Translater

India لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
India لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

20 جولائی 2012

ہند ۔ پاک کرکٹ میچوں کا متنازعہ فیصلہ

مرکزی سرکار نے بھارتیہ کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کو پاکستان کے ساتھ تین ایک روزہ اور دو ٹوئنٹی میچ کھیلنے کیلئے ہری جھنڈی دے دی ہے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان کرکٹ رشتے بحال کرنے کا فیصلہ بی سی سی آئی کی ورکنگ کمیٹی نے لیا۔ بورڈ نے ایک بیان میں بتایا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو دسمبر2012ء سے2013ء کے درمیان تین ایک روزہ ،دو ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کھیلنے کے لئے مدعو کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ کولکتہ، چنئی ،دہلی میں ایک روزہ جبکہ بنگلورو اور احمد آباد میں ٹی ٹوئنٹی کے مقابلے ہوں گے۔ بورڈ کے سینئر ممبر راجیو شکلا کے مطابق پی چدمبرم نے وزارت داخلہ کی طرف سے اس سیریز پر کسی طرح کا اعتراض نہ ہونے کی بات کہی ہے۔ حالانکہ وزارت نے اس فیصلے کے تئیں کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی ہے۔ اتنا ہی نہیں وزارت خارجہ سے بھی ہری جھنڈی ملنے کی اطلاع ہے۔ مرکزی سرکار اور بی سی سی آئی کا یہ فیصلہ حیرت اور ساتھ ہی سوال کرنے والا ضرور ہے۔ دیش کی عوام کے دل میں یہ سوال اٹھنا فطری ہی ہے کہ آخر اس درمیان ایسا کیا خوشگوار معاملہ ہوا جس سے بھارت سرکار نے پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو ملک میں کھیلنے کی اجازت دے دی؟ ابھی بھی تو نئے سرے سے یہ سامنے آیا ہے کہ ممبئی حملے میں پاکستان کی سرکاری ایجنسیوں کی ساجھیداری تھی۔چونکانے والی بات یہ ہے کہ قصاب ، ڈیوڈ ہیڈلی اور ابو جندال کے خلاصوں کے بعد بھی پاکستان نے 26/11 کے گنہگاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس فیصلے کی سنیل گواسکر نے بھی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے ممبئی کے باشندہ ہونے کے ناطے مجھے لگتا ہے کہ جب ممبئی حملے کی جانچ میں پاکستان سے تعاون نہیں مل رہا ہے تو میچ کے انعقاد میں جلد بازی کیوں کی گئی؟ بھاجپا ترجمان شاہنواز حسین کا تبصرہ دلچسپ تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ میچ کے لئے پہلے بھی بھارت آچکی ہے ،اب ممبئی حملے کے گنہگار آتنکیوں کی ٹیم کو بھی بھارت بلایا جانا چاہئے۔ سپا لیڈر ابو اعظمی کا کہنا تھا ممبئی حملے کے ذمہ داردیش کے ساتھ ہم کیسے کھیل رشتے رکھ سکتے ہیں۔ میں نے اسی کالم میں آئی پی ایل میچوں کے دوران تجویز رکھی تھی کہ جب پاکستان امپائر آسکتے ہیں تو اظہر محمود لندن کے ذریعے آسکتے ہیں تو پاکستانی کھلاڑیوں کے آئی پی ایل کھیلنے پر پابندی کیوں۔ آئی پی ایل میں پاکستانی کھلاڑیوں کا کھیلنا سمجھ میں آتا ہے کیونکہ وہ بھارت سرکار کے مدعو کردہ نہیں ہیں لیکن بھارت۔ پاک سیریز وہ بھی بھارت سرکار کی دعوت پر کھیلی جائے تو اور بات بن جاتی ہے۔ آج بھارت سمیت سبھی مہذب دنیا کا پاکستان پر دہشت گردی پر لگام لگانے کا دباؤ بڑھ رہا ہے ایسے وقت پاکستان کے ذریعے آتنک واد پر منفی نظریہ دکھانے کے باوجود انہیں اپنے دیش میں بلانا کیا مناسب ہوگا؟ ہمیں نہیں معلوم کے اس فیصلے کے پیچھے مرکزی سرکار کی کیا رائے ہے لیکن شبہ یہ ہی جاتا ہے کہ پاکستان کے تئیں ان کی پالیسی پہلے کی طرح ٹال مٹول والی بنی ہوئی ہے۔ بیشک بھارت سرکار کی پالیسی ٹال مٹول والی ہو لیکن پاکستان کا رویہ دہشت گردی کے تئیں پرانا ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اس سے زیادہ مایوس کن اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو بھارت آکر کھیلنے کی اجازت دینے کے 24 گھنٹے کے اندر وہیں کی ایک عدالت نے ممبئی حملے کی جانچ کے لئے بنائے گئے کمیشن کی رپورٹ کو غیر قانونی بتاتے ہوئے سرے سے خارج کردیا۔ اس سے یہ پرانا سوال نئے سرے سے اٹھنا فطری ہے کہ کیا پاکستان ممبئی حملے کی سازش رچنے والوں کو سزا دینے کیلئے ذرا بھی خواہشمند ہے؟ یہ سوال اس لئے اور سنجیدہ ہوجاتا ہے کہ کیونکہ ممبئی حملے کی سازش رچنے کے 7 آتنکیوں کے خلاف سماعت شروع ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔

05 مئی 2012

سردار پٹیل نے62 برس پہلے ہی کہہ دیا تھا چین ہمارا دوست نہیں ہوسکتا



Published On 5 May 2012
انل نریندر

ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم کے چناؤ کے 25 برس بعد چکرورتی راج کوپالاچاری نے لکھا تھا ''بلا شبہ بہتر ہوتا اگر نہرو کو وزیر خارجہ اور سردار پٹیل کو وزیر اعظم بنایا جاتا۔ اگر پٹیل کچھ دن اور زندہ رہتے تو وزیر اعظم کے عہدے پر ضرور فائض ہوتے جس کے لئے ممکنہ طور پر ایک اہل شخصیت تھے۔تب بھارت سے کشمیر ، تبت، چین اور ان سلجھے تنازعوں کی کوئی پریشانی نہ رہتی۔''سردار پٹیل نے 1950میں ہی کہہ دیاتھا ہماری سکیورٹی کے اقدام ابھی تک پاکستان سے عمدہ تھے اب ہمیں سامراج وادی چین کے حساب سے اپنی خوبیوں پر توجہ دینی ہوگی۔ چین کی یقینی توقعات و مقاصد ہیں اور وہ کسی بھی طرح سے ہمارے تئیں دوستی کا برتاؤ نہیں رکھ سکتا۔ 62 برس پہلے سردار پٹیل نے دو صفحات میں حالات پر سنجیدہ اور اپنے نقطہ نظر پر روشنی ڈالی اور دوررس پالیسیاں بھی تجویز کی تھیں جو آج کہیں زیادہ ضروری ہوچلی ہیں۔ سردار پٹیل نے پہلا خط پنڈت جواہر لال نہرو کو11 نومبر1950 ء کو لکھا تھا اس میں سردار پٹیل لکھتے ہیں کہ تازہ اور تلخ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ سامراج واد سے بچنے کا کوئی کوچ نہیں ہے اور یہ سامبھے واری اتنے ہی اچھے یا برے ہیں جتنے کے دوسرے۔ اس سلسلے میں چینیوں کی توقعات ہماری طرف سے نہ صرف ہمالیہ کی ڈھلانوں کو ڈھک لیتی ہیں ورنہ ا س میں آسام کے اہم حصے بھی شامل ہیں۔ برما میں ان کی توقعات ہیں مغربی طاقتوں کے سامراج واد یا فروغ سے چینی کلچر سامبھے سامراج واد مختلف ہے اور یہ ماضی کے اصولوں کا ایک قابل دید کردار ہے جو اسے10 گنا زیادہ خطرناک بناتا ہے۔ اصولی فروغ کے پیچھے چھپے ہیں ذات پات ،قومی یا تاریخی دعوے اس لئے شمال مشرق سے خطرہ سامبھے وادی اور سامراج وادی دونوں سے ہے جبکہ سکیورٹی کا ہمارا مغربی اور شمال مشرقی خطرہ پہلے ہی کی طرح سے بڑھا ہے۔ ایک طرح پہلی بار جارحیت کے بعد بھارت کو اپنی حفاظت کے بارے میں ایک ساتھ دو جگہوں پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ ہماری سلامتی کے اقدام ابھی تک پاکستان سے اچھے تھے۔ اب ہمیں نارتھ اور نارتھ ایسٹ میں کمیونسٹ چین کے مطابق اپنی شماریات کی توجہ رکھنی ہوگی۔ کمیونسٹ چین جس کی یقینی خواہش اور مقصد ہے اور جو کسی بھی طرح سے ہمارے تئیں دوستی جیسا برتاؤ نہیں رکھ سکتا۔
چین نے جب بھارت کو دھمکی دی تھی تب سردار پٹیل نے 4 نومبر1950ء کو وزارت خارجہ کے اس وقت کے سکریٹری جنرل گریج شنکرواجپئی کو ایک خط لکھا تھا اس میں سردار نے لکھا تبت میں چین کے آنے سے ہماری سلامتی گڑبڑا گئی۔ پہلی بار نارتھ اور نارتھ ایسٹ میں خطرہ پیدا ہورہا ہے۔ اسی کے ساتھ مغربی لداخ اور نارتھ ویسٹ کی طرف بھی خطرہ کم نہیں ہے۔ میں اس سے مکمل طور پر متفق ہوں کہ ہم اپنی سرحدوں کی حالت پر دوبارہ سے نظرثانی کریں اور اپنی فوجوں کو پھر سے سرگرم کرنے کو ہم نظرانداز نہیں کرسکتے۔ چین سے لگی ہندوستانی سرحدوں پر واقع علاقوں کی تہذیب بھی چین سے ہی ایک طرح سے جڑی ہوئی ہے۔ چین کی سیاسی توقعات اپنے آپ میں اتنی معنی نہیں رکھتی لیکن جب اسے کوئی موقعہ ملتا ہے تو اس کی فوج ان دیہات میں دراندازی سے گریز نہیں کرتی۔ ہندوستان اور کمیونسٹ چین کے رشتوں میں اس سے کئی بار تلخی آجاتی ہے۔ ہمیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئے کہ سرحد کے تنازعہ جو تاریخ میں کئی بار عالمی تنازعات کے سبب بنا ہوا ہے کا فائدہ کمیونسٹ چین کے ذریعے اٹھایا جاسکتا ہے۔ ہمیں اپنے دیش میں اور آس پاس ناپسندیدہ اور موقعہ پرست طاقتوں پرتوجہ دینی ہوگی۔ میری تجویز کے مطابق ہمیں ان سے نہ صرف چوکس رہنے کی ضرورت ہے بلکہ کچھ حد تک ان کے ساتھ خوشگوار برتاؤ بھی کرنا چاہئے۔ سردار پٹیل نے 62 برس پہلے ہی چین سے خطرے کے بارے میں آگاہ کیا تھا لیکن پنڈت نہرو پر 'ہندی چینی بھائی بھائی' کا اتنا بھوت سوار تھا کہ انہوں نے سردار کی وارننگ پر غور تک نہیں کیا۔
Anil Narendra, China, Daily Pratap, India, Sardar Patel, Vir Arjun

11 اپریل 2012

زرداری کچھ ٹھوس یقین دہانی کی پوزیشن میں نہیں ہیں



Published On 11 March 2012
انل نریندر
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری بھارت کے بلاوے پر ہندوستان نہیں آئے۔ وہ اپنی مرضی سے اجمیر کی زیارت کیلئے بھارت آئے تھے۔انہوں نے زیارت ہی کی، دہلی تو انہیں اس لئے آنا پڑا کیونکہ راستہ یہیں سے بنتا تھا۔ وہ سیدھے اجمیر تو نہیں جاسکتے تھے۔ جب وہ دہلی آہی رہے تھے تو بھارت اپنی مہمان نوازی کو کیسے بھول سکتا تھا۔ ہندوستان کے وزیر اعظم نے اس کے لئے دوپہر کا لنچ رکھا۔ دونوں نیتاؤں میں بند کمرے میں 40-45 منٹ بات چیت ہوئی۔بعد میں کہا گیا کہ بھارت نے آتنک واد اور خاص کر حافظ سعید پر کارروائی کا اشو اٹھایا۔منموہن سنگھ نے 26/11 کے گنہگاروں کو سزا دینے پر زوردیا۔ بتایا جاتا ہے ہند کے خلاف پاک سرزمین سے سر اٹھا رہے آتنک واد کو کچلنے کے لئے صدر زرداری کی توجہ مرکوز کرائی۔ ادھر زرداری صاحب نے کشمیر کے سرکریک، سیاچن اشو کو سلجھانے پر زوردیا۔ پاکستانی سیاستداں خلیل چشتی کی قید کا مسئلہ پاکستان کی جانب سے اٹھایا گیا لیکن منموہن سنگھ نے سربجیت سنگھ کی پھانسی کا اشو اٹھانا مناسب نہیں سمجھا۔ اپنی اپنی رائے ہوسکتی ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ صدر زرداری کے اس دورہ کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی۔ آج کی تاریخ میں ان کی اپنے ملک میں حالت بہت کمزور ہے۔ ایک طرف فوج اور دوسری طرف پاکستان سپریم کورٹ زرداری صاحب کی مقبولیت پر زیرو پر ہے۔ ایسے وقت جب ان پر اپنے ملک میں اتنا دباؤ ہو پتہ نہیں کے اجمیر شریف وہ کیا دعا مانگنے آئے تھے؟ ساتھ ہی بیٹے کو بھی لے آئے۔ بیٹے بلاول کو بھی ایک طرح سے بین الاقوامی منظر پر متعارف کرادیا۔ زرداری صاحب کی کوشش یہ ہی ہوگی کہ ان کے بعد نوجوان لیڈر بلاول پاکستان میں اقتدار سنبھالیں۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ دونوں ملکوں کے یووراج(راہل اوربلاول) کا آپس میں ملنا اچھا رہا۔ بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ اور زرداری کے درمیان 40 منٹ کی ون ٹو ون بات چیت ہوئی۔ اس میں ہمیں تو شبہ ہے کہ محض 40 منٹ کی بات چیت میں کشمیر، دہشت گردی، سیاچن، سرکریک، ویزا سہولت، حافظ سعید، 26/11کے قصورواروں کو سزا دلوانا ، تجارت سے لیکر کرکٹ وغیرہ اشوز پر مفصل بات چیت کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی۔ بس ابھی تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان اشوز پر سرسری طور پر تبادلہ خیال ہوا۔ مستقبل کا روڈ میپ تیار ہوا ہے۔ زرداری صاحب آج اس صورت میں نہیں ہیں کہ وہ کسی بھی اشو پر کسی بھی طرح کا تبصرہ کرسکیں۔ پاکستان میں اصل اقتدار پاکستانی فوج کے پاس ہے۔ وہی فیصلہ کرتی ہے کسی اشو پر پاکستان کی کیا پالیسی ہونی چاہئے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستانی لیڈر بھارت میں تو وعدہ کرجاتے ہیں لیکن اپنے وطن پہنچ کر وعدے سے مکر جاتے ہیں۔ زرداری صاحب کے سسر مرحوم ذوالفقار علی بھٹو جب شملہ معاہدے کے لئے بھارت آئے تھے تو طرح طرح کی باتیں ،وعدے کر گر تھے، لیکن پاکستان لوٹتے ہی وہ سب سے مکر گئے۔ زرداری صاحب کے پاس آج کی طرح کوئی مینڈیٹ نہیں ہے وہ کسی بھی اشو پر بھارت سے بات چیت کرسکیں۔اس ملاقات سے نہ تو ادھر اور نہ ادھر کوئی خاص امید لگائی گئی تھی۔ زرداری صاحب آج اپنے گھر میں بری طرح سے مسائل سے گھرے ہوئے ہیں ویسے دیکھا جائے تو بھارت کے وزیر اعظم بھی کم گھرے ہوئے نہیں ہیں لیکن پاکستان میں جس طرح کی پریشانی سے زرداری صاحب دوچار ہیں وہ بھارت سے بالکل برعکس ہے۔ پاکستان کی مشکل اس کی فوج اور خفیہ ایجنسی ہی نہیں ، اس کے اندرونی حالت بھی ہیں۔ اس کے سامنے نیا بحران امریکہ سے خراب رشتے کا بھی ہے۔ حالانکہ پاکستان امریکہ کو چنوتی دیتا نظر آرہا ہے لیکن اس کی اہم وجہ پاکستان میں امریکہ کے تئیں بڑھتی ناراضگی ہے۔ پاکستان اکیلے چین کی حمایت پر ساری دنیا سے نہیں لڑ سکتا اس لئے بھی پاکستان کی اب کوشش ہے کہ پڑوسی بھارت سے رشتے بہتر ہوں۔ کچھ لوگوں نے تو یہاں تک کہا ہے کہ زرداری کسی کے اشارے پر بھارت آئے۔ پچھلے کچھ دنوں سے دہشت گردی کا اشو چھوڑ کر تجارت وغیرہ سیکٹر میں پاکستان کے رویئے میں تھوڑی تبدیلی آئی ہے لیکن پاکستان کو یہ سمجھنا ہوگا بھارت کو اس سے سب سے بڑی شکایت دہشت گردی کو اپنی سرزمین پر بڑھاوا دینا ہے اور اس پر کسی بھی طرح کا کنٹرول آصف زرداری لگانے میں اہل نہیں ہیں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حافظ سعید پر ان کی رائے وہی ہے جو پاکستان سرکار کی ہے۔ ان کا دوسرا اہم تبصرہ یہ تھا کہ انہیں پاکستان سے جانے کے لئے کہہ دیا گیا تھا ۔ ان دونوں بیانات کے اشاروں سے یہ ہی کہہ سکتے ہیں کہ بھارت ان سے بہت امید نہ کرے۔ بات صحیح بھی ہے فوج کے سربراہ جنرل پرویز کیانی اور آئی ایس آئی و جہادی نیتا ہی پاکستانی اقتدار میں اصلی کرتا دھرتا ہیں۔
Ajmer Shrif, Anil Narendra, Asif Ali Zardari, Bilawal Bhutto, Daily Pratap, India, Pakistan, Rahul Gandhi, Vir Arjun

22 مارچ 2012

وراٹ کوہلی اس وقت دنیا کے پہلے ون ڈے بلے باز ہیں



Published On 22 March 2012
انل نریندر
ایشیا کپ کرکٹ کے اہم میچ میں بنگلہ دیش نے سری لنکا کو ہرا کر پہلی بار فائنل میں اینٹری کی ہے۔ اب بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان فائنل ہوگا۔ بھارت تو باہر ہوگیا ہے۔ پاکستان کے خلاف اتنا اچھا کھیلنے کے بعد بھی ٹیم انڈیا کے باہر ہونے کا سبھی کو دکھ ہے۔ ایک سوال جو کیا جارہا ہے کہ کیا سری لنکا جان بوجھ کر بنگلہ دیش سے ہارا ہے ،تاکہ فائنل میں بھارت داخل نہ ہوسکے؟ جس سری لنکا کے ایک گیندباز نے بھارت کے ساتھ ایک برس پہلے ہوئے مقابلے میں آخری گیند پر جب بھارت کو جیت کے لئے ایک رن چاہئے تھا اور وریندر سہواگ 99 رن پر ناٹ آؤٹ تھے کی سنچری روکنے کے لئے جان بوجھ کر نو بال ڈال دی ہو تو اس سری لنکا سے عمدہ کھیل کے جذبے کی امید نہیں کی جاسکتی۔ پورے دیش میں یہی بحث تھی کہ اس نوراکشتی کی مار بھارت پر ہی پڑے گی۔ سری لنکا نے بلے بازی ،گیند بازی اور فیلڈنگ میں محض خانہ پوری کرتے ہوئے جیت بنگلہ دیش کو دلا دی۔ وجہ ایک تھی کہ جس بھارت نے سری لنکا کو دھول چٹا رکھی ہے وہ فائنل میں نہ پہنچ سکے۔ بنگلہ دیش کی کامیابی کے ساتھ ہی پانچ بار چمپئن بھارت فائنل کی دوڑ سے باہر ہوگیا۔ حالانکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے برابر 8 پوائنٹ ہیں لیکن جواں ٹیم نے چونکہ بھارت کو ہرایا تھا اس لئے اسے فائنل کا ٹکٹ مل گیا۔ بیشک ٹیم انڈیا فائنل میں نہیں پہنچ سکی لیکن اس سیریز میں بھارت کے کم سے کم دو بہت بڑے کارنامے رہے۔ پہلا سچن کا 100 ویں سنچری اور دوسرے وراٹ کوہلی جو ایک انتہائی اہم بلے باز کی شکل میں ابھرے ہیں۔ اس 23 سالہ مغربی دہلی کے نوجوان کھلاڑی کا نام اب دنیا کے سرکردہ بلے بازوں کی فہرست میں شامل ہوچکا ہے۔جب وہ بلے باز کرتے ہیں تو مخالف کا بڑے سے بڑا اسکور بھی بونا پڑ جاتا ہے۔ تین ہفتے میں دو بار اکیلے اپنے دم خم سے وراٹ نے ٹیم انڈیا کو جیت کا سہرہ پہنایا ہے۔ ایتوار کو کوہلی کی 148 گیندوں میں 183 رن کی وجہ سے ٹیم انڈیا نے ایک نیا ریکارڈ قائم کردیا۔ اس ریس میں 'برا نہ مانو کوہلی ہیں' یہ ایس ایم ایس پورے میر پور میں گونجتا رہا۔
پچھلے سال وراٹ کوہلی نے ون ڈے کا سب سے زیادہ اسکور بنایا تھا۔ اس سے پہلے وہ دوسرے نمبر کے سب سے زیادہ اسکور بنان والے کھلاڑی رہے اس لئے یہ کہنا شاید غلط نہ ہوگا کہ اس وقت وراٹ کوہلی دنیا کے سب سے پہلے ون ڈے بلے باز بن گئے ہیں۔ حالانکہ وراٹ کوہلی کی اس شاندار فارم پر سب کو ناز ہے لیکن انہیں اپنے برتاؤ میں بہتری لانی چاہئے۔ غصہ ،غرور اچھے اچھے کو دھول چٹا دیتا ہے۔ کچھ نجومیوں کا کہنا ہے کہ ان کو غصہ اس لئے آتا ہے کہ وہ 18 نمبر کی جرسی پہنتے ہیں اس کا جوڑ ہوتا ہے9 یہ اچھا جوڑ نہیں ہے۔ ان کے مطابق وراٹ کو ایسی جرسی پہننی چاہئے جس جوڑ 5 ہو جیسے 14،321 ۔وراٹ کی پیدائش کا نمبر پانچ ہے۔ وہ23 برس کے ہیں جس کا جوڑ بھی 5 ہے۔ یہ سال 2012ء ہے جس کا نمبر بھی 5 بنتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ سال ان کے لئے خاص ہے۔ ان کے غصے اور غرور کے سبب انہیں ٹیم انڈیا کا 'اینگری ینگ مین' بھی کہا جارہا ہے۔
Anil Narendra, Cricket Match, Daily Pratap, India, Vir Arjun, Virat Kohli

12 فروری 2012

مالدیپ میں تختہ پلٹ کیا بھارت کے مفاد میں ہوگا؟

بھارت کی بدقسمتی کہیں یا پھر ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی کہیں ہم اپنے پڑوسیوں کے معاملے میں فیل ہوتے جارہے ہیں۔ محض 400 کلو میٹر کی دوری پر واقع بحر ہند میں جزیروں میں بسا مالدیپ اب بھارت کے لئے ایک نئی تشویش کا سبب بنتا جارہا ہے۔بھارت کا پڑوس غیرسلامتی کے ماحول اور فوجی چنوتیاں پیدا کرتا رہتا ہے۔ مالدیپ میں تختہ پلٹ جیساواقعہ کچھ اسی طرح کی چنوتی کا اشارہ ہے۔ حالانکہ مالدیپ کے صدر محمد نشید نے اپنے دیش کو خون خرابے سے بچالیا۔ لیکن انہیں نہ صرف استعفیٰ ہی دینا پڑا بلکہ اب جیل یاترا بھی کرنی پڑرہی ہے۔ مالدیپ میں اس تبدیلی اقتدار کی خاص وجہ سابق ڈکٹیٹرمعمون عبدالقیوم کی مبینہ ہمدردی اور انتہا پسندوں کی رہائی کے لئے ایک سینئر جج کی گرفتاری کا حکم بن گیا۔ چار سال پہلے انسانی حقوق رضاکار اور اپنے سوالوں و ٹکراؤکے لئے قیوم عہد میں زیادہ تر جیل رہے۔ نشید میں تین لاکھ کی آبادی والے اس ملک میں جمہوری طور طریقوں والی تاریخی حکومت کی لیڈر شپ سنبھالی تھی۔پھر نشید نے اتنی بڑی گڑ بڑی کیا کردی کہ جنتا کو انہیں گدی سے اتارنے کا فیصلہ لینا پڑا۔ پہلی تو یہ کہ صدر نشید اقتدار میں آکر بھی کٹر رضاکار بنے رہے۔ اس مزاج کے نیتا بنے شخص میں سرکار چلانے کا سلیقہ و لچیلا پن کم ہوتا ہے۔ ایسے دیش میں جہاں جمہوریت کی روشنی تک نہیں پنپی ہو وہاں منمانی پالیسیاں نافذ کرنے اور انہیں کے مطابق نتیجے پانے کی اڑیل اپیل بھی تاناشاہی لگنے لگتی ہے۔ مالدیپ کی اصلاح اور جمہوری شکل سے چنے گئے پہلے صدر محمد نشید نے کئی ہفتوں کی سیاسی اتھل پتھل کے بعد مخالفین کے ساتھ پولیس کے مل جانے پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا۔ خود مبصرین کا خیال ہے کہ محمد نشید کے استعفے کو ایک عام واقعہ نہیں مانا جاسکتا۔ یہ صحیح معنی میں مالدیپ میں اصلاح پسند جمہوری نظام پر کٹر پسند طاقتوں کی کامیابی ہے۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آنے والے چناؤ میں کٹر پسند اہم کردار میں ہوں گے۔ دراصل مالدیپ کے لوگ چاہتے ہیں کے ان کے دیش کا صدر ایسا ہو جو اسلامی قانون کی ایمانداری سے تعمیل کرے اور محمد نشید ان کے اس نظریئے پر کھرے نہیں اتر پا رہے تھے۔ اس مکمل عمل کے پیچھے پاکستان اور چین اہم کردار نبھا رہے ہیں۔ پاکستان یہ چاہتا ہے کہ مالدیپ کٹر پسندی کا گڑھ بن جائے تاکہ پاکستان اپنی ہند مخالف سرگرمیوں کو مالدیپ کے ذریعے انجام دے سکے۔ مالدیپ کے زیادہ تر نوجوان اعلی تعلیم کے لئے پاکستان جاتے ہیں اور وہاں جاکر تعلیم کے ساتھ ساتھ کٹر پسنداسلامی نظریئے کی خوبیوں سے روشناس ہوکر لوٹتے ہیں۔ مالدیپ کا مسئلہ یہ ہے کہ وہاں کی آبادی حالانکہ اتنی کٹر پسند نہیں ہے لیکن روایتی اسلامی نظریات سے وابستہ ہے لیکن آج کا اہم ذریعہ سیاحت ہے اس لئے مالدیپ میں عام شہریوں کے لئے الگ قاعدہ ہے اور سیاحوں کے لئے الگ۔ ارب اثر اور پیسے کی وجہ سے کٹرپسند اسلام کا اثر مالدیپ میں بڑھتا جارہا ہے۔ حالانکہ فوجی نظریئے سے مالدیپ کا کوئی حکمراں بھارت کو نظرانداز نہیں کرسکتا یا بھارت کے مفادات کے خلاف نہیں جاسکتا۔ نشید سے پہلے صدر معمون عبدالقیوم بھی بھارت کے دوست تھے اور 1988 ء میں ہندوستانی فوج نے قیوم کے خلاف بغاوت کو ناکام کیا تھا لیکن بھارت کا دوررس مفاد اسی میں ہے کہ اس جزیرے میں تمام دیشوں میں اصلاح اور جمہوری نظام بنا رہے۔ نشید اس لئے بھارت کے لئے اہم تھے کہ نئے صدر بھی کٹر پنتھی نہیں ہیں اور بھارت کے دوست ہیں لیکن ان کی پریشانی یہ ہے کہ مجلس میں ان کے حمایتی نہیں ہیں ۔ اندیشہ یہ ہے کہ عوامی ناراضگی کا فائدہ اٹھا کر کٹر پسند اپنی بالادستی نہ قائم کردیں۔ پولیس و فوج کی بغاوت یوں بھی طویل عدم استحکام پیدا کرسکتی ہے۔ اس بار تبدیلی اقتدار بالکل گھریلو توقعات کا معاملہ تھا اس لئے بھارت کا کسی طرح کا مداخلت نہ کرنا ہی صحیح تھا۔ 1988ء کی طرح تمل انتہا پسندوں کا حملہ نہیں تھا جب قیوم کے بلانے پر بھارت نے فوج بھیجی تھی۔
Anil Narendra, Daily Pratap, India, Maldives, Vir Arjun

28 دسمبر 2011

لندن پیرس سے بھی زیادہ ٹھنڈ دہلی میں


Published On 28th December 2011
انل نریندر
دہلی کے شہریوں کو لگ رہا تھا کہ اس سال دہلی میں سردی اتنی نہیں پڑے گی جتنی پڑتی ہے۔ لیکن دیر سے ہی صحیح جب ٹھنڈ اپنے رنگ میںآئی تو اس نے سارے ریکارڈ توڑ دئے۔ گذرتے سال میں اگر آپ لندن ،پیرس یا نیویارک گئے ہوں تو اپنی یادیں تازہ کرلیں۔ اس سال نیا سال منانے کے لئے آپ کو لندن، پیرس جانے کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ دہلی میں لندن، پیرس و نیویارک سے زیادہ سردی ہے۔ وہاں گئے بغیر آپ دہلی میں ہی یوروپ کا مزہ اٹھا سکتے ہیں۔ دراصل سورج غروب ہوتے ہی اپنی دہلی بھی انہی شہروں کی طرح ٹھنڈی ہوتی جارہی ہے۔ قومی راجدھانی دہلی میں ایتوار کو کم از کم درجہ حرارت 2.9 ڈگری تک پہنچ گیا تھا۔ پچھلے 10 سالوں میں دہلی میں سردی کا یہ ریکارڈ ہے۔ دہلی کا کم از کم درجہ حرارت لندن اور پیرس سے بھی کم ہوگیا۔ ان دونوں شہروں میں کم از کم 4 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت رہا۔ یہ اور بات ہے کہ وہاں کا زیادہ تر درجہ حرارت دہلی کی بہ نسبت کم ہوتا ہے۔ لندن میں یہ 7 اور پیرس میں11 ڈگری سیلسیس رہا اس کی وجہ وہاں کی راتیں تو سرد ہیں لیکن دن میں یہ راحت ملنے والی نہیں۔ دہلی میں تو کم سے کم تھوڑی راحت ہے کہ دن کا درجہ حرارت یہاں 19 سے 20 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہتا ہے۔ ہاں دہلی کے شہریوں کے لئے تھوڑے سکون کی بات یہ ضرور رہی کہ ان دنوں کہرے کا زور اتنا نہیں جتنا گذشتہ برسوں میں دیکھا جاتا رہا ہے۔ دن میں سوریہ دیو کے درشن ہوجاتے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ دن کا درجہ حرارت زیادہ ہے یعنی دن میں مزے کی دھوپ سینکئے اور تیار ہوجائے رات میں لندن پیرس کا مزہ اٹھانے کے لئے ۔ یہ سلسلہ اور کتنے دن چلتا ہے دیکھئے۔ دلچسپ اور عجب بات تو یہ ہے کہ نارتھ انڈیاکے میدانی علاقے میں پہاڑوں سے بھی زیادہ سردی پڑ رہی ہے۔ مثال کے طور پرراجستھان کے چورو میں ایتوار کو درجہ حرارت 1.4 ڈگری تھا۔ ہریانہ کے جھجھر میں 0.3 اور حصار میں 0.0 تھا جبکہ امرتسر میں یہ 0.6 رہا۔ ادھر ہماچل کے شملہ میں 6 ڈگری درجہ حرارت تھا۔ نینی تال میں بھی 6 ڈگری اور مسوری میں 4.3 رہا۔اگر ہم یوروپ کی بات کریں تو روم میں 8، لندن میں 7، پیرس میں 5، برلن میں 2 ڈگری سیلسیس رہا۔ موسم کی بھی عجب بازی گری ہے جہاں کرسمس میں برف کی امید ہوجاتی ہے وہاں درجہ حرارت اوپر چڑھ رہا ہے۔ اس کے برعکس ہریانہ کے جھجھر کے کھیتوں میں برف کی دو سینٹی میٹر موٹی پرت جم گئی تھی۔ تقریباً پورے شمالی ہند میں مسلسل سرد ہواؤں سے عام زندگی متاثر ہوئی ہے۔سردی کی وجہ سے 131 لوگ مر چکے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آنے والے دنوں میں بھی ٹھنڈ سے کوئی راحت ملنے کی امید نہیں ہے۔ ماؤنٹ آبومیں تو ٹھنڈ نے تو 75 سال پرانا ریکارڈ توڑدیا ہے۔ یہاں درجہ حرارت0 سے 4.3 ڈگری نیچے آگئے۔ اس سے یہاں مکانوں کی کھڑکیوں ، کاروں اور شیشوں ، پیڑ کی پتیوں اور جھیل میں برف کی چادر چڑھ گئی ہے۔ لداخ کے لیہہ میں بھی اس موسم کا سب سے سرد ترین دن رہا یہاں0 سے18.2 ڈگری درجہ حرارت نیچے رہا۔ گلمرگ ،پہلگام میں کم از کم درجہ حرارت0 سے8.4 اور 7.4 ڈگری سیلسیس نیچے رہا۔ اترپردیش میں کانپور سب سے ٹھنڈا رہا جہاں درجہ حرارت0.5 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ پچھلے 24 گھنٹے میں آگرہ میں کم از کم درجہ حرارت1 ڈگری رہا جو عام 7 ڈگری سے کم تھا۔ راجدھانی لکھنؤ کا درجہ حرارت2.9 ڈگری، فیض آباد میں 3.3 ، گورکھپور میں 4.9 ڈگری سیلسیس رہا۔ کیا یہ گلوبل وارمنگ کا اثر ہے؟ اس حساب سے وہ دن بھی آسکتے ہیں جب دہلی میں برف پڑنے لگے گی۔
Anil Narendra, Cold Wave, Daily Pratap, India, London, Paris, Vir Arjun

18 دسمبر 2011

میرے بھارت مہان کی ایک تصویر یہ بھی ہے



Published On 18th December 2011
انل نریندر
جمعرات کو اس موسم کا دہلی میں سب سے سرد دن رہا۔ کم از کم درجہ حرارت3 ڈگری سے کم 5.9 ڈگری سیلسیس رہا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے تین چار دن تک درجہ حرارت5 سے6 ڈگری سیلسیس کے آس پاس بنا رہے گالیکن اگلے ہفتے سے اس میں اور گراوٹ آئے گی اور ٹھنڈ پڑے گی۔22 دسمبر تک راجدھانی میں بارش ہونے کا بھی امکان ہے۔ اس کڑاکے کی سردی میں میں جب سوچتا ہوں کہ ہزاروں لوگ آج بھی فٹ پاتھ ، سڑکوں پر سونے کے لئے مجبور ہیں تو میرا دل یہ پوچھنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ کس بات کے لئے ہم یہ کہتے نہیں تھکتے میرا بھارت مہان ہے؟ ایک طرف تو کہا جاتا ہے ہندوستان دنیا کی گنی چنی بڑھتی معیشت کی علامت ہے اور دوسری جانب آج تک ہم غریب، بے سہارا آدمیوں کے لئے ٹھیک ڈھنگ سے رین بسیرے تک نہیں بنا سکے؟ یہ تسلی کی بات ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ دونوں کو ان غریبوں کی فکر ضرور ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کے بعد دہلی ہائیکورٹ نے کہا کہ کڑاکے کی اس ٹھنڈ میں ہزاروں بے سہارا لوگوں سڑکوں پر راتیں گذارنے کو مجبور ہے لیکن سرکار اس طرف توجہ نہیں دے رہی ہے۔ اسے باعث تشویش قرار دیتے ہوئے عدالت نے ان 84 عارضی نائٹ شیلٹروں کو دوبارہ سے قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ اپنے9 اگست کے حکم کو درکنار کر انہیں بند کردیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ہائیکورٹ نے ماسٹر پلان2021ء کے حساب سے مستقبل کی ضرورتوں کو دیکھنے کیلئے 184 پختہ رین بسیرے بنانے کی بھی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے پیر کو اس سے وابستہ معاملوں میں سبھی ریاستوں کے چیف سکریٹریوں کو بھی سبھی شہروں میں رین بسیروں کے مناسب انتظام کرنے کو کہا تھا۔
دہلی ہائیکورٹ کی پھٹکار کھانے کے بعد دہلی سرکار کو رین بسیروں کا خیال آیا ہے۔ سرکار کے ملازمین جمعرات کی دیر شام تک عارضی رین بسیرے بنانے اور ان کی تعداد 30 تک پہنچانے میں لگ گئے ۔ پانچ اور رین بسیرے اگلے تین دنوں میں بنائے جائیں گے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق میرے بھارت مہان کی راجدھانی دہلی میں پونے دو لاکھ لوگ آج بھی بے گھر ہیں۔ ان کے لئے بڑی تعداد میں تین بسیروں کی ضرورت ہے لیکن دہلی سرکار کے پاس محض64 رین بسیرے ہیں۔ اگر ہم یومیہ رین بسیرے کا حساب لگائیں تو ان میں 27035 لوگ روزانہ رہ سکتے ہیں لیکن اتنی تعداد نہ ہونے کے باوجود سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان64 رین بسیروں میں زیادہ تر بند پڑے ہیں۔ پچھلے سال84 عارضی رین بسیرے بسائے گئے تھے جن میں17 جل گئے۔52 عارضی رین بسیروں کو یہ دلیل دے کر بند کردیا گیا کے بے گھر لوگ اس میں رہنے کے لئے نہیں آرہے ہیں اور15 رین بسیرے اب بھی چالوہیں۔
یہ دکھ کی بات ہے دہلی سرکار ان بے سہارا لوگوں کے تئیں اتنی لاپرواہ ہے۔ آخر انہیں بھی کڑاکے کی ٹھنڈ میں اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کا حق ہے۔ یہ سرکار کا کام ہے انہیں کم سے کم کھلے آسمان میں راتیں گذارنے سے بچائے اور مناسب انتظام کرے۔ سرکار کو خود بھی سوچنا چاہئے اس بات کا انتظار نہیں کرنا چاہئے کہ سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ ہی پھٹکار لگائے تب جاکر وہ کام کرے۔ میرے بھارت مہان کا ایک اصلی چہرہ یہ بھی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Delhi Government, Delhi High Court, India, MCD, Night Shelters, Poor, Vir Arjun

07 دسمبر 2011

چین کے تئیں بھارت کواپنی پالیسی بدلنی ہوگی


Published On 7th December 2011
انل نریندر
ہندوستان اور چین کے درمیان رشتے ہمیشہ سرد گرم ہوتے رہے ہیں۔ ہندوستان سے ہی چین میں بودھ دھرم کی تبلیغ اور فروغ ہوا تھا۔1949ء میں چین کی کمیونسٹ حکومت قائم ہوئی اور دونوں ملکوں کے درمیان رشتوں کا قیام عمل میں آیا۔ بھارت نے شروع سے ہی چین کے تئیں دوستی اور بھاری چارگی کا اظہار کیا ہے۔ بھارت ایک ایسا پہلا غیر کمیونسٹ ملک تھا جس نے چین کی کمیونسٹ سرکار کو تسلیم کیا تھا اور اقوام متحدہ نے بھی چین کو منظوری دلانے کی کوشش کی تھی۔1954 میں چین اور بھارت کے درمیان ایک آٹھ سالہ معاہدہ ہوا جس کے تحت بھارت نے تبت سے اپنے فاضل ملکی اختیارات کو چین کو سونپ دیا۔ اس کی بنیاد پر دونوں ملکوں کے درمیان پنچ شیل اصولوں کی تعمیل کی گئی۔ 1957ء میں دونوں ملکوں کے درمیان تبت کو لیکر رشتے خراب ہونا شروع ہوگئے۔ 31 مارچ 1959ء کوتبت میں چینی دمن کی وجہ سے وہاں کے دھرم گورو دلائی لامہ نے بھارت میں سیاسی پناہ لی۔ اس کی کشیدگی 1962ء میں ہند۔ چین جنگ کی شکل میں ہوئی۔آج بھی دلائی لامہ اور ان کے ماننے والوں کو لیکر بھارت چین میں کشیدگی بنی ہوئی ہے۔ دلائی لامہ کو لیکر چین اب کچھ زیادہ ہی جارحانہ رخ اپنائے ہوئے ہے۔ پچھلے دنوں کولکتہ میں ایک پروگرام ہوا تھا جہاں دلائی لامہ کو آنا تھا۔ اس پروگرام میں گورنر ایم کے نارائنن اور وزیر اعلی ممتا بنرجی کو بھی شرکت کرنی تھی۔ چین نے مغربی بنگال سرکار کو باقاعدہ ایک خط لکھا جس میں یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ گورنر اور وزیر اعلی اس پروگرام میں نہ جائیں۔ یہ مانگ نہیں مانی۔ گورنر اس پروگرام میں شامل ہوئے اور وزیر اعلی اپنی ماں کی بیماری کی وجہ سے اس میں شامل نہیں ہو پائیں لیکن ان کے نمائندے کے طور پر ایم پی ڈیریک اوبراؤن شامل تھے۔ ہندوستان نے اس بات کی مخالفت درج کرانے کا فیصلہ کیا ہے کہ چین نے مغربی بنگال سرکار کو آخر ایسا خط کیوں لکھا؟ کچھ ہی دن پہلے چین نے نئی دہلی میں بودھ دانشوروں کی کانفرنس کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جسے دلائی لامہ کو خطاب کرنا تھا۔ جب چین کی ضد نہیں مانی گئی تو اس نے سرحدی تنازعے پر مجوزہ بیٹھک میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ چین بھارت کے اندرونی معاملوں میں دخل اندازی سے باز نہیں آتا۔ اس نے زیادہ ہی جارحانہ رخ اپنا لیا ہے۔ مثلاً دیش کی ایک ریاستی حکومت کے سربراہوں کو کیا کرنا چاہئے یا نہیں کرنا چاہئے یہ سیدھے طور پر کسی غیر ملکی حکومت کو نہیں بتانا چاہئے۔ چین دراصل اپنے آپ کو امریکہ کی طرح ایک بڑی طاقت ماننے لگا ہے اور اپنی ہر ضد کو منوانا چاہتا ہے۔ حکومت ہند بھی کچھ حد تک چین کے سامنے گھٹنے ٹیکتی نظر آرہی ہے تبھی تو حال میں جموں و کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے بھارت سرکار سے کہا کہ وہ اپنی چینی پالیسی کو واضح کرے۔ ممبئی میں ایک ریلی میں خطاب کرتے ہوئے عمر نے کہا کہ بھارت کو تھوڑا اور عزم کے ساتھ چین سے پیش آنا چاہئے کیونکہ یہ دیش کو متنازعہ حصہ کہتا ہے اور کئی حصوں پر بھارت کی سرداری پر سوال بھی کھڑے کرتا ہے۔ عمر سنیچر کو ممبئی میں ایک پریس کانفرنس میں بول رہے تھے۔ کچھ ہی گھنٹے پہلے عمر عبداللہ کے والد فاروق عبداللہ نے نئی دہلی میں کہا تھا کہ بھارت کو یہ تسلیم کرلینا چاہئے کہ وہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کو نہ تو پاکستان سے اور نہ ہی کشمیر سے واپس لے سکتا ہے۔ بیٹے عمر نے کہا کہ اگر سچ مچ آپ کو یقین ہے کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے تو کارگل جنگ کے دوران کنٹرول لائن کو کیوں نہیں پارکیا؟ اگر آپ جنگ کے وقت بھی کنٹرول لائن کا احترام کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہی ہے کہ آپ نے اس علاقے کو واپس پانے کی امید چھوڑ دی ہے۔ عمر نے نئی دہلی سے گذارش کی کہ چین اور پاکستان کے ساتھ اپنے رشتوں میں ہمیشہ معذرت گذار ہونے کا رویہ چھوڑدیں۔ انہوں نے کہا میری دہلی خواہش ہے کہ چین کے ساتھ پیش آتے وقت بھارت کو تھوڑا اور سختی دکھانی چاہئے۔ ایسا لگتا ہے کشمیر کو متنازعہ حصہ قراردینے میں چین کو ذرا بھی جھجک نہیں ہے جبکہ ہم سے ایک چین کی پالیسی کو تعمیل کرنے اور تبت و تائیوان کی طرز پر سوال نہ کھڑے کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ ہم متحد چین کی پالیسی کی تعمیل کریں جبکہ چین متحد بھارت کی پالیسی کی تعمیل نہیں کررہا ہے۔ چین اور پاکستان دونوں کے ہی ساتھ اپنے رشتوں میں ہم عرصے سے فراخ دلی اپنا رہے ہیں جبکہ واقعی اس کی ضرورت نہیں تھی۔ مجھے لگتا ہے کہ چین کے ساتھ تھوڑا سخت ہونا ضروری ہے۔ اگر وہ ہماری سرداری کو لیکر چین پر سوال کھڑا کرتاہے تو ہمیں بھی کئی حصوں میں اس کی سرداری (جن میں تبت بھی شامل ہے) پر سوال کھڑے کرنے کا حق ہے۔
Aksai Chin, Anil Narendra, China, Daily Pratap, Dalai Lama, India, Mamta Banerjee, Vir Arjun, West Bengal

09 نومبر 2011

26/11 ممبئی حملوں کی ماسٹر مائنڈآئی ایس آئی تھی



Published On 9th November 2011
انل نریندر
بی بی سی نے دو حصوں میں حال ہی میں ایک پروگرام نشر کیا جسے ''سیکریٹ پاکستان'' کا نام دیا گیا تھا۔ پروگرام کے پہلے حصے میں امریکی صدر براک اوبامہ کے مشیر رہے سی آئی اے کے افسر برس ریڈل کودکھایا گیا ہے کہ انہوں نے ممبئی حملے کے وقت صدر کو مطلع کیا تھا کہ ''ہر انگلی پاکستان کی طرف اٹھ رہی ہے۔یہ ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے۔'' پاکستان سے آئے آتنک وادیوں نے 26 نومبر2008 کو ممبئی کے بڑے کئی اہم مقامات پر حملہ کیا تھا۔ اس وقت اوبامہ امریکی صدر منتخب ہوچکے تھے۔ حالانکہ انہوں نے حلف نہیں لیا تھا۔ امریکی سسٹم کے مطابق انہوں نے جنوری2009 ء میں حلف لیا تھا۔ ریڈل نے کہا ''میں نے پاکستانی صدر سے کہا کہ وہ ہمارے ساتھ دوہرا کھیل کھیلنا بند کریں۔ ان سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ پاکستان برسوں سے امریکہ اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ ایسا کررہا ہے اس کے آگے بھی ایسا ہی کرتے رہنے کا اندیشہ ہے۔'' ریڈل نے کہا '' ان حملو ں میں ہر جگہ لشکر طیبہ کی چھاپ نظر آتی ہے۔ حملوں کے آغاز سے لگنے لگا ہے کہ لشکر کی کرتوت ہے۔'' انہوں نے کہا ایک بار جب آپ لشکر سے ان حملوں کو جوڑتے ہیں تو آپ اسے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے بھی جوڑیں گے۔ اس پیغام کے دوسرے حصے میں کہا گیا ہے ''سی آئی اے کو یہ جانکاری ملی تھی ممبئی حملے میں آئی ایس آئی سیدھے طور پر ملوث تھی۔ کابل میں جولائی 2008ء میں دھماکے سے لدی کار کو ہندوستانی سفارتخانے کے قریب اڑادیا گیا تھا۔ اس حملے میں 58 لوگ مارے گئے تھے اور 141 افراد زخمی ہوئے تھے۔ امریکی نائب صدر کے عہد میں کام کرچکے مائک والڈس کا کہنا ہے ''اطلاع اور سلسلہ وار پروگرام سے پوری طرح واقف ہوگیا تھا۔ کابل میں دھماکے کرنے والے حقانی نیٹ ورک کو پاکستان کی حمایت ملی ہوئی تھی۔ اس وقت کابل میں برطانوی سفیر شیرڈ کوپیرکولس نے کہا کہ آئی ایس آئی کا ایک چھوٹا گروپ حقانی نیٹ ورک کے رابطے میں ہے ۔اس کے بارے میں مغربی ملکوں کو کبھی معلومات نہیں ملی۔ اس پروگرام میں طالبان کے کچھ خود ساختہ کمانڈروں نے خلاصہ کیا کہ برطانیہ، امریکہ کے فوجیوں کے خلاف طالبان کی لڑائی میں پاکستان کی حمایت ملتی ہے۔ ایک خود ساختہ کمانڈر ملا عزیز اللہ کے مطابق آتنک وادیوں کے لئے ٹریننگ کیمپ چلا رہے ماہرین آئی ایس آئی کے ممبر ہیں اور ان کی کسی نہ کسی طریقے سے خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے وابستگی ہے۔انہوں نے کہا وہ پہلے ہمیں دھماکوں کے بارے میں بتاتے ہیں اس کے بعد ہم لوگوں کو عام طور پر جانکاریاں دی جاتی ہیں۔ ٹریننگ کے وقت وہ کیمپ میں موجود رہتے ہیں۔ بی بی سی تو اپنی آزادانہ رپورٹنگ کے لئے جانا جاتا ہے۔ ان کا ہر پروگرام سوچ سمجھ کر ٹیلی کاسٹ کیا جاتا ہے۔ جب بی بی سی کہتا ہے کہ آئی ایس آئی ممبئی حملوں کی ماسٹر مائنڈ تھی تو یہ ایک طرح سے صحیح ہی لگتا ہے۔
26/11, Anil Narendra, BBC TV, Daily Pratap, India, Mumbai, Obama, Pakistan, Terrorist, Vir Arjun

06 نومبر 2011

بھلے ہی دیر سے اٹھائے گئے پاکستانی قدم کا خیر مقدم



Published On 6th November 2011
انل نریندر
پاکستان کی کابینہ نے بدھ کے روز اتفاق رائے سے ایک دور رس فیصلہ لیا ہے۔ پاکستان نے بھارت کو انتہائی ترجیحاتی ملک تجارتی درجہ دے دیا ہے۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات فردوس اشفاق عوان نے اسلام آباد میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ یہ قومی مفاد میں لیا گیا فیصلہ ہے اس میں سبھی فریقین فوج ،دفاعی اداروں کی رضامندی لی گئی ہے۔ اس فیصلے سے دونوں ممالک کے درمیان کاروبار آنے والے تین برسوں میں تین گنا بڑھ سکتا ہے۔ ہندوستان نے تو 1996 میں ہی پاکستان کو ایم ایف این کا درجہ دے دیا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان کاروبار ابھی 2.6 ارب ڈالر ہے۔ سی آئی آئی کا کہنا ہے کہ اگلے پانچ برسوں میں یہ آٹھ ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ ہندوستان کو ایم ایف این کا درجہ دینے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان تجارت میں اب بھارت کو دیگر سانجھے داروں کے مطابق مانے گا۔ اس سے باہمی کاروباری اقتصادی رشتے مضبوط ہوں گا۔ بھارت کو ایم ایف این کا درجہ مہنگائی سے بھارت ۔پاکستانی عوام کو بھاری راحت دے سکتا ہے۔ بھارت کو ایم ایف این دینے سے پاکستانی عوام کو دوائیاں 55 فیصدی، پھل ، سبزیاں40 فیصدی اور چینی 30 فیصدی تک سستی مل سکتی ہے۔پاکستان سے زبردست آرڈر ملنے کا امکان دیکھ کر ہندوستانی صنعت بھی کافی خوش ہے۔ ہندوستانی کمپنیاں خاص کر انجینئرنگ دوا اور کیمیکل سیکٹر میں پاکستان نے مشترکہ صنعت لگانے کے امکانات بھی کھولتی ہے۔ ایم ایف این کا درجہ نہ صرف ہندوستانی کاروباریوں کو زیادہ برآمدات کرنے کا راستہ صاف کرے گا بلکہ دونوں ملکوں کی کمپنیوں کو آپس میں مشترکہ صنعتیں قائم کرنے میں بھی مدد دے گا۔
پاکستان نے بھارت کو سب سے ترجیحاتی ملک کا درجہ دینے کا فیصلہ بھلے ہی بہت تاخیر سے کیا ہے پھر بھی اس فیصلے کا دونوں ملکوں کے رشتوں پر اچھا اثر پڑنا طے ہے۔ آپسی اعتماد بحالی کی کوشش میں اسلام آباد کی جانب سے اٹھایا گیا یہ ایک بڑا قدم ہے۔ پاکستان کی حکومت نے یہ فیصلہ لیتے ہوئے ہند۔ چین کی تجارت کا جس طرح سے حوالہ دیا ہے اس سے صاف ہے کہ دیر سے صحیح اسلام آباد کو یہ احساس ہوا ہے کہ سیاسی محاذ پر نااتفاقیاں ہونے کے سبب آپسی تجارت کو ٹھپ کرنا صحیح نہیں ہے۔ آخر سرحدی تنازعے کے باوجود بھارت اور چین کاروبار کے مورچے پر مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں۔ سرحد کے دونوں طرف ایسی کئی چیزیں ہیں جن کی دونوں ملکوں کو ضرورت ہے۔ اب پڑوس میں کفایتی چیز ہونے کے باوجود اسے کسی دوسرے دیش سے مہنگے دام پر منگانے کی مجبوری ختم ہوجائے گی۔ اتنا ہی نہیں اس سے غیر قانونی کاروبار پر بھی لگام لگے گی۔ دراصل بھارت کے ساتھ اقتصادی تعلقات ٹھپ رکھ کر پاکستان پہلے ہی بہت نقصان اٹھاچکا ہے۔ آج عالم یہ ہے کہ کسی جنوبی ایشیا میں سافٹا کے تحت سری لنکا کے ساتھ بھارت کا مستثنیٰ تجارت سمجھوتہ ہے۔ بھارت۔ پاکستان کو اس سمت میں تو آگے بڑھنا ہی ہوگا۔ کاوباری ویزا قانون کو آسان بنانے کا کام بھی کرنا ہوگا تبھی دونوں دیشوں کے درمیان مضبوط اقتصادی رشتے قائم ہوں گے۔ ویسے دونوں ملکوں کے درمیان کاروباری رشتوں کی بنیاد تو پاکستان کے بانی محمد علی جناح کے ساتھ ہی رکھ دی گئی تھی لیکن ان کی موت کے بعد ان کے جانشینوں نے عام طور پر بھارت مخالف نظریہ اپنایا جس کی وجہ سے دونوں ملکوں کے رشتے خوشگوار نہ ہوسکے۔ پاکستان نے کشمیر کا مسئلہ اٹھایا اور آج بھی اس پر قائم ہے جبکہ ہندوستان کو سب سے بڑی شکایت پاکستان کی سرزمین سے دہشت گردوں کے ذریعے چھیڑا گیا جہاد ہے۔ یہ دونوں مسئلے آج بھی قائم ہیں لیکن ان کے رہتے دونوں ملکوں میں تجارت نہ ہو یہ دلیل ٹھیک نہیں ہے۔ ویسے بھی پاکستان اس وقت اپنی زندگی کے سب سے نازک دور سے گذر رہا ہے۔ پاکستانی حکومت کو ایک طرف جہاں فوج اور اپنے یہاں انتہا پسند گروپوں کے دباؤ میں کام کرنا پڑ رہا ہے وہیں دوسری طرف اس کی اعلان کردہ اور غیر محفوظ آتنک وادی گروپ پاکستان کو ایک ملک کی شکل میں تباہ کرنے پر آمادہ ہے۔ اس کے علاوہ آج ساری دنیا پاکستان کو ایک ناکام ملک سمجھتی ہے۔ آج پاکستان کے امریکہ سے بھی رشتے تلخی پر پہنچ چکے ہیں۔ ایسے میں بھارت کے ساتھ رشتوں میں بہتری کی کوششیں پاکستان کے لئے بھی یقینی طور پر چنوتی بھری رہیں گے۔ جیسے بھارت میں ایسے عناصر کی کمی نہیں ہوگی جو دونوں ملکوں کے قریب آنے سے بے چین ہوں گے۔ اقتصادی دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑا پاکستان آج دنیا کے سامنے آتنکی خطرے کی علامت بنتا جارہا ہے ایسے میں صاف نیت کے ساتھ دوستی کی یہ پہل یقیناًاسے مشکلوں سے نکلنے میں مددگار ہوگی۔ جیسا کہ شری اٹل بہاری واجپئی نے کہا کہ ہم سب کچھ اور بدل سکتے ہیں لیکن پڑوسی نہیں بدل سکتے اور آخر کار پڑوسی کے کام تو پڑوسی ہی آتا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, India, Most Favourd Nation, Pakistan, Vir Arjun

01 نومبر 2011

فارمولہ 1- کی دنیا میں اب بھارت بھی شامل ہوا



Published On 1st November 2011
انل نریندر
 گریٹر نوئیڈا میں ایتوار کا دن کھیلوں کی دنیا میں انتہائی اہمیت کا حامل اور تاریخی رہا۔ یہاں بودھ انٹرنیشنل سرکٹ پر پہلی انڈین گراپری کا فائنل مقابلہ ہوا۔ اسی کے ساتھ ہی دیش کا نام گراپری تاریخ کے ان سنہرے اوراق میں درج ہوگیا ۔ فارمولہ۔1 کی تاریخ کی جڑیں1947 ء سے بھی پہلے یوروپین گراپری موٹر ریسنگ سے وابستہ ہیں۔ 1920 اور 1930ء میں گریٹر دوڑ منعقد کی گئی تھی۔ حالانکہ فارمولہ۔1 کا آغاز 1946 ء میں فیڈریشن انٹرنیشنل آٹو موبائل کے قواعد کے مطابق ہوا۔ 1950 ء میں ورلڈ ڈرائیورس چیمپئن شپ منعقد کی گئی تھی۔ برطانیہ میں1960-70 میں اس ریس کا انعقاد ہوا اور جنوبی افریقہ میں 1983ء میں ایسی ریس کا انعقاد کیا گیا۔ پھر بڑھتی مقبولیت کے چلتے میکسیکو اور ابوظہبی اور سنگاپور فارمولہ 1- ریسنگ شہر کے طور پر سامنے آئے۔ دراصل یہ کھیل موٹر اسپورٹس کا حصہ ہے۔ فارمولہ1- موٹراسپورٹس کا سب سے اوپری مرحلہ ہے۔ یہ ریس آدمی اور مشین مل کر کھیلتے ہیں۔ دونوں میں تال میل سے ہی ہار جیت کا فیصلہ ہوتا ہے۔ یہ تکنیکی و رفتار اور ہنر کا انوکھا سنگم ہے۔
ایتوار کو منعقدہ پہلی انڈین گراپری ریس میں پچھلے سال کے ورلڈ چمپئن اور اس سال خطاب پہلے ہی اپنے نام کرچکے ریڈ بل ریسنگ ٹیم کے ویٹل نے بودھ انٹر نیشنل سرکٹ میں کسی کو موقعہ تک نہیں دیا اور بی آئی سی سی کے لیپ انہوں نے ایک گھنٹہ30 منٹ میں 35.00 دو سیکنڈ میں پورا کرکے جیت درج کرلی۔ دو بار ڈرائیورس چمپئن شپ جیتنے والے ویٹل نے یہ کارنامہ سب سے کم عمر میں کرنے کا نیا ریکارڈ بنا کر دکھایا۔ ریس میں حصہ لینے والے ڈرائیورس نے ریس کے بعد کہا کہ بودھ انٹرنیشنل سرکٹ دنیا کے بہترین سرکٹوں میں سے ایک ہے۔ ایتوار کے دن ہندوستان ہی نہیں پوری دنیا نے F-1 ریسنگ میں گلیمر، چمک دمک ، جشن اور رفتار کا حیرت انگیز مزہ لیا۔ ریسنگ ٹریک جے پی اسپورٹس انٹرنیشنل کمپنی نے چار کروڑ ڈالر کی لاگت سے تیار کیا تھا۔ فارمولہ1- ریس محض رفتار کا ہی ایک تفریح نہیں بلکہ یہ بھارت کی رفتار ہے۔ بھارت کا وقار اور شان ہے۔ کامن ویلتھ کھیلوں، گھوٹالوں سے بدنام ہوئے ہندوستان کو اس مائنڈ گلوئنگ ریس کے کامیاب انعقاد سے بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی ہے۔ ہندوستانی فلم صنعت کے ذریعے کئے جانے والے شاندار انعقاد کی طرح ایتوار کو فلمی ستاروں، کھلاڑیوں کا گلیمر کا زبردست تڑکا لگا۔ بھارت ایک بہت بڑا بازار ہے اور دنیا کی سبھی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں بھارت میں اپنے پیر جمانا چاہتی ہیں۔ اس ریس سے بھارت کی ساکھ کو بین الاقوامی سطح پر انڈیا کے طور پر مقبولیت ملے گی۔ کئی بین الاقوامی ایجنسیوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ وقت پر یہ ٹریک تیار نہیں ہوگا۔ اس میں کئی خامیاں گنائی گئیں لیکن بھارتیوں نے دکھا دیا ہے کہ اگر وہ چاہے تو وہ کچھ بھی حاصل کرسکتے ہیں۔
Anil Narendra, Buddha Circuit, Daily Pratap, F1, Greater Noida, India, JP Group, Vir Arjun 

28 اکتوبر 2011

سرو شکشا ابھیان کی حقیقت




Published On 28th October 2011
انل نریندر
میرا بھارت مہان! ساری دنیا میں اس وقت بھارت کا ڈنکا بج رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بھارت کی اقتصادی حالت موجودہ وقت میں دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھنے والی اقتصادی حالت ہے لیکن زمینی حقیقت جب ہم دیکھتے ہیں تو تھوڑی حیرانی ضرور ہوتی ہے کہ آج بھی ایجوکیشن جیسا اہم حلقہ اتنا پچھڑا ہے؟ تعلیم کا حق قانون اور سرو شکشا ابھیان کے باوجود پچھلے سال قریب 82 لاکھ بچوں کا اسکول میں داخلہ نہیں ہوپایا ہے۔ اتنا ہی نہیں اسکولوں کی بدانتظامی کا عالم یہ ہے کہ لڑکیوں کے 41 فیصدی اسکولوں میں ٹوائلٹ تک نہیں ہیں۔ راجیوں میں پرائمری شکشا پر تبصرہ کرنے کے لئے انسانی بہبود برائے ترقی وزیر شری کپل سبل کی صدارت میں راجیوں کے تعلیمی وزیروں کی ایک میٹنگ میں بچوں کے اسکولوں پر سنجیدگی سے تبصرہ ہوا۔ 6 سے14 سال تک کے بچوں کو ضروری طور پر سکولوں میں بھیجنے کے لئے تعلیم کا حق قانون نافذ کیا گیا تھا۔ اس کے نافذ ہونے کے ایک سال سے زیادہ کا وقت گذر جانے کے باوجود پرائمری شکشا کی حالت تسلی بخش نہیں ہے۔ سکولوں اور ٹیچروں کی کمی تو الگ موضوع ہے حالات یہ ہے کہ سروشکشا ابھیان کی بھی ہوا نکل گئی ہے اور مرکزی سرکار کو اسی سے ملتا جلتا نیا ابھیان چلانے کا فیصلہ لینا پڑا۔ مگر اس میں فرق یہ ہوگا کہ اسے غیر سرکاری مشینری سے ملایا جائے گا۔ اب پرائمری سکولوں میں اس مشینری کا سیدھا دخل رہے گا۔ اس مشینری کے ورکروں کا کام ہوگا کہ وہ سکول اور سماج کے درمیان پل کا کام کریں گے۔ اگر کسی گاؤں میں کوئی بچہ سکول نہیں جارہا ہے تو اس کی جانکاری علاقے کے سکول کو دینی ہوگی اور بچے کے گھر والوں کو بیدار کرنا ہوگا کہ وہ اپنے بچے کو سکول بھیجیں۔ سبل نے بتایا کہ اس ابھیان کا نام ''تعلیم کا حق'' رکھا گیا ہے۔ جس کی شروعات پردھان منتری 11 نومبر کو کریں گے۔ اس ابھیان کے تحت13 لاکھ سکولوں کو شامل کیا جائے گا جن کے پرنسپلوں کو پردھان منتری کی اپیل جاری کی جائے گی جس کا پیغام ہوگا کہ وہ کسی بھی بچے کو سکول جانے سے محروم نہ ہونے دیں۔
کپل سبل نے راجیوں کے تعلیمی وزیروں سے کہا ہے کہ وہ پرائمری سکولوں کی حالت ٹھیک کریں۔ انہوں نے کئی راجیوں میں اب بھی تعلیم کا ادھیکار قانون نافذ نہ کرنے پر افسوس ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال میں کئی بار راجیوں سے اپیل کی جاچکی ہے مگر صرف18 راجیوں نے ہی اس قانون کو نافذ کیا ہے۔ مہاراشٹر، پشچم بنگال، گجرات اور تاملناڈو جیسے کئی بڑے راجیہ ایسے ہیں جنہوں نے اس قانون کو اب تک نافذ نہیں کیا ہے۔ اس کے چلتے لاکھوں بچے سکول نہیں جارہے ہیں۔سکولوں کی بلڈنگوں کی بدحالی اور ٹیچروں کی کمی پر بھی دھیان دینا بہت ضروری ہے۔ اس وقت قریب 44 لاکھ ٹیچر پورے دیش میں کام کررہے ہیں۔ ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ شری کپل سبل نے اس حقیقت کو اجاگر کرنے کی ہمت دکھائی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ دن پورے دیش میں جلد آئے گا جب ہر گاؤں میں کوئی بچہ سکول جانے سے محروم نہیں ہوگا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Education, India, Kapil Sibal, Prime Minister, Vir Arjun

ہندوستانی فوج کے چیتا ہیلی کاپٹر لوٹانے کی اصل کہانی




Published On 28th October 2011
انل نریندر
خراب موسم کی وجہ سے ہندوستانی فوج کا ایک ہیلی کاپٹر ایتوار کو پاکستان کے قبضے والے کشمیر (پی او کے) میں غلطی سے پہنچ گیا۔ ہندوستانی فضائی سینا کا چیتا ہیلی کاپٹر دوپہر قریب ایک بجے راستہ بھٹک کر کنٹرول لائن کے دوسری طرف پہنچ گیا۔ پاکستانی سینا نے اپنے دو لڑاکو جہازوں کو اڑا کر ہیلی کاپٹر کو اسکائی علاقے میں اترنے پر مجبور کردیا۔ ہیلی کاپٹر میں سوار چاروں ہندوستانیوں سے قریب چار گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی گئی اور انہیں چھوڑدیا گیا۔ شام قریب 6 بجے دومیجر (پائلٹ اور اسسٹنٹ پائلٹ) ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک جونیئرافسر واپس کارگل پہنچے۔ حادثے کی جانکاری ملتے ہی بھارت کے فوجی سرگرمیوں کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی ایم او) سرگرم ہوگئے اور معاملے کو سلجھانے کے لئے ہاٹ لائن پر اپنے پاکستانی افسروں سے بات کی۔پاکستان نے بھارت کا چیتا ہیلی کاپٹر واپس کرکے ساری دنیا میں اپنی نیک نیتی کا پیغام دینے کی کوشش کی۔اس نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ اتنے تناؤ کے بعد بھی وہ انسانیت کا تقاضہ نہیں بھولا ہے اور بھارت کو اس کے اس قدم کی تعریف کرنی چاہئے۔ ہم پاکستان کا اس بات کے لئے تو شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں کہ اس نے ہماری غلطی کو سمجھا اور ہمارے فوجی اور ہیلی کاپٹر کو صحیح سلامت چھوڑدیا لیکن پاکستان کے ذریعے ہندوستانی ہیلی کاپٹر کو چھوڑنے کے پیچھے اصل کہانی اور ہے۔
فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمارا ہیلی کاپٹر دو وجوہات سے واپس کیا ہے۔ پہلا کہ ہیلی کاپٹر میں کل چار سواریاں تھیں اور اس بات کا کوئی امکان نہیں تھا کہ کوئی پانچواں آدمی ہیلی کاپٹر میں رہا ہو جو جاسوسی کرنے کے لئے بیچ میں کہیں اترا ہو اور دوسری بات یہ کہ چیتا ہیلی کاپٹر میں جاسوسی کرنے کے لئے کوئی آلات نہیں تھے۔ ہیلی کاپٹر کوئی جاسوسی مشن پر نہیں تھا۔ دراصل ہیلی کاپٹر لیہہ سے بمبار (دراس سیکٹر) میں ایک مینٹیننس مشن پر تھا۔خراب موسم کی وجہ سے وہ راستہ بھٹک گیا تھا۔ کہا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر کو پاکستان نے نیک نیتی کی وجہ سے نہیں بلکہ امریکہ کے دخل کے بعد چھوڑا تھا۔ ایک نیوز چینل کے ذرائع کے حوالے سے دعوی کیا گیا ہے کہ ہندوستانی فوج کے سینئر افسروں نے امریکہ سے جڑے معاملے میں دخل دینے کو کہا تھا۔ امریکہ نے پاکستان پر دباؤ بنایا اور آخر میں بھارت اور پاکستان کے سینئر فوجی افسروں نے آپس میں بات چیت کی۔ جس کے بعد سنکٹ کا حل نکلا اور چیتا ہیلی کاپٹر بھارت واپس آیا۔ دلچسپ اور چونکانے والی بات یہ بھی ہے کہ جس پاکستان آرٹیلٹی ہیلی پیڈ (نمبر90) پر جو ایل او سی کے بالکل قریب بنایا گیا ہے ، کے بارے میں ہندوستانی فوج کو کوئی معلومات ہی نہیں تھی۔ ہمیں یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ ایل او سی کے اتنے قریب پاکستانی فوج نے کب یہ ہیلی پیڈ بنایا۔ خیر! خبریہ ہے کہ پاکستان نے اس چیتا ہیلی کاپٹر کا جی پی ایس ڈاٹا چورا لیا۔ بتایا جارہا ہے کہ اس ڈاٹا میں بہت اہم جانکاریاں تھیں۔ یہ ہندوستانی حفاظت نظریئے سے بہت اہم تھیں۔ ڈاٹا میں ہیلی کاپٹر سے بھارت کے تمام ہیلی پیڈ کے رابطے کا بیورہ تھا۔ ڈاٹا میں بھودوے کوٹ کے حلقے میں آنے والے فوج کے سبھی ہیلی پیڈ کا کوڈ نیم بھی درج تھا۔ ہندوستانی فوج کے سینئر افسر چیتا ہیلی کاپٹر کے پائلٹ سے پوچھ تاچھ کررہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب ہیلی کاپٹر میں جی پی ایس لگا ہوا تھا تو وہ کیسے راستے سے بھٹک گیا؟ شرمناک تو یہ ہے کہ چیتا ہیلی کاپٹر ایل او سی کے پار بھیرول سیکٹر کے جس ہیلی پیڈ پر اترا (پاکستانی آرٹیلٹی نمبر90)، وہ کارگل سیکٹر سے لگا ہوا ہے۔ اس کے باوجود ہندوستانی فوج کو اس کی جانکاری نہیں تھی۔ شروعاتی تفتیش سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کا ہیلی کاپٹر کو جبراً اتارنے کے لئے مجبور کرنے کا دعوی بھی غلط ہے۔ نہ تو ہندوستانی پائلٹ کو پتہ تھا کہ انہوں نے ہیلی کاپٹر کہاں اتارا ہے اور نہ ہی پاکستان کو اس کی بھنک لگی تھی۔ ذرائع کے مطابق بھودوے کوٹ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل روی دستانے ایتوار کی صبح کارگل کے پاس دورے پر جانے کے لئے نکلے تھے۔ان کے ایڈوانسڈ لائٹ ہیلی کاپٹر (اے ایل ایچ) میں کوئی تکنیکی خرابی آگئی اور اسے اترنا پڑا۔ دستانے کو دوسرے ہیلی کاپٹر سے سرینگر لے جایا گیا۔ اے ایل ایچ کو ٹھیک کرنے کے لئے مینٹی ننس انجینئر کو لیکر چیتا نے اڑان بھری۔ باقی کی کہانی تو آپ کو پتہ ہی نہیں ۔ اصل میں کیا ہوا اس کا شاید ہی صحیح پتہ چلے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Education, India, Kapil Sibal, Prime Minister, Vir Arjun

09 اکتوبر 2011

پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں چینی موجودگی ہند کیلئے تشویش کاباعث



Published On 9th October 2011
انل نریندر
بھارت کے فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے اس اندیشے کی تصدیق کردی ہے جو پچھلے کئی دنوں سے پیدا تھا۔بری فوج کا صدر جنرل سنگھ نے بدھ کے روز کہاکہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں چین کی فوج پیپلز لیبریشن آرمی فوجی سمیت قریب چار ہزار چینی لوگ موجود ہے۔ یہاں تعمیراتی کام زوروں پر ہے ان میں سے کچھ وہاں سیکورٹی مقاصد سے بھی موجود ہے۔ یہ علاقہ متنازعہ ہونے کے ساتھ بھی بھارت پاک کے درمیان کنٹرول لائن کے کافی قریب ہے سنگھ یہ بیان پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں انہی فوجوں کی موجودگی اور ان کی سرگرمیوں کے بارے میں بھارت میں جتائی جارہی تشویشات کے پس منظر میں آیا ہے۔ ائر فوج کے چیف ائر چیف مارشل اے این براؤن نے ایک انٹرویو کے دوران یہ صاف کہاہے کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں چین کی موجودگی بڑھنے سے بھارت کی توجہ اس طرف مرکوز ہوئی ہے۔ پچھلے برس یہ خبر آئی تھی کہ جموں وکشمیر کے پی او کے کلکٹ بلستان خطہ میں قریب گیارہ ہزار چینی فوجی موجود ہے۔ چین کے خطرناک منصوبے کو لے کر جنرل سنگھ کی وارننگ کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے اس سال یہ تیسرا موقعہ ہے جب سینئر فوجی یا سیاسی لیڈر شپ نے دیش کی سرحد پر چین کی حرکتوں کو لے کر تشویش ظاہر کی ہے یہ اس لئے بھی زیادہ تشویش کاموضوع ہے کہ چینی دراندازی اور اب پی او کے میں ہورہی ہے۔ وہاں بڑے پیمانے پر سڑکیں ، ہوائی اڈے وغیرہ کی تعمیر جیسی چینی حرکتیں پاکستان کے ذریعہ اس کی اجازت دینا بھارت کے لئے تشویش کا سبب ہوناچاہئے۔ پہلے ہی پاکستان نے ہزاروں مربع میل کا مقبوضہ کشمیر کاعلاقہ چین کے حوالے کردیاتھا۔ ہندوستان کو بھیجنے کی اس حکمت عملی پر یہ دونوں دیش برسوں سے کام کررہے ہیں یہ قدم اسی سمت میں اٹھایا گیا ہے۔ اور ایک اور قدم ہے۔اس کے معنی میں یہ بڑا حوصلہ افزا قدم ہے کہ اس سے بھارت کے خلاف چین اور پاکستان کے ناپاک ارادے ایک بار پھر فاش ہوجاتے ہیں پچھلے دنوں ہندوستانی سرحد میں گھس کر فوجی بنکروں کو تباہ کرنے اور ہندوستانی علاقے کی خلاف ورزی کرنے کے بعد بیجنگ اب پاکستانی مقبوضہ کشمیرمیں کنٹرول لائن کے بالکل قریب سڑکیں اور باندھ بنارہا ہے یہ بھی ایک محض اتفاق نہیں ہے کہ ادھر چینی ادھر پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں چینی سرگرمیاں بڑھتی ہے توادھر ہمارے کشمیرمیں آتنکیوں کی دراندازی بڑھ جاتی ہے۔بھارت افغانستان کے درمیان ہوئے فوجی سمجھوتے کے بعد پاکستان کی مایوسی کو دیکھتے ہوئے دراندازی اور دہشت گردی کے مورچے پر ہمیں زیادہ چوکس رہناہوگا کیونکہ اس کی پیٹھ پر اسکاہاتھ ہے۔ چینی گھس پیٹھ پر بھارت کی تشویش اور شکایت واجب ہے بھارت کاحصہ ہونے کے سبب پاکستانی مقبوضہ کشمیر پر پاکستان کاقبضہ ہی ناجائز ہے تب وہاں کسی تیسرے ملک کے ذریعہ تعمیراتی کاکام کوئی جواز نہیں بیٹھتا ہے۔ اس لئے اپنی عادت کی مجبور چین کی تردید کا کوئی مطلب نہیں ہوناچاہئے۔ ہمیں اپنا احتجاج جاری رکھتے ہوئے اپنی سلامتی کو مزید سخت کرنے پر توجہ دینی ہوگی۔ چین پچھلے عرصہ سے اپنی فوجی صلاحیت بڑھارہاہے وہ بھارت کے لئے ہی نہیں پوری دنیا کے لئے تشویش کاموضوع ہے۔ لیکن جہاں تک ہندوستان کاسوال ہے کہ ایک بار چین سے دھوکہ کھانے کے بعد ہمارے حکمراں نہیں سنبھلیں ۔ پچھلے دنوں وزیر دفاع نے خود تسلیم کیاتھاکہ سرحد پر سڑکوں اورہوائی اڈوں جیسی ڈھانچہ بند سہولیات کی فروخت کو لے کر ہم لاپرواہ تھے جان بوجھ کر برتی گئی اس لاپروائی کے پیچھے جو سوچ تھی وہ بھی ڈراؤنی تھی ہمیں یہ ڈر تھاکہ سرحد پربنے ڈھانچے کہیں چینی حملے کے وقت اس کی سہولت نہ بن جائے۔ مطلب ہم 1962کے حملے چینی اور اس سے ملی چینی شرمناک ہار سے آج تک نہیں نکل پائے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ پچھلے کچھ عرصہ سے چینی حرکتوں کو چھپانے کی کوشش رہتی تھی۔ شکر ہے کہ چین کی بڑھتی دبنگئی اور اس کی سازشی قدموں کو بھارت اب اچھی طرح سے سمجھنے لگا ہے۔ چین کے خلاف من مانی کرتے ہوئے جنوبی چین ساگر میں مشترکہ طور سے تیل وگیس کی تلاشی کاکارروائی کرنا صحیح سمت میں اٹھایا گیا ایک قدم ہے۔ چین کو قابو میں رکھنے کے لئے ضروری ہے اس پر ہر طریقہ سے جوابی دباؤ بنایا جائے ہمیں اپنی سرحد پر ڈھانچہ بندی کاموں کو جلد سے جلد پورا کرنے کی ضرورت ہے۔ہماری فوجیں پوری طرح سے چوکس رہے اور چینی پاکستانی مشترکہ سرگرمیوں پر گہری نظررکھیں۔
Aksai Chin, Anil Narendra, China, Daily Pratap, India, Vir Arjun

09 اگست 2011

سترفیصدی آبادی گاؤں میں رہتی ہے اور زراعت سب سے بڑا پیشہ ہے

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 9th August 2011
انل نریندر
مردم شماری کے مطابق دیش کی قریب 70 فیصدی آبادی اب بھی گاؤں میں بستی ہے۔ ہندوستان کی آبادی121 کروڑ ہے۔ مرکزی داخلہ سکریٹری آر کے سنگھ کے ذریعے جاری دیہی شہری آبادی کے بارے میں ہندوستان کی مردم شماری 2011ء کے پختہ اعداو شمار بتاتے ہیں کہ شہروں کی آبادی شرح گاؤں کی بہ نسبت زیادہ بڑھی ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بھارت دیہات کا دیش ہے یا بھارت کی روح گاؤں میں بستی ہے۔ ویسے تو اس طرح کے جملے کبھی کتابوں کا ضروری حصہ ہوا کرتے تھے لیکن پچھلی قریب ڈیڑھ دو دہائیوں سے جب سے یہ اقتصادی پالیسی اپنائی گئی ہے اقتصادی ماہرین کے دماغ سے گاؤں غائب ہونے لگے ہیں۔ اس کی حمایت میں کچھ زرخرید قسم کے اقتصادی ماہرین نئے نئے حقائق ڈھونڈکر پیش کرنے لگے ہیں۔ مثلاً کسی طرح گاؤں سے ہجرت اور کھیتی سے ان کی چاہت دور ہورہی ہے۔
دیش کی ترقی شرح میں زراعت کا اشتراک کم ہوتا جارہا ہے۔ ہندوستان ایک زرعی پردھان دیش ہے اور اس کی 70فیصدی آبادی ابھی بھی دیہات میں رہتی ہے لیکن ویسی اقتصادی پالیسیوں کی کمی ہے جو زراعت پر مبنی دیہی معیشت کو مضبوطی فراہم کرسکے۔ دیہی معیشت کی بد حالی کے لئے مرکز کے ساتھ ساتھ ریاستی حکومتیں بھی ذمہ دار ہیں۔ وہ نہ تو مرکزی انتظامیہ پر زرعی خطے کی بھلائی میں معاون بننے والی پالیسیوں کو بنانے کے لئے دباؤ بنانے میں اہل ہیں اور نہ ہی اپنی سطح پر ایسے قدم اٹھا پا رہی ہیں جس سے کسان خودکفیل ہو سکے۔ بھلے ہی سیاسی پارٹیاں خود کو کسانوں اور گاؤں ،غریبوں کا ہتیشی بتاتی ہوں لیکن سچائی تو یہ ہے کہ وہ دیہی آبادی کو محض ایک ووٹ بینک کی شکل میں دیکھتی ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ زرعی سیکٹر کی بھلائی کے لئے جو پالیسیاں بنتی بھی ہیں ان پر صحیح ڈھنگ سے عمل نہیں ہوتا۔ تمام برعکس حالات سے دوچار ہونے کے باوجود اگر کبھی کسان اناج کی پیداوار بڑھانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو انہیں اپنی پیداوار کی صحیح قیمت نہیں ملتی اور ان کی کڑی محنت کا فائدہ تو بچولئے ہی اٹھا جاتے ہیں۔
ایک شرمناک پہلو یہ بھی ہے کہ ذخائر کی کمی میں ہر برس لاکھوں ٹن اناج سڑ جاتا ہے ۔ ایسا آگے بھی ہوگا کیونکہ بار بار کی وارننگ کے باوجود مناسب پالیسیوں کو بنانے سے بچاجارہا ہے۔ پچھلی ایک دہائی میں گاؤں کی گذر بسر کی زندگی مشکل ہوتی گئی ہے کیونکہ تمام ترقیاتی اسکیموں کی توجہ شہروں پر دی جارہی ہے۔ ایک تو زرعی کام بے فائدہ ہوگیا ہے پھر پہلے سے موجود روزگار کے متبادل کے وسائل میں بھی کمی آئی ہے۔ یہ ایک اچھا اشارہ ہے کہ گاؤں سے اب ہجرت شرح میں کمی آئی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دیہات کے پاس ہی نوکریاں نکالی جائیں تاکہ روزگار کے ساتھ لوگ گاؤں میں ہی رہیں۔ شہروں کی طرف نہ بھاگیں۔
اب دیہات میں یہ تمام گلیمرس سہولیات تو آچکی ہیں ٹی وی، فلمیں وغیرہ اب گاؤں گاؤں پہنچ چکی ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ گاؤں کو زیادہ سے زیادہ خود کفیل بنایا جائے۔ صحت سہولیات کی بھاری کمی ہے، اسکولوں کی بھی کمی ہے۔
اسکول ۔ ہسپتالوں کی کمی کو دور کیا جائے لیکن یہ سب کرنے کے لئے ہمارے اقتصادی ماہرین کو اپنی ترجیحات میں تھوڑی تبدیلی لانی پڑے گی۔ دنیا یا گلوبل معیشت کی دن رات دہائی دینے والوں کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ بھارت کا اصل مطلب گاؤں ہے۔ بھارت گاؤں پردھان دیش ہے اور جب تک یہ بات انہیں سمجھ میں نہیں آتی تب تک گاؤں کو نظرانداز کیا جاتا رہے گا۔
Tags: Anil Narendra, Census of India, Daily Pratap, India, Population, Vir Arjun

29 جولائی 2011

اور اب پاکستان نے گلیمر کا سہارا لیا


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 29th July 2011
انل نریندر
تمام دنیا میں اپنی گرتی ساکھ سے پریشان پاکستان نے اب گلیمر کا سہارا لیا ہے۔ پاکستان کی نئی وزیر خارجہ حنا ربانی ایک ماڈل زیادہ لگتی ہیں بہ نسبت ایک وزیر خارجہ کے۔وزیر خارجہ بننے کے بعد پہلا غیر ملکی دورہ ان کا کہیں اور سے نہیں بھارت سے شروع ہوا۔ حناربانی محض 34 سال کی ہیں۔ وہ پاکستان کی پہلی خاتون وزیر خارجہ ہیں۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی یعنی20 جولائی کو انہوں نے وزارت سنبھالی تھی۔ حنا پاکستان کے لیڈر مسلم نیتا ملک غلام نور ربانی کھر کی بیٹی ہیں۔ وہ 2001ء میں بیرون ملک سے ہوٹل مینجمنٹ کی ڈگری لیکر آئی تھیں اور 2002 سے سیاست میں سرگرم رہ کر خاندان کی وراثت کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ حنا بزنس مین فیروز گلزار کی اہلیہ ہیں اور ان کے دو بیٹے ایک بیٹی ہے۔حنا خود بھی ایک بڑے کاروبارکی مالکن ہیں۔ پچھلے پاکستانی وزرا خارجہ کی طرح سپاری سوٹ والے اولڈ مین نہیں بلکہ وہ بلا کی خوبصورت ماڈل جیسی ہیں۔ 34 سالہ حنا نے بھارت میں آکرہلچل مچا دی ہے۔ یوں تو پاکستان کے بہت سے وزیر بھارت آتے رہتے ہیں لیکن جس طرح حنا نے بھارت کے نوجوانوں کو متاثر کیا ویسا شاید کسی اور پاکستانی لیڈر نے نہیں کیا۔ عام طور پر پاکستان کی خاتون افسر یا لیڈر کسی غیر مرد سے ہاتھ نہیں ملاتی، صرف آداب کے لئے ہی ہاتھ اوپر اٹھاتی ہے لیکن حنا ربانی نے یہ روایت توڑ ڈالی۔ انہوں نے بڑی گرمجوشی کے ساتھ ہاتھ ملایا اور اس طرح سے انہوں نے پیغام دینے کی کوشش کی تھی کہ اب ان کے ملک کی چال ڈھال بدل گئی ہے۔ لیکن بیشک پاکستان نے اب گلیمر کا سہارا لیا ہو اس کا ایجنڈا نہیں بدلا۔ حنا نے پہلے دن سے ہی کشمیر مسئلے کو اہم ایجنڈا بنانے کی کوششیں شروع کردیں۔ اندرا گاندھی انٹرنیشنل ہوائی اڈے سے اترنے کے بعد وہ سیدھی پاکستانی ہائی کمیشن گئیں۔ وہاں پہلے سے ہی موجود علیحدگی پسند لیڈر سید علی شاہ گیلانی اور میر واعظ فاروق ان کا انتظارکررہے تھے۔ سب نے مل بیٹھ کر کشمیر پر تبادلہ خیالات کئے۔ حنا نے پیر کے روز لاہور میں جے کے ایل ایف لیڈر یٰسین ملک سے بھی ملاقات کی تھی۔ حیدرآباد ہاؤس میں بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کے ساتھ بات چیت میں حنا نے واضح اشارے دے دئے کہ آج بھی پاکستان کی بات چیت کا بنیادی ایجنڈہ کشمیرہے۔ بھارت کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ پاکستان کا ایجنڈہ نہیں بدلہ لیکن چہرے بدل گئے، گلیمرس ،ماڈل وزیر خارجہ بن گئی ہو لیکن آج بھی کشمیر کا راگ ہی اس کی ترجیح ہے۔ ہندوستان ہمیشہ سے مہمان نوازی کے لئے جانا جاتا ہے ہمیں حنا کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرنا چاہئے لیکن ان کے گلیمر پر نہیں جانا چاہئے۔ اور اپنے ایشوز کو موثر ڈھنگ سے رکھنا چاہئے۔ ویسے ایک اسلامی ملک میں جہاں عورتوں پر سخت پابندیاں ہوں، برقع پہننے پر زور دیا جاتا ہو، وہاں ایک خوبصورت عورت جو سوٹ پہن رہی ہو، ہاتھ ملاتی ہو کیا یہ اپنے آپ میں ایک تضاد نہیں ہے؟ جس ملک میں کٹرپسندوں کا راج ہو وہاں حنا کیسے ؟ حنا ربانی کھر کو پاکستان کا وزیر خارجہ بنایا جانے پر جماعت متحدہ مجلس عمل نے ناراضگی جتائی ہے۔ پارٹی کے چیف مولانا فضل الرحمن نے ربانی کی تقرری کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ایک خاتون کو یہ عہدہ دینا دانشورانہ فیصلہ نہیں ہے۔ ہمیں اس فیصلے پر اعتراض ہے۔ ہمیں یہ پتہ نہیں ہے کہ حنا ربانی کس طرح سے سفارتی مورچے پر پاکستان کی نمائندگی کریں گی۔ وہ ایک خاتون صنعتکار ہیں اور ان کے پاس کوئی سفارتی یا سیاسی تجربہ نہیں ہے۔ ایسے میں یہ دانشورانہ فیصلہ نہیں ہے۔
Tags: Anil Narendra, Daily Pratap, Hina Rabbani Khar, India, Jammu Kashmir, Pakistan, Vir Arjun

22 جولائی 2011

ہلیری کلنٹن کاکامیاب بھارت دورہ؟


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 22nd July 2011
انل نریندر
امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کا بھارت دورہ امریکی نقطہ نظر سے بہت کامیاب رہا ہے۔ ہر مرتبہ کی طرح اس بار بھی امریکہ نے ہندوستان کو پاکستان اسپانسر دہشت گرد ی پر ہمدردی کے کچھ لفظ کہہ کر اپنا پلا جھاڑ لیا۔ ہلیری کلنٹن کا دورہ ممبئی تازہ بم دھماکوں کے فوراً بعد ہوا ہے اس لئے بھی بھارت کے پاس پاک اسپانسر دہشت گردی کو ختم کرنے پر امریکہ کی کھلی حمایت پانا ضروری تھا، وقت بھی تھا لیکن پاکستان امریکہ کی مجبوری ہے۔آج بھی وہ پاکستان پر کچھ حد تک منحصر ہے۔ جب تک امریکہ افغانستان میں موجود ہے تب تک امریکہ پاکستان سے نہیں بگاڑے گا۔ یونہی لڑتا جھگڑتا رہے گا۔ دونوں ملکوں کے درمیان نوٹنکی جاری رہے گی۔ وقت کی پکار تھی کے ہلیری پاکستان کو سخت پیغام دیتیں لیکن دہشت گردی پر کڑک مزاجی دکھا رہا امریکہ دہشت گرد تنظیموں کی پناہ گاہوں کو لیکر سنبھل کر بات کرتا نظر آیا۔ بھارت دورے پر تشریف لائیں ہلیری کلنٹن نے منگل کے روز کہا تھا کہ پاکستان پر دہشت گردی کے خلاف قدم اٹھانے کے لئے جتنا ممکن ہوسکا اتنا دباؤ بنایا جائے گا۔ لیکن اس کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ حیدر آباد ہاؤس میں ہلیری نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھارت کے ساتھ تعاون بڑھانے کی یقین دہانی تو کرائی وہیں یہ کہنے سے بھی نہیں چوکیں کہ اس لڑائی میں پاکستان بھی امریکہ کا اہم ساتھی ہے۔ امریکہ بھارت پر پاکستان سے امن مذاکرات جاری رکھنے کا اکثر دباؤ بناتا رہتا ہے۔ اس کے نقطہ نظر سے ہلیری نے یہ کہہ کر کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری بات چیت سے ہم خوش ہیں، امریکی موقف میں پاکستان دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں اہم ساتھی ہے۔ دہشت گردوں نے مسجدوں ، سرکاری عمارتوں پر حملہ کرکے بڑی تعداد میں پاکستانیوں کو موت کی نیند سلایا ہے۔ یہ دلیل دے کر کلنٹن نے بھارت کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے۔ امریکہ کا دوہرا چہرہ ایک بار پھر بھارت کے سامنے آگیا ہے۔ وہ دوہرے پیمانے رکھتا ہے۔ اس کے لئے ان کے اپنے مفادات بالاتر ہیں۔ امریکہ نے سول ایٹمی معاہدے کو پوری طرح لاگو کرنے کی یقین دہانی کے ذریعے ہندوستان کو بھلے ہی راحت دینے کی کوشش کی ہے لیکن نیوکلیائی حادثہ قانون پر اختلافات کے اشارے بھی دے دئے ہیں۔ ہلیری نے منگل کو کہا کہ بھارت کے ساتھ سول ایٹمی معاہدے کو مکمل طور سے عمل درآمد کیا جائے گا۔ لیکن ایٹمی حادثے سے ہونے والے نقصان کی تکمیل کے معاملے میں بھارت کو اپنے قانون کو بین الاقوامی قواعد کے مطابق کھرا اتارنا ہوگا۔ ہلیری نے کہا کہ بھارت کو اپنے معاوضے قانون کو بین الاقوامی قواعد کے مطابق کرنے کیلئے یو این کنونشن کی تصدیق کی خانہ پوری کرنی ہوگی۔
گذشتہ روز ہلیری کلنٹن نے کہا کہ پاکستان سے ممبئی حملے کے سازشیوں کے خلاف کارروائی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ انہوں نے یہ کہنے میں بھی کوئی قباحت محسوس نہیں کی کہ پاکستان کے سلسلے میں امریکہ اور بھارت کیا کر سکتے ہیں۔ اس کی ایک حد ہوتی ہے، اس کا سیدھا مطلب ہے کہ امریکی انتظامیہ پاکستان پر اس کے لئے دباؤ بنانے کا کوئی ارادہ ہی نہیں رکھتابلکہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گردی کی سرگرمیوں پر روک لگائے اور بھارت مخالف سرگرمیوں کو ترک کرے۔ اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ پاک اسپانسر دہشت گردی کی لڑائی میں امریکہ بھارت کا ساتھ دے گا تو وہ غلط فہمی میں ہے اور ہلیری نے اسے صاف کردیا ہے کہ ہمیں اپنی لڑائی خود لڑنی پڑے گی۔بیشک پاکستانی فوج اپنے مغربی حصے میں طالبان سے لڑنے کی نوٹنکی کر رہی ہو لیکن مشرقی حصے میں تو اس کی مدد سے دہشت گردی کے کیمپ چل رہے ہیں۔ بھارت پر حملے کئے جاتے ہیں، کیا امریکہ کو اس کی جانکاری نہیں ہے؟ سب کچھ جانتے ہوئے بھی وہ انجان بن جاتا ہے تو اس کا مطلب صاف ہے کہ اس کے سامنے اس کے اپنے باہمی مفادات ترجیح رکھتے ہیں۔ اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں پاکستان، بھارت کے خلاف کیا کرتا ہے؟ امریکہ کے اس رویئے سے بار بار باآور ہونے کے باوجود یہ ہی موقف رہا ہے کہ بھارت ان دہشت گردی کے اڈوں کو تباہ نہ کرے۔ اگر امریکہ کا دباؤ نہ ہوتا تو شاید اب تک بھارت کم سے کم کچھ دہشت گرد کیمپوں پر سرجیکل اسٹرائک کر ہی دیتا۔ کب تک بھارتیہ لیڈر یہ امید پالے رکھیں گے کہ پاکستان کی آتنک وادی پالیسیوں پر امریکہ ہماری حمایت کرے گا؟ اس سے سوال اٹھتا ہے کہ بھارت کی پاکستان کے تئیں پالیسی آخر کیا ہے؟ کبھی اس کو گالی دیتا ہے تو کبھی دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہے؟ کیا یہ محض اپنے امریکی آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے ہوتا ہے ۔ امریکہ کی ترجیحات واضح ہیں۔ ہمیں اپنی پوزیشن سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ جتنی جلدی یہ بات ہندوستانی لیڈروں کو سمجھ میں آجائے اتنا ہی دیش کے لئے اچھا ہوگا۔ کل ملاکر ہلیری کلنٹن کا دورۂ بھارت امریکی نقطہ نظر سے کامیاب رہا ہے اور بھارت کو ایک بار پھر جھنجھنا تھما دیا گیا ہے۔
Tags: Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, America, Hillary Clinton, India, Pakistan, Terrorist,

15 جولائی 2011

ایک بار پھر ممبئی شہر بنا آتنکیوں کا نشانہ


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 15th July 2011
انل نریندر
پچھلے کافی عرصے سے ہندوستان پرکوئی دہشت گردانہ حملہ نہیں ہوا تھا۔ حملے تو ہوتے رہے ہیں لیکن کوئی سلسلہ وار ٹائم بلاسٹ نہیں ہوئے تھے۔ یوں تو تین دن پہلے آسام کے کام روپ دیہات ضلع کے رانگیا کے پاس ایک دھماکے کے بعد گوہاٹی پوری حادثے کا شکار ہوگئی تھی۔ لیکن اس کے پیچھے مقامی شرپسندوں کا ہاتھ تھا۔ اس حادثے میں 50 سے زیادہ مسافر زخمی ہوئے تھے۔ بدھ کے روز ممبئی میں جیسا دہشت گرد حملہ ہوا ، ایسا حملہ کافی دنوں کے بعد ہوا ہے۔ ہم بھول گئے تھے کہ ایسے حملے پھر ہوسکتے ہیں۔ شاید یہ ہی وجہ تھی کہ ہماری خفیہ ایجنسیوں کو اس سلسلہ وار دھماکے کے بارے میں کوئی بھنک تک نہ لگ سکی۔ وزارت داخلہ نے مانا ہے کہ ممبئی میں ہوئے سلسلہ وار دھماکوں کے بارے میں مرکز یا ریاستی حکومت کی خفیہ مشینری کو ذرا بھی بھنک نہ لگ سکی اور بدھ کی شام بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر ہوئے ان تین دھماکوں نے یہ واضح کردیا ہے کہ پچھلے چھ مہینے کے دوران دہشت میں کوئی دہشت گردی کی واردات نہیں ہونے کے بعد سکیورٹی و خفیہ مشینری کافی حد تک بے پرواہ ہوگئی تھی۔ دیش کی اقتصادی راجدھانی ممبئی میں سلسلہ وار دھماکے تین مقامات پر 10 منٹ کے اندر ہوئے جس میں21 لوگ مارے گئے، 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ سانتاکروز میں ایک غیر استعمال شدہ بم ملا جو نہیں پھٹا تھا۔ پچھلے 18 سال میں بدھوار کو 14 ویں مرتبہ ممبئی آتنکی حملے کا شکار ہوئی۔ قریب 6.15 بجے جھاویری بازار میں واقع چاندی و زیورات کے کاروباری دیپک سین نے اپنے نوکر سے میل منگوائی۔ وہ میل کی پڑیا کھول رہا تھا کہ ایک زور دار دھماکے نے اس کی دوکان کی ٹیوب لائٹیں، شوکیس کے کانچ توڑ دیا۔ سین نے آگ کا ایک بڑا گولہ سا اوپر کی طرف جاتا دیکھا۔ سامنے کی کھانے پینے کی دوکانیں آگ پکڑ چکی تھیں۔ سامنے سڑک پر کھڑے پاپڑ بیچ رہے خوانچے والے کے پرخچے اڑ گئے تھے۔ تین درجن سے زیادہ لوگ بری طرح جھلس کر زمین پر گر پڑے اور لوگ ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ لیکن کچھ ہی پلوں میں لوگ پھر چوکس ہوگئے اور زمین پرپڑے بے سہارا زخمیو ں کو لیکر مطلوبہ گاڑیوں سے کے کے جی ٹی ہسپتال کی طرف جانے لگے۔ چشم دید گواہوں کے مطابق جھاویری بازار میں کچھ لمحوں میں دو دھماکے ہوئے۔ بتایا جاتا ہے یہ دونوں دھماکے ایک موٹر سائیکل و ایک اسکوٹر میں رکھے گئے آتشی سامان سے ہوئے۔ تقریباً یہ ہی منظر کچھ منٹ کے اندر پہلے اوپرا ہاؤس پر پھر دادر ریلوے اسٹیشن کے پاس دوہرایا گیا۔ اوپرا ہاؤس ہیروں کے کاروبار کانہ صرف ہندوستان میں بلکہ پوری دنیا میں بڑا مرکز ہے۔یہاں ہوا دھماکہ پنچ رتن بلڈنگ و پرساد چیمبر کے درمیان ٹاٹا روڈ کی کھاؤ گلی میں ہوا جبکہ دادر کا دھماکہ بیسٹ کے ایک بس اسٹاپ کی چھت پر کیا گیا۔ جھاویری بازار کو پچھلے 18 برسوں میں تیسری مرتبہ آتنکی حملے کا شکار ہونا پڑا ہے جبکہ دادر اور اوپرا ہاؤس میں پہلی بار دھماکہ کیا گیا ہے۔ بدھوار کو جھاویری بازار میں ہوئے دھماکے میں سب سے زیادہ لوگ مارے گئے اور زخمی ہوئے ہیں۔ ایسے موقعوں پر جب ایک شہر میں دھماکے ہوں تو دوسرے بڑے شہروں میں دہشت پھیل جاتی ہے۔ میرے پاس کئی ایس ایم ایس آئے کہ دہلی کے ساکیت اور ڈیفنس کالونی میں بھی بم ملے ہیں۔ یہ سب ایک افواہ تھی اور دہلی میں اوپر والے کے رحم و کرم سے کوئی بم نہیں ملا۔
سوال یہ اٹھتا ہے یہ دھماکے کس نے کروائے اور کیوں؟ جہاں تک یہ کس نے کروائے اس کی صحیح معلومات تو بعد میں حاصل ہوگی شاید کبھی یقینی طور سے نہ مل سکے لیکن مقصد کا تھوڑا اندازہ ضرور ہوسکتا ہے۔ جس طرح سے بار بار جھاویری بازار کو نشانہ بنایا جارہا ہے اس سے تو لگتا ہے کہ بزنس کو متاثر کرنا مقصد ہے۔ اوپرا ہاؤس بھی ایک ایسا ہی بزنس سینٹر ہے۔ دونوں ہی مقامات پر بھیڑ ہوتی ہے۔ دھماکوں سے زیادہ لوگوں کو نقصان پہنچانے کا ارادہ صاف جھلکتا ہے۔ ممبئی میں سیریل دھماکوں میں جیسی تباہی پہلے مچتی رہی ہے ویسی اس بار نہیں ہوسکی، اس کی وجہ دھماکوں کا اتنا طاقتور نہ ہونا ہے۔ اس میں خراب پلاننگ بھی ہوسکتی ہے لیکن کیونکہ ان دھماکو ں میں آئی ڈی تکنیک کا استعمال ہوا ہے اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کے پیچھے کسی بڑی دہشت گرد تنظیم کا ہاتھ ہے۔ یہ مقامی انڈر ورلڈ کا کھیل نہیں ہے۔ہو سکتا ہے اس کے پیچھے آئی ایس آئی، لشکر طیبہ، داؤد ابراہیم گروہ کا ہاتھ ہو؟ یہ کسی ایسی تنظیم نے بھی کروائے ہوں جو ہند۔ پاک مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنا چاہتی ہو۔ پاکستان سے رشتے بہتر بنانے کے لئے بات چیت کا دور طویل عرصے کے بعد شروع ہوا ہے۔ یہ حملہ اسے توڑنے کی سازش بھی ہوسکتی ہے۔
اخباروں میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ان کے پیچھے داؤد ابراہیم کا ہاتھ بھی ہوسکتا ہے۔ آئی ایس آئی کے اشارے پر ہوئے اس دھماکے میں انڈر ورلڈ ڈان داؤد نے اس کام کو انجام دینے کا بیڑا اٹھایا۔ اس میں حزب المجاہدین، انڈین مجاہدین نے ساتھ دیا۔ ذرائع کے مطابق بدھوار کو ممبئی میں ہوئے آتنکی حملے اسامہ بن لادن کی موت کے بعد بھارت میں کچھ کرنے کے لئے آئی ایس آئی نے داؤد سے کہا ۔آئی ایس آئی کی پہل پر داؤد اپنے گرگوں کے ساتھ چار ماہ پہلے ہی لشکر طیبہ میں شامل ہوگیا تھا۔ ذرائع کے مطابق آئی ایس آئی نے داؤد کے کئی لوگوں کو لاہور کے بہاولپور میں ہتھیار چلانے اور کمانڈو ٹریننگ بھی دلوائی اور جو ابھی بھی جاری ہے۔جس طرح ممبئی میں دھماکہ ہوا ہے اس میں کم اور درمیانی صلاحیت والے بم کا استعمال کیا گیا۔ اس میں آئی ای ڈی کا بھی استعمال ہوا ہے۔ اس طرح کے بم کا استعمال انڈین مجاہدین کرتے ہیں۔ حزب کی عادت ہے کہ بم دھماکے میں کسی ہندومذہبی مقام پر درمیانی صلاحیت کے بم کا استعمال کرتا ہے۔ ممبئی میں جھاویری بازار میں ممبا دیوی مندر کے پاس بم پھٹا ہے۔ اس کے علاوہ حزب المجاہدین بھی بم میں گاڑی کا استعمال کرتا ہے جو ممبئی میں ہوا۔انڈین مجاہدین ایک طرح سے لشکر کی سلیپر سیل کی طرح کام کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں شاید اس پر اور مزید معلومات ملیں۔ بھارت کی خفیہ اور سکیورٹی مشینری کو چست درست کرنا ہوگا۔ ورنہ ایسے حملے اور بھی ہوسکتے ہیں۔ ہمیں پوری طرح سے تیار رہنا ہوگا۔
Tags: 13/7, Anil Narendra, Bomb Blast, Daily Pratap, Dawood Ibrahim, Hizbul Mujahid, India, Indian Mujahideen, ISI, Lashkar e Toeba, Mumbai, Osama Bin Ladin, P. Chidambaram, Terrorist, Vir Arjun

22 جون 2011

افغانستان میں 10 سال پہلے امریکہ گھسا کیوں تھا؟

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
22جون 2011 کو شائع
انل نریندر
افغانستان میں تیزی سے سیاسی حالات بدل رہے ہیں۔ امریکہ نے اب وہاں سے بھاگنے کے اقدامات پر عمل کرنا شروع کردیا ہے۔ حالیہ دنوں میں دو خبریں ایسی آئی ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ وہاں کچھ کھیل چل رہا ہے۔ پہلی خبر جو آئی تھی وہ یہ کہ بھارت سمیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سبھی 15 ممبردیشوں میں پابندیوں کے لحاظ سے ایک ایسی فہرست کو منظوری دی ہے جس میں طالبان اور القاعدہ کو الگ الگ نظریئے سے دیکھا جائے گا۔ اس کا مقصد طالبان اور افغانستان میں صلاح کرانے کی کوششیں بتائی جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں سکیورٹی کونسل نے گذشتہ جمعرات کی رات مکمل اکثریت سے ریزولیشن پاس کئے ہیں۔ ان میں پابندیوں کو لیکر طالبان کے لئے القاعدہ سے الگ فہرست بنانے کی بات کہی گئی ہے۔ اس اہم قدم کے بعد القاعدہ اور طالبان آتنکیوں کو الگ الگ پیمانوں میں تولا جائے گا۔ دوسرا واقعہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی کا یہ کہنا کہ امریکہ طالبان سے بات چیت کررہا ہے، اس بارے میں پہلی بار سرکاری طور پر توثیق ہوئی ہے۔ کرزئی نے کابل میں ایک کانفرنس میں کہا طالبان کے ساتھ بات چیت شروع ہوگئی ہے اور اچھی پیشرفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی فوجیں خاص کر امریکہ خود ہی بات چیت کرارہا ہے۔ امریکہ میں لیڈر شپ میں افغانستان میں جاری جنگ10 ویں سال میں داخل ہوگئی ہے اور وہاں پر لڑائی کے سیاسی حل کی آوازیں بھی تیز ہونے لگی ہیں۔
افغان صدر حامد کرزئی نے جو انکشاف کیا ہے وہ افغانستان کے لئے جتنا خطرناک ہے اتنا ہی امریکہ کے مفاد پرمبنی ہے اور یہ دوہرے پن کا ایک ثبوت بھی ہے۔ افغانستان کے خلاف امریکہ نے آخر جنگ کیوں چھیڑی تھی؟ جہاں تک ہم سمجھ سکے ہیں 9/11 حملے کے لئے القاعدہ اور طالبان کو ذمہ دار مانتے ہوئے انہیں سبق سکھانے کے لئے یہ جنگ چھیڑی گئی تھی۔ پچھلے10 برسوں میں پہلے تو امریکہ نے اسی طالبان حکومت کو اقتدار سے معذول کیا تھا اور اب وہی طالبان اسے اچھے لگنے لگے ہیں اور ان سے دوبارہ اقتدار سنبھلوانے کی تیاری ہورہی ہے۔ ہم صدر براک اوبامہ اور امریکہ کی مجبوری کو سمجھ سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ اعلان کررکھا ہے کہ 2014 ء ادطعرتتک افغانستان سے امریکی فوج کی پوری واپسی ہونی ہے اس لئے اناً فاناً میں مسئلے کا حل نکالنا چاہتے ہیں۔ اسی کے تحت طالبان سے بات چیت شروع کی ہے جو حالانکہ ابھی ابتدائی دور میں ہے۔ امریکہ کے کٹھ پتلی ادارے اقوام متحدہ نے طالبان اور القاعدہ پر اس لئے پرانا سسٹم روکتے ہوئے جو پیغام دیا ہے اس کا لب لباب یہ ہی ہے کہ اگر القاعدہ کا ساتھ چھوڑ کر طالبان افغانستان کا دوبارہ تعمیر نو میں معاون بنتا ہے تو اسے معافی دے دی جائے گی۔ ہمیں تھوڑا تعجب اس بات پر بھی ہوا ہے کہ آخر بھارت نے کیا سوچ کر سلامتی کونسل کے ریزولیشن پر اپنی مہر لگائی تھی۔ بھارت کی نظروں میں یہ طالبان ایک اچھی تنظیم بن گئی ہے جس سے بھارت کو اب کوئی خطرہ نہیں ہے؟ سوال یہ نہیں کہ طالبان کیسا ہے، سوال یہ ہے ایک آتنکی تنظیم جس نے اپنا ایجنڈا عام کردیا ہو، ا س سے آپ سمجھوتے کی بات کررہے ہوں وہ بھی بکواس شرطوں پر؟ معاملہ تو یہ ایک آتنکی تنظیم سے بات چیت کر امریکہ نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے اس کے تمام فیصلوں کے پیچھے صرف اسکا اپنا مفاد ہوتا ہے۔ اسے اس بات کی قطعی پرواہ نہیں کہ اس گھوٹالے کا بھارت، پاکستان، ایران ملکوں پر کیا اثر پڑنے والا ہے؟ نہ ہی اسے اب عالمی آتنک واد سے کوئی لینا دینا ہے اور نہ ہی کوئی سروکار۔ اس لئے بات چیت میں افغان سرکار کو شامل نہیں کیا گیا۔ خود افغانی مانتے ہیں کہ یہ انتہائی خطرناک قدم ہوگا اور ملک پھر2001 ء سے پہلے کے حالات میں چلا جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا سیدھا نقصان بھارت کو بھی ہوگا۔ بھارت کے ذریعے افغانستان میں جاری مختلف تعمیراتی اسکیموں کو جھٹکا لگے گا۔ اس سے کرزئی حکومت کی ساکھ اور طریقہ کار اور مستقبل پر نامناسب اثر پڑے گا۔ لیکن امریکہ کو ان سب سے کیا لینا دینا۔ اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہوگی کہ ایک دہائی پہلے جو امریکہ ’وار آن ٹیرر‘ کا نعرہ دیکر افغانستان میں اس لئے داخل ہوا تھا کہ القاعدہ اور طالبان کو وہ ختم کرسکے، آج وہ اسے نہیں آتنکیوں کے حوالے کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے تاکہ افغانستان سے اسے بھاگنے کا راستہ مل جائے؟
Tag: 9/11, Afghanistan, Al Qaida, America, Anil Narendra, Daily Pratap, India, Iran, Osama Bin Ladin, Pakistan, Security Council, Taliban, UNO, USA, Vir Arjun

07 جون 2011

بھارت کو امریکہ کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کشمیری کو مار گرایا


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
7 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد امریکہ کو دوسری قابل ذکر کامیابی ملی ہے۔امریکہ کی پانچ انتہائی مطلوب آتنکی فہرست میں شامل الیاس کشمیری مارا گیا۔ امریکہ نے اس پر 50 لاکھ ڈالر کا انعام رکھا ہوا تھا۔ شکروار تقریباً رات سوا گیارہ بجے جنوبی وزیرستان میں ایک ڈرون حملے میں الیاس اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ شکار ہوگیا۔ اس کی تصدیق حرکت الجہاد اسلامی نے کردی ہے۔ خونخوار 313 برگیڈ نے ایک فیکس جو پیشاور میں اخبار نویسوں کو بھیجا گیا اس کی تصدیق اس سے ہوتی ہے۔بھارت کو امریکہ کا شکر گذار ہونا چاہئے کہ اس نے بھارت کے ایک بہت بڑے دشمنوں کو ماردیا ہے، ہم تو اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے حالانکہ الیاس امریکہ کے زیادہ بھارت کا بڑا گناہگار تھا بھارت نے اس خونخوار دہشت گردی کی کئی خطرناک سازشوں کے لئے مانگ کی تھی۔ اسامہ بن لادن کے چیلے کے مارے جانے کے بعد اب اس کے جانشین کی شکل میں بھی کشمیری کا نام ہی چل رہا تھا۔ اس نے 26 نومبر2008 کو ممبئی کو دہلانے کیلئے رچی گئی سازش میں اہم کردار نبھایا تھا۔ جموں و کشمیر میں دہشت گردی اگر اتنی بڑھی ہے تو اس کے پیچھے الیاس کشمیری ایک بہت بڑا سبب تھا کیونکہ وہ خود پاکستان کے مقبوضہ کشمیر کے کوٹلی علاقے میں پیدا ہوا تھا، تو اس وجہ سے اس کی ہمیشہ توجہ کشمیر میں لگی رہی۔ الیاس پر الزام ہے کہ اس نے کئی ہندوستانی فوجیوں کے سر قلم کئے اور اسی کے انعام کی شکل میں پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے اسے باقاعدہ اعزاز سے سرفراز کیا تھا۔ بعد میں یہ ہی الیاسی اسی مشرف کو مارنے کی سازش میں ملوث تھا۔ دہشت کی دنیا میں کشمیری نے سب سے پہلے لشکر طیبہ کاساتھ چنا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب کشمیری نے خود ایک آتنکی تنظیم کی بنیاد رکھی اور اس کا نام حرکت الجہاد الاسلامی (ہجی) کا نام دیا گیا۔ یہ آتنک تنظیم کئی برسوں سے ہند مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھی۔ گذشتہ دنوں سید سلیم شہزاد کا قتل ہوا تھا ،شہزاد نے اسی الیاسی کے بارے میں دو مضمون لکھے تھے۔ اپنے ایک بلاگ میں انہوں نے بتایا کہ 23جولائی2003 ء کو ہندوستانی فوج کو اکنور کیمپ پر ایک حملہ ہوا تھا۔ اس میں 9 فوجی افسر مارے گئے تھے۔ جس میں برگیڈیئر وی کے گوول بھی شامل تھے۔نارتھ کمان کے چیف لیفٹیننٹ جنرل ہری پرساد زخمی ہوئے تھے۔ الیاس 1994 ء میں دہلی میں بھی اپنی سرگرمیاں چلا رہا تھا۔ عمر شیخ کے ساتھ الیاس بھی وہی وال اسٹریٹ جنرل کے صحافی ڈینیل پرل کے قتل میں شامل تھا۔
بھارت کو امریکہ کا شکر گذار ہونا چاہئے کہ اس نے وہ کام کردیا جو شاید ہم کبھی نہیں کرسکتے تھے۔ ہم نے تو اس الیاس کو ایک نہیں دو بار پکڑ کر بھاگنے کا بھی موقع دیا۔ پہلی بار فوج نے اور دوسری بار 1994 میں غازی آباد کے مسوری تھانہ علاقے میں پولیس کے ساتھ مڈ بھیڑ میں زخمی ہوا تھا۔ اس کے دو ساتھی مارے گئے تھے۔ ان کے قبضے سے ایک امریکی نژاد غیر ملکی شہری کو چھڑایا بھی گیا تھا۔ الیاس کشمیری جو مشن پورا کرنے کے لئے بھارت آیا تھا وہ بھلے ہی پورا کرلیا ہو، مگر پاپ کا گھڑا بھرتاہے تو ایک نہ ایک دن پھوٹ ہی جاتا ہے۔آخر کار الیاس کشمیری پاکستان میں ماراگیا۔ امریکہ کو اس لائق تحسین کامیابی پر مبارکباد۔ اسامہ کے بعد یہ امریکہ کو دوسری بڑی کامیابی ملی ہے۔
Tags:America, Anil Narendra, Daily Pratap, Ilyas Kashmiri, India, Journalist Killed in Pakistan, Pakistan, Terrorist, Vir Arjun

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...