Translater

15 اپریل 2017

راجوری گارڈن ضمنی چناؤ کے نتیجہ کا مطلب کیا ہے

دہلی کی راجوری گارڈن اسمبلی سیٹ کیلئے ہوئے ضمنی چناؤ کا نتیجہ بی جے پی کے حق میں آنا تو اہم ہے لیکن اس سے زیادہ اہم عام آدمی پارٹی کا اس بری طرح ہارنازیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ پچھلے چناؤ میں ساڑھے دس ہزار سے زیادہ ووٹ کے فرق سے یہ سیٹ جیتنے والی عام آدمی پارٹی کا امیدوار اس بات اپنی ضمانت تک نہیں بچا سکا۔ انہیں صرف 10243 ووٹ ملے۔ اس جیت سے اسمبلی میں ا ب بھاجپا ممبران کی تعداد 4 ہوگئی ہے۔ عاپ امیدوار ہرجیت سنگھ تیسرے نمبر پر رہے۔ کل جائز ووٹ کے چھٹے حصے سے کم ووٹ ملنے کے سبب ان کی ضمانت ضبط ہوگئی ہے۔ انہیں کل 13.11 فیصد ووٹ ملے۔ 2015 کے چناؤ میں یہیں سے کانگریس امیدوار کی ضمانت ضبط ہوئی تھی۔ بھاجپا ۔ اکالی دل کے امیدوار منجندر سنگھ سرسہ 10 ہزار ووٹ سے ہارے تھے۔ پنجاب میں ہوئے اسمبلی چناؤ میں یہاں کے عام آدمی پارٹی کے ممبر اسمبلی جرنیل سنگھ نے استعفیٰ دیا تھا جس وجہ سے یہاں ضمنی چناؤ ہوا۔ دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ اس بار کانگریس کو 25950 ووٹ ملے اور عام آدمی پارٹی کو 102431 ووٹ ملے۔ اگر ان دونوں کے ووٹ جوڑ بھی دئے جائیں تب بھی بھاجپا امیدوار کے ووٹ زیادہ ہے۔ جیت کے بعد بی جے پی ۔ اکالی دل کے امیدوار منجندر سنگھ سرسہ نے کہا کہ جنتا نے عاپ کو مسترد کردیا ہے۔ یہ عاپ پارٹی کی سرکار کا زوال ہے۔ کیجریوال کرسی چھوڑ کر پھر سے چناؤ کرائیں۔ عام آدمی پارٹی کی ہار پر سوراج انڈیا کے قومی ترجمان انوپم نے کہا کہ عاپ نے اپنی ساکھ کھو دی ہے۔ وہ جنتا کے من سے بہت جلد اتر گئی ہے۔ عاپ دیش میں تبدیلی کی سیاست کے مقصد سے آئی تھی لیکن خود بدل گئی۔ انہوں نے کہا پنجاب میں اکالیوں کو جنتا نے 10 سال بعد اپنے دلوں سے نکال دیا تو وہیں دہلی کی جنتا نے محض 2 سال کے بعد ہی عاپ کے تئیں یہ رخ دکھا دیا ہے۔انہوں نے کہا راجوری گارڈن ضمنی چناؤ کا نتیجہ صرف ایک سیٹ کیلئے نہیں بلکہ پوری دہلی کی جنتا کے دل کا رجحان ہے۔ بی جے پی۔ اکالی امیدوار کی جیت نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ یہاں بھی وزیر اعظم نریندر مودی کا جلوہ برقرار ہے۔ چناؤ میں کانگریس دوسرے نمبر پر رہی۔ ہار کے بعد بھی یہ سوچ کر خوش ہوسکتی ہے کہ اس کا ووٹ بینک واپس لوٹنے لگا ہے۔ ضمنی چناؤ کے نتیجہ نے عام آدمی کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے اور اس ہار کا سیدھا اثر دہلی میونسپل کارپوریشن کے چناؤ پر پڑے گا۔ کانگریس نے اپنا ووٹ فیصد بڑھایا ہے جو ووٹ پچھلے چناؤ میں کانگریس سے نکل کر عاپ کی طرف آگیا تھا وہ واپس چلا آیا ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ایم سی ڈی چناؤ میں لڑائی بھاجپا۔ کانگریس کے درمیان ہوگی۔عام آدمی پارٹی امیدوارہرجیت سنگھ کی بری طرح ہوئی ہار بتاتی ہے لوگوں کو پارٹی نیتاؤں کے ذریعے مودی و سرکاری اداروں و دیگر پارٹیوں پر لگائے گئے الزامات راس نہیں آئے اور انہوں نے عاپ کو سبق سکھانے کی ٹھان لی ہے۔ کیا ایک طرح سے یہ نتیجہ عام آدمی پارٹی کے دو سال کی میعاد پر ریفرنڈم مانا جائے؟ اروند کیجریوال کو اس ہار کی ذمہ داری لینی ہوگی۔ وعدہ کر کے نہ پورا کرنا ، بھاگ جانا، الٹے سیدھے الزام لگانا، دہلی کی جنتا کو راس نہیں آرہا ہے۔ اس ضمنی چناؤ کا اثر ایم سی ڈی چناؤ پر پڑنا طے ہے۔ بھاجپا پچھلے 10 سالوں سے ایم سی ڈی میں اقتدار میں ہے۔ تمام طرح کے کرپشن کے الزامات سے گھرنے کے بعد بھی مودی لہرکی بدولت وہ پھر سے اقتدار میں لوٹ سکتی ہے لیکن اگر بھاجپا اقتدار میں آئی تو اس بار وزیر اعظم کی ذمہ داری ہوگی کہ ایم سی ڈی میں کرپشن سے پاک صاف ستھرا انتظامیہ دیں۔ فی الحال تو عام آدمی پارٹی بری طرح سے بے نقاب ہوگئی ہے۔ پانی۔ بجلی معاف کرنے کا اثر اگر راجوری گارڈن کے ووٹروں پر نہیں پڑا تو کس اشو پر پارٹی ایم سی ڈی چناؤ لڑے گا؟ہاں ای وی ایم کا اشو تو ہے ہی۔
(انل نریندر)

کلبھوشن جادھو کو ابھی بھی بچایا جاسکتا ہے

ہندوستانی بحریہ کے سابق افسر کلبھوشن جادھو کو پاکستان میں پھانسی کی سزا سنائے جانے کا اشو منگل کے روز لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں میں اٹھا۔ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے لوک سبھا میں کہا کہ جادھو کے پاس جائز پاسپورٹ کا ملنا اس بات کا ثبوت کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ ہندوستانی جاسوس ہیں۔ یہ واقعہ پاکستان کو بے نقاب کرتا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا جادھو بھارتیہ بحریہ کے سابق افسر رہے ہیں جو ایران کے چابہار میں چھوٹا موٹا کاروبار کرتے تھے۔ اس میں ایک مقامی ایرانی شہری ان کا سانجھے دار بھی تھا۔ کاروبار کے سلسلہ میں ان کا چابہار میں آنا جانا لگا رہتا تھا۔ ابھی بھی کلبھوشن جادھو کی جان بچائی جاسکتی ہے۔اگر تاوقت پاکستانی فوج چاہے تو پاکستان کے آرمی ایجنٹ 1952 کے تقاضہ 7.2.3 کے مطابق فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف شہری عدالتوں میں اپیل نہیں کی جاسکتی لہٰذا جادھو کو اعلی فوجی ٹریبونل کا دروازہ کھٹکھٹانا ہوگا۔ پاکستان کے سابق اٹارنی جنرل انور منصور خاں کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں دو سال کا وقت لگ سکتا ہے۔ جادھو کی پھانسی کی سزا فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے دی ہے لہٰذا اس کے پاس پہلا متبادل میجر جنرل کی آرمی ٹریبونل میں پھانسی کی سزا کے خلاف اپیل کرنے کا حق ہے۔ اگر یہ ٹریبونل سزا برقرار رکھتی ہے تو جادھو کے پاس فوج کے سربراہ کے سامنے اپیل کرنے کا موقعہ ہوگا۔ اگر وہ چاہیں تو معاملے میں آخری فیصلہ دے سکتے ہیں۔ اب فوجی کورٹ کے خلاف پاک سپریم کورٹ میں نظرثانی اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔ پھانسی کی سزا پائے 16 لوگوں نے سال2016ء میں سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی یہ کیس ابھی التوا میں ہے۔ فوج کے سربراہ سے اپیل خارج ہونے کے بعد جادھو پاک صدر کے سامنے رحم کی اپیل داخل کرسکتے ہیں یہ ان کے لئے آخری متبادل ہوگا۔ بھارت اقوام متحدہ کے ذریعے کلبھوشن جادھو کااشو بین الاقوامی عدالت میں اٹھا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ممبر ہونے کے ناطے پاکستان کو بین الاقوامی ذمہ داری پوری کرنے کو کہا جاسکتا ہے۔ یہ ممبر ملکوں کے درمیان کسی تنازعہ کے حل کا ذریعہ ہے۔ بین الاقوامی عدالت میں پھانسی کی سزا کو لیکر تین معاملوں میں متاثرہ دیشوں کو راحت دی ہے۔پہلا گووا، جرمنی اور میکسیکو نے امریکہ میں پھانسی کی سزا پائے اپنے شہریوں کو بچانے کیلئے عرضیاں داخل کی تھیں۔1998ء میں پہلا گووا،1999ء میں جرمنی اور 2003ء میں میکسیکو کے شہریوں کو پھانسی کی سزا سے راحت ملی۔ویانا معاہدہ کسی شہری کو دوسرے دیش میں حراست میں لئے جانے پر اپنے سفارتخانے یا دوسرے شہریوں کو رابطہ قائم کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ملزم کو قانونی مدد پانے کا بھی حق ہے۔ کلبھوشن کو بچانے کیلئے کئی متبادل کھلے ہیں۔
(انل نریندر)

14 اپریل 2017

سرینگرمیں اب تک سب سے کم ووٹنگ

دہشت گردوں اور علیحدگی پسندوں کے بائیکاٹ کے چلتے ایتوار کو سرینگر میں ہوئے ضمنی چناؤ میں اب تک کی سب سے کم 7.14 فیصد ووٹنگ سبھی کیلئے باعث تشویش ہے۔تشدد کے واقعات میں 8 لوگوں کی جان جانا اور محض 7.14 فیصدی پولنگ ہونا ہماری کئی ناکامیوں کی طرف ایک ساتھ اشارہ کرتا ہے۔ یہ وہی لوک سبھا سیٹ کی بات ہے جہاں پچھلی بار تقریباً 60 فیصدی ووٹ پڑے تھے۔ چناؤ بائیکاٹ کا تو تب بھی علیحدگی پسندوں نے اعلان کیا تھا خطرہ تب بھی تھا۔ جو لوگ بائیکاٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے ووٹ ڈالیں گے انہیں دہشت گردوں کی زیادتیوں کا شکار بننا پڑسکتا ہے۔ اس کے باوجود لوگ بڑی تعداد میں گھروں سے باہر نکلے تھے اور ووٹ ڈالنے آئے تھے۔ 2014ء اسمبلی چناؤ میں تو ریکارڈ پولنگ ہوئی تھی۔ 2004ء کے لوک سبھا چناؤ میں بھی جموں و کشمیر میں قریب 50 فیصد زیادہ ووٹ پڑے تھے۔ سرینگر میں بھی تمام شرپسندوں کی کرتوت کے باوجود 26 فیصد پولنگ ہوئی تھی۔ یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخرضمنی چناؤ میں ایسا کیا ہوا کہ پولنگ فیصد بڑھنے کے بجائے اتنے نیچے چلا گیا جسے پولنگ کہنے میں بھی قباحت ہورہی ہے۔ حقیقت میں پوری حالت خوف پیدا کرنے والی ہے۔ جگہ جگہ پتھر بازوں کا دستہ پولنگ روکنے کے لئے دنگا پھیلا رہاتھا۔ سکیورٹی فورس پر حملے کئے گئے، کہیں پولنگ مرکز میں ای وی ایم توڑی گئی تو کہیں پولنگ مرکز کی عمارت کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس بار جس طرح سے پتھراؤ اور تشدد ہوا اور لوگوں کی جان گئی اس نے بتایاکہ ووٹ ڈالنے کیلئے گھر سے نہ نکلنے والوں کو یہ احساس شاید پہلے ہی سے تھا یا پھر جو ماحول تھا اس نے انہیں سکیورٹی فورس کی کوئی یقین دہانی نہیں دکھائی دی۔ حریفوں کے لئے یہ کہنا آسان ہے کہ یہ ریاستی سرکار و چناؤ کمیشن دونوں کی ناکامی ہے لیکن جب فاروق عبداللہ جیسے سرکردہ نیتا پتھر بازوں کو وطن پرست کہہ رہے تھے یا یہ بتا رہے تھے کہ وہ بھوکے رہ جائیں گے لیکن پتھر چلائیں گے کیونکہ وہ کشمیر مسئلہ کے حل کے لئے ایسا کررہے ہیں تب فاروق کو احساس نہیں تھا کہ اس سے شرپسندوں کو حوصلہ اور بڑھے گا۔ تھوڑی غلطی چناؤ کمیشن نے بھی کی۔ وزارت داخلہ کے سینئر افسر کے مطابق وزارت کی طرف سے 10 مارچ کو ضمنی چناؤ کے پروگرام کا اعلان ہونے کے فوراً بعد سخت الفاظ میں چناؤ کمیشن کو خط لکھا تھا جس میں صلاح دی گئی تھی کہ کشمیر وادی میں ماحول ٹھیک نہیں ہے اس لئے ووٹنگ ٹالی جانی چاہئے۔ چناؤ کمیشن نے اب اننت ناگ لوک سبھا سیٹ پر 12 اپریل کو ہونے والے چناؤ کو 25 مارچ تک ٹال دیا ہے لیکن نقصان تو ہوچکا ہے۔
(انل نریندر)

ایک چپڑاسی کا بیٹا25 سال میں 500کروڑ کا مالک بن گیا

راشٹریہ جنتا دل کے صدر لالو پرساد یادو اور ان کے کنبے کا تنازعوں سے پرانا رشتہ رہا ہے۔ وقتاً فوقتاً ان پر گھوٹالوں کے الزام لگتے رہتے ہیں۔ تازہ الزام ہے کہ ایک نئی کمپنی اور زمین کو لیکر الزام لگایا گیا ہے۔ اس بار زمین بیئر فیکٹری سے جڑی ہے جس کا مالکانہ حق فوری خاندان کی آئس برگ پرائیویٹ لمیٹڈ کا ہے۔ بی جے پی نیتا اور سابق نائب وزیر اعلی سشیل کمار مودی نے منگلوار کو آر جے ڈی صدر لالو پرساد یادو پر الزام لگایا ہے آئس برگ فیکٹری لگوانے کے بدلے اس کے مالک سے پٹنہ میں 60 کروڑ کی زمین لے لی۔ اسے اپنے خاندان کے نام کروا لیا۔ دراصل لالو جی کی باقاعدہ پالیسی رہی ہے ’تم مجھے زمین دو میں تمہارا کام کروں گا‘ سشیل مودی نے آگے کہا کہ وہ لگاتار ایسے خلاصے کرتے رہیں گے۔ مودی کے مطابق رابڑی دیوی کے وزیر اعلی کے عہد 2000-2005 کے دوران اوم پرکاش کتیال و امت کتیال کی کمپنی آئس برگ انڈسٹریز پرائیویٹ لمیٹڈ کو بھی وہیٹا میں بیئر فیکٹری کھلوانے کے بدلے کتیال بھائیوں کی زمین لالو نے اپنے کنبے کے نام کروا لی۔28 ستمبر 2006ء کو اے ۔ کے انفوسسٹم کمپنی میں امت کتیال، راجیش کتیال و دیگر ڈائریکٹر تھے۔ جون2014ء میں اس کمپنی میں تیجسوی یادو، تیج پرتاپ یادو، چندرا یادو اور راگنی لالو کو ڈائریکٹر بنادیا گیا۔ امت کتیال نے اپنے سارے شیئر تیجسوی یادو و رابڑی دیوی کو دے دئے۔ پچھلے اسمبلی چناؤ کے نتیجوں کے بعد لالو یادو کی بیٹی کمپنی کے ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹ گئی اور اب ان کی دوسری بیٹی چندا اور راگنی یادو اس کی ڈائریکٹر ہیں۔ بی جے پی نیتا سشیل مودی کا الزام ہے کہ اس سے صاف ہے کہ یہ پوری طرح سے کرپشن کا معاملہ ہے۔ لالو جی نے سشیل مودی کے ذریعے لگائے گئے مٹی و زمین گھوٹالے کے سبھی الزامات کو من گھڑت بتایا اور اپنی ساکھ کو خراب کرنے کی سازش قراردیا۔ لالو نے یہ ضرور مانا مال کی زمین انہی کی ہے۔جہاں میریڈین کمپنی پارٹنر شپ میں مال بنا رہی ہے۔ ایتوار کو پریس کانفرنس کر آر جے ڈی چیف نے کہا اور الزام لگانے والے خود گھوٹالے باز ہیں۔ لالو نے کہا میرے بچوں و بیوی کو بدنام کیا جارہا ہے۔ لالو یادو کی وضاحت کے بعد سشیل مودی نے کہا پانچ دن کی خاموشی کے بعد آخر کار لالو نے اعتراف کرلیا کہ 500 کروڑ کا مال انہی کا ہے۔ مودی نے کہا کہ بغیر ٹنڈر کے اپنے مال سے وہ90 لاکھ روپے کی مٹی سنجے گاندھی جیوک پارک کو دینے کا معاملہ اس کے آگے اب چھوٹاپڑ گیا ہے۔ سشیل مودی نے ایتوار کو لالو یادو کو مبارکباد دی کہ ایک چپڑاسی کا بیٹا 25 سال میں 500 کروڑ روپے کا مالک بن گیا۔
(انل نریندر)

13 اپریل 2017

انصاف کے عالمی تاثر کو درکنار کر کلبھوش کو موت کی سزا

160پاکستان کی فوج عدالت نے پیر کو بھارتی بحریہ کے سابق افسر کلبھوش جادھو کو جاسوسی اور بدامنی پھیلانے میں موت کی سزا دے کر دونوں ملک میں نہ صرف ایک نیا تنازعہ کھڑا کیا ہے بلکہ پاک بھارت تعلقات میں بہت بھاری کشیدگی پیدا کر دیا ہے. بھارت میں اس کے خلاف غم و غصہ فطری ہے. ہمارے کسی معصوم شہری کو کوئی ملک اغوا کر موت کی سزا سنا دے تو پھر ملک کے پرسکون رہنے کی کوئی وجہ نہیں ہے. پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے کلبھوش جادھو کو موت کی سزا سنا کر یہ صاف کر دیا ہے کہ اس ملک میں مہذب زندگی اقدار کی آج بھی کوئی قدر نہیں ہے. انصاف کی عالمی تاثر کو درکنار کر بغیر کسی ثبوت کے بند کمرے میں کسی کو اس طرح سزا سنانے کا تو یہی مطلب نکلتا ہے. پاکستان کی فوجی عدالت نے ایک بار پھر دکھا دیا کہ کس طرح اس نے بین الاقوامی معیار کے مذاق اڑایا ہے. ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فوجی عدالت کے فیصلے کی صلاحیت پر بھی سوال اٹھایا ہے. ایمنسٹی کے ساؤتھ ایشیا ڈائریکٹر پٹنائک نے کہا کہ کلبھوش جادھو کو موت کی سزا دینا عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح پاکستان کی فوجی عدالت نے بین الاقوامی معیار کی دھجیاں اڑائی ہے. انہوں نے بیان جاری کر کہا کہ عرضی گذار کو ان کے حقوق سے محروم کرنا اور خطرناک خفیہ طریقے سے کام کر فوجی عدالتیں انصاف نہیں کرتی بلکہ اس کا مذاق اڑاتی ہیں. ان غلط کافی بندوبست جنہیں صرف فوجی نظم و ضبط کے مسائل سے نمٹنا چاہئے نہ کہ دوسرے جرائم سے. معاملہ کچھ یوں ہیں ۔ پاکستان نے پیر کو کہا کہ را کے ایجنٹ اور نیوی افسر کمانڈر کلبھوش جادھو ارف حسین مبارک پٹیل کو موت کی سزا سنائی گئی ہے. ان پر پاکستان کے خلاف ناپسندیدہ سرگرمیاں چلانے کی اور جاسوسی کرنے کا الزام ہے. گزشتہ سال کلبھوش کی گرفتاری کے بعد ہی حکومت ہند چھ بار وہاں کے وزارت خارجہ کو لکھ کر دے چکی ہے کہ وہ فوج کے ریٹائرڈ افسر ہیں اور ایران سے اپنا کاروبار کرتے تھے. را سے ان کا کوئی کنکشن نہیں ہے، انہیں چھوڑ دیا جائے. منگل کو پارلیمنٹ میں بھی تمام ممبران پارلیمنٹ کی یہ رائے تھی. اتنا ہی نہیں، پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر سرتاج عزیز خود یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ جادھو کے ہندوستانی جاسوس ثابت کرنے کے لئے ٹھوس ثبوت ان کی حکومت کے پاس نہیں ہے. بھارت جب ثبوت مانگتا ہے تو پاکستان جادھو کی چند منٹو کی ایک ریکارڈنگ دکھاتا ہے، جسے کم سے کم پچاس جگہوں پر ایڈٹ کیا گیا ہے. اس ڈھیلاپن کے باوجود پاکستان کی فوجی عدالت کو جادھو کے لئے سزائے موت ہی مناسب لگا تو اس کی نیت کو سمجھنا ہوگا. پاکستانی سپریم کورٹ میں اس عدالت کے خلاف پہلے ہی مقدمہ چل رہا ہے. جنوبی ایشیا میں پاکستان اکلوتا ملک ہے جس کی فوج سڑک چلتے لوگوں کو اٹھا کر بند کمرے میں ان پر مقدمہ چلاتی ہے. مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں منتخب حکومت کی عما اتنی نہیں ہے کہ وہ فوج کے کسی فیصلے کو روک سکے یا اسے فیصلہ تبدیل کرنے کو کہے. وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت اس وقت ایک ساتھ کئی قسم کے دباؤ سے گھری ہوئی ہے اور وہ فوج کی ہاں میں ہاں ملانے کی حالت میں ہے. ویسے بھی نواز شریف کہتے ہیں کہ ہر صورت سے نمٹنے کے لیے پاکستان تیار ہے. لیکن اس معاملے میں پاکستان کو دنیا کے کسی ملک کا شاید ہی حمایت ملے. ساری دنیا جانتی ہے کلبھوش کیس انصاف کے کم از کم جو فالو بھی پاکستان نے نہیں کیا. ویانا معاہدے کے مطابق کسی غیر ملکی شہری کو پکڑ کر وہاں کے ہائی کمیشن یا سفارت خانے کو باضابطہ اس کی اطلاع دی جاتی ہے. پھر ہائی کمیشن یا سفارت خانے اپنے شہری پر مشتمل اس قانونی امداد پہنچانا چاہتا ہے تو اس کی اجازت اس ملتی ہے. پاکستان سے 13 بار زور دیا گیا کہ بھارتی ہائی کمیشن کو کلبھوش سے ملنے دیا جائے پر اجازت نہیں ملی. یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اس پر کہاں اور کس جرم میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے. دوسری طرف بھارت میں تو ممبئی دہشت گرد حملوں کے بعد اجمل قصاب پر دو سال مقدمہ چلا، سارے ثبوت کھلی عدالت میں پیش ہوئے اور پاکستان کو ان میں سے ایک پر بھی اعتراض نہیں ہوا. اتنا ہی نہیں، پاک بھارت تقسیم کے بعد سے ہندوستان نے جتنے بھی پاک جاسوس پکڑے، ایک کو بھی سزائے موت نہیں دی. پاکستان کو سوچنا ہوگا کہ بے بنیاد الزام کے تحت ایک بھارتی کو سب سے بڑی سزا سنا کر وہ وہ دونوں ملک کے رشتوں کو اتنا خراب کر لے گا کہ وہاں سے واپسی بہت مشکل ہو جائے گی.
 ( انل نریندر)

ایودھیا مسلئے کو گنگا جمنی تہذیب سے سلجھاؤ

ہمارے ملک میں عدالتی نظام اتنی ڈھیلی ہے کہ اہم سے اہم کیس میں بھی کرنے میں بھی سالوں لٹک جاتے ہیں. کیس قانونی داؤ پیچ میں ایسے الجھنے ہیں کہ کسی بھی اجام تک پہنچنا مشکل لگنے لگتاہے. ایسا ہی کیس ایودھیا میں رام مندر بابری مسجد ڈھانچے کا ہے.سپریم کورٹ نے ایودھیا کے متنازعہ ڈھانچے تباہی کے مقدمے کی سماعت گزشتہ 25 سال سے زیر التوا رہنے پر تشویش جتانا فطری ہی ہے. عدالت نے کہا کہ اس معاملے کی سماعت روزانہ کرے تو سال میں نمٹنا چاہئے. سپریم کورٹ کی یہ صرف بیشک تبصرہ ہے پر اشارہ اہم ہیں.کورٹ نے لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی سمیت کئی بی جے پی لیڈروں کا مقدمہ رائے بریلی عدالت میں لکھنؤ منتقل کرنے اور مشترکہ چارج شیٹ کی بنیاد پر ایک سال مقدمہ چلانے کے بھی اشارے دیے ہیں. اس معاملے کو تقریبا 25 سال ہونے والے ہیں لیکن اس سے جڑے معاملے ابھی تک عدالت میں چل رہے ہیں۔ ان میں ایک معاملہ وہ ہے جس 49 لوگوں کے خلاف بابری مسجد ڈھانچہ گرانے کا الزام ہے جبکہ دوسرا معاملہ بابری مسجد ڈھانچے کی انہدام کے لئے رچے گئے مجرمانہ سازش کا ہے. سی بی آئی نے ایک ایس ایل پی داخل کر ڈھانچہ ٹوٹ کے معاملے میں ملزم اڈوانی جوشی سمیت دیگر رہنماؤں پر مجرمانہ سازش کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے. سی بی آئی نے ہائی کورٹ کے 20 مئی 2010 کے حکم کو چیلنج کیا ہے. اس میں ہائی کورٹ نے 21 رہنماؤں پر رائے بریلی کی عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے، لیکن اس میں سازش کے الزام نہیں ہے. باقی کے 13 افرادمکمل طور چھوٹ گئے تھے. ان 13 میں سے 7 کی موت ہو چکی ہے. باقی لوگوں میں کلیان سنگھ سربراہ ہیں جو ڈھانچہ ٹوٹنے کے وقت پردیش کے وزیر اعلی تھے اور اس وقت راجستھان کے گورنر ہیں.اس درمیان معاملے میں 183 گواہیاں بھی پیش ہو چکی ہے. سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے اور ایسے معاملے کو صرف تکنیکی بنیاد پر مسترد نہیں کیا جا سکتا. ظاہر ہے کہ سپریم کورٹ کی اس تبصرہ مدعی یا مدعا علیہ کسی کے حق میں نہیں، بلکہ معاملے کو مناسب طریقے سے چلائے جانے کے بارے میں ہے. اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس طرح کے معاملات میں سیاسی دباؤ سے بھی گزرنا پڑتاہے.کئی مواقع پر یہ کہا گیا کہ ریاستی حکومت اس معاملے کو دبا رہی ہے تو بہت سے دوسرے مواقع پر اس کے برعکس الزام بھی سامنے آئے. دلچسپ پہل یہ بھی ہے کہ سپریم کورٹ جب اس معاملے کو پھر سے چلانے کی بات کر دی تھی تب زیادہ تر لوگوں کو امید تھی کہ سی بی آئی اس کی مخالفت کرے گی، لیکن عدالت میں سی بی آئی نے کہا کہ وہ اس سازش کے معاملے کو دوبارہ چلانے کے حق میں ہے. اگرچہ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ معاملے کو دوبارہ آگے کس طرح بڑھا جائے گا؟ جو گواہیاں پہلے ہو چکی ہیں، کیا وہ دوبارہ ہوگی؟ اس کافیصلہ کب آئے گا ہمیں پتہ نہیں لیکن گزشتہ 25 سال میں بہت کچھ بدل چکا ہے. رامنومی میلے گزرنے کے ساتھ ہی رام نگری ایودھیا میں سپریم کورٹ کا احساس کی ظاہری باہمی رضامندی سے اس تنازع کو حل کرنے کی کوشش نئے سرے سے شروع ہو گئے ہیں. بابری مسجد کے مدعی مرحوم ہاشم انصاری کے بیٹے اقبال انصاری نے ہنومان گڑھی سے منسلک سب سے اوپر مہنت گیانداس سے بھینٹ کی. اس میں باہمی رضامندی سے مسئلے کے حل کی کوششوں پر غور کیا گیا. باہمی رضامندی کے لئے حمایت حاصل کرنے کی ہی گرج سے مہنت گیان داس سے ٹیلی فون پر ہندو مہاسبھا کے مالک سوامی چکروین نے بھی حمایت کا یقین دہانی کرائی ہے. جلد ہی تاریخ مقرر کر تنازعہ سے منسلک اطراف میٹنگ کر باہمی رضامندی کا مسودہ تیار کیا جائے گا. کورٹ کا آرڈر آنے کے بعد ملک بھر پہلے سے باہمی رضامندی کے لئے کوشاں یہاں گیان داس کے مطابق مندر مسجد تنازعہ میں بنیادی طور چار طرف ہیں. ان میں سے مالک چکروین اور محمد. اقبال سمیت نرموہی اکھاڑا ان ساتھ باہمی رضامندی کے لئے ایک پلیٹ فارم پر آنے کو تیار بھی ہے. موقع طرف رام للا کے سکھا کا ہے. مہنت گیان داس کے مطابق باہمی رضامندی کی سمت میں آگے بڑھنے پر رام للا کے سکھا بھی ٹٹولا جائے گا. دونوں کمیونٹی ایودھیا کیس قانونی طریقے سے حل چاہتے ہیں. ہر فرم کے سوداگر نہیں ہے، سیاست داں نہیں ہے، ہمیں کرسی کا لالچ نہیں ہونا چاہئے. ایودھیا معاملہ کروڑوں ہندوؤں کی ایمان کا مرکز ہے. ہم سپریم کورٹ کی منشا کے مطابق اس معاملے حل مل بیٹھ کر کرنے کے حق میں ہے. یہی بات لکھنؤ سے مولاناکے وفد کی قیادت کر رہے ندوۃ العلماء کے مہتمم اسلامک انٹرنیشنل کالج کے لیکچررطاہر عالم ندوی نے کہا کہ ہم گنگا جمنی تہذیب تہذیب کے حامی ہے. سپریم کورٹ کی تجویز قابل ستائش ہے اور ایودھیا مسئلہ کا حال باہمی بات چیت سے ہی ممکن ہے. خود ملک کے وزیر یہی مشورہ دے رہے ہیں کہ معاملے کو بات چیت سے حل بہتر راستہ ہے. انہوں نے سپریم کورٹ کی مدھ?ستھا کی تجویز بھی دیا ہے. امید کی جا رہی ہے کہ برسوں سے زیر التواء اس تنازعہ کو تمام پارٹی مل بیٹھ کر حل کرنے کا سنجیدہ کوشش کریں گے.
 ( انل نریندر)

12 اپریل 2017

مایاوتی کے بھائی آنند کمار کا کروڑوں کا مایا جال

بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی کے ستارے گردش میں چل رہے ہیں. اسمبلی انتخابات میں کراری شکست کے صدمے سے بہن جی نے ابھر نہیں سکیں. اب شکست سے ابھری نہیں کہ ان کے بھائی اور نوئیڈا اتھارٹی کے سابق کلرک آنند کمار کی املاک کی جانچ شروع ہو گئی ہے. محکمہ انکم ٹیکس نے گزشتہ ہفتے آنند کمار سے منسلک تقریبا درجن بھر کاروباری عمارتوں پر سروے آپریشن شروع کیا. محکمہ انکم ٹیکس کے چھاپے سارا دن چلے. محکمہ انکم ٹیکس نے کچھ بلڈرز اور آنند و ان کے ساتھیوں سے قریبی کاروباری رشتہ رکھنے والی کچھ کاروباری اداروں کے سروے کئے اور ریکارڈ کی پڑتال کی. سمجھا جاتا ہے کہ اس پڑتال کے دوران آنند کمار اور ان کے ساتھیوں کی کئی کمپنیوں شیئر کا پتہ لگایا جا رہا ہے. انکم ٹیکس قوانین کے مطابق سروے کے دوران انکم ٹیکس حکام نے کاروباریوں یا کمپنیوں کے مالکان کی تنصیبات کا دورہ کرتے ہیں. اس کے تحت کاروباری ادارے کے مالکان کی رہائشی عمارتوں پر چھاپے نہیں مارے جاتے. سروے آپریشن کے تحت انکم ٹیکس افسر کمار اور ان کے ساتھیوں کی کمپنیوں کی جانب سے کئے گئے مالیاتی لین دین کی صداقت بھی تحقیقات کر رہے ہیں. ساتھ ہی ان کمپنیوں میں ان سرمایہ شیئر کے اسٹرکچر، انس??ورڈ لون اور لیندار? کی بھی جانچ چل رہی ہے. افسر اس بات کا بھی ثبوت کی تلاش کر رہے ہیں کہ کچھ سازوں کے یہاں تو آنند کمار نے سرمایہ کاری نہیں کیا؟ بھاجپا ایم پی کریٹ سومیا کا کہنا ہے کہ کمار کی املاک کی جانچ میں بہت چونکانے والے حقائق اجاگر ہوں گے. سومیا نے اپنی ویب سائٹ پر آنند کمار اور ان کی بیوی 51 کمپنیوں سے منسلک ہونے کا دعوی کر رکھا ہے. گزشتہ سال دسمبر میں ڈائریکٹوریٹ نے نوٹبد? کے دوران آنند کمار اور بہوجن سماج پارٹی کے اکاؤنٹ میں بڑی رقم جمع کرنے کا انکشاف کیا تھا. سومیا کی جانب سے فراہم کی حقائق کی بنیاد پر آنند کمار، ان کے خاندان اور جاننے والوں نے 125 کمپنیوں میں بڑی سرمایہ کاری کر رکھا ہے. وہ 50 سے زائد چھوٹی بڑی کمپنیوں میں شیئر ہیں. بہت سے میں وہ ڈائریکٹر جیسے بڑے عہدوں پر ہیں. سومیا کا سوال ہے کہ جونیئر اسسٹنٹ کلرک سے کئی کمپنیوں کے ڈائریکٹر اور ہزار کروڑ روپے کی املاک کس طرح حاصل کر لی. ایسے میں جانچ ہونی چاہئے. انہوں نے سال 2011 میں ہی جانچ کی مانگ کی تھی. رہنما کی ویب سائٹ پر آنند کمار اور ان کی بیوی کو کمپنیوں اور اس کا حساب کتاب دستیاب بنایا گیا ہے. آنند کمار نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر 100 سے زائد کمپنیاں بنائیں۔ 
انل نریندر

آپ حکومت نے اقتدار کا جم کربیجا استعمال کیا: شنگلو کمیٹی

دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل نے کیجریوال حکومت کی طرف سے عام آدمی پارٹی (آپ) دفتر کے لئے بنگلے مختص منسوخ کر شنگلو کمیٹی کی رپورٹ کا پہلا جھٹکا لگا دیا ہے. شنگلو کمیٹی کی رپورٹ میں راوج ایونیو واقع اس بنگلے کے الاٹمنٹ کو اصول کے خلاف بتائے جانے کے بعد بیجل نے جمعہ کو الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا حکم جاری کیا. راجنواس کی جانب سے جاری حکم میں عوامی کاموں وزیر ستیندر جین طرف راوج ایونیو واقع بنگلہ نمبر 206 اور 2017 کے بارے میں حاصل ریکارڈ کی بنیاد پر الاٹمنٹ منسوخ کرنے کی کارروائی کی گئی ہے. اس میں کہا گیا ہے کہ 206 نمبر بنگلے کو پارٹی دفتر کے طور پر الاٹمنٹ کو جین نے اجازت دی تھی، جبکہ منظوری سے منسلک اس فائل میں محکمہ تعمیرات عامہ نے صاف طور پر کہا ہے کہ رہائشی بنگلے کو کسی پارٹی دفتر کے لئے مختص کرنے کا کوئی قانونی شرائط نہیں ہے، یہاں تک کہ اگر کابینہ نے الاٹمنٹ کا فیصلہ کیا ہے. عام آدمی پارٹی حکومت کے کام کاج کو لے کر سامنے آئی شنگلو کمیٹی کی رپورٹ پر سیاسی گھمسان ??شروع ہونا فطری تھا. بی جے پی اور کانگریس نے اسے لے کر جہاں وزیر اعلی اروند کیجریوال پر نشانہ لگایا، وہیں آپ نے اسے سوچی سمجھی سازش کا حصہ بتایا. دہلی میونسپل کارپوریشن انتخابات سے ٹھیک پہلے جاری ہوئی شنگلو کمیٹی کی رپورٹ کو لے کر آپ نے کہا کہ یہ پارٹی کو بدنام کرنے کے لئے جان بوجھ کر لیک کی گئی ہے. آپ لیڈر دلیپ پانڈے اور آشوتوش نے جمعرات کو پریس کانفرنس میں کہا کہ رپورٹ کو جاری کرنے کا وقت مشکوک ہے. کارپوریشن انتخابات سے پہلے آپ کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، چونکہ ہم نے ہاؤس ٹیکس معاف کرنے کا وعدہ کیا ہے، اس سے بی جے پی بوکھلا گئی ہے. بتا دیں کہ ستمبر 2016 میں اس وقت کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کی طرف کیجریوال حکومت کے فیصلوں کا جائزہ لینے کے لئے قائم شنگلو کمیٹی نے حکومت کی کل 440 فائلوں کو دوبارہ تعمیر. شنگلو کمیٹی کی رپورٹ میں دہلی حکومت کی طرف سے آئین اور عمل سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کی بات کہی گئی ہے. اس رپورٹ میں ایسی کیا خاص باتیں کہی گئی ہیں جن پر تنازعہ ہو رہا ہے. ہیلتھ منسٹر ستیندر جین کی بیٹی سومیا جین کی دہلی حکومت کے محلہ کلینک پراجیکٹ میں مشن ڈائریکٹر مشیر عہدے پر تقرری کو لے کر سوال اٹھائے گئے ہیں. ن?ج اگروال کو ہیلتھ منسٹر کے وایسڈی کے طور پر مقرر کئے جانے پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں. کہا گیا ہے کہ یہ تقرری کارروائی سے منسلک قوانین کی خلاف ورزی ہے. کو۔ٹرمنس اپاٹمیٹ کے لئے LG سے اپروول لینا ہوتا ہے. رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تقریبا 150 ایسے فیصلے ہیں جس کابینہ ایجنڈے کو لے کر ایل جی کو سابق معلومات نہیں دی گئی. کیجریوال حکومت کی طرف سے انتظامی حقوق کے غلط استعمال کے مقدمات میں حکام کے تبادلے، تعیناتی اور آپ کے قریبی لوگوں کی کئی عہدوں پر تقرری کرنے کا بھی ذکر ہے. کہا گیا ہے کہ اس وقت کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ نے دہلی حکومت کے دائرہ کو لے کر اٹارنی سے مشورہ کر اپریل 2015 کو وزیر اعلی کو قانون پر عمل کی نصیحت دی تھی. وہیں وزیر اعلی کے سیکرٹری کی جانب سے تمام محکموں کو ہدایت جاری کر کہا گیا کہ زمین، قانون اور پولیس سے جڑے معاملات کو چھوڑ کر اسمبلی کے قانون سازی دائرہ اختیار میں آنے والے سبھی معاملوں پر سرکار بیباکی سے سرکار فیصلہ کر سکے گی رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ سرکار کے دائرہ اختیار کے قبضہ کے بارے میں وقتاً فوقتا آگاہ بھی کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرکار نے افسران کے مشورے کو درکنار کر آئینی تقاضوں ، جنرل انتظامیہ سے وابستہ قانون اور انتظامی احکامات کی خلاف ورزی کی ہے۔
انل نریندر

11 اپریل 2017

تین طلاق پر جلد انصاف کی تلاش میں مسلم خواتین

ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ مسلمانوں کے تین طلاق، نکاح، حلالہ اور کثیر شادیوں کی روایت کافی اہم ترین مسئلے ہیں اور اس سے جذبات جڑے ہوئے ہیں اور اسے ٹالا نہیں جاسکتا۔ اتنا اہم ہے کہ آئینی بنچ اس معاملے کی سماعت ترجیحاتی بنیاد پر کرنے اور اس سلسلے میں گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران بھی بیٹھنے کیلئے تیار ہے۔ کئی مسلم خواتین نے تین طلاق جیسی بہت سی شرعی روایتوں کو ختم کرنے کی عرضی داخل کر رکھی ہیں۔ کچھ مسلم مردوں نے تین طلاق کی دھجیاں اڑانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ ایک این آر آئی نے مبینہ طور سے اخبار میں اشتہار دے کر اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے۔ ملزم محمد مستقیم الدین نے 25 سال کی خاتون سے جولائی 2015ء میں شادی کی تھی اور اسے اپنے ساتھ سعودی عرب لے گیا تھا۔ پچھلے مہینے یہ شادی شدہ جوڑا اپنے 10 مہینے کے بچے کے ساتھ حیدر آباد آیا، اپنی بیوی اور بچے کو بھارت چھوڑ کر مستقیم الدین سعودی عرب لوٹ گیا۔ اس نے اخبار میں اشتہار دے کر اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ تلنگانہ کی راجدھانی حیدرآباد کے کواٹپلی میں ایک شخص کے شادی کے 8 دن بعد ہی پوسٹ کارڈ سے طلاق پیغام بھیجنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ پولیس نے سنیچر کو بتایا کہ عورت کی شکایت کے بعد اس کے شوہر محمد حنیف (38 سال) کو گرفتار کرلیا گیا۔ انہوں نے بتایا ایک کپڑا کمپنی میں سپر وائزر حنیف نے 9 مارچ کو تالاب کاٹا کی باشندہ ایک عورت سے شادی کی تھی۔ شادی کے ایک دن بعد ہی حنیف گھر سے چلا گیا تھا اور بعد میں اس نے مطلع کیا تھا کہ وہ علاج کیلئے ایک پرائیویٹ ہسپتال جارہا ہے ۔ اس کے بعد وہ گھر نہیں لوٹا۔ پولیس نے بتایا کہ حنیف نے 16 مارچ کو کواٹپلی میں واقع اپنی بیوی کے گھر تین طلاق لکھا ہوا ایک پوسٹ کارڈ بھیجا ، جس میں کہا کہ اس نے دو گواہوں کی موجودگی میں یہ خط لکھا ہے۔ حنیف نے موبائل فون سے بھی اپنی بیوی کو طلاق کے بارے میں خبر کردی۔ بجنور کے ایڈیشنل لیبر کمشنر ناصر سے طلاق ملنے پر بیوی عالیہ صدیقی نے منگلوار کو وزیر اعظم نریندر مودی و زیر اعلی آدتیہ ناتھ یوگی کو ٹوئٹ کرکے انصاف کی اپیل کی ہے۔ عالیہ کو شوہر کا طلاق نامہ اسپیڈ پوسٹ سے ملا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جہیز میں فارچونر کار نہ دینے کی وجہ سے طلاق دی گئی ہے۔ اس مسئلے کو وہ سپریم کورٹ لے جائیں گی۔ عالیہ صدیقی اشوک نگر میں ڈاٹا فنڈنگ کمپنی چلاتی ہے۔پچھلے سال 25 نومبر کو اس کی شادی آبائی گھر الہ آباد میں قنوج کے چھبراؤ علاقے کے باشندے ناصر سے ہوئی تھی۔ عالیہ نے بتایا کہ جہیز میں سوئفٹ ڈیزائر کار دی گئی تھی، لیکن ناصر فارچونر کار کی مانگ کررہا تھا۔ تین طلاق پر دیش میں چھڑی جنگ میں بریلی کے اعلی حضرت خاندان کی بہو ندا خان بھی کود پڑی ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ سے کہا ہے کہ مسلم خواتین نے بھاجپا کو ووٹ دیا اب سرکار تین طلاق پر کیا گیا اپنا وعدہ پورا کرے۔ ندا خان کی اس لڑائی میں بریلی کے مسلم سماج سے وابستہ سماجی کارکن خواتین بھی کود پڑی ہیں۔ اعلی حضرت خاندان کی بہو ندا خان نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ سشما سوراج کے بعد یوگی آدتیہ ناتھ سے تین طلاق روایت کو ختم کرنے کی مانگ کی ہے۔ ہندوستان اخبار سے بات چیت میں ندا خان نے کہا کہ تین طلاق کی روایت سے عورتوں کا استحصال ہورہا ہے۔ شوہر جب چاہتا ہے تب عورت کو اپنی مرضی سے طلاق دے دیتا ہے۔ ایسے میں عورتیں بے گھر اور بے سہارا ہوجاتی ہیں۔ اس روایت پر فوراً روک لگائی جانی چاہئے۔ قرآن شریف میں عورتوں کو جو حقوق حاصل ہیں وہ سبھی دئے جانے چاہئیں۔ آل انڈیا پرسنل لا بورڈ نے بدھوار کو گؤ ہتیا اور تین طلاق کو غیراسلامی مانتے ہوئے اسے حرام قرار دیا ہے۔ بورڈ نے ناجائز سلاٹر ہاؤس بند کرنے کے یوگی سرکار کے فیصلے کو بھی صحیح ٹھہرایا ہے۔ شیعہ لکھنؤ کے جی پی کالج میں ہوئی بورڈ کی ورکنگ میٹنگ میں دیش بھر سے آئے علما نے بورڈ کے فیصلوں و تجاویز پر ایک رائے سے اتفاق ظاہر کیا ہے۔ بورڈ کے ترجمان مولانا یعقوب عباس نے کہا ہے کہ تین طلاق کے خلاف ستی پرتھا کی طرح قانون بنے تاکہ کسی کی چائے میں شکر کم ہونے اور لڑکی پیدا ہونے پر اس کا شکار نہ ہونا پڑے۔پیغمبر اسلام حضرت محمدؐ کے دور میں اسلام میں تین طلاق کا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا ہے تو پھر مسلمان کیسے تین طلاق کے نام پر بچیوں کی زندگی سے کھیل رہے ہیں۔ لیکن شیعہ پرسنل لاء بورڈ پوری طرح سرکار کے ساتھ ہے۔ ساتھ ہی مولانا نے کہا کہ مرکز کی مودی سرکار سچر کمیشن کی طرز پر مسلمانوں میں شیعہ فرقے کا الگ سے سروے کرائے کیونکہ دیش کے تقریباً 6 کروڑ شیعہ مسلمانوں کو سچر کمیشن کی رپورٹ میں نظرانداز کیاگیا ہے۔ گورکھپور میں تین طلاق کا حیرت انگیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ چار سال پرانے اس معاملے میں 90 سال کے بزرگ نے 80 سال کی بیوی زیب النساء کو غصے میں طلاق دے دی ہے۔
(انل نریندر)

اور اب اسٹاک ہوم میں آتنکی حملہ

مغربی یوروپ میں سال 2012ء سے 2017ء کے درمیان آتنک وادی حملوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ پانچ سال میں مغربی دیشوں میں 14 آتنکی حملے ہوچکے ہیں۔ ان حملوں میں 360 شہریوں کی جانیں جا چکی ہیں۔ سب سے بڑے حملے فرانس میں ہوئے۔ 2015ء میں ہوئے آتنکی حملے میں فرانس میں 130 اور 2016 ء میں ہوئے حملے میں 86 شہری مارے جاچکے ہیں۔ بلجیم میں ہوئے ایک حملے میں 2016ء میں 31 لوگوں کی جان گئی تھی۔ تازہ حملہ سوئڈن کی راجدھانی اسٹاک ہوم میں ہوا ہے جہاں ایک شخص نے بھیڑ والے علاقے میں لوگوں پر ٹرک چڑھادیا جس سے چار لوگوں کی موت ہوگئی اور 15 دیگر زخمی ہوگئے۔ واردات میں استعمال ٹرک کے ڈرائیور کو اس وقت اغوا کرلیاگیا جب وہ ایک ریستوراں میں بیئر پینے جارہاتھا۔ واردات کو انجام دینے والے ٹرک حملہ آور کی تلاش میں بڑے پیمانے پر تلاشی مہم چھیڑی گئی اور کچھ گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ سوئڈن پولیس نے اس ٹرک سے ایک آلہ برآمد کیا ہے جس میں ایک شخص نے اسٹاک ہوم میں ٹرک کو بھیڑ میں چڑھادیا تھا۔ واردات میں 4 لوگوں کے مرنے کی خبر ہے۔ حکام نے بتایا کہ نام نہاد مشتبہ ڈرائیور شہری 39 سالہ ازبیک ہے جو اب پولیس کی حراست میں ہے۔ پولیس چیف نے بتایا کہ ہمیں گاڑی میں ایک آلہ ملا ہے اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ابھی ہم یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ بم ہے یا کوئی اور آلہ ہے۔ پولیس نے کہا کہ انہوں نے ایک شخص کو حراست میں لیا ہے جس کا حلیہ مشتبہ حملہ آور گہرے رنگ کی ٹوپی اور جیکٹ پہنے ہوئے جاری کی گئی تصویر کی تفصیلات سے پتہ چلتا ہے ۔انگریزی اخبار ’ابٹوبلیڈیٹ‘ کے مطابق تصویر والا شخص ازبیکستان کا باشندہ ہے۔ 39 سالہ شخص آئی ایس کا حمایتی ہے اگر اس کی آتنکی حملے کی شکل میں تصدیق ہوئی تو سوئڈن کا یہ پہلا خطرناک حملہ ہوگا۔ ادھر شام اور عراق میں لگاتار مل رہی ہار سے بوکھلاہٹ میں آتنکی تنظیم اسلامک اسٹیٹ نے 8786 لوگوں کے قتل کا فرمان جاری کیا ہے۔ فہرست میں زیادہ تر امریکہ اور برطانیہ کے لوگ ہیں۔ یہ دنیا کی سب سے لمبی ہلاک فہرست مانی جارہی ہے۔ بیشک شام اور عراق میں آئی ایس کمزور پڑ رہی ہو لیکن باقی دنیا میں اس کے سیل مسلسل دھماکے کررہے ہیں۔ زیادہ تر معاملوں میں یہ مقامی حمایتیوں کی مدد لیتے ہیں اور وہ یہ آتنکی حملے کررہے ہیں۔ مغربی یوروپ اور امریکہ ان کے نشانے پر آچکے ہیں۔ یوروپ کے کچھ دیشوں میں انسانی حقوق کی دہائی دینے والوں پر آئی ایس کی لگاتار گاج گر رہی ہے۔ کبھی فرانس، کبھی بلجیم ،کبھی جرمنی اور اب سوئڈن سبھی آئی ایس کے نشانے پر ہیں۔
(انل نریندر)

09 اپریل 2017

شراب کا کاروبار کرنابنیادی حق نہیں

شراب کا کاروبار کرنا بنیادی حق نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے زندگی اور روزگار کے حق کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ روزگار کا اختیار شراب کے کاروبار پر نافذ نہیں ہوتا کیونکہ یہ آئینی اصول میں تجارت کے زمرے سے باہر ہے۔ اس کے علاوہ روزگار کا حق زندگی کے حق کے بعد آتا ہے۔ ہائی وے سے 500 میٹر کے دائرے سے شراب کی دکانیں ہٹانے کے حکم میں سپریم کورٹ نے زندگی اور روزگار کے حق کی تشریح کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے۔ عدالت ہذا کے اس تشریح کے گھیرے معنی ہیں۔ شراب بندی کو غیر قانونی اور روزگار کی آزادی کے خلاف کہنے والوں کے لئے یہ قانونی جواز ہوسکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ قومی اور سرکاری شاہراؤں پر شراب کی فروخت کے نقصاندہ پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ سڑک حادثات کی سب سے بڑی وجہ شراب پی کر گاڑی چلانا ہے۔ آئینی اقدار میں زندگی کا حق سب سے زیادہ اہم مانا جاتا ہے۔ لوگوں کو ہیلتھ اور سلامتی کا تحفظ کرنا زندگی کے حق کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے۔ ہائی وے سے 500 میٹر کے دائرے میں شراب نہ بیچنے کے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد دکانوں پر جنتا نے دھاوا بولنا شروع کردیا ہے۔ دکانیں اب ہائی وے سے ہٹ کر رہائشی علاقوں میں منتقل ہونے لگی ہیں۔ ادھر دکانیں گلی محلوں میں شفٹ ہونے سے عورتوں نے ان کے خلاف مورچہ سنبھال لیا ہے۔ اترپردیش کے کئی شہروں میں خواتین ان دکانیں، ٹھیکوں کے خلاف سڑکوں پر اتر آئی ہیں۔ میرٹھ میں گھنی آبادی والے اندرا پورم میں شراب ٹھیکہ کھولنے کے احتجاج میں دھرنے اور مظاہرے ہورہے ہیں۔ تین دنوں سے عورتوں نے ٹھیکہ کھلنے نہیں دیا اور بھجن کیرتن کرکے ٹھیکے کو ہٹانے کی مانگ کررہی ہیں۔ گورکھپور نیشنل ہائی وے سے ہٹا کر گورکھناتھ علاقے کے رام نگر اور ننھا میں شراب کی دکانیں شفٹ کئے جانے پر جم کر احتجاج ہورہا ہے۔ اسی طرح مراد آباد، وارانسی، آگرہ، کانپور اوربستی میں بھی مقامی عورتوں نے جم کر ہنگامہ کیا۔ کئی جگہ چکا جام تو کئی جگہوں پر توڑ پھوڑ کی گئی ہے۔ اورئی ،اناؤ، کنوج، کانپور دیہات، فتحپور اور اوریا، ایٹاوا اور چتر کوٹ میں بھی مختلف مقامات پر پولیس و ٹھیکے والوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں ہیں۔ مین پور کے گاؤں لال پور سگونئے میں دیہاتیوں نے دیسی شراب کے ٹھیکے میں آگ لگادی۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے دونوں مرکزی سرکار اور ریاستی حکومت سکتے میں ہیں۔ ایک طرف بگڑتا لا اینڈ آرڈر تو دوسری طرف محصول کو نقصان۔ سرکاریں اس مسئلے پر بیچ کا راستہ نکالنے میں جٹ گئی ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے پر غور ہورہا ہے۔ ویسے تو یہ مسئلہ سنگین ہے لیکن بیچ کا کوئی راستہ نکالنا بہتر ہوگا تاکہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔
(انل نریندر)

شام میں جنگ نہایت خطرناک دور میں داخل

شام میں برسوں سے جاری جنگ اب نہایت خطرناک دور میں داخل ہوگئی ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق شام کے مغربی شمال میں واقع ادبل صوبے میخان شیخن کے شہر میں ایک کیمیاوی حملہ ہوا۔ ترکی نے جمعرات کو کہا شام پر حملے میں تین مرے لوگوں کی لاشوں کے پوسٹ مارٹم رپورٹ سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ شیخن شہراور ایبے میں کیمیائی ہتھیار کا استعمال ہوا ہے۔ رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ یہ حملہ شام کے صدر بشر الاسد حکومت کی شام کی فوج نے کیا ہے۔ اس حملے میں قریب100 لوگوں کے مارے جانے جس میں 30 سے زیادہ بچے اور 20 سے زیادہ عورتیں شامل ہیں۔ یہ تعداد زیادہ بھی ہوسکتی ہے کیونکہ پوری رپورٹ ابھی نہیں آئی ہے۔ گیس کے اثر سے 400 سے زیادہ لوگ بیمار ہیں۔ اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ یہ اموات کیمیکل گیس سے ہوئی ہیں۔ سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس ادلب میں چیرٹی ایمبولنس سروس وغیرہ نے اپنے اپنے طریقے سے کیمیاوی حملے کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹ ضرور آئی ہے لیکن یہ کہنا ابھی مشکل ہے کہ یہ کیمیائی حملہ ہوا ہے یا کوئی اور وجہ ہے ، یا حملہ کرنے والا کون ہے؟ امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے اس کے لئے شام کے صدر بشرالاسد کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ پچھلے 6-7 سال سے خانہ جنگی میں پہلے بھی اسد حکومت پر کیمیکل حملے کے الزام لگے تھے جس کی سرکار نے تردید کی ہے۔ اس وقت بھی یہی کہا گیا تھا کہ باغی کیمیکل حملہ کرکے سرکار کو بدنام کررہے ہیں۔ اس بار بھی سرکار اور فوج کا یہی بیان ہے، تو آخر سچائی کیاہوسکتی ہے۔ روس کی وزارت دفاع کے مطابق ایئر اسپیس کنٹرول ڈاٹا شام کے جہازوں نے خان شیخن نے دہشت گردوں کے ایک بڑے ایئر بیس پر حملے کی بات بھی کی ہے۔ اس کے مطابق اس میں بم بنانے والی زہریلی چیزیں رکھی گئیں تھیں اس کا مطلب یہ ہے کہ حملے کی وجہ ان چیزوں میں بلاسٹ ہوا ہے اور اس سے ہوئی اخراج گیس کا اثر ممکن ہے۔ یہ سچ بھی ہوسکتا ہے ۔ بہرحال شام میں ہوئے اس کیمیکل حملے میں امریکہ نے بہت بڑی جوابی کارروائی کی ہے۔ نیویارک نیوز سروس کے مطابق جمعرات کی رات امریکہ نے شام کے ایئربیس پر دو درجن کروز میزائلیں داغیں یہ پہلی بار ہے جب وائٹ ہاؤس میں شام کے صدر بشرالاسد کے قریبی فوجی دستوں پر اس طرح کی کارروائی کی ہے۔ اس حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتظامیہ کا موقف بدل گیا ہے۔ اسد کو اقتدار سے ہٹانے پر زور دیتے ہوئے روس کو شامی حکومت کو حمایت پر دوبارہ سے غور کرنے کو کہا ہے۔ساتھ ہی خبردار بھی کیا ہے کہ اگر اقوام متحدہ اپنی ذمہ داری نہیں نبھاتا تو وہ اکیلا کارروائی کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ اس کے باوجود روس آج بھی اسد کے ساتھ کھڑا ہوا ہے۔ خان شیخن شہر کا منظر دل دہلانے والا تھا۔ 9 ماہ کے جڑواں بچے کو سینے سے لگائے والد کی تصویر کسی کی بھی آنکھوں کو نم کردیتی ہے۔ اس درد کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ والد نے لمحے بھر پہلے جن بچوں کو گود میں لیکر پچکارا تھا وہ اگلے ہی لمحے دم گھٹنے سے اسی کی گود میں دم توڑ گئے تھے۔ اس خاندان کے 22 افراد اس مبینہ کیمیکل حملے میں مارے گئے۔ جلد کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا تو اس جنگ کے خطرناک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ امریکہ اور روس آمنے سامنے آگئے ہیں۔ کچھ بھی ہوسکتا ہے اگر یہ معاملہ جلد نہیں نپٹایاگیا۔
(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...