Translater

01 اگست 2026

اور اب ایران بنام یوکرین

مغربی ایشیا کی دو بڑی لڑائیاں اب ایک دوسرے سے وابستہ دکھائی دے رہی ہیں ۔ایک طرف پچھلے کئی ماہ سے امریکہ ایران کے درمیان کشیدگی اور فوجی کاروائی چل رہی ہے وہیں اب دوسری طرف روس اور یوکرین کے درمیان جنگ پانچویں برس میں داخل ہو چکی ہے ۔اب ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے ان دونوں لڑائیوں کو آپس میں جوڑدیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر نئی تشویشات پیدا کر دی ہیں ۔تازہ تنازعہ کیسپیئر ساگر میں ایک ایرانی جہاز پر ہوئے حملے سے شروع ہو ا ۔یوکرین پر الزام ہے کہ اس نے کیپسین ساگر میں ایک ایرانی کمرشیل جہاز کو نشانہ بنایا ۔یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا دعویٰ ہے کہ یہ جہاز روس اور ایران کے درمیان ہتھیاروں اور فوجی سامان کی سپلائی میں استعمال کیاجارہا تھا اسی وجہ سے اس جہاز پر حملہ کیا گیا ۔اس واقعہ کے بعد ایران نے سخت ناراضگی جتائی ہے۔ ایران کی راجدھانی تہران میں یوکرین کے سفیر کو طلب کیا اور سنگین نتائج بھگتنے کی وارننگ دے ڈالی ۔ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے یوروپی فیڈریشن کی خارجہ پالیسی چین کیلس سے بات کی اور اس حملے کے خلاف اپنی ناراضگی جتائی ۔انہوں نے یوکرین کے خلاف سخت کاروائی کی بھی مانگ کی ۔کیسپین ساگر میں کسی جہاز پر اس طرح کا حملہ پہلی بار ہوا ہے۔ کیسپین ساگر ایک ایسا سمندری خطہ ہے جو چاروں طرف سے زمین سے گھرا ہوا ہے ۔اس کے نارتھ ویسٹ میں روس اور ساؤتھ میں ایران ، مشرق میں قزاکستان اور ترکمانستان و مغرب میں آذر بائیجان واقع ہے ۔یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد روس اورایران کے رشتے اور مضبوط ہوئے ہیں ۔دونوں ملکوں کے درمیان تجارت ،تکنیکی اشتراک اور ڈیفنس سیکٹر میں رابطہ بڑھا ہے ۔اسی وجہ سے لمبے عرصے سے یہ بحث ہوتی رہی ہے کہ کیسپین ساگر کے راستے روس اور ایران کے درمیان فوجی سامان کا تبادلہ بھی ہوتا ہے ۔حالانکہ اس بارے میں کبھی کھلے طور سے کوئی صاف تسلیم نہیں کی گئی ۔ایران کا کہنا ہے کہ جس جہاز پر حملہ ہوا وہ ایک جنرل کمرشیل جہاز تھا ۔ایرانی حکام کے مطابق اس حملے میں ایک ملاح کی موت ہو گئی جبکہ ایک دیگر ملاح زخمی ہوگیا تھا ۔حملے کے بعد صدر زیلنسکی نے شوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جہاز روس اور ایران کے درمیان فوجی سامان پہنچانے کا کام کررہا تھا ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ روس لمبے عرصہ سے ایران کی طر ف سے دستیاب کرائے گئے شہید نامی ڈرون کا استعمال یوکرین کے خلاف کررہا تھا ۔لڑائی کے آغاز کے مرحلے میں روس نے بڑی تعداد میں ایرانی ڈرون کا استعمال کیا تھا ۔جس سے اسے جنگ میں بڑھت حاصل کرنے میں مدد ملی تھی ۔زیلنسکی نے صرف جہاز پر حملے کا بچاؤ ہی نہیں کیا بلکہ اس پر ایک اور سنگین الزام بھی لگا دیا انہوں نے دعویٰ کیاکہ روس نے ایران کو خلیج خطہ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی سیٹلائٹ تصویریں اور خفیہ جانکاری دستیاب کرائی ہے ۔ان کے مطابق ماہ جولائی میں روسی سیٹلائٹ بحرین ،جارڈن اور کویت میں قائم امریکی فوجی ٹھکانوں کی نگرانی کررہے ہیں ۔زیلنسکی کا الزام ہے کہ ایران کے ذریعے امریکی اڈوں پر کئے گئے کچھ پختہ حملوں کے پیچھے بھی روس کی طرف سے دی گئی خفیہ جانکاری کا رول ہوسکتا ہے ۔یوکرین برائے نام ہے کہ اسے صرف یوکرین نے اس میں صرف روس صرف یوکرین میں جنگ نہیں لڑرہا ہے بلکہ پورے خطہ میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش کررہا ہے ۔
انل نریندر

30 جولائی 2026

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یردن اور عراق میں بھی حملے کررہا ہے ۔چونکہ ایران یردن اور عراق میں بھی حملے کررہا ہے ۔ایران نے اس مرتبہ صرف امریکی بیس پر موجود ہی ہتھیاروں کو نشانہ بنایا ہے ۔بلکہ اگر خبر صحیح ہے تو ان حملوں میں امریکی فوجیوں کے مرنے اور زخمی ہونے کی بات ایران کررہا ہے ۔ایران کی فوج نے فی الحال حملے روک دیے ہیں نہیں تو وہ مسلسل 12-13 دن سے ہر روز ایران پر بم باری کررہا تھا ۔امریکہ نے تو ایک بار پھر بھاری بی بمباروں کا بھی استعمال کیا ۔ایران نے بھی تابڑ توڑ جوابی حملے کئے ۔جب امریکہ نے حملے روکے تو ایران نے بھی جوابی کاروائی روک دی۔ کہا جارہا ہے کہ امریکہ کے ایئر ڈیفنس میزائلوں کا اسٹاک کم ہورہا ہے جس سے عرب خطہ میں موجود امریکی اڈوں کی حفاظت کرنا مشکل ہوسکتا ہے ۔اس وجہ سے ٹرمپ کو پیچھے ہٹنا پڑاہے ۔دراصل ایران نے جنگ کی شروعات سے ہی سستے ڈرون سے لگاتارحملے کرنے کی حکومت عملی بنائی تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امریکی پیڈوایئر میزائلوں کا استعمال بہت زیادہ کرنا پڑا اور چند دنوں میں ہی میزائلوں کا اسٹاک کم ہو گیا ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ، امریکہ پچھلے 13 دنوں سے اپنے تمام اڈوں کی حفاظٹ کے لئے پیڈوایئر میزائلوں کا استعمال کررہا تھا ۔13 دنوں کی جنگ کے بعد اب کہا جارہا ہے کہ امریکی فوج کے پاس صرف 900 سے ہزار کے بیچ میزائلیں ہی بچی ہیں ۔دوسری طرف امریکی کمپنیاں ہر ماہ صرف 20 میزائل ہی بنارہی ہیں ۔دوسری طرف ایران نے اپنی میزائلیں اور ڈرون کا اسٹاک مسلسل بڑھا لیا ہے ۔اور وہ نئی میزائلوں اور ڈرونوں کو بھی بہت تیزی سے بنا رہا ہے ۔اب اگر ایران کی جانب سے اور حملے ہوتے ہیں تو امریکہ کی بچی کچی میزائلیں بھی ختم ہو جائیں گی ۔یہ وارننگ امریکہ کی سینٹکام کمپنی نے بھی ٹرمپ کو دی ہے ایسے میں امریکہ کو اپنے بیس کی حفاظت کی فکر ہے ۔ایران کے حملوں سے بھی امریکی ایئر ڈیفنس کو بھاری نقصان ہوا ہے ۔ حملوں کے دوران امریکی بیس پر 7 کمانڈ اینڈ کنٹرو ل سنٹر تباہ ہو چکے ہیں ۔اس کے علاوہ 6 پیٹیئر ایئر ڈیفنس راڈار تباہ ہو چکے ہیں ۔امریکی حملوں کی وجہ سے 3 ای پی ایس راڈار سسٹم گنوا چکا ہے ۔حملوں میں 5 لمبی دوری کے راڈار بھی تباہ ہو گئے ہیں ۔ایک طرف ہتھیاروں کی کمی ہے دوسری طر ف نقصان کی وجہ سے جنگ کا بڑھتا خرچ بھی ٹرمپ پر دباؤ بنا رہا ہے حملوں کے دوران امریکہ کا ایک ایف -15 جہاز تباہ ہو چکا ہے ایک ایف پی -8 جہاز بھی ضائع ہو چکا ہے ۔ایرانی حملوں کی وجہ سے سی -17 کارگو جہاز جل گیا ہے ۔ہوا میں تیل بھرنے والے جہاز بھی تباہ ہو گئے ہیں حملوں کے دوران 4 ہیلی کاپٹر بھی تباہ ہوئے ہیں ۔13 دنوں میں امریکہ کو اس لئے بھی بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران جارڈن اور عراق میں بھی حملے کرتا رہا ۔جس نے اس بار صرف امریکی بیس پر موجود ہتھیاروں جہاز وں کو نشانہ بنایا بلکہ دعویٰ کیاجارہا ہے زمین کی سیٹلائٹ کی مدد سے ایران نے پختہ نشانے سے حملہ کیا ۔کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ صرف ایئر ڈیفنس سسٹم پر ہی حملے نہیں ہوئے بلکہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے کئی اڈوں پر بھی  سیدھے حملے کئے تاکہ جو وہ خبریں دے رہے تھے ان کو روکا جاسکے ۔ایران کے حملوں میں امریکہ کے نقصان کا گراف بڑھتا گیا ۔ایران نے امریکی ایئرڈیفنس کو کھالی کرنے کی حکمت عملی کو آگے بڑھایا ایرا ن نے جہازوں کے کیمپ اور ہینگرس کو نشانہ بنایا ۔بحرین میں ہیلی کاپٹر مینٹننس سنٹر کو بھی تباہ کر دیا ۔ایران نے امریکی بیس پر 12 تیل ڈپو کو بھی تہس نہس کر دیا ۔سب سے بڑا دعویٰ تو ایران کے اربل بیس کو لے کر ہے ایرانی فوج کا دعویٰ ہے مسلسل حملوں کی وجہ سے عراق کے اربل میں امریکہ کا پورا ڈھانچہ ہی تباہ ہو چکا ہے اورا یران کے کئی جہازوں کی حملہ صلاحیت کافی حد تک ختم ہو چکی ہے ۔ یونہیں نہیں امریکہ کے صدر نے جنگ بند کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی باتوں پر اب شاید کوئی یقین کرے ؟ اس جنگ روکنے کے پیچھے بھی کوئی نیا کھیل ہوسکتا ہے ۔لیکن ایران ہر صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہے ۔
(انل نریندر)

28 جولائی 2026

اور اب سعودی حوثیوں میں جنگ

مشرقی وسطیٰ میں ایک طرف امریکہ ایران کی جنگ تھم نہیں رہی ہے وہیں اب نیا مورچہ کھلتا نظر آرہا ہے ۔یہ ہے سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان ۔سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان سیدھا ٹکراؤ شروع ہو چکا ہے جمعہ کے روز لال ساگر میں ایک سعودی مال بردار جہاز پر حملہ ہوا جس کےبعد مغربی ایشیا میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے ۔حملے کے کچھ ہی دیر بعد سعودی عرب نے حوثیوں کے کنٹرول والے یمن کے حودیدہ شہر پر جوابی حملے کئے ۔بتایاجارہا ہے کہ امریکی جنگی جہاز ایف -35 سے یہ حملے کئے گئے ۔اس کے جواب میں حوثیوں نے سعودی عرب کو بڑی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اس نے جہنم کے دروازے کھول دیے ہیں حوثی باغیوں نے حالیہ حملے میں سعودی عرب کی فوجی کاروائی اور اپنی اعلانیہ بحریہ ناکابندی کا جواب بتایا ہے ۔ان کے مطابق سعودی عرب سے جڑے جہازوں کو اس لئے نشانہ بنایاگیا کیوں کہ وہ سعودی بندرگاہوں کے لئے مال ڈھورہے تھے یا حوثیوں کی اعلانیہ ناکابندی کی خلاف ورزی کررہے تھے بتادیں کہ حوثی باغی لمبے عرصہ سے سعودی عرب کو یمن جنگ کا اہم فریق مانتے ہیں ۔ان کا الزام ہے کہ سعودی کے فوجی کاروائیوں سے یمن میں بھاری تباہی ہوئی ہے اس لئے وہ سعودی عرب کے اقتصادی اور فوجی مفادات کو نشانہ بنارہے ہیں ۔لال ساگر بتادیں کہ دنیا کے سب سے اہم ترین سمندری تجارت راہداریوں میں سے ایک ہے ۔تیل ٹینکروں پر حملوں سے نہ صرف سعودی عرب کے ایکسپورٹ پر اثر پڑتا ہےبلکہ عالمی تیل سپلائی اور قیمتوں پر بھی دباؤ بنتا ہے حالیہ حملوں کے بعد کچے تیل کےداموں میں بھی اچھال دیکھا گیا ہے ۔دراصل ، یمن میں سرگرم حوثی باغی خاص طور سے دیش کے اقلیتی شہر حسین الحوثی کے نام پر پڑا ۔حوثی خود کو انصار اللہ یعنی ایشور کے حامی کہتے ہیں ۔سال 2003 میں امریکی رہنمائی میں عراق پر حملے کے بعد حوثی تحریک نے امریکہ اور اسرائیل مخالف رخ کی جانب موڑ دیا ۔تنظیم کے حمایتیوں کے درمیان امریکہ اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے گئے جو آج بھی ان کی پہچان کا حصہ مانے جاتے ہیں حوثی تنظیم خود کو حماس اور حزب اللہ جیسے گروپوں کے ساتھ مل کر ایران حمایتی ایکسس آف رسسٹنس یعنی مذاہمت کا پہیے کا حصہ مانتے ہیں ۔اُدھر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حوثی باغیوں کو خبردار کیا کہ اگر جہازوں پر حملے جاری رہے تو ان کے خلاف بڑی  فوجی کاروائی کی جائے گی ۔حوثی باغیوں کے حملے سے مشرقی وسطیٰ میں ایک نیا مورچہ کھلنے کا امکان بڑھ گیا ہے ۔عالمی اقتصادی نظام کو پہلے ہی جھنجھوڑ کر رکھا ہے ۔اس تازہ لڑائی کے سبب دنیا بھر میں ایندھن سمیت دیگر چیزوں کی قیمتوں میں تیزی سے اُدھال آیا ہے وہیں ، خلیج فارس میں کشیدگی اور گہری ہو گئی ہے کیوں کہ امریکہ اور ایران سیاسی طور سے اہم ترین ہرمز آبی راستے پر دباؤ اور کنٹرول کو لے کر آمنے سامنے ہیں ۔اے پی کے مطابق سبا نیوز نے حوثیوں کے حوالے سے کہا کہ جمعرات کو لال ساگر میں سعودی عرب کے دو جہازوں این سیلیا اور لابھلا پر ڈرون اور میزائل سے حملے کئے گئے جس سے دونوں میں آگ لگ گئی ۔حوثی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے جوسالوں پرانی ناکابندی کر رکھی ہے اس کی مخالفت میں سعودی جہازوں کے لئے ناکابندی کر دی گئی ہے ۔اِدھر دونوں فریقین میں امن مذاکرات میں خبریں بھی آرہی ہیں ۔
(انل نریندر)

بھاگ ٹرمپ بھاگ !

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ پچھلے ماہ ترکیہ میں نیٹو سمٹ سے روانہ ہوتے وقت انہوں نے چپ چاپ جیمس بانڈ اسٹائل میں جہاز بدل لیا تھا...