Translater

18 اپریل 2026

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ۔ٹرمپ منیر پر اتنا بھروسہ کرتے ہیں کہ انہیں وائٹ ہاؤس میں لنچ پر بلاتے ہیں اور ون ٹو ون میٹنگ کرتے ہیں ۔شاید اس وقت عاصم منیر دنیا کے ایک واحد فوجی کے سربراہ ہوں گے جنہیں وائٹ ہاؤس میں بلا کر ان کے ساتھ باقاعدہ لنچ کرتے ہیں ۔ان حالات میں ہمیں کوئی تعجب نہیں ہوا جب اسلام آباد میں پہلے دور کی بات چیت فیل ہو گئی تو دوبارہ بات چیت کرنے کے لئے ٹرمپ نے منیر کو اپنا ڈاکیہ چنا اور انہیں ایرانی لیڈر شپ سے بات چیت کرنے اور دوبارہ اسلام آباد میں امن مذاکرات میں شامل ہونے کے لئے خاص طور پر بھیجا ۔مزیدار بات یہ بھی ہے کہ عاصم منیر ،جہاں ٹرمپ کے بھروسہ مند شخص ہیں وہیں چینی صدر شی جنپنگ کے بھی بھروسہ مند ہیں ۔خیر ہم بات کررہے تھے عاصم منیر کے ایران پہنچنے کی ۔ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کو لے کر دو ہفتے کی جنگ بندی جاری ہے ۔دونوں ملکوں کے بیچ جاری جنگ کو ختم کرنے کے لئے پہلا دور اسلام آباد میں منعقد کیا گیا۔ لیکن یہ میٹنگ کامیاب نہیں رہی تھی ۔اب دونوں پھر سے بات چیت کی میز پر کوشش میں لگے ہیں ۔بات چیت کو آگے بڑھانے کے لئے پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پیغام لے کر ایران گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران امریکہ کی اگلی میٹنگ پر فیصلہ عاصم منیر کی رپورٹ کے بعد ہی ٹرمپ کریں گے ۔تحریم نیوز ایجنسی کےمطابق پاکستانی فوج کے سربراہ منیر کی رہنمائی والے نمائندہ پاکستانی وفد کی ایرانی حکام کے ساتھ ملاقات کے بعد ، ایرانی فریق معاملے پر ضروری جائزہ لے گا ۔اور پھر وہ امریکہ کے درمیان بات چیت کے اگلے دور کو لے کر کوئی فیصلہ کرے گا ۔ٹرمپ اس دورہ کو اتنی اہمیت دے رہے ہیں کہ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ اگلے دور کے امن مذاکرات کے لئے میں خود بھی اسلام آباد جا سکتا ہوں ۔منیر کے اس دورہ کا مقصد ایرانی لیڈر شپ تک امریکہ کا پیغام پہنچانا اور بات چیت کے اگلے دور کے منصوبہ بنانا ہے ۔سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ جنرل منیر کے اس دورہ کے پیچھے اصلی مقصد کیا ہے ؟ کہا جاتا ہے کہ ٹرمپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ایران کی حکومت آخر چلاکون رہا ہے ؟ کیا آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای چلا رہے ہین ؟ ان کی حالت کیسی ہے ؟ کیا وہ زخمی ہیں اور فیصلہ لینے میں لاچار ہیں ؟ ٹرمپ جاننا چاہتے ہیں کہ امن مذاکرات آخر ایران میں کس سے کررہے ہیں ؟ منیر نے ایران کے سبھی سرکردہ لیڈروں سے بات چیت کی ہے ۔وہ آئی آر جی سی کے سینئرحکام سے بھی ملے ہیں ۔تہران پہنچنے پر پاکستانی وفدکا ہوائی اڈے پر خود وزیرخارجہ عباس عراقچی پہنچے تھے اس سے پتہ چلتا ہے کہ ایران بھی اس پاکستانی نمائندے وفد کے دورہ کو کتنی اہمیت دیتا ہے ۔عاصم منیر ٹرمپ کا پیغام لے کرگئے ہیں ساتھ ہی یہ بھی ممکن ہے کہ وہ چینی صدر شی جنپنگ کا بھی کوئی پیغام لے کر گئے ہوں ۔ابھی تفصیل نہیں آپائی ہے جلد پتہ چل جائے گا کہ عاصم منیر کا دورہ کامیاب رہا یا ناکام رہا ۔
(انل نریندر)

16 اپریل 2026

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی یہ جنگ پھر شروع ہو گئی ہے ۔ایپسٹین فائلس کا جن پھربوتل سے باہر آگیا ہے اور اسے باہر نکالاہے (چونکہ مت ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ نے امریکہ کی فرسٹ لیڈی میلانیا نے ایپسٹین فائلس پر دھماکہ دار خلاصہ کیا ہے جس سے وائٹ ہاؤس میں کھلبلی مچنا فطری ہی ہے ۔جیفری ایپسٹین سے جڑی افواہوں پر تنقید کرتے ہوئے میلانیا نے متاثرین کی سماعت کی مانگ کر ڈالی ہے ۔میلانیا نے 9 اپریل 2026 کے وائٹ ہاؤس سے اچانک ایک سنسنی خیز بیان جاری کیا گیا انہوں نے جیفری ایپسٹین سے وابستہ سبھی جھوٹی خبروں ،افواہوں کو صاف طور پر مسترد کر دیا ۔ایپسٹین ایک قصوروار جنسی کرمنل تھا ۔میلانیا نے کہا کہ میں ان افواہوں کو صاف طور پر مسترد کرتی ہوں ۔یہ افواہیں مجھے بدنام کرنے کی کوشش ہیں ۔اور انہیں اب فوراً روکا جاناجاہیے ۔میلانیا نے صاف الفاظ میں کہا کہ جیفری ایپسٹین کے نام سے میرے نام کو جوڑنے والی جھوٹی باتیں آج ہی ختم ہونی چاہیے ۔میں ایپسٹین کی دوست کبھی نہیں رہی ۔ڈونلڈ اور میں کبھی کبھی کسی پارٹی میں جاتے تھے جہاں ایپسٹین بھی ہوا کرتا تھا کیوں کہ نیویارک اور پام بیچ کے سوشل سرکل میں ایسا عام ہے ۔لیکن میں نے ایپسٹین یا اس کی ساتھی فسلین میکسوئیل کے ساتھ کبھی کوئی رشتہ نہیں رکھا ۔انہوں نے کہا: میں کانگریس سے کہتی ہوں کہ ان متاثرہ خواتین کو ساتھ لے کر اپنی کہانی باتوں کا موقع دیں ۔ہر عورت کو اگر وہ چاہے اپنی بات پبلک طورسے کہنے کا حق رکھتی ہے ۔جیفری ایپسٹین پر میلانیا کی پریس کانفرنس سے بحث پھر تیز ہوگئی ہے ۔جیولیٹ برائٹ نے میلانیا کو سیدھا چیلنج کرتے ہوئے کہا : میں حلف لے کر سچ بولنے کو تیارہوں ۔جیولیٹ برائٹ کے ویڈیو میسج سے امریکہ میں کھلبلی مچ گئی ہے ۔خطرناک جنسی کرمنل جیفری ایپسٹین سے جڑا معاملہ ایک بار پھر عالمی سیاست اور انصاف نظام کے مرکز میں آگیا ہے ۔میلانیاکے تبصرے کے بعد سروائیورس نے اسے متاثرین پر ذمہ داری ڈالنے کی کوشش بتاتے ہوئے اپنی ناراضگی جتائی ۔ایپسٹین سیویور جیولیٹ برائٹ کا ایک ویڈیو میسج تیزی سے وائرل ہورہا ہے ۔انہوں نے میلانیا ٹرمپ کو سیدھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر قسم کے تحت گواہی دینے کی بات ہے تو میں خود اس کے لئے تیار ہوں اور جو کچھ انہوں نے کہا ہے کہ وہ سچ ہے۔ یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب امریکہ میں اس معاملے پر امکانی سماعت کا تذکرہ بھی جاری ہے ۔جولیٹ برائٹ پہلے بھی سنگین الزام لگا چکی ہیں ۔ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں ماڈلنگ کے جھانسے میں بیرون ملک لے جایا گیا جہاں ان سے جنسی چھیڑ چھاڑ کی گئی ۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ انہیں ایپسٹین کے پرائیویٹ جزیریے پر لے جایا گیا اور ان کا پاسپورٹ چھین لیا گیا ۔ویڈیو میں برائٹ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس معاملے میں گواہی دینے والی کئی لڑکیاں اب بھی زندہ ہیں ۔ویڈیو کے آخر میں برائٹ نے ٹرمپ اور میلانیا سے نہ صرف حلف کے تحت گواہی ہونے کی مانگ کی ان کا کہنا ہے دیش کے سامنے بااثر لوگوں کے اصلی چہرے سامنے آئیں ۔
(انل نریندر)

14 اپریل 2026

جس کا ڈر تھا وہی ہوا

امریکہ -ایران کے درمیان امن مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں بات چیت بے نتیجہ ہی ختم ہو گئی ہے ۔پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان پہلے دو راؤنڈ میں 21 گھنٹے سے زیادہ قیام امن کو لے کر بات چیت چلی ،لیکن یہ بے نتیجہ ہی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اپنی ٹیم کے ساتھ امریکہ کے لئے روانہ بھی ہو گئے ۔وینس نے جانے سے پہلے کہا: معاہدہ نہ ہونے کے لئے بری خبر : وینس ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ سمجھوتہ نہ ہونا امریکہ سے زیادہ ایران کے لئے بری خبر ہے ۔انہوں نے صاف کہا کہ امریکہ بغیر کسی سمجھوتہ کے ہی لوٹ رہا ہے ۔کسی بھی سمجھوتہ کے لئے ضروری ہے کہ ایران یہ وعدہ کرے کہ وہ نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنائےگا ۔سیز فائر ڈیل میں امریکہ کی جانب سے جے ڈی وینس (نائب صدر) اسٹیو وٹکاف (خصوصی نمائندے، زیروڈ کشنر سینئرایڈوائرزاور ٹرمپ کے داماد) اور بریڈ کوپر (ملیٹری افسر شامل ہوئے ۔ایرا ن کی جانب سے محمد وقار غالب (سینٹ اسپیکر ) عباس عراقچی (وزیرخارجہ ) اور مجید تخت خوانچی ( نائب وزیرخارجہ ) شامل ہوئے ۔بات چیت میں پاکستان کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف فوج کے چیف عاصم منیر ،وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور قومی سیکورٹی ایڈوائزرعاصم ملک شامل ہوئے۔ ایران سے 71نفری وفد پاکستان پہنچا تھا ۔اس ٹیم میں صرف بات چیت کرنے والے لوگ ہی نہیں تھے بلکہ ماہرین مشیر ، میڈیا نمائندے ،ڈپلومیٹ اور سیکورٹی سے وابستہ حکام بھی شامل تھے ۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باگر غالب جس جہاز سے آئے وہ بہت خاص تھا ۔وہ پوری دنیا کو امریکہ کو سسٹم دکھانے کے لئے پاکستان ثبوت لے کر آئے تھے ۔ان کے ساتھ ایسے مسافر بھی آئے جو اس دنیا میں اب نہیں ہیں ۔دراصل اس جہاز میں باگر غالیباف کے ساتھ پاکستان انے والے دو بچے تھے جو امریکہ اسرائیل ہوائی حملے میں اپنی جان گنوا چکے ہیں ۔پلین کی سیٹوں پر ان ننے بچوں کی تصویر رکھی ہوئی تھی۔ غالیباف نے بات چیت سے پہلے تصویر شیئر کی جس میں جہاز کی سیٹوں پر چار بچوں کی تصاویر دکھائی دیتی تھیں جن کے ساتھ ایک ایک اسکول بیگ اور پھول بھی رکھا گیا تھا ۔ایرانی شہر مناب کے اسکول میں 28 فروری کو ایک پرائمری اسکول پر حملہ ہوا تھا اس میں 168 بچوں سمیت لوگوں کی موت ہوئی تھی جس میں 108 اسکولی لڑکیاں تھیں ۔غالیباف نے بات چیت سے پہلے بیان میں کہا تھا کہ ان کا دیش بات چیت اور معاہدے کے لئے تیار ہے لیکن اس کے لئے امریکہ کو ایمانداری سے معاہدہ کی پیشکش کرنی ہوگی اور ان کے حقوق کو قبول کرنا ہوگا ۔انہوں نے صاف کہا کہ ایران کے پاس بھائی چارہ ہے لیکن امریکہ پر بھروسہ نہیں ۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بات چیت شروع ہونے سے پہلے ہی کہا واشنگٹن ایران کو ہرمز اسٹریٹ سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول لگانے کی اجازت نہیں دے گا ۔ٹرمپ نے آگے کہا کہ ہرمز جل ڈروم جلد ہی پھر سے کھل جائے گا چاہے ایران تعاون کرے یا نہ کرے ۔ٹرمپ نے آگے کہا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں ان کا اہم بیان تہران کی نیوکلیائی صلاحیتوں کو محدود کرنے پر ہوگا ۔انہوں نے کہا کوئی نیوکلیائی ہتھیار نہیں ۔یہی 99 فیصد بات ہے ۔مذاکرت تو فیل ہونے ہی تھے دونوں فریقین کی مانگوں میں بہت بڑا فاصلہ تھا جسے بھرنا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا ۔
(انل نریندر)

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...