Translater

21 مئی 2011

صرف معافی مانگنے سے کام نہیں چلے گا عوام کو صحیح جواب چاہئے

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
21مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
حکومت ہند کی جانب سے پاکستان کو سونپی گئی 50 مشتبہ مطلوب بھگوڑوں کی فہرست میں 2003 میں ممبئی کے مولنڈ سمیت کچھ مقامات پر ہوئے دھماکوں میں نامزد وجیہی القمر خاں کو لیکر ہوئی گڑ بڑی کو معمولی کلیریکل غلطی کہہ کر معاملے کو رفع دفع نہیں کیا جاسکتا۔ وزارت داخلہ کے اس کلنڈر سے بھارت کی پاکستان سمیت پوری دنیا میں بے عزتی ہوئی ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہمارے دیش کی خفیہ ایجنسیوں میں آپسی تال میل میں کتنی کمی ہے۔ یہ ہماری سمجھ سے تو باہر ہے لیکن کیسے ان مطلوب بھگوڑوں کی فہرست بغیر صحیح جانچ پڑتال چیکنگ ، کراس چیکنگ کے بغیر جاری کردی گئی؟ اس فہرست میں ممبئی حملے کے ایک ملزم وجیہی القمر خاں جو کہ نہ صرف بھارت میں موجود ہے بلکہ ضمانت پر رہا بھی ہوگیا، اس کا نام اس فہرست میں کیسے آگیا؟ مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم کا غلطی تسلیم کرنا کافی نہیں ہے۔ انہیں ان تین باتوں کا جواب دینا ہوگا۔ پہلی یہ کہ یہ فہرست کس نے بنائی تھی؟ کیا یہ کام کسی آرام پسند اور ضرورت سے زیادہ تنخواہ لینے والے بابو نے کروایا تھا ، جسے یہ معلوم ہے کہ اس کی نوکری نہیں جاسکتی اور اسے کسی کی پرواہ نہیں؟ دوسرا کیا یہ فہرست آئی بی ، راء اور این آئی اے و سی بی آئی میں پہلے بانٹی گئی تھی؟ اگر انہیں یہ فہرست دکھائی گئی تھی تو سی بی آئی کیوں خاموش رہی اور اس نے یہ کیوں نہیں بتایا کہ وجیہی القمر خاں نامی شخص ممبئی کے مولنڈ علاقے میں موجود ہے اور فی الحال ضمانت پر رہا ہوا ہے۔اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ انٹیلی جنس بیورو کیا کررہی تھی جبکہ اس کا کام ہے جو ملزم ایسے سنگین معاملے میں ضمانت پر ہے اس پر گہری نگاہ رکھی جائے جو لگتا ہے اس نے نہیں کیا؟ اسے یہ بھی نہیں پتہ کہ وجیہی القمر خاں فی الحال رہتا کہاں ہے؟ جب تک ان سوالوں کا جواب چدمبرم نہیں دیتے تب تک اس معاملے میں غفلت کہاں ہوئی ہے ، کا پتہ نہیں چلے گا؟
انتہائی دکھ کی بات یہ ہے کہ ہماری خفیہ ایجنسیوں میں آپسی کوئی تال میل نہیں ہے اور ہمیشہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتی ہیں۔ سی بی آئی جیسی ایجنسی کو حکمراں پارٹی نے اپنے سیاسی مفاد کی تکمیل پر زیادہ توجہ دینے پر لگایا ہوا ہے بہ نسبت ملک دشمنوں کے خلاف نگرانی رکھنے کے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ بھی اپنی ذمہ داری نہیں بچ سکتے۔ وہ بیشک اب کہیں کہ وزیر داخلہ چدمبرم نے انہیں اندھیرے میں رکھا لیکن وزیر اعظم کا کام ہے کہ اتنے اہم مسئلے پر خود توجہ دیں۔ پاکستان تو ہمیشہ سے یہ ہی کہتا آرہا ہے کہ بھارت کی مانگ پر کوئی بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ واقعہ دیش کی ساکھ پر سوال بن کر کھڑا ہوگیا ہے۔ کیونکہ ہم کہتے رہے ہیں کہ ہم ثبوت دیتے آئے ہیں لیکن بھارت میں دہشت گردی کے واقعات کو پاکستان کی زمین سے انجام دیا جارہا ہے۔ ایسے میں اس طرح کی غلطی پاکستان کو اپنا موقف مضبوط کرنے کا موقعہ دے سکتی ہے۔ کیونکہ یہ ماننے کو وہ تیار نہیں ہے کہ بھارت میں دہشت گردی کے حملوں کو انجام دینے والوں کو اس نے پناہ دے رکھی ہے۔ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ بھارت اتنی لمبی مطلوب بھگوڑوں کی فہرست کیوں بناتا ہے؟ ہمیں تو گنے چنے مٹھی بھر ان سرغناؤں یا آتنکیوں کی چھوٹی فہرست دینی چاہئے جو ہمارے دیش کی سلامتی کے لئے سب سے زیادہ اہم ہوں۔
Tags: Anil Narendra, CBI, Dawood Ibrahim, India, NIA, P. Chidambaram, Pakistan, RAW, Vir Arjun, Wanted List

ہنسراج بھاردواج کو اپنے عہدے پر بنے رہنے کا کوئی حق نہیں

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
21مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
کرناٹک کے گورنر شری ہنسراج بھاردواج ویسے تو ایک منجھے ہوئے سیاستداں ہیں اور وہ کئی اہم ترین عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ کرناٹک کے گورنر بننے سے پہلے وہ مرکزی حکومت میں وزیر قانون تھے۔ اندرا جی کے وقت میں وہ ذمہ دار عہدے پر بھی رہے ہیں۔ کرناٹک میں جانے کے بعد سے پتہ نہیں انہیں کیا ہوگیا ہے کہ وہ اتنے غیر ذمہ دارانہ طریقے سے برتاؤ کررہے ہیں جو انہیں زیب نہیں دیتا۔ پتہ نہیں وہ کس ذاتی ایجنڈے پر چلنا چاہتے ہیں۔ ایک منتخب حکومت جس کی اسمبلی میں واضح اکثریت ہے ،اسے ڈراتے دھمکاتے رہتے ہیں۔ انہیں ڈسمس کرنے کی احمقانہ سفارش کرتے ہیں۔ آئینی عہدوں پر بیٹھے لوگ کس طرح اپنے قول و فعل میں فرق کے تئیں لاپروا ہ ہوگئے ہیں۔اس کی پختہ مثال کرناٹک کے گورنر ہنسراج بھاردواج کا یہ قول وزیر اعلی ایس یدورپا چنے ہوئے نمائندے ہیں۔ انہیں زبردست اکثریت حاصل ہے۔ اس پر کسی کو شبہ نہیں ہونا چاہئے۔ ہم دوستے ہیں اس طرح کے سیاسی تناؤ اتفاقی ہیں۔ ہمیں آئین اور قانون کے تئیں وقف ہونا چاہئے۔
ہمیں پتہ نہیں شری ہنسراج بھاردواج کو کیا ہوگیا ہے۔ ایک دن مرکزی سرکار کو یدورپا سرکار کو برخاست کرنے کی سفارش کرتے ہیں تو اس سے اگلے دن یدی رپا کی شان میں قصیدے پڑھنے لگتے ہیں۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ وہ اپنا عہدہ چھوڑنے کو تیار نہیں۔ان سب تنازعات و حماقتوں کے باوجود کرسی سے چپکے رہنا چاہتے ہیں۔ خود کو واپس بلائے جانے کے بھاجپا کے مطالبہ پر انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ گورنر کے طور پر ان کی تقرری صدر نے کی تھی اور ان کے علاوہ انہیں (بھاردواج) کو واپس نہیں بلایا جاسکتا۔ گورنر محترم اگر آپ سے ہم یہ ہی سوال کریں کہ کرناٹک کی عوام نے یدی رپا ہو نہ صرف چنا ہے بلکہ واضح اکثریت بھی دی ہے تو آپ کون ہوتے ہیں انہیں برخاست کرنے والے؟دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ہمیں پتہ نہیں لگتا کہ ہنسراج بھاردواج کانگریس کے ایجنڈے پر چل رہے ہیں۔ مرکز ی سرکار و کانگریس پارٹی بیشک یدی رپا سرکار کی موجودگی سے خوش نہ ہو لیکن وہ اس حد تک نہیں جاسکتی کہ ایک واضح اکثریت والی منتخب سرکار کو بلا وجہ ہٹایا جائے۔ تبھی تو وزیر اعظم نے صاف طور پر کہا کہ کوئی غیر آئینی کام نہیں ہوگا۔ جب مرکز کی ایسی کوئی پالیسی نہیں ہے تو گورنر موصوف کس کے ایجنڈے پر چلنے کی کوشش کررہے ہیں؟
شری ہنسراج بھاردواج نے اپنی جانبدارانہ سفارش سے نہ صرف مرکزی حکومت کو پریشان کیا ہے بلکہ گورنر کے عہدے کے وقار کو بھی داغدار کیا ہے۔ یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ ایک طرف وہ یدی رپا کی تعریف کرتے ہوئے نہیں تھکتے کہ ان کے پاس بھاری اکثریت ہے تو دوسری جانب اسمبلی کا اجلاس بلانے کے ریاستی کیبنٹ کی درخواست کو منظور کرنے سے پہلے اپنی سفارش پر مرکزی حکومت کے فیصلے کا انتظار بھی کررہے ہیں۔ کیا انہیں ابھی بھی یقین ہے کہ مرکزی حکومت ان کی سفارش مانتے ہوئے کرناٹک میں صدر راج تھونپ سکتی ہے؟ دراصل شری ہنسراج بھاردواج نے اپنے پتے اتنی ہوشیاری سے کھیلے ہیں کہ اگر ان میں تھوڑا سا بھی ضمیر بچا ہے تو خود گورنر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں۔
Tags: Anil Narendra, H R Bhardwaj, Karnataka, Vir Arjun, Yadyurappa

20 مئی 2011

داؤد کے بھائی اقبال کاسکر پر جان لیوا حملہ

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
20مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کے چھوٹے بھائی اقبال کاسکر پر منگل کی دیر رات قاتلانہ حملے سے ممبئی کے انڈر ورلڈ میں جنگ چھڑنے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ اس سنسنی خیز واردات میں اقبال کاسکر بال بال بچ گئے ہیں لیکن ان کا باڈی گارڈ مارا گیا ہے۔ واردات کے وقت اقبال کاسکر اپنے بڑے بھائی داؤد کے جنوبی ممبئی کے پاک میڈیا اسٹیٹ میں واقع پشتینی گھر کے فرانسیسی دفتر میں بیٹھا تھا تبھی دو ہتھیار بند حملہ آوروں نے 6-7 راؤنڈ فائرنگ کی۔ اس میں کاسکر کے دو باڈی گارڈ زخمی ہوگئے انہیں فوراً پاس کے جے جے ہسپتال میں لے جایا گیا۔جہاں ڈاکٹروں نے عارف نام کے ایک باڈی گارڈ کو مردہ قرار دے دیا۔ عارف اقبال کاسکر کاباڈی گارڈ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کا بھروسے مند ڈرائیور بھی تھا۔ اس درمیان علاقے سے بھاگ رہے دو مشتبہ لوگوں کو مقامی لوگوں نے پکڑ لیا اور پولیس کے حوالے کردیا۔ حالانکہ ابھی یہ پتہ نہیں چل پایا کہ ان دونوں نے ہی اقبال پر حملہ کیا تھا۔ پولیس کا دعوی ہے پکڑے گئے لوگوں کے پاس غیر ملکی ساخت کے ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔ یہ پتہ نہیں چل رہا ہے کہ داؤد کے بھائی اقبال کاسکر پر کس نے حملہ کروایا؟ مہاراشٹر سرکار کا کہنا ہے کہ اقبال کاسکر نشانے پر نہیں تھا بلکہ ڈرائیور ہی نشانہ تھا لیکن حکومت نے کہا جب مسلح لوگوں نے جنوبی ممبئی میں فائرنگ کی تو اس وقت اقبال وہاں موجودہ نہیں تھا۔ مہاراشٹر کے وزیر داخلہ آر آر پاٹل نے احمد نگر میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ معاملے میں گرفتار لوگوں سے پوچھ تاچھ سے خلاصہ ہوا ہے کہ ان کے نشانے پر ڈرائیور عرفان تھا۔ مہاراشٹر سرکار کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ گولہ باری کسی گروہی جنگ کا نتیجہ نہیں تھا کیونکہ ممبئی میں کوئی گروہ بچا نہیں ہے۔ پاٹل کے باتوں پر یقین نہیں ہورہا ہے۔ اس حملے سے ایک بار پھر ممبئی دہشت میں ہے سب کو یہاں ڈر ستا رہا ہے کہیں ممبئی کی سڑکوں پر پھر سے خونی لڑائی نہ چھڑ جائے۔ اس خطرے کو دیکھتے ہوئے شاید سرکار نے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ اقبال تو موقعہ پر موجود ہی نہیں تھا۔ لیکن جس پروفیشنل طریقے سے حملہ ہوا ہے اس سے صاف ہے کہ نشانے پر اقبال ہی تھا ،نہ کہ عارف۔ ذرائع کے مطابق اس حملے کی پوری سازش نیپال میں رچی گئی۔ نیپال یعنی انڈر ورلڈ کے کالے چہرے کا پسندیدہ ٹھکانا ہے۔ اقبال کو مارنے آئے دونوں حملہ آور کرائے کے قاتل تھے ، ایک کا نام سید بلال عارف بتایا جاتا ہے جو تھانے کا رہنے والا ہے اور دوسرے کا نام اندر کھتری بتایا جارہا ہے۔ داؤد کے بھائی پر ہاتھ ڈالنا آسان کام نہیں۔ ایسے کام کے لئے کسی ماہر اور بے خوف کرائے کے قاتل کی ضرورت پڑتی ہے۔ دونوں قاتلوں کو10لاکھ روپے دئے گئے۔ حملے سے چار دن پہلے دونوں نے اقبال کی ہر نقل و حرکت پر نظر رکھی۔ دونوں کو اس بات کی پختہ جانکاری تھی کہ رات 8 سے10.30 بجے تھے اقبال اسی جگہ بیٹھتا ہے جہاں گولی چلی تھی۔ منگل کی رات حملے کے وقت اندر کھتری ،اقبال کاسکر کو پہچاننے میں غلطی کرگیا ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس نے تھوڑا پہلے گولی چلا دی۔ اقبال اس وقت سیڑھیوں سے نیچے اتر رہا تھا اسی وقت فائرنگ شروع ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے اقبال کے آدمیوں نے بھاگتے حملہ آوروں پر بھی گولیاں چلائیں لیکن وہ بچ گئے اور آنے والے دنوں میں معاملے کا خلاصہ ہونے کا امکان ہے۔ اگر چھوٹا راجن نے یہ حملہ کروایا ہے تو اس سے گینگ وار کا پورا امکان ہے۔

راہل گاندھی کا سنسنی خیزالزام!

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
20مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
گریٹر نوئیڈا میں زمین کو تحویل میں لینے کے مسئلے پر کانگریس کے سکریٹری جنرل راہل گاندھی نے وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے مل کر انتہائی سنگین الزامات لگائے ہیں۔ وزیر اعظم کے ساتھ آدھے گھنٹے چلی ملاقات کے بعد راہل نے کہا وزیر اعظم نے کسانوں کے 8نفری وفد کی باتوں کو بڑی توجہ سے سنا اور اترپردیش کے حالات پر تبادلہ خیالات کئے۔ یہ وفد راہل گاندھی کی رہنمائی میں ملنے آیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ دیہات میں چاروں طرف گنے کے نشان موجود ہیں جہاں کسان یوپی کی مایاوتی سرکار کے اپنی زمین کے معاوضے کی مانگ کررہے تھے۔ راہل نے وزیر اعظم کو مبینہ جلی ہوئی لاشوں اور کسانوں و ان کے خاندان کے لوگوں کے خلاف بربریت کے نشان بھی دکھائے۔کانگریس سکریٹری جنرل نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ سنگین مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔ وہاں کم سے کم74 لاشوں کی راکھ بکھری پڑی ہے ، گاؤں کے سبھی لوگوں کو اس کے بارے میں واقفیت ہے۔ ہم آپ کو اس کی تصویریں دکھا سکتے ہیں۔ خواتین کے ساتھ آبروریزی ہورہی ہے۔لوگوں کو پیٹا جارہا ہے۔
راہل گاندھی نے اترپردیش پولیس اور انتظامیہ پر بہت ہی سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ بسپا کے ترجمان نے کہا کہ راہل گاندھی بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں۔ وہ دھرنے کی آڑ میں جھوٹ اور افواہ پھیلانے کی گھٹیا سیاست کررہے ہیں۔ بسپا کے ترجمان نے کہا کانگریس اور دیگر مخالف پارٹیاں جنتا کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ سیاسی سازش کے تحت کچھ سیاسی پارٹیوں نے ناپسندیدہ عناصر کو ناجائز طریقے سے ہتھیار دے کر انہیں اکسایا ہے اور واردات کو انجام دیا۔ وہیں ریاستی سرکار کے ترجمان نے الگ بیان جاری کرکے دعوی کیا کہ اترپردیش میں زمین تحویل میں لینے پر مرکزی سرکار سے زیادہ معاوضہ دیا جارہا ہے۔ راہل گاندھی کے اس سنسنی خیز بیان سے ریاستی سرکار میں کھلبلی مچنا فطری ہی تھا۔ منگلوار کو میرٹھ منڈل کے کمشنر اور آئی جی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ بھٹا میں 74 لوگوں کے مارے جانے کی بات جھوٹی ہے۔ وہاں خواتین کے ساتھ کوئی بد تمیزی نہیں کی گئی۔ پولیس و دیہاتیوں میں لڑائی میں 4 موتیں ہوئی ہیں ، جن میں دو پولیس والے بھی شامل تھے جبکہ دو سماج دشمن لوگ تھے۔ انسپکٹر جنرل نے بتایا کہ بٹورے راکھ کے نمونے لیکر آگرہ کی فورنسک لیباریٹری میں بھیجے گئے ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی نے جس طرح بھٹہ پارسول میں بڑے پیمانے پر کسانوں کے قتل عام کا الزام لگایا ہے اگر وہ صحیح ہے تو یوپی کی حکومت کو برخاست کردینا چاہئے۔ اگر یہ سیاسی بیان ہے تو کانگریس کا دوہرا کردار ایک بار پھر سامنے آرہا ہے۔
راہل گاندھی کے اتنے سنگین الزام پر بحث چھڑنا فطری ہے۔ زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے بغیر پختہ ثبوت کے وہ اتنے سنگین الزام نہیں لگا سکتے۔ ادھر راہل اپنی بات پر پوری طرح اٹل رہے ۔ بدھوار کو وارانسی میں ریاستی کانگریس کمیٹی کے کنونشن میں راہل نے کہا میں خود مایاوتی سرکار کے خلاف جنتا کی لڑائی کی قیادت کروں گا۔ میں ریاست کے ہر کونے میں جاؤں گا۔ نہ تو میرے پاس ٹائم کی کمی ہے اور نہ ہی یوپی میں اشوز کی۔ اترپردیش کی سیاست میں یقینی طور سے کانگریس بسپا کی لڑائی سنگین شکل اختیار کرتی جارہی ہے دیکھیں بہن جی اس تازہ حملے کا کیا جواب دیتی ہیں؟

19 مئی 2011

کانگریس کے پاس موقعہ ہے پوار اینڈ کمپنی کو صحیح اوقات دکھائے

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
شائع 19مئی2011
انل نریندر
پانچ ریاستوں کے اسمبلی چنائو کے دوران جس طرح لیفٹ فرنٹ کا مغربی بنگال میں اور تاملناڈو میں ڈی ایم کے کا صفایا ہوا ہے اس سے این سی پی صدمے کی حالت میں آگئی ہے۔ اگر ہے تو وہ فطری ہی ہے۔ پارٹی کے ورکروں میں اب یہ ہی تذکرہ چل رہا ہے کہ ڈی ایم کے کی ہار کی وجہ ٹو جی اسپیکٹرم بدعنوانی گھوٹالہ تھا تو این سی پی نیتا شرد پوار تو کئی معاملوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ آئی پی ایس، ٹو جی اسپیکٹرم، لواسا جیسے کئی متنازعہ معاملوں میں جانچ ایجنسیوں کے راڈار پر چلے آرہے مراٹھا پتر شرد پوار کو جنتا کیسے بخشے گی؟ اکیلے پوار ہی نہیں بلکہ پرفل پٹیل کے بھی متنازعہ اشخاص بلوا ، حسن علی سے رشتوں کا پردہ فاش ہوچکا ہے۔ ایئر انڈیا اسکینڈل بھی سامنے آچکا ہے۔ این سی پی اپنے استھاپنا دیوس10 جون کو ممبئی میں دلتوں کی ایک بڑی کانفرنس کرنے کی تیاری میں لگی ہوئی ہے لیکن کانگریس این سی پی کے خیمے سے آر پی آئی کے اٹھاولے گروپ کو اپنی طرف راغب کرلینے والے بھاجپا۔ شیو سینا محاذ نے ٹھیک ایک دن پہلے بدعنوانی مخالف کانفرنس کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ مہاراشٹر کے کوآپریٹو بینک کے ہزاروں کروڑ روپے کے گھپلے میں گلے تک ڈوبی نظر آرئی راشٹر وادی کانگریس پارٹی کے نیتا یہ نہیں سمجھ پا رہے ہیں کہ پارٹی کے یوم تاسیس سے پہلے وہ اپنے ورکروں کو کیا پیغام دیں؟ یہاںتک کہ اس کانفرنس کی تیاری کے لئے دیہی علاقوں میں پارٹی کو ورکروںکی کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پارٹی پردیش آفس پر بھی ورکروں کی بھیڑ لگاتار کم ہورہی ہے اور جو لوگ وہاں دکھائی دے رہے ہیں ان کے چہرے پر بھی پانچ ریاستوں کے اسمبلی نتائج نے اداسی لا دی ہے۔ پنے سے آئے ایک سینئر کانریسی لیڈر نے بتایا کہ این سی پی نے اگراپنی ساکھ کو درست کرنے کے لئے کوئی بڑا قدم نہیں اٹھا یا تو ونائک دیشمکھ کی دیکھا دیکھی این سی پی کے تمام لیڈر اس سال کے آخر سے شروع ہورہے بلدیاتی اور پنچایت انتخابات سے پہلے کانگریس کو زبردست جھٹکا لگا سکتے ہیں۔
کانگریس کے لئے یہ موقعہ اچھا ہے شرد پوار سے ہمیشہ کے لئے نمٹ لیں۔شرد پوار کی پارٹی این سی پی کی تشکیل کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے کہ کانگریس نے اس کی سرزمین میں شگر لابی پر سخت حملہ کیا ہے مگر پوار کانگتیس کو کوئی کرارا جواب دینے کے بجائے اس کی چاپلوسی کرتے نظر آرہے ہیں۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی کے غیر ملکی نژاد مسئلے کو چھیڑ کر الگ پارٹی بنانے والے شرد پوار کانگریس کے ہی ساتھ مل کر پچھلے12 سال سے مہاراشٹر کے اقتدار اور 6 سال سے مرکز میں اقتدار کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اتحادی پارٹی ہونے کے باوجود پوار اپنی عادت کے مطابق وقتاً فوقتاً کانگریس کو انگلی کرتے ہی رہتے ہیں۔ وزارت زراعت نے ان کی پالیسیوں اور چالبازیوں نے دیش کو زبردست مہنگائی کے دہانی پر لا کھڑا کیا ہے لیکن پوار نے یہ بتانے میں کوئی قباحت نہیں کی کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ بھی اس کے لئے پورے ذمہ دار ہیں۔ کانگریس کو شرد پوار ڈبا سکتے ہیں انہوں نے پہلے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ یہ موقعہ اچھا ہے اگر کانگریس تھوڑی ہمت کرلے تو شرد پوار کو صحیح اوقات دکھا سکتی ہے۔ وزارت زراعت اور پرفل پٹیل کی وزارت اس جھٹکے میں بد ل دی جانی چاہئے۔

آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل پاشا کی بھارت کو دھمکی

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
شائع 19مئی2011
انل نریندر
اسامہ بن لادن معاملہ اور ساری دنیا میںبے نقاب ہونے بعد پاکستان بوکھلا گیا ہے اور اس بوکھلاہٹ میںوہ آئے دی کوئی نہ کوئی الٹا سیدھا بیان دے رہا ہے۔ کبھی پاکستانی پارلیمنٹ میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی امریکہ کو دھمکی دیتے ہیں جب تک امریکہ نے ڈرون حملے بند نہیں کئے تب تک نیٹو کے قافلے کو اپنے دیش سے گذرنے نہیں دیا جائے گا۔اب پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے چیف احمد شجاع پاشا نے پاکستان کی سینٹ اور قومی اسمبلی کے ممبران کو فوجی تیاریوں کی جانکاری دیتے ہوئے بھارت کو دھمکی دے ڈالی اگر بھارت نے امریکی طرز پر ایبٹ آباد جیسے حملوں کو انجام دیا تو پاکستان بھی اس کے ٹھکانوں پر دھاوا بول دے گا۔ اس کے لئے پاکستان نے باقاعدہ تیاری کرلی ہے۔ پاشا نے کہا کہ آئی ایس آئی نے حملے کے لئے ہندوستانی مقامات کی پہچان کرلی ہے۔ اتنا ہی نہیں وہ بھارت میں واقع ٹھکانوں کو کیسے تباہ کرے گا اس کی بھی ریہرسل کی جاچکی ہے۔
اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اسامہ معاملے کے بعد بوکھلائی پاکستانی فوجی مشینری اپنی عوام کی توجہ بٹانے کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہے اور بھارت کو ہمیشہ تیار رہنا ہوگا لیکن پاشا کے بیان کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا جانا چاہئے۔خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی کمان سیدھی پاکستانی فوج کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ ایبٹ آباد میں ملٹری اکیڈمی اور فوج کے تین ریجمنٹوں کے ہیڈ کوارٹر کے پاس رہ رہے دنیا کے سب سے خطرناک آتنکی اسامہ بن لادن کے خلاف 2 مئی کو چپ چاپ کارروائی کر امریکی بحریہ نیوی سیل کمانڈو نے جب اس کا صفایا کردیا ہے جب سے پوری دنیا میں پاکستان کی تھو تھو ہو رہی ہے۔ اس سے اس کی پوری فوجی اور خفیہ مشینری سوال کے گھیرے میں آچکی ہے۔ پاکستان کے اندرونی مورچے پر امریکی کارروائی کو دیش کی سرداری پر حملے کی شکل میں لیا جارہا ہے۔ دیش کی سیاسی لیڈر شپ چاہے وہ صدر آصف علی زرداری ہوں یا پھر پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی ہوں۔ لیکن دیش کی عوام کو کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے پا رہے ہیں۔ اس سے نمٹنے کے لئے پہلے کو آئی ایس آئی کو سول حکومت کو وزارت داخلہ کے تحت لینے کا چال چلی گئی لیکن جب پاکستانی فوج اس کے لئے تیار نہیں ہوئی تو پاشا کو آگے کرنے کی کوشش ہوئی۔ پاشا کو اس کا احساس پہلے ہی ہوگیا تھا لہٰذا13 مئی کو جب پارلیمنٹ کے بند کرمے میں کیمرے کے سامنے پیشی ہوئی تو انہوں نے سیاستدانوں کو مستقبل کے بارے میں واقف کرانے کی غرض سے کہا کہ بھارت اگر امریکہ کی طرح کوئی کارروائی کرتا ہے تو اس پر فوراً حملے کئے جائیںگے۔ اس کے لئے ہندوستانی ٹھکانوں کی پہچان ہوئی ہے۔ دراصل بھارتیہ فوج کے جنرل وی کے سنہا نے حال ہی میں کہا تھا بھارت بھی سرحد پار کرکے پناہ گاہوں کو نیست و نابود کرنے کے لئے امریکہ جیسی کارروائی کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اس سے پورے پاکستان میں کھلبلی مچ گئی۔ آئی ایس آئی کے چیف پاشا ہی نہیں پورا پاکستان اس وقت بوکھلا گیا ہے اور بوکھلاہٹ میں اپنی عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے کوئی بڑی حماقت بھی کر سکتا ہے اس لئے ہمیں اپنی تیاری پوری طرح رکھنی ہوگی۔

18 مئی 2011

پانچ ریاستوں کے کوارٹر فائنل کے بعد سیمی فائنل یوپی کی باری

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
شائع 18مئی2011
انل نریندر
پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ مرکز میں اقتدار کے کھیل کا ایک طرح سے کوارٹر فائنل میچ تھا ۔ اب باری ہے سیمی فائنل کی۔ یہ سیمی فائنل10 مہینے کے بعد اترپردیش میں ہونے والا ہے۔ اگر بہن جی نے چاہا تو یہ اس سے پہلے بھی ہوسکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہوگی کہ یوپی کے سیمی فائنل میں وہ ٹیمیں خاص طور پر کھیلیں گی جو کوارٹر فائنل میں صرف معاون کے کردارمیں نظر آئیں گی۔ یہ پرانی کہاوت ہے کہ دہلی کی گدی کا راستہ اترپردیش سے ہوکر جاتا ہے۔ اسی نقطہ نظر سے یوپی اسمبلی چناؤ اور بھی اہم ہوگئے ہیں۔ کانگریس اور بھاجپا کیلئے نہ صرف صوبے کی سیاست اس پر منحصر کرتی ہے بلکہ مرکزی سیاست میں بھی یوپی کی اپنی اہمیت ہے۔ سب کی آنکھیں محترمہ مایاوتی پرلگی ہوئی ہیں۔ پانچ ریاستوں کے نتائج آئے ۔ یہ عجب اتفاق ہی ہے کہ اسی دن یوپی میں مایاوتی حکومت نے سنیچر کو اپنے چار سال پورے کئے۔ اب اس کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔ اگلے12 مہینے اترپردیش کے لئے سیاسی طور سے بیحد گہما گہمی سے بھرے رہیں گے۔ یوپی میں اے اور بی ٹیم تو بسپا اور سپا کی ہی رہے گی۔ اہم لڑائی بھی ان دونوں میں ہی ہونے والی ہے۔ واضح اکثریت پاکر پہلی مرتبہ پائیدار حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی مایاوتی کے لئے یہ سال کافی اہمیت کا حامل ہے۔ اپنا گڑھ بچائے رکھنے کیلئے وہ ہر ممکن کوشش کریں گی۔ ادھر ملائم سنگھ اپنی کھوئی ہوئی طاقت کو پانے کے لئے اپنی پوری طاقت جھونک دیں گے۔ سپا اپنے دم پر چناؤ لڑے گی۔ پارٹی نے 403 میں سے270 نشستوں پر اپنے امیدواروں کا بھی اعلان کردیا ہے۔ ملائم نے پورا زور اپنا روایتی یادو اور مسلم ووٹ بینک پر لگایا ہوا ہے۔
مغربی بنگال سے لیکرتاملناڈو تک اقتدار مخالف رجحان بہن جی کے لئے تشویش کا موضوع ہونا چاہئے۔ اگر مغربی بنگال میں نندی گرام اور سنگور میں حکمراں پارٹی لیفٹ کے خلاف ماحول بنایا تو اگرپردیش میں گھوڑی اور بچھڑا اور یہاں پارسول کی کسان تحریک مایاوتی حکومت کے خلاف ماحول بنا رہی ہے۔ حالانکہ یہاں قانون و نظم کے حالات میں بہتری آئی ہے لیکن کچھ بسپا ممبران کے سبب وصولی اور ٹھگی اور لوٹ مار و آبروریزی اور قتل وغیرہ کی وارداتوں نے ماحول کو ضرور آلودہ کیا ہے۔ شکروار کو جب کئی ریاستوں کے چناؤ نتائج آرہے تھے تو مشرقی اترپردیش میں بچھڑائیوں اسمبلی سیٹ کا ابھی نتیجہ آیا ہی تھا اسی سیٹ پر بسپا کہنے کو خود چناؤ نہیں لڑ رہی تھی لیکن ایک شراب تاجر کو پوری حمایت دی ہوئی تھی اور یہ امیدوار بری طرح سے ہار گیا۔ اس چناؤ نے اترپردیش کی سیاست کے لئے دونوں پیغام دئے ہیں۔ حکمراں پارٹی سے اگر اپوزیشن متحد ہوکر لڑی تو بسپا کے لئے مشکلیں کھڑی ہوجائیں گی ، دوسرے فرقہ پرستوں کے لئے بھی اب جیت آسان نہیں ہے۔ اس چناؤ میں پروانچل میں ہندوتو کے سب سے بڑے نیتا یوگی ادیتے ناتھ کی ہار ہوئی ہے، جو اس چناؤ کے لئے ایک وقار کا سوال بنائے ہوئے تھے۔مایاوتی کی سالگرہ کے سلسلے میں چل رہی وصولی کے بعد ایک انجینئر کے قتل سے جو ماحول خراب ہو وہ ایک کے بعد ایک واقعات سے بسپا کے کئی وزراء اور ممبران اسمبلی کو بے نقاب کرگیا۔ اس کی حرکتوں سے مایاوتی کی ساکھ کے وہ ایک سخت ایڈ منسٹریٹر ہیں ، کو بھی دھکا لگا ہے۔ لوگ مایاوتی کے اس نعرے کو یاد دلاتے ہیں غنڈوں کی چھاتی پر پیر لگاؤ اور مہر لگاؤ ہاتھی پر۔ ان سب خامیوں کے باوجود مایاوتی کا آج بھی پلڑا بھاری لگتا ہے۔ ریاست میں انہوں نے کافی کام کیا ہے لیکن آنے والے کچھ مہینے سبھی کے لئے اہمیت کا حامل ہوں گے۔
Read this Article In Hindi: http://anilnarendrablog.blogspot.com/2011/05/5.html

راہل جی اب آپ پیٹرول پمپ پر جاکر دھرنا کیوں نہیں دیتے؟

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
شائع 18مئی2011
انل نریندر
پیٹرول کی قیمت میں5 روپے فی لیٹر کے اضافے کے خلاف سڑکوں سے لیکر انٹر نیٹ اور فیس بک میں بھی زور شور سے احتجاج جاری ہے۔ لوگوں نے جم کر فیس بک میں سرکار کو طعنے مارے ہیں۔ ایک زور دار تبصرہ تو یہ ہے کہ پیٹرول کی قیمت بڑھنے پر کانگریس جنرل سکریٹری راہل گاندھی کو اسی طرح دھرنے پر بیٹھ جانا چاہئے جیسے وہ گریٹر نوئیڈا کے گاؤں میں جا بیٹھے تھے۔ فیس بک پر دلچسپ تبصرہ کرنے والے مشہور سماجی کارکن امن چھنا نے لکھا ہے کہ راہل جی کو فوراً بائیکل لیکر قریب کے پیٹرول پمپ کا دورہ کرنا چاہئے، وہاں دھرنا دینا چاہئے اور گرفتاری دینی چاہئے۔ لیکن کانگریس کے پاس شاید اس کا بھی جواب حاضر ہے۔ کانگریس کا ہاتھ غریب کے ساتھ ہے اور بیچارہ غریب تو پیٹرول خریدتا ہی نہیں۔ سڑکوں کے ساتھ ساتھ فیس بک پر پیٹرول کی قیمتوں میں ا ضافے کے خلاف تحریک چھڑی ہوئی ہے۔
رہی بات غریب کی تو غریب تو پہلے ہی سے بری طرح پس رہا ہے۔ پیٹرول کے دام بڑھنے کے بعد بھی وزیر مالیات پرنب مکھرجی نے اتوار کو کہا کہ اگلے ہفتے ڈیزل اور رسوئی گیس کے دام بڑھانے کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔ ان کے دام بڑھے تو اس کا سیدھا اثر روز مرہ کی استعمال ہونے والی چیزوں پر پڑنے والا ہے۔
جنتا کے کئی اہم خرچے پہلے ہی بڑھ چکے ہیں۔ مہنگائی اور بڑھتی قیمتوں نے آپ کی جیب کو آہستہ آہستہ ڈھیلا کرنا شروع کردیا ہے اور گھر کے بجٹ کو بری طرح سے بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ سنیچر سے پیٹرول کی قیمت63 روپے37 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ اگر آپ اپنی گاڑی سے روز آنے جانے میں دو لیٹر پیٹرول خرچ کرتے ہیں تو پچھلے 12 مہینے میں آپ کا خرچ قریب 1 ہزار روپے ماہانہ بڑھ جائے گا اور مستقبل قریب میں پیٹرول کے دام گھٹنے کے بجائے اور بھی بڑھ سکتے ہیں۔ اب بات کرتے ہیں دودھ کی۔ ممکن ہے آپ کے گھر میں کل راشن جتنے روپے کا آتا ہے اکیلے دودھ کا خرچ اس سے زیادہ پیچھے نہیں رہے گا۔ ایک سال پہلے فل کریم دودھ 28 روپے فی لیٹر ہوا کرتا تھا اب یہ 36 روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اگر آپ کے گھر روزانہ دو لیٹر دودھ آتا ہے تو پچھلے ایک سال میں دودھ کا خرچ500 روپے ماہانہ بڑھ گیا ہے۔
گرمی کے سیزن میں یہ دام اور بھی بڑھ سکتے ہیں۔ اب ذرا اسکول کی فیس پر نظر ڈالیں، ہم بات صرف ٹیوشن فیس کی کررہے ہیں جس میں اضافہ صاف نظر آتا ہے۔ دہلی میں اوسط درجے کے اسکول کی ٹیوشن فیس10 فیصد تک بڑھی ہے اور این سی آر میں یہ اضافہ40 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ اسکول فیس اور باقی خرچوں میں بے حساب اضافہ ہوا ہے۔ ٹرانسپورٹ اور ڈولپمنٹ چارج اور دیگر کھیل سرگرمیوں و دیگر مدوں میں خرچے کافی بڑھ گئے ہیں اور کہنے کو ای ایم آئی پچھلے ایک سال میں قرض کی شرح پر2.5 فیصد بڑھی ہے۔
آج کی تاریخ میں آپ کی جیب کا دشمن نمبر یہ ای ایم آئی بن گئی ہے۔اور عام طور پر اگر آپ نے دس لاکھ روپے 20 سال کے لئے قرض لے رکھا ہے تو اس کی قسط میں ماہانہ 1700 روپے جڑ جاتے ہیں۔ اور کار لون و پرسنل لون کی قسط کی بات رہی الگ۔ دوائیں سرکارکے کنٹرول بالی بازار میں نہیں ملتیں جبکہ وہ سستی ہیں مگر دکاندا روں کو 10فیصدبڑھانے کی اجازت ہے لیکن کمپنیاں اپنی منمانی کرتی ہیں اور دواؤں کی قیمتیں مقرر کرنے سے پہلے ہی ان کے دام بڑھا کر چھاپ دئے جاتے ہیں جن میں زیادہ توازن نہیں ہے جن کی قیمت 5 سے18 فیصد بڑھی ہے پھر یہ بھی پتہ نہیں کہ آپ جو دوا لے رہے ہیں وہ اصلی ہے یا نقلی ؟

17 مئی 2011

چناؤنتائج کانگریس کیلئے زیادہ خوشی کم غم لیکر آئے ہیں

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
شائع17 مئی2011
انل نریندر
پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ نتائج کانگریس کے لئے تھوڑی خوشی تھوڑا غم لیکر آئے ہیں۔ خوشی اس لئے کہ تاملناڈو اور اس کے پڑوسی مرکزی زیر انتظام ریاست پڈوچیری کو چھوڑ کر کانگریس اوراس کی اتحادیوں کا پرچم ہر جگہ لہرایا ہے۔وزیر مرکز میں بڑی اپوزیشن پارٹی بھاجپا کا ان ریاستوں میں تقریباً پتا ہی صاف ہوگیا۔ پارٹی کیلئے سب سے زیادہ راحت آسام میں ملی جہاں اس نے تیسری مرتبہ اقتدار میں واپسی کی ہے اور پچھلی بار سے بھی زیادہ سیٹیں حاصل کی ہیں۔ کیرل میں اس کی قیادت والا یوڈی ایف اقتدار میں ضرور پہنچا ہے لیکن معمولی اکثریت کے ساتھ جہاں اس کی نیا کبھی بھی ڈوب سکتی ہے۔ مغربی بنگال میں پوری جیت ممتابنرجی کی ہوئی ہے جبکہ تاملناڈو میں جہاں ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالہ بڑا اشو تھا جس وجہ سے یہاں ڈی ایم کے کا صفایا ہوگیا۔ پڈوچیری بھی کانگریس کے ہاتھ سے نکل گیا اور سب سے خطرناک خبر کانگریس کے لئے آندھرا پردیش سے آئی ہے جہاں اپنے سب سے بڑے گڑھ میں ہوئے ضمنی چناؤ میں اس کے بڑے نیتا چناؤ بری طرح ہار گئے ہیں بلکہ اس کے باغی لیڈر جگن موہن ریڈی اور ان کی ماں جیت گئی ہیں۔
اگر مرکزی سیاست کو دیکھیں تو مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کا اکیلے اکثریت پاجانا کانگریس اور یوپی اے لیڈر شپ کے لئے پریشانی کھڑی کرسکتا ہے۔ ممتا کا اب یوپی اے سرکار میں نہ صرف دبدبہ بڑھ جائے گا بلکہ اس کی سودے بازی کا حق بھی زیادہ ہوجائے گا۔ یہ ہی حال جے للتا کا بھی ہوگا۔ جے للتا کی سودی بازی کی طاقت کے بارے میں تو کانگریس کو اچھا تجربہ ہے۔ ممتا نے کانگریس کو مغربی بنگال سرکار میں شامل ہونے کو کہا ہے اور سرکار میں شامل ہونے کا فیصلہ کانگریس کو کرنا ہے۔ ویسے دیکھا جائے تو اس کے پاس ہاں کہنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔مرکزی سرکار میں اگرچہ دونوں پارٹیاں شامل ہیں تو مغربی بنگال میں کیوں نہیں۔ کانگریس کے کچھ لیڈروں کی مانیں تو ممتا کی شاندار جیت میں کانگریس کی حکمت عملی کچھ وقفے کے لئے پنکچر کردی ہے۔ کل ملا کر ریاست اور مرکز دونوں کی سیاست کے حساب سے ترنمول کا گراف اس وقت کافی اونچا ہے۔
ان پانچ ریاستوں کے نتیجے کو کانگریس نے لیڈ میچ مانتے ہوئے اگلے سال ہونے والے اترپردیش۔ پنجاب۔ اترا کھنڈ کے کواٹر فائنل کی شروعات کردی ہے۔ نتیجوں کا جائزہ اور آگے کی حکمت عملی بنانے کی میٹنگوں کا دور شروع ہوچکا ہے۔ ذرائع کے مطابق سرکار میں جہاں مغربی بنگال کے نتیجے پرنب مکھرجی کی طاقت میں اضافہ کرسکتے ہیں وہیں تاملناڈو میں کانگریس کی ہوئی کرکری پی چدمبرم کی اہمیت پر سوال کھڑے کر سکتی ہے۔ ممتا کے وزیر اعلی بننے سے خالی ہونے والی ریل وزارت کی کمان کس کو سونپنے کے ساتھ ساتھ کئی سینئر وزراء کے دماغوں میں محکموں میں رد و بدل کرکے حکومت اور تنظیم کو اگلے سال ہونے والے اترپردیش پنجاب اور اتراکھنڈ و آخر میں گجرات اور ہماچل کے چناؤ کیلئے تیار کرنا کانگریس لیڈر شپ کی اب ترجیح ہونی چاہئے۔ کل ملاکر یہ ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ان پانچ ریاستوں کے نتیجے کانگریس کے لئے زیادہ خوشی اور کم غم لیکر آئے ہیں۔

بھاجپا کی شرمناک کارکردگی کا ذمہ دار کون؟

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
شائع17 مئی2011
انل نریندر
بھاجپا کیلئے پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ بیحد مایوس کن رہے۔ آسام، کیرل، پڈوچیری، تاملناڈو اور مغربی بنگال میں بھاجپا قومی پارٹی کی شکل میں پہچان کے لئے ترس گئی ہے۔ کرناٹک میں ضمنی چناؤ میں وزیر اعلی یدی یورپا نے ضرور اپنا دبدبہ بنائے رکھا ہے اور انتخابات میں پہلی بار بھاجپا کے بڑے لیڈروں کو اپنی حکمت عملی کی سوجھ بوجھ دکھانے کیلئے ڈیوٹی لگائی گئی تھی لیکن کوئی بھی لیڈر اپنا چمتکار نہیں دکھا سکا۔ بھاجپا کو آسام اور مغربی بنگال میں اچھے نتیجے کی امید تھی مگر پارٹی کو کیرل میں بھی اپنا کھاتہ کھلنے کی امید تھی ۔ لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج کے پاس جنوبی ہندوستان کی ریاستوں تاملناڈو ، کیرل کی کمان تھی۔ وجے گوئل کے پاس آسام اور چندر مترا کے پاس مغربی بنگال کی ذمہ داری تھی۔ ان کے اوپر سپر باس ارون جیٹلی تھے۔
بھاجپا کو سب سے بڑا جھٹکا آسام میں لگا ہے۔سوال کھڑا ہورہا ہے آخر مشرقی ان ریاستوں میں بھاجپا کیوں پٹی؟ وہ بھی تب جب سب سے زیادہ طاقت بھاجپا لیڈر شپ نے اسی راجیہ میں لگائی تھی۔ پارٹی کے چار لیڈر آسام میں ڈیرہ ڈالے رہے، پارٹی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی سے لیکر ارون جیٹلی تک لوگوں سے ووٹ مانگنے کے لئے اترے۔ پارٹی صدرنتن گڈ کری نے جلسوں سے خطاب کیا لیکن اس سب کے بعد بھی پارٹی لٹیا ڈوب گئی۔ راجیہ میں سرکار بنانے کا سپنا پہلے بھاجپا کے نیتاؤں کو امید تھی کہ آسام گن پریشد (اے جی پی) کے ساتھ مل کر چناؤ لڑنے کے بعد سرکار بن جائے گی اور سرکار نہ بھی بنی تو پارٹی ایک بڑی طاقت کے روپ میں ابھرے گی مگر پارٹی پچھلے ودھان سبھا چناؤ میں جیتی10 سیٹوں کا آنکڑا بھی نہیں چھوپائی اور آسام کی ودھان سبھا میں پارٹی کی طاقت آدھی ہوگئی۔
پشچم بنگال ، کیرل، تاملناڈو اور پڈوچیری میں بھاجپا کھاتہ کھولنے کے لئے ہی چناؤ لڑ رہی تھی پر کیرل میں اس کا یہ سپنا اس بار بھی پورا نہیں ہوسکا۔ کانگریس کے سینئر لیڈر پرنب مکھرجی نے تو طنز بھی کیا ہے کہ بھاجپا خود کو راشٹریہ پارٹی کہتی ہے لیکن پانچ ریاستوں کی لگ بھگ 800 ودھان سبھا سیٹوں میں سے وہ 8 سیٹیں بھی نہیں جیت پائی۔ پشچم بنگال میں بھاجپا کو 1 سیٹ ملی ہے جبکہ آسام میں4 سیٹوں سے ہی سنتوش کرنا پڑے گا۔ باقی کہیں کھاتہ نہیں کھل سکا ہے۔ اب بھاجپا حکومت بھلے ہی یہ کہہ کر اپنی جھینپ مٹا رہی ہو کہ ہمیں تو پہلے سے ہی بہت امیدیں نہیں تھیں۔ بھاجپا نیتاؤں نے کیرل میں اپنی پوری طاقت اس لئے لگائی تھی کہ اگر وہاں کمل کھل جاتا تو وہ اس بات کا ڈھنڈورا پیٹ سکتی تھی کہ دکشن کے لال گڑھ میں بھی ہم پہنچ گئے ہیں۔ بھاجپا کو کیرل میں 9فیصدی ووٹ ضرور ملے پر کھاتہ نہیں کھول پائی۔ آسام اور پشچم بنگال میں بھاجپا کے لئے سب سے بڑی راج نیتک ناکامی یہ رہی کہ دونوں ہی ریاستوں میں پارٹی کا کسی دل یا گٹھ بندھن کے ساتھ تال میل نہیں ہو پایا۔ اس شرمناک مظاہرے کیلئے جواب کون دے گا؟ ریاست کے انچارج اور جنرل سکریٹری وجے گوئل ، ارون جیٹلی، سشما سوراج، ورون گاندھی یا پھر خود ادھیکش نتن گڈ کری؟

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...