Translater

03 اکتوبر 2026

گیا نیش کمار کا حفاظتی کوچ؟



ووٹ چوری کے الزامات کو دوہراتے ہوئے لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیا نیش کمار کو خبر دار کیا ہے اور تجویز بھی دی۔ اپوزیشن کے لیڈر نے جنتا کے مینڈیٹ کی چوری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ وقت بھی آئے گا ہم آپ کو پکڑ لیں گے۔ اس کے بعد انہوں نے صلاح دی کہ ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلی کے معاملہ میں سرکاری گواہ بن جائیں۔ یاد رہے راہل نے سب سے پہلے پچھلے سال ہوئے لوک سبھا چناؤ میں چناؤ کمیشن کو یہ چیتا ونی دی تھی۔ نو مہینے بعد، دی انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ میں چناؤ ئیشن کے اندر اختلافات ہونے کے بعد اپنی بات صحیح ہونے کا دعوی کرتے ہوئے اپوزیشن نے صاف طور پر گیا نیش کمار کی گرفتاری کی مانگ کی ہے۔ ایک طرف بی جے پی بچاؤ کر رہی ہے تو و میں اپوزیشن گرفتاری پر اڑی ہوئی ہے لیکن گرفتاری کی مانگ پر ایک آئینی تقاضہ بکرا رہا ہے اور وہ ہے دسمبر 2023 میں پارلیمنٹ سے پاس قانون کی دفعہ 161۔ سپریم کورٹ میں دائر ایک نئی عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس تقاضہ میں ایک شرط بھی ہے۔ نیا تنازعہ 23 ستمبر کو اس وقت شروع ہوا جب اخبار کی رپورٹ میں دعوی کیا گیا کہ گیا نیش کمار کے دو ساتھی کمشنروں سکھبیر سنگھ سدھو اور و یو یک جوشی نے 10 مہینوں میں کم سے کم 14 مرتبہ اور ایک ہی دن میں 4 مرتبہ مبینہ طور سے اپنے اعتراضات درج کرائے تھے۔ یہ اعتراضات چناؤ دور لسٹ اسپیشل انٹینسو رو چون (ایس آئی آر) جیسے اشو پر تھے۔ راہل گاندھی کے علاوہ سپالیڈ را علیش یادو ، آپ نیتا اروند کیجریوال اور ٹی ایم سی لیڈرممتا بنرجی جنہوں نے بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لئے ووٹرلسٹ میں دھاندلی کا الزام لگایا ہے۔ کا کروچ جنتا پارٹی بھی اس مہم میں شامل ہو گئی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ کئی ریاستوں میں اور مرکزی حکمراں ریاستوں میں ایس آئی آر پروسیس کے تحت اب تک 13 کروڑ سے زیادہ ووٹروں کے نام ہٹائے جاچکے ہیں جو بھارت کے کل ووٹروں کا تقریباً 13 فیصد ہے۔ بات کرتے ہیں گیا نیش کمار کو بچانے والی قانونی دیوار کی۔ اس قانونی زبان کو ہٹا کر دیکھیں تو چیف الیکشن کمشنر واٹر کمشنرا یکٹ 2023 کی دفعہ 16 کہتی ہے کہ کوئی بھی عدالت موجودہ یا سابق چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمشنر کے خلاف ان کے سرکاری کام کاج کے دوران کئے گئے کسی بھی کام کے لئے دیوانی یا کرمنل کیس کی سماعت نہیں کر سکتی۔ اس میں لکھا ہے فی الحال لاگو کسی بھی دوسرے قانون میں کچھ بھی لکھا ہونے کے باوجود کوئی بھی عدالت کسی ایسے شخص کے خلاف کوئی سول یا کرمنل کارروائی نہیں جاری کبھی جاسکتی جو چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمشنر ہے یا رہا ہے ۔ اگر اس نے اپنے سرکاری کام یا ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے کوئی کام کیا ہو یا کوئی چیز کی ہو یا کوئی بات کہی ہو یہ سیکیورٹی قانون کا حصہ تھی۔ اس کے تحت کمشنروں کو چننے کے لئے ایک کیٹی بنائی گئی تھی۔ 2023 سے پہلے چلنے کا کوئی بھی خاص پروسیس نہیں تھا کیونکہ کوئی قانون بناہی نہیں تھا اس لئے صدر سر کار کی صلاح پر تقرریاں کرتے تھے اس میں عدلیہ یا اپوزیشن کا کوئی رول نہیں ہوتا تھا۔ کیا سسٹم میں کوئی کمی ہے؟ حالانکہ یہ چھوٹ صرف ڈیوٹی کے دوران کئے گئے کاموں پر ہی عائد ہوتی ہے۔ وکیل شیلیندرمینا ترپاٹھی نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے ووٹرلسٹ میں کوئی بھی ہیر پھیر کرنا کمشنر کے کام کا حصہ نہیں ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو کرمنل مقدمے سے کوئی چھوٹ نہیں ملتی ہے۔ اس میں مانگ کی گئی ہے کہ گیا نیش کمار کی جانچ ہو اور اس پر کسی بھی دوسرے کرمنل ملزم کی طرح مقدمہ چلایا جائے۔ اس میں رہ پر نیشن آف دی پیپل ایکٹ 1950 کی دفعہ 32 ریکارڈ میں ہیر پھیر سے وابستہ انڈین جوڈیشیل کورٹ کے تقاضوں کے تحت مقدمہ چلانے کی مانگ کی گئی ہے۔ عرضی میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آئین صرف صدر اور گورنروں کو ہی کھلی چھوٹ دیتا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس پورے معاملہ میں بصد احترام سپریم کورٹ کیا رخ اپناتی ہے؟

01 اکتوبر 2026

چنائو کمیشن اور وضاحت؟

چنائو کمیشن (ای سی)نے اسپیشل انٹینسورویژن (ایس آئی آر) کو لیکر اٹھے تنازع کے درمیان سنیچر کو میٹنگ بلائی۔اس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، چنائو کمشنر سکھبیر سنگھ اور ویویک جوشی شامل ہوئے۔میٹنگ کے بعد الیکشن کمشنر نے کہا کہ ایس آئی آر سے جڑے سبھی بڑے فیصلے اتفاق رائے سے لئے گئے تھے۔ چنائو کمیشن نے ایس آئی آر کی کارروائی میں کچھ تبدیلیوں کا بھی اعلان کیا ہےلیکن باوجود اس کے کانگریس اور دوسری اپوزیشن پارٹیوں کے سوال ختم نہیں ہوئے ہیں۔حالانکہ دوسری طرف بھاجپا اور اس کی ساتھی پارٹیوں نے چنائو کمیشن کی وضاحت کا خیر مقدم کیا ہے۔ایسے میں سوال ہے کہ تنازعہ اب کس سمت میں جائے گا؟ یہ میٹنگ انڈین ایکسپریس کی اس رپورٹ کے بعد ہوئی ہے جس میں چنائو کمشنروں کے درمیان ایس آئی آر ووٹر ڈاٹا اور فارم 6 سے جڑے معاملوں پر اختلافات کا دعوی کیا گیا تھا۔ چنائو کمیشن نے یہ بھی کہا کہ دو چنائو کمشنروں کی کیبنٹ سکریٹری کو بھیجے گئے خطوط چنائو کمیشن کی کسی پالیسی یا ایس آئی آر کے فیصلہ سے متعلق نہیں تھے لیکن کانگریس نے چنائو کمیشن کے بیان کو ٹال مٹولی والابتاتے ہوئے کہا کہ اس کے اٹھائے گئے بنیادی سوالوں کے جواب نہیں ملے ہیں۔ پارٹی نے ایس آئی آر روکنے اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کی مانگ دوہرائی ہے۔وہیں بی جے پی کا کہنا ہے چنائو کمیشن کے بیان سے صاف ہوگیا ہے کہ ایس آئی آر کو لیکر لگائے گئے الزامات میں کوئی دم نہیں ہے۔بی جے پی صدر نتن نبین نے اپوزیشن پر لوگوں کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا۔کانگریس نیتا پون کھیڑا نے کہا کہ چنائو کمیشن اپنے اوپر لگے الزامات کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکا۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ اگر دو چنائو کمشنروں نے فارم 6 میں تبدیلی کو غیر مجاز اور غیر قانونی کہا تھا تو اس پر کوئی وضاحتی جواب کیوں نہیں دیا گیا؟ پون کھیڑا نے اپنے ایکس پر چنائو کمیشن کے پریس نوٹس کو ڈائون لوڈ کیا اور ڈلیٹ بتایا۔کہا کہ پریس نوٹس نے تین بڑے سوالوں کے جواب نہیں دئے۔ فارم 6 میں تبدیلی، نوجوان ووٹروں کا سوال اور ای سی آئی ان ای ٹی۔ پون کھیڑا نے لکھا جب تک چنائو کمیشن خاص قانونی اعتراضات کا جواب نہیں دیتا تب تک کتنے بھی لمبے پریس نوٹس جاری کردئے جائیں، اتفاق رائے کا کتنا بھی دعوی کرلیا جائے یا اور کوئی اور تماشہ کرلیا جائےاس سے گیانتش کمار گپتا کی مشکلیں ختم نہیں ہوںگی۔ابھی بھی اس کے لئے انتظار نہیں ہوا ہے انہیں استعفیٰ دے دینا چاہئے اور سرکاری گواہ بن جانا چاہئے ورنہ جیل جانے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔سوال یہ بھی ہے کہ جن ریاستوں میں ایس آئی آر کے بعد چنائو ہو چکے ہیں وہاں نوجوان ووٹروں کا کیا ہوگا؟ پون کھیڑا نے خاص طور پر پوچھا کہ بہار اور مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے بعد بغیر ایس آئی آر چنائو ہوگئے، وہاں چھٹے نوجوان ووٹوں کا کیا ہوگا؟ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ جنوری 2024 کے بعد سے ایس آئی آر نہیں ہوا تو پرانے فارم6 کا جواز کیا ہے؟ادھر دیش کے 2 ہزار سے زیادہ شہریوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر ایس آئی آر پر روک لگانے کی مانگ کی ہے۔ساتھ ہی چنائو کمیشن سے از خود نوٹس لے کر کارروائی شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ایس آئی آر کے جواز اور پروسیس کا جائزہ لینے تک اسے روکا جائے۔ووٹر رجسٹریشن سافٹ ویئراور فارم میں مبینہ تبدیلیوں کی کورٹ کی نگرانی میں جانچ ہونی چاہئے۔چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور دیگر حکام کے خلاف قانونی کارروائی اور ای سی آئی نیٹ کا سپریم کورٹ کی مقرر آزادانہ کمیٹی سے سکیورٹی اورلیگل آڈٹ کرانے کی بھی مانگ کی گئی ہے۔خط پر دستخط کرنے والوں میں بحریہ کے سابق چیف ایڈمرل وشنو بھاگوت ، سابق آئی اے ایس افسر ادیتی مہتہ،سینئروکیل پرشانت بھوشن، تاریخ داں ادتیہ مکھرجی اور اداکار پرکاش راج سمیت کئی ماہر تعلیم وکیل ،صحافی اور سماجی رضاکار شامل ہیں۔ ویسے بھی کورٹ میں کئی عرضیاں لگی ہوئی ہیں۔ دیکھنا ہوگا اس معاملہ میں آگے کیا کیا ہوتا ہے؟ 2اکتوبر سے کاکروچ پارٹی نے آندولن کا اعلان کیا ہے۔
(انل نریندر)

29 ستمبر 2026

میڈیا میں چھائے گیانیش کمار!

الیکشن کمیشن کے اندر سے جوخبریں باہر آئی ہوئی ہیں اور انڈین ایکسپریس میں چھپی ہیں وہ تشوتشناک تو ہیں ہی لیکن اس سے کہیں زیادہ سنگین اس لئے ہیں کیونکہ وہ دیش کے اس آئینی ادارہ کے طریقہ کار پر سوال کھڑا کرتی ہیں جس پر آزادانہ منصفانہ و شفاف چنائو کرانے اور جمہوریت میں عوام کا بھروسہ بنائے رکھنے کی بھی اہم ذمہ داری ہے۔بھارت میں چنائو کمیشن کے اندر مبینہ اختلافات کی رپورٹ کا تذکرہ پورے دیش میں تو ہو ہی رہا ہے لیکن بین الاقوامی میڈیا میں بھی یہ خبریں چھائی ہوئی ہیں۔ اس رپورٹ کے بعد پورے دیش میں چیف الیکشن کمشنرگیانیش کمار سرخیوں میں آگئے ہیں۔ پورے دیش میں ان کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں۔ وہیں بین الاقوامی میڈیا میں اس پر رائے زنیاں بھی شائع ہورہی ہیں۔امریکی میڈیا آئوٹ لیٹ بلوم برگ نے اس اشو پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایس آئی آر میں جائزووٹروں کے نام ہٹانے اور اس سے چناوی نتیجوں پر اثر پڑنے کا پورا پورا اندیشہ ہے۔ بلوم برگ نے لکھاہے : ستمبر کے آخر میں اس اشو پر پھر سوال اٹھے، جب ا خبار انڈین ایکسپریس نے خبر شائع کی کہ تین چنائو کمشنروں میں سے دو نے اس مہینے میں کم سے کم 14 مرتبہ اس پروسیس کو لیکر چیف الیکشن کمشنر کے سامنے تشویش جتائی تھی۔ چنائو کمشنر نے اس خبر کی تردید کردی ہے کہ چنائو کمشنروں کے درمیان مبینہ عدم اتفاق نے چنائوکی نگرانی کرانے والے ادارہ پر اور سوال کھڑے کردئے ہیں۔ پچھلے ایک سال میں ریاستی اسمبلی انتخابات میں وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی مسلسل جیت کے بعد ووٹر لسٹ میں صفائی کا سیاسی طور پر اشو بیحد حساس ترین ہوگیا ہے۔اپریل میں مغربی بنگال چنائو سے پہلے ووٹر لسٹ سے لاکھوں نام ہٹا دئے گئے تھے۔ اس کے بعدبی جے پی نے پہلی بار یہاں بڑی جیت حاصل کی۔پچھلے سال بہار میں بھی لاکھوں لو گوں کے نام ووٹر لسٹ سے کاٹے گئے تھے اور پچھلے سال ہی اسمبلی چنائو سے پہلے اسی طرح ووٹر لسٹ کی نظرثانی کرائی گئی تھی۔ ووٹروں کے نام جوڑنے اور ہٹانے کے ساتھ ووٹ فہرست کے مینجمنٹ والے سسٹم کے بڑھتی مرکزیت کو لیکر تشویشات پر بلوم برگ نے لکھا ہے دونوں کمشنروں نے یہ بھی کہا کہ کچھ فیصلے لئے گئے اور احکامات جاری کئے گئے لیکن اس کی جانکاری انہیں نہیں دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ایس آئی آر کے دوران قریب 13 کروڑ لوگوں کے نام ابتدائی ووٹر لسٹ سے ہٹا دئے گئے۔ان میں سے کئی لوگوں کے نام ہٹائے جانے کے خلاف اپیل کی گئی جو زیادہ تر ابھی بھی التوا میں پڑی ہے۔ اخبار نے لکھا وزیر اعظم نریندر مودی کو 2029 تک لوک سبھا چنائو میں ووٹ ڈالنے والے ووٹروں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا لیکن کچھ ہی مہینے بعد بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اترپردیش میں اسمبلی چنائو ہونے والے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات میں ہونے والے اسمبلی چنائو ان کی مقبولیت کےلئے ایک اہم سیاسی امتحان ہوگا۔ قطر کے اخبار الجزیرہ نے چنائو کمیشن سے وابستہ خبر شائع ہونے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاجی مظاہروں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے نوجوان آندولن کاریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر دیش کے چیف الیکشن کمشنر سنیچروار تک استعفیٰ نہیں دیتے ہیں تو وہ دیش بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع کریں گے۔ اخبار نیویارک ٹائمس نے بھی اس مسئلہ پر بڑی اہمیت کے ساتھ خبر شائع کی ہے۔ ایس آئی آرسے لیکر اپوزیشن پارٹیوں میں تقسیم اور چناوی سمبل ضبط کرنے اور انہیں تسلیم ہونے تک کہ اشو چھائے۔ ہر جگہ اپوزیشن کو چنائو کمشنر پر سوال اٹھانے کا ایک موقعہ بیٹھے بٹھائے مل گیا ہے۔ ہمیں لگتا ہے یہ اشو رکنے والا نہیں ہے اور ابھی کئی آندولن دیکھنے کو ملیںگے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے جو الزام لگائے ہیں وہ بھی وضاحت کی مانگ کرتے ہیں۔ یہاں سپریم کورٹ کے جسٹس دیپانکردتتا کی رائے زنی بھی بیحد اہم ہے۔ ایک آئینی ادارہ پر اس طرح کے الزام بیحد تشویشناک ہیں۔جو سوال اٹھ رہے ہیں ان کا جواب ملنا ہی چاہئے۔ کیونکہ چنائو کمیشن کے بھروسے پر پوری جمہوری مشینری کے اعتماد کا سوال بھی ہے۔
(انل نریندر)

رجیم چینج بنام تختہ پلٹ !

سپریم کورٹ کے جانے مانے وکیل پرشانت بھوشن نے جمعرات کو دہلی میں پریس کلب میں منعقدہ کاکروچ جنتا پارٹی کی پریس کانفرس میں کہا کہ وہ اب رجیم ی...