Translater

02 فروری 2023

اڈانی کا بلیک فرائیڈے !

اگر ہندوستانی شیئر مارکٹ میں جمعہ کو ایک فیصد سے زیا دہ گر کر گزشتہ تین مہینوں میں سب سے نچلے سطح پر آگئے ہیں تو یہ نہ صرف شیئر بازار ،بلکہ اس کے معاون اداروں کیلئے بھی تشویش کا وقت ہے ۔سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ جس گروپ کو ہم سب سے تیزی سے دنیا میں بڑھتے دیکھ رہے تھے آج اس کی کمپنیوں کے شیئر وں میںگراوٹ کی بھرمار کردی ہے۔ میں اڈانی گروپ کی بات کررہا ہوں اس گروپ کی کمپنیوں ،بینک و مالی شیئر وںمیں بھاری فروخت کے ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بھاری نکاسی جاری رہنے سے جمعہ کو شیئر بازا ر میں قتل عام مچ گیا ۔ شیئر بازا رمیں زبردست گراوٹ آئی اور بی ایس ای سینسیکس 874نمبروں سے لڑھک گیا ۔اڈانی گروپ کو بلیک فرائیڈے کی مار کے چلتے 4.17لاکھ کروڑ سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے ۔ اور بتایا جاتا ہے کہ نقصان بدسطور جاری ہے ۔وہیں بی اسی ای کا 30شیئر وں والا اسٹنڈرڈ انڈیکس سینسیکس 874.16یعنی 1.45فیصد کی بھار گراوٹ کے ساتھ 59,330.90نمبر پر آکر بند ہوا ۔ یہ گزشتہ 21اکتوبر کے بعد سینسیکس کی سب سے نچلی سطح پر ہے ۔ بکوالی کے اثر میں اڈانی گروپ کی کمپنیوں کے شیئر 20فیصدر تک لڑھک گئے کمپنی کے شیئر وںمیں گراوٹ کے بعد اڈانی دنیا کی امیر وں کی لسٹ میں تیسری نمبر سے لڑھک کر ساتویں نمبر پر پہنچ گئے۔ اڈانی گروپ کی قیادت کمپنی اڈانی انٹر پرائز جمعہ کو ہی 20000کروڑ روپے کا ایف پی او لیکر آئی لیکر بکوالی کے زور میں اس کے شیئر IP.52فیصد تک لڑھک گئے اور اسی طرح اڈانی پورٹس 16فیصد ،اڈانی وائر 5فیصد اڈانی گرین اینرجی 19.99فیصد اور اڈانی ٹوٹل گیس 20فیصد تک لڑھک گئی ۔ اس طرح وہ کاروباری دنوںمیں ہی اڈانی گروپ کے کمپنیوں کے 4,17,824.79کروڑ روپے کی بھاری گراوٹ آ چکی ہے ۔ ان میں سب سے زیادہ 1,04,580.93کروڑ روپے کا نقصان اڈانی ٹوٹل گیس کو ہوا ہے۔ اڈانی ہم کیئر کے بھی سرمایہ کاری میں 7,258.7کروڑ روپے کی کمی آئی ہے ۔ وہیں اڈانی گروپ ہیڈن برگ کمپنی کے خلاف قانونی کاروائی پر غور کررہا ہے ۔ بتادیں کہ ہیڈن برگ کمپنی کی سنسنی خیز رپورٹ کے بعد اڈانی گروپ کو یہ بھار ی جھٹکا لگا ہے ۔ حقیقت میں اس کیلئے امریکی ریسرچ کمپنی ہیڈن برگ کی رپورٹ کو ذمہ دار ٹھہرا یا جا رہاہے ۔ ویسے ہیڈن برگ کمپنی نے رپورٹ میں جو اشارے کئے ہیں اس کا تذکرہ پہلے بھی ہوتا رہا ہے ۔ لیکن شاید سرمایہ کاروںنے اس رپورٹ کو سنجیدگی سے لیا ہے ۔ دنیا میںایسی کئی کمپنیاں ہیں جو قرضہ کے دم پر آگے بڑھی ہیں اور کئی کمپنیوں نے ٹیکس کیلئے گولڈن مانے جانے والے ملکوں کا سہارا لیا ہے ۔ اس ہندوستانی گروپ کو اگر نشانے پر لیا گیا ہے تو پھر اس کی جانچ پڑتال ہونی چاہیے ۔ ہیڈن برگ کے بھروسے اور اس کے دعوو¿ں کو بھی ایک بار پھر پرکھ لینا چاہئے ۔ اڈانی گروپ کا معاملہ اس لئے بھی سنگین ہے کیوں کہ کئی ہندوستانی بینکوںنے اس گروپ کو پیسہ دے رکھا ہے۔ اگراڈانی گروپ بیٹھتا ہے تو اس کا سیدھا اثر ہندوستانی معیشت پر پڑے گا۔ (انل نریندر)

دہلی ہائی کورٹ نے ای ڈی پر لگائی لگام !

پچھلے کافی وقت سے یہ دیکھا جا رہا ہے کہ جانچ ایجنسیاں اپنے دائرہ اختیار کو بھول کر غیر ضروری طور سے سرگرم ہو رہی ہیں۔انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی سرگرمی کولیکر بھی کافی وقت سے سوال کھڑے ہو رہے تھے اکثر دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنے دائرے اختیار سے باہر جاکر کام کر رہی ہیں۔تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ یعنی ای ڈی ایک بار پھر کسی معاملے کی جانچ شروع کردے تو اس کے دائرے میں آئے کسی بھی شخص کیلئے چھٹکارا پانا بیحد مشکل ہو جاتا ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ناجائز طریقے سے پیسہ اکٹھا کرنے کے جرائم کیلئے شروع ہوئی جانچ آہستہ آہستہ دوسرے کئی معاملوں تک پہنچ جاتی ہے ۔ایک بار فائل کھل جائے تو وہ شائد کبھی بند نہ ہو ۔گاہے بگاہے یہ کبھی کھل جاتی ہے اور لوگوں کو حلقان کئے رہتی ہے ۔اکثر یہ الزام لگتا ہے کہ وہ اپنے دائرے اختیار سے باہر جاکر کام کرتی ہے ۔اب دہلی ہائی کورٹ نے اس کی حد لائن طے کردی ہے ۔عدالت نے کہا ہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو صرف پیسہ ناجائز طریقے سے کمانے سے متعلق معاملوں میں ہی کاروائی کا اختیار ہے۔اگر کسی معاملے میں اندازہ کی بنیاد پر کاروائی کی گئی ہے تو اس پر متعلقہ حکام کو قانون کے تحت کاروائی کرنی ہوگی اور اس کو سننا ہوگا ۔دہلی ہائی کورٹ کا یہ حکم کچھ عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے آیا ہے ۔ان میں پیسہ اکٹھا کرنے کو لیکر کوئی دلیل نہیں رکھی گئی تھی یہاںتک کہ سی بی آئی نے بھی ایسے کوئی حقائق سامنے نہیں پیش کئے پیسہ اکٹھا کرنے والے ایکٹ کے تحت انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو 1کروڑ یا اس سے اوپر کے معاملوں میں ہی جانچ کا حق ہے ۔مگراس نے دوسرے محکموں کے دائرے اختیار میں غیر ضروری دخل ندازی کر بہت سے معاملوں کی جانچ کی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان میں سے بہت کم معاملوںمیں مقدمہ درج ہو سکا ہے۔ باقی معاملوں کو بغیر کسی فیصلے کے ختم کرنا پڑا ۔بھلے ہی آمدنی سے زیادہ اثاثے کے معاملے میں شروع ہونے والی ای ڈی جانچ سے سب سے زیادہ گھبرانے والے لوگوںمیں سیاست داں اہم ہوتے ہیں لیکن دہلی ہائی کورٹ کے ای ڈی کو صرف پیسہ اکٹھا کرنے کے جرائم کی جانچ تک محدود رہنے کی ہدایت سے بہت سے لوگوں کو راحت ملنے کی امید ہے ۔ ہائی کورٹ کے مطابق جانچ ایجنسی صرف اندازے کی بنیاد پر یہ طے نہیں کرسکتی کہ کوئی جرم ہوا ہے یا نہیں۔ عدالت کا کہنا ہے کہ جس جرم کے بارے میں اندازہ لگایا گیا ہے اس کی جانچ کرنی ہوگی اور اس سلسلے میں قانونی طور سے مجاز وکیلوں کے ذریعے سماعت کرنی ہوگی۔ در اصل پچھلے کچھ برسوں میں جس طرح سے سی بی آئی،انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور انکم ٹیکس محکموں نے ٹارگیٹ کرکے کئی لوگوں پر چھاپے مارے اس سے یہ کہا جانے لگا کہ یہ ایجنسیاں سرکار کے اشارے پر کام کر رہی ہیں۔ اس طرح وہ اپنے دائرے اختیار سے باہر جاکر بھی کام کررہی ہیں ۔ ان کا مقصد معاملے کی جانچ کرنے سے زیادہ لوگوں کو پریشان کرنا ہے اس لئے یہ الزام نئے نہیں ہیں۔ سبھی حکومتوںپر ایسے الزام لگتے ہیں ۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کیلئے دہلی ہائی کورٹ کا تازہ حکم ایک سبق ہونا چاہئے۔ (انل نریندر)

31 جنوری 2023

دہلی کے شہریوں کو بنیادی سہولیات نہیں مل پا رہیں!

دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناو¿ ہونے کے بعد لیفٹننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے کورنسلروں کو حلف اور میئر اور ڈپٹی میئر و 6قائمہ کمیٹی کے ممبران کے انتخاب کیلئے دو مرتبہ ہاو¿س بلانے کی اجازت دی ۔لیکن بھاجپااور عام آدمی پارٹی میں ٹکراو¿ کی وجہ سے ایم سی ڈی کی میٹنگ بغیر کسی نتیجے کے ملتوی ہو گئی ۔جبکہ قواعد کے تحت ہاو¿س کی پہلی میٹنگ میں ہی میئر کا انتخاب پورا ہو جانا چاہئے تھا۔ لیکن میئر کا چناو¿ تو دور رہا کونسلروں نے ہاو¿س کے وقار کو تار تار کردیا لیکن جمہوریت کا مزاق بناتے ہوئے جنتا کی امیدوں کا بھی گلا گھونٹ دیا جس نے انہیں ایک دن ہاو¿س بیٹھنے لائق کونسلر چن کر بھیجا آج وہیں نمائندے اپنی عوام کی امیدوں پر پانی پھیرتے ہوئے میئر نہں بننے دے رہے ہیں۔ عالم یہ ہے کہ میئر نہ بننے کی وجہ سے ایک بھی مفاد عامہ کی اسکیم شروع نہیں ہو پا رہی ۔ یہی نہیں دہلی کو پچھلے 9مہینوں سے میئر نہ ملنے کی وجہ سے ابھی تک شہریوں کی بنیادی سہولیات متاثر ہونے لگی ہیں۔ اور یہ پہلی بار ایسا ہوگا کہ بغیر قائمہ کمیٹی میں پیش ہوے ایوان پر کونسلروں کے ذریعے غور و خوض کے بغیر ہی تجاویز پاس ہوںگی ۔ ایم سی ڈی میں چناو¿ میں اکثریت ہونے کے باوجود بھی عام آدمی پارٹی اپنا میئر نہیں بنا پا رہی ہے ۔ میونسپل چناو¿ میں عآپ نے 250سیٹوں میں سے 134سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی ۔ جبکہ بھاجپا 104پر کامیا ب ہوئی تھی ۔لیکن 30سیٹوں کا فرق رہنے کے بعد بھی بھاجپا میئر بنانے کا دعویٰ کر رہی ہے اور اسی دعویٰ کی وجہ سے دو مرتبہ ہاو¿س ہنگامے کے نظر ہو گیا ۔ وہیں ذرائع کا مانے تو فی الحال ابھی میئر بننے کا کوئی اشارہ نہیں مل رہا ہے ۔تینوں کارپوریشنوں کے یکجا ہونے کے بعد مرکزی حکومت نے سینئر آئی اے ایس افسر اشونی کمار کو اسپیشل کمشنر بنایا تھا ان کے پاس قائمہ کمیٹی صدر کے ساتھ میئر کا بھی اختیار دیا تھا ۔ لیکن وجہ کوئی بھی ہو لیکن عوامی مفاد کی اسکیمیں ہونے کے بعد اسپیشل افسر اشونی کمار نے فائلوں پر دستخط کرنا بہت کم کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب میئر آنے والے ہیں وہیں فیصلہ لیںگے ۔دہلی سی ڈی چناو¿ میں کامیاب اور ہاو¿س کی میٹنگ میں حلف لینے کے بعد بھی کاو¿نسلروں کو ابھی فنڈ نہیں ملے گا۔ فنڈ نہ ملنے کی وجہ سے یہ اپنے حلقے میں ایک بھی وکاس کا کام نہیں کرا سکیںگے ۔ایم سی ڈی ایکٹ کے واقف کار کی مانیں تو میئر بننے کے ساتھ ساتھ جب تک قائمہ کمیٹی کا چناو¿ نہیں ہو جاتا تب تک کونسلروں کو فنڈ نہیںجار ی ہوگا۔ حالاںکہ یہ افسر سے سفارش کرکے اپنے حلقے میں ڈیولپمنٹ کے کام کرا سکیںگے ۔ تازہ خبروں کے مطابق اب میئر کے چناو¿ جا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے اس لئے ایسا لگتا ہے اب اپریل کے مہینے میں میئر کا انتخاب ہو سکتا ہے ۔ (انل نریندر)

کھلم کھلادھوکہ دھڑی !

مالیاتی ریسرچ کمپنی ہیڈن برگ نے الزام لگایا ہے کہ اڈانی گروپ کھلم کھلا شیئروں میں گڑبڑی کر رہے ہیں اور کھاتہ دھوکہ دھڑی میں شامل رہا ہے ۔جعل سازی کے الزامات کے بعد اربوں روپے کا نقصان جھیلنے پر ہندوستانی ارب پتی گوتم اڈانی نے ریسرچ کمپنی کے دعوو¿ں کا جواب دیا ہے ۔ وہیں ہیڈن بر گ نے جواب میں کہا ہے کہ وہ اپنی رپورٹ پر پوری طرح قائم ہے ۔ ایشیا کے سب سے امیر آدمی نے کہا کہ ان کی فرم پر شیئر وں میں کھلے عام دھاندھلی اور کھاتہ جعل سازی کرنے کے الزام لگائے ہیں جو ٹھیک نہیں ہے ۔گوتم اڈانی کی کمپنی اڈانی گروپ نے امریکی سرمایہ کاری فرم کی رپورٹ کو گمراہ کن اور چنندہ غلط جانکاری دینے کا الزام لگا یا ہے۔ ریسرچ کو ظاہر کئے جانے کے بعد اڈانی گروپ کو اپنے شیئر وں کی قیمت میں قریب 11ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔ اب اڈانی گروپ نیویارک کی ہیڈن بر گ ریسر چ کمپنی پر قانونی کاروائی پر غور کر رہا ہے۔ ادھر ہیڈن برگ نے کہا کہ وہ اپنی رپورٹ میں درج حقائق پر قائم ہیں اور امریکہ کی کسی بھی کورٹ میں اڈانی کی قانونی کاروائی کا خیر مقدم کریںگے۔ ہیڈن برگ ریسرچ نے کہا کہ وہ کسی طرح کی قانونی کاروائی کیلئے تیار ہے اور ہماری رپورٹ آنے کے بعد اڈانی نے 36گھنٹوں کے اندر ایک بھی سنگین مسئلے پر جواب نہیں دیا ہے ۔ہم نے رپورٹ کے نتیجے میں 88پختہ سوال پوچھے تھے جوکہ ہمارے مطابق کمپنی کو اپنے آپ کو بے قصو ر ثابت کرنے کا مو قع دیتا ہے۔ ابھی تک اڈانی نے ایک سوال کا بھی جواب نہیں دیا ہے ۔ ساتھ ہی جیسا کہ ہمیں امید تھی اڈانی نے دھمکی کا راستہ چنا انہوںنے میڈیا کو ایک بیان میں ہمار ی 106صفحات کی 32ہزار الفاظ کی اور 720سے زیادہ مثالوں کے ساتھ وہ سالوں میں تیار کی گئی رپورٹ کو بنا ریسر چ کے بتایا ہے اور کہا کہ ہمارے خلاف سزا کی کاروائی کیلئے امریکہ اور ہندوستانی قوانین کے تحت جائز تقاضوں جائزہ لے رہے ہیں ۔جہاں تک کمپنی کے ذریعے قانونی کاروائی کی دھمکی کی بات ہے تو ہم صاف کرتے ہیں کہ ہم اس کا خیر مقدم کریںگے ۔ اگر اڈانی سنجیدہ ہیں تو امریکہ میں کیس دائر کرنا چاہئے ۔ اپنی رپورٹ میں ہیڈن برگ نے اڈانی پر کارپوریٹ دنیا کی سب سے بڑی دھوکہ دھڑی کا الزام لگایا ہے۔یہ الزام ایسے ہیں وقت آگیا ہے کہ جب اڈانی گروپ کی شیئر وں کی عام فروخت لانچ ہونے والی ہے رپورٹ میں ماریشش اور کیربئن جیسے غیر ملکی ٹیکس ہیون میں موجود کمپنیوں پر اڈانی گروپ کی ملکیت پر سوال کھڑا کیا ہے ۔ہیڈن برگ نے کہا ہے کہ ریسرچ کو لیکر اڈانی گروپ کے سابق سینئر حکام سمیت کئی اشخاص کے ساتھ بات چیت کی گئی ہے ۔ہزاروں دستاویزوںکا جائزہ لیا گیا ۔قریب 6ملکوںمیں جاکر حالات کا پتہ لگا یا گیا ہے ۔ کیا اب اڈانی کا گبارہ پھٹے گا؟ (انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...