Translater

Arun Jaitli لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Arun Jaitli لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

24 اپریل 2012

بھاجپا میں اقتدار کی تین دھریاں



Published On 24 March 2012
انل نریندر

بھارتیہ جنتا پارٹی میں دہلی میونسپل کارپوریشن جیتنے کے بعد ایک نیا حوصلہ پیدا ہوا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں پارٹی بازی مار سکتی ہے لیکن سب سے بڑی کمی جو سامنے آرہی ہے وہ ہے کلیئر لیڈر شپ کی کمی۔ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں پارٹی کے ایک بڑے گروپ خاص کر ممبران پارلیمنٹ کے دل میں یہ ایک سوال بار بار گھر کر رہاتھا کہ آخر یوپی اے II- میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کی قیاد ت والی حکومت مہنگائی، کرپشن اور گھپلوں کے اشو پر گھری رہی لیکن سرکار کی ناکامی کا بھاجپا کو توقع سے زیادہ فائدہ نہیں مل سکا۔ اس کے چلتے مرکزی سرکار کے خلاف ماحول کو بھنانے کے لئے پارٹی کو لوک سبھا چناؤ سے پہلے اپنا وزیر اعظم کا امیدوار اعلان کرنے ہے۔ یہ وقت اور یہ صورتحال ہے کہ بھاجپا تین دھریوں پر چل رہی ہے۔ سب سے پہلے شری نتن گڈکری جو پارٹی کے صدر ہیں انہیں آر ایس ایس کی حمایت ہے۔ دوسری طرف ڈی فور نیتا ان میں اڈوانی جی، سشما سوراج، ارون جیٹلی قابل ذکر ہیں تیسری دھری نریندر مودی ہیں جو اپنے آپ کو پارٹی سے بالاتر مانتے ہیں اور خود کو وزیر اعظم کے عہدے کا سب سے مضبوط دعویدارمانتے ہیں۔ ان تینوں دھریوں میں سبھی نیتا اپنی الگ الگ سمت میں چل رہے ہیں۔ نتن گڈکری کے ایک طرف نریندر مودی سے اختلافات ہیں اور دوسری طرف دیگر سے اکثر کھینچ تان ہوتی رہتی ہے۔ تازہ مثال سریندر سنگھ اہلووالیہ کی ہے جن کا پہلے راجیہ سبھا سے ٹکٹ کٹنا پھر جب ڈی فور نے زور دار مخالفت کی تو انہیں پھر سے امیدوار اعلان کرنا۔ کئی ماہ سے گڈکری اور نریندر مودی کے درمیان بات چیت تک نہیں ہورہی ہے۔ بات چیت کی کمی کی اس حالت کو گڈکری نے خود تسلیم کیا ہے۔ سوال یہ بھی کیا جارہا ہے کہ گڈکری نے مودی سے نہ ہوئی بات چیت کے بارے میں عام کیوں نہیں کیا؟ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ نریندر مودی بھاجپا کے سابق تنظیمی جنرل سکریٹری سنجے جوشی کو دوبارہ سے بھاجپا میں سرگرم کئے جانے کے فیصلے سے ناراض ہیں۔ گڈکری نے سنجے جوشی کو اترپردیش اسمبلی چناؤ میں خاص اہمیت دی تھی۔ اسی کے بعد دونوں میں 'کٹی' ہوگئی۔ اس سوال کا جواب بھاجپا کی جانب سے کون دے گا۔ وزیر اعظم کے امیدواری کے بارے میں بھاجپا کے سینئر لیڈر وینکیانائیڈونے حیدر آباد میں کہا کہ اگلے عام چناؤ سے پہلے پارٹی اپنے وزیر اعظم عہدے کے لئے امیدوار کا نام اعلان کردے گی ابھی اس کا صحیح وقت نہیں آیا ہے۔ادھر نریندر مودی نے مرکزی سیاست میں آنے کے واضح اشارے کردئے ہیں۔
پچھلے دنوں مجوزہ قومی انسداد دہشت گردی سینٹر کی مخالفت میں سارے وزراء اعلی دہلی میں جمع ہوئے تھے مودی نے خاص طور سے تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا اور بیجو جنتا دل کے چیف اور اڑیسہ کے وزیر اعلی نوین پٹنائک کے ساتھ ملاقات کی تھی۔ حالانکہ اعلی سطح پرتو یہ میٹنگ مرکزی سرکار کے مجوزہ این سی ٹی سی کو لیکر تھی لیکن اندر خانے یہ وزراء اعلی 2014ء میں ہونے والے عام چناؤ کے بارے میں غور وخوص کے لئے اکٹھے ہوئے تھے۔ مودی نے اپنے آپ کو وزیر اعظم کا امیدوار دکھانے کی چالیں چلنی شروع کردی ہیں۔ آنے والے دنوں میں رسہ کشی اور تیز ہونا ممکن ہے۔
Anil Narendra, Arun Jaitli, BJP, Daily Pratap, Jayalalitha, L K Advani, Manmohan Singh, Narender Modi, NCTC, Nitin Gadkari, Sanjay Joshi, Sushma Swaraj, Tamil Nadu, UPA, Vir Arjun

02 اکتوبر 2011

اڈوانی اور نریندر مودی میں ٹکراؤ بڑھ رہا ہے



Published On 2nd October 2011
انل نریندر
منموہن سنگھ کی کیبنٹ میں اندرونی رسہ کشی اور ٹکراؤ کا الزام لگانے والی بھاجپا بھی خود ایسی صورتحال سے دوچار ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی دو روزہ قومی ایگزیکٹو کی میٹنگ میں پارٹی صدر نتن گڈکری کی اپیل کے باوجود گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی سمیت کرناٹک اور اتراکھنڈ کے سابق وزراء اعلی بی ایس یدی یرپا اور رمیش پوکھریال نشنک میٹنگ میں شامل نہیں ہوئے۔ بھاجپا پردھان نتن گڈکری نے حالانکہ یہ کہا کہ پارٹی کوشش کررہی ہے کہ مودی میٹنگ میں شامل ہو جائیں۔ کچھ ہی لوگ شاید اس دلیل کو مانیں گے کے مودی نوراتری کا برت رکھ رہے ہیں اس لئے وہ میٹنگ میں نہیں آ پائے۔ اصلی وجہ کچھ وار ہی ہے8 ستمبر کو پارٹی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے اچانک مل گیر رتھ یاترا کرنے کا اعلان کردیا۔ اس سے بھاجپا لیڈر شپ بھی حیران رہ گئی۔ اس اعلان کے ساتھ ہی چترماس لگنے لگے کے اڈوانی کی اس رتھ یاترا کا مطلب ایک بار پھر پی ایم ان ویٹنگ کا پیغام دینا ہے۔ آر ایس ایس نے 2009ء کے چناؤ میں ہار کے بعد شری اڈوانی کو پیچھے کرکے نمبر دو کے لیڈروں کو آگے کرنے کی اسکیم بنائی۔ اس میں نریندر مودی سشما سوراج ، ارون جیٹلی اور خود نتن گڈکری شامل تھے۔ لیکن اڈوانی کی اچانک رتھ یاترا کے اعلان نے یہ سارے تجزیئے بگاڑ دئے۔ اڈوانی کی یاترا کا سب سے زیادہ جھٹکا گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو لگا ہے۔ طویل عرصے تک ان کی پہچان اڈوانی کے خاص سپہ سالار کی شکل میں ہورہی تھی لیکن اب مودی بڑے استاد بن گئے ہیں۔ کچھ معنوں میں وہ اپنے آپ کو پارٹی سے اوپر سمجھنے لگے ہیں۔ بھاجپا کے ذرائع کے مطابق بھاجپا میں وزیر اعظم کے عہدے کے ان دو امکانی دعویداروں مودی اور اڈوانی کے درمیان ٹکراؤ بڑھتا جارہا ہے۔ اڈوانی کی مجوزہ رتھ یاترا مودی کو راس نہیں آرہی ہے۔ اسی کے چلتے انہوں نے بھی اڈوانی کی طرز پر پچھلے دنوں احمد آباد میں ایک بڑا سیاسی شو کرڈالا تھا۔ گورنر کے خلاف حال ہی میں گجرات میں منعقدہ مودی کی ریلی میں اڈوانی سمیت کسی بڑے نیتا نے شرکت نہیں کی تھی۔ احمد آباد میں مودی اپواس کا جس طرح سے پروپگنڈہ کیا گیا اس سے پارٹی کی سینئر لیڈر شپ خوش نہیں ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ مودی خود کو بھاجپا کی طرف سے وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ ادھر آر ایس ایس نے اڈوانی پر دباؤ ڈالا کہ وہ یہ صاف کردیں کہ ان کی یاترا کا ان کی وزیر اعظم کی امیدواری سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ سنگھ کے ناگپور میں واقع ہیڈ کوارٹر میں آر ایس ایس کی لیڈر شپ سے ملاقات کے بعد مسٹر اڈوانی نے اعلان کیا تھا کہ وزیر اعظم کے عہدے کی امیدواری کو لیکر وہ یہ یاترا نہیں کررہے۔ سب سے پہلے مودی نے ہی ان کی یاترا کی مخالفت کی تھی۔ ذرائع کے مطابق جب اڈوانی نے ان سے اس یاترا کے بارے میں بات کی تو مودی نے اپنی عادت کے مطابق ان سے دو ٹوک پوچھ لیا کے اس سے کیا فائدہ؟ آپ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ اتنا ہی نہیں مودی نے گجرات میں یاترا شروع کرنے میں مدد کرنے معذوری ظاہر کردی۔ آخر کار مسٹر اڈوانی نے اپنی یاترا بہار سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے پیچھے ایک اور مقصد بھی نظر آتا ہے ۔ شاید اڈوانی جی این ڈی اے کی طرز پر سیاست کو بڑھا وا دینا چاہتے ہیں۔ پہلے بھی انہوں نے محمد علی جناح کی تعریف کرکے اسی لائن پرچلنے کی کوشش کی تھی جس پر اٹل جی چلتے تھے۔ اڈوانی جی کی کوشش ہے کہ وہ این ڈی اے کی طرز پر پھر سے مرکز میں سرکار بنائیں اور اس کی قیادت کریں۔ اس مقصد کو نہ تو آر ایس ایس حمایت کرے گا اور نہ ہی مودی جیسے تلخ لیڈر۔ جن کی پہچان ہندوتو لیڈر کی ہے۔ مسٹر اڈوانی کی مجوزہ یاترا کو لیکر جو تنازعہ کھڑا ہوا ہے یہ رکنے والا نہیں۔ بھاجپا لیڈر شپ میں اس وقت زبردست ٹکراؤ ہے اور اس رتھ یاترا نے فوکس میں لاکر کھڑا کردیا ہے۔ ادھر کانگریس لیڈر شپ میں گھماسان ہو رہا ہے۔ رہی سہی کثر بھاجپا کی اندرونی رسہ کشی نے پوری کردی ہے۔
Anil Narendra, Arun Jaitli, BJP, Daily Pratap, L K Advani, Narender Modi, Nishank, Nitin Gadkari, Sushma Swaraj, Vir Arjun, Yadyurappa

30 ستمبر 2011

آفینس از دی بیسٹ ڈیفنس

 

Published On 30th September 2011
انل نریندر
انگریزی میں یہ ایک کہاوت ہے ’’آفینس از دی بیسٹ ڈیفنس‘‘ یعنی حملہ کرنا سب سے اچھا بچاؤ ہے۔وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اسی تکنیک کو اپنایا ہے۔ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے کی آنچ سے جھلس رہے مرکز میں یوپی اے حکومت کے حکمت عملی ساز جہاں ڈیمیج کنٹرول میں جٹے ہوئے ہیں وہیں امریکہ سے وطن لوٹتے ہوئے ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اپوزیشن پر جم کر حملہ بولا اور اپوزیشن کے منصوبوں اور ارادوں کی ہوا نکالنے کی کوشش کی ہے۔ اپوزیشن پر حکومت کو کمزور کرنے، زبردستی ملک کو وسط مدتی چناؤ کی طرف دھکیلنے کا الزام وزیر اعظم نے لگا کر پورے معاملے کو ایک نئی سمت دینے کی کوشش کی ہے۔ وزیر اعظم نے یہ جوابی حملہ ہوا میں ایئر انڈیا کے طیارے سے ہی شروع کردیا۔ انہوں نے کہا ہم پانچ سال کی میعاد پوری کریں گے اور وسط مدتی چناؤ نہیں ہوگا۔ کیبنٹ کے ممبران میں ٹکراؤ کی باتیں میڈیا کا اپنا تصور ہے۔ وزیر داخلہ پی چدمبرم پر مجھے پہلے بھی بھروسہ تھا اور اب بھی ہے۔ نیویارک میں اقوام متحدہ سے لوٹتے ہوئے فرینک فرٹ سے نئی دہلی آ رہے طیارے میں صحافیوں سے بات چیت میں ڈاکٹر منموہن سنگھ نے مانا کہ بگڑتی معیشت کا اثر ہندوستان پر بھی ہوا ہے۔افراط زر ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے لیکن ہم حالات کو کنٹرول میں رکھنے کیلئے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔ ڈاکٹر سنگھ نے تسلیم کیا ہے کہ ان کی حکومت کی ساکھ کے بارے میں جنتا کے درمیان کوئی پریشانی ہوسکتی ہے جسے صحیح کرنا ضروری ہے۔
حکومت کو کمزور کر ملک کو وسط مدتی چناؤ کی طرف جھونکنے کی کوشش کیلئے اپوزیشن پر لگائے گئے وزیر اعظم کے الزام پر بھاجپا نے جوابی تیر چھوڑتے ہوئے کہا اگر حکومت گرے گی تو وہ اپنے کرموں سے ہی گرے گی۔ ہمیں سازش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی ایسا کرنے کے لئے ہمارے پاس درکار ممبروں کی تعداد ہے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر اعظم نے وطن لوٹتے ہی الزام لگایا ہے کہ اپوزیشن حکومت کو کمزور کرنے میں لگی ہے۔سشما نے کہا کہ حکومت کو کمزور کرنے کا ٹھیکرا اپوزیشن کے سر پھوڑنے کے بجائے بہتر یہ ہوتا کہ وزیر اعظم اپنے گھر کو درست کرنے کی فکر کرتے۔ محترمہ سشما نے کہا کہ حکومت اور ان کے وزرا کو لیکر جو کرپشن کے نئے نئے انکشافات ہورہے ہیں انہیں اپوزیشن نے نہیں گڑھا ہے بلکہ خود ان کے ہی لوگ ان کے ذریعے چلائی جارہی سرکار کی ایجنسیوں نے اجاگر کئے ہیں۔ ارون جیٹلی نے کہا ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالہ، کامن ویلتھ گھوٹالہ یہ اپوزیشن نے نہیں کیا۔ نوٹ کے بدلے ووٹ کانڈ سے اپوزیشن کوکوئی فائدہ نہیں ہوا۔ حکومت کی کمزور حالات کی وجہ سے سرکار میں لیڈر شپ کا سنگین بحران ہے۔ یہ سرکار خود ہی گرنے کے موڑ پر ہے۔ بھاجپا کے دونوں لیڈروں نے دعوی کیا وزارت مالیات کے نوٹ سے ثابت ہوچکا ہے کہ ٹوجی اسپیکٹرم الاٹمنٹ گھوٹالے میں جو گھوٹالہ اس وقت کے وزیر مواصلات اے راجہ نے کیا وہی جرم ہو بہو پی چدمبرم نے بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہا اس گھوٹالے میں وزیر اعظم کو کہیں بھی اندھیرے میں نہیں رکھا گیا بلکہ انہیں راجہ نے اور چدمبرم نے ہر قدم کے بارے میں باقاعدہ جانکاری دی۔ وزیر اعظم کی یہ حکمت عملی کتنی مثبت ثابت ہوگی یہ تو آنے والے دن ہی بتائیں گے لیکن ایک طرح سے انہوں نے یہ بیان دے کر خود اپنی حکومت کی عمر پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ جب وزیر اعظم خود ہی وسط مدتی چناؤ کی بات کرنے لگے تو اس کا جنتا جناردن میں کیا پیغام جائے گا آپ خود ہی سمجھدار ہیں۔
2G, Anil Narendra, Arun Jaitli, Daily Pratap, Inflation, Manmohan Singh, P. Chidambaram, Sushma Swaraj, Vir Arjun

14 ستمبر 2011

نریندرمودی کی اگنی پریکشا



Published On 14th September 2011
انل نریندر
گجرات کے وزیراعلی نریندر مودی کے سیاسی حریفوں کو بہت امیدتھی کہ سپریم کورٹ پیر کے روز مودی کو2002 کے گودھرا کانڈ کے بعد ہوئے دنگوں پرمقدمے میں لپیٹ لے گی اور انہیں کٹہرے میں کھڑا کردے گی۔ وزیر اعلی نریند مودی اور یگر 62 افسران پر الزام لگایاگیا تھا انہوں نے2002ء میں ہوئے گلبرگ سوسائٹی فسادات کو روکنے کیلئے جان بوجھ کر کوئی قدم نہیں اٹھایا اور تشدد کو فروغ دیا۔ لیکن مودی کو نیچا دکھانے کی کوشش کررہے ان کے حریفوں کو سپریم کورٹ سے مایوسی ہاتھ لگی۔ بڑی عدالت نے دنگا روکنے میں ان کے کردار میں لاپرواہی پر کوئی فیصلہ سنانے سے انکارکردیا۔جسٹس ڈی کے جین کی سربراہی والی تین ججوں کی ڈویژن بنچ نے مودی اور دیگر سرکاری افسران کے خلاف مقدمہ درج کرانے کیلئے کوئی بھی خاص ہدایت دینے سے انکارکردیا۔مودی اور ان سرکار حکام کو سابق کانگریس ایم پی احسان جعفری کی اہلیہ کے ذریعے شکایت میں بتایا گیا تھا جعفری کی احمد آباد فسادات میں گلبرگ سوسائٹی قتل عام میں جان چلی گئی تھی۔ جسٹس پی سداشیورام اور جسٹس آفتاب عالم کی بنچ نے بڑی عدالت کے حکم پر اسپیشل جانچ عدالت (ایس آئی ٹیٌ) کے ذریعے جانچ کی انترم رپورٹ مجسٹریٹ کے سامنے داخل کرنے کو کہا۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کی جانچ کے لئے مخصوص اسپیشل جانچ کمیٹی یعنی ایس آئی ٹی کو ہدایت دی کہ وہ اپنی رپورٹ گجرات کی نچلی عدالت کو سونپے۔ یعنی اب نچلی عدالت یہ طے کرے گی کہ گجرات دنگوں میں وزیر اعلی نریندر مودی کے خلاف معاملہ بنتا ہے یا نہیں؟ فیصلے پر اپنے اپنے ڈھنگ سے رد عمل سامنے آیا ہے۔ اس فساد میں مارے گئے احسان جعفری کی اہلیہ ذکیہ جعفری نے عدالت کے اس فیصلے پر مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ بیحد مایوس کن ہے۔ میرے پاس ایک بار پھر اس کے خلاف اپیل دائر کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے۔ 2002ء میں جو بھی کچھ ہوا تھا اس کے بارے میں تفصیل میں نے ایس آئی ٹی کو دے دی تھی۔ اتنے برسوں کے بعد ایک ہی حقیقت کو میں کب تک دوہراؤں گی؟ ذکیہ جعفری کا کہنا ہے کہ ریاست کی عدالت کو اس معاملے کو سونپ دئے جانے کا مطلب یہ ہی ہے کہ نریندر مودی کے حق میں فیصلہ آئے گا۔ حالانکہ سماجی ورکر اور نریندر مودی کی کٹر حریف تستا سیتل واد نے کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا اس فیصلے کو کلین چٹ کی شکل میں نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا یہ لڑائی بہت لمبی ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا غلط مطلب نکالا جارہا ہے۔ اب ہماری عرضی ایس آئی ٹی کی رپورٹ اور راجو رامچندر کی رپورٹ گجرات کے مجسٹریٹ دیکھیں گے۔ ایسا نہیں کہا جاسکتا کہ نریندر مودی اور دیگر لوگوں کے خلاف کوئی کیس نہیں ہے ۔ اگر مودی یا کسی اور کے خلاف معاملہ بند ہونے کی بات ہوتی تو ذکیہ جی اور ہماری دلیل سنی جائے گی۔ ہمیں بھروسہ ہے کہ گجرات کی عدالت اس معاملے میں جائز فیصلہ سنائے گی۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر نریندر مودی نے محض تین لفظوں میں اپنا رد عمل ظاہر کیا۔ ’’ایشور مہان ہے‘‘ بھاجپا نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا پارٹی کو یقین تھا کہ مودی کو بدنام کرنے کی مہم زیادہ دن تک ٹک نہیں پائے گی۔ پارٹی کے ترجمان پرکاش جاویڈکر نے مسکراتے ہوئے کہا ’’مودی سے نفرت کرنے والوں اور انہیں نشانہ کی تاک میں رہنے والوں کی موجودہ حالات میں سمجھ سکتا ہوں۔ قانون نے وہ راستہ اپنایا ہے جو بالکل صحیح ہے۔ ‘‘کانگریس نے اس مسئلے پر بہت ہی سوجھ بوجھ والا رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے مودی کو کلین چٹ نہیں دی ہے۔ ترجمان شاہد علوی نے کہا ’’اس سے مایوسی کی کوئی بات نہیں ہے ۔ نریندر مودی کو کلین چٹ تھوڑے ہی ملی ہے؟ ہماری قانونی کارروائی میں اصلاح کئے جانے کی ضرورت ہے ۔ذکیہ جی اور ان کے خاندان کے لئے میں ہمدردی جتانا چاہوں گا‘‘۔
 Anil Narendra, Arun Jaitli, Godhra, Gujarat, L K Advani, Narender Modi, Supreme Court, Sushma Swaraj

04 اگست 2011

ووٹنگ قاعدے کے تحت بحث کا جوا

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 4th August 2011
انل نریندر
یسا کہ امید تھی بھارتیہ جنتا پارٹی نے پارلیمنٹ میں یوپی اے حکومت پر ہلا بول دیا ہے۔ اور بدعنوانی و مہنگائی کے مسئلے پر مرکز میں حکمراں کانگریس لیڈر شپ والی یوپی اے سرکار کو گھیرنے میں لگی بھاجپا نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو چاروں طرف سے گھیرنے کا پورا پلان بنا لیا ہے۔ بھاجپا نے ان پر مانسون اجلاس کا ماحول خراب کرنے کا بھی الزام لگا دیا ہے۔ بھاجپا کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے ہی پہل کرتے ہوئے اپوزیشن کے سلسلے میں جو غیر ضروری بیان دیا ہے اس کے پیچھے اس کا واحد مقصد اپوزیشن کو مشتعل کرنا اور پارلیمنٹ کا ماحول خراب کرنا لگتا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ارون جیٹلی نے منموہن سنگھ اور پی چدمبرم پر تلخ حملے کئے۔ جیٹلی کا کہنا ہے اسپیکٹرم الاٹمنٹ کے معاملے میں سابق وزیر مواصلات اے راجہ اور وزیر اعظم منموہن سنگھ و ان کے دفتر کے درمیان 18 مرتبہ خط و کتابت ہوئی ۔ اس خط و کتابت کے ذریعے راجہ نے وزیر اعظم کو اسپیکٹرم معاملے میں اپنی وزارت کے فیصلے اور پالیسی سے پوری طرح واقف کرایا تھا۔ اس لئے وزیر اعظم یہ کہہ کر اپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتے کہ انہیں کچھ پتہ نہیں تھا۔ سشما سوراج نے وزیر اعظم پر پارلیمنٹ کا ماحول خراب کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ این ڈی اے پارلیمنٹ میں مہنگائی اور بدعنوانی کے مسئلوں پر ووٹنگ کرانے والے قواعد کے تحت بحث کرانے کا نوٹس دے گی۔ سشما نے کہا کہ این ڈی اے بدعنوانی اور مہنگائی کے مسئلوں پر لوک سبھا میں قاعدہ 184 اور راجیہ سبھا میں قاعدہ167 کے تحت نوٹس دے گی۔
بدعنوانی اور مہنگائی کے مسئلوں پر کانگریس کی قیادت والی یوپی اے حکومت کو پارلیمنٹ میں گھیرنے کے لئے بھاجپا اور اس کی لیڈر شپ والے این ڈی اے نے ووٹنگ قاعدے کے تحت بحث کرانے کی تجویز لوک سبھا سکریٹریٹ کو بھیج دی ہے۔ بھاجپا چاہتی ہے کہ بدعنوانی اور مہنگائی کے مسئلے پر ایوان میں صرف بحث ہی نہیں بلکہ ووٹنگ بھی کرائی جائے تاکہ ان مسئلوں پر یہ صاف ہوسکے کہ کون سرکار کے ساتھ ہے اور کون سرکار کے خلاف ہے۔ یہ داؤ چل کر بھاجپا کانگریس کے ساتھ اس کی اتحادیوں کو بھی بے نقاب کرنا چاہتی ہے۔ بھاجپا کا تجزیہ ہے کہ بدعنوانی اور مہنگائی کے مسئلوں پر ووٹنگ ہوئی تو یوپی اے سرکار پھنس سکتی ہے۔ حکومت کو باہر سے حمایت دینے والی سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کا ان مسئلوں پر نظریہ صاف ہے۔ سپا کے رام گوپال یادو نے کہا کہ بدعنوانی پر اب حکومت بھاگ نہیں سکتی۔ اسے پارلیمنٹ کا سامنا کرنا ہوگا اور دیش کی عوام کے سوالوں کا جواب دینا ہوگا۔ بسپا کی جانب سے مورچہ ستیش مشرا نے سنبھالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی سب سے بڑا اشو ہے اس کے خلاف ان کی پارٹی پائیدار لوک پال سے کم راضی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ انا ڈی ایم کے، بیجو جنتا دل، راشٹریہ جنتادل اور جنتا دل سیکولر اور لوکدل جیسی چھوٹی موٹی پارٹیوں نے بھی اپنے انداز میں حکومت کو آنکھیں دکھائی ہیں۔ کانگریس ممبر چپ چاپ سنتے اور دیکھتے رہے۔ مجبوراً ایوان کے پہلے دن چیئرمین کو ایوان کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔ اترپردیش اسمبلی چناؤ کو دیکھتے ہوئے بھاجپا مہنگائی اور بدعنوانی پر کانگریس سپا اور بسپا کے اتحاد کو پھر سے اجاگر کرنا چاہتی ہے ۔ سپا اور بسپا نے اگر کانگریس کو حمایت دی تو بھاجپا ۔سپا ،بسپا اور کانگریس اتحاد کو اشو بنائے گی۔ اگر سپا اور بسپا نے ووٹنگ کے وقت کانگریس کا ساتھ نہیں دیا اور یوپی اے پارٹیوں نے بھی الگ الگ سر اور تیور دکھائے تب ایسے میں یوپی اے حکومت کی فضیحت ہوسکتی ہے۔ لیفٹ پارٹیوں کا موقف پہلے ہی واضح ہے کہ وہ سرکار کی جم کر مخالفت کریں گے۔ بھاجپا نے ان ساری باتوں کو بھی دھیان میں رکھ کر یہ داؤ چلا ہے۔ ہمیں نہیں لگتا کہ سرکار ووٹنگ والے قاعدے کے تحت کسی بھی بحث کو تیار ہوگی۔ ظاہر ہے کہ اگر بھاجپا کی مانگ نہیں مانی گئی تو پارٹی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر یہ ہی سندیش دے گی کہ سرکار بدعنوانی اور مہنگائی کے مسئلے پر سنجیدہ نہیں ہے، اس لئے صرف بحث کر اشو کو ٹال رہی ہے۔ بھاجپا کی جانب سے بدعنوانی پر قاعدہ184 کے تحت بحث کرانے کے لئے سینئر لیڈر مرلی منوہر جوشی نے تجویز بھیجی تھی۔ مہنگائی پر بھاجپا نیتا یشونت سنہا اور این ڈی اے کے کارگذار کنوینر شرد یادو نے تجویز رکھی ہے۔ اب سرکار نے ووٹ قاعدے کے تحت بحث کرانا قبول کرلیا ہے۔ دیکھیں اس جوئے میں وہ کتنی کامیاب رہتی ہے؟ 
Tags: Anil Narendra, Arun Jaitli, BJP, Congress, Daily Pratap, Manmohan Singh, Parliament, Sushma Swaraj, Vir Arjun

30 جولائی 2011

آخرکار یدی یروپا کو جانا ہی پڑا


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 30th July 2011
انل نریندر
آخر کار بھاجپا ہائی کمان نے ہمت اور ہوشیاری دکھائی اور کرناٹک کے وزیر اعلی بی ۔ایس یدی یروپا کوہٹانے کا فیصلہ کرہی لیا۔ حالانکہ انہوں نے اپنی کرسی بچانے کیلئے سب طرح کے ہتھکنڈے اپنائے لیکن بھاجپا اعلی کمان کے آگے ان کی ایک نہ چلی۔ بھاجپا اعلی کمان نے بدھوار دیر رات ہی انہیں بتا دیا تھا کہ پارٹی چاہتی ہے کہ وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں ۔ اس کے بعد جمعرات کی صبح پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں انہیں وزیراعلی کے عہدے سے ہٹانے کے بارے میں کئے گئے فیصلے پر مہر لگادی گئی۔ پارٹی نے یدی یورپا کو ہٹانے کے بارے میں تب ہی ذہن بنا لیا تھا جب لوک آیکت جسٹس سنتوش ہیگڑے کی رپورٹ کے کچھ حصے افشا ہو گئے تھے۔ لیکن پارٹی چاہتی تھی کہ پہلے لوک آیکت اپنی رپورٹ باقاعدہ طور پر حکومت کو سونپ دیں۔ رپورٹ سپرد کرنے کے فوراً بعد ہی یدی یورپا کو دہلی طلب کیا گیا۔ انہیں کرسی چھوڑنے کو کہا گیا۔ یدی یورپا بغیر استعفیٰ دئے بنگلورو پہنچ گئے اور انہوں نے اپنی طاقت آزمائی کے لئے ممبران اسمبلی و وزرا کی میٹنگ بلائی ، جس میں ان کے ہاتھ مایوسی لگی۔ ان کی طلب کردہ میٹنگ میں کل13 ممبران اسمبلی ہی پہنچے تھے۔ دراصل بھاجپا ہائی کمان یدی یورپا کی چال کو سمجھ گیا تھا۔ ادھریدی یورپا سے ناراض گڈکری نے ممبران اسمبلی کو ان سے دوری بنانے کیلئے فون کردیا تھا۔ وزیروں کو صاف کہا گیا کہ اگر انہوں نے یدی یورپا کا اب بھی ساتھ دیا تو انہیں اگلی کیبنٹ میں نہیں لیا جائے گا۔ ہائی کمان نے ایم وینکیانائیڈو کو آپریشن یدی یورپا کیلئے بنگلورو روانہ کردیا۔ پارٹی کے سخت رویئے کو دیکھتے ہوئے یدی یورپا نے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا اور کہا کہ وہ 31 جولائی کو باقاعدہ استعفیٰ نامہ دیں گے۔ اکیونکہ 31 جولائی کو شکل پکش شروع ہورہا ہے۔ 30 جولائی کو اماوسیہ ہے اور جیوتشیوں نے انہیں شبھ مہورت میں استعفیٰ دینے کی صلاح دی ہے۔
یدی یورپا نے اپنے جانشین کے طور پر ممبر پارلیمنٹ سدانند گوڑا کا نام تجویز کیا ہے لیکن پارٹی جمعہ کو ہوئی ودھان منڈل کی میٹنگ میں نیتا کا فیصلہ کرنے والی تھی۔ تازہ اطلاع کے مطابق گوڑا کے نام پر یدی یورپا کے اختلاف کی وجہ سے یہ میٹنگ ٹل گئی ہے۔ دہلی سے ارون جیٹلی اور راجناتھ سنگھ کو مشاہد بنا کر بھیجا گیا۔ وزیر اعلی کے دعویداروں میں ایشورپا ، بی ایس آچاریہ، سریش کمار اور انند کمار بھی دعویدار ہیں۔ یدی یورپا لنگوت ہیں۔کرناٹک کی سیاست میںیہطبقہ کا فیصلہ کن کردار نبھاتا ہے۔اپنی اس ذات کی طاقت پر ہی یدی یورپا ہائی کمان کو بلیک میل کررہے تھے۔ ریاست کی کل آبادی میں لنگائیت قریب27 فیصد ہے جبکہ اس کے بعد دوسرے مقام پر ووک لنگ ہیں جو17 فیصد ہیں۔ سابق وزیر اعلی ایچ ڈی دیوگوڑا اسی طبقے سے آتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں یدی یورپالنگوت فرقے کے بڑے نیتا کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ کرناٹک بھاجپا اسمبلی پارٹی میں بھی 35 سے زیادہ ممبران اسمبلی اسی طبقے ہیں اور ممبران کے بلبوتے پر ہی اسمبلی چناؤ ہوں یا لوک سبھا چناؤ یا پنچایت چناؤ لنگوت کارڈ کھیل کر یدی یورپا بھاجپا کو چناؤ جیتانے کے ساتھ ساتھ اپنی جڑیں بھی جماتے رہے ہیں۔ بھاجپا کو جانشین چنتے وقت کرناٹک کے ذات پات کے تجزیوں کو ضرور ذہن میں رکھنا ہوگا۔ جہاں تک ممکن ہو یدی یورپا کا جانشین بھی لنگوت فرقے سے ہی ہوگا۔
کرناٹک کی سیاست میں ایک بہت بڑا سیکٹر ریڈی بندھو بھی ہیں۔ ان کی کہانی کسی فلمی سے کم نہیں لگتی۔ پولیس کانسٹیبل کے بیٹے جن کے پاس سائیکل خریدنے کی ہمت تھی ان کے پاس آج اپنا ہیلی کاپٹر ہے۔ سیاسی پکڑ ایسی کے وزیر اعلی یدی یورپا اور مرکزی لیڈر شپ بھی انہیں کنارے کرنے کی ہمت نہیں جٹا پارہی ہے۔ ان پر لوہے اور ابرق کے ناجائز کھدائی کرانے کے سنگین الزام لگے ہوئے ہیں۔ وہ قریب1500 کروڑ کے معدنیاتی کاروباری ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق سال 2002 ء میں کھدائی اور اس کے درآمدات کے کاروبار میں اترنے کے بعد ان کی املاک اربوں میں ہے۔ اوبلا پورم مائننگ کمپنی کا مالکانہ حق کرناٹک کے وزیر سیاحت بی جناردن ریڈی کے پاس ہے تو یدی یورپا سرکار میں بڑے بھائی جی کروناکرن ریڈی وزیر محصول ہیں جبکہ چھوٹے بھائی سمیشور بلاری سے اسمبلی کے ممبر ہیں۔ سال2009 ء میں بھی ریڈی بندھوؤں نے یدی یورپا کے خلاف اس لئے بغاوت کردی تھی کہ انہیں بلاری میں اپنے من پسند افسران کی تقرری کا اختیار نہیں دیا گیا تھا۔ تب بھی سشما سوراج کی مداخلت سے معاملہ سلجھ گیا تھا۔ بھاجپا کے سینئر لیڈر کہتے ہیں کہ بلاری میں کانگریس کے گڑ کو توڑنے کے لئے بھاجپا کو ان کا سہارا لینا پڑا۔ ریڈی بندھوؤں کا سیاسی عروج بلاری پارلیمنٹ سیٹ سے پہلی بار کانگریس صدر سونیا گاندھی کے چناؤ لڑنے کے دوران ہوا تھا۔ بھاجپا نے سونیا کے خلاف سشما سوراج کو میدان میں اتارا تھا تب ریڈی بندھوؤں نے سشما کو کاچی ماں کا درجہ دیتے ہوئے ان کی جیت کے لئے ہر ممکن کوشش کی تھی۔ لیکن جیت سونیا گاندھی کی ہوئی۔ ریڈی بندھوؤں کے سشما سوراج سے رشتوں کو لیکر اکثر سوال اٹھتے رہے ہیں لیکن حال ہی میں سشما نے دو ٹوک الفاظ میں یہ کہہ دیا کہ ریڈی بندھوؤں سے ان کا کوئی کاروباری مفاد نہیں ہے۔ یدی یورپا کے جانشین کے چننے کے وقت بھاجپا اعلی کمان کو ریڈی بندھوؤں سے کیا سیاست اپنانی ہے اس پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا ۔ کیونکہ یہ سرکار بنانے اور اکھاڑنے میں اہم کردار نبھاتے آئے ہیں۔
Tags: Anil Narendra, Arun Jaitli, BJP, Daily Pratap, Hegde, Karnataka, Lokayukta, Rajnath Singh, Sushma Swaraj, Vir Arjun, Yadyurappa

19 جون 2011

کیا اتنے مناسب ماحول کا بھاجپا فائدہ اٹھا پائے گی؟

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
19 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
کسی بھی اپوزیشن پارٹی کے لئے نہ تو یوپی اے حکومت سے بہتر اور کوئی حکمراں سرکار ہوسکتی تھی اور نہ ہی اتنی خراب ہے سیاسی ماحول جتنا منموہن سنگھ سرکار نے کردیا ہے۔ کوئی بھی اپوزیشن پارٹی ایسے سیاسی ماحول کا انتظار کرتی رہتی ہے جب اتنی متنازعہ مرکزی حکومت ہو جتنی یہ حکومت ہے اس حکومت نے دیش کو کیا نہیں دیا ؟ بڑھتی مہنگائی بڑھتی قیمتیں ایک کے بعدایک گھوٹالہ اور دہشت گردی جیسے برننگ اشو پر ٹال مٹول کی پالیسی، نکسلیوں سے لڑنے کا قوت ارادی، تاناشاہی رویہ وغیرہ وغیرہ۔ کہنا کامطلب ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی وہ بڑی پارٹی ہے وہ اس سے بہتر سیاسی ماحول کی امید نہیں کرسکتی تھی۔ حود بھاجپا نیتا ارون جیٹیلی فرماتے کہ کانگریس لیڈر شپ والی مرکزی حکومت کو سیاست داں نہیں بلکہ افسر شاہی چلارہی ہے۔ آزادی کے بعد سے اتنی بدعنوان، نکمی اور کٹر حکومت جنتا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ یہ سرکار اپنے پانچ سال پورے نہیں کرپائے گی کیونکہ اب جنتا کانگریس سرکار کو پھوٹی آنکھ میں نہیں بھارہی ہے۔ یہ سخت تذکرہ اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی نے پردیش بھاجپا کی جانب سے منعقدہ سنگھرش کے ایک سال پروگرام میں حال ہی میں کیا تھا۔ جیٹیلی نے کہا کہ بھاجپا کو تحریک چلانے کا شوق نہیں ہے لیکن منموہن سنگھ سرکار ایک کے بعدایک سنگین غلطیاں کررہی ہے کہ بھاجپا کو سڑک پر اترنے کے علاوہ کوئی راستہ اس کے پاس نہیں تھا۔ دیش کو ایسا وزیراعظم چلارہاہے جو ایک کٹ پتلی ہے ۔ پردہ کے پیچھے اقتدار کی بھاگ دوڑ دوسرے کے ہاتھوں میں ہے ۔تاریخ میں ایسا کئی دیکھنے کو نہیں ملتا جہاں سورہے ہزاروں نہٹے لوگوں پر رات کی تنہائی میں پولیس ٹوٹ پڑتی ہے بچوں اورعورتوں پر لاٹھیاں برسائے جائے۔ آنسو گیس کے گولے چھوڑے جائے۔ ارون جیٹیلی نے اس سرکار کوہیٹ لیس چکن کہاہے کہ اس کا مطلب ہے کہ اس سرکار کا کوئی سر پیر نہیں ہے کوئی وارث نہیں ہے۔
اب منموہن سنگھ سرکار کی جو رپورٹ جیٹیلی صاحب نے پیش کی ہے وہ بہت بڑی حد تک صحیح لگتی ہے لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب منموہن سنگھ سرکار کی بری حالت بن گئی ہے تو اس کا سیاسی فائدہ بڑی اپوزیشن پارٹی کے ناتے بھاجپااٹھاپارہی ہے۔؟ ہم نے دیکھا بھاجپااپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی اپوزیشن کاکردار صحیح طریقہ سے نہیں نبھا پائی۔ میں یوپی اے 1- ایک کی بات کررہا ہو۔ جب بھاجپا نہیں لیفٹ پارٹیاں بڑی اپوزیشن کا کردار بہتر طریقہ سے نبھا رہی تھی۔ یوپی اے 2میں کامریٹ موجود نہیں ہے سارا اپوزیشن کادارو مدار بھاجپا پر ہوتا ہے لیکن ایمانداری سے بھاجپانیتاؤں کو سوال کرناہوگا کہ وہ کیوں نہیں حالات کافائدہ اٹھاپارہے ہیں؟کیا وجہ ہے کہ اتنا مناسب ماحول ہونے کے بعد بھی جنتا میں وہ اتنا بھروسہ پیدا نہیں کرپائی کہ جنتا انہیں مرکز میں دوبارہ سے اقتدار سونپنے کی ہمت دکھائے۔؟ اس میں کوئی شک نہیں ریاستوں میں بھاجپا کی سرکاریں اچھاکام کررہی ہے ان کی ساکھ بھی اچھی ہے اور جنتا سے کہنے کو کہہ سکتے ہیں کہ مرکز میں اچھااقتدار دیے سکتے ہیں۔ ایک بار ہمیں موقعہ ضرور دے ۔ ریاستوں میں اگر بھاجپا سرکاریں اچھاکام کررہی ہے تواس کی بنیادی وجہ ہے ہرریاست میں ایک مضبوط وزیراعلی ہے اور اسی وزیراعلی کے رہتے اس کی وجہ سے ریاست میں اچھی حکومت چل رہی ہے۔ گجرات میں نریندر مودی، مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان، اتراکھنڈ میں رمیش چند پوگھیریال اور ہماچل میں پریم کمار بھومل وغیرہ ان کی شخصیت اور ساکھ اور کارگزاری اوران کے اقتدار کی اہم خوبیاں ہیں۔ جن کی وجہ سے مرکزی لیڈر شپ ہے۔ مرکز میں تو بھاجپا لیڈر شپ نہ کے برابر ہے۔ دکھ سے کہن اپڑتا ہے کہ یہ دوسری صف کے نوجوان لیڈر آپس میں ہی ایک دوسرے کی کاٹ کرنے سے باز نہیں آتے ان کی نظرو ں میں پارٹی کی کوئی اہمیت ہے اورنہ ہی اس بات کی پرواہ وکر کیا سوچتا ہے۔ جنتا کی بات تو چھوڑوں۔ ان کے اپنے اپنے نجی ایجنڈے پارٹی ایجنڈے سے بالاتر ہے نجی خواہشات ہے اور جو ان کے آڑے آرہی ہے یہی وجہ ہے کہ اتنااچھا ماحول ہونے کے باوجود جنتا میں بھروسہ نہیں کرپارہی ہے جو انہیں کرناچاہئے۔ اٹل جی اور اڈوانی کی رہنمائی میں بھاجپانے جو سنہرے دور دیکھا ان کے رہتے پارٹی ہوا کرتی تھی۔ اور ان کی اپنی ساکھ تھی ورکروں سے وہ جڑے ہوئے تھے جنتا کی نبض کو سمجھتے تھے لیکن آج کی لیڈر شپ اپنے ایئرکنڈیشنوں کے کمرے میں ہی بیٹھ کر اپنے ہی گن گان کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔
دکھ کی بات یہ ہے کہ لیکن سچائی بھی یہ ہے کہ آج بھارت کی عوام کو سبھی سیاسی پارٹیوں سے نیتاؤں سے بھروسہ اٹھ گیا ہے ان کی نظر میں سبھی برابر ہے یعنی ایک حمام میں سبھی ننگے ہے۔ وہ بھاجپاسے جاننا چاہتے ہیں۔ جو مسائل آج دیش کے سامنے ہے منہ پھاڑ رہے ان سے کیسے نبٹا جائے ۔ وہ جنتا چاہتی ہے کہ بھاجپا لیڈر شپ کون کونسے ایسے قدم اٹھائے گی۔ جن سے گھوٹالہ رکے۔ قیمتوں پر قابو ہو۔مہنگائی گھٹے۔ بے روزگاری گھٹے، قانون نظم سدھرے، بجلی پانی جیسے پیچیدہ مسائل جیسے حل ہو کیا جنتا ان پر زیادہ بھروسہ کرے۔ ؟یہ ہے کچھ سوال جن کا میری رائے میں بھاجپا لیڈر شپ کوجواب دینا ہوگا۔جنتا کوبتاناہوگا۔ ہمیں اقتدار میں لائے تو ان مسائل کو کیسے حل کریں گے۔ لیکن اس کے لئے سب سے پہلے بھاجپا کو اپناگھر ٹھیک کرنا ہوگا۔ اسے صحیح لیڈر شپ طے کرنی ہوگی۔ اپنی ترجیحات بتانی ہوگی۔ اب تو بھاجپا یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ آر ایس ایس ان کے کام کاج میں دخل اندازی کرتی ہے۔ جب سے آر ایس ایس کی بالا دستی موہن بھاگوت کے ہاتھ میں آئی ہے سیاست کے کچھ حد تک وہ الگ ہوگئی ہے اب سنگ روز مرے کے معاملے میں دخل نہیں دیتا ہوسکتاہے کہ بھاجپاکے کچھ لیڈروں کے میرے نظریات کچھ اچھے نہ لگیں۔ لیکن انہیں سمجھناچاہئے میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ ایک طرح سے جنتا کی آواز ہے اور آج بہت سے لوگ یہ ہی چاہتے ہیں کہ بھاجپا اپناگھر ٹھیک کریں۔ تاکہ جلد سے جلد آنے والے موقعہ کاپورا فائدہ اٹھاسکے.
Tags:  Anil Narendra, Arun Jaitli, Congress, Corruption, Daily Pratap, L K Advani, Modi, RSS, Vir Arjun

09 جون 2011

اوما بھارتی کی واپسی:صحیح سمت میں صحیح قدم

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
9 جون 2011 کو شائع
انل نریندر

آخر کار بھاجپا کے وزیر اعظم کے امیدوار کے تمام دعویداروں کے اختلاف کے باوجود بھاجپا صدر نتن گڈکری نے اوما بھارتی کو پارٹی میں واپس لے لیا ہے۔جب اوما بھارتی کو بھاجپا میں شامل کرنے کا گڈکری پارٹی ہیڈ کوارٹر میں اعلان کررہے تھے تو ان کی سخت مخالفت کرنے والے ارون جیٹلی اور سشما سوراج و وینکیا نائیڈو موجود نہیں تھے۔ دراصل اوما بھارتی کی واپسی کے پیچھے کئی اسباب و کئی مجبوریاں تھیں۔ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ آج کل سبھی پارٹیوں کی توجہ یوپی مشن 2012 ء پر لگی ہوئی ہیں۔ بھاجپا لیڈر شپ یہ سمجھ رہی ہے کہ کانگریس کی ہوا روز بروز خراب ہورہی ہے لیکن اس سے بھاجپا کا راستہ آسان نہیں ہورہا ہے۔ دہلی کی گدی کا راستہ براستہ یوپی آتا ہے اس لئے اگر اترپردیش میں پارٹی نے اچھی کارکردگی نہیں دکھائی تو دلی دربار تک پہنچا آسان نہیں ہوگا۔ یوپی میں ویسے بھی بھاجپا لیڈر شپ کی کمی ہے۔ جو نیتا ہیں وہ تمام پھنکے کارتوس کی طرح ہیں۔ بھاجپا کو یوپی میں نئی جان ڈالنے کے لئے ایک ایسا چہرہ چاہئے تھا جو نوجوانوں، خواتین، پسماندہ اور ہندو ووٹوں کو ایک ساتھ پارٹی کے نیچے لا سکے۔ نتن گڈکری کو لگا کہ اوما بھارتی میں یہ سب خوبیاں موجود ہیں اور وہ ایک اچھی منتظمہ بھی ہیں۔ جب وہ مدھیہ پردیش کی وزیر اعلی تھیں تو انہوں نے اچھی حکومت دی تھی۔ انہی کے بل پر پارٹی اقتدار میں آئی تھی۔


اوما بھارتی کی بھاجپا میں چھ سال بعد واپسی ہوئی ہے۔ بھاجپا لیڈر شپ و حکمت عملی سازوں کا ماننا ہے کہ جس طرح سے اوما بھارتی جارحانہ سیاست کرتی ہیں ان کا مقابلہ ان کے الفاظ اور ان کے طریقے میں کرنے کیلئے پارٹی کے پاس کوئی ایسا لیڈر پردیش میں موجود نہیں تھا جو ان کی زبان میں ان کو جواب دے سکے۔ بھاجپا کا خیال ہے کہ اگر پارٹی اترپردیش میں سیٹوں میں اضافہ نہیں کرپائی تو وہ بھی جس طریقے سے تقریر کرتی ہیں اس سے پارٹی کو ایک ماحول بنانے میں مدد ضرور ملے گی۔ سماجی تانے بانے کے نقطہ نظر سے بھی اگر دیکھا جائے تو پارٹی کے بڑے قد کے لیڈر کلیان سنگھ کی پارٹی سے چھٹی اور پھر دوبارہ واپسی کے بعد بھی پارٹی اپنے روٹھے پچھڑے طبقے کو اپنے ساتھ جوڑنے میں ناکام رہی۔ اوما بھارتی کا لودھ فرقے کا ہونا بھی پارٹی کے لئے اچھا ہوسکتا ہے۔ ذات پرستی کی سیاست کے لئے مشہور اترپردیش میں پسماندہ طبقہ شاید اوما کے سبب پارٹی سے جڑ جائے؟


اوما بھارتی کی مشکل یہ ہے جب انہیں غصہ آتاہے تو وہ سب کچھ بھول جاتی ہیں اور آپے سے باہر ہوجاتی ہیں۔ مجھے آج وہ منظر یاد ہے جب تقریباً ساڑھے پانچ سال پہلے اوما بھارتی نے میڈیا کے سامنے لال کرشن اڈوانی کی موجودگی میں پارٹی کے کچھ لوگوں پر آف دی ریکارڈ بات کرنے اور ان کی ساکھ کو خراب کرنے اور اپنی نظراندازی کا الزام لگایا تھا۔ اور بھری میٹنگ سے اٹھ کر چلی گئیں تھیں۔ تب بھاجپا پارلیمانی بورڈ نے 6 دسمبر2005 ء کو انہیں پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے خارج کردیا تھا۔ جہاں ہم سمجھتے ہیں کہ شری نتن گڈکری نے صحیح سمت میں ایک صحیح قدم اٹھایا ہے وہیں اوما نے بھی پچھلے پانچ چھ سالوں میں یہ سبق لیا ہوگا اور مستقبل میں وہ ڈسپلن کی لکشمن ریکھا کو پار نہیں کریں گی۔
Tags: Anil Narendra, Arun Jaitli, BJP, Daily Pratap, Nitin Gadkari, Sushma Swaraj, Uma Bharti, Uttar Pradesh, Vir Arjun

17 مئی 2011

بھاجپا کی شرمناک کارکردگی کا ذمہ دار کون؟

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
شائع17 مئی2011
انل نریندر
بھاجپا کیلئے پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ بیحد مایوس کن رہے۔ آسام، کیرل، پڈوچیری، تاملناڈو اور مغربی بنگال میں بھاجپا قومی پارٹی کی شکل میں پہچان کے لئے ترس گئی ہے۔ کرناٹک میں ضمنی چناؤ میں وزیر اعلی یدی یورپا نے ضرور اپنا دبدبہ بنائے رکھا ہے اور انتخابات میں پہلی بار بھاجپا کے بڑے لیڈروں کو اپنی حکمت عملی کی سوجھ بوجھ دکھانے کیلئے ڈیوٹی لگائی گئی تھی لیکن کوئی بھی لیڈر اپنا چمتکار نہیں دکھا سکا۔ بھاجپا کو آسام اور مغربی بنگال میں اچھے نتیجے کی امید تھی مگر پارٹی کو کیرل میں بھی اپنا کھاتہ کھلنے کی امید تھی ۔ لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج کے پاس جنوبی ہندوستان کی ریاستوں تاملناڈو ، کیرل کی کمان تھی۔ وجے گوئل کے پاس آسام اور چندر مترا کے پاس مغربی بنگال کی ذمہ داری تھی۔ ان کے اوپر سپر باس ارون جیٹلی تھے۔
بھاجپا کو سب سے بڑا جھٹکا آسام میں لگا ہے۔سوال کھڑا ہورہا ہے آخر مشرقی ان ریاستوں میں بھاجپا کیوں پٹی؟ وہ بھی تب جب سب سے زیادہ طاقت بھاجپا لیڈر شپ نے اسی راجیہ میں لگائی تھی۔ پارٹی کے چار لیڈر آسام میں ڈیرہ ڈالے رہے، پارٹی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی سے لیکر ارون جیٹلی تک لوگوں سے ووٹ مانگنے کے لئے اترے۔ پارٹی صدرنتن گڈ کری نے جلسوں سے خطاب کیا لیکن اس سب کے بعد بھی پارٹی لٹیا ڈوب گئی۔ راجیہ میں سرکار بنانے کا سپنا پہلے بھاجپا کے نیتاؤں کو امید تھی کہ آسام گن پریشد (اے جی پی) کے ساتھ مل کر چناؤ لڑنے کے بعد سرکار بن جائے گی اور سرکار نہ بھی بنی تو پارٹی ایک بڑی طاقت کے روپ میں ابھرے گی مگر پارٹی پچھلے ودھان سبھا چناؤ میں جیتی10 سیٹوں کا آنکڑا بھی نہیں چھوپائی اور آسام کی ودھان سبھا میں پارٹی کی طاقت آدھی ہوگئی۔
پشچم بنگال ، کیرل، تاملناڈو اور پڈوچیری میں بھاجپا کھاتہ کھولنے کے لئے ہی چناؤ لڑ رہی تھی پر کیرل میں اس کا یہ سپنا اس بار بھی پورا نہیں ہوسکا۔ کانگریس کے سینئر لیڈر پرنب مکھرجی نے تو طنز بھی کیا ہے کہ بھاجپا خود کو راشٹریہ پارٹی کہتی ہے لیکن پانچ ریاستوں کی لگ بھگ 800 ودھان سبھا سیٹوں میں سے وہ 8 سیٹیں بھی نہیں جیت پائی۔ پشچم بنگال میں بھاجپا کو 1 سیٹ ملی ہے جبکہ آسام میں4 سیٹوں سے ہی سنتوش کرنا پڑے گا۔ باقی کہیں کھاتہ نہیں کھل سکا ہے۔ اب بھاجپا حکومت بھلے ہی یہ کہہ کر اپنی جھینپ مٹا رہی ہو کہ ہمیں تو پہلے سے ہی بہت امیدیں نہیں تھیں۔ بھاجپا نیتاؤں نے کیرل میں اپنی پوری طاقت اس لئے لگائی تھی کہ اگر وہاں کمل کھل جاتا تو وہ اس بات کا ڈھنڈورا پیٹ سکتی تھی کہ دکشن کے لال گڑھ میں بھی ہم پہنچ گئے ہیں۔ بھاجپا کو کیرل میں 9فیصدی ووٹ ضرور ملے پر کھاتہ نہیں کھول پائی۔ آسام اور پشچم بنگال میں بھاجپا کے لئے سب سے بڑی راج نیتک ناکامی یہ رہی کہ دونوں ہی ریاستوں میں پارٹی کا کسی دل یا گٹھ بندھن کے ساتھ تال میل نہیں ہو پایا۔ اس شرمناک مظاہرے کیلئے جواب کون دے گا؟ ریاست کے انچارج اور جنرل سکریٹری وجے گوئل ، ارون جیٹلی، سشما سوراج، ورون گاندھی یا پھر خود ادھیکش نتن گڈ کری؟

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...