Translater

Lashkar e Toeba لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Lashkar e Toeba لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

17 جولائی 2012

لشکرسب سے خطرناک انتہا پسندتنظیم اور پاکستان سب سے خطرناک ملک

انتہا پسند حافظ سعید اور حال میں گرفتار ہوئے ابو جندال کے مطابق بھی 26/11 ممبئی حملوں کے پیچھے لشکر طیبہ اور آئی ایس آئی کا براہ راست ہاتھ تھا۔ ممبئی کے 2008ء آتنکی حملے کے دوران کراچی میں کنٹرول روم میں آئی ایس آئی کا افسر میجر سمیر علی کا موجود ہونا اس کو ثابت کرنے کیلئے کافی ثبوت ہے کہ لشکر اور آئی ایس آئی مل کر ہندوستان و دنیا کے خلاف دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں۔ یہ کہنا اس لئے بھی غلط نہ ہوگا کہ آج کی تاریخ میں لشکر طیبہ القاعدہ سے بھی زیادہ خطرناک انتہا پسند تنظیم بن چکی ہے اور پاکستان دنیا کا اس نقطہ نظر سے سب سے خطرناک ملک بن گیا ہے۔ حال ہی میں ایک سابق آئی ایس آئی افسر کا بھی خیال ہے کہ لشکر طیبہ اب دنیا کی سب سے خطرناک انتہا پسند تنظیم ہے۔ سابق آئی ایس آئی تجزیہ نگار بروس ریڈل جو آج کل جانس ہاکن اسکول میں ایک پروفیسر ہیں، کا کہنا ہے کہ لشکر پاکستان کے اندر آزادانہ طور پر کام کررہی ہے اور پاکستانی مسلح فورسز اور دیش کے خفیہ اداروں کے ساتھ مضبوط کنکشن ہیں۔فی الحال چونکہ ریڈل ایک پرائیویٹ ادارے کے ساتھ کام کررہے ہیں اس لئے ان کی رائے کو امریکی حکومت کے افسر کی رائے تو نہیں مانی جاسکتی لیکن حکومتوں کی رائے اپنے دیش کے حکمت عملی سازوں کے بدلے نظریئے سے ہی اپنی پالیسی کو بدلتی ہے۔ کچھ وقت پہلے لشکر کو اتنی گہرائی سے نہیں لیا جاتا تھا سمجھا جاتا تھا کہ وہ پاکستانی پنجاب کے جنوبی حصے میں سرگرم ایک بڑ بولی انتہا پسند تنظیم ہے جو کبھی لال قلعہ پر تو کبھی وائٹ ہاؤس پر جہادی جھنڈا لہرادینا چاہتی ہے۔ امریکی حکومت کا خیال تھا کہ اس قسم کی درجنوں آتنکی تنظیموں میں سے ایک لشکر بھی ہے۔ امریکہ اس لئے بھی زیادہ فکر مند نہیں تھا کیونکہ وہ مانتا تھا کہ یہ امریکہ پرحملہ نہیں کرسکتا لیکن 26/11 نے امریکہ کی رائے میں بھی تبدیلی لادی ہے۔ بروس ریڈل کا خیال ہے کہ لشکرطیبہ کا درجہ فی الحال دنیا بھر کی دہشت گرد تنظیموں میں سب سے اونچا ہے کیونکہ ان پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت پاکستان سرکار بھی نہیں دکھا پاتی اور اس تنظیم کو پاکستانی فوج و اس کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی کسی نہ کسی سطح پر حمایت بھی حاصل ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق لشکر کے بانی حافظ سعید پاکستانی فوج کے کور کمانڈروں کی میٹنگوں میں بھی باقاعدہ حصہ لیتے ہیں۔ دنیا میں اور کوئی ایسی دہشت گرد تنظیم موجود نہیں جس کے لوگ کسی دیش کی راجدھانی میں ہتھیار لے کر ریلیاں نکالتے ہیں اور کسی دیگر دیش پر ہوئے دہشت گردانہ حملوں میں اپنے لوگوں کا نام اجاگر ہونے کے بعد بھی ان کی سرگرمیوں پر کوئی روک نہیں لگاتا نہ ہی اسے اس سے کوئی فرق پڑتاہے۔ اس نتیجے تک پہنچنے کے لئے ریڈل نے 26/11 سے جوڑ کر تین بڑی گرفتاریوں عامر اجمل قصاب، ڈیوڈ کولمین ہیڈلی اور ابو جندال کے بیانات کو بنیاد بنا یا ہے۔ ان تینوں کے بیانات میں ایک بات مشترک ہے کہ حملے کا خاکہ تیار کرنے میں آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج کے کچھ افسر بھی شامل تھے۔ پاکستان آج بھی اس حملے کو نان اسٹیٹ ایکٹس کی کارروائی بتاتا ہے۔ الٹا پاکستان کے ایک وزیر نے تو کچھ دن پہلے یہاں تک کہہ دیا کہ 26/11 حملے میں بھارت کے اندر موجود لوگوں کا ہی اہم کردار تھا۔ پاکستان بیشک کتنا بھی انکارکرتا رہے لیکن ایک کے بعد ایک گرفتاری اس کے ملوث ہونے کو ثابت کرتی ہے۔ پاکستان بری طرح بے نقاب ہوتا جارہا ہے۔ بروس ریڈل کا کہنا ہے کہ سعودی عرب حکومت نے ابوجندال کی گرفتاری میں جیسی سرگرمی دکھائی اگر ایسی سرگرمی دیگر خلیجی ملکوں کی حکومتیں لشکر طیبہ جیسی تنظیموں کو ملنے والے اقتصادی مدد اور سرپرستی دینے میں دکھائیں تو دیر سویر ان کی کمر بھی اسی طرح توڑی جاسکے گی جس طرح القاعدہ کی توڑی جارہی ہے۔ اصل مشکل تو یہ بھی ہے کہ خود امریکہ کے ذریعے پاکستان سرکار کو دی جانے والی مدد بھی تمام ذرائع سے پیسہ لشکر جیسے تنظیموں تک پہنچتا رہتا ہے اور جب تک امریکہ ان کو اپنے لئے خطرناک اور درد سر نہیں مانے گا تب تک ان کے علاج میں اس کی کوئی دلچسپی نہیں بنے گی۔ آج لشکر طیبہ ، القاعدہ سے خطرناک دہشت گرد تنظیم اور پاکستان دنیا میں سب سے خطرناک دیش بن گیا ہے۔

06 اپریل 2012

حافظ سعید انتہائی مطلوب دہشت گرد فہرست میں دوسرے نمبر پر

دیرآید درست آید۔ اتنے دن کے بعد آخر کار امریکہ کوبھی یہ سمجھ میں آگیا کہ اسامہ بن لادن کے بعد آج کی تاریخ میں دنیا میں سب سے خطرناک دہشت گردی تنظیم لشکرطیبہ بن گئی ہے اور اس کا چیف حافظ سعید دنیا کا انتہائی مطلوب دہشت گرد ہے۔ امریکہ نے پیر کی رات حافظ سعید کے سرپر 10 ملین ڈالر (قریب50 کرور روپے) کے انعام کا اعلان کیاتھا۔ حافظ سعید ممبئی میں ہوئے حملوں کا ماسٹر مائنڈ ہے اور وہ پاکستان میں رہ کر اپنی دہشت گردی کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے نشانے پر امریکہ، بھارت خاص طور پر ہیں۔ بھارت نے سعید کو لیکر کئی بار پاکستان پر دباؤ بنایا لیکن پاکستان نے ہمیشہ معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی۔ پاکستان نے ہمیشہ یہ ہی بہانا بنایا کہ سعید کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔ حافظ سعید نے انعام کے اعلان کے بعد پاکستانی ٹی وی چینلوں میں کہا کہ ہم کسی غار میں نہیں چھپ کر بیٹھے ہیں اور اگر امریکہ میں ہمت ہے تو وہ ہمیں گرفتار کرلے ۔ یہ ہی نہیں سعید نے انعام کے اعلان کے بعد امریکہ پر زور دار حملہ بولا اور کہا پاکستان کے راستے ہونے والی نیٹو سپلائی روکے جانے اور ڈرون حملوں کے خلاف ملک گیر احتجاج سے واشنگٹن مایوس ہوگیا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی چینل نے حافظ سعید کے حوالے سے کہا ہم غاروں میں نہیں چھپے بیٹھے ہیں جو ہمیں تلاش کرنے کیلئے انعام رکھے جائیں۔
سعید نے کہا مجھے یقین ہے کہ یا تو امریکہ کی بہت محدود جانکاریاں ہیں اور وہ بھارت کے ذریعے دی جارہی غلط اطلاعات کی بنیاد پر فیصلے لے رہا ہے یا پھر وہ مایوس ہے۔ امریکہ کی ریوارڈس فار جسٹس ویب سائٹ نے حافظ سعید کو عربی اور انجینئرنگ کا سابق لیکچرر اور جماعت الدعوی کا بانی ممبر بتایا ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق یہ کٹر پسند اسلامی تنظیم ہے جس کا مقصد بھارت کے کچھ حصوں اور پاکستان میں اسلامی حکومت قائم کرنا ہے۔ لشکر طیبہ اس تنظیم کی لڑاکو شاخ ہے امریکہ کی موجودہ انتہائی مطلوب دہشت گرد فہرست میں حافظ سعید کا نمبر دوسرا ہے۔ پہلے نمبر پر القاعدہ کا سرغنہ ایمن الظواہری کا نام ہے جن پر 2.5 کروڑ ڈالر کا انعام پہلے ہی مقرر ہے۔
امریکہ کے اس قدم کا بھارت نے خیر مقدم کیا ہے۔ اس طرح سے بھارت کے ان الزامات کی تصدیق ہوتی ہے کہ لشکرکا چیف آج کی تاریخ میں سب سے زیادہ خطرناک آتنکی ہے۔ بھارت کے داخلہ سکریٹری آر کے سنگھ نے کہا کہ امریکہ کا قدم اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے۔ وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا امریکہ کا یہ قدم ممبئی حملوں کے قصورواروں کو سزا دلوانے اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کے امریکہ اور بھارت کے عزم کوظاہرکرتا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت ہوا ہے جب پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اجمیر شریف زیارت کرنے کے لئے تشریف لا رہے ہیں۔ ہمارے وزیر اعظم نے زرداری کے لئے لنچ کا اہتمام کیا ہے۔ امید ہے کے لنچ میں بات چیت کے دوران منموہن سنگھ زرداری کے ساتھ اس تازہ اعلان پربھی غور و خوض کریں گے۔ ادھر پاکستان کے اندرونی معاملوں کے وزیر رحمان ملک نے کہا ہے کہ ہمیں امریکہ کی طرف سے انعام کے اعلان کے بارے میں کوئی سرکاری طور پر جانکاری نہیں ملی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Hafiz Saeed, Lashkar e Toeba, Pakistan, Terrorist, 26/11, Asif Ali Zardari,

03 مارچ 2012

لشکر طیبہ کی حکمت عملی میں تبدیلی



Published On 3 March 2012
انل نریندر

90کی دہائی میں لشکر طیبہ آتنکوادیوں کو پاکستان کے جہادی اڈوں سے بھارت بھیجتا رہا ہے۔ مقصدتھا کشمیر میں تخریبی سرگرمیاں پھیلانا۔ اس کے بعد پاک حکومت نے دہشت گردی کو باقاعدہ ایک اسٹیٹ پالیسی بنا کر آتنک وادیوں کو بھارت کے باقی حصوں میں حملے کروانے کی نئی پالیسی بنائی۔ اسی کے تحت 2000ء میں لال قلعہ پر حملہ ہوا اور 2001ء میں ہندوستانی پارلیمنٹ پر اور 2008ء میں ممبئی حملے ہوئے۔ ان حملوں میں آئی ایس آئی نے لشکر کے ذریعے سے بھارت اسٹیٹ کے خلاف حملے کروائے ۔ ان حملوں میں کچھ دہشت گرد پاکستان سے خاص طور سے آئے تو کچھ یہیں بھارت سے شامل ہوئے لیکن اب لگتا ہے لشکر طیبہ نے اپنی حکمت میں تھوڑی تبدیلی کی ہے۔ 26/11 حملوں کے بعد اس نے 10 آتنک وادیوں کو ممبئی میں حملہ کرنے بھیجا تھا لیکن اب وہ پاکستان سے آتنکی نہ بھیج تک یہیں بھارت سے ہی جہادیوں سے حملے کروا رہا ہے۔ وہ بھارت سے ہمدرد جہادیوں کو اٹھاتا ہے اور انہیں پاکستان بلاکر پوری ٹریننگ دے کر واپس بھیج کر حملہ کروا رہا ہے۔ بدھ کے روز دہلی پولیس نے جن دو دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے اس سے آئی ایس آئی اور لشکر کی نئی پالیسی کے اشارے ملتے ہیں راجدھانی دہلی کے ایک مشہور بازار سمیت 18 مقامات پر دھماکے کرنے کی سازش تھی لیکن جموں و کشمیر جھارکھنڈ اور دہلی پولیس کی سانجھہ کارروائی میں بروقت بڑے دھماکے ہونے سے راجدھانی کو بچا لیا ہے۔ سازش کو انجام دینے کی تیاری میں جٹے لشکر طیبہ کے دو آتنک وادیوں کو دبوچ لیا گیا ہے۔بنیادی طور سے جموں وکشمیر کے باشندے بتائے جارہے دونوں بم بنانے میں ماہر ہیں ان کے پاس سے برآمد میموری کارڈ میں کچھ ایسی تصویریں قید ہیں جو سکیورٹی ایجنسیوں کے لئے ثبوت کے طور پر کام آئیں گی۔ مثلاً پاکستان میں چل رہے آتنکی ٹریننگ کیمپ اور آئی ڈی ، بناتے ہوئے ان کے قبضے سے اے ۔47 رائفلز ،دھماکوں سامان اور قابل اعتراض دستاویز سمیت بہت کچھ سامان برآمدہوا ہے۔ ان کا ارادہ دہلی کے چاندنی چوک بازار میں دھماکے کرنا تھا۔ ذرائع کے مطابق ان میں ایک جموں و کشمیر کا باشندہ احتشام ہے اور دوسرا ہزاری باغ کا باشندہ شفاعت ہے۔ یہ دونوں پاکستان میں لشکر کے کیمپوں میں ٹریننگ لے چکے ہیں۔ جانکاری ملی ہے کہ ہزاری باغ کے جس شخض کو حراست میں لیا گیا ہے وہ احتشام کا قریبی رشتے دار ہے اور کئی برسوں سے جھارکھنڈ میں مقیم تھا۔ جھارکھنڈ پولیس نے اس شخص سے لمبی پوچھ تاچھ کی ہے۔ اس نے بتایا کہ لشکر کے آقا دہلی سمیت کئی بڑے شہروں میں خطرناک بم دھماکے کرنے کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔ احتشام ہزاری باغ میں شفاعت اور کچھ دیگر لوگوں کی مدد سے وہیں پر خطرناک بم تیار کراتا تھا جنہیں دیش کے الگ الگ حصوں میں بھیجا جانا تھا۔ بدھوار کو جن دہشت گردوں کو پکڑا گیا ہے وہ دہلی کے تغلق آباد میں کرائے پر رہتے تھے۔ جب انہیں سرحد پار سے ہدایت ملتی تھی تو وہ دہلی کے کسی بھیڑ بھاڑ والے علاقے میں بم دھماکے کریں، تو اس کے لئے ان لوگوں نے چاندنی چوک کی کپڑا مارکیٹ کا انتخاب کیا۔ یہاں شام کے وقت ہزاروں لوگوں کی بھیڑ ہوتی ہے۔ پوچھ تاچھ کے دوران پکڑے گئے آتنک وادیوں نے بتایا کہ اگر وہ لوگ پولیس کے قبضے میں نہ آتے تو بدھوار کی شام چاندنی چوک دھماکوں سے دہلانے کا پلان تھا۔ 18 مقامات پر دھماکے کرنے کا ارادہ تھا۔ ان کے نشانے پر کوئی اہم شخصیات نہیں تھیں بلکہ وہ بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر دھماکے کرکے دہشت پھیلانا چاہتے تھے۔ دہشت گردی مشنوں کو ناکام کرنے کے لئے دہلی، جھارکھنڈ، جموں و کشمیر کی پولیس اور مرکز کی سکیورٹی ایجنسیوں کو مبارکباد۔ بہتر تال میل سے یہ سازش ناکام کی جا سکی ہے۔
Anil Narendra, Bomb Blast, Daily Pratap, Delhi, ISI, Lashkar e Toeba, Terrorist, Vir Arjun

17 جولائی 2011

حکومت ہند کو دہشت گردی پر ’زیرو ٹالرینس ‘پالیسی اپنانی ہوگی

Published On 17th July 2011
 انل نریندر
وزیر اعظم منموہن سنگھ اوروزیرداخلہ چدمبرم جب یہ کہتے ہیں کہ ممبئی بم دھماکوں کے قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔ تو عوام کو اب برا سا لگنے لگا ہے اور ایسی کوری تسلیاں سن کر اب عوام اکھڑنے لگی ہے۔منموہن سنگھ نے یہ ہی لفظ 26 نومبر 2008 ء کو بھی ممبئی کے شہریوں سے کہے تھے۔ تب سے لیکر اس حکومت نے کیا کیا ہے؟ کچھ نہیں صرف کورے وعدے۔ ممبئی کے باشندے اب ان کوری تسلیوں سے اکتا چکے ہیں۔ وہ کینڈل مورچہ، امن مورچہ سے ہیومن چین بنا بنا کر عاجز آچکے ہیں۔ عوام کہتی ہے کہ کچھ کرکے دکھاؤ۔ امریکہ سے کچھ تو سبق لو۔ القاعدہ نے 26/11 کو امریکہ پر حملہ کیا تھا اسی وقت امریکہ نے اعلان کردیا تھا کہ وہ تب تک دم نہیں لیں گے جب تک وہ اسامہ بن لادن اور القاعدہ کو ختم نہیں کردیں گے۔ بیشک اس کام میں امریکہ کو دس سال لگے لیکن انہوں نے یہ دکھا دیا کہ وہ اپنے ارادے کے پکے ہیں، جو کہتے ہیں اسے پورا کرنے کی قوت ارادی بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے دشمن کے گھر میں گھس کر دشمن کو تہس نہس کر کے ہی دم لیا۔ آدمی تجربے سے ہی سیکھتا ہے اور مستقبل میں اپنے میں بہتری لاتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ برطانیہ ، اسپین اور دوسرے مغربی دیش ہر دم چوکنے رہ کر دہشت گردوں کے منصوبے کو فیل کرتے آرہے ہیں۔ یہ اس لئے کامیاب ہورہے ہیں کیونکہ انہوں نے ’زیرو ٹالرینس‘ کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ یعنی ایک بھی حملہ ہم برداشت نہیں کریں گے۔ اور ہمارے یہاں حملے پر حملے ہوتے جاتے ہیں اور ہم کوری دھمکیاں دینے سے باز نہیں آتے۔ عزت مآب وزیر داخلہ جی 12 مارچ1993ء سے جولائی 2011ء کے درمیان اکیلے ممبئی میں 8 بم دھماکے ہو چکے ہیں۔ جن میں 682 جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ کیا آپ کو یہ معلوم ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں مرنے والوں کی تعداداب کراچی اور کابل میں مرنے والوں کی تعداد تقریباً برابر پہنچ چکی ہے۔ اکیلے ممبئی 2005ء میں تقریباً394 لوگ مارے جا چکے ہیں جبکہ اسی وقفے میں کراچی میں500 اور کابل میں 520 لوگ مرے۔ اگر پورے مہاراشٹر کی تعداد جوڑی جائے تو یہ تعداد506 بن جاتی ہے۔ ممبئی کو اب دنیا میں سب سے خطرناک شہروں میں شمار کیا جانے لگا ہے اور اس کو آپ کی لچر پالیسی نے بنا دیا ہے۔ چدمبرم نے بڑے زور شور سے این آئی اے یعنی قومی جانچ ایجنسی کا اعلان کیا تھا۔ کیا کیا آپ کی اس این آئی اے نے؟ اگر 26/11 کے بعد میں ہوئے پانچ دیگر حملوں کی بات کریں تو لگتا ہے کہ آپ کی این آئی اے کچھ نہیں کرپائی۔ 26/11 کو ممبئی میں ہوئے آتنکی حملے کے بعد دیش کے الگ الگ حصوں میں ہوئے واقعات کا سراغ ابھی تک نہیں لگایا جاسکا۔ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ ان میں سے تین معاملوں کی جانچ این آئی اے کے ہاتھوں میں ہے۔ 13 فروری کو پنے کی جرمن بیکری، 17 اپریل کو چنئی کے چنا سوامی اسٹیڈیم میں آئی پی ایل میچ سے ٹھیک پہلے دھماکہ، پچھلے سال ستمبر کی آخر میں جامع مسجد دہلی میں گولہ باری، دہلی ہائی کورٹ میں دھماکہ اور وارانسی میں ہوئے بم دھماکوں کا معمہ ابھی تک سلجھ نہیں پایا۔ یاد کرانا چاہیں گے کہ چدمبرم صاحب آپ نے بڑے زور شور سے اعلان کیا تھا کہ این آئی اے کی تکیل وزارت داخلہ نے اس لئے کی ہے تاکہ دیش بھر میں دہشت گردی سے متعلق معاملے سلجھائے جا سکیں۔ اس ایجنسی نے جامع مسجد، وارانسی اور چنا سوامی اسٹیڈیم میں ہوئے واقعات کی گتھی سلجھانے کا بیڑا اٹھایا تھا لیکن ابھی تک کامیابی دور دور تک دکھائی نہیں دیتی۔ وہیں ہائی کورٹ اور جرمن بیکری دھماکوں کو لیکر مقامی پولیس کے ذریعے چھان بین جاری ہے مگر حالات ٹھیک نہیں ہو پارہے ہیں۔اس معاملے میں ایک شخص کی گرفتاری ہوئی ہے لیکن اے ٹی ایس واردات میں اس کے ملوث ہونے کے بارے میں مضبوطی سے ثابت نہیں کرپائی ہے۔ ان معاملوں میں جانچ کی سوئی آتنکی تنظیم انڈین مجاہدین پر گھومتی رہی ہے لیکن ابھی تک ایجنسی کو اس کے ملوث ہونے کے پختہ ثبوت ابھی تک حاصل نہیں کرپائی ہے۔ ایک آدھ معاملے میں اگر کوئی معاملہ عدالت جاتا ہے تو وہ بھی ثبوتوں کی کمی کی وجہ سے ٹھپ ہوجاتا ہے۔ بم دھماکوں کے مجرم اکثر معاملوں میں بری ہوجاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جانچ ایجنسی لچر طریقے سے ثبوت اکٹھا کرتی ہیں اور ایسے ثبوت عدالت میں پختہ طور پر ٹھہر نہیں پاتے۔ دیش میں بم دھماکوں کے مقدمے سے وابستہ وکیل بھی تصدیق کرتے ہیں کہ جانچ ایجنسیاں ثبوت حاصل کرنے کے معاملے میں اکثر ڈھیلا ڈھالا غیر پیشہ ور رویہ اختیار کرتی ہیں جس سے ملزم چھوٹ جاتے ہیں اور جانچ ایجنسیوں کو کورٹ کی لتاڑ جھیلنی پڑتی ہے اور وہ پہلے کی طرح ٹال مٹول کے رویئے پر چلنے لگتی ہیں۔ ایسے بھی معاملے سامنے آئے ہیں جب زبردستی قبول نامے کی بنیاد پر جھوٹا مقدمہ بنا دیا گیا ہو۔ یوپی اے سرکار نے ٹاڈا ہٹانے میں بہت جلد بازی کی لیکن آج تک اس کی جگہ ایسا کوئی موثر قانون نہیں بنایا گیا جس سے دہشت گردوں کو سزا دلوا سکیں۔ دیش کی سکیورٹی ایجنسیوں کے لئے خطرہ بنے آتنک واد سے نمٹنے کے لئے آج بھی کوئی موزوں قانون دیش میں موجود نہیں ہے۔ اب تک 2005 ء سے لیکر7 دسمبر 2010ء تک چھوٹے بڑے کل ملا کر 21 آتنکی حملے ہوچکے ہیں۔
ممبئی میں تازہ بم دھماکوں کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ کہیں نہ کہیں ضرور ہے۔ امریکی میڈیا میں بھی یہ ہی کہا جارہا ہے۔ امریکی میڈیا نے ان دھماکوں پر لکھا ہے کہ ان دھماکوں نے پاکستان کی جانب سے آتنکیوں کے خلاف کی جارہی کارروائی کے اثر پر پھر سے سوالیہ نشان لگا دئے ہیں اور اس کے پیچھے لشکر کا ہاتھ ہونے کا شبہ ہے جس نے 2008 میں بھی ممبئی میں آتنکی حملہ کروایا تھا۔ جانچ سے چاہے جو بھی پتہ چلے لیکن ایک چیز صاف ہے کہ پاکستان پر بین الاقوامی برادری کے بھاری دباؤ کے باوجود یہ سبھی گروپ ابھی بھی وہاں سے اپنی سرگرمیوں کو چلا رہے ہیں اور حکومت ہند کوئی سخت قدم اٹھانے کی جگہ دوستی کا ہاتھ بڑھا رہی ہے۔ بھارت سرکار اب تک ممبئی کے پچھلے حملوں میں پاکستان میں جاری مقدمے کو آگے نہیں بڑھواسکے اور قصورواروں کو سزا دلوانا تو دور رہا ،پاکستان سے بات چیت کا کیا تک ہے، یہ اپنی سمجھ سے باہر ہے۔ پاکستان کے چال چلن میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔ آج بھی اس کی ٹیرر اسٹیٹ پالیسی ہے ۔ پاک نواز آتنکی تنظیموں کے نشانے پر آج بھی ممبئی ،دہلی اور بنگلورو جیسے بڑے شہر ہیں۔ ہم جب تک ’زیرو ٹالرینس‘ کی پالیسی پر نہیں چلتے تب تک ان دھماکوں کا سلسلہ رکنے والا نہیں ہے۔ ایک بھی حملہ ہم اب برداشت نہیں کریں گے۔ ہمارے وزیر اعظم یا وزیر داخلہ میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ لشکر یا انڈین مجاہدین کا اس حملے کے پیچھے ہونے کی بات کہہ سکے یا اشارہ تک کر سکے؟ انڈین مجاہدین اور پاکستان کی لشکر طیبہ کے درمیان رشتے رہے ہیں۔ سرکار آج تک پاکستان سے ممبئی حملوں کے پیچھے ماسٹر مائنڈ سے پوچھ تاچھ کرنے کی اجازت تک نہیں لے سکی ہے جبکہ واحد زندہ بچے دہشت گرد عامر اجمل قصاب کو سینے سے چپکائے ہوئے ہے اور افضل گورو کو بھی شوپیس بنا کر رکھا ہوا ہے۔ کیوں نہیں اب افضل گورو کو پھانسی پر لٹکا دیتی تاکہ ان آتنکیوں کو ایک صاف اشارہ دیا جائے؟ آج ان جلاسوں ،ریبیٹی، گل کی یاد آتی ہے جب انہو ں نے پنجاب میں آتنکیوں کو یہ سندیش دیا تھا کہ تم ایک مارو تو ہم دس ماریں گے، گولی کا جواب گولی سے دیا جائے گا۔ یوں ہی پنجاب میں آتنک واد ختم نہیں ہوا تھا۔ اس کے پیچھے ٹھوس حکمت عملی تھی۔ سرکار کی قوت ارادی تھی اور سکیورٹی فورس کو اپنے حساب سے کارروائی کرنے کی کھلی چھوٹ تھی۔
دیش کی جنتا اس سرکار کی آتنک واد سے نمٹنے کی ٹال مٹول کی پالیسی سے تنگ آچکی ہے۔ اگر یہ کہیں کہ جنتا ’زیرو ٹالرینس‘ پر آچکی ہے تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ممبئی کے شہریوں کو آخر کب تک اسی طرح دہشت کے سائے میں جینا پڑے گا؟ ایک بھی دہشت گرد حملہ آخر کیوں برداشت کیا جائے؟ لوگ یہ سنتے سنتے عاجز آچکے ہیں کہ ہم ایک خطرناک پڑوس میں رہتے ہیں ان کے کان یہ سن کرپک چکے ہیں کہ ہم ان قصورواروں کو نہیں بخشیں گے۔ جنتا کو سکیورٹی کی گارنٹی چاہئے تاکہ وہ بے خوف زندگی جی سکیں۔ بیشک ان کے روٹین پر لوٹنا کچھ حد تک ضروری ہے لیکن اس کا مطلب سرکار کو یہ نہیں نکالنا چاہئے کہ وہ سب طرح کی کوری بکواس ہضم کرنے کو تیار ہے۔ اگر کوئی لیڈر آتنکی حملے کا شکار ہوتا ہے تو بھی کیا سرکار کا یہ ہی رخ ہوتا؟ یہ تو بیچارے بھولے بھالے معمولی عوام ہیں جو مارے جاتے ہیں لیکن سرکار کو جنتا کے موڈ کو سمجھنا ہوگا۔ جنتا چیخ چیخ کر پکار رہی ہے ’’بس اب اور نہیں‘‘۔
Tags: 13/7, 26/11, Afzal Guru, Anil Narendra, Bomb Blast, Daily Pratap, Indian Mujahideen, Kasab, Lashkar e Toeba, Manmohan Singh, NIA, P. Chidambaram, Pakistan, Politician, Terrorist, Vir Arjun

15 جولائی 2011

ایک بار پھر ممبئی شہر بنا آتنکیوں کا نشانہ


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 15th July 2011
انل نریندر
پچھلے کافی عرصے سے ہندوستان پرکوئی دہشت گردانہ حملہ نہیں ہوا تھا۔ حملے تو ہوتے رہے ہیں لیکن کوئی سلسلہ وار ٹائم بلاسٹ نہیں ہوئے تھے۔ یوں تو تین دن پہلے آسام کے کام روپ دیہات ضلع کے رانگیا کے پاس ایک دھماکے کے بعد گوہاٹی پوری حادثے کا شکار ہوگئی تھی۔ لیکن اس کے پیچھے مقامی شرپسندوں کا ہاتھ تھا۔ اس حادثے میں 50 سے زیادہ مسافر زخمی ہوئے تھے۔ بدھ کے روز ممبئی میں جیسا دہشت گرد حملہ ہوا ، ایسا حملہ کافی دنوں کے بعد ہوا ہے۔ ہم بھول گئے تھے کہ ایسے حملے پھر ہوسکتے ہیں۔ شاید یہ ہی وجہ تھی کہ ہماری خفیہ ایجنسیوں کو اس سلسلہ وار دھماکے کے بارے میں کوئی بھنک تک نہ لگ سکی۔ وزارت داخلہ نے مانا ہے کہ ممبئی میں ہوئے سلسلہ وار دھماکوں کے بارے میں مرکز یا ریاستی حکومت کی خفیہ مشینری کو ذرا بھی بھنک نہ لگ سکی اور بدھ کی شام بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر ہوئے ان تین دھماکوں نے یہ واضح کردیا ہے کہ پچھلے چھ مہینے کے دوران دہشت میں کوئی دہشت گردی کی واردات نہیں ہونے کے بعد سکیورٹی و خفیہ مشینری کافی حد تک بے پرواہ ہوگئی تھی۔ دیش کی اقتصادی راجدھانی ممبئی میں سلسلہ وار دھماکے تین مقامات پر 10 منٹ کے اندر ہوئے جس میں21 لوگ مارے گئے، 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ سانتاکروز میں ایک غیر استعمال شدہ بم ملا جو نہیں پھٹا تھا۔ پچھلے 18 سال میں بدھوار کو 14 ویں مرتبہ ممبئی آتنکی حملے کا شکار ہوئی۔ قریب 6.15 بجے جھاویری بازار میں واقع چاندی و زیورات کے کاروباری دیپک سین نے اپنے نوکر سے میل منگوائی۔ وہ میل کی پڑیا کھول رہا تھا کہ ایک زور دار دھماکے نے اس کی دوکان کی ٹیوب لائٹیں، شوکیس کے کانچ توڑ دیا۔ سین نے آگ کا ایک بڑا گولہ سا اوپر کی طرف جاتا دیکھا۔ سامنے کی کھانے پینے کی دوکانیں آگ پکڑ چکی تھیں۔ سامنے سڑک پر کھڑے پاپڑ بیچ رہے خوانچے والے کے پرخچے اڑ گئے تھے۔ تین درجن سے زیادہ لوگ بری طرح جھلس کر زمین پر گر پڑے اور لوگ ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ لیکن کچھ ہی پلوں میں لوگ پھر چوکس ہوگئے اور زمین پرپڑے بے سہارا زخمیو ں کو لیکر مطلوبہ گاڑیوں سے کے کے جی ٹی ہسپتال کی طرف جانے لگے۔ چشم دید گواہوں کے مطابق جھاویری بازار میں کچھ لمحوں میں دو دھماکے ہوئے۔ بتایا جاتا ہے یہ دونوں دھماکے ایک موٹر سائیکل و ایک اسکوٹر میں رکھے گئے آتشی سامان سے ہوئے۔ تقریباً یہ ہی منظر کچھ منٹ کے اندر پہلے اوپرا ہاؤس پر پھر دادر ریلوے اسٹیشن کے پاس دوہرایا گیا۔ اوپرا ہاؤس ہیروں کے کاروبار کانہ صرف ہندوستان میں بلکہ پوری دنیا میں بڑا مرکز ہے۔یہاں ہوا دھماکہ پنچ رتن بلڈنگ و پرساد چیمبر کے درمیان ٹاٹا روڈ کی کھاؤ گلی میں ہوا جبکہ دادر کا دھماکہ بیسٹ کے ایک بس اسٹاپ کی چھت پر کیا گیا۔ جھاویری بازار کو پچھلے 18 برسوں میں تیسری مرتبہ آتنکی حملے کا شکار ہونا پڑا ہے جبکہ دادر اور اوپرا ہاؤس میں پہلی بار دھماکہ کیا گیا ہے۔ بدھوار کو جھاویری بازار میں ہوئے دھماکے میں سب سے زیادہ لوگ مارے گئے اور زخمی ہوئے ہیں۔ ایسے موقعوں پر جب ایک شہر میں دھماکے ہوں تو دوسرے بڑے شہروں میں دہشت پھیل جاتی ہے۔ میرے پاس کئی ایس ایم ایس آئے کہ دہلی کے ساکیت اور ڈیفنس کالونی میں بھی بم ملے ہیں۔ یہ سب ایک افواہ تھی اور دہلی میں اوپر والے کے رحم و کرم سے کوئی بم نہیں ملا۔
سوال یہ اٹھتا ہے یہ دھماکے کس نے کروائے اور کیوں؟ جہاں تک یہ کس نے کروائے اس کی صحیح معلومات تو بعد میں حاصل ہوگی شاید کبھی یقینی طور سے نہ مل سکے لیکن مقصد کا تھوڑا اندازہ ضرور ہوسکتا ہے۔ جس طرح سے بار بار جھاویری بازار کو نشانہ بنایا جارہا ہے اس سے تو لگتا ہے کہ بزنس کو متاثر کرنا مقصد ہے۔ اوپرا ہاؤس بھی ایک ایسا ہی بزنس سینٹر ہے۔ دونوں ہی مقامات پر بھیڑ ہوتی ہے۔ دھماکوں سے زیادہ لوگوں کو نقصان پہنچانے کا ارادہ صاف جھلکتا ہے۔ ممبئی میں سیریل دھماکوں میں جیسی تباہی پہلے مچتی رہی ہے ویسی اس بار نہیں ہوسکی، اس کی وجہ دھماکوں کا اتنا طاقتور نہ ہونا ہے۔ اس میں خراب پلاننگ بھی ہوسکتی ہے لیکن کیونکہ ان دھماکو ں میں آئی ڈی تکنیک کا استعمال ہوا ہے اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کے پیچھے کسی بڑی دہشت گرد تنظیم کا ہاتھ ہے۔ یہ مقامی انڈر ورلڈ کا کھیل نہیں ہے۔ہو سکتا ہے اس کے پیچھے آئی ایس آئی، لشکر طیبہ، داؤد ابراہیم گروہ کا ہاتھ ہو؟ یہ کسی ایسی تنظیم نے بھی کروائے ہوں جو ہند۔ پاک مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنا چاہتی ہو۔ پاکستان سے رشتے بہتر بنانے کے لئے بات چیت کا دور طویل عرصے کے بعد شروع ہوا ہے۔ یہ حملہ اسے توڑنے کی سازش بھی ہوسکتی ہے۔
اخباروں میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ان کے پیچھے داؤد ابراہیم کا ہاتھ بھی ہوسکتا ہے۔ آئی ایس آئی کے اشارے پر ہوئے اس دھماکے میں انڈر ورلڈ ڈان داؤد نے اس کام کو انجام دینے کا بیڑا اٹھایا۔ اس میں حزب المجاہدین، انڈین مجاہدین نے ساتھ دیا۔ ذرائع کے مطابق بدھوار کو ممبئی میں ہوئے آتنکی حملے اسامہ بن لادن کی موت کے بعد بھارت میں کچھ کرنے کے لئے آئی ایس آئی نے داؤد سے کہا ۔آئی ایس آئی کی پہل پر داؤد اپنے گرگوں کے ساتھ چار ماہ پہلے ہی لشکر طیبہ میں شامل ہوگیا تھا۔ ذرائع کے مطابق آئی ایس آئی نے داؤد کے کئی لوگوں کو لاہور کے بہاولپور میں ہتھیار چلانے اور کمانڈو ٹریننگ بھی دلوائی اور جو ابھی بھی جاری ہے۔جس طرح ممبئی میں دھماکہ ہوا ہے اس میں کم اور درمیانی صلاحیت والے بم کا استعمال کیا گیا۔ اس میں آئی ای ڈی کا بھی استعمال ہوا ہے۔ اس طرح کے بم کا استعمال انڈین مجاہدین کرتے ہیں۔ حزب کی عادت ہے کہ بم دھماکے میں کسی ہندومذہبی مقام پر درمیانی صلاحیت کے بم کا استعمال کرتا ہے۔ ممبئی میں جھاویری بازار میں ممبا دیوی مندر کے پاس بم پھٹا ہے۔ اس کے علاوہ حزب المجاہدین بھی بم میں گاڑی کا استعمال کرتا ہے جو ممبئی میں ہوا۔انڈین مجاہدین ایک طرح سے لشکر کی سلیپر سیل کی طرح کام کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں شاید اس پر اور مزید معلومات ملیں۔ بھارت کی خفیہ اور سکیورٹی مشینری کو چست درست کرنا ہوگا۔ ورنہ ایسے حملے اور بھی ہوسکتے ہیں۔ ہمیں پوری طرح سے تیار رہنا ہوگا۔
Tags: 13/7, Anil Narendra, Bomb Blast, Daily Pratap, Dawood Ibrahim, Hizbul Mujahid, India, Indian Mujahideen, ISI, Lashkar e Toeba, Mumbai, Osama Bin Ladin, P. Chidambaram, Terrorist, Vir Arjun

27 مئی 2011

کیا پاکستان کے ایٹمی ہتھیار محفوظ ہیں؟


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily


27مئی 2011 کو شائع
انل نریندر

کراچی کے مہران بحریہ کے ہوائی اڈے پر ہوئے آتنکی حملے نے وہاں کی غیر منظم سلامتی اور پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کو لیکر بھارت کابے چین ہونا فطری ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اس معاملے میں بھارت کی تشویشات کو ظاہر کردیا ہے۔ بھارت کا خیال ہے کہ فوج کے ہیڈ کوارٹر پولیس ٹریننگ کیمپ کے بعد اب فوجی ہوائی اڈے پر خودکشی حملے جیسی آتنکی واردات روکنے میں پاکستانی مشینری کی ناکامی نے نہ صرف ہندوستان کے لئے تشویش کا باعث ہے بلکہ پوری دنیا کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ مہران اہم ٹھکانا ہونے کے باوجوداور اس سے وابستہ دیگر فوجی اداروں کے دفتر دور نہیں ہیں۔ یہ پاکستانی ایئر فورس کے مسرور مرکز کے قریب 40 کلو میٹر دوری پر واقع ہے۔ یہ نیوکلیائی ہتھیاروں کا ایک ڈپو مانا جاتا ہے۔ ایک ہندوستانی ڈیفنس ماہر کے مطابق پی این ایس مہران پاکستان کے سب سے بڑے بحری ایئر بیس میں شمار ہوتا ہے۔ جدید سازو سامان اور طیاروں سے مسلح اس اڈے پر آتنکیوں کا اتنی آسانی سے حملہ کردینا ، یہ خفیہ ایجنسیوں کی خامیوں کا اشارہ کرتا ہے۔ اندرونی شخص کی مدد کے بغیر آتنکیوں کو بحری اڈے میں ایئر کرافٹ کی موجودگی کا پتہ نہیں چل سکتا تھا۔جس طرح وہ گھنٹوں اس میں ڈٹے رہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پختہ معلومات کے ساتھ یہاں آئے تھے۔ نیویارک ٹائمز نے خلاصہ کیا ہے کہ مہران فوجی اڈے کے پاس ہی مسرور ایئر فورس کا بیس ہے۔ جہاں پاکستان کا ایٹمی ذخیرہ ہے۔ یہاں کافی نیوکلیائی بم ہیں جنہیں مزائلوں اور جنگی جہازوں سے ممکنہ نشانوں پر مار کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ امریکی ڈیفنس ماہرین کا اندازہ ہے پاکستان کے پاس اس وقت 100 نیوکلیائی بم ہیں۔
سب سے بڑی تشویش کی بات یہ ہے کہ پاکستانی فوج کے اندر القاعدہ ،لشکر طیبہ جیسی آتنکی تنظیموں کی مدد کرنے والے موجود ہیں۔ ان کی مد د سے اگر آتنکی مسرور ایئر فورس بیس پر حملہ کرتے ہیں تو اس کے خوفناک نتائج ہوسکتے ہیں؟ مان لیجئے بڑا حملہ ہوتا ہے اور اس حملے میں نیوکلیائی بم متاثر ہوجاتا ہے اور ریڈی ایکٹو کرنیں لیک ہوجاتی ہیں تو کیا ہوگا؟ دوسرا خطرہ یہ ہے کہ اگر ان میں سے کچھ آتنکیوں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں تو کم سے کم چھوٹا اور ڈرٹی بم بنا سکتے ہیں۔ تیسرا خطرہ یہ ہے کہ پاکستان فوج میں ان آتنکیوں کے ہمدرد آتنکیوں کو نیوکلیائی بم بنانے کی تکنیک مہیا کروا دیتے ہیں تو کیا ہوگا؟ ان سب امکانات کو دیکھتے ہوئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ پاک اپنے نیوکلیائی ہتھیاروں کی سکیورٹی پر زیادہ توجہ دے اور اپنے اندر موجود بھیدیوں کی پہچان کرے اور اس بات کی جانچ کرے کہ مہران ایئر بیس پر جو حملہ ہوا ہے کیا اس میں کسی پاکستانی فوج کے راز داں کا ہاتھ تو نہیں تھا؟ امریکہ ابھی اس کو لیکر الجھن میں پڑا ہوا ہے۔ امریکی صدر کے سابق ڈیفنس ایڈوائزر جیک کراولی نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں ہوئے اس حوصلہ افزاء حملے کے مد نظر امریکہ پاکستان کے نیوکلیائی ہتھیاروں کو اپنے قبضے میں لینے کی ہنگامی اسکیم پر غور کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کے نیوکلیائی ہتھیاروں اور سامان کو قبضے میں لینے کی خفیہ اسکیم بنائی ہے۔ یہ تشویش کی بات ہے پاکستان اندرونی تال میل کھوتا جارہا ہے اور پھر یہ بھی کہنے سے نہیں تھکتا کہ ہم اپنے نیوکلیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو اور بڑھائیں گے۔
Tags: Anil Narendra, Karachi, Mehran Aira Base, Pakistan, Atom Bomb, Masroor Air Base, Pakistan, Al Qaida, Lashkar e Toeba, Vir Arjun, Daily Pratap,  

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...