ہر ماں باپ کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو یہ جنک فوڈسے بچائیں۔یہ پیزا، برگر آج کل بچوں کی سب محبوب غذا مانی جارہی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ان کا استعمال بالکل بند کردیا جائے بلکہ ان کا روز بروز کھانا ، بچوں کی صحت کے لئے نقصاندہ ہوسکتا ہے۔ آئے دن یہ سروے آتے رہتے ہیں کہ اس جنک فوڈ کے سبب بچوں میں ذیابیطس کا مرض بڑھ رہا ہے۔ عالمی صحت تنظیم کی ایک رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ نمک برگر، پیزا ،فرینچ فرائی اور فرائی چکن میں ہوتا ہے۔ اگر آپ کو تیز نمک کھانے کی عادت ہے تو چوکس ہوجائیں کیونکہ یہ آپ کے دل اور جسم کو بایو کیمیکل سسٹم کو خراب کرسکتا ہے۔ لیڈی ہارڈنگ کی ایک ڈاکٹر مونیکا سود کے مطابق ایک دن میں صحت مند شخص کو دوملی گرام سے زیادہ نمک کا استعمال نہیں کرناچاہئے۔ امریکی جنرل آف ہائیپرٹینشن کے مطابق فاسٹ فوڈ میں ضرورت سے زیادہ نمک (سوڈیم) کی مقدار ہوتی ہے جس سے دل کے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔ زیادہ نمک سے ہائی بلڈ پریشر، وقت سے پہلے موت کا اندیشہ ہوتا ہے۔ بھارت میں ہائی بلڈ پریشر اور موٹاپے کی ایک بڑی وجہ ضرورت سے زیادہ نمک کا استعمال ہے۔ زیادہ نمک کھانے سے خون کی نسوں میں پانی کے ذرات کا بہاؤ بڑھ جاتا ہے جس سے خون کے دوران میں رکاوٹ آتی ہے اور دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے سبب بلڈ پریشر کا مرض پیدا ہوجاتا ہے۔ جسم میں موجود سوڈیم پیشاب میں چلا جاتا ہے اس سے گردے پر مضر اثر پڑتا ہے۔ گردے میں پتھری بننے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔اس سے گردہ فیل ہونے کا بھی خطرہ بنا رہتا ہے۔ زیادہ نمک کے استعمال سے دل کمزور ہوسکتا ہے۔ جسم میں نمک کی مقدار زیادہ ہونے سے دل کو اپنا کام کرنے میں زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے جس سے دل میں سوجن بڑھ جاتی ہے اور دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک مطالعہ میں پایاگیا ہے کہ پیزا، برگر سے ہندوستانی کھانے بہتر متبادل ہیں۔ اس کے مطابق فاسٹ فوڈ میں مقرر نمک مقدار سے تین گنا زیادہ استعمال کیا جاتا ہے جبکہ ہندوستانی کھانوں میں کم نمک کا استعمال ہوتا ہے۔ لیور پول جون موروس یونیورسٹی کے سروے میں بتایا گیا ہے کہ پیزا میں سب سے زیادہ نمک کی مقدار قریب 9.45 گرام ہوتی ہے۔ یہ وہیں چائنیز فوڈ میں اوسطاً8.1 گرام ، کباب میں 6.2 گرام جبکہ ہندوستانی کھانوں میں یہ 4.7 گرام اور انگلینڈ کے کھانوں میں 2.2 گرام نمک کی مقدار ہوتی ہے۔ مطالعہ کے مطابق پیزا میں اوسطاً12.94 گرام نمک ہوتا ہے جبکہ سی فوڈ پیزا میں 11 گرام نمک ہوتا ہے۔ فاسٹ فوڈ میں نمک کی مقدار کا پتہ لگانے کے لئے یہ پہلا مطالعہ سامنے آیا ہے۔ اس لئے والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو ضرورت سے زیادہ پیزا ،برگر و چائنز فوڈ نہ کھلائیں اور ہندوستانی کھانے اور سبزی وغیرہ کی زیادہ عادت ڈالیں۔
Translater
Junk Food لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Junk Food لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
21 جولائی 2012
24 دسمبر 2011
جج انکل! جنک فوڈ کو پلیز بین کرو
Published On 24th December 2011
انل نریندر
بدھوار کو دہلی ہائیکورٹ میں ایک عجیب و غریب نظارہ دیکھنے کو ملا۔ معاملہ تھا دہلی کے اسکولوں اور کالجوں میں جنک فوڈ پر پابندی لگانے کا۔ عام طور پر ہائیکورٹ میں بچاؤ اور مخالف وکلاء اپنی اپنی دلیلیں پیش کرتے نظرآتے ہیں لیکن بدھ کو کچھ اسکولی بچے خود عدالت میں پیش ہوئے اور جنک فوڈ کو بین کرنے کے لئے عدالت سے درخواست کی۔ قائم مقام چیف جسٹس اے کے سیکری کی رہنمائی والی ڈویژن بنچ نے بچوں کی دلیلوں کو کافی سنجیدگی سے لیا اور دوسرے فریقین سے جواب داخل کرنے کو کہا۔
بچوں نے جج انکل سے کہا جنک فوڈ کو بین کرو پلیز۔ بچوں نے درخواست کی جنک فوڈ پر اسکولوں کی کینٹین اور اس کے آس پاس بکری پر بھی پابندی لگائی جانی چاہئے۔ عدالت کے سامنے گوتم نگر کے فادر ایگنل اسکول کے کچھ بچے دہلی ہائی کورٹ میں آئے۔ ان کی عمر قریب12 سے16 سال ہوگی۔ ان اسکولی بچوں کے ساتھ ان کی ٹیچر بھی تھیں۔ اسکولی بچوں کے وکیل نے عزت مآب جج صاحبان سے کہا کہ ان بچوں نے جنک فوڈ کے خلاف ایک مہم چلائی ہے اور عدالت سے کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ پھر ہائیکورٹ کی ڈبل بینچ ان سے مخاطب ہوئی۔ بچوں کے گروپ سے ایک لڑکی آگے بڑھی اور کہا کہ ہم سب فادر ایگنل اسکول سے ہیں اور ہم جنک فوڈ پر پابندی لگوانا چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی اس نے جج صاحبان کی طرف اپنی نمائندگی اور پوسٹ کارڈ بڑھایا۔ قریب15 سال کی اس لڑکی نے ہائیکورٹ کے ججوں سے کہا کہ وہ تمام طلبا کی طرف سے اپیل کررہی ہے جس پر غور کیا جانا چاہئے۔
بچوں کی اس نمائندگی میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ کافی اہمیت کا حامل ہے۔ جنک فوڈ کھانے سے بچے کاہل ہورہے ہیں اور مستقبل کے لئے یہ جنک فوڈ خطرناک ہے۔تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ جنک فوڈ سے بچوں کی ذہانت کمزور ہوتی ہے اور ان کی صلاحیت بھی کمزور ہورہی ہے۔ جنک فوڈ ایک لت کی طرح ہوتے ہیں جو سلو موت کی طرف لے جاتے ہیں۔ اپنی نمائندگی میں بچوں نے کہا کہ سرکار کی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ بچوں کے حقوق کی حفاظت کرے۔ بچوں کو تو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ ان کے لئے کیا اچھا ہے کیا برا؟ اقوام متحدہ کے چارٹر میں بھی بچوں کے حقوق کے تحفظ کی بات کہی گئی ہے۔
اگر بچوں کی صحت خراب ہوگی تو دیش کا مستقبل متاثر ہوگا اور دیش کو دور رس نقصان ہوگا۔ عزت مآب جج صاحبان نے کہا بچوں کے ذریعے اٹھائے گئے سوال کافی اہم ہیں۔ انہوں نے فوڈ پروسننگ و تقسیم کار کمپنیوں کی ایسوسی ایشن و مرکزی حکومت سے اس معاملے پر ایک ہفتے میں جواب مانگا ہے۔ اتنا ہی نہیں ڈویژن بنچ نے ان کمپنیوں کی ایسوسی ایشن سے ذائقہ دار غذاکا متبادل بھی تیار کرنے کو کہا ۔ وہیں مرکزی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل سالیسٹر یعنی سرکاری وکیل ایس مدھوک نے کہا کہ تعلیمی اداروں و اس کے آس پاس جنک فوڈ کی بکری پر پابندی لگانے کے لئے سبھی ریاستی سرکاروں اور یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر کو ہدایات جاری کی گئی تھیں جس کا جواب آنے لگا ہے۔ انہوں نے کہا اگلی سماعت11 جنوری کو ہے اسی دن یہ سب حقائق پیش کردئے جائیں گے۔ جنک فوڈ سے نہ صرف موٹاپا بڑھتا ہے بلکہ شگر جیسی سنگین بیماریاں بھی ہورہی ہیں۔ حال ہی میں ایک سروے میں یہ ثابت ہوا ہے بچوں نے اب خود ہی اس کا بیڑا اٹھایاہے دیکھیں ان کی یہ مہم کیا رنگ لاتی ہے۔ ساری دنیا میں اب اس جنک فوڈ کی مخالفت ہورہی ہے۔
بچوں نے جج انکل سے کہا جنک فوڈ کو بین کرو پلیز۔ بچوں نے درخواست کی جنک فوڈ پر اسکولوں کی کینٹین اور اس کے آس پاس بکری پر بھی پابندی لگائی جانی چاہئے۔ عدالت کے سامنے گوتم نگر کے فادر ایگنل اسکول کے کچھ بچے دہلی ہائی کورٹ میں آئے۔ ان کی عمر قریب12 سے16 سال ہوگی۔ ان اسکولی بچوں کے ساتھ ان کی ٹیچر بھی تھیں۔ اسکولی بچوں کے وکیل نے عزت مآب جج صاحبان سے کہا کہ ان بچوں نے جنک فوڈ کے خلاف ایک مہم چلائی ہے اور عدالت سے کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ پھر ہائیکورٹ کی ڈبل بینچ ان سے مخاطب ہوئی۔ بچوں کے گروپ سے ایک لڑکی آگے بڑھی اور کہا کہ ہم سب فادر ایگنل اسکول سے ہیں اور ہم جنک فوڈ پر پابندی لگوانا چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی اس نے جج صاحبان کی طرف اپنی نمائندگی اور پوسٹ کارڈ بڑھایا۔ قریب15 سال کی اس لڑکی نے ہائیکورٹ کے ججوں سے کہا کہ وہ تمام طلبا کی طرف سے اپیل کررہی ہے جس پر غور کیا جانا چاہئے۔
بچوں کی اس نمائندگی میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ کافی اہمیت کا حامل ہے۔ جنک فوڈ کھانے سے بچے کاہل ہورہے ہیں اور مستقبل کے لئے یہ جنک فوڈ خطرناک ہے۔تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ جنک فوڈ سے بچوں کی ذہانت کمزور ہوتی ہے اور ان کی صلاحیت بھی کمزور ہورہی ہے۔ جنک فوڈ ایک لت کی طرح ہوتے ہیں جو سلو موت کی طرف لے جاتے ہیں۔ اپنی نمائندگی میں بچوں نے کہا کہ سرکار کی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ بچوں کے حقوق کی حفاظت کرے۔ بچوں کو تو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ ان کے لئے کیا اچھا ہے کیا برا؟ اقوام متحدہ کے چارٹر میں بھی بچوں کے حقوق کے تحفظ کی بات کہی گئی ہے۔
اگر بچوں کی صحت خراب ہوگی تو دیش کا مستقبل متاثر ہوگا اور دیش کو دور رس نقصان ہوگا۔ عزت مآب جج صاحبان نے کہا بچوں کے ذریعے اٹھائے گئے سوال کافی اہم ہیں۔ انہوں نے فوڈ پروسننگ و تقسیم کار کمپنیوں کی ایسوسی ایشن و مرکزی حکومت سے اس معاملے پر ایک ہفتے میں جواب مانگا ہے۔ اتنا ہی نہیں ڈویژن بنچ نے ان کمپنیوں کی ایسوسی ایشن سے ذائقہ دار غذاکا متبادل بھی تیار کرنے کو کہا ۔ وہیں مرکزی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل سالیسٹر یعنی سرکاری وکیل ایس مدھوک نے کہا کہ تعلیمی اداروں و اس کے آس پاس جنک فوڈ کی بکری پر پابندی لگانے کے لئے سبھی ریاستی سرکاروں اور یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر کو ہدایات جاری کی گئی تھیں جس کا جواب آنے لگا ہے۔ انہوں نے کہا اگلی سماعت11 جنوری کو ہے اسی دن یہ سب حقائق پیش کردئے جائیں گے۔ جنک فوڈ سے نہ صرف موٹاپا بڑھتا ہے بلکہ شگر جیسی سنگین بیماریاں بھی ہورہی ہیں۔ حال ہی میں ایک سروے میں یہ ثابت ہوا ہے بچوں نے اب خود ہی اس کا بیڑا اٹھایاہے دیکھیں ان کی یہ مہم کیا رنگ لاتی ہے۔ ساری دنیا میں اب اس جنک فوڈ کی مخالفت ہورہی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Delhi High Court, Junk Food, Vir Arjun
08 اکتوبر 2011
جنک فوڈ پر پابندی کا فیصلہ
کچھ وقت پہلے ایک ڈاکٹر مجھے ملنے آئے تھے۔ باتوں باتوں میں انہوں نے بتایا کہ ہم نے بچوں میں بڑھتی ذیابیطس کی بیماری کا ایک سروے کیا ہے۔ اس میں چونکانے والے نتیجے سامنے آئے ہیں۔ 10 سے14 سال کے بچوں میں ذیابیطس کی بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اتنی تیزی سے پھیلتی اس بیماری کی ایک وجہ جنک فوڈ بھی ہے۔ بچوں میں جنک فوڈ کی بڑھتی لعنت ہی ذیابیطس پھیلا رہی ہے۔
مجھے خوشی ہوئی جب میں نے پڑھا کہ جنک فوڈ سے دیش بھر میں بچوں کی صحت پر برے اثر کو دیکھتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کے روز اسکولوں کی کینٹین میں جنک فوڈ کی فروخت پر پابندی سے متعلق اسکیم بنانے کے لئے مرکز کو ہدایت دی ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ صرف باتوں سے نہیں بلکہ بچوں کو اس خطرے سے بچانے کیلئے ٹھوس قدم اٹھائے جائیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے داخل حلف نامے پر جسٹس اے کے سیکری اور جسٹس سدھارتھ متل کی بنچ نے کہا کہ سرکار صرف باتیں نہ کرے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ یہ یقینی بنانے کے لئے قدم اٹھائے کہ اسکولوں اور تعلیمی اداروں کے قریب جنک فوڈ کی فروخت بند ہو۔ تعلیمی اداروں میں اور ان کے آس پاس جنک فوڈ ، کولڈ ڈرنکس کی بکری بند کرنے کے لئے دائر ایک مفاد عامہ کی عرضی پربنچ نے مرکز سے2 نومبر تک دوبارہ کارروائی رپورٹ مانگی ہے۔ عرضی پر جاری نوٹس کے جواب میں داخل حلف نامے میں مرکزی حکومت نے مانا تھا کہ جنک فوڈ سے صحت پر برا اثر ہوتا ہے۔ ساتھ ہی کہا تھا کہ وہ اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں بہتر غذائی سامان مہیا کرانے کے لئے ضابطے طے کرنے پر غور کررہی ہے۔ مرکز نے یہ بھی کہا کہ جنک فوڈ اور سافٹ ڈرنک موٹاپے، دانتوں میں کھوکھلا پن، شوگر اور دل کے امراض کے لئے ذمہ دار ہے لیکن غذائیت سے متعلق قانون میں جنک فوڈ کی کوئی تشریح نہیں کی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے خوراک کے نقطہ نظر سے خراب غذا کو جنک فوڈ کہا جاسکتا ہے۔
عام طور پر جنک فوڈ کا مطلب جو ہم سمجھتے ہیں وہ ہیں برگر، پیزا،آلوچپس وغیرہ۔ ایسا نہیں کے اس کی اپنی اہمیت نہیں۔ بیرونی ممالک میں بھی یہ سب چیزیں چلتی ہیں اور یہ وہاں کی ہی دین ہیں لیکن ایک بنیادی فرق ہے بیرونی ممالک میں برگر کے ساتھ عام طور پر بچے سلاد وغیرہ کھاتے ہیں اس سے متوازن غذا ہوجاتی ہے۔ لیکن ہمارے یہاں کوئی سلاد وغیرہ ساتھ نہیں ہوتا اور پھر یہ سب اسنیکس کے زمرے میں آتے ہیں لنچ ڈنر کے زمرے میں نہیں۔ ہمارے اسنیکس بھی ہیں جیسے سموسہ، پکوڑا، کچوری وغیرہ وغیرہ لیکن یہ کھانے کا متبادل نہیں ہوسکتے۔ ان کا استعمال بطور اسنیکس ہوسکتاہے۔ برگر ، پیزا، کوک، پیپسی قانونی طور پر بند ہونے سے تو رہے اگر اسکول کی کینٹینوں میں اس کی اتنی آسانی سے دستیابی پر پابندی لگے تو اس کی کھپت میں ضرور کمی آجائے گی اور اگر ہم بچوں میں اس جنک فوڈ کی بڑھتی لعنت پر بھی تھوڑی سے بھی لگام لگا دیں تو میں سمجھتا ہوں کہ ہائی کورٹ کچھ حد تک اپنے مقصد میں کامیاب ہوا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Junk Food, Vir Arjun
مجھے خوشی ہوئی جب میں نے پڑھا کہ جنک فوڈ سے دیش بھر میں بچوں کی صحت پر برے اثر کو دیکھتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کے روز اسکولوں کی کینٹین میں جنک فوڈ کی فروخت پر پابندی سے متعلق اسکیم بنانے کے لئے مرکز کو ہدایت دی ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ صرف باتوں سے نہیں بلکہ بچوں کو اس خطرے سے بچانے کیلئے ٹھوس قدم اٹھائے جائیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے داخل حلف نامے پر جسٹس اے کے سیکری اور جسٹس سدھارتھ متل کی بنچ نے کہا کہ سرکار صرف باتیں نہ کرے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ یہ یقینی بنانے کے لئے قدم اٹھائے کہ اسکولوں اور تعلیمی اداروں کے قریب جنک فوڈ کی فروخت بند ہو۔ تعلیمی اداروں میں اور ان کے آس پاس جنک فوڈ ، کولڈ ڈرنکس کی بکری بند کرنے کے لئے دائر ایک مفاد عامہ کی عرضی پربنچ نے مرکز سے2 نومبر تک دوبارہ کارروائی رپورٹ مانگی ہے۔ عرضی پر جاری نوٹس کے جواب میں داخل حلف نامے میں مرکزی حکومت نے مانا تھا کہ جنک فوڈ سے صحت پر برا اثر ہوتا ہے۔ ساتھ ہی کہا تھا کہ وہ اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں بہتر غذائی سامان مہیا کرانے کے لئے ضابطے طے کرنے پر غور کررہی ہے۔ مرکز نے یہ بھی کہا کہ جنک فوڈ اور سافٹ ڈرنک موٹاپے، دانتوں میں کھوکھلا پن، شوگر اور دل کے امراض کے لئے ذمہ دار ہے لیکن غذائیت سے متعلق قانون میں جنک فوڈ کی کوئی تشریح نہیں کی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے خوراک کے نقطہ نظر سے خراب غذا کو جنک فوڈ کہا جاسکتا ہے۔
عام طور پر جنک فوڈ کا مطلب جو ہم سمجھتے ہیں وہ ہیں برگر، پیزا،آلوچپس وغیرہ۔ ایسا نہیں کے اس کی اپنی اہمیت نہیں۔ بیرونی ممالک میں بھی یہ سب چیزیں چلتی ہیں اور یہ وہاں کی ہی دین ہیں لیکن ایک بنیادی فرق ہے بیرونی ممالک میں برگر کے ساتھ عام طور پر بچے سلاد وغیرہ کھاتے ہیں اس سے متوازن غذا ہوجاتی ہے۔ لیکن ہمارے یہاں کوئی سلاد وغیرہ ساتھ نہیں ہوتا اور پھر یہ سب اسنیکس کے زمرے میں آتے ہیں لنچ ڈنر کے زمرے میں نہیں۔ ہمارے اسنیکس بھی ہیں جیسے سموسہ، پکوڑا، کچوری وغیرہ وغیرہ لیکن یہ کھانے کا متبادل نہیں ہوسکتے۔ ان کا استعمال بطور اسنیکس ہوسکتاہے۔ برگر ، پیزا، کوک، پیپسی قانونی طور پر بند ہونے سے تو رہے اگر اسکول کی کینٹینوں میں اس کی اتنی آسانی سے دستیابی پر پابندی لگے تو اس کی کھپت میں ضرور کمی آجائے گی اور اگر ہم بچوں میں اس جنک فوڈ کی بڑھتی لعنت پر بھی تھوڑی سے بھی لگام لگا دیں تو میں سمجھتا ہوں کہ ہائی کورٹ کچھ حد تک اپنے مقصد میں کامیاب ہوا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Junk Food, Vir Arjun
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل
جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...
