Translater

29 دسمبر 2018

مہا سیتو سے چین کی سرحد تک پہنچ آسان ہوئی

سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی 94ویں جینتی پر پی ایم مودی نے منگل کے روز دیش کا سب سے لمبا بوگی بیل ریل -سڑک پل کو جنتا کو منسوب کیا اس موقعہ پر انہوںنے تن سکھیا -ناہر لگن انٹرسٹی ایکسپریس ٹرین کی شروعات بھی کی تھی ۔4.94کلو میٹر لمبے اس پل کی تعمیر اٹل سرکار کے وقت میں شروع ہوئی تھی آسام میں برہم پتر ندی پر بنا یہ پل ڈبرو گڑھ نارتھ کنارے پر چھیماجی ضلع کو جوڑتا ہے اس پل کی اہمیت کو اس سے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ دیش کا سب سے لمبا پل ہے تقریبا 5کلو میٹر سے کم لمبا یہ پل اتنا مضبوط ہے کہ کسی شکن کے بغیر 120برس تک ساتھ نبھاتا رہے گا اس پروجکٹ کا سنگ بنیاد سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دےگوڑا نے 22جنوری 1977کو رکھا تھا جب اٹل بہاری واجپائی کی قیادت والی سرکار کے عہد میں 21اپریل 2002سے اس پروجکٹ پر کام شروع ہوا تھا ۔کانگریس کی قیادت والی سرکار نے 2007میں اسے قومی پروجکٹ قرار دیا تھا اس کے عمل درآمد میں تاخیر کے سبب اس پروجکٹ کی لاگت 85فیصد تک بڑھ گئی اس کی تخمینہ لاگت 3230.02کروڑ روپئے تھی جو بڑھ کر 5960کروڑ روپئے تک پہنچ گئی لمبے عرصے تک ترقی کی قومی دھارا سے کٹے رہے نارتھ ایسٹ میں اس پل کی کیا اہمیت ہے یہ اس سے سمجھا جا سکتا ہے اس کی وجہ سے ڈبروگڑھ اور اروناچل پردیش کی راجدھانی ایٹا نگر کے درمیان سڑک شاہراہ سے دوری 150کلو میٹر ان دونوں شہروں کی ریل راستہ کی دوری 750کلو میٹر کم ہو جائے گی اس پل کے نچلے حصے میں ریل لائن بنائی گئی ہے اور اوپری حصے میں سٹرک راستہ یہ پل آسام اور اروناچل پردیش کے لوگوں کی زندگی کو تو آسان بنائے گا ہی ساتھ ہی ہندوستانی فوج کے لئے بھی ایک اہم پروجکٹ ثابت ہوگا فوج کی ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے اس کو اتنا مضبوط بنایا گیا ہے کہ اس پر بھاری بھرکم ٹینکوں کو لے جایا جا سکتا ہے بلکہ ضرورت پڑنے پر ائیر فورس کے جیٹ جہاز بھی اتارے جا سکتے ہیں یہاں یہ یاد دلانہ بھی ضروری ہے کہ بوگی بل پل سے کچھ ہی آگے بھارت اور چین کی سرحد ہے یعنی وہ جگہ جہاں چین ہمیشہ سے بھارت کے لئے درد سر بنا رہا ہے اس لحاظ سے یہ پل اس علاقہ میں فوج کو ملی محض ایک سہولیت ہی نہیں بلکہ ایک اہم بھروسہ بھی ہے پل کی تعمیر غیر ملکی تنیک اور ساز وسامان سے ہوئی ہے اس میں 80ہزار ٹن اٹیل لگی ہے اور یہ ریختر اسکیل پر آنے والے زلزلے کی رفتار کو جھیل سکتا ہے اس پل کے وجود میں آنے سے یقینی طور سے نارتھ ایسٹ میں ترقی کا ایک نیا باب کھل گیا ہے ساتھ ہی یہ پل فوجی نکتہ نظر سے بھی کم اہم نہیں ہے ۔بدھائی

(انل نریندر)

این آئی اے اوردہلی پولس کی شاندار کامیابی

نارتھ ایسٹ دہلی کی چھوٹی چھوٹی تنگ گلیوں اور بھرم پوری مین روڈ پر بھاری جام کی دشواری کے باوجود جعفرآباد علاقہ آتنک کا گڑھ بنتا جا رہا ہے یہاں کی بے حد تنگ گلیوں میں مقامی پولس بھی جاتی ہوئی گھبراتی ہے لیکن این آئی اے (قومی تفتیش رساں ایجنسی )و دہلی پولس کے اسپیشل سیل نے جس بخوبی سے چودہ گھنٹوں تک علاقہ میں کارروائی کر کے دنیا کی سب سے خطرناک مانی جانے والی دہشتگرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس آئی ایس )کے بالکل نئی تنظیم حرکت الحرب کو بے نقاب کر کے کارروائی کی ہے وہ قابل تعریف ہے ۔این آئی اے نے بدھوار کو بتایا کہ اس نے اسلامک اسٹیٹ سے متاثر دہشت گرد تنظیم حرکت الحرب الاسلام کا پردہ فاش کر دیا ہے دہلی اور یوپی کے سترہ اڈوں پر چھاپہ مار کر فدائی حملوں کی سازش تیار کرنے میں لگے ماسٹر مائنڈ سمیت دس لوگوں کو گرفتار کیا ہے پانچ سال میں یہ سب سے بڑا دہشتگردانہ ماڈول ہے پولس کے مطابق گرفت میں آئے اس کے گرگے کئی بم بنا چکے تھے اور دھماکوں کے لئے بیرون ملک میں بیٹھے آقا سے سگنل ملنے کا انتظار کر رہے تھے یہ لوگ دہلی سمیت اترپردیش کے کئی شہروں میں بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں سلسہ وار دھماکہ کی تیاری میں تھے،نشانے پر دہلی پولس اور آر ایس ایس کے ہیڈ کواٹر سمیت کئی بڑے ادارے اور بڑے لیڈر تھے وقت سے پہلے سازش بے نقاب ہونے سے نئے سال اور 26جنوری سے پہلے نارتھ انڈیا کو دہلانے کی کوشش ناکام ہوئی ہے ۔این آئی اے نے دہلی میں سیلم پور اور جعفرآباد میں چھاپے مارے ۔یوپی میں اے ٹی ایس کے ساتھ ملکر امروہہ ،ہاپوڑ ،میرٹھ اور لکھنﺅ میں چھاپہ مارا خاص بات یہ ہے کہ سازش کو انجام تک پہنچانے کے لئے ان لوگوں نے پیسہ بھی خود اکٹھا کیا تھا ۔کچھ نے تو ایسا کرنے کےلئے اپنا گھر تک بیچ دیا تھا ۔گرفتار لوگ ریموٹ کنڑول پائپ بم اور سوسائڈ جیکٹ تیار کر رہے تھے ان کے پاس سے ساڑھے سات لاکھ نقد اور 120ارارم گھڑی ،سو موبائل 135سم راکٹ لانچر دیسی پسٹل تلواریں اور جہادی لیٹریچر ملا ہے کئی لیپ ٹاپ اور ہارڈ دیسک بھی ضبط کی گئی ہیں ۔امروہہ کی مسجد کا امام مفتی سہیل حملے کا ماسٹر مائنڈ ان دنوں دہلی کے جعفرآباد میں رہ رہا تھا اور واٹس ایپ کال سے رابطہ قائم کرتا تھا اس سے جڑے لوگوں میں انجینئر آٹو ڈرائیور ،کاروباری،ویلڈراور ایک لڑکی بھی ہے سبھی کی عمر 20سے تیس کے درمیان بتائی جا رہی ہے حالانکہ خود این آئی اے کا بھی کہنا ہے کہ جن لوگوں کو اتنی بڑی آتنک کی سازش رکھتے ہوئے پکڑا گیا ہے ان میں سے کسی کا مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے مگر یہ سچ ہے تو اس میں بھولے بھالے لڑکوں کو دہشتگردی کے راستہ پر جانے سے روک پانے میں ہماری ناکامی ظاہر ہوتی ہے آتنکی نیٹورک کا جس رفتار سے پردہ فاش ہو رہا ہے یہ انجام تک پہنچانے کی رفتار ایسی ہے جیسی ہونی چاہیے ۔این آئی اے کی اہمیت سے انکار نہیں اس کا یہ دعوی ہے اس کے ذریعہ پکڑے گئے 95فیصدی ملزم قصوروار قرار دئے جاتے ہیں لیکن مالیگاﺅں دھماکہ سے لے کر مکہ مسجد دھماکہ تک کئی ہائی پروفائل معاملوں میں اس کا ریکارڈ ویسا با اثر نہیں رہا ایسے وقت میں جب پچھلے کچھ برسوں میں بھارت کے مختلف حصوں خاص کر کشمیر تمل ناڈو کیرل کرناٹک حیدرآباد اور مہاراشٹر میں کئی بار آئی ایس آئی ایس نئے گروہ سرگرم ہونے کی بات سامنے آچکی ہے ان حالات میں تازہ کارروائی بڑی کامیابی ہے اور راحت کا باعث بھی ہے کیونکہ این آئی اے نے آتنکی بڑی سازش بے نقاب کر دیا ہے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ گرفتار ملزمان کے خلاف سارے ثبوت اکٹھے کر انہیں سزا دلانے کی سمت میں تیزی سے بڑھیں تاکہ کسی طرح کا شبہ اور سوالوں کی گنجائش نہ رہے یہ اسلئے ضروری ہے کیونکہ کئی بار کچھ لوگ دہشتگردی کے معاملے پر سیاست کرنے سے بعد نہیں آتے اور یہ بھی الزام لگاتے ہیں کہ جانچ ایجنسیاں بے قصور اقلیت طبقہ کو جان بوجھ کر ٹارگیٹ کرتی ہیں ایسے معاملے عدالت میں ٹکتے نہیں ہیں این آئی اے اور دہلی پولس کی شاندار کامیابی پر بدھائی لیکن اصل مبارکباد کی حقدار این آئی اے تب ہوگی جب عدالت میں وہ اپنا کیس ثابت کر سکے۔

(انل نریندر)

28 دسمبر 2018

این ڈی اے کے مستقبل پر سوالیہ نشان

ہندوستانی سےاست کا معےار اتنا گرچکا ہے حالانکہ ےہ کہلاتے تو عوامی نمائندے ہےں لےکن سب سے اوپر ان کا مفاد ہوتا ہے ۔جنتا کا بھلانہےں ۔اقتدار کےلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہےں ،آپ اوپندر کشواہا کا ےہ قصہ لے لےں ۔وہ ساڑھے چار برس تک مودی سرکار مےں منتری بنے رہے اور اب انہےں مودی سرکار نے پسماندہ اور غرےبوں کے لئے کوئی کام نہےں کےا ۔بہار مےں دونوں فرےقےن کے سےٹوں کے بٹوارے سے اتناصاف لگ رہا ہے کہ اتحادوں پر 2019کا لوک سبھا چناو ¿ زےادہ منحصر ہوگا ۔بھاجپا کو لگنے لگا ہے کہ اکےلے مودی کے کرشمے سے وہ اقتدا رمےں وہ واپس نہےں آسکتی اسلئے وہ مختلف ساتھےوں کی تلاش مےں ہے جو انہےں اقتدار تک پہنچا سکے بہار مےں جن ڈھنگ سے بھاجپانے اپنے ساتھےوں کو سےٹےں بانٹےں ہےں اس سے تو ےہی لگ رہا ہے کہ بھاجپا کو اب اکےلے اپنے اوپر چناو ¿ جےتنے مےں شبہ ہونے لگا ہے شےو سےنا لگا تار بھا جپا کوکٹھگھرے مےں کھڑا کررہی ہے وہ آخر مےں کےا کری گی فی الحال کہنا مشکل ہے اےن ڈی اے کی اہم اتحادی شےوسےنا کے راجےہ سبھا کے لےڈر سنجے راوت نے کہا کہ کانگرےس صدر راہل گاندھی بدل چکے ہےں اور وہ مودی کا مقابلہ کرنے مےں اہل ہے اسلئے راہل گاندھی اپوزےشن کے لئے پی اےم امےدوار کے اچھے متبادل ہےں راوت نے کہا کہ 2014والے راہل گاندھی اب 2019مےں نہےں ہے اب راہل دےش کے نتےا بن چکے ہےں جس طرح سے تےن رےاستوں کے نتےجے آئے ہےں اس سے راہل کے بارے مےں سوچ بدلی ہے ۔وہ مودی کو ٹکردے رہے ہےں ۔آج لو گ انہےں سننا چاہتے ہےں لوگ ان سے بات کرنا چاہتے ہےں تےن رےاستوں مےں بھاجپا کے اسمبلی چناو ¿ مےں ہار سے 2019کے لوک سبھا چناو ¿ پر اثر پڑے گا ۔ان تےنوں رےاستوں مےں 60سے لےکر 80لوک سبھا سےٹےں ہےں ۔اگر ان مےں سے آدھی بھی کانگرےس کے حق مےں آجاتی ہےں تو مودی کے نمبروں کی تعداد گھٹ جائے گی اتر پردےش تو سب سے بڑی چنوتی ہے اتر پردےش مےں سپا اور بسپا کا اگر صحےح معنی مےں اتحا د ہوجاتا ہے تو ےہ نرےندرمودی کے دوبارہ وزےر اعظم بننے کی راہ مےں بڑا روڑا بن سکتا ہے در اصل ہندوستانی سےاست کی پرانی کہاوت ہے دہلی کا راستہ لکھنو ¿ سے ہوکر گذرتا ہے اور اے بی پی نےوز سی ووٹر کا چناو ¿ سے پہلے سروے اسی بات پر دعوی کرتا لگ رہا ہے ۔سروے کے مطابق اگر رےاست مےں اےس پی اور بسپا کا اتحاد نہےں ہوتا تو اےن ڈی اے کے 2019کے لوک سبھا چناو ¿ مےں 291سےٹےں مل سکتی ہےں جو اکثرےت کے لئے درکار نمبر سے 19زےادہ ہے دوسری طرف اگر اےس پی بی اےس پی کا اتحاد بنا رہتاہے تو 534پارلےمانی لو ک سبھا مےں اےن ڈی اے کی سےٹےں گھٹ کر 247ہوجائےں گی اس صورت مےں اسے اکثرےت کے لئے 25اور ممبران پارلےمنٹ کی حماےت کی ضرورت ہوگی ۔2014کے عام چناو ¿ مےں بھاجپا کی شاندار جےت مےں ےوپی کی بڑا اشتراک رہا تھا ۔جہاں پارٹی نے 80مےں سے 71لوک سبھا سےٹےں جےتی تھی وہےں اس حالےہ سروے کے مطابق اگر آج چناو ¿ ہوتا ہے تو اترپردےش مےں اےس پی بی اےس پی اتحاد 50سےٹےں جےت سکتی ہےں ۔وہےں بی جے پی کو محض 28سےٹوں سے تشفی کرنی پڑسکتی ہے ۔اس حساب سے اس نے 2014کے لوک سبھا چناو ¿ کے مقابلے 43سےٹوں کا نقصان ہوتا دکھائی پڑرہا ہے وہےں اگر ان گٹھبندھن مےں کانگرےس بھی شامل ہوتی ہے جس کے لئے پارٹی بھر پور کوشش کررہی ہے تو بی جے پی کی سےٹےں اور کم ہوجائےں گی لوک سبھا چناو ¿ سے پہلے اب تو اےن ڈی اے اتحادی بھی بی جے پی کو آنکھےں دکھانے لگے ہےں ۔اختلاف ےہاں تک پہنچ گےا ہے کہ رےاستی سرکار مےں شامل سوبھاشپا رےزروےشن کو تےن حصوں مےں بانٹنے کے لئے دھرنا مظاہرہ دی رہی ہےں اپنا دل (اےس )کے قومی صدر آشےش سنگھ پٹےل نے منگلوار کو رےاستی حکومت پر سمان نہ دےنے کا الزام لگاےا ہے پٹےل نے کہا کہ موجودہ حالات مےں انہےں سوچنا پڑے گا جہاں عزت نہ ہو ،ضمےر نہ ہو وہاں کےوں رہےں؟سبھی متبادل رکھنے کا اشارہ دےتے ہوئے انہوں نے ماےاوتی کے عہد مےں قانون ونظام کو ےوگی سرکار سے بہتر بتاےا 2018کی سےاسی ہلچل کے نظرےہ سے بےحد اہم ترےن رہا اور آنے والے برسوں کی زمےن تےار کرگےااس حےران کن سبھی سے بڑی تبدےلی اپوزےشن سےاست مےں آئی پھولپور اور گورکھپور سے شروع ہوئے اپوزےشن اتحاد کی مہم نے اتنا زور پکڑا کے سال کا خاتمہ ہوتے ہوتے اس نے اےن ڈی اے کی گھےرا بندی کا تانا بانا بن لےا ۔تےن رےاستوں مےں جےت کر اہم بڑی اپوزےشن کانگرےس نے بھا جپا کو کمزور کےا ہے وہےں کمزور پڑی اپوزےشن مےں نئی جان ڈال دی ہے ۔بے شک پھولپور ،گورکھپور کی جےت بی جے پی کے لئے اتنی اہم نہ ہو لےکن اس جےت سے بھاجپا سے لڑنے کا فار مولہ مل گےا ےعنی بھاجپا کو ہرانا ہے تو ساری اپوزےشن اےک ہوجائےں اس فارمولہ پر ہی عام چناو ¿ کے لئے اتحاد کی بساط بچھنے لگی ہے ۔اےک طرح جہاں اپوزےشن متحدہ ہوئی وہےں اےن ڈی اے کی دو اہم اتحادی ٹی ڈی پی اور آر اےل اےس پی اسے چھوڑ کر چلی گئی سب سے پرانی اتحادی جماعت شےوسےنا نے بھی الگ چناو ¿ لڑنے کا فےصلہ کےا اکالی دل نے بھی آنکھےں دکھائی 2018مےںنو رےاستوں تری پورہ ،مےگھالے،ناگالےنڈ ،کرناٹک ،چھتےس گڑھ ،مےزورم ،مدھےہ پردےش ،راجستھان او رتلنگانہ مےں اقتدار بدلا ،وزےر اعظم نرےندرمودی جو لہر 2014مےں دکھائی دی وہ 2018کے آتے آتے آخر مےں کافی کمزور پڑ گئی ان اسبا ب سے اےن ڈی اے کےلئے لوک سبھا چناو ¿ کل ملاکر اےک بڑی چنوتی لےکر آئے گا ۔اےن ڈی اے کا مستقبل کےا ہے ےہ تو چناو ¿ کے بعد ہی پتہ چلے گا ۔

(انل نریندر)

27 دسمبر 2018

امریکی جوج ہٹتے ہی طالبان کا ہو جائے گا پورا قبضہ

شام سے فوجوں کو واپس بلانے کے فیصلے کے اب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے افغانستان سے بھی سات ہزار فوجیوں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔فی الحال افغانستان میں چودہ ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں جو طالبان آئی ایس (داعش)دہشتگردوں کے خلاف افغانستان میں افغانی فوج کو ضروری مدد پہچانے کے ساتھ ہی ضروری ٹرینگ دے رہے ہیں ۔ان میں سات ہزار فوجویوں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔وہیں شام سے فوجوں کو واپس بلانے کو لیکر صدر ٹرمپ سے اختلافات کو لے کر امریکی وزیر دفاع جیمس میٹس نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے ۔بھارت کے ساتھ امریکہ کے مضبوط فریق کار جین میٹیس نے جمعرات کو اپنااستعفی نامہ صدر ٹرمپ کو سونپ دیا ہے ۔افغانستان حکومت نے صدر ٹرمپ کے اس فیصلے سے دیش کی سلامتی کو لے کر تشویش جتائی ہے وہیں طالبان نے اس پر خوشی ظاہر کی ہے ۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق میٹس جمعرات کو وائٹ ہاﺅس گئے تھے اور ٹرمپ کو منانے کی کوشش کی تھی کہ وہ شام سے امریکی فوج واپس نہ بلائیں اپنی بات نا منظور ہونے پر میٹس نے استعفیٰ دیا ۔جنرل جیمس میٹس عزت کے ساتھ اگلے ساتھ فروری میں ریٹائر ہونے تھے لیکن اب جلد ہی نئے وزیر دفاع کا اعلان ہو جائے گا ۔امریکی فوج دیش کے باہر دو لاکھ سے زیادہ موجود ہیں جو افغانستان میں پچھلے سترہ برسوں سے رہ رہے ہیں ۔11ستمبر2001کے حملے کے بعد افغانستان میں قابض طالبان نے نیو یارک ٹریڈ ٹاور اُڑانے کی ذمہ داری لی اور القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادین کو سونپنے سے انکار کر دیا تب امریکی صدر جارج ڈبیلو بش نے وہاں ایک فوجی کارروائی کی تاکہ اسامہ کا پتہ لگایا جا سکے اس حملے سے افغانستان پر طالبان کا کنٹرول بڑھا ایک رپورٹ کے مطابق افغان حکومت کا دیش کے 55.5فیصد علاقہ پر کنٹرول ہے امریکی فوجیوں کی واپسی کا اثر افغانستان کے لئے تباہ کن ہو سکتا ہے ۔وہاں بڑے پیمانے پر تشدد بڑھ سکتا ہے جو طالبان کے لئے فائدہ کی پوزیشن ہوگی یہ طالبانی حکمت عملی کی جیت ہوگی کیونکہ وہ یہ دعوی کر سکتا ہے کہ اس نے امن سمجھوتے کے بغیر ہی امریکی فوجیوں کو دیش سے باہر کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔یہ افغان فوجیوں کے لئے ایک ذہنی جھٹکا ہوگا انہوںنے کہا کہ بہت جد جہد کی ہے خون بہایا ہے اس لئے ان کے لئے یہ فیصلہ مایوس کن ہوگا یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ طالبان کو پاکستان سے ہتھیار وں کی شکل میں مدد مل رہی ہے ٹرمپ کے فیصلے سے پاکستان بھی خوش ہے ۔بہرحال بھارت کے لئے یہ ایک تشویش کا موضوع ضرور ہے ۔

(انل نریندر)

سی بی آئی جج ایس جے شرما کا عہد کا آخری فیصلہ

ممبئی مرکزی جانچ بیورو (سی بی آئی )کے اسپیشل جج ایس جے شرما کے لئے بدمعاش سہراب الدین شیخ ،اس کی بیوی کوثر بی اور اس کے ساتھی تلسی پرجاپتی کا مبینہ مڈبھیڑ میں قتل کے 22ملزمان کو بری کرنا ان کے عہد کا آخری فیصلہ ہوگا۔یہ افسوس ناک ہے کہ متاثرین کے ایک پریوار نے ایک بیٹا ،بھائی گنوا دیا ......لیکن یہ ثابت کرنے کے لئے ثبوت نہیں ہیں کہ یہ ملزم جرم میں شامل تھے جج نے کہا کہ انہیں شیخ اور پرجاپتی کے کنبوں کے لئے افسوس ہے کیونکہ تین لوگوں کی جان چلی گئی لیکن نظام کی مانگ ہے عدالت صرف ثبوت کی بنیاد پر ہی چلتی ہے13سال پرانے اس معاملے نے کئی اتار چڑھاﺅ دیکھے اس میں وکیل صفائی کے 92گواہ اپنے بیان سے مکر گئے ایک وقت اسی مقدمہ میں بھاجپا صدر امت شاہ کو بھی 2010میں کچھ وقت کے لئے گرفتار کیا گیا تھا ۔معاملہ 22نومبر 2005کو شروع ہوا جب گجرات کے باشندے سہراب الدین ان کی بیوی کوثر بی اور ان کے ساتھی پرجاپتی کو حیدرآباد سے سانگلی لے جاتے وقت راستے میں پولس نے اپنی حراست میں لیا ۔سہراب الدین اور کوثر کو احمدآبادکے ایک فارم ہاﺅس میں لے جایا گیا جہاں 26نومبر کو سہراب الدین کو مبینہ فرضی مڈبھیڑ میں مار ڈالا گیا تھا اس فرضی نام نہاد مڈبھیڑ کے پیچھے گجرات اور راجستھان پولس کی مشترکہ ٹیم کو ذمہ دار بتایا گیا ۔سہراب الدین کے مبنیہ قتل کے بعد سہراب الدین کے خاندان نے اس معاملے کی جانچ کے لئے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکٹایا ساتھ ہی کئی طرح کے راز سے پردہ اُٹھنے لگا ۔اس معاملے میں سب سے بڑا نام موجودہ بھاجپا کے قومی صدر امت شاہ اور گلاب چند کٹاریہ کا؛ ان کے علاوہ گجرات اور راجستھان پولس کے کانسٹبل سے لے کر آئی پی ایس افسر تک کے لوگ اس معاملے میں ملوث پائے گئے آئی پی ایس افسر ایم این دنیش راج کمار پانڈیہ اور ڈی جی بنجارہ سمیت امت شاہ کو اس معاملے میں گرفتار کیا گیا ۔جو اس وقت وزیر داخلہ تھے ۔اس معاملے میں گرفتاریاں دینی پڑئیں جج شرما نے 13سال پرانے معاملے میں کہا کہ سہراب الدین کی موت گولی لگنے سے ہوئی قتل کا کوئی ثبوت نہیں ہے ،سازش بھی ثابت نہیں ہوئی ۔مدعی فریق واردات میں شبہ کی وابسطگی نہیں جوڑی جا سکتی اور حالات کے بارے میں ثبوت بھی الزام ثابت نہیں کرتے ۔فیصلے سے سہراب الدین کے رشتہ دار مایوس ہی لیکن ہمت نہیں ہارے اور ان کا کہنا ہے کہ ہم جلد ہی سپریم کورٹ میں اپیل کریں گے ۔رکب الدین شیخ نے جو سہراب الدین کے بھائی ہیں کا کہنا ہے کہ دھیان دینے کی بات ہے کہ سی بی آئی کی جانچ بھی سپریم کورٹ کے حکم پر ہوئی تھی ۔

(انل نریندر)

26 دسمبر 2018

تین طلاق بل پر پھر پھنس سکتا ہے پینچ

مسلم سماج میں ایک بار تین طلاق (طلاق بدعت )پر روک لگانے کے مقصد سے لایا گیا مسلم خاتون(شادی ،حق،تحفظ)بل پر27دسمبر کو لوک سبھا میں بحث ہونے کا امکان ہے ۔اگر لوک سبھا کی کارروائی ٹھیک چلی تو آئین سازیہ کام کی فہرست کے تحت اس بل پر جمعرات کو بحث ہونی تھی لیکن ایوان میں کانگریس کے لیڈر ملک ارجن کھڑگے کی اپیل پر لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے اسے 27دسمبر کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ۔کھڑگے نے یقین دہانی کرائی کہ 27دسمبر کو بل پر بحث میں اپنی بات رکھیں گے اس میں شامل ہوں گے ۔وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ کٹر پسندوں اور اپوزیشن پارٹیوں کے ذریعہ رکاوٹ ڈالے جانے کے باوجود مرکزی سرکار فوری تین طلاق کے خلاف قانون بنانے کے لئے عہد بند ہے ۔ہمارا یہ عزم اس لئے ہے تاکہ مسلم خواتین کو زندگی کے ایک بڑے بحران سے چھٹکارا مل سکے اتنا ہی نہیں ،نئی حج پالیسی کے تحت سرکار نے آزادی کے ستر سال بعد مسلم خواتین کورشتہ داروں کے بغیر حج کرنے کی اجازت دی ہے ۔تین طلاق کے بل پر پارلیمنٹ میں پھر پینچ پھنس سکتا ہے ۔بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس اس میں تین سال کی سزا کی سہولت کے خلاف ہے کانگریس کا کہنا ہے کہ طلاق دینے پر سزا کی کوئی سہولت کسی مذہب میں نہیں ہے تو پھر اس میں بھی نہیں رکھی جائے ۔لوک سبھا میں دوبارہ بل پیش ہونے کے لئے کانگریس بحث کو تیار ہے ۔لیکن ملکہ ارجن کھڑگے نے کہا کہ ہم نے بحث کی بات کہی ہے اور بحث کرنے اور پاس کرنے میں فرق ہے ۔کیا بل کو موجودہ شکل میں کانگریس پاس ہونے دئے گی ؟اس پر انہوںنے کہا کہ بل میں شوہر کو تین سال تک کی سزا کی سہولت ہے ۔ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں ۔کانگریس کے رخ سے صاف ہے کہ سرکار لوک سبھا میں یہ بل پاس کروانے میں بے شک کامیاب ہو جائے لیکن راجیہ سبھا میں اکثریت نہ ہونے سے یہ بل پھنس سکتا ہے ۔بل کی تین اہم نکات ہیں بل میں سہولت دی گئی ہے کہ بیوی کے علاوہ خونی رشتہ کے رشتہ دار لوگ بھی تین طلاق کی شکایت کر سکتے ہیں ۔شکایت درج کرانے پر مجسٹریٹ کی عدالت بیوی کا موقوف جاننے کے بعد ہی ضمانت پر سماعت کرئے گی۔مجسٹریٹ یہ بھی یقینی کرئے گی کہ متاثرہ کو شوہر سے مالی مدد دلائی جائے ۔معاملے میں 3سال کی سزا ہے ۔کانگریس سمیت تمام پارٹیوں کا کہنا ہے کہ جب تین طلاق ہی تسلیم نہیں ہے ایسے میں یہ جرم کیسے ہوگا ؟ساتھ ہی خاندان کے بکھرنے کا بھی دلیل دے رہے ہیں ۔

(انل نریندر)

اگر جیت کی ذمہ داری لیڈر کی ہے تو ہار کی کس کی؟

مرکزی وزیر بھاجپا نیتا نتن گڈکری ایک بار پھر تنازعات میں ہیں اس بار یہ تنازع گذشتہ سنیچر کو ان کے اس تبصرے کے سبب کھڑا ہوا جس میں انہوںنے مبینہ طور سے کہا تھا کہ اگر جیت کی ذمہ داری لیڈر کی ہے تو ہار کی ذمہ داری بھی لیڈر کی ہونی چاہیے ۔گڈکری کے حال میں ختم ہوئے مدھیہ پردیش ،چھتیس گڑھ ،راجستھان اسمبلی چناﺅ کے بعد یہ ریمارکس آئے ۔انہوںنے کہا تھا کہ کامیابی کا سہرا لینے کے لوگوں میں دوڑ رہتی ہے لیکن ناکامی کو کوئی قبول کرنا نہیں چاہتا ۔لیڈر شپ میں ہار اور ناکامی کو قبول کرنے کا بھی جذبہ ہونا چاہیے ۔وزیر پنے میں ایک تقریب میں بول رہے تھے انہوںنے اپنی بات کی زیادہ تشریح نہیں کی لیکن ان کے تبصروں کو حال میں ہوئے تین ریاستوں کے انتخابات میں بھاجپا کی ہار کے پیش نظر اہم ترین مانا جا رہا ہے جیسا کہ عام طور پر لیڈروں کا ہوتا ہے ،پہلے رائے زنی کر دیتے ہیں پھر اس کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا ذمہ میڈیا کے سر ڈال دیتے ہیں ۔نتن گڈکر ی نے بھی یہی کیا انہوں نے اتوار کو کہا بھاجپا 2019کا لوک سبھا چناﺅ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہی لڑئے گی ۔گڈکری نے اس کے ساتھ ہی میڈیا پر ان کے ذریعہ پنے کے ایک پروگرام میں کئے گئے تبصرے کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے لئے میڈیا پر ہی الزام لگا دیا انہوںنے صفائی دی کہ وہ کسی دوڑ یا مقابلے میں نہیں ہیں اور بھاجااگلے عام چناﺅ میں مناسب اکثریت حاصل کرئے گی ۔سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ دوڑ میں شامل ہونے کی بات کیسے آئی ؟آپ نے تو مبینہ طور پر یہی کہا تھا ہار جیت دونوں کی ذمہ داری لیڈر شپ کو ہی لینی چاہیے جو ایک طرح سے ٹھیک بھی ہے ۔لیکن لیڈر شپ بدلنے کی بات کہا ں سے آگئی ۔نتن گڈکری ایک سمجھدار اور تجربے کار نیتا ہیں تو نپی تلی بات کرتے ہیں ۔اگر انہوںنے ہار جیت سے متعلق بیان یا تبصرہ کیا تو اس کے پیچھے وجہ ہوگی ؟یہ کسی سے اب پوشیدہ نہیں ہے کہ ہندتو طاقتیں موجودہ بی جے پی لیڈر شپ سے ناراض ہیں گڈکری ان کے کافی قریبی مانے جاتے ہیں ۔کیا یہ ممکن ہے کہ گڈکری سے یہ بیان دلوایا گیا ہو ؟یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بھارتی جنتا پارٹی میں لیڈر شپ کے ورکنگ اسٹائل سے ناراضگی پیدا ہو رہی ہے ۔چاہے وہ نیتا ہو یا ورکر وہ اپنے آپ کو لیڈر شپ سے کٹا کٹا محسوس کر رہا ہے ۔بیشک بقول گڈکری کے میڈیا نے ان کے تبصرے کو توڑ مروڑ کر پیش کیا ہو لیکن اس کے پیچھے گہرا مطلب ضرور لگتا ہے ۔

(انل نریندر)

25 دسمبر 2018

آپ کے کمپیوٹر جی پر سرکار کی نظر؟

یہ صحیح ہے کہ قومی سلامتی سے سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا اور اس کی سلامتی کے ہر ممکن قدم سرکار کو کرنے چاہیے ۔قومی سلامتی کی تشویش ہر حکومت کی ترجیح ہونی چاہیے ۔ایسے عناصر پر نظر رکھنی چاہیے جو دیش کے خلاف کسی بھی طرح کی سرگرمیوںمیں شامل ہو اس میں اس کے کمپیوٹر وغیرہ کی نگرانی بھی شامل ہے ۔لیکن سوال یہ ہے کہ ایک جمہوری نظام میں کسی سرکار کو لا محدود اختیار دیا جانا شامل ہے ؟جمعرات کی رات کو مرکزی حکومت نے قومی سلامتی کے سوال پر اپنے ایک حکم میں مرکزی وزارت داخلہ کے تحت کام کر رہیں دس جانچ ایجنسیوں کو دیش میں چلنے والی سبھی کمپیوٹروں کی جانچ کا اختیار دیا ہے یعنی اگر ان ایجنسیوں کو محض ایک شک کی بنیاد پر کسی شخص یا ادارے کے کمپیوٹر میں موجود مواد کو دیکھنے یا جانچنے کا اخیار ہوگا حالانکہ سرکار نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ فی الحال دیش کی سلامتی کے مخصوص حالات پر یہ کارروائی ہوگی ۔بتا دیں کہ نئے حکم میں انفارمیشن ٹیکنالوجی قانون 2000کی دفعہ 69کے تحت سیکورٹی اور خفیہ ایجنسیوں کو کسی کمپیوٹر سسٹم میں تیار اسٹور یا حاصل کئے گئے ڈاٹا کو چیک کرنے یا اس کی نگرانی کرنے کا اختیار دیا گیا ہے ۔کانگریس نے جمعہ کو مودی سرکار پر بھارت کو ایک سرویلانس اسٹریٹ بنانے کا الزام لگایا ۔پارٹی کے صدر راہل گاندھی نے کسی بھی کمپیوٹر کے ڈاٹا کی جانچ پڑتال کرنے کے اس حکم کو شہریوں کی پرائیوسی کی خلاف ورزی بتاتے ہوئے اسے وزیر اعظم نریندر مودی کا تانا شاہ رویہ قرار دیا ہے ۔گاندھی نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ بھارت کو پولس ریاست میں بدل کر آپ کے مسلئے کا حل ہونے والا نہیں ہے مودی جی اس سے دیش کی ایک ارب آبادی کا پتہ چل جائے گا کہ آپ حقیقت میں غیر محفوظ تانا شاہ ہیں اس کے ساتھ ہی انہوںنے وہ خبر بھی پوسٹ کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دس مرکزی جانچ ایجنسیوں کو کسی بھی شخص کے کمپیوٹر اور ٹیلی فون کے ذریعہ نگرانی کا اختیار ہے سوال یہ ہے کہ کیا نئے حکم کے بعد عام لوگ بھی اس کی زد میں ہوں گے ؟لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ان کی پرائیویسی کے حق میں مداخلت ہے اپوزیشن پارٹی بھی یہی سوال اُٹھا رہی ہیں ۔راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ سرکار کے ا س فیصلے کے بعد دیش میں غیر اعلانیہ امرجنسی لاگو ہو گئی ہے ۔وہیں سرکار کا کہنا ہے کہ یہ اختیار ایجنسیوں کو پہلے سے ہی حاصل تھے ۔راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے الزاما ت کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر مالیات ارون جیٹلی نے کہا اپوزیشن عام لوگوں کو غلط فہمی میں ڈال رہی ہے ۔انہوںنے یقین دلایا کہ انہیں کے کمپیوٹر کی نگرانی رکھی جاتی ہے جو قومی سلامتی اور یکجہتی کے لئے چنوتی ہوتے ہیں ۔اور دہشت گرانہ سرگرمیوں میں شامل ہوتے ہیں ۔عام لوگوںکے کمپیوٹر یا ڈاٹا پر نظر نہیں رکھی جاتی ہے ۔

(انل نریندر)

دلت،آدیواسی،جین،مسلمان کے بعد اب ہنومان کو بتایا جاٹ

سنکٹ موچک کہے جانے والے رام بھگت بھگوان ہنومان کی ذات کو لیکر اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی نے ایک ایسی بحث خامخواہ چھیڑ دی ہے ۔اب اس بے فضول بحث کے چلتے دعوں میں تو بھگوان ہنومان کی پہچان کا بحران کھڑا ہوتا جا رہا ہے آدتیہ ناتھ کے ذریعہ ہنومان جی کو دلت بتانے سے شروع ہوا ذات کا تنازع اب یوگی کیبنٹ میں دھامک امور وزیر لکشمی نارائن چودھری کے ذریعہ جاٹ بتانے تک پہنچ گیا ہے ۔وزیر لکشمی نارائن چودھری کا کہنا ہے کہ جاٹ پربھو ہنومان کے ونش ہیں ہنومان جی جاٹ تھے ۔اترپردیش ودھان پریشد میں سوال جواب کے دوران چودھری نے تحریری جواب میں بتایا کہ ہنومان مندروں میں چڑھاﺅے کی رقم کی تفصیل دستیاب نہیں ہے ۔اس پر اپوزیشن کے لیڈروںنے ان کی ذات کا اشو اُٹھا دیا ۔چودھری نے کہا کہ جو دوسروں کے بیچ میں ٹانگ اڑائے وہ جاٹ ہو سکتا ہے اس پر سپا ممبران نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ہنومان جی کو تو دلت بتا رہے ہیں ؟اب آپ نے ایک نئی ذات بتا دی ؟چودھری نے بعد میں صفائی دیتے ہوئے بتایا کہ میرے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ہم کسی کے برتاﺅ سے یہ پتہ کرتے ہیں کہ وہ کس نسل کے ہوں گے ۔جاٹ کا برتاﺅ ہوتا ہے کہ اگر کسی کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہو تو وہ بغیر کسی بات اور جان پہچان کے ہی اس کی مدد میں کو د پڑتا ہے ۔اسی طرح ہنومان جی جس طرح بھگوان رام کی پتنی سیتا کا اغوا ہونے کے بعد ان کی مدد کے لئے بیچ میں شامل ہو گئے تو ان کا یہ برتاﺅ جاٹ سے ملتا ہے اس لئے میں نے ایسا کہا اس سے پہلے جمعرات کو اتر پردیش سے بھاجپا کے ودھان پریشد کے ممبر نواب نے ہنومان کو مسلمان بتا دیا ان کے بیان پر دیوبند کے علماﺅںنے جمعہ کے روز سخت رد عمل ظاہر کیا ۔دارالعوم کے آن لائن فتوی کے انچارج مفتی ارشد شاہ فاروقی نے کہا کہ بغیر کچھ جانے کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہیے اور کسی بات کو کہنے سے پہلے اس کے بارے میں پڑھنا اور اس کی تحقیقات ضروری ہے ۔دیوبند کے ہی علماءقاری اسحاق گورا نے کہا کہ کسی بھی اسلامی کتا ب میں یہ نہیں لکھا ہے کہ ہنومان جی مسلمان تھے لوگ شہرت حاصل کرنے کے لئے بیان بازی کرتے رہتے ہیں بکول نواب کو ہندو و مسلمان دونوں سے اپنے اپنے بیانوں کے لئے معافی مانگنی چاہیے بھگوان ہنومان کی ذات کو لیکر چل رہی بحث پر چٹکی لیتے ہوئے بھاجپا کی اتحادی پارٹی شیو سینا نے سنیچر کو کہا کہ بہتر ہے کہ رامائن کے دیگر کردار بھی اپنے ذات کا ثبوت نامہ تیار رکھیں ۔پارٹی نے بحث کو بے بنیاد اور فضول بتاتے ہوئے کہا کہ اترپردیش اسمبلی میں بھگوان ہنومان کی ذاتی کا ٹھپہ لگا کر نئی رامائن لکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔اور ایسی کوششوں کو بلا تاخیر روکا جانا چاہیے ۔شیو سینا نے اپنے اخبار سامنا میں اداریہ میں لکھا ہے کہ اصل میں بھگوان ہنومان کی ذاتی کا پتہ لگانا بے وقوفی ہے اداریہ میں آگے لکھا ہے کہ آچاریہ نربھیہ ساگر مہاراج نے دعوی کیا کہ جین گرنتھوں کے مطابق بھگوان ہنومان جین تھے اخبار آگے لکھتا ہے کہ اس طریقہ سے اترپردیش ودھان سبھا میں نئی رامائن لکھی جا رہی ہے اور ا س کے اہم کرداروں کے ساتھ ذات کا ٹھپہ لگایا جا رہا ہے ۔ایودھیا میں بھگوان رام کا مندر بنایا جانا تھا لیکن یہ لوگ رام بھگت کی ذات پتہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔اس طریقہ سے وہ بھگوان ہنومان کو مذا ق کا موضوع بنا رہے ہیں لیکن جو لوگ اپنے آپ کو ہندتو کا سرپرست کہتے ہیں وہ اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اگر یہ مسلمانوں یا ترقی پسند لوگوں نے کیا ہوتا تو یہ ہندتو سینا ہنگامہ کر دیتی شیو سینا نے کہا حالیہ چناﺅ میں بھاجپا کو ہار کا سامنا کرنے کے باوجود ہنومان کی ذات پر بحث جاری رکھنا ہے اسلئے رامائن کے دیگر کرداروں کو اپنی ذات کا سرٹیفکٹ تیار رکھنا چاہیے ہم اس بحث کو مستر د کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں اسے یہیں ختم کیا جائے ۔لاکھوں کروڑوں لوگوں کے عقیدت کے حامل بھگوان ہنومان کو یوں سیاسی اشو بنانے سے باز آئیں اس سے ان کے بھگتوں کو ٹھیس لگی ہے ۔

(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...