Translater

Tata Teleservices لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Tata Teleservices لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

13 اکتوبر 2011

مارن کا نمبرآگیا ،رتن ٹاٹا ابھی بھی بچے ہوئے ہیں



Published On 13th October 2011
انل نریندر
ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے میں کروناندھی اینڈ کمپنی کا ایک وکٹ گرنے والاہے۔ اے راجہ، کنی موجھی کے بعد اب سابق وزیر دیا ندھی مارن کا نمبر ہے۔ ان پر سی بی آئی کا شکنجہ کس چکا ہے۔ اس معاملے میں سی بی آئی نے باقاعدہ ایف آئی آر درج کرلی ہے۔ دیاندھی مارن کے ساتھ ان کے بھائی کلاندھی مارن اور ملیشیاکے میکسس گروپ کے چیئرمین ٹی آنند کرشن اور سرمایہ کار رافلس مارشل سمیت تین کمپنیوں کو ملزم بنایا گیا ہے۔ ایتوار کو ایف آئی آر درج کرنے کے بعد جانچ ایجنسی نے پیر کے روز مارن کے دہلی اور چنئی میں رہائشی و دفاتر پر چھاپہ ماری کی تھی۔ ایف آئی آر کے مطابق وزیر مواصلات رہتے ہوئے دیاندھی مارن نے تارکین وطن ہندوستانی صنعت کار ایس شیو شنکرن پرایئر سیل کو بیچنے کے لئے دباﺅ ڈالا تھا۔ ایئرسیل کو اسپےکٹرم الاٹمنٹ کو مارن نے تقریباً دو سال تک لٹکائے رکھا اور اسپیکٹرم کرنیں تبھی دی گئیں جب شیو شنکرنے ایئر سیل کو ملیشیا کمپنی میکسس گروپ کو بیچ دیا۔ یہ ہینہیں 14 سرکل میں ایک ساتھ اسپیکٹرم معاملے کے بعد میکسس گروپ کی ساتھی کمپنی ایسٹرو نے مارن خاندان کی کمپنی سن میں براہ راست طور پر تقریباً600 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ الزام ہے کہ ایسٹرو نے سن کے براہ راست شیئر کو بازار کے بھاﺅ سے زیادہ قیمت میں خریدر کر درپردہ طور پرمارن کو رشوت دی تھی۔
ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے کی جانچ ابھی جاری ہے۔ عوامی رابطہ ایجنسی چلانے والی نیرا راڈیا اور ان کے روابط کی جانچ ابھی ادھوری ہے۔ نیرا راڈیا کے ٹیپ جب جنتا کے سامنے اجاگر ہوئے تو پورے دیش کو یہ جان کر دھکا لگا کے جو وزیر سرکار چلاتے ہیں جنتا انہیں سمجھتی ہے کہ انہیں دیش کے پردھان منتری چنتے ہیں وہ وزیراعظم کے ذریعے نہ چنے جاکر دیش کے بڑے صنعتی گھرانے انہیں بناتے ہیں۔ یہ گھرانے اپنے پسندیدہ لیڈروں کو وزیر بنوانے کےلئے کس طرح سے اور کس سطح تک جاکر لابنگ کرتے ہیں یہ نیرا راڈیا معاملے کے بعد سامنے آیا ہے۔ میڈیا معاملے میں دیش کے بڑے صنعتی گھرانے رتن ٹاٹا کا نام سامنے آیا ہے۔ راڈیا ٹاٹا گھرانے کے لئے کام کرتی ہیں اور ان کے سیاسی اور کاروباری مفادات کا اتنا خیال رکھتی ہیں لیکن یہ خلاصہ صرف ایک راڈیا کا تھا۔ راڈیہ ٹیپ معاملے کا دوسرا پہلو ٹوجی اسپیکٹرم مہا گھوٹالے سے جاکر جڑ گیا۔ اس مہا گھوٹالے میں ٹاٹا کے کردار پر کیگ نے اپنی رپورٹ میں تذکرہ کیا ہے۔ راڈیہ معاملے میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ سرکار یہ یقینی بناتی کہ مستقبل میں ایسا پیغام نہ جائے کہ سرکار کسی بھی صنعتی گھرانے سے متاثر ہے لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ ٹوجی گھوٹالے کی جانچ سے کچ طرح سے رتن ٹاٹا کو باہر کیا جارہا ہے وہ پہلے سے طے ہے اور جنتا کے سامنے سرکار اور صنعتی گھرانے کی اس ملی بھگت کا معاملہ دوسرا جھٹکا ہے۔ یوپی اے سرکار کے لئے ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالہ کسی دلدل سے کم نہیں۔
سرکار اس سے نکلنے کے لئے بھلے ہی جتنی کوشش کرتی ہے اتنی ہی اس میں دھنستی چلی جارہی ہے۔ اس گھوٹالے میں روز نئے نئے نام سامنے آرہے ہیں۔ مارن بھائیوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہوچکی ہے۔ اسی طرح ایسار گروپ کےروئیاں بندھوﺅں کو بھی سی بی آئی جلد اپنے شکنجے میں لینے والی ہے۔ ایسارسے سابق ریلائنس، یونیٹیک، سوان اور ویڈیو کون جیسی کمپنیوں کے بڑے افسرتہاڑ جیل میں پہنچ چکے ہیں۔ حال ہی میں وزارت مالیات کے ذریعے وزیر اعظم کے دفتر کو بھیجی گئی ایک چٹھی سے وزیر داخلہ پی چدمبرم کا نام بھی سامنےآیا ہے۔ حالانکہ اس گھوٹالے کے سوتردھار اے راجہ پہلے بھی اس طرف کئی باراشارہ کرچکے تھے لیکن راجہ کے الزام کے بدلے کی کارروائی کے تحت انہیں ملزم بنایا گیا ہے۔ لیکن اس مہا گھوٹالے کے معاملے میں سب سے بڑا تعجب یہ  ہے کہ ٹاٹا کے کردار اور ان سبھی صنعتی گھرانوں سے زیادہ وسیع اور واضح ہے لیکن ابھی تک کوئی جانچ یا چارج شیٹ داخل نہیں کی گئی ہے؟ ٹاٹا پر اسگھوٹالے میں کافی اہم کردار نبھانے کا نہ صرف الزام ہے بلکہ کافی پختہ ثبوت بھی ہے لیکن رتن ٹاٹا کا سرکار سے اپوزیشن تک میں کتنا اثر ہے یہ اسی سے صاف ہے کہ ٹاٹا گھرانہ اس مہا گھوٹالے کی جانچ کے دائرے سے تقریباً باہر ہے۔ اس مہا گھوٹالے میں ٹاٹا کے کردار پر سب سے پہلے انگلی کیگ نے اٹھائی۔ کیگ نے اپنی رپورٹ میں ٹاٹا ٹیلی سروس کی وجہ سے سرکاری محصول کو 19074 کروڑ روپے کا نقصان ہونے کا دعوی کیا ہے۔ کیگ نے اپنی رپورٹ میں ٹاٹا کے کردار پرتفصیل سے بحث کی ہے۔ ٹاٹا کے اس مہا گھوٹالے میں کردار دنیا جانتی ہے کہ اے راجہ کو ٹیلی کمیونی کیشن وزیر بنانے کےلئے ٹاٹا نے نیرا راڈیہ کے ذریعے سے اس طرح سے لابنگ کروائی کے سابق وزیرمواصلات دیاندھی مارن کے ٹاٹا سے تعلق اچھے نہیں تھے اور یوپی اے کی پہلی
پاری میں ٹاٹا کو مارن کا تعاون نہیں ملا تھا۔ آخر کار رتن ٹاٹا نہیں چاہتے تھے کہ دیاندھی مارن پھر سے وزیر مواصلات بنیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ ٹاٹا نے صرف لابنگ ہی نہیں کی بلکہ ایک طریقے سے رشوت کے طور پر ڈی ایم کے چیف کروناندھی کوچنئی میں کروڑوں روپے کی زمین تحفہ میں دے دی۔ بعد میں اس زمین پر عمارت تعمیر کروائی۔ اس سب کا اثر تھا کہ اے راجہ کے وزیررہتے رتن ٹاٹا کو 2 جولائی کو اسپیکٹرم دینے کےلئے وزارت میں کسی بھی قاعدے کی پرواہ نہیں کی۔ ہمارا خیال ہے کہ رتن ٹاٹا کی تفصیل سے جانچ ہونی چاہئے۔ اگر ایسا نہیںہوتا تو یہ جانچ اور گھوٹالے کا پورا پردہ فاش نہیں ہوگا۔ نیرا راڈیہ کے ٹیپوں کی تو پتہ نہیں کیوںجانچ اور ان پر کارروائی نہیں ہورہی ہے؟
2G, Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, Dayanidhi Maran, DMK, Karunanidhi, Ratan Tata, Tata Teleservices, Vir Arjun

03 اگست 2011

دھمکیوں پر اترے منموہن سنگھ پہلے ہی دن چت

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 3rd August 2011
انل نریندر
 پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس شروع ہوگیا ہے۔ اس میں ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کا دور دورہ شروع ہونا طے لگتا ہے۔ پہلے دن سے ہی یہ سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ عام طور پر سادہ طبیعت اور خوش مزاج وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے بوکھلاہٹ میں اپوزیشن پر سیدھا حملہ بول دیا۔ پیر سے مانسون اجلاس شروع ہونے سے پہلے ہی وزیر اعظم نے جارحانہ رویہ اپناتے ہوئے کہا ہمیں کسی بھی مسئلے پر بحث کرانے کا کوئی ڈر نہیں ہے۔ ہم ہر مسئلے پر بحث کرانے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔ یہاں تک تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن اس سے آگے وزیر اعظم نے جو کہا وہ ضرور سمجھ سے باہر ہے؟ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا ہمارے پاس اپوزیشن خیموں کو شرمندہ کرنے والے بہت سے راز ہیں۔ وزیر اعظم کے اس حملے سے اپوزیشن بپھر گئی ہے۔ بھاجپا نیتا سشما سوراج نے کہا کہ ایک طرف تو پرنب مکھرجی، پون بنسل اور راجیو شکلا جیسے حکومت کے نمائندے پارلیمنٹ کو ٹھیک ٹھاک چلانے کی اپیل کررہے ہیں وہیں ان کے لیڈر دھمکیوں پر اتر آئے ہیں۔ بھاجپا نیتا سے اس بارے میں پوچھا گیا تو نقوی نے کہا کہ پارلیمنٹ چلے اور سبھی کام کاج ٹھیک ٹھاک چلے ایسی ہماری خواہش ہے۔ لیکن سرکار ٹکراؤ اور غرور کے موڈ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے انہیں (وزیر اعظم کو) گڑھے مردے اکھاڑنے دیجئے، پھر دیکھیں گے۔ پہلے ہی دن سرکار ایک ایسی جانب سے چاروں خانے چت ہوگئی جہاں سے اسے شاید کبھی امید نہ ہوگی۔
ٹیم انا نے سرکار پر حملہ بول دیا۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی دوسری پاری کا مانسون اجلاس کا پہلا دن ایسا ہوگا کسی نے خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا۔ گاندھی وادی لیڈر انا ہزارے فریق نے پیر کو دعوی کیا کہ مرکزی وزیر کپل سبل کے پارلیمانی حلقے سمیت ناگپور ،وردھا اور امراوتی کے ووٹروں نے لوک پال بل کے سرکاری مسودے کو نامنظور کردیا اور سماجی رضاکاروں کے عوامی لوک پال بل کی حمایت کی ہے۔ انا نے دعوی کیا کہ سبل کے چناؤ حلقے کے 85 فیصدی ووٹر انا ہزارے کے جن لوک پال بل کے حق میں ہیں اور 82 فیصدی ووٹر چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم کو لوک پال کے دائرے میں لایا جائے۔ انا نے کہا یہ ایک اہم مثال ہے جو ملک کے شہریوں کو صحیح لوک شاہی کا راستہ دکھاتا ہے۔ یہ ریفرنڈم ہے کہ سوشل آڈٹ بہت ضروری ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ پورے دیش میں اسی طرح کا ریفرنڈم ہو۔ نتیجے بتاتے ہیں کہ کپل سبل کے چناؤ حلقے میں 85 فیصد لوگ پارلیمنٹ کے اندر ممبران کے برتاؤ اور 86 فیصدی لوگ بڑی عدالتوں کو مجوزہ لوک پال کے دائرے میں رکھنے کے حق میں ہیں۔ سوال نامے کے ذریعے 83 فیصد ووٹروں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں لوک پال بل پر ممبران کو اپنی پارٹی کے رخ کے بجائے توقعات کے مطابق ووٹ کرانا چاہئے۔
ٹیلی کام گھوٹالے میں ایک بار پھر وزیر اعظم منموہن سنگھ کا نام سامنے آیا ہے۔ پیر کو ہی ملزم شاہد بلوا کی جانب سے دی گئی دلیل میں ان کے وکیلوں نے کہا کہ پی ایم کو ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ کارروائی کے بارے میں پوری معلومات تھی۔ بلوا نے اس وقت کے وزیر خارجہ پرنب مکھرجی اور سالیسٹر جنرل واہن وتی کا نام بھی لیا کہ انہیں بھی الاٹمنٹ کی بات چیت کی پوری جانکاری تھی۔ بلوا نے اپنی دلیل کو پختہ کرنے کے لئے اے راجہ کے اس خط کا بھی ذکر کیا جو انہوں نے وزیر اعظم کو لکھا تھا۔ بلوا نے سی بی آئی پر جانبدارانہ رویہ اپنانے کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ وہ ٹاٹا کو بچانے کی کوشش میں دیگر لوگوں پر ہاتھ ڈال رہی ہے۔ بلوا کے وکیلوں نے یہاں تک کہا کہ یہ اسپیکٹرم الاٹمنٹ پالیسی سرکار کی تھی اور یہ ہی وجہ ہے کہ کہیں بھی اس کی مخالفت نہیں کی گئی۔ ہر قدم پر اسے اجازت ملتی گئی۔ نہ تو وزیر اعظم اور نہ ہی اس وقت کے وزیر مواصلات نے کسی مرحلے پر یہ کہا ہے کہ اس پالیسی سے سرکار کو نقصان ہوگا۔ پھر وہ کٹہرے میں کیوں ہیں؟
اس مانسون اجلاس کا آغاز ہنگامی ہوا ہے۔ اس وقت تو پوری اپوزیشن اپنے اپنے اسباب سے کانگریس پارٹی اور سرکار سے ناراض ہے۔ یہ اجلاس ٹھیک سے نکل جائے یہ وزیر اعظم اور ان کے سپہ سالاروں کے لئے ایک چیلنج ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ کے باہر دونوں ہی جگہوں پر سرکار کے خلاف مورچہ گرم ہے۔ دیکھیں سرکار کیسے اس سے نمٹتی ہے؟
Tags: 2G, A Raja, Anil Narendra, BJP, CBI, Congress, Daily Pratap, DMK, Manmohan Singh, Shahid Balwa, Tata Teleservices, Vir Arjun

02 اگست 2011

چندولیہ نے نیرا راڈیا اور رتن ٹاٹا کو گھسیٹا

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 2nd August 2011
انل نریندر
ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ گھوٹالے میں ملزم سابق وزیر مواصلات اے راجہ کے پرائیویٹ سکریٹری رہے آر کے چندولیہ نے خصوصی عدالت میں سی بی آئی پر الزام لگایا ہے کہ جانچ ایجنسی ان کے خلاف گواہی دینے کیلئے گواہوں پر ناجائز دباؤ بنا رہی ہے۔ سی بی آئی انہیں جھوٹے معاملے میں پھنسانے کی کوشش کررہی ہے۔ سنیچر کے روز پٹیالہ ہاؤس میں سی بی آئی کی او پی سینی کی اسپیشل عدالت میں چندولیہ کی جانب سے جرح پوری کر لی ہے۔ آج سوان ٹیلی کام کے پرموٹر شاہد عثمان بلوا نے اپنے بچاؤ میں دلیلیں دی ہوں گی۔ چندولیہ کے وکیل وجے اگروال نے کہا کہ چندولیہ کی گرفتاری کے وقت سی بی آئی کے پاس ان کے خلاف کوئی چشم دید گواہ نہ تھا اور نہ ہی جانچ ایجنسی نے کسی بھی گواہ کو پیش کیا۔ اس طرح اس سال 2 فروری کو ہوئی ان کی گرفتاری دراصل غیر قانونی تھی۔ اگروال نے کہا کہ جن لوگوں کو چھوڑا گیا یا جنہیں گواہ بنایا جارہا ہے انہیں خصوصی عدالت میں ملزم کے طور پر کھڑا ہونا چاہئے تھا۔ جمعہ کے روز اسپیکٹرم معاملے میں چندولیہ نے اپنی دلیل میں خود کو بے قصور بتایا اور کہا کہ انہوں نے تو صرف اپنے باس کی ہدایات پر عمل کیا تھا۔ ساتھ ہی نیرا راڈیا اوررتن ٹاٹا کو بھی معاملے میں گھسیٹ لیا۔ چندولیہ کے وکیل نے سی بی آئی کے اسپیشل جج جسٹس اوپی سینی نے کہا کہ راجہ کے مبینہ ساتھی اسیر ودرم اچاری نے مبینہ طور پر کلیگنر ٹی وی کو ٹاٹا اسکائی، ڈی ٹی ایس میں لانے کی سازش رچی تھی اور اس کے لئے راجہ اور نیرا راڈیا کے بیچ رابطے کا کام کیا۔ اس میں نیرا راڈیا کوملزم بنایا جانا چاہئے۔ دلیل کے دوران چندولیہ کے وکیل نے کہا کہ بات چیت کے دوران نیرا نے جب سمجھوتے کے سلسلے میں بات کی تو آچاریہ نے ان سے کہیں بھی نہیں پوچھا کہ وہ کس بارے میں بات کررہی ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اچاری کو راجہ کی طرف سے کئے جارہے کلیگنر ٹی وی اور ٹاٹا کے بیچ سمجھوتے کے بارے میں جانکاری تھی ۔ اس کو دیکھتے ہوئے ٹاٹا نیرا اور اچاری سمیت کلیگنر ٹی وی کو اس معاملے میں ملزم بنایا جانا چاہئے۔ ٹا ٹا اور نیرا راڈیا بڑے لوگ ہیں اور سی بی آئی انہیں چھو تک نہیں پارہی ہے لیکن اچاری کو کیوں نہیں؟ چندولیہ نے کہا کہ وہ تو روز مرہ کے کام کاج میں اے راجہ کی مدد کرنے والے افسر تھے۔ ان کے وکیل نے کہا کہ میرے موکل کے باس اے راجہ تھے اور چندولیہ نے تو صرف ان کی ہدایات کی تعمیل کی۔ باس کی ہدایات کی تعمیل کرنے کے لئے ایک معاون مانے جاتے تھے کیا وہ چندولیہ اپنی باس سے سوال کر سکتے تھے؟ چندولیہ نے کہا کہ وہ ڈی ایم کے کلیگنر ٹی وی یا کسی ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی سے وابستہ شخص نہیں ہیں۔ انہوں نے سی بی آئی کو چنوتی دی بھی وہ بھی ثبوت کی شکل میں کوئی دستاویز پیش کریں جس پر انہوں نے دستخط کئے ہوں۔
اب تک مختلف گواہوں پر نظر ڈالیں تو ایک الگ تصویر سامنے آتی ہے۔ پہلے بات کرتے ہیں خود اے راجہ کی۔ راجہ نے 25-7-2011 کو وزیر اعظم منموہن سنگھ اور وزیر داخلہ پی چدمبرم کا نام گھسیٹا۔ اور ملزم سوان، یونیٹیک کی حصے داری کم کئے جانے کے بارے میں جانتے تھے۔ 26-7-11 کو اٹارنی جنرل جی ای واہن وتی( اس وقت کے سالیسٹر جنرل) پر راجہ نے الزام لگایا کہ ’پہلے آؤ پہلے پاؤ‘ کی پالیسی میں راجہ کی تبدیلیوں کو منظوری دی۔ نیرا راڈیا کے ٹیپ آؤٹ ہونے سے ٹو جی گھوٹالے میں نیتاؤں، صنعت کاروں، صحافیوں کے کھیل کی ڈراؤنی تصویر سامنے آگئی۔ ان ٹیپوں سے پتہ چلا کہ وہ ٹاٹا اور امبانی جیسی کمپنیوں کے لئے لابنگ کا کام کیا کرتی تھی۔ ٹاٹا گروپ کی سبھی 90 کمپنیوں کا اشتہار اور پبلک رلیشن کا کام نیرا راڈیا کی کمپنی ویشنوی کمیونی کیشن کے پاس تھا۔ 27-7-11 سدھارتھ بہورا نے بھارتیہ ریزرو بینک کے گورنر ڈی سبا راؤ پر الزام لگایا کہ انہوں نے اسپیکٹرم لائسنس فیس کا جائزہ نہیں لیا اور معاملہ پیچیدہ ہوتا جارہا ہے۔ سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے جج او پی سینی اس معاملے سے کیسے نمٹتے ہیں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔
Tags: 2G, A Raja, Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, Manmohan Singh, Neera Radia, P. Chidambaram, Swan Telecom, Tata Teleservices, Unitech Wireless, Vir Arjun

20 جولائی 2011

اس ملک میں نوکرشاہوں ،صحافیوں اور دلالوں کا اصل راج ہے


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 20th July 2011
انل نریندر
ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے نے ایک بات تو صاف کردی ہے کہ اس دیش کو عوام کے ذریعے چنے گئے نمائندے عرف ممبر پارلیمنٹ ، وزرا وغیرہ نہیں چلا رہے بلکہ صنعت کار، افسر شاہ اور دلال چلا رہے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو نیراراڈیہ جیسے چالاک لوگ اتنے طاقتور نہ ہوتے جو اپنی پسند کا وزیر بھی بنوا لیتے ہیں اور اسے چنندہ وزارت بھی دلا دیتے ہیں۔نیرا راڈیہ آج مشہور ہستی ہیں، کون ہیں یہ نیرا راڈیہ؟ 1995 ء میں پہلی مرتبہ نیرا راڈیہ ہندوستان آئیں اور اس نے پہلی ملازمت سہارا گروپ میں بطور لائزن افسر کے کی تھی۔ 2001 میں نیرا نے ویشنوی کمیونی کیشن نامی کمپنی شروع کی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے ٹاٹا اور امبانی گروپ کا سارا لائزن کا کام سنبھالنے لگی۔ اچانک اپنی مشتبہ سرگرمیوں کے سبب نیرا انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی نظروں میں آ گئی۔ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ اس بات کی جانچ کررہا تھا کہ اچانک 10 سالوں میں نوکری کرنے والی نیرا راڈیہ 300 کروڑ روپے کی املاک کی مالک کیسے بن گئی؟ اسی جانچ میں ای ڈی نے نیرا راڈیہ کے فون ٹیپ کرنا شروع کردئے۔ محکمہ انکم ٹیکس نے تقریباً104 ٹیپ اپنی ویب سائٹ پر لگائے ہیں اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ کیسے سیاستدانوں، صنعتکاروں ،افسر شاہوں ، صحافیوں کی ملی بھگت سے یہ سرکار چل رہی ہے۔ اکیلے ٹاٹا گروپ اور مکیش امبانی نیرا راڈیہ کو سال کا 30-30 کروڑ روپے بطور فیس دیتے ہیں۔آخر اتنے پیسے صنعت کار (وہ بھی ٹاٹا اور امبانی جیسے) دیتے ہیں تو کچھ تو نیرا راڈیہ انہیں عوض میں دیتی ہوگی ایسا نہیں صنعتکار ایک بھی پیسہ خرچ کرتے ؟ راڈیہ کی سرگرمیوں کی فہرست لمبی ہے۔2009 میں یوپی اے سرکارکے اقتدار میں واپسی کے بعد اے راجہ کو پھر سے ٹیلی کمیونی کیشن وزیر بنوانے کے لئے نیرا راڈیہ نے کنی موجھی سمیت کئی با اثر لوگوں کے ساتھ لابنگ کی تھی۔ راڈیہ نے سی بی آئی کو دئے گئے بیان میں تسلیم کیا ہے کہ اے راجہ کو وزیر بنوانے کے لئے سبھی ممکنہ رابط پر غور کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ راجہ کو انل امبانی سے دوری بنا کر رکھنے کی صلاح دی گئی تھی۔ نیرا نے اس موضوع پر بھارتی ایئرٹیل کے چیف سنیل متل سے بھی بات چیت کی تھی۔ راڈیہ نے حال ہی میں سی بی آئی کو دئے گئے بیان میں یہ باتیں قبول کی ہیں۔ پچھلے دنوں سپریم کورٹ کو مطلع کیا گیا کہ ٹو جی اسپیکٹرم معاملے کی جانچ میں مداخلت کرنے کو لیکر سہارا گروپ کے چیف سبرتو رائے اور دو صحافیوں کے خلاف لگے الزامات کی جانچ کے سلسلے میں سی بی آئی نے کارپوریٹ لابسٹ نیرا راڈیہ اور ٹیلی ویژن چینلوں کے کچھ بڑے افسران سے پوچھ تاچھ کی ہے۔ حالانکہ سی بی آئی نے کہا کہ ابھی ان ٹیلی ویژن صحافیوں اور انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے جانچ افسران کے بیچ ٹیلیفون پر ہی بات چیت کی جانچ کئے جانا باقی ہے جن سے ٹو جی اسپیکٹرم معاملے کی گہرائی میں جانے کے سلسلے میں مبینہ طور پر ان سے رابطہ قائم کیا گیا۔ یہ بیان سرکار ی وکیل کے ۔ کے وینوگوپال نے دیا ہے۔ انہوں نے سی بی آئی کے ذریعے کی گئی جانچ کے نتائج کو پڑھا۔ سی بی آئی نے بند لفافے میں اپنی رپورٹ دی ہے۔ جسٹس جی۔ ایس سنگھوی اور جسٹس اے ۔کے گانگولی کے بنچ کو یہ مطلع کیا گیا کہ سی بی آئی سبھی پہلوؤں سے الزامات کی جانچ کررہی ہے اور آزاد گواہوں اور دستاویزوں کی تلاش میں لگی ہے۔ وینو گوپال نے کہا نیرا راڈیہ سے پوچھ تاچھ کی گئی ہے۔ ان لوگوں سے ایک سے زیادہ بار پوچھ تاچھ ہوگئی ہے کیونکہ ان کے بیان میں کچھ تضاد پایا جاتا تھا۔ بڑی عدالت نے گذشتہ 6 مئی کو کہا تھا کہ پہلی نظر میں سبرتو رائے اور سہارا نیوز نیٹ ورک کے دو صحافیوں اوپیندر رائے اور سبودھ جین کے خلاف ٹو جی معاملے کی جانچ میں مداخلت کرنے کا معاملہ بنتا ہے اور عدالت نے توہین عدالت کے لئے نوٹس جاری کیا تھا۔
ادھر سی بی آئی نے پٹیالہ ہاؤس کی ایک عدالت کو بتایا کہ سرخیوں میں چھائے ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے کی اہم کڑی مانی جانے والی کارپوریٹ لابسٹ نیرا راڈیہ کی بات چیت والے ٹیپ معاملے سے جڑے سبھی ملزمان کو دئے جائیں گے۔ بتا دیں کہ ان ٹیپوں میں کارپوریٹ دنیا کے علاوہ میڈیا سمیت دیگر سیکٹر کے لوگوں سے بات چیت شامل ہے۔ جس کے کچھ ہی حصے باہر آ پائے ہیں۔ سی بی آئی کے ذریعے سبھی ملزمان کو یہ ٹیپ دستیاب کرانے سے کئی دیگر لوگوں کی بات چیت سے پردہ اٹھ سکتا ہے۔ دیش امید کرتا ہے کہ نیرا راڈیہ کے سارے ٹیپوں کو سامنے لایا جائے تاکہ عوام کو یہ پتہ چل سکے کہ اصل میں اس دیش پر راج کون کرتا ہے؟ جنتا یا دلال؟
Tags: 2G, A Raja, Anil Narendra, Bharti Airtel, Daily Pratap, ED, Mukesh Ambani, Neera Radia, Sunil Mittal, Tata Teleservices, Vir Arjun

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...