Translater

22 مارچ 2025

درج 193 معاملے ،سزا صرف 2 کو !

ای ڈی کے ذریعے ممبران پارلیمنٹ ،ممبران اسمبلی سمیت لیڈروں کیخلاف درج معاملوں میں قصورواری کی شرح بے حد کم ہے ۔یہ جانکاری مرکزی سرکار نے پارلیمنٹ میں دی ہے۔مرکزی وزیر مملکت پنکج چودھری نے بدھوار کو پارلیمنٹ میں بتایا کہ پچھلے دس سال میں ای ڈی نے سیاسی افراد کیخلاف 193 کیس درج کئے جن میں صرف 2 میں ہی قصوروار ثابت ہوئے۔اس میعاد میں کسی بھی معاملے میں ملزم کو قصوروار نہیں ٹھہرایاگیا ۔ماسکوادی ایم پی ایم رحیم نے راجیہ سبھا میں پوچھا تھا کہ ای ڈی نے دس سال میں کتنے لیڈروں پر کیس درج کئے؟ کیا اپوزیشن لیڈروں پر بڑی کاروائی ہوئی ہے ۔کتنوں کو سزا ہوئی ہے اور کتنے بے قصور ہوئے ؟ انہوں نے جانکاری ریاستی اور سالانہ کے مطابق مانگی تھی حالانکہ وزیر نے کہا کہ سرکار ایسا کوئی ڈیٹا نہیں رکھتی ۔2016-17 میں دوسرے 2019-20 میں جن دو معاملوں میں قصورواری ثابت ہوئی ان میں 2016-17 میں اور دوسری 2019-20 میں ہوئی ۔سرکار نے کہا ہے کہ ای ڈی جانچ صرف بھروسہ مند حقائق اور کاغذات کی بنیاد پر کرتی ہے ۔ای ڈی کی سبھی کاروائی جوڈیشیل جائزہ کے لئے کھلی رہتی ہے ۔قصوروار قرار دونوں لیڈر جھارکھنڈ کے سابق وزیر ہری نارائن رائے اور سابق وزیر انیس اکّا ہیں ۔رائے کو منی لانڈرنگ معاملے میں سات برس کی قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ باقی اکّا کو سات سال قید اور دو کروڑ روپے جرمانے حالانکہ ا س دوران کسی معاملے میں کوئی ملزم بری نہیں ہوا ہے ۔منی لانڈرنگ کے معاملے میں قصوروار شرح پر کئی معاملوں میں سپریم کورٹ سخت رائے زنی کر چکا ہے ۔نومبر 2023 ترنمول کانگریس کے ممبر اسمبلی پارتھ چٹرجی کی ضمانت عرضی پر سماعت کے دوران زبانی طور سے کہا کہ ای ڈی کی قصورواری شرح کم ہے ۔کسی کو غیر یقینی میعاد تک التوا قیدی نہیں رکھ سکتے ۔اگست 2024 ایک معاملے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ دس برسوں مین ای ڈی نے پانچ ہزار کیس درج کئے ۔شرح میں کم قصوروار ثابت ہوئے ۔ای ڈی کی کاروائی سدھاریں ۔دسمبر 2024 سرکار نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ ای ڈی نے ایک جنوری 2019 سے 31 اکتوبر 2024 کے درمیان 900 شکایتیں درج کیں اور 654 پر مقدمہ چلا ۔42 میں قصورواری ثابت ہوئی ۔حالیہ انتخابات کے درمیان میں ای ڈی کا ایکشن مہاراسٹر اسمبلی چناو¿ کے درمیان مبینہ کرپٹو فنڈ گھوٹالہ سے جڑے معاملے میں 20 نومبر 2024 کو چھتیس گڑھ میں آڈٹ فرم کے ملازم کے یہاں ای ڈی کے چھاپے یہ معاملہ این سی پی شردپوار کی ایم پی سپریہ صلح اور مہاراشٹر کانگریس کے صدر نانا پٹولے سے جڑا تھا ۔اسمبلی چناو¿ کی پولنگ سے ٹھیک ایک دن پہلے ای ڈی نے منی لانڈرنگ معاملے میں 12 نومبر 2024 کو مبینہ بنگلہ دیسی گھس پیٹھ کو لے کر جھارکھنڈ ،مغربی بنگال میں 17 مقامات پر چھاپے مارے تھے ۔اس پر پوری اپوزیشن بار بار پارلیمنٹ کے اندر اور باہر الزام لگاتی رہتی ہے کہ ای ڈی اقتدار کے ہاتھوں اپوزیشن کو پریشان کرنے کا ایک ہتھیار بن چکی ہے ۔دعویٰ تو یہاں تک کیا جارہا ہے کہ ای ڈی چنی ہوئی سرکاروں کو بھی کمزور کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔ (انل نریندر)

کیا اصل فیض یافتگان کو مل رہا ہے فائدہ ؟

سپریم کورٹ نے بدھ کو اپنے تبصرہ کیا کہ راشن کارڈ پاپولیرٹی کارڈ بن گیا ہے اور سوال کیا کہ کیا غریبوں کے لئے مقرر فائدہ عام لوگوں تک پہنچ رہا ہے ؟ بڑی عدالت نے کہا کہ سبسڈی کا فائدہ ضرورت مند لوگوں تک پہنچنا چاہیے ۔جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس کوٹورسنگھ کی بنچ کووڈ 19- وبا کے دوران پرواسی مزدوروں کی پریشانیاں دور کرنے کے لئے شروع کئے گئے ۔ایک از خود نوٹس معاملہ کی عدالت سماعت کررہی تھی ۔اس دوران جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ ہماری تشویش یہ ہے کہ کیا حقدار غریبوں کو ملنے والے فائدے ان لوگوں تک پہنچ رہے ہیں جس اس کے حقدار نہیں ہیں ۔راشن کارڈ اب پاپولیرٹی کارڈ بن گیا ہے ۔انہوں نے کہا یہ ریاستیں بس یہی کہتی ہیں کہ ہم نے اتنے کارڈ جاری کئے ہیں ۔کچھ ایسی ریاستیں ہیں جو اپنا وکاس دکھانا چاہتی ہیں تو کہتی ہیں کہ ہماری فی شخص آدمدنی بڑ رہی ہے ۔جب ہم غریبی کے نیچے کی زندگی (بی پی ایل) کے لوگوں کی بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ 75 فیصدی آبادی وی پی ایل ہے۔ان حقائق کو کیسے جوڑا جاسکتا ہے ؟ تضاد اس میں پایا جاتا ہے ۔ہمیں یہ یقینی کرنا ہوگا کہ فائدہ کے حقدار اصل فیض یافتگان کو تک پہنچے ۔سپریم کورٹ نے کہا کہ ریاستی حکومتیں جب وکاس انڈیکس دیکھتے ہیں تو فی شخص آمدنی کو زیادہ دکھاتی ہیں ،لیکن جیسے سبسڈی کی بات آتی ہے تو وہ 75 فیصدی آبادی کو خط افلاس کی یعنی بی پی ایل کے نیچے مانتی ہے ۔سرکار کو یہ صاف کرنا ہوگا کہ کیا واقعی 75 فیصدی آبادی خط افلاس کی زندگی بسر کررہی ہے جبکہ ریاستوں کا دعویٰ ہے کہ ان کی فی کس آمدنی بڑھ رہی ہے ۔جسٹس سوریہ کانت و جسٹس این کوٹیشور سنگھ کے بنچ نے کہا کہ سبسڈی کا فائدہ صرف غریبوں کو ملنا چاہیے ۔ہمارا خاص اشو یہی ہے کہ کیا غریبوں کے لئے مقرر فائدہ کیا صحیح حقداروں تک پہنچ رہا ہے یا وہ ان لوگوں تک جارہا ہے جو اس کے حقدار نہیں ہیں ۔بڑی عدالت نے کہا کہ راشن کارڈ اب ایک مقبول کارڈ بن چکا ہے چونکہ کئی ریاستوں میں غریبوں کی جگہ اسے سیاسی فائدہ کے لئے دیا جارہا ہے ۔ایڈووکیٹ وکیل پرشانت بھوشن نے کہا آج میں لاچاری کے سبب یہ تضاد پیدا ہوتے دیکھ رہاہوں کہ کچھ مٹھی بھر لوگ بے حد امیر ہیں جبکہ بڑی آبادی غریب بنی ہوئی ہے ۔اور فی شخص آمدنی کی شماری کل ریاستوں کی آمدنی کا اوسط نکال کر کی جاتی ہے جس سے نابرابری کی اصل تصویر سامنے نہیں آپاتی ۔ (انل نریندر)

20 مارچ 2025

فکر نہ کریں انڈس لینڈ بینک کے جمع کنندگان !

ریزرو بینک آف انڈیا یعنی آر بی آئی نے سنیچر کو اپنے کھاتے داروں کو باآور کیا ہے کے انڈس لینڈبینک کے پاس درکار سرمیا ہے ۔مرکزی بینک نے بینک کے ڈاریکٹریٹ منڈل کو ہدایت دی ہے کے وہ اندازاً 2100 کروڑ روپے کی اوڈٹ غلطی سے متعلقہ اصلاحتی کارروائی اسی مہینے تک پورا کر لیں انڈس لینڈ بینک نے اسی ہفتہ اوڈٹ میں گڑبڑی کا خلاصہ کیا تھا اس کا بینک کے رینیول کل مالیت رقم پر 2.35 فیصد اثر پڑنے کا اندازاً ہے اس انکشاف کے فوراً بعد بینک کے شیروں کی قیمت میں بھاری گراوٹ دیکھی گئی ۔آر بی آئی نے ایک بیان میں کہا پبلک طور سے دستیاب خلاصوں کی بنیاد پر بینک نے پہلے ہی اپنے موجودہ مکینزم کا وسیع جائزہ لینے اور اصل سب سے رسوک کا تجزیہ کرنے اور اس کا حساب لگانے کے لئے ایک بہاری اوڈٹ اکاﺅنٹ ٹیسٹ ٹیم کو مقرر کر لیا ہے ۔مرکزی بینک نے کہا کے بورڈ اور منجمنٹ کو ریزرو بینک کے ذریعہ ہدایت دی گئی ہے کے وہ سبھی فائدہ کنندگان کو ضروری خلاصہ کرنے کے بعد جنوری ،مارچ سے ماہی میں پوری طرح سدھارنے کی کارروائی کر لے اور کسٹومر کی پریشانیوں کو دور کرتے ہوئے آر بی آئی نے کہا پیسا جمع کنندگان کو اس وقت سوالوں پر جواب دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔آر بی آئی نے کہا انڈس لینڈ بینک لیمیٹیڈ سے مطالق کچھ قیاس آرائیاں کی گئی ہیں جو شاید بینک کے مطالق حالیہ واقیات سے پیدا ہوئی ہیں ۔آر بی آئی نے کسٹمروں کو اور سرمایا کاروں کو یقین دلایا بینک کی مالی پوزیشن بہتر بنی ہوئی ہے اور وہ اس پر باریقی سے نظر رکھے ہوئے ہے ۔دراصل انڈس لینڈ بینک نے اوڈٹ میں گڑبڑی کا اسی ہفتے خلاصہ کیا تھا ۔اس سے بینک کو انیول ویلیو پر 2.35 فیصد کا اثر پڑنے کا اندازا ہے خلاصے کے فوراً بعد بینک کے شیرو میں بھاری گراوٹ دیکھی گئی ۔اس سے شبہ پیدا ہو گیا ہے کے گراہکوں اور سرمایا کاروں میں کھلبلی نہ مچ جائے ۔ایسا ہوتا تو پوری بینک کے سیکٹر پر برا اثر پڑنے کا اندیشہ ہوگا بینکنگ سیکٹر کی بنیاد ہی بھروسہ ہے اور اسی پر بینک کے کام نپٹائے جاتے ہیں اگر بھروسہ ٹوٹ گیا تو مان کر چلئے معیشت کے سبھی سیکٹر اس کی زد میں آ سکتے ہیں ۔کئی ملکوں میں ایسا ہوا ہے کے بینک پر بھروسہ ٹوٹتے ہی بینک کے باہر کھاتے داروں کی لائن لگ جاتی ہے اور گراہک کا دل بیچین ہوتے ہی جو حالات بنتے ہیں انہیں ساز گار بنانے میں ارسہ لگا جاتا ہے مرکزی بینک کے رول ایسے حالات بنائے رکھنے ہوتے ہیں جو بینک سیکٹر کے بھروسے کو برقرار رکھ سکے ۔یہ ریزرو بینک کر رہا ہے ۔وہ ہر حال میں بینک کے فائدہ اٹھانے والوں میں بینک میں بھروسہ بنائے رکھنا چاہتا ہے انڈس لینڈ بینک کے لئے ہی نہیں بلکہ پورے بیکنگ سیکٹر اور معیشت کےلئے حالات کو ٹھیک بنائے رکھنا چاہتا ہے۔معیشت کے مختلف سیکٹر مسلسل منحصر ہوتے ہیں ۔بینکنگ بھی معیشت کا ایک اہم ترین سیکٹر ہے جس میں گبراہٹ اور قیاس آرئیوں کا ماحول قہر برپا کر سکتا ہے۔ (انل نریندر)

اب لیجئے دہلی میں گہری سانس!

این سی آر میں کھل کر سانس لینے کے دن آخر کار آ گئے ہیں ۔ہوائی کوالٹی بتانے والے انڈیکس سنیچر کو دہلی میں 85 رہا ۔جنوری سے 15 مارچ کے درمیان گزشتہ 3 برسوں سے سب سے صاف ہوا رہی ۔آلودگی کے لحاذ سے دیکھےں تو اس موسم میں پہلی بار دہلی اور آس پاس کے شہروں میں ائر کوالٹی ستح تسلی بخش رہی ہے ۔اے کیو آئی جب 51 سے 101 کے درمیان رہے تو اسے تسلی بخش مانا جاتا ہے ۔آلودگی میں کمی کے بعد سنیچر کو گریپ - ون کی بندشیں فوراً واپس لے لی گئیں ہیں ۔اس طرح اب یہ پورا علاقہ گریپ سے نجات پا گیا ۔ساتھ ہی یہ سال کا پہلا موقع ہے جب انڈیکس 100 سے نیچے آیا ہے ۔گزشتہ2 برسوں کے مقابلے میں تسلی بخش رہا ۔اس سے پہلے 29 اکتوبر 2024 کو اے کیو آئی 79 رہاتھا۔تب تیز ہواﺅں اور بوندا باندی کے سبب آلودگی سطح میں کمی آئی ہے ۔دہلی کے علی پور میں سنیچر کو اے کیو آئی محض 50 رہا ۔اگر اے کیو آئی سے 50 کے بیچ ہو تو ہوا صاف مانی جاتی ہے ۔محکمہ موسم کے مطابق اتوار کو بھی ہوا ٹھیک ٹھاک رہے گی ۔پیر اور منگلوار کو آلودگی میں تھوڑا اضافہ رہے گا ۔ادھر دہلی حکومت میں راجدھانی میں ائر پولیوشن کو کنٹرول کرنے ہوا میں بہتری کے لئے ایک وسیع شروعات کی ہے ۔وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے مہم کا اعلان کرتے ہوئے کہا کے راجدھانی کی ائر کوالٹی میں بہتری لانے کے لئے ٹھوس قدم اٹھائے جا رہے ہیں ۔دراصل دہلی کو صاف اور آلودگی کے نجات دلانا سرکار کی اولین ترجیح ہے ۔اور اس کے لئے مختلف محکموں کو فوری اور موثر کارروائی یقینی کرنے کے احکامات دئے گئے ہیں ۔وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے بتایا کے اس اسکیم کے تحت دہلی کے پوری رنگ روڈ کو صاف کرنے والی مشینوں کا روزانہ استعمال کیا جائے گا اور سڑک کے کنارے دھول کو کنٹرول کرنے کے لئے پانی کے فوارے لگائے جائے گے اس کے علاوہ تعمیراتی جگہوں پر دھول کنٹرول سیل کی ہدایتوں کو سختی سے لاگو کیا جائے گا ۔ساتھ ہی پی یو سی جانچ کی رفتار بڑھائی جائے گی ۔ہم وزیر اعلیٰ ریکھا اور دہلی سرکار کو بدھائی دیتے ہیں کے انہوںنے عہدہ سنبھالتے ہی اس ضروری مسلے پر توجہ دی ۔پچھلے 10 برسوں سے اس مسلے کا کوئی تسلی بخش نتیجہ نہیں مل سکا۔دہلی کی بھاجپا سرکار نے ذمہ داری سنبھالتے ہی اس برننگ مسلے پر توجہ دی اور صحیح سمت میں قدم اٹھانے کے شروع کر دئے ہیں ۔ (انل نریندر)

18 مارچ 2025

اداکارہ رانیااور سونا اسمگلنگ!

انفورسمنٹ ڈاریکٹریٹ (ای ڈی)نے سونا اسمگلنگ گروہ کی بڑی سازش سے تعلق اور منی لاڈرنگ جانچ کے تحت جمعرات کو بیگلورو اور کچھ مقامات پر چھاپے ماری کی سرکاری ذرائع نے یہ اطلاع دی ہے ۔کرناٹک کے میسول خفیہ ڈاریکٹریٹ (ڈی آر آئی)نے حال ہی میں سونا اسمگلنگ کے معاملے میں ایک فلم اداکرہ رانیا کو گرفتار کیا ہے۔ذرائع نے بتایا کے حال ہی میں سی بی آئی کی ایف آئی آر اور ڈی آر کے ایک کیس کا نوٹس لیتے ہوئے منی لاڈرنگ انسداد ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ڈی آر آئی کے معاملے میں رانیا راﺅ کو سونا اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ۔جانچ کا مقصد ہوائی اڈو ں کے ذریعہ سے سونے کی اسمگلنگ کی بڑی سازش اور بااثر افراد ،سرکار حکام و سیاسی لوگوں کے سمیت مختلف لوگوں کے ذریعہ جرم سے پیسہ کمانے کی پڑتال کرنا ہے ۔ذرائع کے مطابق کرناٹک میں بنگلورو سمیت کئی مقامات پر چھاپے مارے گئے ہیں ۔ڈی آر آئی نے 3 مارچ کو دبئی سے لوٹنے کے بعد دیو گوڑا بین الا قوامی ہوائی اڈے پر ادکارہ رانیا راﺅ کے پاس سے 12.56 کروڑ مالیت کی سونے کی چھڑےں ضبط کی تھی۔اس کے بعد رانیا کو گرفتار کیا گیا ،اداکارہ آئی پی ایس افسر رام چندر راﺅ کی سوتےلی بیٹی ہیں جو حال میں کرناٹک اسٹیٹ پولس رہائش اور بنیادی اسٹرکچر وکاس نگم لمیٹیڈ میں سی ایم ڈی کے طور پر کام کرتے ہیں ۔پولس افسر نے رانیا کی مبینہ ناجائز کارروایوں میں کسی بھی طرح سے منسلک ہونے سے انکار کیا ہے ۔رانیا نے بتایا کے اس نے سونے کو اپنی جنس اور جوتوں میں چھپایا تھا اس سونے کو جسم میں بھی چھوپاکر اسے اسمگلنگ کا سونے کا ہوائی اڈے کے پاس انتظار کر رہے شخص کو دینا تھا ۔غور طلب ہے کے رانیا کی گرفتاری کے بعد 6 مارچ کو ممبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے دبئی سے آئے عمان اور یو اے ای کے دو شہریوں کو گرفتار کیا گیا ۔جو 18 کروڑ 92 لاکھ مالیت کے 21.28 کلوگرام سونے کو بھارت میں اسمگلنگ کرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔دبئی سے دونا لانے والے مبینہ اسمگلروں کی گرفتاری سے اسمگلنگ کے سنڈیکٹ کااشارہ ملتا ہے ۔ (انل نریندر)

اسٹار لنک ... سیما سے اسپیس تک خطرہ!

دیش میں سیٹالائٹ کمیونیشن کے لئے امریکی بزنس مین ایلن مسک کی کمپنی اسٹار لنک کو انٹر ی دینے کے لئے دو کمیونیکیشن بڑی کمپنیاں ائرٹیل اور ریلائنس جیو نے معائدہ پر دسخط کر لئے ہیں ۔اسٹار لنک سیٹا لائٹ انٹر نیٹ سروس ہے ۔جس وہ این مسک کی کمپنی اسپیس چلاتی ہے۔سیٹالائٹ براڈ بینڈ سیٹا لائٹ ،کوریج کے اندر کہیں بھی انٹر نیٹ کی سہولت مہیا کرا سکتا ہے ۔اسٹار لنک ہائی سپیڈ انٹر نیٹ سروس مہیا کراتی ہے ۔اس سے دور دراز کے علاقوں میں انٹر نیٹ سروس پہنچ سکتی ہے جہاں اس کو پہنچنے میں دقت آتی ہے ۔سٹار لنک کی سرویسس فی الحال 100 ملکوں سے زیادہ دیشوں میں دستیاب ہے ۔بھارت کے پڑوسی دیش میں بھی اس کی سیوائے ہیں ۔اس سے بھارت میں موبائل کمیونیکیشن میں انقلاب لانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے ۔حلانکہ اس طرح کے کمیونیکیشن کے لئے امریکی کمپنیوں پر انحصار کرنا خطرے پھرا ضرور ہے ۔ائر ٹیل ،جیو اور سپیس ایکس کے درمیان معائدہ کے مفصل نکات ابھی سامنے آنا باقی ہیں اور ابھی اس معائدے کو مرکزی حکومت سے منظوری ملنا ابھی باقی ہے ۔لیکن ایسی کئی پریشانیاں ہیں جن پر ابھی غور خوز ضروری ہے سب سے بڑا سوال سکورٹی کا ہے ۔پاکستان سے لگی کنٹرول لائن اور چین سے لگی ایل اے سی پر سیٹا لائٹ کا غیر کنٹرول ایکسس ملا تو دشمن یا باغی عناصر کے ذریعہ اس کافائدہ اٹھانے کا اندیشہ ہوگا ایسے میں قومی سلامتی سے متعلق پختہ انتظامات کئے جانا ضروری ہے ۔دوسری پریشانی ڈیٹا کی حفاظت کو لیکر ہے سیٹا لائٹ کے ذریعہ بات چیت کا پورا ڈیٹا انٹر نیٹ سروس پرووائڈر یعنی امریکی کمپنی کے پاس رہے گا ایسے میں حساس ترین معلومات باہر آنے کا خطرہ بنے گا ۔وزیر اطلاعات و نشریات اشونی ویشنو نے سوشل میڈیا سے اپنی پوسٹ ہٹاتے ہوئے لکھا تھا ،اسٹار لنک کا بھارت میں استقبال ہے ۔دور دراز علاقوں میں ریلوے پروجیکٹس کے لئے یہ بیحد فائدہ مند ہوگا ۔ایلن مسک کی کمپنی اسٹار لنک کے فی الحال اور بٹ میں تقریباً 7000 سیٹا لائٹ موجود ہیں اس کے 100 ملکوں میں 40 لاکھ سسکرائبرس ہیں انہوںنے بتایا کے وہ ہر 5 سال میں نئی ٹیکنا لوجی سے اپنے نیٹ ورک کو اپگریڈ کرتے رہیں گے ۔اٹلی نے کچھ دیشوں نے سفارتخانوں کےلئے اسٹار لنک کی خدمات لی تھیں ۔لیکن اس نے نیشنل سیکورٹی ٹھیکے پر دستخط نہیں کئے ہیں اسی طرح کمپنی افریکی ملکوں میں اپنی خدمات دے رہی ہے۔لیکن نابیبیا نے حال ہی میں بغیر سیٹا لائٹس انٹر نیٹ سہولت دینے پر اسٹار لنک کو اپنا کاروبار سمیٹنے کو کہا تھا ۔بھارت کے 140 کروڑ لوگوں میں سے تقریباً40 فیصد لوگوں کے پاس اب بھی انٹر نیٹ نہیں پہنچ سکا ہے ۔ان میں زیاتر دیہات ہیں ۔بھارت میں انٹر نیٹ لگانے کی شرح ابھی بھی عالمی اوسط سے پیچھے ہے ۔فی الحال 66.2 فیصدی ہے لیکن حال ہی میں ہوئی اسٹا ڈی کے مطابق دیش اس فرق کو کم کر رہا ہے ۔اگر قیمت صحیح طے ہوجائے اور نیشنل سکورٹی کے تقاضوں کو صحیح سے لوگو کیا جاتا ہے تو سیٹا لائٹ براڈ بینڈ اس فرق کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے ۔ (انل نریندر)

16 مارچ 2025

ہریانہ میں ٹریپل انجن کی سرکار!

ہریانہ اسمبلی چناﺅ میں کامیابی کی ہیٹ ٹرک بنانے کے 6 مہینے سے بھی کم وقت میں حکمراءبھاجپا نے بلدیاتی انتخابات میں ایک طرفہ جیت درج کی ہے ۔اسمبلی چناﺅ کے بعد یہ چناﺅ بھاجپا اور کانگریس دونوں کے لئے امتحان جیسا تھا ۔جس میں کانگریس پھر سے فیل ہوتی نظر آئی ۔حالت یہ رہی کے ہریانہ کے کل 10 میونسپل کارپوریشنوں میں 9 پر بھاجپا نے کامیابی حاصل کی ۔اس طرح ہریانہ میں ٹریپل انجن کی سرکار بن گئی ہے ۔،وہیں مانے سر میونسپل کارپوریشن میں آزاد میئر ڈاکٹر اندر جیت یادو کامیاب ہوئے ۔کانگریس کا دس میں سے کسی بھی ایک سیٹ پر خاتہ نہیں خل سکا ۔اس کے علاوہ 21 میونسپل کونسلوں کے چناﺅ میں کانگریس کو زبردست دھکہ لگا ہے ۔کانگریس کو اپنے گڑھ میں بھی ہار کا سامنا کرنا پڑا ۔سابق وزیر اعلیٰ بھوپندر سنگھ ہڈا کے گڑھ روہتک میں بھاجپا پھر مئیر کی کرسی پر قابض ہو گئی ۔وہیں کماری شیلجا کا حلقہ سرسہ میونسپل کونسل میں پہلی بار بھاجپا کامیاب ہوئی ہے ۔ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نایاب سنگھ سینی نے کہا کے فرید آباد میں میئر عہدے پر بھاجپا امیدوار پروین بترا جوشی نے دیش میں سب سے بڑی جیت حاصل کی ہے۔انہوں نے 3 لاکھ 16 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے کانگریس کی لتا رانی کو ہرایا ہے ۔چناﺅ کیمپن میں بھاجپا کا نارا ٹریپل انجن کی سرکار کام کر گیا ۔اسمبلی کی طرح بوتھ ستح پر تنظیم کی مضبوتی نظر آئی ۔وزیر اعلیٰ سینی کی محنت بھی رنگ لائی ۔کانگریس کا بکھراﺅ جاری ہے ۔ (انل نریندر)

دہشت پالنے والا پاکستان! خود دہشت گردی کا شکار!

عمران خاں کے پاکستا ن کے وزیر اعظم عہدے سے ہٹنے کے بعد بلوچستان اور خیبر بختون خوا صوبہ حال میں پی ایم شہباز شریف کے لئے بڑا درد سر بن گئے ہیں ان دونوں صوبوں میں پاک فوج اور تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔پاکستان تشدد زدہ بلوچستان صوبے میں دہائیوں سے علحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)نے منگل کو قریب 400 مسافروں سے بھری جعفر ایکسپریش کا اغواہ کر لیا ۔یہ واردات پاکستان سرکار کے لئے ایک بڑی چنوتی کی شکل میں سامنے آئی ۔بی ایل اے نے دعویٰ کیا کے اس میں قریب 180 مسافروں کو یرغمال بنا لیا ہے حلانکہ پاکستان کی فوج کے حوالے سے بتایا گیا ہے کے 80 یرغمالوں کو چڑھا لیا گیا ہے جن میں 26 عورتیں اور22 بچے ہیں ۔بلوچستان سے گزرنے والی جعفر ایکسپریس پر یہ کوئی پہلا حملہ نہیں ہے ۔دراصل اس ٹرین پر اکثر سرکاری ملازم ،فوجی اور دیگر افسر چلتے ہیں ۔اس لئے بی ایل اے کی اس ٹرین پر نظر رہتی ہے ۔ قابل غور ہے کے بی ایل اے افغانستان کے جنوبی حصہ میں سرگرم ایک بلوچ کٹر پسند تنظیم ہے ۔جس کا مقصد بلوچستان کو پاکستان سے الگ کر آزاد ملک بنانا ہے ۔بلوچستان قدرتی وسائل کے نظریہ سے بھی خوشہال ریاست ہے اور اس کی لڑائی اس بات کو لیکر کے پاکستان اس کے وسائل کا بے جا استعمال کرتا ہے لیکن بدلہ میں مقامی لوگوں کو فائدہ نہیں ملتا ۔پاکستان فوج کے مزالم کے خلاف یہ پچھلے قریب 7 دہائیوں سے لڑ رہا ہے ۔اعداد شمار بتاتے ہیں کے سال 2024 پاکستان کے لئے تقریباً ایک دہائی میں سب سے زیادہ خطرناک تھا ۔اس دوران دہشت گردی کے حملوں میں 2526 لوگوں نے جان گنوائیں ۔یہ 2023 کے مقابلے 90 فیصد زیادہ ہے ۔ان میں 70 پولس ملازم 900 سے زیادہ عام شہری اور 900 قریب مسلح جوان شامل تھے ۔پاک سرکار کے ذرائع بتاتے ہیں کے بلوچستان میں بڑھتی فوجی موجودگی اور ریاست کے سیاسی حالات اس سورت حال کےلئے ذمہ دار ہیں ۔یہاں کے نواب سیاسی حالات پر پکڑ خو چکے ہیں ۔اور دوسری جانب تحریک طالیبان پاکستان کو بین الا قوامی مبصرین نے سب سے تیزی سے بڑھنے والا دہشت گرد گروپ قرار دیا ہے ۔ٹی ٹی پی خیبر صوبے میں سب سے تیزی سے پھیل رہا ہے ۔پاکستان اس نے افغانستان کا ہاتھ بتاتا ہے ۔بلوچستان ٹرین اغوا کے 34 گھنٹے کے بعد پاکستان فوج نے کارروائی کر چڑھانے کا دعویٰ کیا ۔فوج کے ترجمان جنرل احمد شریف نے بتایا کے جعفر ایکسپریس پر ہوئے حملے میں 21 مسافروں اور 4 فوجیوں کی موت ہوئی ہے ۔فوج نے سبھی 33 حملاوروں کو مارکر یرغمالوں کو چڑھا لیا ہے ۔وہیں بی ایل اے نے دعویٰ کیا پاک فوج کی کارروائی کے بعد ہم نے یرگما ل بنائے اور پاکستانی فوجیوں کو مار ڈالا ۔اس سے پہلے بی ایل اے نے کہا تھا اس کے خود خوش حملہ آور نے ٹرین سے یرغمال بنائے فوج کے 214 جوانوں کو لیکر خندقوں میں چھپے ہیں ۔اگر فوج یرغمالوں کو چڑھانے کے لئے کارروائی کرے گی تو فدائی دستہ خود کو اڑا لے گا ۔بی ایل اے نے کل 100 پاکستانی فوجیوں کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے ۔دونوں فریقین کے بیانوں میں تضاد ہے ۔آہستہ آہستہ سچائی کا پتہ چلے گا ۔اتنا طے ہے کے دہشت گردی پالنے والا پاکستان آج خود دہشت گردی کا شکار بن چکا ہے ۔ (انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...