Translater

31 اکتوبر 2020

اگلے مہینے آجائے گی کوڈ ویکسین ؟

دنیا بھر میں کورونا کے انفیکشن کے سبب مچے واویلے کے درمیان اچھی خبر یہ ہے آکسفورڈ یونیورسٹی کی کووڈ ویکسین نومبر کے پہلے ہفتے سے دستیاب ہو سکتی ہے برطانیہ کے اسپتالوں کے اسٹا ف سے کہا گیا ہے کہ جلد ہی انہیں ٹیکے کی پہلی کھیپ سونپ دی جائے گی اور وہ دوا کی تقسیم کی تیاری شروع کردیں ۔ برطانیہ کے اسپتالوں میں دیگر سبھی یومیہ ٹیسٹ کی تیا ری روک دی گئی ہے ۔ کیونکہ سبھی وسائل آکسفورڈ ایسٹرا جینک ویکسین کے ٹیکے کی تیاری میں لگ گئے ہیں ۔ اس کے کورونا ویکسین بزرگوں اور جوان لوگوں پر تجربہ اچھا اثر دکھا رہا ہے ۔ بزرگوں میں اینٹی باڈیز اور ٹی سیل بنے ہیں وہ کورونا وائرس کو مات دینے میں شخص کو زیادہ مضبوط بناتے ہیں ایک رپورٹ کے مطابق یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ ٹیکا لگانے کے بعد ان میں اچھی خاصی مقدار میں مرض سے لڑنے کی قوت پید اہوئی ہے ۔ وہیں 18سے 55سال کی عمر والے بزرگ وہنٹی لیٹر پر بھی اچھا اثر دکھا رہے ہیں ۔ بتا دیںیونی سیف دودینے کے لئے سال کے آخیر تک 52کروڑ سرنج کا اسٹاک کرے گا اور 50لاکھ سیفٹی واکرس بھی خریدے گا ۔ ویکسین سے پہلے دنیا بھر میں سرنج اور سیفٹی سازوسامن پہونچانے کی تیار ہے ہم امید ہی نہیں پراتھنا کرتے ہیں آکسفورڈ یونیورسٹی کی یہ کوروناویکسین اگلے ماہ نومبر تک آجائے اور دنیا تھوڑی راحت کی سانس لے سکے ۔ (انل نریندر)

سعودی عرب کی جانب سے بھارت کو دیوالی کا تحفہ !

سعودی عرب نے مقبوضہ کشمیر اور گلگت اور بلتستان کو پاکستان کے نقشے سے ہٹا دیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے ایک سماجی کارکن امجد ایوب مرزا نے بدھ کے روز ایک ٹویٹ کرکے معاملہ کی جانکاری کے ساتھ ایک تصویر بھی ٹویٹ کی ہے جس کے نیچے لکھا ہے سعودی عرب کی طرف بھارت کو دیوالی کا تحفہ نیوز ایجنسی یو این آئی نے میڈیا رپورٹس کے مطابق بتایا سعودی عرب نے 21-22نومبر کو جی 20-چوٹی کانفرس کے انعقاد کی اپنی صدارت کے لئے 20ریال (سعودی کرنسی )کا بینک نوٹ جاری کیا ہے ۔ یہ بتایا گیا ہے اس نوٹ پر دنیا کے نقشہ میں گلگت بلتستان اور کشمیر کو پاکستان کو کشمیر کے حصے کی شکل میں دکھا یا گیا ہے سعودی عرب کا یہ قدم پاکستان کو بے عزت کرنے سے کم نہیں جو خود کو اپنے نئے بلاک میں ڈھال نے کی کوشش کر رہا ہے معلوم ہو کہ ہندوستانی وزارات خارجہ نے ستمبر میں کہا تھاکہ اس نے خود ساختہ طور پر گلگت بلتستان اسمبلی کے لئے 15نومبر کو چناو¿ کے سلسلے میں رپورٹ دیکھی ہے ۔ حکومت ہندنے پاکستان کے ہم منصب کو احتجاج جتا دیا ہے ۔ اور دہرایا ہے کہ گلگت اور بلتستان سمیت جموں کشمیر و لداخ بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے قابل ذکر ہے اس سے پہلے عمران خان سرکار نے پاکستان کا نیا سیاسی نقشہ جاری کیا تھا جس میں اس نے بھارت میں گجرات کے جونا گڑھ،سرکریک،اورجموںکشمیر لداخ کے ایک حصے پر دعوہ کیا تھا ۔ یہ نقشہ 370آرٹیکل ہٹائے جانے کی پہلی سال گرہ کے بعد جاری کیا پاکستان حکومت نے اس پر اب تک کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے ۔ جی20-چوٹی کانفرنس 21-22نومبر کو ریاض میں ہوگی ۔ اور سعودی عرب حکومت اور شہزادہ سلمان کے لئے صدارت کا یہ موقع فخر کی بات ہے ۔ سرکار نے20ریال کا بینک کا نوٹ جاری کیا تاکہ یہ موقع یاد گار بن جائے اس میں سامنے کی طرف سعودی شاہ سلمان بن عبد العزیز کا فوٹو اور دوسری طرف ایک لوگو ہے ۔ یعنی پچھلے حصے میں دنیا کا نقشہ ہے سعودی عرب اور ایران میں کشمیر مسئلہ پر بھار ت کے خلاف پروگرام منعقد کرنے کی پاکستانی سفارت خانے کو اجاز ت نہیں ملی۔ پاک کے مشن دونوں ملکوں میں احتجاجی پروگرام کرنا چاہتے تھے ایران کی تہرا ن یونیورسٹی میں جبکہ سعودی عرب کی راجدھانی ریاض میں پروگرام ہونا تھا ۔ (انل نریندر)

طالبہ نکتا کے قتل میں ”لو جہاد “کا اینگل!

کم سے کم گریجویشن کی طالبہ نکتا تومر کیس میں ہریانہ پولس نے واردات کے چند گھنٹوں کے اند ر ہی دونوں ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے جہاں عدالت میں پیش کیا جج نے دونوں ملزمان کو دو دن کی پولس ریمانڈ میں بھیج دیا ۔ تاکہ پولس ملزمان سے واردات کے بارے میں پوچھ گچھ کر سکے بلب گڑھ کے ایس پی راٹھی کے مطابق واردات دن دھاڑے ہوئی جب بی کام فائنل کی طالبہ نکتا پیر کو اپنے اگروال کالج سے پیپر دے کر لوٹ رہی تھی تبھی اہم ملزمان توصیف نے نکتا کو زبردستی کار میں بٹھانے کی کوشش کی اس کے انکار کرنے پر ملزم نے تمنچہ سے اس کے سر میں گولی مار دی جس سے یہ طالبہ گر گئی اور اس کی موقع پر ہی موت ہو گئی توصیف اور اس کا ساتھی کار میں فرارہوگئے توصیف اور ریحان کو نوح سے گرفتار کیا گیا توصیف ولد ذاکر گڑگاو¿ں کے سہنا کے کبیر نگر کا باسندہ ہے اور ریحان نوح ضلع کے رواسن کا رہنے والا ہے ۔ واردات سے ناراض رشتہ داروں اور مختلف تنظیموں نے بلب گڑھ میں نیشنل ہایﺅے اور وی کے چوک پر جام کیا متوفی کے رشتہ داروں کا الزام ہے قتل کا ملزم توصیف زبردستی لڑکی کا مذہب بدلوانا چاہتا تھا اور اس میں ناکام ہونے کے بعد پہلے اس کو اگوا کرنے کی کوشش کی اور ناکام رہنے پر لڑکی کو گولی مار کر ہلاک کردیا ۔ رشتہ داروں کا کہنا کہ اگر ان کی بیٹی خاص فرقے سے ہوتی تو اسے انصاف مل جاتا رشتہ داروں کی مانگ ہے کہ ملزمان کو پھانسی دو یا پھر اس کا انکاو¿نٹر کرکے ان کی بیٹی کو انصا ف دلایا جائے ان کا کہنا ہے جب ویڈیو سے صاف ہے کہ ملزم نے ہی جرم کیا ہے تو اسے سزا فوراًکیوں نہیں دی جا سکتی ۔ ہم انصاف کے لئے15سال انتظار نہیں کرسکتے نکتا کے والد کا دعوہ ہے ملزم کی ماں پچھلے دو سال سے بیٹی پر تبدیلی مذہب کے لئے دباو¿ ڈال رہی تھی پولس کمشنر او پی سنگھ کے مطابق معاملہ نوٹس میں آنے کے بعد کرائم برانچ کی 10ٹیموں کو جلد سے جلد گرفتار کرنے کے احکامات دیئے تھے اور 5گھنٹے میں کرائم برانچ کی ٹیم فریدہ آباد سے پلول اور میوات میں تلاشی کاروائی میں ان دونوں ملزمان کو گھر سے دبوچ لیا ۔ توصیف کی عمر 21سال ہے وہ فزیو تھیراپی کا کورس کر رہا ہے جبکہ ریحان میوات کا باشندہ ہے پولس نے بتایا کہ وہ متاثرہ پریوار کے ساتھ ہے پولس کے پاس کافی ثبوت ہیں ۔ اور ملزمان کو قصور وار ٹھہروا کر سخت سزا دلوائی جائے گی ۔ کلی طور پر یہ معاملہ ایک اور جہاد کا معاملہ لگتا ہے ۔ (انل نریندر)

29 اکتوبر 2020

ریپبلک ٹی وی کے مالک کو دکھایا وانٹیڈ !

فرضی ٹی آر پی کیس میں ممبئی کرائم برانچ اینٹیلی جینس یونٹ نے اب تک 9لوگوں کو گرفتار کیا ہے ۔ ٹیم نے سنیچر کو پہلی مرتبہ ریپبلک ٹی وی چینل کے مالک اسے چلانے والے کو وانٹیڈ دکھا یا گیا ہے ۔ ساتھ میں ہندی نیوزنیشن اور مہا مووی چینل کے مالکوں کو بھی مطلوب دکھایا گیا ہے ۔ اس کیس میں فقط مراٹھی چینل اور باکس سینیما کے مالک پہلے ہی گرفتار ہوچکے ہیں یہ سارا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ٹیم نے اس کیس میں 20اکتوبر کو گرفتار ہوئے دو ملزمان رام جی ورما اور دنیش ویشو کرما کو ریمانڈ کے لئے قلعہ کورٹ میں پیش کیا ۔ اسی ریمانڈ میں ٹیم نے پانچ دوسرے ملزمان کو وانٹیڈ دکھایا حالانکہ ریپبلک نیوز اور نیوز نیشن اور مہا مووی چینل کے مالکوں کے خلاف ایسے لفظ قلم بند کئے گئے ہیں لیکن نام نہیں بتا یا گیا ہے ۔ ایک دوسرے کیس میں ریپبلک ٹی وی کے صحافیوں کو بلایا گیا جس میں ڈپٹی ایڈیٹر ،ساگریکا مترا،اور شیوانی گپتا، اور وغیر ہ سمیت ایڈیٹوریل نیوز کے انچارج بھی شامل ہیں۔ اب انٹیلی جینس یونٹ کی مطلوب افراد کی گرفتاری کی تیاری ہے ۔ تاکہ ٹی آر پی گھوٹالے کی اصلیت کا پتہ چل سکے۔ (انل نریندر)

اور اب ریڈیو اسکول !

ریڈیو ایک ایس ذریعہ ہے جس کے ذریعے آپ نے ابھی تک خبریں موسوقی اور ٹاک سو سنیں ہونگے لیکن اب اس کے ذریعے پڑھائی بھی ہورہی ہے دراصل لاک ڈاو¿ن میں بچے اسکول نہیں جا پائے تو دیش کے پہلے میڈیا ادارے اکاش وانی نے ملکر مہاراشٹر کے 17اضلاع میں ریڈیو اسکول شروع کیاہے اس کے ذریعہ4500 دیہا ت کے ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ بچے پڑھائی کر رہے ہیں ۔ ریڈیو اسکول کے دوران تین بچوں کو انٹرویو کے لئے چنا جاتا ہے جو نصاب کی بنیاد پر ڈیبیٹ کرتے ہیں ریڈیو پر بولنے کا موقع ملتاہے ۔ اس سے بچو میں پڑھائی کا جذبہ پید اہوتاہے ۔ والدین کو ان کا حوصلہ بڑھانے کا موقع ملا ہے اس سے بچوں کو ریڈیو پر سننے کی چاہ بھی بڑھنے لگی ہے ۔ ناگ پور کے ڈویژنل کمشنر ڈاکٹر سنجیو کمار نے بتایا کہ طلبہ اور والدین کے لئے یہ پہل کارگر ثابت ہوئی ہے ۔ منگل اور جمعہ کو آکاش وانی سے پروگرام نشر کرتے ہیں ۔ اس پہل کو شروع کرنے کے لئے سات ضلعوں می سروے کرایا گیا کہ کتنے والدین کے پاس موبائیل یا ریڈیوہیں ۔ تاکہ جو پروگرام نشر ہو وہ ریڈیو یا موبائل سے سن سکیں بچے فریکوینسی ایم ڈبلیو 512.8یا نیوز آن ایئر ایپ کے ذریعے ریڈیو اسکول سے جڑ تے ہیں آج عالم یہ ہے 3لاکھ سے زیادہ بچے ریڈیو اسکول سے تعلیم حاصل کررہے ہیں ڈاکٹر سنجیو کمار نے بتایا کہ واٹس ایپ کے ذریعے والدین کو ہفتے بھر کاسلیبس دے دیا جاتاہے ہر تین بچے ریڈیو سے جڑ تے ہیں ان سے ہوئی بات چیت کے ترمیم شدہ حصے یو ٹیوب پر ڈالے جاتے ہیں ۔کچھ ایسے گاو¿ں بھی ہیں جہاں والدین کے پاس موبائل نہیں ہے ایسے میں گرام پنچایت کی عمارت میں لاو¿ڈ اپیکر لگاکر طلبہ کو پڑھائی کی سیریز سنائی جاتی ہے ۔ ہم آکاش وانی ناگپور کو اس پہل کے لئے مبارک باد دینا چاہتے ہیں اب گاو¿ںکے بچے بھی پڑھائی سے محروم نہیں رہیں گے آکاش وانی کے دوسرے سینٹر بھی آنچل میں دیہاتی ناگپور کے آکاش وانی اسٹیشن کی طرح بچوں کے لئے پڑھائی کا پروگرام شروع کریں گے۔ (انل نریندر)

غرور میں ہے حکومت جنتا تبدیلی کے لئے تیار!

بہار اسمبلی کے چناو¿ کے مرحلے کی پہلی پولنگ سے تقریباً 24گھنٹے پہلے کانگریس صدر سونیا گاندھی نے وزیر اعلی نتیش کمار کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت پر تلخ نقطہ چینی کرتے ہوئے کہا کانگریس صدر نے انہوں نے کہاکہ اقتدار میں رہتے ہوئے موجودہ حکومت غرور میں ہے اور اپنے راستے سے بھٹک گئی ہے ان کے قول اور فعل میں فرق ہے ۔ مزدور لاچار ہیں اور نوجوان مایوس ہیں جنتا کانگریس اتحاد کے ساتھ ہے ۔ آج بہار میں کسان اور نوجوان ما یوسی کے عالم میں ہے ۔ معیشت کی خراب حالت لوگوں کی زندگی پر بھاری پڑ رہی ہے ۔بہار کی جنتا کی آواز کانگریس اتحاد کے ساتھ ہے اور بہار کے ہاتھوں میں ترقی کرنے کے لئے کافی کوالٹی اور ٹیلنٹ و طاقت ہے ۔ لیکن بے روز گاری ،لوگوں کی ہجرت ، اور افراط زر کا گھٹنا بھوک مری نے انہیں آنسو کے خون رلا دیئے ہیں ۔ جو لفظ نہیں کہے جاسکتے وہ آنسوں کے زبانی سمجھا جا سکتا ہے ۔ ڈر اور جرائم کی بنیا د پر سرکار نہیں چل سکتی ہے اور نہ ہی آگے بڑھ سکتی ہے سونیا گاندھی نے کہا دہلی اور بہار کی حکومتیں بندی کی سرکاریں اس لئے وہاں کے سرکار کے خلاف اب عوام اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور وہ تبدیلی کے لئے تیار ہیں انہوں نے کہا بہار کی عوام سے میری اپیل ہے کہ وہ مہا اتحاد کو کے امیدواروں کو ووٹ دیں اور نئے بہار کو تشکیل دیں ۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت چوراہے پر آگئی ہے۔ کیونکہ ناراضگی کو دہشت گردی یا ملک مخالف سرگرمیوں کے طور سے دیکھا جانے لگا ہے ۔ ایک اخبار میں شائع اور بعد میں کانگریس پارٹی کے ذریعے جاری کردہ ایک آرٹیکل میں انہوں نے الزام لگایا کہ ہندوستانی معیشت گہرے بحران میں ہے ۔ اور جمہوری نظام بھی نظام کے سبھی ستون نشانہ پر ہیں اظہار رائے کے بنیادی حقوق کو کچلنا اور دھمکی کے ذریعے سے منظم طریقے کو ختم کردیا گیاہے ۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا حکومت ہند نے ہر جگہ قومی سلامتی کو خطرہ کا بہانہ بناکر لوگوں کی توجہ اصل مسئلوں سے ہٹاتی ہے ۔ کانگریس صدر کے آرٹیکل پر تلخ رد عمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات پرکاش جاویڈکر نے کہا شریمتی گاندھی کا آرٹیکل پا کھنڈ ہے ۔ انہوں نے بیٹے کے وزیر اعظم نہ بن پانے پر سونیا گاندھی دکھی ہیں ۔ جنتا نے ان کے بیٹے کو پردھان منتری کی کرسی نہ دیکر یہ غریب مگر مضبوط اور ایک رحم دل لیڈر کو دی ہے ۔ اس کا دکھ ان کے آرٹیکل میں جھلکتا ہے انہوں نے دوسرے ٹویٹ میں کہا سپریم کورٹ کے شاہین باغ تحریک کو نامناسب ٹھہرانے کے بعد بھی کانگریس اس کی حمایت کر رہی ہے ۔ (انل نریندر)

28 اکتوبر 2020

ہماری سرکار آئی تو نتیش جیل میں ہونگے !

بہار چناو¿ میں عجیب و غریب نظارے دیکھنے کو مل رہے ہیںجہاں تک ہماری جانکاری ہے بہا ر اسمبلی چناو¿ میں این ڈی اے اتحاد میں جے ڈی یو اور ایل جی پی شامل ہیں ایل جی پی کے صدر چراغ پاسوان جے ڈی یو کو برابر نشانہ بنا رہے ہیں اور دوسری طرف یہ بھی کہہ رہے ہیں جن سیٹوں پر ایل جے پی امید وار نہ ہوں وہاں انے کے حمایتی بی جے پی کو ووٹ دیں انہوں نے ٹویٹ کیا جہاں پر ایل جی پی کے امیدوار چناو¿ لڑ رہے ہیں بہار بہار ی کو برقرار رکھنے کے لئے پارٹی کو ووٹ دیں آنے والی سرکار نتیش سے آزاد سرکار ہوگی ویسے ایک طرف چراغ پاسوان وزیر اعظم نریندر مودی کے قصیدے پڑھتے نہیں تھکتے وہیں دوسری طرف بھاجپا لیڈراور مرکزی وزیر داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر این ڈی اے اقتدار میں آئی تو نتیش کمار ہی ہمارے وزیر اعلیٰ ہونگے اس کے باوجود چراغ نے نتیش کے خلاف بولنے میں ساری حدیں پار کردی ہیں ۔ کیا اس کا مطلب نکالا جائے کی بی جی پی کی ہائی کمان کی رضا مندی سے ہی چراغ پاسوان نتیش کو ہی نشانہ بنا رہے ہیں ؟ کیا ایل جے پی بی جی پی کی بی ٹیم ہے ؟اور بی جی پی کی رضا مندی سے نتیش کو ہرانے کی سازش ہے؟ بی جی پی شاید یہ چاہتی ہے کہ این ڈی اے کی سرکار بنے اور اگلا وزیر اعلیٰ بی جی پی سے ہو نتیش کی جے ڈی یو کو اتنی کم سیٹیں ملیں کہ وہ بولنے کی پوزیشن میں نہ رہیں پاسوان نے ساری حدیں پار کرتے ہوئے کہا ہماری سرکار آئی تو نتیش اور ان کے وفا دار آفسر جیل میں ہونگے بکسر ریلی میں انہوں نے کہا جن لوگوں نے کرپشن کیا ہے ان کا کیا کرنا چاہئے ؟عوام سے وعدہ کرتا ہوں ایک منصوبہ میں ہوئے گھوٹالے کی جانچ ہوگی چاہے اس میں کوئی افسر ہو یا خود وزیر اعلیٰ سیدھے جیل بھےیجا جائے گا ۔ ویسے بتا دیں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی کابینہ کے وزراءکا اساسہ پچھلے پانچ سال میں290فیصد بڑھا ہے ۔ ایسے ہی ایک وزیر برج کشور گھوٹالے کے معاملے میں جیل میں بند ہے ان کے اساسے میں 264فیصدی کا اضافہ ہوا ہے ۔ زیادہ تر نے اس پیسے کی سرمایہ کاری شیر اور برانڈ کے سیئر خریدنے میں لگایاہے بینک بیلنس کے معاملے میں زیادہ تر وزراءسے امیر ان کی بیویاں ہیں ۔ جے ڈی یو پردیش صدر نرائن سنگھ نے کہا کہ چراغ اور تیجسوی آپس میں ملے ہوئے ہیں دونون سوچی سمجھی سازش کے ساتھ چل رہے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف بولنے سے بچ رہے ہیں ۔ (انل نریندر)

سیاسی وعدے ہیں ،اور وعدوں کا کیا۔۔!

کورونا دور میں ہورہے بہار اسمبلی چناو¿ میں کورونا نے بھی چناو¿مینوفیسٹو میں بھی جگہ بنا لی ہے بھاجپا نے چناو¿ کے لئے چناو¿منچو ر میں متعدد وعدے کیئے ہیں ۔جن میں پہلا وعدیٰ یہ ہے کہ چناو¿جیتنے کے بعد بہار کے عوام کو کورونا کی فری ویکسین دستیاب کرائی جائے گی ۔اور ساتھ ہی 19لاکھ لوگوں کو روز گار دینے کا بھی وعدہ بھی شامل ہے ۔ پٹنہ میں پارٹی کا مینو فیسٹو جسے بی جی پی نے ویزن ڈوکومینٹ کہا ہے کو جاری کرتے ہوئے مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے کہا یہ ہمارے چناو¿ منچور کا سب سے پہلا وعدہ ہے ۔ وعدوں کے دور میں تعجب نہیں کی کوئی پارٹی یہ وعدہ بھی کرے کی میری سرکار بنی تو ریاست میں کورونا کو گھسنے نہیں دینگیں ہمیں جتاو¿گے تو کورونا کا ٹیکا مفت ملے گا ایک نہیں تین ریا ستی سرکاروں نے یہی رٹ لگائی ہے ۔ وعدوں کا ذرا حساب کتاب دیکھیں ۔ بہار میں آبادی 12کروڑ ہے ایک آئینی چنتن کے مطابق ٹیکا 2بار لگانا ہوگا سستا ہوگا اور اس کی پروڈیکشن قیمت 1ہزار روپئے آئے گی اس لئے ریاست میں اس ٹیکے کے مفت تقسیم کے لئے 24ہزار کروڑ روپئے چاہئے جب کہ ریاست کا کل بجٹ 2.17لاکھ کروڑ ہے پھر برابری کے بنیادی حق پر پورے دیش کو بھی یہ ٹیکا دینا ہوگا۔ اگر 2024کے عام چناو¿ میں عوام کی ناراضگی سے بچنا ہے تو کل خرچ 2.50لاکھ کروڑ روپئے کا ہوگا کیا وعدہ کرنے والے مرکزی وزراءیا ریاستی حکومتوں نے یہ سوچا بھی ہے ؟ ایک پارٹی کو وعدہ ہے کہ اس کی سرکار اقتدار میں آئی تو وہ 10لاکھ نوکریاںدے گی ایسی ہی دوسری پارٹی نے سرکار بننے پر 19لاکھ روز گار دینے کا وعدہ کیا ہے ۔ اسی ریاست میں ہر سال 25لاکھ نئے نوجوان روز گار کے لئے نوکری مارکیٹ میں ٹھوکریں کھا رہے ہیں مان لیجئے کسی معجزے سے یہ پارٹی سرکار بننے پر اپنا وعدہ پورا بھی کریں اس لئے 5سال میں کم سے کم 3کروڑنوجوان ہونگے ایک اعداد شمار کے مطابق آج تک کی تاریخ میں پورے دیش میں ایک سال میں سب سے زیادہ فاضل نوکریاں 10لاکھ سال 2009اور 2010 میں ملی تھیں ہر سال تقریبا ً1.57کروڑ نئے نوجوان روزگار کی قطار میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ لاک ڈاو¿ن میں اب منظم اور غیر منظم سیکٹر میں 2کروڑ اور 10کروڑ لوگوں کی دیش بھر میں نوکریاں گئی ہیں ۔ انہیں ابھی بھی کوئی کام نہیں ملا کرنسی فنڈکی تازہ رپورٹ ہے بھار ت میں آگے بے روز گاری اور بڑھے گی جنتا کی سمجھ نہیں ہے لہذاانہیں وعدہ وفا نہ کرنے میں ملال نہیں ہوتا اہم سوال یہ ہے کہ جب کورونا کے ٹیکے کی تقسیم ایک آئینی کام کے ساتھ ہوتی ہے تو کسی ایک مخصوص ریاست کو کیسے ترجیح دی جا سکتی ہے ۔ مہا راشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے بہار میں کوڈ 19کا ٹیکا مفت دینے کے بھاجپا کے چناوی وعدہ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ کیا دوسری ریاستوں کے لوگ بنگلہ دیش یا قزاخستان سے آئے ہیں ؟ادھر ٹیکا کب آئے گا اس کا کسی کو پتہ نہیں؟تین مہینے لگ سکتے ہیں ابھی تو تجربہ ہی چل رہے ہیں خود وزیر اعظم نریندر مودی بار بار ٹیکے کی تیاری اور تقسیم کے سلسلے میں اندیشے ظاہر کررہے ہیں یہ ایک ایسا اشو ہے جس کو سیاست سے اور یاستی چناو¿ سے الگ رکھا جان چاہئیے ۔ بھاجپا نے کورونا کے ٹیکے کو چناوی اشو بنا کر غیر ضروری تنازع کھڑا کردیا ہے ۔ (انل نریندر)

27 اکتوبر 2020

چناو ¿ میں کسوٹی پر ہوگی راہل کی ٹیم!

کانگریس صدر کے عہدے پر راہل گاندھی کی بحالی میںآنے والی اڑچنوں کو دور کرنے میں لگی ان کی ٹیم کے لئے بہار کا چناو¿ ایک بڑی چنوتی بن گیا ہے ۔بہار کی چناوی سیاست کو لیکر مہم چلانے کی پوری ذمہ داری ٹیم راہل کے ممبروں پر ہے ۔کانگریس کے پرانے لیڈروں کا اس میں ظاہری یا درپردہ کوئی رول دور دور تک دکھائی نہیں دے رہا ہے اکیلے ٹیم راہل کی سیاسی صلاحیت کے لئے بڑی چنوتی ہے ۔بہار چناو¿ کے انتظام کی پوری ذمہ داری کانگریس کے سکریٹری جنرل اور میڈیا چیف رندیپ سرجیوالا کے ہاتھوں میں ہے ۔اور وہ سنکٹ موچک کی شکل میں ابھرے ہیں ۔اس کے علاوہ وہ چناو¿ انتظام اور تال میل کمیٹی کے چئیرمین ہیں وہیں کنوینر موہن پرکاش بھی راہل کے پسندیدہ لوگوں میں شامل ہیں ۔وہیں ڈاکٹر سنجے کمار کو ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے ٹکٹ بٹوارے سے لیکر صوبہ کے انچارج اور میڈیا تال میل کمیٹی کے چیف بنائے گئے پون کھیڑا کا نام بھی راہل گاندھی کے قریبی مانے جاتے ہیں ۔کل ملا کر بہار چناو¿ کے نتائج کی بنیاد پر ٹیم راہل کے ممبران کسوٹی پر ہیں ۔ (انل نریندر)

ہم دیش کے نہیں بی جے پی کے مخالف ہیں !

پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے ترنگہ پر متنازعہ بیان دے کر دیش کی سیاست میں ابال پیدا کر دیا ہے ۔بی جے پی نیتا مفتی کے بیان سے کافی ناراض ہو گئے ہیں ۔بی جے پی نے محبوبہ مفتی کے بیانوں کو دیش دشمن بتایا ہے ۔سنیچر کو بی جے پی سینئیر لیڈر اور مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے کہا بھارت کے ترنگہ کی جس طرح سے توہین کی گئی اس کی ہم مذمت کرتے ہیں دیش کا جھنڈہ ہے جموں کشمیر کے بھارت کا ایک اٹوٹ حصہ ہے بتا دیں 370اب بحال نہیں ہوگا ۔ایک دیش دو نشان دو وزیراعظم اب نہیں چلیں گے یہاں بھی جھنڈہ ہوگا وہاں بھی یہی جھنڈہ ہوگا ۔محبوبہ مفتی نے جمعہ کو کہا تھا کہ جب تک جموں کشمیر کو لیکر پچھلے سال 5اگست کو آئین میں جو تبدیلیاں کی گئی ہیں ان کو واپس نہیں لیا جاتا تب تک انہیں چناو¿ لڑنے یا ترنگا اٹھانے میں کوئی دلچشپی نہیں ہے ۔آرٹیکل 370کی زیادہ تر نکات کو پچھلے برس اگست میں ختم کئے جانے کے بعد سے محبوبہ حراست میں تھیں ۔اپنی خاندانی سیاست کی بالادستی ختم ہونے پر پیپل الائنس فار گپکار لبریشن کے جھنڈے تلے متحد ہوئی کئی سیاسی پارٹیوں نے کشمیریوں کے جذبات کو بھلانے کے لئے جموں کشمیر کے پرانے جھنڈے کو ہی اپنا نشانہ بنایا ہے ۔اسی کے ساتھ نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو پیپل الائنس کا چئیرمین محبوبہ مفتی کو نائب صدر چنا گیا ہے ۔جموں کشمیر کی پانچ اگست 2019سے پہلے کی پوزیشن پر وائٹ پیپر جاری کرنے سے پہلے سری نگر میں 17نومبر کو پہلی بڑی ریلی کی جائے گی ۔ترنگہ پر متنازعہ بیان کے بعد ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا پیپل الائنس ملک مخالف نہیں بھاجپا مخالف ہے ۔وہ مذہب کے نام پر ہمیں بانٹنے کی کوشش کررہی ہے اور سرکار کی یہ کوشش کامیاب نہیں ہوگی ۔یہ مذہبی لڑائی نہیں ہے بلکہ ہماری پہچان کی لڑائی ہے اس کے لئے ہم ایک ساتھ کھڑے ہیں ۔پی جی ڈی کے ایک دیش سے متعلق مخالف اسٹیج ہے میں انہیں بتانا چاہتا ہوں یہ سچ نہیں ہے ۔اس میں کوئی شبہہ نہیں ہے کہ یہ بی جے پی مخالف ہے لیکن ملک مخالف نہیں ہے ۔محبوبہ مفتی کے ورکروں نے ہمارا جھنڈا چھینا والے بیان کے خلاف پولیس کے ریٹائرڈ اے سی پی نے سینٹرل دہلی کے آئی پی اسٹیج تھانہ میں شکایت درج کرائی ہے اس میں محبوبہ مفتی کے خلاف ملک سے بغاوت اور غیر قانونی سرگرمی روک تھام ایکٹ کے تحت کئی دفعات میں مقدمات درج کرنے کی مانگ کی ہے ۔ (انل نریندر)

85%امکان جوبائیڈن ہی صدر بنیں گے!

امریکہ میں صدارتی چناو¿ بحث کو 6.30کروڑ لوگوں نے دیکھا حالانکہ یہ تعداد رپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں کے درمیان ہوئی ڈبیٹ سے ایک کروڑ کم ہے رپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جوبائیڈن کے درمیان بحث میں تلخ نوک جھوک ہوئی امریکی صدر ٹرمپ نے بحث کے دوران ایک بارپھر بھارت پر نکتہ چینی جو کی ہے وہ ناصرف تکلیف دہ بلکہ اصلاً سیاسی اغراض پر مبنی ہے ان کاکہنا ہے چین کو دیکھو کتنا گندہ ہے روس کو دیکھو ،بھارت کو دیکھو یہ بہت گندے ہیں ۔ہوا گندی ہے بیشک اس میں بھار ت کے ساتھ روس اور چین کوبھی شامل کیا ہے لیکن ان کا بھارت پر خاص طور سے زور دینا بہت سے لوگوں کو ناگوار گزرا ہے تعجب نہیں اس سے پہلے ٹرمپ بھارت کو ٹیرف کنگ بھی بتا چکے ہیں وہاں کی سیاست میں ان کے یہ بیان خلاف جا سکتے ہیں ۔امریکہ میں صدارتی چناو¿ کے لئے سیدھی بحث کایہ آخری دور تھا اس میں بھارت کا نام لے کر تنقید کرنا اور ماحولیات سے متعلق اپنی پالیسیوں کا بے شرمی سے بچاو¿ کرنا مناسب ہی نہیں بلکہ شرمناک بھی ہے ۔فائنل ووٹنگ تین نومبر کوہونی ہے اب تک امریکہ کے زیادہ تر پول میں جو بائیڈن ہی بڑھت بنائے ہوئے ہیں۔538پول ایجنسیوں نے پیشگوئی کی ہے کہ جوبائیڈن کے صدر بننے کے امکانات 80فیصد ہیں ۔2016میں یہ ایک واحد ایجنسی تھی جس نے اسی طرح کے تجزیہ کی بنیاد پر ڈونالڈ ٹرمپ کے صدر بننے کی پیش گوئی کی تھی ساتھ ہی 438سیٹوں والے ہاو¿س آف نمائندگان (نچلا ایوان)اور سینٹ (ایوان بالا) کی خالی ہوئی 35سیٹوں کے لئے ووٹنگ ہو رہی ہے ۔اس مہا پول کے مطابق 76فیصد اس بات کا امکان ہے کہ 100سیٹوں والی سینٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے 52ایم پی ہوں گے ۔اگر بائیڈن کامیاب ہوئے تو اور ڈیموکریٹک پارٹی دونوں ایوانوں میںاکثریت حاصل کرتی ہے تو ایسا گراں سال میں پہلی بار ہوگا ۔اگر ٹرمپ کسی طرح واپسی کرتے ہیں اور دونوں ایوانوں میں اکثریت نہیں ملتی تو سینٹ کی منظوری کے بغیر چاہ کر بھی کچھ نہیں کرپائیں گے اور سینٹ کی منظوری کے بغیر صدر اپنی ٹیم بھی نہیں چن سکتا ۔اور کسی دوسرے دیس سے معاہدہ یا جنگ بھی نہیں کر سکتا بل کو پاس کرانے میں پسینے چھوٹ سکتے ہیں ۔اگر 8نومبر تک ساتے ووٹوں کی گنتی اور اس سے جڑے تنازعہ نہیں سلجھتے تو ممکن ہے بیس جنوری تک صدر کا اعلان نا ہو پائے اگر ٹرمپ بائیڈن کو الیکٹرول کا لج ووٹ کے برابر یا آس پاس رہتے ہیں تو ایسی صورت میں اس ووٹنگ کودوبارہ سے کرانے کے لئے ٹرمپ کورٹ جا سکتے ہیں ایسا ہوا تو آئینی سسٹم کے تحت سنیٹ کی اسپیکر نینسی پیلوسی صدر کا عہدہ سنبھالیں گی۔ (انل نریندر)

25 اکتوبر 2020

ملزم کا اقبالیہ بیان ٹی وی پر نہیں دکھا سکتے!

دہلی ہائی کورٹ نے پیر کے روز کہا ہے کہ ملزم کا اقبالیہ بیان نیوز چینل ناظرین کو نہیں دکھا سکتے دہلی دنگوں کے ایک ملزم کے بیانات کو نیوز چینل پر دکھانے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے ہائی کورٹ نے نیوز چینل سے جواب طلب کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ کسی صحافی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی ڈائری لے اور اسے چینل پر چلا دے یا اخبار میں شائع کردے عدالت نے اس پرائیویٹ نیوز چینل کو اس بارے میں حلف نامہ داخل کرنے کو کہا ہے اوراس میں وہ خبر سے متعلق دستاویزوں کے بارے میں لکھے اور اس کے ذرائع بھی بتائے کہ کس بنیا د پر انہوں نے یہ خبر چلائی دراصل یہ معاملہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ایک طالب علم کو لیکر ہے جو دہلی دنگوں میں ملزم ہے جسٹس ویو باکھرو کی بنچ نے میڈیا ہاو¿س کی اس درخواست کو خارج کر دیا جس میںکہاگیا تھا صحافی کے نام کا خلاصہ نا کیا جائے اس سے اس کے اور اس کے خاندان کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے ۔معاملے پر اگلی سماعت 23اکتوبر کو طے کی گئی تھی اس روز معاملے میں کیا پیش رفت ہوئی ہے اس کے بارے میں تو پتہ نہیں چلا لیکن جامعہ ملیہ کے ایک طالب علم آصف طٰحٰی اقبال کی عرضی پر عدالت سماعت کررہی ہے اس نے الزام لگایا ہے پولیس نے غیر ذمہ دارانہ رویہ اپناتے ہوئے اس کے اقبالیہ بیان کو لیک کیا اور میڈیا میں چلوایا جبکہ پولیس کا کہنا ان کے محکمہ سے ایسا کوئی بیان نہیں بھیجا گیا ملزم کے اقبالیہ بیانات پر میڈیا میں آنے کے بعد ہائی کورٹ نے اسے بہت سنجیدگی سے لیا ہے اور کہا جانچ میں چیزیں لیک ہونے لگیں تو سازش کی پرتیں کھلنا ممکن نہیں ہے۔ (انل نریندر)

کورونا نے بچیوں کو جسم فروشی میں دھکیلا

کورونا وبا کے دوران اسکول بند ہونے کے بعد پچھلے سات مہینے میں لڑکیوں کی اب گنتی یاد نہیں ہے ۔ان کے ساتھ کتنے مرد سوئے ہیں اور ان میں سے کتنوں نے کنڈوم کا استمال کیا لیکن انہیں یہ ضرور یا د ہے ساتھ سونے کے عوض جب انہوں نے پیسہ مانگے تو انہیں کئی بار محض ایک ڈالر ملا ۔تو کبھی انہیں پیٹا گیا یہ بچیاں وبا کے سبب خاندان کا روزی چھن جانے سے بھائی بہنوں کا پیٹ بھرنے کے لئے اس دلدل میں اترنے کو مجبور ہوئیں کینیا کی راجدھانی نروبی کی ایک عمارت نے اپنے چھوٹے سے کمرے کے بستر پر بیٹھی ان لڑکیوں کے لئے کوروناانفیکشن اتنا بڑا ڈر نہیں ہے جتنا بھوک سے سب سے بڑا خطرہ ہے ۔کمرے میں بیٹھی 16-17-18سال کی لڑکیوں میں سب سے چھوٹی کہتی ہے آج کل اگر آپ کو 5ڈالر کمانے کو بھی مل جائے تو وہ سونے کے برابر ہے تینوں دوست اپنے کمرے کا کرایہ20ڈالرآپس میں شئیر کرکے دیتی ہیں ۔اس وبا نے مزدوروں کی امیدوں پرپانی پھیر دیا ہے ۔2000کے بعد دنیا پہلی مرتبہ دنیا بھر میں بچہ مزدوری میں اضافہ ہواہے اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے لاکھوں کی تعداد میں بچے خطرے والے کاموں میں جھونک دئیے جائیں گے ۔اور اب اسکولوں کے بند ہونے کے سبب حالت اور بگڑے گی ۔ایک سابق جسم فروشہ ملازم میری مگیر نگہنہ نے بتایا کہ اس کے پرانے راستے پر چلنے والی لڑکیوں کو بچانے کے لئے نائٹ نرس واچ نے ایک مہم چلائی ہے کینیا میں مارچ سے اسکول بند ہونے سے نیروبی اور آس پاس کے علاقوں سے قریب ایک ہزار اسکول کے طالبات جنس فروش ورکر بن گئی ہیں ۔ان میں سے زیادہ تر ماں باپ کے گھر کا خرچ چلانے میں مدد کر رہی ہیں یہ سب سے بری بات ہے یہ لوگ ایک مقبول ڈانس بک کے ساتھ پہلے کام کرتی تھیں اور پارٹ تائم کے لئے انہیںپیسہ بھی ملتے تھے ۔لیکن لاک ڈاو¿ ن کی وجہ سے نیروبی کی سڑکیں کھالی ہو گئیں اور ان کی ڈانس بار میں آمدنی بند ہو گئی ۔بہت سے لڑکیاں اس کمائی سے کچھ پیسہ اپنی ماں کو بھیجتی تھیں جس وجہ سے اس کے بھائی بہنوں کو کھانا کھلا پاتی ہیں بہرحال کورونا کی مار سے ساری دنیا متاثر ہے ۔یہ مسئلہ صرف کینیا کا ہی نہیں بلکہ دوسرے دیشوں میں بھی ہے ۔یہ تو ہمیں صرف نیروبی کی حالت پتہ چلی ہے ۔ (انل نریندر)

کہیں بھاری نا پڑ جائے یہ لاپرواہی

جب بہار اسمبلی چناو¿ اور کچھ اسمبلیوں میں ضمنی چناو¿ اور پارلیمانی چناو¿کااعلان کیا گیا تب کورونا انفیکشن کے پیش نظر بہت سے لوگوں نے اس پر اختلاف ظاہر کیا مگر چناو¿ کمیشن نے یقین دلایا تھا چناو¿ کمپین کے دوران اس وائرس سے بچاو¿ کے لئے سبھی احتیاط برتی جائے گی ۔پولنگ مراکز پر مناسب دوری اور ریلیوں میں وہ سبھی احتیاط کی تعمیل کی جائے گی جو ضروری ہے اس انفیکشن کو آگے روکنے کے لئے جس بات کا ڈر تھا وہی ہو رہا ہے بہار اسمبلی چناو¿ مہم کے دوران نا تو سماجی دوری کی تعمیل ہو رہی ہے اور نا ہی کسی طرح کی بھیڑ پر کنٹرو ل ہو رہا ہے پولنگ مرکز پر مناسب دوری رکھنے کی تعمیل ہونی چاہیے جیسے ہاتھ دھونے سینیٹائزر وغیرہ کا انتظام ہوگا ریلیوںمیں سبھی قاعدے و قواعد کی دھجیاں اڑتی نظرآرہی ہیں ۔امیدوار بغیر ناک و منہ ڈھکے کمپین کرتے جار ہے ہیں ان کے ساتھ چلتی ورکروں کی بھیڑ ایسی کوتاہی کرتی دکھائی دے رہی ہے اسی کا نتیجہ ہے وہاں کے تین بڑے نیتا کورونا سے متاثر ہو گئے ہیں وہ سبھی اسپتال میں داخل ہیں ۔کورونا کے حالات بدتر نا ہو جائیں چناو¿ کمیشن نے سبھی سیاسی پارٹیوں سے چناو¿ مہم کے دوران کورونا گائڈ لائنس کی تعمیل کرنے کو کہا ہے ۔چناو¿ کمیشن نے کووڈ 19-سے وابسطہ احتیاط کو موڈل ضابطہ کا حصہ بنایا تھا ۔کئی واقعی کووڈ دور میں 79کروڑ ووٹ والے بہار میں چناو¿ کرانا آسان نہیں ہے چناو¿ کمیشن نے ریلیوں کی منظوری تو دی ہے لیکن سیاسی پارٹیاں نا تو جسمانی دوری کا خیال رکھ رہی ہیں اور نا ہی ماسک کا ۔جنتا دل یونائٹڈ کے ایک نیتا اسٹیج پر بھاری بھیڑ کے چلتے وہ ٹوٹ گیا ۔جس سے دیکھتے دیکھتے کووڈ پروٹوکول کی دھجیاں اڑ گئیں ۔ایسا ہی نظارہ آر جے ڈی لیڈر تجسوی یادو نائب وزیراعلیٰ سوشیل مودی کی ریلیوں میں دکھائی دیا ۔بیشک دیش میں انفیکشن کے معاملے ضرور کم ہوئے ہیں لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے اب بھی ہمارے یہاں روزانہ پچاس ہزار کے قریب نئے معاملے سامنے آرہے ہیں ۔ایسے میں ذرا سی لاپرواہی بڑی آبادی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے ۔اس لئے مناسب دوری رکھنے جیسے قواعد کو نظرا نداز کرنا نہیں چاہیے ۔کورونا کو پھیلنے سے متعلق اقدام کو آزمانے کے معاملے میں بہار میں پہلے ہی کافی لاپرواہی برتی جاچکی ہے ۔ریلییوں میں بھیڑ کے ذریعے طاقت کے مظاہرے کا کریز کو چھوڑ کر جب تک یہ نظریہ سیاسی پارٹیوں میں نہیں آئے گا چناو¿ کمیشن کی ہدایت کا شاید ہی ان پر کوئی اثر پڑے ۔ (انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...