Translater

10 مئی 2014

بابا وشوناتھ کی کاشی میں چناؤ نہیں کروکشیتر یدھ ہے(1)...

اب عام چناؤ اپنے آخری پڑاؤ کی طرف بڑھ رہا ہے۔12 مئی کو 16 ویں لوک سبھا کے لئے چناؤ مکمل ہوجائے گا۔ حالانکہ اس دن بہار، مغربی بنگال، اترپردیش کی کچھ سیٹوں پر ووٹ پڑنے ہیں لیکن اب سب کی توجہ وارانسی پر مرکوز ہے۔اس آخری دور میں وارانسی میں رائل بیٹل(شاہی مقابلہ) ہے۔ یہ پہلا موقعہ ہے جب بنارس چناؤ کے الگ ہی رنگ میں دکھائی دے رہا ہے۔ دیش میں ہورہے چناؤ کی انتہائی ہاٹ سیٹ بنارس میں بھاجپا کے پی ایم امیدوار نریندر مودی کے مقابلے پر کانگریس کے اجے را ئے اور عام آدمی پارٹی کے اروند کیجریوال کے سبب یہ جنگ زبردست ہوگئی ہے۔ نئے بنتے تجزیوں کے درمیان مودی رائے اور کیجریوال کے حامیوں کی بڑی تعدادکے بنارس آنے سے یہاں مہا سنگرام کا ماحول بنا ہوا ہے۔ گنگا اشنان کا پن کمانے ، درشن پوجن اور کاروبار کے بہانے سے یہاں پہنچ رہے ہیں۔ مسلسل بڑھتی بھیڑ سے ہوٹل، لانج، دھرم شالائیں، گیسٹ ہاؤس کی بات تو دور یہاں آشرم تک فل ہیں۔ نریندر مودی کی جارحانہ چناؤ کمپین سے کانگریس لیڈر شپ کافی خوفزدہ ہے۔ جس طرح سے مودی نے پرینکا گاندھی کی ایک رائے زنی کے جواب میں بہت ہی سیاسی چالاکی سے ذات کا داؤ چلا ہے۔ اس سے کانگریس نے اب کاشی میں مودی کو گھیرنے کی قواعد تیز کردی ہے۔ امیٹھی میں ووٹنگ کے بعد کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے مودی کو چنوتی دینے کیلئے بنارس جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بنارس میں راہل گاندھی چناؤ کمپین کے آخری دن روڈ شو کریں گے۔ اس کے علاوہ کانگریس پارٹی کی اس سیٹ پر ماحول بنانے کے لئے سرکردہ لیڈروں کی فوج اتارنے کی بھی اسکیم ہے۔ کانگریس بنارس کے لوگوں کو لبھانے کے لئے تجربے کار اور نوجوان لیڈروں کو بھیجنے کی تیاری میں لگی ہے۔ ان چہروں میں کانگریس کے کئی وزرائے اعلی مرکزی وزرا اور راہل برگیڈ کے ممبر شامل ہوں گے جن لیڈروں کے کاشی پہنچنے کا امکان ہے ان میں ہریانہ ، اتراکھنڈ اور ہماچل کے وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا، ہریش راوت، ویر بھدر سنگھ کے علاوہ سچن پائلٹ ،جوتر ادتیہ سندھیا اور دپیندر ہڈا قابل ذکر ہیں۔ خیال رہے کہ جیسے بنارس میں مودی اور کیجریوال نے ایک سما باندھا ہے اسے دیکھتے ہوئے پارٹی کو لگ رہا ہے کہ وہ کمپین میں پچھڑ گئی ہے۔اسی کمی کو پورا کرنے کے لئے بنارس میں پوری طاقت جھونکنے کا پلان بنا ہے۔عام آدمی پارٹی کے ورکر گھرگھر جاکر ووٹروں سے ذاتی طور پر ملنے کی کمپین چلائے ہوئے ہیں۔ اروند کیجریوال کی حکمت عملی صاف ہے کہ ذاتی طور پر ملنے اور بوتھ مینجمنٹ عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈرنے کہا کہ بی جے پی مودی لہر کے بوتے جیتنے کا دعوی کررہی ہے وہ بڑی بڑی ریلیاں کررہی ہے۔ خوب اشتہار دے رہی ہے ہم اس میں ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ ہم ووٹروں سے رابطہ قائم کر حکمت عملی پر کام کررہے ہیں۔ آخری وقت میں بھی گھر گھر جانا اور نکڑسبھائیں ہماری حکمت عملی ہے۔ دہلی میں یہ تجربہ کامیاب ہوچکا ہے اور بنارس میں بھی یہ کامیاب ہونے والا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے بنارس میں اس وقت تین ہزار سے زیادہ رضاکار موجود ہیں۔ ایک والنٹیئر ہر روز 20 سے30 لوگوں کو پارٹی کے بارے میں مطمئن کررہا ہے۔ ’آپ‘ کے نیتا اروند کیجریوال خود زیادہ سے زیادہ لوگوں سے ملنے کی کوشش کررہے ہیں۔ مودی جیسے نیتا تو دور سے ہاتھ ہلا رہے ہیں تو کیجریوال لوگوں کے پاس جاکر ان سے ہاتھ ملا رہے ہیں۔’آپ‘ نیتاؤں کو امید ہے کہ ذاتی ملاقات سے اچھا اثر ہوگا۔ ویسے عام آدمی پارٹی کے امیدوار اروند کیجریوال کے لئے کمپین پر نکلنے میں کئی طرح کے سوالوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہم کیجریوال کے مخالف نہیں ہیں لیکن کیجریوال یہاں مودی کا متبادل نہیں ہوسکتے۔دہلی کی 49 دنوں کی کیجریوال سرکار میں ان کے ساتھی منیش سسودیا کا سامنا ماتھے پر چندن لگائے ایک دوکاندار سے ہوتا ہے۔ وہ مودی کا کٹر حمایتی ہے اور تپاک سے کہتا ہے کہ انہوں نے (کیجریوال) نے مودی کے خلاف چناؤ لڑنے کا فیصلہ لے کر غلطی کی انہیں اپنی ضمانت گنوانی پڑے گی۔ یہ حمایتی کہتا ہے جب کیجریوال کا کوئی موقعہ ہی نظر نہیں آتا تو میں انہیں ووٹ کیا دوں؟ اس کٹر حمایتی سے منیش سسودیا نے مودی کو حمایت دینے اور کیجریوال کو انکار کرنے کی وجہ بتانے کو کہا تو اس کے جواب میں دوکاندار سری کانت پوتدار کہتے ہیں کہ بھاجپا مودی کے سبب ہی 300 سیٹیں جیتے گی اور بہتر مستقبل دے گی۔سسودیا بعد میں ایک اور سوال داغتے ہیں آخراس غریب شہر کو بھاجپا نیتا کس طرح جدید رنگ میں ڈھالیں گے تو پوتدار بولتے ہیں کہ بہتر مستقبل کیا ہوگا؟ میں کیجریوال کے خلاف نہیں وہ ایک اچھے انسان ہیں لیکن وہ متبادل نہیں بن سکتے۔ میں نے اپنے سہ روزہ کاشی دورہ میں پایا کے قریب پانچ ہزار سال پرانے بابا وشوناتھ کی نگری وارانسی میں چناوی سرگرمی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ پوروانچل کی اس دھارمک نگری میں صرف چناؤ ہی نہیں لڑا جارہا ہے بلکہ سیاسی پارٹیوں کا یہ آخری مقصد ہے جیت۔ کسی بھی قیمت پر اور کسی بھی ذریعے سے اس کے لئے سب کچھ جائز ہے۔ پرانی دشمنی بھلا کر اپنے دشمنوں سے ہاتھ ملایا جارہا ہے۔ کئی برسوں سے جیل میں بند قتل کے ملزم مافیہ مختار انصاری کی پارٹی ’قومی ایکتا دل‘ کے ذریعے کانگریس کے دبنگ امیدوار اجے رائے کو حمایت کی کاشی کے لوگوں خاص کر مسلمانوں میں جم کر مخالفت ہورہی ہے۔ انصاری کی یہ حمایت اجے رائے کے گلے کا پھندہ بنتی جارہی ہے کیونکہ محض اقلیتوں میں ہی نہیں بلکہ آس پاس کی سیٹوں پر بھومیاروں میں زبردست ناراضگی ہے۔ یہ وہی مختار انصاری ہیں جنہوں نے کچھ وقت پہلے اجے رائے کے بڑے بھائی اودھیش رائے اور چچیرے بھائی کرشن آنند رائے کا قتل کیا تھا۔کرشن آنند رائے غازی پور سے بھاجپاایم ایل اے تھے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس قتل کانڈ کے مقدمے میں اجے رائے خود گواہ بھی ہیں۔ وارانسی، غازی پور کے ووٹر اس بات کو لیکر ناراض ہیں جس قاتل اور بدمعاش نے ان کے خاندان والوں کا قتل کیا اسی کی حمایت سے اجے رائے پارلیمنٹ تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ وارانسی میں کانگریس اور اجے رائے کے خلاف یہ ماحول بنانا شروع ہوا ہے۔ کانگریس چناؤ جیتنے کے لئے مسلم ووٹروں سے حمایت لے رہی ہے اس سے نہ صرف ہندوووٹروں کے پولارائزیشن ہونے کا امکان ہے بلکہ اجے رائے اپنی ذات کوتھونپنے والے بن گئے ہیں۔ کل میں بھاجپا اور نریندر مودی کی بنارس میں چل رہی چناؤ تیاریوں کا ذکر کروں گا۔(جاری)
(انل نریندر)

09 مئی 2014

اب کانگریس بھی ماننے لگی ہے این ڈی اے کو اقتدار سے روکنا ناممکن!

لوک سبھا چناؤ کے آٹھویں مرحلے کی پولنگ پوری ہوچکی ہے تقریباً500 سیٹوں پر چناؤ کرائے جاچکے ہیں اور نئی سرکار کی قسمت الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں قید ہوچکی ہے۔ اب محض 43 سیٹوں پر پولنگ ہونا باقی ہے۔ ووٹروں نے اپنی نئی سرکار چن لی ہے۔ یہ حکومت کس کی ہوگی اس سوال کا جواب تو 16 مئی کو ووٹوں کی گنتی کے دن مل سکے گا لیکن امکان لگ رہا ہے کہ بھاجپا کی قیادت والی این ڈی اے سرکار بننے جارہی ہے۔ اب تو حکمراں کانگریس پارٹی بھی یہ ماننے لگی ہے کہ اگلی حکومت این ڈی اے کی ہی بننے والی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے اس چناؤ میں دو بڑی قومی پارٹیاں کانگریس۔ بھاجپا کو 300 سے زیادہ سیٹیں ملیں گی تو پھر تیسرے مورچے کے پاس اکثریت کہاں سے آئے گی۔ کانگریس کی معمولاتی پریس کانفریس میں پارٹی کے ترجمان ششی تھرور نے کہا اس بات کا گمراہ کن پروپگنڈہ کیا جارہا ہے کہ کانگریس اپنے لئے نہیں بلکہ تیسرے مورچے کی سرکار بنوانے کی کوشش کررہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی نائب صدرراہل گاندھی پہلے ہی کھلے طور پر اس بات سے انکار کرچکے ہیں کہ کانگریس تیسرے مورچے کو حمایت نہیں دے گی اور چناؤ نتائج چاہے کچھ بھی ہوں لیکن ایک بات پوری طرح سے صاف ہے کہ کانگریس اور بھاجپا کو 300 سے زیادہ سیٹیں ہر بار کی طرح ملنے جارہی ہیں۔ ششی تھرور کے بیان سے اتنا صاف لگتا ہے کہ ہر حال میں نریندر مودی کی حکومت کو بننے سے روکنے میں لگی کانگریس بھی مان چکی ہے کہ تیسرے مورچے کے بھروسے وہ بھاجپا کو نہیں روک سکتی اس لئے وقت رہتے تیسرے مورچے کو حمایت دینے کی حکمت عملی سے اپنے قدم کھینچتے ہوئے خود کو آگے کرنے کا اعلان کیا۔ موجودہ سیاسی ماحول سمجھنے کے بعد اب کانگریس کے منجیر مضبوط اپوزیشن کے متبادل پر غور کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ دراصل چار مرحلوں کے چناؤ کے بعد ایک دم سے مایوسی میں آئی کانگریس پارٹی کے لیڈروں نے بھی مودی کو روکنے کے لئے تیسرے مورچے کو حمایت بارے بیان دینے شروع کردئے تھے۔ اس کا ایک پیغام یہ ضرور گیا کہ کانگریس نے نتیجوں سے پہلے ہی ہار مان لی ہے۔ساتھ ہی کانگریس کیڈر کے حوصلے پست ہونے کی خبریں بھی آنے لگی ہیں۔ حقیقت میں کانگریس کے منجیروں کو سمجھ میں آنے لگا ہے کہ لوک سبھا کا ممکنہ خاکہ کسی بھی قیمت پر تیسرے مورچے کے حق میں نہیں ہے۔ایک دلچسپ رپورٹ میڈیا میں اس سلسلے میں چھپی ہے۔ عام چناؤ میں کانگریس کے گرتے گراف اور گھٹتی سیٹوں کا قیاس خفیہ بیورو نے سرکار کو بتادیا ہے۔ شروع میں انٹیلی جنس بیورو نے مختلف پارٹیوں کو ملنے والی سیٹوں کا بھی اندازہ لگایا جس میں کانگریس کو87 سیٹیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ لیکن اتنی کم سیٹوں کے اندازوں کے ساتھ انٹیلی جنس بیورو کے حکام نے اپنے سیاسی آقاؤں کے سامنے جانے کی ہمت نہیں کرسکے۔ اسے بڑھاکر انہیں 117 کرنا پڑا۔ اس وقت انٹیلی جنس بیورو نے این ڈی اے محاذ کو 210 سے220 سیٹیں ملنے کی پیشینگوئی کی تھی۔کانگریسی اس سے بھی خوش تھے اتنی سیٹوں پر نریندر مودی کو وزیر اعظم بننے سے روکا جاسکتا ہے لیکن حال ہی میں جب انٹیلی جنس بیورو نے تجزیہ کیا تو اس نے این ڈی اے کو تقریباً300 سیٹیں ملنے کا امکان سامنے آگیا تو حکام کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور انہوں نے اس اندازے کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنا بہتر سمجھا۔
(انل نریندر)

یوپی اے نے پھر کرائی کرکری: جاسوسی اسکینڈل کی جانچ سے پیچھے ہٹی!

وناش کالے وپرت بدھی کی کہاوت کانگریس اور اس کی قیادت والی مرکزی حکومت پر کھری اترتی ہے۔ آٹھویں مرحلے کے چناؤ سے پہلے چناوی پارہ بڑھانے کے بعد یوپی اے سرکار گجرات میں مبینہ خاتون جاسوسی کانڈ کی جانچ کے لئے جوڈیشیل کمیشن کی تشکیل کے فیصلے سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ اتحادی پارٹیوں کی مخالفت کے باوجود آخر کار یوپی اے کو مبینہ طور پر گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کے اشارے پر ہوئی ایک لڑکی کی جاسوسی معاملے میں جوڈیشیل انکوائری کمیشن کا فیصلہ واپس لینا پڑا۔ عام چناؤ کا عمل پورا ہونے کو ہے10 دن بعد نئی حکومت کا چہرہ صاف ہوجائے گا۔ مرکزی اقتدار کی پالیسی تشویشات کو یہ پہلے سے احساس ہونا چاہئے تھا کہ چناؤ نتائج آنے کے چند دن بعد پہلے اس جوڈیشیل کمیشن کی تشکیل پر جنتا کے درمیان کیا پیغام جائے گا؟ اگرچہ یوپی اے کو لوک لاج کی ذرا بھی فکر ہوتی یا پرواہ ہوتی تو وہ اس بے تکے ، بے بنیاد الزام کی جانچ نہ کرواتے لیکن ڈوبتے ہو تنکے کا سہارا۔ یوپی اے کو لگا کہ اس جھوٹے الزام پر جانچ کمیشن کا ڈرامہ کرکے وہ ووٹروں میں نریندر مودی کو بے نقاب کردیں گے۔ لڑکی کا والد خود کہہ رہا ہے کہ یہ الزام غلط اور بے بنیاد ہے۔ خود لڑکی نے کوئی ایسا الزام نہیں لگایا پھر بھی محض ڈرامے بازی کرنے کے لئے یوپی اے حکومت نے اپنے قدم آگے بڑھائے اور کرکری کراکر واپس کھینچے پر مجبور ہونا پڑا۔ یوپی اےII- کی راشٹر وادی کانگریس پارٹی نے کانگریس کے اس قدم کی سخت مخالفت کی لیکن سمجھنا مشکل ہے کہ اس معاملے کو لیکر اگر یوپی اے سرکار سنجیدہ تھی تو اس نے پچھلے سال نومبر میں جب کانگریس نے مودی پر تلخ حملے کئے تھے تبھی اس کی جانچ کیوں نہیں کروائی؟ چناؤ نتائج آنے کے چند دن پہلے جاسوسی معاملے میں جوڈیشیل کمیشن قائم کرنے کے فیصلے سے دیش دنیا میں یہ پیغام گیا کہ سیاسی طور پر مودی کا مقابلہ کرنے میں کانگریس انہیں زبردستی پھنسانے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ ایسے کسی کمیشن کو قائم کرنے کا فیصلہ قریب پانچ مہینے پہلے لیا گیا تھا لیکن کوئی بھی جوڈیشیل کمیشن کا چیئرمین بننے کے لئے تیار نہیں ہوا۔ قاعدے سے تو سرکار کو پہلے ہی سمجھ لینا چاہئے تھا کہ ایسے کسی کمیشن کے قیام سے عام جنتا کے درمیان صحیح پیغام نہیں جائے گا۔ پچھلی26 دسمبر کو کیبنٹ کے فیصلے پر اب16 مئی کے بعد بننے والی نئی سرکار غور کرے گی۔ کیبنٹ کے فیصلے کے بعد سرکار کی تمام کوششوں کے باوجود مودی کے خلاف جانچ کے لئے سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کا کوئی بھی جج تیار نہیں ہوا جس وجہ سے جج کی تقرری نا ہونے سے متعلق پیر کو مرکز کے اعلان کے بعد بھاجپا لیڈر ارون جیٹلی نے کہا اس معاملے کی جانچ کرنے کے لئے کچھ بچا نہیں تھا کیونکہ گجرات سرکار اس کی جانچ کے لئے پہلے ہی کمیشن بنا چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے مرکز کی جانب سے یکساں کمیشن بنانے کا قدم ایک منفی مفاد پر مبنی تھا اور میں بھارت کی عدلیہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ کوئی بھی جج اس قدم میں تعاون کرنے کو تیار نہیں ہوا۔ اس قدم سے پتہ چلتا ہے کانگریس کے اندر کتنی مایوسی ہے۔
(انل نریندر)

08 مئی 2014

کاشی وشوناتھ کے شہر میں تین دن!

عام چناؤ کی راجدھانی بن چکی کاشی میں تین دن گزارنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہاں سے نریندر مودی نہ صرف کامیاب ہورہے ہیں بلکہ بھاری فرق سے جیتیں گے۔ میں اور میرے ساتھی 3 مئی کو کاشی پہنچے تھے اور5مئی کی شام کو وہاں سے دہلی لوٹے۔ چناؤ کمیشن اور مقامی انتظامیہ کی سختی کی وجہ سے شہر میں ہمیں نہ تو کوئی جھنڈا نظر آیا ، نہ بینر، نہ پوسٹر ، ہاں ہورڈنگ ضرور لگے نظر آئے سبھی اہم امیدواروں کے۔ نریندر مودی ،عام آدمی پارٹی، سپا اور کانگریس ہم نے ان تین دنوں میں بہت سے لوگوں سے پوچھا۔ پہلے تو وہ ڈر کی وجہ سے جواب دینے کو تیار نہیں ہوئے لیکن سمجھانے کے بعد ایک شخص کے بجائے سبھی نے مودی کو ووٹ دینے کی بات کہی۔ ایک ریڑی والے نے ضرورجھاڑو پر مہر لگانے کی بات کہی۔ ہمارا نتیجہ یہ ہے کہ ریڑی والے، پٹری والے، دلت طبقہ اور کچھ بابو کلاس ضرور اروند کیجریوال کو ووٹ دے گا ۔ ایک مسلمان بھائی سے بات ہوئی اس نے دو ٹوک کہا کہ کیجریوال بے شک اچھے آدمی ہیں لیکن ہم انہیں کیوں ووٹ دیں؟ وہ سرکاربنانے تو جا نہیں رہے نہ ہی وہ ہمیں یہاں کی پولیس و افسروں کی سختی اوربیہودگی سے بچا سکیں گے؟ اس لئے ہم انہیں ووٹ نہیں دیں گے لیکن اتنا طے لگتا ہے کوئی بھی مسلمان مودی کو ووٹ شاید ہی دے۔ مسلمانوں کو اس بات کا غصہ ہے کہ کانگریسی امیدوار اجے رائے نے اپنے بھائی کے قاتل مختار انصاری سے کیوں حمایت لی؟ وہ اس سے ناراض ہوکر کانگریس کو ووٹ نہیں دیں گے۔ جب ہم کاشی میں تھے تو سپا کی بھی حالت دیکھنے کو ملی کیونکہ یوپی میں سپا کی حکومت ہے۔ انتظامیہ ہے تو ظاہر سی بات ہے کہ اسے بھی ووٹ ڈر کے مارے ملیں گے۔لہٰذامسلم ووٹ ہمیں تو کانگریس ،سپا، عام آدمی پارٹی میں بٹتا نظر آیا ۔بسپا کا کوئی اثر دیکھنے کو نہیں ملا۔ حالانکہ لوک سبھا چناؤ کی راجدھانی بن چکی کاشی میں بھلے ہی 42 امیدوار تال ٹھوک رہے ہوں لیکن اہم مقابلہ اگر ہے تو مودی بنام کیجریوال ہے۔ ہم فگرا حلقے میں ورون ہوٹل میں ٹھہرے تھے۔ علاقے میں سماجوادی پارٹی کے امیدوار کیلاش چورسیا کے مرکزی دفتر کے بغل میں ناریل پانی بیچ رہے سنجے ڈام سے اس کی رائے جاننی چاہی تو اس نے تپاک سے کہا بابو جی یہاں پھول(کمل) اور جھاڑو کی لڑائی ہے۔باقی تو سب ہوا ہوائی ہے۔ بابا وشواناتھ کے درشن کرنے کے بعد ہم باہر اپنے جوتے پہن رہے تھے تو سامنے دو دوکانداروں میں بحث چھڑی ہوئی تھی۔ایک کمل حمایتی تھا تو دوسرا جھاڑو۔بحث اتنی گرما گرم ہوگئی کہ ہاتھا پائی تک نوبت آگئی۔ وارانسی میں منی پاکستان کے نام سے مقبول مدن پورہ علاقے میں کاروباریوں کی بھی یہ ہی رائے تھی کہ لڑائی کمل اور جھاڑو میں ہورہی ہے حالانکہ اقلیتوں میں آپ کی سفید ٹوپی کافی تعداد میں نظرآئی۔ ایک صحافی بھائی کا کہنا تھاکہ شروع میں تو حالات الگ تھے لیکن مودی اور کیجریوال کے سبب یہاں چناوی پولارائزیشن کا امکان زیادہ مضبوط ہوگیا۔ پولنگ کی تاریخ جیسے جیسے قریب آرہی ہے وارانسی کے ووٹر دو خیموں میں بٹتے نظر آرہے ہیں۔ مودی وارانسی پہنچنے والے ہیں لگتا ہے ان کے آنے سے ہوا مودی کے حق میں ہوجائے اور مودی کے طوفان کے آگے سب اکھڑ جائیں گے یہ ہے ہماری کاشی یاترا کی رپورٹ۔
(انل نریندر)

مودی کی جی توڑ محنت کیا رنگ لاتی ہے16 مئی کو پتہ چلے گا!

نریندر مودی نے جس طریقے سے پچھلے 8-9 مہینوں میں سخت محنت کی ہے اور چناؤ کمپین چلائی ہے ماننا پڑے گا کہ انہوں نے 25 سال کے لڑکوں کو مات دے دی ہے۔ ستمبر کے درمیان میں انہوں نے اپنی پہلی ریلی ریواڑی میں کی تھی اس کے بعد دیش کا شاید ہی کوئی کونا چھوٹ گیا ہو جہاں مودی نہیں پہنچے۔ بھاجپا کے پی ایم امیدوار نریندر بھائی مودی کسی مشین کی طرح اپنی پارٹی کی چناؤ مہم کو منزل تک پہنچانے میں لگے ہوئے ہیں۔10 مئی کو جب لوک سبھا چناؤ کمپین رکے گی ان کا نام ہندوستان کی چناوی تاریخ میں درج ہوگا۔ پانچ بجے صبح شروع ہوجاتا ہے مودی کادن اور کئی بار آدھی رات تک ان کی ریلیاں چلتی ہیں۔15 سے20 گھنٹے تک وہ روزانہ کام کررہے ہیں۔ 15 ستمبر 2013 کو ہریانہ کے ریواڑی سے شروع کردہ چناؤ مہم 10 مئی 2014 تک وہ تین لاکھ کلو میٹر کی دوری کا سفر طے کر چکے ہوں گے۔25 ریاستوں میں 237 ریلیاں کرچکے ہیں اور یہ سلسلہ 10 مئی تک چلے گا۔1350 تھری ڈی ریلیاں کرچکے ہیں۔ 24 ریاستوں میں 4 ہزار مقامات پر چائے بحث میں حصہ لے چکے ہیں۔15 ملکوں کے 50 شہروں میں بھی مودی کے بارے میں ویڈیو کانفرنسنگ ہوچکی ہے۔196 ’بھارت وجے‘ ریلی کے علاوہ بڑودہ ، وارانسی میں بھی روڈ شو کئے ہیں ۔ کل ملاکر10 مئی تک ان کی 5827 ریلیاں ، پروگرام اور روڈ شو بھی ہو چکے ہیں۔ یوں تو پوری دنیا کی نگاہیں لوک سبھا چناؤ پر لگی ہوئی ہیں لیکن خلیجی ملکوں میں مقیم ہندوستانی نژاد لوگوں کی وارانسی سیٹ پر خاص طور پر نظر لگی ہوئی ہے وہ یہاں کے چناوی ثمر کی پل پل کی خبریں جاننا چاہتے ہیں۔ چناوی کوریج کے لئے آئے دو درجن سے زائد غیر ملکی صحافیوں میں سے ایک چوتھائی خلیجی ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان صحافیوں کے مطابق خلیجی ملکوں میں مقیم 80 لاکھ ہندوستانی کاشی کے چناؤ کو لیکر کافی دلچسپی لے رہے ہیں۔ وہ نہ صرف نریندر مودی بلکہ ان کے حریف اروند کیجریوال اور کانگریس کے اجے رائے سے متعلق ہرجانکاری چاہتے ہیں۔ میڈیا نمائندے گنگا کے اشو پر سنکٹ موچن مندر کے میہنت پروفیسر بھیشمبر ناتھ مشر اور بنکروں سے بات کر یہاں کی نبض ٹٹولنے میں لگے ہوئے ہیں۔ دوبئی سے شائع خلیجی اخبار ’گلف نیوز،خلیج ٹائمس‘ کے صحافی کئی دنوں سے کاشی میں قیام پذیر ہیں۔ جب ہم گنگا کی آرتی دیکھنے گئے تو ہم نے دیکھا کہ بہت سی غیر ملکی میڈیاٹیمیں کشتیوں سے آرتی کی شوٹنگ کررہی تھیں۔ بعد میں ان میں سے ایک نے بتایا دنیا میں ایساعجوبہ شوہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔45 منٹ کی ماں گنگا کی آرتی کے واقعہ پوری دنیا میں دیکھا جاتا ہے یہ ایک ایسا خوشنما منظر تھا جو کبھی بھلایا نہیں جاسکتا۔ دوبئی ،ابوظبی، شارجہ اور خرفقن میں قریب 17 لاکھ اور قطر ، اومان، کویت، بحرین وغیرہ ممالک میں قریب63 لاکھ ہندوستانی رہتے ہیں۔ گلف نیوز کے مدیربابی نقوی بھی ان دنوں وارانسی میں ہی رکے ہوئے ہیں۔جس دن(3 مئی کو) ہم گنگا کی آرتی دیکھ رہے تھے تو میں نے دیکھا این ڈی ٹی وی کے چیف پرنو رائے خود اپنے موبائل سے آرتی کو قید کررہے تھے۔ گنگا میں انہوں نے ایک کشتی لے رکھی تھی وہاں سے ان کی ٹیم آرتی کو شوٹ کررہی تھی۔ساروناتھ کے ہونے کے سبب غیر ملکیوں میں بہت زیادہ تعداد میں جاپانی نژاد لوگ بھی کاشی میں موجود ہیں۔
(انل نریندر)

07 مئی 2014

امیٹھی میں داؤ پر لگی پرینکا ۔راہل گاندھی کی ساکھ!

دیش کے آٹھویں مرحلے کی پولنگ آج یعنی 7 مئی کو ہورہی ہے اس کے لئے سبھی پارٹیاںآخری دور کی تیاریوں میں لگ گئی ہیں۔ اس میں اترپردیش کی 15 سیٹوں پر ووٹ پڑیں گے جن میں سب سے اہم سیٹ امیٹھی ہے۔ جہاں سے کانگریس نائب پردھان راہل گاندھی کا مقابلہ بھاجپا کی لیڈر اسمرتی ایرانی اور عام آدمی پارٹی کے امیدوار کمار وشواس سے ہے۔ یہاں پر داؤ پر ہے کانگریس پارٹی کی ساکھ۔ پچھلے چناؤ میں کانگریس کو سب سے زیادہ کامیابی یہیں سے ملی تھی۔چار بار سابق پردھان منتری رہے راجیو گاندھی اور ایک بار سونیا گاندھی ،دو بار راہل گاندھی کو یہاں کی عوام نے اپنا نمائندہ چنا ہے۔ ظاہر ہے کہ گاندھی خاندان کے تئیں عوام میں خاص پریم ہے۔ یہاں اس بار مودی کی لہر کے بھروسے اسمرتی ایرانی راہل گاندھی کو ٹکر دے رہی ہیں لیکن عام آدمی پارٹی کے تیز طرار امیدوار کمار وشواس جو پچھلے پانچ مہینے سے یہاں جمے ہوئے ہیں، کو بھی سرسری طور پر نہیں لیا جانا چاہئے۔ انہوں نے حلقے کے 100 سے زیادہ دیہات کا دورہ کیا اور لوگوں تک اپنی بات پہنچائی ہے۔ امیٹھی کو کنبہ پرستی کے چنگل سے آزاد کرانے کی اپیل کی ہے۔ بسپا نے یہاں دھرمیندر پرتاپ سنگھ کو میدان میں اتارا ہے۔ راہل کی بہن پرینکا گاندھی واڈرا امیٹھی میں مسلسل کمپین کررہی تھیں اور کافی حد تک یہاں سے راہل کے ساتھ ساتھ بہن پرینکا کی بھی ساکھ داؤ پر لگی ہے۔ کانگریس نائب پردھان راہل گاندھی نے کہا کہ جب تک زندہ ہوں دیش و امیٹھی کے لئے وقف رہوں گا۔ لوگ آتے جاتے رہتے ہیں لیکن وہ جب تک زندہ رہیں گے امیٹھی آتے جاتے رہے ہیں۔ ادھر ایتوار کو امیٹھی گئیں بہن پرینکا نے ایک ساتھ جائس قصبے میں روڈ شو کیا ۔ دو کلو میٹر تک بھائی بہن نے اس میں شرکت کی۔ لوگوں کو کانگریس کے حق میں کرنے میں پورا زور لگایا۔ سال2009 ء کے لوک سبھا چناؤ میں کانگریس کو سب سے زیادہ7 ، بسپا کو5، سپا کو3 سیٹیں ملی تھیں۔ اس مرحلے کی15 سیٹوں میں سے راہل گاندھی نے امیٹھی میں 3.70 لاکھ ریکارڈ ووٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی لیکن اس مرتبہ حالات تھوڑے بدلے ہوئے ہیں۔ پچھلی بار کمزور رہی بھاجپا اس مرتبہ کانگریس کے ساتھ ساتھ اور بسپا ، سپا ، عام آدمی پارٹی کو چنوتی پیش کررہی ہے۔امیٹھی میں اسمرتی ایرانی کے ذریعے راہل گاندھی کی گھیرا بندی کی جارہی ہے۔ اسمرتی کو مودی لہر کا زیادہ سہارا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے ڈاکٹر کمار وشواس تو امیٹھی سے جیت کا دعوی کررہے ہیں۔ دراصل اترپردیش کی اعظم گڑھ، امیٹھی، جونپور اور مچھلی شہر، الہ آباد ، پھولپور، مرزا پور، کوشانبی سمیت 33 لوک سبھا سیٹیں ہیں جہاں مودی کی اگنی پریکشا ہے ۔ ان کے علاوہ آٹھویں مرحلے کی15 سیٹوں میں سے10 سیٹوں پر دبنگی امیدواروں نے بھی نریندر مودی کی لہر پر حملہ کیا ہوا ہے۔ ان سیٹوں پر 43 امیدوار ایسے ہیں جن پر مجرمانہ مقدمے قائم ہیں۔ دونوں مودی اور راہل گاندھی کا مستقبل اس مرحلے کے چناؤ میں کافی اہمیت رکھتا ہے۔ راہل گاندھی کوتودوہری چنوتی ہے۔ ایک اپنی سیٹ بچانا اور اگر کسی وجہ سے وہ ہار جاتے ہیں تو ان کا اور ان کی پارٹی کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔ اسمرتی ایرانی ایک کمزور امیدوار ہیں جو محض مودی لہر پر کھڑی ہیں۔ کمار وشواس نے اس چناؤ میں امیٹھی میں سب سے زیادہ محنت کی ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کانگریس کی اس انتہائی مضبوط سیٹ پر کیا سیند لگ سکتی ہے؟
(انل نریندر)

بینی پرساد،اکبر ڈمپی و آ ر پی این سنگھ کی ساکھ داؤ پر!

آج یعنی7 مئی کو آٹھویں مرحلے کے ہورہے چناؤ میں اترپردیش کے کئی اہم پارلیمانی حلقوں میں چناؤ ہونا ہے۔ ان میں فیز آباد، گونڈا، پھولپور جیسے اہم حلقے اس مرحلے میں آر ہے ہیں۔ ایودھیا کی تمام ساکھ اپنے اندر سمیٹے فیز آباد پارلیمانی سیٹ کی بھاجپا کے لئے ایک الگ ہی اہمیت ہے۔ پچھلی لوک سبھا اور پھر ایودھیا سے اسمبلی چناؤ گنوا چکے بھاجپا کے للو سنگھ کو پھر امید ہے۔ اس چناؤ میں ایودھیا کے کئی بڑے اکھاڑوں کے سنتوں کی بھی خاص اہمیت رہے گی۔ پہلے تین مرحلوں کے چناؤ میں مودی لہر کا یہاں بھی اثر پڑنا فطری ہی ہے لہٰذا دیگر مقامات کی طرح فیز آباد میں بھی بھاجپا امیدوار سے زیادہ گلی محلوں میں تذکرہ مودی کا ہی ہے۔ یہاں مسلم ووٹ اچھے خاصے ہیں نہ تو کانگریس اور سپا کے روایتی ووٹ ہیں، براہمن اگر موجودہ ایم پی کانگریس کے تھے نرمل کھتری کے ساتھ ساتھ چلے گئے تو وہ جیت سکتے ہیں کیونکہ ان کی برادری کا دبدبہ ہے۔ بھاجپا ۔کانگریس کے درمیان سپا کے مترسین یادو بھی سخت ٹکر دیں گے۔ ملکی پور سے ایم ایل اے مترسین یادو سپا کے روایتی ووٹ بینک کے لئے مفید امیدوار ہیں۔ بسپا امیدوار جتندر سنگھ ببلو کی مجرمانہ ساکھ ان کے راستے میں روڑا بن سکتی ہے۔ فیز آباد میں 25 فیصدی دلت ووٹ ہیں کل ملاکر یہاں مقابلہ سخت ہے۔بھاجپا کے لئے فیز آباد جیتنے کی خاص اہمیت ہے۔ گونڈا پارلیمانی سیٹ پر کیرتی وردھن 2004 سے یہا سپا سے ایم پی بنے تھے تو پچھلی مرتبہ لوک سبھا میں بسپا کے ٹکٹ پر جیت کر پہنچے تھے۔ اس بار وہ بھاجپا کے ٹکٹ پر تال ٹھونک رہے ہیں۔ مودی لہر کے سہارے 18 ویں لوک سبھا میں پہنچنے کا خواب لئے کیرتی وردھن سنگھ اپنی ہر ریلی میں سپا کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔ علاقائی ایم پی بینی پرساد ورما پانچ سال کے اپنے کام کی رپورٹ کارڈ رکھ رہے ہیں۔ سپا کی امیدوار نندتا شکلا اور بسپا سے احمد اکبر ڈمپی مقابلے میں ہیں۔ وہ بسپا کے روایتی ووٹ بینک کے علاوہ مسلمان ووٹوں کی امید لگائے بیٹھے ہیں لیکن اس میں سیند لگا رہے ہیں بسپا سے 3-4 مہینے پہلے نکالے گئے مسعود عالم خاں ، وہ پیس پارٹی سے چناؤ میدان میں ہیں۔ کل ملا کر مقابلہ کانٹے کا ہے۔ بینی پرساد ورما، امن اور عدم تشدد کا پیغام دینے والے مہاتما بودھ کی مہا پرینوارن استھلی کشی نگر میں اس بار چناؤ دنگل زبردست ہے۔ یہاں کے ایم پی اور مرکزی وزیر مملکت کنور آر پی این سنگھ اس بار اپنے گھرمیں تین طرف سے گھرتے نظر آرہے ہیں۔ آر پی این سنگھ کا تعلق پڈرونا راج گھرانے سے ہے۔ ان کے والد جہاں اندرا گاندھی، راجیو گاندھی کے قریبیوں میں سے شمار کئے جاتے تھے وہیں وہ خود راہل گاندھی کے قریبی مانے جاتے ہیں۔ بسپا نے یہاں پہلے براہمن امیدوار کی شکل میں ڈاکٹر سنگم مشر کو میدان میں اتارا ہے۔ بھاجپا نے پوروانچل کے سرکردہ سیاستداں رہے راج منگل پانڈے کے لڑکے اورگڈو پانڈے کو چناؤ میدان میں اتارکر 90 کی دہائی کی یاد تازہ کردی۔ 1999ء سے یہ لوک سبھا میں مسلسل یہاں سے بھاجپا کا سکہ چلا ہے۔ اس حلقے کی سب سے زیادہ مارا ماری مسلم ووٹوں کو لیکر ہے۔ کانگریس ۔ سپا اور بسپا تینوں کے ذریعے اقلیتوں کو رجھانے کی پوری کوشش جاری ہے لیکن ان سب کے درمیان مرکزی وزیر مملکت آر پی این سنگھ کے خیمے کا ماننا ہے کہ اقلیتی ووٹر مودی لہر کی دھار میں کشی نگر پارلیمانی حلقے میں آخری وقت میں کانگریس کے ساتھ جڑیں گے۔
(انل نریندر)

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...