Translater

Bhatta Parsaul لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Bhatta Parsaul لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

13 جولائی 2011

راہل کی پد یاترا رنگ لا رہی ہے بسپا میں بوکھلاہٹ



Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 13th July 2011
انل نریندر
راہل گاندھی کی کسان سندیش یاترا ہر لحاظ سے کامیاب رہی۔ اپوزیشن پارٹیوں میں بھی اس یاترا کے اثر سے پیدا صورتحال پر غور و خوض کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ راہل گاندھی نے پد یاترا کرکے سبھی پارٹیوں کے لیڈروں کو دکھا دیا ہے کہ وہ جنتا کے درمیان جاکر ان کا دکھ درد بانٹنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ کسی اور پارٹی کے کسی بھی لیڈر نے حال ہی میں ایسی پد یاترا نہیں کی؟ اپنے گھروں کے ایئر کنڈیشن کمروں میں بیٹھ کر سیاست کرنے والے لیڈروں کو اس نوجوان سیکٹریٹری جنرل نے یہ دکھا دیا کہ اگر آپ جنتا کے پاس جائیں گے تو وہ آپ کو سر آنکھوں پر بٹھا لے گی۔ کانگریس پارٹی کو اس پد یاترا کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ جو ورکر پچھلے دو دہائی سے گھربیٹھے ہوئے تھے وہ اب باہر سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ پچھلی دو دہائی سے زیادہ ، جب سے پہلی بار کانگریس نے ملائم سنگھ یادو نے اتحاد کیا تھا ،تب سے کانگریس ورکر مایوس ہوکر گھر بیٹھ گیا تھا۔ اب اتنے برسوں بعد اسے تھوڑی امید کی کرن ضرور نظر آئی ہے اور وہ باہر سڑکوں پر آگیا ہے۔ اگر راہل نے ایسی ہی پد یاترا مشرقی اترپردیش و دیگر حصوں میں بھی کرلی تو کانگریس کو اس کا فائدہ ہوسکتا ہے۔اتر پردیش کی بڑی اپوزیشن پارٹی راہل کی پد یاترا کا سیاسی فال آؤٹ کا جائزہ کرنے میں لگ گئی ہیں۔ چاہے بسپا ہو یا سپا یا پھر بھاجپا۔ سبھی پارٹیاں پھر سے اپنی حکمت عملی بنانے پر کچھ حد تک مجبور ہوئی ہیں۔ کانگریس کا اہم مقابلہ بسپا سے ہونے والا ہے۔
بہن جی نے بسپا تنظیم کی چولیں کستے ہوئے حکمت عملی میں ردو بدل کی ہے۔ پارٹی کی حکمت عملی میں سب سے زیادہ سیٹ جیتنے کی دوڑ میں سپا کو مات دینے کے ساتھ کانگریس کے عروج کو روکنے کیلئے بھی خاص توجہ دی جائے گی۔ مایاوتی نے پارٹی تنظیم و عہدیداران کی مسلسل میٹنگوں کے سلسلے میں ایتوار کو پارٹی کے زونل کوآرڈینیٹروں کی میٹنگ میں کئی اہم فیصلے لئے۔ پارٹی تنظیم کو ریاستی حکومت کے بے شمار کارناموں کی تعریفیں اور پبلسٹی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ پارٹی الگ الگ ذاتوں کے درمیان نئے سرے سے دبدبہ بنانے کی نئی کوشش کرے گی۔
سرو سماج کے لوگوں کو اور زیادہ جوڑنے اور مینڈیڈ بڑھانے کے لئے پارٹی کے سبھی ذمہ دار لوگوں کو ہدایتیں بھی دے دی گئی ہیں۔ اب بسپا کے ایجنڈے نے پردیش کے پسماندہ علاقوں مشرقی اترپردیش و بندیلکھنڈ اوپر آگیا ہے۔مانا جارہا ہے کہ راہل گاندھی کی پدیاترا و کسان پنچایب حکمت عملی کے اگلے حصے کے طور پر یہی دونوں علاقے ہیں۔ لہٰذا بسپا ان علاقوں میں اپنے سرو سماج کے تجزیوں کو پہلے سے ہی درست کرلینا چاہتی ہے۔ ایتوار کو مایاوتی نے جو ہدایات جاری کیں اس سے صاف نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اترپردیش میں جلد چناؤ ہوسکتا ہے۔ بہن جی نے سبھی عہدیداران کو صاف کہہ دیا ہے کہ وہ تیار رہیں، چناؤ کبھی بھی ہوسکتا ہے۔ وزیر اعلی کا کہنا ہے کہ کانگریس کو نشانے پر رکھیں۔ بدعنوانی، مہنگائی کے مسئلے کو لیکر اسے گھیریں۔ باخبر ذرائع کی مانیں تو تین گھنٹے تک چلی اس میٹنگ میں مایاوتی نے یہ تسلیم کیا کہ پارٹی کی ساکھ خراب ہوئی ہے۔ حالانکہ اس کیلئے انہوں نے باہر سے پارٹی میں آئے لوگوں کو ہی ذمہ دار مانا ہے۔ انہوں نے عہدیداران سے کہا کہ وہ جنتا کے درمیان جاکر یہ پروپیگنڈہ کریں کہ جو لوگ سرکار کی ساکھ خراب کررہے ہیں وہ بنیادی طور پر بسپا ئی نہیں ہیں۔ راہل گاندھی کی پد یاترا نے بسپا کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ کانگریس کی حکمت عملی یہ ہی ہے کہ 2012ء کے اسمبلی چناؤ میں مقابلہ بسپا اور کانگریس کے درمیان ہوگا، اور کانگریس کو اجیت سنگھ کی حمایت تو مل ہی جائے گی، ملائم سنگھ یادو سے بھی کوئی نہ کوئی سیٹنگ ہو ہی جائے گی۔
Tags: Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Bhatta Parsaul, Congress, Daily Pratap, Greater Noida, Mayawati, Rahul Gandhi, Uttar Pradesh, Vir Arjun

09 جولائی 2011

کیا راہل کی پدیاتراسے کانگریس کو یوپی میں فائدہ ہوگا؟


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 9th July 2011
انل نریندر
 ماننا پڑے گا کے راہل گاندھی اپنے یوپی مشن 2012ء پر پوری طرح اتر چکے ہیں۔ وہ دن رات ایک کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ بھٹہ پارسول سے راہل گاندھی کی کسان سندیش یاترا رنگ لانے لگی ہے۔ وہ گاؤں گاؤں پیدل یاترا کررہے ہیں۔ یوپی میں بگڑتے امن و قانون نظم اور ترقی کے مسئلے کے مقابلے مایا سرکار کی زمین تحویل پالیسی پر زبردست چوٹ کرکانگریس نے یوپی میں ایک طرح سے ہلہّ بول دیا ہے۔ راہل گاندھی نے دہلی سے ملحق گریٹر نوئیڈا کے بھٹہ پارسول گاؤں سے اپنی کسان سندیش یاترا شروع کی ہے جو علی گڑھ جا پہنچی ہے۔ راہل کے مطابق اس پد یاترا کا مقصد بھٹہ سے آگرہ اور علیگڑھ تک ہورہے زمین ایکوائر اور اس سے پیدا ہورہی پریشانیوں کو سمجھنا اور متاثرہ لوگوں کے نظریات جاننا ہے۔ بھٹہ پارسول وہی گاؤں ہے جہاں کچھ دن پہلے اپنی زمین کو تحویل میں لئے جانے کی مخالفت کررہے کسانوں کی مشتعل بھیڑ پر پولیس نے گولیاں چلائی تھیں جس میں چار لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔ اسی واقعہ کے بعد راہل گاندھی بھی وہاں جاکر دھرنے پر بیٹھے تھے اور انہوں نے گرفتاری بھی دی تھی۔ بھارت میں بہت دنوں کے بعد کسی لیڈر نے پد یاترا کی ہے۔ آج کل تو نیتا لوگ ہیلی کاپٹروں یا کاروں کے قافلے کے ساتھ محض رسم ادائیگی زیادہ کرتے ہیں۔ ایسے میں راہل کا پد یاترا کرتے ہوئے گاؤں میں جانا اور کسانوں کے ساتھ دال روٹی کھانا را ت میں پلنگ پر ہی سونا ، ان کے مسائل کو سننا ، نہ صرف اترپردیش کے لئے ہیں ایک سیاسی واقعہ ہے بلکہ پورے دیش میں اس کا ایک سندیش جارہا ہے۔ یوں تو پدیاترا کی روایت نئی نہیں ہے۔ سب سے پہلے اس کی بنیاد مہاتما گاندھی نے رکھی تھی، ان کے بعد ونوبابھاوے ، بابا آمٹے، سابق وزیر اعظم چندر شیکھر اور اداکار سے نیتا بنے سنیل دت کی طویل پد یاترائیں بھی کافی سرخیوں میں رہی ہیں۔ اب دہائیوں کے بعد راہل گاندھی کی شکل میں کوئی سیاستداں کسانوں کے سوالوں کو لیکر پد یاترا پر نکلے ہیں۔ کانگریس کے شہزادے راہل دھول ، دھوپ، بارش اور مٹی اور گرمی کے درمیان گاؤں کی گلیوں کی خاک چھان رہے ہیں تو دوسری طرف کانگریسی انہیں مل رہے ہیں۔کانگریس عوامی حمایت کے بلبوتے پر اقتدار کی واپسی کا سپنا دیکھنے لگی ہے۔ یہاں تک کہ 9 جولائی یعنی آج علیگڑھ کے نمائش میدان میں کسان مہا پنچایت کے لئے تیاریاں پوری ہوچکی ہیں۔ یووراج کے کرشمے کو دیکھنے کیلئے وہاں لوگ دور دور سے پہنچ رہے ہیں۔ کانگریسیوں کو لگنے لگا ہے کہ اگلے سال ہونے والے یوپی اسمبلی چناؤ میں پارٹی حکمراں بہوجن سماج پارٹی کو سیدھے ٹکر دینے کی پوزیشن میں آگئی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ جنتا سے یہ براہ راست رابطہ رنگ لائے گا اور 21 سال بعد اترپردیش کے اقتدار میں واپسی ممکن ہو سکے گی۔ یہاں تک کہ علیگڑھ میں راہل کی گرفتاری کے امکان سے بھی کانگریسی کافی خوش ہیں۔ پارٹی کے لیڈروں کا خیال ہے کہ اگر مایاوتی راہل کو گرفتار کرتی ہیں یا کوشش کرتی ہیں تو ان کے عہد کیلئے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی۔ حالانکہ انتظامیہ کی طرف سے آرہی خبروں کے مطابق دفعہ144 نافذ ہونے کے باوجود راہل کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔
کسانوں کو انصاف دلانے کے مقصد سے راہل کی پد یاترا سے وزیر اعلی مایاوتی بے چین ضرور ہوں گی۔ ادھر عدالتی فیصلوں نے بہن جی کی سرکار کی ناک میں دم کررکھا ہے۔ ادھر راہل کو مل رہی عوامی حمایت بہن جی کے لئے تشویش کا موضوع ضرور بن گئی ہیں۔ بیشک بہن جی اور ان کے حکمت عملی ساز یہ دلیل دیں کہ مغربی اترپردیش ہمیشہ سے اجیت سنگھ کا گڑھ رہا ہے، جاٹ بیلٹ ہے جو بسپا کے ساتھ نہیں ہے۔ اگر راہل گاندھی کی پد یاترا سے جاٹ ووٹ کانگریس کو جاتا ہے تو بسپا کو کوئی نقصان نہیں ہونے والا۔ یہ ووٹ تو ان کے خلاف پڑنا ہی تھا۔ لیکن بہن جی کو یہ سمجھنا چاہئے کہ راہل کی پدیاترا کا اثر محض گریٹر نوئیڈا سے لیکر علیگڑھ بیہٹ تک ہی محدود نہیں رہے گا۔ اس کا اثر پورے اترپردیش پر پڑے گا۔ اگر میں یہ کہوں کہ پوری ریاست میں کسان بیلٹوں پر اثر پڑے گا تو شاید غلط نہ ہو۔ کسان بھولے بھالے ، سیدھے سادے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک بار ان کے ساتھ حقہ پانی لے لو اور بڑے بزرگ سر پر ہاتھ رکھ کر آشیرواد دے دیں تو وہ اتنی آسانی سے نہیں پلٹتے۔ راہل کی محنت ضرور رنگ لائے گی۔ راہل نے آج کے دوسرے سیاستدانوں کو بھی ایک طرح سے بے نقاب کردیا ہے۔جو جنتا کے مفادات کی کسانوں کے مفاد کی باتیں تو لمبی چوڑی کرتے ہیں لیکن کچھ نہیں کرتے۔ راہل نے یہ سب کر کے دکھا دیا ہے۔
 Tags: Aligarh, Anil Narendra, Bhatta Parsaul, Congress, Daily Pratap, Greater Noida, Mayawati, Rahul Gandhi, Uttar Pradesh, Vir Arjun

05 جون 2011

بہن جی نے ایک ہی جھٹکے میں اپوزیشن کی ہوا نکال دی

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
5 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
کسانوں کے ساتھ کھڑے ہوکر کانگریس اترپردیش میں اپنی راہ آسان کرنے کی جو کوشش کررہی تھی اس کو مایاوتی نے ایک جھٹکے میں کافور کردیا۔ اتنا ہی نہیں زمین تحویل اور باز آبادکاری کی عوام مفاد کی نئی پالیسی کو اعلان کرکے بہن جی نے مرکزی حکومت کے سامنے ایک چیلنج بھی کھڑا کردیا ہے۔ بھٹہ پارسول کانڈ کے بعد مرکزی سرکار پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں زمینی تحویل کے بارے میں نئے قانون بنانے کیلئے ایک بل لانے جارہی ہے۔ اترپردیش میں پھر سے خود کو کھڑا کرنے میں لگے شہزادہ راہل گاندھی بہت زور لگا رہے ہیں۔ تحریک میں شامل ہوکر گرفتاری تک دی، وزیر اعظم سے نمائندہ وفد کو بھی ملوا کر ان سے تسلی دلا دی۔ لیکن بہن جی نے سب پر پانی پھیر دیا۔ وزیر اعلی مایاوتی نے کسانوں کی ایک پنچایت بلاکر ان سے بات چیت کرنے کے بعد نئی زمین تحویل پالیسی کا اعلان کردیا ، جس میں اب پرائیویٹ کمپنیاں اپنے پروجیکٹوں کے لئے کسانوں سے سیدھی بات چیت کرکے زمین خرید سکیں گی۔ اس میں اب انتظامیہ یا حکومت کا رول صرف ایک ثالث کا ہی رہے گا۔ نئی زمین تحویل پالیسی فوری عمل میں آگئی ہے۔ بہن جی نے مرکزی سرکار سے ریاستی حکومت کی طرز پر زمین تحویل پالیسی پورے دیش میں لاگو کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ پچھلے دنوں سپریم کورٹ نے بھی اس پیچیدہ مسئلے پر سوال پوچھا تھا کہ آخر دیش میں زمین تحویل کی مرکزی حکومت کی پالیسی کیا ہے۔ مایاوتی نے کسانوں سے بات چیت کے بعد نئی زمین تحویل پالیسی سے نہ صرف مغربی اترپردیش میں شورش ماحول کو خاموش کرنے میں مدد ملے گی بلکہ بہت حد تک اس سے اپوزیشن کو سیاسی فائدہ اٹھانے سے بہن جی نے اپنی سرکار اور پارٹی کو بچا لیا ہے۔ یہ تحویل ریاستی سرکار میں اپنے ہنگامی اختیارات کا استعمال کرکے آسان بنا دیا ہے۔ کسانوں کو شکایت تھی کہ صنعتی فروغ کے نام پر زمین کو تحویل میں لیکر اسے پرائیویٹ بلڈروں کو دے دیا گیا۔ نئی پالیسی سے یہ شکایت کافی حد تک دور ہوجائے گی۔ اس پالیسی کے تحت سرکار صرف پبلک سیکٹر کے اداروں یا صنعتی فروغ کے لئے ہی زمین لے سکے گی۔ اس کے علاوہ 2010 ء کی زمین تحویل پالیسی کے فائدے بھی کسانوں ملیں گے۔
وزیر اعلی مایاوتی نے بھٹہ پارسول گاؤں کا خاص ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے واقعات کے دوران گاؤں کے لوگوں کی املاک کو جو نقصان پہنچا ہے اس کے نفع نقصان کی تکمیل ریاستی حکومت کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس پالیسی کو ان کی پارٹی پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں قومی سطح پر نافذکرانے کے لئے مرکزی سرکار پر دباؤ بنائے گی۔ ایسا نہ ہونے پر وہ پارلیمنٹ کا گھیراؤ کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔ ریاستی حکومت کی یہ پالیسی مرکزی سرکار کی مجوزہ پالیسی سے کئی گنا زیادہ بہتر اور کسان ہتیشی ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کی جانب سے ہریانہ حکومت کی زمین تحویل پالیسی کی تعریف سیاسی اغراز پر مبنی ہے۔ وزیراعلی نے اپوزیشن پارٹیوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن پارٹیاں زمین تحویل قانون تیار کرنے کے لئے مرکزی سرکار پر دباؤ نہ ڈال کر اترپردیش میں سیاست چمکانے لگی ہیں۔ہماری رائے میں بہن جی نے راستہ دکھا دیا ہے جس پر مرکز اور ریاستی حکومتوں کو سنجیدگی سے غور کرکے ایسی پالیسی کا اعلان کرنا چاہئے جس سے کسان مطمئن ہوں اور تحریکیں بھی نہ چلیں۔
Tags: Anil Narendra, Bhatta Parsaul, Daily Pratap, Greater Noida, Land Acquisition, Mayawati, Uttar Pradesh, Vir Arjun

20 مئی 2011

راہل گاندھی کا سنسنی خیزالزام!

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
20مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
گریٹر نوئیڈا میں زمین کو تحویل میں لینے کے مسئلے پر کانگریس کے سکریٹری جنرل راہل گاندھی نے وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے مل کر انتہائی سنگین الزامات لگائے ہیں۔ وزیر اعظم کے ساتھ آدھے گھنٹے چلی ملاقات کے بعد راہل نے کہا وزیر اعظم نے کسانوں کے 8نفری وفد کی باتوں کو بڑی توجہ سے سنا اور اترپردیش کے حالات پر تبادلہ خیالات کئے۔ یہ وفد راہل گاندھی کی رہنمائی میں ملنے آیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ دیہات میں چاروں طرف گنے کے نشان موجود ہیں جہاں کسان یوپی کی مایاوتی سرکار کے اپنی زمین کے معاوضے کی مانگ کررہے تھے۔ راہل نے وزیر اعظم کو مبینہ جلی ہوئی لاشوں اور کسانوں و ان کے خاندان کے لوگوں کے خلاف بربریت کے نشان بھی دکھائے۔کانگریس سکریٹری جنرل نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ سنگین مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔ وہاں کم سے کم74 لاشوں کی راکھ بکھری پڑی ہے ، گاؤں کے سبھی لوگوں کو اس کے بارے میں واقفیت ہے۔ ہم آپ کو اس کی تصویریں دکھا سکتے ہیں۔ خواتین کے ساتھ آبروریزی ہورہی ہے۔لوگوں کو پیٹا جارہا ہے۔
راہل گاندھی نے اترپردیش پولیس اور انتظامیہ پر بہت ہی سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ بسپا کے ترجمان نے کہا کہ راہل گاندھی بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں۔ وہ دھرنے کی آڑ میں جھوٹ اور افواہ پھیلانے کی گھٹیا سیاست کررہے ہیں۔ بسپا کے ترجمان نے کہا کانگریس اور دیگر مخالف پارٹیاں جنتا کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ سیاسی سازش کے تحت کچھ سیاسی پارٹیوں نے ناپسندیدہ عناصر کو ناجائز طریقے سے ہتھیار دے کر انہیں اکسایا ہے اور واردات کو انجام دیا۔ وہیں ریاستی سرکار کے ترجمان نے الگ بیان جاری کرکے دعوی کیا کہ اترپردیش میں زمین تحویل میں لینے پر مرکزی سرکار سے زیادہ معاوضہ دیا جارہا ہے۔ راہل گاندھی کے اس سنسنی خیز بیان سے ریاستی سرکار میں کھلبلی مچنا فطری ہی تھا۔ منگلوار کو میرٹھ منڈل کے کمشنر اور آئی جی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ بھٹا میں 74 لوگوں کے مارے جانے کی بات جھوٹی ہے۔ وہاں خواتین کے ساتھ کوئی بد تمیزی نہیں کی گئی۔ پولیس و دیہاتیوں میں لڑائی میں 4 موتیں ہوئی ہیں ، جن میں دو پولیس والے بھی شامل تھے جبکہ دو سماج دشمن لوگ تھے۔ انسپکٹر جنرل نے بتایا کہ بٹورے راکھ کے نمونے لیکر آگرہ کی فورنسک لیباریٹری میں بھیجے گئے ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی نے جس طرح بھٹہ پارسول میں بڑے پیمانے پر کسانوں کے قتل عام کا الزام لگایا ہے اگر وہ صحیح ہے تو یوپی کی حکومت کو برخاست کردینا چاہئے۔ اگر یہ سیاسی بیان ہے تو کانگریس کا دوہرا کردار ایک بار پھر سامنے آرہا ہے۔
راہل گاندھی کے اتنے سنگین الزام پر بحث چھڑنا فطری ہے۔ زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے بغیر پختہ ثبوت کے وہ اتنے سنگین الزام نہیں لگا سکتے۔ ادھر راہل اپنی بات پر پوری طرح اٹل رہے ۔ بدھوار کو وارانسی میں ریاستی کانگریس کمیٹی کے کنونشن میں راہل نے کہا میں خود مایاوتی سرکار کے خلاف جنتا کی لڑائی کی قیادت کروں گا۔ میں ریاست کے ہر کونے میں جاؤں گا۔ نہ تو میرے پاس ٹائم کی کمی ہے اور نہ ہی یوپی میں اشوز کی۔ اترپردیش کی سیاست میں یقینی طور سے کانگریس بسپا کی لڑائی سنگین شکل اختیار کرتی جارہی ہے دیکھیں بہن جی اس تازہ حملے کا کیا جواب دیتی ہیں؟

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...