Translater

30 اگست 2013

فوڈ سکیورٹی بل یا ووٹ سکیورٹی بل؟

کانگریس صدر سونیا گاندھی کی نظروں میں غذائی سکیورٹی بل اتنا اہم گیم چینجر ثابت ہوگا کہ وہ بیماری کی حالت میں بھی لوک سبھا میں پاس کرانے کیلئے بیٹھی رہیں اور لوک سبھا سے ہی سیدھے ایمس ہسپتال گئیں جہاں ان کی جانچ کے بعد انہیں گھر بھیج دیا گیا۔ سونیا گاندھی نے بل پیش کرتے وقت سبھی سیاسی پارٹیوں سے اس کو اتفاق رائے سے پاس کرانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ دیش اور دنیا کیلئے ایک ایسا پیغام دینے کا وقت ہے جو بالکل صاف اور ٹھوس ہے۔ بھارت اپنے سبھی شہریوں کی غذائی گارنٹی لیتا ہے۔2009ء کو عام چناؤ میں کانگریس نے لوگوں کو فوڈ گارنٹی کاوعدہ کیا تھا ہمیں یہ وعدہ پورا کرتے ہوئے خوشی ہورہی ہے۔ کچھ سیاسی پارٹیوں کے غذائی سکیورٹی بل کی نکات پر اٹھائے گئے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کانگریس صدر نے کہا کہ سوال یہ نہیں ہے کہ ہمارے پاس وسائل ہیں یا نہیں ہمیں وسائل اکھٹے کرنے ہوں گے۔ قریب 13 منٹ کی ہندی اور بعد میں انگریزی میں دی گئی اپنی تقریر میں سونیا گاندھی نے دیش کے شہریوں کو یاد دلایا کے یوپی اے سرکار انہیں پانچواں قانونی حق دلانے جارہی ہے۔
کانگریس ایک طرح سے اپنے چناوی ٹرمپ کارڈ پر لوک سبھا کی مہر لگوانے میں کامیاب رہی۔ پیر کو قریب سات گھنٹے کی بحث کے بعد کچھ ترمیم کے بعد یہ بل پاس ہوگیا۔ تین ترمیمات یہ ہوئیں پیک شدہ کھانا نہیں دیا جائے گا۔ بل میں فاسٹ فرائٹ فوڈ دینے کی تجویز تھی، قدرتی آفت کے وقت غریبوں کو نقدی نہیں بلکہ اناج دیا جائے گا۔ ریاستی سرکاروں کو دیا جانے والا یہ اناج الاٹمنٹ سے پہلے کم نہیں کیا جائیگا۔ اس بل پر 318 ترمیم آئیں تھیں لیکن منظور کل3 ہوئیں۔ بحث کے دوران کئی تیور دیکھنے کو ملے۔ عام طور پر سبھی پارٹیوں نے بل کی حمایت کی۔ ہاں بھاجپا نے اس پر ٹوکا ٹاکی ضرور کی۔ چناوی برس میں کانگریس کے غذائی سکیورٹی بل کے داؤ پر بھاجپا نے چالاکی سے حمایت کی لیکن سرکار کی پالیسی و نیت پر تمام سوال کھڑے کر صاف کردیا ہے کہ وہ چناؤ میں جنتا کے بیچ کانگریس کو بری طرح سے اشو کو بھنانے نہیں دے گی۔ لو
ک سبھا میں بل پر بحث کرتے ہوئے ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی نے اسے کانگریس کا ووٹ سکیورٹی بل قراردیا۔ انہوں نے بل کی خامیاں گناتے ہوئے سرکار کی منشا پر بھی سوال اٹھایا۔ ڈاکٹر جوشی نے پوچھا کے سرکار یہ بل دوسرے عہد کے چوتھے برس میں ہی کیوں لائی؟ انہوں نے سرکار پر سیدھا سوال داغا کے ساڑھے تین چھٹانک(166 گرام) کھانے سے کیسے پیٹ بھرا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر جوشی نے دیہی علاقوں میں75 فیصدی اور شہری علاقوں میں50 فیصدی غریبوں کو ہی غذا دینے کی سہولت پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ باقی کیا کوئلہ اور اسپکٹرم کھا جائیں گے؟ اس سے مرکزی سرکار صرف واہ واہی لوٹے گی اور خمیازہ ریاستوں کو بھگتنا پڑے گا۔
بین الاقوامی پیمانوں میں مہینے میں کم از کم 14 کلو غذا ضروری ہے لیکن اس سے محض پانچ کلو کا انتظام ہے یعنی ایک دن میں 166 گرام اناج یا کھانا۔ انہوں نے خاندان کی تشریح پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ اگرکوئی آدمی اکیلا ہے تو اسے خاندان مانا جائے گا؟ فوڈ سکیورٹی کیا ہے؟ موٹے طور پر8 ریاستوں کو ملے گی غذا۔ ڈھلائی کے لئے مدد ۔ مرکزی سرکار ریاستوں کو اس کی حد کے اندر اناج کی ڈھلائی و راشن ڈیلروں کو مارجن دینے کیلئے پیسے کی مدد مہیا کرائے گی۔ غذائی گارنٹی پر آئے گا 124724 کروڑ روپے کا خرچ۔ بل کے لاگو ہونے پر 612. لاکھ ٹن اناج کی ضرورت پڑے گی اور اس سے2013-14 میں 124724 کروڑ روپے کا فاضل خرچہ آنے کا اندازہ ہے۔ لوک سبھا میں بحث کے دوران ہم نے یہ بھی دیکھ لیا ہے کیسے اترپردیش کی سیاست چھائی ہوئی ہے۔ بھاجپا ایم پی یوگی آدتیہ ناتھ نے پیر کو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سماجوادی پارٹی کے چیف ملائم سنگھ یادو پر زبردست حملہ بول دیا ہے۔
لوک سبھا میں یوگی آدتیہ ناتھ نے جہاں ملائم نور آر جے ڈی چیف لالو یادو پر سماجواد کے بجائے خاندان واد کی سیاست کرنے کا الزام لگایا وہیں پارلیمنٹ کے باہر یوگی یہ کہنے سے بھی نہیں چوکے کے ملائم اور لالو جیسے سماجوادیوں کو دیکھ کر شرم آتی ہے۔ یوگی نے کہا ملائم سنگھ یادو جمہوریت اور سماجواد کی بات تو کرتے ہیں لیکن وہ سماجواد کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہے ہیں۔
ملائم سنگھ خود پارٹی صدر ہیں، بیٹا اترپردیش کا وزیر اعلی اور بہو لوک سبھا کی ایم پی۔ دونوں بھائی پارٹی میں بیٹھے ہوئے ہیں کیا ایسا سماجواد میں ہوتا ہے؟ پارلیمنٹ کمپلیکس میں اخبارنویسوں سے بات چیت میں ادتیہ ناتھ نے کہا ایودھیا میں 84 کوسی کوئی سیاسی یاترا نہیں تھی۔ ملائم کی سیکولر ازم کا حالت دیکھئے ایک طرف تو آتنک واد میں پھنسے لڑکوں کو چھڑارہے ہیں اور دوسری طرف سنتوں کی یاترا کی مخالفت کررہے ہیں اور ان کو جیلوں میں ڈال رہے ہیں۔
ملائم سنگھ یادو نے غذائی سکیورٹی پر تبصرہ کرتے ہوئے صاف کیا کے سرکار اس بل کو چناؤ کو ذہن میں رکھ کر لائی ہے۔ مرکز نے اس وقت بل کو پیش کیوں نہیں کیا جب غریب بھوک سے مر رہے تھے۔ کانگریس ہر چناؤ سے پہلے کچھ بڑا کام کرتی ہے۔اس میں یہ غریبوں کے لئے کچھ نہیں ہے۔
ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی نے ایک بات اہم کہی ہر دن ڈھائی ہزار لوگ کھیتی چھوڑ رہے ہیں۔15 سال میں ساڑھے تین لاکھ کسانوں نے خودکشی کی ہے۔ بل میں کسانوں کے لئے کچھ نہیں ہے۔ کل ملاکر اس میں شبہ نہیں کے غذائی سکیورٹی قانون کے وجود میں آجانے سے اس قانون کو صحیح ڈھنگ سے عمل میں لانے والی مشینری درست ہوسکے گی اور اگر ایسا نہیں ہوتا جس کے آثار بھی نظر آرہے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ ہزاروں کروڑ روپے کرپشن کی بھینٹ چڑھنے والے ہیں۔
(انل نریندر)

29 اگست 2013

سونیا گاندھی کا اعتمادیقینی طور پر ہم یوپی اے ۔3بنائیں گے؟

کرناٹک کی دو لوک سبھا سیٹوں میں ہوئے ضمنی انتخاب میں جیت کے بعد کانگریس صدر میں ایک خوشی کا احساس ہو رہا ہے دہلی میں قومی میڈیا سینٹر کے افتتاح کے موقع پر میڈیا کا رکنان کے ساتھ بات چیت میں سونیا گاندھی سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا یو پی اے ۔3سچ مچ وجود میں آئے گا تو انہوں نے کہا کہ یقینی طور سے سوفیصد ۔وہ پوری طرح سے مان کر چل رہی ہیں کہ اگلے لوک سبھا چناؤ میں یو پی اے اکثریت حاصل کرے گی۔سونیا گاندھی کو بھروسہ اس سے ہے کہ یوپی اے نے لوگوں کو کئی حقوق دئے ہیں ۔مثلاً اطلاعات کا حق ،بنیادی تعلیم کا حق اور اب خوراک تحفظ کا حق ۔سونیا اسے یوپی اے کیلئے گیم چینجر مان رہی ہیں ۔سونیا جی اپنے کارکنان کا منوبل بڑھانے کے لئے یا اپوزیشن کی ہوا خراب کرنے کیلئے ایسی باتیں کر رہی ہیں پتہ نہیں ۔کیونکہ زمینی حقیقت تو کچھ اور ہی ہے ۔آج سونیا کی سرکار کی حمایتی پارٹیاں بھی ان کے نئے اتساہ سے اتفاق نہیں رکھتیں ۔یوپی اے کی اہم حمایتی راشٹر واد ی کا نگریس پارٹی (این سی پی )ہی اس سے اتفاق نہیں رکھتیں ۔این سی پی سپریمو شرد پوار کہہ رہے ہیں کہ 2014کے لوک سبھا چناؤ کے بعد سرکار کی تشکیل میں چھ علاقائی پارٹیاں اہم کردار نبھائیں گی جو ان پارٹیوں کی حمایت حاصل کر لیگا وہی اگلا پردھان منتری بن سکے گا ۔ادھر اتر پردیش میں سپا سپریمو ملائم سنگھ یادو پچاس لوک سبھا سیٹیں جیتنے کا دعویٰ کر رہے ہیں اور پردھان منتری بننے کا سپنا دیکھ رہے ہیں ۔پوار کا یہ بھی کہنا ہے کہ کانگریس ہو یا بھارتیہ جنتا پارٹی دونوں میں سے کسی کو بھی ان کے بغیر سرکار کیلئے جادوئی آنکڑے کی امید نہیں کرنی چاہئے ۔رہی بات بھارتیہ جنتا پارٹی کی لوک سبھا میں اپوزیشن رہنما محترمہ سشما سوراج نے بھی اتنے ہی خود اعتمادی سے کہا اگلے عام چنا ؤ کے بعد این ڈی اے سو فیصد اقتدار میں آئے گی۔نریندر مودی تو سمجھ ہی بیٹھے ہیں کہ وہ دیش کے اگلے پردھان منتری ہیں ۔حالانکہ بھاجپا نے اتنے الفاظ میں وشواس کی وجو ہات کی تشریح تو نہیں کی لیکن بھاجپا کا آنکلن ممکن یہی ہے کہ لوگ یوپی اے کہ دو دور اقتدار سے اوب چکے ہیں دوسری طرف نریندر مودی کی شکل میں بھاجپا کو ایسا نیتا مل گیا ہے جس کے نام سے اس کے حمایتی گروپ بھرپور خوش ہیں ۔اسے افسوس ہی کہیں گے کہ سونیا گاندھی اپنی امید کے پیچھے سرکار کی کامیابیاں دیکھ رہی ہیں جبکہ زمینی حقیقت کچھ اور ہی ہے ۔یوپی اے ۔2 کے راج میں یکے بعد دیگر ے گھوٹالے سامنے آئے اور سرکار سے اس کا جواب نہیں بن رہا ۔سرکار کے کئی وزیر ،رکن پارلیمنٹ الزامات سے گھرے ہیں۔ دیش کی اقتصادی حالت لگ بھگ دیوالیہ ہو چکی ہے ۔گرانی ،بے روزگاری ،قانون و انتظام ،خارجہ پالیسی سب تو ہاتھ سے نکل گئی ہے اور ان سب کے باوجود سونیا گاندھی کو اتنا وشواس پتہ نہیں کس پر ہے ؟بد عنوانی کے زیادہ تر معاملوں میں سرکار کی ڈھیلائی کے چلتے سپریم کورٹ کو سرگرم ہونا پڑا آج دیکھاجائے تو کئی معنوں میں سرکار سپریم کورٹ ہی چلا رہی ہے موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے اگر سونیا کہیں کہ وہ سو فیصددوبارہ اقتدار میں آئے گی تو کہا جاسکتا ہے کہ یہ تو وہ سپنا دیکھ رہی ہیں یا پھر انہیں کسی ایسے کرشمے کی امید ہے جو ہمیں نظر نہیں آرہا ۔

(انل نریندر)

کیدارناتھ کے بعد اب بدری ناتھ مندر کو خطرہ

اترا کھنڈ میں قدرتی آفا ت کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ۔ابھی تک بادل پھٹنے کے واقعات ہو رہے ہیں قدرتی آفات کے دو مہینے سے زیادہ مدت گزرنے کے بعد بھی پہاڑ وں میں مشکلیں کم نہیں ہو رہی ہیں ۔مسلسل بارش سے ندیا ں افان پرہیں اور درار سے پہاڑ پھٹ رہے ہیں ۔رودر پریاگ ،چمولی اور اتر کاشی میں حالات قابو میں نہیں آرہے ہیں۔راحت کے کاموں میں موسم کا اڑنگا ہے ۔فوج ،بی ایس ایف اور پی ڈبلیو ڈی کی تمام کوششوں کے باوجود اہم راستوں کو ابھی تک کھولا نہیں جاسکا ۔کیدار ناتھ مندر کی تباہی کے بعد اب بدری ناتھ مندر کے وجود کو بھی خطرہ پیدا ہو گیا ہے ۔بدری ناتھ دھام کو دو طرفہ خطر ہ پیدا ہو گیا ہے۔ مندر کے پیچھے واقع نارائن پربت پر محکمہ آبپاشی کی جانب سے بنائی گئی حفاظتی دیوار نقصان ہونے کی خبر ملی ہے ۔اس سے پربت سے تیزی سے چٹانیں کھسکنے شروع ہوگئے ہیں اس حال میں نارائنی اور اندر نالے میں جمع ہوا ملبہ کبھی بھی تباہی مچا سکتا ہے ۔اس کے علاوہ بدری ناتھ مندر کے ٹھیک نیچے قریباً پچاس میٹر کی دوری پر واقع تپت کنڈکے بلاک بھی الکنندا ندی کے تیز رفتار بہاؤ سے کھوکھلے ہوگئے ہیں جس سے کنڈ کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے سائنسداں ڈاکٹر ڈی سی نینوال کا کہنا کہ بدری ناتھ کے دائیں اور بائیں جانب کی ڈھلانوں پر مٹی کی موتی پڑت جمی ہوئی ہے اس سے درار ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔مندر کے ٹھیک پیچھے ڈھلان اور اوپڑی حصے میں کھڑی چٹان ہے ۔اگر چٹانوں میں درار آتی ہے تب بدری ناتھ کو خطرہ ہو سکتا ہے ۔اگر مندر کے پیچھے حفاظتی دیوار تباہ ہو رہی ہے تو اس کا جلد سے جلد مرمت کرناضروری ہے ۔حالانکہ مندر کمیٹی کے سی ای او بی ڈی سنگھ نے کہا ہے کہ بدری ناتھ مندر کو کوئی خطرہ نہیں ہےْ ۔مندر سے ایک کیلو میٹر دور اندر دھارا نالے میں پانی بڑھنے سے ملبا آگیا ہے لیکن مندر محفوظ ہے ۔افسران کو افواہیں پھیلانے سے بچنا ہوگا انہوں نے کہا کہ محکمہ آبپاشی کو خط لکھ کر مستقبل میں کسی طرح کے خطروں سے بچنے کیلئے مرمت کا کام فوری طور پر کرانے کی گزارش کی ہے ۔ادھر کیدارناتھ میں ماہ جون میں آئی جل پرلے کے بعد اب پہلی بار پوجا کا پروگرام بنایا گیا ہے ۔بند ہوئی پوجا اب 11ستمبر کو سوارتھ سدھی امرت یوگ کے شبھ دن پر دوبارہ شروع ہوگی ۔ا س کے لئے پہلی بار پجاری اور دیگر لوگوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعہ وہاں پہونچایا جائے گا۔شری بدری ناتھ ۔کیدارناتھ مندر کمیٹی کے چیئرمین گنیش گوپیال نے بتایا کہ تباہ کن قدرتی آفت سے کیدار ناتھ میں ہوئی تباہی کے سبب مقررہ تاریخ تک مندر تک پہنچنے کا کوئی اور راستہ نکل پانا بہت مشکل ہے ۔گوپیال نے کہا کہ پہلے دن 7بجے شروع ہونے والی پوجا دن بھر جاری رہے گی اور اس میں خصوصی طور پر پجاری بھیما شنکر لنگ سمیت صرف مندر کمیٹی کے لوگ ہی شامل ہوں گے ۔غور طلب ہے کہ 16-17جون کو آئی جل پرلے سے کیدارناتھ مندر اور آس پاس کے علاقوں میں بھاری نقصان ہوا تھا ۔حالانکہ مندر کا گربھ گرہ آفت سے محفوظ بچ گیا تھا ۔بھاری تباہی کی وجہ سے کیدارناتھ مندر میں پہلی بار پوجا بند ہوگئی جسے شروع کرنے کیئے مندر کمیٹی ،ریاستی سرکار اور شنکر اچاریہ نے 11ستمبر کا دن مقرر کیا ہے ۔جے بابا کیداربدری وشال کی۔
(انل نریندر)

28 اگست 2013

84 کوسی ون ڈے میچ ٹائی رہا نہ وی ایچ پی ہاری اور نہ سرکار جیتی!

سبھی جانتے ہیں کہ اترپردیش دیش کا سب سے بڑا سیاسی میدان ہے۔ مذہبی طور سے بھی اور سیاسی نقطہ نظر سے بھی۔ آخر یہاں پر 80 لوک سبھا سیٹیں ہیں۔ پھر رام للاکا بھی سوال ہے۔84 ہی کیوں بھاجپا اور وشوہندو پریشد کو 184 کوس کی یاترا ہی کیوں نہ کرنی پڑے، وہ کریں گے۔ سماج وادی پارٹی ہر ایسی کوشش کو ہر حال میں روکے گی کیونکہ سیکولرازم کی مالا جپ کر مسلم ووٹوں کو بنائے رکھنے کی جہاں مجبوری ہے وہیں کانگریس کو ہر ہال میں دھکا پہنچانا بھی سپا کی پالیسی ہے۔ ایودھیا کے اردگرد زیادہ تر لوک سبھا سیٹوں پر کانگریس کا قبضہ ہے اس لئے دونوں بھاجپا او ر سپا کو کانگریس سے سیٹیں چھیننے کے لئے بہانہ چاہئے۔ 2009ء میں کانگریس نے یوپی میں 22 سیٹیں جیتی تھیں۔ان میں 14 سیٹیں اسی پریکرما میںآتی ہیں۔ پولارائزیشن سے لڑائی سپا بنام بھاجپا ہوجائے گی۔ ایودھیااشو گرمانے سے مسلم ووٹ سپا میں چلے جائیں گے ایسی صورت میں ریاست کے1290 برہمن برادری ووٹ متحد ہوکر بھاجپا کو ملیں گے۔ 1998ء کی مثال سامنے ہے تب ہندوتو اور اٹل لہر میں بھاجپا کو 46 سیٹیں ملی تھیں۔ نریندر مودی اور بھاجپا کے انچارج امت شاہ کی یہ ہی کوشش بھی ہے اس لئے کانگریس کے بڑبولے سکریٹری جنرل نے پورے واقعے کو سپااور بھاجپا کے درمیان میچ فکسنگ قراردیا ہے۔ چناوی سال میں 84 کوسی پریکرما کے اعلان اور اسے روکنے کے لئے اترپردیش سرکار کی کارروائی کو کانگریس سب سے بڑے راجیہ میں فرقہ وارانہ بنیاد پر ووٹوں کے پولرائزیشن کی کوشش کے طور پر دیکھ رہی ہے۔سماج وادی پارٹی کو یہ فائدہ نظر آتا ہے کہ اگر یوپی میں بھاجپا بڑھتی ہے تو پارٹی کو 18فیصدی مسلم ووٹ اپنی طرف کھینچنے کا موقعہ ملتا ہے۔ نریندر مودی کے آنے کے بعد سپا اسی حکمت عملی پرکام کررہی ہے۔ اس کی تین تازہ مثالیں ہیں پہلی درگا شکتی معاملہ، دوسرا مسلم ووٹوں کو ریزرویشن تیسرا ایودھیا اشو پر1990 جیسی سختی دکھانا۔ مرکزی وزیر بینی پرساد ورما نے کہا سپا اور بھاجپا 1990ء سے ہی ملی ہوئی ہیں ۔ ووٹوں کے پولرائزیشن کے لئے یہ ڈرامہ رچا گیاہے۔ ادھر وی ایچ پی لیڈر اشوک سنگھل نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بڑے بڑے سادھو سنت گرفتار ہوئے ہیں آپ کو فکسنگ لگتی ہے۔ اترپردیش کی مغلیہ سلطنت اور سونیا کو بھگوان کا شراپ لگے گا۔ اعظم خاں نے کہا کہ کانگریس کو میچ فکسنگ کا کچھ زیادہ ہی تجربہ ہے۔ فکسنگ کرکے ہی تو ان کے وزیر اعظم نے 1992ء میں بابری مسجد ڈھانے دی تھی۔ اوما بھارتی نے پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری نہیں یہ تو سپا اور مرکزی حکومت کی فکسنگ ہے۔ ووٹ بینک کی سیاست کے لئے کل ملاکر 84 کوسی پریکرما کا یہ وی ایچ پی اور سپا میں ون ڈے میچ ٹائی رہا نہ وی ایچ پی جیتی اور نہ سپا سرکار ہاری۔ رام کی نگری میں وشوہندو پریشد اپنے نئے ایکشن پلان 84 کوسی پریکرما کے پہلے دن اپنا پریکرم نہیں دکھا سکی۔وہیں پریکرما علاقہ سدھ کرنے کا دعوی کررہی سماج وادی پارٹی کی سرکار سریو ندی کے کنارے تک وی ایچ پی نیتاؤں کو جانے سے نہیں روک پائی یہ اور بات ہے کہ کافی تعداد نہ اکھٹی ہوپانے سے سریو ندی میں پوجن پروگرام باقاعدہ نہ ہوسکا۔ پروین توگڑیا، رام ولاس ویدانتی و نرتیہ گوپال داس جیسے کٹر وی ایچ پی نیتاؤں کو گرفتار کرکے انتظامیہ نے یاترا آگے نہیں بڑھنے کی بات بھی رکھ لی سرکار کو سکون ہے یاترا ناکام کردی ہے وہیں وی ایچ پی کے لئے یہ تو ریہرسل ہے لڑائی تو ابھی باقی ہے۔ نہ کارسیوک نہ رام سیوک۔ نہ اڈوانی نہ کلیان ،کٹیار، اما بھارتی تھے۔ دراصل یہ بڑی لڑائی کا ریہرسل تھا جو اکتوبر میں شروع ہونے والی ہے۔ اشوک سنگھل نے اس کا اعلان بھی کردیا ہے۔ سنگھ کے حکمت عملی ساز جانتے تھے کہ مندر اشو پر تحریک کو سپا سرکار اجازت نہیں دے گی۔ وہ تو شاید اس اشو کو گرمانا چاہتے تھے۔ نتیجہ جیسا چاہتے تھے ویسا ملا۔ اس کا استعمال اکتوبر ہوگا۔ سنگھل نے اعلان کردیا ہے کہ مرکزاگر18 اکتوبر تک پارلیمنٹ میں قانون بنا کر مندر تعمیر کا راستہ تیار نہ کرتی تو دیش میں ایک لاکھ مقامات پر مندر تعمیر کا عہد کیا جائے گا۔ یعنی مشن پولرائزیشن اکتوبر سے شروع ہوگا۔ امت شاہ زمین تیار کررہے ہیں، مودی اکتوبر میں اترپردیش میں بڑی ریلی کو خطاب کریں گے۔دسہرہ ۔دیوالی کا ماحول ہونے سے ایودھیا میں بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں ٹھیک اسی دوران پانچ ریاستوں میں اسمبلی چناؤ کا ماحول بنانا شروع ہوگا۔ کانگریس مرکز میں اقتدار میں ہے، دباؤ اسی پر رہے گا۔ نتیجہ دیش بھر میں کانگریس کے خلاف ماحول بنے گا اور فائدہ اٹھائیں گے نریندر مودی۔
(انل نریندر)

یہ پاکستان میں ہی ہوسکتا ہے کہ سابق وزیر اعظم کے قتل میں سابق فوجی سربراہ ملزم ہو!

یہ صرف پاکستان جیسے ملک میں ہوسکتا ہے کہ ایک سابق وزیر اعظم کے قتل کا بنیادی ملزم ایک سابق صدر و فوج کے چیف کو بنایا جائے۔ جی ہاں پاکستان میں ایسا ہی ہوا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں جنرل پرویز مشرف ایسے پہلے سابق فوج کے سربراہ ہیں جن پر ایک مجرمانہ معاملے میں مقدمہ چلے گا۔ جس دیش میں سب سے زیادہ طاقتورادارہ فوج ہے اور جہاں زیادہ تر فوجی ڈکٹیٹر حکومت کرتے رہے ہیں وہاں یقیناًیہ ایک تاریخی واقعہ ہی ہے۔ راولپنڈی میں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کے معاملے میں جنرل پرویز مشرف پر مقدمہ سماعت کے لئے داخل کرلیا ہے۔ عدالت میں مشرف سمیت8 لوگوں پر الزام لگائے گئے ہیں۔ پاکستان کی آزادی کے66 برسوں کی تاریخ میں زیادہ تر وقت میں فوجی حکومت رہی ہے۔ سرکاری وکیل چودھری محمد اظہر کے مطابق مشرف اور معاملے کے دو دیگر ملزم راولپنڈی پولیس کے سابق چیف سید عزیز و پولیس ایس پی خرم شہزاد کی موجودگی میں چارج شیٹ پڑھی گئی۔ ان تینوں کے علاوہ چار دیگر ملزمان حسنین گل، رفاقت حسین، شیرالزماں اور عبدالرشید پر الزام پہلے ہی عائد ہوچکے ہیں جبکہ قتل کے آٹھویں ملزم اعجاز شاہ کا مقدمہ نابالغ ہونے کے چلتے الگ عدالت میں چلے گا۔ مشرف 1999ء میں نواز شریف کا تختہ پلٹنے کے بعد2008ء تک پاکستان کے حکمراں رہے۔ زرداری کی حکومت آنے کے بعد انہیں جلا وطن کردیا گیا اور وہ دوبئی و برطانیہ چلے گئے۔ چار سال بعد پاکستان کے عام چناؤ میں حصہ لینے کے لئے اسی برس مارچ میں وطن لوٹے تھے اور یہیں سے ان کی مصیبتیں شروع ہوگئیں۔ مشرف کی مصیبتوں کا نہ یہ پہلا باب ہے اور نہ آخری۔ وزیر اعظم نواز شریف ان پر ملکی بغاوت کا مقدمہ چلانا چاہتے ہیں اس کے علاوہ بلوچ لیڈر نواب اکبر بکتی کے قتل اور سپریم کورٹ کے ججوں کی برخاستگی کے معاملے کی تلوار بھی ان پر لٹک رہی ہے۔ ہماری سمجھ سے یہ باہر ہے کہ آخر کیا سوچ کر مشرف پاکستان لوٹے؟ کیا انہیں یہ سچ مچ غلط فہمی تھی کہ پاکستانی عوام انہیں سر آنکھوں پر بٹھا لے گی اور کہے گی کہ آپ دیش کااقتدار پھر سے سنبھال لیں؟ وہ جب سے پاکستان لوٹے ہیں تقریباً تبھی سے وہ نظر بند ہیں اور انہیں چناؤ لڑنے سے بھی نا اہل قراردے دیا ہے۔ پاکستان کی عوام میں کوئی ان کا نام لینے کو تیار نہیں ہے۔ سیاست اور عدلیہ کے طاقتور لوگوں کے ان کے ہاتھوں ہوئی نا انصافی اور مظالم و بے عزتی کو بھولے نہیں ہیں اب ان پر قتل کا الزام بھی باقاعدہ درج ہوگیا ہے جس میں سب سے بڑی سزا پھانسی ہے۔ دیکھنا اب یہ ہوگا کہ پاکستانی فوج اپنے سابق چیف کے اس معاملے کو کس طرح لیتی ہے؟ پہلے یہ لگ رہا تھا کہ ممکن ہے فوج دباؤ بنا کر مشرف کو دیش سے نکلوا دے گی لیکن مقدموں کے چلتے یہ ممکن نہیں لگتا۔ پاک فوج کی مشکل یہ ہے کہ بیشک آج بھی وہ سب سے زیادہ طاقتور ہو لیکن اس کا براہ راست اقتدار ہتھیانا اب مشکل ہے۔ فوج کے اندر اب بھی ایسے عناصر ابھر رہے ہیں جو اب تک کی فوج کی حکمت عملی اور نیت دونوں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ مشرف کی مشکل طالبانی بھی ہیں جو لال مسجد حملے کے لئے انہیں سیدھے ذمہ دار مانتے ہیں اور بدلہ لینا کا انتظار کررہے ہیں۔ آج سے پہلے عدالتوں نے کسی جنرل پر ہاتھ نہیں ڈالا تھا۔ تازہ حالات سے پتہ چلے گا کہ پاکستان کس طرف بڑھ رہا ہے شاید یہ تبدیلی پاکستان کو بہتری کی طرف لے جائے؟

(انل نریندر)

27 اگست 2013

راڈیا ٹیپ کانڈ :کٹہرے میں مرکزی سرکار!

سرخیوں میں چھایانیرا راڈیا ٹیپ معاملہ ایک بار پھر ابھر آیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ لابسٹ نیرا راڈیا کے وزرا، صنعت کاروں، صحافیوں اور افسر شاہوں کے درمیان بات چیت کو مرکزی حکومت نے ٹیپ کرایا تھا۔ اس میں سرکاری کام کاج میں کس طرح باہری دباؤ ڈالا جاتا ہے اس کا پتہ چلا ہے۔ معاملہ اب تک تو بند ہوچکا ہوتا اگر یہ حکومت کے ہاتھ میں ہوتا کیونکہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اس لئے حکومت بھی کچھ حدتک مجبور ہے۔ لیکن وہ عدالت سے مجبوری میں تعاون نہیں کررہی ہے۔ اب معاملے کو دبانے کی کوششیں جاری ہیں۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے نیرا راڈیا کے ٹیلیفون ٹیپ کرنے کا حکم دیاتھا لیکن مرکزی سرکار نے ان کوعدالت میں نہیں رکھا۔ اس پر عدالت خفا ہوگئی ہے۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ بنیادی ریکارڈ دستیاب نہ کرانے سے تنازعے کو نپٹانے میں مشکلیں آئیں گی۔ عدالت نے کہا مرکزی سرکار کا رویہ بیحد مایوس کن ہے۔ یہ ہی نہیں عدالت عالیہ نے بنیادی ریکارڈ پیش کرنے تک سرکار کا موقف سننے سے بھی انکارکردیا ہے۔ جسٹس جی ۔ایس سنگھوی کی سربراہی والی بنچ نے کہاکہ عدالت مرکزی سرکار کا موقف اس وقت تک نہیں سنے گی جب تک ضروری دستاویزات عدالت میں پیش نہیں کئے جاتے۔ بنچ نے کہا یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ بھارت سرکار کے وکیل عدالت کی مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اس کے ساتھ عدالت نے مرکزی حکومت کو راڈیا کے ٹیلیفون ٹیپ سے متعلق سارا ریکارڈ27 اگست تک پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔عدالت نے 2008-09 میں ٹیلیفون نگرانی کے مسئلے کو دیکھنے والی جائزہ کمیٹی کی کارروائی کی تفصیل پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ وزیر خزانہ کو 16 دسمبر 2007ء کو ملی ایک شکایت کی بنیادپرنیرا راڈیا کے ٹیلیفون کی سرویلنس شروع کی گئی تھی۔ اس بات چیت کی ریکارڈنگ بھی کی گئی۔ اس شکایت میں الزام لگایاگیا تھا کہ9 سال کی قلیل میعاد کے اندر اس نے 300 کروڑ روپے کا کاروبار کیسے کھڑا کر لیا ہے۔ اس مقدمے میں ایک دلچسپ موڑ اب یہ آگیا ہے کہ ٹاٹا گروپ کے سابق چیئرمین رتن ٹاٹا نے ان راڈیا ٹیپوں پر سرکاری مطالبوں کو لیکر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ رتن ٹاٹا نے اشارہ دیا ہے کہ شاید سیاسی مقصد سے ایسا کیا گیا ہو۔سپریم کورٹ نے اسی بنچ کے جسٹس جی۔ ایس۔ سنگھوی کی سربراہی والی ڈویژن بنچ کے سامنے رتن ٹاٹا کی جانب سے سینئر وکیل ہریش سالوے نے کہا کہ پبلک زندگی سے جڑا ہر ایک شخص اپنی ذاتیات کی پرائیویسی کی توقع رکھتا ہے۔ اس طرح کی بات چیت افشاں ہونے سے اس کی پرائیویسی کے اخلاقی حق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ سالوے نے کہا سرکار کا یہ برتاؤ سوالوں کو جنم دیتا ہے۔ میرے دماغ میں کسی طرح کا شبہ نہیں ہے۔ جب جانچ کرنے میں ان کی دلچسپی نہیں تھی تو پھر انہوں نے بات چیت ٹیپ کیوں کروائی؟ حکومت نے 5 ہزارگھنٹے کی بات چیت ٹیپ کی اور پھر اس پر کترا گئی۔حکومت نے کسی دیگر مقصد سے ایسا کیا تھا۔ اس میں سیاسی نقطہ نظر سے تمام تضادی مواد ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ سرکار نے ٹیپ کی گئی بات چیت کی بنیاد پر کارروائی کیوں نہیں کی جبکہ وزیر خزانہ کو ملی ایک شکایت کے بعد راڈیا کے ٹیلیفون پر نگرانی رکھی گئی تھی۔ سالوے نے کہا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ ٹیلیفون ٹیپنگ کسی اور وجہ سے کرائی گئی تھی لیکن میرے پاس اسے ثابت کرنے کے ثبوت نہیں ہیں۔ کوئی سرکار بعد میں نہیں کہہ سکتی کہ وہ شہریوں کے اختیارات کا تحفظ کرنے میں لاچار ہے۔ آپ کو ان اختیارات اور سرکاری سیغہ راض قانون کی خلاف ورزی کرنے والے شخص کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی۔ کیونکہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اس لئے اس پر کسی طرح کی رائے زنی نہیں کی جاسکتی لیکن اتنا ضرور کہیں گے کہ شری سالوے کی دلیل میں ہی جواب چھپا ہے۔ وہ مانتے ہیں ٹیپوں میں دھماکوں سیاسی مواد ہے اس لئے معاملہ ذاتی نہیں ہے۔ یہ سرکار اور سرکاری کام کاج کے طریقوں اور ان میں دخل اندازی سے متعلق ہے اس لئے یہ جنتا کے سامنے آنا چاہئے اوراس میں جو لوگ شامل ہیں وہ بے نقاب ہونے چاہئیں تاکہ مستقبل میں حکومت اور یہ فنکار دس بار سوچیں کے سرکاری کام کاج میں دخل اندازی کا انجام کیا ہوتا ہے۔
(انل نریندر)

کون چاہتا ہے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ؟

4836 ممبران میں سے 1460 داغی ہیں۔داغی عوامی نمائندوں کی ممبر شپ ختم کرنے، انہیں چناؤ لڑنے سے روکنے کے سپریم کورٹ کے حکم سے بچنے کیلئے سبھی پارٹیاں و ممبران پارلیمنٹ نے آپس میں کافی منتھن کرکے آخرکار سپریم کورٹ کے فیصلے کے اثر کو کم کرنے کا راستہ نکال لیا ہے۔ اب قصوروار ایم پی اور ممبر اسمبلی کی سیٹھ پر بچی رہے گی اور وہ جیل میں رہتے ہوئے چناؤ بھی لڑتے رہیں گے۔ سپریم کورٹ نے 10 جولائی کو اپنا ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے داغیوں پر چناؤلڑنے کے لئے روک لگادی تھی لیکن سرکار نے اس فیصلے کو پلٹنے کے لئے عوامی رائے دہندگان قانون میں ہی تبدیلی کردی ہے۔ کیبنٹ نے جمعرات کو اس ترمیم پر اپنی مہر لگادی ہے۔ سیاست میں جرائم پیشہ لوگوں کی بڑھتی اینٹری کو روکنے کے لئے اب تک زبانی تشویش ظاہر کی جاتی رہی ہے۔ ہماری سیاسی جماعت کی قلعی مسلسل کھلتی رہی ہے۔ سزا یافتہ ایم پی اور ممبران اسمبلی کی ممبر شپ ختم کرنے اور جیل یا حراست سے چناؤ لڑنے پر روک لگانے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کو کیبنٹ نے آخر کار پلٹنے کا اپنا فیصلہ سنادیا ہے۔ بد قسمتی سے اس پر پارلیمنٹ یا سیاسی جماعت میں کوئی منفی آواز شاید ہی سنائی دے گی۔ عوامی مفاد کے اشوز کو کبھی رضامندی تو کبھی وسائل کی کمی بتا کر ٹالنے والی سرکار کی داغیوں کو راحت دینے کی یہ جلدبازی حیرت میں ڈالنے والی ضرور ہے۔ 
یہ سمجھ سے باہر ہے کے جب ان فیصلوں کے سلسلے میں سرکار عدالت میں نظرثانی اپیل دائر کرچکی ہے اور آنے والے دنوں میں اس کی سماعت ہونی ہے تو اس کا انتظار کرنے میں کیا دقت تھی؟ ممکن ہے آئندہ کچھ دنوں میں پارلیمنٹ بھی کیبنٹ کی اس سفارش پر اپنی مہر لگادے گی۔ کیونکہ سبھی پارٹیاں سپریم کورٹ کے فیصلے کی مخالفت کررہی تھیں۔ کیونکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ 10 جولائی سے ہی نافذ ہوگیا تھا اس لئے سرکار نے طے کیا ہے قانون میں ترمیم بھی 10 جولائی سے ہی نافذ العمل مانی جائے گی یعنی چور دروازے سے؟ سوا مہینے میں ہی سیاست کا شدھی کرن کردیاگیا۔ نئی ترامیم کے مطابق کسی پارلیمنٹ یا ممبر اسمبلی کو سزا ہوجاتی ہے تو 90 دن کے اندر فیصلے کے خلاف اپیل کر فیصلے پر روک حاصل کرسکتا ہے تووہ نااہل قرار نہیں ہوگا۔ اس کے لئے عوامی رائے دہندگان قانون کی دفعہ8 کی سیکشن20 جرائم 4 میں بدلی گئی ہے۔ جیل میں رہتا کوئی بھی شخص چناؤ لڑ سکتا ہے۔ دلیل دی گئی ہے کہ جیل جانے کے بعد بھی اس کا ووٹر لسٹ سے نام نہیں ہٹایا جاسکتا۔ صرف ووٹ دینے کا حق معطل ہوتا ہے۔ اس کے لئے عوامی رائے دہندگان قانون کی دفعہ62 کی سیکشن2 بدلی گئی ہے۔ہاں دکھاوے کے لئے دو شرطیں جوڑدی گئی ہیں۔ سزا کے بعد بھی ممبر تو بنا رہے گا ایوان میں جائے گا لیکن ایوان کی کارروائی میں ووٹ دینے کا اسے حق نہیں ہوگا۔ سزا یافتہ ممبر اپیل کے بعد آخر فیصلے تک تنخواہ بھتے کے اختیارسے محروم ہوگا کیونکہ تمام پارٹیاں اس کے حق میں ہیں اس لئے اب قانون میں ترمیم کا راستہ تقریباً صاف ہوچکا ہے ممکن ہے کہ اسی سیشن میں یہ بل پیش کردیا جائے اور بغیر بحث کے پاس ہوجائے۔ نیا قانون نافذہونے کے بعد سپریم کورٹ کا فیصلہ خود بخود بے اثر ہوجائے گا۔ پارلیمنٹ میں اس وقت 151 سے زیادہ بل لٹکے پڑے ہیں۔ حکومت عام رائے کا بہانہ بنا کر اس پر فیصلے نہیں لے پارہی ہے لیکن داغی لیڈروں پر مصیبت آئی تو فوراً قانون بدل گیا۔ صاف ہے کہ ہماری سیاسی جماعت شفافیت اور جوابدہی کو لیکر شہریوں کے بدلتے مزاج اور توقعات کو سمجھ نہیں پارہی ہے یا سمجھنا نہیں چاہتی اور یہ حالت بیحد تشویشناک ہے۔
(انل نریندر)

25 اگست 2013

دہلی کے بعد اب ممبئی ہلی گینگ ریپ سے!

16دسمبر2012ء کو دہلی کے وسنت وہار علاقے میں پیرا میڈیکل طالبہ سے بس میں ہوئی گینگ ریپ کی واردات کے بعد سخت ترین قانون بنانے کے بعدبھی یہ وحشی باز نہیں آرہے ہیں۔ وسنت وہار کیس کے واقعہ کے بعد کئی ایسے واقعات ہوئے ہیں۔ تازہ واقعہ ممبئی کا ہے۔ دیش کی اقتصادی راجدھانی اور عورتوں کے لئے محفوظ مانے جانے والی ممبئی میں جمعرات کو ایک 23 سالہ خاتون فوٹو گرافر کو پانچ درندوں نے اپنی حوس کا شکار بنایا۔ متاثرہ اپنے ایک ساتھی کے ساتھ کام کے سلسلے میں پریل علاقے میں واقع بند پڑے مل کے کمپاؤنڈ کے فوٹو کھینچنے گئی تھی۔ وہاں پانچ ملزمان نے موقعہ پا کر متاثرہ کے ساتھی کو پتھر سے باندھ دیا اور پھر لڑکی سے آبروریزی کی۔ اس واردات نے 16 دسمبر کو دہلی میں ہوئے گینگ ریپ کی یاد تازہ کردی۔ تو لوگوں کا غصہ پھر بھڑک اٹھا۔ دیش میں سڑکوں سے لیکر پارلیمنٹ تک یہ اشو اٹھا۔ ممبئی پولیس نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے24 گھنٹے کے اندر اس معاملے کو سلجھالینے کا دعوی کیا ہے اور اس نے پانچ میں سے دو ملزمان کو پکڑ لیا ہے۔ دونوں ملزمان سمیت دیگر تین کی پہچان ہوگئی ہے۔ان کی گرفتاری کے لئے کارروائی چل رہی ہے۔ گرفتار شخص کا نام محمد عرف چاند ہے جبکہ وجے یادو، قاسم بنگالی، سلیم اور اشفاق فرار ہیں۔ جمعرات کی شام 6 بجے ورادات رونما ہوئی ۔ متاثرہ فوٹو گرافر اور اس کا ساتھی کچھ تصویریں لینے کے لئے سنسان پڑی شکتی مل میں گئے۔ وہاں پانچوں ملزم ان کے پاس آئے۔ ان میں سے ایک نے متاثرہ کے دوست سے کہا کہ کچھ دن پہلے علاقے میں ہوئے قتل میں اس کا ہاتھ ہے جب متاثرہ کے دوست نے کہا کہ وہ پہلی بار اس جگہ پر آیا ہے تو ملزم نے ایک ساتھی کو فون کیا جو فوراً وہاں پہنچ گیا اور کہنے لگا اسے بھی قتل میں فوٹو جرنلسٹ کے اس ساتھی کا ہاتھ ہونے کا شک ہورہا ہے۔ ملزمان نے متاثرہ کے دوست کو پتھر سے باندھ دیا اور لڑکی سے گینگ ریپ کیا۔ بڑے دکھ سے کہنا پڑتا ہے ہمارے سماج کی ذہنیت بالکل نہیں بدلی۔ سرکار نے سختی بھی دکھائی اس سے لگا تھا کے شاید اب یہ درندے ایسی حرکت کرنے سے تھوڑا باز رہیں گے لیکن کچھ نہیں بدلا۔ جس دن ممبئی میں یہ واقعہ ہوا اس دن دہلی میں اتم نگر علاقے میں نوکری کا جھانسہ دیکر ایک شادی شدہ عورت سے اجتماعی آبروریزی کا معاملہ سامنے آیا۔ اس معاملے میں گرفتار دو ملزموں کو پیشی کے بعد کورٹ نے جوڈیشیل حراست میں جیل بھیج دیا۔ ملزمان کے نام موہت عرف مونو و وکاس بتائے جاتے ہیں۔ تیسرا ملزم فرار ہے۔ دیش کی بہو بیٹیوں کے ساتھ اجتماعی بدفعلی روکنے و قصورواروں کو سزا اورمتاثرہ کو مدد دینے پر سرکار کتنی سنجیدہ ہے 16 دسمبر کے واقعہ سے ہی پتہ چل جاتا ہے۔ تقریباً 8 مہینے ہو گئے ہیں اس واقعے کو ،ابھی عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے پتہ نہیں فیصلہ ہوگا اور ہوگا بھی تو اس پر عمل ہوگا یا نہیں؟ امید کی جانی چاہئے کے اسی برس مقدمے کا فیصلہ ہوجائے گا اور قصوراروں کو سزا ملے گی۔ سزا کا ڈر ان وحشیوں کو روک سکے تو روکے۔ ویسے تو یہ باز آنے والے نہیں ہیں۔
(انل نریندر)

دنیا کا نمبرون عزین بولٹ اور سشیل کا سنسنی خیز انکشاف!

اولمپک کی تاریخ میں سب سے کامیاب اسپرٹ کنگ عزین بولٹ ایتوار کو چار گنا 100 میٹر رلے دوڑ میں گولڈ میڈل جیتنے کے ساتھ ورلڈ چمپئن شپ تاریخ میں سب سے کامیاب ایتھلیٹ بن گئے۔ اس طلائی تمغے کے ساتھ بولٹ نے امریکہ کے مہان ایتھلیٹ کار لوئس کو پیچھے چھوڑدیا ہے۔ کارلوئس کے پاس 8 طلائی تمغوں کے علاوہ ایک سلور اور ایک تانبے کا میڈل ہے جبکہ دیگو2011ء میں غلط شروعات کی وجہ سے 100 میٹر دوڑ میں طلائی تمغہ گنوا دینے والے عزین بولٹ کے پاس 8 طلائی تمغوں کے علاوہ دو سلور میڈل ہیں۔ جیمائیکا کی 26 سالہ بولٹ کا طریقہ این فریزر ۔ پریسی نے بھی تین گولڈ جیت کر کیریبین آئرلینڈ میں خوشی کی لہر دوڑادی ہے۔ 6 فٹ5 انچ قد کے بولٹ نے باقی دنیا کے مانے ہوئے ایتھلیٹوں کو دھول چٹا دی ہے۔ ماسکو ورلڈ ایتھلیٹ چمپئن شپ میں ایتوار کو اسٹیڈیم میں ٹریک کے تین میڈل (گولڈ) کے ساتھ ڈانس کرتے ہوئے 50 ہزار شائقین کا خیرمقدم قبول کیا۔ اتنے لمبے قد کے شخص کے لئے یہ ڈانس کر پانا بہت مشکل مانا جاتا ہے لیکن بولٹ نے تو پوری دنیا فتح کرلی ہے۔ اس کا جشن بھی تو الگ ہونا چاہئے تھا۔ میز بان روس نے امریکہ کو پچھاڑتے ہوئے سب سے زیادہ7 گولڈ میڈل جیت کر میڈل ٹیلی میں اعلی مقام بنا لیا ہے۔ امریکہ کی اوور آل میڈل ٹیلی زیادہ تھی لیکن روس سے ایک گولڈ میڈل کم تھا۔ امریکہ نے6 گولڈ 14 سلور کے ساتھ کل 25 میڈل جیت کر دوسرا مقام حاصل کیا۔ جیمائیکا نے6 ،کینیانے5 ، جرمنی 4 ،ایتھوپیا اور برطانیہ نے3-3 طلائی تمغے حاصل کئے۔بات کھیلوں کی ہورہی ہے اور روس کی تو بھارت کے لئے اولمپک میڈل جیت چکے سشیل کمار نے سنسنی خیز الزام لگایا ہے کہ 2010ء میں ورلڈ چمپئن شپ میں فائنل مقابلے میں ہارنے کیلئے انہیں کروڑوں روپے آفر کئے گئے تھے۔ سشیل نے خود اس بات کا انکشاف میڈیا سے کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ماسکو میں ہورہی چمپئن شپ کے فائنل میں ہارجانے کے لئے روسی کوچ کی طرف سے یہ پیشکش کی گئی تھی۔ سشیل کمار اس مقابلے میں روس کے ایلن گوزف سے لڑنے والے تھے۔ ان کے مطابق مقابلے سے ٹھیک پہلے کسی نے انہیں اس آفر کے بارے میں بتایا۔ یہ آفر روسی فریق کی طرف سے کی گئی تھی اور ٹیم انڈیا کے غیر ملکی کوچوں کے ذریعے پہنچائی گئی تھی۔ سشیل کا کہنا ہے کہ جب انہیں یہ بات پتہ چلی تو انہیں یقین نہیں ہوا۔ بات کروڑوں روپے کی تھی کسی بھی پہلوان کے لئے یہ بہت بڑی رقم ہوتی ہے۔ روسیوں کا کہنا تھا کے ان کے دیش(روس) میں ہورہی چمپئن شپ میں انہی کا پہلوان جیتنا چاہئے۔ سشیل نے اس آفر کو فوراً ٹھکرادیا۔ سشیل کہتے ہیں کہ بات2-4 کروڑ کی نہیں عزت کی تھی۔ بعد میں سشیل نے اس مقابلے میں گوزف کو 3-1 سے ہراکر بھارت کو ریسلنگ ورلڈچمپئن شپ کا پہلا طلائی میڈل دلوایا تھا۔
کرکٹ میچ فکسنگ ، باکسنگ میچ فکسنگ، فٹبال میچوں کی فکسنگ کی بات تو پہلے ہی سامنے آئی ہوئی ہے لیکن اب ریسلنگ بھی اس طرح کے گھناؤنے کھیل سے چلتی ہے پہلی بار سنا ہے۔ سشیل نے تو یہ پیشکش ٹھکرادی لیکن اور پہلوان لالچ میںآسکتے ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ اس طرح کی ناجائز حرکتوں کو روکنے کے لئے کوئی مکینزم نہیں ہے۔
(انل نریندر)


ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...