آتنک وادی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لئے اقتصادی فنڈنگ ضروری ہوتی ہے۔ پیسے سے ہی سارا کام چلتا ہے۔ دہشت گرد تنظیم اپنی یونیٹوں تک پیسہ پہنچانے کے لئے مختلف طریقے اپناتی ہیں۔ ان میں حوالہ اور بینک سب سے زیادہ استعمال کئے جاتے ہیں۔ عام طور پر بینک اپنے کھاتے داروں پر گہری نگاہ رکھتے ہیں لیکن کچھ بینک ہیں جو اپنے ذاتی فائدے کے لئے مبہم کھاتوں کی سرگرمیوں کو نظرانداز کردیتے ہیں کالی کمائی یا مبہم پیسے کے لین دین کوروکنے کے لئے اب بین الاقوامی سطح پر کوششیں ہورہی ہیں۔ سرکاروں کو سمجھ میں آرہا ہے کہ کالی کمائی کا لین دین صرف کاروبار کے لئے نہیں ہورہا ہے بلکہ اس کا تعلق دہشت گردی اور بین الاقوامی جرائم سے بھی ہے۔ امریکہ نے پایا ہے کہ ہانگ کانگ بینک (ایم ایس بی سی) کے ذریعے بھارت سمیت دنیا بھر کے ملکوں تک دہشت گردوں اور منشیات مافیا تک پیسہ پہنچ رہا ہے۔ ایوان بالا سینیٹ کے سب کمیٹی کے چیئرمین سینیٹرکارلیون نے 340 صفحات کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایم ایس بی سی نے اپنے امریکی بینک کے ذریعے خود سے وابستہ دوسرے ملکوں کے بینکوں کے گراہکوں کو ڈالر امریکہ بھیجنے میں مدد دی۔ بینک نے سعودی عرب کے اررجائی بینک کے ساتھ بھی کاروبار کیا ہے۔ اس بینک کے چیف بانی کو پہلے القاعدہ کی سرپرستی حاصل تھی ۔ اس نے سعودی عرب اور بنگلہ دیش کے ان بینکوں کو ڈالراور بینکنگ سروس فراہم کی جو دہشت گردوں کو پیسہ دستیاب کرانے سے جڑے رہے ہیں۔ بینک پر سب سے پہلے شبہ اس وقت ہوا جب2007-08 کے دوران میکسیکو سے وابستہ ایم ایس بی سی سے ایم ایس بی سی امریکہ کو سات ارب ڈالر بھیجے تھے اور دوسرے میکسیکن بینکوں سے یہ رقم دوگنی سے بھی زیادہ تھی اس میں بڑا حصہ ڈرگ اسمگلنگ کا تھا۔ جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایم ایس بی سی لندن میں واقع ہیڈ کوارٹر کے ذریعے میکسیکو، سعودی عرب اور بنگلہ دیش سے اربوں ڈالر کا مبہم کاروبار امریکہ میں آیا۔جنوری 2009 میں ایم ایس بی سی نے اپنی ہانگ کانگ شاخ کو ڈالر کے علاوہ روپیہ ،تھائی اور غیر ملکی کرنسی اررجائی کو سپلائی کرنے کا اختیار دیا۔ 2010ء میں ایم ایس بی سی نے پیسہ ٹرانسفر کرنے کے لئے نئی اسکیم ایم ایس بی ایل فاسٹ کیش لانچ کی۔ اس اسکیم کے تحت سعودی عرب کی راجدھانی ریاض سے پاکستان کے سب سے بڑے بینک حبیب بینک کی کسی بھی شاخ میں پیسہ فوراً ٹرانسفر کیا جاسکتا تھا۔اسکیم کے تحت پیسہ پانے یا بھیجنے والے کا کسی بھی بینک میں کھاتہ ہونا ضروری نہیں تھی۔ امریکی حکومت کافی عرصے سے یہ کوشش کررہی ہے آتنک وادیوں کو ملنے والے پیسے کے ذرائع بند کردئے جائیں۔ ان ذرائع میں حوالہ کاروبار جیسے غیر قانونی دھندے ہیں ساتھ ہی کچھ بینک اور کچھ دیش بھی قصوروار ہیں جہاں اقتصادی قواعد ڈھیلے ہیں۔ کیش چوروں کے لئے جن ملکوں کو سورگ مانا جاتا ہے ان دیشوں میں جو کاروبار ہوتا ہے اس میں صرف ٹیکس بچانے والے صنعت کار ہتھیار ،سوداگر اور کاروباری نہیں ہوتے۔ آتنک وادی اور منظم جرائم پیشہ بھی ہوتے ہیں۔ یہ مانا جاتا ہے کہ داؤد ابراہیم جیسے مافیا کا پیسہ ان ہی راستوں سے بھارت میں آتا ہے اور غیر قانونی دھندوں میں ان کی سرمایہ کاری ہو کر وہ جائز کردیا جاتا ہے۔ اسی طرح ایم ایس بی سی جیسے بینکوں کے افسر بھی زیادہ منافع کے لالچ میں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے ذریعے بینک کے غلط استعمال کو نظرانداز کردیتے ہیں۔ اگر بھارت کو بھی دہشت گردی یا منظم جرائم سے موثر ڈھنگ سے نمٹنا ہے تو ضروری ہے کے ایسے قدم بلا تاخیر اٹھائے جائیں جس سے مشتبہ اور غیر قانونی کاروبار پر لگام لگ سکے۔ امریکی حکومت اگر دھمکاتی ہے تو ہم ایم ایس بی سی جیسی تنظیم کے سامنے چپ چاپ سرنڈر کردیتے ہیں اور معافی مانگنے، سزا بھگتنے اور ضروری احتیاطی قدم اٹھانے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ وہیں بھارت سرکار کسی غلط کاروبار پر نکیل کسنے کو سوچتی ہے تو اسے یہ ڈر دکھا دیا جاتا ہے کہ اس میں غیر ملکی سرمایہ کاری گھٹ جائے گی۔ بین الاقوامی برادری میں بدنامی ہوگی لیکن ایسے قدم اٹھانے کیلئے بھارت سرکار کو قوت ارادی کا مظاہرہ کرنا ہوگا جو اب تک نظر نہیں آتا۔
Translater
Terrorist لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Terrorist لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
25 جولائی 2012
01 جون 2012
لادن کی خبر دینے والے ڈاکٹر افریدی کو 33 سال کی قید
پچھلے سال القاعدہ سرغنہ اسامہ بن لادن کو مارگرانے کی کارروائی میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا ساتھ دینے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل افریدی کو ایک عدالت نے ملکی بغاوت کا قصوروار قرار دیتے ہوئے 33 سال کی قید کی سزا سنائی ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ سن کر تعجب بھی ہوا اور عجیب غریب بھی لگا۔ خبر قبائلی علاقے کے سیاسی نمائندے مطاہر زیب خان نے پاکستانی اخبار ڈان کو بتایا کہ شکیل کو چار نفری قبائلی عدالت میں پیش کیاگیا۔ عدالت نے انہیں33 سال کی قید اور 3.2 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ سزا سنائے جانے کے بعد شکیل کو پیشاور کی سینٹرل جیل میں بھیج دیا گیا۔ شکیل کو پاکستان جرائم دفعہ کے بجائے برطانوی قانون فرنٹئر کرائم ریگولیشن ایکٹ کے تحت قصوروار قرار دیا گیا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت دیش سے بغاوت کے معاملے میں موت کی سزا کی سہولت نہیں ہے۔ ڈاکٹر شکیل نے سی آئی اے کی ہدایت پر ایبٹ آباد میں ایک ٹیکا مہم چلائی تھی تاکہ اس کی مدد سے اسامہ اور اس کے خاندان کے لوگوں کے ڈی این اے نمونے لئے جاسکیں۔ مہم سے ملے ثبوتوں کی بنیاد پر ہی امریکہ نے اسامہ بن لادن کے خلاف گذشتہ مئی مہینے میں کارروائی کرکے مار گرایا تھا۔ پاکستان کے ذریعے اٹھائے گئے اس قدم سے یہ ثابت ہوجاتا ہے پاکستان آتنک واد سے لڑنے کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے۔ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اندر خانے پاکستان ہر طبقے کے آتنک وادی چاہے وہ القاعدہ کا ہو یا پھر لشکر طیبہ سے وابستہ، اس سے ہمدردی رکھتا ہے۔ پاکستان اس آدمی سے بدلہ لے رہا ہے جس نے دنیا کے انتہائی مطلوب دہشت گرد کو ختم کرنے میں مدد کی تھی۔ دنیا کے کسی اور کونے میں شاید ڈاکٹر افریدی کا سنمان کیا جاتا ہو لیکن پاکستان میں وہ ایک ملک دشمن ہے جس نے دیش کے خلاف غیر ملکی خفیہ ایجنسی کی مدد کی تھی۔ اگر پاکستان کے دوہرے گیم اس قصے سے بے نقاب ہوتے ہیں تو امریکہ پر بھی سوال اٹھتے ہیں کہ وہ اپنے ذرائع یعنی مخبر کو بچا نہیں پایا۔ اس قصے سے پاکستان اور امریکی رشتوں میں مزید کشیدگی بڑھے گی۔ امریکہ کی وزیر خارجہ ہلیری بل کلنٹن نے فیصلے کو غیر انصافی اور دشمنی پر مبنی بتایا۔ ساتھ ہی امریکی سینیٹ کے ایک پینل نے اسلام آباد کو دی جانے والی مدد میں کٹوتی بھی کردی ہے۔ ہلیری نے کہا کہ افریدی کے ساتھ جو کیا گیا ہے وہ انصاف پر مبنی نہیں ہے انہیں قصوروار ٹھہرائے جانے پر افسوس ہے، انہوں نے جو مدد کی وہ دنیا کے سب سے خطرناک قاتلوں میں سے ایک کا خاتمہ کرنے میں کی، یہ صاف طور پر پاکستان کے اور ہمارے اور پوری دنیا کے مفاد میں تھا۔ دوسری طرف پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کرنا کسی بھی دیش کے قانون کے خلاف ہے۔ امریکہ میں اسرائیل کے لئے جاسوسی کرنے پر عمر قید کی سزا دی گئی ہے۔ ہماری آزادانہ عدلیہ ہے جس کو پاکستان پیپلز پارٹی بحال کیا ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے پہلے سے کشیدہ رشتوں میں ایک اور باب جڑ گیا ہے۔ ہماری رائے میں پاکستان کا یہ قدم آتنک وادیوں کے حوصلے کو بڑھانے والا ہے۔
(انل نریندر)
15 مئی 2012
پاکستان دہشت گردی جوابدہی ایکٹ 2012
Published On 15 May 2012
انل نریندر
امریکہ اور پاکستان کے رشتوں میں دراڑ بڑھتی جارہی ہے۔ امریکہ پچھلے کچھ دنوں سے پاکستان کے خلاف وہ ہتھیار استعمال کرنا چاہ رہا ہے اس سے پاکستان کو تکلیف پہنچے اور پاکستان کو چبھیںیہ ہے ڈالر۔اب امریکہ پاکستان پر ڈالر کے ذریعے سے کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ ایک نیا قانون لا رہا ہے اس کے تحت کسی امریکی کی موت میں پاک میں سرگرم انتہا پسند تنظیموں یا خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا ہاتھ ہونے پر امریکہ کے ذریعے پاکستان کو دی جارہی اقتصادی مدد میں کٹوتی ہوگی اور فی امریکی شہری کی قیمت 5 کروڑ ڈالر (قریب 250 کروڑ روپے) کی کٹوتی کی تجویز ہے۔ امریکہ کے کسی بھی شہری کی اگر آتنکی حملے میں موت ہوجاتی ہے تو پاکستان کو 5کروڑ ڈالر کا ہرجانہ بھرنا پڑسکتا ہے۔ یہ رقم امریکہ کے ذریعے پاکستان کو دی جانے والی اقتصادی مدد سے کاٹی جائے گی۔ امریکی کانگریس میں پیش ایک بل میں یہ تجویز شامل کی گئی ہے۔ امریکی کانگریس ممبران ڈونا روہرا بیکر کی جانب سے یہ بل پیش کیا گیا ہے۔ اسے پاکستانی آتنک واد جوابدہی ایکٹ2012 کا نام دیا گیا ہے۔ اس بل میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے آتنک وادیوں کے گرپوں سے گہرے رشتے ہیں۔ پاک اسپانسر دہشت گرد تنظیم امریکی شہریوں کا قتل کررہی ہیں۔ امریکہ کے ہر شہری کے قتل کے بدلے پاکستان کی امدادی رقم سے کاٹی جانے والی رقم متعلقہ متاثرہ خاندان کو دی جائے گی۔ بل پیش کرتے ہوئے بیکر نے کہا کہ پاکستان نے دہائیوں سے آتنکوادیوں کی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے۔ پاکستان کی مدد پر ہی ان آتنکیوں کی بھارت اور افغانستان پر حملہ کرنے کی ہمت ہوتی ہے۔ بل کے تحت امریکی محکمہ دفاع کو افغانستان۔ پاکستان میں مارے جانے والے ان شہریوں کی فہرست تیار کرنی ہوگی جن کی موت میں پاکستان کی آتنکی تنظیم یا آئی ایس آئی کا ہاتھ ثابت ہوگا۔ بیکر کا کہنا ہے کہ امریکہ بہت طویل عرصے سے پاکستان کو اقتصادی مدد دے رہا ہے اس کے باوجود آتنکی تنظیموں کو پاکستان کی مدد جاری ہے۔ ان کی خفیہ ایجنسیوں نے لادن کو ہم سے چھپائے رکھا لیکن اب اسے برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے ہی الزامات کے درمیان 2011 کے آخر میں امریکہ نے پاکستان کو دی جانے والی اقتصادی مدد میں سے 70 کرور ڈالر (37.48 ارب روپے) کی کٹوتی کردی ہے۔ امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے سابق چیئرمین مائک مولن نے حال ہی میں دعوی کیا کہ ستمبر2011 ء میں آئی ایس آئی کے کہنے پر حقانی نیٹ ورک نے افغانستان میں امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنایا تھا۔ جون 2011ء میں کابل میں واقع انٹر کونٹینینٹل ہوٹل پر آتنکی حملے کے پیچھے بھی آئی ایس آئی کا ہاتھ تھا۔ امریکہ مسلسل پاکستان پر بے پائلٹ جہازوں سے حملے کررہا ہے۔ حالانکہ پاکستان سرکار نے اس کی سخت مذمت کی ہے لیکن امریکہ اسے روکنے کو تیار نہیں ہے۔ ادھر پاکستان نے اس کی سرزمیں سے افغانستان میں نیٹو فورسز کے لئے ضروری سامان بھیجنے والے ٹرکوں پر روک لگادی ہے۔ اب پاکستانی حکام نے سامان بھیجنے والے ہر ٹرک اور کنٹینر پر 1100 امریکی ڈالر وصولنے کی بات رکھی ہے۔ گذتہ نومبر میں نیٹو کی جانب سے کئے گئے حملوں میں درجنوں پاکستانی فوجیوں کی موت کے بعد سپلائی لائن کو بند کردیا گیا تھا۔ بھارت کی بات کی ایک طرح سے تصدیق ہوئی ہے۔ بھارت ہمیشہ کہتا رہا ہے کہ پاکستان سرکار ،فوج امریکی اقتصادی مدد کا بیجا استعمال کررہا ہے۔ وہ ان پیسوں کو اپنی آتنکی ڈھانچے کو مضبوط کرنے میں لگا رہا ہے۔ اس پیسے سے وہ آتنکی تنظیموں کی مدد کرتا ہے اور ان کے نشانے پر بھارت اور افغانستان اور خود امریکہ بھی ہے۔ اگر یہ بل پاس ہوجاتا ہے اور امریکہ اپنے ارادوں پر اڑیل رہتا ہے تو یقینی طور پر پاکستانی دہشت گردی نیٹ ورک کی کمر ٹوٹے گی لیکن اکثر ایسا دیکھا گیا ہے کہ امریکہ دھمکی تودیتا ہے لیکن جب عمل کی باری آتی ہے تو بہانے بنا کر اس کو ٹالنے کی کوشش کرتا ہے۔ دیکھیں پاکستان اس تازہ ریزولیوشن پر کیا رد عمل ظاہرکرتا ہے؟
America, Anil Narendra, Daily Pratap, Pakistan, Terrorist, USA, Vir Arjun
07 اپریل 2012
نوٹنکی باز پاکستان
Published On 7 March 2012
انل نریندر
جب میں نے یہ خبر پڑھی کہ پاکستان کی ایک عدالت نے القاعدہ کے سابق سرغنہ اسامہ بن لادن کے خاندان کے14 افراد کو9 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے ، کیونکہ ان پر الزام ہے کہ وہ غیر قانونی طریقے سے پاکستان آئے اوررہے تو مجھے ہنسی آگئی۔ پاکستان کو نوٹنکی کرنے کی عادت سی بن گئی ہے۔ بن لادن کی تین بیویوں دو بیٹیوں کو باقاعدہ طور سے 3 مارچ کو گرفتار کیا گیا تھا۔ تین بیویوں میں سے سب سے چھوٹی یمن کی ہے اور باقی دو سعودی عرب کی باشندہ ہیں۔پچھلے سال2 مئی کو ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈوز نے لادن کو مار گرایا تھا۔ انہیں وہیں سے پکڑا گیا تھا۔ اب یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اسامہ بن لادن برسوں سے پاکستان میں ہی رہ رہا تھا۔ اس کا سیدھا رابطہ پاکستان خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے بنا ہوا تھا۔ برطانیہ کے اخبار دی ٹیلی گراف نے دوبارہ سرگرم ہوئی انٹر نیٹ ویب سائٹ وکی لکس کے ذریعے شائع کردہ 50 لاکھ نئے دستاویزات سے اس کی تصدیق کی ہے۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ آئی ایس آئی کے کم سے کم 12 افسران کو لادن کے ایبٹ آباد میں واقع محفوظ مقام پر چھپے ہونے کی خبر تھی اور وہ اپنی موت سے پہلے اسامہ جس مکان میں رہ رہا تھا اسے بنوانے کے لئے آئی ایس آئی نے خاص طور سے ایک آرکیٹیکٹ مقرر کیا تھا۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے خفیہ ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ لادن کے اس ٹھکانے پر لشکر طیبہ کے لوگ بھی آتے جاتے رہتے تھے۔ رپورٹ میں آگے بتایا گیا پاکستان کی فوجی اکیڈمی کے پاس بنے لادن کے ایبٹ آباد میں واقع ٹھکانے کے اصلی دستاویزتو غائب ہیں لیکن اس کے آرکیٹیکٹ کو آئی ایس آئی نے باقاعدہ طور پر مقرر کیا تھا۔ آرکیٹیکٹ کو یہ کہہ کر مقرر کیا گیا تھا کہ ایک معزول انتہائی اہم شخص اس مکان میں رہنے آرہا ہے ۔ یہ ہی نہیں اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں اپنے چار بچوں کے ساتھ رہتا تھا اور اس کے دوبچوں کی پیدائش ایبٹ آباد کے سرکاری ہسپتال میں ہوئی تھی اور پھر بھی پاکستان یہ دعوی کرے کے اسے اسامہ کے پاکستان میں رہنے کی جانکاری نہیں تھی، مضحکہ خیز نہیں ہے تو یہ کیا ہے؟ یہ کس کو بیوقوف بنا رہے ہیں؟ آج تک پاکستان نے کسی بھی بات کو قبول کیا ہے؟
یہ تو داؤد ابراہیم کو بھی نہیں جانتے۔ بار بار یہ ہی کہتے ہیں کہ داؤد پاکستان میں نہیں ہے جبکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ وہ کراچی کے کلکٹن ایریا میں برسوں سے رہتا ہے اور وہیں سے اپنی سرگرمیاں چلا رہا ہے۔ اب لادن کی بیوی اور بچوں کو جیل میں یہ کہہ کر ڈالنا کے وہ غیر قانونی طریقے سے پاکستان میں رہ رہے تھے، یہ نوٹنکی نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ لیکن اب پاکستان کی نوٹنکی بے نقاب ہوچکی ہے۔ ساری دنیا اسے جان چکی ہے اس لئے شاید ہی کوئی اب یہ مانے کے پاکستانی فوج آئی ایس آئی اور پاک سرکار کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ایبٹ آباد میں کون رہ رہ ہے۔
Abbotabad, Anil Narendra, Daily Pratap, Osama Bin Ladin, Pakistan, Terrorist, Vir Arjun
06 اپریل 2012
حافظ سعید انتہائی مطلوب دہشت گرد فہرست میں دوسرے نمبر پر
دیرآید درست آید۔ اتنے دن کے بعد آخر کار امریکہ کوبھی یہ سمجھ میں آگیا کہ اسامہ بن لادن کے بعد آج کی تاریخ میں دنیا میں سب سے خطرناک دہشت گردی تنظیم لشکرطیبہ بن گئی ہے اور اس کا چیف حافظ سعید دنیا کا انتہائی مطلوب دہشت گرد ہے۔ امریکہ نے پیر کی رات حافظ سعید کے سرپر 10 ملین ڈالر (قریب50 کرور روپے) کے انعام کا اعلان کیاتھا۔ حافظ سعید ممبئی میں ہوئے حملوں کا ماسٹر مائنڈ ہے اور وہ پاکستان میں رہ کر اپنی دہشت گردی کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے نشانے پر امریکہ، بھارت خاص طور پر ہیں۔ بھارت نے سعید کو لیکر کئی بار پاکستان پر دباؤ بنایا لیکن پاکستان نے ہمیشہ معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی۔ پاکستان نے ہمیشہ یہ ہی بہانا بنایا کہ سعید کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔ حافظ سعید نے انعام کے اعلان کے بعد پاکستانی ٹی وی چینلوں میں کہا کہ ہم کسی غار میں نہیں چھپ کر بیٹھے ہیں اور اگر امریکہ میں ہمت ہے تو وہ ہمیں گرفتار کرلے ۔ یہ ہی نہیں سعید نے انعام کے اعلان کے بعد امریکہ پر زور دار حملہ بولا اور کہا پاکستان کے راستے ہونے والی نیٹو سپلائی روکے جانے اور ڈرون حملوں کے خلاف ملک گیر احتجاج سے واشنگٹن مایوس ہوگیا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی چینل نے حافظ سعید کے حوالے سے کہا ہم غاروں میں نہیں چھپے بیٹھے ہیں جو ہمیں تلاش کرنے کیلئے انعام رکھے جائیں۔
سعید نے کہا مجھے یقین ہے کہ یا تو امریکہ کی بہت محدود جانکاریاں ہیں اور وہ بھارت کے ذریعے دی جارہی غلط اطلاعات کی بنیاد پر فیصلے لے رہا ہے یا پھر وہ مایوس ہے۔ امریکہ کی ریوارڈس فار جسٹس ویب سائٹ نے حافظ سعید کو عربی اور انجینئرنگ کا سابق لیکچرر اور جماعت الدعوی کا بانی ممبر بتایا ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق یہ کٹر پسند اسلامی تنظیم ہے جس کا مقصد بھارت کے کچھ حصوں اور پاکستان میں اسلامی حکومت قائم کرنا ہے۔ لشکر طیبہ اس تنظیم کی لڑاکو شاخ ہے امریکہ کی موجودہ انتہائی مطلوب دہشت گرد فہرست میں حافظ سعید کا نمبر دوسرا ہے۔ پہلے نمبر پر القاعدہ کا سرغنہ ایمن الظواہری کا نام ہے جن پر 2.5 کروڑ ڈالر کا انعام پہلے ہی مقرر ہے۔
امریکہ کے اس قدم کا بھارت نے خیر مقدم کیا ہے۔ اس طرح سے بھارت کے ان الزامات کی تصدیق ہوتی ہے کہ لشکرکا چیف آج کی تاریخ میں سب سے زیادہ خطرناک آتنکی ہے۔ بھارت کے داخلہ سکریٹری آر کے سنگھ نے کہا کہ امریکہ کا قدم اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے۔ وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا امریکہ کا یہ قدم ممبئی حملوں کے قصورواروں کو سزا دلوانے اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کے امریکہ اور بھارت کے عزم کوظاہرکرتا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت ہوا ہے جب پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اجمیر شریف زیارت کرنے کے لئے تشریف لا رہے ہیں۔ ہمارے وزیر اعظم نے زرداری کے لئے لنچ کا اہتمام کیا ہے۔ امید ہے کے لنچ میں بات چیت کے دوران منموہن سنگھ زرداری کے ساتھ اس تازہ اعلان پربھی غور و خوض کریں گے۔ ادھر پاکستان کے اندرونی معاملوں کے وزیر رحمان ملک نے کہا ہے کہ ہمیں امریکہ کی طرف سے انعام کے اعلان کے بارے میں کوئی سرکاری طور پر جانکاری نہیں ملی ہے۔
سعید نے کہا مجھے یقین ہے کہ یا تو امریکہ کی بہت محدود جانکاریاں ہیں اور وہ بھارت کے ذریعے دی جارہی غلط اطلاعات کی بنیاد پر فیصلے لے رہا ہے یا پھر وہ مایوس ہے۔ امریکہ کی ریوارڈس فار جسٹس ویب سائٹ نے حافظ سعید کو عربی اور انجینئرنگ کا سابق لیکچرر اور جماعت الدعوی کا بانی ممبر بتایا ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق یہ کٹر پسند اسلامی تنظیم ہے جس کا مقصد بھارت کے کچھ حصوں اور پاکستان میں اسلامی حکومت قائم کرنا ہے۔ لشکر طیبہ اس تنظیم کی لڑاکو شاخ ہے امریکہ کی موجودہ انتہائی مطلوب دہشت گرد فہرست میں حافظ سعید کا نمبر دوسرا ہے۔ پہلے نمبر پر القاعدہ کا سرغنہ ایمن الظواہری کا نام ہے جن پر 2.5 کروڑ ڈالر کا انعام پہلے ہی مقرر ہے۔
امریکہ کے اس قدم کا بھارت نے خیر مقدم کیا ہے۔ اس طرح سے بھارت کے ان الزامات کی تصدیق ہوتی ہے کہ لشکرکا چیف آج کی تاریخ میں سب سے زیادہ خطرناک آتنکی ہے۔ بھارت کے داخلہ سکریٹری آر کے سنگھ نے کہا کہ امریکہ کا قدم اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے۔ وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا امریکہ کا یہ قدم ممبئی حملوں کے قصورواروں کو سزا دلوانے اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کے امریکہ اور بھارت کے عزم کوظاہرکرتا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت ہوا ہے جب پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اجمیر شریف زیارت کرنے کے لئے تشریف لا رہے ہیں۔ ہمارے وزیر اعظم نے زرداری کے لئے لنچ کا اہتمام کیا ہے۔ امید ہے کے لنچ میں بات چیت کے دوران منموہن سنگھ زرداری کے ساتھ اس تازہ اعلان پربھی غور و خوض کریں گے۔ ادھر پاکستان کے اندرونی معاملوں کے وزیر رحمان ملک نے کہا ہے کہ ہمیں امریکہ کی طرف سے انعام کے اعلان کے بارے میں کوئی سرکاری طور پر جانکاری نہیں ملی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Hafiz Saeed, Lashkar e Toeba, Pakistan, Terrorist, 26/11, Asif Ali Zardari,
13 مارچ 2012
اسرائیلی سفارتکار پر حملے میں فری لانس صحافی کی گرفتاری
Published On 13 March 2012
انل نریندر
13 فروری کو نئی دہلی کے انتہائی سکیورٹی والیعلاقوں میں سے اورنگ زیب روڈ پر واقع اسرائیلی خاتون سفارتکار ٹال یوہوشوا کی کار کے پچھلے حصے میں ایک موٹر سائیکل سوار نے میگنیٹک ڈوائز بریکٹ میں اسٹکی بم چپکا دیا تھا۔ اس کے فوراً بعد ہوئے دھماکے سے کار میں آگ لگ گئی تھی۔ خاتون سفارتکار و کارڈرائیور منوج زخمی ہوگئے تھے۔ تین دیگر گاڑیاں میں اس کی ضد میں آئی تھیں۔ دہلی پولیس نے اس دھماکے کے سلسلے میں ایران سے وابستہ ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔اس شخص نے اپنے آپ کو ایک نیوز ایجنسی کا صحافی بتایا ہے۔ اس کا نام سید محمد کاظمی 50 برس ہے اور وہ ایرانی نیوز ایجنسی کے لئے کام کرتا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے سید محمد کاظمی کی گرفتاری کے سراغ بینکاک سے ملے تھے۔ خیال رہے جس دن دہلی میں کار بم لگایا گیا تھا ٹھیک اسی دن بینکاک میں بھی ایک دھماکہ کرنے کی ناکام کوشش کی گئی تھی۔ دہلی میں ہوئے دھماکے کے تار نہ صرف بینکاک سے جڑے ہیں بلکہ جارجیہ سے بھی جڑے ہیں۔ دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ سفارتکار کی کار پر بم دھماکے کی پہلی کامیابی بھی اسی کا نتیجہ ہے ۔ فی الحال پولیس اس حملے کے پیچھے شامل تنظیم کا نام نہیں بتا رہی ہے لیکن کہیں نہ کہیں اس حملے کے پیچھے ایرانی تنظیم کنڈس (کیو یو ڈی ایس) کے ہاتھ ہونے کا اندیشہ ضرور ظاہر کیا جارہا ہے۔ دراصل بینکاک میں ہوئے دھماکے کے بعد وہاں سے کچھ مشتبہ ایرانی فرار ہوگئے تھے جن میں ایک خاتون بھی شامل تھی۔ بینکاک پولیس کو اس خاتون کے گھر کی تلاشی میں ایک ٹیلی فون ڈائری ملی جس میں کاظمی کا موبائل نمبر تھا۔ کاظمی کے خلاف کئی اہم ثبوت ملے ہیں۔ اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ حملوں کے پیچھے ایرانی فوج کی اسپیشل فورس ہے جسے خاص طور سے ایران۔ عراق جنگ کے وقت بنایا گیا تھا۔ محمد کاظمی کو اطلاعات اکھٹی کرنے کے لئے ڈالر میں ادائیگی کی گئی تھی۔ دھماکے میں جس موٹر سائیکل کا استعمال کیا گیا تھا وہ قرولباغ علاقے سے کرائے پر لی گئی تھی۔ حملہ آور بیرون ملک سے آکر پہاڑ گنج کے ایک ہوٹل میں ٹھہرے تھے۔ بتایا جارہا ہے کہ اسٹیکی بم اسی ہوٹل میں تیار کیا گیا۔ پورے معاملے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ غیر ملکی بمبار جس نے اورنگ زیب روڈ میں کار پر بم لگایا تھا وہ وزارت داخلہ کی لاپروائی کے سبب اسی دن اندرا گاندھی ہوائی اڈے سے جنوبی ایشیا کی کسی ملک کی فلائٹ میں سوار ہوکر بھاگ گیا۔ تین بجے کے قریب دوپہر کو بم لگانے کے آٹھ گھنٹے بعد وہ ہندوستان سے نکل گیا۔ وزارت داخلہ یا کسی اور سرکاری ایجنسی سے ہوائی اڈے پر امیگریشن کو مطلع نہیں کیا کہ مشتبہ افراد کو روکا جائے، پوچھ تاچھ کی جائے۔ وزارت داخلہ کی یہ چوک اس لئے بھی تشویش کا باعث ہے کہ بم دھماکہ ہونے کے فوراً بعد اسرائیل نے کہہ دیا تھا کہ حملے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔ امیگریشن میں ہر ایرانی کی روک کر تلاشی لی جانی چاہئے تھی، جو نہیں لی گئی اور حملہ آور بھاگنے میں کامیاب رہا۔ اس معاملے میں گرفتار محمد احمد کاظمی کے رشتے داروں نے دہلی کے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرکے کہا ہے کہ دہلی پولیس کے ذریعے برآمد اسکوٹی ان کے ایک رشتے دار کی ہے۔ قریب دو سال سے وہ ان کے گھر پر کھڑی تھی۔ خاندان کا کوئی ممبر اس اسکوٹی کا استعمال نہیں کرتا ۔ محمد کاظمی کے دوسرے بیٹے شوزیب کاظمی نے گرفتارمیمو پر دستخط کے لئے پولیس پر دباؤ بنانے کا الزام لگایا ہے۔ اپنے گھر پر کسی ایرانی کے آکر ٹھہرنے سے بھی انکار کیا۔ رشتے داروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ کربلا معاملے میں ان کے والد نے سرگرم رول نبھایا تھا۔ بی کے دت کالونی میں ان کا اکیلا مسلم خاندان رہتا ہے۔ پیشے سے صحافی محمد احمد کاظمی بنیادی طور سے میرٹھ کا باشندہ ہے۔ سینئر صحافی سعید نقوی نے محمد کاظمی کی گرفتاری کو لیکر دہلی پولیس کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے امریکہ۔ اسرائیل کے اشارے پر صحافی کو اسرائیلی سفارتخانے کار دھماکے میں زبردستی گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس کی بنیاد بھی پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا امریکہ کے اشارے پر ارب ملکو ں میں بغاوت ہورہی ہے اس کی سچائی کو سید محمد کاظمی نے دنیا کے سامنے رکھا اور اسی وجہ سے امریکہ اسرائیل کے دباؤ میں دہلی پولیس نے انہیں گرفتار کیا ہے۔ دہلی پولیس کو اپنا کیس مضبوط کرلینا چاہئے کیونکہ اس کیس پر نہ صرف دیش کے اندر ہی بلکہ دنیا دیکھ رہی ہے۔ اس معاملے میں دہلی پولیس کا وقار ایک بار پھر داؤ پر لگا ہے۔Anil Narendra, Daily Pratap, Delhi, delhi Police, Iran, Israil, Mohd. Ahmed Kazmi, Terrorist, Vir Arjun
03 مارچ 2012
لشکر طیبہ کی حکمت عملی میں تبدیلی
Published On 3 March 2012
انل نریندر
90کی دہائی میں لشکر طیبہ آتنکوادیوں کو پاکستان کے جہادی اڈوں سے بھارت بھیجتا رہا ہے۔ مقصدتھا کشمیر میں تخریبی سرگرمیاں پھیلانا۔ اس کے بعد پاک حکومت نے دہشت گردی کو باقاعدہ ایک اسٹیٹ پالیسی بنا کر آتنک وادیوں کو بھارت کے باقی حصوں میں حملے کروانے کی نئی پالیسی بنائی۔ اسی کے تحت 2000ء میں لال قلعہ پر حملہ ہوا اور 2001ء میں ہندوستانی پارلیمنٹ پر اور 2008ء میں ممبئی حملے ہوئے۔ ان حملوں میں آئی ایس آئی نے لشکر کے ذریعے سے بھارت اسٹیٹ کے خلاف حملے کروائے ۔ ان حملوں میں کچھ دہشت گرد پاکستان سے خاص طور سے آئے تو کچھ یہیں بھارت سے شامل ہوئے لیکن اب لگتا ہے لشکر طیبہ نے اپنی حکمت میں تھوڑی تبدیلی کی ہے۔ 26/11 حملوں کے بعد اس نے 10 آتنک وادیوں کو ممبئی میں حملہ کرنے بھیجا تھا لیکن اب وہ پاکستان سے آتنکی نہ بھیج تک یہیں بھارت سے ہی جہادیوں سے حملے کروا رہا ہے۔ وہ بھارت سے ہمدرد جہادیوں کو اٹھاتا ہے اور انہیں پاکستان بلاکر پوری ٹریننگ دے کر واپس بھیج کر حملہ کروا رہا ہے۔ بدھ کے روز دہلی پولیس نے جن دو دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے اس سے آئی ایس آئی اور لشکر کی نئی پالیسی کے اشارے ملتے ہیں راجدھانی دہلی کے ایک مشہور بازار سمیت 18 مقامات پر دھماکے کرنے کی سازش تھی لیکن جموں و کشمیر جھارکھنڈ اور دہلی پولیس کی سانجھہ کارروائی میں بروقت بڑے دھماکے ہونے سے راجدھانی کو بچا لیا ہے۔ سازش کو انجام دینے کی تیاری میں جٹے لشکر طیبہ کے دو آتنک وادیوں کو دبوچ لیا گیا ہے۔بنیادی طور سے جموں وکشمیر کے باشندے بتائے جارہے دونوں بم بنانے میں ماہر ہیں ان کے پاس سے برآمد میموری کارڈ میں کچھ ایسی تصویریں قید ہیں جو سکیورٹی ایجنسیوں کے لئے ثبوت کے طور پر کام آئیں گی۔ مثلاً پاکستان میں چل رہے آتنکی ٹریننگ کیمپ اور آئی ڈی ، بناتے ہوئے ان کے قبضے سے اے ۔47 رائفلز ،دھماکوں سامان اور قابل اعتراض دستاویز سمیت بہت کچھ سامان برآمدہوا ہے۔ ان کا ارادہ دہلی کے چاندنی چوک بازار میں دھماکے کرنا تھا۔ ذرائع کے مطابق ان میں ایک جموں و کشمیر کا باشندہ احتشام ہے اور دوسرا ہزاری باغ کا باشندہ شفاعت ہے۔ یہ دونوں پاکستان میں لشکر کے کیمپوں میں ٹریننگ لے چکے ہیں۔ جانکاری ملی ہے کہ ہزاری باغ کے جس شخض کو حراست میں لیا گیا ہے وہ احتشام کا قریبی رشتے دار ہے اور کئی برسوں سے جھارکھنڈ میں مقیم تھا۔ جھارکھنڈ پولیس نے اس شخص سے لمبی پوچھ تاچھ کی ہے۔ اس نے بتایا کہ لشکر کے آقا دہلی سمیت کئی بڑے شہروں میں خطرناک بم دھماکے کرنے کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔ احتشام ہزاری باغ میں شفاعت اور کچھ دیگر لوگوں کی مدد سے وہیں پر خطرناک بم تیار کراتا تھا جنہیں دیش کے الگ الگ حصوں میں بھیجا جانا تھا۔ بدھوار کو جن دہشت گردوں کو پکڑا گیا ہے وہ دہلی کے تغلق آباد میں کرائے پر رہتے تھے۔ جب انہیں سرحد پار سے ہدایت ملتی تھی تو وہ دہلی کے کسی بھیڑ بھاڑ والے علاقے میں بم دھماکے کریں، تو اس کے لئے ان لوگوں نے چاندنی چوک کی کپڑا مارکیٹ کا انتخاب کیا۔ یہاں شام کے وقت ہزاروں لوگوں کی بھیڑ ہوتی ہے۔ پوچھ تاچھ کے دوران پکڑے گئے آتنک وادیوں نے بتایا کہ اگر وہ لوگ پولیس کے قبضے میں نہ آتے تو بدھوار کی شام چاندنی چوک دھماکوں سے دہلانے کا پلان تھا۔ 18 مقامات پر دھماکے کرنے کا ارادہ تھا۔ ان کے نشانے پر کوئی اہم شخصیات نہیں تھیں بلکہ وہ بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر دھماکے کرکے دہشت پھیلانا چاہتے تھے۔ دہشت گردی مشنوں کو ناکام کرنے کے لئے دہلی، جھارکھنڈ، جموں و کشمیر کی پولیس اور مرکز کی سکیورٹی ایجنسیوں کو مبارکباد۔ بہتر تال میل سے یہ سازش ناکام کی جا سکی ہے۔
Anil Narendra, Bomb Blast, Daily Pratap, Delhi, ISI, Lashkar e Toeba, Terrorist, Vir Arjun
22 فروری 2012
ایسی حالت میں تو ہم لڑ چکے آتنک واد کی چنوتی سے
Published On 22nd February 2012
انل نریندر
یہ دکھ کی بات ہے کہ دہشت گردی سے موثر ڈھنگ سے لڑنے کے لئے تیار کئے جارہے نیشنل کاؤنٹر ٹیریرزم سینٹر (این سی ٹی سی) پر سیاسی گرہن لگ گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سلامتی کی کیبنٹ کمیٹی (سی سی اے) نے اس سال11 جنوری کو دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے طاقتور قومی انسداد دہشت گردی سینٹر کی تشکیل کا اعلان کیا تھا۔ یہ ایجنسی یکم مارچ2012ء کو وجود میں آجائے گی۔ یہ دہشت گردی کے خطروں کا پتہ لگانے کے علاوہ تلاشی آپریشن شبے کی بنیادپر لوگوں کو گرفتار کرسکے گی۔ اس کو یہ اختیارات غیر قانونی سرگرمی انسداد قانون کے تحت حاصل ہوں گے۔ دہشت گردی کی سازش کا پتہ لگانا، دہشت گردوں اور ان کے ساتھیوں کا پتہ لگانا اس کا مقصد ہے۔ یہ سی بی آئی ، این آئی اے نیٹ گریٹ سمیت ساتوں سینٹرل مسلح فورسز سے اطلاعات حاصل کرسکے گی۔ اس کا سربراہ ڈائریکٹر کہہ لائے گا جو انٹیلی جنس بیورو ایڈیشنل ڈائریکٹر کے مساوی عہدے کا ہوگا۔ این سی ٹی سی اطلاع اکٹھا کرنے کے لئے دوسری ایجنسی پر منحصر کرے گا۔ آدھے درجن سے زیادہ غیر کانگریسی وزرائے اعلی نے اس مرکز کے قیام پر اعتراض ظاہر کیا ہے اور اندیشہ جتایا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کھڑے کئے جارہے اس یونیفائڈ کمان کا کہیں قتل نہ ہوجائے۔ اس مجوزہ دہشت گردی انسداد مرکز کو ریاستوں کے معاملوں میں مداخلت اور آئین کی مریادا کی خلاف ورزی بتایا جارہا ہے اس پر بھی غور کیا جانا چاہئے کہ این سی ٹی سی نام سے بحث میں آئے اس قومی آتنک واد انسداد مرکز کے خلاف ٹھیک اس وقت آواز بلند ہورہی ہے جب اس کے باقاعدہ کام کرنے کا وقت قریب آگیا ہے۔ کیا یہ محض ایک اتفاق ہے۔ یکم مارچ سے سرگرم ہونے جارہے این سی ٹی سی کے خلاف ریاستی حکومتوں کی سرگرمی یکایک بڑھ گئی ہے۔ چند دن پہلے تک صرف ممتا بنرجی، نوین پٹنائک کو ہی یہ مرکز راس نہیں آرہا تھا لیکن اب سارے بھاجپا حکمراں وزرائے اعلی اور تملناڈو کی وزیر اعلی کو بھی یہ لگنے لگا ہے کہ ریاستوں کے اختیارات پر قبضہ ہونے جارہا ہے۔ ہماری رائے میں اس مرکز کا احتجاج کرنے والوں کی دلیلوں میں بھی دم ہے۔ کچھ معنوں میں تو یہ پوٹا سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔
بغیر ریاستوں کو اطلاع دئے اس میں کسی کو بھی گرفتار کرنے کی سہولت ہے۔ اس سے ریاستوں کا خوفزدہ ہونا سمجھ میں آتا ہے۔ اس یوپی اے سرکار اور خاص کر وزیر داخلہ پی چدمبرم کی ساکھ اتنی گر چکی ہے کہ ان پر اب کوئی بھروسہ کرنے کو تیار نہیں۔ اگر یہ کرنا ہی تھا تو پوٹا کیوں ہٹایا؟ 26/11 حملوں کے بعد دیش میں ایک ماحول ایسا بنا تھا کہ اگر اسی وقت اس مرکز کو قائم کرلیا جاتا تو شاید اتنا احتجاج نہ ہوتا۔ ادھر یوپی اے سرکار سوتی رہی اور اتنے سال گزر گئے اب آکر اسے ہوش آیا ہے۔ اس احتجاج کی اصلیت میں ریاستوں کی یہ مشکل ہے کہ مرکزی حکومت اس قانون کے تحت اپنا سیاسی ایجنڈا ان پر ٹھونپ سکتی ہے۔ یہ دہشت گردی انسداد نظام مرکز کے خفیہ محکمے انٹیلی جنس بیورو کے تحت چلے گا۔ ان ریاستوں کو اندیشہ ہے کہ سی بی آئی کی طرح اسے بھی کہیں مرکز کی اقتدار پر قابض پارٹی کے مفاد کا ذریعہ نہ بنا دیا جائے۔ ایسی حالت میں تو ہم لڑ چکے آتنک واد سے۔
Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, Mamta Banerjee, NCTC, P. Chidambaram, Terrorist, Vir Arjun
21 فروری 2012
امریکی پارلیمنٹ کو اڑانے کی سازش ناکام بنائی
Published On 21st February 2012
9/11, America, Anil Narendra, Daily Pratap, Terrorist, USA, Vir Arjun
15 فروری 2012
بے شک دھماکہ دہلی میں ہوا لیکن نشانے پر اسرائیل تھا
Published On 15th February 2012
انل نریندر
دہلی میں پچھلے کئی مہینوں سے کوئی آتنکی واقعہ نہیں ہوا تھا۔ اورہمیں لگنے لگا تھا آخر کار ہماری سیکورٹی ایجنسیوں نے آتنک واد پر کچھ حد تک قابو پالیا ہے ۔7ستمبر 2011 کو دہلی ہائی کورٹ میں بم دھماکہ ہواتھا جس میں 15لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔ درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے بے شک جو دھماکہ ہوا وہ انتہائی سنگین ہے اس میں حالانکہ کسی کی موت تو نہیں ہوئی لیکن یہ کئی پہلوؤں سے ہائی کورٹ کمپلیکس کے باہر ہوئے دھماکے سے زیادہ تشویش کا باعث ہے سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ دھماکہ ایسی جگہ ہوا جو دیش کا سب سے انتہائی محفوظ ترین علاقہ مانا جاتا ہے وزیراعظم کی رہائش گاہ سے محض 500 میٹر کی دوری پر پیر کے روز دوپہر اسرائیلی سفارت خانہ کی کار میں زور داردھماکہ ہوا دھماکے بعد کار میں آگ لگ گئی جس سے اس میں سوار ایک اسرائیلی خاتون ڈپلومیٹ افسر سمیت چار افراد زخمی ہوگئے ۔موٹر سائیکل سوار آتنکی نے میکنٹک ڈیوائس ( اسٹیکی بم) سے چلتی ہوئی انوا گاڑی میں دھماکہ کیا۔ اس کار کے بگل میں چل رہی ہے دو دیگرکاروں کو نقصان پہنچا۔ اس واردات میں اسرائیلی سفارت کار اس کا ڈرائیور انڈیکا کار میں سوار دو دیگر لوگ زخمی ہوئے ہیں۔زخمی سفارت کار کو چندرگپت مارگ پر واقع پرائمر اسپتال کے آئی سی یو میں رکھاگیا ہے باقی تینوں زخمیوں کو رام منوہر لوہیا اسپتال میں داخل کرایاگیا ہے جس جگہ یہ دھماکہ ہوا وہ انتہائی وی آئی پی علاقہ ہے جہاں دونوں طرف بڑے نیتا اور وزراء کے بنگلے ہیں۔پولیس کمشنر بی کے گپتاکے مطابق سفارت خانے میں ایڈمنسٹریٹو اتاشی کے عہدے پر مامور خاتون ڈپلومیٹ یہوا تین اورنگ زیب روڈ پرواقع امریکن اسکول میں پڑھ رہے اپنے بچوں کو لینے جارہی تھی تب ہی دوپہر بعد قریب سوا تین بجے اورنگ زیب روڈ پر واقع مرکزی وزیر مکل واسنک کے بنگلے کے سامنے ان کی چلتی انووا کار (109 سی ڈی 35) میں دھماکہ ہوگیا۔ پولیس کو ملے ایک چشم دید گواہ نے بتایا کہ لال رنگ کی موٹر سائیکل پر سوار ہیلٹ میٹ لگائے لڑکے نے چلتی کار میں پیچھے سے میکنٹ ڈیوائس چپکائی اور تیزی سے فرار ہوگیا۔ پولیس افسران کے مطابق جس طرح کا بم استعمال اس حملے میں ہوا ہے وہ پہلی بار دیکھاگیا ہے اسے اسٹیکی بم کہاجاتا ہے۔ عام طور پر فوج ہی اس کااستعمال کرتی ہے۔اسٹیکی بم ایسا بم ہوتا ہے جسے چلتے چلتے کسی بھی گاڑی پر چپکا دیاجاتا ہے۔اس میں چپکن کا کام بم کے ساتھ لگی میکٹنٹ یعنی چبنک کرتی ہے جو کارلوہے کی باڈی پر ہلکے سے چھوتے ہی چپک جاتی ہے دہلی پولیس کے سینئر بتاتے ہیں کہ اس میں پلاسٹک دھماکوں کااستعمال ہلکے بن کے لئے کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی بم پھٹنے کی ٹائم سیٹنک میکانیزیم بھی اپنے میں نہیں ہے۔ اس طرح بم کا استعمال ہونا ہماری فوج سیکورٹی کے لئے ایک سنگین چنوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بم یا تو بیرونی ملک سے لایاگیا ہے یا پھر فوج کے کسی ڈپو سے چرایاگیا ہے میں نے فلموں میں دیکھا ہے اس طرح کے بم کو چلتے ٹینک پر چپکا دیا جاتا ہے جسے ٹینک اڑ جاتا ہے یہ دھماکہ محص اتفاق نہیں تھا۔ پیر کو ہی جارجیا کی راجدھانی تبلسی میں واقع اسرائیل سفارت خانے پر ایسا ہی حملے کی کوشش کی گئی۔ اسرائیلی ریڈیوں نے کہا ہے کہ ایک ملازم نے دھماکوں سے مسلح ایک بار سفارت خانے کے پاس کار کودیکھا تھا اور اس نے پولیس کو خبر دی تھی پولیس نے وہاں پہنچ کر بم کوناکارہ کردیا بعد میں اس میں واقعہ کے جانکاری سفارت خانے کو دی گئی۔ اس کے بعد دنیا بھر اسرائیلی سفارت خانوں کو ہائی الرٹ جاری کردیاگیاتھا۔ قابل غور ہے کہ حالیہ مہینوں میں آذر بائیجان ،تھائی لینڈ اوردیگر مقامات پر بھی اسرائیلی عمارتوں پر حملے کی سازش ناکام کی گئی ہے۔ تھائی لینڈ میں تو پچھلے ماہ ایک حزب اللہ وابسطہ لبنان کے ایک شخص کو گرفتار کیاگیا ہے اس کے پاس سے دھماکہ کا سامان بھی برآمد ہواتھا۔ چونکہ نشانے پر اسرائیلی تھے اس لئے یہ کہاجاسکتا ہے کہ اس کے پیچھے اسلامی کٹر پسندوں کاہاتھ ہوسکتا ہے۔ا سرائیلی وزیراعظم نے واردات کی جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ اس کے پیچھے آتنکی تنظیم حزب اللہ اور ایران کاہاتھ ہے اس سے پہلے 25/11 کے ممبئی آتنکی حملے میں رباب ہاؤس کونشانہ بنایاگیا تھا جہاں سات اسرائیلی مارے گئے تھے حزب اللہ لبنان کی مسلم کٹر پسند تنظیم ہے اور سیاسی پارٹی ہے۔ اتوار کو اس کے ایک بڑے لیڈر عماد مغنی کی چوتھی برسی تھی مغنی ایک میزائل حملے میں مارا گیا تھا۔ حزب اللہ نے مغنی کی موت کے لئے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو ذمے دار ٹھہرا کر بدلا لینے کی قسم کھائی ہے ایران میں بھی ایک بڑے قانون ساز کو پچھلے دنوں میزائل حملے میں ماردیاگیاتھا۔ ایران نے بھی اسرائیل کے ہاتھ ہونے کا الزام لگایا تھا اس حملے میں ایک ایرانی آتنکی تنظیم عمادموچھیا کانام بھی آرہا ہے اب تک دیش میں کتنے آتنکی واقعات ہوئے ہیں اس میں کبھی اس تنظیم کا نام نہیں آیا ہے۔ حالانکہ پولیس کا خیال ہے کہ تنظیم کا خاص مقصد اسرائیلی شہریوں کو نقصان پہنچانا تھا کچھ لوگ تو یہ بھی کہے رہے ہیں ایران نے پاکستانی آتنکیوں کے ذریعہ واردات کوانجام دیا ہوگا۔ اس سلسلے میں زیادہ شبہ حزب المجاہدین اورلشکر طیبہ پر جاتا ہے ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ 26/11حملے میں بھی اسرائیلی شہریوں کو نشانہ بنایاگیاتھا۔واردات کے پیچھے کوئی بھی ہو۔ لیکن یہ بھی طے ہے کہ انہیں مقامی مدد ضرور ملی ہے کیونکہ موٹر سائیکل سوار ایک ہندوستانی ہی ہوگا۔میکنٹ بم کا استعمال نہ صرف دہلی پولیس بلکہ تمام سیکورٹی ایجنسیوں کے لئے تشویش کا باعث ہونی چاہئے۔ بلکہ ابتک اس طرح کے بموں کااستعمال ایران اور کچھ عرب ممالک میں ہوتا آیا ہے۔ ذرائع کی مانے تو دہلی میں ہوئے اس حملے میں نائٹروگلیسرین، سلفر ،پوٹاشیم کیروریٹ کااستعمال کیاگیا ہے۔ نائٹروگلیسرین کااستعمال اسی طرح کے دھماکوں میں کیا جاتا ہے۔عرب ممالک اوراسرائیل کے درمیان لڑائی میں اب بھارت بھی آگیا ہے۔ پیر کو یہ واقعہ ہمارے اندرونی اسباب سے نہیں ہوا ہے یہ تشویش کی بات ہے اسرائیل اس حملے کا بدلہ ضرور لے گا۔ عیسائی بنام اسلام لڑائی آج کی نہیں بلکہ ہزاروں برس پرانی چلی آرہی ہے۔ ایران پر کسی بھی وقت اب اسرائیل ، امریکہ، حملہ کرسکتاہے۔ کہیں دہلی کے اس دھماکے سے معاملے اور زیادہ نہ بڑھ جائے؟
Anil Narendra, Daily Pratap, Delhi Bomb Case, Delhi High Court, Israil, Terrorist, Vir Arjun
15 دسمبر 2011
آئی ایس آئی کو دیش کے اندر سے پوری مدد ملتی ہے
Published On 15th December 2011
انل نریندر
پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی بھارت کے خلاف چھیڑی اپنی مہم کو آگے بڑھانے سے باز نہیں آرہی ہے۔ وہ کچھ نہ کچھ کرتی رہتی ہے لیکن ہماری سکیورٹی ایجنسیاں چست اور تیار رہتی ہیں۔ حال ہی میں انڈین مجاہدین کے7 آتنک وادیوں کو پکڑنے اور ان کے بڑے نیٹورک کا خلاصہ ہونے کے بعد دہلی پولیس کی کرائم برانچ و اسپیشل سیل کی ٹیم کو ایک بڑی کامیابی ملی ہے۔اسپیشل ٹیم نے پاک خفیہ ایجنسی کے دو ایجنٹوں کو نئی دہلی ریلوے اسٹیشن سے گرفتار کیا ہے ان میں ایک خاتون ہے۔ ان کے پاس پاکستان شناختی کارڈ، پاسپورٹ کے علاوہ ہندوستانی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بھی ملے ہیں۔ آئی ایس آئی نے انہیں بھارت میں ٹھکانہ بنانے اور یہاں کی خفیہ اطلاعات حاصل کرنے کیلئے بھیجا تھا۔دونوں کو تیس ہزاری عدالت کی اے سی جی ایف ونود یادو کی کورٹ میں پیش کیا۔ یہاں سے ان کو 14 دن کی جوڈیشیل حراست میں بھیج دیا گیا۔ ڈی سی پی اشوک چاند کے مطابق پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ دو پاکستانی شہریوں نے نیپال بارڈر سے بھارت میں دراندازی کی ہے اور گورکھپور کے پاس سونولی بارڈر سے ہوتے ہوئے گورکھ دھام ایکسپریس سے دہلی آرہے ہیں۔ اطلاع ملتے ہیں اسپیشل سیل سرگرم ہوگیا اور دونوں کو دہلی ریلوے اسٹیشن پر دبوچ لیا گیا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان کے پاس نہ صرف ہندوستانی پاسپورٹ تھے بلکہ ان پر بھارت میں داخل ہونے کی مہر نہیں لگی تھی یہ کیسے ممکن ہوا؟ان کے ساتھ آئی خاتون صوفیہ کے پاس ایک پاکستانی سرکار کے ذریعے جاری شہریت کا ثبوت بھی ملا ہے۔ اس کے پاس سے کچھ متنازعہ دستاویزات بھی ملے ہیں۔ جن میں چپ عمران کے نام سے، گجرات سے جاری ڈرائیونگ لائسنس، ہندوستانی ووٹر کارڈ، عمران یوسف کے نام سے جاری پین کارڈ،یوسف کے نام سے احمد آباد سے 1986ء میں جاری ہندوستانی پاسپورٹ بھی برآمد ہوا ہے۔ عمران نے پوچھ تاچھ میں بتایا کہ وہ بنیادی طور سے احمد آباد کا رہنے والا ہے لیکن1988 ء میں وہ پاکستان چلا گیا تھا اور وہاں کی شہریت حاصل کرلی تھی۔ جب وہ پاکستان میں تھا تو آئی ایس آئی نے اس سے رابطہ قائم کیا اگر وہ بھارت جا کر ان کے لئے کام کرے تو اسے کافی روپے کی مدد ملے گی۔ عمران کے راضی ہونے پر مارچ2011 میں اسے کہا گیا کہ وہ بھارت جاکر ایک خاتون کو وہاں کا ریزینڈنٹ ایجنٹ بنا ئے۔ اسی اسکیم کے تحت وہ بھارت آیا تھا۔ یہاں سے دونوں کو آگرہ جانا تھا۔ عمران اسے آگرہ چھوڑ کر پاکستان لوٹ جاتا۔ خاتون آگرہ میں رہ کر وہاں کے لوگوں کے ساتھ گھل مل کر اپنا ٹھکانہ بنا لیتی۔ لیکن دہلی میں ہی دونوں کو دبوچ لیا گیا۔ یہ حیرانی کی بات ہے کہ نہ صرف بھارت ۔ پاکستان آنا جانا اتنا ان لوگوں کے لئے معمولی بات ہے یہ جب چاہے چلے جائیں جب چاہے واپس آجائیں لیکن بھارتیہ دستاویز ان کے آسانی سے بن جاتے ہیں۔ ہم آئی ایس آئی کو تو دن رات کوستے رہتے ہیں لیکن اپنے گھر کو نہیں دیکھتے جہاں کے لچر سسٹم کے سبب آئی ایس آئی اپنے منصوبوں میں کامیاب ہوتی ہے۔Anil Narendra, Daily Pratap, ISI, Terrorist, Vir Arjun
15 نومبر 2011
قصاب کو پھانسی کی پیروی کرنے والا پاکستان
Published On 15th November 2011
انل نریندر
پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے ممبئی حملوں کے قصوروار اجمل عامر قصاب کو گذشتہ جمعرات آتنکی مانتے ہوئیاسے پھانسی پر چڑھائے جانے کی وکالت کی۔17 ویں سارک کانفرنس کے دوران قصاب سے پلہ جھاڑتے ہوئے رحمان ملک نے کہا اس کی سرگرمیوں سے پاکستان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ وہ نان اسٹیٹ ایکٹر ہے اس لئے اسے پھانسی ملنی چاہئے۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین میں دھماکے پر بھی رائے زنی کرتے ہوئے ممبئی حملے جیسے آتنکی واقعات دونوں ملکوں کے رشتوں کو خراب کررہے ہیں ۔ ہمیں سمجھ میں نہیں آیا کہ رحمان ملک نے ایسی بات کیوں کی؟ پاکستان کے قول اور فعل میں ہمیشہ فرق رہا ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ ممبئی حملے کے پیچھے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا ہاتھ تھا یہ بات امریکہ اور اب برطانیہ جیسے ممالک نے بھی مانی ہے۔ ممبئی حملے کی سازش رچنے والے جماعت الدعوی کو پاکستان نے آتنکی تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا ہے۔مالدیپ میں ہوئی سارک کانفرنس کے دوران پاکستان نے دہشت گردی سے لڑنے کے لئے چاہے کتنی ہی بڑی باتیں کیوں نہ کہی ہوں ، ہمیں اسے سنجیدگی سے نہیں لینا چاہئے۔ ذرائع کے مطابق سارک کانفرنس کے کچھ ہی دن پہلے پاکستان کے وزارت داخلہ نے جو 31 ممنوعہ دہشت گرد تنظیموں کی فہرست جاری کی تھی اس میں جماعت الدعوی کا نام ندارد تھا۔ یہ تنظیم بیحد خطرناک ہے۔ جنوبی ایشیا کی سب سے خطرناک آتنکی تنظیم لشکرطیبہ کا سرپرست مانے جانی والی جماعت الدعوی کو امریکہ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دباؤ میں ممنوع قراردیا گیا تھا۔26 نومبر2008 کو ممبئی میں ہوئے آتنکی حملے میں اس تنظیم کا ہاتھ مانے جانے کی یہ بات بھارت اور امریکہ دونوں نے ہی اس تنظیم پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے اپنے ریزولوشن1267 کے ذریعے اس پر پابندی لگادی تھی۔ اس چوطرفہ دباؤ کے چلتے پاکستان نے 7 دسمبر2008 کو اسے ممنوع قراردیا تھا۔ اہم بات یہ رہی ہے کہ پاکستان نے اس تنظیم کے چیف حافظ محمد سعید کے خلاف کبھی بھی سنجیدگی سے کوئی کارروائی نہیں کی۔ دکھاوے کے لئے سعید کو نظربند کردیا گیا اور عدالت نے ثبوتوں کی کمی کے سبب اسے چھوڑدیا۔ کیونکہ ممبئی حملے میں بڑی تعداد میں امریکی شہری مارے گئے تھے اس لئے ایف بی آئی نے بھی اس کی پڑتال میں اہم کردار نبھایا تھا۔ بھارت اور امریکہ دونوں نے ہی پاکستان کو اس کے خلاف ٹھوس ثبوت فراہم کئے تھے۔ اب رحمان ملک صاحب کہہ رہے ہیں کہ حافظ سعید کو حکومت نے نہیں بلکہ دیش کی بڑی عدالت نے چھوڑا ہے۔ آئی ایس آئی نے اس مقدمے میں بھی اپنی نیت کا مظاہرہ کردیا ہے۔ سرکاری فریق نے مقدمے کے دوران آتنکی حملوں میں شامل ہونے کی اطلاعات دیں ثبوت نہیں۔ عدالت ثبوت کی بنیاد پر کارروائی کرتی ہے، اطلاعات کی بنیاد پر نہیں۔ یہ دلیل مضحکہ خیز نہیں تو اور کیا ہے۔ بھارت نے اس کے خلاف پاکستان کو پختہ ثبوت فراہم کرائے تھے۔ قابل ذکر ہے کہ آج تک پاک سرکار یا اس کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے کسی بھی غیر ملکی جانچ ایجنسی کو حافظ محمد سعید سے پوچھ تاچھ کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔
26/11 ممبئی حملے کے پیچھے آئی ایس آئی اور لشکر کا ہاتھ تھا یہ بات اب سبھی مانتے ہیں ۔میں نے پچھلے دنوں اسی کالم میں بی بی سی کے ایک پروگرام کا ذکر کیا تھا۔ پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک ک یاد داشت تازہ کرنے کے لئے پھر سے ذکر کررہا ہوں۔ بی بی سی تو ایک غیر جانبدار آزاد ایجنسی ہے۔ جس کے بھروسے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ بی بی سی نے دو حصوں م میں ایک پروگرام نشر کیا جسے 'سیکٹریٹ پاکستان' کا نام دیا گیا تھا۔پروگرام کے پہلے حصے میں امریکی صدر براک اوبامہ کے مشیر رائے سی آئی اے افسر برسرڈیل کا حوالہ دیا گیا ہے۔ پاکستان سے آئے آتنکیوں نے 26 نومبر2008 کو ممبئی کے کئی اہم مقامات پر حملہ کیا تھا۔ اس وقت اوبامہ امریکہ کے صدر منتخب ہوئے تھے حالانکہ انہوں نے حلف نہیں لیا تھا ۔ رڈیل نے کہا میں نے پاکستانی صدر سے کہا کہ وہ ہمارے ساتھ دوہرا کھیل کھیلنا بند کریں۔ ان سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ پاکستان برسوں سے امریکی اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ ایسا کررہا ہے۔ اس کے آگے بھی ایسا ہی کرتے رہنے کا اندیشہ ہے۔ رڈیل کا کہنا ہے کہ حملوں میں ہر جگہ لشکرطیبہ کی چھاپ نظر آتی ہے۔ حملوں کی شروعات سے ہی لگنے لگا تھا کہ لشکر کی کرتوت ہیں۔ آگے کہتے ہیں کہ ایک بار جب آپ لشکر سے ان حملوں کو جوڑتے ہیں تو آپ اسے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے بھی جوڑیں گے۔ پروگرام کے دوسرے حصے میں کہا گیا ہے سی آئی اے کو یہ جانکاری ملی تھی ۔ممبئی کے حملے میں آئی ایس آئی براہ راست طور پر شامل تھی۔
پاکستان کے وزیر داخلہ کے اس بیان کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاسکتا کہ قصاب کو پھانسی پر چڑھا دو۔ ممکن ہے کہ رحمان ملک نے سوچا ہو کہ ایسا بیان دینے سے وہ دنیا اور بھارت کو خاص طور پر گمراہ کرسکتے ہیں، بیوقوف بنا سکتے ہیں۔ ایسے بیان دینے سے پاکستان دودھ کا دھلا نہیں ہوجاتا۔ سب کو معلوم ہے کہ کس طرح سے ان تنظیموں پھولنے پھلنے کا پورا موقع اور ہر ممکن مدد آئی ایس آئی اور پاکستان کی فوج کررہی ہے۔ اس کی نیت کا اندازہ تو اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ پہلے تو پاکستان نے اجمل قصاب نام کے کسی شخص کو اپنا شہری ماننے سے ہی انکار کردیا تھا۔ آج تک اس حملے میں مارے گئے اپنے دیش کے آتنک وادیوں کی لاشیں تک نہیں لیں۔ اتنا ہی نہیں اس نے تو کارگل جنگ کے دوران درانداز بن کر اپنے فوجیوں تک کی لاشیں نہیں لیں۔ بھارت کو ہی ان کی آخری رسوم ادا کرنی پڑیں تھیں۔ رحمان ملک نے یہ بھی کہا ہے اگر پاکستان کو یہ پتہ نہیں چل پایا کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں رہ رہا تھا تو اس میں تعجب کیسا؟ ٹریننگ یافتہ آتنک سرغنہ لادن کو پتہ تھا کیسے اور کہاں چھپا جائے۔ ذرائع کا خیال ہے یہاں تو خود پاکستان ہی جنوبی ایشیا کی اس سب سے خطرناک آتنکی تنظیم لشکر طیبہ کے رہنما حافظ سعید کو سرپرستی دے رہا ہے۔ بھارت اب رحمان ملک یا ان کے آقاؤں کی چال بازیوں میں نہیں پھنسے گا۔ بہت ہوچکا ہے۔
Anil Narendra, Bhullar, Daily Pratap, Human Rights Commission, Martyres, Sikh Terrorist, Supreme Court, Terrorist, Vir Arjun
09 نومبر 2011
26/11 ممبئی حملوں کی ماسٹر مائنڈآئی ایس آئی تھی
بی بی سی نے دو حصوں میں حال ہی میں ایک پروگرام نشر کیا جسے ''سیکریٹ پاکستان'' کا نام دیا گیا تھا۔ پروگرام کے پہلے حصے میں امریکی صدر براک اوبامہ کے مشیر رہے سی آئی اے کے افسر برس ریڈل کودکھایا گیا ہے کہ انہوں نے ممبئی حملے کے وقت صدر کو مطلع کیا تھا کہ ''ہر انگلی پاکستان کی طرف اٹھ رہی ہے۔یہ ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے۔'' پاکستان سے آئے آتنک وادیوں نے 26 نومبر2008 کو ممبئی کے بڑے کئی اہم مقامات پر حملہ کیا تھا۔ اس وقت اوبامہ امریکی صدر منتخب ہوچکے تھے۔ حالانکہ انہوں نے حلف نہیں لیا تھا۔ امریکی سسٹم کے مطابق انہوں نے جنوری2009 ء میں حلف لیا تھا۔ ریڈل نے کہا ''میں نے پاکستانی صدر سے کہا کہ وہ ہمارے ساتھ دوہرا کھیل کھیلنا بند کریں۔ ان سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ پاکستان برسوں سے امریکہ اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ ایسا کررہا ہے اس کے آگے بھی ایسا ہی کرتے رہنے کا اندیشہ ہے۔'' ریڈل نے کہا '' ان حملو ں میں ہر جگہ لشکر طیبہ کی چھاپ نظر آتی ہے۔ حملوں کے آغاز سے لگنے لگا ہے کہ لشکر کی کرتوت ہے۔'' انہوں نے کہا ایک بار جب آپ لشکر سے ان حملوں کو جوڑتے ہیں تو آپ اسے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے بھی جوڑیں گے۔ اس پیغام کے دوسرے حصے میں کہا گیا ہے ''سی آئی اے کو یہ جانکاری ملی تھی ممبئی حملے میں آئی ایس آئی سیدھے طور پر ملوث تھی۔ کابل میں جولائی 2008ء میں دھماکے سے لدی کار کو ہندوستانی سفارتخانے کے قریب اڑادیا گیا تھا۔ اس حملے میں 58 لوگ مارے گئے تھے اور 141 افراد زخمی ہوئے تھے۔ امریکی نائب صدر کے عہد میں کام کرچکے مائک والڈس کا کہنا ہے ''اطلاع اور سلسلہ وار پروگرام سے پوری طرح واقف ہوگیا تھا۔ کابل میں دھماکے کرنے والے حقانی نیٹ ورک کو پاکستان کی حمایت ملی ہوئی تھی۔ اس وقت کابل میں برطانوی سفیر شیرڈ کوپیرکولس نے کہا کہ آئی ایس آئی کا ایک چھوٹا گروپ حقانی نیٹ ورک کے رابطے میں ہے ۔اس کے بارے میں مغربی ملکوں کو کبھی معلومات نہیں ملی۔ اس پروگرام میں طالبان کے کچھ خود ساختہ کمانڈروں نے خلاصہ کیا کہ برطانیہ، امریکہ کے فوجیوں کے خلاف طالبان کی لڑائی میں پاکستان کی حمایت ملتی ہے۔ ایک خود ساختہ کمانڈر ملا عزیز اللہ کے مطابق آتنک وادیوں کے لئے ٹریننگ کیمپ چلا رہے ماہرین آئی ایس آئی کے ممبر ہیں اور ان کی کسی نہ کسی طریقے سے خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے وابستگی ہے۔انہوں نے کہا وہ پہلے ہمیں دھماکوں کے بارے میں بتاتے ہیں اس کے بعد ہم لوگوں کو عام طور پر جانکاریاں دی جاتی ہیں۔ ٹریننگ کے وقت وہ کیمپ میں موجود رہتے ہیں۔ بی بی سی تو اپنی آزادانہ رپورٹنگ کے لئے جانا جاتا ہے۔ ان کا ہر پروگرام سوچ سمجھ کر ٹیلی کاسٹ کیا جاتا ہے۔ جب بی بی سی کہتا ہے کہ آئی ایس آئی ممبئی حملوں کی ماسٹر مائنڈ تھی تو یہ ایک طرح سے صحیح ہی لگتا ہے۔
26/11, Anil Narendra, BBC TV, Daily Pratap, India, Mumbai, Obama, Pakistan, Terrorist, Vir Arjun
25 اکتوبر 2011
کشمیر میں مسلح فورس اسپیشل سیکورٹی ایکٹ ہٹانے کی مانگ
Published On 25th October 2011
انل نریندر
جموں و کشمیر سے مسلح فورس مخصوص اختیارات ایکٹ ہٹانے کو لگتا ہے کہ ایک بار پھر اعلی سطح پر بحث اور اسے ہٹانے کی غلطی کرنے کی کوشش شروع ہوچکی ہے۔کشمیر پالیسی ہمیشہ سے اس حکومت کی گول مول رہی ہے۔کشمیر کے مسئلے پر مقرر تین مذاکرات کاروں کی سفارشوں کو بنیاد بنا کر مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم کافی حد تک یہ داؤ کھیلنے کا من بنا چکے ہیں۔ پچھلے سال ریاست کے کچھ حصوں سے فوجیوں کو ہٹانے اور اسکے بعد سے ریاست میں حالات معمول پر رہنے کا تجربہ کامیاب مانا جارہا ہے۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ ان کے والد و مرکزی وزیر فاروق عبداللہ اور علیحدگی پسندلیڈراس مسئلے پر ایک ہیں۔ یہ سبھی چاہتے ہیں کہ ریاست سے مسلح فورس و مخصوص اختیارات ایکٹ ہٹایا جائے جبکہ فوج کی رائے اس کے برعکس ہے۔ ایک طرح سے اس مسئلے پر جموں وکشمیر حکومت اور وزارت داخلہ ایک ہیں۔ڈیفنس وزارت اور فوج اس کے برعکس ہے۔کیا کوئی سکیورٹی ملازم دونوں ہاتھوں کو پیٹھ کے پیچھے رکھ کر خونخوار بندوقی آتنک وادیوں کا مقابلہ کرسکتا ہے؟ اور اگر اس کے ہاتھوں میں بندوق دے کر اسے سامنے سے فائر کرنے والے پر گولی نہ چلانے کا حکم دیا جائے تو وہ کیا لڑائی کرے گا۔ کچھ ایسی ہی حالت عمر عبداللہ اپنے راجیہ میں چاہتے ہیں اور چدمبرم ان کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔ فوج کا کہنا ہے کہ ان اختیارات کے بغیر کشمیر میں دہشت گردی کا مقابلہ مشکل ہے۔ ایک سینئر فوجی افسر نے کہا کہ آپ خود سوچیں جن آتنک وادیوں کے مقابلے میں آپ کو خود واویلے میں پڑنے کا خطرہ ہو تو آس پاس سے مقابلہ کرسکتے ہیں۔ کیا آپ جس آتنکی کا مقابلہ کرنے جارہے ہیں کیا وہ آپ پر پھول برسائے گا؟ فوجی ہیڈ کوارٹر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحد پار ابھی بھی 50 سے زائد آتنکی کیمپ چل رہے ہیں۔
اتنا ہی نہیں سرحد پار قریب100 سے زیادہ آتنکی دراندازی کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ دراندازی سے لیکر آتنکی حملوں کا بھی خطرہ بنا ہوا ہے۔ پھر آتنکی پہلے کی بہ نسبت ہر سال ہائی ٹیک ہوتے جارہے ہیں۔ آتنکیوں کے پاس نہ صرف جدید ترین ہتھیار ہیں بلکہ الیکٹرانک سازو سامان بھی ہیں بلکہ دیگر تکنیکی تیار کردہ دھماکوں سازو سامان بنانے میں بھی ماہر ہورہے ہیں۔ آتنکیوں کی ٹریننگ بھی کمانڈو سطح پر ہورہی ہے اور وہ ہندوستانی زبانوں کو سیکھ کر آتے ہیں۔ایک نیا فیکٹر جس کا ہمیں خیال رکھناہوگا وہ یہ ہے کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں بہت سے چینی فوجی موجود ہیں جو ان آتنک وادیوں کو ہرممکن مدد دے رہے ہیں۔ ایسے میں جموں و کشمیر کی اس سرحدی ریاست میں فوج کے سامنے مسلسل چنوتیاں بڑھ رہی ہیں۔ آج اگر جموں و کشمیر میں تھوڑی سی شانتی ہے تو وہ فوج کی موثر حکمت عملی کی وجہ ہے۔ فوج کے افسروں میں کٹوتی کی مانگ کرنے والوں کے سامنے ملک کی سلامتی سے زیادہ اپنے ووٹ بینک کی پالیسی زیادہ حاوی لگ رہی ہے۔
اگر عمر عبداللہ اپنی سیاست چمکانے میں لگے ہیں تو مرکزی حکومت کو ان کی ہر مانگ پر ہاں نہیں ہونی چاہئے۔ وزارت داخلہ کو ڈیفنس وزارت سے سنجیدگی سے اس مسئلے پر غور کرنا چاہئے اور جو بھی فیصلہ لینا ہے وہ ملک کے مفاد میں ہونا چاہئے۔ محض کسی سیاسی پارٹی کے ووٹ بینک کی حکمت عملی کو بڑھانے کے لئے نہیں ہونا چاہئے۔ دیش کی سلامتی بالاتر ہے۔
AFSPA, Anil Narendra, Daily Pratap, Indian Army, Jammu Kashmir, Terrorist, Umar Abdullah, Vir Arjun
21 ستمبر 2011
بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کی تیسری برسی
Published On 21th September 2011
انل نریندر
تین سال پہلے 19 ستمبر کا وہ دن جب ساؤتھ دہلی کے بٹلہ ہاؤس علاقے میں ایک مکان میں روپوش آتنکیوں کے بارے میں خبر کے بعد دہلی پولیس کے تیز طرار انسپکٹر موہن چند شرما نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے خطرناک آتنکیوں سے لوہا لیا اور وہ اس کارروائی میں شہید ہوگئے تھے۔ دوسری طرف کچھ کٹر پسند نیتا اور کچھ سیاستداں اس واقعے پر سیاست سے باز نہیں آتے۔ اسے فرضی انکاؤنٹر کہہ کر ہر سال بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کو یاد کیا جاتا ہے۔ بٹلہ ہاؤس مڈ بھیڑ کی تیسری برسی پر پیر کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ مڈ بھیڑ کی سی بی آئی انکوائری کرائی جائے۔اس مظاہرے میں اعظم گڑھ سے اسپیشل ٹرین میں آئے راشٹریہ علما کونسل کے ممبروں نے حصہ لیا۔ کونسل نے کہا آتنک واد کے نام پر اعظم گڑھ کو بدنام کیا گیا اور کیا جارہا ہے ،جو بند ہونا چاہئے۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ علماؤں نے ہزاروں حمایتیوں کے درمیان کانگریس سکریٹری جنرل دگوجے سنگھ پر بھی خاص نشانہ لگایا۔ دگوجے سنگھ نے کچھ مہینے پہلے اعظم گڑھ ضلع کے سنجر پور گاؤں کا دورہ کیا تھا اور انہوں نے بٹلہ ہاؤس مڈ بھیڑ پر سوال اٹھائے تھے۔ قابل غور ہے کہ19 ستمبر 2008 ء کو ہوئی مڈ بھیڑ میں مارے گئے دو مشتبہ لڑکوں عتیق امین اور محمد ساجد کا تعلق اسی گاؤں سے تھا۔ علما کونسل کے قومی چیئرمین مولانا ذاکررشید مدنی نے کہا کہ یہ کتنی عجب بات ہے کہ دگوجے سنگھ سنجر پور جاکر اس مڈ بھیڑ پر سوال کھڑے کرتے ہیں لیکن دہلی میں ان کی سرکار ہے جو اس معاملے کی اعلی سطحی جانچ نہیں کروا رہی ہے۔ انہوں نے کہا دگوجے سنگھ نے مجھ سے خود کہا تھا کہ انہوں نے اس مڈ بھیڑ کے فرضی ہونے کی بات کانگریس صدر سونیا گاندھی، وزیر اعظم منموہن سنگھ سے کہی تھی لیکن ان کی کسی نے نہیں سنی۔ مجھے لگتا ہے دگوجے سنگھ صرف نوٹنکی کرتے ہیں، انہیں مسلمانوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ احتجاجی مظاہرے میں شامل لوگوں نے سونیا، منموہن سنگھ اور راہل گاندھی کے خلاف بھی جم کر نعرے بازی کی۔ حالانکہ لوگوں کے نشانے پر سب سے زیادہ دگوجے سنگھ رہے۔
جنتر منتر میں علماؤں کا مظاہرہ ہو رہا تھا تو دہلی کے دوسرے کونے میں بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر میں شہید ہوئے دہلی پولیس کے افسر موہن چند شرما کے گھر پر ان کا کنبہ انہیں اکیلا ہی یاد کررہا تھا۔ ان کے خاندان نے کسی سے بھی بات نہیں کی۔ یہاں تک کہ انہوں نے میڈیا سے بھی دور رہنا ٹھیک سمجھا۔ ان کے گھر پر پولیس ملازمین کا پہرہ تھا۔ ان کے گھر میں گئے ایک پولیس افسر نے بتایا کہ ان کے ماتا پتا کے سامنے آج بھی 2008 کا منظر آتا ہے تو ان کی آنکھوں میں آنسو چھلک پڑتے ہیں۔ یہ ہمارے دیش کی بدقسمتی ہی ہے کہ اس مڈ بھیڑ کو محض ووٹوں کی خاطر فرضی قراردیا جارہا ہے اور اس پر سیاست ہورہی ہے۔ قانونی نقطہ نظر سے کئی عدالتوں نے اسے صحیح کارروائی قراردیا ہے لیکن اس کے باوجود اس پر سیاست جاری ہے۔ ان سیاستدانوں اور مذہبی لیڈروں کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ اس سے ہماری سکیورٹی فورسز پر کیا اثر پڑے گا؟ انسپکٹر موہن چند شرما کی شہادت کے بعد جس طرح نیتاؤں نے منفی سیاست کے چلتے اس انکاؤنٹر پر شبہ کیا اور آتنکیوں کی سرپرستی کی زبان بولی اور جانباز انسپکٹر کی شہادت کو شبے کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا، اس سے یقینی طور پر دہلی پولیس کے جانباز جوانوں کا ہی نہیں بلکہ پوری دیش کی فورسز کا حوصلہ ٹوٹا ہوگا۔ اس کا منفی اثر یہ ضرور ہوا کہ پولیس اور دیگر فورسز کے جوان اچھی طرح سے سمجھ چکے ہیں کہ آتنک کے خلاف چپ بیٹھنا اور سانپ نکلنے کے بعد لکیر پیٹنا ان کا پہلا فرض ہے آتنکیوں کو پکڑنا نہیں۔ نتیجے کے طور پراب راجدھانی دہلی میں کوئی بھی بم دھماکہ ہو اس میں پولیس کے ہاتھ خالی تھے اور خالی ہیں۔ اور ہوں بھی کیوں نہ اگر وہ اپنی جانبازی سے آتنکی کو پکڑ بھی لیں تو سرکار مقدمے میں لگ جائے گی اور پھانسی کی سزا ہوگی تو اسے لیٹ کرایا جائے گا اور آتنکیوں کو سرکاری مہمان بنا کر ان کی خاطر داری میں لگی ہوگی۔ بہرحال بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کی تیسری برسی پر دہلی پولیس کے جانباز انسپکٹر چندر موہن شرما کو تمام دیش واسیوں کی طرف سے شت شت نمن:
آج ان کی سمادھی پر ایک دیا بھی نہیں۔ جن کے چراغوں سے جلا کرتے تھے اہل وطن
جنتر منتر میں علماؤں کا مظاہرہ ہو رہا تھا تو دہلی کے دوسرے کونے میں بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر میں شہید ہوئے دہلی پولیس کے افسر موہن چند شرما کے گھر پر ان کا کنبہ انہیں اکیلا ہی یاد کررہا تھا۔ ان کے خاندان نے کسی سے بھی بات نہیں کی۔ یہاں تک کہ انہوں نے میڈیا سے بھی دور رہنا ٹھیک سمجھا۔ ان کے گھر پر پولیس ملازمین کا پہرہ تھا۔ ان کے گھر میں گئے ایک پولیس افسر نے بتایا کہ ان کے ماتا پتا کے سامنے آج بھی 2008 کا منظر آتا ہے تو ان کی آنکھوں میں آنسو چھلک پڑتے ہیں۔ یہ ہمارے دیش کی بدقسمتی ہی ہے کہ اس مڈ بھیڑ کو محض ووٹوں کی خاطر فرضی قراردیا جارہا ہے اور اس پر سیاست ہورہی ہے۔ قانونی نقطہ نظر سے کئی عدالتوں نے اسے صحیح کارروائی قراردیا ہے لیکن اس کے باوجود اس پر سیاست جاری ہے۔ ان سیاستدانوں اور مذہبی لیڈروں کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ اس سے ہماری سکیورٹی فورسز پر کیا اثر پڑے گا؟ انسپکٹر موہن چند شرما کی شہادت کے بعد جس طرح نیتاؤں نے منفی سیاست کے چلتے اس انکاؤنٹر پر شبہ کیا اور آتنکیوں کی سرپرستی کی زبان بولی اور جانباز انسپکٹر کی شہادت کو شبے کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا، اس سے یقینی طور پر دہلی پولیس کے جانباز جوانوں کا ہی نہیں بلکہ پوری دیش کی فورسز کا حوصلہ ٹوٹا ہوگا۔ اس کا منفی اثر یہ ضرور ہوا کہ پولیس اور دیگر فورسز کے جوان اچھی طرح سے سمجھ چکے ہیں کہ آتنک کے خلاف چپ بیٹھنا اور سانپ نکلنے کے بعد لکیر پیٹنا ان کا پہلا فرض ہے آتنکیوں کو پکڑنا نہیں۔ نتیجے کے طور پراب راجدھانی دہلی میں کوئی بھی بم دھماکہ ہو اس میں پولیس کے ہاتھ خالی تھے اور خالی ہیں۔ اور ہوں بھی کیوں نہ اگر وہ اپنی جانبازی سے آتنکی کو پکڑ بھی لیں تو سرکار مقدمے میں لگ جائے گی اور پھانسی کی سزا ہوگی تو اسے لیٹ کرایا جائے گا اور آتنکیوں کو سرکاری مہمان بنا کر ان کی خاطر داری میں لگی ہوگی۔ بہرحال بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کی تیسری برسی پر دہلی پولیس کے جانباز انسپکٹر چندر موہن شرما کو تمام دیش واسیوں کی طرف سے شت شت نمن:
آج ان کی سمادھی پر ایک دیا بھی نہیں۔ جن کے چراغوں سے جلا کرتے تھے اہل وطن
دئے جلتے ہیں ان کی قبر پر، جو بیچا کرتے ہیں شہیدوں کا کفن
Anil Narendra, Batla House Encounter,
Daily Pratap, Delhi Bomb Case, delhi Police, Digvijay Singh, Manmohan Singh,
Terrorist, Vir Arjun12 اگست 2011
اشفاق کی سزابرقرار تو افضل گورو کی فائل کا آخری پڑاؤ
تاریخی لال قلعہ پر حملہ کر تین فوجیوں کو قتل کرنے والے لشکر طیبہ کے پاکستانی آتنکی محمدعارف عرف اشفاق کو ملی پھانسی کی سزا پر بدھ کے روز سپریم کورٹ نے اپنی مہر لگا کر اس کی سزا کو برقرار رکھا ہے۔ نچلی عدالت اور دہلی ہائی کورٹ کے ذریعے دی گئی پھانسی کی سزا کو برقرار رکھتے ہوئے جسٹس وی ایس سرپکراور جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی ڈویژن بنچ نے اشفاق کی عرضی کو خارج کردیا ہے۔ بنچ نے کہا کہ دیش میں غیر قانونی طور سے داخل ہوا اور دیش کے خلاف جنگ چھیڑنے کی سازش کو انجام دینے کیلئے دھوکہ دھڑی اور دیگر جرائم کر اس نے ڈرائیونگ لائسنس و راشن کارڈ بنوایا اور حوالہ کے ذریعے لاکھوں روپے اکٹھے کئے اور یہاں ایک مقامی لڑکی سے شادی کی۔ ان پیسوں سے اس نے اوکھلا میں کمپیوٹر سینٹر کھولا اور آخر کار 22 دسمبر 2002 کو دیش کی سرداری کی علامت لال قلعہ پر حملہ کروایا۔ اس لئے اس حملے میں عدالت کو سزائے موت دفعہ121,120B اور 302 کے علاوہ کوئی اور مناسب سزا نظر نہیں آتی۔
ادھر بدھ کے ہی روز اشفاق کی پھانسی کی سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ آیا تو ادھر مرکزی وزارت داخلہ نے پارلیمنٹ پر حملے کے مجرم محمد افضل عرف افضل گورو کی موت کی سزا پر داخل رحم کی عرضی مسترد کرتے ہوئے اس کی فائل صدارتی سکریٹریٹ کو بھیج دی ہے۔غور طلب ہے کہ افضل گورو کو13 دسمبر 2001 ء کو پارلیمنٹ پر حملے کی سازش رچنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ یہ حملہ لشکر طیبہ اور جیش محمد نے مل کر کیا تھا۔جانچ میں حملہ آور کی شناختی کارڈ پر گورو کا فون نمبر ملا تھا۔ وہ حملے سے پہلے سری نگر میں گورو کے رابطے میں تھے۔ سپریم کورٹ نے 2004 میں اسے سزائے موت کے نچلی عدالت و ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔ افضل گورو کو 20 اکتوبر2006 کو ہی پھانسی دی جانی تھی لیکن گورو کی اہلیہ نے رحم کی اپیل داخل کر معاملے کو الجھا دیا۔ تبھی سے اس کی پھانسی لٹکی ہوئی ہے۔ کبھی دہلی حکومت میں تو کبھی وزارت داخلہ میں۔ سارا دیش بار بار یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ افضل گورو کوپھانسی پر لٹکاؤ لیکن یوپی اے حکومت اپنی ووٹ بینک پالیٹکس کے چلتے فیصلہ لینے سے کترا رہی تھی۔ ایسا کرکے نہ تووہ مسلمانوں سے انصاف کررہی ہے اور نہ ہی دیش سے۔ افضل کو پھانسی سے کیا دیش کے مسلمان کانگریس کے خلاف ہوجائیں گے؟ قطعی نہیں۔ مسلمان تو افضل جیسے دہشت گردوں سے اتنا ہی پریشان ہیں جتنے دیش کے دوسرے فرقے کے لوگ۔ آتنک وادی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ جب آتنک وادی مقدس رمضان کے مہینے میں مساجد پر بم مار کر نماز ادا کررہے مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار سکتے ہیں تو ان کا مذہب سے عقیدت کا پتہ چل جاتا ہے۔اگر افضل گورو کو جلد پھانسی ہوجاتی ہے تو اس سے تمام دہشت گرد جماعتوں کو و ان کے آقاؤں کو ایک پیغام جائے گا۔ بھارت آتنک واد کے خلاف زیرو ٹالارینس کی پالیسی پر چلے گا۔ یعنی ایک بھی حملہ برداشت نہیں، ایک بھی آتنکی بچ نہیں سکتا۔افضل گورو کی فائل آخری مرحلے تک پہنچ گئی ہے، دیکھیں راشٹرپتی بھون سے کب اس پر پھانسی کی سزا کے لئے مہر لگتی ہے اور کب افضل پھانسی پر لٹکتے ہیں۔ ویسے اب تو اشفاق بھی اس لائن میں شامل ہوگئے ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Afzal Guru, Ashfaq, Sikh Terrorist, Terrorist,
04 اگست 2011
چین کا پہلی بار اعتراف حملے کی پشت پر پاکستانی دہشت گرد
ہند، امریکہ ، برطانیہ، اسپین، روس سمیت تمام ملکوں کے بعد اب شاید پہلی مرتبہ چینی حکومت نے بھی اپنے یہاں ہوئے تشدد کے پیچھے پاکستان میں پھل پھول رہی دہشت گرد تنظیموں کا ہاتھ ہونے کی بات کہی ہے۔ چین کے سرحدی صوبے زنجیانگ میں سنیچر کے روز رمضان سے قبل کم سے کم تین دہشت گردانہ حملے ہوئے ہیں۔ زنجیانگ کی 40 فیصد سے زیادہ آبادی اوغور مسلمانوں کی ہے۔ بنیادی طور پر مسلم اکثریتی علاقہ ہے لیکن چینی حکومت نے بڑی تعداد میں ہانونشی چینیوں کو یہاں بسا کر انہیں اقلیت میں بدل دیا ہے۔ اس علاقے کے بنیادی باشندے مسلمانوں میں اس بات کو لیکر کافی ناراضگی اور کئی لوگ اپنی تہذیب کی حفاظت کے لئے چین سے آزاد ہونے کی مانگ پر اڑے ہوئے ہیں۔ ایسی ہی ایک انتہا پسند تنظیم مشرقی ترکستان اسلامی تحریک ہے۔ جس کے ممبران پر سنیچر اور ایتوار کی دہشت گردی کی واردات میں شامل ہونے کا شبہ جتایا جاتا ہے۔ اس تنظیم کا خاص مرکز پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں ہے اور چینی ذرائع کا دعوی ہے کہ واردات کرنے والوں میں دھماکہ خیز مادہ بنانے کی ٹریننگ پاکستانی دہشت گردی کے کیمپوں میں لی ہے۔ چین کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان کے انتہا پسند کیمپوں میں ٹریننگ لینے والوں کو القاعدہ سے بھی حمایت ملتی ہے اور اس کے پیچھے القاعدہ بھی ہے۔ ان حملوں میں قریب 20 لوگ مارے جاچکے ہیں۔ یہ الزام ایسے وقت لگایا گیا ہے جب پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کے ان دنوں چین کا خفیہ دورہ کرنے کی خبریںآرہی ہیں۔ چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا نیوز کے مطابق قراگر سٹی حکومت کا کہنا ہے کہ سنیچر اور ایتوار کو ہوئے ان حملوں میں پاکستانی تنظیم ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ سے ٹریننگ لینے والے دہشت گردوں کا ہاتھ ہے۔ اس حملے کے بعد پکڑے گئے مشتبہ افراد نے قبول کیا ہے کہ حملہ آوروں کے سرغنوں نے انہی کیمپوں میں بم اور ہتھیار بنانے کی ٹریننگ لی ۔ وہ مذہبی نظریات کے تھے اور جہاد حمایتی بتائے جارہے تھے۔ زنجیانگ علاقے میں چین اور پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی مشترکہ سرحدیں ہیں۔ یہاں سے قراقرم شاہراہ کے راستے چین اور پاکستان کے درمیان کافی تجارت ہوتی ہے۔ زنجیانگ کے مغربی قراگر میں زیادہ تر مسلم اوغور آبادی ہے۔ وہاں چینی نژاد کے لوگوں کو آنے جانے سے اکثر فرقہ وارانہ جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔دونوں کے درمیان 2009 میں ہوئے جھگڑے میں 200 لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔
ہم امید کرتے ہیں کہ اب تو چین کی آنکھیں کھلیں گی۔ آج تک چین ہمیشہ پاکستان کا حمایتی رہا ہے اور ہمیشہ سے یہ ہی کہتا رہا ہے پاکستان دہشت گردی کا جنم داتا نہیں ہے بلکہ خود شکار ہے۔ بیشک کچھ حد تک یہ صحیح بھی ہے۔ آج یہ اسلامی جہادی تنظیم پاکستانی حکومت اور فوج کے کنٹرول سے باہر ہے۔ پاکستانی فوج میں اتنا دم نہیں ہے کہ وہ ان کو روک سکے۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اس کے بیج کس نے بوئے ہیں؟ خود پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی نے ہمیشہ ان تنظیموں کی حمایت کی ہے۔ جب تک بھارت اور امریکہ ان جہادیوں کے نشانے پر تھے تب تک چین خاموش تھا اور عالمی اسٹیج پر پاکستان کا ساتھ دیتا تھا۔ اب جب خود پر آ پڑی ہے تو ہائے توبہ مچا رہا ہے۔فی الحال زنجیانگ میں دہشت گردی کا خطرہ زیادہ نہیں بڑھا ہے لیکن یہ پھیل سکتا ہے۔ چین میں اولمپک کھیلوں کے کچھ وقت پہلے بڑے پیمانے پر تشدد پھیل چکا تھا اور اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آنے والے دنوں میں ان جہادیوں کے حملے اور تیز ہوسکتے ہیں۔ فی الحال چین کو افغانستان میں امریکی مصیبت سے اپنا فائدہ دکھائی دے رہا ہے۔ ہندوستان کے آتنک واد سے نمٹنے میں آرہی اڑچن سے چین کو مزہ آرہا ہے لیکن یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ وہ خود اس آگ سے زیادہ دن بچا نہیں رہ سکے گا۔ چین کے مفاد میں ہوگا کہ وہ پاکستان سے سختی سے پیش آئے اور اسے دہشت گردی کو فروغ دینے سے روکے۔ پاکستان کے سب سے زیادہ قریب چین ہے اور چین کے کہنے کا اس پر اثر ہوگا۔ چین کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ چینی سامراجیہ کا اہم حصہ ہانونشی چینیوں کے راج کو مانتا ہے۔ دوسری نسلوں اور تہذیبوں کے لوگ چاہے وہ تبتی ہوں یا اوغور ہوں ، وہ دوسرے درجے کے شہری ہیں۔ چین کو اپنے ٹریک ریکارڈ کو بھی دیکھنا چاہئے۔ وہ دیش میں ایک بڑی آبادی والے مسلم فرقے سے برابری کا برتاؤ نہیں کرتا۔ زنجیانگ صوبے میں بھی اکثر ملازمتوں میں اوغور نہیں لکھا ہوتا۔وہاں کے مسلمانوں کو کچلنے کی جگہ ان کی بنیادی پریشانیوں پر زیادہ توجہ ہونی چاہئے۔ القاعدہ اور دہشت گرد تنظیموں کو ہمیشہ دبے کچلے مسلمانوں سے ہمدردی ملتی ہے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ اب تو چین کی آنکھیں کھلیں گی۔ آج تک چین ہمیشہ پاکستان کا حمایتی رہا ہے اور ہمیشہ سے یہ ہی کہتا رہا ہے پاکستان دہشت گردی کا جنم داتا نہیں ہے بلکہ خود شکار ہے۔ بیشک کچھ حد تک یہ صحیح بھی ہے۔ آج یہ اسلامی جہادی تنظیم پاکستانی حکومت اور فوج کے کنٹرول سے باہر ہے۔ پاکستانی فوج میں اتنا دم نہیں ہے کہ وہ ان کو روک سکے۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اس کے بیج کس نے بوئے ہیں؟ خود پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی نے ہمیشہ ان تنظیموں کی حمایت کی ہے۔ جب تک بھارت اور امریکہ ان جہادیوں کے نشانے پر تھے تب تک چین خاموش تھا اور عالمی اسٹیج پر پاکستان کا ساتھ دیتا تھا۔ اب جب خود پر آ پڑی ہے تو ہائے توبہ مچا رہا ہے۔فی الحال زنجیانگ میں دہشت گردی کا خطرہ زیادہ نہیں بڑھا ہے لیکن یہ پھیل سکتا ہے۔ چین میں اولمپک کھیلوں کے کچھ وقت پہلے بڑے پیمانے پر تشدد پھیل چکا تھا اور اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آنے والے دنوں میں ان جہادیوں کے حملے اور تیز ہوسکتے ہیں۔ فی الحال چین کو افغانستان میں امریکی مصیبت سے اپنا فائدہ دکھائی دے رہا ہے۔ ہندوستان کے آتنک واد سے نمٹنے میں آرہی اڑچن سے چین کو مزہ آرہا ہے لیکن یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ وہ خود اس آگ سے زیادہ دن بچا نہیں رہ سکے گا۔ چین کے مفاد میں ہوگا کہ وہ پاکستان سے سختی سے پیش آئے اور اسے دہشت گردی کو فروغ دینے سے روکے۔ پاکستان کے سب سے زیادہ قریب چین ہے اور چین کے کہنے کا اس پر اثر ہوگا۔ چین کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ چینی سامراجیہ کا اہم حصہ ہانونشی چینیوں کے راج کو مانتا ہے۔ دوسری نسلوں اور تہذیبوں کے لوگ چاہے وہ تبتی ہوں یا اوغور ہوں ، وہ دوسرے درجے کے شہری ہیں۔ چین کو اپنے ٹریک ریکارڈ کو بھی دیکھنا چاہئے۔ وہ دیش میں ایک بڑی آبادی والے مسلم فرقے سے برابری کا برتاؤ نہیں کرتا۔ زنجیانگ صوبے میں بھی اکثر ملازمتوں میں اوغور نہیں لکھا ہوتا۔وہاں کے مسلمانوں کو کچلنے کی جگہ ان کی بنیادی پریشانیوں پر زیادہ توجہ ہونی چاہئے۔ القاعدہ اور دہشت گرد تنظیموں کو ہمیشہ دبے کچلے مسلمانوں سے ہمدردی ملتی ہے۔
Tags: Anil Narendra, China, Daily Pratap, ISI, Pakistan, Terrorist, Vir Arjun
22 جولائی 2011
ہلیری کلنٹن کاکامیاب بھارت دورہ؟
امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کا بھارت دورہ امریکی نقطہ نظر سے بہت کامیاب رہا ہے۔ ہر مرتبہ کی طرح اس بار بھی امریکہ نے ہندوستان کو پاکستان اسپانسر دہشت گرد ی پر ہمدردی کے کچھ لفظ کہہ کر اپنا پلا جھاڑ لیا۔ ہلیری کلنٹن کا دورہ ممبئی تازہ بم دھماکوں کے فوراً بعد ہوا ہے اس لئے بھی بھارت کے پاس پاک اسپانسر دہشت گردی کو ختم کرنے پر امریکہ کی کھلی حمایت پانا ضروری تھا، وقت بھی تھا لیکن پاکستان امریکہ کی مجبوری ہے۔آج بھی وہ پاکستان پر کچھ حد تک منحصر ہے۔ جب تک امریکہ افغانستان میں موجود ہے تب تک امریکہ پاکستان سے نہیں بگاڑے گا۔ یونہی لڑتا جھگڑتا رہے گا۔ دونوں ملکوں کے درمیان نوٹنکی جاری رہے گی۔ وقت کی پکار تھی کے ہلیری پاکستان کو سخت پیغام دیتیں لیکن دہشت گردی پر کڑک مزاجی دکھا رہا امریکہ دہشت گرد تنظیموں کی پناہ گاہوں کو لیکر سنبھل کر بات کرتا نظر آیا۔ بھارت دورے پر تشریف لائیں ہلیری کلنٹن نے منگل کے روز کہا تھا کہ پاکستان پر دہشت گردی کے خلاف قدم اٹھانے کے لئے جتنا ممکن ہوسکا اتنا دباؤ بنایا جائے گا۔ لیکن اس کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ حیدر آباد ہاؤس میں ہلیری نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھارت کے ساتھ تعاون بڑھانے کی یقین دہانی تو کرائی وہیں یہ کہنے سے بھی نہیں چوکیں کہ اس لڑائی میں پاکستان بھی امریکہ کا اہم ساتھی ہے۔ امریکہ بھارت پر پاکستان سے امن مذاکرات جاری رکھنے کا اکثر دباؤ بناتا رہتا ہے۔ اس کے نقطہ نظر سے ہلیری نے یہ کہہ کر کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری بات چیت سے ہم خوش ہیں، امریکی موقف میں پاکستان دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں اہم ساتھی ہے۔ دہشت گردوں نے مسجدوں ، سرکاری عمارتوں پر حملہ کرکے بڑی تعداد میں پاکستانیوں کو موت کی نیند سلایا ہے۔ یہ دلیل دے کر کلنٹن نے بھارت کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے۔ امریکہ کا دوہرا چہرہ ایک بار پھر بھارت کے سامنے آگیا ہے۔ وہ دوہرے پیمانے رکھتا ہے۔ اس کے لئے ان کے اپنے مفادات بالاتر ہیں۔ امریکہ نے سول ایٹمی معاہدے کو پوری طرح لاگو کرنے کی یقین دہانی کے ذریعے ہندوستان کو بھلے ہی راحت دینے کی کوشش کی ہے لیکن نیوکلیائی حادثہ قانون پر اختلافات کے اشارے بھی دے دئے ہیں۔ ہلیری نے منگل کو کہا کہ بھارت کے ساتھ سول ایٹمی معاہدے کو مکمل طور سے عمل درآمد کیا جائے گا۔ لیکن ایٹمی حادثے سے ہونے والے نقصان کی تکمیل کے معاملے میں بھارت کو اپنے قانون کو بین الاقوامی قواعد کے مطابق کھرا اتارنا ہوگا۔ ہلیری نے کہا کہ بھارت کو اپنے معاوضے قانون کو بین الاقوامی قواعد کے مطابق کرنے کیلئے یو این کنونشن کی تصدیق کی خانہ پوری کرنی ہوگی۔
گذشتہ روز ہلیری کلنٹن نے کہا کہ پاکستان سے ممبئی حملے کے سازشیوں کے خلاف کارروائی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ انہوں نے یہ کہنے میں بھی کوئی قباحت محسوس نہیں کی کہ پاکستان کے سلسلے میں امریکہ اور بھارت کیا کر سکتے ہیں۔ اس کی ایک حد ہوتی ہے، اس کا سیدھا مطلب ہے کہ امریکی انتظامیہ پاکستان پر اس کے لئے دباؤ بنانے کا کوئی ارادہ ہی نہیں رکھتابلکہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گردی کی سرگرمیوں پر روک لگائے اور بھارت مخالف سرگرمیوں کو ترک کرے۔ اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ پاک اسپانسر دہشت گردی کی لڑائی میں امریکہ بھارت کا ساتھ دے گا تو وہ غلط فہمی میں ہے اور ہلیری نے اسے صاف کردیا ہے کہ ہمیں اپنی لڑائی خود لڑنی پڑے گی۔بیشک پاکستانی فوج اپنے مغربی حصے میں طالبان سے لڑنے کی نوٹنکی کر رہی ہو لیکن مشرقی حصے میں تو اس کی مدد سے دہشت گردی کے کیمپ چل رہے ہیں۔ بھارت پر حملے کئے جاتے ہیں، کیا امریکہ کو اس کی جانکاری نہیں ہے؟ سب کچھ جانتے ہوئے بھی وہ انجان بن جاتا ہے تو اس کا مطلب صاف ہے کہ اس کے سامنے اس کے اپنے باہمی مفادات ترجیح رکھتے ہیں۔ اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں پاکستان، بھارت کے خلاف کیا کرتا ہے؟ امریکہ کے اس رویئے سے بار بار باآور ہونے کے باوجود یہ ہی موقف رہا ہے کہ بھارت ان دہشت گردی کے اڈوں کو تباہ نہ کرے۔ اگر امریکہ کا دباؤ نہ ہوتا تو شاید اب تک بھارت کم سے کم کچھ دہشت گرد کیمپوں پر سرجیکل اسٹرائک کر ہی دیتا۔ کب تک بھارتیہ لیڈر یہ امید پالے رکھیں گے کہ پاکستان کی آتنک وادی پالیسیوں پر امریکہ ہماری حمایت کرے گا؟ اس سے سوال اٹھتا ہے کہ بھارت کی پاکستان کے تئیں پالیسی آخر کیا ہے؟ کبھی اس کو گالی دیتا ہے تو کبھی دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہے؟ کیا یہ محض اپنے امریکی آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے ہوتا ہے ۔ امریکہ کی ترجیحات واضح ہیں۔ ہمیں اپنی پوزیشن سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ جتنی جلدی یہ بات ہندوستانی لیڈروں کو سمجھ میں آجائے اتنا ہی دیش کے لئے اچھا ہوگا۔ کل ملاکر ہلیری کلنٹن کا دورۂ بھارت امریکی نقطہ نظر سے کامیاب رہا ہے اور بھارت کو ایک بار پھر جھنجھنا تھما دیا گیا ہے۔
گذشتہ روز ہلیری کلنٹن نے کہا کہ پاکستان سے ممبئی حملے کے سازشیوں کے خلاف کارروائی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ انہوں نے یہ کہنے میں بھی کوئی قباحت محسوس نہیں کی کہ پاکستان کے سلسلے میں امریکہ اور بھارت کیا کر سکتے ہیں۔ اس کی ایک حد ہوتی ہے، اس کا سیدھا مطلب ہے کہ امریکی انتظامیہ پاکستان پر اس کے لئے دباؤ بنانے کا کوئی ارادہ ہی نہیں رکھتابلکہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گردی کی سرگرمیوں پر روک لگائے اور بھارت مخالف سرگرمیوں کو ترک کرے۔ اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ پاک اسپانسر دہشت گردی کی لڑائی میں امریکہ بھارت کا ساتھ دے گا تو وہ غلط فہمی میں ہے اور ہلیری نے اسے صاف کردیا ہے کہ ہمیں اپنی لڑائی خود لڑنی پڑے گی۔بیشک پاکستانی فوج اپنے مغربی حصے میں طالبان سے لڑنے کی نوٹنکی کر رہی ہو لیکن مشرقی حصے میں تو اس کی مدد سے دہشت گردی کے کیمپ چل رہے ہیں۔ بھارت پر حملے کئے جاتے ہیں، کیا امریکہ کو اس کی جانکاری نہیں ہے؟ سب کچھ جانتے ہوئے بھی وہ انجان بن جاتا ہے تو اس کا مطلب صاف ہے کہ اس کے سامنے اس کے اپنے باہمی مفادات ترجیح رکھتے ہیں۔ اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں پاکستان، بھارت کے خلاف کیا کرتا ہے؟ امریکہ کے اس رویئے سے بار بار باآور ہونے کے باوجود یہ ہی موقف رہا ہے کہ بھارت ان دہشت گردی کے اڈوں کو تباہ نہ کرے۔ اگر امریکہ کا دباؤ نہ ہوتا تو شاید اب تک بھارت کم سے کم کچھ دہشت گرد کیمپوں پر سرجیکل اسٹرائک کر ہی دیتا۔ کب تک بھارتیہ لیڈر یہ امید پالے رکھیں گے کہ پاکستان کی آتنک وادی پالیسیوں پر امریکہ ہماری حمایت کرے گا؟ اس سے سوال اٹھتا ہے کہ بھارت کی پاکستان کے تئیں پالیسی آخر کیا ہے؟ کبھی اس کو گالی دیتا ہے تو کبھی دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہے؟ کیا یہ محض اپنے امریکی آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے ہوتا ہے ۔ امریکہ کی ترجیحات واضح ہیں۔ ہمیں اپنی پوزیشن سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ جتنی جلدی یہ بات ہندوستانی لیڈروں کو سمجھ میں آجائے اتنا ہی دیش کے لئے اچھا ہوگا۔ کل ملاکر ہلیری کلنٹن کا دورۂ بھارت امریکی نقطہ نظر سے کامیاب رہا ہے اور بھارت کو ایک بار پھر جھنجھنا تھما دیا گیا ہے۔
Tags: Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, America, Hillary Clinton, India, Pakistan, Terrorist,
19 جولائی 2011
جب ووٹ بینک کی سیاست دیش کی سلامتی پر بھاری پڑے
تازہ ممبئی حملوں میں کانگریس سکریٹری جنرل دگوجے سنگھ کا رد عمل ٹھیک اسی لائن پر آیا ہے جس کی ان سے امید رکھی جاسکتی ہے۔ بلکہ تعجب تو تب ہوتا جب انہیں اس تازہ بم کانڈ میں ہندو آتنکیوں کا ہاتھ نظر نہ آتا۔تبھی حیرت نہیں ہوئی جب دگوجے سنگھ نے آر ایس ایس پر نشانہ لگاتے ہوئے سنیچر کو کہا کہ ممبئی دھماکوں میں ہندو تنظیموں کے کردار سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ویسے ابھی ممبئی دھماکوں میں آر ایس ایس کا ہاتھ ہونے کے ثبوت نہیں ملے ہیں لیکن جانچ ایجنسیوں کو سبھی نقطوں سے جانچ کرنی چاہئے۔ دگوجے سنگھ نے کہا کہ میں آر ایس ایس کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے ثبوت دے سکتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی اس بات سے پیچھے نہیں ہٹ رہے ہیں۔ وہ دیش میں ہوئے دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے ہندو تنظیموں کا ہاتھ رہا ہے۔ پہلے ہم سمجھتے تھے کہ دگوجے سنگھ جو کہتے ہیں وہ ان کی اپنی سوچ اور حکمت عملی کے تحت ہورہا ہے، کیونکہ ان کا 10 سال کا سیاسی بنواس ختم ہونے جارہا ہے اس لئے وہ اپنی جڑیں سیاست میں جمانا چاہتے ہیں اس لئے انہوں نے اینٹی ہندو لائن اپنا لی ہے تاکہ اقلیتی ووٹ بینک میں اپنی پیٹ بنا سکیں۔ لیکن جیسے ان کے متنازعہ بیانات کی کانگریس اعلی کمان حمایت کرتی ہے اس سے صاف لگتا ہے کہ دگی راجہ کو اعلی کمان کی پوری حمایت حاصل ہے۔ ممبئی میں ہوئے سلسلہ وار دھماکوں کو دگوجے سنگھ نے جس طرح سے آناً فاناً میں فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی ہے اس میں ہمیں امید تھی شاید پارٹی ہائی کمان انہیں سخت پھٹکار لگائے اور اپنے آپ کو اس بیان سے الگ کرے۔ لیکن نہ صرف خاموشی اختیار کر سینئر لیڈر شپ نے اسے اپنی خاموش منظوری دے دی بلکہ یہ بھی جتا دیا کہ ہندو تنظیموں کی زور دار مخالفت اور اس کی سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ دگوجے سنگھ محض مہرے ہیں۔ ابھی تک دگوجے سنگھ کے بیان پر کانگریس ٹوکا ٹاکی کیا کرتی تھی لیکن جس طرح سے کانگریس کے ترجمان شکیل احمد نے کھلے طور پر دگوجے سنگھ کی حمایت کی ہے اس سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ مسلم ووٹ کو پٹانے کے لئے دگوجے سنگھ آج تک جو بھی بولتے رہے ہیں وہ کانگریس لیڈر شپ کی سوچی سمجھی مرحلے وار پالیسی تھی اور ایسے بیہودہ اور بے تکے بیانات کے لئے دگوجے سنگھ کو باقاعدہ نوازا گیا۔ انہیں اس پردیش کا انچارج بنا دیا گیا جہاں کانگریس کی نظر اقلیتی ووٹ بینک پر ٹکی ہوئی ہے۔ اس وقت بھی دگوجے سنگھ اترپردیش اور آسام جیسی مسلم آبادی والے پردیشوں کے انچارج جنرل سکریٹری ہیں۔
یہ بہت شرم کی بات ہے ممبئی دھماکے جیسے مسئلے پر دگوجے سنگھ جیسے سلجھے لیڈر سیاستداں ووٹ بینک کی پالیسی کا کھیل کھیلنے سے باز نہیں آتے۔ ہمارے دیش کے نیتا مطلبی سیاست مفاد کی گھیرے میں کس حد تک گرسکتے ہیں۔ وہ لاشوں پر سیاست کرنے کے ساتھ ساتھ ان مسائل سے بھی فائدہ اٹھانے کی تاک میں رہتے ہیں جو قوم کے لئے شرمندگی کا سبب بنتے ہیں۔ ممبئی بم دھماکوں کے بعدہندوستان بین الاقوامی مورچے پر یہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں رہ گیا کہ وہ دہشت گردی سے اپنے بلبوتے پر لڑ سکتا ہے ۔ مرکزی لیڈرشپ اس واقعات کا کیسے سیاسی فائدہ اٹھایا جائے اس کیلئے بے چین ہے اور انہیں اس بات کی بھی قطعی پرواہ نہیں کہ پاکستان جیسے دیش اس بات کا کتنا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ جہاں تک آر ایس ایس کی دیش کے تئیں وفاداری کا سوال ہے تو کانگریس کے سب سے قد آور لیڈر پنڈت جواہر لال نہرو بھی آن ریکارڈ یہ کہہ چکے ہیں کہ آر ایس ایس کو دہشت گردی سے نہیں جوڑا جاسکتا۔ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کس اس طرح کے اوٹ پٹانگ بیان اگلے سال ہونے والے یوپی اسمبلی چناؤ سے وابستہ ہوسکتے ہیں۔ اس لئے بھاجپا بھی میدان میں کود پڑی ہے۔ سنیچر کو بھاجپا لیڈر شاہنوازحسین نے دگوجے کے بہانے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو بھی لپیٹ لیا ہے۔ راہل سے دگوجے سنگھ کی قربت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ راہل خود جو نہیں کرپاتے وہ دگوجے سنگھ سے کہلواتے ہیں۔ دیش دہشت گردی سے لڑ رہا ہے ایسے میں دگوجے سنگھ کا آر ایس ایس پر الزام لگانا سوائے گندی اور بیہودہ سیاست کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ بھاجپا کے دوسرے سینئر لیڈر مختار عباس نقوی کہتے ہیں کہ دگوجے سنگھ کو بحرے عرب کے کنارے لے جائیں اور ان کے جسم میں موجودہ لادن کی شیطانی روح کو بھگانے کیلئے کچھ جھاڑ پھونک کروائیں۔ دگوجے سنگھ کو زبانی ڈائریا ہوگیا ہے۔ ان کی اپنی زبان اور الفاظ پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ کوئی بھی آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ دگوجے سنگھ زہریلے بیان کی چھوٹ اس امید سے دی گئی ہے تاکہ ہندو تنظیموں کو بے عزت کرنے والے ان کے بیانوں کے ذریعے مسلم سماج کے ووٹ آسانی سے حاصل کئے جاسکیں؟ کانگریس کی اس سوچ سے یہ صاف ہے کہ اس کی نظر میں مسلم سماج تب اس کا ووٹ بینک بنے گا جب اسے ہندو تنظیموں سے ڈرایا جائے گا۔
اسے بد قسمتی ہی کہا جائے گا کہ دہشت گردی جیسے حساس ترین مسئلے پر اس طرح کی گھٹیا ووٹ بینک کی سیاست ہورہی ہے۔ کیا یہ جانچ ایجنسیوں کو غلط سمت میں جانچ کرنے اور انہیں جان بوجھ کر بھٹکانے کا کام نہیں ہے؟ یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ خود وزیر داخلہ پی چدمبرم کہہ چکے ہیں بھگوا آتنک واد دیش کے لئے ایک بڑی چنوتی بن چکا ہے۔ آتنک وادی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ یہ ایک آئیڈیالوجی ہے اور یہ ممکن ہے کہ کچھ مٹھی بھر ہندو بھی اس کے شکار ہوں ۔ لیکن اس کا مطلب یہ قطعی نہیں ہے کہ آپ سارے ہندو سماج کو اس کا ذمہ دار ٹھہرائیں اور انہیں بدنام کریں۔ جیسا کہ آپ مٹھی بھر مسلم دہشت گردوں کے سبب پورے مسلم سماج کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے۔ اگر دگوجے سنگھ کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت ہے تو جانچ ایجنسیوں کو بتائیں تاکہ وہ اس کی باریکی سے چھان بین کرسکیں۔
Tags: Anil Narendra, BJP, Bomb Blast, Daily Pratap, Digvijay Singh, Hindu Terrorism, Mumbai, Terrorist, Vir Arjun
17 جولائی 2011
حکومت ہند کو دہشت گردی پر ’زیرو ٹالرینس ‘پالیسی اپنانی ہوگی
Published On 17th July 2011
انل نریندر
وزیر اعظم منموہن سنگھ اوروزیرداخلہ چدمبرم جب یہ کہتے ہیں کہ ممبئی بم دھماکوں کے قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔ تو عوام کو اب برا سا لگنے لگا ہے اور ایسی کوری تسلیاں سن کر اب عوام اکھڑنے لگی ہے۔منموہن سنگھ نے یہ ہی لفظ 26 نومبر 2008 ء کو بھی ممبئی کے شہریوں سے کہے تھے۔ تب سے لیکر اس حکومت نے کیا کیا ہے؟ کچھ نہیں صرف کورے وعدے۔ ممبئی کے باشندے اب ان کوری تسلیوں سے اکتا چکے ہیں۔ وہ کینڈل مورچہ، امن مورچہ سے ہیومن چین بنا بنا کر عاجز آچکے ہیں۔ عوام کہتی ہے کہ کچھ کرکے دکھاؤ۔ امریکہ سے کچھ تو سبق لو۔ القاعدہ نے 26/11 کو امریکہ پر حملہ کیا تھا اسی وقت امریکہ نے اعلان کردیا تھا کہ وہ تب تک دم نہیں لیں گے جب تک وہ اسامہ بن لادن اور القاعدہ کو ختم نہیں کردیں گے۔ بیشک اس کام میں امریکہ کو دس سال لگے لیکن انہوں نے یہ دکھا دیا کہ وہ اپنے ارادے کے پکے ہیں، جو کہتے ہیں اسے پورا کرنے کی قوت ارادی بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے دشمن کے گھر میں گھس کر دشمن کو تہس نہس کر کے ہی دم لیا۔ آدمی تجربے سے ہی سیکھتا ہے اور مستقبل میں اپنے میں بہتری لاتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ برطانیہ ، اسپین اور دوسرے مغربی دیش ہر دم چوکنے رہ کر دہشت گردوں کے منصوبے کو فیل کرتے آرہے ہیں۔ یہ اس لئے کامیاب ہورہے ہیں کیونکہ انہوں نے ’زیرو ٹالرینس‘ کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ یعنی ایک بھی حملہ ہم برداشت نہیں کریں گے۔ اور ہمارے یہاں حملے پر حملے ہوتے جاتے ہیں اور ہم کوری دھمکیاں دینے سے باز نہیں آتے۔ عزت مآب وزیر داخلہ جی 12 مارچ1993ء سے جولائی 2011ء کے درمیان اکیلے ممبئی میں 8 بم دھماکے ہو چکے ہیں۔ جن میں 682 جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ کیا آپ کو یہ معلوم ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں مرنے والوں کی تعداداب کراچی اور کابل میں مرنے والوں کی تعداد تقریباً برابر پہنچ چکی ہے۔ اکیلے ممبئی 2005ء میں تقریباً394 لوگ مارے جا چکے ہیں جبکہ اسی وقفے میں کراچی میں500 اور کابل میں 520 لوگ مرے۔ اگر پورے مہاراشٹر کی تعداد جوڑی جائے تو یہ تعداد506 بن جاتی ہے۔ ممبئی کو اب دنیا میں سب سے خطرناک شہروں میں شمار کیا جانے لگا ہے اور اس کو آپ کی لچر پالیسی نے بنا دیا ہے۔ چدمبرم نے بڑے زور شور سے این آئی اے یعنی قومی جانچ ایجنسی کا اعلان کیا تھا۔ کیا کیا آپ کی اس این آئی اے نے؟ اگر 26/11 کے بعد میں ہوئے پانچ دیگر حملوں کی بات کریں تو لگتا ہے کہ آپ کی این آئی اے کچھ نہیں کرپائی۔ 26/11 کو ممبئی میں ہوئے آتنکی حملے کے بعد دیش کے الگ الگ حصوں میں ہوئے واقعات کا سراغ ابھی تک نہیں لگایا جاسکا۔ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ ان میں سے تین معاملوں کی جانچ این آئی اے کے ہاتھوں میں ہے۔ 13 فروری کو پنے کی جرمن بیکری، 17 اپریل کو چنئی کے چنا سوامی اسٹیڈیم میں آئی پی ایل میچ سے ٹھیک پہلے دھماکہ، پچھلے سال ستمبر کی آخر میں جامع مسجد دہلی میں گولہ باری، دہلی ہائی کورٹ میں دھماکہ اور وارانسی میں ہوئے بم دھماکوں کا معمہ ابھی تک سلجھ نہیں پایا۔ یاد کرانا چاہیں گے کہ چدمبرم صاحب آپ نے بڑے زور شور سے اعلان کیا تھا کہ این آئی اے کی تکیل وزارت داخلہ نے اس لئے کی ہے تاکہ دیش بھر میں دہشت گردی سے متعلق معاملے سلجھائے جا سکیں۔ اس ایجنسی نے جامع مسجد، وارانسی اور چنا سوامی اسٹیڈیم میں ہوئے واقعات کی گتھی سلجھانے کا بیڑا اٹھایا تھا لیکن ابھی تک کامیابی دور دور تک دکھائی نہیں دیتی۔ وہیں ہائی کورٹ اور جرمن بیکری دھماکوں کو لیکر مقامی پولیس کے ذریعے چھان بین جاری ہے مگر حالات ٹھیک نہیں ہو پارہے ہیں۔اس معاملے میں ایک شخص کی گرفتاری ہوئی ہے لیکن اے ٹی ایس واردات میں اس کے ملوث ہونے کے بارے میں مضبوطی سے ثابت نہیں کرپائی ہے۔ ان معاملوں میں جانچ کی سوئی آتنکی تنظیم انڈین مجاہدین پر گھومتی رہی ہے لیکن ابھی تک ایجنسی کو اس کے ملوث ہونے کے پختہ ثبوت ابھی تک حاصل نہیں کرپائی ہے۔ ایک آدھ معاملے میں اگر کوئی معاملہ عدالت جاتا ہے تو وہ بھی ثبوتوں کی کمی کی وجہ سے ٹھپ ہوجاتا ہے۔ بم دھماکوں کے مجرم اکثر معاملوں میں بری ہوجاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جانچ ایجنسی لچر طریقے سے ثبوت اکٹھا کرتی ہیں اور ایسے ثبوت عدالت میں پختہ طور پر ٹھہر نہیں پاتے۔ دیش میں بم دھماکوں کے مقدمے سے وابستہ وکیل بھی تصدیق کرتے ہیں کہ جانچ ایجنسیاں ثبوت حاصل کرنے کے معاملے میں اکثر ڈھیلا ڈھالا غیر پیشہ ور رویہ اختیار کرتی ہیں جس سے ملزم چھوٹ جاتے ہیں اور جانچ ایجنسیوں کو کورٹ کی لتاڑ جھیلنی پڑتی ہے اور وہ پہلے کی طرح ٹال مٹول کے رویئے پر چلنے لگتی ہیں۔ ایسے بھی معاملے سامنے آئے ہیں جب زبردستی قبول نامے کی بنیاد پر جھوٹا مقدمہ بنا دیا گیا ہو۔ یوپی اے سرکار نے ٹاڈا ہٹانے میں بہت جلد بازی کی لیکن آج تک اس کی جگہ ایسا کوئی موثر قانون نہیں بنایا گیا جس سے دہشت گردوں کو سزا دلوا سکیں۔ دیش کی سکیورٹی ایجنسیوں کے لئے خطرہ بنے آتنک واد سے نمٹنے کے لئے آج بھی کوئی موزوں قانون دیش میں موجود نہیں ہے۔ اب تک 2005 ء سے لیکر7 دسمبر 2010ء تک چھوٹے بڑے کل ملا کر 21 آتنکی حملے ہوچکے ہیں۔
ممبئی میں تازہ بم دھماکوں کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ کہیں نہ کہیں ضرور ہے۔ امریکی میڈیا میں بھی یہ ہی کہا جارہا ہے۔ امریکی میڈیا نے ان دھماکوں پر لکھا ہے کہ ان دھماکوں نے پاکستان کی جانب سے آتنکیوں کے خلاف کی جارہی کارروائی کے اثر پر پھر سے سوالیہ نشان لگا دئے ہیں اور اس کے پیچھے لشکر کا ہاتھ ہونے کا شبہ ہے جس نے 2008 میں بھی ممبئی میں آتنکی حملہ کروایا تھا۔ جانچ سے چاہے جو بھی پتہ چلے لیکن ایک چیز صاف ہے کہ پاکستان پر بین الاقوامی برادری کے بھاری دباؤ کے باوجود یہ سبھی گروپ ابھی بھی وہاں سے اپنی سرگرمیوں کو چلا رہے ہیں اور حکومت ہند کوئی سخت قدم اٹھانے کی جگہ دوستی کا ہاتھ بڑھا رہی ہے۔ بھارت سرکار اب تک ممبئی کے پچھلے حملوں میں پاکستان میں جاری مقدمے کو آگے نہیں بڑھواسکے اور قصورواروں کو سزا دلوانا تو دور رہا ،پاکستان سے بات چیت کا کیا تک ہے، یہ اپنی سمجھ سے باہر ہے۔ پاکستان کے چال چلن میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔ آج بھی اس کی ٹیرر اسٹیٹ پالیسی ہے ۔ پاک نواز آتنکی تنظیموں کے نشانے پر آج بھی ممبئی ،دہلی اور بنگلورو جیسے بڑے شہر ہیں۔ ہم جب تک ’زیرو ٹالرینس‘ کی پالیسی پر نہیں چلتے تب تک ان دھماکوں کا سلسلہ رکنے والا نہیں ہے۔ ایک بھی حملہ ہم اب برداشت نہیں کریں گے۔ ہمارے وزیر اعظم یا وزیر داخلہ میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ لشکر یا انڈین مجاہدین کا اس حملے کے پیچھے ہونے کی بات کہہ سکے یا اشارہ تک کر سکے؟ انڈین مجاہدین اور پاکستان کی لشکر طیبہ کے درمیان رشتے رہے ہیں۔ سرکار آج تک پاکستان سے ممبئی حملوں کے پیچھے ماسٹر مائنڈ سے پوچھ تاچھ کرنے کی اجازت تک نہیں لے سکی ہے جبکہ واحد زندہ بچے دہشت گرد عامر اجمل قصاب کو سینے سے چپکائے ہوئے ہے اور افضل گورو کو بھی شوپیس بنا کر رکھا ہوا ہے۔ کیوں نہیں اب افضل گورو کو پھانسی پر لٹکا دیتی تاکہ ان آتنکیوں کو ایک صاف اشارہ دیا جائے؟ آج ان جلاسوں ،ریبیٹی، گل کی یاد آتی ہے جب انہو ں نے پنجاب میں آتنکیوں کو یہ سندیش دیا تھا کہ تم ایک مارو تو ہم دس ماریں گے، گولی کا جواب گولی سے دیا جائے گا۔ یوں ہی پنجاب میں آتنک واد ختم نہیں ہوا تھا۔ اس کے پیچھے ٹھوس حکمت عملی تھی۔ سرکار کی قوت ارادی تھی اور سکیورٹی فورس کو اپنے حساب سے کارروائی کرنے کی کھلی چھوٹ تھی۔
دیش کی جنتا اس سرکار کی آتنک واد سے نمٹنے کی ٹال مٹول کی پالیسی سے تنگ آچکی ہے۔ اگر یہ کہیں کہ جنتا ’زیرو ٹالرینس‘ پر آچکی ہے تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ممبئی کے شہریوں کو آخر کب تک اسی طرح دہشت کے سائے میں جینا پڑے گا؟ ایک بھی دہشت گرد حملہ آخر کیوں برداشت کیا جائے؟ لوگ یہ سنتے سنتے عاجز آچکے ہیں کہ ہم ایک خطرناک پڑوس میں رہتے ہیں ان کے کان یہ سن کرپک چکے ہیں کہ ہم ان قصورواروں کو نہیں بخشیں گے۔ جنتا کو سکیورٹی کی گارنٹی چاہئے تاکہ وہ بے خوف زندگی جی سکیں۔ بیشک ان کے روٹین پر لوٹنا کچھ حد تک ضروری ہے لیکن اس کا مطلب سرکار کو یہ نہیں نکالنا چاہئے کہ وہ سب طرح کی کوری بکواس ہضم کرنے کو تیار ہے۔ اگر کوئی لیڈر آتنکی حملے کا شکار ہوتا ہے تو بھی کیا سرکار کا یہ ہی رخ ہوتا؟ یہ تو بیچارے بھولے بھالے معمولی عوام ہیں جو مارے جاتے ہیں لیکن سرکار کو جنتا کے موڈ کو سمجھنا ہوگا۔ جنتا چیخ چیخ کر پکار رہی ہے ’’بس اب اور نہیں‘‘۔
ممبئی میں تازہ بم دھماکوں کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ کہیں نہ کہیں ضرور ہے۔ امریکی میڈیا میں بھی یہ ہی کہا جارہا ہے۔ امریکی میڈیا نے ان دھماکوں پر لکھا ہے کہ ان دھماکوں نے پاکستان کی جانب سے آتنکیوں کے خلاف کی جارہی کارروائی کے اثر پر پھر سے سوالیہ نشان لگا دئے ہیں اور اس کے پیچھے لشکر کا ہاتھ ہونے کا شبہ ہے جس نے 2008 میں بھی ممبئی میں آتنکی حملہ کروایا تھا۔ جانچ سے چاہے جو بھی پتہ چلے لیکن ایک چیز صاف ہے کہ پاکستان پر بین الاقوامی برادری کے بھاری دباؤ کے باوجود یہ سبھی گروپ ابھی بھی وہاں سے اپنی سرگرمیوں کو چلا رہے ہیں اور حکومت ہند کوئی سخت قدم اٹھانے کی جگہ دوستی کا ہاتھ بڑھا رہی ہے۔ بھارت سرکار اب تک ممبئی کے پچھلے حملوں میں پاکستان میں جاری مقدمے کو آگے نہیں بڑھواسکے اور قصورواروں کو سزا دلوانا تو دور رہا ،پاکستان سے بات چیت کا کیا تک ہے، یہ اپنی سمجھ سے باہر ہے۔ پاکستان کے چال چلن میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔ آج بھی اس کی ٹیرر اسٹیٹ پالیسی ہے ۔ پاک نواز آتنکی تنظیموں کے نشانے پر آج بھی ممبئی ،دہلی اور بنگلورو جیسے بڑے شہر ہیں۔ ہم جب تک ’زیرو ٹالرینس‘ کی پالیسی پر نہیں چلتے تب تک ان دھماکوں کا سلسلہ رکنے والا نہیں ہے۔ ایک بھی حملہ ہم اب برداشت نہیں کریں گے۔ ہمارے وزیر اعظم یا وزیر داخلہ میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ لشکر یا انڈین مجاہدین کا اس حملے کے پیچھے ہونے کی بات کہہ سکے یا اشارہ تک کر سکے؟ انڈین مجاہدین اور پاکستان کی لشکر طیبہ کے درمیان رشتے رہے ہیں۔ سرکار آج تک پاکستان سے ممبئی حملوں کے پیچھے ماسٹر مائنڈ سے پوچھ تاچھ کرنے کی اجازت تک نہیں لے سکی ہے جبکہ واحد زندہ بچے دہشت گرد عامر اجمل قصاب کو سینے سے چپکائے ہوئے ہے اور افضل گورو کو بھی شوپیس بنا کر رکھا ہوا ہے۔ کیوں نہیں اب افضل گورو کو پھانسی پر لٹکا دیتی تاکہ ان آتنکیوں کو ایک صاف اشارہ دیا جائے؟ آج ان جلاسوں ،ریبیٹی، گل کی یاد آتی ہے جب انہو ں نے پنجاب میں آتنکیوں کو یہ سندیش دیا تھا کہ تم ایک مارو تو ہم دس ماریں گے، گولی کا جواب گولی سے دیا جائے گا۔ یوں ہی پنجاب میں آتنک واد ختم نہیں ہوا تھا۔ اس کے پیچھے ٹھوس حکمت عملی تھی۔ سرکار کی قوت ارادی تھی اور سکیورٹی فورس کو اپنے حساب سے کارروائی کرنے کی کھلی چھوٹ تھی۔
دیش کی جنتا اس سرکار کی آتنک واد سے نمٹنے کی ٹال مٹول کی پالیسی سے تنگ آچکی ہے۔ اگر یہ کہیں کہ جنتا ’زیرو ٹالرینس‘ پر آچکی ہے تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ممبئی کے شہریوں کو آخر کب تک اسی طرح دہشت کے سائے میں جینا پڑے گا؟ ایک بھی دہشت گرد حملہ آخر کیوں برداشت کیا جائے؟ لوگ یہ سنتے سنتے عاجز آچکے ہیں کہ ہم ایک خطرناک پڑوس میں رہتے ہیں ان کے کان یہ سن کرپک چکے ہیں کہ ہم ان قصورواروں کو نہیں بخشیں گے۔ جنتا کو سکیورٹی کی گارنٹی چاہئے تاکہ وہ بے خوف زندگی جی سکیں۔ بیشک ان کے روٹین پر لوٹنا کچھ حد تک ضروری ہے لیکن اس کا مطلب سرکار کو یہ نہیں نکالنا چاہئے کہ وہ سب طرح کی کوری بکواس ہضم کرنے کو تیار ہے۔ اگر کوئی لیڈر آتنکی حملے کا شکار ہوتا ہے تو بھی کیا سرکار کا یہ ہی رخ ہوتا؟ یہ تو بیچارے بھولے بھالے معمولی عوام ہیں جو مارے جاتے ہیں لیکن سرکار کو جنتا کے موڈ کو سمجھنا ہوگا۔ جنتا چیخ چیخ کر پکار رہی ہے ’’بس اب اور نہیں‘‘۔
Tags: 13/7, 26/11, Afzal Guru, Anil Narendra, Bomb Blast, Daily Pratap, Indian Mujahideen, Kasab, Lashkar e Toeba, Manmohan Singh, NIA, P. Chidambaram, Pakistan, Politician, Terrorist, Vir Arjun
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
طالبہ کے پتا کا حملہ آور گرفتار !
کاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کے دوران ایک دلت نابالغ طالبہ کے والد پر قاتلانہ حملہ کے الزام میں خودساختہ اپنے آپ کو ہندو وادی و...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...

