Translater

16 اپریل 2016

آسمان سے آئی خوشخبری

دیش میں خوشک سالی سے متاثرہ علاقوں کے کسانوں کے لئے بادلوں نے اچھی خبر بھیجی ہے۔ محکمہ موسمیات نے اپنے جزوی مانسون پیشگوئی میں دیش میں عام سے زیادہ بارش ہونے کی امید ظاہر کی ہے۔ اس کے مطابق اس سال یکم جون سے 30 ستمبر تک اوسطاً 106 فیصد بارش ہونے کا امکان ہے جو عام طور سے ہونے والی بارش سے 6فیصد زیادہ ہوگی۔ دو سال مسلسل خراب مانسون اور خوشک سالی کا شکار دیش واسیوں کے لئے یہ اچھی خبر ہے۔ ہم محکمہ موسیات و دیگر موسم کا حساب کتاب رکھنے والی ایجنسیوں کی پیشگوئی پر اس لئے یقین کرسکتے ہیں کیونکہ ان دنوں موسم کی پیشگوئی کی تکنیک و معلومات کافی بہتر ہوگئی ہیں اور پچھلے کئی برس سے موسم کی پیشگوئیاں صحیح ثابت ہورہی ہیں۔ ویسے بھی تشفی اس بات کی بھی ہے کہ جب سے مانسون کا ریکارڈ رکھنا شروع ہوا تب سے اب تک مسلسل تین سال خراب مانسون رہا جبکہ لگاتار2 سال خراب مانسون کی کئی مثالیں سامنے ہیں۔ اس سال مانسون شروع ہوتے ہوتے بحر ہند میں النینو کا اثر بھی ختم ہوجائے گا جس کی وجہ سے پچھلی بار اچھی بارش نہیں ہوپائی تھی۔ النینو کے بعد آنے والے مانسون میں عموماً عام سے زیادہ بارش ہوتی ہے۔ اس سال بہتر مانسون کی خبر نے کارپوریٹ دنیا ، شیئر بازار، حکومت کے ساتھ ساتھ کسانوں و عام آدمی کے چہروں پر بھی مسکراہٹ لا دی ہے۔ اب امید ہے کہ فصلوں کی پیداوار بڑھنے سے مہنگائی، خاص طور سے غذائی اجناس کی مہنگائی بنیادی سطح پر آجائے گی اور مارکیٹ میں خریدار آئیں گے تو مانگ بڑھے گی اور ایک سال میں دیش کی گروتھ ریٹ بھی بڑھے گی۔ بہتر مانسون سے غذا اور یومیہ ضرورتوں کی چیزوں کی قیمتیں کم ہونا طے ہے۔ اس سے جمع خودی بھی کم ہوگی اور انسانی سرگرمیوں سے یا قدرت کو اپنے کرشموں سے موسم لگاتار غیر معمول ہوتا جارہا ہے لیکن ہم نے اس کے لئے تیاری بھی تو نہیں کی ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ موسم کی بے یقینی کے ساتھ ساتھ ہماری لاپروائی بھی بڑھی ہے۔ اگر ہم سال درسال اتراکھنڈ، کشمیر و بہار کے سیلاب یا مہاراشٹر اور بندیلکھنڈ میں خوشک سالی جھیل رہے ہیں تو اس میں بے موسمی سے زیادہ ہماری خراب پلاننگ اور لاپرواہی بھی ذمہ دار ہے۔ اس سال اگر زیادہ بارش ہوئی تو کئی جگہ سیلاب کا خطرہ بڑھے گا اور ہمیں امید کرنی چاہئے کہ کوئی سیلاب سے پہلے کی طرح بھیانک نہ ہو۔ سیلاب اور خوشک سالی ایک ہی سکے کے دو پہلو ہی جو آبی انتظام کی ہماری کمزوری ظاہر کرتے ہیں۔ بارش کے پانی کو صحیح ڈھنگ سے کنٹرول کرنے اور اس کا انتظام و اس کے نکاسی کے انتظام ہونے چاہئیں تو سوکھے کی صورتحال سے پانی کی تنگی اور بارش کے زیادہ ہونے سے سیلاب کے خطرے دونوں سے ہی بچایا جانا چاہئے۔
(انل نریندر)

کیا پراپرٹی تنازعہ کے سبب تنزیل احمد کا قتل ہوا

سرخیوں میں چھائے این آئی اے کے ڈی ایس بی تنزیل احمد قتل کانڈ کو یوپی پولیس نے سلجھانے کا دعوی کیا ہے۔ اس کے مطابق سارا معاملہ پراپرٹی تنازعہ کا تھا نہ کے کوئی دہشت گردانہ واردات۔ پولیس کے مطابق ہسٹری شیٹر منیر نے دو ساتھیوں کے ساتھ مل کر تنزیل احمد پر تابڑ توڑ گولیاں داغ کر اس واردات کو انجام دیا۔ اس واردات میں تنزیل احمد کی بیوی فرزانہ خاتون بھی بری طرح زخمی ہوگئی تھیں جن کا بعد میں ایمس کے ٹراما سینٹرمیں بدھوار کی صبح پونے گیارہ بجے انتقال ہوگیا۔ جب حملہ آوروں ے 3 اپریل کو حملہ کیا اس وقت فرزانہ اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ ایک شادی میں شرکت سے لوٹ رہی تھیں۔پٹھانکوٹ آتنکی حملہ کی جانچ کررہی ٹیم کے ممبر رہے این آئی اے کے انسپکٹر تنزیل احمد کو گولیوں سے بھون دیا گیا تھا۔ بریلی زون کے آئی جی وجے سنگھ مینا نے بتایا کہ قتل کی وجہ پراپرٹی جھگڑا، رنجش اور بینک لوٹ کی مخبری کرنے کا شبہ تھا۔ منیر نے پہلے پستول سے چار راؤنڈ گولیاں داغیں اور پھر ریوالور اور دوسری پستول سے دونوں ہاتھوں سے گولیاں چلا کر تنزیل احمد کوچھنی کردیا۔ منیر بائیک پر پیچھے بیٹھا تھا۔ بعد میں ریان نے بھی تنزیل پرفائر کیا۔ اس دوران منیر نے ریان سے کہا کہ بہت مخبری کرتا تھا، واردات میں شامل منیر کے دونوں ساتھیوں ریان اور جیری کو گرفتار کرلیا گیاہے۔منیر ابھی بھی پکڑا نہیں جاسکا۔ واردات کے دن ریان اپنے والد کے ساتھ سہوارہ بندھن منڈپ میں شادی پر گیا تھا۔ قریب 10 بجے وہاں سے لوٹا اور اسی وقت جیری کو لیکر سی بی زیڈ بائیک سے سہسپور کے باہری علاقے میں آگیا۔ وہاں پہلے سے ہی منیر انتظار کررہا تھا۔ کچھ دیر بعد تنزیل کی گاڑی نکلتے ہی دونوں بائیک پر ان کے پیچھے لگ گئے۔ سہسپور کے پاس کار کو اوور ٹیک کیا اور پلیا کے پاس کار دھیمی ہوئی تو منیر نے گولی چلادی۔ پستول خراب ہونے پر ریوالور سے گولیاں برسا کر مار ڈالا۔آئی جی نے بتایا کہ قتل کی کئی وجہ سامنے آئی ہیں۔ ریان نے بتایا کہ اس کی بوانکہت اور پھوپھا تسلیم کا دہلی کے رنجیت نگر میں پڑوسی سے جھگڑا ہوگیا تھا جس میں پھوپا کو جیل جانا پڑا تھا لیکن تنزیل نے کوئی مدد نہیں کی تھی ، قتل کی ایک وجہ یہ بھی بنی۔ منیر کو تنزیل پر مخبری کرنے کا شبہ تھا۔ آئی جی نے بتایاکہ منیر نے اپنے ساتھی کے ساتھ مل کر دھانپور کے پی این بی کی کیش وین سے 91 لاکھ روپئے لوٹے تھے اور لوٹ کے بعد سہسپور کے کچھ لڑکوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ان لڑکوں نے منیر کو بتایا تھا کہ پولیس لوٹ میں اس کا نام لے رہی ہے۔ یہ کام تنزیل کے علاوہ اور کوئی نہیں کرسکتا تھا۔ منیر نے یہیں سے ٹھان لی کہ تنزیل کو ٹھکانے لگانا ہے۔ منیر کو بھڑکانے میں ریان کا ہاتھ تھا۔ ریان تنزیل سے رشتے داروں کو بے عزت اور ٹارچر کرنے سے ناراض تھا ۔ اس کے علاوہ دو پلاٹ کو لیکر بھی منیر اور تنزیل کے درمیان جھگڑاتھا۔ ان تینوں وجہ سے ان سب نے تنزیل کو قتل کرنے کا پلان بنایا۔ اس قتل کی سب سے اہم کڑی مانی جانی والی تنزیل کی بیوی فرزانہ کی موت سے اس قتل کی جانچ کو زبردست جھٹکا لگا ہے۔ فرزانہ اس قتل کانڈ میں ہتیاروں کے لئے سب سے بڑی گواہ تھی۔ واردات میں انہیں بھی تین گولیاں لگی تھیں انہوں نے قاتلوں کو سب سے نزدیک سے دیکھا تھا۔ ایک بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ ممکن ہے قاتلوں کو تنزیل احمد سے دشمنی ہو لیکن بیوی بچوں کی موجودگی میں اس طرح قتل کرنا، حملہ کے وقت دونوں بچے پچھلی سیٹ پر بیٹھے تھے؟ شکر ہے کہ وہ بچ گئے۔ کیا اس قتل کانڈ کی وجہ شاہین باغ کی کروڑوں روپئے کی ایک دوکان سے لوٹی گئی رقم اور بینک وین سے لوٹی گئی 91 لاکھ روپئے کے ذریعے مبینہ طور سے تنزیل کا ہڑپنا بھی کیا ایک وجہ تھی؟ ریان نے بھی پولیس کے سامنے بتایا کہ تنزیل اور منیر دونوں پراپرٹی کی خریدو فروخت کے دھندے میں ساتھ ساتھ تھے۔ دھامپور بینک لوٹ کی رقم منیر نے تنزیل کے ذریعے پراپرٹی میں لگا دی تھی لیکن یہ ساری پراپرٹی تنزیل نے کس کے نام خریدی اس بات کی جانکاری ابھی تک نہیں مل پائی ہے۔ پولیس اس اینگل کی بھی تحقیقات کررہی ہے۔
(انل نریندر) 

15 اپریل 2016

15-20 ہزار روپے میں زمین بیچنے پر مجبور کسان، امیر اربوں ڈکار جاتے ہیں

عام طور پر بینک سے قرضہ لینے کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ کو آسان قسطوں پر سود کے ساتھ قرض مل جاتا ہے جو آپ کو لوٹانا ہوتا ہے۔ اس کے لئے قرض لیتے وقت بینکوں کے ذریعے اتنی کاغذی کارروائی کی جاتی ہے کہ اگر قرض لینے والا ا شرطوں کو پڑھ لے تو شاید وہ قرض لینے کے بارے میں 10 بار سوچے لیکن شاید ہی ان کاغذوں میں لکھی شرائط کو وہ پڑتھا ہے یا مس کر جاتا ہے کہ ان کاغذوں میں قرض لینے والا اگر قرض نہ دے تو سخت کارروائی بینک کر سکتا ہے۔اور اس لون کے گارنٹر سے پیسہ کسی بھی طرح وصولہ جاسکتا ہے۔ اگر سیدھے سیدھے کہیں تو بینک لون تبھی دیتا ہے جب اسے بھروسہ ہوجاتا ہے کہ رقم واپس لے سکتا ہے، لیکن ایسا دیکھا جارہا ہے کہ اونچی پہنچ والے رسوخ دار لوگ بینک لون ادائیگی میں بھی اپنی مرضی چلاتے ہیں جبکہ عام شہری ایسا کبھی نہیں سوچ سکتا۔ منگلوار کو سپریم کورٹ نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے بھارتیہ ریزرو بینک کو سخت پھٹکار لگاتے ہوئے کہا ایک طرف جہاں 15-20 ہزار روپے کا زرعی قرض ادا نہ کر پانے پر غریب کسانوں کو زمین بیچنی پڑتی ہے، خودکشی کرنی پڑتی ہے وہیں ہزاروں کروڑ روپے کا قرض نہ لوٹانے والوں کی خبر لینے والا کوئی نہیں ہے۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی بنچ نے کہا کہ آربی آئی کا کام بینکوں پر نظر رکھنا بھی ہے اس لئے اسے پتہ ہونا چاہئے کہ بینک عام جنتا کا پیسہ کسے قرض کی شکل میں دے رہے ہیں۔ دراصل بنچ نے گزشتہ ماہ ایک میڈیا رپورٹ پر نوٹس لیا تھا اس میں کہا گیا تھا کہ 2013-15 کے دوران 1.14 لاکھ کروڑ کا قرض سرکاری بینکوں نے معاف کیا ہے۔ بنچ نے کہا ایسے کئی لوگ جو ہزاروں کروڑوں روپئے قرض لیتے ہیں اور بھاگ جاتے ہیں ان کی خبر لینے والا کوئی نہیں ہے۔ بینک ان کے قرض کو معاف بھی کردیتا ہے۔ وہیں کسانوں کے ذریعے 15-20 ہزار کے قرض کو ادا نہ کرنے پر ان کی زمینوں کو بیچنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے، یہ ٹھیک نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے آر بی آئی سے 6 ہفتوں کے اندر ایسی کمپنیوں کی فہرست پیش کرنے کو بھی کہا ہے جن کے لون پر کارپوریٹ لون سے متعلق مختلف اسکیموں کے تحت راحت دی گئی ہے۔ دراصل این جی او سینٹر فار پبلک انٹرسٹ لیٹیگیشن نے عرضی میں سرکاری بینکوں کی طرف سے کچھ کمپنیوں کو دئے گئے قرض کا اشو اٹھایا تھا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ 2015ء میں ہی 40 ہزار کروڑ روپئے کے کارپوریٹ لون کو معاف کردیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے آر بی آئی کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے سوال کیا کہ کروڑوں روپئے کے قرض لینے والے ڈیفالٹروں کے نام کیوں نہیں سامنے لائے جاتے اور ساتھ ہی غلط طریقے سے قرض دینے پر بینک پر کیوں کارروائی نہیں کی جاتی۔ کئی معاملوں میں تو بینکوں کے افسران کی ملی بھگت بھی سامنے آئی ہے اور اس طرح کے معاملوں میں مانا جاتا ہے بینک افسران کی ملی بھگت کے بغیر اس طرح کا گورکھ دھندہ نہیں کیا جاسکتا۔ آئی بی آئی ریگولیٹر بینک ہے اس لئے اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ یہ دیکھے کہ جنتا کا پیسہ کہاں جارہا ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی سوال کیا بڑے قرض کی واپسی کے لئے کیا کیا قدم اٹھائے جارہے ہیں؟ آپ کو قرض ڈیفالٹروں کے نام کا خلاصہ کرنے میں کیا دقت ہے اور اگر آپ کو یہ خفیہ معاملہ لگتا ہے تو این پی اے (نان پرفارمنگ ایسٹریس) کی کل رقم کے انکشاف کیا ہوا۔ بول چال کی زبان میں کہیں تو این پی اے یعنی ایسا قرض جو وصولہ نہیں جاسکتا۔ ہمارا خیال رہے کہ جو بڑے لوگ اپنے رسوخ اور پیسے کی طاقت پر بینکوں کو چونا لگا رہے ہیں ان کے نام سامنے لانے کی ضرورت ہے جو سماجی زندگی میں تو خود کو بڑا بنائے ہوئے ہیں لیکن اندر خانے کچھ اور ہی ہیں۔ آخر جنتا کے پیسے کو یوں برباد کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ جنتا کو یہ جاننے کا پورا حق ہے کہ آخر کس وجہ سے پیسے ڈوبے اور کون کون لوگ اس کے لئے ذمہ دار ہیں؟
(انل نریندر)

وزیراعلی نتیش کمار اب پارٹی کے صدر بھی بنے

جنتا دل( یونائیٹڈ) کی قومی ورکنگ کمیٹی نے نتیش کمار کو پارٹی کا نیا صدر چن لیا ہے جس کی توثیق باقاعدہ طور پراسی مہینے ہونے والی پارٹی کی قومی کونسل کی میٹنگ میں بھی کردی جائے گی۔ پچھلی ایک دہائی سے بھلے ہی سینئر سماجوادی لیڈر شرد یادو جنتادل (یو) کے پردھان تھے مگر یہ پارٹی کا ایک مکھوٹا کے برابر تھے اصل میں کمان تو نتیش کمار کے ہاتھوں میں ہی تھی۔ پارٹی کے اس قدم سے نتیش کی پوری بالادستی پارٹی پر ہوگئی ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس ساری کوشش کے پیچھے پرشانت کشور کا چالاک دماغ مانا جارہا ہے۔2019ء کے عام چناؤمیں مودی کے مقابلے کھڑے ہونے کی تیاری کررہے سُشاسن کمار عرف نتیش کمار کے لئے اپنی پارٹی پر پورا کنٹرول کرنا ضروری تھا اور اسے اسی کوشش کی شکل میں دیکھا جارہا ہے۔ پرشانت کشور کا یہ طریقہ کار وہی ہے جو2014ء کے عام چناؤ میں مودی کی انہوں نے صفائی کی تھی۔ یہ انہی کا آئیڈیا تھا کہ مودی کو پارٹی کی کمان اپنے ہاتھ میں رکھنی چاہئے یہ بات دوسری ہے کہ وزیر اعظم ہوتے ہوئے نریندر مودی پارٹی پر اتنی سخت پکڑ و نظر نہیں رکھ سکتے تھے ، اس لئے انہوں نے اپنے سب سے زیادہ بھروسہ مند امت شاہ کو پارٹی کی کمان دلا دی تھی۔ اب بھاجپا میں سارے اہم فیصلے مودی اور شاہ کی جوڑی ہی کرتی ہے۔ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ نتیش دیش کے پردھان منتری بننا چاہتے ہیں، خود نتیش بھی کہہ رہے ہیں کہ جنتا چاہے گی تو وہ وزیر اعظم کے عہدے کے دعویدار ہوں گے۔ بحث تو یہ بھی ہے کہ شرد یادو پارٹی صدارت نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔ اندر خانے نتیش اور شرد یادو کے درمیان سرد جنگ کی پوزیشن بنی ہوئی ہے۔ بہار اسمبلی چناؤ میں جنتا دل (یو) ، آر جے ڈی اور کانگریس اتحاد کو اچھی جیت دلانے والے نتیش اور ان کے سیاسی مشیر پرشانت کشور اس جیت کو دیگر ریاستوں میں بھی لے جانا چاہتے ہیں۔ ذرائع بتاتے ہیں نتیش کو پارٹی کی کمان سنبھالنے کی صلاح پرشانت کشور نے چناؤ کے فوراً بعد دی تھی۔ جنتا دل(یو) میں اجیت سنگھ کی رہنمائی والی راشٹریہ لوکدل اور جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلی بابو لال مرانڈی کے جھارکھنڈ وکاس مورچہ کے انضمام کے بارے میں بات چیت چل رہی ہے اور شرد یادو کی مداخلت کی وجہ سے کئی فیصلوں کو نافذ کرنے میں نتیش کو دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ شرد یادو نے لالو کے ساتھ اتحاد کی بھی مخالفت کی تھی لیکن نتیش کے سخت رویئے کے بعد شرد یادو نے بھاری من سے لالو کا ساتھ قبول کیا۔ اس بات کا بھی تذکرہ جاری ہے کہ شرد یادو پردے کے پیچھے سے شہ کی وجہ سے مانجھی نے نتیش کے خلاف مورچہ کھولا تھا۔
(انل نریندر)

14 اپریل 2016

بھاجپا کا یوپی میں مشن 265

کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی صدور کے انتخاب سے کچھ حدتک پتہ لگتا ہے کہ ریاستوں خاص کر اترپردیش ، کرناٹک، پنجاب میں پارٹی کی حکمت عملی کیا ہوگی۔ اترپردیش،پنجاب، کرناٹک، تلنگانہ، اروناچل پردیش کے نئے مقرر کردہ صدور کی تقرری سے دو باتوں کی اہمیت صاف نظر آرہی ہے۔ پہلی یہ کہ طویل عرصے سے آر ایس ایس سے وابستہ ہے اور دوسری یہ کہ پسماندہ طبقے سے ہیں۔ نئے ناموں میں 2 او بی سی سی ہیں اور1 دلت برادری سے تعلق رکھتا ہے۔ اگر ہم دیش کی سب سے اہم ریاست اترپردیش پر نظر ڈالیں تو صوبے میں پارٹی کی کمان جو لکشمی کانت باجپئی کے ہاتھ میں تھی اب وہ کیشو پرساد موریہ کے پاس ہوگی۔ پھولپور سے ایم پی چنے گئے موریہ ایک اوبی سی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ پچھلی تقریباً ڈیڑھ دہائی سے اترپردیش کی سیاست میں یا تو سماجوادی پارٹی کا دبدبہ رہا یا پھر بہوجن سماج پارٹی ، بھاجپا تیسرے نمبر پر آگئی۔ اب بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی نئے صدر کیشو موریہ نے کہا ہے کہ مرکزی لیڈر شپ میں مشن یوپی کے لئے265 سیٹوں سے زیادہ کا نشانہ طے کیا ہے اس کو حاصل کرنے کے لئے اسمبلی چناؤ 2017 ء میں ترقی ہی اہم اشو بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا 2014ء کے چناؤ میں تو پریواروں کو کچھ سیٹیں مل گئی تھیں لیکن اسمبلی چناؤمیں ان دونوں پریواروں کو نہیں جیتنے دیا جائے گا۔ موریہ نے کہا کہ پریوار کی سیاست کرنے والوں کو پتہ چل گیا ہے کہ یوپی کی عوام کیا چاہتی ہے۔ 
اترپردیش میں پسماندہ طبقے کو تنظیم کی کمان سونپنے کے بعد بھاجپا لیڈر شپ کو لگتا ہے کہ اب سی ایم کے عہدے کے لئے کسی بڑی ذات کے چہرے کو آگے کر سکتی ہے۔ پچھلی ڈیڑھ دہائی سے اترپردیش کی سیاست میں اسمبلی میں سپا اور بسپا کے سامراجیہ کو توڑنا آسان نہیں ہوگا۔ کیشو پرساد موریہ کو پردیش میں اپنا چہرہ بنانے کے پیچھے بھاجپا کا مقصد اسمبلی چناؤ کے پیش نظر سپا اور بسپا کے مقابلے طبقے کو راغب کرنا ہے۔ اسے امید ہوگی کہ غیر یادو پسماندہ کی بنیاد میں سیند لگانے میں موریہ مددگار ہوں گے۔ پھر آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد سے موریہ کی وابستگی ہندوتو کے ایجنڈے کو بھی آگے بڑھانے میں معاون ہوسکتی ہے۔ بھاجپا ہائی کمان لوک سبھا چناؤ میں ملے غیر یادو پسماندہ ذات اور اگڑی جاتی اور غیر جاٹوں دلت برادری کے ووٹ ہر حال میں اپنے ساتھ بنائے رکھنا چاہتی ہے۔ اس کی پہلی کڑی میں انتہائی پسماندہ طبقے سے ممبر پارلیمنٹ کیشو پرساد موریہ کو ریاست کی تنظیم کی کمان دی گئی ہے۔ دیکھیں کیشو پرساد موریہ بھاجپا کے مش265 کو کتنا پورا کرسکیں گے؟
(انل نریندر)

8برس بعدڈی جی ونجارا کی گھر واپسی

سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گجرات لوٹ آئے۔ ان کے ریاست میں آنے پر قانونی روک لگی ہوئی تھی۔ سی بی آئی کی اسپیشل عدالت نے حال ہی میں ان کو اپریل میں گجرات میں پردیش جانے اور رہنے کی اجازت دی تھی۔ صبح احمد آباد کے ایئر پورٹ پر پہنچنے پر ان کا شاندار سواگت ایک ہیرو کی طرح ہوا۔ پرستارو نے ترنگا لہرا کر انہیں چاندی کی تلوار پیش کرگجرات پولیس کے اس سابق افسر کا استقبال کیا۔ مڈبھیڑ کے سلسلے میں 8 سال جیل میں رہنے کے بعد فروری 2015ء میں ممبئی کی عدالت نے جب ونجارا کو عشرت جہاں معاملے میں ضمانت دی تو شرط لگا دی تھی کہ وہ گجرات نہیں جا سکتے۔ اس کے بعد وہ ممبئی میں ہی رہ رہے تھے۔ احمد آباد لوٹتے ہی ونجارا نے جم کر بھڑاس نکالی اور کہا دیش کو پاک ۔ چین جیسے ملکوں سے اتنا خطرہ نہیں جتنا ملک دشمنوں سے ہے۔ گاندھی نگر ،ٹاؤن ہال میں ونجارا سماج کے ذریعے منعقدہ شہری اعزاز تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سہراب الدین اور عشرت جہاں مڈ بھیڑ اصلی تھی۔ ونجارا کا کہنا تھا کہ انہیں سیاسی سازش کے تحت فرضی مڈ بھیڑ معاملے میں پھنسایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عشرت جہاں سمیت مڈ بھیڑ کے ایسے سبھی معاملوں میں جن میں انہیں گجرات پولیس کے دیگر افسران کو ملزم بنایا گیا ہے، پوری طرح صحیح ہے۔
مڈ بھیڑ کو دیش کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی انٹیلی جنس بیورو کی اطلاع پر انجام دیاگیا تھا۔ اس کی جانکاری دہلی سے لیکر احمد آباد تک کی مشینری کے اعلی عہدوں پر بیٹھے سبھی لوگوں کو تھی لیکن ملک دشمن نیتاؤں نے سیاسی مفاد کے لئے مجھے اور میرے ساتھیوں کو سازش کے تحت جھوٹے مقدمے میں پھنسا دیا۔ اگر یہ مڈ بھیڑ نہیں ہوتی تو دہشت گردوں نے گجرات کو دوسرا کشمیربنا دیا ہوتا۔ ونجارا کے مطابق گجرات پولیس کو ایک سازش کے تحت بدنام کیا گیا۔ ان پر فرضی مڈ بھیڑ کا داغ لگایا گیا جبکہ پولیس نے دیش کے آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے فرض کو انجام دیاتھا۔ انہوں نے کہا لشکر آتنکی ڈیوڈ ہیڈلی کے عدالت میں بیان کے بعد صاف ہوگیا ہے کہ ان کے خلاف کسی طرح سے سیاستدانوں نے سازش رچی۔ مڈبھیڑ میں ماری گئی عشرت جہاں اور اس کے ساتھی دہشت گرد تھے جن کے بارے میں گجرات پولیس کا دعوی بالکل صحیح تھا۔ یہ مڈ بھیڑ2004ء میں ہوئی تھی۔ ونجارا اس وقت ڈی آئی جی تھے۔ انہوں نے کہا دیش میں سچے سپاہی کی قدر نہیں ہے، فریبی سیاستدانوں نے انہیں و ان کے ساتھیوں کو جیل پہنچا دیا۔ ونجارا نے دھمکی بھرے لہجے میں کہا کہ اب بیٹنگ ان کے ہاتھ میں ہے لوگ فیلڈنگ کے لئے تیار رہیں۔
(انل نریندر)

13 اپریل 2016

آئی پی ایل یعنی انڈین پیسہ لیگ کا آغاز

یہ کہانی اس بچے کی ہے جو اگلے سال 10 سال کا ہوجائے گا، یہ دو مہینے کے لئے آتا ہے اور دھوم مچاتا ہے۔ اس وقت اسٹیڈیم کی ہر ایک سیٹ اور گھروں میں صوفہ سیٹ تک ہاؤس فل ہوجاتے ہیں۔ میں بات کررہا ہوں آئی پی ایل کی۔ آئی پی ایل 9- سنیچر سے شروع ہوگیا ہے جسے کٹاش کی شکل میں انڈیا پیسہ لیگ بھی کہا جاتا ہے یعنی اس کھیل میں بھرپور پیسہ ہے۔ کچھ حد تک یہ صحیح بھی ہے۔ 2008 سے موازنہ کریں تو اس کی برانڈ ویلیو 242 فیصد بڑھ گئی ہے۔ پہلے آئی پی ایل میں جہاں اس کی کمائی 450 کروڑ روپئے رہی وہیں 2015 میں آٹھویں سیزن میں اس نے2650 کروڑ روپے کمائے تھے اور دیش کی جی ڈی پی میں آٹھویں سیزن کا اشتراک تقریباً 1150 کروڑ روپئے کا رہا۔ اکیلے اشتہارات سے ہی اس نے 1100 کروڑ روپے کما لئے تھے۔ اس کی کمیابی سے گد گد ہوکر دیش میں بعد میں انڈین ٹینس لیگ ،انڈین بیڈمنٹن لیگ، کبڈی لیگ، ہاکی لیگ جیسی کئی لیگ بن گئی ہیں۔ سبھی کی کمائی ریکارڈتوڑ رہی ہے لیکن ایسا صرف بھارت میں ہیں نہیں ہے۔ کھیلوں میں جتنا پیسہ ہے اس کا اندازہ دنیا بھر میں کھیلی جارہی لیگ کی بیلنس شیٹ سے لگایا جاسکتا ہے۔ آئیے پیسے کے اس کھیل کا جائزہ لیتے ہیں۔۔۔ اس بار آئی پی ایل کی ٹیموں میں تھوڑی تبدیلی ہوئی ہے۔ دو نئی ٹیم گجرات لائنس اور شائننگ پونے سپر جوائلس۔ چنئی سپر کنگ اور راجستھان رائلز نہیں ہوگی۔ تیسرے امپائر کا فیصلہ آنے سے پہلے ناظرین یس اور نو کے کارڈ دکھا کر اپنی رائے دے سکیں گے۔ سونی ٹی وی کے مطابق ناظرین کی تعداد 50 کروڑ پار کرے گی۔ ہندی انگریزی کے علاوہ تمل، تیلگو اور بنگالی میں بھی کمنٹری ہوگی۔ چھوٹے شہروں میں آئی پی ایل فین کلب بنائے جائیں گے۔ ان میں ایک بار میں 10 ہزار لوگ جمع ہوسکیں گے۔ پچھلے سال ایسے ہی 15 پارک بنائے گئے تھے۔ آئی پی ایل 8- کو دنیا بھر میں 50 کروڑ لوگوں نے دیکھاتھا۔ بتادیں کہ کھیلوں میں اب تک کتنا پیسہ آگیا ہے۔ مہیندر سنگھ دھونی کی سالانہ کمائی 207 کروڑ روپئے ہے۔ سچن کی 118.8 کروڑ۔ 
ویراٹ کوہلی کی 79.2 کروڑ ۔ گوتم گمبھیر کی 52 کروڑ اور روہت شرما کی 33 کروڑ۔ اگرہم ہندوستانی کھلاڑیوں کی کمائی غیر ملکی کھلاڑیوں سے ملائیں تو اب بھی بہت فرق ہے۔ کولائڈ مویدر کی سالانہ کمائی 1980 کروڑ مانی گئی ہے۔ مینی پینکیچاؤ کی 1056 کروڑ۔ کرستیانو رینالڈو 5225 کروڑ۔ لیونل میسی 487 کروڑ اور روجر فیڈرر 442 کروڑ ہے۔ آخر میں بتادیں آئی پی ایل کی کمائی 2650 کروڑ روپئے ہے۔ یہ بھارت کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی لیگ ہے۔ وہیں دنیا بھر میں سب سے زیادہ کمائی کرنے والی لیگ امریکہ کی نیشنل فٹبال لیگ ہے۔ اس کی کمائی 85 ہزار کروڑ روپئے ہے۔ این بی اے کی 31680 کروڑ روپئے ہے۔
(انل نریندر)

دہلی حکومت کی تعلیم سیکٹر میں زیرو ٹالرینس کی پالیسی

کرپشن کے معاملے میں سخت کارروائی کرتے ہوئے دہلی حکومت کے ذریعے پانچ اسکولوں کے پرنسپلوں کو نوکری سے نکالنے کی ہدایت کاخیر مقدم ہونا چاہئے۔ یہ پرنسپل اسکول فنڈ اینڈ اسٹوڈنٹ ویلفیئر فنڈ، اسٹوڈنٹ وظیفہ فنڈ، تنخواہ ، داخلہ وغیرہ میں دھاندلی کررہے تھے۔ کم سے کم ایسا دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیہ کررہے ہیں۔ دہلی کے وزیر تعلیم مسٹرسسودیہ نے ایتوار کو اس کے احکامات جاری کئے۔ دہلی سرکار کے وزیر اعلی اروند کیجریوال اور منیش سسودیہ نے ٹوئٹ کر کارروائی کو کرپشن اور غیر ذمہ داری کے خلاف زیرو ٹالرینس بتایا ہے۔
پہلا معاملہ نٹھاری میں واقع گورنمنٹ بوائز سینئر سیکنڈری اسکول کے پرنسپل اشوک کمار سنگھ کا ہے جنہوں نے ایس سی ایس ٹی ، او بی سی، مائیناریٹی، میرٹ اسکولرشپ اور لال بہادر شاستری اسکیموں کے تحت آنے والے اسٹوڈنٹ وظیفے کے پیسے میں قریب 30 لاکھ روپئے کی دھاندلی کی۔ایسے ہی لاجپت نگر کے سرودیہ بال ودیالیہ کے پرنسپل رہتے ہوئے مکیش چندر نے 11 ویں سائنس اور کامرس کی کلاس کے12 ویں کے طلبا کو فرضی مارکس شیٹ کی بنیاد پر داخلہ دیا تھا۔ ایک دوسرے معاملے میں ریلوے کالونی تغلق آباد کے گورنمنٹ بوائز اسکول کے پرنسپل کے عہدے پر کام کرتے ہوئے اشوک کمار نے 10 ویں میں فیل طلبا کو 11 ویں میں داخلہ دیا۔ہرنکودنا علاقہ کے کوئیڈ اسکول کے پرنسپل ہری پرساد مینا نے طلبا بہبودی فنڈ کا پیسہ نکال کر ایک آئی ٹی اسسٹنٹ کی جون کے مہینے کی سیلری میں دکھا دیا۔ اسسٹنٹ نے جولائی کے مہینے میں نوکری جوائن کی تھی۔ مینا پر مڈ ڈے میل کے سروس پرووائڈر سے سانٹھ گانٹھ کے ثبوت بھی پائے گئے ہیں۔ ایک دوسرے معاملے میں جنگپورہ کے گورنمنٹ بوائز اسکول کے پرنسپل رہتے ہوئے اوم پرکاش نے اسکول کی میگزین چھپوانے میں دھاندلی کی۔ ای ڈبلیو ایس کوٹے کے طلبا کو سہولیات نہ ملنے کی آرہی شکایتوں پر دہلی سرکار نے اہم قدم اٹھاتے ہوئے پبلک اسکولوں پر بھی چھاپہ ماری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے لئے 24 ٹیمیں بنائی گئی ہیں۔ 
دہلی سرکار کی ٹیمیں اسکول میں جاکر جانچ کریں گی داخلہ صحیح طریقے سے کیا گیا ہے یا نہیں؟ کسی طرح کی چوری یا کرپشن تو نہیں ہے؟ واضح ہو کہ دہلی میں قریب 400 پبلک اسکول ہیں جنہوں نے سرکار سے سستی زمین لی ہوئی ہے۔ قاعدے کے مطابق ایسے اسکولوں کو 25 فیصدی غریب بچوں کو داخلہ دینا اور ان کے لئے سہولیات مفت میں دستیاب کرانا متعین ہے۔ ہم دہلی سرکار کے تعلیمی میدان میں آئے کرپشن اور بے قاعدگیوں کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کا خیر مقدم کرتے ہیں۔تعلیمی سیکٹر میں ان سے بہتری ہوگی۔
(انل نریندر)

12 اپریل 2016

خوشک سالی سے نمٹنے کیلئے پختہ قوت ارادی اور پلاننگ ضروری

ملک میں اگر ایک بڑا حصہ خوشک سالی سے بدحال ہے تو وہ سرخیوں میں عدالتی احکامات کی وجہ سے ہی کیوں آتا ہے؟ دیش پانی کے بحران سے گزر رہا ہے۔ اس قدر کے بدھوار کو سپریم کور اور بمبئی ہائی کورٹ دونوں میں پانی کے اشو پر سماعت ہوئی ۔ اس دوران عدالت ہذا نے مرکزی حکومت کو پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ 10 ریاستوں میں خوشک سالی کی مار سے وہاں کی عوام مشکلات سے دوچار ہے درجہ حرارت 45 ڈگری تک پہنچ گیا ہے۔ لوگوں کے پاس پینے کے لئے پانی نہیں ہے۔ حالات خراب ہوتے جارہے ہیں، ایسے میں آپ آنکھیں کیسے بند کر سکتے ہیں؟ انہیں مدد پہنچانے کے لئے کچھ تو کیجئے۔ پچھلے دو برسوں سے کم بارش کی وجہ سے مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، مہاراشٹر ، کرناٹک، اڑیسہ، اترپردیش، تلنگانہ، راجستھان اور آندھرا پردیش میں اپریل سے ہی خوشک سالی کے حالات ہیں اور خوشک سالی کی آگ سے جھلس رہے اترپردیش کے علاقے بندیل کھنڈ میں تمام دشواریاں کھڑی ہوگئی ہیں۔ پانی کیلئے بچوں کو پڑھائی چھوڑنا پڑ رہی ہے تووہیں تنگ حالی میں ماں باپ اپنی بیٹیوں کے ہاتھ تک پیلے نہیں کر پارہے ہیں۔ کھیت ویران پڑے ہوئے ہیں۔ دیہات کے اندر اور مسائل کھڑے ہوگئے ہیں ۔پینے و دیگر گھریلو ضروریات کو پورا کرنے کے لئے پانی کا انتظام بندیل کھنڈ کے دیہی علاقوں میں بڑی چنوتی بنا ہوا ہے خاص طور پر خواتین کے لئے۔ انہیں پانی کے لئے میلوں سفر کرنا پڑتا ہے۔ بچے بھی پانی کے انتظام میں لگے ہوئے ہیں۔ دیہات میں سائیکل پر پانی کے برتن ٹانگ کر میلوں سفر کرتے ہیں۔ ٹیکم گڑھ میں تو پینے کا پانی تھانے سے دیا جارہا ہے۔ بندیل کھنڈ میں پانی کی کمی بچوں کی پڑھائی تک کو متاثر کررہی ہے۔ بچے پڑھائی چھوڑ کر گھر کے لئے پانی کے انتظام میں لگے رہتے ہیں۔ خاص طور پر لڑکیاں ۔ایک علاقہ چندر نگر کی لڑکیں مسکان اور روشنی بتاتی ہیں کہ وہ دیہات کے اسکول میں پڑھتی ہیں لیکن آج کل اسکول نہیں جا پارہی ہیں کیونکہ صبح سے ہی انہیں گاؤں کی دوسری طرف لگے ہینڈ پمپ پر پانی بھرنے جانا پڑتا ہے۔ دن میں کبھی کبھی تو 14 سے15 چکر لگانے پڑتے ہیں۔ دیش کے دو اہم ریزروائر میں صرف25 فیصدی پانی بچا ہے۔ متاثرہ ریاستوں میں90 فیصدی زمینی پانی کا استعمال ہوچکا ہے ۔ یعنی زمین صرف10 فیصد پانی بچا ہے۔ تبدیلی آب و ہوا کی وجہ سے بارش کم ہونے ، شہری علاقوں میں بارش کے پانی کے اکھٹا نہ ہونے اور رہن سہن میں آئی تبدیلی کی وجہ سے آبی وسائل کی لمبی توقعات سے یہ حالت پیدا ہوئی ہے، ایسے میں قومی سطح پر پانی بچانے زیرزمین پانی سطح کو بڑھا دینے کی اسکیموں کو مسلسل چلائے جانے کی سخت ضرورت ہے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا نتیجتاً ہر سال گرمی میں ایک کے بعد ایک ریاست میں پانی کی قلت کا بحران پیدا ہوجاتا ہے۔ نتیجے میں پانی کے لئے جھگڑا فساد ہونے ، آبی وسائل پر پہرہ بٹھانے لوگوں اور جانوروں کے مارے جانے اور گاؤں گاؤں خالی ہونے کی خبریں آنے لگتی ہیں۔ودربھ اور بندیل کھنڈ جیسے علاقوں میں پانی پر جھگڑے بھڑکنے کی نوبت آرہی ہے۔ کچھ علاقوں میں پانی پر جھگڑا اورمار پیٹ خون خرابے تک کے حالات پیدا ہونے لگے ہیں۔ جن علاقوں میں نہر نہیں ہے وہاں کا حال تو بہت برا ہے۔ زمینی پانی کی سطح کافی نیچے جا چکی ہے۔ کنویں ،تالاب، ٹیوب ویل سب سوکھ چکے ہیں۔ دیہی زندگی اس سے کتنی بد حال ہورہی ہوگی اس کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے مسلسل تیسرے برس اسے موسم کی یہ مار جھیلنی پڑ رہی ہے۔ ایسے میں منریگا کی رقم جاری کرکے دیہات کو راحت پہنچانے کا حکم بھی عدالتوں کو دینا پڑ رہا ہے۔ کاش !یہ حالات بدلیں۔ پورا دیش جس خوفناک خوش سالی کا سامنا کررہا ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لئے سیاسی الزام تراشی نہیں، بلکہ اجتماعی قوت ارادی، تیاری اور ہمدردی چاہئے۔
(انل نریندر)

شنی شنگنا پور مندر میں 400 سال پرانی روایت ٹوٹی

نوراترے کے پہلے دن خواتین کو پوجا کرنے کے حق میں چل رہی کئی دنوں سے جدوجہد میں آخر کار کامیابی حاصل ہوگئی۔ مہاراشٹر کے احمد نگر میں واقع شنی شنگنا پورمندر میں 400 سال پرانی روایت جمعہ کو ٹوٹ گئی۔ اب مردوں کے ساتھ خواتین کو بھی چبوترے پر پوجا کرنے کی اجازت مل رہی ہے۔ پابندی کے باوجود مردوں کے چبوترے پر داخلے کے بعد ٹرسٹ کے سکریٹری جنرل دیپک دادا صاحب نے کہا کہ ہم نے آئین کا احترام کرتے ہوئے سب کو پوجا کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ٹرسٹ کی چیئرمین انیتا شیٹے نے کہا کہ خواتین پر کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی۔ یہ فیصلہ لائق خیر مقدم ہے کہ نوراتر کے پہلے دن ہی شنی شنگنا پور مندر میں خواتین کو پوجا کرنے کی اجازت دی گئی۔ انہوں نے کہا ریتی رواج کے حساب سے پوجا ارچنا کر بھی لی۔ مندر ٹرسٹ نے سمجھداری بھرا فیصلہ کیا ہے حالانکہ ہوسکتا ہے یہ فیصلہ اسے ان حالات کے دباؤ میں کرنا پڑا ہو۔ ہندوستانی نئے سال کو مہاراشٹر میں گڑی پاروا کی شکل میں منایا جاتا ہے۔ مراٹھی معاشرے میں اس پرو کی خاص اہمیت ہے۔ اس دن عدالت کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقامی مرد اس چبوترے پر پہنچ گئے جہاں شنی کی مورتی ہے، اور انہوں نے مورتی کو دودھ و تیل سے نہلایا۔ گڑی پاروا کے دن یہ مقامی رسم رہی ہوگی، لیکن اس سے تنازعہ کھڑا ہونے کا اندیشہ تھا اس لئے مندر ٹرسٹ نے عورتوں کو بھی چبوترے پر چڑھنے کی اجازت دے دی۔ وجہ جو بھی ہو یہ فیصلہ پہلے ہی ہو جانا چاہئے تھا، کیونکہ یہ وقت کی ضرورت ہے۔ ویسے یہ اچھا نہیں ہوا کہ عورتوں کو مندر میں پوجا کرنے کی اجازت ہائی کورٹ کی مداخلت کے بعد ملی۔ یہ ایک ایسا مسئلہ نہیں تھا جس میں عدالت کو دخل دینے کی ضرورت پڑتی۔ جس طرح ہائی کورٹ کو عورتوں کو پوجا کرنے کی اجازت دینے کے ساتھ یہ رائے زنی کرنی پڑی کہ ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو عورتوں کو کسی بھی دھرم استھل میں جانے سے روکتا ہو۔ اس سے کل ملاکر سماج کو یہی پیغام گیا کہ اگر عدلیہ سرگرم نہیں ہوتی تو شاید شنی شنگنا پور مندر میں عورتوں کو مردوں کی طرح پوجا کرنے کی سہولت ملنے میں اور وقت لگتا۔ زیادہ تر دھارمک استھلوں پر لنگ، جاتی، دھرم وغیرہ کو لیکر جس طرح کی پابندیاں ہیں انہیں روایت اور شاستر ۔سمبج بتایا جاتا ہے، لیکن اگر تاریخ اور روایت کو ذہن میں رکھا جائے تو ایسا نہیں ہے۔ یہ دیکھا گیا ہے اکثر شروع میں دھارمک مقامات پر سب کو جانے کی آزادی ہوتی ہے پھر آہستہ آہستہ کرم کانڈ زیادہ بڑھنے لگتے ہیں اور ساتھ ساتھ طرح طرح کے قاعدے بھی بدلتے چلے جاتے ہیں۔ مندر یا ممبئی میں حاجی علی کی درگاہ کے منتظمین کو یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ اس معاملے میں انہیں خاص طور سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کسی وقت دلتوں کے مندر میں داخلے کو لیکر تحریک چلی تھی کیونکہ وہ وقت کی مانگ تھی ،ویسے ہی آج نہیں تو کل مذہب کے نام پر ، شاستروں کے نام پر سبھی مرد امتیاز کے خلاف آواز اٹھتی رہی۔ یہ ایک اتفاق مانا جانا چاہئے کہ شنی شنگنا پور مندر اس کی علامت بن گیا ہے۔ اچھا ہو کہ شنی شنگنا پور مسئلے پر سنت سماج بیدار ہو اور مرضی سے یہ دیکھے کہ مندروں میں پوجا ارچنا کے معاملے میں کسی طرح کا امتیاز نہ ہو۔ یہ وقت سماج کو متحد رکھنے اور بیچ میں نہ ذات ،خطہ یا جنس آئے اور جو آرٹیفیشل دیواریں کھڑی کی گئی ہیں انہیں ڈھا دیا جائے۔
(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...