Translater

09 اکتوبر 2021

بلبیر گری نے باگھمبری مٹھ کی گدی سنبھا لی !

پر یاگ راج سمادھی پوجا ، پشپا نجلی کے بعد دیش بھر سے پہونچے مہا منڈلیشوروں ،مہنتوں کے بدست ریتی رواج کی رسم پوری ہونے کے ساتھ ہی منگل کے روز بلبیر گیری نے پر یاگ راج کے باگھمبری کی گدی سنبھا ل لی ہے چادر رسم کے بعد پنچایتی نرنجنی اکھاڑے کی جانب سے انہیں مہنت نریندر گری کے جا نشین کے طور پر مٹھ کا مہنت بنا یا گیا۔ تاج پوشی کے بعد نئے مہنت بلبیر نے اپنے گروں کی سمادھی پر افسو س جتایا اور ان کے نقش قدم پر چل کر مٹھ روایت کو آگے بڑھا نے کا عزم کیا ۔ مٹھ کے استقبالہ زون میں پر اسرار حالات میںمر دہ پائے جانے کے بعد اکھا ڑا پریشد کے صدر مہنت نریندر گری کی جگہ ان کے جانشین کے طور پر بلبیر گیر ی نے لے لی ۔ اکھا ڑوں کے نمائندوں اور پیٹھا دھیشوروں ،مہا منڈلدیشوروں اور مہنتو ں نے چادر رسم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا باگ ڈور سنبھا لنے کے بعد بلبیر گیری نے کہا کہ وہ اپنے گروں مہیندرگیری کی موت کا سچ سامنے لاکر ہی رہیں گے وہ اپنے گروکے نقش قدم پر چل کر باگھمبری مٹھ کو آگے بڑھا ئیں گے ۔ (انل نریندر)

ہر گھنٹے گنوائے 407کروڑ روپے !

اب تک کہتے ہی تھے کہ سوشل میڈیا سے لو گوں کی سانسیں چلتی ہیں ۔ پچھلے ہفتے یہ دیکھ بھی لیا ہے کہ سر ور کے خرا بی کے سبب فیس بک، انسٹا گرام ، واٹس ایپ چھ گھنٹے ٹھپ رہنے سے انہیں چلا نے والی کمپنی فیس بک کے شیئر چھ فیصد گر گئے تھے ۔ کمپنی کے سی ای او مارک زکر برگ کا نیٹ ورتھ کا ایک دن میں6.11ارب ڈالر یعنی 45555ہزار کروڑ کا نقصان ہو گیا اس سے دو سو کروڑ یوزرس متا ثر ہوئے ماہرین کے مطابق ، آن لائن اشتہارات سے گو گل کے بعد سب سے زیادہ کما ئی کر نے والے فیس بک نے سر وس بند ہونے سے 407کروڑ روپے فی گھنٹہ گنوائے ۔ بڑ ی تعداد میں فیس بک کے اشتہارات دہندگان نے گوگل کے ذریعے اشتہار چلا نے کے بارے میں معلو مات حا صل کی ۔ لندن کی ایک انٹر نیٹ نگرانی کمپنی نیٹ بلاکس نے دعو یٰ کیا کہ فیس بک کا سر ور ڈاو¿ن ہونے سے پوری دنیا کو قریب 7500کروڑ روپے کا نقصان ہو ا ہے ۔ وہیں فیس بک کے تکنیکی افسر مائک شنگھیرنے ٹویٹر پر بیان دیا کہ نیٹ ورک ٹھیک کر نے کےلئے سبھی ٹیموں کو کام پر لگا یا گیا ہے ، قریب 200کروڑ یو زرس اس سے متا ثر ہوئے ۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا تکنیکی اسباب سے بند ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن مسلسل کئی گھنٹی فیس بک کی سبھی کمپنیوں کا بند ہونا یقینی طور پر کوئی بات ضرور ہے۔ (انل نریندر )

کشمیر کی بیٹی نے ہی دہشت گردوں کو دیا کھلا چیلنج!

کشمیر میں آہستہ آہستہ امن چین کا ماحول لگتاہے اور دہشت گردی کے سوداگروں کو راس نہیں آ رہا ہے ۔ اب آتنکی تنظیموں کی مایوسی صاف نظر آنے لگی ہے منگل کی شام کو دہشت گردی کی تین وارداتوں نے سیکورٹی فورس کی پریشانی بڑھادی ہے ۔ کشمیر لوٹنے کی امید لگائے کشمیری پنڈت ان سے سہم اٹھے ہیں ۔ سرینگر اور باندی پورہ میں ایک سے ڈیڑھ گھنٹے میںالگ الگ تین آتنکی حملوں میں تین شہری مارے گئے ۔ اس طرح سرینگر میں کم سے کم پانچ حملے ہوئے ان میں مارے گئے لوگوں میں سرینگر کے دوا ڈیلر ماکھن لال سنگھ، سڑک کے کنارے ریڑی لگا نے والے ویریندر پاسوان اور ایک ٹیکسی اسٹینڈ یونین کے صدر محمد شفیع لون شامل ہیں ۔ منگل کی صبح دوا ڈیلر ماکھن لال بندو کے گھر پر بدھوار کی صبح ان کے گھر پر غم ظاہر کرنے کیلئے لوگ جمع ہوئے ان کے انتم سنسکار سے پہلے ان کی بیٹی شردھا بندو نے والد کے مارنے والوں کو کھلا چیلنچ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس بندوق ہے تو میرے پاس والد کا دیا تعلیم کا ہتھیا ر ہے جس کسی نے میرے والد کو گولی ماری ہے میں اسے چیلنج کرتی ہوں کہ وہ میرے سامنے آمنے آئے ۔ سیا ست دانوں نے تمہیں گولی اور پتھر دیئے تم بندوقوں اور پتھروںسے لڑنا چاہتے ہو ؟ یہ بزدلی ہے۔ سبھی نیتا تمہا را استعمال کر رہے ہیں ۔ آ و¿ لڑ نا ہے تو تعلیم کو ہتھیا ر بنا و¿۔ میں پروفیسر ہوں، میں نے زیرو سے شروعات کی تھی میرے پیتا نے ایک سائیکل پر شرعات کی تھی میر ا بھائی مشہور ڈاکٹر ہے میری ماں تک دوکان چلاتی ہے۔۔۔یہ ہمیںماکھن لال بندو نے بتایا میں ہندو ہوں۔۔۔مگر میں نے قرآن پڑھا ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ تم ایک آدمی کو مار سکتے ہو۔ مگر اس کے جذبے کو نہیں مار سکتے ۔ ماکھن لال بندو کا جذبہ بھی زندہ رہے گا میرے پیتا ہمیشہ کہا کرتے تھے میں تو کام کرتے کرتے ہی مروں گا ۔ سرینگر میں کشمیر ی پنڈت ماکھن لال بندو کے قتل نے ایک بار پھر وادی میں کشمیری پنڈتوں کی سیکورٹی کا سوال کھڑا کر دیا ہے ۔ اس طرح کا واقعہ پہلانہیں ہے ۔ جنوری 2021سے اب تک جموو کشمیر کے الگ الگ ضلعوں میں کم سے کم پانچ کشمیری پنڈت اور غیر مقا می لوگوں کا قتل ہو چکا ہے ۔ ان میں سیا سی ورکر ،پولس ملازمین ، کاروبار ی شامل ہیں ۔ان سبھی قتلوں کو جوڑ نے والی بات یہ ہے کہ سبھی دہشت گردوں کے نشانو ں پر ہونے کے باوجود لمبے عرصے سے وادی میں رہ رہے ہیں ۔ اور یہا ں سرگرم دہشت گرد تنظیموں پر چوطرفہ شکنجا کس چکا ہے ۔ سب سے بڑی مشکل انہیں مقامی لوگوں سے حمایت نہیں مل رہی ہے۔ پہلے وہ ان کو پناہ دیتے رہے ہیں ۔کبھی سیکورٹی فورس ان کو پکڑ نے کے کیلئے آتی تو وہ گھیرا بند ی کرتے تھے اب پہلے جیسا نہیں ہوتا ۔ مقا می کشمیر ی بھی اب سمجھ چکے ہیں کہ ان کا مقابلہ دہشت گردی سے نہیں بلکہ قومی دھارا میں شامل ہو کر ترقی اور تعلیم سے ہے ۔ حریت کے لیڈر اور کٹر پسند سلاخوں کے پیچھے ہیں ایسے میںپاکستان اور اس کی پالی تنظیموں کی مایوسی سامنے آرہی ہے۔ (انل نریندر)

08 اکتوبر 2021

میڈیکل تعلیم بن گئی ہے بزنس !

سپریم کورٹ نے کہا کہ میڈیکل ایجوکیشن اور اس کا پھیلاو¿ اب کاروبار بنتا جا رہا ہے میڈیکل اتھارٹی نے اس کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کہا کہ خود کو درست کرلیں ورنہ قانون کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں ۔ بڑی عدالت نے سپر اسپیشلیٹی نصابوں کے لئے ہونے والی قومی اہلیت داخلہ ٹیسٹ (نیٹ)2021کے خاکہ میں آخری وقت میں تبدیلی پر نا راضگی ظاہر کرتے ہوئے کہی بنچ کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ تبدیلی یہ یقینی کر نے کے لئے کی گئی ہے کہ پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں سیٹیں نہ رہیں بنچ نے 13اور 14اکتوبر کو مجوزہ نیٹ کو دو مہینے ٹالنے کی تجویز کو نامنظور کر دیا ہے سرکار سے اس پر نظر ثانی کرنے کو کہا اور آخری وقت میں امتحان شیڈیول میں تبدیلی دلائل پر مبنی ہونی چاہئے۔ ان طلبہ نے کافی عرصے تک تیاری کی اور اس لئے ٹیکس کے پیٹرن میں اچانک تبدیلی اس کے لئے بے حد پریشانی والی بات ہے ۔ جس دن سے طالب ان کے لئے بے حد پریشانی کی بات ہے ۔جس دن سے طالب علم ایم بی بی ایس میں داخلہ لیتے ہیں اس میں ان کاٹارگیٹ سپراسپیشلٹی میں جانے کا ہوتا ہے ۔وہ مسلسل اس کے لئے زبردست تیاری کرتے ہیں ۔کورٹ نے پچھلی سماعت میں اس معاملے کو لیکر سخت اعتراض جتایاتھا ۔سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اقتدار کے کھیل میں نوجوان داکٹروں کو فٹبال نہ بنایا جائے ۔ (انل نریندر)

ممتا کی جیت کے معنی ٰ!

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنر جی نے ریکارڈ ووٹ سے بھوانی پور اسمبلی سیٹ جیت کر اپنا جھنڈا تو گاڑ دیا ہے لیکن ساتھ ہی اپنے خلاف جاری ساری سازشوں کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ ان کے مقابلے میں بھاجپا امیدوار پرینکا ٹبرےوالاکو مشکل سے 58835ووٹ ملے جیت کے بعد ممتا نے کہا کہ بھوانی پور کے عوام نے میرے خلاف سازشوں کا مہہ توڑ جواب دیا ہے۔ اور ان کے مکھیہ منتری بنے رہنے کے لئے ان کی راہ میں روڑے اٹکا ئے یہاں تک کہ ضمنی چنا و¿ کو لیکر بھی اندیشات پیدا کئے گئے کہ کووڈ وبا ءکی وجہ سے بھوانی پور حلقے کا چنا و¿ ٹال گیا جائے اگر ایسا ہوتا تو آئینی تقاضوں کے سبب ممتا کو وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑ تا لیکن چنا و¿ کمیشن نے سمجھداری سے کام لیا اور ضمنی چنا و¿ کا اعلان کر دیا اب بھوانی پور کی جیت سے ممتا بنر جی وزیر اعلیٰ بنی رہیں گی ان کی پارٹی ترنمول کانگریس نے بھوانی پور ہی نہیں بلکہ باقی دو سیٹوں پر بھی کامیا بی حاصل کی اس سے صا ف ہے کہ عوام نے ان کی پارٹی پر بھروسہ جتایا ۔ ممتا کی کامیابی قومی سیا ست میں بھی ان کا قد بڑھ جائے گا ۔ ممتا چپ نہین بیٹھے گی وہ بھاجپا کے خلاف تیز ترار ہوکر سامنے آئیں گی ۔ اب اپوزیشن انکے پیچھے کھڑی ہو جائے گی اتنا تو طے ہے کہ 2024کے عام چنا و¿ میں بھاجپا کی مغربی بنگال میں راہ آسان رہنے والی نہیں ۔ حالاں کہ 2019کے لوک سبھا چنا و¿میں بھاجپا کو پہلی بار 18سیٹیں ملیں تھی بھاجپا کے نیتا بھی اب ماننے لگے ہیں کہ موجودہ حالا ت میں یہ راہ مشکل ہو گئی ہے ۔ (انل نریندر)

اور اب کھلا پینڈور اباکس!

انٹر نیشنل کنسورشیمس آف انویسٹی گیٹیوجرنلسٹ (آئی سی آ ئی جے ) کے ذریعے سامنے آئے ایک کروڑ بیس لاکھ دستاویز کا نیا سیٹ جسے پینڈورا پیپرس کا نام دیا گیا ہے بتا تا ہے کہ کیسے دنیا بھر کے امیر اور بااثر لوگ اپنی اثاثے چھپانے اور بڑھانے کے لئے ٹیکس ہیونس آف شور کمپنیا ں اور ٹرسٹوں کا استعمال کر رہے ہیں ۔ حالاں کہ اس طرح کے طریقے اپنانے والے سبھی لوگ ضروری طور پر بد نیتی یا ٹیکس چوری کی نیت سے راغب نہیں مانے جا سکتے ، لیکن کچھ لوگ یقینی طور سے اس زمرے میں آتے ہیں آئی سی آئی جے کے ذریعے جاری رپورٹ میں کئی ہندوستانی ہستیوں کے غیر ملکی کھاتوں اور کمپنیوں میں جمع رقوم اور اثاثوں کا انکشاف کیا گیا ہے ۔ بھارت رتن سچن تیندلکر ،انل امبانی ،نیرو مودی ،کرن مجمدارشاہ سمیت تقریباً500ہندوستانیوں کے نام سامنے آئے ہیں ۔ بیرون ملک میں جمع پیسے کا انکشاف کر والے ان دستاویزوں میں دنیا بھر کے امیروں نے لاکھوں کروڑوں روپیوں کی ٹیکس چوری کر ٹیکس ہیون کہے جانے والے ملکوں اور کمپنیوں میں یہ پیسہ جمع کیا گیا ۔ سچن تیندولکر ،انکی بیوی انجلی اور سسر آنند مہتا کے بھی نام آئے ہیں ۔ 2016میں وکی برٹش ورجنس آئرلینڈ کی کمپنی بیچ کر رقم بیرون ملک میں جمع کر نے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔ سچن تیندولکر کے وکیل نے اس بکری کو قانونی طور پر جائز بتایا ہے ۔ انل امبانی نے 9965کروڑ کی 18کمپنیوں کا جال بچھایا ہے حالاںکہ انہوں نے پچھلے سال لندن کے ایک بینک کو بتایا تھا کہ ان کی آمدنی صفر ہے ۔ بلکہ چینی سرکار کے تین بینکوں کا پیسہ بھی ان پر بقایا ہے۔ نیرا واڈیا بی بی آئی میں قریب 12کمپنیوں سے لین دین کر تی ملیں ان میں سے ایک فرم کے ذریعے دبئی سے 1.16کروڑ گھڑی تک خریدی گئی اور انہیں سوائیں دی گئی ۔ انڈائریکٹ کمپنی نے اگنور ڈسٹرب کٹیگری کے کلائنٹ کا درجہ دیا گیا ہے مطلب کسی لین دین کے لئے سیدھا رابطہ قائم کر نے پر روک ہے ۔ موجودہ خلاصہ کتنا بڑاہے یہ صاف نہیں ہے لیکن ماہرین اسے 320لاکھ کرو ڑ امریکی ڈالر کا مان رہے ہیں آئی سی آئی جے کے مطابق پوری دنیا کے ہزاروں امیر لوگوں نے آف شاٹ فرمس اور ٹرسٹ کا استعمال ٹیکس چوری کی اور اپنے پیسہ اور اثاثے چھپائے ۔ مثال کے طور پر ایک شخص بھارت میں کوئی پراپرٹی خریدکر اس کا مالک تو بنا لیکن خرید اس نے ان کمپنیون سے کرتی تھی جس دام سانے نہیں آیا یہ کمپنیاں ٹیکس ہیون بیرنی ممالک میں ہیں جہاں خاص قاعدہ ہے ممکنہ طور پر آ ف شاٹ ٹرسٹوں کو بھارت میں منظور ی دی جاتی ہے یہ معنی نہین رکھتا ہے کہ ساجھداری کس نیت سے کی گئی ہے ۔جو لیک میں سامنے آئی بہر حال یہ رائے قائم کر لینا مناسب نہیں ہوگاکہ ساری آف شور رجسٹرڈ ٹرسٹ سے جڑے سارے لوگ غلط ہیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ جانچ کو محدود وقت میعاد میں مکمل کر نا چاہئے تاکہ ان پیپر س کی سچائی سامنے آسکے ۔ پینڈورا پیپرس جیسے دستاویز پہلے بھی آئے ہیں لیکن آج تک ثابت نہیں ہوسکا کہ وہ صحیح ہے یا نہیں۔ (انل نریندر)

07 اکتوبر 2021

246 سال میں پہلی بار پگڑی پہننے کی اجازت!

امریکہ ایک 26 سالہ سکھ امریکی بحریہ کے افسر کو کچھ شرائط کے ساتھ پگری پہننے کی اجازت دے دی گئی ہے وہ اس اہم ترین فورس کے 246 سال کی تاریخ میں ایسا کرنے کی اجازت پانے والا پہلا شخص ہے ۔نیویارک ٹائمس کی خبر میں بتایاگیا کہ تقریباً پانچ سال سے ہر صبح لیفٹننٹ سکھ جیت تور امریکی بحری کور کی وردی پہنتے آئے ہیں اور جمعرات کو سر پر وہ سکھ پگڑی پہننے کی ان کی تمنا پوری ہو گئی ۔مرین کور کے سکھ طور نے ایک انٹرویو میں کہا آخر کار مجھے میرے بھروسہ اور دیش میں سے کسی ایک کو چننے کی نوبت نہیں آئی ۔میں جیسا ہوں ویسے ہی رہتے ہوئے دونوں کی عزت کررہا ہوں اس حق کوحاصل کرنے کے لئے اس نے بہت جد و جہد کی ہے اس سال جب وہ ترقی پاکر کیپٹن بنے تو انہوں نے اپیل کا فیصلہ کیا کہ وہ ڈیوٹی کے دوران پگڑی پہن سکتا ہے لیکن جنگی میدان میں تعیناتی کے وقت وہ ایسا نہیں کر سکتے ۔ (انل نریندر)

اب ڈرگس کی دہشت پھیلائے گا طالبان !

افغانستان پر طالبان کے قبضہ نے جہاں دہشت کو بڑھایا ہے وہیں افیم گانجا جیسی نشیلی چیزوں کی اسمگلنگ کا خطرہ بھی بھارت میں بڑھ گیا ہے ۔پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی بھارت میں اس نشیلی چیزوں کو بنگہ دیش کے راستے چرس کو گولی کی شکل میں سپلائی کر رہا ہے ۔ذرائع کی مانیں تو نارتھ ایسٹ انڈیا اور بنگلہ دیش افیم گانجہ ہیروئین جیسی نشیلی چیزوں کے نئے خطرے کا سامنا کررہا ہے ۔اسمگلروںنے نشیلی چیزوں کی اسمگلنگ کے راستے بدل دئیے ہیں اسلامی طالب علم انجمنوں کی بھی اس میں مشتبہ شمولیت پائی گئی ہے ۔سیکورٹی اور خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ میں اس کا خلاصہ کیاگیا ہے ۔ذرائع کے مطابق حال ہی میں بنگلہ دیش کی سیکورٹی فورسز کے میانمارمیں نشیلی چیزوں کی اسمگلنگ کے ایک روایتی راستے سے بھیجے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔چرس گانجہ کی گولیاں میانمار سے بھارت میں تریپورہ میوزرم اور آسام ہوتے ہوئے دیش کے کئی حصوں میں بھیجی جا رہی ہیں ذرائع کے مطابق بھار ت اور بنگلہ دیش کی کچھ طلبہ انجمنیں اسمگلنگ سے جڑی ہیں ۔خفیہ ایجنسیوں کا دعویٰ ہے کہ بنگلہ دیش میانمار سرحد پر کاروائی کے سبب نشیلی چیزوں کے اسمگلر گروہ اب بھارت بنگلہ دیش سرھد کا استعمال کررہے ہیں ۔خفیہ ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ گانجہ ٹیبلیٹ اور دیگر نشیلی چیزوں کی اسمگلنگ کے لئے میانمار میوزرم اور تریپورہ بنگہ دیش کے راستے بھی استعمال ہو رہے ہیں ۔ذرائع نے بتایا کہ اب بھی بنگلہ دیش نشیلی چیزوں کی سپلائی کا گڑھ بنا ہوا ہے وہیں چرس اور براو¿ن سوگر میں جیسی دیگر نشیلی دواو¿ں کو نارتھ ایسٹ بھارت میں پھٹکر بکری کے علاوہ دیش کے باقی علاقوں میں بھیجا جا رہا ہے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ راستے میں تبدیلی اور کورونا وبا سے پیدا چنوتیوں کے بعد بی ایس ایف تریپورہ فرنٹ ائیر خطرے سے نمٹنے کے لئے قدم اٹھا رہا ہے ۔ (انل نریندر)

لکھیم پور کھیری کی افسوسناک واردات!

اترپردیش کے لکھیم پور کھیری میں کسانوں کے احتجاجی مظاہرے کے دوران بھڑکے تشدد بہت ہی افسوسناک ہے ۔اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اس واردات میںچار کسانوں سمیت آٹھ لوگوں کی موت ہو گئی ۔یوپی کے لکھیم پور کھیری کی تکونیا قصبہ میں اتوار کو مرکزی وزیر مملکت داخلہ اجے کمار مشرا کے بیٹے کی گاڑی سے کچل کر مارے گئے کسانوں اور اس کے بعد دو بھاجپا ورکروں اور ایک صحافی اور اس کے ڈرائیور کو پیٹ پیٹ کر مارڈالنے کی بربریت آمیز واقعہ صرف یہ ایک فطری ناراضگی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ پچھلے کچھ دنوں سے چلی آرہی کشیدگی کا نتیجہ ہے جسے ٹالنے میں انتظامیہ پوری طرح ناکام رہا ہے ۔تین زرعی قوانین کے خلاف احتجاج میں لکھیم کھیری حلقہ کے پہلے سے آندولن کررہے کسان 25 ستمبر کو دئیے گئے مرکزی وزیر مملکت داخلہ اجے مشرا کے بیان سے ناراض تھے جس میں انہوںنے مبینہ طور سے مظاہرین کسانوں سے کہا تھا کہ سدھر جاو¿ ورنہ دو منٹ میں سدھار دیں گے ۔لکھیم پور کھیری میں اترپردیش کے نائب وزیراعلیٰ کیشب پرساد موریہ کے مجوزہ پیغام کے دوران کسانوں نے زرعی قوانین کے ساتھ ہی مشرا کے خلاف بھی مظاہر ہ کیا ۔اسی دوران کسانوں نے مشرا کے بیٹے آشیش مشرا کے ساتھ بھڑنت ہو گئی ۔اس موقع پر کسان مظاہرین نے نائب وزیر اعلی کو کالے جھندے دکھانے کا طے کیا ۔وہاں ہزاروں کی تعداد میں کسان جمع تھے ۔اس وجہ سے نائب وزیراعلیٰ نے وہاں پہونچنے کا اپنا پروگرام بدل دیا ۔الزام ہے کہ اس سے چڑھ کر وزیر مملکت داخلہ کے بیٹے نے کچھ بھاجپا ورکروں کے ساتھ دو بڑی گاڑیوں سے کسانوں کو کچل دیا اس میں چار کسان مارے گئے ۔اور درجنوں زخمی ہو گئے ٹکر مارنے والی دو گاڑیوں بیلنس بگڑ کر خود پلٹ گئیں اور پھر کسانوں نے اس میں آگ لگا دی اس طرح ایک ڈرائیور سمیت چار بھاجپا ورکروں کی بھی موت ہو گئی ۔کسانوں کا الزام ہے کہ منتری نے بیٹے سوچی سمجھے پلان کے تحت اس واردات کو انجام دیا جبکہ منتری اور اس کے بیٹے کا الزام ہے کہ وہ ان گاڑیوں میں سوار نہیں تھے ۔کسانوں نے ان گاڑیوں پر پتھراو¿ کیا جس سے گاڑی بے قابو ہو کر ان سے ٹکرا گئی ۔سچائی کیا ہے یہ تو منصفانہ جانچ سے ہی پتہ چلے گا ۔مگر اس واردات سے فطری طور پر کسان ناراض ہیں دراصل اس واردات میں مرکزی وزیر کی شمولیت کے کچھ پہلو موجود ہیں ۔جن کے چلتے لوگ ان کے بیان پر یقین نہیں کر پا رہے ہیں ۔کچھ دنوں پہلے دو جگہ ریلیوں کو خطاب کرتے ہوئے آندولن کررہے کسانوں کو پبلک طور سے دھمکایا تھا اور وہ اس طرح آندولن کرنا بند کریں ورنہ ان کو سبق سکھایا جائے گا ۔اس کے بعد جب کسان سڑک کے کنارے کھڑے ہو کر کالے جھنڈے دکھا رہے تھے تبھی منتری جی نے کھڑکی کھول کر انگوٹھا نیچے کی طرف اشارہ کیا تھا جس کا مطلب تھا کہ تم ہمارے لئے کوئی معنی نہیں رکھتے اس علاقہ میں چل رہی تحریک اب تک پرامن اور جمہوری رہی اس لئے کسانوں کے پتھراو¿ کرنے یا مشتعل شکل اختیار کرنے کی بات لوگوں کے گلے نہیں اتر رہی ہے کیوں کہ اتر پردیش میں کچھ مہینوں بعد اسمبلی چناو¿ ہیں لہذا اس بات کا اندیشہ ہے کہ زرعی قوانین پر سیاسی ٹکراو¿ بڑھ سکتا ہے ۔لکھیم پور کھیری کی اس واردات کو اپوزیشن پارٹیاں طول دے سکتی ہیں ۔ہم تو بس اتنا ہی کہیں گے کہ یہ واردات افسوسناک ہے ۔جس سے تھوڑی سی سمجھداری سے ٹالا جا سکتاتھا ۔ (انل نریندر)

06 اکتوبر 2021

کیوں بھائی چاچا ہاں بھتیجا!

چناو¿ کمیشن کی طرف سے چراغ پاسوان اور چچا پشو پتی پارس کو بڑا جھٹکا لگا ہے چاچا بھتیجہ کی لڑائی نے چناو¿ کمیشن نے ایل جے پی کا نشان ہی ضبط کر لیاہے ۔چناو¿ کمیشن نے پارٹی کے چناو¿ نشان و بنگلہ کو بھی فریز کر دیا ہے ۔چناو¿ کمیشن نے ایل جے پی کے نام اور اس کے چناو¿ نشان کا استعمال کرنے تک روک لگا دی ہے ۔جب تک کمیشن دو گروپ کے درمیان جھگڑے کا نپٹارہ نہیں کر دیتا چراغ پاسوان اور ان کے چچا پشو پتی پارس دونوں نہیں پارٹی کی وراثت پر اپنا دعویٰ کیا اس پر چناو¿ کمیشن نے بھی کہا کہ دونوں گروپ آنے والے دنوں میں دو اسمبلی شیٹوں پرہونے والے ضمنی چناو¿ کے لئے اپنے امیدوارں کو میدان میں اتارنے کےلئیے دئیے گئے نئے چناو¿ نشان کا استعمال کر سکتے ہین ۔دونوں گروپوں کو نئے ناموں سے جانا جائے گا جواپنے متعلقہ گروپ کے لئے چن سکتے ہیں۔جس میں وہ چاہیں تو پرانی پارٹی ایل جے پی کے ساتھ تعلق بھی قائم کر سکتے ہیں ۔دونوں گروپ سے سبھی دستاویزات داخل کرنے کو کہا گیا ہے کمیشن نے کہا دونوں فریق پارٹی کے نام اور چناو¿ نشان کو لیکر جھگڑا جلدی نمٹا لیں ۔کمیشن کا یہ فیصلہ کافی اہم ہے ۔یہ ایسے وقت میں لیا گیا ہے جب بہار میں دو اسمبلی حلقوں کے ضمنی چناو¿ ہونے ہیں ۔30 اکتوبر کو ووٹ پڑیں گے پچھلے کافی وقت سے چراغ پاسوان اور پارس کے درمیان پارٹی پر الگ الگ دعویداری کی جا رہی ہے ۔سارا جھگڑا رام ولاس پاسوان کی جانشینی کے بعد سے شروع ہو ا ہے ۔ (انل نریندر)

الوداع دہلی می ممی جی!

انہیں سب ممی جی کہا کرتے تھے اور وہ سب کو بیٹا ان سے بڑے عمر کے لوگ بھی انہیں ممی جی ہی کہنا پسند کرتے تھے ۔سچ میں محترمہ تاجدار بابر دہلی کی ممی جی ہی تھیں ان کا سنیچر کو انتقال ہوگیا ۔ان کی عمر 85 برس تھی ۔1933-1998 ، 2003 میں منٹو روڈ بارہ گھمبا روڈ سے وہ چنی گئی تھیں یہ خاص بات نہیں ہے کہ اس شیٹ پر 85 فیصدی ووٹر غیر مسلم تھے ا س کے باوجود تاجدار بابر اس حلقہ سے چناو¿ میں کامیابی حاصل کرتی تھیں ان کے چناو¿ میں مذہب کا معاملہ کبھی سامنے نہیں آیا دہلی نے اپنی ممی کی ایک بزرگ لیڈر اور سب کے دکھ سکھ کی ساتھی نہیں رہیں ۔اپنے علاقہ میں کبھی شراب کی دوکان نہیں کھلنے دی جو تھی وہ چلتی رہی ۔انہوں نے 1960 کی دہائی میں ارونا اشرف علی ،شبھدرا جوشی اور شرلا شرما جیسی دہلی کی بے لاگ خاتون ورکروں کے ساتھ مل کر شراب کی دوکانوں کو بند کروانے کے لئے کئی بار تحریک چلائی ۔تاجدار بابر بنیادی طور سے کشمیری خاتون تھی ۔انہو ں نے شادی ڈبلیوا یم بابر نام کے ایک پٹھان شخص سے بابر صاحب دیش کی تقسیم کے بعد مسلمان ہوتے ہوئے بھی گاندھی کے دیش بھارت میں آگئے تھے ۔پنڈت جواہر لعل نہرو کے کہنے پر بابر صاحب نے آکاش وانی کے پشتو زبان سروس میں ملازمت کی تھی ۔ان کا سری نگر تبادلہ ہوا ۔وہاں انہیں تاجدار مل گئیں ۔جو شادی کے بعد تاجدار بابر ہو گئیں ۔بابر صاحب کا 1955 میں دہلی میں تبادلہ ہوا ۔اور تاجدار دہلی آگئیں ۔یہاں پر عورتوں کے حقوق کے لئے کام کرنے لگیں۔ان کے شوہر کو پنڈارہ روڈ میں سرکاری فلیٹ مل گیا تو وہ افسروں کے بچوں کو پڑھانے لگیں اس کے بعد کانگریس پارٹی سے جڑ گئیں اور تین باروہ دہلی اسمبلی کے لئے ممبر بنیں وہ 1994 میں نئی دہلی میونسپل کارپوریشن کی چیئرمین بنبیں ان کے چیئرمین عہد ہ پر رہتے ہوئے بنگلہ نمبر 108 ریوینو مین رہتی تھیں ۔وہاں ان کے گھر پر درجنوں لوگ کام کے لئے آتے تھے وہ کبھی کسی کو انکار نہیں کرتی تھیں یادنہیں کہ تاجدار بابر سے پہلے راجدھانی میں کسی زندہ انسان کے نام پر مارکیٹ کا سڑک کا نام رکھا گیا ہو ۔اس لحاظ سے تاجدار بابر کے نام پر لودھی روڈ میں تاجدار بابر مارکیٹ ہے ۔ان کے بیٹے فراش شوری دہلی کے سابق میئر رہے ہیں ۔محترمہ تاجدار بابر کافی عرصہ سے علیل تھیں ان کے انتقال کے بعد کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ان کے گھر جاکر سورگیہ نیتا کے آخری دیدار کئے اس سے پہلے انہوں نے ٹوئیٹ کر لکھا تھا کہ تاجدار بابر جی کے پریوار اور دوستوں کے تئیں میرا اظہار ہمدردی ہے ۔دہلی کے لوگ کانگریس کے اصولوں کے تئیں ان کے عزم کو ہمیشہ یاد رکھیں گے ۔دہلی کانگریس صدر انل کمار چودھری نے کہا کہ جہاں تک ایک طرف کانگریس پارٹی اور بابائے قوم گاندھی جی کی جینتی منا رہی ہے وہیں پارٹی نے اپنا بیش قیمت اور سابق دہلی پردیش صدر کو کھو دیاہے ۔تاجدار بابر کانگریس پارٹی کی ریڑھ کی ہڈ ی رہیں نہ صرف بلکہ کانگریس ورکروں کی طاقت بھی تھیں اور انہوں نے زندگی بھر پارٹی کے لئے بیش قیمت تعاو¿ن دیا ۔ہم تاجدار بابر کو اپنی شردھانجلی دیتے ہوئے اور ان کے خاندان کے لئے ہی نہیں بلکہ پوری دہلی کے لئے کہ بڑا صدمہ ہے ۔ (انل نریندر)

شاہ رخ خاں کا بیٹا ڈرگس لینے کے الزام میں گرفتار!

ممبئی سے گواجاررہے قرض میں نشہ خوری کررہے اداکار شاہ رخ خان کے بیٹے آرین سمیت دیگر لوگوں کی گرفتاری یہ بتا تی ہے کہ دیش میں نشیلی چیزوں کا استعمال کتنا بڑھتا جا رہا ہے ۔یہ پہلی بار نہیں جب نشہ لے رہے آرین یا امیر لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہو ۔ممبئی کا ڈرگس سے تعلق نیا نہیں ہے اداکار سوشانت سنگھ کی موت کی گتھی بھلے ہی نہیں سلجھی ہو ۔لیکن این سی بی نے اس حادثہ کو ڈرگس معاملے سے جوڑنے کر دیکھنے کی کوشش کے تحت دیگر لوگوں کو نشانہ پر لیا تھا ۔این سی بی کے لوگوں کے درمیان ڈرگس پارٹی شروع ہوتے ہی جس طرح مشتبہ لڑکوں کو پکڑا گیا ہے اس سے یہ بھی صاف ہے کہ پردے کے پیچھے ڈرگس لینے والے اب کھلے عام یہ کام کرنے لگے ہیں ۔ریو پارٹی کرنے اور ڈرگس لینے کے معاملے میں ممبئی کی کورٹ نے شاہ رخ خاں کے بیٹے اور ان کے دوست ارباض سیٹھ اور من من دھنیشہ کو 7 اکتوبر تک این سی بی حراست میں دے دیا ہے ۔پوچھ تاچھ میں آرین نے مانا کہ اس نے ڈرگس لی تھی لیکن ڈرگس خریدنے کی بات سے انکار کیا ۔این سی بی نے ملزمان سے ایم ڈی ایم کی بائیس گولیاں اور 13 گرام کوکن 5 گرام ایم ڈی اور 21 گرام چرس اور 1.33 لاکھ روپے ضبط کئے ۔بیورو نے سنیچر کی رات لگزری کروز لائرنٹ امپریس پر چھاپہ مارا تھا ۔این سی بی کے چیف ایس این پردھان نے بتایا کہ مخصوص خفیہ اطلاعات ملنے کے بعد چھاپہ ماری کی تیاری کی گئی اور اس میں یہ کامیابی ملی ۔معاملے میں بالی وڈ لمس بھی ملے ہیں ۔بتا دیں قریب 24 سال پہلے 1997 میں شاہ رخ خان سیمی اگروال کے ٹاک شو میں شامل ہوئے تھے تب انہوں نے مزاق میں کہا تھا کہ میرے بیٹے کو بھی ڈرگس کا تجربہ کرنا چاہیے ۔اسے وہ سبھی برے کام کرنے چاہیے جو میں اپنی نوجوان عمری میں نہ کر سکا ۔اسے لڑکیون کو ڈیٹ کرنا چاہیے ،سیکس اور ڈرگس کا مزا لینا چاہیے ۔شاہ رخ خان کی خواہش بیٹے آرین خان نے پوری کر دی ہے اس طرح کے معاملے سامنے آتے ہی رہتے ہیں ۔پچھلے کچھ عرصہ سے یہ سلسلہ کچھ تیز ہو گیا ہے ۔عام طور پر ایسے معاملے تبھی سرخیوں میں آتے ہیں جب نشیلی چیزوں کے استعمال یا ان کی خرید کے الزام میں فلمی ہستیاں گرفتار ہوتی ہیں ۔لیکن اس کی بنیاد پر ایسے کسی نتیجے پر نہیں پہونچا جانا چاہیے کہ نشیلی چیزوں کا استعمال صرف بڑے شہروں میں دھنا سیٹھ لوگوں میں ہی یہ رائج ہے ۔سچ تو یہ ہے یہ بیماری ایک قومی مسئلہ بن چکا ہے اور اس کی مثال ہے حال ہی میں دیش کے مختلف حصوں میں بڑے پیمانہ پر نشیلی چیزوں کی کامیابی پچھلے کچھ وقت میں دیش میں اتنی بڑی مقدار میں نشیلی چیزوں کی کھیپ پکڑی گئی ہے ۔اس نتیجہ پر پہچنے کے علاوہ کوئی طریقہ نہیں ہے ۔کہ نشہ کے کاروباریوں نے بھارت کو اپنے نشانہ پر لے لیا ہے ۔جس سے نجات دلائی جائے ۔پچھلے کچھ دنوں اس کی تصدیق تک ہوئی تھی ،جب گجرات کے سمندری ساہل پر اڈانی بندرگاہ پر افغانستان سے لائے ہوئے تین ہزار کلو گرام ہیروئین کی کھیپ پکڑی گئی تھی دیش کی نوجوان پیڑ ی کے مستقبل کو تباہ کرنے والے اس خطرناک کاروبار میں صرف عام جرائم پیشہ نہیں بلکہ بڑے بڑے مافیہ اور بیرون ممالک میں رہ رہے اسمگلر بھی شامل ہیں ۔اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ان عناصر کی ملی بھگت اور آتنکی اور علیحدگی پسندوں کے گڑھ بھی ہیں ۔مشہور ہستیوں کی سرپرستی میں ڈرگس اور پورن ریکٹ جس طرح سے پیر پھیلا رہے ہیں وہ سچ مچ بے حد تشیویش کا باعث ہونا چاہیے ۔ (انل نریندر)

05 اکتوبر 2021

سزادو یا پھر بری کرو!

سال 1993میں کئی راجدھانی ایکس پریس اور دیگر ٹرینوں میں سلسلہ وار بم دھماکوں کے معاملے میں ایک ملزم رئیس الدین کو بغیر چار ج شیٹ طے کئے 11سال میں جیل میں بند رکھنے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے سزا دو یا بری کرو فوری سماعت کے حق کی تشریح کرتے ہوئے آتنکی اور تباہ کاری سر گرمی روک تھام قانون کے تحت اجمیر کی خصوصی عدالت کے جج سے رپورٹ مانگی ہے جس میں انہیں بتانا ہے کہ ملزم رئیس الدین کے خلاف ابھی تک الزام کیوں نہیں طے کئے گئے جسٹس ڈی وی چندر چوڑ اور جسٹس ایم آر شاہ کی بنچ نے اسپیشل عدالت کے جج کو حکم کی کاپی ملنے کی تاریخ سے دو ہفتے کے اندر رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے سماعت کے دوران ملزم کی طر ف سے پیش ہوئے وکیل شعیب عالم نے کہا عرضی گزار 2010سے حراست میں ہے ابھی تک الزامات طے نہیں ہوئے ہیں اور سماعت شروع ہونی ہے سرکار ی طرف سے پیش سرکاری وکیل وشال میگھوال نے مانا کہ ملزم کے خلاف چارج شیٹ نہیں ہوئی ہے انہوں نے دلیل دی کی وہ پندرہ سال تک فرار تھا اس پر بنچ نے پوچھا جب وہ 2010میں حراست میں ہے تو الزام کیوں نہیں ہوئے؟اسے سزا دو یا بری کرو ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے کم سے کم مقدمہ تو چلاو¿ اسپیشل ٹاڈا عدالت کے اس حکم کو چیلنج کیا جس میں اس کی ضمانت عرضی خارج کی گئی تھی بچا و¿ وکیل کے مطابق 5/6دسمبر 1993کو بمبئی نئی دہلی ہا وڑاور نئی دہلی راجدھانی ایکسپریش اور صور ت بڑودا فلائنگ کوئین ایکسپریش حیدرآباد اور نئی دہلی اے پی ایکس پریش ٹرینوںمیں سلسلے وار بم دھماکے ہوئے تھے جس میںدو مسافروں کی موت ہوی اور 22زخمی ہوئے تھے ۔ (انل نریندر)

پر اسرار بخار سے 10میں100 اموارت!

مغربی اتر پردیش میں دس دنوں سے جاری پر اسرار بخار نے سنگین شکل اختیار کر لی ہے محکمہ صحت کے اعدادو شمار بتا رہے ہیں کہ اب تک اضلاع میں قریب سو لوگوں کی موت ہوچکی ہے جن میں پچاس فیصد بچے ہیں گذشتہ تین دنوں میں بیس ضلعوں تک یہ وائرل بخار پھیل چکا ہے ہر ضلع میں اوسطاً یومیہ پانچ سو مریض مل رہے ہیں ڈاکٹر اسے انفلونزا وائرس بتا رہے ہیں اور اس وائرس کی شکل میں تبدیلی کے اندیشے کے طور پر دیکھ رہے ہیں لیکن نتیجہ نہیں نکلا کئی بیماریوں کے اثرات اس میں ہونے سے کورونا کی تیسری لہر کا اندیشہ ایک نئی چنوتی کے طور پر ابھرا ہے زیادہ اثر والے اضلاع میں اسکولوں کو کھولنے سے پہلے ہی بند رکھنے کے احکامات دے دیئے گئے ہیں ۔ فیروزآباد ضلع میں زیادہ اثر ہے متھرا ، کاس گنج آگرہ ، ایٹا ، مین پوری ، نوئیڈا، غازی آباد، مظفر نگر، شاملی کے علاوہ سہارنپور میں بھی سو لوگوں کی موت ہو گئی ہے سب سے زیادہ لوگ ستر کی موت فیروزآباد میں ہوئی ہے جن میں چھالیس بچے ہیں سبھی کیسیز میں تیز بخار کے ساتھ پلیٹ لیٹس کی تعداد میں بھاری گراوٹ اور ڈی ہائیڈریشن جوڑوں میںدرد ، نزلہ ، کھانسی اور تیز بخار کے اثرات ملے ہیں حالت کو دیکھتے ہوئے پیرکو فیروزآباد پہونچے یوگی آدتیہ ناتھ نے ڈاکٹروں کو ہدایت دی کہ فوری جانچ کی جائے کہ پتہ چلے کی بیماری ڈینگو ہے یا کچھ اور ۔ فیروزآباد میڈکل کالج کے بعد وزیر اعلیٰ شہر میں گئے جہاں سب سے زیادہ لوگ اس بیماری سے متاثر ہیںفیروزآبادمیں 6ستمبر تک سبھی اسکول بند رکھے گئے ہیں۔ (انل نریندر)

گائے کو کسی دھرم سے نہ جوڑیں !

الہٰ آباد ہائی کورٹ نے کہا گو¿ رکچھا کو کسی دھرم سے جوڑنے کی ضرورت نہیں ہے اور گو¿ کو قومی جانور ڈکلیئر کیا جانا چاہئے ساتھ ہی گو¿ رکچھا کو بنیادی حق بتایا جانا چاہئے جسٹس راکیش کمار یادو نے گو¿ رکچھا کے معاملے میں جاوید نامی شخص کی ضمانت عرضی خارج کرتے ہوئے اہم رائے زنی کی تھی کورٹ نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کی جب کلچر اور اعتماد کو ٹھینس پہونچتی ہے تو دیش کمزور ہو جاتا ہے عدالت نے کہا بنیادی حق نہ صر ف گو¿ ماس کھانے والوں کا مخصوص حق ہے بلکہ جو لوگ گائے کی پوجا کرتے ہیں اورمالی طور سے گائیوں پر منحصر ہیں انہیں بھی بہتر زندگی جینے کا حق ہے گو¿ ہتھیا روک تھام ایکٹ کی دفعہ 3,5اور 8کے تحت جاوید پر الزام ہے عدالت نے کہا گو¿ رکچھا صرف کسی ایک دھرم کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ گائے دیش کا کلچر ہے اور اس کی حفاظت ہر کسی کی ذمہ داری ہے ۔ پھر چاہے آپ کسی بھی مذہب سے تعلق کیوں نہ رکھتے ہوں عدالت نے کہا بھار ت میں 29میں سے 24ریاستوں میں گﺅ ہتھیا پر پابندی ہے ۔ آئین کے آرٹیکل 48میں بھی کہا گیا ہے کہ گائے کی نسل کی حفاظت کی جائے اور دودھ دینے والے اور بھوکے جانور سمیت گﺅ ہتھیا پر روک لگائی جائے گی ایک گائے اپنی پوری زندگی میں 410سے 460لوگوں کو دودھ فراہم کرتی ہے جبکہ گﺅ ماس نے صرف 80لوگوں کو پیٹ بھرتا ہے گائے کی مہما ایسی ہے کہ بھکت کبھی رسکھان نے بھی کہا تھا کہ ، جنم ملے تو نند کی گائیوں کی بیچ ملے ۔ کورٹ نے کہا کہ زندگی کا حق مارنے کے اختیار سے اوپر ہے گﺅ ماس کھانے کاحق کا کبھی بنیادی حق نہیں مانا جا سکتا ۔ گائے تب بھی کار آمد ہوتی ہے جب وہ بوڑھی یا بیمار ہوتی ہے گوبر اور ذراعت اور دواو¿ں کی تیاری میں بہت گاریگر ہوتی ہیں۔ (انل نریندر)

03 اکتوبر 2021

امریکہ میں ہندوستانی سب سے خوشحال !

امریکی میڈیا رپورٹ میںحالیہ مردم شماری کے اعداد شمار کے بنیاد پر دعویٰ کیا گیا ہے ہندوستانی خاندان امریکہ میں سب سے خوشحال ہیں نیو یار ک ٹائمس کے تجزیہ کے مطابق امریکہ میں ہندستانی خاندانوں کی سالانہ اوسط آمدنی 1,23700ڈالر ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر یہ تناسخ 63,920ڈالر سالانہ ہے اسی طرح گریجویشن کرنے والوں کا قومی اوسط 34فیصدی ہے وہیں 79فیصدی ہندوستانی امریکی گریجویٹ ہیں خاندانی اسائس کے معاملے میں ہندوستانی امریکہ میں رہ رہے دیگر ایشائی گروپوں میں سب سے آگے ہیں تاروانی اور فلپینوں کے 97129اور 91ہزار امریکہ ڈالر کی اوسط خاندانی آمدنی کے ساتھ دوسرے اور تیسرے مقام پر قومی سطح 33فیصدکے مقابلے میں 14فیصد ہندوستانیوں اوسط گھریلوں آمدنی 40ہزار ڈالر سے کم بتائی ہے وہیں بھارت میں ہندوستانی نژاد لوگوں کی کمپیوٹر سائنس فانینشیل مینجمنٹ اور میڈکل سمیت کئی سیکٹروں کی نوکریوں میں ان کی خاصی حصہ داری ہے اامریکہ میں کل نو فیصدی ڈاکٹر ہندوستانی نژاد ہیں ان میں سے آدھے سے زیادہ تاریکین وطن ہیں 2016میں ویست ورزینیا میں کام کر رہے اطفال امراض کے ڈاکٹر نہت گپتا اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر سکھا جے شوال کہتی ہیں کہ امریکہ نے انہیں حقیقت میں گلے لگایا ہے اور پوری ریاست میں ان کے کام کو اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ ان کو وہاں ان کی ضرورت ہے رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ایشائی لوگوں کو دبدبا بھی بڑھا ہے ۔ (انل نریندر)

سپرٹیگ کے دو ٹاور گرانے کا حکم!

سپریم کورٹ نے منگل کے روز نوئیڈا میں سپر ٹیگ کی ایم روائڈ کورٹ پروجیکٹ کے منزلہ دو ٹاورں کو قواعد کی خلاف ورزی کر تعمیر کرنے کے سبب انہیں مسمار کرنے کے جو احکامات دیئے وہ افسوس ناک تو ہیں ہی لیکن ساتھ ساتھ ان کے بلڈروں ااور اتھارٹی کے حکام کے لئے ایک سخت پیغام ہے جنہوں نے ملی بھگت کرکے ایسی غیر قانونی طور پر عمارتیں کھڑی کر لیں جن سے عوامی نقصان کے ساتھ ماحولیات کو بھی بھاری نقصان پہونچ سکتا تھا ۔ کورٹ نے کہاکہ ٹاور کو تین ماہ میں گرایا جائے سار اخرچ سپر ٹیگ اٹھائے گا اور سینٹرل بلڈنگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نگرانی کرے گا بڑی عدالت نے کہا ریکارڈ سے صاف ہے کہ سال2006-2010تک معاملے میں نوئیڈا اتھارٹی کے افسروں کی ملی بھگت رہی ٹاور ٹی 16اور ٹی 17-میں بنانے میں تعمیراتی شرطوں کو خیال نہیں رکھا گیا اس لئے نا جائر تعمیرات سے سختی سے نمٹنا ضروری ہے ناجائز تعمیرات سٹی پلان کے بنیادی اصول پر حملہ ہے وہیں سپر ٹیگ کے مینزگ ڈائریکٹر موہت اروڑا نے کہا کہ ہم نظر ثان پٹیشن دائر کریں گے اتھارٹی نے کہا کہ وہ فیصلے کی تعمیل یقینی کرے گا در اصل اتھارٹی کی منظوری ملنے سے پہلے بلڈروں نے ان ٹاوروں کو بنانا شروع کر دیا تھا جس سے بلڈروں کی نیت سے پتہ چلتا ہے یہی نہیں اتھارٹی کے ناک کے نیچے زیر تعمیر یوپی سپر ٹیگ ایکٹ کے دھجیاں اڑائی جا رہی تھیں اور قانون کو نظر انداز کیا جا رہا تھا یہ معاملہ تکلیف دہ ہے کہ بلڈروں اور حکام کے من مانی کے سبب ہزاروں مالکان کو ایسے تکلیف سے گزرنا پڑ رہا ہے جو بیان کرنے کی ضرورت نہیں سپر ٹیگ کے ساتھ ہی یہ فیصلہ نوئیڈا اتھارٹی کے لئے بھی سبق ہونی چاہئے اور وہ اپنی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتا ۔ (انل نریندر)

افغانستان میں امریکہ کی جنگ ختم!

اپنے داہنے ہاتھ میں رائفل پکڑے 82ویں ایئر بارن ڈویژن کمانڈر جنرل کرس ڈونل ہو پیر کی دیر رات سے ایک منٹ پہلے افغانستان سے اڑان بھرنے والے اخریکی امریکی فوجی بن گئے ہیں لیکن جہاز میں شوار ہونے سے پہلے کھینچی گئی ان کی تصویر تاریخ میں ہمیشہ کے لئے درج ہوگئی جسے خود شاید امریکہ کبھی بھلا نہ پائے گا پینٹا گون نے اسے ٹویٹ کرتے ہوئے افغانستان میں امریکہ کے فوجی آپریشن ختم ہونے کی جانکاری دی امریکہ نے طالبان کی طے میعاد سے پہلے ہی افغانستان میں اپنی موجودی پوری طرح سے ختم کر دی پیر کی دریر رات امریکہ کا آخری جنگی جہاز اپنے فوجیوں کو لیکر کابل ایئر ویس سے اڑا اس کے ساتھ ہی قریب 20سال تک افغانستان میں طالبان کے ساتھ چلنے والی امریکی جنگ بھی ختم ہوگئی ۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے اپنے کمانڈروں کی خطرناک واپسی کے لئے شکریہ ادا کیا انہوں نے کہ اب افغانستان میں ہماری فوجوں کی 20سال سے موجودگی ختم ہوگئی ہے میں اپنے کمانڈروں کا شکریہ اد ا کرنا چاہتا ہے بغیر کسی امریکی کی جان گنوائے انہوں نے افغانستان سے نازک حالات میں واپسی کو پورہ کیا جو 31اگست صبح کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی تھی امریکہ کی افغانستان سے واپسی ستمبر9/11کے 20برس ہونے سے کچھ وقت پہلے ہوئی ادھر امریکی فورسیز کی مکمل واپسی کے بعد طالبان نے کابل ہوائی اڈے کو اپنے کنٹرول میں لے لیا امریکی سینٹرل کمانڈ کے جنرل فرینک مینکیزی نے آپریشن ختم کیا ساتھ انہوں نے امریکہ کہ سب سے بڑی جنگ کے خاتمے کا بھی اعلان کر دیا خطرناک طالبان دہشت گردوں کو ہرانے میں نا کام رہی دنیا کی بڑی طاقت جنگ زدہ افغانستان میں پائیدار آزادی کا قیام، کا مقصد سے پہلے ہی دنیا کی بڑی طاقت کو آخر کار منھ کی کھانی پڑی ہزاروں جانیں گنوانیں اور اربوں ڈٓالر کو پانی کی طرح بہا کر بھی امریکہ کو کچھ حاصل نہیں ہوا الٹے اسے خطرناک طالبان دہشت گردوں سے سمجھوتے کے الزام جھیلنے پڑے ہیں امریکہ کے آخری فوجیوں کو لیکر افغانستان سے جہازوں کے ذریعے پیر کی رات بھری گئی آخری پرواز اس دیش میں 20سال چلی جنگ کے خاتمے کا اعلان بنا گیارہ ستمبر 2001امریکہ میں تین ہزار لوگوں کی جان لینے والے آتنکی حملے کے ٹھیک بعد جنگ چھیڑی گئی تھی یہ جنگ قریب 73لاکھ لوگوں کو جان لینے اور چھ لاکھ کروڑ روپئے خرچ کرنے کے بعد ختم ہوئی سب سے اہم امریکہ ان اسلامک دہشت گردوں طالبان کو ہرانے میں ناکام رہا ان کے خلاف اسے شروع کی گئی تھی کیونکہ 11ستمبر کے حملے کے آتنکی تنظیم القا عدہ کو پناہ دی تھی چار صدور کے عہد میں چلی اس جنگ کے بعد ہم افغانستان کے صدر حامد کرجائی بین الاقوامی اڈے سے بھاگتے وقت امریکہ ان دسیوں ہزار افغان شہریوں کو ان کے حال پر چھوڑ گئے جنہوں نے دو دھائی میں دہشت گردوں کے خلاف کئی طریقے سے امریکہ کی مدد کی تھی ۔ ان میں سے کئی بہت سے لوگوں کے پاس امریکہ کا جائز ویزا بھی ہے لیکن جس طریقے سے امریکہ نے اپنی فوج کو لیکر افغانستان سے بھاگنے کا فیصلہ کیا اس نے ان لوگون کے قریب دو ہفتوں تک ایئر پورٹ کے باہر راہ طاقتے ہوئے مایوس چھوڑ دیا پیر کے روز ہوائی اڈے کے باہر کچھ سو لوگ رکے نظر آئے افغانستان بھی انہیں آتنکیوں کے حوالے کر دیا جنہیں 2011میںامریکہ نے اقتدار سے بے دخل کر جمہوریت کی شروعات کی تھی ۔ (انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...