن اتنا تو ہے کہ ریاست کی نوکرشاہ برادری کو سمجھ میں آجائے گا کہ وہ تھوڑی غیر جانبداری برتے اور حکمراں حکومت کے غلام بن کر کام نہ کرے؟ لیکن اس سے کہیں بڑا مسئلہ چناؤ میں استعمال ہونے والا کالا دھن۔ پچھلے دو تین دنوں میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ کروڑوں روپے برآمد ہوچکے ہیں جن کا استعمال چناؤ میں ہونا تھا۔ چیف الیکشن کمشنر وائی ایس قریشی نے مانا کہ اترپردیش ،پنجاب، گوا میں انتخابات کو کالی کمائی سے مستثنیٰ رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ خیال رہے کہ جب انا ہزارے انتخابات میں کالی کمائی کے مسئلے پر روشنی ڈالی تھی تو تمام سیاسی پارٹیوں نے انا ہزارے کی جم کر مخالفت کی تھی۔ انا نے بس اتنا کہا تھا کہ ان کے جیسا فقیر چناؤ میں کبھی جیت نہیں سکتا کیونکہ فیصلہ تو دھن اور بل پر ہوتا ہے۔ بیشک چناؤ کمیشن نے اس بار چناؤ میں امیدواروں کے خرچ پر گہری نظر رکھنے کے لئے خصوصی انتظام کئے اور انکم ٹیکس محکمے کو بھی اس میں جھونک دیا لیکن سب سے بڑی دقت یہ ہے کہ عہدیداران کے خرچ کی حد طے ہے۔ لیکن وہیں سیاسی پارٹیوں پر ایسی کوئی بندش نہیں ہے۔ ایک اور مسئلے کی طرف ہم الیکشن کمیشن کی توجہ دلانا چاہیں گے وہ پیٹ نیوز کا معاملہ ہے۔ مختلف اخباروں میں ہم سیاسی پارٹیوں کے منعقدہ پروگرام دیکھ رہے ہیں۔ بسپا کی مخصوص مہم کئی دنوں سے چل رہی ہے۔ اخباروں اور ٹی وی چینلوں پر عام خبروں کے درمیان ایسا پوشیدہ سندیش ہوتا ہے جو ووٹروں کو متاثر کرتا ہے لیکن اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ کل ملاکر ہم کہہ سکتے ہیں کہ مورتیوں پر پردہ ڈالنے سے شاید کوئی فائدہ ہو؟
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Daily Pratap, Election Commission, Elections, Elephant, Mayawati, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

طالبہ کے پتا کا حملہ آور گرفتار !

کاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کے دوران ایک دلت نابالغ طالبہ کے والد پر قاتلانہ حملہ کے الزام میں خودساختہ اپنے آپ کو ہندو وادی و...