Translater

Bahujan Samaj Party لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Bahujan Samaj Party لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

19 مئی 2012

ہاتھی مورتی گھوٹالہ 9 لاکھ کی مورتی90 لاکھ میں

اترپردیش میں اس وقت کی وزیر اعلی کے عہد میں ہوئے گھوٹالوں کی پرتیں کھلنے لگی ہیں۔ وزیر اعلی اکھلیش یادو نے منگل کے روز میڈیا کو بتایا یادگاروں وپارکوں کی تعمیر اور ان میں لگے ہاتھیوں کی مورتیوں و دیگر مورتیوں کو لگانے میں پانچ ہزار نہیں بلکہ40 ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوا ہے۔لکھنؤ کے امبیڈکر پارک میں لگی ہاتھی کی مورتیوں کو بنوانے و انہیں لگوانے میں کروڑوں روپے کی سرکاری پیسہ کی بندربانٹ کی گئی ہے۔آگرہ کے ایک سنگتراش کی شکایت پر حضرت گنج پولیس تھانے نے اس معاملے میں دھوکہ دھڑی ، غبن، دھمکی دینے کی رپورٹ درج کرائی ہے۔ ہاتھی کی مورتیوں کی ادائیگی کے معاملے میں ملزم لکھنؤ ماربل کے مالک ادتیہ اگروال کے وبھوتھی کھنڈ میں واقع دفتر پر ایتوار کے روز جانچ کرنے پہنچی پولیس کی ٹیم کو کئی اہم دستاویز ہاتھ لگے ہیں جن میں دعوی کیا جارہا ہے کہ مایاوتی سرکار نے 9لاکھ روپے کی مورتی کے لئے90 لاکھ روپے ادا کئے۔ جانچ سے پتہ چلتا ہے کہ ہاتھی کی مورتیوں کی تعمیر کے لئے پی ڈبلیو ڈی نے کسی بھی طریقے سے ٹنڈر نہیں مانگے تھے۔ اس کے لئے نہ تو کوئی ٹنڈر جاری کیا گیا اور نہ ہی کسی اخبار میں اشتہار نکال کر مشتہر کیا گیا۔ چہیتوں کو ٹھیکہ دینے کے لئے صرف کوٹیشن کی بنیاد پر چپ چاپ طریقے سے کروڑوں کے ٹنڈر پاس کردئے گئے۔ اب پولیس انہی حقائق کی بنیاد پر اس گھوٹالے میں نامزد افسروں اور ان کے رشتے داروں کی پراپرٹی کی تفصیلات ٹٹولنے میں لگ گئی ہے۔ ڈی آئی جی لکھنؤ کی ہدایت پر پولیس کی تین ٹیمیں اسٹیٹ تعمیراتی کارپوریشن ،تحصیل آفس اور پاسپورٹ دفتر میں جانچ کرنے پہنچی ہیں۔ ٹیم نے جب اسٹیٹ تعمیراتی کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹراروند کمار گپتا سے پوچھا کہ سرکاری کام کے لئے بغیر کوئی ٹنڈر جاری کئے ہی آخر کوٹیشن کی بنیاد پر کروڑوں کا کام کیسے دے دیا گیا۔ اس کے لئے کسی بھی اخبار میں کوئی اشتہار شائع نہ کراکر چپ چاپ طریقے سے یہ کھیل کھیلا گیا؟ اس پر منیجنگ ڈائریکٹر کوئی جواب نہیں دے سکے۔ پولیس کی دوسری ٹیم تحصیل دفتر میں اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کررہی ہے کہ گھوٹالے میں نامزد 8 افسران و ملازمین و ان کے رشتے داروں کے پاس کتنی پراپرٹی ہے؟ غور طلب ہے کہ آگرہ کے فتحپور سیکری گاؤں پورہ کے باشندے مدن لال نے ایتوار کو وبھوتی کھنڈ تھانے میں رپورٹ درج کرائی تھی کہ لکھنؤ ماربلس کے مالک ودیہ اگروال کے رشتے دار ادتیہ اگروال نے پتھر ہاتھی کی مورتی بنانے کے لئے 48 لاکھ روپے دینے کو کہا تھا انہیں 1 لاکھ روپے ایڈوانس دینے کے بعد 6 لاکھ56 ہزار روپے اور دے دئے گئے۔ منگل کے روز وزیر اعلی اکھلیش یادو نے یہ بھی انکشاف کیا کہ یادگاروں و پارکوں کی تعمیر میں مورتیوں میں تو گھوٹالہ ہوا ہی ساتھ ہی ان یادگاروں اور پارکوں میں لگائے گئے کھجور کے پیڑوں کی خرید میں بھی گڑ بڑی کی بات پتہ چلی ہے۔وسیع پیمانے پر ہوئی ان پیڑوں کی اناپ شناپ خرید کی ساری تفصیل اکٹھی کرائی جارہی ہے۔ تعمیر کی لاگت میں زمین کی قیمت کا تخمینہ اور یادگاروں و پارکوں میں بنی کئی عمارتوں و مہنگے پتھروں کی باؤنڈری کو کئی بار توڑا جانا شامل ہے۔ سارا حساب کتاب جلد سامنے آجائے گا۔ بسپا عہد میں ہوئے گھوٹالوں کی پرتیں اب آہستہ آہستہ کھلنے لگی ہیں۔
Akhilesh Yadav, Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Daily Pratap, Lucknow, Mayawati, Uttar Pradesh, Vir Arjun 

25 مارچ 2012

کیا کہتی ہے یوپی کی ہار پر کانگریس کی خفیہ رپورٹ؟



Published On 25 March 2012
انل نریندر
حال ہی میں اختتام پذیر اترپردیش اسمبلی چناؤ میں کانگریس کی کراری ہار پارٹی لیڈر شپ ہضم نہیں کرپارہی ہے۔ باوجود سخت مشقت کے پارٹی کو کراری ہار کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ پارٹی کو سب سے زیادہ تشویش سونیا گاندھی کے پارلیمانی حلقے اور یووراج راہل گاندھی کے پارلیمانی حلقے میں ہار کی ہے۔ اس ہار کے اسباب کو جاننے کیلئے پارٹی نے کئی رپورٹ تیار کرائی ہیں۔ راہل گاندھی کے کرشمے کا فائدہ نہ مل پانے کے لئے جہاں کانگریس لیڈر شپ کمزور تنظیم، ٹکٹو کی غلط تقسیم مان رہی ہے بلکہ حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ پارٹی صدر سونیا گاندھی کی رہنمائی میں سینٹرل الیکشن کمیٹی کے لئے بنی ایک خاص رپورٹ میں کہا گیا ہے پارٹی کے یووراج راہل گاندھی کی منڈلی بھی ہار کے لئے ذمہ دار ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ایک دوسرے سے بیحد تعصب رکھنے والے لوگوں کے چھوٹے لیکن بااثر گروپ اور سیاسی پارٹی کے دم خم میں کمی والے امیدواروں کو ٹکٹ دئے جانے سے چناؤ کے نتیجے پارٹی کے لئے مایوس کن رہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے ذات پات اور سینئر لیڈروں کا غرور بھی ہار کا سبب مانا گیا ہے اس کی وجہ سے بنیادی ورکر چناؤ میں پوری طاقت لگانے کے بجائے علیحدہ رہا۔ کانگریس کی اس ہار کا پوسٹ مارٹم سے متعلق اس پہلی رپورٹ میں صوبے کی 33 سیٹوں پر توجہ دی گئی ہے۔ ان سبھی سیٹوں پر کانگریس کی کارکردگی خراب رہی ہے جہاں راہل گاندھی کے قریبیوں نے مداخلت کرکے اپنی مرضی کے امیدواروں کو ٹکٹ دلائے تھے۔ ان سبھی سیٹوں پر کانگریس کے مبصرین کے ذریعے چنے گئے امیدواروں اور مقامی ورکروں کو نظرانداز کیا گیا۔ فیروز آباد میں سسرا گنج سیٹ کی مثال سامنے ہے جہاں کانگریس امیدوار ہری شنکر یادو محض 4 ہزار 224 ووٹ لیکر پانچویں مقام پر رہے۔ مبصرین اور مقامی ورکروں کی پہلی پسند ٹھاکر دلبیرسنگھ تومر تھے۔ راہل نے خاص زور دیکر یادو کو ٹکٹ دلوایا۔ اسی طرح ایٹہ ضلع میں علی گنج سیٹ پر پارٹی کے امیدوار رنجن پال سنگھ 8 ہزار160 ووٹوں کے ساتھ پانچویں مقام پررہے۔اس سیٹ پر پارٹی کے آبزرور نے بزنس مین سبھاش ورما کو ٹکٹ کی وکالت کی تھی۔وہ اس اسمبلی حلقے میں لودھ فرقے سے واحد امیدوار تھے جو 27 ہزار لودھ ووٹوں کے زیادہ تر ووٹ حاصل کرسکتے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کانگریس ورکروں کو نظرانداز کرنے سے انہوں نے پارٹی امیدوار کے خلاف ہی کام کیا اور اسے ہروانے میں لگ گئے۔ ریاست کے ایک مسلم ممبر پارلیمنٹ نے کہا جو رپورٹ اب مل رہی ہے ہم لوگوں کو تو پہلے ہی اس بارے میں پتہ تھا۔ راہل گاندھی کو بھی اشارہ کیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس پر توجہ نہیں دی۔ مسلم لیڈر کی شکل میں صرف سلمان خورشید کو آگے برھایا گیا جبکہ مسلم انہیں اپنا لیڈر مانتے ہی نہیں ہیں۔ اس لئے راہل گاندھی نے سماجوادی پارٹی سے آئے رشید مسعود بینی پرساد ورما کو اہمیت دی۔ جبکہ یہ لوگ دوسری پارٹیوں سے آئے تھے اور اسی وجہ سے کانگریس ورکر اس چناؤ سے دور رہا۔ ریاست کے کئی ایم پی اور نیتا یہ ہی چاہتے ہیں کہ ہار کے ذمہ دار لوگوں کو سزا دی جائے جن لوگوں نے اس چناؤ میں درجہ فہرست ذاتوں، پسماندہ ذاتوں اور اقلیتوں والی سیٹوں کو جیتنے کے لئے لگایا تھا ان پر کارروائی کی جانی چاہئے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Congress, Uttar Pradesh, State Elections, Elections, Rahul Gandhi, Bahujan Samaj Party, Ajit Singh, Samajwadi Party,

23 مارچ 2012

سپا ۔یوپی اے سرکار میں شامل ہوگی؟



Published On 23 March 2012
انل نریندر
ایتوار کو ایک نامہ نگار نے لکھنؤ میں مکھیہ منتری اکھلیش یادو سے سوال کیا کہ کیا سماجوادی پارٹی یوپی اے سرکار میں شامل ہوگی؟ جواب میں اکھلیش نے کہا کہ ہم یوپی اے سرکار میں شامل ہوں گے یا نہیں اس پر آخری فیصلہ پارٹی ادھیکش ملائم سنگھ یادو (نیتا جی) ہی کریں گے۔ سپا کے کیندریہ سرکار میں سہیوگی بننے کے متعلق دگوجے سنگھ کے بیان پراکھلیش نے کہا کہ نیتا جی دہلی جارہے ہیں، مرکز میں سپا کے کردار کا فیصلہ وہی کریں گے۔ ملائم سنگھ یادو (نیتا جی) سے جب دہلی میں یہی سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ نہ تو ہم سے کسی نے ایسا کرنے کی اپیل کی ہے اور نہ ہی ہم نے کسی سے اپیل کی ہے۔ نیتا جی کی باتوں سے ایسا لگا کہ وہ منموہن سرکار میں شامل ہونے کے لئے زیادہ پرجوش نہیں ہیں۔ مرکزی سرکار بیشک ممتا سے عاجز ملائم سنگھ کی طرف بھلے ہی حسرت سے دیکھ رہی ہو لیکن سپا کی اس میں زیادہ دلچسپی نہیں لگتی۔ یہاں تک کہ سپا نہ تو مرکزی سرکار میں شامل ہوگی اور نہ ہی اسے اپ سبھا پتی کے عہدے کی ضرورت ہے۔ حالانکہ یہ بھی صاف ہے کہ سپا منموہن سنگھ سرکار کو گرانے کی کوئی کوشش نہیں کرے گی اور سمرتھن جاری رکھے گی۔یوپی اے سرکار کو لیکر سپا کا نظریہ بالکل صاف ہے۔ ذرائع کے مطابق اترپردیش ودھان سبھا چناؤ میں بھاری بھرکم جیت کے بعد سپا اب آئندہ لوک سبھا چناؤ تک اس پر کوئی آنچ نہیں آنے دینا چاہتی۔ خاص طور سے اس حالت کے مدنظر جب گذرے سالوں میں بھرشٹاچار اور گھوٹالوں جیسے کئی مورچوں پر مرکزی سرکار کا دامن داغدار رہا ہے۔ اتنا ہی نہیں پارٹی اترپردیش میں کسانوں کی بہتری کے کئی وعدوں پر بھی جیتی ہے جبکہ مرکزی بجٹ میں آنے والے وقت میں ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے اشارے ہیں۔ پارٹی کا ماننا ہے کہ ایسے میں مرکزی سرکار میں شامل ہوکر انہیں گناہوں کا حصہ دار بننا اس کے لئے نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے لہٰذا اس سے دور رہنے میں ہی بھلائی ہے۔
سپا کے اعلی ذرائع نے تو دعوی کیا ہے کہ کانگریس کی رہنمائی والی مرکزی سرکار میں شامل ہونے کا سوال ہی نہیں۔ اس کے پیچھے ایک ترک یہ بھی ہے کہ گذرے سالو ں میں سپا نے بھلے ہی کئی مورچوں پر آگے بڑھ کر مرکزی سرکار کا ساتھ دیا ہو لیکن اترپردیش کے گذرے ودھان سبھا کے چناؤ تک کانگریس نے بھی کبھی اس کے ساتھ دوستانہ رشتے کا ثبوت نہیں دیا۔ غور طلب ہے کہ اترپردیش کے گذرے ودھان سبھا چناؤ میں کانگریس۔بسپا اور مایاوتی کو چھوڑ کر سپا پر ہی سب سے زیادہ حملہ آور رہی تھی۔ایک دوسرے سپا نیتا نے یہ بھی صاف کیا کہ مرکزی سرکار میں شامل ہونے کیلئے کانگریس کی طرف سے کوئی ٹھوس پرستاؤ ویسے بھی ابھی تک نہیں آیا ہے۔کانگریس جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ نے سوموار کو ملائم سنگھ کی جم کر تعریف کی تھی۔سپا کی اولیت ہمیں تو صاف لگتی ہے ۔ سپا کی اولیت اترپردیش میں ایک اچھی سرکار چلانا اور اترپردیش میں پارٹی کو اور مضبوط کرنا ہے نہ کہ کسی دوسری پارٹی کی غلطیوں میں شریک ہونا۔
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Congress, Daily Pratap, Samajwadi Party, UPA, Vir Arjun

15 مارچ 2012

مایاوتی اب آگے کیا کریں گی؟



Published On 15 March 2012
انل نریندر
بہوجن سماج پارٹی کی چیف و اترپردیش کی سابق وزیر اعلی مایاوتی کے مستقبل کو لیکر سبھی کو پریشانی تھی کہ اب آگے وہ کیا کریں گی؟ چناؤ میں کراری ہار کے بعد بہن جی کے سیاسی مستقبل میں بے یقینی ضرور پیدا ہوگئی تھی۔ فی الحال لگتا ہے کہ بہن جی مرکز کی سیاست کریں گی۔ انہوں نے راجیہ سبھا کے لئے پرچہ داخل کردیا ہے۔ اس سے پہلے پیر کو لکھنؤ میں ایک ایسا منظر سامنے آیا جس کا تصور کرنا بھی کچھ وقت پہلے تک ناممکن تھا۔ مایاوتی کے سامنے جب وہ وزیر اعلی تھیں کسی کی مجال تھی کہ برابر کی کرسی پر کوئی اور بیٹھ سکتا ہو ۔ چاہے وہ ایم پی ہو، یا پارٹی کا سینئر عہدیدار ہو یا ممبر اسمبلی ہو سبھی کو زمین پر بیٹھنا پڑتا تھا۔ مایاوتی اکیلی کرسی پر بیٹھتی تھیں۔ہار کے بعد پیر کو بسپا ممبران اسمبلی کی میٹنگ ہوئی تو راجیہ سبھا میں پارٹی کے امیدواروں کا انتخاب ہونا تھا۔ راجیہ سبھا کی 10 سیٹوں کے لئے پیر کو نامزدگی کا کام شروع ہوگیا ہے۔ بسپا کے ممبران اسمبلی کی تعداد کے حساب سے 2 سیٹیں بسپا جیت سکتی ہے۔ ایک سیٹ پر تو خود بہن جی کھڑی ہورہی ہیں دوسری پر وہ چاہتی تھیں کہ مایاوتی سرکار میں کیبنٹ سکریٹری ششانک شیکھر پرچہ بھریں ۔ لیکن ان کے نام پر بسپا ممبران اسمبلی نے اختلاف جتا دیا۔ کیونکہ مایاوتی سرکار میں وہ وزراء اور ممبران اسمبلی پر بھاری تھے۔
وزیر اعلی سے ملاقات سے لیکر ان کی سفارشوں پر عمل تبھی ہوتا تھا جب کیبنٹ سکریٹری اس پر اپنی حامی بھردیا کرتے تھے اور اپنے کو نظرانداز کرنے سے بسپا ممبران میں ناراضگی تھی۔ پیر کو جب راجیہ سبھا کے لئے امیدواروں پر اتفاق رائے بنانے کیلئے بسپا ہیڈ کوارٹر میں پارٹی ممبران اسمبلی کی میٹنگ بلائی تو انہوں نے ششانک شیکھر پر اختلاف پیش کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس افسر نے گدی پر رہتے ہوئے ان لوگوں کی نہیں سنی اسے کیسے راجیہ سبھا کے لئے ووٹ دلوا سکتے ہیں۔ ممبران کے ذریعے بتائے گئے کاموں کو نظرانداز کرنے کے چلتے ہی وہ جنتا کے مسائل دور نہیں کرسکے۔ ناراض جنتا نے پارٹی امیدواروں کو اسمبلی چناؤ میں ہرادیا۔
ذرائع کا کہنا ہے بسپا چیف مایاوتی نے نیتاؤں کی اس ناراضگی کا نوٹس لیتے ہوئے دعوی کیا ۔ پارٹی کسی دھنا سیٹ یا افسر شاہ کو راجیہ سبھا بھیجنے کی پہل نہیں کرے گی بلکہ مسلم سماج یا پسماندہ طبقے کے کسی شخص کو راجیہ سبھا میں بھیجے گی۔ اس طرح منقاد علی کا فیصلہ ہوا۔ ہار سے پہلے کیا کوئی تصور کرسکتا تھا کہ بہن جی کی بات کی کھلی بغاوت ممکن ہے۔ مایاوتی نے مرکز کی سیاست کا فیصلہ اس لئے بھی کیا کہ انہیں لگتا ہے لوک سبھا کے وسط مدتی چناؤ ہونے والے ہیں۔ مایاوتی 2003ء میں اپنی سرکار کے زوال کے بعد راجیہ سبھا کی ممبر بنی تھیں کیونکہ ریاست میں اب سپا کی سرکار کی تشکیل 15 مارچ یعنی آج ہوجائے گی اور مایاوتی نے صاف کردیا ہے کہ ان کی پارٹی بلدیاتی چناؤ میں حصہ نہیں لے گی۔ ایسے میں بسپا کے لئے ریاست میں سیاسی سرگرمیوں کی اب زیادہ گنجائش نہیں بچی ہے۔ سپا کے راجیہ سبھا ممبران کی رداد ابھی 5 ہے اور بڑھ کر 10 ہوجائے گی۔ بسپا آنے والی اپریل میں ودھان پریشد کے چناؤ میں بھی اپنے ممبر اتارے گی۔ ودھان پریشد کی 100 سیٹوں کی کل تعداد میں بسپا کے 65 ممبر ہیں۔ دیکھیں دہلی میں مایاوتی کیا گل کھلاتی ہیں۔
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Daily Pratap, Mayawati, Samajwadi Party, Vir Arjun

11 مارچ 2012

یوپی کے مسلم ووٹروں نے بڑی سمجھداری و ہوشیاری سے ووٹ دیا



Published On 11 March 2012
انل نریندر
اترپردیش کے مسلمانوں نے یوپی اسمبلی چناؤ میں کچھ حد تک ٹیکنیکل ووٹنگ کی یہ کہیں تو یہ کہنا شایدغلط نہ ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کے پہلی بار انہوں نے مسلم بڑی سمجھداری سے اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر ووٹنگ کی ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ کونسی پارٹی سے کونسا مسلم امیدوار جیت سکتا ہے اسے ہی ووٹ دو نتیجوں نے مسلم مٹھادھیشوں کو دھول چٹانے میں بھی کوئی کثر نہیں چھوڑی۔ قومی علماء کونسل سے لیکر شاہی امام سید احمد بخاری کے سفارش کردہ امیدواروں کو نہ منظور کردیا۔ علماء کونسل تو ریاست میں اپنا کھاتہ تک نہیں کھول پائی۔ اپنے گڑھ اعظم گڑھ کی نظام آباد سیٹ پر کھڑے کونسل کے جنرل سکریٹری طاہر مدنی چوتھے مقام پر رہے۔ بہٹ سیٹ سے امام بخاری کے داماد اور سپا امیدوار علی خاں چناؤ ہار گئے ہیں وہیں لکھیم پور کھیری سے سپا امیدوار عمران ہار گئے۔ پیشے سے بلڈر عمران کو ٹیلے والی مسجد کے امام مولانا شاہ فضل الرحمن وحیدی ندوی نے ٹکٹ دلوایا تھا۔ مسلم ووٹروں کا یہ فیصلہ پارٹی نہیں بلکہ امیدواروں کے خلاف تھا۔ سماجوادی پارٹی زیادہ تر مسلم اکثریتی سیٹوں پر کامیاب رہی ہے۔ اس کا نمونہ ہے اعظم گڑھ کی 10 سیٹوں میں سے 9 پر سپا امیدوار کامیاب رہے۔ غور طلب ہے کہ یوپی کی چناوی بساط میں قریب150 سیٹیں ایسی تھیں جہاں مسلم ووٹ فیصلہ کن کردار میں تھے اس کے لئے سیاسی پارٹیوں ک ے درمیان رسہ کشی بھی خوب چلی۔ چناوی فائدے کے لئے مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کی دوڑ سے لیکر ادبی میلے میں سلمان رشدی کی آمد تک کے اشو اٹھائے گا۔ اترپردیش کی403 ممبروں والی اسمبلی میں اس مرتبہ63 مسلمان چن کر آئے ہیں 2007 میں یہ تعداد52 تھی۔ سپا کے کل 224 امیدوار جیتے ہیں جن میں مسلم امیدواروں کی تعداد40 ہے۔ بہوجن سماج پارٹی نے 83 تو سپا نے81 مسلم امیدوار میدان میں اتارے تھے۔ دونوں پارٹیوں نے سبھی403 سیٹوں پر امیدوار کھڑے کئے تھے ۔ کانگریس اپنے359 امیدواروں میں 58 مسلمانوں کو ٹکٹ دئے تھے۔ مسلم اکثریتی علاقے میں بھاری پولنگ ہوئی ان میں مسلم خواتین نے اچھا حوصلہ دکھایا۔ سہارنپور ،اعظم گڑھ کے مسلم اکثریتی علاقے میں 70 فیصدی سے زیادہ پولنگ ہوئی۔ بسپا کے 14 مسلم امیدوار جیت کر آئے۔ پچھلی بار 29 امیدوار جیتے تھے۔ پچھلے چناؤ میں سپا کے مسلم ممبران کی تعداد 17 تھی۔ پیس پارٹی کے4 امیدوار جیتیہیت جن میں 3 مسلمان ہیں۔ پارٹی کے صدر ڈاکٹر ایوب خلیل آباد سیٹ سے چناؤ جیتے ہیں۔قومی ایکتا دل کی طرف سے مافیہ سے سیاستداں بنے مختار انصاری مؤ سیٹ سے جیتے ہیں۔ سپا کے سینئر لیڈر اعظم خاں رامپور سے اور وقار احمد شاہ بہرائج سے جیتے ہیں۔ کانگریس کے قاضی علی خاں رامپور کی سیٹ سے جیتے ہیں کل ملاکر دیکھا جائے تو نوجوان طبقے کے مسلم ووٹروں نے بڑی سوچ سمجھ کر اور حساب سے پولنگ کی ہے جس نے یوپی کی سیاست کا نقشہ ہی بدل دیا ہے۔
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Congress, Daily Pratap, Muslim, Muslim Reservation, Samajwadi Party, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

08 مارچ 2012

مایا کے خلاف نگیٹو ووٹ اور اکھلیش یادو کی آندھی



Published On 8 March 2012
انل نریندر
پانچ ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے نتائج آچکے ہیں ان میں نئی تاریخ رقم کی گئی ہے۔ اسباب کے لمبے چوڑے تجزیئے ہونے لگے ہیں۔ موٹے طور پر جو اہم وجہ مجھے لگی وہ کچھ اس طرح ہے۔ پہلے ہم بات کرتے ہیں اترپردیش کی۔یہاں چناؤ سب سے زیادہ اہمیت کے حامل تھے۔ سائیکل نے ہاتھی کو پست کردیا۔ سماجوادی پارٹی کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ تھی مایاوتی حکومت کے خلاف ناراض ووٹ ۔ یوپی کی عوام نے طے کردیا تھا کہ مایاوتی کی بسپا سرکار کو ہرانا ہے اور سامنے متبادل کی شکل میں اس کوسپا کے نوجوان لیڈر اکھلیش یادو نظر آئے۔ اکھلیش یادو ریاست کے عوام کی نبض کو سمجھنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے جی توڑ محنت کی اور زمین پر چلنے والے اکھلیش نے ایک نئی امید کی کرن پیدا کی۔ محنت تو راہل گاندھی نے بھی کم نہیں کی تھی ۔ انہوں نے بھی دو مہینے سے یوپی بھر میں خاک چھانی۔ 20 سے زیادہ ریلیاں کیں لیکن جنتا ایسا نیتا چاہتی تھی جس کے پاس وہ چاہ کر اپنی نالی، بجلی، پانی کے مسئلے کو سامنے رکھ سکے۔ وہ ہر بات راہل سے آکر دہلی میں نہیں کہہ سکتے تھے۔ راہل کی کڑی محنت پر یوپی کانگریس یونٹ نے پانی پھیردیا۔ چناوی ماحول تو راہل نے بنا دیا لیکن فصل کاٹنے کے لئے تنظیم تیار نہیں تھی۔ کوئی بوتھ کمیٹی نہ تھی اور نہ ہی ضلع کمیٹی ۔ جن مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے کانگریس نے ہر ہتھکنڈہ اپنا یا انہوں نے ملائم کی جھولی میں جانا بہتر سمجھا۔ مسلم ووٹ سپا ۔ کانگریس اور بسپا میں بنٹا یکمشت کسی کو نہیں گیا لیکن اکثریت سپا کے ساتھ گئی۔ مایاوتی اپنی ہار کے لئے خود ذمہ دار ہیں۔ ان کا تاناشاہی طریقہ عوام کو نہیں بھایا۔ مہارانیوں کی طرح ان کے برتاؤں سے خود ان کے پارٹی والے دکھی تھے۔ مجھے نہیں لگتا کہ دلت ووٹ بھی پوری طرح سے بسپا کو ملا۔ آخر وہ ووٹ دیتے بھی کیوں؟ جن دلتوں کی بہبود کے لئے مایاوتی اقتدار میں آئیں اسی دلت کو کالج میں ایک کلرک کی نوکری لینے کے لئے چار لاکھ روپے رشوت دینی پڑتی تھی۔ لوگ بھوکے مر رہے تھے اور بہن جی ہاتھی بنوانے میں لگی ہوئی تھیں۔ پچھلے پانچ سالوں میں نہ تو کسی کالج میں چناؤ ہوا اور نہ ہی بلدیاتی اداروں کے چناؤ ہوئے۔ سارا چناوی عمل ٹھپ ہوکر رہ گیا۔ نوجوانوں میں بہن جی کے تئیں ناراضگی تھی۔ کسانوں کی زمین بلڈروں کو اونے پونے بھاؤ میں لٹا دی اور پیسہ بنانے کی فیکٹری بن گئی۔ بہوجن سماج پارٹی کے خلاف لوگوں کا متبادل کیا تھااسی لئے انہوں نے دوسری لیڈر شپ کی لائن کے لیڈر کو کڑا کرنے کی کوشش کی اور کوئی نوجوان چہرہ تھا ان کے پاس پیش کرنے کو۔ متبادل کے طور پر ریاست کی عوام کو اکھلیش یادو کی شکل میں نظر آیا۔ نیتا جی (ملائم) شاید اپنے بلبوتے پر یہ چناؤ نہ جیت پاتے۔ آج بھی ان کے غنڈے راج کو کوئی نہیں بھولا۔ 2007ء میں ان کا اسی طرح صفایا ہوا تھا کیونکہ ہر تھانے میں ہر گاؤں میں تحصیل میں ملائم کھڑا ملا۔ دراصل سپا کے ورکر اقتدار میں آنے سے سبھی ملائم بن جاتے ہیں اور وہاں غنڈہ راج آ جاتا ہے۔ اسی سے ناراض عوام نے مایاوتی کو موقعہ دیا تھا۔ اکھلیش یادو کے لئے یہ سب سے بڑی چنوتی ہوگی اپنے ورکروں پرلگام رکھنا۔ پارٹی کے برسر اقتدار آتے ہی دو مقامات پر تو گولی چل چکی ہے، مارپیٹ ہوچکی ہے۔ یوپی کی عوام نے یہ ثابت کردیا ہے کہ سیاستدانوں سے زیادہ وہ پالیسیوں کو ترجیح دیتی ہیں۔ بھاجپا کو یہ ہی حکمت عملی مار گئی۔ اس بار یوپی کا سارا چناؤ خود آر ایس ایس نے لڑا۔ سنجے جوشی، نتن گڈکری نے امیدواروں سے لیکر ریلیوں تک سب کچھ سنگھ کے اشاروں پر کام کیا۔ سنگھ نے کہا کے اڈوانی سمیت کسی بڑے نیتا ہو دہلی گجرات سے نہیں بلانا اور نہ بلایا گیا۔ اوما بھارتی کو زبردستی لا کر یوپی کے نیتاؤں میں گھمسان کردیا۔ بھاجپا اس چناؤ میں ایک بٹی ہوئی پارٹی کی طرح اتری اور اس کا نتیجہ سامنے ہے۔ اس چناؤ میں بھاجپا کی اتنی ہار نہیں ہوئی ہے جتنی سنگھ کی ہوئی ہے۔ بھاجپا تو پہلے سے بھی زیادہ گر گئی ہے۔
اسی حکمت عملی اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے اتراکھنڈ میں بھاجپا کو ہار کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ اتراکھنڈ کی بدقسمتی دیکھئے وہاں رمیش پوکھریال نشنک چناؤ جیت گئے جنہیں کرپٹ ہونے کے الزام میں وزیر اعلی کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا اور بھون چندر کھنڈوری جو وزیر اعلی تھے چناؤ ہار گئے جن کی ایماندار ساکھ پر بھاجپا نے داغ لگادیا تھا۔ اس سے تو شاید بہترہوتا نشنک کو ہی وزیر اعلی بنائے رکھتے اور چناؤ سے تین مہینے پہلے انہیں ہٹا کر پارٹی کو نقصان پہنچ گیا۔ چناؤ میں شخصیت کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ پنجاب میں پرکاش سنگھ بادل اور کیپٹن امریندر سنگھ آمنے سامنے تھے جہاں بادل انتہائی ملنسار ، عوام کے دکھ درد میں ساتھ دینے والے ہیں وہیں کیپٹن کا مہاراجہ اسٹائل نہیں بدلا۔ انہوں نے وہی شاہی انداز میں چناؤ لڑا جب جنتا کو بادل اور امریندر میں سے ایک کو چننے کا موقعہ ملا تو انہوں نے بادل کو ترجیح دی۔ پنجاب میں اکالیوں کے خلاف ماحول تھا لیکن کانگریس اس کا فائدہ نہیں اٹھا پائی۔ 44 سال میں یہ پہلا موقعہ ہے کے حکمراں پارٹی محاذ پھر سے چناؤ جیتا ہے۔ اترپردیش اسمبلی کے چناؤ نتیجے خاص کر اکثریت کا دعوی کرنے والی کانگریس کے لئے بیحد مایوس کن اور پریشانی کا باعث ہیں۔ پارٹی کو کہا ں تو دگوجے سنگھ جیسے بڑبولے نیتا 125 سیٹوں کا دعوی کرتے نہیں تھکتے تھے۔ کانگریس کو صرف وہاں28 ہی سیٹیں مل سکی ہیں۔ اگر لوک سبھا چناؤ میں22 سیٹیں جیتنے والی اس پارٹی کا تجزیہ تھا تو اس کی بنیاد پر اسے 100 سیٹیں ملنی چاہئے تھیں۔ اتحادی راشٹریہ لوکدل جس نے مغربی اترپردیش میں آندھی آنے کا دعوی کیا تھا کل 9 سیٹیں ہی جیت سکی جو پچھلی جیت سے کم ہیں۔ چناؤ میں کانگریس کی خراب کارکردگی کی حد تو تب ہوگئی جب ان کے گڑھ کہے جانے والے سونیا گاندھی کے پارلیمانی حلقے رائے بریلی میں کانگریس سبھی پانچوں سیٹیں ہار گئی جبکہ اس چناؤ میں اپنی پوری طاقت جھونکنے والے جنرل سکریٹری راہل گاندھی کے پارلیمانی حلقے والے ضلع امیٹھی میں کانگریس پانچ میں سے تین سیٹیں گنوا بیٹھی۔ امیتا سنگھ جیسی قد آور لیڈر امیٹھی میں ہار گئی۔ تمام ڈرامے کرنے کے باوجود سلمان خورشید اپنی بیوی لوئس خورشید کی ضمانت نہیں بچا سکے۔ چناؤ میں اپنے بڑ بولے پن کے لئے سرخیوں میں بنے رہے مرکزی وزیر فولاد بینی پرساد ورما کے بیٹے راکیش ورما دریا باد چناؤ دوڑ میں تیسرے نمبر پر رہے۔ ویسے اگر سرکردہ لیڈروں کی ہار کی بات کریں تو بھاجپا کا حشر بھی کانگریس جیتا ہی رہا۔ سوائے اوما بھارتی کے چناؤ میدان میں اترے سبھی دھرندر چناؤ ہار گئے۔ بھاجپا پردیش پردھان سوریہ پرتاپ شاہی سابق اسپیکر راجہ پتی رام ترپاٹھی اور قومی نائب صدر کلراج مشر ودھان منڈل کے لیڈر اوم پرکاش سنگھ اور سابق پردیش پردھان کیسری ناتھ ترپاٹھی کو بھی ہار کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ اترپردیش کے چناؤ میں عوام کا ان پارٹیوں کو مسترد کرنا ان کے لئے ایک سبق مانا جائے گا۔
Akhilesh Yadav, Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Congress, Daily Pratap, Elections, Mayawati, Mulayam Singh Yadav, Rahul Gandhi, Samajwadi Party, Uttar Pradesh, Vir Arjun

06 مارچ 2012

کشواہا کی گرفتاری کیا کانگریس کی حکمت عملی کا حصہ ہے؟



Published On 6 March 2012
انل نریندر
اترپردیش چناؤ کے آخری مرحلے کی پولنگ کے آخری بٹن دبنے کے ساتھ ہی سی بی آئی نے این آر ایچ ایم گھوٹاے میں ملزم سابق وزیر بابو سنگھ کشواہا کوگرفتار کرنے کے وقت کو لیکر ضرور حیرانی ہوئی ہے۔ سی بی آئی اور کانگریس کی یہ حکمت عملی کسیبھی شخص کی سجھ سے پرے ہے۔ یہ گرفتاری محض جانچ کی کارروائی کا حصہ ہے۔ کشواہا کے ساتھ ہی بسپا کے ودھان پریشد کے ممبر رام پرساد جیسوال بھی اسی گھوٹالے میں گرفتار کرلئے گئے ہیں۔ دونوں کو پوچھ تاچھ کے لئے سی بی آئی دہلی ہیڈ کوارٹر میں بلایا اور قریب چار گھنٹے تک گہری پوچھ تاچھ کے بعد جب افسران نے انہیں گرفتار ہونے کی خبر دی تو کشواہا کے چہرے پر مایوسی دوڑ گئی۔ کشواہا کی گرفتاری سے لگتا ہے کانگریس کے اقتدار سنگرام کا نیا حصہ ہے۔ سیدھے سیدھے کہیں تو مایاوتی کے لئے یہ ایک بڑا اشارہ ہے۔ انہیں خوش کرنے کی کوشش بھی اور نتیجے کے نمبر گڑبڑانے کا ہتھیار بھی۔گرفتاری کو اسی انداز میں دیکھا جانا چاہئے اور اسی طرح ہی پوری چناؤ مہم میں کانگریس نے جس طرح پھوکے پھوکے پاؤں چلے اس کے نیتا ریزرویشن کا جھنجھنا دکھا کر مسلمانوں کو آزماتے رہے۔ چناؤ کمیشن تک کو نظر انداز کرتے رہے، تہائی اکثریت کے دعوؤں کے درمیان صدر راج کا خوف دکھاتے رہے۔ کشواہا کی گرفتاری اسی کڑی کا حصہ ہے اور ویسا ہی یہ داؤ ہے۔ بسپا کے لئے ساتھ آنے کی درپردہ دعوت بھی لیکن اس وارننگ کے ساتھ ان کا مہرہ انہی کے خلاف چل سکتا ہے۔ دیش کی سیاست کی سب سے بڑی اہم ریاست اترپردیش کا تاج ہتھیانے کیلئے کانگریس کی کوئی بھی نیت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ ہر طرح کا متبادل کھلا رکھنا چاہتی ہے۔ دو کشتیوں میں سوار ہوکر چلنے سے بھی اسے کوئی پرہیز نہیں۔ سپا کو انگوٹھا دکھا کر کانگریس کا دامن تھامنے والے دل بدلو سماج وادیوں کا طاقتور طبقہ کسی بھی قیمت پر ملائم سنگھ یادو کے ساتھ دوستی نہیں ہونے دینا چاہتا۔ انہیں مایاوتی کو ساتھ لینے میں کوئی پریشانی نہیں نظر آتی۔ کانگریس کی جانب سے وزیر اعظم کے خودساختہ دعویدار بینی پرساد ورما اس کی اپنی طرف سے پیشکش کرچکے ہیں۔ اپنے پرانے ساتھی ملائم کو آڑے ہاتھوں لینے کا وہ کوئی موقعہ نہیں چھوڑتے لیکن حال ہی میں چونکایا مایاوتی کی تعریف کرکے۔ ساتھ ہی آف دی ریکارڈ یہ بھی کہا چناؤ کے بعد سونیا مایاوتی کو بھی چائے پر بلا سکتی ہیں۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی کو پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ میں سب سے زیادہ بے صبری یوپی کے نتیجوں سے ہے۔ جہاں پنجاب، اتراکھنڈ ، منی پور اور گووا کو لیکر کانگریس ہیڈ کوارٹر آرہی اطلاعات میں بہت زیادہ فرق نہیں دکھائی دے رہا ہے وہیں اترپردیش کے نتیجوں کو لیکر کانگریس کے اندر بھاری اختلافات ہیں۔ سونیا کے سپہ سالار جو انہیں بتا رہے ہیں اور راہل گاندھی کے سپاہی جو دعوی کررہے ہیں دونوں کے نمبروں میں خاصا فرق ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا کہ راہل گاندھی نے یوپی چناؤ میں بہت محنت کی ہے۔ 200 سے زیادہ ریلیاں روڈ شو کرنا آسان نہیں تھا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ راہل خیمے کا ماننا ہے کانگریس کی سیٹیں بڑھیں گی اور یہ بڑھت 50 سے70 تک ہوسکتی ہے۔ پارٹی کے زیادہ تر لیڈروں اور مرکزی وزراء کی بھی یہ ہی رائے ہے۔ کچھ مایوس کانگریسی اور ایم پی تو پارٹی کو محض 30سے35 سیٹیں ہی دے رہے ہیں۔ راہل خیمے میں ایسے بھی نیتا ہیں جو کہہ رہے ہیں کانگریس اپنی سیٹیں کم سے کم 125 تک پہنچا سکتی ہے۔ دگوجے سنگھ تو کانگریس کی کم سے کم 125 سیٹیں آنے کی شرط لگانے کو بھی تیار ہیں۔وہ کہہ سکتے ہیں کہ اس بارانتخابار میں 15 سے20 فیصدی مزید پولنگ ہوئی ہے۔ اس کا کم سے کم 80 فیصدی سے زیادہ کانگریس کو ملا ہے اور یہ ووٹر راہل گاندھی کی جارحانہ چناؤ مہم اور لوگوں کے درمیان ان کے بھروسے اور ترقی کے ایجنڈے پر ہوئی ہے۔ دگوجے سنگھ بھی یہ کہتے ہیں کہ اس بار یوپی کا ووٹر خاموش رہا ہے کیونکہ اس کے ارد گرد سپا۔ بسپا کے حمایتیوں کا دبدبہ ہے اس لئے اس نے چناؤ میں چپ چاپ پولنگ کی ہے جو نتیجوں کی شکل میں سامنے آئے گا۔ خیر نتیجوں کے لئے زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ جلد دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔ آخر میں ہم چناؤ کمیشن اور ووٹروں کو مبارکباد دینا چاہتے ہیں کہ پانچ ریاستوں اور ڈھائی مہینے طویل چناوی عمل کے دوران بغیر بوتھ پر قبضے اور تشدد یا کسی گڑ بڑی سے پاک چناؤ پر امن طریقے سے مکمل ہوگیا۔ سب سے بڑی بات یہ رہی کہ بغیر کسی اشتعال یا کشیدہ ماحول کے سبھی ریاستوں میں ووٹروں نے ریکارڈ پولنگ کی۔ لوگوں نے پولنگ بوتھوں پر جاکر جمہوریت کے اس مہا پروو کے تئیں نہ صرف اپنی عقیدت جتائی بلکہ چناؤ کو بہت دلچسپ بھی بنا دیا۔
Anil Narendra, Babu Singh Kushwaha, Bahujan Samaj Party, BJP, CBI, Daily Pratap, NRHM, Vir Arjun

16 فروری 2012

اترپردیش میں چل رہا ہے ایک سائلینٹ کرنٹ


Published On 16th February 2012
انل نریندر
ایسا کون سا اشوہے جسے یوپی کے لیڈر سمجھ نہیں پارہے ہیں اور جنتا سمجھ رہی ہے؟ منڈل کمنڈل کے بھڑکاؤ اور اشتعال آمیز ماحول میں بھی جب اترپردیش میں 57 فیصدی سے زیادہ پولنگ نہیں ہوئی لیکن اس مرتبہ پتہ نہیں کون سا کرنٹ انڈر کرنٹ چل رہا ہے کہ اتنی بھاری پولنگ ہورہی ہے۔ سطح پر بالکل امن ہے نہ کسی کااحتجاج اورنہ ہی کسی کے حق میں ہوا صاف چل رہی ہے۔ مگرپھر بھی پولنگ 60 فیصدی کے قریب رہی ۔ اترپردیش میں آزادی کے بعد پہلی مرتبہ یہ کرشمہ دکھائی دے رہا ہے۔ اس سے بھی زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ پہلے دومرحلے کی پولنگ میں اچھی آبادی کا ڈسٹنگ شن سے پاس ہونا؟پہلے مرحلے میں بارش کے باوجود مردوں سے زیادہ پولنگ فیصد عورتوں کا تھا۔زیادہ پولنگ کو اترپردیش میں حکمراں مخالف لہر کی شکل میں دیکھاجاتا ہے۔اس بے حد آسان سے کے خیال کے لئے پچھلی دہائیوں میں نتیجہ ہی ذمہ دار ہے 1985کے بعد کسی بھی حکمراں پارٹی مسلسل دوسری بار سرکار بنانے میں ناکام رہی۔ایسے میں بڑی پولنگ کو سپا بھاجپا وکانگریس ظاہری طورپرحکمراں بسپا مخالف لہر کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ کانگریس کو توراہل کا کرشمہ دکھائی دے رہاہے۔ سپا کو بسپا سرکار کا کرپشن تو بھاجپا کومرکزی حکومت کے خلاف یوپی کے لوگوں کاغصہ مگر ایسا کیا ہے کہ آزادی کے بعد پہلی مرتبہ ووٹر بھاری تعداد سڑکوں میں اترے۔ آزادی سے اب تک ہوئے کل 15انتخابات میں کبھی اس طرح سڑکوں پر پولنگ کے نہیں نکلی۔ ایمرجنسی کے بعد 1977میں ہو یا پھر 1991میں رام جنم بھومی تحریک کی لہر نے بھی پولنگ فیصد 55فیصدی کے پاس ر ہی۔ بھاجپا کو روکنے کے لئے 1993 میں سماجی انصاف دلت سیاست کو کانشی رام اورملائم نے کٹھ جوڑ کر سماجی تبدیلی کابگل پھونکا۔ لیکن پولنگ 60 فیصدی کے جادوئی نمبر تک نہیں پہنچ سکی۔ 6 مارچ کو نتیجہ آنے سے پہلے تک سیاسی پنڈت اور پارٹی اپنی دلیل اورحساب کتاب پیش کرے گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہوا کے مزاج کوکوئی نہیں بھانپ رہا ہے۔ اگرپولنگ میں عورتوں اور نوجوانوں کی بڑھتی ساجھے داری سے ہماری جمہوریت کے مضبوط ہونے کے صاف اشارے ہیں کہ کرپشن کے خلاف انا ہزارے کی تحریک کااثر صاف دکھائی پڑرہا ہے تب ہی تو کچھ ووٹروں نے رائٹ ٹو ریجکیٹ( مسترد کرنے کا حق) کامتبادل بھی استعمال کیاہے لیکن اترپردیش کے مشرقی علاقے میں دومرحلوں میں ہوئی پولنگ سے جو ہوا چلی ہے وہ مغربی حصے تک آتے آتے بدل بھی سکتی ہے اس علاقے میں فیصلے کی چابی مسلمانوں اور جاٹوں کے ہاتھوں میں ہے ۔عام طورپر مغربی یوپی میں جاٹوں کا دبدبہ مانا جاتاہے جاٹوں کی لیڈر کی شکل میں چودھری اجیت سنگھ قریب دودہائیوں سے اپنادبدبہ بنائے ہوئے ہیں کانگریس کے ساتھ سمجھوتہ کرنے والے اجیت سنگھ کو کل 54 سیٹیں ملی تھی۔ اگرزمینی سطح پر یہ سمجھوتہ صحیح معنوں نافذ ہوتا تو دونوں کانگریس اور راشٹریہ لوک دل کو فائدہ ہوگا۔ مغربی یوپی میں مسلمانوں ووٹوں کی خاص اہمیت ہے حالانکہ حکمراں ہونے کے ناطے مغربی اترپردیش میں بی ایس پی کے تئیں ناراضگی پائی جاتی ہے لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ اس علاقے کی زیادہ ترسیٹوں پر خاص مقابلہ بی ایس پی سے ہی ہے دراصل بی ایس پی کے 20 فیصدی دلت ووٹ اس کا بڑا ہتھیار ہے مقامی سطح پر دلتوں کے علاوہ سبھی ذاتیں اپنے درمیان کا امیدوار ڈھونڈرہی ہے۔ صرف دلت ہی بہن جی کے اشارے میں ووٹ دیتے ہیں ۔علاقے میں بسپا کے علاوہ مسلمان سپا اور کانگریس کو ووٹ دے سکتے ہیں۔ ایسا ہوا تو بسپا ہی فائدے میں رہے گی۔ اگرمسلمان ووٹ متحد ہوا بسپا ہی سب سے زیادہ خسارے میں رہے گی۔ پورے مغربی اترپردیش میں ہر سیٹ پر ذات پات تغذیہ الگ الگ ہے کچھ علاقوں میں بھاجپا بھی مضبوط پوزیشن میں ہے۔ خاص طورپر شہری علاقوں میں اس کااثر صاف دکھائی پڑرہاہے اس مرتبہ کاچناؤ بہت کچھ امیدواروں پر منحصر کرے گا۔ کل ملا کر دیکھنا یہ ہے کہ جو ہوا پہلے دور کی پولنگ میں چلی وہ تیسرے دور میں بھی برقرار رہتی ہے.
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, BJP, Congress, Daily Pratap, Mayawati, Mulayam Singh Yadav, Samajwadi Party, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

11 فروری 2012

پہلے مرحلے کی پولنگ سے کانگریس اور سپا میں زیادہ جوش

اترپردیش میں اسمبلی چناؤ کا پہلا دور پورا ہوگیا ہے۔بارش کے باوجود بدھوار کے روز ووٹوں کی بھی برسات ہوئی۔ اسمبلی چناؤ کے پہلے مرحلے میں پولنگ کے دوران بارش اور سرد ہوائیں بھی ووٹروں کا جوش ٹھنڈا نہیں کرسکیں۔ اسے ووٹروں کی بیداری کہیں یا انا ہزارے و چناؤ کمیشن کی مہم کا نتیجہ۔ آزادی کے بعد ریاست میں پہلی بار 62 فیصدی پولنگ ہوئی ہے۔ خاص بات یہ بھی رہی کہ پولنگ پوری طرح پرامن رہی نہیں تو یوپی چناوی تشدد کے لئے مشہور ہے لیکن پہلے فیس میں کہیں سے بھی تشدد تو دور چھوٹے موٹے جھگڑوں کی بھی شکایت نہیں ملی۔ بھاری پولنگ کو سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے ڈھنگ سے لے رہی ہیں اور اپنے انداز سے مطلب نکال رہی ہیں۔ پہلی بات تو یہ مانی جارہی ہے کہ ساری پولنگ کبھی بھی حکمراں پارٹی کو نہیں بھاتی مانا یہ ہی جاتا ہے کہ ووٹر اقتدار کے تئیں ناراضگی جتانے کیلئے ہمیشہ جذبہ دکھاتا ہے۔اس بار کے چناؤ میں سب سے بڑی پہیلی یہ ہے کہ اترپردیش کے قریب 46 فیصدی نوجوان ووٹر (18 سے39 برس) سے تقریباً55 لاکھ ووٹر 18 برس کے ہیں ۔ ایک کروڑ سے اوپر ایسے ووٹر ہیں جو پہلی بار اپنا ووٹ ڈالیں گے۔ اہم اشو یہ بھی ہے کہ نوجوان طبقے کا یہ ووٹ کیا کرشمہ دکھائے گا؟ اس طبقے کو سیاست میں کم دلچسپ ہی بلکہ اپنے کیریئر اور مستقبل ، نوکری وغیرہ زیادہ اہم ہیں۔ نوجوان طبقہ چاہے شہری علاقے کا ہو یا دیہی علاقے کا وہ اپنے مستقبل کو لیکر کہیں زیادہ بے چین رہتا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ وہ سیاست میں جھاڑو لگاکر کچھ صفائی کا کام کرسکتا ہے۔ کرپشن یا سیاست کے جرائمی ٹرینڈ کو قبول کرنے کے بجائے اس کو ختم کرنے میں دلچسپی دکھاتا ہے۔ اسی طبقے میں ریاست کی خوشحالی اور سرکار کے استحکام اور روز گار کے نئے مواقع جیسے اشو کو ترجیح دے کر تبدیلی لانے کی اہلیت ہے۔ اس لئے شاید ہر بڑی سیاسی پارٹی نے چاہے روزگار ہو یا مفت لیپ ٹاپ جیسے لالچ نوجوانوں کے سامنے رکھے ہیں۔ اس نئے طبقے کے ووٹروں کی وجہ سے اگر راہل گاندھی کانگریس کو تقویت دے رہے ہیں تو اکھلیش یادو سپا کے ترپ کے پتے بن گئے ہیں۔ بسپا اور بھاجپا میں اس طبقے کے طاقتور لیڈروں کی کمی صاف دکھائی دے رہی ہے۔ اترپردیش میں چناؤ کا آخری سیاسی نتیجہ جو بھی ہو پہلے مرحلے کی پولنگ نے یہ اشارہ دے دیا ہے کہ عام طور پر مایوس رہنے والے ووٹروں کا زمانہ گیا۔ ان امیدواروں کے لئے بھی امید کی کرن مدھم ہوگئی ہے جو محض 20-20 فیصدی ووٹ لیکر کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ امید یہ جتائی جارہی ہے کہ باقی کے چھ مرحلوں میں60فیصدی کو بھی پار کرسکتا ہے۔ بہرحال ریاست کی 55 سیٹوں پر پر امن پولنگ کے باوجود چیلنج کم نہیں ہوئے ہیں۔ اترپردیش میں اب تک جن 15 لاکھ سے زیادہ مشتبہ افراد کو پکڑا گیا ہے ان میں سے دو لاکھ سے زیادہ ان سیٹوں والے حلقوں کے ہیں۔ پوری ریاست میں اب تک 33 کروڑ نقدی کے ساتھ ساتھ 4345 غیر قانونی ہتھیار،6636 کارتوس اور 243415 لیٹر غیر قانونی شراب ضبط کی گئی ہے۔
بدھ کے روز ہوئے پہلے مرحلے کے چناؤ کے دوران کانگریس۔ سپا اوربسپا جیسی پارٹیوں کی سانسیں اٹکی رہیں۔ دوپہر سے پہلے بیحد دھیمی پولنگ رہی جس سے کانگریس کافی تشویش میں پڑ گئی لیکن شام کو آئی اچانک تیزی نے پارٹی میں نیا جوش بھردیا۔پہلے مرحلے کی پولنگ میں جن سیٹوں پر ووٹ پڑے ان میں کانگریس کو اچھی خاصی امید ہے۔ان 10 ضلعوں میں اسمبلی کی 55 سیٹیں آتی ہیں جن میں سے کانگریس کو 10سے15 سیٹیں ملنے کی امید ہے۔ اس علاقے میں پارٹی کو دیگر پسماندہ طبقے اور مسلمان ووٹروں سے کافی امید ہے وہ کانگریس کے حق میں ووٹ ڈالیں گے۔ پہلے مرحلے کی پولنگ کو کانگریس اس لئے بھی اہم مان رہی ہے کیونکہ اس سے صوبے کا ٹرینڈ پتہ چلے گا۔ اس مرحلے میں کانگریس کی طرف سے ووٹروں کا رجحان بھی دکھائی دیا تو یہ باقی مرحلوں میں بھی اپنا اثر دکھا سکتا ہے۔ اس کے پیچھے کوئی کرم کانڈی ٹوٹکے جیسی وجہ ہی لگتی ہے۔ جن 10 ضلعوں میں 55 سیٹوں کے لئے پولنگ ہوئی ان علاقوں میں 2007 کے اسمبلی چناؤ اور 2009 کے لوک سبھا چناؤ کے نتیجوں کا تجزیہ اس کی ایک وجہ ہے۔ اس علاقے میں مسلم، دلت اور انتہائی پسماندہ طبقات کے ووٹ زیادہ ہیں جن پر کانگریس نے پورے چناؤ کے دوران زور دیا ہے۔ کانگریس پولنگ سے ٹھیک پہلے یہ صاف اشارہ دینے میں لگی ہے کہ پارٹی اس بار اپنے دم پر ہی سرکار بنا لے گی۔ راہل گاندھی نے کئی جلسوں میں اور سونیا گاندھی نے اوناؤ میں اپنی آخری چناؤ ریلی میں کہا کانگریس کسی کے ساتھ تال میل نہیں کرے گی۔ اس سے صاف اشارہ دینا تھا کہ کانگریس سرکار بنانے کے لئے کافی مطمئن ہے۔ اس کے پیچھے ان موقعہ پرست ووٹروں کو بھی پٹانا تھا جو آخر تک دیکھتے رہتے ہیں کہ سرکار کس کی بنے گی۔ اگر کانگریس بہت حوصلہ افزا ہے تو جوش سماج وادی پارٹی میں بھی انتہا پر ہے۔ سپا کا دعوی ہے کہ اگلی سرکار اس کی ہی بنے گی۔ اکثریت میں کمی رہی تو اس کا بھی انتظام ہوجائے گا۔ پارٹی کا دعوی ہے اکھلیش یادو کی چناؤ ریلیوں میں جس قدر بھیڑ اکھٹی ہورہی ہے اس سے مستقبل کے اشارے صاف دکھائی پڑ رہے ہیں۔ پارٹی کے ایک سینئر لیڈر کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ افراد کو پارٹی سے الگ رکھنے کے اکھلیش یادو کے فیصلے سے تمام ان طبقوں میں بھی پارٹی سے قربت بڑھی ہے جو سپا سے ماضی میں دور رہے ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ اس بار بہوجن سماج پارٹی کے تمام قلعے ڈھہ جائیں گے۔کہنا ہوگا کہ یہ چناؤ اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہوگا کے سبھی پارٹیوں نے اپنے روایتی ووٹ بینک کے علاوہ دوسروں پر خاص توجہ دی ہے۔ ان ووٹروں میں برہمن، راجپوت جیسی بڑی قومیں ، یادوں کو چھوڑ کر دوسرے پسماندہ طبقات وغیرہ وغیرہ ، مسلم ووٹ شامل ہیں۔ اور ان سبھی کے درمیان زبردست غور وخوض چل رہا ہے۔ کانگریس اور سپا کی طرف سے دلت قومیں بھی جاٹوں بنام غیر جاٹوں کی بنیاد پر اس منتھن کی کوشش ہوئی ہے۔ راہل گاندھی کا دلت خاندانوں کے بیچ جا کر اٹھنا بیٹھنا اسی نظریئے سے دیکھا جارہا ہے۔ بہرحال ان سبھی کی کوششوں کے آخری نتیجوں کو اپنے حق میں لیکر جو پارٹیاں دعوی کررہی ہیں ان میں کانگریس سب سے آگے ہے۔ اس کی وجہ بھی ہے کہ کانگریس کے پاس اس چناؤ میں پانا ہی پانا ہے کھونا کچھ نہیں ہے۔ کانگریس کے تجزیہ نگار اسی بنیاد پر مان رہے ہیں کہ اس مرحلے میں پڑے ووٹوں کواس کے حق میں مان لیا جائے تو اگلے مرحلے میں بھی ووٹروں کارجحان اثر دکھا سکتا ہے۔
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Congress, Daily Pratap, Samajwadi Party, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

05 فروری 2012

پہلے مرحلے کی پولنگ طے کرے گی یوپی کی سمت



Published On 5th February 2012
انل نریندر
اترپردیش میں 16 اسمبلی چناؤ کیلئے پہلے مرحلے میں 55 سیٹوں کے لئے 8 فروری کو پولنگ ہوگی۔ پہلے مرحلے کے لئے سبھی سیاسی پارٹیوں نے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔ سبھی پارٹیاں اپنے کو ایک دوسرے سے بہتر بتانے میں لگی ہوئی ہیں لیکن اگر پچھلے پانچ انتخابات کے اعدادو شمار کو دیکھا جائے تو سرکار بنانے کے لئے کم سے کم30 فیصدی ووٹوں کا نمبر پار کرنا ضروری ہوگا۔ بہرحال یوپی اسمبلی چناؤ کی جنگ اپنے شباب پر پہنتی جارہی ہے۔ گنگا جمنا، گھاگرا، رابتی اور گومتی کے پانی کے اثر کی طرح سیاست میں بھی مسلسل تبدیلی آرہی ہے۔ سیاست آگے کیا گل کھلائے گی اور کس کا پلڑا بھاری ہوگا یہ تو ووٹر ہی طے کریں گے۔ حکمراں بسپا اپوزیشن پارٹی سپا کے علاوہ کانگریس بھاجپا ، پیس پارٹی، راشٹریہ لوک دل سبھی نے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔ حکمراں بسپا جہاں اپنی سرکار کے کام کے دم پر اور ذات پات کے تجزیئے کی بنیاد پر واپسی کا دعوی کررہی ہے وہیں سماج وادی پارٹی کو بھروسہ ہے کہ صوبے میں بڑی اپوزیشن پارٹی ہونے کے ناطے بسپا سرکار کی مبینہ ناکامیوں کے سبب چل رہی تبدیلی اقتدار کی ہوا کا اسے فائدہ ہوگا اور اس کے پیش نظر ووٹروں کی پہلی ترجیح سپا ہوگی۔ کانگریس کو امید ہے کہ 22 سال تک غیر کانگریسی سرکاریں دیکھ چکی جنتا یووراج راہل گاندھی کے کرشمے پر بھروسہ کر کے اس بار اسے ترجیح دینے والی ہے جبکہ بھاجپا کرپشن کے خلاف گاندھی وادی سماجی رضاکار انا ہزارے کی تحریک کو ملی عوامی حمایت کو اپنے حق میں مان کر زیادہ امید افزا ہے۔ جس طرح سے اقلیتوں کو ریزرویشن کے معاملے میں سبھی پارٹیوں کی کرکری ہوئی ہے اس سے بھی بھاجپا کو لگتا ہے کہ ہندو ووٹ خاص کر سورن جاتیوں کا ووٹ ان کے حصے میں آئے گا۔ اترپردیش میں اسمبلی کی کل 403 سیٹیں ہیں۔ پردیش میں سال1991 سے لیکر 2000 تک ہوئے اسمبلی کے پانچ انتخابات پر نظر ڈالیں تو نمبر ایک پارٹی بننے اور اکثریت پانے اور اس کے قریب پہنچنے کے لئے کم سے کم 30 فیصدی ووٹ کا نمبر پار کرنا ضروری ہے۔ اترپردیش کے یہ چناؤ کئی معنوں میں تاریخی ہونے جارہے ہیں۔ دیش کی سب سے بڑی ریاست میں اس بار ریکارڈ تعداد میں چھوٹی موٹی پارٹیاں بڑے دم خم کے ساتھ اتری ہیں۔ بسپا، سپا ، کانگریس اور بھاجپا کو ان سے نقصان ہونے کا امکان ہے۔ وہ انہیں صرف ووٹ کرنے والی یا ووٹ برباد کرنے والی پارٹیاں بتا رہی ہیں۔جیسے پیس پارٹی کے بارے میں بھاجپا کو چھوڑ کر تین باقی پارٹیوں کو یہ ہی لگ رہا ہے جس سے بھاجپا کو فائدہ ہونے والا ہے اس کے بارے میں باقی پارٹیاں کہہ رہی ہیں کے پیس پارٹی کو مدد تو بھاجپا سے ہی ملتی ہے۔ ریاست میں پیس پارٹی کا اس وقت وہی درجہ ہے جو اپنی ابتدائی پوزیشن میں بی ایس پی کا ہوا کرتا تھا۔ اس بار ریاست میں 150 کے قریب پارٹیاں چناؤ لڑنے کی تیاری میں ہیں جو الگ الگ ذات گروپوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔پچھلی بار قریب سوا سو پارٹیاں چناؤ لڑی تھیں جس میں چھ پارٹیاں 12 ریاستی سطح کی پارٹیاں اور 112 غیر تسلیم شدہ پارٹیاں تھیں۔ اترپردیش میں حد بندی کے بعد 113 سیٹوں پر مسلم ووٹ فیصلہ کن ہوسکتے ہیں جنہیں پانے کے لئے سیاسی پارٹیوں نے دن رات ایک کردیا ہے۔ مسلم ووٹ پانے کیلئے بھاجپا کو چھوڑ کر سبھی سیاسی پارٹیاں زور آزمائی میں لگی ہیں لیکن ابھی بھی کوئی پارٹی دعوے سے کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہے کہ اسے مسلم ووٹ ایک طرفہ ملے گا۔ عام طور پر مانا جارہا ہے کہ مسلمان ایک رو میں ووٹ دے سکتے ہیں یعنی بھاجپا کو ہرانے کے لئے اس سیٹ پر جو بھی امید وار جیتتا دکھائی دے گا وہ اسے ووٹ دیں گے۔ اس طرح ہمیں لگتا ہے کہ مسلم ووٹ کانگریس، سپا، بسپا، پیس پارٹی میں بٹے گا۔ ہار جیت کا فرق بہت کم ہوگا جو امیدوار 10 ہزار ووٹ لے گا وہ جیتنے کی پوزیشن میں آسکتا ہے۔ دیکھیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Daily Pratap, Mulayam Singh Yadav, Muslim, Uttar Pradesh, Vir Arjun

29 جنوری 2012

یو پی چناؤ میں69 امیدوار جیل سے ہی ٹھونکیں گے اپنی تال



Published On 29th January 2012
انل نریندر
انا ہزارے یا چناؤ کمیشن بھلے ہی جتنا بھی زور لگا دے، پابندی لگادے اترپردیش میں سیاسی و جرائمی پھیلاؤ کو روک نہیں سکتے۔پیسہ ،طاقت اور دبنگی کے بڑھتے تجربے پر روک لگانے کی تمام کوششوں کے باوجود یہ پروان چڑھتی نظر نہیں آرہی ہے۔ یہ پہلا موقعہ ہے جب اترپردیش کے کسی چناؤ میں تقریباً69 امیدوار جیل سے چناؤ لڑ رہے ہیں۔ وہ بھی تب جبکہ مجرمانہ کردار رکھنے والے لوگوں کو ٹکٹ نہ دینے کا دعوی کرتے ہوئے کوئی پارٹی تھکتی نہیں ہے۔ بات یہیں تک نہیں رکتی۔ مجرمانہ ریکارڈ کے77 امیدواروں کو سیاسی پارٹیوں نے اتارنے میں کوئی پرہیز نہیں کیا۔ سیاست میں مجرموں کی یہ موجودگی صرف چار مرحلے کے امیدواروں کی بنیادپر جائزہ لیاگیا ہے۔پورے امیدواروں کے نام اور ان پر لگے الزامات کے پیش نظر تجزیہ کیا جائے تو یہ اعدادوشمار کافی بڑے دکھائی دیتے ہیں۔یہ حالت تو تب ہے جب تصویر ابھی دھندلی ہے۔ جب تصویر صاف ہوگی تو صحیح حالت کا پتہ چل سکے گا۔ اترپردیش کی اس 16 ویں اسمبلی کے لئے ہورہے چناؤ میں جرائم پیشہ کو چناوی دنگل میں اتانے کے معاملے میں سبھی سیاسی پارٹیاں بے نقاب ہوگئی ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔ شاید ہی کوئی ایسی پارٹی ہو جس نے جیل میں بند کسی نہ کسی کوعزت دار بنانے کی نہ ٹھان رکھیں ہو۔ سماجوادی پارٹی نے امر سنگھ کو فیض آباد سے اتارا ہے، جو ان دنوں جیل میں بند ہیں۔ پیس پارٹی نے بھدوئی سے جتندر سنگھ ببلو کو جیل میں رہتے ہوئے چناؤ لڑنے کی ہری جھنڈے دے دی تھی۔بھدوئی ہی نہیں پیس پارٹی نے سلطانپور سے بھی دو دبنگوں سونو سنگھ اور مونو سنگھ کو ٹکٹ دئے ہیں جو حال ہی میں جیل سے چھوٹے ہیں۔ اپنا دل نے جیل میں بند عتیق احمد اور بین الاقوامی مافیہ منا بجرنگی کو عزت دار شخص بنانے کی ٹھانی ہے۔ منا نے تہاڑ جیل سے پرچہ بھرا ہے۔ مؤ سے آزاد امیدوارمختار انصاری نے آگرہ سینٹرل جیل سے اپنا پرچہ داخل کیا ہے۔ انہیں گذشتہ لوک سبھا چناؤ میں بسپا نے وارانسی سے بھاجپا کے ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کے خلاف اتارا تھا۔ گجرات کے احمد آباد جیل میں بند برجیش سنگھ چندولی ضلع کی سید رضا سیٹ سے پرگتی شیل مانو سماج پارٹی کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں۔ کیبنٹ وزیر نند گوپال نندی پر قاتلانہ حملے کے ملزم فتح پور جیل میں بند وجے مشر سپا کے ٹکٹ سے مرزا پور کی گیان پور سیٹ سے میدان میں ہیں۔ کانگریس نے اکیلے غازی پور کی جمنیا سیٹ سے جیل میں بند کلاوتی بند کو امیدوار بنایا ہے۔ اسی ضلع سے کانگریس نے نیشنل سکیورٹی ایکٹ اورغنڈہ ایکٹ کے تحت جیل میں بند سلیش سنگھ کو امیدوار بنانے کا اعلان کیا ہے۔ جیل میں بند پھولن دیوی کے قاتل شیر سنگھ رانا نے بھی گوتم بدھ نگر کی جیور سیٹ سے راشٹروادی پرتاپ سینا کے بینر تلے چناؤ لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ داغی امیدواروں کو ٹکٹ دینے کے معاملے میں سبھی پارٹیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ تقریباً سبھی سنگین مجرمانہ ریکارڈ والے 15 فیصدی امیدوار میدان میں اترچکے ہیں۔ بھاجپا نے 14، سپا نے15، کانگریس نے17 فیصدی مجرمانہ ساکھ کے امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے۔ بسپا بھی پیچھے نہیں اس نے بھی 16 فیصدی مجرمانہ ساکھ کے امیدواروں کو اتارا ہے۔ چھوٹی پارٹیوں کی تو بات نہیں کرتے اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, BJP, Congress, Criminals, Daily Pratap, Samajwadi Party, Uttar Pradesh, Vir Arjun

10 جنوری 2012

یوپی میں مورتیوں پر پردہ ڈالنے سے کیا حاصل ہوگا؟



Published On 10th January 2012
انل نریندر
چناؤ کمیشن نے حکم دیا ہے کہ اترپردیش میں آزادانہ ، منصفانہ چناؤکرانے کے غرض لکھنؤ اور ریاست کے کئی حصوں میں لگی وزیراعلی مایاوتی اور بہوجن سماج کا چناؤ نشان ہاتھی کے مجسموں پر چناؤ تک پردہ ڈال دیا جائے۔ چناؤ کمیشن کا یہ فرمان اندرا گاندھی، راجیوگاندھی اور ایسے دیگرسیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کے مجسموں پر بھی لاگو ہوتا ہے جن سے ووٹر متاثر ہوسکتے ہیں۔ چناؤ کمیشن نے کہا کہ چناؤ ضابطہ لاگو ہونے کی وجہ سے اس حکم کو فوراً نافذ کردیا جائے۔ چناؤ کمیشن کے اس فیصلے کے سبب نوئیڈا کے قومی دلت پریرنا استھل اور لکھنؤ میں 9 مقامات پر مایاوتی اور ہاتھی کے بت متاثر ہوں گے۔ بسپا میں اس کا سخت احتجاج ہونا فطری تھا۔ چناؤ کمیشن کے اس متنازعہ فیصلے پر اپنا رد عمل ظاہرکرتے ہوئے بسپا کے سکریٹری جنرل ستیش مشرا نے کہا کہ اگر چناؤ نشان ڈھکنے کی بات ہے تو کیا کمیشن ہر کسی کو اپنے ہاتھ کے پنجے کٹوانے یا ڈھکنے کا حکم دے گا کیونکہ یہ کانگریس کا چناؤ نشان ہے؟ یہ ہی نہیں بھاجپا کا چناؤ نشان کمل کا پھول ہے ،تو کیا کمیشن ہر تالاب سے کمل کے پھول نکلوا لے گا؟ انہوں نے کہا سائیکل سپا کا چناؤ نشان ہے تو کیا چناؤ کمیشن اسے چلانے پر روک لگادے گا۔ مشر کا کہنا ہے کہ مرکز کی حکومت کی قریب 150 اسکیمیں گاندھی ،نہرو پریوار کے نام سے چلتی ہیں تو کیا کمیشن انہیں بھی بند کردے گا؟ یہاں ہم یہ بات قبول کرتے ہیں کہ یہ قدم بھلے ہی سبھی سیاسی پارٹیوں کو یکساں طور پر عمل کرنے کی بنیاد پر اٹھایاگیا ہے لیکن ہم اس کا وقت اور اس کے جواز پر ضرور اختلاف رکھتے ہیں۔ ہم سمجھ سکتے تھے کہ چناؤ کمیشن کو اگر ایسا کوئی فیصلہ لینا ہی تھا تو اسے قریب15 مہینے پہلے جب یہ معاملہ سامنے آیا تھا مایاوتی سرکار پبلک خزانے سے مختلف پارکوں میں ہاتھیوں کی مورتیاں لگوا رہی ہے ، تو کیوں نہیں اسے روکا گیا؟ ایک لمحے کے لئے یہ تو سمجھ میں آتا ہے کہ مایاوتی اور ہاتھیوں کی ان مورتیوں کو ڈھک دیا جائے جو سڑکوں اور چوراہوں پر لگائی گئی ہیں لیکن آخر چار دیواری سے گھرے پارکوں میں بنی مورتیوں پر پردہ ڈالنے سے کیا حاصل ہوگا؟ پارکوں میں آنے والوں کو ان مورتیوں کے وہاں ہونے کا پتہ ہے اور ڈھکی ہوئی مورتیاں الٹے انہیں زیادہ ہی احساس کرائیں گی۔ اگر چناؤ کمیشن اتنا ہی غیر جانبدار ہے تو اس نے پانچ ریاستوں میں اسمبلی چناؤ کے اعلان سے پہلے مرکزی سرکار کے ذریعے اقلیتوں کو ساڑھے چار فیصدی ریزرویشن دینے کے فیصلے پر اعتراض کیوں نہیں کیا؟ اتنا ہی نہیں کمیشن نے چناؤ ضابطہ لاگو ہونے کے بعد دلتوں اور پسماندہ طبقوں کی خالی آسامیوں کو بھرنے کے لئے مرکزی حکومت کے اعلان پر بھی خاموشی اختیار کرنا بہتر سمجھا۔ اترپردیش کے مختلف اضلاع میں سفید سنگ مرمر کے یہ ہاتھی ''دلت وجے'' کی علامت کی شکل میں کھڑے کئے گئے ہیں۔ اب پردے میں ڈھکے یہ ہی ہاتھی اگر دلتوں کی توہین کی شکل میں ان چناؤ میں پروپگنڈہ کئے جائیں تو مقابلتاً اس کا کیا توڑ نکالیں گے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔ بیشک بسپا اس کی مخالفت کرے گی لیکن اتنا تو ہے کہ ریاست کی نوکرشاہ برادری کو سمجھ میں آجائے گا کہ وہ تھوڑی غیر جانبداری برتے اور حکمراں حکومت کے غلام بن کر کام نہ کرے؟ لیکن اس سے کہیں بڑا مسئلہ چناؤ میں استعمال ہونے والا کالا دھن۔ پچھلے دو تین دنوں میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ کروڑوں روپے برآمد ہوچکے ہیں جن کا استعمال چناؤ میں ہونا تھا۔ چیف الیکشن کمشنر وائی ایس قریشی نے مانا کہ اترپردیش ،پنجاب، گوا میں انتخابات کو کالی کمائی سے مستثنیٰ رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ خیال رہے کہ جب انا ہزارے انتخابات میں کالی کمائی کے مسئلے پر روشنی ڈالی تھی تو تمام سیاسی پارٹیوں نے انا ہزارے کی جم کر مخالفت کی تھی۔ انا نے بس اتنا کہا تھا کہ ان کے جیسا فقیر چناؤ میں کبھی جیت نہیں سکتا کیونکہ فیصلہ تو دھن اور بل پر ہوتا ہے۔ بیشک چناؤ کمیشن نے اس بار چناؤ میں امیدواروں کے خرچ پر گہری نظر رکھنے کے لئے خصوصی انتظام کئے اور انکم ٹیکس محکمے کو بھی اس میں جھونک دیا لیکن سب سے بڑی دقت یہ ہے کہ عہدیداران کے خرچ کی حد طے ہے۔ لیکن وہیں سیاسی پارٹیوں پر ایسی کوئی بندش نہیں ہے۔ ایک اور مسئلے کی طرف ہم الیکشن کمیشن کی توجہ دلانا چاہیں گے وہ پیٹ نیوز کا معاملہ ہے۔ مختلف اخباروں میں ہم سیاسی پارٹیوں کے منعقدہ پروگرام دیکھ رہے ہیں۔ بسپا کی مخصوص مہم کئی دنوں سے چل رہی ہے۔ اخباروں اور ٹی وی چینلوں پر عام خبروں کے درمیان ایسا پوشیدہ سندیش ہوتا ہے جو ووٹروں کو متاثر کرتا ہے لیکن اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ کل ملاکر ہم کہہ سکتے ہیں کہ مورتیوں پر پردہ ڈالنے سے شاید کوئی فائدہ ہو؟
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Daily Pratap, Election Commission, Elections, Elephant, Mayawati, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun

07 جنوری 2012

بھاجپا کیا ایسے لائے گی اترپردیش میں رام راجیہ؟



Published On 7th January 2012
انل نریندر
چناؤ کے وقت ہر سیاسی پارٹی کو اپنے قدم پھونک پھونک کر رکھنے چاہئیں۔ ان کے ہر قدم کو مائیکرو اسکوپ سے دیکھا جائے گا اور ان کے سیاسی حریف ہر غلطی کا خوب سیاسی پروپگنڈہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ اترپردیش کے قومی دیہی ہیلتھ مشن گھوٹالے میں پھنسے مایاوتی کے قریبی سابق وزیرصحت بابو سنگھ کشواہا کے بھاجپا میں شامل ہونے سے ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے اور کشواہا بھاجپا کے گلی کی ہڈی بن گئے ہیں۔ اترپردیش چناؤ سے ٹھیک پہلے ایسی متنازعہ شخصیت کو پارٹی میں لینا خطرے بھرا فیصلہ ہے۔ 15 روز پہلے پارلیمنٹ میں کرپشن کے اشو پر سب سے زیادہ شور مچانے والی بھارتیہ جنتا پارٹی نے ملزم بابو سنگھ کشواہا کو پارٹی میں شامل کرنے سے بھی پرہیز نہیں کیا۔ اس کے اس الزام میں بیشک دم ہے کہ کشواہا کے بھاجپا میں آنے کے محض24 گھنٹے کے اندر ہی سی بی آئی کو ان کے ٹھکانوں پر چھاپہ مارنے کا خیال کیسے آیا؟ مگر یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ خود اس کے سینئر لیڈر بشٹ سمیا نے وزیراعلی مایاوتی اور اس کے ساتھی کشواہا کے خلاف کرپشن میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات لگائے تھے۔ کیا پارٹی پردھان نتن گڈکری کو یہ پتہ نہیں تھا کہ سابقہ پریوارکلیان منتری بابو سنگھ کشواہا کے خلاف بدعنوانی میں ملوث ہونے کے سنگین الزام لگائے گئے تھے۔ ساتھ ہی دو سابق سی ایم او اور ایک سابق ڈپٹی سی ایم او کے قتل کے معاملے میں ملوث ہونے کے الزامات بھی کشواہا پر ہیں؟ ان کو پارٹی میں شامل کرنے کو لیکر بھاجپا میں مہابھارت چھڑ گیا ہے۔ جہاں بھاجپا کے قومی صدر نتن گڈکری اور بھاجپا کے پسماندہ طبقے کے نیتا کشواہا کے بچاؤ میں کھڑے ہوگئے ہیں ۔وہیں پارٹی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج سمیت پارٹی کے کئی بڑے نیتا ان کے اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔ ان کے اختلاف کے چلتے آخر کار پارٹی کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ کشواہا کو ٹکٹ نہیں دیا جائے گا۔ اگر ان کو ٹکٹ نہیں دینا تھا تو پھر ایسے داغی آدمی کو پارٹی میں لائے ہی کیوں؟ جس طرح پارٹی میں کشواہا کی اینٹری پر ہنگامہ ہوا اس سے لگتا ہے کہ یوپی میں تھوک کے بھاؤ پارٹی میں آنے والوں کی کوشش کرنے والے لوگوں کے بارے میں چھان بین ہوگی اور کئی داغیوں کی اینٹری پر اب بریک لگ جائے گا۔ شری اڈوانی اور سشما کے اختلاف کے بعد پارٹی کے اندر اب چناؤ کے وقت ہونے والے پارٹی بدل کے سلسلے میں پارٹی چوکس رہے گی۔ داغی لوگوں سے دور رہنا چاہئے۔ بھاجپا کو چاہئے کہ وہ اس بات کا بھی پروپگنڈہ کریں کہ بی ایس پی اور کانگریس کا اندرونی گٹھ جوڑ ہے اور اس کا پردہ فاش کرے۔ یہ اجاگر کیا جانا چاہئے۔ ویسے بھی بی جے پی میں آنے کے اگلے دن ہی اس شخص کے خلاف سی بی آئی کارروائی کررہی ہے یہ کارروائی دونوں مایاوتی اور کانگریس کو زیب دیتی ہے۔ بیشک یہ صحیح ہے یا نہیں لیکن بھاجپا کے پاس اس بات کا کیا جواب ہے کہ 30 دسمبر کو پارٹی کے قومی سکریٹری کرٹ سمیا کئی سو صفحے کے کاغذات کا پلندہ کشواہا کے خلاف سی بی آئی کو دیکر آتے ہیں اور اس کے چار دن بعد3 جنوری کو کشواہا کو نتن گڈکری صاحب پارٹی کے اندر آنے کی دعوت دیتے ہیں؟ افسوسناک بات یہ ہے کشواہا کا معاملہ اکیلا نہیں ہے اپنی کھوئی ہوئی زمین پھر سے حاصل کرنے کیلئے بھاجپا کی لیڈر شپ کسی حد تک تیار ہے۔کشواہا سے پہلے سابق وزیر بادشاہ سنگھ، اودھیش کمار ورما، گگن مشر جیسے سابق وزرا کو سیاسی پناہ دی گئی ۔جن کو مایاوتی نے پارٹی اور سرکار سے باہر نکالا بھاجپا نے اسے گلے لگا لیا۔ اپنے چال ، کردار، چہرے اور ساکھ کے معاملے میں دوسروں سے الگ اور پائیدار ہونے کا دعوی کرنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی یوپی میں اتنا گر گئی ہے کہ اس نے کانگریس اور سماجوادی پارٹی تک کو پیچھے چھوڑدیا ہے۔ ان دونوں پارٹیوں نے کرپشن کے الزامات میں پارٹی یا کیبنٹ سے برخاست کئے گئے وزرا کو اپنا ٹکٹ دینے سے انکارکردیا۔ مگر بھاجپا نے اپنے دہلی ہیڈ کوارٹر میں ان داغیوں کا کھلے دل سے خیر مقدم کیا اور حد تو اس وقت ہوگئی جب بھاجپا کے نائب صدر مختار عباس نقوی نے کہا کہ گندے نالے بھی گنگا میں ملنے کے بعد پوتر ہوجاتے ہیں۔ حال تک یہ ہی نقوی صاحب مایاوتی اور ان کے وزرا کو علی بابا اور چالیس چور بتا رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ داغیوں کو پارٹی میں شامل کرنے کا فیصلہ بھاجپا صدر اور اعلی نیتاؤں کی رضامندی سے ہی ہوا ہوگا اس لئے یہ اور بھی خطرناک ہے۔ ایسی ذہنیت رکھنے والوں کو پارٹی میں شامل کرکے بھاجپا اترپردیش میں کیسا رام راجیہ لانا چاہتی ہے۔
Anil Narendra, Babu Singh Kushwaha, Bahujan Samaj Party, BJP, Congress, Daily Pratap, Nitin Gadkari, Samajwadi Party, Uttar Pradesh, Vir Arjun

03 جنوری 2012

اترپردیش میں وزیر اور لوک آیکت میں چھڑا تنازعہ


Published On 3rd January 2012
انل نریندر
نئے سال کا آغاز ہی ایک سیاسی تنازعے سے ہوا ہے اترپردیش میں چناوی جنگ کے ٹھیک پہلے اترپردیش کے وزیر برقیات رام ویر اپادھیائے نے یوپی کے لوک آیکت جسٹس این کے مہروترہ کے خلاف اعتراض آمیز رائے زنی کرکے نئے تنازعے کو جنم دے دیا ہے۔ مایاوتی حکومت کے کئی وزرا لوک آیکت کی جانچ کے دائرے میں ہونے کے چلتے وزیر موصوف اپنا آپا کھو بیٹھے۔ جمعہ کی شام ہاتھرس کی ایک عوامی ریلی میں رام ویر نے کہا انہیں جج (لوک آیکت) کے مقابلے قانون کی زیادہ سمجھ ہے۔ لوک آیکت کے ساتھ شخصی رشتے نہیں ہوتے تو میں سپریم کورٹ کی پناہ لے کر انہیں برخاست بھی کرا سکتا تھا۔ وزیر برقیات یہیں نہیں رکے اور کہا کہ میں قانون کا طالبعلم رہا ہوں اور اسے اچھی طرح سے سمجھتا ہوں۔ میں قانون ان سے زیادہ جانتا ہوں اپادھیائے نے ان کے خلاف بھاجپا کے سکریٹری جنرل وراٹ سومیا کے ذریعے لوک آیکت کو کی گئی شکایت کے سلسلے میں یہ بات کہی۔ اس تبصرے پر لوک آیکت نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مایاوتی نے اب تک جو بھی کچھ کیا ہے رام ویر نے اس پر پانی پھیردیا ہے۔ مہروترہ نے کہا کہ رام ویر سے ان کے شخصی تعلقات نہیں ہیں۔
وزیر ہونے کے ناطے انہوں نے رام ویر کو احترام دیا جسے وہ غلط سمجھ بیٹھے۔ انہیں پتہ نہیں کہ ایسے تبصرے کے لئے رامویر نے اپنی سرکار سے اجازت لی یا نہیں لیکن ان کا یہ رویہ مایوسی کی علامت ہے اور عہدے کے وقار کے منافی ہے۔ ہاتھرس کے تاجروں کی جانب سے جمعہ کی رات یہاں گھنٹا گھر پر منعقدہ عوامی ریلی میں اپادھیائے کا یہ تبصرہ تھا جب بھاجپا ضلع پردھان دویندر اگروال کو اس کی جانکاری ملی تو انہوں نے وزیربرقیات پر لوک آیکت کی توہین کا الزام لگانے کے ساتھ ضلع انتظامیہ و لوک آیکت سے وزیر برقیات کے ساتھ ایک ایف آئی آر درج کرنے اور وزیر اعلی سے انہیں برخاست کرنے کی مانگ کر ڈالی۔ حال ہی میں لوک آیکت مہروترہ نے اترپردیش کے طاقتور وزیر نسیم الدین صدیقی کے خلاف ایف آئی آر درج کر ان کے اور ان کی بیوی ودھان پریشد ممبر حسنی صدیقی کے خلاف کے شکایتوں کو مضبوط پاتے ہوئے دونوں کے خلاف معاملہ درج کر وزیر اعلی مایاوتی کو اطلاع دے دی۔ دراصل مایاوتی کی پارٹی کے کچھ لیڈر جسٹس مہروترہ سے سخت نالاں ہیں اور ان کی سفارش پر کئی وزیروں کو اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ مایاوتی نے آناً فاناً میں کئی وزیروں کو برخاست کردیا ہے۔
چناؤ سر پر دیکھتے ہوئے خبر یہ ہے کہ بہن جی بہت سے موجودہ ایم ایل اے کے ٹکٹ بھی کاٹ رہی ہیں۔ مہینوں پہلے ہی اسمبلی چناؤ کے لئے امیدواروں کا اعلان کرنے والی بہوجن سماج پارٹی میں چناؤ کی تاریخ آنے کے بعد امیدواروں میں تیزی سے بدلاؤ ہورہے ہیں۔ بسپا پردھان نے گذشتہ پیر کو آگرہ، بندیل کھنڈ اور کانپور حلقوں کی سیٹوں پر پھر سے غور کیا ہے۔ مایاوتی نے گذشتہ دنوں میں اپنے کئی وزرا ء اور ممبران اسمبلی کے ٹکٹ کاٹ کر ان کی جگہ نئے امیدواروں کو طے کرلیا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ بہن جی تھوڑی بوکھلاہٹ میں اب کام کررہی ہیں۔ ایسے موجودہ ممبران کو آخری وقت میں بدلنا پارٹی کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ان لوگوں نے مہینوں سے اپنے علاقوں میں کام کیا ہے، زمین تیار کی ہے، آخری وقت میں نئے امیدوار کے لئے ایسا کرپانا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ پھر ظاہر سی بات ہے کہ جن کوبے عزت کرکے ٹکٹ کاٹے گئے ہیں ان میں سے کچھ ضرور پارٹی کے نئے سرکاری امیدوار کو ہرانے کی کوشش کریں گے۔
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Daily Pratap, Lokayukta, Uttar Pradesh, Vir Arjun

29 دسمبر 2011

مایاوتی کو رائٹ آف کرنا بھاری بھول ہوگی



Published On 29th December 2011
انل نریندر
اترپردیش اسمبلی چناؤ کی تاریخوں کے اعلان سے یوپی کی تمام اپوزیشن پارٹیوں میں جوش آگیا ہے۔ سب اپنی اپنی ہانکنے میں لگ گئے ہیں۔ حکمراں بہوجن سماج پارٹی کو تو انہوں نے مان لیا ہے کہ وہ آنے والے چناؤ میں منہ کی کھا جائیں گی۔لیکن ہمیں نہیں لگتا کہ مایاوتی کو ایک خاتمہ فورس مان کر چلنا سمجھداری ہوگی۔ اندازے بھلے ہی مایاوتی سرکار کے بارے میں انتظامیہ مخالف ماحول کے لگائے جارہے ہوں لیکن بنیاد پر بسپا اتنی کمزور نہیں ہے جتنی اسے کانگریس، سپا اور بھاجپا مان کر چل رہی ہیں۔ مایاوتی نے اپنی چناؤ تیاریاں ایک سال پہلے سے ہی شروع کردی تھیں۔ صوبے کی سبھی403 سیٹوں پر بسپا نے اپنے امیدوار ڈیڑھ سال پہلے ہی طے کردئے تھے یہ الگ بات ہے کہ بہن جی نے ان میں سے کچھ کو بعد میں بدلا ہے۔ کانگریس ، سپا اور بھاجپا کوتو اپنے امیدوار فائنل کرنے میں ہیں بھاری دقتیں آرہی ہیں اور ان میں بغاوت کی حالت بنی ہوئی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ بہن جی اس بار ووٹروں کے سامنے اپنی کسی ناکامی کا بہانا نہیں بنا پائیں گی۔معجزہ پیش کرتے ہوئے ووٹروں نے 2007 کے چناؤ میں بسپا کو206 سیٹیں دے کر واضح اکثریت دلا دی تھی۔ اسی کے دم پر مایاوتی حکومت نے اپنی میعاد پوری کی ہے۔ جبکہ ان سے پہلے تین سرکاریں نہ صرف اپنی میعاد پوری کرپائیں بلکہ بھاجپا کی حمایت پر ٹکی رہیں۔ اس بار مایاوتی کو پورے پانچ سال تک کام کرنے کی کھلی اجازت ملی ہوئی تھی اس لئے وہ ووٹروں سے اپنے کام کی بنیاد پر ہی ایک اور موقعہ پانے کی اپیل کریں گے۔ جہاں تک کانگریس کا سوال ہے بیشک راہل گاندھی اپنے مشن 2012 کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں ۔ یوپی سیاست پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ کانگریس کی زیادہ پوزیشن ہوائی ہے۔2009 کے لوک سبھا چناؤ میں21 سیٹوں پر کامیابی مل جانے سے کانگریس یہ خوش فہمی میں بیٹھی ہے کہ یوپی کے ووٹر آنے والے 1989 سے پہلے کی مضبوط مینڈیڈ پوزیشن میں لادیں گے لیکن کانگریس اس سچائی کو نظر انداز کیسے کرسکتی ہے کہ 2009کے لوک سبھا چناؤ کے بعد جتنے بھی اسمبلی کے ضمنی چناؤ ہوئے ہیں ان میں کانگریس ایک بھی سیٹ نہیں جیت سکی۔ کہیں دوسرے نمبر پر رہی تو کہیں تیسرے نمبر پر۔ شاید یہ جانتے ہوئے کہ پارٹی نے اجیت سنگھ کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہوئے ان سے چناوی تال میل کیا اس تال میل سے اجیت سنگھ کی پارٹی کو زیادہ فائدہ ہوگا۔ کانگریس کی پوزیشن تو وہیں کی وہیں رہنے کا امکان ہے۔ مایاوتی سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت مسلسل کانگریس پر حملے کررہی ہے۔دراصل وہ چاہتی ہیں کہ ووٹروں کو لگے کہ مقابلہ بس بسپا اور کانگریس کے درمیان ہے۔ بھاجپا اور سپا دونوں کو جان بوجھ کر مایاوتی نظر انداز کررہی ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اصل ٹکر بسپا اور سپا کے درمیان ہوگی۔ پچھلے چناؤ میں بسپا کو206 ، سپا کو2 ، بھاجپا کو51، کانگریس کو22 راشٹریہ لوک دل کو 10 سیٹیں ملی تھیں۔ ملائم کو کمزور کرنے کے لئے مایاوتی اسی حکمت عملی پر چل رہی ہیں۔ مسلمان ووٹ یکمشت کسی کو نہ ملے۔ سپا سے ٹوٹ کر یہ یا تو ان کے ساتھ آیا تھا یا پھر کانگریس کے ساتھ چلا جائے۔ ویسے اس بار پیس پارٹی بھی اپنے دم خم کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہے۔ یقینی طور سے وہ مسلمان ووٹوں پر منحصر کرے گی۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ اس مرتبہ مسلم ووٹ یکمشت کسی پارٹی کو شاید ہی ملیں۔ جہاں تک بسپا کے پختہ ووٹ بینک کا سوا ل ہے ہمیں نہیں لگتا کہ یہ کہیں اور جانے والا ہے۔''سرو جن ہتائے سرو جن سکھائے'' کا بہن جی کا نعرہ بھلے ہی بڑی ذاتوں کو راغب کرنے کے اندیشے سے اس بار اتنا کامیاب نہ رہے۔ دلت اور انتہائی پسماندہ طبقات آج بھی ان کے ساتھ ہیں کیونکہ مقابلہ کثیر پارٹی ہوگا اس لئے جس کو بھی مسلم ووٹ یکمشت ملے گا وہی جیت جائے گا۔ لیکن ایک دو علاقے ہیں جہاں ضرور بسپا کمزور پڑرہی ہے۔ پہلا تو ان کی پارٹی میں زبردست کرپشن ہے، جس کے چلتے مایاوتی کو بہت سے وزرا اور موجودہ ممبران اسمبلی کے ٹکٹ اور کرسیاں چھیننی پڑی ہیں۔ اس سے انہیں نقصان ہوسکتا ہے۔ بسپا اپنی سرکار کی بدعنوانی کو معاملوں کی قراردے کر ہلکا کرنے کی کوشش میں ہے لیکن انا کی تحریک کا اتنا اثر ضرور ہوا ہے کہ آج پورے دیش میں ایک بدعنوان مخالف ماحول بن گیا ہے۔ بابا رام دیو بھی اس بار یوپی میں دبا کر پرچار کریں گے۔ اس کا خمیازہ کانگریس کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ کل ملاکر بہوجن سماج پارٹی بیشک آج کے حالات کو دیکھتے ہوئے سرکار اپنے بوتے پر نہ بنا سکے لیکن اس میں ہمیں تو کوئی شبہ نہیں بسپا یوپی اسمبلی چناؤ2012 میں سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئے گی۔
Ajit Singh, Anil Narendra, Baba Ram Dev, Bahujan Samaj Party, BJP, Congress, Daily Pratap, Mayawati, RLD, Samajwadi Party, Vir Arjun

18 دسمبر 2011

یوپی میں راہل گاندھی نے چلا اپنا مسلم کارڈ



Published On 18th December 2011
انل نریندر
کانگریس جنرل سکریٹری راہل گاندھی آج کل اترپردیش کے دورے پر ہیں۔ جیسا کہ میں نے اسی کالم میں کچھ دن پہلے لکھا تھا۔ جیسے جیسے اترپردیش اسمبلی چناؤ قریب آئیں گے۔ سیاسی پارٹیاں اپنے ترکش سے سبھی جمع تیر چلائیں گی۔ ان میں مسلم کارڈ بھی شامل ہیں۔ راہل گاندھی نے مسلم کارڈ چل دیا ہے۔ بدایوں میں ایک ریلی میں راہل نے یہ کارڈ چلا۔راہل گاندھی نے اترپردیش کی مایاوتی سرکار پر سچر کمیٹی کی سفارشوں پر جان بوجھ کر عمل نہ کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کیا آپ کو سچر کمیٹی کی رپورٹ کا فائدہ ملا؟ ہریانہ، دہلی اور مہاراشٹر جائیے وہاں اس رپورٹ پر عمل ہورہا ہے۔ راہل نے اپنے خطاب میں کہا کہ پردیش کے تین لاکھ بنکروں کے 50 ہزار روپے تک کے قرضے معاف کئے تھے۔ اسمبلی چناؤ سے پہلے پسماندہ کے کوٹے میں مسلمانوں کو الگ ریزرویشن دینے کا اعلان۔ راہل گاندھی کے لکھنؤ دورہ کے دوران دگوجے سنگھ کا پبلک اسٹیج سے ریزرویشن میں مذہبی بنیاد پر امتیاز ختم کرنے کی پیروی کرنے کا وعدہ کرنا اور ایک دن بعد دہلی کے مدرسوں کے ٹیچروں کے مطالبات کو لیکر ان کی قیادت میں کانگریسیوں کی وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات۔ کانگریس پارٹی کے ذریعے پچھلے دنوں اٹھائے گئے کچھ ایسے قدم ہیں جن سے اشارے مل رہے ہیں کانگریس اپنے اور مسلمانوں کے بیچ رشتوں کی برف کو پگھلانا چاہتی ہے۔فطری طور سے اس پہل کا زیادہ سہرہ راہل گاندھی کے سر جاتا ہوا نظر آرہا ہے۔ راہل گاندھی نے دونوں ملائم سنگھ یادو اور مایاوتی کے گڑھ میں بھی حملہ بول دیا ہے۔ سماجوادی پارٹی کے گڑھ بدایوں ضلع میں مسلمانوں سے کہا کہ ملائم سنگھ یادو انگریزی اور کمپیوٹر کی پڑھائی کو غیر ضروری بتاتے ہیں جبکہ ان کے اپنے بیٹے اکھلیش یادو کو ان دونوں ہی چیزوں کی تعلیم ملی ہوئی ہے۔اس مسلم اکثریتی علاقے کے ووٹروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے سچر کمیٹی کی سفارشوں کو لاگو کردیا ہے؟ کیا آپ کو اس کا فائدہ ملا؟اترپردیش کی سرکار ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھی ہوئی ہے۔ وہ کچھ کرنا ہی نہیں چاہتی۔ یہاں 20 سال کے دوران دور اندیشی نہیں دکھائی۔ اس کا نقصان یوپی کی جنتا کو ہی ہوا ہے۔ اترپردیش سرکار پر مرکز کی مختلف ترقیاتی اسکیموں کے لئے بھیجے گئے پیسے کا بیجا استعمال کا الزام لگاتے ہوئے یوپی سرکار کے بارے میں کہا کہ راجیو گاندھی کہا کرتے تھے کہ سرکار کے بھیجے گئے ایک روپے میں سے صرف15 پیسے ہی جنتا تک پہنچتے ہیں۔ لیکن اترپردیش میں تو ایک بھی پیسہ جنتا تک نہیں پہنتا۔ راہل نے کہا لکھنؤ میں بیٹھا ہاتھی پیسہ کھاتا ہے۔ یہ دھن نہ تو اترپردیش سرکار کا ہے اور نہ ہی مرکز کا یہ پیسہ ریاست کی ترقی میں آپ کے تعاون سے آیا ہے۔
ہم وہ پیسہ ریاست کی جنتا کے لئے بھیجتے ہیں لیکن اسے ہاتھی کھا جاتا ہے۔ راہل اپنی طرف سے ہر مسلم پہلو کو دیکھ رہے ہیں۔ مسلمانوں کے سب سے بڑے ادارے ندوۃ العلماء کے صدرمولانا رابع حسنی ندوی سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد مولانا نے کہا اچھا لگتا ہے جب ملک کے لیڈر اپنی عوام کے لئے فکر مند نظر آتے ہیں۔ غریبوں کے لئے جذبہ ہونا چاہئے۔ راہل کے لئے یہ موقعہ اچھا تھا اپنے کو مولانا کے سامنے پیش کرنے کا۔راہل نے کہا کہ میں غریب امیر میں فرق نہیں سمجھتا میرے لئے سب انسان ہیں۔ میری کوشش ہے کہ میں ہندوستان کے زیادہ سے زیادہ لوگوں سے مل سکوں۔ سچر کمیٹی سے لیکر مسلم ریزرویشن تک کے اشو پر مولانا سے بات ہوئی۔ انہوں نے اپنے بیباک انداز میں کہا کہ شاہجاں پور میں مایاوتی سرکار پر حملہ بولا اور کہا کہ مایاوتی کا ہاتھی چارا نہیں عام جنتا کا پیسہ کھا رہا ہے۔ یہ سب آپ کا ہی پیسہ ہے جو بسپا سرکار کے وزیروں کی تجوریوں میں جمع ہورہا ہے۔ انہوں نے بسپا کو سب سے بدعنوان بتاتے ہوئے کہا یہاں کوئی بھی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوتا۔ مرکز سے یوپی کے لئے کوئی بھی اسکیم آتی ہے تو اس کا فائدہ لینے والوں کو رشوت دینی پڑتی ہے۔ اندرا آواس یوجنا کا فائدہ حاصل کرنے والے غریبوں سے افسر 10-10 ہزار روپے وصولتے ہیں۔ منریگا کا حال بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔
راہل نے عام جنتا سے اپیل کی کے اس بار پانچ سال کے لئے کانگریس کو موقعہ دیجئے کیونکہ جہاں اس کی سرکار چلتی ہے وہاں ترقی ہوتی ہے۔ پہلے آپ نے سپا کو چنا کچھ نہیں ملا، بسپا پر بھروسہ کیا بدعنوانی گھوٹالے ملے، ذات پات کے جال میں پھنس کر22 سالوں میں یوپی لٹ گئی۔ جیسا میں نے کہا راہل گاندھی سبھی پتے چل رہے ہیں۔ ان کا خاص نشانہ اب مسلم ووٹروں کو راغب کرنا ہے اور انہیں پٹانے کے لئے وہ سب کچھ کررہے ہیں۔
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Congress, Daily Pratap, Muslim, Muslim Reservation, Rahul Gandhi, Uttar Pradesh, Vir Arjun

13 دسمبر 2011

کانگریس اور راشٹریہ لوکدل اتحاد یوپی میں گل کھلا سکتا ہے



Published On 13th December 2011
انل نریندر
اترپردیش کے 2007 ء میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں اپنے دم خم پر لڑ کر اپنی اپنی سیاسی زمین کو کھسکا چکیں کانگریس اور راشٹریہ لوکدل آخر کار اس مرتبہ 2012ء میں یوپی اسمبلی چناؤ ایک ساتھ مل کر لڑیں گی۔راشٹریہ لوکدل کے پردھان اجیت سنگھ کی کانگریس صدر سونیا گاندھی سے ملاقات سے اب اس اتحاد کی تصدیق ہوگئی ہے۔ دونوں پارٹیوں میں اتحاد پرباقاعدہ مہر لگ گئی ہے۔ریاست میں اپنا مینڈیڈ واپس لانے کے لئے جٹی کانگریس مغربی اترپردیش کی جاٹ بیلٹ میں اجیت سنگھ کے ساتھ ملنے کے بعد انہیں مرکز میں وزیر بنانے کو بھی تیار ہوگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اتحاد میں آر ایل ڈی 48 سیٹوں پر چناؤ لڑ سکتی ہے۔ پہلے آر ایل ڈی 80 سیٹوں کی مانگ کررہی تھی۔ سمجھوتے کے مطابق پچھلے چناؤ میں جن سیٹوں پر جس پارٹی کے امیدوار جیتے تھے وہ سیٹ اس کے کوٹے میں ہی رہے گی۔ کانگریس، راشٹریہ لوکدل کے چناوی اتحاد ہونے سے مغربی اترپردیش کی سیاست کے تجزیئے بدلنا طے مانا جارہا ہے۔ سرکردہ لیڈروں کے ساتھ کانگریس جنرل سکریٹری راہل گاندھی کی موجودگی میں یہ خبر پارٹی ورکروں کے لئے ایک جوش بڑھانے والی تھی۔ اترپردیش کی سیاست میں یہ اتحاد نیا گل کھلا سکتا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے سرکردہ لیڈر رشید مسعود کا پالا بدل کر کانگریس کی طرف آنا اس اتحاد کو اور طاقت دے سکتا ہے۔ آر ایل ڈی کا دعوی ہے کہ پارٹی کااثر آگرہ، علی گڑھ، میرٹھ ، سہارنپور اور مراد آباد زون کی 136 سیٹوں پر ہے اس لئے یہ اتحاد آنے والے اسمبلی چناؤ میں کارگر ثابت ہوگا۔ آر ایل ڈی کے ترجمان نے تو کہا کہ کانگریس آر ایل ڈی اتحاد اترپردیش میں سرکار بنائے گا۔ مغربی اتر پردیش میں تو ترجمان کا کہنا ہے سپا بسپا دونوں صاف ہوجائیں گے۔ کہا جارہا ہے کہ جاٹ ووٹ جلدی سے کسی دوسری پارٹی کو منتقل نہیں ہوتا لیکن آر ایل ڈی کی حمایت سے کانگریس کو جاٹ بیلٹ میں کافی فائدہ ہوسکتا ہے۔مسلم ریزرویشن کے بعد اس میں اور اضافہ ہوگا مگر مسلم اور جاٹ دونوں ہی کانگریس کو ووٹ دے سکتے ہیں یا یوں کہئے کہ بسپا سپا کے خلاف ووٹ ڈال سکتے ہیں تو یقینی طور سے یہ کانگریس کو فائدہ پہنچائے گا۔ اترپردیش کی دو سمت والی سیاست کو کانگریس نے یہ اتحاد کرکے نیا موڑ دے دیا ہے۔ پچھلے لوک سبھا چناؤ میں وہ اس بالادستی کو پہلے ہی توڑ چکی ہے جس میں بسپا آدھی ہوگئی تھی اس لئے کانگریس کی نئی حکمت عملی کی بنیاد پر کمزور اب نہیں مانا جاسکتا ۔ ابھی مسلمانوں کو ریزرویشن کا معاملہ کانگریس کے پاس بچا ہے جو جلد سامنے آسکتا ہے۔
کانگریس کے قومی سکریٹری جنرل اور ایم پی راہل گاندھی نے سنیچر کو لکھنؤ میں کہا کہ پردیش کے ورکرکافی صلاحیت والے اور سرگرم ہیں۔ اگر 2012ء کے اسمبلی چناؤ میں پارٹی کو پورے دم خم سے وہ جٹ جائیں تو اترپردیش میں کانگریس کو سرکار بنانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پچھلے دو روزہ دورہ پر راجدھانی لکھنؤ پہنچنے پر راہل گاندھی نے پردیش دفتر میں اس کے عہدیداران ضلع و شہری پردھانوں کو خطاب کیا تھا اور کہا تھا کانگریس ورکروں میں پردیش میں کانگریس کی سرکار بنوانے کی بھرپور صلاحیت ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ورکر پورے تن من کیساتھ آنے والے چناؤ میں لگ جائیں۔انہوں نے کہا 1991ء سے 2009ء تک کانگریس نے اترپردیش میں پوری سنجیدگی سے چناؤ نہیں لڑا اس لئے تقریباً دو دہائیوں تک غیر کانگریسی حکومتیں اقتدار پر قابض رہیں۔ صحیح معنی میں ابھی کانگریس پارٹی 2012ء میں چناؤ لڑنے جارہی ہے۔ پچھلی دو دہائیوں میں اترپردیش کے اقتدار پر سپا، بسپا اور بھاجپا کی غیر کانگریسی حکومتیں اقتدار پر قابض رہیں۔ ان کے عہد میں اترپردیش بری طرح سے پچھڑ گیا۔ راہل نے کہا کہ غیر کانگریسی حکومتوں سے پردیش کی جنتا بری طرح سے عاجز آچکی ہے اور اب پردیش میں بدلاؤ کا ماحول بھی تیار ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ کانگریس کی سرکار اقتدار میں آئے۔
Ajit Singh, Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Congress, Daily Pratap, RLD, Samajwadi Party, Uttar Pradesh, Vir Arjun

30 نومبر 2011

یوپی میں چھڑا راہل اور مایاوتی کے درمیان مہا بھارت



Published On 30th November 2011
انل نریندر
کانگریس کے نوجوان جنرل سکریٹری راہل گاندھی نے اترپردیش میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگادیا لگتا ہے۔ تبھی تو وہ اپنی زبان پر کنٹرول کھوچکے ہیں۔ کشی نگر میں جس زبان میں راہل گاندھی نے بہوجن سماج پارٹی پر حملہ کیا وہ زبان راہل جیسے مہذب ،سمجھدار شخص کو زیب نہیں دیتی۔ پتہ نہیں وہ کس کے کہنے پر اس طرح کی زبان بول رہے ہیں؟ کشی نگر میں پردیش کے پانچ روزہ دورہ کے آخری دن سنیچر کو ایک ریلی میں تقریر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے اترپردیش میں حکمراں بہوجن سماج پارٹی کی سرکار پر زبردست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ عام طور پر ہاتھی گھاس کھاتا ہے لیکن لکھنؤ کا ہاتھی پیسہ کھا رہا ہے۔ راہل نے کہا مایاوتی نے لکھنؤ میں جادو کردیا ہے۔ عام طور پر ہاتھی گھاس کھاتا ہے لیکن لکھنؤ کا ہاتھی پیسے کھا رہا ہے۔ یہ پیسہ دہلی سرکار کا نہیں لکھنؤ سرکار کا بھی نہیں ہے ، یہ پیسہ غریبوں کا ہے، آپ سب کا ہے۔ راہل نے پسماندگی کے لئے 20 سال سے اقتدار میں ہی غیر کانگریسی حکومتوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ کرپشن اور پچھڑی پن کا الزام اپنے آپ میں صحیح ہوسکتا ہے لیکن دگوجے سنگھ کی زبان بولنا راہل گاندھی کو زیب نہیں دیتا۔ راہل کے الزامات کا بہن جی نے کرارا جواب دیا ہے۔ ایتوار کو لکھنؤ میں بولتے ہوئے انہوں نے راہل گاندھی کو نشانے پر لیا۔ ان پر لوگوں کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا۔ بسپا چیف نے کہا جس پارٹی نے40 سال کے عہد میں ریاست کا بھلا نہیں کیا وہ پانچ سال یا دس سال میں ریاست کی تصویر کیسے بدل سکتی ہے؟ انہوں نے کہا اگر کانگریس کی سرکار بنتی ہے تو پانچ سال میں ریاست کو ملک کی نمبر ون ریاست بنادیں گے۔ کانگریس پر نکتہ چینی کرتے ہوئے مایاوتی نے کہا کانگریس پردیش میں اپنی قابل رحم حالت سے اتنا گھبرا گئی ہے کہ اس کے نیتاؤں اور اس کے یووراج راہل کو دہلی میں پارلیمنٹ چھوڑ کر یہاں آکر قسم قسم کی ناٹک بازی کرنی پڑ رہی ہے۔ راہل نے اپنے دورے میں کہا تھا لکھنؤ میں بیٹھا ہاتھی مرکز کی ترقیاتی اسکیموں کے لئے بھیجا گیا پیسہ کھا گیا۔ ہماری پارٹی کی پالیسیوں اور مینڈیٹ نے کانگریس کا پردیش میں جینا محال کردیا ہے۔مجھے لگتا ہے بسپا کا چناؤ نشان ہاتھی اسے خواب میں بھی کھدیڑ تا ہے ستاتا ہے۔ مایاوتی نے کہا کانگریس کو ہمیشہ بسپا کا خوف رہتا ہے اور کانگریسیوں کو بسپا کا ہاتھی خواب میں روندھتے ہوئے دکھائی دیتا ہوگا۔ کانگریس نیتا جو غلط سلط بولتے ہیں اس پر میں تو نوٹس نہیں لیتی لیکن پردیش پردھان سوامی پرساد موریہ کو غصہ ضرور آتا ہے۔ انہوں نے کہا بسپا کے جن آدھار سے گھبرائے راہل پارلیمنٹ چھوڑ کر یوپی میں جو ناٹک بازی کررہے ہیں ، یوپی کے لوگوں کو بھکاری کہنے پر انہوں نے کہا کہ40 برسوں میں یوپی کے لوگوں نے زیادہ ہجرت کی۔ جب یہاں کانگریس کا راج تھا تو وہ لوگوں کی ہجرت کے لئے ذمہ دار ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ چناؤ میں بسپا کے اس نعرے کو حقیقت میں بدل دے گی کہ'چلے گا ہاتھی اڑے دھول ،نہ رہے گا پنجہ نہ رہے گا پھول اور نہ رہے گی سائیکل'
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Congress, Daily Pratap, Mayawati, Rahul Gandhi, Vir Arjun

24 نومبر 2011

فیصلہ لینے میں مایاوتی منموہن سنگھ سے کئی کوس آگے



Published On 24rd November 2011
انل نریندر
یہ تو ماننا ہی پڑے گا کہ کہ بہن جی جو ٹھان لیتی ہیں کر کے دکھاتی ہیں۔مایاوتی نے محض 15منٹ میں اتر پردیش کی تقسیم کا ریزولیوشن پاس کراکر یہ ثابت کر دیا ہے کہ پیر کو ایوان میں ایک لائن کا ریزولیوشن رکھا کس کو شور غل کے دوران اکثریتی ووٹ سے منظور کر لیا گیا۔ اپوزیشن نے لمبے چوڑے پلان بنا رکھے تھے وہ دھرے کے دھرے رہ گئے۔بہن جی نے سب سے پہلے تو سال 2012-13 کا مصارف بل پاس کرایا اور اس کے ممبر ریاست کو چار حصوں میں تقسیم کا پرستاؤ پاس کرا دو روزہ اجلاس کو پندرہ منٹ میں ہی ملتوی کروا دیا۔ کوئی بھی سیاسی پارٹی یہ نہیں چاہ رہی تھی کہ اسمبلی کے چناؤ سے پہلے راجیہ کی تقسیم کا ریزولیوشن آئے لیکن مایاوتی کو سیاسی طور پر یہ ٹھیک لگا اور انہوں نے آناً فاناً میں کیبنیٹ سے یہ پرستاؤ پاس کرایا۔اتنی پھرتی سے اسمبلی میں بھی یہ پاس کروا لیا۔بری طرح سے بکھری ہوئی اپوزیشن سرکار کی گھیرے بندی کے تمام منصوبوں کے باوجود کچھ نہیں کر سکی۔ایوان میں کانگریس،بسپا اور بھاجپا ممبران اسمبلی میں اتحاد کے بجائے سہرہ اپنے سر لینے کی دوڑ لگی رہی۔ اپوزیشن کی کمزوری کو بھانپ کر بسپا کی کمان خود مایاوتی نے سنبھالی اور اتر پردیش کے بٹوارے کا پرستاؤ پیش کر دیا گیا۔اپوزیشن کے تبصرے بھی پارٹی لائن کے ہی رہے۔ملائم سنگھ یادو کا کہنا تھا کہ محض 10سیکنڈ میں اسمبلی میں ساڑھے تین لائن پڑھ کر نئے راجیوں کی تقدیر نہیں لکھی جا سکتی۔کرپشن،مظالم کے سوالوں سے گھری ریاستی سرکار نے لوگوں کی توجہ ہٹانے کیلئے ریاست کے بٹوارے کا پانسہ پھینکا ہے۔بھاجپا کے نائب صدر مختار عباس نقوی نے کہا کہ فیصلہ چناوی ہتھکنڈہ ہے۔ ایوان کے اندر اور باہر یو پی اے اتحاد کی پارٹیوں نے مل کر اتر پردیش کو چار ریاستوں میں بانٹنے کا پرستاؤ تیار کیا۔بسپا اور کانگریس نے اپنی ناکامیوں سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کیلئے یہ حکمت عملی اپنائی تھی۔کانگریس کے لیڈرپرمود تیواری کا کہنا تھا کہ پہلے دوبارہ سے ریاستی کمیشن کا قیام ہونا چاہئے تھا۔سپا اور بھاجپا نے ویل میں گھس کر حالات کو گڑ بڑا دیا۔کانگریس بحث چاہتی تھی۔بعد میں اخبار نویسوں نے بہن جی سے پوچھا کہ کیا آپ اسمبلی کو بھنگ کرینگی۔بلا شبہ اس پرستاؤ کے پاس ہونے سے محض ریاست کی تقسیم نہیں ہونے جا رہی ہے اور مایاوتی بھی اچھی طرح جانتی ہونگی۔مایاوتی نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ ان میں فیصلہ کرنے کی ہمت ہے وہ کسی سے ڈرتی نہیں۔بدقسمتی سے اس معاملے میں سب سے قابل رحم حالت منموہن سنگھ سرکار کی ہے۔وہ سماج کے مفاد میں فیصلہ لینا تو دور رہا۔ خود اپنے مفاد کے فیصلے میں بھی ناکام رہے۔اس معاملے میں تو مایاوتی سردار منموہن سنگھ سے کہیں بہتر ثابت ہو رہی ہیں۔
بسپا پر یہ الزام لگ رہا کہ اس نے سوموار کو ایوان کو چلانے میں منمانی کی ساری حد پار کر دی اور پھر یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ اسمبلی اسپیکر نے آئین کے مطابق فیصلے لئے اور قاعدے کے مطابق ایوان کو چلایا۔ لیکن سب کچھ قاعدے کے مطابق نہیں تھا۔اس کی تصدیق اس سے ہو رہی ہے کہ اپوزیشن کے الزامات کا جواب ایوان سے باہر دیا گیا۔یہ پہلی بار نہیں جب حکمراں فریق نے منمانے ایوان کی کارروائی چلائی ہے۔یہ ٹرینڈ بڑھتا جا رہا ہے اور اب اس نے خطرناک شکل اختیار کر لی ہے۔کچھ ریاستوں میں تو آئینی ایوان کو محض خانہ پوری کرنے کیلئے چلایا جانے لگا ہے۔بحث کیلئے تمام اشو ہونے کے باوجود اسمبلی اجلاس چھوٹے ہوتے جا رہے ہیں۔دیکھا جائے تو محض 15منٹ میں 20کروڑ لوگوں کا مستقبل یوں دھکا مکی میں نہیں طے کیا جا سکتا اور یہ مایاوتی بھی جانتی ہیں۔
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Daily Pratap, Manmohan Singh, Mayawati, Vir Arjun

17 نومبر 2011

راہل نے کیا یوپی میں شہ مات کے کھیل کا آغاز




Published On 17th November 2011
انل نریندر
ماننا پڑے گا کہ اس مرتبہ کانگریس کے یووراج جنرل سکریٹری راہل گاندھی نے اپنے مشن 2012ء یوپی مہم کا آغاز بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ اس مرتبہ اس مہم کے پیچھے پورا ہوم ورک کرکے میدان میں چھلانگ لگائی گئی ہے۔ سیاروں کی حالت بھی بدلی ہے اور شروع میں ہی اچھا آغاز ہوگیا ہے۔پھر سیاست میں ٹوٹکوں کی خاص اہمیت ہوتی ہے۔ یہ بات راہل گاندھی کو بھی ا ب سمجھ میں آنے لگی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ مشن2012ء کے لئے انہوں نے اس بزرگ کی سرزمین کو چنا جہاں سے ان کے بزرگوں کو ہار کبھی جھیلنی نہیں پڑی تھی۔ پھولپور کانگریس کے لئے ایک ایسی سیٹ تھی جہاں سے جواہر لعل نہرو نہ صرف زندگی بھر جیتے بلکہ ان کے نام پر کانگریس نے یہ سیٹ کافی وقت تک برقرار رکھی۔ یہ ہی نہیں پھولپور سے ہی راہل بسپا سپریموں اور اترپردیش کی وزیر اعلی مایاوتی کے لئے دلت،براہمن تجزیوں کو پلیتا لگانے کا سندیش دینے میں کامیاب ہوتے دیکھے جا سکیں گے کیونکہ1957کے لوک سبھا چناؤ میں جب یہ سیٹ دو رہنما والی تھی تب اس سیٹ پر پنڈت جواہر لال نہرو اور مسریادین جیتے تھے۔مسریادن دلت برادری کے تھے۔ پھولپور کو اپنی مہم کیلئے چننے کا ایک پیغام یہ بھی ہے ترقی کی دوڑ میں اترپردیش اتنا پچھڑ گیا ہے۔ راہل نے اپنی تقریر میں اس حقیقت کو بخوبی اچھالا۔ پہلی مرتبہ ہم نے راہل گاندھی کو ایک اینگری ینگ مین کی ساکھ اور تیوروں میں دیکھا۔ پیر کو جھونسی کی ریلی میں جارحانہ تیور وں میں راہل نظر آئے اس سے طے ہے کہ اسمبلی چناؤبڑے سنسنی خیز ہونے والے ہیں۔ راہل نے مایاوتی سرکار کو آزادی کے بعد کی سب سے کرپٹ اور لٹیری حکومت کی تشبیہ دے ڈالی۔ ان کے ایک بیان سے بہرحال ضرور ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ انہوں نے نوجوانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کب تک آپ لوگ مہاراشٹر جاکر بھیک مانگو گے؟ کب تک دہلی ، پنجاب میں مزدوری کرتے رہو گے؟ آپ کی وزیر اعلی تو یہاں جیب بھرنے میں لگی ہیں۔ اس حکومت کو اب اکھاڑ پھینکئے۔ راہل نے کہا کہ نیتا جب تک غریب کے گھر جاکر گندے کنویں کا پانی نہیں پیئے گا اس کا پیٹ نہیں خراب نہیں ہوگا وہ غریبوں کے قریب نہیں سمجھا جاسکے گا۔ جو غریبوں کی حالت سمجھتا ہے غصہ اسے ہی آتا ہے۔ ایک وقت ملائم اور مایا کو بھی غصہ آیا کرتا تھا لیکن اب ان کا غصہ مر چکا ہے۔ انہیں صرف اقتدار کی فکر ہے۔ اترپردیش میں غریب 20 سال بعد بھی وہیں کا وہیں ہے۔ بجلی پیداوار کم ہوئی ہے۔ غنڈہ گردی اور کرائم تیزی سے بڑھے ہیں۔ سوچتا ہوں کیوں نہ سیدھے لکھنؤ پہنچ جاؤں اور آپ کی لڑائی لڑوں۔ موجودہ وزیر جیبیں بھر رہے ہیں۔ سپا حکومت میں غنڈے تھانے چلاتے تھے۔ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں سب کو غذا کا حق اور مضبوط لوک پال بل یوپی اے سرکار لائے گی۔
راہل گاندھی نے اپنی ماں سونیا گاندھی کے ساتھ مل کر اترپردیش میں کانگریس کو پھرسے زندہ کرنے کا کام کیا تھا جس کے سبب لوک سبھا میں اس کو سب سے زیادہ سیٹیوں والی ریاست میں 2009ء میں 22 سیٹیں ملی تھیں۔ اس جیت کو اگر اسمبلی سے تجزیہ کرکے دیکھا جائے تو کانگریس کو آنے والے چناؤ میں قریب100 سیٹیں جیتنی چاہئیں لیکن راہل کا مشن 2012ء کا راستہ آسان نہیں ہے۔ بیشک جو باتیں انہوں نے کہی ہیں وہ کافی حد تک صحیح ہیں اور ان کی سراہنا ہونی چاہئے۔ کسی نے تو کہنے کی ہمت دکھائی ہے لیکن جو پوزیشن 2009 ء میں ممکن دکھائی دے رہی تھی وہ 2011ء کے گذرتے گذرتے ناممکن معلوم پڑ رہی ہے کیونکہ منموہن سنگھ سرکار اپنے دوسرے عہد میں سامنے آئے کرپشن کے معاملوں اور جان لیوا مہنگائی کے سبب کانگریس کے لئے ناراضگی بٹور رہی ہے۔ راہل کا یہ کہنا کہ آپ کب تک مہاراشٹر میں بھیک مانگو گے ۔ میری رائے میں انہوں نے صحیح الفاظ کا انتخاب نہیں کیا تھا۔ بہتر ہوتا وہ کہتے کب تک یوپی کے نوجوان مہاراشٹر میں نوکریوں کے لئے بھٹکیں گے؟ نوکری مانگنا بھیک مانگنے کے برابر نہیں ہے۔ جو بات کانگریس کو سب سے زیادہ ستائے گی وہ ہے وہاں پر لچر کانگریس تنظیم۔ راہل گاندھی کی دھواں دھار تقریر پر بسپا کے ساتھ ساتھ جس طرح دیگر پارٹیوں نے بھی رد عمل ظاہر کرنے میں دیر نہیں لگائی ا سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب رہے لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ کانگریس کی اس ریلی کو سیاسی یا چناوی فائدہ مل سکے گا۔ اگر اترپردیش میں کچھ بھی ٹھیک نہیں اور یہاں تک کہ وہاں مافیا راج جیسے حالات ہیں جیسا کہ راہل نے کہا تو پھر ان کی یوپی یونٹ نے اس کے خلاف کوئی مہم کیوں نہیں چھیڑی؟ ریاست میں کانگریس کی سرگرمیوں سے تو ایسا احساس نہیں ہوتا کہ حالات اتنے خراب ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ راہل گاندھی اترپردیش انتظامیہ کی خامیوں کے خلاف رہ رہ کر آواز اٹھانے کے ساتھ ساتھ دورے بھی کرتے رہے ہیں لیکن ان کی اپنی پارٹی نے عام جنتا کے درمیان ان کا پیغام پہنچانے کی کوئی سنجیدہ کوشش شاید ہی کی ہو۔ راہل کی اس ریلی سے بیشک سیاسی ہلچل مچ گئی ہے لیکن ایک اکیلی ریلی سے یوپی کے سیاسی تجزیئے شاید ہی بدل پائیں؟ شہ مات کا یہ کھیل ابھی تو شروع ہوا ہے آگے آگے دیکھے ہوتا ہے کیا۔
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Congress, Daily Pratap, Mayawati, Rahul Gandhi, Vir Arjun

طالبہ کے پتا کا حملہ آور گرفتار !

کاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کے دوران ایک دلت نابالغ طالبہ کے والد پر قاتلانہ حملہ کے الزام میں خودساختہ اپنے آپ کو ہندو وادی و...