Translater

25 اکتوبر 2014

ہریانہ کے نئے لال،منوہر لال!

ہریانہ کی سیاست میں طویل عرصے سے چھائے رہے بنسی لال، چودھری دیوی لال، بھجن لال اور پھر چودھری رنویر سنگھ کے لال بھوپندر سنگھ ہڈا کے بعد اب ایک اور لال منوہرلال اپنی سیاسی پاری کھیلنے کیلئے تیار ہیں۔ بھاجپا نے بیحد چالاکی کے ساتھ اسمبلی میں غیر جاٹ کارڈ کھیل دیا ہے اور جاٹ ووٹ بینک کو بھی جوڑے رکھا۔ یہی وجہ تھی کہ کسی نیتا کو وزیر اعلی کا دعویدار اعلان کئے بغیر منوہر لال کھٹر کو وزیر اعلی کی شکل میں پروجیکٹ کردیا۔ پورے چناؤ کے دوران بھاجپا نے پیغام دیا کہ سرکار بننے پر غیر جاٹ وزیر اعلی ہوگا لیکن سینئر لیڈروں نے کسی بھی اسٹیج سے یہ ظاہر نہیں ہونے دیا۔ ایسا ہونے سے دوسری پارٹیوں کو بڑا اشو ہاتھ لگ جاتا۔ مودی میجک کے سہارے چناوی میدان میں اتری بھاجپا کے حکمت عملی ساز نے غیر جاٹ کارڈ خاموشی سے کھیل دیا۔ وزیر اعلی کے لئے کھٹر کا نام سن کر کئی لوگ حیرت میں پڑ گئے۔ لیکن طویل عرصے سے آر ایس ایس اور بھاجپا میں تنظیمی ذمہ داریاں سنبھال رہے کھٹر زمین سے جڑے ہوئے اور ایک تجربہ کار شخص ہیں جو مشکل چنوتیوں سے نمٹنے کی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ 
روہتک کے بسمانی گاؤں میں بچپن میں کھیت میں سبزیاں توڑ کر بیچنے والے منوہر لال کھٹر ہریانہ کے20 ویں وزیر اعلی ہوں گے۔ ہریانہ میں بھاجپا کے حکمت عملی سازوں کو مبارکباد دینی ہوگی کہ ریاست میں اپنی چناوی حکومت عملی کو غیر جاٹ ووٹوں کے ارد گرد بھنا اور اس کوکامیابی بھی ملی۔ پارٹی کوجو ووٹ ملنے تھے وہ تو ملے ہی لیکن بڑی تعداد میں غیر جاٹ ووٹوں کا پولارائزیشن ہوگیا۔ اسے تمام دیگر فرقوں کے علاوہ بڑی تعداد میں دلتوں کے بھی ووٹ ملے۔ ہریانہ۔ دہلی سے لگی ایک ایسی ریاست ہے جس کو ہیکڑی اور کرپشن نے کافی چوٹ پہنچائی ہے۔ منوہر لال کھٹر بھاجپا کے ایک وفادار سپاہی تو ہے ہیں بلکہ عام زندگی سے جڑے صاف ستھری ساکھ والے اور سادگی پسند لیڈر ہیں۔ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے قریبی مانے جاتے ہیں اور ان کی طرح سنگھ کے پرچارک تھے۔ بلا شبہ ان کی ساکھ ہریانہ کے لوگوں کو متاثر کرے گی لیکن ان کے سامنے چنوتیاں بھی کم نہیں ہیں۔ ہریانہ کل ملاکر تیزی سے ترقی کرنے والی ریاست کی شکل میں جانا جاتا ہے۔ کیونکہ پچھلے10 برسوں میں ہریانہ نے اقتصادی طور پر کافی کچھ حاصل کیا ہے۔ اس لئے منوہر لال کھٹر کو یہ دیکھنا ہوگا کہ ترقی کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کرکے وہ اس کو اور تیزی کیسے دیں؟ انہیں سب سے زیادہ توجہ ریاست کی مجموعی ترقی پر مرکوز کرنی چاہئے۔ ایسا کرتے وقت اس کے تئیں چوکس رہنا ہوگا۔ کیونکہ ترقی کی رفتار دھیمی نہ پڑے۔ کرپشن پر کنٹرول لگے۔ ہریانہ میں بھلے ہی جاٹوں کی آبادی30 فیصدی سے زیادہ ہو ،باقی80 فیصدی لوگوں کے دل میں یہ خیال پنپ رہا ہے ان کے اوران کے سیکٹر میں انہیں نظرانداز کیا جارہا ہے۔بھاجپا نے سب کا ساتھ سب کا وکاس کے نعرے پریہ تاثر توڑنے کا ارادہ جتایا تھا اور جنتا نے بھی اس کا بھرپور ساتھ دیا۔ اب غیر جاٹ لیڈر شپ دیکر بھاجپا ہائی کمان نے یہ پیغام دے دیا کہ کانگریس کے کرپشن کے دن لد گئے ہیں اور ساتھ ہی فرقہ خاص کا دبدبہ بھی اور خاندان واد کا دور بھی ختم ہوا ہے اور یہ پیغام منوہر لال کھٹر سے بہتر شاید کوئی اور دے پاتا۔ شری منوہر لال کھٹر کو ہماری مبارکباد، ہمیں بھروسہ ہے کہ وہ ہریانہ کی عوام کی امیدوں پر کھرا اتریں گے۔
(انل نریندر)

کینیڈا کی پارلیمنٹ پر دہشت گردانہ حملہ!

کینیڈا کی راجدھانی اوٹاوا میں بدھ کو ایک آتنکی حملے نے سبھی کو چونکا دیا ہے۔ آج دنیا کا کوئی دیش دہشت گردی سے اچھوتا نہیں رہا۔ امریکہ سے لگے کینیڈا میں آتنکی وادی حملہ یہ دکھاتا ہے کہ اسلامی دہشت پوری طرح سے دنیا تک پھیلنے لگی ہے۔ کینیڈا کی پارلیمنٹ اور باہر دونوں مقامات پر بدھ کے روز گولیاں چلیں۔ سکیورٹی فورس کے ذریعے مار گرائے جانے سے پہلے ایک بندوقچی نے ایک فوجی کو گولی ماردی۔ اوٹاوا میں پارلیمنٹ سمیت تین مقامات پر گولی چلی۔ سب سے پہلے پارلیمنٹ کے پاس واقع قومی جنگ عظیم یادگار کے پاس گولیاں چلائی گئیں۔ پہلے فوجی مارا گیا پھر پارلیمنٹ کے اندر اور اس کے نزدیک ایک شاپنگ مال کو نشانہ بنایا گیا ۔ پارلیمنٹ کمپلیکس میں گھسے ایک حملہ آور کو جوابی کارروائی میں مار گرایا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے اس حملے میں ایک سے زیادہ مشتبہ لوگ شامل تھے۔ یہ واقعہ اس وقت ہوا جب کچھ گھنٹے پہلے ہی کینیڈا نے آتنک واد کے خطرے کو لیکر الرٹ جاری کیا تھا۔ سرکار کے ایک افسر کے مطابق اسلامک اسٹیٹ( داعش) اور القاعدہ جیسی تنظیموں کی آن لائن باتوں کے سامنے آنے کے بعد الرٹ بڑھایا گیا۔ واقف کار دو دن پہلے مانیٹریال میں ہوئے کار حملے پر بھی غور کررہے ہیں جس میں ایک شخص نے دو کینیڈائی فوجیوں کو کار سے کچل دیا تھا۔ اس شخص نے اسلامی مذہب قبول کیا تھا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کینیڈائی پارلیمنٹ میں گھسے حملہ آور کی اسلامی دہشت گردی سے وابستگی کا فی الحال کوئی اشارہ نہیں ہے۔ حالانکہ ذرائع کا کہنا ہے ابھی جانچ بالکل ابتدائی دور میں ہے۔ نئے نئے حقائق سامنے آسکتے ہیں۔ کینیڈا پارلیمنٹ پر حملے کی جانکاری جب امریکی صدر براک اوبامہ کو دی گئی تو انہوں نے پہلا کام یہ کیا کینیڈا میں اپنے امریکی سفارتخانے کو بند کرنے کا حکم دیا اور امریکہ میں فل الرٹ کردیا گیا۔ کینیڈا کے وزیر اعظم اسٹیفن ہارپر کا ٹورینٹو میں نوبل انعام ونر اور پاکستان کی با ہمت بیٹی ملالہ یوسف زئی سے ملنے کا پروگرام تھا لیکن حملے کی وجہ سے اس کو منسوخ کردیا گیا۔ ویسے یہ پہلی بار نہیں جب کینیڈا کی پارلیمنٹ کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ 9 اپریل1989ء میں ایک بس کے ذریعے کینیڈا کی پارلیمنٹ جسے پارلیمنٹ ہل کہا جاتا ہے ، پر حملے کی سازش رچی گئی تھی۔ آتنکی چالس یعقوب نے بس کو حملے کے ارادے سے اغوا کیا تھا۔ 28 اگست2010ء کو کینیڈا میں دو آتنکیوں کی گرفتاری کے بعد ستمبر۔ اکتوبر میں پارلیمنٹ حملے کی اسکیم کا انکشاف13 ستمبر 2001ء میں بھارت کی پارلیمنٹ پر لشکر طیبہ اور جیش محمدکے آتنکیوں نے حملہ کیا تھا جس میں درجنوں کی موت و زخمی ہوئے تھے۔کینیڈااب اسلامی آتنک وادیوں کے نشانے پر آگیا ہے اور وہاں کے سکیورٹی انتظامات کو چست درست کرنا ہوگا۔
(انل نریندر)

23 اکتوبر 2014

اس مرتبہ دیوالی نئی امیدیں اور نیاجوش لیکر آئی ہے!

دیوالی کا تہوار روشنی اور اجالے کی علامت مانا جاتا ہے۔دیوالی و روشنی کے اس تہوار کے دن سبھی لوگ چراغ اور موم بتی جلا کر روشنی کرتے ہیں۔ یہ تہوارپربھو رام اور سیتا کے 14 برس کے بنواس کے بعد ایودھیا میں ان کی آمدپر منایا جاتا ہے اور یہ موسم سرما کی آمد کی بھی علامت ہے۔ خوشیوں کے اس تہوار پر لوگ ایک دوسرے کو مٹھائیاں بانٹ کر اور مل جل کر خوشیاں مناتے ہیں۔ اس سال دیوالی زور شور سے منائی جائے گی کیونکہ مرکز میں ایک نئی سرکار آئی ہے اور وہ اپنے ساتھ نئی امیدیں لائی ہے۔ کانگریس پارٹی کا بنواس اب شروع ہوگیا ہے دیکھیں یہ کتنے برس چلے گا۔ اماوسیا کی اندھیری رات میں دیپک کی جگمگاتی روشنی سے چمک چھا جاتی ہے اور اندھیرے کو چھیرتے ہوئے ان خوبصورت دیپکوں کے بغیر دیوالی کا تہوار ادھورا سمجھا جاتا ہے۔ بازار میں چہل پہل کئی دن پہلے ہی شروع ہوجاتی ہے۔ بازار و تمام دکانیں دلہن کی طرح سجا دی گئی ہیں۔ یہ اچھی بات ہے کہ آج بھی دیوالی میں گھر کو روشن کرنے کیلئے روایتی چراغوں کا استعمال ہوتا ہے اور یہ ایک منفرد مٹی سے بنتے ہیں۔ اب لوگ مختلف طرح کے چراغوں اور موم بتی کا استعمال بھی کرنے لگے ہیں۔ ان کی بات کریں تو ہر بازار میں ایسے دیپ چھائے ہوئے ہیں جس میں لکشمی ،گنیش، پھول پتتے اور طرح طرح کی خوبصورت شکل میں یہ دستیاب ہیں۔ ان دیپکوں سے آپ اپنے گھر کوایک نیا لک دے سکتے ہیں۔دیوالی سے پہلے کے ہفتے میں خوردہ دوکانداروں کی بکری شاندار رہی۔کاروباری کمپنیاں زبردست سوٹ اور شاندار دوکانداری کے باوجوداپنی دوکانیں خوب چمکانے میں کامیاب رہے۔ سپر مارکیٹ سے لیکر کنزیومر ڈیوریبل کمپنیوں تک کا خیال ہے کہ اس بار دیوالی کی بکری پچھلے سالوں کے مطابق بہتر رہی۔ ان دوکانداروں کی مانیں تو اس بار صارفین کا اچھا خاصااضافہ ہوا ہے۔دہلی میں پٹاخے جلاتے وقت آپ اپنی آنکھوں کا خاص طور سے خیال رکھیں۔ بچے ان سے دور رہیں۔ اکثر پٹاخوں سے نکلنے والا بارود کا دھواں ان کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ان کی آنکھوں کی روشنی بھی جا سکتی ہے اورکم آواز والے یا تیزرفتار والے پٹاخے چلائیں۔ پٹاخوں کے اندر سے نکلا ہوا کاربن اور دیگر زہریلی اشیا ء آنکھوں ،نسوں اور دیگر اعضا کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔چینی معرکہ پٹاخوں کے بیچنے پر بیشک حکومت سے پابندی لگائی ہوئی ہے۔ اس سے اس برس تو شاید کوئی فرق نہ پڑے کیونکہ یہ پٹاخے مہینوں پہلے ہی بازار میں آچکے تھے۔چینی دوکاندار اتنے چالاک ہیں کہ چین کے بنے پٹاخوں پر ’میڈ ان شیو کاشی‘ لکھا ہوا ہے۔ ہم سبھی قارئین کو دیوالی کے اس مبارک تہوار پر بدھائی دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ محفوظ دیوالی منائیں گے اور اپنے بچوں کا خاص دھیان رکھیں گے۔ کیونکہ بچوں میں پٹاخے چلانے کو لیکر خاص جوش رہتا ہے۔’’ہیپی دیوالی‘‘
(انل نریندر)

بھاجپا مشکل میں ،چناؤ کرائے یا سرکار بنائے؟

کیا ہریانہ اور مہاراشٹر میں بھاجپا کو ملی کامیابی کا اثر دہلی پر بھی پڑے گا؟ یا پارٹی اب دہلی میں چناؤ کرائے گی؟ یہ سوال سیاسی گلیاروں میں بے چینی سے پوچھا جارہا ہے۔ مہاراشٹر تو دہلی سے تھوڑا دور ہے اس لئے اس کا تو راجدھانی میں کیا اثر پڑے گا لیکن ہریانہ تودہلی سے لگا ہوا ہے اور ہریانہ میں اکثریت ملنے سے بھاجپا کی دہلی یونٹ امید افزا ہوگئی ہے کہ پارٹی ابھی تک جو شش و پنج میں تھی اس کا جوش اب پوری طرح سے سامنے آگیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے دہلی اسمبلی چناؤ کیلئے سبھی پارٹیاں تیار ہیں۔اسمبلی میں سب سے بڑی پارٹی بھاجپا اور دوسرے نمبر پر ’عام آدمی‘ پارٹی ہی نہیں کانگریس کے لیڈر بھی چناؤ میں جانے کو تیار ہیں۔ اسمبلی بھنگ کرنے کی سفارش کیلئے کس کے حکم کا انتظار ہے یہ کوئی نہیں جانتا۔ آخری فیصلہ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کو لینا ہے۔ ایسے میں28 اکتوبر کو سپریم کورٹ میں معاملے کی سماعت پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بھاجپا کیلئے سب سے زیادہ حوصلہ بڑھانے والی بات ہریانہ میں بھاجپا کی شاندار کامیابی کے نتائج ہیں جہاں پچھلے اسمبلی چناؤ میں تمام کوششوں کے بعد بھی بھاجپا دو نمبروں تک نہیں پہنچ پائی تھی اور پارٹی پانچ سیٹوں پر سمٹ گئی تھی۔ اس بار اپنے بوتے پر وہ اس ریاست میں مکمل اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ دونوں ریاستوں کے نتائج دہلی میں کانگریس اور عام آدمی پارٹی کیلئے اچھے اشارے نہیں ہیں۔ پارٹی کے حکمت عملی ساز تو یہ مان کر چل رہے ہیں کہ موجودہ حالات میں ہم 32 سے بڑھ کر60 سیٹوں تک پہنچ جائیں تو کوئی تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ دوسری طرف کانگریس دہلی کے چیف ترجمان مکیش شرماسوال کرتے ہیں کہ اگر نریندر مودی کی لہر ہے تو بھاجپا دہلی میں اسمبلی چناؤ کیوں نہیں کرواتی۔ کانگریس ہر وقت چناؤ میں جانے کو تیار ہے۔ بھاجپا میں ایک بڑا گروپ چاہتا ہے لیکن پارٹی میں مہاراشٹر اور ہریانہ میں وزیر اعلی کو لیکر چل رہی اتھل پتھل سے پہلے دہلی کی طرف قومی لیڈرشپ توجہ نہیں دینا چاہتی۔ دلیل دی جارہی ہے کہ دونوں ریاستوں میں وزیر اعلی بنائے جانے کے بعد کوئی فیصلہ لیا جائے گا۔ 
جب ہریانہ کے وزیر اعلی کا فیصلہ ہوگیا ہے اب مہاراشٹر میں سب کچھ طے ہونے کے فوراً بعد دہلی اسمبلی بھنگ کرکے چناؤ کا اعلان ہوسکتا ہے۔ ادھر عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال نے ایک بار پھر چناؤ کمپین میں تیزی لانے کیلئے سوشل میڈیا کا سہارا لیا ہے۔ انہوں نے دہلی کے شہریوں کو دعوت دی ہے کہ وہ واٹس ایپ کے ذریعے ان سے سیدھے جڑیں۔ عام لوگوں کو کیجریوال کے نام سے ایس ایم ایس آرہے ہیں۔ ایک سوال یہ پوچھا جارہا ہے کہ اگر اسمبلی چناؤ ہوئے تو کون لیڈ کرے گا؟ یہ سوال اب اقتدار کے گلیاروں میں گشت کررہا ہے کیا بھاجپا اعلی کمان چناؤ کے دوران امکانی وزیر اعلی کے نام کا اعلان کردے گی یا وہ ہریانہ ، مہاراشٹر کے بغیر ریاستی چہرے کے اسمبلی چناؤ کا سامنا کرے گی؟ پھر اگر چناؤ ہوتے ہیں تو کب ہوں گے یہ سوال بھی پوچھا جارہا ہے؟ بھاجپا کے نیتا فروری کے مہینے کو چناؤکیلئے بہتر مان رہے ہیں کیونکہ اس وقت نہ تو دہلی میں بجلی پانی کی قلت ہوگی اور سبزیوں کے دام بھی کم ہوجائیں گے۔ ماحول بھاجپا کے حق میں دکھائی دے گا لیکن پارٹی کا ایک گروپ ابھی یہ کہہ رہا ہے کہ مہاراشٹر اور ہریانہ کے نتائج کے بعد عام آدمی پارٹی میں بھگدڑ مچ جائے گی اور بڑی بات تو نہیں اس پارٹی کے 28 میں سے قریب20 ممبر اسمبلی بغیر شرط بھاجپا میں شامل ہوجائیں گے۔ انہیں لگے گا کہ بھاجپا میں جانے سے ان کا سیاسی مستقبل اور ممبر شپ چار سال تک محفوظ ہوجائے گی۔لگتا یہ ہے کہ کوئی بھی موجودہ ممبر اسمبلی چناؤ میں جانے کو تیار نہیں ہے اور سبھی چاہتے ہیں کہ دہلی میں سرکار بن جائے اور وہ چناؤمیں جانے سے بچ جائیں۔ دیکھیں بھاجپا اعلی کمان کیا فیصلہ کرتا ہے؟
(انل نریندر)

22 اکتوبر 2014

تھوک مہنگائی پانچ سال میں سب سے نیچی سطح پر آئی!

اپنے پانچ ماہ کے عہد میں ہی وعدہ خلافی کے غیر ضروری مخالفت و الزامات جھیل رہی مودی سرکار نے تنقید کرنے والوں کوپھر کرارا جواب دیا ہے۔میں مہاراشٹر اور ہریانہ اسمبلی چناؤ کی بات نہیں کررہا ہوں۔ میں بات کررہا ہوں مہنگائی اور اقتصادی مسائل کی۔ ایسا بہت کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ اقتصادی محاذ پر کئی اچھی خبریں ایک ساتھ ملیں لیکن ہندوستانی معیشت کے ساتھ فی الحال ایسا ہی ہے۔ حکومت کی کوششوں کا نتیجہ ہے خوردہ بازار کے بعد اب تھوک بازار میں بھی مہنگائی پانچ مہینے میں ہی پانچ سال میں سب سے نیچے سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ستمبر مہینے میں اس کا فیصد 2.38فیصد ناپا گیا ہے۔ اگست ماہ میں یہ 3.74 فیصد اور گذشتہ ستمبر میں 7.05 فیصد تھی۔ اس کی کم از کم شرح اکتوبر2009ء میں 1 فیصدی تھی۔ اس کے بعد یوپی اے سرکار کے پورے عہد کے دوران مہنگائی اوسط شرح8 سے 9 فیصدی کے درمیان رہی۔ یوپی اے سرکار کے زوال میں کرپشن کے ساتھ کسی اہم گورکھ دھندے کا تعاون تھا اور مہنگائی ایسا اشو ہے جو عام جنتا کو سیدھا متاثر کرتا ہے۔ دودھ ، انڈا، میٹ ، مچھلی کے دام میں گراوٹ آئی جو ستمبر سے جاری ہے۔ مودی سرکار کے ساتھ ریزرو بینک نے تمام دباؤ کے باوجود صبر کے ساتھ جو متوازن قدم اٹھائے ان کا اثر دکھائی دینے لگا ہے اور دیش میں سستے دنوں کی آہٹ محسوس ہونے لگی ہے۔ خوردہ بازار کے اعدادو شمار کے مطابق غذاکے داموں میں کمی کی وجہ سے افراط زر میں پچھلے سال اسی میعاد کے مقابلے قریب تین گنا کمی آئی ہے۔ مہنگائی گھٹنے سے عام آدمی کو فائدہ ہوا ہے۔ اس سے سرکار کے پالیسی سازوں کو بھی بہت راحت ملی ہوگی۔ مودی سرکار کی پہلی ترجیح مہنگائی کو کم کرنا تھا تاکہ عام آدمی کو راحت مل سکے۔مگر ابتدائی دور میں ریلوے کرائے میں 14 فیصدی اضافہ کرکے جنتا کوزور کا جھٹکا دیا اس کا خمیازہ بھی کئی ریاستوں کے ضمنی چناؤ میں بھاجپا کو بھگتنا پڑا تھا۔ اب حکومت کے لئے راحت کی بات یہ ہے کہ غذائی سامان پیٹرول، اور ڈیزل کے داموں میں مسلسل گراوٹ آرہی ہے۔ حالانکہ پیٹرول کے دام میں کمی کی وجہ بین الاقوامی بازار میں کچے تیل کے دام میں مسلسل گراوٹ رہی ہے۔ مگر مختلف غذائیت کے سامانوں کے داموں میں کمی سرکار کے اچھے انتظام کا اشارہ ہے۔ پیاز کی برآمد میں اضافہ کرکے حکومت نے شروع سے ہی اس کے دام بڑھنے پر روک لگانے میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن سرکار کی پریشانیاں اور کوششوں کیلئے ابھی کوئی راحت نہیں ہے۔ اس بارچکرواتی طوفان سے فصلیں تباہ ہوگئیں جس کے پیش نظر سبزیوں کے دام ابھی تھوڑے بڑھ سکتے ہیں۔مشرقی وسطیٰ کے غیر یقینی حالات کے چلتے تیل کے داموں کے بارے میں بھی کوئی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی۔ سب سے بڑی ضرورت طویل المدت اقدامات کی ہے ۔ جس سے اعدادو شمار میں گھٹی مہنگائی کا حقیقت میں احساس عام صارفین کو ہوسکے۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا کہ غذائی مہنگائی کو کنٹرول میں لانے میں ہم اہل رہے ہیں۔ سرکار خوردنی بازاروں کیلئے سپلائی کو بہتر بنانے اور مہنگائی کو نچلی سطح پر رکھنے کے لئے پر عزم ہے۔ جلد ہی ہم مہنگائی پر لگام لگانے میں کامیابی حاصل کرلیں گے۔
(انل نریندر)

بچوں کے جنسی استحصال کے بڑھتے واقعات باعث تشویش مسئلہ !

حال ہی میں بچوں کے جنسی استحصال کے بڑھتے واقعات پورے سماج کے لئے ایک تشویش کا مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ آئے دن بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات کی تفصیل پڑھ کر دل بیٹھ جاتا ہے اور سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارے سماج کو آخر ہوتا کیا جارہا ہے۔ حال ہی میں مغربی دہلی کے ہری نگر میں واقع ایک پلے اسکول کے مالک کے24 سالہ بیٹھے کے ذریعے عصمت دری کا شرمناک واقعہ سامنے آیا۔ بچی کے جسم سے خون بہتا دیکھ کر گھروالے اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئے جہاں سے بچی کے ساتھ بدفعلی کی تصدیق ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ کئی دنوں سے بچی کے ساتھ ذیادتی کررہا تھا۔ ایسے ہی دہلی کے روہنی میں واقع پلے اسکول میں ڈھائی سال کی ایک بچہ کے ساتھ بھی بدتمیزی کا معاملہ سامنے آیا۔ بچی کے بیمار ہونے پر طبی جان سے پتہ چلا کہ اس کے ساتھ بدفعلی ہوئی ہے۔والد کی شکایت پر پولیس نے ایک ایف آئی آر درج کرکے اسکول کے ہی ایک ملازم کو گرفتار کرلیا۔ اسکولوں کو تعلیم کا مندر مانا جاتا ہے۔ بچوں کو اسکول بھیج کر والدین بے فکر ہوجاتے ہیں اور انہیں لگتا ہے بچہ وہاں اچھے اخلاق و آداب سیکھے گا۔ پڑھ لکھ کر نہ صرف اپنی زندگی میں کامیاب ہوگااور باپ سے آگے بڑھے گا لیکن اس بھروسے کے ساتھ جن کے ہاتھوں میں وہ اپنے بچوں کو سونپتے ہیں اگران کے ساتھ اسکول کے ذمہ داران ان کا مستقبل چوپٹ کرنے لگیں تو تعلیمی اداروں سے لوگوں کا بھروسہ اٹھ جائے گا۔ اگر اسکول ہی بچوں کیلئے محفوظ نہیں ہیں تو وہ تعلیم حاصل کرنے کہاں جائیں؟ وزارت خواتین و اطفال ترقی کے ذریعے کرائی گئی ایک اسٹڈی سے اس بات کا انکشاف ہوا کہ بھارت میں ہر روز تین میں سے دو اسکولی بچوں کے ساتھ جنسی چھیڑ چھاڑ ہوتی ہے اور وہ اس کا شکار ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ جنسی استحصال 5 سے12 برس کے بچوں کا ہوتا آرہا ہے۔ جنسی استحصال کا شکار 70 فیصدی بچے اپنے ماں باپ سے اس بارے میں بتا نہیں پاتے۔ راجدھانی میں بچوں کو جنسی استحصال سے بچانے کیلئے خاتون و اطفال ترقی وزارت نے ایک اسپیشل ٹریننگ اور بیداری کا ایک پروگرام تیار کیا ہے اس کے تحت بچوں کو ان کی عمر کے مطابق تربیت دی جائے گی اور انہیں خاموشی توڑ کر آواز اٹھانے کی ترغیب دی جائے گی۔ اس کڑی میں جلد سے جلد ہی برین ٹارمنگ پروگرام شروع ہوگا۔ بیداری کے اس پروگرام کے تحت بچوں کی عمر کے حساب سے ان کو تین گروپوں میں بانٹ کر تربیت دی جائے گی۔ پانچ سے آٹھ سال اور 9 سے12 سال اور12 سے18 سال کے گروپ بنا کر بچوں کو بیدار کرنے ، ان میں حوصلہ پیدا کرنے کا پلان بنایا گیا ہے۔ بچے دیش کا مستقبل ہوتے ہیں لیکن آج وہ عدم سلامتی کے جس ماحول میں جی رہے ہیں اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے دیش کا مستقبل کتنا محفوظ ہے۔ بچپن سے جنسی استحصال کا شکار ہوئے بچے بالغ ہونے پر بھی اس کے اثر سے آزاد نہیں ہوپاتے۔ بچوں کی اسمگلنگ ،غائب ہونے، اغوا اور قتل کے معاملے مسلسل بڑھتے جارہے ہیں۔ سرکاریں تو اپنا کام کررہی ہیں لیکن جب تک ہمارا سماج اپنی ذہنیت نہیں بدلتا اس بڑھتے مسئلے سے نجات پانا مشکل لگتا ہے۔ ہمارے وزیر اعظم کو بچے بہت پیارے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ اس سمت میں کوئی ٹھوس قدم اٹھائیں گے تاکہ ننھے بچوں کو جنسی استحصال سے بچایا جاسکے۔
(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...