Translater

12 مئی 2018

دیکھیں کرناٹک میں اونٹ کس کرونٹ بیٹھتا ہے

کرناٹک اسمبلی چناؤکی کمپین ختم ہوگئی، آج ووٹ ڈالنے کی باری ہے۔ کمپین کی بات کریں تو اتنی خطرناک چناؤ کمپین پہلے کبھی شایدنہیں ہوئی ہوگی۔ کانگریس اور بھاجپا نے کمپین میں ایک دوسرے پر الزام تراشی میں زبان میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس بار کرناٹک میں کمپین جس سطح پر ہوئی ہے اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی تو غلط نہیں ہوگا۔ کرناٹک چناؤ میں دونوں کانگریس اور بھاجپا کی اپنی اپنی ساکھ داؤ پر لگ گئی ہے۔ چناؤ سے پہلے آئے بڑے 10 اوپین پول میں سے7 نے کانگریس کو بھاجپا سے زیادہ ووٹ دئے ہیں۔ ان سبھی پول میں کانگریس کو35 سے زیادہ ووٹ ملے ہیں یہ ہی نہیں کانگریس ان 35 برسوں میں ہوئے 8 چناؤ میں صرف 1 چناؤ میں 34 فیصد سے کم ووٹ ملے ہیں۔ کانگریس کو سب سے کم ووٹ 1996 میں 26 فیصد ووٹ اور 34 سیٹیں ملی تھیں۔ ریاست کے پچھلے8 چناؤ میں سے 4 میں کانگریس کو40 فیصد سے زیادہ ووٹ ملے ہیں۔ ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کرناٹک میں پچھلے 35 سال میں یعنی جب سے بھاجپا ریاست میں چناؤ لڑ رہی ہے تب سے اب تک کبھی بھی کانگریس کو بھاجپا سے کم ووٹ نہیں ملے ہیں۔ یہاں تک کہ 2008 میں جب بھاجپا کی ریاست میں پہلی بار سرکار بنی تھی تب بھی کانگریس کو بھاجپا سے قریب ایک فیصدی ووٹ زیادہ ملے تھے۔ 2008 کے اسمبلی چناؤ میں بھاجپا کو33.86 فیصد ووٹ اور 110 سیٹیں ملی تھیں وہیں کانگریس کو 34.76 فیصدی ووٹ اور 80 سیٹیں ملی تھیں۔ کرناٹک میں اسمبلی چناؤ کمپین کے آخری دن کانگریس صدر راہل گاندھی نے تلخ حملہ کرتے ہوئے دعوی کیا کہ بھاجپا ریاست میں کانگریس کے خلاف مقابلہ میں نہیں ہے۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ بینکوں میں جمع 90 فیصدی رقم دیش کے 15 امیر صنعت کاروں کے ہاتھوں میں جارہی ہے۔ ریاست میں موجودہ سدارمیا حکومت اور اس سے پہلے بھی بھاجپا سرکار کے کام کے مقابلہ کی تفصیل ایک گرافک ٹوئٹرپر شیئرکی گئی ہے۔ کانگریس صدر کی جانب سے پوسٹ کئے گئے گرافک میں دعوی کیا گیا ہے کہ سدا رمیا سرکار بھاجپا سرکار کے مقابلے میں کافی آگے ہے۔ بنگلورو میں کپڑا صنعت کی مہلا ملازمین سے بات چیت میں کہا کھان کاروباری ریڈی بندھوؤں میں بھی 35 ہزار کروڑ روپے چرائے ہیں جس سے ہزاروں نوکریاں پیدا ہوسکتی تھیں۔ راہل گاندھی پر تلخ حملہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی بدھوار کو حیرانی جتائی۔ کیا دیش کبھی ایسے غیر سنجیدہ اور نامدار نیتا کو وزیراعظم کے عہدے کے لئے قبول کرے گا؟گاندھی خاندان کو تلخ نشانہ بناتے ہوئے مودی نے کہا انہیں (راہل گاندھی) وزیر اعظم کی کرسی ایک خاندان کے لئے ریزرو ہے اور اس پر کوئی نہیں بیٹھ سکتا۔ انہیں لگتا ہے یہ موقعہ ان کا کنبہ جاتی ہے۔ ایک دن پہلے بنگلورو میں راہل گاندھی نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ اگر کانگریس 2019 کے چناؤ میں کامیاب ہوتی ہے تو وہ وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے لئے تیار ہیں۔ مودی نے کہا صبح سے لیکر شام تک ، سوچے جاگتے ان کے دل میں صرف ایک چیز رہتی ہے وہ ہے وزیر اعظم کی کرسی۔ مودی نے چٹکی لیتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی دن میں ہی خواب دیکھ رہے ہیں۔ کرناٹک میں آج ووٹ پڑنے والے ہیں، دیکھیں کہ اونٹ کس کرونٹ بیٹھتا ہے؟
(انل نریندر)

عہدہ چھوڑنے کے بعد وزیر اعلی بھی عام آدمی ہے

وزیر اعلی اپنی کرسی سے ہٹتے ہی عام آدمی کی کیٹگری میں آجاتا ہے۔ ایسے میں اسے سرکاری رہائشگاہ کیوں چاہئے؟ اس ریمارکس کے ساتھ سپریم کورٹ نے یوپی کے اس قانون کو منسوخ کردیا جس میں سابق وزیر اعلی کو تاعمر سرکاری بنگلہ دینے کی سہولت تھی۔ جسٹس رنجن گگوئی اور جسٹس آر بھانمتی کی بنچ نے تاریخی اور دوررس فیصلہ میں کہا کہ سابق وزیر اعلی عام شہری میں کسی طرح کا امتیاز نہیں ہوسکتا۔ سابق وزیر اعلی اپنے پاس رہے عہدہ کی خصوصیت کی وجہ سے سکیورٹی سمیت دیگر پروٹوکول پانے کا حقدار ہے لیکن عہدہ سے ہٹنے کے بعد بھی سرکاری رہائش گاہ میں رہنے کی اجازت دینا یکسانیت کے آئینی اصول کے خلاف ہے۔ بڑی عدالت نے کہا قدرتی وسائل، سرکار زمین و چیزیں جن میں سرکاری رہائشگاہ بھی آتی ہے پبلک پراپرٹی ہے ، یہ دیش کے لوگوں کی ہے، ریاستوں کو اپنے وسائل کی تقسیم میں انصاف کا خیال رکھنے والی یکسانیت کے اصول کا پابند ہونا چاہئے۔ بنچ نے کہا کہ اترپردیش منتری (تنخواہ بھتہ و قانونی سہولت)1981 ایکٹ شہریوں کا ایک الگ طبقہ تیار کرتا ہے ۔ یہ انہیں سابق پبلک نمائندہ کی بنیاد پر سرکاری املاک کا حقدار بناتا ہے۔ عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی انہیں الگ طبقہ کی حیثیت دینا منمانا و امتیاز پر مبنی ہے۔ یہ آئینی تقاضوں کے فیصلے کے برعکس ہے۔ ابھی اترپردیش کے سابق وزیر اعلی این ڈی تیواری، ملائم سنگھ یاو، کلیان سنگھ، راجناتھ سنگھ، اکھلیش یادو اور مایاوتی کو راجدھانی لکھنؤ میں سرکاری بنگلہ ملا ہوا ہے۔ دہلی میں سی ایم کو عہدہ سے ہٹنے کے بعد تین مہینے کے اندر بنگلہ خالی کرنا ہوتا ہے اس کے بعد وہ بازار کی شرح سے کرایہ دیکر چھ مہینے تک اس میں رہ سکتے ہیں۔ دیش کی سبھی سیاسی پارٹیوں کو خود آگے آکر سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کی حمایت کرنی چاہئے اور جتنے بھی سابق وزیر اعلی غیر آئینی سہولیت کا استعمال کررہے ہیں انہیں مرضی سے اسے چھوڑدینا چاہئے۔ دراصل سیاسی طبقہ کا رویہ اور طرز عمل اور کلچر سامنتو کی طرح ہوگیا ہے جو عام جنتا کو پرجا اوراپنے آپ کو حکمراں طبقہ کی طرح مانتا ہے۔ اگست 2016 میں ایک غیر سرکاری تنظیم لوک پرہیری کی مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اترپردیش کے سابق وزیر اعلی کو سرکاری بنگلہ الاٹ کرنے کی سہولت کو منسوخ کردیا تھا لیکن تب اکھلیش سرکار نے اترپردیش منتری گن قانون 1981 میں ترمیم کرکے سابق وزرائے اعلی کو مخصوص حق دیکر محفوظ کردیا تھا۔ اس ترمیم کو لوک پرہیری نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ عدالت کا یہ فیصلہ دیش کے تمام راجیوں پر لاگو ہوگا۔ راجستھان، بہار، آسام جیسی ریاست بھی اس سے متاثر ہوسکتی ہیں۔ بنگلے جتنی جلدی خالی ہوجائیں اتنا ہی اچھا ہے۔
(انل نریندر)

11 مئی 2018

مالیا کیس : بھارت سرکار، بینکوں کا شاندار کارنامہ

ہندوستانی بینکوں سے ہزاروں کروڑ روپے لیکر دیش چھوڑ کر بھاگے ہندوستانی صنعتکار سے پیسے کی برآمدگی کے معاملہ میں بھارت سرکار و سرکاری ایجنسیوں کو زبردست کامیابی ملی ہے۔ میں بات کررہا ہوں صنعتکار ،شراب کاروباری وجے مالیا کی۔ برطانوی ہائی کورٹ میں ہندوستانی بینکوں کی طرف سے 1.55 ملین ڈالر یعنی 10 ہزار کروڑ روپے کی وصولی کے معاملہ میں مالیا کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے۔ جج اینڈرج ہرشی نے دنیا بھر کی املاک کو ضبط کرنے کے احکامات کو پلٹنے سے انکارکردیا۔ عدالت نے ہندوستانی عدالت کے اس فیصلے کو بھی برقرار رکھا ہے جس میں 13 بینکوں کی کنسورٹیم کو مالیا سے قریب 10 ہزار کروڑ روپے کی وصولی کرنے کا حقدار بتایا گیا ہے۔ ہندوستانی بینکوں کے حق میں آئے فیصلے سے انگلینڈ اور ویلس میں مالیا کی املاک پر بھی ہندوستانی عدالت کا فیصلہ نافذ ہوگا۔ عالمی ضبطی کا حکم بحال رہنے کے بعد مالیا انگلینڈ اور ویلس میں اپنی کسی پراپرٹی کو بیچ یا ٹرانسفر نہیں کرسکے گا، نہ ہی پراپرٹی کی قیمت گھٹا سکے گا۔ جج ہیمشا نے منگلوار کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اب مالیا کو کورٹ آف اپیل میں عرضی دائرکرنی ہوگی۔ انگلینڈ کے ہائی کورٹ، کمرشل کورٹ کی کوئین ڈویژن بنچ میں یہ مقدمہ جیتنے والے13 بینکوں میں ایس بی آئی ، بینک آف بڑودہ، کارپوریشن بینک، فیڈرل بینک، آئی ڈی بی آئی بینک، انڈین اوورسیسز بینک ، جموں کشمیر بینک، پنجاب اینڈ سندھ بینک، پنجاب نیشنل بینک، اسٹیٹ بینک اور میسور، یوکو بینک ، یونائیٹڈ بینک آف انڈیا اور جے ایم فائننشیل ایسیٹس ری کنسٹریکشن کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ شامل ہیں۔ مالیا پر الزام لگا تھا کہ اس نے جان بوجھ کر بند پڑی اپنی کنگ فشر ائر لائنس کے لئے قریب 1.4 ارب ڈالر کا قرض لیا تھا۔ جج نے املاک کو دنیا بھر میں ضبط کرنے کے حکم پلٹنے کی مالیا کی مانگ کو خارج کردیا۔ 62 سالہ مالیا برطانیہ میں ہی نہیں بلکہ بھارت میں بھی کئی مقدموں کا سامنا کررہا ہے۔ اس میں دھاندلی اور منی لانڈرنگ کے الزامات سے جڑے معاملے شامل ہیں۔ ایک سال پہلے اسے لندن میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ حوالگی سے بچنے کے لئے ایک دوسری کورٹ میں قانونی لڑائی بھی لڑ رہا ہے۔ لندن کی ایک دوسری عدالت میں وجے مالیا کی حوالگی کا مقدمہ چل رہا ۔مانا جارہا ہے کہ اس فیصلہ سے حوالگی کی کوششوں کو بھی مضبوطی ملے گی۔ اس کیس کے فیصلے کے دور رس اثر ہوں گے۔ اگر مالیا آگے اپیل میں بھی ہار جاتا ہے اور اس کی ریکوری ہوتی ہے تو نہ صرف بھارتیہ بینکوں کے ڈوبے پیسے لوٹنے کی امید جاگتی ہے بلکہ مودی سرکار کا یہ ایک بڑا کارنامہ ہوگا۔ اس سے ہندوستانی بھگوڑوں کو دیش واپس لانے اور ان کے پیسوں کی برآمدگی کا بھی چانس بنتا ہے۔ اس سے یہ بھی پیغام جائے گا کہ پیسوں کی جعلسازی کرکے آپ کہیں نہیں چھپ سکتے۔
(انل نریندر)

سیاحوں کے قتل نے پتھر بازوں کی قلعی کھول دی

جموں و کشمیر کے شوپیاں ضلع میں اسکولی بس پر پتھراؤ کے واقعہ کے چار دن بعد پیر کو پتھربازوں نے سرینگر کے گولمرگ ہائی وے پر ایک گاڑی کو نشانہ بنایا۔ اس میں چنئی کے ایک سیاح کی موت ہوگئی۔ اس حملہ میں ایک مقامی لڑکی بھی زخمی ہوگئی۔ سیاح کی شناخت تھرومنی (22 سال ) کی شکل میں ہوئی جبکہ زخمی لڑکی ہنڈواڑہ کی سبرینا ہے۔ اس سے پہلے بدھوار کو 40سے50 بچوں سے بھری اسکولی بس کو شوپیاں کے جبورا علاقہ میں گھیرکرپتھراؤ کیا گیا۔ ان دونوں واقعات نے صوبے کی سرکار کی پتھر بازوں کو عام معافی دینے کی پالیسی پر سوال کھڑا کردیا۔ ریاست میں ایک سیاح کی موت پہلا واقعہ ہے۔ اس واردات کے بعد کشمیر کے ٹورازم پر برا اثر پڑنے کے علاوہ آنے والے دنوں میں پوتر امرناتھ یاترا پر بھی ایسے حملوں کے اندیشے کے بادل منڈرانے لگے ہیں۔ اس سے وادی میں اپنے ہی اسکولی بچوں کی بس پر پہلی بار کی گئی پتھر بازی میں سیاح کی موت سے خفیہ اور سکیورٹی ایجنسیوں کی بھنویں تن گئی ہیں۔ پتھر بازی کرنے والے کوئی بچے نہیں ہیں سب کے سب ہوش حواس والے بالغ لڑکے ہیں۔ ظاہر ہے یہ دونوں حملہ بزدلانہ اور بغیر ٹارگیٹ کے نہیں تھے۔ ان کا مقصد خاص اقتدار اور سماج کو پیغام دینا تھا۔ پتھر بازوں کے آقا چاہتے ہیں کہ اگر آتنک وادیوں کو مڈ بھیڑ میں مارا گرایا جاتا رہا تو پتھر بازی جاری رہے گی۔ یہ کیا سیدھے سیدھے دہشت گردی کی حمایت نہیں ہے؟ وہ تو چاہتے ہیں کہ کشمیر کی وادیوں میں دہشت بنی رہے اور آتنک وادی سلامت رہیں۔ سیکورٹی ایجنسی یا فورس ان کو سلام کرتی رہے۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو وہ کشمیر کو شورش زدہ رہنے کا اظہارپوری دنیا میں کریں گے۔ یہ پیغام اس وقت دیا جارہا ہے جب جموں وکشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی ان پتھر بازوں کو (گمراہ معصوم) مانتے ہوئے انہیں یکمشت معافی دئے جانے اور ان کو بسانے کی وکالت کرتی رہی ہیں۔ معلوم ہو کہ صوبے کی ٹی ڈی پی بھاجپا اتحادی حکومت نے اس سال کے شروع میں قریب5500 پتھر بازوں کو عام معافی دیتے ہوئے ان کے خلاف درج مقدمات کو واپس لیا تھا۔ صوبے کی محبوبہ مفتی سرکار نے یہ خوش آمدی آمیز قدم وادی میں گمراہ نوجوانوں کو قومی دھارا سے جوڑنے کے لئے مرکزی وزارت داخلہ کی رضامندی کے بعد اٹھایا تھا۔ تب صوبے کی سرکار نے یہ کہا تھا کہ پتھر بازی کرتے ہوئے پہلی بار پکڑے جانے والے سبھی پتھر بازوں کو عام معافی دے دی گئی ہے۔ حالانکہ اس وقت بھی گٹھ بندھن سرکار کے اس فیصلے کی چوطرفہ نکتہ چینی کی گئی تھی۔ تب اپوزیشن پارٹیوں کے علاوہ نکتہ چینی کرنے والوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اتحادی سرکار کا یہ قدم مناسب نہیں ہے۔ اس سے پتھر بازوں کو شے ملے گی اور پتھر بازی بڑھے گی۔ شوپیاں کے یہ واقعات اسے ہی ثابت کرتے ہیں۔

(انل نریندر)

10 مئی 2018

وادی میں دہشت گردوں کا صفایا: ماحول کیسے بہتر ہو

پچھلے کچھ مہینوں سے سکیورٹی فورس نے کشمیر وادی میں دہشت گردوں کی پہچان اور ان کا چن چن کر صفایا کرنے کارروائی چلا رکھی ہے۔ اس کارروائی میں انہیں کئی بڑی کامیابی ملی ہیں۔ پچھلے ایک ہفتہ میں شوپیاں میں حزب المجاہدین کے 5 سے زیادہ اور چھتہ بل میں لشکر طیبہ کے 3 دہشت گردوں کا مارا جانا تازہ کڑی ہے۔شوپیاں میں ایتوار کوسکیورٹی فورس نے برہان وانی گینگ کے آخری کمانڈر صدام پیڈر سمیت حزب المجاہدین کے پانچ دہشت گردوں کو مار گرایا۔پیڈر ان دنوں حزب المجاہدین کی رہنمائی کررہا تھا۔ اس کی موت کے بعد سے برہان گینگ کا صفایا ہوگیا ہے۔ 2015 میں برہان گینگ کے 11 دہشت گردوں کی تصویر سوشل میڈیا میں آئی تھی جس سے پوری وادی میں سنسنی پھیل گئی تھی۔ قابل ذکر ہے برہان وانی کی 8 جولائی 2016 کو انکاؤنٹر میں موت ہوگئی تھی۔شوپیاں میں ایتوار کو صبح سویرے مارے گئے دہشت گردوں میں کشمیر یونیورسٹی کا سوشل سائنس کا اسسٹنٹ پروفیسر محمد رفیع بٹ بھی ہے۔ اسے آتنکی بنے محض 36 گھنٹے ہی ہوئے تھے۔ اس طرح ایک مرتبہ پھر وادی میں حزب المجاہدین کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ اسے بلا شبہ ہمارے بہادر سکیورٹی جوانوں کی بڑی کامیابی کہا جاسکتا ہے۔ جوائنٹ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کو بھگانے کے لئے پتھر بازی کرنے والے پانچ شہری بھی مارے گئے۔ اس سے پہلے ایک اپریل کو ساؤتھ کشمیر میں فوج اور باقی فورس کے آپریشن میں 13 دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔ اس دوران پتھر بازی میں 4 شہریوں کی بھی موت ہوگئی تھی۔ جس طرح وادی کے شہری ٹھکانوں سے سکیورٹی فورس کو دہشت گردوں کی چنوتیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا اس سے صاف ہے کہ انہیں پہنچنے والی اقتصادی مدد اور سازو سامان سے متعلق مدد روک پانے میں ہمیں توقع سے زیادہ کامیابی نہیں مل پائی ہے۔ برہان وانی کے مارے جانے کے باوجود کشمیر میں تحریک چھڑچکی تھی اور خاص کر نوجوانوں میں بڑے پیمانے پر حزب المجاہدین کی ممبر شپ لی تھی۔ مہینوں سے وادی میں پتھر بازی اور شہری ناراضگی کا ماحول بن رہا تھا۔ شہری حمایت اور پتھر بازی اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ کچھ عناصر وادی میں حالات سدھرنے نہیں دے رہے ہیں۔ رہ رہ کر دہشت گرد و مقامی نوجوان سکیورٹی فورس کے خلاف سر اٹھاتے رہے ہیں۔ خاص کر ریاست کے جنوبی حصہ میں حالات زیادہ تشویشناک ہیں۔ پتھر بازی اور سکیورٹی فورس پر سب سے زیادہ حملے انہی علاقوں میں ہوتے رہے ہیں۔ حالانکہ سرکار یہ دلیل دیتی ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں حال ہی کے مہینوں میں یہ کمی آئی ہے مگر اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ نوجوانوں میں دہشت گردی کی راہ پکڑنے اور سکیورٹی فورس کے خلاف ماحول بگاڑنے کی کارروائی ابھی تھمی نہیں ہے۔ یہ کام وہاں کی سرکار کو کرنا ہے۔ سکیورٹی فورس یہ نہیں کرسکتی۔ اگر ماحول بہتر نہیں ہوا تو اس کے لئے مفتی سرکار ذ مہ دار ہے۔
(انل نریندر)

آمیر اور ناہرگڑھ سمیت درجن بھر قدیمی وراثتوں کا ٹھیکہ

لال قلعہ کو مرکزی سرکار کی جانب سے ڈالمیا گروپ کو دئے جانے کی جو مخالفت ہورہی ہے۔ آئے دن اس فیصلے کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ حال ہی میں اجے ماکن کی قیادت میں پردیش کانگریس کا مظاہرہ ہوا۔ صدر اجے ماکن نے کہا کہ مودی سرکار کے ذریعے تاریخی لال قلعہ کو سازش کے تحت نجی ہاتھوں میں دیا جانا نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ ہمیں قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کانگریس ورکر علامتی طور پر 5-5 روپے دان پیٹی میں ڈال کر اکٹھا کرکے لال قلعہ کے رکھ رکھاؤ کے لئے مودی جی کو بھیجیں گے۔ اگر ضرورت پڑی تو کانگریس ورکر ہر برس 5 کروڑ روپے اکٹھاکرکے مرکزی حکومت کو دیں گے لیکن مودی سرکار کو لال قلعہ بیچنے نہیں دیں گے۔ ماکن نے کہا مودی سرکار اپنے پروپگنڈہ کے لئے 3 ہزار کروڑ روپے تو خڑچ کرسکتی ہے لیکن دیش کی قدیمی وراثت لال قلعہ کی مرمت و دیکھ بھال کے لئے پانچ کروڑ روپے سالانہ خرچ نہیں کرسکتی۔ ادھر چاندنی چوک سے عام آدمی پارٹی کی ممبر اسمبلی الکا لامبا نے بتایا کہ صرف گیٹ ٹکٹوں سے ہی لال قلعہ میں اینٹری کے لئے سالانہ 18 کروڑ روپے کے ٹکٹ بکتے ہیں۔ دیویا چیتنا کمیٹی کے ساتھیوں نے ہاتھوں میں ڈبے لیکر عام جنتا سے لال قلعہ کو بچانے کے لئے بسوں ،ای۔رکشہ میں بیٹھے مسافروں کے پاس جاکر ایک روپے کا ڈونیشن مانگا۔ مظاہرے کی قیادت کرتے ہوئے سکریٹری راہل شرما نے کہا کہ مرکز ایک طرف راشٹروادی ہونے کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف قوم کی وراثت لال قلعہ کو سنبھالنے میں ناکام ہوگیا ہے۔ ہم سرکار کے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہیں اور سبھی دیش واسیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ تاریخی وراثت لال قلعہ کو بچانے کے لئے ایک روپے کا عطیہ دیں۔ اس دان کی راشی کو پردھان منتری ریلیف فنڈ میں بھیجا جائے گا۔ خبر یہ بھی ملی ہے کہ مرکزی سرکار کی گود لی ہیریٹیج یوجنا میں راجستھان کی بھی قریب ایک درجن تاریخی وراثتوں کو پرائیویٹ سیکٹر کو سونپا جائے گا۔ ان میں دنیا کا مشہور آمیر او ر ناہرگڑھ کا قلعہ بھی ہے۔یوجنا کے تحت سال2018 میں 90 سے زیادہ تاریخی وراثتوں کو گود لیا جائے گا۔ ان میں تین کیٹگری بنائی گئی ہیں جن میں گرین، بلیو اور اورینج کیٹگری ہے۔ گرین کیٹگری میں رکھی گئی وراثتیں لینے والوں کو بلیو اور اورینج کیٹگری کی ایک وراثت بھی لینی ہوگی۔ ویسے بلیو اور اورینج کیٹگری کی وراثت ہی کوئی لے یا چاہے تو لے سکتا ہے۔راجستھان میں جو اہم قلعہ پرائیویٹ سیکٹر کو سونپے گئے ہیں ان میں چتوڑ گڑھ کا قلعہ جو دنیا کی مشہور وراثتوں میں شامل ہے۔ پہلے جیسلمیر کا قلعہ یوجنا کے دوسرے مرحلہ میں ناہرگڑھ اور آمیر قلعہ تیسرے مرحلہ میں سونپا جائے گا۔ اورینج کیٹگری میں رکھی گئی وراثتوں میں ڈگ پلیس (بھرت پور) مان گڑھ (الور)، مندور فورٹ (جودھپور) ہیں۔ بھرت پور فورٹ اور گڑھ فورٹ (دھول پور ) محل بادشاہی(پشکر) قابل ذکر ہیں۔
(انل نریندر)

09 مئی 2018

افغانستان میں 7 انجینئروں کا اغوا

خانہ جنگی سے تباہ حال افغانستان کی مدد کرنے اور وہاں ترقی کو رفتار دینے میں لگا بھارت ہمیشہ سے طالبان کی آنکھوں میں کھٹکتا رہا۔ بغلان صوبہ میں ایتوار کو بجلی ٹرانسمیشن لائن لگانے والی ہندوستانی کمپنی کے ای سی کے 8 ملازمین کو مسلح افراد نے اغوا کرلیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق طالبان جنگ باز انہیں سرکاری ملازم سمجھ کر اپنے ساتھ لے گئے۔ ایسوسی ایٹیٹ پریس کے مطابق ان میں 7 ہندوستانی انجینئر شامل ہیں اس کے علاوہ ایک افغان شہری بھی اغوا کیا گیا۔ جس جگہ سے اغوا ہوا وہاں حالیہ دنوں میں طالبان کی طاقت کافی بڑھی ہے۔ مانا جارہا ہے کہ اس اغوا میں بھی طالبان کا ہاتھ ہے۔ افغان چینل تولو نیوز نے اپنے حکام کے حوالہ سے بتایا کہ اغوا بغلان کی راجدھانی پل اے خوچر کے باغ شمائل علاقہ میں ہوا۔ سبھی الیکٹرک انجینئرہیں۔ کے ای سی کو اس علاقہ میں ایک بجلی سب اسٹیشن کو چلانے کاکام ملا ہوا ہے۔ ادھر آر پی جی انٹر پرائز کے چیئرمین ہرش گوئنکا نے انجینئروں کو چھڑانے کے لئے وزیر خارجہ محترمہ سشما سوراج سے مدد مانگی ہے۔ کے ای سی بڑے پیمانے پر بجلی کے سیکٹر میں کام کرتی ہے۔ اس کے افغانستان میں قریب 150 انجینئر و تکنیکی ماہرین مختلف پروجیکٹوں پر کام کررہے ہیں۔ افغانستان میں ہندوستانی ہمیشہ نشانہ پر رہے ہیں۔ پاک حمایتی آتنکی گروپ افغانستان میں بھارت کی موجودگی و ترقی کا کام کرنے سے پریشان رہتا ہے اور یہ گروپ بھارت کو وہاں سے بھگانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ افغانستان بھارت کے لئے ہمیشہ اہم ترین ملک رہا ہے۔ بھارت نے افغانستان کی ہر ممکنہ مدد کی ہے۔ اس کی تعریف امریکہ بھی کرتا ہے۔ بھارت نے افغانستان میں اربوں ڈالر کے ترقیاتی پروجیکٹ شروع کرنے کے ساتھ فوجی تعاون بھی بڑھایا ہے۔ بھارت نے افغانستان کے پارلیمنٹ ہاؤس کے لئے مالی مدد دی تھی اور اس کی تعمیر بھی کروائی تھی۔ حال ہی میں بھارت نے افغانستان کو چار ایم آئی 25 ہیلی کاپٹروں کا تحفہ بھی دیا تھا جبکہ ہر سال سینکڑوں افغان فوجی اور پولیس ملازمین کو بھی ٹریننگ دیتا ہے۔ وہیں طالبان بھارت کی مدد کی مذمت کرتا آرہا ہے۔ جرمنی کی ہائڈل برگ یونیورسٹی میں ساؤتھ ایشیا معاملوں کے ماہر جگفیلٹ وولف کہتے ہیں کہ کابل میں ہونے والے طالبان کے حملہ صرف افغان سرکار کے خلاف نہیں ہوتے بلکہ بھارت کے افغانستان سے باہر رکھنے کی طرف اشارہ ہے۔ پہلے بھی دسمبر 2003 میں ہندوستانیوں کا اغوا ہوا تھا لیکن انہیں بعد میں چھوڑدیا گیا۔ وہیں جولائی 2004 میں تین ہندوستانی ٹرک ڈرائیوروں کا اغوا کرلیا گیا تھا انہیں چھڑانے کے لئے بھارت سرکار کو کافی مشقت کرنی پڑی تھی۔ وہیں اس کے بعد نومبر 2005 میں ساؤتھ ویسٹ افغانستان میں ایک ہندوستانی سمیت تین شہریوں کا اغوا کرلیا تھا۔ ہندوستانی شہری کٹی کی لاش افغانستان کے جنوبی صوبہ میں سڑک کے کنارہ ملی تھی۔ ہم پرارتھنا کے ساتھ امیدکرتے ہیں کہ ان ساتوں ہندوستانیوں کی رہائی جلد ہوگی۔
(انل نریندر)

کیا پاکستانی فوج بھارت کے ساتھ رشتے بحال کرنا چاہتی ہے

پاکستانی فوج دیش کی ترقی اور خوشحالی کے لئے بھارت کے ساتھ رشتوں کو بہتربنانا چاہتی ہے۔ یہ نظریہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا کے ذہن میں پیدا ہورہا ہے۔ برطانیہ کے رائل یونائیٹس سروس انسٹیٹیوٹ کے پاکستانی ماہر کمال عالم نے کہا پاکستان کی سیاست میں فوج کا موثر دخل رہا ہے۔ ایسے میں باجوا بھارت کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں تو یہ ایک اچھا قدم ہے۔ آنے والے دنوں میں پاکستان اور بھارت کی فوجیں بھی ایک دوسرے کا تعاون کرتی دکھائی دے سکتی ہیں۔ پاکستان کی سرکاری پالیسی طے کرنے میں پاک فوج کا اہم رول ہوتا ہے۔ پاکستان کے قیام کے 70برسوں میں زیادہ تر وقت اقتدار فوج کے ہاتھ میں رہا ہے۔ جب وہ درپردہ طور سے اقتدار پر قابض نہیں رہی ہے تب بھی اس کی سرکار پر لگام رہی ہے۔ پاکستانی فوج کا نظریہ بدلنے کا ثبوت یہ ہے کہ اپریل میں یوم پاکستان کی فوجی پریڈ میں پہلی بار ہندوستانی سفارتخانہ میں تعینات ملٹری اطاچی اور اس کے ساتھیوں کو مدعو کیا گیا۔ یہ بات کمال عالم نے بھی لکھی ہے اس کے دو ہفتے بعد جنرل باجوا نے پڑوسی دیش کے تئیں اپنے نظریئے میں تبدیلی لاتے ہوئے کہا پاکستانی فوج بھارت کے ساتھ رشتوں سے امن اور بات چیت کی شروعات چاہتی ہے اور نزدیک آنے کا یہ بھی اشارہ ہے کہ دونوں دیشوں کی فوجیں ستمبر میں پہلی بار مشترکہ فوجی مشقیں کریں گی، اس میں چین بھی شامل ہوگا۔ یہ سارے پیغام سرحد پر پیدا کشیدگی کے درمیان آرہے ہیں۔ اس لئے مانا جارہا ہے کہ پاکستانی فوج کی سوچ بدل رہی ہے۔ کچھ مہینے پہلے تک نارتھ کوریا نیوکلیائی ہتھیاروں اور میزائلوں اور دھمکی کی جس زبان میں بات کررہا تھا اس میں نہ صرف کوریائی جزیرے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لئے خطرہ بتایا جارہا تھا۔ لیکن پچھلے مہینے 27 اپریل کو اسی نارتھ کوریا نے وہ کام کردکھایا جو اب تک ناممکن سمجھا جارہا تھا۔ اس کے نیتا کم جونگ ان نے ساؤتھ کوریا کے ساتھ 1953 سے چلی آرہی خانہ جنگی کی صورتحال ختم کرنے کا اعلان کیا۔نارتھ کوریائی جزیرے کے اس بڑے واقعہ کے بعد سوشل نیٹورک کی ویب سائٹوں پر یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ اگر نارتھ کوریا اور ساؤتھ کوریا دونوں ایسا کرسکتے ہیں تو بھارت پاکستان کیوں نہیں؟ کیا پاک فوج کے نظریئے میں تبدیلی آرہی ہے؟ پاک ڈیفنس ماہر برگیڈیئر ریٹائرڈ سعاد محمد کھتیال کا کچھ ایسا ہی کہنا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کی قیادت یہ سوچتی ہے کہ 70 برسوں کی لڑائی کے باوجود کشمیر تحریک کا کوئی حل نہیں نکلا۔اگر اگلے 300 سالوں تک یہ لڑائی جاری رہی تو بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوں گے۔ایسی صورت بنی تو دونوں دیش ترقی نہیں کرپائیں گے۔ پاک کے سابق فوجی سربراہ جنرل اشفاق کیانی کے زمانے میں پہلی بار پاک فوج کے نظریئے میں تبدیلی آئی تھی جب انہوں نے کہا تھا پاکستان کی سلامتی کو بھارت سے خطرہ نہیں ہے بلکہ اندرونی دشمنوں سے ہے جو مسئلہ آج پاک میں ہیں وہ اسی کی دین ہیں۔
(انل نریندر)

08 مئی 2018

نیشنل فلم ایوارڈفنکشن تنازعات میں

نیشنل فلم ایوارڈ فنکشن کی اپنی اہمیت ہے۔ بڑے سے بڑا فلم ساز نیشنل ایوارڈ پا کر فخر محسوس کرتا ہے ۔ اسے پاتے ہوئے ان کی آنکھوں میں الگ چمک ہوتی ہے اور ہونٹوں پر ایک الگ مسکان اور چہرے پر ایک الگ سکون ہوتا ہے۔ یہ ایوارڈ جہاں کسی فلم ایکٹر کے فن کی کوالٹی کو ایک پہچان اور منظوری دیتا ہے وہیں دیش کے صدر کے ہاتھوں سے اس کا ملنا ان کی زندگی کا ایک نایاب لمحہ بن جاتا ہے ۔ لیکن اس بار 3 مئی کو نئی دہلی کے وگیان بھون میں 65 واں نیشنل فلم ایوارڈ فنکشن تنازعوں میں آگیا ہے۔ خوشی اور جوش کے موقعہ پر یہ غمگین اور مایوسی کا ماحول اچانک تب بنا جب ایوارڈ پانے والوں کو 2 مئی کو فنکشن کی ریہرسل کے دوران پتہ لگا کہ اس مرتبہ صدر جمہوریہ اپنے ہاتھوں سے نہ صرف 11 افراد کو ہی ایوارڈ دیں گے اور دیگر انعام پانے والوں کو اطلاعات و نشریات محترمہ اسمرتی ایرانی نوازیں گی۔انعام ونرس نے اس سے ناراض ہوکر تقریب کا بائیکاٹ کردیا۔ 53 ونر اپنا ایوارڈ لینے نہیں پہنچے۔ دراصل اب تک یہ ایوارڈ صدر جمہوریہ ہی دیتے رہے ہیں۔ صدر کے پریس سکریٹری کا کہنا ہے کہ صدر رامناتھ کووند عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ہی ایسے پروگراموں کے لئے صرف ایک گھنٹے کا وقت دے رہے ہیں۔ یوم جمہوریہ یا کوئی بیحد اہم ترین میٹنگ ہی اس کا جواز ہوسکتی ہے۔ منتظمین کو کئی ہفتے پہلے بتادیا گیا تھا کہ صدر اس پروگرام کے لئے ایک گھنٹہ ہی دستیاب رہیں گے۔ پہلی بار یہ انتظام کیا گیا تھا جو نیشنل فلم ایوارڈ تقریب کے بنیادی مقصد کے برعکس تھا، وہ مقصد تھا دیش میں فلم آرٹ کلچر کو بڑھاوا دینے کے لئے حکمرانی کے سب سے اعلی عہدہ پر بیٹھے صدر سے آرٹسٹوں کو اعزاز سے نوازنا۔ اس کے ذریعے فنکاروں کے کام کی سراہنا کے ساتھ ساتھ ان کی قومی اہمیت کی بھی نشاندہی کرنا تھا۔ صدر کو یہ کام کرنا تھا تاکہ آرٹسٹوں میں اپنے ٹیلنٹ دکھانے پر سنمانت ہونے کا سب سے عمدہ احساس ہو لیکن جانے کیا سوچ سمجھ کر یہ کام دو ٹکڑوں میں بانٹ دیاگیا۔ کیا صدر کسی ضروری کام میں مصروف ہوگئے تھے؟ ایسی تو کوئی اطلاع بھی نہیں تھی اور نہ ہی دیش میں کوئی ناگزیں صورتحال پیدا ہوگئی تھی جس میں صدر کا حصہ لینا تقریب سے زیادہ ضروری ہوگیا تھا۔ پھر یہ سسٹم کس کے کہنے پر بنایا گیا؟ کس سے ان فنکاروں توہین ہوئی جنہیں نیشنل ایوارڈ صدر جمہوریہ کے ہاتھوں ملنے تھے۔ رامناتھ کووند سے پہلے جتنے بھی صدر ہوئے ہیں وہ آرٹسٹوں کو اعزاز سے نوازنے کے لئے پورا وقت نکالتے رہے ہیں پتہ نہیں صدر محترم نے ایسا قانون کیوں بنایا کہ وہ ایسی کسی تقریب میں صرف ایک گھنٹہ ہی دیں گے۔جب روایت یہ ہوتی آئی ہے تو اس پر کیوں نہیں عمل کیا گیا؟ اس پر فلمساز شان بینگل کا یہ کہنا صحیح لگتا ہے کہ جب آپ کے پاس ہمیں سنمانت کرنے کا وقت ہی نہیں ہے تو پھر ہمیں بلاتے کیوں ہے؟ ایسا کہنے والے وہ اکیلے نہیں ہیں۔ ظاہرہے اس غیر متوقعہ واقعہ کو فلم صنعت نے اپنے تئیں حکومت کی تقسیم کاری اور حقارت کا احساس مانا ہے۔ اس سے ان کا وقار ڈاؤن ہوا ہے۔ اس سلسلہ میں ان کے احتجاج کو بھی سمجھنا چاہئے کہ سوال یہ بھی ہے کہ جب وزارت اطلاعات و نشریات کو یہ پہلے سے پتہ تھاتو ایوارڈ ونرس کو اندھیرے میں کیوں رکھا گیا؟ لیکن اس سے بھی بڑا سوال یہ بھی ہے کہ نیشنل فلم ایوارڈ فنکشن جیسا پروگرام صدر موصوف کیلئے کم اہم ترین کیوں ہے؟
(انل نریندر)

ہمیں کیوں نہیں ملتی طوفان آنے کی آہٹ

قدرت کا قہر لمحہ بھر میں ہی تباہی مچا دیتا ہے۔ موسم کے اچانک پلٹنے سے بدھوار کو راجستھان اور اترپردیش میں وسیع تباہی مچی۔ 132 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلی آندھی طوفانی ہوا نے نہ صرف کئی جانیں لے لیں ساتھ ہی گیہوں، آم، سرسوں کی فصل کو بھی نقصان پہنچایا۔ اب تک سوا سو سے زیادہ لوگوں کے مارے جانے کی اطلاع ملی ہے جبکہ 70 سے زیادہ لوگ اترپردیش میں اور 40 سے زیادہ لوگ راجستھان میں اس کی زد میں آگئے ہیں۔ چونکانے والی بات یہ ہے کہ بھاری تام جھام اورنامی سائنسدانوں سے بھرے پڑے محکمہ موسم نے مشرقی اور نارتھ ایسٹ کی ریاستوں میں 1 سے4 مئی تک بھاری بارش اور طوفان کی وارننگ دی تھی۔ اس میں کہیں بھی اترپردیش کا ذکر نہیں تھا جبکہ سب سے زیادہ نقصان راجستھان، اترپردیش، اتراکھنڈ، مدھیہ پردیش،بنگال اور بہار میں ہوا جبکہ موسم کی جانکاری دینے والے ادارہ اسکائی مینٹ نے نارتھ انڈیا میں تباہی کا اندیشہ جتایا تھا اور وارننگ بھی جاری کی تھی۔ محکمہ موسمیات کی ایسی ناکامی سرکار اورجنتا دونوں کے لئے تشویش کا سبب ہے۔ سینکڑوں جانور مارے گئے، مکان ڈھے گئے اور پیڑ ٹوٹنے ،بجلی کے کھمبے گرنے کے علاوہ گیہوں اور آم کی فصل بھی برباد ہوئی ہے۔سائنسدانوں کے مطابق زیادہ درجہ حرارت ہوا میں نمی کم دباؤ کا زون بن جانے سے طوفان آنا لازمی ہے اور چونکہ یہ سب کچھ اچانک ہی ہوتا ہے ایسے میں باقاعدہطور پر ایسے بونڈر سے بچنے کا وقت نہیں مل پاتا۔ پریشانی کی بات اس لئے بھی ہے کیونکہ بھارت کی معیشت میں ذراعت کا اہم اشتراک ہے اور اگر کسانوں کو موسم کی ایسی مار جھیلنی پڑے گی تو دیش کی معاشی صورتحال بھی کمزور ہوگی اس کے چلتے موسم کی وقت رہتے پختہ جانکاری بیحد ضروری ہے۔ اگر صحیح وقت سے جانکاری مل جائے تو بہت سے نقصان سے بچا جاسکتا ہے۔ پچھلے کچھ برسوں سے ہمارے محکمہ موسمیات کا اندازہ تقریباً صحیح ہونے لگا تھا اور اڑیسہ میں زبردست طوفان سے جان مان کی حفاظت میں اس کا خاص اشتراک رہا تھا۔ دراصل سونامی جیسی خوفناک تباہی والے خوفناک طوفان کے بعد سرکار جاگی تھی اور اس نے نہ صرف سیٹلائٹ اور مرینوں پر بلکہ ماہرین پر کافی پیسہ خرچ کیا تھا۔ موجودہ چوک اتفاقی قدرتی مار ہوسکتی ہے اور اس کا کڑوا گھونٹ پیتے ہوئے محکمہ موسمیات کے حکام کو وارننگ دے کر خاموش تو ہوا جا سکتا ہے مگر بہت سے دیشوں میں موسم کے پل پل بدلتے رخ کا پتہ شہریوں کو مہیا کرایا جاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہر طرح کی سہولیات ہونے کے باوجود ہمارے دیش میں ایسا کیوں نہیں ہوتا۔
(انل نریندر)

06 مئی 2018

جناح کی تصویرپر جنگ کا میدان بنی مسلم یونیورسٹی

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے یونین ہال میں محمد علی جناح کی تصویر لگانے پر تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ یہ تصویر 1938 سے وہاں لگی ہوئی ہے۔ بی جے پی کے ایم پی ستیش گوتم اور مہیش گیری نے جناح کی تصویر وہاں ہونے کی مذمت کی ہے۔ بدھ کو کچھ لوگوں نے یونیورسٹی کے باہر نازیب نعرہ بازی کی۔ طلبا نے ان باہری عناصر کی گرفتاری کی مان کی۔ تنازعہ اتنا کھڑا ہوگیا کہ پولیس کوکیمپس میں آنسو گیس کے گولہ چھوڑنے پڑے اور لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ اس میں اے ایم یو اسٹوڈینٹ یونین کے صدر سمیت درجن بھر طالبعلم زخمی ہوگئے۔ ایس پی سٹی، سی او سمیت آدھا درجن پولیس والے بھی زخمی ہوئے۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ محمد علی جناح مسلمانوں کے لئے پاکستان کی مانگ کے پیروکار رہے ہیں۔ ان کی پہل پر بھارت کی تقسیم ہوکر ایک نیا دیش پاکستان بنا اور وہ وہاں کے قائد اعظم کہلائے۔ اس طرح جناح بھارت کے لئے کھلنائک بن گئے۔ تبھی سے عام ہندوستانی میں ان کا نام بٹوارے یا کہئے کہ دیش سے بغاوت کا محاورہ وابستہ ہوگیا لیکن اتنے برسوں سے ٹنگی تصویر پر اب واویلا کیوں؟ پچھلے80 سال پہلے سے یہ تصویر ٹنگی ہوئی ہے۔ تصویر کلیان سنگھ جب وزیر اعلی تھے تب بھی لگی ہوئی تھی، لال کرشن اڈوانی جب دیش کے نائب وزیر اعظم تھے تو وہ جناح کے مزار پر حاضری دے کر آئے تھے۔ اسی جناح کو اڈوانی نے سیکولر کہا، جسونت سنگھ نے اپنی کتاب میں جناح کی تعریف کی۔ ایک پرائیویٹ چینل سے بات کرتے ہوئے اترپردیش کے وزیر اعلی آدتیہ ناتھ یوگی نے کہا کہ جناح نے دیش کا بٹوارہ کرایا تھا۔ بھارت میں جناح کو سمانت نہیں کیا جاسکتا۔ یوگی نے کہا کہ انہوں نے اے ایم یو معاملہ میں جانچ کے احکامات دئے ہیں۔ جلد ہی انہیں اس کی رپورٹ مل جائے گی۔ رپورٹ ملتے ہی تصویر لگانے والوں پر ایکشن لیا جائے گا۔ اس سے پہلے ڈپٹی سی ایم کیشو پرساد موریہ نے بھی کہا تھا کہ جناح کی وجہ سے دیش کی تقسیم ہوئی جس کا درد آج ہر ہندوستانی جھیل رہا ہے۔ جناح دیش کا دشمن تھا اور اس کے لئے دیش کے لوگوں کے دلوں میں نہ کوئی جگہ تھی نہ ہے اور نہ رہے گی۔ جناح کی جس تصویر کو سیاسی اشو بنایا جارہا ہے وہ اے ایم یو اسٹوڈینٹ یونین کے دفتر میں 1938 سے لگی ہوئی ہے۔ وہاں گاندھی کا فوٹو بھی لگا ہے۔ تصویروں میں گنگا جمنی کلچر اور سیکولر ازم کا پورا سمندر بسایا گیا ہے۔ اے ایم یو سینٹرل یونیورسٹی ہے اور اس کا پورا طریقہ نظام ہندوستانی آئین کے تحت چلتا ہے۔ جناح کی وہاں لگی تصویر کا یہ مطلب قطعی نہیں کہ وہاں پاکستان کی سرکار کی حکومت چلتی ہے یا اس کے طلبا جناح پرست ہوگئے ہیں، ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ دوسری بات تاریخ کے جناح اہم کردار ہیں چاہے ان کی تنقید نفرت کی حد تک کی جائے وہ رہیں گے ہندوستانی تاریخ کا زندہ ثبوت، ویسے ہی جیسے ہندو بھگت سنگھ، مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، پاکستان کی وراثتوں کی دھڑکن میں ہے۔ حال ہی میں میں نے پاکستان ٹی وی پر بھگت سنگھ پر ایک پروگرام دیکھا تھا اس میں بھگت سنگھ کی سوانح حیات اور قربانیاں دکھائی گئی تھیں۔ پاکستان میں تو کسی نے اس پر احتجاج نہیں کیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی دنیا کی مشہور یونیورسٹیوں میں شامل ہے اس کا اس طرح سے نام خراب کرنا مناسب نہیں ہے۔ بہتر ہوکہ اسے سیاسی جنگ کا حصہ نہ بنایا جائے۔معاملہ کو پرامن طریقے سے نمٹایا جائے۔
(انل نریندر)

پانچ سال :بینک دھوکہ دھڑی بے مثال

پچھلے پانچ برسوں میں دیش کے بینکوں میں 23866 گھوٹالہ پکڑے گئے۔ اس میں 1لاکھ718 کروڑ روپے کی دھوکہ دھڑی کی گئی یعنی روزانہ بینک دھوکہ دھڑی کی 14 معاملے ہوئے جس میں بینکوں کو ہر دن 778 کروڑ روپے کا چونا لگا۔ یہ سنسنی خیز خلاصہ ایک آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں ریزرو بینک نے کیا ہے۔ بینک گھوٹالہ میں سب سے بڑی حصہ داری قرض کی جعلسازی کی ہے۔ فروری میں ایک دوسری آر ٹی آئی کے جواب میں ریزرو بینک نے بتایا کہ 2012-13 سے 2016-17 کے دوران سرکاری بینکوں میں قرض جعلسازی کے 8670 معاملہ ہوئے۔ ان می بینکوں کے 61260 کروڑ روپے پھنسے۔ 2012-13 میں 6357 کروڑ روپے کی جعلسازی ہوئی۔ 2016-17 میں یہ بڑھ کر 17634 کروڑ روپے ہوگئی۔ وزیر مملکت مالیات شیو پرساد شکلا کے مطابق اس میعادتک پنجاب نیشنل بینک کا ایم پی اے 55200 کروڑ ، آئی ڈی بی آئی بینک کا 44542 کروڑ، بینک آف انڈیا کا 43774 کروڑ، بینک آف بروڈہ کا 41649 کروڑ ، یونین بینک آف انڈیا کا 38047 کروڑ، کینرا بینک کا 37794 کروڑ، آئی سی آئی سی آئی بینک کا 73849 کروڑ روپے تھا۔ آئی آئی ایم بنگلورو کی اسٹڈی رپورٹ کے مطابق قریب 55 فیصد بینک جعلسازی سرکاری بینکوں میں ہوئی لیکن رقم کے لحاظ سے ان کی حصہ داری 83 فیصد ہوجاتی ہے۔ دسمبر 2017 تک بینکوں کا 8.41 لاکھ کروڑ روپے کا قرض پھنسا ہوا ہے۔ یہ اعدادو شمار اس نقطہ نظر سے بھی اہم ترین ہے کہ مرکزی جانچ ایجنسیاں سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کئی بڑے بینکوں کی دھوکہ دھڑی کے معاملوں کی جانچ کررہے ہیں۔ ان میں پنجاب نیشنل بینک کا 13 ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ شامل ہے۔ اس گھوٹالہ کا ماسٹر مائنڈ نیرو مودی اور اس کا ماما گیتانجلی گیمس کی کمپنی میہول چوکسی ہے۔ سی بی آئی نے حال ہی میں آئی ڈی بی آئی بینک کے ساتھ 600 کروڑ روپے کی دھوکہ دھڑی کا معاملہ درج کیا ہے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق دسمبر 2017 تک سبھی بینکوں کا این پی اے 840959 کروڑ روپے تھا۔ سب سے زیادہ این پی اے پبلک سیکٹر کے سرکاری بینک اسٹیٹ بینک آف انڈیا کا 201560 کروڑ روپے تھا۔ یہ اعدادو شمار پانچ سال پہلے کے ہیں جن میں سے چار سال مودی سرکار تھی ۔ یعنی سب سے بڑے گھوٹالہ مودی سرکار کے عہد میں ہوئے۔ اس دوران نہ صرف گھوٹالہ ہوئے بلکہ گھوٹالہ کرنے والے صاف نکل گئے۔ پتہ نہیں اتنی بڑی رقم کو کیسے وصول کیا جائے گا؟ بینکوں کا پیسہ کیا یہ تو پبلک کا پیسہ ہے۔ پبلک سخت محنت کرکے بینک میں اپنی کمائی رکھتی ہے اور یہ بینک افسر دونوں ہاتھوں سے اسے لٹاتے ہیں۔
(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...