یوپی اے سرکار کی مشکلیں تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ ایک طرف تو سرکار کے اتحادی ساتھیوں نے حکومت اور کانگریس پارٹی کا ناک میں دم کررکھا ہے وہیں دوسری طرف کانگریس کے اندر بھی اب گھمسان مچ گیا ہے۔ راشٹروادی کانگریس پارٹی پہلے سے ناراض چل رہی ہے اور اب تو اس کے لیڈروں نے کانگریس لیڈر شپ کو وارننگ دینا شروع کردی ہے۔ راشٹروادی کانگریس پارٹی نے کانگریس کو وارننگ دی ہے کہ اگر یوپی اے اتحاد کیلئے تال میل کمیٹی اور ساتھیوں کے ساتھ مناسب برتاؤ جیسی ان کی مانگوں کا بدھوار تک کوئی حل نہیں نکلا تو وہ حکومت سے الگ ہوسکتی ہے۔ شرد پوار کی پارٹی نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر وہ مرکزی سرکار سے الگ ہوتی ہے تو اس کا اثر مہاراشٹر میں اتحادی حکومت پر بھی پڑے گا کیونکہ ریاست کے لیڈر کانگریس یوپی اے کیبنٹ سے الگ ہونے کے حق میں ہے۔ راشٹروادی کانگریس پارٹی مہاراشٹر میں کانگریس سرکار کے ساتھ پچھلے 13 سال سے اتحادی محاذ میں ہے۔ ابھی اتحادی این سی پی کے ساتھ کانگریس کی تکرار رکی نہیں تھی کہ پارٹی کے اندربھی بغاوت شروع ہوگئی ہے۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان کے خلاف انہی کے ممبران اسمبلی نے ان کی شکایت پارٹی ہائی کمان سے کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چوہان اپنی منمانی کررہے ہیں۔ ولاس راؤ دیشمکھ کے حمایتی 42 ممبران اسمبلی نے ایک شکایتی خط ہائی کمان کو لکھا ہے۔ اس میں پارٹی ہائی کمان سے وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان کو فوراً عہدے سے ہٹانے کی مانگ کی گئی ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ادھر شردپوار اینڈ کمپنی بغاوتی تیور دکھا رہی ہے تو ادھر کانگریس پارٹی ممبر اسمبلی بھی اپنے وزیر اعلی کے خلاف چارج شیٹ پیش کررہے ہیں؟شرد پواردباؤ بنانے میں ماہر ہیں اور کانگریس لیڈر شپ میں وہی یہ کام آج کل کررہے ہیں۔ کانگریس کی مشکل یہ ہوتی جارہی ہے کہ پارٹی کو مرکزی اورریاستی سطح پر مسلسل تضادی سیاست سے سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مرکز کی سیاست کہتی ہے کہ اسے اتحادی اور حمایتی پارٹیوں سے اچھے رشتے رکھنے چاہئیں تاکہ منموہن سنگھ سرکار بنی رہے جبکہ اس کی ریاستی یونٹ اس کی خلاف ہے کیونکہ انہیں وہاں اسی سیاسی پارٹیوں سے دو دو ہاتھ کرنے پڑ رہے ہیں جس کو مرکز میں آج کل بیحد دلار مل رہا ہے۔اس میں پہلا نمبر ترنمول کانگریس کے ساتھ ہے۔ دہلی میں کانگریس کو جتنا زیادہ ترنمول کی ضرورت ہے مغربی بنگال کی کانگریس یونٹ کو اتنی ہی نفرت ترنمول سے ہے۔ اسے گذشتہ دنوں ترنمول سے بے عزت ہونا پڑا ہے۔ پردیش کانگریس صدر پردیپ بھٹاچاریہ تو کئی بار کھلے عام کہہ چکے ہیں کہ آخرمرکز میں اقتدار کی خاطر ہم کب تک ترنمول کانگریس ورکروں سے پٹتے رہے ہیں؟ اوپر سے ممتا آئے دن یہ کہتے نہیں تھکتییں کہ کانگریس اس کا ساتھ کل چھوڑتی ہے تو آج چھوڑ دے۔ اب تو ممتا نے کھلے عام یہ اعلان کردیا ہے کہ مغربی بنگال کے آنے والے اسمبلی چناؤ بغیر کانگریس کے ہی لڑے گی۔ پچھلی بار بھی ٹکٹ بٹوارے میں کانگریس کے ترنمول سے بیحد بے عزتی کا سمجھوتہ کرنا پڑا تھا۔ مہاراشٹر میں بھی کانگریس این سی پی کو لیکر یہ ہی دکھڑا رو رہی ہے۔ کہاں تو وہ اقتدار میں برابر کی سانجھے دار ہے اور ملائی دار وزارت این سی پی نے اپنے ہاتھوں میں لئے ہوئے ہیں۔ مہاراشٹر کی کانگریس یونٹ کو یہ لگ رہا ہے کہ گھوٹالے پر گھوٹالے تو این سی پی کررہی ہے اور خمیازہ اسے نہ بھگتنا پڑ جائے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ریاستی یونٹ ایک وائٹ پیپر لانے کا مطالبہ کررہی ہے۔ شرد پوار اینڈ کمپنی کو یہ ڈر ستا رہا ہے کہ اگر کسی قسم کا وائٹ پیپر مہاراشٹر حکومت لیکر آتی ہے تو ان کے گھوٹالوں کا پردہ فاش ہوجائے گا جس کا خمیازہ اسے اسمبلی چناؤ میں بھگتنا پڑے گا۔ پرتھوی راج چوہان ایک ایماندار لیڈر کی ساکھ رکھتے ہیں اور وہ پوار اینڈ کمپنی کے دباؤ یا بلیک میلنگ میں نہیں آنے والے ہیں اس لئے اب پوار کی کوشش ہے کہ چوہان کو ہٹوا ہی دیا جائے۔ اسی طرح اترپردیش کانگریس یونٹ بھی دکھی ہے۔ پردیش کے ایم پی کہہ رہے ہیں کہ مرکزی سرکار دونوں ہاتھوں سے سپا کو پیسہ لٹا رہی ہے۔ اس کا استعمال اس کے ہی خلاف ہونا ہے۔ اگر سپا سے اسی طرح کے رشتے کانگریس نبھاتی رہی تو اگلے چناؤ میں کانگریس کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا۔ 22 کی جگہ وہ دو سیٹوں تک محدود ہوجائے گی۔ کل ملاکر کانگریس ہائی کمان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ مرکز میں اقتدار کی خاطر وہ ریاستوں میں اپنی یونٹوں کو کتنا نقصان پہنچانے کے لئے تیار ہے۔ ویسے ابھی تک تو کانگریس ہائی کمان کی یہ پالیسی رہی ہے کہ ریاست جائے بھاڑ میں مرکز میں اقتدار بنا رہنا چاہئے۔
Translater
NCP لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
NCP لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
26 جولائی 2012
24 جولائی 2012
شرد پوار کی لڑائی نمبردو کی حیثیت کیلئے نہیں ہے
تمام کوششوں کے باوجوداین سی پی اور کانگریس لیڈر شپ کے درمیان پیدا ہوئی سیاسی خلیج دور نہیں ہو پارہی ہے کیونکہ اس مرتبہ این سی پی چیف شرد پوار نے کافی اڑیل رویہ اپنالیا ہے۔ لگتا ہے اب یہ ہے کہ اب شرد پوار اینڈ کمپنی اپنی راہ طے کرچکے ہیں۔ این سی پی کے ترجمان ڈی پی ترپاٹھی کے مطابق این سی پی چیف نے ابھی تک اتنا کھل کر سرکار کے کام کاج کی مخالفت نہیں کی تھی اس لئے مہاراشٹر سرکار کو لیکر دہلی تک تال میل کی سطح پر سب کچھ بہتر نہیں تو این سی پی سرکار سے کنارہ کرنے کا من بنا چکی ہے۔ کیا پوار اس لئے کیبنٹ چھوڑنا چاہتے ہیں کانگریس لیڈر شپ انہیں منموہن سرکار میں نمبر دو کی پوزیشن دینے کو تیار نہیں ہے؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تو بہانا ہے اصل میں پوار کا زیادہ جھگڑا مہاراشٹر میں وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان کے طور طریقوں کو لیکر ہے۔ کافی دنوں سے پوار اور پرتھوی راج کے درمیان کشیدگی جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے پوار اور ان کی پارٹی کے لیڈروں کے مفادات کے خلاف ریاستی حکومت نے جو مہم چھیڑ رکھی ہے اس سے این سی پی خفا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ کیبنٹ میں سینیرٹی میں دوسرے نمبر کی آڑ میں راشٹروادی کانگریس پارٹی این سی پی نے یوپی اے سرکار پر دباؤ بنا کر سرکار سے باہر نکل جانے کی بات تک کہہ ڈالی ہے۔ شرد پوار کی اصل ناراضگی کی وجہ مہاراشٹر میں ہے۔ مہاراشٹر پوار کا اصل گڑھ ہے۔ جب سے پرتھوری راج چوہان وزیر اعلی بنے ہیں تبھی سے کانگریس اور این سی پی میں ٹکراؤ چل رہا ہے۔ پوار اینڈ کمپنی کا الزام ہے کہ کانگریس نے سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت مراٹھ واڑا میں این سی پی کا اثر کم کرنے کے لئے وہاں کی ساری دیہی اسکیموں کوداؤ پر رکھا ہوا ہے۔ مہاراشٹر سرکار خور شری پوار اور ان کی لڑکی سپریا سلے اور پرفل پٹیل کے چناؤ حلقے میں مختلف اسکیموں کو لٹکانے کی سیاست پر چل رہے ہیں۔ مہاراشٹر میں کانگریس این سی پی کی ملی جلی حکومت ہے۔ شرد پوار کے بھتیجے اجیت پوار وزیر مالیات ہونے کے باوجود لاچار مانے جاتے ہیں۔ پرتھوی راج چوہان کی ساری فائلیں دبائے بیٹھے ہیں۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ شرد پوار کی ناراضگی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے وزیر اعلی کے عہد میں ایک سینچائی اسکیم میں الاٹ بجٹ سے 26 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کی جانچ بھی ہے۔ اس پروجیکٹ میں پوار کے رشتے داروں کو ٹھیکے ملے تھے۔ اب اس پروجیکٹ پر ہوئے خرچ کی جانچ کی رفتار کو جہاں پوار سست کرنا چاہتے ہیں وہیں ایک معاملہ مہاراشٹر ہاؤسنگ گھوٹالے سے وابستہ ہے۔ دہلی میں بنے دوسرے مہاراشٹر سدن کی تعمیر کے وقت اس کی اسکیم رقم 52 کروڑ روپے تھی ،آخر میں یہ سدن تیار ہوتے ہوتے اس کی رقم 152 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ مہاراشٹر سدن گھوٹالے کی جانچ کی مانگ کو لیکر بھاجپا نیتا کرت سمیا نے حال ہی میں صدرسے بھی شکایت کی تھی اس معاملے میں بھی مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی چھگن بھجبل کے قریبی رشتے داروں کو ٹھیکہ دیا گیا تھا۔ مہاراشٹر سدن میں گھوٹالے کی بات سامنے آنے پر خود صدر نے اپنے کو اس کے افتتاحی پروگرام سے الگ کرلیا۔ شرد پوار کو اندیشہ ہے کہ جس طرح بھاجپا اس مسئلے کو اٹھا رہی ہے اس سے بھی معاملے کی جانچ ہوئی تو ان کی پارٹی کیلئے پریشانی کھڑی ہوسکتی ہے۔پرفل پٹیل پر بھی طرح طرح کے الزام ہیں۔ خود شرد پوار کے وزیر ذراعت کی حیثیت سے غذائی درآمد برآمد کے معاملے بھی تنازعوں میں ہیں اس لئے لڑائی کی جڑ نمبر دو کی حیثیت کی نہیں۔ یہ معاملہ زیادہ سنگین ہے جو اتنی آسانی سے شاید ہی سلجھ پائے۔ دراصل شرد پوار کو اس بات کی فکر ہے کہ کہیں کانگریس لیڈر شپ اس سال کے آخر تک لوک سبھا کے وسط مدتی چناؤ نہ کروالے۔ پھر مہاراشٹر اسمبلی کے چناؤ بھی 2014ء میں ہونے ہیں۔ ویسے لوک سبھا چناؤ اگر اپنے مقررہ وقت اپریل2014ء میں ہوتے ہیں تو مہاراشٹر اسمبلی چناؤ اکتوبر 2014ء میں ہوں گے۔ اگر لوک سبھا چناؤ میں این سی پی کی پوزیشن کمزور ہوتی ہے تو اس کا اثر مہاراشٹر اسمبلی چناؤ پر بھی سیدھا پڑ سکتا ہے۔ سوال تو اب مہاراشٹر میں کانگریس ۔این سی پی اتحاد سرکار کے مستقبل کو لیکر بھی کھڑا ہورہا ہے۔ دوسری طرف شیو سینا میں آئی دراڑ ختم ہوچکی ہے۔ راج ٹھاکرے اور اوددھو ٹھاکرے کے درمیان بھی دوریاں کم ہورہی ہیں۔ اگر شیو سینا ایک ہوجاتی ہے تو شیو سینا ، ایم این ایس اور بھاجپا مہاراشٹر میں کانگریس ۔ این سی پی اتحاد کی چھٹی کر سکتی ہے۔اس لئے معاملہ زیادہ سنگین ہے۔ یہ لڑائی صرف نمبر دو کی حیثیت کی نہیں اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔
20 مئی 2012
قصاب کی مہمان نوازی پر ہورہے 20 کروڑ کا خرچ کون برداشت کرے؟
سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ رحم کی اپیلوں کے معاملے میں اس کے سامنے دو معاملے التوا میں ہیں۔ ان معاملوں میں وہ کچھ ایسی ہدایت دے سکتی ہے جو صدر کے پاس التوا میں پڑی رحم کی اپیلوں کو لائن میں لگا سکتی ہے۔اس لئے بہتر ہوگا کہ وہ رحم کی اپیلوں کے نپٹارے کے لئے کوئی وقت یا میعاد مقرر کرے۔ جسٹس جی ایس سنگھوی، ایس جے مکھ اپادھیائے کی ڈویژن بنچ نے کہا ہے کہ مرکز وقت اور میعاد مقرر کرنے پر غور کرے۔ حالانکہ معافی دینے کے صدر کے مخصوص اختیارات پر وہ کوئی ہدایت نہیں دینا چاہتے۔ عدالت نے کہا ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ سرکار جلد بازی میں فیصلہ کرے کیونکہ اس سے اس کے سامنے التوا معاملوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ عدالت نے یہ رائے زنی کرتے ہوئے کہا کہ حالانکہ ہم نے دیکھا ہے کہ حکومت نے بھلر کے معاملے میں سرگرمی تبھی دکھائی جب اس نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔ اس کی عرضی کے ایک ماہ بعد ہی حکومت نے اسے خارج کردیا۔ اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا اس کے مقدمے کے نفع نقصان کی بنیاد پر فیصلہ ہوا ہے۔ صدر کے سامنے رحم کی عرضیوں کے برسوں تک لٹکے رہنے کے خلاف موت کی سزا یافتہ دو قصورواروں دیویندر سنگھ بھلر اور مہندر ناتھ داس نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ انہیں آئین کی دفعہ 21 کے تحت ملے اختیارات کی خلاف ورزی ہے اس لئے ان کی سزاؤں کو اب عمر قید میں بدل دیا جائے۔ دونوں عرضیوں پر صدر کے یہاں تقریباً 7 برسوں سے زیادہ کی تاخیر ہوچکی ہے۔ادھر سکھا راحت کے معاملے پر دہلی ہائی کورٹ سے خالی ہاتھ لوٹے مہاراشٹر کے وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان نے کہا ہے کہ آرتھر روڈ جیل میں بند اجمل قصاب کی سکیورٹی کا خرچ مہاراشٹر سرکار کے سر ڈالنا سراسر غلط ہے۔ چوہان نے وزیر داخلہ پی چدمبرم کو ایک خط لکھ کر مانگ کی ہے کہ قصاب کی سلامتی پر خرچ ہوئے قریب20 کروڑ روپے کو مرکزی سرکار برداشت کرے۔ چوہان نے یہ خط این سی پی نیتا اور ریاست کے وزیر داخلہ آر آر پاٹل کے اس بیان کے بعد لکھا ہے جس میں انہوں نے قصاب کی اتنی لمبی دیکھ بھال کو غلط بتایا تھا۔ اجمل قصاب کی سلامتی میں لگی انڈو تبت پولیس نے مہاراشٹر سرکار کے پاس 28 مارچ 2009 سے لیکر 30 ستمبر 2011 تک کے قریب20 کروڑ روپے کا بل بھیج دیا ہے۔ یہ بل آئی ٹی بی پی کے ان ملازمین کی تنخواہ اور بھتوں پر خرچ ہوا ہے جو قصاب کی سلامتی میں لگے ہوئے ہیں۔ پہلے ہی سے اقتصادی بحران کا شکار مہاراشٹر سرکار پر 20 کروڑ روپے کا خرچ کسی بوجھ سے کم نہیں ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے وزیر اعلی چوہان نے چدمبرم کو خط بھیجا ہے۔ مرکزی سرکا ر اور ریاستی سرکار کے درمیان رسہ کشی کا یہ معاملہ آنے والے دنوں میں طول پکڑ سکتا ہے۔ قصاب کو مبینہ طور سے سرکاری مہمان کے طور پررکھے جانے کو لیکر شیو سینا کئی بار مرکز اور ریاستی سرکار پر حملہ کرچکی ہے۔ این سی پی کو بھی اب لگنے لگا ہے کہ مراٹھی مانش کے اشو سے دور ہوجانے کی وجہ سے حال کے بلدیاتی انتخابات میں ممبئی کے ووٹروں نے اسے پوری طرح سے نامنظور کردیا ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کب تک اجمل قصاب کی دیش یوں ہی خاطر داری کرتا رہے گا؟ آخر کوئی وقت ،میعاد تو طے کرنی ہی ہوگی؟
27 نومبر 2011
شرد پوار کو تھپڑآخر کیوں پڑا؟
Published On 27th November 2011
انل نریندر
جمعرات کو نئی دہلی کے این ڈی ایم سی سینٹر میں افکو کے ایک پروگرام میں بطور مہمان خصوصی آئے مرکزی وزیر زراعت نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ اس دن ان کے ساتھ کیا گذرنے والی ہے۔ پروگرام کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرنے کیلئے پوار جب باہر کی طرف نکلے تو تبھی ایک سکھ شخص نے آگے بڑھ کر ان کے گال پر طمانچہ جڑدیا۔ پوار کو سمجھ میں نہیں آیا آخر اچانک ہوا کیا۔ وہ چپ چاپ آگے بڑھ گئے۔ وزیر کے اسٹاف کی دھکا مکی سے ناراض اس شخص نے اپنی کرپان نکال لی اور احتجاج کے طور پر اپنے ہاتھ کی نس کاٹنے کی کوشش کی۔ این ڈی ایم سی کے گارڈوں نے اس شخص کو بڑی مشکل سے قابو کر پولیس کے حوالے کیا۔ حملہ آور کا نام ہروندر سنگھ ہے اور وہ دہلی کے وجے وہار میں رہتا ہے۔ وہ نعرے لگا رہا تھا ''و ہ بھرشٹ ہیں ، میں یہاں منتری کو تھپڑ ہی مارنے آیا تھا،وہ سبھی بدعنوان ہیں۔ اس نے آگے کہا کہ آج گورو تیغ بہادر کی شہادت کا دن ہے۔ حالات اور بھی برے ہوسکتے تھے میں نے ہی روہنی عدالت میں سکھرام کو بھی مارا تھا۔ میں سکھ ہوں ،چپل نہیں ماروں گا، صرف بھاشن دیتے ہیں بھگت سنگھ کو بھول گئے جس نے قربانی دی، مارو مارو مجھے خوب مارو میں پاگل ہوں۔ ان کے پاس گھوٹالے کے علاوہ کچھ نہیں ہے، میں غلط نہیں ہوں۔شرد پوارپر طمانچے کی گونج نے دہلی کی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اپوزیشن نے اس واقعے کی مذمت کی ہے لیکن اسے مہنگائی سے پیدا غصہ قراردے کر سرکار پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ وہیں کانگریس نے اس واقعے کے لئے بھاجپا نیتا یشونت سنگھ کو غیر ذمہ دارانہ بیان پر نشانہ بنایا۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ اور کانگریس صدر سونیا گاندھی نے پوار سے بات چیت کر پورے واقعے کی مذمت کی۔ کانگریس کے پارلیمانی وزیر ہریش راوت نے کہا یشونت سنہا کے بیان ' مہنگائی نہیں رکی تو تشدد ہوگا'واپس لینا چاہئے۔ایسی رائے بنانا غلط ہے وہیں بھاجپا نیتا یشونت سنہا نے کہا کہ یہ شخص میرے بیان سے پہلے ہی سکھرام کو تھپڑ مار چکا ہے۔ ایسے میں اسے مجھ سے جوڑا جانا ٹھیک نہیں ہے۔ بھاجپا کی لیڈر سشما سوراج کا تبصرہ تھا کہ بھاجپا اس کی مذمت کرتی ہے۔عدم تشددکے ذریعے ناراضگی جتائی جانا چاہئے۔پوار عمر کے سبب احترام کے لائق ہیں وہیں سب سے دلچسپ تبصرہ انا ہزارے کا تھا۔ انہوں نے پوار پر حملے کی اطلاع ملنے پر پہلے رد عمل کے طور پر پوچھا کہ ''صرف ایک تھپڑ؟'' بعد میں انہوں نے اس کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں تشدد کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا پوار کو تھپڑ پڑنا جمہوریت پر طمانچہ ہے۔ جنتا میں اس واقعہ ا کیا رد عمل ہوا ہے کچھ تبصرے پیش ہیں۔مرکزی وزیر شرد پوار کو پڑا تھپڑ کسی نیتا یا منتری پر نہیں بلکہ ان کے ذریعے بنائے گئے سسٹم پر ہے جس سے عام لوگوں کا پورا بجٹ بگڑ گیا ہے۔ وہ عام آدمی کیا کرے جس کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا ہو۔ دہلی والوں نے اسی طرح کی رائے زنی کی ہے۔ مہنگائی گھروں کے کچن کے ساتھ لوگوں کے خوابوں پر بھی حملہ کررہی ہے۔ایک انسان اپنے بچے کو پڑھا کر کچھ بنانے کے خواب دیکھنے سے پہلے یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اس کے لئے پیسے کیسے کیسے بچائیں۔ کیرل کی ایک طالباکا نظریہ ہے میور وہار کی ایک ورکنگ خاتون نے کہا یہ تھپڑ ایک عام آدمی کا نہیں پورے دیش کی جنتا کا ہے ۔ دیش کے نیتاؤں اور وزرا کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ جنتا اپنے طریقے سے جواب دینا سیکھ رہی ہے۔ اسے پانچ سال تک بہلا پھسلا کر بیوقوف نہیں بنا سکتے۔ کوٹلہ فیروز شاہ کی ایک خاتون کا کہنا تھا کہ پریشانی ہے تو لوگ ایسا کرنے کے لئے مجبور ہورہے ہیں۔ وزیر دفتر میں بیٹھ کر جو پالیسی تیار کرتے ہیں وہ عام آدمی کی کمر توڑنے والی ہوتی ہے ایسے میں لوگ کیا کریں ۔ ان کے پاس کوئی متبادل نہیں۔ سیوا نگر میں ایک سیاسی ورکر کا کہنا تھا پریشانی اپنی جگہ ہے لیکن ہر جگہ تھپڑ مارنا ٹھیک نہیں ہے۔ سبق سکھانا ہے تو چناؤ میں سکھائیں۔ لوگ بھی کیا کریں جب ان کے نمائندے امید پر کھرے نہیں اترتے تو وہ تیش میں آجاتے ہیں اور یہی تیش تھپڑ کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ ایک تاجر کی رائے تھی سرکار جب سورہی ہو تو اسے جگانے کیلئے اس بہتر طریقہ اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ سپریم کورٹ کے وکیل آر کے شرما کا خیال ہے کہ لوگوں کا غصہ جائز ہے۔ وزیر ، نیتا اور ان کے رشتے دار کروڑوں اربوں میں کھیل رہے ہیں ۔ عام آدمی بھرپیٹ کھانے سے پہلے بھی سوچتا ہے کہ حالت خطرناک ہے اور دیش کے پالیسی سازوں کو اب سنجیدگی سے جنتا کے دکھ درد کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ میکس ہسپتال کے ڈاکٹر سمیر پاریکھ کا کہنا ہے کہ اپنی ناراضگی نکالنے کا یہ طریقہ کاپی کیٹ یعنی نقل کرنا کہا جاسکتا ہے۔ جب لوگ دوسرے کی نقل کرتے ہیں وہ کسی پر حملہ کرتے ہیں اور اسے چوٹ پہنچاتے ہیں تو وہ ایک بھدی پبلسٹی کے بھوکے ہوتے ہیں۔ حملہ کرنے والا پہلے کے واقعے سے کہیں نہ کہیں ضرور ترغیب پا چکا ہے اور اسے لگتا ہے کہ اسے بھی لوگوں کی توجہ مل سکتی ہے۔
شرد پوار پر ہوئے حملے سے سیاسی پارہ بھی تیز ہوگا۔ پوار کی پارٹی این سی پی اندر خانے کانگریس سے سخت خفا ہے ۔ اسے لگ رہا ہے کہ جس طرح سے کانگریس نے پوار کو مہنگائی کی علامت بنایا ہے اس کی وجہ سے حالات یہاں تک پہنچے۔ اگرچہ فوری طور پر کانگریس کے نیتا پوار کے بچاؤ میں اترے لیکن این سی پی اس واقعے سے بہت مایوس ہے۔ وزیر ہیوی صنعت پرفل پٹیل نے کہا بڑے نیتاؤں کی سلامتی پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہئے اور ان پر حملے کے بعد مہاراشٹر میں کچھ علاقوں میں پارٹی ورکروں کے مشتعل رویئے پر پٹیل نے صبر و تحمل رکھنے کی اپیل کی۔ معاملے کے پیچھے بھاجپا کا ہاتھ ہونے کا اندیشہ ہے ۔ انہوں نے کہا مجھے نہیں لگتا کہ اس میں کسی سیاسی پارٹی کا ہاتھ ہے اس بارے میں پارٹی اس لئے بھی ناراض ہے کہ کانگریس مسلسل مہنگائی کے مسئلے پر شرد پوار کو ہی آگے رکھتی تھی۔ بیشک بدعنوانی اور مہنگائی سے دیش پریشان ہے اور غصے میں ہے لیکن اس کا حل یہ نہیں کہ ہم چاروں طرف آگ لگانا شروع کردیں اور جو سامنے آئے اس پر ٹوٹ پڑیں۔ اس سے حل تو کیا نکلے گا ہاں چاروں طرف بدامنی ضرور پھیل جائیگی۔ وہیں سیاستدانوں کو بھی سمجھ لینا چاہئے کہ عوام کا موڈ کیا ہے۔ ہمارے سامنے مشرقی ایشیا کی مثال ہے جہاں ایک چھوٹی سی چنگاری نے دیش میں آگ لگا دی ہے۔ سیاستدانوں کو اس ٹرینڈ سے ڈرنا چاہئے۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Congress, Daily Pratap, Maharashtra, Manmohan Singh, NCP, Sharad Pawar, Sonia Gandhi, Sushma Swaraj, Vir Arjun, Yashwant Sinha
09 جولائی 2011
ڈی ایم کے کا تیسرا کرپٹ وکٹ ڈاؤن، مارن کا استعفیٰ
وپی اے کی کچھ اتحادی پارٹیوں نے منموہن سنگھ حکومت کا ساتھ و حمایت اس لئے دی تھی کہ وہ دیش کو لوٹ سکیں۔ ان کا واحدمقصد پیسہ کمانا تھا اور ہے۔ ان میں خاص ہے ڈی ایم کے حالانکہ این سی پی بھی اسی زمرے میں آتی ہے لیکن فی الحال ڈی ایم کے کا نمبر لگا ہے۔ ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ میں ڈی ایم کے کو آخر کار تیسرا وکٹ گنوانا پڑا۔ مرکزی وزیر کپڑا دیاندھی مارن کا معاملہ جیل میں بند اے راجہ اور ڈی ایم کے ایم پی کروناندھی کی بیٹی کنی موجھی سے بھی ایک قدم آگے ہے۔ دیا ندھی مارن نے یوپی اے حکومت میں مرکزی وزیر مواصلات رہتے ہوئے کمال ہی کرڈالا۔ سی بی آئی نے بدھوار کو سپریم کورٹ میں اسٹیٹس رپورٹ پیش کرتے ہوئے بیان دیا کہ مارن نے ایئر سیل کمپنی کی حصہ داری ملیشیائی کمپنی میکسس کو فروخت کروائی۔ پھر اسے لائسنس دے کر بدلے میں 675 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری اپنے سن ٹی وی میں کروا دی۔ سی بی آئی کے وکیل کے کے وینوگوپال نے جسٹس جی ایس سنگھوی اور اے کے گانگولی کی بنچ کو بتایا کہ 2006 ء میں ٹیلی کام وزیر رہتے ہوئے مارن نے چنئی کی کمپنی ایئر سیل کی لائسنس درخواست جان بوجھ کر التوا میں رکھی۔ اسے اپنی حصے دار ملیشیائی کمپنی میکسس کو بیچنے کے لئے مجبور کیا۔ میکسس ، ایئرسیل کو لائسنس دینے کے بدلے میں اپنی ڈی ٹی ایم کمپنی سن ٹی وی کے لئے بڑا سرمایہ حاصل کیا۔ مارن کا فارمولہ آسان تھا ۔ اس ہاتھ لو اس ہاتھ دو۔ میکسس کے وی آنند کرشنن مارن کے رشتہ دار ہیں اس لئے مارن نے ان کے ذریعے یہ فائدے کا سودا کیا۔ دیکھئے یہ کھیل مارن نے کیسے کھیلا۔ دباؤ بنانے کیلئے پہلے تو مارن نے ایئر سیل کے ٹو جی اسپیکٹرم لائسنس درخواست کو دو سال تک روکے رکھا۔ پھر 2006 ء میں ایئر سیل کو اپنی حصے دار میکسس کو بیچنے کے لئے مجبور کیا۔ بدلے میں میکسس نے اپنی ایک ساتھی کمپنی کے ذریعے مارن کی سن ٹی وی میں 675 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی۔ اس کے عوض میں ایئر سیل کی 74 فیصدی حصے داری کو لیکر میکسس کو 23 سرکل کے لائسنس دے دئے۔ کنی موجھی تو کل 200 کروڑ روپے کے گھوٹالے میں شامل تھیں، دیا ندھی مارن نے تو 675 کروڑ روپے کا براہ راست گھپلہ کیا ہے۔
یہ دوسرا موقعہ ہے جب مارن کو وزارت چھوڑنی پڑی ہے۔ اس سے پہلے انہیں 2007ء میں عہدہ اس وقت چھوڑنا پڑا تھا جب کروناندھی خاندان میں اندرونی اختلافات کا شکار ہوئے تھے۔ چنئی سینٹرل سے لوک سبھا کے ممبر مارن عام چناؤ کے بعد مئی 2009ء میں پھر سے کیبنٹ میں شامل ہوئے لیکن اس بار انہیں ٹیلی وزارت نہیں ملی جیسا کے وہ چاہتے تھے۔ بلکہ انہیں کپڑا وزارت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ کانگریس نے بدھوار کو جہاں دیاندھی مارن کے استعفے پر تبصرہ کرنے سے منع کردیا وہیں یہ بھی کہا کہ ڈی ایم کے پارٹی کے ساتھ ان کا اتحاد جاری رہے گا۔ کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ بنیادی حقیقت کی ترجیحات پر سیاسی اتحاد قائم ہوتا ہے۔ ہمارا اتحاد ڈی ایم کے کے ساتھ سال2004 سے جاری ہے اور اس صورت میں کوئی بھی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
کیا اسے محض اتفاق ہی مانا جائے گا کہ منموہن سرکار سے ان تمام کرپٹ وزیروں کا صفایا سپریم کورٹ کے کہنے پر ہورہا ہے یا یہ سب کسی طے شدہ حکمت عملی کے تحت ہورہا ہے؟ ڈی ایم کے کے بعد اب اگلا نمبر این سی پی کے بدعنوان وزیروں کا ہونا چاہئے۔
Tags: 2G, Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, Dayanidhi Maran, DMK, Manmohan Singh, NCP, Supreme Court, Vir Arjun
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل
جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...

