Translater
11 جولائی 2020
امریکہ کا عجیب و غریب فیصلہ !
کورونا سنکٹ کے دوران امریکی حکومت نے ایک عجیب و غریب فیصلہ لیا ہے سمجھ میں نہیں آیا کہ امریکہ کے امیگیریشن انفورسمینٹ ڈیپارٹمنٹ نے حکم میں کہا تھا ایسی یونیورسٹی جہاں کوڈدو میں آن لائن کلاس چل رہی ہے وہاں کے غیر ملکی طلبہ کو دیش چھوڑنا ہوگا ۔دو طرح کے ویزا نان ایمی گرینٹ ایف 10اور ایچ 1-والے طلبہ کو امریکہ آنے کی اجازت نہیں ہوگی ۔اور ان کے اگلے سمسٹر کیلئے ویزا جاری نہیں کیا جائیگا ۔بتادیں امریکہ میںتقریباً 30یونیورسٹیاں آن لائن کورش چلا رہی ہیں ۔امریکی سرکار کے فیصلے کےخلاف وہاں کی نامور یونیورسٹیاں آواز اٹھا رہی ہیں اس پر دوبڑی یونیورسٹی ہارورڈ اینڈ ایم آئی ٹی نے اس فیصلے پر زبردست اعتراض کیا ہے ۔اور دوبارہ نظر ثانی کی مانگ کی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ سرکار کے فیصلے سے وہاں رہ رہے طلبہ کو کافی پریشانی ہو سکتی ہے اور یہ فیصلہ طلبہ کے مفاد کیلئے نہیں ہے ۔ہاورڈ کرمسن کی ایک رپورٹ کے مطابق دونوں اداروں نے یہ قانون بنانے والے محکمہ ویزا کے حکام اور داخلہ محکمہ کو کورٹ میں گھسیٹا ہے دونوں اداروں نے مقدمہ دائر کردیا ہے ۔جس میں اپیل کی گئی ہے کہ امریکہ کے ان دونوں محکموں کو سیدھے فیڈرل گائڈلائنس کو لاگو کرنے سے روکا جائے ۔جن میں غیرملکی طلبہ کو امریکہ چھوڑکر جانے کو کہا جارہا ہے عدالت سے اس معاملے میں ایک مستقل حکم جاری کرنے کی مانگ کی گئی ہے اوردلیل دی گئی ہے کہ فیصلہ انتظامی ورکنگ قانون کی خلاف ورزی ہے ۔اور یہ فیصلہ بنا رائے مشورے کے کر دیا گیا ہے ۔اس سے طلبہ کی مشکلیں بڑھیں گی ۔ہاورڈ یونیورسٹی کے چانسلر لورن ڈیکو نے کہا کہ صرف سبھی مواد کو ای میل کے ذریعے جاری کر دیا گیا اور اس کا نا تو کوئی نوٹس دیا گیا اور ناہی کسی سے تبادلہ خیا ل کیاگیا اوریہ لاپرواہی والا فیصلہ ہے یہ ہی لگتا ہے کہ حکم غلط دین ہے ہم اسے غیر قانونی مانتے ہیں ۔غیر ملکی طلبہ کی تعداد 5.5فیصدی ہے اور سال 2019میں انہوں نے امریکہ یونیورسٹیوں میں 41عرب ڈالر تو صرف فیس دی تھی یہ بھی عجب ہے کہ ویزا قوائد میں ایسی تبدیلیوں کی خبریں کہیں سے نہیں آرہی ہیں جبکہ کورونا دور میں تقریباً سبھی ملکوں کی یونیورسٹیاں آن لائن پڑھائی کرارہی ہیں بہر حال امریکی یونیورسٹیوں کو اس مسئلے پر سرکار سے بات چیت کرنے کے لئے کوئی راہ نکالنی چاہیے ۔کیونکہ موجودہ سسٹم کا سب سے بڑا فائدہ بھی وہی لے رہے ہیں جو جائز طریقے سے وہاں رہنے والے لوگوں کے سامنے اچانک دیش سے باہر نکلنے کے حالات پیدا کردینا ۔یہ کس طرح کی وبا سے بچاو¿ کی لڑائی ہے ۔
(انل نریندر)
کورونا کے پانچ معمے 6مہینے بعد بھی برقرار!
دنیا بھر میں چھ مہینے کے اندر ایک کروڑ سے زیادہ لوگ کورونا سے متاثر ہوئے ہیں اور پانچ لاکھ سے زیادہ لوگوں کی موت ہو چکی ہے لیکن کووڈ19-کے پانچ معموں سے سائنسداں آج بھی پردہ نا اٹھاپائے ۔ایک سائنس جنرل کئیر نے دنیا بھر کے سائنسدانوں کے حوالے سے ایک تحقیقی رپورٹ شائع کی ہے جس میں کووڈکی پانچ تلسموں کا ذکر ہے ۔رپورٹ کہتی ہے کہ جب تک ان پانچ سوالوں کے جواب نہیں ملتے وبا پر قابو نہیں پایا جا سکتا ہے ۔پہلا سوال یہ ہے کہ وائرس کے خلاف جسم کا رد عمل الگ کیوں ہے ۔بیمار اور بوڑھوں کو چھوڑ بھی دیں تو یہ صاف ہو چکا ہے کہ ایک عمر اور یکساں جسم و صلاحیت کے وئرس انفیکشن کرے تو دونوں پر اثر الگ الگ ہوتا ہے ۔ایسا کیا ہوتا ہے یہ آج بھی پردہ نہیں اٹھ سکا ۔سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے اٹلی و اسپین کے چار ہزار لوگوں جنس پر اسٹڈی کرنے کے بعد کہا ہے جن لوگوں پر وائرس کا سنگین اثر ہوا ان میں ایک یا دو مزید جن ہو سکتے ہیں دوسرا سوال انفیکشن ہونے کے بعد کورونا کے خلاف کب تک منفی صلاحیت بنی رہے گی ۔دیگر کورونا وائرس کے معاملے میں یہ کچھ مہینوں کی ہی پائی گئی ہے اس لئے کوڈ 19-کے بعد انفیکشن میں پیدا اینٹی وایوٹک پر اسٹڈی کرکے یہ جاننے کی کوشش کی جارہی ہے وہ کتنے وقت تک بیماری سے حفاظت کر سکتے ہیں ۔تیسرا دنیا کے کسی حصے میں وائرس زیادہ خطرناک ہوا ہے جو چھوٹی تبدیلیوں کا اشارہ کرتے ہیں لیکن وائرس کے طریقہ سسٹم کیسے بدل رہا ہے اس کا پتہ نہیں چلا ۔چوتھا دنیامیں ٹیکے کے دو سوپچاس پروجیکٹ چل رہے ہیں جن میں بیس انسانی تجربہ کے سطح پر پہونچے ہیں لیکن ان ٹیکوں کو جانوروں پر تجربہ کیا جارہا ہے ۔شروعاتی تجربوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ پھیپھڑوں کو انفیکشن سے بچانے پر کارگر ہے ۔اور نمونیہ نہیں ہوگا لیکن انفیکشن ٹیکے سے نہیں رکیگا ۔سب سے پہلے آکسفورڈ کا ٹیکہ آسکتا ہے صرف وہ پھپھڑوں میں انفیکشن بچا سکتا ہے ۔پانچواں اصل سوا ل یہ ہے کہ وائرس آخر آیا کہا سے ابھی تک یہی مانتے ہیں یہ چمگادڑ سے آیا کیونکہ یہ کورونا وائرس چمگادڑ سے ہی پھیلا ہے آر ٹی جی کی جنوم اسٹیکچر 96فیصدی ملتی ہے لیکن یہ چمگادڑ سے سیدھے انسان میں پہونچا ہے تو وائرس کے جیمون میں چار فیصدی فرق نہیں ہو سکتا ۔چار فیصدی تبدیلی میں وقت لگتا ہے اس لئے چمگادڑ سے یہ کسی دوسرے جانور میں گیا اور وہاں سے انسان میں آگیا ۔
(انل نریندر)
10 جولائی 2020
ٹی وی پر مباحثوں کا گرتا میعاد!
کچھ ہندوستانی ٹی وی چینلو ںمیں مباحثوں کا میعاد اتنا گر چکا ہے کہ اب ٹی وی ناظرین نے ان مباحثوں کو دیکھنا ہی بند کر دیا ہے کچھ ٹی وی چینل اپنی مباحثوں میں جان بوجھ کر ایسے مقرروں کو بلاتے ہیں تاکہ بحث میں تو تو میں میں ہو اور ان کی ٹی آر پی ریٹنگ بڑھے کچھ چینلوں میں جو اینکر ہوتے ہیں وہ اتنا تیز بولتے ہیں کہ مقرر کو جواب دینے کا موقع ہی نہیں ملتا انگریزی کے ایک چینل کے اینکر کے خلاف ٹی وی پر توہین کرنے والی زبان کے لئے شکایتیں بھی درج ہو چکی ہیں اور مقدمہ بھی درج ہیں اس چینل پر ایک ساتھ اتنے مقرروں کو بلایا جاتا ہے کہ لڑائی توہونی ہی ہے لیکن ٹی وی ناظرین کو کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا بولاجارہا ہے اور کچھ مقرر تو بحث کے دوران اپنا آپا کھو دیتے ہیں ایسے ہی ایک مقرر ہیں ہندوستانی فوج کے سابق میجر جنرل ڈی جی بخشی حال ہی میں ایک ٹی وی بحث کے دوران دوسرے پینالسٹ کو ماں بہن کی گالی بھی دے دی جاتی ہے ۔اور اس کا یہ ویڈیو شوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو جاتا ہے دراصل حا ل ہی میں بحث کے دوران ان کے ساتھ ہندوستانی عوام مورچہ کے ترجمان دانش رضوان کو ماں کی گالی دے ڈالی کچھ لوگ جی ڈی بخشی کو صحیح بتاتے ہوئے ان کی طرف داری کررہے ہیں اور انہیں روک اسٹار بتا رہے ہیں جبکہ کئی لوگ ٹی وی پر استعمال کی جانے والی زبان کی مریادا کی خلاف ورزی کرنے کو لیکر ان کی تردید کررہے ہیں سنیچر کے لوگ متاثرہ ہم ترجمان رضوان نے بخشی کے خلاف ایف آئی آر درج کرائے جانے اور انہیں گرفتار کرنے کو لیکر مانگ اٹھائی ویسے یہ پہلا موقع نہیں ہے جب سابق جنرل نے ٹی وی پر وقار کو تار تار کر دیا ہے ۔نیوز پورٹل ڈیفنش آفنسز سے بات چیت میں پاکستان کو پاگل کتا تک قرار دے چکے ہیں۔جو ہر کسی کو کاٹتا پھرتا ہے ۔بخشی کے دل و داماغ میں پاکستان کے لئے نفرت کی آگ کی بڑی وجہ ہے 1965میں بھارت پاک جنگ کے دوران سرنگ میں دھماکے کے دوران انہوں نے اپنے بھائی کپٹن شرش رمن بخشی کو کھو دیا تھا اس وقت وہ 23سال کے تھے اور دھماکے سے بھائی کے جسم کے چیتھڑے اڑ گئے تھے ۔بخشی کہتے ہیں کہ استھیاں وسرجت کرنے کے بعد سے ان میں غصہ بھر گیا تھا اسوقت میں نے فیصلہ لیا کہ میں پاکستان سے بھائی کا بدلا لینے کے لئے فوج میں شامل ہوں گا بخشی نے ایک عورت سونم ملازمہ کے مقابلے جنگ اور ایمریجنسی جیسے حالات اور دہشت گردی کو زیادہ قریب سے دیکھا ہے ۔وہ 1973میں چین کے محاظ پر تھے 1985میں پنجاب اور 1987میں کارگل میں رہ رہے تھے اور سال 2001میں جموں کشمیر کے اس وارڈ میں فوجی محاض کے دوران اپنی خدمات دی۔ان سب چیزوں نے نا صرف انہیں تجربہ دلایا بلکہ ایوارڈ بھی حاصل کرائے ۔ایک سچے سپاہی اور دیش بھکت سینک کو اس طرح ٹی وی پر اپنا آپا نہیں کھوناچاہیے ۔یہ افسوسناک رویہ ہے ۔
(انل نریندر)
ٹرمپ کی جیت کے آثار محض 10فیصد!
اسی سال نومبرمیںہونے والے امریکی صدارتی چناو¿ میں فی الحال ڈیموکریٹو جوائب وائڈن کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے کورونا قہر ہونے سے پہلے ملک کی معیشت کی تیزرفتا ر سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دوبارہ چنے جانے کے بہت سے امکانات تھے ایسے حالات میں بہت سے حکمراں کامیاب ہوتے رہے ہیں لیکن ایک معاشیاتی میگزین کے چناو¿ ماڈل نے اس وقت ٹرمپ کے کامیاب ہونے کے امکانات محض 10فیصد بتائے ہیں اور وہ قومی ریفرنڈم میں اپنے حریف سے کچھ نمبر پیچھے تھے لیکن اب صدر ٹرمپ بہت مشکل میں پڑ گئے ہیں اور بائڈن نے متعدد نمبروں کی بڑھت حاصل کر لی ہے ۔کچھ سروے میں تو بڑھت بہت زیادہ ہے وہیں 2020کے صدارتی چناو¿ کو لیکر نیوایارک ٹائمس کے سروے میں ڈیموکریٹو پارٹی کو وائڈن میں رپبلکن صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو پچھاڑ دیا ہے وائڈن کو 14فیصد زیادہ ووٹ ملے ہیں یہ سروے 17سے 22جون کے درمیان کیاگیا اس کے مطابق عورتوں اور سیاہ فام کے درمیان وائڈن کی پکڑ مضبوط ہو رہی ہے ٹرمپ نسل واد اور کورونا کو لیکر اٹھائے گئے قدموں سے ناراضگی جھیل رہے ہیں ۔ادھر نائب صدر جوائب وائڈ ن 20اگست کو وسکن سنگ شہر میں ڈیموکریٹو کانفرنس میں باقاعدہ طور پر صدارتی امیدوار کی شکل میں اپنی نامزدگی قبول کریں گے ۔جوائے وائڈن کو بزرگ ووٹوں کی حمایت مل رہی ہے ۔تعجب کی بات ہے کہ کالج نا جانے والے سیا ہ فام ووٹرس بھی ان سے جڑے ہوئے ہیں وائرس نے بڑی تعداد میں ووٹوں کا احساس کرایہ ہے کہ 74سالہ ٹرمپ صدارت کیلئے قابل نہیں ہیں ۔نومبر میں ابھی کافی وقت ہے اگر وائرس ٹھنڈا پڑتا ہے یا کوئی پکی دوا مارکیٹ میں آجاتی ہے اور معیشت اچھی ہوتی ہے تو ٹرمپ کی جیت کے آثار بن سکتے ہیں 77سالہ جوائے وائرن بہت کچھ کئے بنا اپنی پوزیشن میں آگئے ہیں او ر ٹرمپ کی کمزوری کی وجہ سے ڈیموکریٹو پارٹی کو سینٹ میں اکثریت ملی ہے ۔فلائٹ کی موت سے بھڑکے تشدد اور شورش سے پہلے دنیا کو 2016سے پہلے کی پوزیشن میں لے جانے کی بات کررہے تھے ٹرمپ اسے خطرہ بتا رہے ہیں وہ ووٹروں کو ڈرارہے ہیں کہ ان کا حریف بڑھاپے کے سبب ڈگمگاتا ہوا بے وقوف ہے ۔2016میں ان کی جیت میں ان کا کوئی رول نہیں تھا وہ تباہ ہو رہے سسٹم کے خلاف لوگوں کی ناراضگی کا اظہار تھا لگاتار 5سال سے بڑھ رہی بے روزگاری سے لوگ خفا ہیں ۔کورونا سے 1لاکھ تین ہزار سے زیادہ امریکیوں کی موت ہو چکی ہے بے روزگاری آسمان چھو رہی ہے ۔دیکھیں آنے والے دنوں میں کیا پوزیشن بنتی ہے ۔آج چناو¿ ہو جائے تو ٹرمپ گئے ۔
(انل نریندر)
ترون سسودیہ کی خودکشی پر اٹھے سوال!
دہلی کے ایمس ٹراما سینٹر میں کورونا پوزیٹو نوجوان صحافی ترون سسودیہ نے پیر کے روز اسپتال کی چوتھی منزل سے مثتبہ حالت میں کود کر جان دے دی ۔اسے اس خود کشی کو مشتبہ حالات سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے وہیں ان کے موبائل میں مبینہ طور پر واٹس ایپ میں خود کو قتل کا اندیشہ جتایا جانے سے موت کو لیکر کئی طرح کے سوال کھڑے ہو گئے ہیں مثلا واردات کے وقت اس وارڈ کے سکیورٹی گارڈ کہاں تھے ؟پولیس کو کوئی خودکشی نامہ نہیں ملا ۔سسودیا کے بڑے بھائی دیپک سسودیہ کاکہنا ہے کہ میرابھائی اتنا کمزور نہیںتھا کہ وہ خودکشی کر لے کئی دنوں سے اس کا ٹھیک طرح سے علاج نہیں ہو رہا تھا جس سے وہ پریشان تھا اس کی موت کا ذمہ دار اسپتال ہے کورونا انفیکشن وارڈ سے آئی سی یو میں کیوں شفٹ کیاگیا۔فیملی سے پوری طرح رابطہ کیوں ختم کر دیاگیا جبکہ رابطے میں رہنے سے انہیں ذہنی طور سے سکون ملتا ہے کن حالات میں ترون نے اپنے ساتھیوں کو ایک گروپ میں لکھا ہے کہ میرا قتل ہو سکتا ہے ؟ڈائگ نوسز میں اگر نیورو اور سائیکو کنڈیشن کے تھے تو ایسے مریض کو گہری نگرانی میں کیوں نہیں رکھاگیا ؟آئی سی یو سے کیسے کووڈ مریض نکل بھاگا اورپہلے جالی اور پھر شیشے توڑ کر منزل سے چھلانگ لگا دی ؟اپنی رپورٹ میں ایمس کہہ رہا ہے کہ اس کے پیچھے سکیورٹی ملازم دوڑے کیا ایمس آئی سی یو سے لیکر باہر تک کا سی سی ٹی وی فوٹیز شئیر کریگا ؟اس واقعے کو لیکر اٹھ رہے سوالوں کے درمیان ایمس کی طرف سے بھی بیان جاری کیا گیا جس میں انہوں نے بتایا کہ ترون کو کورنا کے اثرات کے چلتے آئی سی یو میں بھرتی کرایا گیاتھا لیکن ان کی حالت میں بہتری ہونے کے بعد ہی انہیں جنرل وارڈ میں منتقل کرنے کی تیاری تھی ۔ترون اک بج کر پندرہ منٹ پر اپنے بیڈ سے اٹھ کر چوتھی منزل کی طرف جانے لگا تو اسے دیکھ کر اسپتال کے ملازم بھی ان کے پیچھے بھاگے لیکن وہ اوپر کی طرف تیزی سے چڑھ کر نیچے کو د گئے ۔دہلی جنرل ایسی سیوشن سے جیوڈیشئل انکواری کی مانگ کی ہے ۔صحافیوں نے پریس کلب آف انڈیا کے باہر ایک امن ما رچ نکالا انتظامیہ کی طرف سے سی سی ٹی وی فوٹیز کی جا چ کی جائے ۔کیاترون سسودیہ کو ان پر کسی طرح کا ذہنی دباو¿ تو نہیں تھا دہلی جنرل اسوشئیشن کے جنرل سکریٹری اور سینئر صحافی کے پی ملک نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر جانچ کی مانگ کرتے ہوئے لکھا کہ نوجوان صحافی کی مشتبہ حالت میں جانچ کی مانگ کے سلسلے میں مانگ کی جائے ۔اور موت کے سبھی پہلوو¿ں پر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے وہیں مرکزی وزیر صحت نے ٹوئیٹ کر جانچ کے احکامات دے دئیے ہیں انہوں نے اپنے حکم میں ہائی لیبل کمیٹی بنا کر 48گھنٹے میں رپورٹ سونپنے کا ایمس ڈائرکٹر کودے دیا ۔ترون سسودیا نے خود کشی کی یا انہیں ماراگیا یہ جانچ کا پہلو ہے اور جلد صحیح پوزیشن سامنے آنے کی امید ہے ۔بہرحال جو بھی اس نوجوان صحافی کے جانے پر سبھی کو بہت دکھ ہوا ہے ۔
(انل نریندر)
09 جولائی 2020
بہوو ¿ں سمیت پورا کنبہ فوج میں!
دیش بھگتی کی مثال بہت ملتی ہیں لیکن یہ سننے میںکم ملتا ہے کوئی پورا خاندان ہی فوج میں ملازم ہو یہاں تک کہ بہوئیں بھی فوجی ہوں ایک ایسا ہی خاندان پرتاپ گڑھ ضلعے کی تحصیل کے ایک گاو¿ں پرشچے کے باشندے رادھے شیام تیواری کا ہے ۔1962میں رادھے شیام چین سے جنگ لڑ رہے تھے ان کے دو بیٹے بھی فوجی بنے اب ان کے پوتا پوتی اور بہوئیں فوج میں شامل ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ آر پار کی لڑائی ہوئی تھی تو 1962والی جو کھلش ہے مٹ جائے گی ۔رادھے شیام تیواری 1958میں فوج میں بھرتی ہوئے تھے اور 62میں چین کے ساتھ جڑے تب ہندوستانی زمینی فو ج کے پاس ناٹ بندوق اور لائڈ مشین گن اور آر سی ایل توپے تھیں اور تین انچ کے موٹار ہوتے تھے ۔چینی فوج انتہائی جدید ترین ہتھیاروں سے مسلح تھی لڑائی میں جو کسک تھی وہ آج بھی ہے آج 2020کی ہندوستانی فوج ہے 1962کی نہیں یہ بات گلوان وادی میں چینیوں کو سمجھ میں آگئی ہوگی اپنے والد کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کے بیٹے ائیر فورس کے ریٹائرڈ فوجی سازو رام تیواری کہتے ہیں کہ اب ہندوستانی فوج کے پاس جدید ترین جہاز اور دیگر جنگی سامان ہیں ۔اب تیسری پیڑی سے دھریندر تیواری نے بھی میجر لیفٹننٹ کمانڈر کے طور سے ریٹائرڈ ہیں ان کی بیوی دیپیکہ تیواری ملیٹری اسپتال احمد آباد میں میجر ہیں ۔اسی طرح دھریندر کے چھوٹے بھائی انوارگ تیواری ائیر فورس میں اسکو¿ائڈرن لیڈر ہیں وہ بھی اس وقت سلچرآسام میں تعینات ہیں ۔اب ان کاماننا ہے کہ چین جنگ کی پوزیشن میں نہیں ہے جنگ ہوئی تووہ سیوا کے موقع کا انتظار نہیں کریںگی ۔جب بھارت میںایسے راشٹر وادی پریوار ہوں تو ہمیں چین کا مقابلہ کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ۔خوش قسمت ہیں یہ تیواری خاندان ،جے ہند!
(انل نریندر)
سازش کے تحت ہوئے دہلی میں دنگے !
راجدھانی دہلی میں شہری ترمیمی قانون کے خلاف تشددبھڑک اٹھا تھا پھر کچھ دن بعد نارتھ ایسٹ دہلی کے الگ الگ حصوں میں جھگڑے ہوئے یہ سب ا چانک نہیں ہوا بلکہ اس سب کی کہانی پہلے سے ہی لکھی جاچکی تھی ۔دہلی پولیس کی کرائم برانچ کی ایس آئی ٹی نے سی اے اے این آر سی اور این پی آر کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے لیکر دنگے تک پورے واقعے کو دیکھا جس میں سبھی چیزیں آپس میں کہیں نا کہیں جڑی ہوئی ہیں دنگوں کا ماسٹرمائنڈ طارق حسین کا دنگوں سے پہلے خالد سیفی سے حمایت ملی ۔اور پھر عمر خالد سے ملنا کوئی اتفاق نہیں تھا ایس آئی ٹی نے دنگوں میں گرفتار خالد سیفی سے منڈاو¿لی جیل میں پوچھ تاچھ کی جس میںکئی باتیں سامنے آئیں اس کے علاوہ خوریجی تشدد معاملے میں خالد کے خلاف ایس آئی ٹی کی کورٹ میں دائر چار شیٹ میں تذکرہ ہے کہ ملیشیا جاکر وہ ذاکر نائک سے ملاتھا ۔دنگوں کے لئے سعودی عرب ملیشیا اور دیگر ممالک سے پیسہ ملاتھا ۔دنگوں کے معاملے میں تفتیش میں لگی کرائم برانچ کی ایس آئی ٹی کی پوچھ تاچھ میں خالد نے کئی باتیں بتائی ہیں ۔اس کا کہنا ہے کہ دہلی میں دنگے اچانک نہیں اس کے لئے پہلے سے پوری کہانی لکھی جاچکی تھی چارشیٹ میں بتایاگیا عشرت جہاں اور خالدسیفی منڈاو¿لی جیل میں پوچھ تاچھ کی ان دونوں نے بتایا اس واردات کو پلان کے ساتھ انجام دیاگیا اور جامعہ کے کچھ طلبہ نے بھی ان کا ساتھ دیا ۔ان کو لگتا ہے یہ سرکار مسلم مخالف ہے اور کشمیر سے آرٹیکل 370اور 35Aہٹائے جانے کے بعد اس کا پکہ یقین ہوگیا تھا اس کے علاوہ این آر سی اور این پی آر لاگو کرنے کی بات ہونے لگی اور یہی موقع ہے لوگوں کو سڑک پر اٹھایا جائے اور پھر اتنا بڑا بنا دیا تاکہ سرکار ہمارے سامنے جھک جائے ۔چارشیٹ کے مطابق 11جنوری 2020کو سی ااے اے اوراین پی آر کو لیکر بھی پرچے بانٹے گئے اب کیونکہ معاملہ عدالت میں ہے اس لئے پولیس کو اپنی چارشیٹ میںلگائے گئے الزامات کورٹ میں ثابت کرنے ہوںگے اوریہ کام اتنا آسان نہیں ہوگا دیکھتے ہیں کہ عدالت میں یہ چار شیٹ کتنی ٹکتی ہے ؟
(انل نریندر )
یہ ڈریگن کی پیچھے ہٹنے کی چال ہو سکتی ہے !
بیشک لداخ میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی )سے لگی گلوان وادی ہائی اسپرنگ اور گوگرا پوسٹ سے چینی فوج ہٹنے لگی ہے ۔لیکن یہ چین کی چال ہو سکتی ہے کیونکہ اس وقت بارش کے سبب گلوان ندی طغیانی پر ہے ۔وادی میں بنے چینی ٹینٹ سیلاب میں بہنے لگے ہیں اور ڈھانچے رہ گئے ہیں اوپر سے موسم بے حد ٹھنڈا ہونے لگا ہے ۔موسمی ٹینٹوں میںفوجیوں کا گزارا نہیں ہو سکتا ۔بھارت نے زمینی اور ائیر فورس کی زبردست تعیناتی کر دی ہے یہ بھی ممکن ہے کہ توجہ ہٹانے کے لئے چین سمجھوتا کررہا ہو کیونکہ اگست سے مشرقی لداخ میں برف گرنا شروع ہوجاتی ہے ۔مجبوراً دونوں فوجوں کے پیچھے ہٹنا ہی ہوتا ہے ۔چین کو لگتا ہے کہ خود پیچھے ہٹنے سے بھارت چین کے خلاف اقتصادی پابندیاں شاید ہٹا لے اور چین کو تیاری کرنے کا موقع مل جائیگا اسی لئے ہندوستانی فوج چوکش ہے۔ ادھر فوج کا صاف کہنا ہے کہ چین پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا حالانکہ ابھی چین پنگوانگ ٹسو کے فنگر ٹسٹ فور چوکی سے واپس نہیں گئی ہے ۔پھر بھی تینوں محاضوں سے اس کی فوج پیچھے ہٹی ہے دراصل بھارت نے اس بار چینی دراندازی کے خلاف سخت رخ اپنایا ہے اور ایک ہی بات پر اڑا ہوا ہے کہ چین کو پانچ مئی سے پہلے کی پوزیشن بانئے رکھنی ہوگی ۔پانچ چھ مئی کو دچینی دراندازی کے خلاف ہندوستانی فوج نے بارڈر منجمنٹ کمیٹی کے سامنے معاملہ اٹھایا اس کے بعد چھ جون بائیس جون اور تیس جون کو کور کمانڈر سطح پر میٹنگ ہوئی ہیں اس درمیان میجر جنرل اور لوکل کمانڈر سطح پر بہت سی میٹنگیں ہوئی ہیں ۔معاملہ اتنا خراب ہو گیا تھا کہ دونوں فریقین میں خونی جھڑپیں ہوئیں اور نتیجے میں 20ہندوستانی اور 43چینی فوجی اس لڑائی میں مارے گئے ۔اتوار کی رات کو بھارت کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر عجت ڈوبھال نے چینی وزیر خارجہ وانگ شی سے تقریباً دو گھنٹے تک بات چیت کی اور انہوں نے مسئلے کو نکتہ بنکتہ سمجھایا ۔اور مستقبل میں چین کی معیشت پر پڑنے والے اثر اور پوری دنیا میں چین کی بدنامی ہونے کی بات کہی ۔چین کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہم اس کی جعل سازی میں پھنسے تو مرے ۔ 1962گلوان ایریا سرخیوں میں آگیا تھا اور اسی برس 15جولائی کو اخبارات میں بڑی بڑی سرخیاں بنیں ۔اس دن کی ایک سرخی تھی چینی فوجی گلوان سے پیچھے ہٹیں لیکن اس خبر کے آنے کے کچھ مہینے کے بعد ہی چین نے 1962میں بھار ت کے خلاف جنگ چھیڑ دی تھی ۔ہندوستانی فوج میں ڈی جی ایم او رہ چکے جنرل ونود بھاٹیا (ریٹائرڈ)بتاتے ہیں 20اکتوبر 1962کو جب بھارت چین جنگ کی شروعات ہوئی تو یہ گلوان سے ہی شروع ہوئی تھی چین نے گلوان کی چوکی پر حملہ کیا جس میں ہندوستانی فوج کے 33جوان شہید ہوئے تھے ویسے باقی جگہ بھی ٹکراو¿ چل رہاتھا لیکن اصل جھگڑا یہیں سے شروع ہوا 1962کے تجربہ کے بعد کیا چین پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے قطعی نہیں ۔یہ پیچھے ہٹنے کا ڈرامہ ہے ہندوستانی فوج اور ائیر فورس کو پوری چوکسی رکھنی ہوگی ۔
(انل نرندر)
08 جولائی 2020
تین مہینے سے ایک دن چھٹی نہیں کی بچوں سے الگ رکھا !
گھر تھامے اور کنٹین مینٹ زون کورونا کے انفیکشن کا ڈر پھر بھی دہلی پولیس کانسٹبل نیلما سنگھ کا نا حوصلہ کم ہوا نا فرض سے منھ موڑا گھر پہونچنے پر تین مہینے سے اپنے بچوں کو بھی اپنے قریب نہیں آنے دیا ۔کورونا کے دوران تھانے میں اسٹاف کی کمی ہونے پر لمبی ڈیوٹی دی ۔کورونا جے ہو جے ہو کورونا وارئیر نیلما سنگھ اب بھی بغیر چھٹی لئے مہیندر پارک تھانے میں ڈیوٹی پر تعینات ہیں حالانکہ اس میں انفیکشن آچکا ہے چار پانچ پولیس والے اس کی ضدمیں آگئے پھر بھی وہ ڈیوٹی پر ڈٹی رہیں ۔34سالہ نیلما بنیادی طور سے یوپی کے دیوریا ضلعے کی ہیں والد مدن سنگھ دہلی پولیس میں کانسٹبل تھے 1999میں ہولی کے دن سڑک حادثہ کا شکا ر ہوگئے جس سے خاندان بکھر گیا ۔نیلما کی ماں ششیلا نے سنبھالی ۔وہ ا ن دنوں ای او ڈبلیو سیلڈ میں تعینات ہیں ایک بھائی اورتین بہنوں میں نیلما اکیلی دہلی پولیس میں ہیں ۔گاو¿ں میں پڑھی لکھی بعد میں اپنے دم خم پر 2006میں دہلی پولیس جوائن کی خاندان میں شوہر کے علاوہ دس سالہ بیٹا بٹیا رادھیا سنگھ اوربزرگ ساس سسر ہیں نیلما سنگھ ڈی سی پی وجیتا آریہ کو اپنے مشعلے راہ مانتی ہے وہ تھانہ میں 2017سے معمور ہیں وہ بتاتی ہیں کہ ڈیوٹی کے درمیان ایسا ڈر کبھی نہیں لگا جو کورونا انفیکشن کے دوران محسوس ہوا خاص کر جب ہر طرف سے کورونا سے مرنے اور انفیکشن ہونے کی تعداد ہر روز تعدادکی نیوز دیکھنے کوملے ۔تھانے میں پبلک ڈیلنگ کے لئے ہیلتھ ڈیسک پر ڈیوٹی ہے ۔شکایت اور ٹیلی فون یا کنٹینٹ مینٹ زون میں جانے کے لئے پبلک ڈیلنگ کے ساتھ ساتھ دوزانہ اسپتال آنا جانا رہتا ہے ۔افسر کورنا پوزیٹو لیڈی کو گھر سے اسپتال لے جانے کے لئے موقع پر جانا پڑتا ہے تھانہ آنے والے زیادہ تر کنٹین منٹ زون اور اس کے آس پاس کے علاقے کے ہیں نیلما کہتی ہیں کہ وہ خود کو سینٹی ٹائز کرتی ہوں تاکہ بچے سیف رہیں ۔اس لئے تین مہینے سے بچوںسے دوری بنا کر رکھی ہے ہم نیلما سنگھ کے جذبات کو سلام کرتے ہیں پولیس ملامین پر ہمیں ناز ہے ،۔
(انل نریندر)
150ممالک سے مولانا سعد کو فنڈملتا تھا !
مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ٹورسٹ ویزا پر آکر تبلیغی اجتماعات میں شامل ہونے والے غیر ملکی جماعتیوں نے ویزا قاعدے قانون کی خلاف ورزی کی ہے ۔مرکزی حکومت نے علاحدہ علاحدہ حکم جاری کرکے 2679غیر ملکی جماعتیوں کے ویزا منسوخ کر دئے ہیں اور ان میں سے کئی کو بلیک لسٹ کر دیا ہے ۔ان کے خلاف دو سو پانچ ایف آئی آر درج ہیں ۔سرکار کاکہنا ہے ابھی بھی کئی غیر ملکی جماعتی لا پتہ ہیں ۔ 1905کے خلاف تلاش نوٹس جاری کیا گیا ہے ۔اس کے جاری ہونے سے پہلے 227جماعتی بھارت چھوڑ چکے تھے ۔ان غیر ملکی جماعتیوں کے خلاف قانونی کاروائی لٹکی ہوئی ہے اور یہ پوری ہونے کے بعد ان جماعتیوں کو واپس بھیج دیاجائیگا ۔دوسری طرف تبلیغی مرکز کے چیف مولانا محمد سعد کی بے نامی پراپرٹی دہلی سے لیکر یوپی تک پھیلی ہوئی ہے اس پراپرٹی کو سعد نے غیر ملکی پیسے سے بنایا ہے ۔اور اس بارے میں ایڈی اور کرائم برانچ کی جانچ میں ثبوت ملے ہیں یہ ہی نہیں مولانا سعد کو قریب 150ممالک سے پیسہ آرہا تھا ۔اب مولانا سعد کے تار ڈھونڈنے پر جانچ ایجنسیوں نے ان کی پوری تفصیلات حاصل کر لی ہیں اس کڑی میں سعد کے کھاتوں کی بھی جانچ ہو رہی ہے ۔اس سے اب تک قریب دس سال کے دستاویزوں کی جانچ کی گئی ہے یہ بھی پتہ کیا گیا ہے ۔اور یہ بھی پتہ کیا گیا ہے کہ مولانا سعد کوکون کون سے ملکوں سے پیسہ آرہا ہے تھا اب تک 149ملکوں کے شہریوں کے نام سامنے آئے ہیں جو تبلیغی اجتماعات کے لئے پیسہ دے رہے تھے یہی وجہ ہے کہ سعد نے کچھ ہی برسوں میںکافی پراپرٹی بنا لی ہے سعد کے ذریعے ایجنسیوں کے سوالوں کے آدے ادھورے جواب دئیے تھے ۔اب تمام لوگوں سے پوچھ تا چھ کرنے کے بعد ان کے بینک کھاتوں کا پتہ لگا کر ان کو جانچہ گیا ہے ۔جانچ ایجنسیوں کو اب اس کی گرفتاری کیلئے وزارت داخلہ سے ہری جھنڈی ملنے کا انتظار ہے اس کے بعد ہی ان پراپرٹیوں کو ضبط کرنے کی کاروائی شروع کی جائیگی ۔وزارت کی ہدایت کی وجہ سے جانچ ایجنسیاں مولانا سعد سے وابسطہ ہر معاملے میں راز برت رہی ہیں ۔
(انل نریندر)
ہٹلر کی طرح چین بھی کئی مورچے کھولنے میں لگا ہے !
بھارت چین کے درمیان لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی )پر پانچ مئی سے جاری تعطل بنا ہوا ہے ۔حالانکہ اب تک بھارت چین کمانڈر سطح کی تین دور کی بات چیت ختم ہو چکی ہے ۔اس میں مشرقی لداخ میں مختلف مقامات پر چین کے قبضے کے ہٹنے کے طور طریقے پر بات چیت ہوئی تھی اسی دور کے مذاکرات میں ٹکراو¿ والے مقامات سے فوج ہٹانے کے مسئلے پر کچھ شرطیں رکھی گئی تھیں ۔بھارت سے کمانڈر لفننٹ جنرل ہرمندر سنگھ جبکہ چین کی طرف سے تبت ملیٹری میجر جنرل لیولن شامل ہوئے بات چیت میں اتفاق رائے بنانے کے بعد بھی پنگونگ سے پیچھے نہیں ہٹا ۔یہ ہی نہیں کئی مقامات پر اس نے فوجیں اور آگے بڑھا دی اور پکی تعمیرات میں لگا ہوا ہے ۔سیٹر لائٹ سے لی گئی تصویروں نے چین کی پول کھول دی ہے ۔تصویروں میں یہ بات صاف ہوتی ہے کہ چھ جون کو ہوئے اتفاق رائے ہونے کے بعد بھی وہ ایل او سی پر تعمیراتی کام کراتا رہا ہے ۔سیکولائٹ کمپنی نیکسر ٹیکنالوجی کے ذریعے جاری تصویروں سے صاف ہے کہ چین کے ذریعے گلوان وادی کے قریب اس علاقے میں مسلسل تعمیرات جاری ہیں ۔جس پر بھارت کا دعویٰ ہے ۔اس درمیان دونوں ملکوں میں ماضی کی پوزیشن میں لوٹنے پر اتفاق رائے ہوا تھا ۔لیکن اس کے باوجود گلوان وادی میں چین کے ذریعے تعمیراتی کام چلتا رہا ۔امریکہ کے وزیرخارجہ مائک پومپیو کا کہنا ہے کہ یوروپ سے فوجی ہٹا کر ایشیا میں خاص کر بھارت کے حق میں چین پر لگام لگانے کیلئے تعینات کی جا سکتی ہیں۔اچھی خبر ہے ساو¿تھ چائنا سمندر میں پہلے ہی امریکی بیڑے تعینات ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ روس اس معاملے میں کیا رول رکھتا ہے خاص کر جب بھارت کے زیادہ تر ہتھیار روسی ہیں ۔چین کی بڑھنے والی پالیسی میں ان دوستوں کو بھی نہیں چھوڑا جنہوں نے امریکہ بھارت کا پرانا ساتھ چھوڑ کر چین کا دامن تھاما تھا جسیے فلیپن ،نیپال ،ملیشیا ،لیتنام ،انڈونیشیا ،طائبان پہلے سے ہی اس کے شکار ہیں ۔چینی لیڈر شپ یہ بھی نہیں سمجھ پارہی ہے کہ ایک ساتھ کئی مورچے کھولنا عالمی جنگ کا آغاز کر سکتا ہے وہ تب جب دنیا کورونا سے لڑ رہی ہے ۔بحرحال اس کے دباو¿ میں یہ شخص گروپ و ملک غلط فیصلے لے رہے ہیں اس وبا کے چھ مہینے بعد بھی دوا نہیں بن پائی اس سے لڑنے کے بجائے سرحد پر کشیدگی پیدا کرنا وہ بھی آدھے درجن ملکوں کے ساتھ بھی اس کی دہشت کی مثال ہے ۔کچھ ایسا ہی ہٹلر نے دوسری جنگ عظیم مین کئی مورچے کھول دئیے تھے ۔دیکھنا ہوگا ساڑھے تین سو سال کی انسانی وجود کی تاریخ سے آج کے انسان میں کیسا سبق لیا ؟
(انل نریندر)
07 جولائی 2020
ڈانسنگ کوئین سروج خان !
تین سال کی نرملا ناچتے ہوئے اپنی پرچھائی دیکھتے دیکھتے ان کی محبت میں قید ہوگئی ۔سندھی نزاد ماں نونی نے سمجھایا ہر پرچھائیوں کے چکرمیں نہیں پڑتے ،برے سپنے آتے ہیں مگر بیٹی باغی ہوگئی تھی ۔اور بغاوت بڑھی تھی تو نچ ایک جنون کی طرح ان کی زندگی میں بس گیا ۔بیٹی ڈانسر بننا چاہتی تھی ۔پنجابی والی کسن سنگھ سادھو کو سماج میں عزت کی فکر ستانے لگی ۔1947میں پاکستان سے بھارت آئے اور وہیں یہ بچی نرملا پیدا ہوئی ۔سماجی ساکھ بچانے کے لئے انہوں نے نرملا کو نیانام دے دیا ۔۔۔سروج ۔فلموں میں تب ڈانسر ماسٹر ستیہ نارائن کا بول بالاتھا وہ جے پور کے باشندے کتھک میں پارنگت تھے ۔نرملا پہلے ان کے ڈانس کی پھر ان کی دیوانی بن گئی ۔محض 13سال کی طالبہ سروج نے ستیہ نارائن سے گلے میں کالا دھاگا یعنی منگل سوتر بندھوا لیا ۔اور بدلے میں انہیں ترقی ملی اور وہ فلم مدھو متی (1958)میں جو سروج گروپ ڈانسروں میں پیچھے ناچا کرتی تھی اور دیکھتے دیکھتے اسسٹنٹ ڈائرکٹر ڈانسر بن کر ہیرو ہیروئن کو سیٹی بجاکر رہلسر کرانے لگی ۔1963میں سروج ماں بنی مشہور اداکارہ اور کبھی ہندی سنیما کی ہیروئن نمبر ون کہلاتی مادھوری دکچھت کے کیرئیر میں ان کے ہٹ ڈانس نمبر نکال دئیے جائیں تو شاید مادھوری کی کہانی ادھوری سی لگے مادھور ی دکشت کو ڈانسنگ اسٹار بنانے میں جس شخص کا سب سے بڑا ہاتھ رہا وہ تھی ڈانسنگ کوئین سروج خان۔سروج خان ہمارے بیچ نہیں رہیں ان کا ممبئی مین دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا ۔ہندی سنیما میں پی ایل راج ،برجو مہاراج اور اوپم شنکر جیسے مشہور رقص ڈائرکٹروں کی لسٹ میں سروج خان کا نام بہت اوپر لیا جاتا ہے ۔ فلم جب وی میٹ کیلئے سروج خان کو ان کی لیڈر شپ و ڈائرکٹر کرینا کپور پر فلمائے گانے میں یہ عشق ہائے کیلئے سب سے بڑا کوریو گرافر کا نیشنل ایوارڈ ملا ۔اس کے علاوہ نیشنل فلم ایوارڈ و سروج خان نے فلم دیو داس کے گانے ڈولا رے ڈولا کیلئے بھی جیتا ۔تیسر انیسنل ایوارڈ سروج خان نے سری گنگا رام میں رشق ہدایت کار کیلئے جیتا ۔ اپنی دوست اور گرو سروج خان کی موت سے مادھوری دکشت نے سردھان جلی دیتے ہوئے کہا کہ ان کے جانے سے میں ٹوٹ گئی ہوں میں ان کی ہمیشہ شکر گزاررہوں گی دنیا نے ایک ٹیلنٹڈ یافتہ انسان کھودیا ہے میری ان کے خاندان کے تئیں سچی سنویدانائے ہیں
(انل نریندر)
دنیا کی 70فیصد ویکسین میڈ ان انڈیا ہے !
انڈین کانسل آف میڈیکل ریسرچ آئی سی ایم آر میں 15اگست تک کورونا وائرس کی دیسی دوا لانچ کرنے کا نشانہ رکھا ہے ۔کانسل نے نامزد میڈیکل اداروں و اسپتالوں کو بھارت بایو ٹیک کے اس پلاس سے تیار کی جارہی ہے ویکسین کے کلینیکل تجربہ میں تیزی لانے کے احکامات دئیے ہیں آئی سی ایم آر کے ڈائرکٹر جنرل ڈاکٹر بلرام بھارگو نے ان 12مراکز کو خط بھیجا ہے جہاں ویکسین کا انسانوں پر تجربہ کئے جانے کا ہے ۔سبھی ہر سینٹر حال ہی میں 7جولائی تک ٹرائل میں شامل لوگوں کا رجسٹریشن کرنے اس میں کوئی دیری نہیں ہونی چاہیے ۔دیش میں پہلی بار کوئی کورونا ویکسین اتنے ایڈوانس اسٹیج پر پہونچی ہے ۔اس دواکا تجربہ گیارہ سے پچیس لوگوں پر ہونا ہے ۔پہلے مرحلے میں 325دوسرے میں 750لوگوں پر تجربہ کیا جائیگا ۔پہلے مرحلے میں 18سے 55برس کے لوگ رکھے جائیں گے ۔پہلے مرحلے کو تین گروپوں میں بانٹا گیا ہے ہرگروپ میں 125لوگ رہیں گے ۔28دن تک اس پر اسٹڈی کی جائیگی ۔اس وقت پوری دنیا میں کورونا وائرس کی دوا کی ریسرچ چل رہی ہے ۔کچھ کمپنیون نے تو دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کورونا وائرس کا توڑ نکال لیاہ ے لیکن اس کے فیصلہ کن طور سے ثابت نہیں کیاگیا ہے ۔کووڈ19-کیلئے آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین بھارت میں تیارکررہی کمپنی شری رام انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کے سی ای او ادار پونا والا کاکہناہے کہ 100 سے زیادہ کمپنیاں دوا بنا رہی ہیں ایسے میں یہ بتانا مشکل ہے کہ پہلے کون سا دیش یا کونسی کمپنی دو الائیگی ۔ہمیں امید ہے ویکسین بن جاتی ہے تو اسے چھپایا نہیں جائیگا ۔اس میں ایمانداری اور کاروباری سوجھ بوجھ ہوگی ۔دنیا میں جتنی دوائیں ہیں ان میں 70فیصدی ہندوستانی ہیں ہندوستانی پروڈیوسر ورلڈ مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی ریس میں ہم پہلے سے ہی آگے ہیں ۔وبا کے اس دورمیں کاروبار اور ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ دونوں ایک ساتھ آئے ہیں تاکہ بھارت خود کفیل ہونے کے ساتھ کورونا سے لڑ سکے ۔سیرم اور مائی لیب کے ساتھ دو لاکھ کٹ روزانہ بنا رہی ہے ۔جس سے بھارت کی بڑھتی مانگ کو پورا کیا جاسکے ۔پونا والا کہتے ہیں کہ مجھے یقین ہے ہم دستیاب ٹیلنٹ ٹیکنالوجی اور انوویشن مثتثنہ ڈولپمنٹ سے مدد کرپائیں گے جس سے دیگر ملکوں پر انحصار کم کر سکیں ۔
(انل نریندر)
پولیس کا ایسا انکاو ¿نٹر جس میں اپنے ہی آٹھ جوان کھوئے
اتر پردیش کے کانپور میں جمعرات جمعہ کی رات ہسٹری شیٹر پکڑنے گئی پولیس میں اس کے بدمعاشوں نے آٹو میٹک ہتھیاروں سے گولیاں برسائیں اس میں سی او سمیت تین سب انسپکٹر سمیت آٹھ پولیس والے شہید ہوئے کچھ زخمی ہوئے ۔بدمعاشوں نے اے کے 47سمیت کئی ہتھیار چھینے ۔واردات چوبے پور تھانہ کے گاو¿ں بکڑو کی ہے ۔اغوا لوٹ مار اور قتل کے معاملوں میں مطلوب بکروگاو¿ں کے شاطر بدمعاش وکاس دوبے کو پکڑنے گئی تھی بتاتے ہیں کہ پولیس کے آنے کی خبر دوبے کو پہلے ہی مل گئی تھی ۔جیسے ہی پولیس ٹیم گاڑیوں سے اتری تو 15سے 20بدمعاشوں نے گھروں کے اندر ااور آس پاس کی چھتوں سے گولیاں برسا دیں ۔جان بچانے کے لئے چھپے پولیس والوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر گولی ماری گئی ۔واردات کے بعد بدمعاشوں کی تلاش کررہی پولیس نے جمعہ کی صبح کو دو بدمعاش مار گرائے واضح ہو کہ بدمعاش وکا س دوبے پر 60کیس درج ہیں ۔سال 2003میں اس نے سو اجی تھانے میں گھس کر وزیر مملکت سنتوش شکلا کو مار ڈالا تھا اس کی گرفتاری پر 50ہزارروپئے کے انعام کا اعلان کیاگیا تھا ۔پولیس ملازمین کو شہید اور زخمی کرنے کے بعد وکاس اور اس کے ساتھی گھروں سے نکلے۔ او ر پولیس ملازمین کی دو پستول ایک رائفل ایک اے کے 47لوٹ کر بھاگ نکلے ۔اس انکاو¿نٹر میں ہلاک پولیس والوں کے رشتہ داروں کو ریاستی حکومت ایک کروڑ کا معاوضة اور معمولی پنشن دے گی ۔وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ نے کہا کہ ساتھ ہی خاندان کے ایک فرد کو نوکری دی جائیگی ۔ایسا نہیں کہ وکاس دوبے کوئی اچانک ابھرتا مافیہ ہے جو کسی پردے میں چھپا ہوا تھا پچھلے کئی سالوں سے اپنے جرائم اور تقریباً ہر سیاسی پارٹی میں اپنی پہونچ کے بوطے پر اس نے رسوخ بنایا تھا ۔وہ الگ الگ واردات میں تھانہ میں گھس کر ایک نیتا اور پولیس ملازمین سمیت اور دیگر لوگوں کو قتل کرانے کا ملزم ہے آخر اس کی سرپرستی میں یا کن وجوہات میں بغیر کسی بلا خوف اپنی زندگی جی رہا ہے ۔مقامی سیاست میں سرگرم بھی رہتا ہے ۔80کی دہائی میں چنبل گھاٹی میں سرگرم بینڈٹ ڈکیت گروہ کا ممبر رہا یا پھر موجودہ شہری تہذیب میں پنپا پھولا پھلا ہسٹیی شیٹر بنے چھٹ بھئیا نیتا ہر کسی کے پیچھے کسی ناکسی سیاسی سورما کی سرپرستی رہی ہے ۔جرائم کی دنیا میں داخل ہونے کے بعد انتخابات میں اپنی مفادی طاقت کے بل بوطے پر یہ چھٹ بھئیا ہسٹری شیٹر پہلے تو سیاسی آقا کے بازی گر ہوئے پھر خود سیاست میں پیر جما کر پولیس یا دیگر آدمی ان کے استحصال کی داستان لکھتے رہے ہیں ۔کانپور کے وکاس دوبے کی کہانی کچھ ایسی ہی حقیقت کے ارد گرد پروان چڑھتی رہی ہے ۔اتر پردیش پولیس کا یہ ایسا انکاو¿نٹر ہے جس میں اس نے اپنے ہی آٹھ جوان کھو دئیے ۔ہم شہید ہوئے شہیدوں کو اپنی شردھان جلی دیتے ہیں ۔وجہ تو تحقیقات کا موضوع ہے لیکن شچ تو یہی ہے کہ انکاو¿نٹر کرنے والے پولیس والے الٹا شہہد ہو گے ۔
(انل نریندر)
05 جولائی 2020
گلگت -بلتستان میں ہونگے چناو ¿؟
ہندوستان کی جانب سے پاکستان کو یہ بار بار واضح کئے جانے کے باوجود جموں کشمیر اور لداخ کے پورے مرکزی حکمراں ریاست جس میں گلت بلتستان علاقہ بھی شامل ہے اور وہ دیش کا اٹوٹ حصہ ہے اس کے باوجود پاکستان گلگت بلتستان کو لیکر ناپاک چالیں چل رہا ہے ۔اور اس ان حرکتوں سے اپنی باز نہیں آرہا ہے ۔پاکسان کی بڑی عدالت کے اجازت دینے کے بعد سرکار نے گلگت بلتستان میں 18اگست کو عام چناو¿ کرانے کا اعلان کیا ہے ۔بھارت اور پاکستان کے درمیان اس علاقے کو لیکر تنازعہ ہے ۔بھارت اسے اپنا علاقہ مانتا ہے ۔پاکستان کی اس رپورٹ نے سرکار نے علاقے میں عام چناو¿ کرانے کے لئے 30اپریل 2018کے فرمان نے ترمیم کرنے کی اجازت دے دی تھی ۔راشٹریہ پتی بھون کے ایک بیان کے مطابق صدر عارف اہلوی نے گلگت بلتستان اسمبلی میں 18اگست 2020کو عام چناو¿ کرانے کی منظوری دیدی ۔چناو¿ کمیشن 24اسمبلی سیٹوں پر چناو¿ کرائیگا ۔صدر نے پچھلے مہینہ ایک نگراں سرکار بنانے اور پاکستان کے چناو¿ ایکٹ 2017کے گلگت بلتستان کے فروغ کے لئے ایک حکم جاری کیا تھا ۔اسمبلی کو اس کی میعاد پوری ہونے کے بعد 11جون کو بھنگ کردیا گیا تھا ۔
(انل نریندر)
چین کی ہانگ کانگ کو نگلنے کی تیاری !
دنیا بھر کے احتجاج کو درکنار کرتے ہوئے چین نے آخرکار ہٹ دھرمی اور طاقت کے ساتھ ہانگ کانگ میں متنازع قومی سلامتی قانون کو نافذ کر دیا ہے ۔ظاہر ہے اب اس قانون کی آڑ میں چین ہانگ کانگ کے شہریوں کو کچلنے کا کام اور تیز کریگا اور جمہوریت حمایتیوں کو سبق سکھائے گا ۔چین کے ہانگ کانگ میں متنازع قومی سلامتی قانون نافذ ہونے کے ساتھ پہلے ہی دن مظاہرین پر سخت سزا نافذ ہونے کے باوجود انہوں نے جم کر مظاہرہ کیا اور پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لئے پانی کی بوچھاروں کا استعمال کیا ۔1997میں برطانیہ کے ذریعے چین کو ہانگ کانگ ہینڈ اور کرنے کی سالگرہ کے موقع پر ایک ریلی میں ہزاروں مظاہرین اکھٹے ہوئے ۔ہانگ کانگ میں قانون نافذ کرنے پر امریکہ نے نکتہ چینی کرتے ہوئے انجام بھگتنے کی وارننگ دے دی ۔امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے بدھوار کو ہانگ کانگ کے لوگوں کے لئے سب سے خراب دن بتایا جبکہ چین نے امریکی احتجا ج کے باوجود اس پر پابندی لگانے کی دھمکی دے دی ۔بیجنگ نے کہا کہ وہ ضروری جوابی اقدامات کے ساتھ مقابلے کے لئے پوری طرح تیار ہے ۔جبکہ امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے کہا چینی کمیونسٹ پارٹی نے ہانگ کانگ میں قانون لاگو کرکے علاقائی مختاری و چین کی سب سے بڑی کامیابی میں سے ایک کو برباد کر دیا ہے ۔وہیں برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے چین پر چناو¿ منشور کے تقاضوں کو واضح اور سنگین خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے اس چناو¿ منشور کے ذریعے برطانیہ نے ہانگ کانگ چین کے حوالے کیا کہ وہ ہانگ کانگ کے برٹش نیشنل اورسیز پاسپورٹ ہولڈروں کو اپنے یہاں مستقل شہریت کی تجویز دیں گے ۔چین اب تک جس طرح سے طائبان شنگزیان اور تبت نے آزادی کی مانگ کرنے والوں کو کچلتا آیا ہے ۔وہیں ہانگ کانگ میں بھی وہی ہوگا حالانکہ برطانیہ نے 1997میں جب ہانگ کانگ کو چین کو سونپا تھا تب وہاں جمہوریت کے قیام کا بھروسہ دیا تھا ۔کیا تانہ شاہی و فروغ وادی ٹرینڈ والا قومی سلامتی قانون لاگو کرکے چین اپنے اس بھروسے سے پورا اتر رہا ہے ؟
(انل نریندر)
تقریباً تاحیات صدر !
قریب دو دہائی سے روس کے اقتدار پر قابض ولادیمر پوتن نے ریفرنڈم کے ذریعے ان آئینی ترمیمات پر مہر لگوا لی ہے جس سے اور 16برس تک اپنا اقتدار میں بنے رہنے کا راستہ صاف ہوگیاہے ۔ریفرنڈم میں پوتن کی دعوے داری کو حمایت ملی ہے ۔کورونا بحران اور اپوزیشن لیڈروں کے زبردست احتجاج کے درمیان یہ عوامی ریفرنڈم 7دنوں تک چلا ۔بدھوار کو ختم ہوا ریفرنڈم کی بنیاد پر 84سال کی عمر تک پوتن روس کے صدر بنے رہیں گے ۔آئینی ترامیم کے ذریعے پوتن کا موجودہ عہد ختم ہونے کے بعد دو مزید عہد کے لئے صدارتی عہدہ ملے گا ۔1952میں پیدا پوتن 2036میں 84سال کے ہو جائیںگے ۔روس میں لائننگ سے لیکر یلتس سنگ تک کوئی بھی لیڈر اپنا 80واں جنم دن نہیں دیکھ پایا ہے ۔پوتن 80سال کی عمر کے بعد بھی روس کے اقتدار میں قابض ہونے والے پہلے نیتا ہوں گے ۔اپنے عہد کے دوران روسی لوگوں کے زندگی میعاد اوسطاً دس سال تک بڑھی ہے اس سال پوتن 68سال کے ہو جائیںگے اور موجودہ دور میں کسی روسی شخص اوسطا زندگی عہد مانا جارہا ہے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ریفرنڈم کے دوران کورونا وبا کی وجہ سے پولنگ کاروئی کافی دھیمی رہی ۔اور پولنگ بوتھ پر لوگوں کی بھیڑ زیادہ نہیں دکھائی دی اسی لئے پولنگ پوری ہونے میں ایک ہفتہ لگ گیا ۔آئینی ترامیم کرانے کے لئے ریفرنڈم میں حمایت پانے کی خاطر پوتن نے بڑے پیمانے پر کمپین چلائی تھی اور کہا تھا ہم اس دیش کے لئے پولنگ کررہے ہیں جس کے لئے ہم کام کرتے ہیں ۔اور جسے ہم اپنے بچوں اور پوتا پوتیوں کو سونپنا چاہتے ہیں ۔اپوزیشن کے لیڈروں نے ریفرنڈم کو لیکر سوال اٹھائے ہیں ۔کریملن کے سابق سیاسی مشیر گیلب پولونمسکی نے کہا کہ کورونا انفکشن کے خطرے کے باوجود صدر نے ریفرنڈم کرایا ہے ایسے بحران کے وقت ریفرنڈم کرا کر پوتن نے ایک طرح سے اپنی مقبولیت کو آزمانے کی کوشش کی ہے ایسے وقت جب کووڈ19-کے ساتھ ہی امریکہ چین اور بھارت میں بھی کشیدگی چل رہی ہے ۔پوتن کی اس کامیابی کے عالمی اور علاقائی نفع نقصان کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے ۔وزیر اعظم نریندر مودی نے باہمی رشتوں کے تقاضے کے مطابق مبارک باد دی ہے ۔بیشک بھارت اپنے باہمی امور میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت قبول نہیں کرنا چاہتا مگر روس سے اپنے رشتوں کو سفارتی طور سے چین کے خلاف استعمال کرسکتا ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...