ائل نریندر
Translater
28 مارچ 2026
نہ ٹرمپ پر بھروسہ ہے اور نہ ہی پاکستان کی ثالثی منظور
مغربی ایشیا میں لڑائی کے خاتمے کے لیے امریکا کی 15 نکاتی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے ایران نے الٹا اپنی 5 شرائط رکھی ہیں۔ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 15 نکاتی امن تجویز کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے یکطرفہ طور پر مستر د کر دیا ہے اور جنگ کے خاتمے کے لیے پانچ بڑی شرائط رکھی ہیں۔ ایران نے واضحطور پر کہا ہے کہ وہ جنگ اسی وقت ختم کرے گا جب اس کے مطالبات پورے ہوں گے۔ امریکہ نے اپنی تجویز پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچائی۔ ایران نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وہ نہ تو ٹرمپ پر اعتماد کرتا ہے اور نہ ہی پاکستان کی ثالثی کو قبول کرتا ہے۔ ایران کی پانچ شرائط میں جنگی نقصانات کا خاطر خواہ معاوضہ، ٹارگٹ کلنگ پر پابندی ، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ آبنائے ہرمز پر سابقہ خود مختاری شامل ہے۔ تہران کا واضح موقف ہے کہ امن صرف اسی صورت میں ممکن ہو گا جب امریکہ اس کی شرائط مان لے اور مخطے کے تمام مزاحمتی گروپوں پر حملے بند کر دے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان اس شدید جنگ میں تہران نے بھی اپنا موقف سخت کر لیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 15 نکاتی تجویز پیش کی تھی ۔ ان مطالبات میں شامل ہیں : ایران اپنی تینوں بڑی ایٹمی سائٹس کو بند کر دے۔ اسے یورینیم کی افزودگی کو مکمل طور پر روک دینا چاہیے۔ اسے اپنا بیلسٹک میزائل پروگرام معطل کر دینا چاہیے۔ اسے حماس ، حزب اللہ اور حوثیوں جیسے باغی گروپوں کی حمایت ختم کرنی چاہیے۔ اسے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنا چاہیے۔ اسے یہ وعدہ بھی کرنا چاہیے کہ وہ کبھی بھی جو ہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ ایک اہم مطالبہ یہ تھا کہ موجودہ افزودہ یورینیم کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے حوالے کیا جائے ۔ اس کے علاوہ اور بھی مطالبات تھے۔ میں نے امریکہ کے اہم مطالبات کا ذکر کیا ہے۔ مجھے اس بات پر سمجھوتہ کرنا مشکل ہے کہ ایران اور امریکہ ایک دوسرے سے کیا چاہتے ہیں۔ کم و بیش درست مسائل پر بات چیت فروری میں ہوئی تھی۔ ان نکات کو سرخ لکیریں کہا جا سکتا ہے، جن پر ممالک متفق نہیں ہو سکتے ۔ دریں اثناء ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کا ملک تنازع کا مستقل خاتمہ چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے تاہم ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی خواہش نہیں رکھتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات بھیج رہا ہے۔ ایسے پیغامات کے تبادلے کا مطلب مذاکرات نہیں ہوتا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ جنگ چھیڑنے کے اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ امریکہ ایران میں جنگ اور حکومت کی تبدیلی میں فتح چاہتا تھا، دونوں ناکام رہے۔ دریں اثناء ایران کی مشترکہ فوجی کمان کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے جس امریکی سٹریٹجک طاقت پر فخر کیا تھا وہ اب تزویراتی شکست میں تبدیل ہو گئی ہے ۔... ہم امریکہ کے جھوٹے پروپیگنڈے سے گمراہ نہیں ہوں گے ۔ اس سے قبل امریکا نے پاکستان کے ذریعے بھیجی گئی ایک تجویز میں ایران کو جنگ بندی کے لیے پاکستان یا ترکی میں مذاکرات کرنے کی تجویز دی تھی جسے ایران نے صاف طور پر مسترد کر دیا تھا۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بیضائی نے کہا ہے کہ امریکہ نے گزشتہ سال جو ہری مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کیا تھا۔ انہوں نے اسے سفارتی غداری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں امریکہ پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ ٹرمپ نے ہمیں دو بار دھوکہ دیا ہے، اور ہم دوبارہ اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہماری رائے میں طاقت حل نہیں ہے ۔ مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ پہلے ایران پر حملے بند ہوں۔ یہ ناممکن ہے کہ آپ ایک طرف امن کی تجویز بھیجیں پھر یکطرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کریں اور حملے جاری رکھیں۔ یہی نہیں بلکہ امریکہ بھی یہ کر رہا ہے۔ وہ اپنی زمینی افواج میں اضافہ کر رہا ہے۔ یہ ایک طرف نئے جنگی جہاز اور لڑاکا طیارے بھیج رہا ہے اور دوسری طرف امن کی بات کرتا ہے۔ یہ دوغلا پن نہیں تو اور کیا ہے؟ مجھے ٹرمپ پر بالکل بھروسہ نہیں ہے۔
26 مارچ 2026
ڈیمونا:اسرائیل کا سیکریٹ نیوکلیئر ری ایکٹر!
ایران۔ اسرائیل جنگ کاایک دوسرے کے نیوکلیائی اسٹیشنوں پر پہنچ جانا بیحد خطرناک ہے۔سنیچر کی صبح امریکہ۔ اسرائیل نے مشترکہ کارروائی میں ایران کو نتانگ نیوکلیئر مرکز کو نشانہ بنایا تو ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اراد کے ساتھ ساتھ ڈیمونا شہر پر بھی میزائلیں داغیں۔ڈیمونا اسرائیل کا وہ جنوبی حصہ ہےجہاں سے محض 13 کلو میٹر دور اہم نیوکلیائی مرکز ہے۔تل ا بیب کی مانیں تو یہ حملہ دراصل اس کے نیوکلیائی سینٹر کو مرکز میں رکھ کر ہی کیا گیا تھا۔ اس حملے میں 180 سے زیادہ لوگ زخمی ہونے کی بات کی جارہی ہے۔ اسرائیل فوج نے بتایا کہ وہ اس بات کی بھی جانچ کررہی ہے کہ ایرانی بیلسٹک میزائل کو روکا کیوں نہیں جاسکا۔ اس سے اس بات کو بھی تقویت ملتی ہے کہ ایران کے دعوے میں کچھ سچائی ہے۔ اس کی میزائلوں نے اسرائیلی ایئر ڈیفنس سسٹم کو تباہ کردیاہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ایئر ڈیفنس سسٹم نے میزائل کو روکنے کی کوشش کی لیکن انٹرسپٹر اسے مار گرانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔انٹر نیشنل نیوکلیائی انرجی ایجنسی نے ان حملوں کے سبب شکر ہے کہ کسی طرح کی ریڈی ایشن یعنی کرنیں نکلنے سے انکار کیا ہے جو یقیناً اچھی بات ہے، لیکن دونوں جگہوں پر جان مال کا بھاری نقصان ہوا ہے۔ ڈیمونا سائوتھ اسرائیل کے نیگرو ریگستان میں واقع ہے ۔یہ ایک اہم نیوکلیائی پلانٹ ہے۔ اسرائیل کی اپنے نیوکلیائی پروگرام کو لیکر کوئی صاف پالیسی نہیں ہے۔ سرکاری طورپر اس کا کہنا ہے کہ ڈیمونا ری ایکٹر صرف ریسرچ کے لئے ہے۔ حالانکہ اسٹاک ہوم انٹر نیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق اس کے پاس تقریباً 90 نیوکلیائی جنگی جہاز ہیں جس سے وہ مشرقی وسطیٰ کا ایک واحد نیوکلیائی پاور کفیل دیش بن جاتا ہے۔ ڈیمونا ری ایکٹر کو شیمون پیریس میگو نیوکلیئر ریسرچ سینٹر کہا جاتا ہے۔ یہ اسرائیل کے نیوکلیائی پروگرام کی ریڑھ مانا جاتا ہے۔ دراصل قریب36 مربع کلو میٹر کیمپس میں پھیلا ہوا ہے۔ قریب2700 سائنسداں اور تکنیکی ماہرین یہاں کام کرتے ہیں۔ ڈیمونگ کو اسرائیل کےلئے لٹل انڈیا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں ہندوستانی یہودی فرقہ رہتا ہے۔ قریب30 فیصد آبادی ہندوستانی نژاد کی ہے اور مراٹھی زبان بولتے ہیں۔ دوکانوں میں سوہن پاپڑی، گلاب جامن،پاپڑی چاٹ بھیل پوری ملتی ہے۔ امریکہ۔ ایران ۔ اسرائیل کی یہ جنگ جتنی خطرناک شکل اختیار کررہی ہے وہ نہ صرف مغربی ایشیا بلکہ پوری دنیا کے لئے سنگین تشویش کا باعث ہونا چاہئے۔ ڈیمونگ اور ایرانی نیوکلیائی مراکز میں یورینیم اور پلوٹینیم کے ذخیرے ہیں۔اگر ان میں اخراج ہوا تو نہ صرف آس پاس کے لوگ شکار ہوں گے بلکہ پورا مشرقی وسطیٰ اس سے متاثر ہوسکتا ہے۔ نیوکلیائی مادہ کس حد تک خطرناک ہوتے ہیں اس کی تکلیف دہ نظیر موجود ہیں۔ جب دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی شر ہیروشیما و ناگاساکی پر امریکہ نے نیوکلیائی بم گرائے تھے تو لٹل بام (یورینیم) اور فیٹ مین نامی ان بموں نے 2 لاکھ لوگوں کی زندگی ختم کردی تھی اور جاپان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کردیا تھا۔آج ان کے مقابلے میں کہیں زیادہ تباہ کن بم کئی ملکوں کے پاس ہیں۔ ایران ۔ امریکہ۔ اسرائیل جنگ کو اور پھیلنے سے روکنے کے لئے دنیا کو سامنے آنا پڑے گا۔یہ اچانک نہیں عالمی مفاد کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ بھارت اس پر مسلسل زور دیتا رہا ہے اور کہتا رہا ہے کہ مسئلہ کا حل جنگ نہیں۔ ٹیبل پر بیٹھ کر سمجھوتہ کرنا ہوگا۔اس کا حل جنگ نہیں بات چیت سے تلاشنا ہوگا۔یہ کام جتنی جلدی ہو اس جنگ کو رکنا چاہئے۔دنیا کی اسی میں بھلائی ہے۔
(انل نریندر)
24 مارچ 2026
چار ہزار کلو میٹر دور ایران کے حملے نے چونکا دیا!
ایران اور امریکہ -اسرائیل جنگ خطرناک موڑ پر پہچ گئی ہے امریکہ اسرائیل کی ایئر فورس نے سنیچر کی صبح ایرانی نیوکلیئر ہارڈ نتاج نیوکلیئر پروسیسنگ سنٹر پر خوفناک حملہ کیا ۔ایرانی نیوکلیائی اینرجی آرگنائزیشن نے اسے مجرمانہ حملوں سے تعبیر کیا ہے ۔حالانکہ پلانٹ سے کسی ریڈیو کرنیں رساؤ کی خبر نہیں ہے ۔امریکہ -اسرائیل کے اس حملے کا اثر اب عالمی جنگ پھیلنے کی سطح تک پیدا ہوگیا ہے ۔نتانج پر حملے کے کچھ ہی گھنٹوں کے بعد ایران نے جوابی کاروائی (آپریشن -2 پرسیسٹنس ) ہند مہاساگر میں موجود امریکہ برٹین کے ایئر بیس ڈی اے گے گراسیا پر دو بیلسٹک میزائل داغے اور دنیا کو چونکا دیا۔ ایران نے پہلی بار غیر اعلانیہ 2000 کلو میٹر کی لمٹ توڑ کر 4000 کلو میٹر دور تک حملے کی صلاحیت دکھائی ۔رپورٹ کے مطابق ایک میزائل اڑنے کے دوران ناکام ہو گئی ۔جبکہ دوسری کو روکنے کے لئے امریکی جنگی بیڑے نے ایس ایم -3 انٹر سپٹر کا استعمال کیا ۔حالانکہ اس کی کامیابی کی تصدیق نہیں ہوئی ہے ۔یہ حملہ اس لئے اہم ماناجارہا ہے کیوں کہ ڈی اے گو گراسیا ایران سے قریب 4000 کلو میٹر دوری پر واقع ہے جو ایران کی اعلان کردہ 2000 کلو میٹر رینج سے دگنی ہے ۔اگر یہ رپورٹ صحیح ہے تو ایران کی میزائل صلاحیت کو لے کر بنی پرانی کہانیاں ٹوٹ گئی ہیں ۔ایران کو لے کر خیال تھا کہ اس کے پاس 2000 کلو میٹر تک رینج کی صلاحیت ہے لیکن اس حملے سے دنیا حیران رہ گئی ہے ۔ماہرین کے مطابق 4000 کلو میٹر تک کی رینج ایران کو ایٹر میڈیٹ رینج میزائل صلاحیت کے قریب لے جاتی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اب یوروپ کے کئی بڑے شہر جیسے پیرس ،برلن اور روم بھی ممکنہ دائرے میں آسکتے ہیں ۔جبکہ لندن بھی خطرے سے باہر نہیں ہے ۔یہ تبدیلی بتاتی ہے کہ خطرہ اب صرف خلیجی ممالک یا اسرائیل تک محدود نہیں رہا۔اگر اس کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ حملہ صرف فوجی کاروائی نہیں بلکہ ایک بڑا حکمت عملی پیغام بھی ماناجائے گا ۔سنٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹیڈیز کے مطابق ایران کے پاس مغربی ایشیا میں سب سے بڑے اور سب سے کارگر میزائل ذخیرہ ہے اس ذخیرے میں کئی لمبی دوری کی میزائلیں شامل ہیں جو اسرائیل میں پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ان میں اینجل ، خورم شہر اور قدرشامل ہیں ۔ایک رپورٹ کے مطابق ایرانی میزائلیں اسرائیل تک تو تباہی مچا ہی رہی ہیں ۔لیکن اب یہ دائرہ بھی بڑھ سکتا ہے ایران کے پاس الگ الگ صوبوں میں کم سے کم پانچ گھات حملہ آور زیر زمین میزائل شٹیز بھی ہیں ۔ایران کے میزائل ذخیرہ میں موٹار ،راکیٹ ،ڈرون اور بیلسٹک اور کروز میزائلیں شامل ہیں ۔بتادیں کہ ڈی اے گو گراسیا ایران سے تقریباً 4000 کلو میٹر تک دور وسط ہند مہاساگر میں بھارت کے ساؤتھ اور سری لنکا کے ساؤتھ ویسٹ میں واقع ہے ۔ یہ یاگوس ذخیرہ گروپ کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور ہند پرشانت سیکٹر خطہ میں واقع دو اہم ترین امریکی بم برسانے والے جنگی جہازوں کے بیس میں سے ایک ہے ۔دوسرا اڈہ ،گوام میں واقع اینڈر سین ایئر فورس اڈہ ہے ۔امریکہ -برطانیہ کے ذریعے چلائے جانے والاسب سے زیادہ حکمت عملی اہمیت والے بے حد خفیہ ملیٹری بیسس میں سے ایک ہے۔ ایران اگر یہاں تک پہنچا ہے تو یہ ایک بہت اہم ترین واقعہ ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی
ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...