Translater

Atom Bomb لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Atom Bomb لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

18 فروری 2012

ایران کے مشتعل رویئے کا مغربی ممالک کیا جواب دیں گے؟



Published On 18th February 2012
انل نریندر
ایران کسی کے آگے جھکنے والا نہیں ہے یہ ہی اس کی روایت رہی ہے اور اسی روایت پر وہ قائم ہے۔ مغربی ممالک کے بڑھتے دباؤ کا لگتا ہے الٹا اثر ہوا ہے۔ اب وہ پہلے سے زیادہ مشتعل ہوگیا ہے۔ ایران نے مغربی ممالک کے خلاف بدھ کے روز سخت رویہ اختیار کرلیا ہے۔ امریکہ اور یوروپی ممالک کی دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اس نے نہ صرف اپنے ایٹمی پروگرام کی کامیابی کا اعلان کیا بلکہ یوروپی ملکوں کی تیل سپلائی روکنے کی دھمکی بھی دے دی۔ تہران میں ایک تقریب کے دوران ایرانی صدر احمدی نژاد نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ بے وجہ کی دھمکیاں دیتا رہتا ہے، ان میں اب کوئی دم نہیں بچا ہے۔ ضرورت پڑی تو ایران اسے بھی سبق سکھا سکتا ہے۔ خلیجے فارس میں فوجی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے بعد ایران نے بدھ کو اپنے متنازعہ نیوکلیائی پروگرام کی نمائش بھی کی۔ مغربی ممالک کے ذریعے مسلسل دی جارہی دھمکیوں اور پابندیوں کو ٹھینگا دکھاتے ہوئے ایران نے دعوی کیا ہے کہ اس نے نیوکلیائی بھٹی میں استعمال ہونے والے چوتھی پیڑھی کے ملکی سینٹری فیوز(ایندھن کی چھڑیں) بنا لی ہیں۔ خودصدر احمدی نژاد نے نارتھ تہران میں واقع نیوکلیائی بھٹی میں سینٹری فیوز لگایا اور ایران کے سرکاری ٹی وی نے اس کو براہ راست دکھایا۔ محمود احمدی نژاد نے بعد میں اعلان کیا کہ جلد ہی تہران دنیا کی چنندہ نیوکلیائی طاقتوں میں شمار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 9 ہزار سینٹری فیوز تیار کر لئے ہیں اور بھٹی میں سینٹری فیوزچھڑیں لگانے کے بعد احمدی نژاد نے کہا ایران پر پابندی لگائی گئی ہیں اور مزید بندیشیں لگانے کی تجویز ہے لیکن اس سے تہران کو کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔ مغربی ممالک نہیں چاہتے علم اور ترقی پوری دنیا میں پھیلے جو دیش ترقی کرنا چاہتے ہیں انہیں ان دباؤ اور اڑچنوں سے لڑنا پڑے گا۔
ایران دنیا کا چوتھا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔ عراق، کویت کے تیل کنوؤں پر قبضہ کرنے کا فارمولہ امریکہ لگتا ہے یہاں بھی آزمانا چاہتا ہے لیکن روس ، چین اور ہندوستان کا ساتھ ملنے کی وجہ سے وہ براہ راست کارروائی نہیں کرپارہا ہے۔ یوروپ کی 18 فیصدی تیل کی ضرورت ایران سے درآمدسے ہوتی ہے۔بدھ کو خبر آئی کے ایران نے نیدر لینڈ، اٹلی، اسپین، یونان، پرتگال اور فرانس کی تیل سپلائی بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ ادھر امریکہ ۔اسرائیل کا خیال ہے کہ ایرانی ایٹمی ہتھیار اس لئے بنا رہے ہیں تاکہ اسرائیل پر حملہ کرسکیں۔ اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو نے کہا کہ ایران دہشت گردی کا سب سے بڑا فروغ دینے والا ملک ہے۔اس کی آتنکی مہم اجاگر ہوچکی ہے وہ ہمارے بے قصور سفارتکاروں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ ایران کے خلاف لکشمن ریکھا کھینچنی چاہئے۔ وہ دنیا کے امن اور استحکام کیلئے خطرہ ہے۔ امریکہ بھارت پر ایران کے خلاف کھڑا ہونے کے لئے دباؤ بنا سکتا ہے لیکن بھارت کو اس دباؤ میں نہیں آنا چاہئے۔ ایران کے ساتھ رشتوں کو کیسے چلانا ہے اس پر کسی تیسرے ملک کی مرضی نہیں چلے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ اور یہ مغربی دیش احمدی نژاد کی تازہ دھمکیوں اور اپنے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے کے ارادوں سے کیسے نمٹتے ہیں؟ وسطی ایشیا میں حالات کشیدہ بنتے جارہے ہیں، چھوٹی سی بھی چنگاری آگ میں بدل سکتی ہے۔
Ahmedi Nejad, America, Anil Narendra, Atom Bomb, Atomic Reactor, Daily Pratap, Iran, Vir Arjun

27 مئی 2011

کیا پاکستان کے ایٹمی ہتھیار محفوظ ہیں؟


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily


27مئی 2011 کو شائع
انل نریندر

کراچی کے مہران بحریہ کے ہوائی اڈے پر ہوئے آتنکی حملے نے وہاں کی غیر منظم سلامتی اور پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کو لیکر بھارت کابے چین ہونا فطری ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اس معاملے میں بھارت کی تشویشات کو ظاہر کردیا ہے۔ بھارت کا خیال ہے کہ فوج کے ہیڈ کوارٹر پولیس ٹریننگ کیمپ کے بعد اب فوجی ہوائی اڈے پر خودکشی حملے جیسی آتنکی واردات روکنے میں پاکستانی مشینری کی ناکامی نے نہ صرف ہندوستان کے لئے تشویش کا باعث ہے بلکہ پوری دنیا کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ مہران اہم ٹھکانا ہونے کے باوجوداور اس سے وابستہ دیگر فوجی اداروں کے دفتر دور نہیں ہیں۔ یہ پاکستانی ایئر فورس کے مسرور مرکز کے قریب 40 کلو میٹر دوری پر واقع ہے۔ یہ نیوکلیائی ہتھیاروں کا ایک ڈپو مانا جاتا ہے۔ ایک ہندوستانی ڈیفنس ماہر کے مطابق پی این ایس مہران پاکستان کے سب سے بڑے بحری ایئر بیس میں شمار ہوتا ہے۔ جدید سازو سامان اور طیاروں سے مسلح اس اڈے پر آتنکیوں کا اتنی آسانی سے حملہ کردینا ، یہ خفیہ ایجنسیوں کی خامیوں کا اشارہ کرتا ہے۔ اندرونی شخص کی مدد کے بغیر آتنکیوں کو بحری اڈے میں ایئر کرافٹ کی موجودگی کا پتہ نہیں چل سکتا تھا۔جس طرح وہ گھنٹوں اس میں ڈٹے رہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پختہ معلومات کے ساتھ یہاں آئے تھے۔ نیویارک ٹائمز نے خلاصہ کیا ہے کہ مہران فوجی اڈے کے پاس ہی مسرور ایئر فورس کا بیس ہے۔ جہاں پاکستان کا ایٹمی ذخیرہ ہے۔ یہاں کافی نیوکلیائی بم ہیں جنہیں مزائلوں اور جنگی جہازوں سے ممکنہ نشانوں پر مار کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ امریکی ڈیفنس ماہرین کا اندازہ ہے پاکستان کے پاس اس وقت 100 نیوکلیائی بم ہیں۔
سب سے بڑی تشویش کی بات یہ ہے کہ پاکستانی فوج کے اندر القاعدہ ،لشکر طیبہ جیسی آتنکی تنظیموں کی مدد کرنے والے موجود ہیں۔ ان کی مد د سے اگر آتنکی مسرور ایئر فورس بیس پر حملہ کرتے ہیں تو اس کے خوفناک نتائج ہوسکتے ہیں؟ مان لیجئے بڑا حملہ ہوتا ہے اور اس حملے میں نیوکلیائی بم متاثر ہوجاتا ہے اور ریڈی ایکٹو کرنیں لیک ہوجاتی ہیں تو کیا ہوگا؟ دوسرا خطرہ یہ ہے کہ اگر ان میں سے کچھ آتنکیوں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں تو کم سے کم چھوٹا اور ڈرٹی بم بنا سکتے ہیں۔ تیسرا خطرہ یہ ہے کہ پاکستان فوج میں ان آتنکیوں کے ہمدرد آتنکیوں کو نیوکلیائی بم بنانے کی تکنیک مہیا کروا دیتے ہیں تو کیا ہوگا؟ ان سب امکانات کو دیکھتے ہوئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ پاک اپنے نیوکلیائی ہتھیاروں کی سکیورٹی پر زیادہ توجہ دے اور اپنے اندر موجود بھیدیوں کی پہچان کرے اور اس بات کی جانچ کرے کہ مہران ایئر بیس پر جو حملہ ہوا ہے کیا اس میں کسی پاکستانی فوج کے راز داں کا ہاتھ تو نہیں تھا؟ امریکہ ابھی اس کو لیکر الجھن میں پڑا ہوا ہے۔ امریکی صدر کے سابق ڈیفنس ایڈوائزر جیک کراولی نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں ہوئے اس حوصلہ افزاء حملے کے مد نظر امریکہ پاکستان کے نیوکلیائی ہتھیاروں کو اپنے قبضے میں لینے کی ہنگامی اسکیم پر غور کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کے نیوکلیائی ہتھیاروں اور سامان کو قبضے میں لینے کی خفیہ اسکیم بنائی ہے۔ یہ تشویش کی بات ہے پاکستان اندرونی تال میل کھوتا جارہا ہے اور پھر یہ بھی کہنے سے نہیں تھکتا کہ ہم اپنے نیوکلیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو اور بڑھائیں گے۔
Tags: Anil Narendra, Karachi, Mehran Aira Base, Pakistan, Atom Bomb, Masroor Air Base, Pakistan, Al Qaida, Lashkar e Toeba, Vir Arjun, Daily Pratap,  

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...