Translater

China لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
China لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

05 مئی 2012

سردار پٹیل نے62 برس پہلے ہی کہہ دیا تھا چین ہمارا دوست نہیں ہوسکتا



Published On 5 May 2012
انل نریندر

ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم کے چناؤ کے 25 برس بعد چکرورتی راج کوپالاچاری نے لکھا تھا ''بلا شبہ بہتر ہوتا اگر نہرو کو وزیر خارجہ اور سردار پٹیل کو وزیر اعظم بنایا جاتا۔ اگر پٹیل کچھ دن اور زندہ رہتے تو وزیر اعظم کے عہدے پر ضرور فائض ہوتے جس کے لئے ممکنہ طور پر ایک اہل شخصیت تھے۔تب بھارت سے کشمیر ، تبت، چین اور ان سلجھے تنازعوں کی کوئی پریشانی نہ رہتی۔''سردار پٹیل نے 1950میں ہی کہہ دیاتھا ہماری سکیورٹی کے اقدام ابھی تک پاکستان سے عمدہ تھے اب ہمیں سامراج وادی چین کے حساب سے اپنی خوبیوں پر توجہ دینی ہوگی۔ چین کی یقینی توقعات و مقاصد ہیں اور وہ کسی بھی طرح سے ہمارے تئیں دوستی کا برتاؤ نہیں رکھ سکتا۔ 62 برس پہلے سردار پٹیل نے دو صفحات میں حالات پر سنجیدہ اور اپنے نقطہ نظر پر روشنی ڈالی اور دوررس پالیسیاں بھی تجویز کی تھیں جو آج کہیں زیادہ ضروری ہوچلی ہیں۔ سردار پٹیل نے پہلا خط پنڈت جواہر لال نہرو کو11 نومبر1950 ء کو لکھا تھا اس میں سردار پٹیل لکھتے ہیں کہ تازہ اور تلخ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ سامراج واد سے بچنے کا کوئی کوچ نہیں ہے اور یہ سامبھے واری اتنے ہی اچھے یا برے ہیں جتنے کے دوسرے۔ اس سلسلے میں چینیوں کی توقعات ہماری طرف سے نہ صرف ہمالیہ کی ڈھلانوں کو ڈھک لیتی ہیں ورنہ ا س میں آسام کے اہم حصے بھی شامل ہیں۔ برما میں ان کی توقعات ہیں مغربی طاقتوں کے سامراج واد یا فروغ سے چینی کلچر سامبھے سامراج واد مختلف ہے اور یہ ماضی کے اصولوں کا ایک قابل دید کردار ہے جو اسے10 گنا زیادہ خطرناک بناتا ہے۔ اصولی فروغ کے پیچھے چھپے ہیں ذات پات ،قومی یا تاریخی دعوے اس لئے شمال مشرق سے خطرہ سامبھے وادی اور سامراج وادی دونوں سے ہے جبکہ سکیورٹی کا ہمارا مغربی اور شمال مشرقی خطرہ پہلے ہی کی طرح سے بڑھا ہے۔ ایک طرح پہلی بار جارحیت کے بعد بھارت کو اپنی حفاظت کے بارے میں ایک ساتھ دو جگہوں پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ ہماری سلامتی کے اقدام ابھی تک پاکستان سے اچھے تھے۔ اب ہمیں نارتھ اور نارتھ ایسٹ میں کمیونسٹ چین کے مطابق اپنی شماریات کی توجہ رکھنی ہوگی۔ کمیونسٹ چین جس کی یقینی خواہش اور مقصد ہے اور جو کسی بھی طرح سے ہمارے تئیں دوستی جیسا برتاؤ نہیں رکھ سکتا۔
چین نے جب بھارت کو دھمکی دی تھی تب سردار پٹیل نے 4 نومبر1950ء کو وزارت خارجہ کے اس وقت کے سکریٹری جنرل گریج شنکرواجپئی کو ایک خط لکھا تھا اس میں سردار نے لکھا تبت میں چین کے آنے سے ہماری سلامتی گڑبڑا گئی۔ پہلی بار نارتھ اور نارتھ ایسٹ میں خطرہ پیدا ہورہا ہے۔ اسی کے ساتھ مغربی لداخ اور نارتھ ویسٹ کی طرف بھی خطرہ کم نہیں ہے۔ میں اس سے مکمل طور پر متفق ہوں کہ ہم اپنی سرحدوں کی حالت پر دوبارہ سے نظرثانی کریں اور اپنی فوجوں کو پھر سے سرگرم کرنے کو ہم نظرانداز نہیں کرسکتے۔ چین سے لگی ہندوستانی سرحدوں پر واقع علاقوں کی تہذیب بھی چین سے ہی ایک طرح سے جڑی ہوئی ہے۔ چین کی سیاسی توقعات اپنے آپ میں اتنی معنی نہیں رکھتی لیکن جب اسے کوئی موقعہ ملتا ہے تو اس کی فوج ان دیہات میں دراندازی سے گریز نہیں کرتی۔ ہندوستان اور کمیونسٹ چین کے رشتوں میں اس سے کئی بار تلخی آجاتی ہے۔ ہمیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئے کہ سرحد کے تنازعہ جو تاریخ میں کئی بار عالمی تنازعات کے سبب بنا ہوا ہے کا فائدہ کمیونسٹ چین کے ذریعے اٹھایا جاسکتا ہے۔ ہمیں اپنے دیش میں اور آس پاس ناپسندیدہ اور موقعہ پرست طاقتوں پرتوجہ دینی ہوگی۔ میری تجویز کے مطابق ہمیں ان سے نہ صرف چوکس رہنے کی ضرورت ہے بلکہ کچھ حد تک ان کے ساتھ خوشگوار برتاؤ بھی کرنا چاہئے۔ سردار پٹیل نے 62 برس پہلے ہی چین سے خطرے کے بارے میں آگاہ کیا تھا لیکن پنڈت نہرو پر 'ہندی چینی بھائی بھائی' کا اتنا بھوت سوار تھا کہ انہوں نے سردار کی وارننگ پر غور تک نہیں کیا۔
Anil Narendra, China, Daily Pratap, India, Sardar Patel, Vir Arjun

12 اپریل 2012

چین میں تختہ پلٹ کی افواہ سے لیڈر شپ میں کھلبلی

چین کی اندرونی حالت اتنی اچھی نہیں ہے جتنی دکھائی جاتی ہے۔ کچھ دن پہلے چین میں بغاوت اور تختہ پلٹ کی خبر آئی تھی۔ فوجی تختہ پلٹ کی خبر وں سے گھبرائی چینی لیڈرشپ نے ان سبھی رپورٹوں کو بلاک کردیا ہے جن میں مبینہ طور پر بتایا گیا تھا کہ چین میں تختہ پلٹ کی کوشش ہوئی ہے۔ الائنس کی رپورٹ کے مطابق راجدھانی بیجنگ کی سڑکوں پر ٹینکوں کے اترنے اور لیڈروں کے محفوظ کمپلیکس پر گولیاں چلنے کی خبروں پر امریکہ ۔ برطانیہ سمیت بین الاقوامی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے نظر رکھی جارہی ہے۔ رپورٹ میں جس عمارت کی بات کہی گئی ہے وہ چین کے سرکردہ سیاحتی کشش کا مرکز ''فوربڈن سٹی '' کے بالکل قریب ہے۔ چین کی مقبول مائکرو بلاگنگ سائٹ سینا ویجبو اور سرچ انجن ویدو کے بلیٹن بورڈ سبھی نے 19 مارچ کی رات کو بیجنگ میں رونما غیر معمولی واقعات کا ذکر کیا ہے۔ ان سائٹوں پر بھیجی گئے تبصروں میں کہا گیا ہے دیش کی شنگھائی لیڈر شپ کے گروپ کے زوال کے بارے میں افواہیں ہیں۔ شنگھائی لیڈر شپ گروپ اعلی سطح کے افسران کے لئے بتایا گیا ہے کہ جو شنگھائی ہب سے آتے ہیں اور جو روایتی طور سے پارٹی میں اصلاح پسندوں اور جدید نظریات حامیوں کا گڑھ رہا ہے۔ کچھ اور تبصروں میں دعوی کیا گیا ہے کہ فوجی تختہ پلٹ کی کوشش ہوئی ہے۔ کچھ دیگر رپورٹوں میں گولیاں چلنے اور تیانن من چوک کے قریب جگن اسٹریٹ پر سادی وردی میں سکیورٹی حکام کے جھنڈ دیکھنے کی بات کہی گئی ہے۔ یہ علاقہ 1989ء میں جمہوریت حامی مظاہرین کے قتل عام کا گواہ تھا۔ ان خبروں سے گھبرائی چینی حکومت نے اس طرح کی سبھی خبروں کو فوج کی انٹر نیٹ یونٹ کی مدد سے ہٹوادیا ہے اور اب انہیں نہیں دیکھا جاسکتا۔ ان ویب سائٹوں میں لکھا گیا ''پریہ چین کی سرکار ، آپ ہمیشہ بے شکست نہیں رہ سکتے۔آج ویب سائٹوں کو ہیگ کرلیا گیا ہے کل آپ کا اقتدار گر جائے گا۔''
دراصل چین جو دنیا کو اپنی تصویر دکھاتا ہے حقیقت میں وہ تصویر ایسی نہیں۔ چین کے قومی دوس پر بیجنگ کے عام لوگوں کو گھروں میں قید کردیا جاتا ہے اور سڑکوں پر صرف وہی لوگ کھڑے کئے جاتے ہیں جو دکھنے میں خوبصورت ہوں اور انہیں ہدایت دی جاتی ہے کہ انہیں مسکرانا ہے چاہے وہ کتنے ہی تھکے کیوں نہ ہوں، تو کیا ہوا اگر اولمپک تقریب میں ایک چھوٹی سی بچی کے جذبات سے کھیلا جائے اور اسے محض اس وجہ سے اسٹیج پر گانے سے روک دیا جائے کیونکہ وہ دیکھنے میں اتنی خوبصورت نہیں۔اور اس کی جگہ ایسی لڑکی کوکھڑا کیا جائے جو دیکھنے میں پرکشش ہو۔ اس بچی کو صرف ہونٹ ہلانے ہیں آواز تو پیچھے سے آرہی ہے۔ چین کے کئی چہرے اور کئی نقاب ہیں، ہم جو دیکھتے ہیں اس میں سچائی کم اور چھل زیادہ ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کے چین دنیا کی سب سے تیزی سے ابھر رہی معیشت ہے اور ایک دن دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت بھی بن سکتی ہے۔ لیکن چین کے چمکتے چہرے کے پیچھے کئی ایسے پوشیدہ راز ہیں جن کی طرف لوگوں کی توجہ نہیں جاتی۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی اپنے اور اپنی پالیسیوں کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو سختی سے دبا دیتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ سزائے موت چین میں ہی دی جاتی ہے۔ کسی بھی دیگر ملک سے کم سے کم تین گنا زیادہ ہیں یہ۔ 2008 ء میں کل 1718 لوگوں کو سزائے موت دی گئی تھی۔ یہ تعداد کم ازکم ہے کیونکہ اصلی تعداد تو کبھی سامنے آنے والی بھی نہیں ہے۔ حالانکہ کچھ چینی ماہرین مانتے ہیں کہ ہر سال کم سے کم 6 ہزار لوگوں کو موت کی سزا دی جاتی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگوں نے تو نہ تو کسی دیگر شخص کا قتل کیا ہوتا ہے اور نہ وہ ملک مخالف دشمنی میں ملوث پائے گئے ہوتے ہیں۔
یہ ہی نہیں نہ وہ آتنک وادی ہوتے ہیں لیکن وہ ایسے لوگ ہیں جو اپنے دیش میں جمہوریت دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو چین میں شہری حقوق کی آواز اٹھانے کی ہمت کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایک دن اچانک غائب ہوجاتے ہیں اور ان کے سبھی ریکارڈ ضائع کردئے جاتے ہیں یعنی اس نام کا شخص کبھی دنیا میں آیا ہی نہیں تھا۔ کٹر پسندی کی بنیاد پر ہوتی ہے غریب اور امیر کے درمیان امتیاز مٹ جائے، سب ایک ہوں، کوئی بھی شخص غریب نہ ہو، غیر سماجی عدم توازن نہ ہو، چین میں کمیونسٹ حکومت کو برسوں بیت گئے ہیں۔لیکن سماجی حالات آج تک ٹھیک نہیں ہوسکے۔1978 ء میں چین نے اقتصادی اصلاحات پروگرام اپنایا اور ایک طرح سے کٹر پسندی نظریات کو تلانجلی دے دی۔ اس کے بعد اس دیش نے تیزی سے اقتصادی ترقی کی اور اب قریب9 فیصدی ترقی شرح سال درسال پوری کی۔پورے اقتصادی اصلاحات پروگرام''اوپن ڈور پالیسی'' کا نام دیا گیا۔ کاروباریوں کے لئے دروازے کھول دئے گئے۔ عام طور پر توجہ اس بات کی طرف دی گئی ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھے۔
چین نے صنعتی انقلاب کے نام پر کئی ایسے قدم اٹھائے جس میں اس دیش کا سماجی توازن بگڑ گیا۔ کھیتی کی زمین کم ہوتی گئیاور قدرتی وسائل کم ہوتے گئے اور لوگوں کی اقتصادی حالت میں زیادہ پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔ کیا یہ تعجب خیز نہیں ہے کے برسوں سے 9 فیصدی اقتصادی ترقی شرح حاصل کرتے آرہے دیش کے کروڑوں لوگ آج بھی دو وقت کی روزی نہیں جٹا پاتے۔ چین آج برآمدات پر منحصر ہے اور اس کی زیادہ تر برآمدات امریکہ سے ہوتی ہے۔ اگر امریکہ اپنے خرچوں میں کمی لاتے ہے اور درآمدات شرح کم کرتا ہے تو چین کی اقتصادی حالت کمزور ہوئے بنا نہیں رہے گی۔ چین میں پانی کی بھاری قلت ہے۔ چین میں 617 بڑے شہر ہیں اور ان میں سے آدھے شہروں میں پانی کی پوری طرح دستیابی نہیں ہے۔
راجدھانی بیجنگ میں بھی پانی کی قلت ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق مین لینڈ چین کا پانی کا فی شخص حصہ2700کیوبک میٹر سالانہ ہے جو ورلڈ کے تناسب سے ایک چوتھائی ہے۔ نارتھ چین میں اب پانی حاصل کرنے کے لئے زمین میں گہری کھدائی کی جارہی ہے۔ 10 ہزار برس پہلے جمع پانی چین کو پانی کی قلت سے کچھ حد تک بچاسکتا ہے لیکن اس سے چین زمین کے اندر دراڑیں آسکتی ہیں اور عدم توازن بڑھ رہا ہے۔ طاقتور رہے چین میں سب کچھ اب صحیح نہیں ہے۔ اب اس کی چمک کے پیچھے سیاہ راز چھپے ہیں۔ چین کے اندر حقیقی حالت اچھی نہیں ہے۔ اس کی صحیح جانکاری نہیں مل پاتی کیونکہ چینی حکومت ہر ایسی خبر ، رپورٹ کو دبا دیتی ہے جس سے نئی بے چینی اور فوجی تختہ پلٹ کا خطرہ ہو۔
Anil Narendra, China, Coup, Daily Pratap, Vir Arjun

02 مارچ 2012

چین کو دیا انٹونی نے کرارا جواب



Published On 2 March 2012
انل نریندر

چین بھارت سے ٹکر لینے سے باز نہیں آتا، کچھ نہ کچھ شوشہ چھوڑتا رہتا ہے۔ تازہ قصہ ہندوستان کے وزیر دفاع اے کے انٹونی کے دورہ اروناچل پردیش کو لیکر ہے۔ اروناچل پردیش پر دعوی جتاتے ہوئے چین نے پھر ہندوستان کو آنکھیں دکھانے کی کوشش کی ہے۔اس مرتبہ ڈریگن وزیر دفاع اے کے انٹونی کے دورہ اروناچل پردیش سے لیکر بوکھلا گیا ہے۔ اس نے ہندوستان کو کھلے عام آگاہ کیا ہے کہ بھارت کو ایسے کسی بھی قدم سے بچنا چاہئے جس سے سرحدی تنازعہ مزید پیچیدہ ہونے کا اندیشہ ہو۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ہانگلی نے سرحدی علاقوں میں امن اور استحکام بنائے رکھنے کے لئے بھارت سے چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کوکہا ہے۔ چین کی سرکاری ایجنسی ژنہوا کے مطابق انہوں نے کہا کہ سرحدی تنازعے پر چین اپنے موقف پر قائم ہے اور اس کا نظریہ بالکل صاف ہے۔ دراصل اروناچل جنوبی تبت کا حصہ ہونے کا دعوی کررہا ہے۔ چین کسی بھی سینئر ہندوستانی سرکاری نمائندے کی ریاست کے دورہ پر اپنا اعتراض جتا رہا ہے۔ وہ اروناچل کے لوگوں کو ویزا دینے سے بھی انکار کرتا رہا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے مخصوص نمائندوں کے درمیان سرحدی تنازعے پر بات چیت کے 15 دور ہوچکے ہیں۔ جنوری سے جون2010 میں سکم سے لگے علاقے میں چینی فوج نے 65 بار ہندوستانی علاقے میں گھس پیٹھ کی کوشش کی۔ حالانکہ حکومت ہند نے ہمیشہ تنازعے کو ٹھنڈا کرنے اور اسے ہل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس بار ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ وزیر دفاع اے ۔ کے انٹونی نے چین کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ ایسی زبان چین سمجھ سمجھتا ہے۔ اے ۔ کے انٹونی نے چین کو اس اشو کو لیکر پیر کو کھری کھوٹی سنائی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی رائے زنی بیحد افسوسناک اور قابل اعتراض ہے۔ چین کے اس رویئے پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے وزیر دفاع اے ۔ کے انٹونی نے کہا کشمیر کی طرح ہی اروناچل بھی بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور بطور وزیر دفاع وہاں جانا ان کا حق اور فرض ہے۔ ایک پروگرام سے نمٹنے کے بعد اخبار نویسوں کے سوالوں کے جواب میں وزیر موصوف نے کہا کہ وہ اروناچل پردیش کی یوم تاسیس کی 25 ویں سالگرہ پر منعقدہ تقریب میں حصہ لینے گئے تھے اور یہ ان کا حق بنتا ہے۔ وزیر دفاع نے کہا مجھے یہ رد عمل دیکھ کر کافی حیرانی ہوئی ہے اس طرح کا تبصرہ عام طور پر افسوسناک ہی مانا جاتا ہے اور اس پر انہیں اعتراض ہے۔ ایتوار کو بنگلورو سے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے چین کے رد عمل پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اروناچل پردیش بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس معاملے میں اسے دخل اندازی نہیں کرنی چاہئے۔ وزارت خارجہ کے اعلی ذرائع نے تو بیجنگ کو یہ کہہ کر پیغام دیا کہ اروناچل میں جنتا نے ہندوستانی لیڈروں کو جمہوری طریقے سے ہوئے چناؤ میں ووٹ دیا ہے اس میں اپنے آپ میں ہی بیجنگ کو جواب دیکھ لینا چاہئے۔ چین کو کھری کھوٹی سناتے ہوئے وزیر دفاع نے نیوکلیائی آبدوز کو ہندوستانی بحریہ میں شامل کرنے پر اعتراض جتا رہے پاکستان کو بھی دو ٹوک انداز میں جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی سلامتی کے لئے اپنی فوجی صلاحیت بڑھا رہا ہے نہ کہ اس کا ارادہ کسی سے ٹکراؤ کا ہے۔ ابھرتے سلامتی پس منظر میں بھارت ہر ضروری فوجی قدم اٹھائے گا۔ ہم وزیر دفاع اے ۔ کے انٹونی کے چین اور پاکستان دونوں کو دو ٹوک جواب دینے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں بھی ایسا ہی ہوگا تاکہ چین کو سمجھ میں آجائے کہ وہ اب بھارت کو اتنی آسانی سے نہیں ڈانٹ سکتا۔
A K Antony, Aksai Chin, Anil Narendra, China, Daily Pratap, Sikkim Chief Minister, Vir Arjun

06 جنوری 2012

مغرور چین سے تجارت خطرے سے بھری



Published On 6th January 2012
انل نریندر
چین کے ذریعے شنزیانگ صوبے میں واقع شہر شیبو میں دو ہندوستانیوں کو رہا کرانے کی کوشش کررہے ہندوستانی سفارتکاروں سے بدسلوکی پر زیادہ حیرانی نہیں ہوئی۔ چین اپنی بد زبانی اور مغروربرتاؤ کے لئے خاص کر ہندوستان کے ساتھ مشہور ہے۔ بھارت سے اس کو اتنی جلن ہے کہ کبھی کبھی وہ اسے چھپا نہیں سکتا۔ دراصل وہ سمجھتا ہے کہ ایشیا میں اگر اس کو ہر خطے میں کوئی چنوتی دے سکتا ہے تو وہ بھارت ہی ہے۔ بھارت کو ہر محاذ پر وہ گھیرنے میں لگا رہتا ہے، میانمار، نیپال، پاکستان ہر ہندوستان کے پڑوسی پر اس نے اپنا شکنجہ کس لیا ہے۔ اکیلا بھارت ہی بچا ہے جہاں اس کی دھونس کا اثر نہیں ہوتا۔ اس لئے شیبو شہر میں جو کچھ ہوا اس پر کوئی خاص تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ ہوا یہ کہ شیبو میں یورو گلوبل کمپنی کا مالک مقامی تاجروں کے بقایا پیسے چکائے بغیر ہی فرار ہوگیا۔ وہ چیچن یا پاکستانی شہری بتایا جارہا ہے۔مقامی کاروباریوں نے اس کمپنی کے دو ہندوستانی ملازمین دیپک رہیجا اور شیام سندر اگروال کو دو ہفتے سے یرغمال بنا رکھا تھا۔ ہندوستانی سفارتکار ایس بالا چندرن انہیں رہا کروانے کیلئے شیبو کی عدالت میں گئے تھے۔ عدالت کے احاطے میں جمع مقامی تاجروں(چینی) نے انہیں زبردستی روک لیا اور انہیں باہر جانے نہیں دیا ۔ انہوں نے بالا چندرن کے سفارتکار ہونے کی بھی پرواہ نہیں کی اور ان کی پٹائی کرڈائی جس سے وہ بیہوش ہوگئے اور ان کی حالت بگڑ گئی۔ انہیں ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ سفارتکار کی پٹائی پولیس اور جج کی موجودگی میں ہوئی۔ بھیڑ دراصل نہیں چاہتی تھی کہ بالاچندرن رہیجا اگروال کو لے جاسکیں۔ وہ ان سے خریدی چیزوں کے لئے بقایا لاکھوں روپے وہاں کی کرنسی یووان مانگ رہے تھے۔ عدالت نے دونوں کو رہا کردیا ہے لیکن سلامتی کے نقطہ نظر سے پولیس نے حراست میں رکھا۔ دونوں ممبئی کے باشندے ہیں۔ ان کے رشتے دار سفارتخانے سے رابطہ بنائے ہوئے ہیں۔ شیبو میں 100 سے زیادہ ہندوستانی تاجر رہتے ہیں۔ پچھلے سال ہندوستانیوں نے 11 ارب ڈالر کی خریداری کی تھی۔ سلامتی کی وجوہات سے ہوٹل میں ان دونوں کو ٹھہرادیا گیا ہے۔ حالانکہ رہیجا اور اگروال کی نگرانی کے لئے دو سپاہی تعینات کئے گئے لیکن رہیجا نے فون پر کہا کہ وہ ابھی بھی فکر مند ہیں۔ ان کے ہوٹل کو مقامی بھیڑ نے گھیر رکھا ہے۔ 15 دسمبر سے یرغمال دونوں ہندوستانیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس کمپنی میں نوکری کرتے تھے اس کمپنی پر مقامی تاجروں کے سامان کے بقایا جات کے لئے وہ ذمہ دار نہیں ٹھہرائے جاسکتے۔ ان دونوں شہریوں اور ہمارے ایک سفارتکار کے ساتھ ہوئی بدسلوکی ایک بار پھر یہ بتا رہی ہے کہ چین کے ساتھ کاروباری رشتوں کی راہ بھی خطروں سے بھری ہے۔ حکام کو اس بات کی بھی پرواہ نہیں تھی کہ بالا چندرن شگر کی بیماری میں مبتلا تھے۔ انہیں گھنٹوں عدالت میں بٹھا کر رکھا گیا اور تب تک نہیں جانے دیا گیا جب تک ان کی طبیعت نہیں بگڑنے لگی۔ انہیں پانی اور دوا تک کی چھوٹ دینے سے بھی انکارکردیا۔ ہندوستانی میڈیا میں ہنگامہ مچنے کے بعد حکومت ہند نے صرف اتنا بھر کیا کہ دہلی میں چینی سفارتخانے کے افسر کو بلا کر اس سے اپنا احتجاج ظاہر کیا۔ ادھر بیجنگ میں واقع ہندوستانی سفارتخانے نے الٹا ایک وارننگ بھرا بیان جاری کرتے ہوئے اپنی ساری ذمہ داری سے پلا جھاڑتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی تاجر شیبو علاقے میں تجارت کرنے سے پرہیز رکھیں۔ چین کا ذکر آتے ہی ظلم کا شکار بن رہے تاجروں کے بارے میں ہماری حکومت کو دھیان رکھنا چاہئے تھا۔ ویانا سمجھوتے کے تحت سفارتکار سے کوئی بھی دیش بدسلوکی نہیں کرسکتا۔ قاعدے سے تو اس پورے معاملے کو بھارت سرکار کو بین الاقوامی اسٹیج پر اٹھا کر چین کو گھسیٹا جانا چاہئے تھا لیکن تجارتی رشتے بہتر بنانے سے زیادہ اثر دار ماننے والی ہماری حکومت کو یہاں کیوں جھجک پیدا ہوتی ہے یہ ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ چین کا نام آتے ہی ہماری سرکار کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔
Anil Narendra, China, Daily Pratap, Vir Arjun

07 دسمبر 2011

چین کے تئیں بھارت کواپنی پالیسی بدلنی ہوگی


Published On 7th December 2011
انل نریندر
ہندوستان اور چین کے درمیان رشتے ہمیشہ سرد گرم ہوتے رہے ہیں۔ ہندوستان سے ہی چین میں بودھ دھرم کی تبلیغ اور فروغ ہوا تھا۔1949ء میں چین کی کمیونسٹ حکومت قائم ہوئی اور دونوں ملکوں کے درمیان رشتوں کا قیام عمل میں آیا۔ بھارت نے شروع سے ہی چین کے تئیں دوستی اور بھاری چارگی کا اظہار کیا ہے۔ بھارت ایک ایسا پہلا غیر کمیونسٹ ملک تھا جس نے چین کی کمیونسٹ سرکار کو تسلیم کیا تھا اور اقوام متحدہ نے بھی چین کو منظوری دلانے کی کوشش کی تھی۔1954 میں چین اور بھارت کے درمیان ایک آٹھ سالہ معاہدہ ہوا جس کے تحت بھارت نے تبت سے اپنے فاضل ملکی اختیارات کو چین کو سونپ دیا۔ اس کی بنیاد پر دونوں ملکوں کے درمیان پنچ شیل اصولوں کی تعمیل کی گئی۔ 1957ء میں دونوں ملکوں کے درمیان تبت کو لیکر رشتے خراب ہونا شروع ہوگئے۔ 31 مارچ 1959ء کوتبت میں چینی دمن کی وجہ سے وہاں کے دھرم گورو دلائی لامہ نے بھارت میں سیاسی پناہ لی۔ اس کی کشیدگی 1962ء میں ہند۔ چین جنگ کی شکل میں ہوئی۔آج بھی دلائی لامہ اور ان کے ماننے والوں کو لیکر بھارت چین میں کشیدگی بنی ہوئی ہے۔ دلائی لامہ کو لیکر چین اب کچھ زیادہ ہی جارحانہ رخ اپنائے ہوئے ہے۔ پچھلے دنوں کولکتہ میں ایک پروگرام ہوا تھا جہاں دلائی لامہ کو آنا تھا۔ اس پروگرام میں گورنر ایم کے نارائنن اور وزیر اعلی ممتا بنرجی کو بھی شرکت کرنی تھی۔ چین نے مغربی بنگال سرکار کو باقاعدہ ایک خط لکھا جس میں یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ گورنر اور وزیر اعلی اس پروگرام میں نہ جائیں۔ یہ مانگ نہیں مانی۔ گورنر اس پروگرام میں شامل ہوئے اور وزیر اعلی اپنی ماں کی بیماری کی وجہ سے اس میں شامل نہیں ہو پائیں لیکن ان کے نمائندے کے طور پر ایم پی ڈیریک اوبراؤن شامل تھے۔ ہندوستان نے اس بات کی مخالفت درج کرانے کا فیصلہ کیا ہے کہ چین نے مغربی بنگال سرکار کو آخر ایسا خط کیوں لکھا؟ کچھ ہی دن پہلے چین نے نئی دہلی میں بودھ دانشوروں کی کانفرنس کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جسے دلائی لامہ کو خطاب کرنا تھا۔ جب چین کی ضد نہیں مانی گئی تو اس نے سرحدی تنازعے پر مجوزہ بیٹھک میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ چین بھارت کے اندرونی معاملوں میں دخل اندازی سے باز نہیں آتا۔ اس نے زیادہ ہی جارحانہ رخ اپنا لیا ہے۔ مثلاً دیش کی ایک ریاستی حکومت کے سربراہوں کو کیا کرنا چاہئے یا نہیں کرنا چاہئے یہ سیدھے طور پر کسی غیر ملکی حکومت کو نہیں بتانا چاہئے۔ چین دراصل اپنے آپ کو امریکہ کی طرح ایک بڑی طاقت ماننے لگا ہے اور اپنی ہر ضد کو منوانا چاہتا ہے۔ حکومت ہند بھی کچھ حد تک چین کے سامنے گھٹنے ٹیکتی نظر آرہی ہے تبھی تو حال میں جموں و کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے بھارت سرکار سے کہا کہ وہ اپنی چینی پالیسی کو واضح کرے۔ ممبئی میں ایک ریلی میں خطاب کرتے ہوئے عمر نے کہا کہ بھارت کو تھوڑا اور عزم کے ساتھ چین سے پیش آنا چاہئے کیونکہ یہ دیش کو متنازعہ حصہ کہتا ہے اور کئی حصوں پر بھارت کی سرداری پر سوال بھی کھڑے کرتا ہے۔ عمر سنیچر کو ممبئی میں ایک پریس کانفرنس میں بول رہے تھے۔ کچھ ہی گھنٹے پہلے عمر عبداللہ کے والد فاروق عبداللہ نے نئی دہلی میں کہا تھا کہ بھارت کو یہ تسلیم کرلینا چاہئے کہ وہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کو نہ تو پاکستان سے اور نہ ہی کشمیر سے واپس لے سکتا ہے۔ بیٹے عمر نے کہا کہ اگر سچ مچ آپ کو یقین ہے کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے تو کارگل جنگ کے دوران کنٹرول لائن کو کیوں نہیں پارکیا؟ اگر آپ جنگ کے وقت بھی کنٹرول لائن کا احترام کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہی ہے کہ آپ نے اس علاقے کو واپس پانے کی امید چھوڑ دی ہے۔ عمر نے نئی دہلی سے گذارش کی کہ چین اور پاکستان کے ساتھ اپنے رشتوں میں ہمیشہ معذرت گذار ہونے کا رویہ چھوڑدیں۔ انہوں نے کہا میری دہلی خواہش ہے کہ چین کے ساتھ پیش آتے وقت بھارت کو تھوڑا اور سختی دکھانی چاہئے۔ ایسا لگتا ہے کشمیر کو متنازعہ حصہ قراردینے میں چین کو ذرا بھی جھجک نہیں ہے جبکہ ہم سے ایک چین کی پالیسی کو تعمیل کرنے اور تبت و تائیوان کی طرز پر سوال نہ کھڑے کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ ہم متحد چین کی پالیسی کی تعمیل کریں جبکہ چین متحد بھارت کی پالیسی کی تعمیل نہیں کررہا ہے۔ چین اور پاکستان دونوں کے ہی ساتھ اپنے رشتوں میں ہم عرصے سے فراخ دلی اپنا رہے ہیں جبکہ واقعی اس کی ضرورت نہیں تھی۔ مجھے لگتا ہے کہ چین کے ساتھ تھوڑا سخت ہونا ضروری ہے۔ اگر وہ ہماری سرداری کو لیکر چین پر سوال کھڑا کرتاہے تو ہمیں بھی کئی حصوں میں اس کی سرداری (جن میں تبت بھی شامل ہے) پر سوال کھڑے کرنے کا حق ہے۔
Aksai Chin, Anil Narendra, China, Daily Pratap, Dalai Lama, India, Mamta Banerjee, Vir Arjun, West Bengal

02 دسمبر 2011

پاک۔ امریکہ کے اس تنازعے میں آخرکار امریکہ کو ہی جھکنا پڑے گا


Published On 2nd December 2011
انل نریندر
پاکستان اور امریکہ کے آپسی رشتے بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ تازہ ٹکراؤ نیٹو کے فوجیوں کے ذریعے پاکستان کے قبائلی علاقے میں واقع دوچوکیوں پر 26 نومبر کو صبح سویرے کئے گئے ہوائی حملے کو لیکر ہے۔ اس میں 28 پاکستانی فوجیوں کی موت ہوگئی تھی۔ دراصل پاکستان کو سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ امریکہ اس کی سرزمین میں گھس کر اس پر حملہ کرتا ہے۔ اب تک تو دہشت گردی کے ٹھکانوں یا انتہا پسندوں پر پاکستان میں گھس کر حملے ہوتے تھے لیکن اب یہ پہلا موقعہ ہے کہ امریکہ نے نیٹو کے ذریعے سے پاکستانی فوج کو نشانہ بنایا ہے۔ اسامہ بن لادن کو بھی پاکستان کے اندر گھس کر ایبٹ آباد میں ٹھکانے لگایا گیا تھا۔ اسی حملے کے بعد سے دونوں ملکوں کے رشتے بگڑتے چلے گئے۔ اب تو حد ہوگئی۔ پاکستان نے اقوام متحدہ سے ناٹو کے ہوائی حملے پراپنا احتجاج درج کرانے اور مذمت کرنے کے لئے باقاعدہ طور سے رابطہ قائم کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر عبداللہ حسین ہارون نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بانکی مون کو ایک خط لکھ کر مطلع کیا ہے کہ 26 نومبر کو ناٹو کے ذریعے پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر کئے گئے حملے کی وجہ سے اس کے 28 فوجی اور ایک افسر شہید ہوگئے۔ 13 فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ ہارون نے سکریٹری جنرل کو پاکستان کیبنٹ کی ڈیفنس کمیٹی کے ذریعے جاری بیان کو بھی بھیجا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے پاک اس حملے کی سخت مذمت کرتا ہے اور اسے پاکستان کی اپنی سرداری کی خلاف ورزی مانتا ہے۔ پاکستان حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ جرمنی کے بان شہر میں آئندہ5 دسمبر کو ہونے والی ایک اہم چوٹی کانفرنس کا بائیکاٹ کرے گا۔ پاکستانی فوج نے ناٹو کے حملے پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ بغیر کسی اکساوے کے ہوا۔ جو ناٹو کی جارحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ سینئر فوجی افسر میجر جنرل اشفاق ندیم نے راولپنڈی میں واقع فوجی ہیڈ کوارٹر میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا پاک۔ افغان سرحد پر پاک فوجیوں کی چوکیوں کی پوری جانکاری ناٹو فوج کو دی گئی تھی اور نقشے کے ذریعے سے بھی سمجھا گیا تھا۔ وہیں جنرل ندیم نے کہا جس حلقے میں ناٹو جہازوں نے حملہ کیا پاک فوج نے پہلے ہی اس کو کٹر پسندوں سے آزاد کرا لیا تھا اور وہاں سے کٹر پسندوں کی کوئی دراندازی نہیں ہورہی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے پہلے ناٹو فوج 2008-09 میں اور 2011 ء میں حملے کئے تھے جس میں14 فوجی مارے گئے تھے 13 زخمی ہوئے تھے۔ اس وقت جانچ کا علان کیا گیا تھا لیکن جانچ آج تک پوری نہیں ہوئی۔ کیبنٹ کی ڈیفنس کمیٹی کی میٹنگ کے بعد پاکستان حکومت نے کہا کہ امریکہ کو شمسی ہوائی اڈے کو15 دن کے اندر یعنی11 دسمبر تک خالی کرنا ہوگا۔ کیونکہ امریکہ یہاں سے ڈرون حملے کرتا ہے۔ امریکہ کی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے پاکستان سے کہا کہ وہ افغانستان کے مستقبل پر غور و خوض کرنے کے لئے بان کانفرنس میں حصہ نہ لینے کے اپنے فیصلے پر دوبارہ سے غور کرے۔ یہ ہی بات افغان صدر حامد کرزئی نے بھی کہی ہے۔ پاکستان کے بنے نئے ہمدرد چین نے بھی پیر کو کہا کہ پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر ناٹو حملے سے اسے گہرا دھکا لگا ہے۔ چین نے ناٹو سے کہا کہ وہ پاکستان کی سرداری کا احترام کرے ساتھ ہی اس نے واقعہ کی جانچ کی بھی مانگ کی ہے۔
پورے معاملے میں پاکستان کا پلڑا بھاری ہے۔ افغانستان میں اس وقت ناٹوکے سوا لاکھ سے بھی زیادہ فوجیوں کے لئے فوجی سازو سامان اور پیٹرول کی سپلائی پاکستان سے ہی ہوتی ہے۔ اسے روکے جانے سے امریکہ کے لئے بھاری مشکلیں پیدا ہوں گی۔ پاکستان کا سپلائی راستہ امریکہ کے لئے کئی برسوں سے درد سر بنا ہوا ہے۔ کیونکہ اکثر اس راستے سے جانے والے ٹرکوں کو طالبان لڑاکے جلا دیتے ہیں۔ اب تک پاکستانی فوج کی سرپرستی میں کراچی بندرگاہ سے ہوکر ہتھیاروں اور پیٹرول لے جانے والے ان ٹرکوں کا کابل تک پہنچنا ممکن ہوپاتا تھا لیکن اب پاکستانی فوج نے اگر سکیورٹی ہٹا لی تو امریکہ کے لئے افغانستان اپنے فوجی سازو سامان پہنچانا مشکل ہوجائے گا اس لئے ہر حال میں امریکہ کو افغانستان میں اپنے فوجی سازو سامان بھیجنے کے لئے پاکستان پر منحصر رہنا پڑا۔ اب اسے دباؤ کہیں یا بلیک میلنگ۔
پاکستان کا پلڑا بھاری ہے اور آخر کار امریکہ کو پاکستان کو پٹانے کے لئے کوئی راستہ نکالنا ہوگا۔ ہاں ایک اور متبادل یہ بھی ہے امریکہ پاکستان پر بھی جنگ کا اعلان کردے۔ اس صورت میں پورے خطے میں کشیدگی پیدا ہوجائے گی۔ امریکہ کو یہ یاد رکھنا چاہئے پاکستان ایک نیوکلیائی خود کفیل ملک ہے اور اس کے لئے افغانستان میں نیٹو فوجی آسانی سے ٹارگیٹ ہیں۔ پھر امریکہ سے یہ سوال بھی کیا جاسکتا ہے کہ وہ کسی دوسرے دیش کے اندر گھس کر حملہ کیسے کرسکتے ہیں؟ انہیں یہ حق کس نے دیا کہ جب چاہے کسی دیش کی سرداری کو طاق پر رکھ کر حملہ کردے؟ پاکستان کی وزیرخارجہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ یہ امریکہ کے ساتھ رشتوں کا جائزہ کرنے کا صحیح وقت ہے۔ انہوں نے کہا پاکستانی فوجی چوکیوں پر ہوئے ہوائی حملے بین الاقوامی قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ سے15 دنوں کے اندر شمسی ہوائی اڈہ خالی کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ کھر نے کہا کہ ہمیں مدد نہیں ہم وقار اور عزت کے ساتھ جینا چاہتے ہیں۔
Afghanistan, Al Qaida, America, Anil Narendra, China, Daily Pratap, Haqqani Network, Hina Rabbani Khar, Pakistan, USA, Vir Arjun

27 نومبر 2011

حکومت کو نکسل مخالف آپریشن میں ملی اہم کامیابی



Published On 27th November 2011
انل نریندر
سرکار کواپنی اینٹی نکسلی آپریشن میں ایک شاندار کامیابی ملی ہے۔ سی پی آئی (ماؤوادی) کی ملٹری یونٹ کے چیف پولٹ بیورو کے ممبر کوٹیشور راؤ عرف کشن جی کو سکیورٹی فورس نے مڈ بھیڑ میں مار گرایا ہے۔ وزارت داخلہ نے اس مڈ بھیڑ کی تصدیق کے ساتھ ہی بھارت میں نکسل تحریک کا ایک باب کا صفایا ہوگیاہے۔ سی آر پی ایف کی نکسل مخالف کمانڈو بٹالین 207 کوبرا کے جوانوں نے کشن جی کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔ بنیادی طور سے آندھرا پردیش کا باشندہ کوٹیشور راؤ عرف کشن جی طویل عرصے سے نکسل تحریک سے جڑا تھا۔ پچھلے تین سال سے اس نے مغربی بنگال حکومت اور مرکزی حکومت کی ناک میں دم کیا ہوا تھا۔ ذرائع کے مطابق کشن جی نے دو نکسلی ماؤ وادی کمیونسٹ پارٹی اور پیپلز وار گروپ کے آپس میں انضمام میں اہم کردار نبھایا تھا۔ قریب چھ سال پہلے ہوئے اس انضمام کے سبب نکسلیوں کی طاقت کافی بڑھ گئی تھی۔ کشن جی کے دونوں نیپال کے ماؤ وادی کے ذریعے چین سے بھی روابط میں تھا۔ پریم گنج ضلع کے ناگپلی گاؤں سے نکسلواد کا سفر شروع کرنے والا کشن جی گوریلا جنگ کا ماہر تھا۔ اس نے بنگال سے مہاراشٹر تک کمان سنبھال رکھی تھی۔ اس کا خاص مقصد تھا کہ مغربی مدنا پور ،باکوڑہ اور پرولیا بیلٹ کو جھارکھنڈ، اڈیسہ اور چھتیس گڑھ سے جوڑنا تھا۔ کشن جی کی موت کے بعد نکسلی تشدد سے متاثرہ ریاستوں بہار، اڈیسہ، چھتیس گڑھ و اترپردیش میں جمعہ کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ نکسلی حملے کے اندیشے کو دیکھتے ہوئے ایسا کیا گیا ہے۔ چھتیس گڑھ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل رام نواس نے بتایا کہ نکسلی بدلے کی کارروائی کرسکتے ہیں۔ نکسلی 40 ہزار کلو میٹر علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں اور بستر علاقے میں وہ عام لوگوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ وہاں ان کی یکساں حکومت چلتی ہے۔ کشن جی کی موت سے نکسلی ماؤ وادی مسئلہ تو ختم نہیں ہوگا لیکن یہ ضرور ہے کہ یہ ان کے لئے ایک بہت بڑا جھٹکا ہے جس سے انہیں نکلنے میں وقت ضرور لگے گا۔ سرکار کی نکسل مخالف کارروائی میں یہ ایک شاندار کارنامہ ضرور ہے۔
Andhra Pradesh, Anil Narendra, Chhattis Garh, China, Daily Pratap, Kishanji, Maharashtra, Naxalite, Nepal, Odisa, Vir Arjun, West Bengal

09 اکتوبر 2011

پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں چینی موجودگی ہند کیلئے تشویش کاباعث



Published On 9th October 2011
انل نریندر
بھارت کے فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے اس اندیشے کی تصدیق کردی ہے جو پچھلے کئی دنوں سے پیدا تھا۔بری فوج کا صدر جنرل سنگھ نے بدھ کے روز کہاکہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں چین کی فوج پیپلز لیبریشن آرمی فوجی سمیت قریب چار ہزار چینی لوگ موجود ہے۔ یہاں تعمیراتی کام زوروں پر ہے ان میں سے کچھ وہاں سیکورٹی مقاصد سے بھی موجود ہے۔ یہ علاقہ متنازعہ ہونے کے ساتھ بھی بھارت پاک کے درمیان کنٹرول لائن کے کافی قریب ہے سنگھ یہ بیان پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں انہی فوجوں کی موجودگی اور ان کی سرگرمیوں کے بارے میں بھارت میں جتائی جارہی تشویشات کے پس منظر میں آیا ہے۔ ائر فوج کے چیف ائر چیف مارشل اے این براؤن نے ایک انٹرویو کے دوران یہ صاف کہاہے کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں چین کی موجودگی بڑھنے سے بھارت کی توجہ اس طرف مرکوز ہوئی ہے۔ پچھلے برس یہ خبر آئی تھی کہ جموں وکشمیر کے پی او کے کلکٹ بلستان خطہ میں قریب گیارہ ہزار چینی فوجی موجود ہے۔ چین کے خطرناک منصوبے کو لے کر جنرل سنگھ کی وارننگ کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے اس سال یہ تیسرا موقعہ ہے جب سینئر فوجی یا سیاسی لیڈر شپ نے دیش کی سرحد پر چین کی حرکتوں کو لے کر تشویش ظاہر کی ہے یہ اس لئے بھی زیادہ تشویش کاموضوع ہے کہ چینی دراندازی اور اب پی او کے میں ہورہی ہے۔ وہاں بڑے پیمانے پر سڑکیں ، ہوائی اڈے وغیرہ کی تعمیر جیسی چینی حرکتیں پاکستان کے ذریعہ اس کی اجازت دینا بھارت کے لئے تشویش کا سبب ہوناچاہئے۔ پہلے ہی پاکستان نے ہزاروں مربع میل کا مقبوضہ کشمیر کاعلاقہ چین کے حوالے کردیاتھا۔ ہندوستان کو بھیجنے کی اس حکمت عملی پر یہ دونوں دیش برسوں سے کام کررہے ہیں یہ قدم اسی سمت میں اٹھایا گیا ہے۔ اور ایک اور قدم ہے۔اس کے معنی میں یہ بڑا حوصلہ افزا قدم ہے کہ اس سے بھارت کے خلاف چین اور پاکستان کے ناپاک ارادے ایک بار پھر فاش ہوجاتے ہیں پچھلے دنوں ہندوستانی سرحد میں گھس کر فوجی بنکروں کو تباہ کرنے اور ہندوستانی علاقے کی خلاف ورزی کرنے کے بعد بیجنگ اب پاکستانی مقبوضہ کشمیرمیں کنٹرول لائن کے بالکل قریب سڑکیں اور باندھ بنارہا ہے یہ بھی ایک محض اتفاق نہیں ہے کہ ادھر چینی ادھر پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں چینی سرگرمیاں بڑھتی ہے توادھر ہمارے کشمیرمیں آتنکیوں کی دراندازی بڑھ جاتی ہے۔بھارت افغانستان کے درمیان ہوئے فوجی سمجھوتے کے بعد پاکستان کی مایوسی کو دیکھتے ہوئے دراندازی اور دہشت گردی کے مورچے پر ہمیں زیادہ چوکس رہناہوگا کیونکہ اس کی پیٹھ پر اسکاہاتھ ہے۔ چینی گھس پیٹھ پر بھارت کی تشویش اور شکایت واجب ہے بھارت کاحصہ ہونے کے سبب پاکستانی مقبوضہ کشمیر پر پاکستان کاقبضہ ہی ناجائز ہے تب وہاں کسی تیسرے ملک کے ذریعہ تعمیراتی کاکام کوئی جواز نہیں بیٹھتا ہے۔ اس لئے اپنی عادت کی مجبور چین کی تردید کا کوئی مطلب نہیں ہوناچاہئے۔ ہمیں اپنا احتجاج جاری رکھتے ہوئے اپنی سلامتی کو مزید سخت کرنے پر توجہ دینی ہوگی۔ چین پچھلے عرصہ سے اپنی فوجی صلاحیت بڑھارہاہے وہ بھارت کے لئے ہی نہیں پوری دنیا کے لئے تشویش کاموضوع ہے۔ لیکن جہاں تک ہندوستان کاسوال ہے کہ ایک بار چین سے دھوکہ کھانے کے بعد ہمارے حکمراں نہیں سنبھلیں ۔ پچھلے دنوں وزیر دفاع نے خود تسلیم کیاتھاکہ سرحد پر سڑکوں اورہوائی اڈوں جیسی ڈھانچہ بند سہولیات کی فروخت کو لے کر ہم لاپرواہ تھے جان بوجھ کر برتی گئی اس لاپروائی کے پیچھے جو سوچ تھی وہ بھی ڈراؤنی تھی ہمیں یہ ڈر تھاکہ سرحد پربنے ڈھانچے کہیں چینی حملے کے وقت اس کی سہولت نہ بن جائے۔ مطلب ہم 1962کے حملے چینی اور اس سے ملی چینی شرمناک ہار سے آج تک نہیں نکل پائے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ پچھلے کچھ عرصہ سے چینی حرکتوں کو چھپانے کی کوشش رہتی تھی۔ شکر ہے کہ چین کی بڑھتی دبنگئی اور اس کی سازشی قدموں کو بھارت اب اچھی طرح سے سمجھنے لگا ہے۔ چین کے خلاف من مانی کرتے ہوئے جنوبی چین ساگر میں مشترکہ طور سے تیل وگیس کی تلاشی کاکارروائی کرنا صحیح سمت میں اٹھایا گیا ایک قدم ہے۔ چین کو قابو میں رکھنے کے لئے ضروری ہے اس پر ہر طریقہ سے جوابی دباؤ بنایا جائے ہمیں اپنی سرحد پر ڈھانچہ بندی کاموں کو جلد سے جلد پورا کرنے کی ضرورت ہے۔ہماری فوجیں پوری طرح سے چوکس رہے اور چینی پاکستانی مشترکہ سرگرمیوں پر گہری نظررکھیں۔
Aksai Chin, Anil Narendra, China, Daily Pratap, India, Vir Arjun

04 اگست 2011

چین کا پہلی بار اعتراف حملے کی پشت پر پاکستانی دہشت گرد

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 4th August 2011
انل نریندر
ہند، امریکہ ، برطانیہ، اسپین، روس سمیت تمام ملکوں کے بعد اب شاید پہلی مرتبہ چینی حکومت نے بھی اپنے یہاں ہوئے تشدد کے پیچھے پاکستان میں پھل پھول رہی دہشت گرد تنظیموں کا ہاتھ ہونے کی بات کہی ہے۔ چین کے سرحدی صوبے زنجیانگ میں سنیچر کے روز رمضان سے قبل کم سے کم تین دہشت گردانہ حملے ہوئے ہیں۔ زنجیانگ کی 40 فیصد سے زیادہ آبادی اوغور مسلمانوں کی ہے۔ بنیادی طور پر مسلم اکثریتی علاقہ ہے لیکن چینی حکومت نے بڑی تعداد میں ہانونشی چینیوں کو یہاں بسا کر انہیں اقلیت میں بدل دیا ہے۔ اس علاقے کے بنیادی باشندے مسلمانوں میں اس بات کو لیکر کافی ناراضگی اور کئی لوگ اپنی تہذیب کی حفاظت کے لئے چین سے آزاد ہونے کی مانگ پر اڑے ہوئے ہیں۔ ایسی ہی ایک انتہا پسند تنظیم مشرقی ترکستان اسلامی تحریک ہے۔ جس کے ممبران پر سنیچر اور ایتوار کی دہشت گردی کی واردات میں شامل ہونے کا شبہ جتایا جاتا ہے۔ اس تنظیم کا خاص مرکز پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں ہے اور چینی ذرائع کا دعوی ہے کہ واردات کرنے والوں میں دھماکہ خیز مادہ بنانے کی ٹریننگ پاکستانی دہشت گردی کے کیمپوں میں لی ہے۔ چین کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان کے انتہا پسند کیمپوں میں ٹریننگ لینے والوں کو القاعدہ سے بھی حمایت ملتی ہے اور اس کے پیچھے القاعدہ بھی ہے۔ ان حملوں میں قریب 20 لوگ مارے جاچکے ہیں۔ یہ الزام ایسے وقت لگایا گیا ہے جب پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کے ان دنوں چین کا خفیہ دورہ کرنے کی خبریںآرہی ہیں۔ چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا نیوز کے مطابق قراگر سٹی حکومت کا کہنا ہے کہ سنیچر اور ایتوار کو ہوئے ان حملوں میں پاکستانی تنظیم ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ سے ٹریننگ لینے والے دہشت گردوں کا ہاتھ ہے۔ اس حملے کے بعد پکڑے گئے مشتبہ افراد نے قبول کیا ہے کہ حملہ آوروں کے سرغنوں نے انہی کیمپوں میں بم اور ہتھیار بنانے کی ٹریننگ لی ۔ وہ مذہبی نظریات کے تھے اور جہاد حمایتی بتائے جارہے تھے۔ زنجیانگ علاقے میں چین اور پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی مشترکہ سرحدیں ہیں۔ یہاں سے قراقرم شاہراہ کے راستے چین اور پاکستان کے درمیان کافی تجارت ہوتی ہے۔ زنجیانگ کے مغربی قراگر میں زیادہ تر مسلم اوغور آبادی ہے۔ وہاں چینی نژاد کے لوگوں کو آنے جانے سے اکثر فرقہ وارانہ جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔دونوں کے درمیان 2009 میں ہوئے جھگڑے میں 200 لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔
ہم امید کرتے ہیں کہ اب تو چین کی آنکھیں کھلیں گی۔ آج تک چین ہمیشہ پاکستان کا حمایتی رہا ہے اور ہمیشہ سے یہ ہی کہتا رہا ہے پاکستان دہشت گردی کا جنم داتا نہیں ہے بلکہ خود شکار ہے۔ بیشک کچھ حد تک یہ صحیح بھی ہے۔ آج یہ اسلامی جہادی تنظیم پاکستانی حکومت اور فوج کے کنٹرول سے باہر ہے۔ پاکستانی فوج میں اتنا دم نہیں ہے کہ وہ ان کو روک سکے۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اس کے بیج کس نے بوئے ہیں؟ خود پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی نے ہمیشہ ان تنظیموں کی حمایت کی ہے۔ جب تک بھارت اور امریکہ ان جہادیوں کے نشانے پر تھے تب تک چین خاموش تھا اور عالمی اسٹیج پر پاکستان کا ساتھ دیتا تھا۔ اب جب خود پر آ پڑی ہے تو ہائے توبہ مچا رہا ہے۔فی الحال زنجیانگ میں دہشت گردی کا خطرہ زیادہ نہیں بڑھا ہے لیکن یہ پھیل سکتا ہے۔ چین میں اولمپک کھیلوں کے کچھ وقت پہلے بڑے پیمانے پر تشدد پھیل چکا تھا اور اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آنے والے دنوں میں ان جہادیوں کے حملے اور تیز ہوسکتے ہیں۔ فی الحال چین کو افغانستان میں امریکی مصیبت سے اپنا فائدہ دکھائی دے رہا ہے۔ ہندوستان کے آتنک واد سے نمٹنے میں آرہی اڑچن سے چین کو مزہ آرہا ہے لیکن یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ وہ خود اس آگ سے زیادہ دن بچا نہیں رہ سکے گا۔ چین کے مفاد میں ہوگا کہ وہ پاکستان سے سختی سے پیش آئے اور اسے دہشت گردی کو فروغ دینے سے روکے۔ پاکستان کے سب سے زیادہ قریب چین ہے اور چین کے کہنے کا اس پر اثر ہوگا۔ چین کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ چینی سامراجیہ کا اہم حصہ ہانونشی چینیوں کے راج کو مانتا ہے۔ دوسری نسلوں اور تہذیبوں کے لوگ چاہے وہ تبتی ہوں یا اوغور ہوں ، وہ دوسرے درجے کے شہری ہیں۔ چین کو اپنے ٹریک ریکارڈ کو بھی دیکھنا چاہئے۔ وہ دیش میں ایک بڑی آبادی والے مسلم فرقے سے برابری کا برتاؤ نہیں کرتا۔ زنجیانگ صوبے میں بھی اکثر ملازمتوں میں اوغور نہیں لکھا ہوتا۔وہاں کے مسلمانوں کو کچلنے کی جگہ ان کی بنیادی پریشانیوں پر زیادہ توجہ ہونی چاہئے۔ القاعدہ اور دہشت گرد تنظیموں کو ہمیشہ دبے کچلے مسلمانوں سے ہمدردی ملتی ہے۔ 
Tags: Anil Narendra, China, Daily Pratap, ISI, Pakistan, Terrorist, Vir Arjun

25 مئی 2011

اوبامہ کی دھمکی کا پاکستان نے اسی انداز میں دیا جواب

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

25مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
القاعدہ سرغنہ اسامہ بن لادن کی موت کے بعد امریکہ اور پاکستان کے درمیان لفظی جنگ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ امریکی صدر براک اوبامہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کیلئے امریکہ آپریشن اسامہ کارروائی دوہرانے میں دیر نہیں کرے گا۔ ایک انٹرویو کے دوران اوبامہ نے کہا اپنی سلامتی کے لئے وہ پاکستان میں دوبارہ اپنی فوج بھیجنے سے نہیں چوکیں گے۔ بی بی سی کو دئے گئے انٹرویو میں اوبامہ نے کہا کہ وہ پاکستان کی سرداری کا احترام کرتے ہیں لیکن امریکہ کی سلامتی ان کی پہلی ترجیح ہے وہ کسی کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ ان کے خلاف سازش اور رچی جائے،اس پر امریکہ کارروائی نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر طالبان کا سرغنہ پاکستان میں پایا جاتا ہے تو امریکہ فوج کو دوبارہ بھیجنے میں کوئی قباحت نہیں دکھائے گا۔ انہوں نے پاکستان کو نصیحت دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے تئیں پاکستان کا جو دوہرا پیمانہ اس کی بڑی بھول ہے۔ اسی وجہ سے بھارت اسے اپنے وجود کے لئے خطرہ محسوس کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ اس ذہنیت سے دور ہٹ کر کام کرے تو بہت اچھا ہوگا۔ انہوں نے کہا امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان اس بات کو محسوس کرے اس کے لئے سب سے بڑا خطرہ باہر سے نہیں بلکہ اس کے گھر کے اندر ہی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے چیف احمد شجاع پاشا نے امریکہ کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے نہیں روکے تو پاکستان اس کا جواب دے گا۔ پاشا نے سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل موٹیل کے ساتھ سنیچر کو ہوئی بات چیت میں ان خیالات کا اظہار کیا۔ اخبار دی ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق پاشا نے موٹیل سے کہا کہ اگر آپ ڈرون حملے نہیں روکیں گے تو ہم جواب دینے کیلئے مجبور ہوں گے۔ پاشا نے حال ہی میں پاکستانی ہوائی سرحد میں نیٹو ہیلی کاپٹروں کی دراندازی کا ذکر کرتے ہوئے اس واقعہ کو امریکہ اور پاکستان کے فوجی اشتراک کو ایک جھٹکا بتایا۔ پاکستان کے دورے پر آئے موٹیل سی آئی اے کے آپریشنل افسر اور آئی ایس آئی افسروں کے ساتھ بات چیت کے لئے آئے ہوئے ہیں۔
دراصل ہمیں لگتا ہے کہ امریکہ اب پاکستان کی دوہری پالیسی کو سمجھ گیا ہے۔ ایک طرف تو وہ ’وار آن ٹیرر‘ میں امریکہ کا سب سے بڑا بھروسے مند اتحادی بتاتا ہے ، دوسری جانب آتنکوادیوں کو پوری سکیورٹی اور ٹریننگ ، پیسہ دیتا ہے۔ وہیں امریکہ کو آنکھیں دکھانے کے لئے چین کو آگے کردیتا ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے اپنے حالیہ دورۂ چین کے دوران چین کے تئیں دکھائی گئی بھائی چارگی نے کچھ امریکی ممبران کی بھنویں چڑھا دی ہیں اور وہ پوچھ رہے ہیں کہ چین کو اپنا سب سے اچھا دوست بتانے والا پاکستان امریکہ سے زیادہ سے زیادہ مدد کیوں مانگ رہا ہے؟ سینیٹ کی خارجی معاملوں کی کمیٹی میں سینیٹر جم رش نے کہا ہمارے ذریعے خرچ کئے گئے ایک ڈالر میں سے 40 فیصد ادھر سے آتے ہیں۔ امریکی لوگوں کو یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ہم سے 40 فیصد ادھار لیکر اسے پاکستان کو نہیں دینا چاہئے۔اس کے بعد بھی پاکستان سرکار چین کو اپنا بھروسے مند دوست مانتا ہے۔

Tags: America, Anil Narendra, China, CIA, Daily Pratap, ISI, Obama, Osama Bin Ladin, Pakistan, Shuja Pasha, Vir Arjun

22 مئی 2011

پاکستان نے پھر کھیلا بیجنگ کارڈ

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

22مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
چاروں طرف سے گھرے پاکستان نے ایک بار پھر اپنا بیجنگ کارڈ کھیل دیا ہے اور آج کل پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی بیجنگ میں ماتھا ٹیکنے گئے ہوئے ہیں۔ چین پچھلے کچھ برسوں سے پاکستان کا کافی بھروسے مندملک بنا ہوا ہے۔ چین نے گیلانی کے موجودگی میں امریکہ کو وارننگ دے ڈالی۔ چین نے امریکہ کوخبردارکرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان سے دور رہے۔ اس کے ساتھ چین نے پاکستان کو بھی یقین دلایا کہ وہ اس کی حفاظت اور مدد کیلئے سب کچھ کرے گا۔ امریکہ پاکستان کی سرداری کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ پاکستان کے ایک انگریزی اخبار ’’دی نیشن‘‘ نے یہ جانکاری دی ہے۔ میڈیا کی ایک خبر میں کہا گیا ہے ایبٹ آباد میں القاعدہ سرغنہ اسامہ بن لادن کے خلاف چلائی گئی امریکی کارروائی کے سلسلے میں چین نے صاف طور پر خبردار کیا ہے کہ پاکستان پر کئے گئے کسی بھی حملے کو وہ چین پر حملہ سمجھے گا۔ یہ وارننگ بھرا پیغام واشنگٹن میں چین امریکہ سیاسی مذاکرات کار اور اقتصادی امور پر ہوئی بات چیت کے دوران رسمی طور سے چینی وزیر خارجہ نے دے دیا ہے۔ امریکہ کی پاکستان کی سرداری اور اتحاد کا احترام کرنے کی بھی نصیحت دے دی ہے۔چین کے وزیراعظم بن جیاباؤ نے یوسف رضا گیلانی کو گریٹ ہال آف دی پیپلز اپنی رسمی بات چیت کے دوران اس بارے میں بتایا۔
چین دنیا کا سب سے بڑا بنیا ہے۔ وہ بغیر کسی لالچ کے کوئی کام نہیں کرتا۔ اگر آج وہ پاکستان کی اتنی کھلی مدد کررہا ہے تو اس کی قیمت میں پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی زمین کو آہستہ آہستہ ہڑپتا جارہا ہے۔ پاکستان کشمیر کے ہمارے حصے کو چین کو تھماتا جارہا ہے۔ چین نے پہلے ہی ہزاروں کلو میٹر رقبہ اپنے قبضے میں لے رکھا ہے۔ بھارت کے ناردن کمانڈ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل کے وی پنٹائک نے حال ہی میں ایک سیمینار میں کہا کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں چینی فوجیوں کی موجودگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور لائن آف کنٹرول میں ان فوجوں کی موجودگی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ چین پی او کے میں مسلسل تعمیر کراتا جارہا ہے۔ چین پی او کے کے اندر کئی سڑکیں اور ہوائی اڈے اور ہائیڈرو پاور بجلی گھر شامل ہیں۔ بھارت بدقسمتی سے آج چین اور پاکستان دونوں کا دشمن نمبر ایک ہے۔ امریکہ کا نمبر ہمارے بعد آتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ 1962 میں ہند ۔ چین جنگ کے دوران چین میں شمالی علاقے کے 38 ہزار مربع کلو میٹر اکسائی چن کے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس کے اگلے سال پاکستان نے بھارت پر دباؤ بڑھانے کے لئے چین سے ایک سمجھوتہ کرکے پی او کے کی 5120 مربع کلو میٹر علاقہ چین کی ترقی کیلئے سونپ دیا تھا۔ فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ علاقہ سلامتی کے لحاظ سے سیاسی طور سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔
پاکستان امریکہ کو آنکھ دکھانے کے لئے ہمیشہ بیجنگ کارڈ کھیلتا ہے۔ چین نے پاکستان کو نیوکلیائی سے لیکرہر طرح کی مدد دی ہے۔ حالانکہ کھلے طور پر چین کوئی ایسا کام شاید نہ کرے جس سے امریکہ ناراض ہوجائے لیکن بھارت اس کی کسی گنتی میں نہیں۔ پاکستان ہمیشہ بلیک میلنگ کرکے اپنا الو سیدھا کرتا ہے۔ کبھی امریکہ کو القاعدہ ۔طالبان کے خلاف لڑائی کا ناٹک کرکے ، کبھی چینی کارڈ کھیل کر۔
Tags: Aksai Chin, America, Anil Narendra, Beijing, China, Jammu Kashmir, Pakistan, Vir Arjun

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...