Translater

01 اکتوبر 2011

حصار کا زمینی چناؤ طے کرے گا ہریانہ کی آئندہ تصویر



Published On 1st October 2011
انل نریندر
حصار لوک سبھا حلقے میں نامزدگی کا کام پورا ہونے کے ساتھ ہی یہاں چناؤ سبھی متعلقہ پارٹیوں کے لئے عزت کا سوال بن گیا ہے۔ یہ ضمنی چناؤ حکمراں کانگریس، اپوزیشن پارٹی انڈین نیشنل لوک دل کے وقار اور اس علاقے میں گھرا دبدبہ رکھنے والی ہریانہ جن ہت کانگریس کے لئے کچھ حد تک اپنے وجود کی لڑائی بن گیا ہے۔ چناؤ مہم کے آغاز میں کانگریس امیدوار سابق مرکزی وزیر جے پرکاش کے پچھڑ جانے سے اب آگے کی چناؤ مہم کی کمان خود وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا نے اپنے ہاتھ میں لے لی ہے اور انہوں نے یہ ذمہ داری اپنے رفیق خاص سابق مرکزی وزیر ونود شرما کو سونپ دی ہے۔ اس ضمنی چناؤ میں لڑائی دو جاٹوں کانگریس اور لوک دل کے امیدوار و سابق وزیر اعلی اوم پرکاش چوٹالہ کے ممبر اسمبلی بیٹے اجے چوٹالہ کے علاوہ سابق وزیر اعلی بھجن لال کے بیٹے کلدیپ بشنوئی کے درمیان ہے۔ کلدیپ بشنوئی کے حق میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس علاقے میں ان کے خاندان کا زبردست سیاسی دبدبہ ہے۔ ان کے والد نے یہاں سے 9 چناؤ جیتے۔ خود اپنے والد کے آبائی اسمبلی حلقے آدم پور سے ریکارڈ ووٹوں سے جیتے ہیں۔ ہریانہ جن ہت کانگریس کی ساری امید اسی بات پر ٹکی ہے کہ علاقے میں جہاں جاٹوں کا زور ہے وہاں ووٹ دو حصوں میں بٹے گا۔ وہیں غیر جاٹ ووٹ یکمشت ان کو پڑے گا۔ رہی سہی کثر بھجن لال سے وابستہ کٹر جاٹ ووٹ پوری کردیں گے۔
بشنوئی کے حق میں ان کے والد کی موت کے بعد سے پیدا ہمدردی کی لہر بھی ہے۔ چودھری بھجن لال کے دیہانت کے سبب یہاں ضمنی چناؤ ہورہا ہے لیکن سبھی امیدواروں کو حقیقت میں ذات پات کا بونڈر ستا رہا ہے۔ سرکردہ جاٹ امیدواروں کے میدان میں ہونے سے ان کا ووٹ لینے کی دوڑ تو ہے ہی لیکن یہاں دوسری برادری کے ووٹروں کا رخ اور زیادہ اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تینوں بڑے امیدوار ذات پات کے تجزیوں کو بٹھانے میں لگے ہیں۔
حصار میں کل ووٹ 12.50 لاکھ ہیں ان میں4.40 لاکھ جاٹ ہیں۔2.25 لاکھ دلت۔ 1 لاکھ پنجابی۔ 80 ہزار برہمن۔ 50 ہزار ویشیہ اور اتنے ہی کمہار ہیں۔ بشنوئیوں کے ووٹوں کی تعداد40 ہزار اور 30 ہزار اہیر برادری کے ہیں اور25 ہزار گوجر ہیں۔ پولنگ13 اکتوبر کو ہونی ہے۔ یہ چناؤ دراصل کلدیپ بشنوئی اور اجے چوٹالہ کے مستقبل کی سیاست کیلئے اہم ہے وہیں انڈین نیشنل لوک دل اور ہریانہ جن ہت کانگریس کے درمیان چودھراہٹ یا دبدبے کی لڑائی بھی ہے۔ ساتھ ہی کانگریس امیدوار جے پرکاش بروالا عرف جے پی کے ساتھ ساتھ ہریانہ حکومت کا وقار داؤ پر لگا ہے۔ تینوں ہی خیموں کے نیتا جہاں چناؤ مہم میں پوری طاقت جھونک رہے ہیں وہیں ذات پات کے تجزیوں کو بٹھانے میں بھی پورا دماغ لگا رہے ہیں۔ اس ضمنی چناؤ سے یہ بھی پتہ چلے گا کہ ریاست میں ہوا کس طرف بہہ رہی ہے۔ اس نقتہ نظر سے وزیراعلی بھوپندر سنگھ ہڈ اکا وقار بھی اس چناؤ سے جڑا ہوا ہے۔ سیاسی واپسی کی امید پال رہی انڈین نیشنل لوک دل اگر چناؤ جیتتی ہے تو وہ اگلے اسمبلی چناؤ میں زیادہ مضبوطی سے اترے گی۔ کل ملاکر یہ انتہائی دلچسپ سہ رخی چناؤ مقابلہ ہے۔ دیکھیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Haryana, Vir Arjun

ممتا نے رتن ٹا ٹاکو پٹخنی دے دی



Published On 1st October 2011
انل نریندر
مغربی بنگال کی وزیر اعلی محترمہ ممتا بنرجی کو بدھ کے روز تین اچھی خبریں ملیں۔ پہلی تو انہوں نے بھوانی پور سے اپنا پہلا اسمبلی چناؤ جیت لیا، دوسرے ان کی پارٹی ترنمول کانگریس نے بریہار نارتھ اسمبلی سیٹ بھی سی پی ایم سے چھین لی اور تیسری ان کی حکومت نے سنگور پر جو ایکٹ پاس کیا تھا اسے عدالت نے صحیح مانا ہے۔ ترنمول کانگریس چیف ممتا بنرجی بھوانی اسمبلی حلقے سے ضمنی چناؤ جیت کر مغربی بنگال اسمبلی کی ممبربن گئی ہیں۔ ممتا نے مارکسوادی امیدوار نندنی مکھرجی کو 54213 ووٹ سے ہرایا۔ مئی میں ریاست کی پہلی خاتون وزیر اعلی ممتا 1989 کو چھوڑ کر1984 کے بعد سے مسلسل لوک سبھا چناؤ جیتتی آرہی ہیں۔ اس چناؤ میں ممتا کو 73635 ووٹ ملے جبکہ ان کی حریف محض19422 ووٹ پر سمٹ کر رہ گئی۔ اس کامیابی کے ساتھ ریاست کی 294 رکنی اسمبلی میں ترنمول کانگریس کی سیٹوں کی تعداد 185 ہوگئی ہے۔ وہیں لیفٹ مورچہ کے ممبران کی تعداد63 رہ گئی ہے۔
اسے اتفاق ہی کہا جائے گا کہ ادھر ممتا اور ان کی پارٹی سیٹیں جیتی ہیں تو ادھر کولکتہ ہائی کورٹ میں ایک دور رس اثر کرنے والا اہم فیصلہ آتا ہے۔ یہ لڑائی تھی مشہور صنعتکاررتن ٹاٹا اور ممتا بنرجی کے درمیان۔ عدالت نے ٹاٹا موٹرز لمیٹڈ کی عرضی کو مسترد کرتے ہوئے سنگور زمین باز آبادکاری قانون 2011ء کو درست ٹھہرایا ہے۔ ممتا بنرجی حکومت نے نینو پروجیکٹ کیلئے ٹاٹا موٹرز کو دی گئی زمین اس قانون کے تحت واپس لے لی ہے۔ ٹاٹا نے قانون کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا لیکن جسٹس آر پی مکھرجی نے قانون کو صحیح ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا ٹاٹا موٹرس معاوضے کے لئے اپیل کرسکتی ہے۔ بہرحال عدالت نے فیصلے پر عمل کیلئے 2 نومبر تک روک لگا دی ہے تاکہ اگرکسی کو فیصلے پر اعتراض ہو تو وہ اپیل کرسکے۔ ممتا نے عدالت کے اس فیصلے کو تاریخی قراردیا ہے۔ سنگور میں کسانوں کی تحریک نے نہ صرف ہندوستان کے دیگر حصوں میں بلکہ پوری دنیا کے ایسے متاثرین کو راستہ دکھایا ہے انہوں نے کہا میں عدالت کی شکر گذار ہوں۔ عدلیہ کے تئیں میرے دل میں بہت احترام ہے۔ ممتا نے کہا ہم کسانوں کو ان کی زمین لوٹانے کیلئے طور طریقوں پر فیصلے کریں گے۔
انہوں نے کہا سنگور میں600 ایکڑ زمین میں ایک بڑا کارخانہ لگایا جائے گا جبکہ باقی 400 ایکڑ زمین 2006 میں لیفٹ فرنٹ حکومت کے وقت میں کی گئی تحویل کے دوران معاوضہ منظور نہ کرنے والے کسانوں کو واپس کردی جائے گی۔ سنگور آراضی بازآبادکاری اور ترقی قانون2011 ء کے بارے میں انہوں نے کہا اس قانون کے پاس ہوجانے کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے اور الزام لگائے گئے ہیں ۔ہم اسے لیکر بہت جلد بازی میں ہیں اور غلطی کررہے ہیں۔ ادھر ٹاٹا گروپ نے کہا آگے کی کارروائی کا فیصلہ عدالتی فیصلے کے مطالعے کے بعد کیا جائے گا۔ ممتا کی یہ جیت کئی معنوں میں اہمیت کی حامل ہے۔ ادھر مرکزی حکومت کی صحت بہت خراب چل رہی ہے۔ ممتا نے رتن ٹاٹا جیسے شخص کو ہرا کر نہ صرف منموہن سنگھ سرکار کو زبردست جھٹکا دیا ہے بلکہ صنعت کاروں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جو سیاستداں اپنے مفاد کے لئے کچھ بھی کرانے کے لئے اپنے آپ کو اہل سمجھتے ہیں۔ سنگور کا معاملہ ایسا ہے کہ دیش کے دیگر حصوں پر بھی اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ زمین آراضی تحویل کا معاملہ کئی ریاستوں میں جاری ہے۔ اس میں کوئی شکل نہیں ممتا آج کی تاریخ میں بھارت کے سیاستدانوں میں سب سے زیادہ طاقتور زمرے میں آتی ہیں۔ یہ جیت سبھی کے لئے اپنے آپ میں معنے رکھتی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Mamta Banerjee, Ratan Tata, Tata Motors, Vir Arjun

30 ستمبر 2011

حقانی نیٹ ورک پر پاک امریکہ میں بڑھتی تلخی



Published On 30th September 2011
انل نریندر
امریکہ کے ایک سینئر کانگریسی سنیٹر ٹیڈ پو نے پاکستان کو دی جانے والی سبھی طرح کی اقتصادی امداد پر روک لگانے کیلئے امریکی نمائندگان کو ایک تجویز پیش کی ہے۔ ٹیکساس سے اس ایم پی کی طرف سے پیش کی گئی یہ تجویز (ایم آر 3013) اگر پاس ہوجاتی ہے تو پاکستان کو نیوکلیائی ہتھیاروں کی حفاظت کے لئے دی جارہی رقم کے علاوہ سبھی طرح کی امدادی رقم پر روک لگ جائے گی۔ ٹیڈ نے حال ہی میں ایوان میں یہ تجویز پیش کرنے کے بعد کہاکہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کا پتہ لگنے کے بعد پاکستان امریکہ کیلئے بھروسہ توڑنے ،دھوکہ باز اور خطرناک ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مبینہ ساتھی اربوں ڈالر کی امداد لے رہا ہے اور دوسری طرف امریکیوں پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو حمایت دے رہا ہے ۔اس لئے اسے دی جارہی مدد روکی جائے۔ امریکہ1948 سے اب تک ایک اندازے کے مطابق 30 ارب پونڈ (قریب 22 کھرب 93 ارب روپے) کی سیدھی مدد دے چکا ہے۔ اس کی آدھی رقم پاکستان کو فوجی مدد کی شکل میں دی جا چکی ہے۔ 1962 میں امریکی مدد کی رقم سب سے زیادہ 2.5 ارب ڈالر (122.42 ارب روپے) تھی۔ 1990 کی دہائی میں مدد متوازن سطح پر تھی۔ صدر جارج بش نے پاکستان کو نیوکلیائی پروگرام کے چلتے مدد کرنا بند کردی تھی۔ 1965اور1971 میں ہند۔ پاک جنگ کے دوران اور بعد میں امریکہ نے کوئی مدد نہیں دی۔ ایک وقت کہا جاتا تھا کہ پاکستان میں سوئی بھی امریکہ سے آتی ہے۔امریکہ کے ذریعے پاکستان کو دی جارہی اقتصادی، فوجی مدد سے صاف ہے کہ امریکہ کے بغیر پاکستان کچھ نہیں ہے۔ امریکی مدد سے ہی پاکستان میں ترقیاتی کام چلتے ہیں۔ اگر یہ مدد آنی بند ہوگئی تھی پاکستان میں ہر چیز ٹھپ ہونے کا خطرہ ہے۔
کچھ دنوں سے امریکہ اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی اہم وجہ حقانی نیٹ ورک کی مدد کو لیکر ہے۔ امریکہ نے حقانی نیٹ ورک کے خلاف پاکستان کو کارروائی کرنے کے لئے کہا ہے۔ پینٹاگان کے ترجمان نے کہا پچھلے ایک ہفتے سے ہم پاکستان سرکار کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ وہ اپنے خطے میں موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے۔ پینٹاگان کے ترجمان جارج لٹل نے آگے کہا کہ ہم پاکستان حکومت سے امید کرتے ہیں کہ وہ افغان سرحد سے ملحق اپنے خطے میں موجود ان دہشت گردوں کے خلاف سخت قدم اٹھائے جو افغانستان میں داخل ہوکر امریکی اور افغانیوں پر حملہ کررہے ہیں۔ ایک دیگر سینئر امریکی افسر نے کہا کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کی محفوظ پناہ گاہ ہے اور یہ سنگین تشویش کا موضوع ہے۔ امریکہ اس نیٹ ورک کے خلاف ٹھوس کارروائی دیکھنا چاہتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ حقانی نیٹ ورک بنیادی طور سے افغانستان کے جلال الدین حقانی کی قیادت میں سرگرم ایک انتہا پسند تنظیم ہے۔ افغانستان ۔ پاکستان سرحدی خطے میں اس کے پاس 15 ہزار انتہا پسندوں کی فوج ہے۔ اس کے بڑے لیڈر ہیں جلال الدین حقانی، سراج الدین حقانی، بدرالدین حقانی،صغیر اور نصیر الدین حقانی وغیرہ وغیرہ۔ بنیادی طور سے اس کے فدائی حملے کروانا سب سے بہتر طریقہ ہے۔ قتل، زرفدیہ اور ہتھیاروں کی خریدو فروخت کے ذریعے پیسہ پیدا کرنے سے یہ اپنا نیٹ ورک چلاتا ہے۔ حقانی نیٹ ورک کا اثر جنوبی افغانستان کے پکتیا اور پاتھکا اور وادک ، لوگر اور غزنی علاقوں میں زیادہ ہے۔
پاکستان نے امریکہ پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا امریکہ نے ہی حقانی نیٹ ورک کو کھڑا کیا ہے ۔ پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے سوویت روس کے افغانستان میں زبردستی قبضے کے خلاف یہ طالبانی گروپ بنایا تھا اور انہی سے اسے ٹریننگ دلائی۔ ملک نے ایتوار کو اسلام آباد میں کہا حقانی گروپ کا جنم پاکستان میں نہیں ہوا اور امریکہ کو اب ان چیزوں کے بارے میں نہیں بولنا چاہئے جو 20 سال پہلے ہوئیں تھیں۔ ملک نے کہا حقانی نیٹ ورک اب افغانستان میں سرگرم ہے اور جو لوگ اس کے مخالف دعوی کررہے ہیں انہیں پاکستان میں اس کی موجودگی کے بارے میں ثبوت دینا چاہئے۔ حقانی نیٹ ورک اور آئی ایس آئی کے رشتوں سے امریکہ اور پاکستان کے درمیان آئی تلخی سے افغان طالبان نے پہلی بار پاکستانی حکومت کی حمایت لیتے ہوئے بیان جاری کیا ہے کہ اس معاملے کی آڑ لیکر امریکہ پاکستان میں بد امنی پھیلاکر حکومت کو کمزور کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ امریکہ پر پوری طرح منحصر ہوجائے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی کوشش پاکستانی عوام اور وہاں کی حکومت کے درمیان ٹکراؤ پیدا کرنے کی بھی ہے۔ وہ یہ دکھانا چاہتا ہے پاکستان آتنک وادیوں کی پناہ گاہ ہے۔ کل ملاکر امریکہ اور پاکستان کے درمیان تلخی بڑھتی جارہی ہے۔ میں نے ایک خبر یہ بھی پڑھی ہے کہ امریکی فوج پاکستان کے کچھ آتنکی ٹھکانوں پر بڑا حملہ کرنے کی اسکیم بھی بنا رہی ہے ۔
Afghanistan, America, Anil Narendra, CIA, Daily Pratap, Haqqani Network, ISI, Pakistan, Vir Arjun

آفینس از دی بیسٹ ڈیفنس

 

Published On 30th September 2011
انل نریندر
انگریزی میں یہ ایک کہاوت ہے ’’آفینس از دی بیسٹ ڈیفنس‘‘ یعنی حملہ کرنا سب سے اچھا بچاؤ ہے۔وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اسی تکنیک کو اپنایا ہے۔ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے کی آنچ سے جھلس رہے مرکز میں یوپی اے حکومت کے حکمت عملی ساز جہاں ڈیمیج کنٹرول میں جٹے ہوئے ہیں وہیں امریکہ سے وطن لوٹتے ہوئے ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اپوزیشن پر جم کر حملہ بولا اور اپوزیشن کے منصوبوں اور ارادوں کی ہوا نکالنے کی کوشش کی ہے۔ اپوزیشن پر حکومت کو کمزور کرنے، زبردستی ملک کو وسط مدتی چناؤ کی طرف دھکیلنے کا الزام وزیر اعظم نے لگا کر پورے معاملے کو ایک نئی سمت دینے کی کوشش کی ہے۔ وزیر اعظم نے یہ جوابی حملہ ہوا میں ایئر انڈیا کے طیارے سے ہی شروع کردیا۔ انہوں نے کہا ہم پانچ سال کی میعاد پوری کریں گے اور وسط مدتی چناؤ نہیں ہوگا۔ کیبنٹ کے ممبران میں ٹکراؤ کی باتیں میڈیا کا اپنا تصور ہے۔ وزیر داخلہ پی چدمبرم پر مجھے پہلے بھی بھروسہ تھا اور اب بھی ہے۔ نیویارک میں اقوام متحدہ سے لوٹتے ہوئے فرینک فرٹ سے نئی دہلی آ رہے طیارے میں صحافیوں سے بات چیت میں ڈاکٹر منموہن سنگھ نے مانا کہ بگڑتی معیشت کا اثر ہندوستان پر بھی ہوا ہے۔افراط زر ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے لیکن ہم حالات کو کنٹرول میں رکھنے کیلئے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔ ڈاکٹر سنگھ نے تسلیم کیا ہے کہ ان کی حکومت کی ساکھ کے بارے میں جنتا کے درمیان کوئی پریشانی ہوسکتی ہے جسے صحیح کرنا ضروری ہے۔
حکومت کو کمزور کر ملک کو وسط مدتی چناؤ کی طرف جھونکنے کی کوشش کیلئے اپوزیشن پر لگائے گئے وزیر اعظم کے الزام پر بھاجپا نے جوابی تیر چھوڑتے ہوئے کہا اگر حکومت گرے گی تو وہ اپنے کرموں سے ہی گرے گی۔ ہمیں سازش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی ایسا کرنے کے لئے ہمارے پاس درکار ممبروں کی تعداد ہے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر اعظم نے وطن لوٹتے ہی الزام لگایا ہے کہ اپوزیشن حکومت کو کمزور کرنے میں لگی ہے۔سشما نے کہا کہ حکومت کو کمزور کرنے کا ٹھیکرا اپوزیشن کے سر پھوڑنے کے بجائے بہتر یہ ہوتا کہ وزیر اعظم اپنے گھر کو درست کرنے کی فکر کرتے۔ محترمہ سشما نے کہا کہ حکومت اور ان کے وزرا کو لیکر جو کرپشن کے نئے نئے انکشافات ہورہے ہیں انہیں اپوزیشن نے نہیں گڑھا ہے بلکہ خود ان کے ہی لوگ ان کے ذریعے چلائی جارہی سرکار کی ایجنسیوں نے اجاگر کئے ہیں۔ ارون جیٹلی نے کہا ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالہ، کامن ویلتھ گھوٹالہ یہ اپوزیشن نے نہیں کیا۔ نوٹ کے بدلے ووٹ کانڈ سے اپوزیشن کوکوئی فائدہ نہیں ہوا۔ حکومت کی کمزور حالات کی وجہ سے سرکار میں لیڈر شپ کا سنگین بحران ہے۔ یہ سرکار خود ہی گرنے کے موڑ پر ہے۔ بھاجپا کے دونوں لیڈروں نے دعوی کیا وزارت مالیات کے نوٹ سے ثابت ہوچکا ہے کہ ٹوجی اسپیکٹرم الاٹمنٹ گھوٹالے میں جو گھوٹالہ اس وقت کے وزیر مواصلات اے راجہ نے کیا وہی جرم ہو بہو پی چدمبرم نے بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہا اس گھوٹالے میں وزیر اعظم کو کہیں بھی اندھیرے میں نہیں رکھا گیا بلکہ انہیں راجہ نے اور چدمبرم نے ہر قدم کے بارے میں باقاعدہ جانکاری دی۔ وزیر اعظم کی یہ حکمت عملی کتنی مثبت ثابت ہوگی یہ تو آنے والے دن ہی بتائیں گے لیکن ایک طرح سے انہوں نے یہ بیان دے کر خود اپنی حکومت کی عمر پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ جب وزیر اعظم خود ہی وسط مدتی چناؤ کی بات کرنے لگے تو اس کا جنتا جناردن میں کیا پیغام جائے گا آپ خود ہی سمجھدار ہیں۔
2G, Anil Narendra, Arun Jaitli, Daily Pratap, Inflation, Manmohan Singh, P. Chidambaram, Sushma Swaraj, Vir Arjun

29 ستمبر 2011

سی بی آئی نے کہا کہ بھاڑ میں جائے سرکار



Published On 29th September 2011
انل نریندر
میں نے اسی کالم میں دو تین دن پہلے اشارہ دیا تھا کہ اب سی بی آئی حکومت کی دم چھلا بننے سے کترانے لگی ہے۔ وہ آزدانہ طور سے کام کرنے کی خواہش مند ہے لیکن یہ اچھی بات بھی ہے دراصل افسر شاہی بھی بڑی عجیب وغریب جماعت ہے جب انہیں لگنے لگے یہ حکومت نہایت کمزور ہے یا انہیں لگنے لگے کہ اب اس حکومت کے دن گنے چنے رہ گئے ہیں تو انہیں لگتا ہے کہ اب یہ حکومت ہمارا نہ توبھلا کرسکتی ہے اورنہ ہی برا۔ تو یہ جماعت وزراء کو آنکھ دکھانے لگتی ہے۔ اور اپنے ڈھنگ سے کام کرنا شروع کردیتے ہیں۔ مجھے تو یہ حالت لگتی ہے کہ افسر شاہی کو یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ اب حکومت ہمیں کوئی ایوارڈ نہیں دے سکتی، نوکری میں توسیع نہیں دے سکتی ہے اورنہ تبادلہ کرسکتی ہے اس لئے کیوں نہ ہم وہ کریں جو ہماری نظروں میں صحیح ہو۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے انتہائی باخبر ذرائع سے پتہ چلاہے کہ اب وزیر اگرکوئی زبانی حکم دے تو سکریٹری لوگ کہتے ہیں حکم تحریری طور پر دے۔ محض اشارے سے کوئی آرڈر دینے کو تیار نہیں ہے۔ سی بی آئی اب ایساہی کرنے لگی ہے منگل وار کو ٹوجی اسپیکٹر م گھوٹالے میں سامنے آئے وزارت مالیات کے خط کی جانچ کی جائے یا نہیں اس مسئلے پر سی بی آئی اورحکومت آمنے سامنے آگئے ہیں۔ مرکز نے جہاں اس خط کی سی بی آئی کے ذریعے جائزہ لینے کی بات کہی وہی سی بی آئی کاکہناتھا کہ خط کا مطالعہ کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے وہ ایک آزاد ادارہ کا ہے اور کسی حکومت کو اس کی طرف سے کوئی بیان دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ سی بی آئی نے کہا کہ اسے پی چدمبرم کی جانچ کرنے کے لئے مجبور نہیں کیاجاسکتا ہے غورطور طلب ہے ٹو جی گھوٹالے میں عرضی گزار سبرامنیم سوامی سے وزارت معدنیات کی پی ایم او کولکھے خط سپریم کورٹ میں پیش کیا۔ اور اس کی بنیاد پر وزیرداخلہ پی چدمبرم کے خلاف سی بی آئی کی جانچ کا مطالبہ کیا جب عدالت میں اس مسئلے پر سماعت ہوئی تو مرکزی حکومت نے کہا کہ عدالت کے سامنے جو نئے دستاویزات رکھے گئے ہیں ،سی بی آئی ان کا مطالعہ کرے گی ۔ضرورت پڑنے پر اپنی اگلی اسٹیسٹس رپورٹ میں اس کا تذکرہ کرے گی۔ اس کے خلاف اس کی مخالفت میں سی بی آئی نے وزارت معدنیات کے نوٹ پر کہ حکومت ہمیں یہ نہ بتائے کہ ہمیں کس معاملے کی اور کس طرح کی تحقیقات کرنی ہے۔ سی بی آئی نے کہا ہمیں کسی ہدایت یا سمت بتانے کی ضرورت نہیں ہے اور حکومت ہمیں گائیڈ نہ کرے ۔ ہم اپنی سبھی جانچ کے پہلوؤں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔سی بی آئی کے ذرائع کے مطابق وزارت کے خط میں کچھ نیا نہیں ہے ہمیں سبھی رد وبدل کی جانکاری ہے، کسی قانونی رائے کی مانگ نہیں کی گئی ہے۔ سی بی آئی کاکہناہے کہ ہمارا صرف مجرمانہ معاملے کی تحقیقات کرنا ہے نہ کہ پالیسی ساز معاملوں کا سی بی آئی نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر سپریم کورٹ اس معاملے کو مانیٹری کررہا ہے تو کوئی دقت نہیں ہے لیکن ایس آئی ٹی جیسی تنظیم باہر سے مانیٹری کرے گی توہمیں ضرور پریشانی ہوگی۔ سی بی آئی کے ذرائع کے مطابق چدمبرم کا کوئی رول نہیں لیکن اس وقت کے مالیات سکریٹری کے کردار کو لے کر جانچ کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ دیا ندھی مارن کے معاملے میں جانچ پوری ہوچکی ہے اور اب انہیں فیصلہ لینا ہے اور اس کے خلاف چارج شیٹ داخل کی جائے یا نہیں۔سپریم کورٹ میں بدھوار کو اس معاملے پر سماعت جاری رہی ادھر عرضی گزار ڈاکٹر سبرامینم سوامی نے منگلوار کی صبح فوراً بات انٹر نیٹ پر ٹیوٹ کیا یہ تو غضب ہوگیا ہے میری عرضی کے مخالف ہی آپس میں جھگڑا کررہے ہیں ۔منموہن سنگھ کی سرکار کاوکیل کہہ رہا ہے کہ میرے ذریعے دستاویزات کی سی بی آئی جانچ کرے اور دوسری طرف سی بی آئی کا وکیل کہہ رہاہے کہ سرکار بھاڑ میں جائے۔ ڈاکٹر سوامی نے کہا کہ ان کے ذریعہ داخل کاغذات کو لے کر سی بی آئی شرمندہ ہے کہ جو کاغذا سے نہیں مل سکے۔ مجھے وہ کیسے مل جائے؟ منموہن سنگھ حکومت کی مشکلیں دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے۔ اگر سی بی آئی بھی مرکز کے ہاتھ سے نکل گئی تو بہت کچھ آگے ہوسکتا ہے۔

سدھیندرکلکرنی بھی پہنچے تہاڑ


Published On 29th September 2011
انل نریندر
نوٹ کے بدلے ووٹ معاملے میں خود کوڈگ ڈگی بجانے والے بھاجپا نیتا سدھیندرکلکرنی منگل کے روز خودہی تہاڑ جیل پہنچ گئے۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ کے چارج شیٹ میں اس کانڈ کے ماسٹر مائنڈ بتائے گئے کلکرنی کو عدالت نے یکم اکتوبر تک جوڈیشیل ریمانڈ میں بھیج دیا ہے۔ اب اسی دن ان کی ضمانت پر فیصلہ ہوگا ۔اس معاملے میں عدالت پہلے دوبار ہوئی سماعت میں غیرحاضر رہے کلکرنی کو جسٹس سنگیتا ڈھینگرا سہگل کی عدالت میں پیشگی ضمانت کی عرضی کو لے کر پیش ہوئے ۔انہوں نے دلیل دی کہ وہ اپنی بیٹی کے داخلے کے لئے امریکہ گئے تھے لہذا وہ پہلے کی سماعت کی تاریخ پر نہیں آسکے ۔انہوں نے ملکی مفاد میں ممبران کو رشوت دینے کا معاملہ اسٹینگ کروایا تھا۔ تاکہ لوگوں کو پتہ چل سکے کہ حکومت بچانے کیلئے کیسے ممبران پارلیمنٹ کی خریدوفروخت ہوتی ہے لیکن حکومت اور پولیس نے مجرم کو جیل بھیجنے کے بجائے سچائی ظاہر کرنے والے کو ہی جیل میں ڈال دیا ہے ۔انہوں نے نوٹ کے بدلے ووٹ کے معاملے میں کانگریس لیڈروں کے کرادار کی جانچ ہونی چاہئے جب ہی پتہ چلے گا کہ قصوروار کون ہے کلکرنی اس بارے میں عدالت کے سامنے اپنے وکیل مہی پال سنگھ کے ذریعے ایک عرضی بھی لگائی ہے دائر کردہ درخواست میں ا نہوں نے کہا کہ میرا کردار صرف پول کھولنے والوں تک تھا۔ اور میرا مقصد تیزی سے پھیل رہے کرپشن کو اجا گر کرنا تھا ۔انہوں نے دلیل دی کسی ایسے شخص کو انترم ضمانت دیئے جانے سے انکار کی کوئی وجہ نہیں بنتی جس کی باقاعدہ ضمانت عرضی عدالت میں زیرالتوا ہو اورجیسے جانچ کے دوران گرفتار نہیں کیا گیاہو ۔انہوں نے ذکرکیا کہانہوں نے ہمیشہ جانچ ایجنسی سے تعاون کیا ہے اور جب جب جانچ ایجنسی نے بلایا میں حاضر رہا۔ اب مجھے حراست میں بھیجنے کی کیا ضرورت ہے؟ ادھر ان کی انترم ضمانت درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے سرکاری وکیل راجیو موہن نے کہا کہ اس کافیصلہ صرف نفع ونقصان کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔ موہن نے کہاکہ انہوں نے بچاؤ فریق کے وکیل نے انترم ضمانت دینے کے لئے کوئی خاص وجہ نہیں بتائی ہے ۔ادھر ووٹ کے بدلے نوٹ کانڈ کے مجرم سماج وادی پارٹی کے سابق جنرل سکریٹری امرسنگھ کی ضمانت پر فیصلہ بدھوار کو ہونا تھا۔ حالانکہ فیصلہ یہ منگلوار کو کیاجاناتھا لیکن تیس ہزاری کی اسپیشل عدالت نے باقاعدہ عرضی پر فیصلہ ایک دن کے لئے ٹال دیا تھا۔ امرسنگھ فی الحال میڈیکل میں بھرتی ہے جہاں ان کاعلاج جاری ہے۔ نوٹ کے بدلے ووٹ کانڈ میں کلکرنی جیل جانے والے چھٹے ملزم ہیں۔ اس سے پہلے امرسنگھ دوسابق ایم پی جھگن سنگھ ومہاویر بھگوٹا سمیت امرسنگھ کے سابق پرائیویٹ سکریٹری سنجیو سکسینہ اور بھاجپاکے مبینہ ورکر سہیل ہندوستانی کو پہلے ہی تہاڑ جیل میں بھیجا جاچکاہے بھاجپا کے سینئر لیڈر لال کرشن ایڈوانی کے ساتھی رہے ہیں۔ سدھیندر کلکرنی کو جیل بھیجے جانے پر کانگریس کے ترجمان راشدعلوی نے کہا کہ عدالت کے حکم کے بعد یہ صاف ہوگیا ہے کہ نوٹ کے بدلے ووٹ کانڈ کی پوری سازش رچی گئی ہے اور بھاجپا نے دہلی پولیس کے ذریعہ اب تک کی گئی جانچ پر سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ بھاجپا کے لیگل سیل ممبر ستیہ پال جین کے مطابق یہ پہلی بار دیکھنے کو مل رہاہے۔ جب پولیس کے ذریعہ کسی معاملے میں شکایت گزار کو ہی گرفتار کیاجارہا ہے۔ جب کہ جن کے خلاف شکایت کی گئی ہے اس کے کسی بھی ممبر کی گرفتاری ہونی تو دور کی بات ہے ان کو بلاکر ان سے پوچھ تاچھ کرنا بھی مناسب نہیں سمجھی۔ یہ نہیں دہلی پولیس نے الٹے ہی جانچ کی کہ ابتدائی مرحلے میں رشوت معاملے کا فائدہ اٹھنے والے لوگوں کو کلین چٹ دے دی۔ میرا چھوٹا سا سوال ہے کہ اس معاملے میں جن لوگوں کو گرفتاری کی گئی ہے توسبھی چاہتے تو رشوت لے کر سرکار کو بچا سکتے تھے اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی۔ لیکن انہوں نے سچ کہنے کی ہمت دکھائی اور رشوت دی جانے کی بات عام کردی۔ سرکار اور پولیس نے انہیں ہی جیل پہنچا دیا۔
Amar Singh, Anil Narendra, Cash for Vote Scam, Daily Pratap, Sudhendra Kulkarni, Vir Arjun

28 ستمبر 2011

اب کیا ہوگا آگے: نظریں سپریم کورٹ پر لگیں



Published On 28th September 2011
انل نریندر
دیش کے لئے کتنے دکھ کی بات ہے کہ امریکہ میں وزیراعظم اور وزیر مالیات سے ٹو جی گھوٹالے پر سوال پوچھے جارہے تھے ۔ ساری دنیا میں گھوٹالوں کی اس حکومت نے پورے دیش کی عزت مٹی میں ملا دی ہے۔ پتہ نہیں دنیا بھارت کے بارے میں کیا سوچتی ہوگی؟ ادھر دیش میں اس حکومت کی مشکلیں بڑھتی جارہی ہیں۔ ٹوجی گھوٹالے میں روز نئی پرتیں کھل رہی ہیں جیسے جیسے نئے نئے معاملے سامنے آرہے ہیں پتہ چل رہا ہے کہ اس گھوٹالے کی اوپر سے نیچے تک سب کو خبر تھی لیکن کسی نے بھی اس کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ بیشک وزیر اعظم ، وزیر خزانہ بھلے ہی خود گھوٹالے میں شامل نہ رہے ہوں لیکن اس سے تو اب وہ انکار نہیں کرسکتے کہ سب کچھ ان کی جانکاری میں اور کچھ حد تک ان کی رضا مندی سے ہوا ، بیشک وزیر اعظم اس وقت کے وزیر خزانہ کو کلین چٹ دے رہے ہوں اور کہہ رہے ہوں کہ انہیں وزیر داخلہ پر پورا بھروسہ ہے لیکن اس سے اب تک بات بننے والی نہیں۔ٹوجی گھوٹالے پر پوری طرح سے گھر چکی حکومت کے سنکٹ موچکوں کے قدم اب ختم ہونے لگے ہیں۔ سرکار کی سینئر لیڈر شپ کو اب اس گھوٹالے کے جال سے بچانے کیلئے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ سابق وزیر مواصلات اے راجہ کے فیصلے سے دیش کے خزانے کو کسی طرح کا نقصان نہیں ہوا ہے۔ گذشتہ ہفتے عدالت کے سامنے پیش ٹی آر اے آئی کی رپورٹ اسی کوشش کا حصہ تھی جو اوندھے منہ گر پڑی۔ گھوٹالے کی جانچ کررہی جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی اس نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کررہی ہے۔ راجہ کے فیصلوں میں سرکار کی سینئر لیڈر شپ کی رضامندی کو ثابت کرنے والے تمام دستاویزی ثبوت دیش اور عدالت کے سامنے ہیں۔اے راجہ کے فیصلوں سے جو محصول کو نقصان ہوا اس کے بارے میں پہلے اگر قانونی طور پرثابت ہوجاتا تو پھر وزیر اعظم اور اس وقت کے وزیر خزانہ اس نقصان کی درپردہ ذمہ داری سے بچ سکیں۔ لائسنس لینے والی ایک کمپنی ایئر ٹیل کی ایک چٹھی سرکار کے لئے مصیبت بنے گی۔ وزیر اعظم کو معلوم تھا کہ کمپنیاں ٹوجی اسپیکٹرم کی اونچی قیمت دینے کو تیار تھیں۔ نومبر 2007 میں سیدھی منموہن سنگھ کو لکھی چٹھی میں ایئرٹیل نے اسپیکٹرم کے لئے 6 ہزار کروڑ روپے دینے کی پیشکش کی تھی۔ کمپنی نے بعد میں اسے بڑھا کر13752 کروڑ روپے تک کردیا تھا۔ بازار میں ان اشاروں کے باوجود راجہ نے اسپیکٹرم کو کم قیمت پر فروخت کردیا اور پی ایم او اس فیصلے میں راجہ کے ساتھ کھڑا رہا۔ اسپیکٹرم میں کل کتنا خسارہ ہوا یا گھوٹالہ ہوا اس نقصان کے اندازہ میں کیگ نے ایئر ٹیل کی چٹھی میں مجوزہ قیمت کو ہی اہمیت اشو بنایا ہے۔ راجہ کے فیصلے سے وزیر اعظم اور اس وقت کے وزیر خزانہ کی بے توجہی کی دلیل سامنے آگئی۔ راجہ کے فیصلوں سے بدعنوانی تو صاف ہے البتہ اس فیصلے سے محصول کو نقصان کی دلیل ابھی تنازعات میں ہے۔ کیگ 1 لاکھ76 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا اندازہ لگا چکی ہے جس کو سرکار نے مسترد کردیا ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں تازہ جانکاری کے بعد یہ ثابت کرنے کی آخری کوشش ہوگی کہ 2001 کی قیمتوں پر2008 میں اسپیکٹرم بیچنے سے خزانے کو کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔ یہ ہی آخری راستہ ہے جس سے بدعنوانی کا ٹھیکرا اے راجہ کے سر پھوٹے گا اور سرکار کی لیڈر شپ دیش کا نقصان کرنے کے الزام سے بچ سکے گی۔ ویسے سی بی آئی نے اے راجہ پر کرپشن کا جو مقدمہ چلایا اس میں یہ درج ہے کہ وزیر مواصلات کے فیصلوں سے دیش کو قریب 30 ہزار کروڑروپے کا نقصان ہوا۔ سی بی آئی کو سابق وزیر مواصلات یا بے ضابطگی پر مقدمے کے لئے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ راجہ کے فیصلے سے خزانے کو بھاری چپت لگی ہے۔ اب سب کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہیں ۔دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ آج وزیر داخلہ پی چدمبرم کی اسپیکٹرم میں کردار کی جانچ کو لیکر کیا فیصلہ لیتی ہے۔ یوپی اے اور کانگریس ایک ناگزیں بحران میں پھنس گئی ہیں۔ جس کا فی الحال توکوئی توڑ نہیں نکل پارہا ہے۔ کانگریس صرف اس بات سے فکر مند نہیں چدمبرم پر حملہ کیا جارہا ہے بلکہ اس کی اصلی پریشانی بھاجپا کی وزیر اعظم کو لپیٹنے کی اسکیم سے ہے۔ اگر بھاجپا ایک بار پھر چدمبرم کے خلاف جانچ شروع کرانے میں کامیاب ہوگئی تو اس جانچ کی آنچ اپنے آپ وزیر اعظم تک پہنچ جائے گی۔منگلوارکو سپریم کورٹ میں اس معاملے کی سماعت ہوئی ہے۔ لیکن تازہ اطلاع کے مطابق یہ معاملہ آج تک یعنی بدھوار تک کے لئے ملتوی ہوگیا ہے۔ دیکھیں عدالت میں آج کیا ہوتا ہے؟
2G, A Raja, Anil Narendra, CAG, Corruption, Daily Pratap, Manmohan Singh, P. Chidambaram, Pranab Mukherjee, Prime Minister, Scams, Supreme Court, Vir Arjun

بابا رام دیو حمایتیوں پر لاٹھی چارج کی شکار راج بالا چل بسی




Published On 28th September 2011
انل نریندر
کالی کمائی کے اشو پر بابا رام دیو کے انشن کے دوران رام لیلا میدان میں دہلی پولیس کے ذریعے 4 جون کو کی گئی کارروائی میں شدید زحمی ان کی ایک حمایتی 57 سالہ خاتون راج بالا آخر کار پیر کے روز چلی گئیں۔ راج بالا کی ریڑھ کی ہڈی میں شدید چوٹیں آئیں تھیں تبھی سے وہ یہاں جی بی پنت ہسپتال میں زیر علاج تھیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق راج بالا کی موت صبح 10 بجکر25 منٹ پر ہوئی۔ راج بالا ان بدقسمتوں میں تھیں جو 4 جون کو رام لیلا میدان میں بابا رام دیو کی حمایت میں بیٹھی تھیں۔ پولیس کارروائی میں بری طرح زخمی ہونے کے بعد انہیں4 جون کو ہی ہسپتال میں بھرتی کروایا تھا۔ ان کا آپریشن بھی ہوا تھا اور وہ وینٹی لیٹر پر تھیں۔ راج بالا کے خاندان اور بابا رام دیو کا الزام ہے کہ راج بالا پولیس لاٹھی چارج کے سبب زخمی ہوئی تھی حالانکہ پولیس ان الزامات کی تردید کرچکی ہے۔ رام لیلا میدان پر کوئی لاٹھی چارج نہیں ہوا تھا اور مظاہرین کے درمیان مچی بھگدڑ کے سبب راج بالا زخمی ہوئی تھیں۔ ہسپتال میں راج بالا کی موت کی اطلاع ملتے ہیں پنت ہسپتال پہنچے بابا رام دیو نے کہا راج بالا کی قربانی بیکار نہیں جانے دی جائے گی۔ جن اشوز کی لڑائی میں انہوں نے قربانی دی وہ آگے جاری رہے گی۔ بابا نے کہا راج بالا کی موت کرپشن کے خلاف لڑائی میں شہادت ہے ان کی موت کے لئے وزیر داخلہ سیدھے طور پر ذمہ دار ہیں کیونکہ انہی کے کہنے پر پولیس نے میرے حمایتیوں پر بے رحمانہ طریقے سے کارروائی کی تھی۔ رام دیو کے بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ سینئر وکیل رام جیٹھ ملانی نے اس اشو پر حمایت دی ہے اور کہا ہے کہ دہلی پولیس اور اسے ہدایت دینے والے وزیر داخلہ کو معاملے میں ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔ موقعے پر سول سوسائٹی کے ممبر منیش سسودیا اور راج بالا کی بہو راکیش کماری ملک نے اخبار نویسوں کے سامنے الزام لگایا کہ راج بالا کی موت پولیس کارروائی کے سبب ہوئی۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ پولیس نے یہ کارروائی کی تھی۔ ہمیں ہماری ماں واپس چاہئے۔ کیا ہمیں ہماری ماں واپس دے سکتے ہیں؟ ہمیں کوئی معاوضہ نہیں چاہئے۔ آپ ایسی سرکار سے کیا امید رکھیں گے جس کے وزیر اعظم یا کسی سینئر وزیر نے اس معاملے میں ایک لفظ تک نہیں بولا۔ راکیش کماری نے یہ بھی الزام لگایا راج بالا کو جو چوٹیں آئیں تھیں ان کا ایم ایل سی میں ذکر بھی نہیں کیا گیا ہے۔ بھاجپا کے سینئر لیڈر راجناتھ سنگھ نے کہا اس سے پولیس کے سپریم کورٹ کے سامنے کئے گئے اس دعوے کی پول کھل گئی ہے کہ مظاہرین پر کوئی لاٹھی چارج نہیں ہوا تھا۔ڈاکٹروں نے بتایا کہ پہلے دن سے ہی راج بالا کی حالت نازک بنی ہوئی تھی اور انہیں دوائیوں اور لائف سپورٹ سسٹم پر ہی زندہ رکھا گیا تھا۔ بابا رام دیو اور ان کے حمایتیوں پر مبینہ پولیس کارروائی کے الزام کے بعد قومی انسانی حقوق کمیشن نے 6 جون کو مرکزی وزیر داخلہ دہلی سرکار اور دہلی پولیس سے رپورٹ مانگی تھی۔ اس پولیس کارروائی میں بچوں ،خواتین، بزرگوں سمیت بہت سے لوگ زخمی ہوئے تھے۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ انہیں یقین ہے بصد احترام جج راج بالا کی موت کا نوٹس لیں گے اور ان کے قتل کے لئے ذمہ دار لوگوں پرضرور کارروائی کریں گے۔ہم راج بالا کے خاندان والوں کو بتانا چاہیں گے کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ اکیلے نہیں ہیں۔
Anil Narendra, Baba Ram Dev, Daily Pratap, delhi Police, Human Rights Commission, P. Chidambaram, Raj Bala, Ram Lila Maidan, Supreme Court, Vir Arjun

27 ستمبر 2011

قرآن پر منعقدہ نمائش پر شاہی امام کا ٹکراؤ



Published On 27th September 2011
انل نریندر
جمعہ کے روز نئی دہلی کے کانسٹیٹیوشن کلب میں ایک نمائش مسلم مذہبی کتاب قرآن شریف کی اہمیت پرلگائی گئی۔ اس کو لیکر دو گروپوں میں ٹکراؤ ہوگیا، جس سے نمائش کے انعقاد کرنے والوں کو مجبوراً نمائش کو بند کرنا پڑا۔ کانسٹیٹیوشن کلب کے ہال میں یہ سہ روزہ نمائش جمعہ کو شروع ہوئی تھی۔ احمدیہ مسلم جماعت کے معاون سکریٹری سید عزیز احمد اور دہلی صوبے کے صدر داؤد احمد نے بتایا قرآن کی اہمیت سے لوگوں کو متعارف کرانے کے لئے لوگوں کو اس نمائش کا اہتمام کیا گیا تھا۔ قرآن کی تعلیم اور زندگی میں اس کی اہمیت کو دکھانے والی تصاویر اور بینر اور مختلف اخباروں و میگزینوں میں شائع مضامین اور دانشوروں کے نظریات کو یہاں دکھایا گیا تھا لیکن کچھ غیر سماجی عناصر کی وجہ سے نمائش بند کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ جموں و کشمیرسے آئے ایک طالبعلم کا کہنا تھا کہ قرآن تو سبھی کو بھائی چارے کی تلقین کرتا ہے۔ اس پر واویلا کھڑا کرنا افسوس کی بات ہے۔ نمائش کی مخالفت کررہے لوگ جمعہ کو ہی کانسٹیٹیوشن کلب کے باہر جمع ہونے لگے تب انہیں پولیس نے سمجھا بوجھا کر لوٹا دیا لیکن وہ سنیچر کو صبح پھر آگئے اور ہنگامہ کرنے لگے۔ شاہی امام احمد بخاری کے بھائی یحییٰ بخاری کلب کے باہر موجود تھے۔ دوپہر کو احمد بخاری اپنے 100-200 حمایتیوں کے ساتھ کانسٹیٹیوشن کلب کے لئے نکلے اور دوپہر 12 بجے دریا گنج تھانے کے سامنے انہیں روک لیا اور سبھی کو حراست میں لے کر تھانے میں بٹھا لیا۔ پولیس افسر امن قائم رکھنے کے لئے شاہی امام سے مظاہرہ کے مقام پر نہ جانے کی اپیل کرتے رہے۔ امام بخاری بغیر نمائش بند کروا واپس جانے کو تیار نہیں تھے۔ احمد بخاری کو حراست میں لئے جانے کی خبر ملتے ہی ان کے قریب400 حمایتی تھانے کے باہر جمع ہوگئے۔ آناً فاناً میں پولیس نے یہ نمائش بند کرادی اور اطلاع احمد بخاری کو دے دی۔ اس کے بعد ساڑھے تین بجے شاہی امام اور ان کے حمایتیوں کو چھوڑدیا گیا۔ سبھی تھانے سے چلے گئے۔ احمد بخاری کے مطابق قادیانی جماعت کو دنیا کی سبھی مسلم تنظیموں نے فرقے سے باہر کررکھا ہے۔ شاہی امام کا کہنا ہے قادیانی جماعت نے نمائش میں قرآن شریف کو غلط طریقے سے پیش کیا یہ مسلمانوں اور قرآن کی توہین ہے۔ احتجاج کررہی تنظیموں میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ممبر کمال فاروقی، آل انڈیا مسلم اینڈ دلت دانشور فرنٹ کے صدر ڈاکٹر محمدحسن کا کہنا تھا کہ وہ مسلمان نہیں ہیں اور لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ غیر مسلم قرآن شریف پر کیا بات کرسکتے ہیں۔وہ کچھ بھی کریں لیکن قرآن کا ذکر نہیں کریں۔ یہ ہماری مانگ ہے۔ دوسری طرف نمائش کے انعقاد کرنے والوں نے کہا کہ ہم نے53 زبانوں میں مترجم قرآن شریف کو پیش کیا۔ قرآن انہیں دی گئی تعلیم کو مخصوص بینر کے ذریعے سے دکھایا گیا تھا۔ بین الاقوامی مسلم جماعت احمدیہ (قادیانی) کا کہنا ہے کہ وہ سچے مسلمان ہیں اور ان کا کلمہ، قرآن، نماز و روزہ سب یکساں ہیں۔ قرآن کو عام لوگوں تک پہنچانے کے لئے یہ نمائش لگائی گئی تھی۔بہر حال نمائش کو لیکر اٹھے واویلے کو پولیس نے جس سمجھداری سے رفع دفع کیا ہے اس کیلئے وہ مبارکباد کی مستحق ہے۔
Ahmed Bukhari, Ahmedia, Anil Narendra, Daily Pratap, Islamabad, Qadiani, Quran Majeed, Shahi Imam, Vir Arjun

پاکستان کی امریکہ کو دھمکی و چیلنج



Published On 27th September 2011
انل نریندر
 پاکستان اور امریکہ کے درمیان تلخی بڑھتی جارہی ہے اور اب تک جاری زبانی جنگ اب سفارتی رشتوں میں دراڑ کی شکل میں سامنے آنے لگی ہے۔ اقوام متحدہ میں شرکت کرنے آئیں پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی نے اپنی تقریر میں کہا کہ امریکہ پاکستان یا پاکستانی عوام کو الگ تھلگ کرنے کا خطرہ نہیں اٹھا سکتا۔ پاک وزیر خارجہ کے مطابق اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اس کی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔ ربانی کا یہ بیان امریکہ کے اعلی فوجی افسر ایڈمرل مائک مولن کے اس الزام کے بعد آیا جس میں انہوں نے گذشتہ ہفتے کابل میں امریکی سفارتخانے پر ہوئے حملے کے پیچھے آئی ایس آئی کو ذمہ دار مانا تھا۔ مائک مولن کا کہنا ہے کہ حملے کے پیچھے حقانی نیٹورک کو آئی ایس آئی کی شہ حاصل ہے۔ ویسے امریکہ طویل عرصے سے مانتا رہا ہے کہ افغانستان میں اپنی پیٹ مضبوط کرنے کے لئے پاکستانی حقانی نیٹ ورک کا سہارا لے رہا ہے۔ افغانستان سے 2014 تک فوجیوں کی واپسی اور وہاں ایک پائیدار اور جمہوری حکومت کے قیام کے امریکی خواب میں حقانی نیٹ ورک سب سے بڑا روڑا بنا ہوا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان وسیع اور ٹرینگ یافتہ نیٹ ورک کے خاتمے میں امریکہ کو دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں اسے اپنے سب سے مضبوط ساتھی پاکستان کی طرف سے کوئی مدد نہیں ملنے والی ہے۔ حقانی نیٹ ورک کو پاکستان اپنی طالبان اور اپنی سیاسی حکمت عملی کے وراثت مانتے ہیں جو امریکہ کے افغانستان سے ہٹنے کے بعد وہاں پاکستانی مفادات کی حفاظت کرے گا۔ امریکہ کی مشکل یہ ہے کہ وہ تمام کوششوں کے باوجود القاعدہ کو اس نے جس طرح سے نیست و نابود کیا تھا ویسے ہی حقانی نیٹ ورک کو وہ نہیں کرسکا۔ القاعدہ سرغنہ جہاں ڈرون حملوں سے اپنی جان بچا رہے ہیں وہیں حقانی نیٹ ورک ایک بعد ایک تابڑ توڑ حملوں کو انجام دے رہا ہے۔ ایسے میں آخر کار امریکہ اب جلال الدین و سراج الدین حقانی کو اسامہ بن لادن و القاعدہ جتنا ہی خطرناک ماننے لگا ہے۔ امریکہ حقانی نیٹ ورک کا ہر قیمت پر صفایا چاہتا ہے۔ دراصل اوبامہ انتظامیہ کابل میں امریکی سفارتخانے پر ہوئے دہشت گردانہ حملے سے بوکھلا گیا ہے۔ 12 ستمبر کو اس حملے میں جلال الدین حقانی کے بیٹے سراج الدین حقانی کا ہاتھ تھا۔ اس حملے میں چار پولیس ملازمین اور چار شہری مارے گئے تھے۔19 گھنٹے تک چلی اس لڑائی میں 11 آتنک وادیوں کو بھی اپنی جان گنوانی پڑی تھی۔ اس سے دو دن پہلے ہی حقانی کے آتنک وادیوں نے ورداگ ریاست میں واقع نیٹو کے ٹھکانے پر حملے کیا تھا جن میں چار افغانی شہری مارے گئے تھے اور 77 امریکی زخمی ہوئے تھے۔
آخر کار امریکہ کو وہ سچائی سمجھ میں آنے لگی ہے کہ پاکستان ان آتنکی تنظیموں سے نہ صرف ملا ہوا ہے بلکہ ان کی ہر طرح سے مدد کرتا رہتا ہے انہیں سرپردستی دیتا ہے۔ بھارت نے یہ بات اجمریکہ کو کئی بار سمجھانے کی کوشش کی لیکن امریکہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی انجام بنا رہا یا شاید اس نے اس میں دلچسپی نہیں لی۔ کیونکہ پاک اسپانسر آتنک واد کا شکار بھارت تھا۔ اب جب خود امریکہ اس کا نشانہ بن رہا ہے، امریکہ کو کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگا ہے۔ حالانکہ بھارت کے ساتھ ساتھ کئی امریکی ماہرین بھی بار بار یہ کہہ رہے تھے کہ پاکستان نے دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کو اپنی قومی پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے لیکن امریکی سینئر لیڈر شپ اسی جان بوجھ کر نظر انداز کرتی رہی ہے۔ امریکہ کی مشکل اور کمزوری کا پاکستان پورا فائدہ اٹھا رہا ہے اور اٹھائے گا۔ انہیں معلوم ہے کہ امریکہ 2014 تک افغانستان سے ہٹنا چاہتا ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان میں امریکہ کے ہٹنے کے بعد بھی اس کی بالادستی قائم رہے۔ پاکستان ہمیشہ امریکہ کو بلیک میل کرتا رہا ہے اور اب بھی کررہا ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ سے لیکر وزیر اعظم، صدر تک یہ ظاہر کرنے میں لگے ہوئے ہیں کہ اسلام آباد سے زیادہ واشنگٹن کو ان کی حمایت کی ضرورت ہے۔ ان بیانات میں ایک طرح کی دھمکی بھی چھپی ہوئی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ پاکستان کی اس چال بازی کو بھانپ پاتا ہے یا نہیں اور اس کے سلسلے میں اپنی حکمت عملی میں کوئی ٹھوس تبدیلی کرتا ہے یانہیں؟ پاکستان کے سلسلے میں امریکی امکانی پالیسی بھلے ہی کچھ بھی ہو، اوبامہ انتظامیہ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ اور طویل عرصے تک بغیر اپنے مفادات سے سمجھوتہ کئے پاکستان سے سب سے مضبوط اتحادی ماننے والی پالیسی پر چل نہیں سکتا۔ امریکہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کی پوری مدد اور حمایت چین بھی کررہا ہے۔ معاملہ صرف امریکہ۔ پاکستان کا نہیں رہ جاتا، چین کے بھی بیچ میں آنے سے سارے تجزیئے بدل جاتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ پاکستان سے زیادہ آج امریکہ مشکل میں ہیں۔ دیکھیں آگے کیا ہوتاہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Haqqani Network, Afghanistan, Pakistan, USA, America, Taliban,

25 ستمبر 2011

راکشسوں کو مارنے کیلئے لکشمن ریکھا پار کرنی پڑتی ہے



Published On 25th September 2011
انل نریندر
ایسا لگ رہا ہے کہ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالہ منموہن سنگھ سرکار پر بھاری پڑ رہا ہے۔ جی ہاں ایک طرف سرکار کے اندر سینئر وزرا کی کھینچ تان بڑھتی جارہی ہے وہیں سرکار اور سی بی آئی میں اختلافات ابھر کر سامنے آرہے ہیں۔ مرکزی سرکار میں نمبر دو کی حیثیت رکھنے والے پرنب مکرجی جو اس وقت وزیر مالیات ہیں، کے پرانے وزیر مالیات پی چدمبرم جو کہ اس وقت وزیر داخلہ ہیں کے درمیان سرد جنگ اب منظر عام پر آچکی ہے۔ ایک سینئر کانگریسی لیڈر کے اس گھمسان سے پارٹی اور سرکار میں جس طرح سے عجب صورتحال بنی ہوئی ہے وہ کانگریس پارٹی اور منموہن سرکار کے لئے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں۔ پارٹی اس مرتبہ معاملے کو پہلے سے کہیں زیادہ حساس مان رہی ہے کیونکہ ٹو جی معاملہ سرکار کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔ پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے اگر سپریم کورٹ وزارت مالیات کے خط پر اپنی طرف سے کوئی فیصلہ لیتی ہے تو حالت سرکار کے لئے انتہائی سنگین بن سکتی ہے۔ کانگریس کے ایک جنرل سکریٹری کے مطابق اس مرتبہ سرکار میں نمبر دو کے وزیر کے محکمے کی جانب سے متنازعہ جو ثبوت سامنے آئے ہیں لہٰذا یہ معاملہ آسانی سے نمٹایا نہیں جاسکے گا۔ پارٹی کا خیال ہے کہ پرنب اور پی چدمبرم کی آپسی کھینچ تان سے سرکار کی پہلے ہی سے خراب ہوچکی ساکھ مزید خراب ہورہی ہے۔
ادھر ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے کی جانچ پر سپریم کورٹ کی نگرانی کو لیکر عدالت مرکزی حکومت اور سی بی آئی میں اختلافات بھی سامنے آگئے ہیں۔ مرکز نے جمعرات کو سپریم کورٹ میں جانچ پر نگرانی رکھنے کی مخالفت کی تھی وہیں سی بی آئی نے دلیل دی تھی کہ نگرانی جاری رہنی چاہئے۔ مرکزی حکومت نے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ (سپریم کورٹ) ٹو جی گھوٹالے کے معاملے میں وزیر داخلہ پر سماعت نہیں کرسکتی۔ اس نے عدالت سے کہا کہ وہ اس معاملے میں آرڈر پاس کر’’ لکشمن ریکھا ‘‘ پار نہ کرے۔ یہ سرکار کی جانب سے سپریم کورٹ کے اختیارات کو چنوتی دینا تھا لیکن سپریم کورٹ نے دو ٹوک کہا کہ آپ لکشمن ریکھا کی بات کررہے ہیں ،اگر سیتا نے لکشمن ریکھا پار نہیں کی ہوتی تو راون مارا نہیں جاتا۔ لکشمن ریکھا راکشسوں کو مارنے کے لئے ہی پار کی جاتی ہے۔ ایسا لوگ کہتے ہیں۔ جسٹس جی ایس سنگھوی اور جسٹس اے کے گانگولی کی بنچ نے یہ ہی نہیں کہا بلکہ سرکار اور سی بی آئی کے معاملے میں ہو رہی جانچ میں ٹال مٹول کرنے پر بھی اس کو جھاڑ پلائی۔ اس کے بعد سی بی آئی کے وکیل نے کہا کہ عدالت جانچ کا آدیش دیتی ہے تو وہ اس کی تعمیل کرے گی۔ اس نے یہاں تک یقین دہانی کرائی کہ وہ سبرامنیم سوامی کے کردار کے بارے میں عدالت میں پیش دستاویزوں کی بھی جانچ کرنے کو تیار ہے۔ دراصل عدالت میں درپردہ طور پر اشارہ دیا کہ اعلی عہدوں پر بیٹھے ملزمان کو سزا دلانے کے لئے وہ پرانے فیصلوں کو نظرانداز کر جانچ جاری رکھ سکتی ہے۔اس سے پہلے جسٹس جی ایس سنگھوی اور جسٹس اے کے گانگولی کی بنچ کے سامنے مرکز کے سامنے پیش ہوئے سینئر وکیل پی پی راؤ نے بڑی عدالت کی بنچ کے پرانے فیصلوں کا حوالہ دیکر نگرانی کی مقرر لکشمن ریکھا ہونے کی دلیل دی تھی۔ بنچ نے راؤ سے یہ بھی پوچھ لیا کہ آخر کیوں عدالت کی جانب سے جانچ کی نگرانی کا چلن شروع ہوا؟ ونت نارائن معاملے تک ہم نے یہ نہیں سنا تھا کہ یہ چلن اس لئے شروع ہوا کیونکہ کے بدنیتی کا دائرہ بڑا ہوتا گیا اور روایتی طریقے کمزور پڑ گئے۔ جہاں ایک طرف تو سرکار اس گھوٹالے میں عدالت کی نگرانی جاری رکھنے پر اعتراض کررہی ہے، وہیں دوسری طرف سی بی آئی کی جانب سے دیش کے سینئر وکیل کے کے وینوگوپال نے کہا کہ جانچ عدالت کی نگرانی میں ہی جاری رہنی چاہئے۔ اس پر بنچ نے مرکز سے پوچھا کہ سالیسٹر جنرل نے پہلے عدالت کی جانب سے نگرانی پر اتفا ق رائے ظاہر کی تھی۔ اب اگر سرکار اپنا بیان واپس لے رہی ہے تو بتائے؟ جواب میں راؤ نے کہا کہ وہ سالیسٹر جنرل کے بیان کو واپس نہیں لے رہے ہیں۔ سپریم کورٹ میں ہوئی کارروائی سے جہاں سپریم کورٹ اور مرکزی سرکار کے درمیان اختلافات ابھر کر سامنے آئے ہیں وہاں حکومت اور سی بی آئی کے اختلافات بھی سامنے آگئے ہیں۔
وزیر مالیات پرنب مکرجی اور وزیر داخلہ پی چدمبرم کے درمیان جنگ اب کھل کر سامنے آچکی ہے۔ ٹوجی اسپیکٹرم معاملے میں سی بی آئی کے ذریعے چارج شیٹ دائر کرنے کے ایک ہفتے پہلے ہی وزارت مالیات کے اس خط کا باہر آنا جس میں یہ کہا گیا ہے کہ اس وقت کے وزیر مالیات پی چدمبرم ٹوجی اسپیکٹرم کی قیمت کو لیکر اے راجہ سے متفق تھے، آنے والے واقعات اس بات کا اشارہ دے رہے ہیں۔ اور یہ بھی کہ وزیر مالیات پرنب مکرجی کے دفتر میں جاسوسی کے معاملے کے بعد کس طرح سے پرنب اور چدمبرم کے درمیان یہ تلخ جنگ چھڑی ہوئی ہے ۔ سبھی کی نظریں اب وزیر اعظم منموہن سنگھ کے امریکہ سے لوٹنے پر لگی ہوئی ہیں۔ دیکھیں وزیر اعظم اور کانگریس صدر سونیا گاندھی اس نئے جھنجھٹ سے کیسے نمٹتے ہیں؟
2G, Anil Narendra, CBI, Corruption, Daily Pratap, Supreme Court, Vir Arjun

پدمنابھ سوامی مندر کا آخری تہہ خانہ ابھی نہیں کھلے گا


Published On 25th September 2011
انل نریندر
جمعرات کو سپریم کورٹ نے کیرل کے پدمنابھ سوامی مندر کے چھٹے اور آخری تہہ خانے کو کھولنے سے متعلق فیصلہ ٹال دیا ہے۔ اپنے انترم حکم میں عدالت نے کہا چھٹا تہہ خانہ (بی) تب تک نہیں کھولا جائے گا جب تک دیگر تہہ خانوں سے نکلے خزانے کی حفاظت کا وسیع انتظام نہیں ہوجاتا۔ جسٹس آر وی روندرم اور جسٹس اے کے پٹنائک کی بنچ نے کہا کہ مندر کے پانچ تہہ خانوں سے نکلے قریب 1.5 لاکھ کروڑ کے خزانے کے دستاویز بندی اور ان کی چھانٹ اور حفاظت کا وسیع انتظام کیا جائے۔ یہ کام پورا ہونے تک آخری خزانہ نہیں کھولا جائے گا۔ بنچ نے مندر کی حفاظت کا ذمہ سی آر پی ایف کو سونپنے کی صلاح ماننے سے انکار کردیا اور ریاستی پولیس کے حفاظتی انتظامات پر تشفی ظاہر کی۔ اپنے فیصلے میں عدالت ہذا نے کہا فی الحال چھٹے تہہ خانے کو کھولنے کا مناسب وقت نہیں ہے۔ تین مہینے بعد خزانے کی حفاظت اور دستاویز بندی اور ان کی چھٹنی وغیرہ پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ہی انترم فیصلہ صادر کیا جائے گا۔
سپریم کورٹ نے نیشنل میوزیم کے ڈائریکٹر جنرل سی وی آنند بوس کی سربراہی میں پانچ نکاتی ماہرین کی کمیٹی بنائی تھی۔ اس نے خزانے کی حفاظت کے وسیع بندوبست کئے جانے تک چھٹے تہہ خانے کو نہ کھولنے کی صلاح دی تھی۔ کمیٹی میں آثار قدیمہ حکومت ہند اور بھارتیہ ریزرو بینک کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ برسوں سے مندر کے نگراں رہے شراون کور شاہی پریوار نے بھی کورٹ سے پچھلی تاریخ میں اپیل کی تھی کہ شری پدمنابھ سوامی مندر کے بی تہہ خانے کو نہ کھولنا چاہئے۔ شاہی خاندان نے کہا کہ اس سے پہلے مندر سے برآمد ہوئے خزانے کی ویڈیو گرافی یا فوٹو گرافی اس لئے نہیں ہوئی کیونکہ یہ مندرکی روایات اور قواعد کے خلاف ہے۔ شاہی پریوار نے پیش کی درخواست میں کہا کہ بی تہہ خانے کو کھولنا مندر سے آستھا رکھنے والوں کی روایات اور ان کے عقیدت کے خلاف ہے۔ عدالت نے اس وقت تعجب ظاہر کیا جب اسے بتایا گیا کہ عدالت کی جانب سے مقرر ماہرین کی کمیٹی نے بی تہہ خانے کو کھولنے یا نہ کھولنے کا فیصلہ مندر کے بڑے پجاری پر چھوڑدیا تھا۔ عدالت نے تعجب ظاہر کیا جس کمیٹی کو فیصلہ لینے کا اختیار دیا گیا وہ فیصلے کے اس حق کو دوسرے کو کیسے سونپ سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے جمعرات کو اپنے فرمان میں یہ بھی کہا کہ ریاستی حکومت ہی املاک کی سلامتی کیلئے سی آر پی ایف کی ضرورت نہیں ہے۔ تین سطحی سسٹم طے کریں۔ مندر کے رواجوں اور روایات کا خاص خیال رکھا جائے۔ مندر انتظامیہ سکیورٹی کے لئے 25 لاکھ روپے سالانہ ریاستی حکومت کو دے جبکہ باقی خرچ سرکار اٹھائے۔ املاک کے تحفظ کیلئے ٹنڈر مدعو کر پرائیویٹ کمپنیوں کو شامل نہیں کیا جائے۔ کیرل اسٹیٹ الیکٹرانک ڈولپمنٹ کارپوریشن سے یہ کام کرایا جائے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Kerala, Shri Padmanabh Swami Temple, Sri Padmaswami Temple, Supreme Court, Vir Arjun

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...