Translater

‏A Raja لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏A Raja لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

18 مئی 2012

2جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں آخری ملزم اے راجہ کی ضمانت

حالیہ برسوں میں دیش کی سیاست میں بھونچال لانے والے 1لاکھ 76 ہزار کروڑ روپے کے 2 جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں گرفتار اہم ملزم اور جیل میں بند آخری ملزم سابق مرکزی ٹیلی کام منسٹر اے راجہ کو آخر کار عدالت سے ضمانت مل گئی۔ دہلی کی تہاڑ جیل میں سوا سال گزارنے کے بعد اے راجہ باہر آکر اگلے دن ہی پارلیمنٹ میں بھی پہنچ گئے۔49 سالہ راجہ کافی خوش دکھ رہے تھے لیکن انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں کھڑے نامہ نگاروں سے کوئی بات چیت نہیں کی۔ اے راجہ کو 2 فروری 2011 ء کو گرفتار کیا گیا تھا۔عدالت نے اے راجہ کو 20 لاکھ روپے کے نجی مچلکہ اور اتنی ہی رقم کے دو بونڈ پر ضمانت دینے کا حکم دیا۔ 
ضمانت ملنے کے بعد راجہ نے کہا کہ ان کے خلاف معاملہ جھوٹا اور من گھرنٹ ہے اور قانون کی بنیاد پر ٹکنے والا نہیں ہے۔2 جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں گرفتاری کے بعد ضمانت کے لئے درخواست نہ کرنا اے راجہ کی ایک سوچی سمجھی چال تھی۔ انہوں نے اس معاملے میں ملزم کم بلکہ ایک پیشہ ور وکیل کی طرح زیادہ کام کیا۔معاملے کی نزاکت اور میڈیا کے اٹینشن کو دیکھتے ہوئے انہوں نے ضمانت کی عرضی نہیں دی اور پورے15 مہینے جیل میں رہے۔ راجہ کو معلوم تھا کہ سی بی آئی نے انہیں پورے کیس کی بنیاد بنا رکھا ہے اور جب بھی ضمانت کے لئے وہ درخواست کریں گے سی بی آئی یہ ہی دلیل پیش کرے گی۔ اس لئے انہوں نے سی بی آئی کو چارج شیٹ داخل کرنے دی۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے چارج شیٹ پر نوٹس لینے اور ٹرائل شروع ہونے کے بعد بھی ضمانت کی عرضی نہیں دی۔ یہاں تک کہ ڈی ایم کے ممبر پارلیمنٹ اور پارٹی سربراہ کی بیٹی کنی موجھی کی ضمانت کے بعد بھی انہوں نے درخواست نہیں دی جبکہ ممبر پارلیمنٹ کو ملی ضمانت ان کی درخواست کی ٹھونس بنیاد بن سکتی تھی۔ انہیں درخواست تب کی جب گذشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے معاملے کے آخری ملزم سابق ٹیلی کوم سکریٹری سدھارتھ بہرا اور پرائیویٹ سکریٹری آر کے بدھولیا کو ضمانت دے دی۔ اس پالیسی کا فائدہ یہ ہے کہ راجہ کے خلاف عدالتوں نے تبصرہ نہیں کیا۔ یہاں تک کہ ضمانت دیتے ہوئے سی بی آئی کورٹ نے کہا کہ راجہ ثبوتوں سے چھیڑ چھاڑ نہیں کرسکتے کیونکہ سبھی ثبوت دستاویزوں کی شکل میں ہیں۔ راجہ کے لئے کورٹ کا یہ مثبت رویہ ہے جو ٹرائل کے دوران ان کے حق میں جائے گا۔ ویسے اے راجہ ضمانت پر ایسے وقت باہر آئے ہیں جب اسپیکٹرم گھوٹالے سے اٹھتی آنچ نے ان کے سابق ٹیلی کوم منسٹر دیاندھی مارن اور وزیر خزانہ پی چدمبرم تک کو اپنی زد میں لے لیا ہے۔مارن پر الزام ہے کہ ٹیلی کوم منسٹر رہتے انہوں نے ایک دیشی ٹیلی کوم کمپنی ایئرسیل کو ملیشیا کی ایک کمپنی کے ہاتھوں بکنے پر مجبور کیا اور اس کے عوض میں اس ودیشی کمپنی سے قریب 600 کروڑ روپے رشوت کی شکل میں بٹورے۔ لیکن حال کے خلاصے تو اور بھی سنگین ہیں جن میں چدمبرم کے ساتھ ان کے بیٹے کارت چدمبرم کا بھی نام اچھلا ہے اور پتہ چلا ہے کہ اس غیر ملکی کمپنی کو فائدہ پہنچانے کیلئے ملک کے سخت قانونوں کو کیسے طاق پر رکھ دیا گیا۔
پارلیمنٹ میں چدمبرم جب اپنی صفائی میں کہتے ہیں کہ' چاہے میری چھاتی میں خنجر گھونپ دو لیکن ایمانداری پر شک مت کرو' تب انہیں یہ بھی بتانا چاہئے کہ ان کے وزیر خزانہ رہتے ایک غیر ملکی کمپنی دیش کے قانون سے کیسے کھیل گئی؟ بھارت کے قانون سے کھلواڑ کرنے اور سرکار سے دھوکہ دھڑی کرنے کے واضح ثبوتوں کے باوجود کیوں مکسنز کا لائسنس کینسل کردیا۔ اس کے خلاف مقدمہ کیوں نہیں چلایا گیا؟ چدمبرم نے پارلیمنٹ میں صاف انکار کردیا کہ ان کے یا پریوار کے کسی ممبر کے پاس کسی بھی ٹیلی کام کمپنی کے شیئر رہے ہیں۔تب انہیں یہ بھی بتانا چاہئے کہ ایئر سیل ،میکسنز سودے میں ان کے بیٹے کارتک چدمبرم کا نام کن حالات میں اچھلا ہے؟ اے راجہ کی ضمانت پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ملزموں کے وکیل ماجد مینن کا کہنا ہے کہ سی بی آئی کے کیس میں دم نہیں ہے اور وہ عدالت کی سخت جانچ جھیل نہیں پائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جانچ ایجنسی کہہ رہی ہے کہ 2 جی اسپیکٹرم کو بیچنے میں 1.75 لاکھ کروڑ کا گھوٹالہ ہوا ہے لیکن کیا اس کے پاس اس کا کوئی دستاویزی ثبوت ہے۔ ابھی تک کی کارروائی میں سی بی آئی نے اس کا ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔اس سے مجھے ایک راج نیتا کی ایک بات یاد آگئی۔ نیتا نے کہا کہ اگر کوئی سیاستداں کسی بھی الزام میں جیل جانے کو تیار ہے تو وہ صاف بچ سکتا ہے۔ کہیں اے راجہ کا یہی قصہ نہ ہو۔ جیل تو وہ ہو آئے لیکن دیش کو 1.75 لاکھ کروڑ کی ریکوری میں بھی اتنی دلچسپی ہے جتنی سزا کاٹنے میں۔ کیا سی بی آئی اس رقم کو کبھی ریکور کر سکے گی؟
2G, A Raja, Anil Narendra, Daily Pratap, P. Chidambaram, Vir Arjun

05 فروری 2012

جھٹکوں پر جھٹکے جھیلنے کے عادی منموہن سنگھ اور ان کی حکومت



Published On 5th February 2012
انل نریندر
منموہن سنگھ سرکار کو سپریم کورٹ سے مسلسل جھٹکے لگتے جارہے ہیں۔ سینئر عدالت کا یوپی اے II- کو یہ تیسرے جھٹکے کو ملا کر پانچواں جھٹکا ہے۔ جمعرات کا جھٹکا اس لئے زیادہ بے چین کرنے والا ہے کیونکہ سی اے جی نے 1.67 لاکھ کروڑ روپے کے ٹوجی گھوٹالے کو اجاگر کر سنسنی پھیلائی تھی۔ وزیر اعظم خود اے راجہ کے بچاؤ میں آئے تھے اور پوری سرکار پہلے سی اے جی پھر پی اے سی کے پیچھے پڑگئی تھی۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ یوپی اے سرکار نے بیش قیمتی اسپیکٹرم (کرنیں)کو ریوڑیوں کی طرح بانٹ دیا۔ سپریم کورٹ کا جمعرات کے روز سرکار کوتیسرا جھٹکا تھا۔ اس سے پہلے چیف ویجی لنس کمشنر پی جے تھامس کی تقرری کو سپریم کورٹ منسوخ کردیا تھا تب بھی وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی تنقید ہوئی تھی کیونکہ سی وی سی سلیکشن کمیٹی میں لیڈر اپوزیشن سشما سوراج کے اعتراض کو نظرانداز کردیا گیا تھا۔ یہ سیدھے طور پر وزیر اعظم کے لئے جھٹکا تھا۔ سپریم کورنے ٹو جی معاملے میں ہیں قصورواروں پر مقدمہ چلانے کی اجازت دینے میں دیر لگانے کو غلط قراردیا تھا اور اس میعاد کو زیادہ سے زیادہ چار مہینے طے کردیا تھا۔ اس مسئلے میں بھی پی ایم کی کرکری ہوئی تھی۔ اس مرتبہ پی ایم او کٹہرے میں ہے۔ تیسرا اور تاریخی فیصلہ جمعرات کو آیاجو سب سے بڑا جھٹکا تھا۔ اس بار بھی وزیر اعظم اور اس وقت کے وزیر مالیات کٹہرے میں ہیں کیونکہ جب سی اے جی نے یہ معاملہ اٹھایا تھا اور میڈیا نے اسے اچھالا تو پردھان منتری نے راجہ کو ہدایت دی تھی اور بار بار انہیں بچانے کی کوشش کی تھی۔ جب بات زیادہ بڑھی تو وہ جیل بھیج دئے گئے۔ تب منموہن سنگھ نے بچاؤمیں یہ دلیل دی کہ اتحادی حکومت کے سامنے ایسی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ تازہ فیصلے میں ٹو جی اسپیکٹرم کے عمل کو غلط قراردیا ہے یعنی وہ غلط اور طرفداری والا تھا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ وزیر اعظم نے اس غیر قانونی اور غلط عمل کو ڈیفنس کس بنیاد پر کیا؟ کیا انہیں اخلاقی بنیاد پر اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دینا چاہئے؟ وزیر اعظم اور کتنے مخالفانہتنقیدوں کو جھیلیں گے۔ اس سے پہلے بھی جب یو پی اے I- کی حکومت تھی تب بھی سپریم کورٹ نے منموہن سرکار کو دو بار زبردست جھٹکے دئے تھے۔ ایک بار جب بہار میں این ڈی اے کی سرکار بنانے کا موقعہ نہ دیکر وہاں صدر راج لگایا تھا تب کورٹ نے گورنر کے برتاؤ کو غیر آئینی قراردیا تھا۔ دوسری مرتبہ جھارکھنڈ میں بھی یہی حالت رہی۔ سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد شیبو سورین کو استعفیٰ دینا پڑا اور این ڈی اے کی سرکار بن گئی تھی۔ کانگریس پارٹی اور یوپی اے سرکار کے لئے ایک ساتھ نہیں بلکہ تین مورچے کھل گئے ہیں۔ سب سے پہلے اترپردیش چناؤ، دوسرے چدمبرم کا مستقبل اور تیسرے دونوں کو بچانے میں یوپی اے محاذ کی تشویش۔ اترپردیش چناؤ سے ٹھیک پہلے 122 ٹیلی کام لائسنس منسوخ ہونے کے بعد کانگریس پوری طاقت سے اپنے وزیر اعظم منموہن سنگھ اور وزیر داخلہ پی چدمبرم کا بچاؤ کررہی ہے لیکن اس کے سیاسی اثر کو لیکر اس کی جان حلق میں ضرور اٹکی ہوئی ہوگی۔ کانگریس اور سرکار دونوں نے مان لیا ہے کہ اب ان کے پاس اس مسئلے پر جارحانہ رخ اختیار کرنے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے۔ انہیں سب پہلوؤں پر بحث کرنے کیلئے کانگریس کے بڑے نیتاؤں کی کور کمیٹی کی میٹنگ ہوئی۔ ذرائع کے مطابق کانگریس لیڈر شپ مان رہا ہے کہ سپریم کورٹ فیصلے سے اپوزیشن کو چناؤ سے پہلے کرپشن کے اشو پر ایک ہتھیار تو مل گیا ہے۔ جس طرح سے کپل سبل نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران ڈی ایم کے کوٹے کو ٹیلی کمیونی کیشن وزیر رہے اے ۔ راجہ پر ٹھیکرا پھوڑا ہے اور اس سے کہیں ایک اور نیا مورچہ نہ کھل جائے۔ ممتا اور شرد پوار نے پہلے ہی ناک میں دم کررکھا ہے۔ اب پورے گھوٹالے کے لئے راجہ کو اکیلے ذمہ دار ٹھہرانا پہلے سے ناراض ڈی ایم کے کو اور اکسانا ہے، کہیں پہلے سے لگی آگ اور نہ بھڑک جائے؟
2G, A Raja, Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Manmohan Singh, Supreme Court, UPA, Vir Arjun

04 فروری 2012

سپریم کورٹ نے سنائے دوررس اہم فیصلے



Published On 4th February 2012
انل نریندر
یقیناًجمعرات کا دن سپریم کورٹ کے لئے بہت اہمیت کا حامل تھا۔ عدالت کو تین معاملوں پر اپنا فیصلہ دینا تھا۔ یہ تینوں ہی بہت اہم تھے جن کے دوررس اثر ہونے والے ہیں۔ جمعرات کو سب سے اہم فیصلہ ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے کا تھا۔ جس پر ملک بیرون ملک کی نگاہیں لگی ہوئی تھیں۔ اس گھوٹالے میں وزیر داخلہ پی چدمبرم کے مبینہ کردار کی سی بی آئی جانچ ، ٹیلی کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کرنے اور ٹو جی معاملے کی نگرانی کے لئے ایس آئی ٹی تشکیل کرنے کے مطالبے پر فیصلہ آنا تھا۔ ان سب کو چھوڑ کر ایک اور اہم واقعہ تھا اس دن اس جج کے ریٹائر ہونے کا آخری دن تھا جنہوں نے 15 مہینوں میں سپریم کورٹ کی اس بینچ کی شوبھا بڑھائی جس نے ہر اس رسوخ دار کو جیل کی ہوا کھلوائی جس کے بارے میں عام آدمی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ میں بات کررہا ہوں جسٹس اے کے گانگولی کی، جن کا اپنے عہد کا آخری دن تھا۔ جمعرات کو جسٹس گانگولی کے بیباک ریمارکس تاریخ میں درج ہوگئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے تینوں اشوز پر اپنا فیصلہ سنا دیا۔ پہلا کمپنیوں کے 122 لائسنس منسوخ کرنا،7 کمپنیوں پر بھاری جرمانہ۔ دوسرا چدمبرم کے معاملے میں فیصلہ نچلی عدالت پر چھوڑنا۔ تیسرا سی بی آئی جانچ کی نگرانی کا کام سی بی آئی کی دیکھ ریکھ میں برقرار رکھنا۔ تینوں فیصلوں کے دور رس اثر ہونا لازمی ہیں۔ بڑی عدالت میں تین کمپنیوں پر پانچ پانچ کروڑ روپے کا جرمانہ تھونکا ہے۔چار کمپنیوں پر 50-50 لاکھ روپے کا جرمانہ لگایا گیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر سرکار کی پالیسی عوامی مفاد کے خلاف ہے تو عدالت اسے منسوخ کرسکتی ہے۔ اپنے دائرہ اختیارکا استعمال کر کورٹ کے اس فیصلے کا مقصد ہے کے اس وقت کے وزیر مواصلات اے۔ راجہ کے وقت میں لائسنس حاصل کرنے والی کمپنیاں متاثر ہوں گی۔ کورٹ نے کہا 10 جنوری2008 ء کو لائسنس منمانے اور غیر آئینی طریقے سے جاری کئے گئے تھے، جنہیں جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ وہیں بڑی عدالت نے پی چدمبرم کے مبینہ کردار کی جانچ کی مانگ پر فیصلہ نچلی عدالت پر چھوڑدیا ہے۔ پٹیالہ ہاؤس میں واقع اسپیشل عدالت کودودن میں فیصلہ سنانے کوکہا گیا ہے ممکن ہے خصوصی عدالت اپنا فیصلہ سنیچر4 فروری یعنی آج سنادے۔بڑی عدالت نے ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی یعنی ٹرائی کو ہدایت دی ہے کہ وہ دو ماہ میں ٹوجی لائسنس الاٹ کرنے کے لئے نئی سفارشیں دے۔ جسٹس جی ۔ایس سنگھوی، جسٹس اے۔ کے گانگولی کی بنچ نے سرکار سے ٹرائی کی سفارشوں پر ایک ماہ کے اندر عمل کرنے کوکہا ہے۔ فیصلے پر اپنی رائے دیتے ہوئے عرضی گذار جنتا پارٹی کے صدر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے کہا یہ سرکار کی اجتماعی ناکامی ہے۔ اس نے وارننگ کو نظرانداز کیا۔ بھاجپا نیتا ارون جیٹلی کا کہنا ہے کہ یہ ایک شخص کا نہیں بلکہ پوری یوپی اے سرکار کا فیصلہ تھا۔ٹرائی کے چیئرمین جے ایم شرما نے کہا اس فیصلے سے پانچ فیصدی لیڈروں پر اثر پڑے گا۔ یعنی اب موبائل کالیں مہنگی ہوجائیں گی یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب اترپردیش اسمبلی چناؤ سر پر ہیں۔ یقینی طور سے اپوزیشن اسے بھنانے کی کوشش کرے گی اور اسے ایک ایسا نیا اشو مل گیا ہے جس سے یوپی اے سرکار کی پریشانی بڑھ جائے گی کیونکہ یہ دور رس فیصلے ہیں ان کے اثر کو سمجھنے میں بھی ٹائم لگے گا۔ لیکن فیصلے سے صنعتی دنیا میں زلزلہ آگیا ہے۔ انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ اتنی بااثر صنعتی کمپنیوں کو یہ دن بھی دیکھنا پڑے گا۔ اس درمیان ایک ٹی وی چینل کے ساتھ بات چیت میں ڈاکٹر سوامی نے کانگریس صدر سونیا گاندھی پر سنگین الزام لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا ٹو جی معاملے میں60 فیصدی رقم سونیا گاندھی نے لی ہے اور اس کا ثبوت ان کے پاس ہے۔ اب سب کی نظریں 4 فروری کو پٹیالہ ہاؤس میں واقع خصوصی عدالت پر ٹکی ہوئی ہیں جس میں پی چدمبرم کی قسمت کا فیصلہ آئے گا۔ چدمبرم کی نجی سیاست اس فیصلے پر ٹکی ہے کچھ حد تک یوپی اے سرکار کا مستقبل بھی اس پر منحصرہے۔ اگر چدمبرم پر مقدمہ چلتا ہے تو یقینی طور سے اس کا اثر منموہن سرکار پر پڑے گا۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ سپریم کورٹ کے ان فیصلوں سے سرکار کیسے لڑتی ہے؟
2G, A Raja, Anil Narendra, Daily Pratap, P. Chidambaram, Sonia Gandhi, Subramaniam Swamy, Supreme Court, Vir Arjun

10 دسمبر 2011

۲جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں پھنستے پی چدمبرم


Published On 11th December 2011
انل نریندر
مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم کے ستارے آج کل گردش میں چل رہے ہیں۔ ان کی وجہ سے یوپی اے سرکار اور کانگریس پارٹی کی فضیحت مسلسل جاری ہے۔سی بی آئی کی عدالت نے نامور وکیل ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی اس عرضی کو منظور کرلیا جس میں چدمبرم کے خلاف ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں دو گواہوں سے پوچھ تاچھ کے لئے مانگ کی گئی تھی۔ عدالت نے دونوں گواہوں کو پیش کرنے کی اجازت دے دی لیکن یہ بھی کہا پہلے ڈاکٹر سوامی خود گواہی دیں گے اگر ان کی گواہی میں دم ہوا تو آگے کی کارروائی ہوگی۔ سوامی کی تسلی بخش گواہی کے بعد ہی دونوں گواہوں کی پیشی ہوگی۔ ایک گواہ شری کھلر جو وزارت خزانہ میں جوائنٹ سکریٹری ہیں اور دوسرے گواہ ایس سی اوستھی جو سی بی آئی میں جوائنٹ ڈائریکٹر ہیں۔ قابل غور ہے کہ وزیر داخلہ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کے وقت وزیر خزانہ تھے۔ سوامی کے مطابق ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ میں ہوئی بے قاعدگیوں کی پوری واقفیت چدمبرم کو تھی۔ وہ چاہتے تو گھوٹالہ رک سکتا تھا۔ دراصل اس وقت کے مالیات سکریٹری ڈاکٹر ڈی سبا راؤ کی جانب سے 6 جولائی 2008 ء کو لکھے ایک خط کے آؤٹ ہونے کے بعدہی سے چدمبرم پر سیاسی حملے تیز ہوگئے ہیں۔سبا راؤ کے خط سے چدمبرم اور سابق ٹیلی کمیونی کیشن وزیر اے راجہ کی اسپیکٹرم الاٹمنٹ اور اسپیکٹرم استعمال چارج ، قیمت کا تعین سمیت تمام پہلوؤں پر بحث کی تصدیق ہوتی ہے۔ خط میں وزیر اعظم منموہن سنگھ اور اس وقت کے وزیر خزانہ کے درمیان تفصیل سے ہوئی بات چیت کا بھی ذکر ہے۔ ڈاکٹر سوامی کا دعوی ہے کہ چدمبرم پر عائد الزامات کے بارے میں ان کے پاس کافی ثبوت ہیں اور وہ عدالت میں انہیں ثابت کرسکتے ہیں۔ اس وقت کے وزیر خزانہ چاہتے تو ٹوجی اسپیکٹرم لائسنس پانے والی کمپنیوں کی اکویٹی فروخت کئے جانے کو روک سکتے تھے لیکن انہوں نے اس کی رضامندی دے دی تھی۔ یہ بات 5 نومبر 2008ء کو اے راجہ کو لکھے خط سے پتہ چلتی ہے۔ راجہ کا یہ نوٹ سوامی کو سونپے گئے 400 دستاویزات کا حصہ ہے۔ ظاہر ہے کہ اس نوٹ کے سامنے آنے سے چدمبرم کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں۔ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں چدمبرم کے کردار کو لیکر یہ دوسرا بڑا سنسنی خیز انکشاف ہے۔ اس سے پہلے کیبنٹ سکریٹریٹ کو وزارت مالیات کی جانب سے بھیجے گئے اس نوٹ سے واویلا کھڑا ہوچکا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ چدمبرم وزیر مالیات رہتے ہوئے چاہتے تواس گھوٹالے کوروک سکتے تھے۔ عدالت کے حکم کے بعد وزیر داخلہ پی چدمبرم ایک بار پھر نشانے پر آگئے ہیں اور ان کے استعفے کی مانگ کو لیکر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ہنگامہ ہوا جس سے کارروائی ٹھپ رہی۔ اپوزیشن کا کہنا ہے ان کے عہدے پر رہتے ٹوجی اسپیکٹرم جانچ متاثر ہوگی۔ اپوزیشن کے مطالبہ کو درکنار کرتے ہوئے وزیر قانون سلمان خورشید نے کہا دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات میں چدمبرم یا سرکار کے خلاف کوئی بات نہیں ہے۔
پارلیمنٹ کی کارروائی ٹھپ کرنے کے لئے اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے خورشید نے کہا اپوزیشن نہیں چاہتی کہ سرکار مہنگائی کے مورچہ پر اپنے کارناموں کو بتائے۔ خود پی چدمبرم نے جمعرات کو کسی بھی طرح کا رد عمل دینے سے انکارکردیا۔ اخبارنویسوں کے ذریعے بار بار پوچھے جانے پر بھی وہ خاموش رہے۔ جہاں تک کانگریس پارٹی کا سوال ہے بیشک جنتا میں تو پارٹی چدمبرم کا ساتھ دے رہی ہے لیکن اندر خانے وہ سمجھ رہی ہے کہ چدمبرم پھنستے جارہے ہیں۔ ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے میں پھنسنے کے علاوہ ان کے چناؤ کو بھی چیلنج کا ایک معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ اس کا فیصلہ بھی جلد آسکتا ہے۔ اگر 17 دسمبر کو سی بی آئی عدالت میں جج او پی سینی سوامی کی دلیلوں سے متفق ہوگئی تو دونوں گواہوں کو پیش ہونے کا حکم دیا جائے گا۔ ڈاکٹر سوامی کے پاس چدمبرم کو پھنسا نے کے دستاویز ہونے کا دعوی پختہ ہوسکتا ہے اگر چدمبرم کے خلاف کوئی بھی کارروائی ہوئی تو سرکار اور پارٹی کو انہیں بچانا مشکل ہوسکتا ہے۔ اگلے کچھ دن نہ صرف چدمبرم کیلئے مشکل بھرے ہیں بلکہ وزیراعظم منموہن سنگھ اور کانگریس پارٹی کے لئے بھی یہ چیلنج بھرے ثابت ہوسکتے ہیں۔
2G, A Raja, Anil Narendra, Daily Pratap, Manmohan Singh, P. Chidambaram, Subramaniam Swamy, Vir Arjun

26 نومبر 2011

ٹوجی گھوٹالے میں کارپوریٹ افسروں کو ملی ضمانت



Published On 26th November 2011
انل نریندر
ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کے معاملے میں پہلی مرتبہ کسی کو ضمانت ملی ہے۔ سپریم کورٹ نے بدھوار کو پانچ کارپوریٹ کمپنیوں کے ملزم افسرو ں کو ضمانت دے دی ہے۔ ضمانت پانے والے ہیں سنجے چندرا ، ونود گوئنکا، ہری نائر، گوتم دوشی اور سریندر تپارا۔ ملزمان نے نچلی عدالت اور ہائیکورٹ میں ضمانت عرضی خارج ہونے پر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا معاملے میں ملزمان کے خلاف اقتصادی جرائم کا الزام ہے اور اگر یہ ثابت ہوتا ہے اس سے دیش کی معیشت کو خطرہ ہوسکتا ہے لیکن سی بی آئی نے یہ نہیں کہا کہ ضمانت پر رہا ہونے کے بعد ملزم ثبوتوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔ ہم ایسی کوئی وجہ نہیں دیکھتے کہ جس سے ملزم کو حراست میں رکھا جائے اور وہ بھی تب تک جب اس معاملے میں چھان بین پوری ہوچکی ہے اور چارج شیٹ داخل ہوچکی ہے۔ ملزمان چھ مہینے سے زیادہ جیل میں رہ چکے ہیں اس معاملے میں انہیں حراست میں رکھنے کا کوئی مقصد پورا نہیں ہوتا۔ ایسے میں ملزمان کو پانچ پانچ لاکھ روپے کے بونڈ پر ضمانت دینے کا حکم صادر کیا جاتا ہے۔ عدالت نے ضمانت دینے کے ساتھ ساتھ کچھ شرطیں بھی لگائی ہیں۔ انہیں ضمانت دئے جانے کے بعد کنی موجھی سمیت چھ ملزمان کو ضمانت ملنے کی امید بڑھ گئی ہے۔ ٹوجی گھوٹالے میں ابھی بھی2 فروری سے اے راجہ بند ہیں۔کنی موجھی20 مئی سے تہاڑ جیل میں ہیں ۔ شرد کمار ( ایم ڈی کلیگنر ٹی وی) بھی 20 مئی سے بند ہیں۔ آر کے چندولیا 2 فروری کو جیل میں گئے تھے۔ سدھارتھ بہورہ جو سابق ٹیلی کام سکریٹری بھی ہیں 2 فروری سے جیل میں ہیں۔ شاہد عثمان بلوا سوان کے پرموٹر 2 فروری سے تہاڑ جیل میں ہیں۔ آصف بلوا (شاہد کا بھائی) 29 مارچ سے جیل میں ہیں۔ راجیو اگروال ڈائریکٹر کسے گاؤں فوڈس اینڈ ویجی ٹیبل پرائیویٹ لمیٹڈ29 مارچ کو جیل گئے تھے۔ کریم نورانی جو ایک فلم پروڈیوسر ہیں اور شاہ رخ خان کے دوست بھی ہیں 20 مارچ سے تہاڑ جیل میں بند ہیں۔
کسی مجرمانہ معاملے میں ملزم کو کتنی میعاد تک جوڈیشیل حراست یعنی جیل میں رکھا جائے اور کب اسے ضمانت ملنی چاہئے یہ سوال اکثر اٹھتا ہے۔ ان دنوں بھی یہ سوال زیر بحث ہے۔ کچھ دن پہلے دگوجے سنگھ نے بھی ایسے ہی سوال اٹھائے تھے اور کہا تھا کسی ملزم کے خلاف چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد اسے جیل میں رکھنے کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا اس لئے اسے ضمانت ملنی چاہئے۔ حالانکہ ان کے اس بیان کی کافی تنقید ہوئی تھی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ وہ عدالتوں کو ہدایت دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ دگوجے سنگھ کیونکہ ایک منجھے ہوئے سیاستداں ہیں اس لئے ان کے بیان پر رائے زنی ہونا فطری بات ہے لیکن کچھ عرصے پہلے خود سپریم کورٹ کی ایک تین نفری بنچ نے کہا تھا کہ وہ زیر بحث معاملوں میں ملزمان کو ضمانت نہ دینے کی عدالتوں کی مبینہ نئے ٹرینڈ کی پڑتال کریں گے کیونکہ یہ ٹرینڈ اس کے ذریعے قائم عدلیہ اصول کے خلاف ہے جو کہتا ہے کہ ضمانت ایک قاعدہ ہے اور جیل ایک مصیبت ہے۔ سپریم کورٹ کی یہ پہل یقینی ہی لائق تحسین ہے لیکن سوال اٹھتا ہے کہ صرف ہائی پروفائل معاملوں پر ہی کیوں چھوٹے موٹے معاملوں میں بھی ملزمان کو عدالت کے برسوں تک چکر لگانے پڑتے ہیں۔ جب انہیں ضمانت ملتی ہے یا مقدمے کا فیصلہ آتا ہے اس وقت تک وہ سزا سے زیادہ وقت تو جیل میں گذار دیتے ہیں۔ تہاڑ جیل میں زیر سماعت قیدیوں کی تعداد دیکھی جائے تو نچلی عدالتوں کے ضمانت نہ دینے کی وجہ سے بہت سے ملزمان جیل میں بند پڑے رہتے ہیں۔ جہاں تک ٹو جی اسپیکٹرم مقدمے کا تعلق ہے جیل بھیجنا تو ٹھیک ہے لیکن اس سے زیادہ اہم ہے پیسوں کی برآمدگی ۔ اور اس سمت میں نہ تو حکومت اور نہ ہی سی بی آئی کوئی ٹھوس قدم اٹھا رہی ہے۔ ایک لاکھ 60-70 ہزار کروڑ کے اس گھوٹالے میں آپ نے درجنوں لوگوں کو اندر تو کردیا لیکن جو پیسہ انہوں نے لوٹا وہ دیش کا ورثہ ہے اس کا کیا ہوا؟ کنی موجھی اور دیگر کی اب ضمانت ہوجائے گی۔ مقدمہ برسوں تک چلتا رہے گا۔آخر میں کچھ کو سزا بھی ہوسکتی ہے لیکن بنیادی سوال وہی اٹھتا ہے کہ لوٹے دھن کی برآمدگی کیسے ہوگی؟
2G, A Raja, Anil Narendra, Daily Pratap, Karim Morani, Reliance Telecom, Shahid Balwa, Supreme Court, Swan Telecom, Unitech Wireless, Vir Arjun

25 نومبر 2011

چدمبرم کا بائیکاٹ سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ہے


Published On 25th November 2011
انل نریندر
پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس شروع ہوتے ہی پہلے ہی دن سے سیاسی سرگرمی کی آنچ تیزی دکھانے لگی ہے۔ اجلاس کے آغاز میں اور وزیر داخلہ پی چدمبرم کے بائیکاٹ سے لوک سبھا میں لیفٹ پارٹیوں کے نوٹس پر مہنگائی پر ہونے والی بحث میں بھی ایوان کا پارہ گرم ہوگیا۔ بڑھتی مہنگائی کے مسئلے پر اپوزیشن پارٹیوں کے تحریک التوا کے نوٹس پر بحث کے درمیان وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے اعتراف کیا کہ امید کے مطابق نتیجے حاصل نہیں ہوسکے۔ انہوں نے جیسا کہ اب ان کی عادت سی بن گئی ہے مہنگائی کا ٹھیکرہ ڈیمانڈ اور سپلائی میں عدم توازن، ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت میں گراوٹ اور دیگر بین الاقوامی اسباب پر پھوڑدیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے افراط زر شرح مارچ2012ء کے آخر تک 6.7 فیصد تک آجائے گی۔ پرنب دا کے بیان سے اپوزیشن بھڑک اٹھا۔ سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا نے پرنب مکھرجی کے بیان کو نمبروں کا کھیل اور جنتا کو مایوس کرنے والا بتاتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر مہنگائی کا یہی حال رہا تو لوگ جلد ہی تشدد پر اتر آئیں گے۔ این ڈی اے ایوان کے پہلے ہی دن یہ اشارہ دے چکا ہے ۔وزیر داخلہ پی چدمبرم کے بائیکاٹ کے اپنے فیصلے پر پوری طرح عمل کریں گے۔ حالانکہ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اپنے وزیر داخلہ کو بچانے کی پوری کوشش کی۔ انہوں نے کہا جہاں تک وزیر داخلہ کے بائیکاٹ کی بات ہے مجھے امید ہے سیاسی پارٹیاں اس طرح کے کسی قدم سے بچیں گی۔ کیونکہ وزیر داخلہ کے بائیکاٹ کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ دوسری طرف این ڈی اے کی جانب سے چدمبرم کے بائیکاٹ کو پوری طرح سے واجب قراردیتے ہوئے بھاجپا نے کہا یہ اپوزیشن کا جمہوری حق ہے۔ ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں وزیر اعظم کے نام لکھے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کے پرچے کو عام ہونے کے پیش نظرایسا کیا جانا فطری قدم ہے۔ بھاجپا کے سینئر لیڈر وینکیانائیڈو نے اخبار نویسوں سے کہا کانگریس ماضی گذشتہ میں جارج فرنانڈیز کے ساتھ ایسا کرچکی ہے جب بے قصور جارج فرنانڈیز کو انہوں نے چھ مہینے تک بولنے نہیں دیا تھا۔ اب یہ ایک اتفاق ہی ہے کہ اگر چدمبرم نے پہل کی ہوتی تو یہ گھوٹالہ روکا جاسکتا تھا۔چدمبر کو بھاجپا ٹوجی گھوٹالے میں اتنا ہی ذمہ دار مانتی ہے جتنا اے راجہ کو۔ اس کا کہنا ہے جب چدمبرم وزیر خزانہ ہوا کرتے تھے اس وقت راجہ جی جو بھی کررہے تھے ۔اس سبھی کے بارے میں نہ صرف چدمبرم کو واقفیت تھی بلکہ انہوں نے راجہ کی حمایت بھی کی تھی۔ انہوں نے راجہ کے اٹھائے گئے اقدامات کو اپنی رضامندی دی اگر وہ چاہتے تو اسی وقت اس گھوٹالے کو ہونے سے روک سکتے تھے۔ بھاجپا نے اپنے الزامات کی بنیاد پر وزارت مالیات کے پچھلے سال وزیر اعظم کے دفتر کو بھیجے گئے اس نوٹ کو بھی جواز بنایا جو اس سال 25 مارچ کو بھیجا گیا تھا۔ اس نوٹ سے صاف ہوجاتا ہے کہ ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ کی نیلامی کے بجائے ''پہلے آؤ پہلے پاؤ'' کی پالیسی بنانے کے لئے بھی وزیر خزانہ کی شکل میں چدمبرم نے اپنی منظوری دی تھی۔ یہ ہی نہیں راجہ نے باقاعدہ چدمبرم کو اس بارے میں خط بھی لکھا اور میٹنگ بھی کی تھی۔ ایسے میں چدمبرم اس گھوٹالے کیلئے اتنے ہی ذمہ دار ہیں جتنے راجہ۔ دراصل چدمبرم کا بائیکاٹ کرکے این ڈی اے ایک تیر سے کئی نشانے لگانے کی کوشش کی ہے۔ حکومت اور چدمبرم کے لئے ایک عجیب و غریب صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ وہیں چدمبرم کو پسند نہ کرنے والے ٹیم انا کے لوگ بابا رام دیو اور تاملناڈو کی چیف منسٹر جے للتا تک نے بھی ایک میسج بھیجا ہے۔ بائیکاٹ کا وقت ماننا پڑے گا کہ اچھا ہے جنتا پارٹی کے صدر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی اپیل پر یہ معاملہ عدالت میں ہے۔ چدمبرم کی لوک سبھا سیٹ بھی خطرے میں ہے کیونکہ ان کے چناؤ کے خلاف ایک عرضی کا فیصلہ کبھی بھی آسکتا ہے۔ ڈاکٹر سوامی کی ڈیمانڈ پر سی بی آئی کو ٹی جی سے وابستہ کاغذات دینے پڑے ہیں۔ سوامی دعوی کررہے ہیں کہ چدمبرم کو پوری جانکاری تھی اور وہ اسے دستاویزات کے ساتھ ثابت بھی کرسکتے ہیں۔ این ڈی اے نے نہ صرف دباؤ بنایا بلکہ ایک سیاسی پیغام بھی دے دیا ہے۔ بابا رام دیو اور ان کے ساتھ رام لیلا میدان میں بیٹھے لوگوں پر پولیس کارروائی کے پیچھے بھی وزیر داخلہ کا حکم مانا جارہا تھا۔ بابا رام دیو کے حمایتیوں کی طرح ٹیم انا کے بھی کافی لوگ مانتے ہیں کہ انا اور ساتھیوں کی گرفتاری اور اس کے بعد معاملے کو الجھانے میں وزیر داخلہ اور وزیر انسانی وسائل کپل سبل کا خاص رول رہا۔ ادھر تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا کو اپنی ہی ریاست کے چدمبرم کو ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔یہ بھی غور طلب ہے کہ گذشتہ ایتوار کو جے للتا کی پہل پر انا ڈی ایم کے کے تھمبی دورئی رام لیلا میدان میں ایل کے اڈوانی کی ریلی میں آئے تھے۔ اس کے ایک دن بعد چدمبرم کے بائیکاٹ کا فیصلہ ہوگیا۔ جے للتا ممکن ہے مستقبل میں این ڈی اے سے جڑ جائیں۔ کل ملاکر بھاجپا کو لگتا ہے ان کے بائیکاٹ کی پالیسی صحیح سمت میں صحیح قدم ہے۔
2G, A Raja, Anil Narendra, BJP, CBI, Congress, Daily Pratap, Jayalalitha, L K Advani, P. Chidambaram, Rath Yatra, Vir Arjun

28 ستمبر 2011

اب کیا ہوگا آگے: نظریں سپریم کورٹ پر لگیں



Published On 28th September 2011
انل نریندر
دیش کے لئے کتنے دکھ کی بات ہے کہ امریکہ میں وزیراعظم اور وزیر مالیات سے ٹو جی گھوٹالے پر سوال پوچھے جارہے تھے ۔ ساری دنیا میں گھوٹالوں کی اس حکومت نے پورے دیش کی عزت مٹی میں ملا دی ہے۔ پتہ نہیں دنیا بھارت کے بارے میں کیا سوچتی ہوگی؟ ادھر دیش میں اس حکومت کی مشکلیں بڑھتی جارہی ہیں۔ ٹوجی گھوٹالے میں روز نئی پرتیں کھل رہی ہیں جیسے جیسے نئے نئے معاملے سامنے آرہے ہیں پتہ چل رہا ہے کہ اس گھوٹالے کی اوپر سے نیچے تک سب کو خبر تھی لیکن کسی نے بھی اس کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ بیشک وزیر اعظم ، وزیر خزانہ بھلے ہی خود گھوٹالے میں شامل نہ رہے ہوں لیکن اس سے تو اب وہ انکار نہیں کرسکتے کہ سب کچھ ان کی جانکاری میں اور کچھ حد تک ان کی رضا مندی سے ہوا ، بیشک وزیر اعظم اس وقت کے وزیر خزانہ کو کلین چٹ دے رہے ہوں اور کہہ رہے ہوں کہ انہیں وزیر داخلہ پر پورا بھروسہ ہے لیکن اس سے اب تک بات بننے والی نہیں۔ٹوجی گھوٹالے پر پوری طرح سے گھر چکی حکومت کے سنکٹ موچکوں کے قدم اب ختم ہونے لگے ہیں۔ سرکار کی سینئر لیڈر شپ کو اب اس گھوٹالے کے جال سے بچانے کیلئے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ سابق وزیر مواصلات اے راجہ کے فیصلے سے دیش کے خزانے کو کسی طرح کا نقصان نہیں ہوا ہے۔ گذشتہ ہفتے عدالت کے سامنے پیش ٹی آر اے آئی کی رپورٹ اسی کوشش کا حصہ تھی جو اوندھے منہ گر پڑی۔ گھوٹالے کی جانچ کررہی جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی اس نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کررہی ہے۔ راجہ کے فیصلوں میں سرکار کی سینئر لیڈر شپ کی رضامندی کو ثابت کرنے والے تمام دستاویزی ثبوت دیش اور عدالت کے سامنے ہیں۔اے راجہ کے فیصلوں سے جو محصول کو نقصان ہوا اس کے بارے میں پہلے اگر قانونی طور پرثابت ہوجاتا تو پھر وزیر اعظم اور اس وقت کے وزیر خزانہ اس نقصان کی درپردہ ذمہ داری سے بچ سکیں۔ لائسنس لینے والی ایک کمپنی ایئر ٹیل کی ایک چٹھی سرکار کے لئے مصیبت بنے گی۔ وزیر اعظم کو معلوم تھا کہ کمپنیاں ٹوجی اسپیکٹرم کی اونچی قیمت دینے کو تیار تھیں۔ نومبر 2007 میں سیدھی منموہن سنگھ کو لکھی چٹھی میں ایئرٹیل نے اسپیکٹرم کے لئے 6 ہزار کروڑ روپے دینے کی پیشکش کی تھی۔ کمپنی نے بعد میں اسے بڑھا کر13752 کروڑ روپے تک کردیا تھا۔ بازار میں ان اشاروں کے باوجود راجہ نے اسپیکٹرم کو کم قیمت پر فروخت کردیا اور پی ایم او اس فیصلے میں راجہ کے ساتھ کھڑا رہا۔ اسپیکٹرم میں کل کتنا خسارہ ہوا یا گھوٹالہ ہوا اس نقصان کے اندازہ میں کیگ نے ایئر ٹیل کی چٹھی میں مجوزہ قیمت کو ہی اہمیت اشو بنایا ہے۔ راجہ کے فیصلے سے وزیر اعظم اور اس وقت کے وزیر خزانہ کی بے توجہی کی دلیل سامنے آگئی۔ راجہ کے فیصلوں سے بدعنوانی تو صاف ہے البتہ اس فیصلے سے محصول کو نقصان کی دلیل ابھی تنازعات میں ہے۔ کیگ 1 لاکھ76 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا اندازہ لگا چکی ہے جس کو سرکار نے مسترد کردیا ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں تازہ جانکاری کے بعد یہ ثابت کرنے کی آخری کوشش ہوگی کہ 2001 کی قیمتوں پر2008 میں اسپیکٹرم بیچنے سے خزانے کو کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔ یہ ہی آخری راستہ ہے جس سے بدعنوانی کا ٹھیکرا اے راجہ کے سر پھوٹے گا اور سرکار کی لیڈر شپ دیش کا نقصان کرنے کے الزام سے بچ سکے گی۔ ویسے سی بی آئی نے اے راجہ پر کرپشن کا جو مقدمہ چلایا اس میں یہ درج ہے کہ وزیر مواصلات کے فیصلوں سے دیش کو قریب 30 ہزار کروڑروپے کا نقصان ہوا۔ سی بی آئی کو سابق وزیر مواصلات یا بے ضابطگی پر مقدمے کے لئے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ راجہ کے فیصلے سے خزانے کو بھاری چپت لگی ہے۔ اب سب کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہیں ۔دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ آج وزیر داخلہ پی چدمبرم کی اسپیکٹرم میں کردار کی جانچ کو لیکر کیا فیصلہ لیتی ہے۔ یوپی اے اور کانگریس ایک ناگزیں بحران میں پھنس گئی ہیں۔ جس کا فی الحال توکوئی توڑ نہیں نکل پارہا ہے۔ کانگریس صرف اس بات سے فکر مند نہیں چدمبرم پر حملہ کیا جارہا ہے بلکہ اس کی اصلی پریشانی بھاجپا کی وزیر اعظم کو لپیٹنے کی اسکیم سے ہے۔ اگر بھاجپا ایک بار پھر چدمبرم کے خلاف جانچ شروع کرانے میں کامیاب ہوگئی تو اس جانچ کی آنچ اپنے آپ وزیر اعظم تک پہنچ جائے گی۔منگلوارکو سپریم کورٹ میں اس معاملے کی سماعت ہوئی ہے۔ لیکن تازہ اطلاع کے مطابق یہ معاملہ آج تک یعنی بدھوار تک کے لئے ملتوی ہوگیا ہے۔ دیکھیں عدالت میں آج کیا ہوتا ہے؟
2G, A Raja, Anil Narendra, CAG, Corruption, Daily Pratap, Manmohan Singh, P. Chidambaram, Pranab Mukherjee, Prime Minister, Scams, Supreme Court, Vir Arjun

24 ستمبر 2011

چدمبرم حکومت اور پارٹی دونوں کے لئے لائبلٹی بن گئے ہیں



Published On 24th September 2011
انل نریندر
پونے دو لاکھ کروڑ روپے کے ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں ایک اہم موڑ آگیا ہے۔ اب اس گھوٹالے کے گھیرے میں اس وقت کے وزیر مالیات اور موجودہ وزیر داخلہ پی چدمبرم آگئے ہیں۔ ان پرالزام اپوزیشن یا جانچ ایجنسی سی بی آئی نے نہیں بلکہ موجودہ وزیر پرنب مکھرجی کی جانب سے لگائے گئے ہیں۔ پرنب مکھرجی کی جانب سے25 مارچ2011 کو وزیر اعظم کے دفتر کو لکھے خط میں کہا گیا ہے کہ اگر چدمبرم چاہتے تو ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالہ روک سکتے تھے لیکن انہوں نے 30 جنوری 2008 کو اے راجہ سے ملاقات میں انہیں پرانی شرحوں پر اسپیکٹرم کرنیں بیچنے کی اجازت دے دی۔ انہوں نے کہا میں اب اینٹری فیس یا ریوینیو شیرینگ کی شرحوں کو ریوزٹ یعنی جائزہ نہیں لینا چاہتا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اگر چدمبرم چاہتے تو اسپیکٹرم کی پہلے آؤ اور پہلے پاؤں کی جگہ مناسب قیمت پر نیلامی کی جاسکتی تھی۔ گیارہ صفحات پر مبنی یہ خط آنے والے وقت میں چدمبرم کے لئے مصیبت کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ خط آر ٹی آئی کے تحت وویک گرگ نے حاصل کی ہے۔ جنتا پارٹی کے صدر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے یہ خط سپریم کورٹ میں جسٹس جی ایس سنگھوی اور جسٹس اے کے گانگولی کی بنچ کے سامنے دستاویز کے طور پر پیش کیا ہے۔ وزارت مالیات میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر مامور ڈاکٹر پی جی ایس راؤ نے وزیر اعظم کے دفتر میں جوائنٹ سکریٹری ونی مہاجن کو25 مارچ 2011 کو یہ خط بھیجا تھا۔ اس خط سے صاف ہے کہ پرنب مکھرجی یہ اشارہ دینا چاہ رہے ہیں کہ اگر پی چدمبرم اڑ جاتے تو شاید ٹیلی کام گھوٹالے کے چلتے دیش کو لاکھوں کروڑوں روپے کا نقصان نہ ہوتا۔ وزارت پی ایم او کو بھیجے ہوئے خط میں کہتی ہے کہ وزارت مالیات 31 دسمبر2008 تک کے لائسنس 2001 کے دام پر بیچنے کے لئے تیار ہوگئی۔
چدمبرم پر سیدھا الزام لگتا ہے کہ اے راجہ جو کچھ کررہے تھے ان کو وزیر داخلہ کی رضامندی حاصل تھی۔ یہ ہی نہیں 30 جنوری2008 کو انہوں نے اے راجہ سے میٹنگ کرکے انہیں پرانی شرحوں پر اسپیکٹرم بیچنے کی اجازت دی۔ اے راجہ بھی شروع سے یہ ہی کہہ رہے ہیں کہ میں نے جو کچھ بھی کیا وہ پی ایم او اور وزارت داخلہ کی منظوری اور علم میں لاکر کیا۔ اب یہ الزام تو کچھ سرکاری دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے۔ پہلے آؤ پہلے پاؤ کی جگہ زیادہ قیمت پر اسپیکٹرم کی نیلامی کی جاسکتی تھی لیکن پی چدمبرم نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ کمپنیوں کو دئے گئے یو اے ایس لائسنس کی سہولیت 5.1 سرکار کو لائسنس کی شرائط کو کسی بھی وقت بدلنے کی اجازت دیتا ہے بشرطیکہ یہ مفاد عامہ میں ہو یا سلامتی کے لئے ضروری ہو لیکن چدمبرم نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ وزارت مالیات نے ٹیلی کام سیکٹر میں پیداوار کی تناسب فیس طے کرنے کی بات کی تھی۔ راجہ اس سے متفق نہیں تھے۔ چدمبرم نے اس کی بھی مخالفت نہیں کی۔ وزارت مالیات 4.4 میگا ہارٹس سے اوپر کی اسپیکٹرم کرنوں کو بازار کے بھاؤ بیچنا چاہتی تھی۔ راجہ نے یہ حد 6.2 میگا ہارٹس کردی۔ چدمبرم اسی پر مان گئے لیکن کسی بھی کمپنی کو6.2 میگاہارٹس سے اوپر اسپیکٹرم کرنیں نہیں دی گئیں۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ سرکار4.4 میگاہارٹس سے اوپر کی نیلامی والے موقف پر قائم رہتی اور کمپنیوں سے نئے داموں پر پیسہ وصولتی لیکن یہ بھی نہیں ہوا۔ یوپی اے کے اندر ایک طرح سے چھڑی خانہ جنگی سے وزیر اعظم کا پریشان ہونا فطری ہی ہے۔ وزیراعظم آج کل امریکہ میں کار فرماں ہیں۔ منموہن سنگھ نے پرنب مکھرجی اور چدمبرم دونوں سے فون پر بات چیت کی ہے۔ جمعرات کی شام وزیر داخلہ پی چدمبرم نے ایک بیان جاری کر دونوں لیڈروں سے بات ہونے کی جانکاری دی۔ انہوں نے کہا میں نے وزیر اعظم کو پورے معاملے سے باآور کیا ہے کہ جب تک وہ غیر ملکی دورے سے لوٹتے ہیں میں اس موضوع پر کوئی بیان نہیں دوں گا۔ وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ 27 ستمبر کو نیویارک سے بھارت واپس آئیں گے۔ ادھر وزیر خزانہ نے بھی نیویارک سے میڈیا سے کہا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اس لئے میں کچھ نہیں کہوں گا۔ وزیر مرکزی وزیر قانون سلمان خورشید نے کہا کہ چدمبرم پر سوال نہیں کھڑے کئے جاسکتے ہیں۔ وہ سرکار کی حمایت کے حقدار ہیں۔ مرکزی وزیر اطلاعات امبیکا سونی نے بھی سرکار میں دراڑ کے پیدا ہونے کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا جو بھی رپورٹیں آرہی ہیں ان میں سچائی نہیں ہے۔ ٹوجی اسپیکٹرم معاملے کی جانچ کرنے والی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین اور بھاجپا کے سینئر لیڈر ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی نے کہا کہ چدمبرم فوراً استعفیٰ دیں یا انہیں برخاست کیا جائے۔ سی پی ایم نے چدمبرم کے کردار کی سی بی آئی جانچ کی مانگ کی ہے۔ ادھر تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا نے کہا کہ چدمبرم ٹو جی کیس میں ملوث ہیں اور یہ صاف ہوچکا ہے۔ نیویارک سے وزیر اعظم نے کہا انہیں چدمبرم پر پورا بھروسہ ہے۔ چوطرفہ پریشانیوں سے گھری یہ یوپی اے حکومت کے لئے وقت دن بدن مشکلوں بھرا ہوتا جارہا ہے کیونکہ اس مرتبہ سارے الزام ایک سرکاری دستاویز کی بنیاد پر لگ رہے ہیں۔ اس لئے اس سرکار کے لئے اس سے نکلنا آسان نہ ہوگا ۔ رہا سوال پی چدمبرم کا وہ تو اب سرکار اور کانگریس پارٹی کیلئے ایک لائبلٹی بنتے جارہے ہیں۔
2G, A Raja, Anil Narendra, Daily Pratap, Manmohan Singh, P. Chidambaram, Pranab Mukherjee, Salman Khursheed, UPA, Vir Arjun,

16 ستمبر 2011

تہاڑ جیل میں کیسے گذار رہے ہیں اپنا وقت یہ وی آئی پی قیدی


Published On 16th September 2011
انل نریندر
دہلی کی تہاڑ جیل کا نام وی آئی پی جیل کردینا چاہئے۔پچھلے کچھ دنوں سے یہاں ایک سے ایک بڑا نیتا مہمان بن رہا ہے۔ سلاخوں کے پیچھے امرسنگھ ، اے راجہ، کلماڑی، کنی موجھی جیسے اپنا دن کیسے گذارتے ہیں سنئے ۔ پہلے بات کرتے ہیں امر سنگھ کی۔ امرسنگھ کے لئے جیل کے قاعدے قانون اور روایات طاق پر رکھ دی گئیں۔ صحت کا حوالہ دیکر امرسنگھ کو پیر کی دیر شام آل انڈیا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ بھیج دیا گیا۔ قاعدے کے مطابق انہیں پہلے دین دیال اپادھیائے اسپتال بھیجا جانا چاہئے تھا۔ یہ پہلا موقعہ ہے جب کسی قیدی کو علاج کے لئے براہ راست میڈیکل بھیجا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ امر سنگھ کو جیل میں سہولت دینے کو لیکر بڑھتے سیاسی دباؤسے عاجز آکر جیل کے ڈائریکٹر جنرل چھٹی پر چلے گئے ہیں۔ جیل کے ملازم بھی امر سنگھ کے نخروں سے پریشان ہوگئے تھے۔ڈی آئی جی جیل آر این شرما نے بتایا کہ تہاڑ میں کوئی وی آئی پی نہیں ہے۔ سبھی قیدیوں کو برابر حق اور سہولیات ہیں۔دراصل کلماڑی کے ساتھ اپنے دفتر میں چائے پلانے کے چلتے جیل سپرنٹنڈنٹ بھاردواج کوکالا پانی (پورٹ بلیئر) بھیج دیا گیا ہے۔ یہ سختی اسی کا اثر ہے۔ ایک وارڈن مسکراکر کہتا ہے کہ یہ وہی امر سنگھ ہے جنہیں کچھ دن پہلے تک امیتابھ بچن خود گاڑی چلا کر ہوائی اڈے سے اپنے گھر لاتے تھے۔ جنہوں نے اپنے گھر پر کروڑوں روپے کی سجا دھجا کرائی ہوئی تھی۔ وہی امر سنگھ آج 10X15 کے ایک سیل میں زمین پر سو رہے ہیں۔ جس میں ایک چھوٹا سا ٹی وی سیٹ اور پنکھا ہے۔ انہیں جیل سے چار کمبل، دو بیڈ شیٹ، ایک تھالی، کٹوری، چمچ، گلاس اور ایک مٹکا ملا ہوا ہے۔ بڑی پارٹیوں کے درمیان اربوں کھربوں کی سودے بازی کرنے والے امر سنگھ کی جیل میں 1500 روپے وہ بھی جیل کوپن کی شکل میں۔
صبح چھ بجے حاضری کے وقت ایک کے بعد ایک نام پکارے جاتے ہیں۔ امر سنگھ کا نام آتا ہے تو سنتری پکارتا ہے امرسنگھ جی، سریش کلماڑی، اے۔راجہ، کنی موجھی وغیرہ کئی بار خود بغیر نام کے پکارے رجسٹر پر صحیح نشان لگا دیتے ہیں۔ پھر پرارتھنا ’اے مالک تیرے بندے ہم‘ پچھلے 20 سال سے تہاڑ میں روزانہ صبح لتا منگیشکر کی آواز میں یہ پرارتھنا بجتی ہے۔ سبھی قیدی اسے دوہراتے ہیں۔ پھر چائے اخبار پھر کچھ دیر کے لئے ٹی وی ، پھر کچھ کا سیر کرنا، کچھ کا کام سانپ سیڑھی، لوڈو، کیرم اور شطرنج کھیلنا۔ پھر کھانا پینا اور سونا۔ راجہ کی اہلیہ پرمیشوری جمعرات کو ان سے ملنے پہنچیں لیکن کنی موجھی اتنی خوش قسمت نہیں تھیں ان سے ملنے کے لئے ایک تامل کوی نے ایک ممبر پارلیمنٹ کی معرفت عرضی دی تھی، جسے جیل حکام نے نامنظور کردیا۔ اسی طرح جیل نمبر 3 کے گیٹ پر سفید کرتا پائجامہ پہنے درجن بھر سے زیادہ لوگ جمع تھے۔ صبح11 بجے سے دیر شام تک کچھ ممبران اسمبلی اور دیگر خود کو بڑا نیتا بتا رہے تھے۔ ممبر پارلیمنٹ کلستے اور بھگورا سے ملنے مدھیہ پردیش اور راجستھان سے آئے تھے۔ جیل انتظامیہ نے انہیں منظوری نہیں دی تھی۔ جیل کے ترجمان سنیل گپتا بتاتے ہیں ساڑھے بارہ بجے قیدیوں میں صرف دو کے لئے گھر سے کھانا آتا ہے راجہ اور کنی موجھی۔ عدالت نے اس کی خاص اجازت دی ہوئی ہے۔ لیڈیز جیل میں کنی موجھی گھل مل گئی ہیں۔ خاتون سنتری انہیں دیدی کہہ کر بلاتی ہے۔ قاعدے کے مطابق ہفتے میں دو ملاقاتیں ہوسکتی ہیں وہ بھی گھر والوں سے۔ وہی کپڑے لیکر آتے ہیں ،ہفتے بھر کے لئے 1500 روپے دئیے جاتے ہیں۔ ان میں کینٹین سے کچھ پکوان مٹھائی خریدی جاسکتی ہے۔ راجہ ٹی وی چینل اور فلمیں دیکھ کر وقت گذار رہے ہیں۔ شاہد بلوا نے آئی پیڈ، کولر اور نرم تکیہ اور گدا بھی مانگا ہے۔ وہ ہندی فلمیں دیکھ کر وقت کاٹ رہے ہیں۔ ہاں جیل میں سیلون ، کپڑوں پر پریس، ڈرائی کلین اور سامان خریدنے کیلئے کینٹین کی سہولت ہے۔ کوپن کے ذریعے جو چاہے خریدلو۔ کلماڑی نے جھانسی کی رانی سیریل دیکھنے کے لئے ٹی وی مانگا تھا۔ سنتری کہتا ہے کلماڑی گھنٹوں رجسٹر میں کچھ لکھتے رہتے ہیں۔کیا لکھتے ہیں کوئی نہیں جانتا۔ کیا وہ کس کس کو کیا دیا اس کا حساب کتاب لکھ رہے ہیں کیونکہ ان کی یاد داشت آتی جاتی رہتی ہے؟ زیادہ تر وی آئی پی دو مرکزی وزیر، ایک سابق وزیر اعلی، چھ سابق ممبر پارلیمنٹ، دو سابق اعلی افسر،پندرہ صنعت کار زیر سماعت قیدی ہیں۔ ان سے جیل کا کام نہیں کروایا جاتا۔ جس جیل میں رہتے ہیں اس کی صفائی ملازم کرتے ہیں۔ امر سنگھ کے ساتھ تین قیدی اس لئے رکھے گئے ہیں تاکہ وہ پورا دن فنائل سے فرش صاف کرتے رہے ہیں تاکہ امر سنگھ کوکوئی انفیکشن نہ ہو۔ جیل کرمچاری بھی مانتے ہیں ایم پی تو آخر ایم پی ہے۔ باہر چاہے جتنی باتیں بنائی جائیں لیکن ایم پی کا لحاظ کرنا پڑتا ہے ۔تو اس طرح گذر رہی ہے ان وی آئی پی لوگوں کی تہاڑ جیل میں زندگی۔
A Raja, Amar Singh, Anil Narendra, Cash for Vote Scam, Daily Pratap, Kalmadi, kani Mozhi, Tihar Jail, Vir Arjun,

03 اگست 2011

دھمکیوں پر اترے منموہن سنگھ پہلے ہی دن چت

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 3rd August 2011
انل نریندر
 پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس شروع ہوگیا ہے۔ اس میں ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کا دور دورہ شروع ہونا طے لگتا ہے۔ پہلے دن سے ہی یہ سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ عام طور پر سادہ طبیعت اور خوش مزاج وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے بوکھلاہٹ میں اپوزیشن پر سیدھا حملہ بول دیا۔ پیر سے مانسون اجلاس شروع ہونے سے پہلے ہی وزیر اعظم نے جارحانہ رویہ اپناتے ہوئے کہا ہمیں کسی بھی مسئلے پر بحث کرانے کا کوئی ڈر نہیں ہے۔ ہم ہر مسئلے پر بحث کرانے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔ یہاں تک تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن اس سے آگے وزیر اعظم نے جو کہا وہ ضرور سمجھ سے باہر ہے؟ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا ہمارے پاس اپوزیشن خیموں کو شرمندہ کرنے والے بہت سے راز ہیں۔ وزیر اعظم کے اس حملے سے اپوزیشن بپھر گئی ہے۔ بھاجپا نیتا سشما سوراج نے کہا کہ ایک طرف تو پرنب مکھرجی، پون بنسل اور راجیو شکلا جیسے حکومت کے نمائندے پارلیمنٹ کو ٹھیک ٹھاک چلانے کی اپیل کررہے ہیں وہیں ان کے لیڈر دھمکیوں پر اتر آئے ہیں۔ بھاجپا نیتا سے اس بارے میں پوچھا گیا تو نقوی نے کہا کہ پارلیمنٹ چلے اور سبھی کام کاج ٹھیک ٹھاک چلے ایسی ہماری خواہش ہے۔ لیکن سرکار ٹکراؤ اور غرور کے موڈ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے انہیں (وزیر اعظم کو) گڑھے مردے اکھاڑنے دیجئے، پھر دیکھیں گے۔ پہلے ہی دن سرکار ایک ایسی جانب سے چاروں خانے چت ہوگئی جہاں سے اسے شاید کبھی امید نہ ہوگی۔
ٹیم انا نے سرکار پر حملہ بول دیا۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی دوسری پاری کا مانسون اجلاس کا پہلا دن ایسا ہوگا کسی نے خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا۔ گاندھی وادی لیڈر انا ہزارے فریق نے پیر کو دعوی کیا کہ مرکزی وزیر کپل سبل کے پارلیمانی حلقے سمیت ناگپور ،وردھا اور امراوتی کے ووٹروں نے لوک پال بل کے سرکاری مسودے کو نامنظور کردیا اور سماجی رضاکاروں کے عوامی لوک پال بل کی حمایت کی ہے۔ انا نے دعوی کیا کہ سبل کے چناؤ حلقے کے 85 فیصدی ووٹر انا ہزارے کے جن لوک پال بل کے حق میں ہیں اور 82 فیصدی ووٹر چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم کو لوک پال کے دائرے میں لایا جائے۔ انا نے کہا یہ ایک اہم مثال ہے جو ملک کے شہریوں کو صحیح لوک شاہی کا راستہ دکھاتا ہے۔ یہ ریفرنڈم ہے کہ سوشل آڈٹ بہت ضروری ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ پورے دیش میں اسی طرح کا ریفرنڈم ہو۔ نتیجے بتاتے ہیں کہ کپل سبل کے چناؤ حلقے میں 85 فیصد لوگ پارلیمنٹ کے اندر ممبران کے برتاؤ اور 86 فیصدی لوگ بڑی عدالتوں کو مجوزہ لوک پال کے دائرے میں رکھنے کے حق میں ہیں۔ سوال نامے کے ذریعے 83 فیصد ووٹروں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں لوک پال بل پر ممبران کو اپنی پارٹی کے رخ کے بجائے توقعات کے مطابق ووٹ کرانا چاہئے۔
ٹیلی کام گھوٹالے میں ایک بار پھر وزیر اعظم منموہن سنگھ کا نام سامنے آیا ہے۔ پیر کو ہی ملزم شاہد بلوا کی جانب سے دی گئی دلیل میں ان کے وکیلوں نے کہا کہ پی ایم کو ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ کارروائی کے بارے میں پوری معلومات تھی۔ بلوا نے اس وقت کے وزیر خارجہ پرنب مکھرجی اور سالیسٹر جنرل واہن وتی کا نام بھی لیا کہ انہیں بھی الاٹمنٹ کی بات چیت کی پوری جانکاری تھی۔ بلوا نے اپنی دلیل کو پختہ کرنے کے لئے اے راجہ کے اس خط کا بھی ذکر کیا جو انہوں نے وزیر اعظم کو لکھا تھا۔ بلوا نے سی بی آئی پر جانبدارانہ رویہ اپنانے کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ وہ ٹاٹا کو بچانے کی کوشش میں دیگر لوگوں پر ہاتھ ڈال رہی ہے۔ بلوا کے وکیلوں نے یہاں تک کہا کہ یہ اسپیکٹرم الاٹمنٹ پالیسی سرکار کی تھی اور یہ ہی وجہ ہے کہ کہیں بھی اس کی مخالفت نہیں کی گئی۔ ہر قدم پر اسے اجازت ملتی گئی۔ نہ تو وزیر اعظم اور نہ ہی اس وقت کے وزیر مواصلات نے کسی مرحلے پر یہ کہا ہے کہ اس پالیسی سے سرکار کو نقصان ہوگا۔ پھر وہ کٹہرے میں کیوں ہیں؟
اس مانسون اجلاس کا آغاز ہنگامی ہوا ہے۔ اس وقت تو پوری اپوزیشن اپنے اپنے اسباب سے کانگریس پارٹی اور سرکار سے ناراض ہے۔ یہ اجلاس ٹھیک سے نکل جائے یہ وزیر اعظم اور ان کے سپہ سالاروں کے لئے ایک چیلنج ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ کے باہر دونوں ہی جگہوں پر سرکار کے خلاف مورچہ گرم ہے۔ دیکھیں سرکار کیسے اس سے نمٹتی ہے؟
Tags: 2G, A Raja, Anil Narendra, BJP, CBI, Congress, Daily Pratap, DMK, Manmohan Singh, Shahid Balwa, Tata Teleservices, Vir Arjun

02 اگست 2011

چندولیہ نے نیرا راڈیا اور رتن ٹاٹا کو گھسیٹا

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 2nd August 2011
انل نریندر
ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ گھوٹالے میں ملزم سابق وزیر مواصلات اے راجہ کے پرائیویٹ سکریٹری رہے آر کے چندولیہ نے خصوصی عدالت میں سی بی آئی پر الزام لگایا ہے کہ جانچ ایجنسی ان کے خلاف گواہی دینے کیلئے گواہوں پر ناجائز دباؤ بنا رہی ہے۔ سی بی آئی انہیں جھوٹے معاملے میں پھنسانے کی کوشش کررہی ہے۔ سنیچر کے روز پٹیالہ ہاؤس میں سی بی آئی کی او پی سینی کی اسپیشل عدالت میں چندولیہ کی جانب سے جرح پوری کر لی ہے۔ آج سوان ٹیلی کام کے پرموٹر شاہد عثمان بلوا نے اپنے بچاؤ میں دلیلیں دی ہوں گی۔ چندولیہ کے وکیل وجے اگروال نے کہا کہ چندولیہ کی گرفتاری کے وقت سی بی آئی کے پاس ان کے خلاف کوئی چشم دید گواہ نہ تھا اور نہ ہی جانچ ایجنسی نے کسی بھی گواہ کو پیش کیا۔ اس طرح اس سال 2 فروری کو ہوئی ان کی گرفتاری دراصل غیر قانونی تھی۔ اگروال نے کہا کہ جن لوگوں کو چھوڑا گیا یا جنہیں گواہ بنایا جارہا ہے انہیں خصوصی عدالت میں ملزم کے طور پر کھڑا ہونا چاہئے تھا۔ جمعہ کے روز اسپیکٹرم معاملے میں چندولیہ نے اپنی دلیل میں خود کو بے قصور بتایا اور کہا کہ انہوں نے تو صرف اپنے باس کی ہدایات پر عمل کیا تھا۔ ساتھ ہی نیرا راڈیا اوررتن ٹاٹا کو بھی معاملے میں گھسیٹ لیا۔ چندولیہ کے وکیل نے سی بی آئی کے اسپیشل جج جسٹس اوپی سینی نے کہا کہ راجہ کے مبینہ ساتھی اسیر ودرم اچاری نے مبینہ طور پر کلیگنر ٹی وی کو ٹاٹا اسکائی، ڈی ٹی ایس میں لانے کی سازش رچی تھی اور اس کے لئے راجہ اور نیرا راڈیا کے بیچ رابطے کا کام کیا۔ اس میں نیرا راڈیا کوملزم بنایا جانا چاہئے۔ دلیل کے دوران چندولیہ کے وکیل نے کہا کہ بات چیت کے دوران نیرا نے جب سمجھوتے کے سلسلے میں بات کی تو آچاریہ نے ان سے کہیں بھی نہیں پوچھا کہ وہ کس بارے میں بات کررہی ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اچاری کو راجہ کی طرف سے کئے جارہے کلیگنر ٹی وی اور ٹاٹا کے بیچ سمجھوتے کے بارے میں جانکاری تھی ۔ اس کو دیکھتے ہوئے ٹاٹا نیرا اور اچاری سمیت کلیگنر ٹی وی کو اس معاملے میں ملزم بنایا جانا چاہئے۔ ٹا ٹا اور نیرا راڈیا بڑے لوگ ہیں اور سی بی آئی انہیں چھو تک نہیں پارہی ہے لیکن اچاری کو کیوں نہیں؟ چندولیہ نے کہا کہ وہ تو روز مرہ کے کام کاج میں اے راجہ کی مدد کرنے والے افسر تھے۔ ان کے وکیل نے کہا کہ میرے موکل کے باس اے راجہ تھے اور چندولیہ نے تو صرف ان کی ہدایات کی تعمیل کی۔ باس کی ہدایات کی تعمیل کرنے کے لئے ایک معاون مانے جاتے تھے کیا وہ چندولیہ اپنی باس سے سوال کر سکتے تھے؟ چندولیہ نے کہا کہ وہ ڈی ایم کے کلیگنر ٹی وی یا کسی ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی سے وابستہ شخص نہیں ہیں۔ انہوں نے سی بی آئی کو چنوتی دی بھی وہ بھی ثبوت کی شکل میں کوئی دستاویز پیش کریں جس پر انہوں نے دستخط کئے ہوں۔
اب تک مختلف گواہوں پر نظر ڈالیں تو ایک الگ تصویر سامنے آتی ہے۔ پہلے بات کرتے ہیں خود اے راجہ کی۔ راجہ نے 25-7-2011 کو وزیر اعظم منموہن سنگھ اور وزیر داخلہ پی چدمبرم کا نام گھسیٹا۔ اور ملزم سوان، یونیٹیک کی حصے داری کم کئے جانے کے بارے میں جانتے تھے۔ 26-7-11 کو اٹارنی جنرل جی ای واہن وتی( اس وقت کے سالیسٹر جنرل) پر راجہ نے الزام لگایا کہ ’پہلے آؤ پہلے پاؤ‘ کی پالیسی میں راجہ کی تبدیلیوں کو منظوری دی۔ نیرا راڈیا کے ٹیپ آؤٹ ہونے سے ٹو جی گھوٹالے میں نیتاؤں، صنعت کاروں، صحافیوں کے کھیل کی ڈراؤنی تصویر سامنے آگئی۔ ان ٹیپوں سے پتہ چلا کہ وہ ٹاٹا اور امبانی جیسی کمپنیوں کے لئے لابنگ کا کام کیا کرتی تھی۔ ٹاٹا گروپ کی سبھی 90 کمپنیوں کا اشتہار اور پبلک رلیشن کا کام نیرا راڈیا کی کمپنی ویشنوی کمیونی کیشن کے پاس تھا۔ 27-7-11 سدھارتھ بہورا نے بھارتیہ ریزرو بینک کے گورنر ڈی سبا راؤ پر الزام لگایا کہ انہوں نے اسپیکٹرم لائسنس فیس کا جائزہ نہیں لیا اور معاملہ پیچیدہ ہوتا جارہا ہے۔ سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے جج او پی سینی اس معاملے سے کیسے نمٹتے ہیں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔
Tags: 2G, A Raja, Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, Manmohan Singh, Neera Radia, P. Chidambaram, Swan Telecom, Tata Teleservices, Unitech Wireless, Vir Arjun

20 جولائی 2011

اس ملک میں نوکرشاہوں ،صحافیوں اور دلالوں کا اصل راج ہے


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 20th July 2011
انل نریندر
ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے نے ایک بات تو صاف کردی ہے کہ اس دیش کو عوام کے ذریعے چنے گئے نمائندے عرف ممبر پارلیمنٹ ، وزرا وغیرہ نہیں چلا رہے بلکہ صنعت کار، افسر شاہ اور دلال چلا رہے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو نیراراڈیہ جیسے چالاک لوگ اتنے طاقتور نہ ہوتے جو اپنی پسند کا وزیر بھی بنوا لیتے ہیں اور اسے چنندہ وزارت بھی دلا دیتے ہیں۔نیرا راڈیہ آج مشہور ہستی ہیں، کون ہیں یہ نیرا راڈیہ؟ 1995 ء میں پہلی مرتبہ نیرا راڈیہ ہندوستان آئیں اور اس نے پہلی ملازمت سہارا گروپ میں بطور لائزن افسر کے کی تھی۔ 2001 میں نیرا نے ویشنوی کمیونی کیشن نامی کمپنی شروع کی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے ٹاٹا اور امبانی گروپ کا سارا لائزن کا کام سنبھالنے لگی۔ اچانک اپنی مشتبہ سرگرمیوں کے سبب نیرا انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی نظروں میں آ گئی۔ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ اس بات کی جانچ کررہا تھا کہ اچانک 10 سالوں میں نوکری کرنے والی نیرا راڈیہ 300 کروڑ روپے کی املاک کی مالک کیسے بن گئی؟ اسی جانچ میں ای ڈی نے نیرا راڈیہ کے فون ٹیپ کرنا شروع کردئے۔ محکمہ انکم ٹیکس نے تقریباً104 ٹیپ اپنی ویب سائٹ پر لگائے ہیں اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ کیسے سیاستدانوں، صنعتکاروں ،افسر شاہوں ، صحافیوں کی ملی بھگت سے یہ سرکار چل رہی ہے۔ اکیلے ٹاٹا گروپ اور مکیش امبانی نیرا راڈیہ کو سال کا 30-30 کروڑ روپے بطور فیس دیتے ہیں۔آخر اتنے پیسے صنعت کار (وہ بھی ٹاٹا اور امبانی جیسے) دیتے ہیں تو کچھ تو نیرا راڈیہ انہیں عوض میں دیتی ہوگی ایسا نہیں صنعتکار ایک بھی پیسہ خرچ کرتے ؟ راڈیہ کی سرگرمیوں کی فہرست لمبی ہے۔2009 میں یوپی اے سرکارکے اقتدار میں واپسی کے بعد اے راجہ کو پھر سے ٹیلی کمیونی کیشن وزیر بنوانے کے لئے نیرا راڈیہ نے کنی موجھی سمیت کئی با اثر لوگوں کے ساتھ لابنگ کی تھی۔ راڈیہ نے سی بی آئی کو دئے گئے بیان میں تسلیم کیا ہے کہ اے راجہ کو وزیر بنوانے کے لئے سبھی ممکنہ رابط پر غور کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ راجہ کو انل امبانی سے دوری بنا کر رکھنے کی صلاح دی گئی تھی۔ نیرا نے اس موضوع پر بھارتی ایئرٹیل کے چیف سنیل متل سے بھی بات چیت کی تھی۔ راڈیہ نے حال ہی میں سی بی آئی کو دئے گئے بیان میں یہ باتیں قبول کی ہیں۔ پچھلے دنوں سپریم کورٹ کو مطلع کیا گیا کہ ٹو جی اسپیکٹرم معاملے کی جانچ میں مداخلت کرنے کو لیکر سہارا گروپ کے چیف سبرتو رائے اور دو صحافیوں کے خلاف لگے الزامات کی جانچ کے سلسلے میں سی بی آئی نے کارپوریٹ لابسٹ نیرا راڈیہ اور ٹیلی ویژن چینلوں کے کچھ بڑے افسران سے پوچھ تاچھ کی ہے۔ حالانکہ سی بی آئی نے کہا کہ ابھی ان ٹیلی ویژن صحافیوں اور انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے جانچ افسران کے بیچ ٹیلیفون پر ہی بات چیت کی جانچ کئے جانا باقی ہے جن سے ٹو جی اسپیکٹرم معاملے کی گہرائی میں جانے کے سلسلے میں مبینہ طور پر ان سے رابطہ قائم کیا گیا۔ یہ بیان سرکار ی وکیل کے ۔ کے وینوگوپال نے دیا ہے۔ انہوں نے سی بی آئی کے ذریعے کی گئی جانچ کے نتائج کو پڑھا۔ سی بی آئی نے بند لفافے میں اپنی رپورٹ دی ہے۔ جسٹس جی۔ ایس سنگھوی اور جسٹس اے ۔کے گانگولی کے بنچ کو یہ مطلع کیا گیا کہ سی بی آئی سبھی پہلوؤں سے الزامات کی جانچ کررہی ہے اور آزاد گواہوں اور دستاویزوں کی تلاش میں لگی ہے۔ وینو گوپال نے کہا نیرا راڈیہ سے پوچھ تاچھ کی گئی ہے۔ ان لوگوں سے ایک سے زیادہ بار پوچھ تاچھ ہوگئی ہے کیونکہ ان کے بیان میں کچھ تضاد پایا جاتا تھا۔ بڑی عدالت نے گذشتہ 6 مئی کو کہا تھا کہ پہلی نظر میں سبرتو رائے اور سہارا نیوز نیٹ ورک کے دو صحافیوں اوپیندر رائے اور سبودھ جین کے خلاف ٹو جی معاملے کی جانچ میں مداخلت کرنے کا معاملہ بنتا ہے اور عدالت نے توہین عدالت کے لئے نوٹس جاری کیا تھا۔
ادھر سی بی آئی نے پٹیالہ ہاؤس کی ایک عدالت کو بتایا کہ سرخیوں میں چھائے ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے کی اہم کڑی مانی جانے والی کارپوریٹ لابسٹ نیرا راڈیہ کی بات چیت والے ٹیپ معاملے سے جڑے سبھی ملزمان کو دئے جائیں گے۔ بتا دیں کہ ان ٹیپوں میں کارپوریٹ دنیا کے علاوہ میڈیا سمیت دیگر سیکٹر کے لوگوں سے بات چیت شامل ہے۔ جس کے کچھ ہی حصے باہر آ پائے ہیں۔ سی بی آئی کے ذریعے سبھی ملزمان کو یہ ٹیپ دستیاب کرانے سے کئی دیگر لوگوں کی بات چیت سے پردہ اٹھ سکتا ہے۔ دیش امید کرتا ہے کہ نیرا راڈیہ کے سارے ٹیپوں کو سامنے لایا جائے تاکہ عوام کو یہ پتہ چل سکے کہ اصل میں اس دیش پر راج کون کرتا ہے؟ جنتا یا دلال؟
Tags: 2G, A Raja, Anil Narendra, Bharti Airtel, Daily Pratap, ED, Mukesh Ambani, Neera Radia, Sunil Mittal, Tata Teleservices, Vir Arjun

23 جون 2011

ابھی کنی موجھی تہاڑ میں ہی رہیں گی

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
23جون 2011 کو شائع
انل نریندر
’’سوری میڈم وی ہیو ٹرائڈ اوور بیسٹ‘‘ سوموار کو سپریم کورٹ میں کنی موجھی کے وکیلوں نے جو یہ الفاظ کہے تو دو ماہ پہلے تک تاملناڈو کی انتہائی اہم شخصیت کا درجہ رکھنے والی کنی موجھی کی ماں رجاتی امل پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔ انہیں بہت امید تھی کہ سپریم کورٹ سے کنی موجھی کو ضمانت مل جائے گی۔ چہرے پر ہوائیاں اور آنسو ٹپکاتی کنی موجھی کی ماں رجاتی نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا بس ہاتھ جوڑ کر سر ہلایا اور آگے بڑھ گئیں۔ دوسرے مقدمے میں بالو بھی ان کے پیچھے چل دئے۔ بالو نے ڈھائی گھنٹے چلی پوری کارروائی کھڑے ہوکر سنی تھی۔ رجاتی سابق وزیر اعلی ایم کروناندھی کی تیسری بیوی ہیں۔ 43 سالہ کنی موجھی ان کی اکلوتی بیٹی ہیں۔پہلی بیوی کی موت کے بعد کروناندھی نے دیالو امل سے شادی کی تھی۔ دیالو کلیگنر ٹی وی میں 60 فیصدی حصص کی مالک ہیں۔ رجاتی کافی دنوں تک کروناندھی کے ساتھ ایسے ہی رہتی رہیں۔ کروناندھی نے ان کے ساتھ کبھی باقاعدہ شادی نہیں کی۔ انہیں بیوی بھی 10-12 سال پہلے ہی اس وقت مانا تھا جب چناؤ میں انہوں نے اپنی آمدنی کا حلف نامہ دائر کیا تھا۔اس میں امل کے نام کچھ پراپرٹی دکھائی گئی تھی۔ لوگوں نے جب پوچھا کہ رجاتی کون ہیں؟ تب انہوں نے کہا کہ وہ ان کی بیوی ہیں۔
ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں ملزم ڈی ایم کے ایم پی کنی موجھی کو سپریم کورٹ آنا مہنگا پڑا۔ سپریم کورٹ نے ان کی ضمانت عرضی ہی خارج نہیں کی بلکہ مستقبل میں ضمانت دینے پر بھی پابندی لگادی۔ کنی موجھی اب ضمانت کے لئے تبھی درخواست دے پائیں گی جب ان کے خلاف نچلی عدالت میں الزامات طے ہوجائیں گے۔ الزامات طے ہونے میں تین ماہ کا وقت لگ سکتا ہے لیکن سماعت عدالت صرف اس کیس کے لئے بنی ہے اس لئے ہوسکتا ہے کہ یہ میعاد کچھ دن گھٹ جائے۔ سپریم کورٹ نے کنی موجھی کی اس دلیل کو نا منظور کردیا کہ انہیں دفعہ437 کے تحت ضمانت دے دی جائے۔ کورٹ کا کہنا ہے کہ آپ میں کیا خاص بات ہے۔ آپ کی طرح سینکڑوں زیر سماعت خاتون قیدی جیل میں ہیں، اور اپنے بچوں سے دور ہیں۔ کنی موجھی 20 مئی سے دہلی کی تہاڑ جیل میں بند ہیں۔
جسٹس جی ایس سنگھوی اور جسٹس بی ایس چوہان کی ڈویژن بنچ نے یہ فیصلہ ضمانت کی مخالفت کررہی سی بی آئی اور کنی موجھی کے وکیلوں کی ڈیڑھ گھنٹہ بحث سننے کے بعد دیا۔ضمانت خارج کرنے کا دو لائن کا فیصلہ سن کر کنی موجھی کے وکیلوں کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ کنی موجھی کے وکیلوں نے بہت کوشش کی کہ ضمانت کسی حالت میں ہوجائے۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ کورٹ کی سخت سے سخت شرط ماننے کو تیار ہیں۔ مگر سی بی آئی کو ڈر ہے کہ اپنے سیاسی رسوخ سے گواہوں اور جانچ کو وہ متاثر کرسکتی ہیں تو انہیں ان کے گھر میں نظر بند بھی رکھا جاسکتا ہے۔ کنی موجھی کے وکیلوں کا تو یہاں تک کہنا تھا کہ امریکہ کی طرح یہاں پیروں میں ریڈیو بیڑیاں تو نہیں لگائی جاسکتیں لیکن ان کے گھر میں 24 گھنٹے پہرے داری اور الیکٹرانک نگرانی کیمرے اور وائرلیس لگائے جاسکتے ہیں۔ لیکن عدالت نے ان کی کوئی دلیل نہیں مانی۔ بس اتنی چھوٹ ضرور دی کہ عدالت نے کہا کہ کنی موجھی الزامات طے ہونے کے بعد معاملے کی سماعت کررہی کورٹ سے پیرول ضمانت مانگ سکتی ہیں۔ وہاں معاملے نئے سرے سے سنا جائے گا۔
Tags: 2G, A Raja, CBI, DMK, kani Mozhi, Karunanidhi, Supreme Court, Tamil Nadu, Tihar Jail

10 جون 2011

وزیراعظم کی وزرا پر نکیل کسنے کی کوشش کا خیر مقدم


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
10 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
کالی کمائی اور بدعنوانی کے خلاف بڑھتے چوطرفہ دباؤ سے گھری منموہن سرکار پریشان لگ رہی ہے۔ خاص کر وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ ۔ وہ اپنی حکومت کی گرتی ساکھ کو بچانے کیلئے اب قدم اٹھانے کی بات کررہے ہیں۔ ان میں سے ایک ہے اپنے وزرا کو املاک کی تفصیل ظاہر کرنے کی ہدایت دینا۔ وزیر اعظم کا یہ قدم اعلی سطح پر انتظامیہ نے شفافیت لانے کی سمت میں انتہائی اہم مانا جارہا ہے۔منموہن سنگھ نے اپنے وزراء کے لئے ضابطہ رہنما اصول جاری کئے ہیں۔ ان کے تحت ہر وزیر کو اپنی اور اپنے رشتہ داروں کی املاک کی تفاصیل دینی ہوگی۔ اتنا ہی نہیں وزراء کو اپنے مفادات کی بھی جانکاری دینی ہوگی۔ مثلاً اگر کسی وزیر کا رشتہ دار غیر ملکی کمپنی میں کام کرتا ہے تو اس کی پوری تفصیل بھی دینی ہوگی اور سرکار سے اس کی پہلے سے منظوری لینی ہوگی۔ ریاستوں کو بھی یہ فرمان لاگو کرنا ہوگا۔ انہیں 31 اگست تک وزراء کو اپنی املاک کی تفصیل دینے کو کہا گیا ہے۔
وزیر اعظم نے سبھی وزراء کو خط لکھ کر اپنی املاک اور سالانہ کمائی ہی نہیں بلکہ اپنے شوہر یا بیوی کے ساتھ ان کے بچوں, رشتہ داروں کے نام ہوئی املاک کو بھی ظاہر کرنے کیلئے کہا ہے۔اتنا ہی نہیں وزراء کو اس بار خاص طور سے کارپوریٹ دنیا سے اپنے کاروباری رشتوں ،روابط کا خلاصہ کرنے کو بھی کہا گیا ہے۔ اگر ان کے خاندان کا کوئی فرد اپنی کوئی فرم شروع کرتا ہے یا پھر کسی کاروباری فرم کے بورڈ کا ممبر بنتا ہے تو اس کی جانکاری بھی سرکار کو دینی ہوگی۔ضابطے کے تحت سبھی وزراء کو پراپرٹی، دینداریوں، کاروباری مفادات اور دیگر کنبے کے غیر ملکی سرکار یا تنظیم کے تحت روزگار سے متعلق معلومات بھی دینی ہوگی۔ تفصیل میں منقولہ غیر منقولہ املاک، نقدی، زیور، حصص اور جمع رقم کی بھی تفصیل بیان کرنی شامل ہے۔
وجہ کچھ بھی رہی ہو چاہے وہ بابا رام دیو کی تحریک کا دباؤ ہو یا پھر انا ہزارے کا دباؤ۔ وزیر اعظم کے اس قدم کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔ منموہن سرکار میں کئی کروڑ پتی وزیر پہلے ہی سے موجود ہیں۔ نیشنل الیکشن واچ کی ایک رپورٹ جو وزراء کے ذریعے 2009 ء میں داخل حلف نامے پر مبنی ہے، کا کہنا ہے کہ شری پرفل پٹیل پہلے ہی 79.9 کروڑ کی املاک کے مالک ہیں۔ کپل سبل 31.97 کروڑ اور وی سینٹ پالا25.16 کروڑ، ویر بھدر سنگھ22.52 کروڑ روپے کے پراپرٹی کے مالک ہیں۔یوپی اے سرکار میں اس وقت47 وزیر کروڑ پتی ہیں۔ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کے کھلنائک اور سابق وزیر اے راجا کے معاملے میں پردے کے پیچھے کچھ صنعتی گھرانوں سے ان کی سانٹھ گانٹھ اور انڈین پریمیر لیگ کی ٹیم کے خریدنے کیلئے شرد پوار کی ممبر پارلیمنٹ بیٹی سپریہ پھلے اور سابق وزیر خارجہ ششی تھرور کی اہلیہ سنندا پشکر کی وجہ سے سرکار کی فضیحت ہوئی تھی۔شاید وزیر اعظم کی نئی ہدایات کا سبب یہ ہی ہوسکتا ہے۔جہاں ہم وزیراعظم کے اس قدم کا خیرم مقدم کرتے ہیں وہی یہ بھی کہنا چاہتے ہیں کہ نوکر شاہوں پر بھی نکیل کسنی چاہئے۔ وزراء سے کہیں زیادہ افسر شاہی نے لوٹ کھسوٹ مچائی ہوئی ہے۔
Tags: 2G, A Raja, Anil Narendra, Daily Pratap, Kapil Sibal, Manmohan Singh, Praful Patel, Sharad Pawar, Vir Arjun, Virbhadr Singh

09 جون 2011

دیاندھی مارن سے وزیر اعظم اور کانگریس نے کنی کاٹی

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
9 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
ڈی ایم کے لیڈر دیاندھی مارن بری طرح سے پھنستے جارہے ہیں جیسے ڈی ایم کے کے دیگر وزرا و یوپی اے کے لیڈروں نے یوپی اے سرکار کو کٹہرے میں کھڑا کروایا ٹھیک اسی طرح مارن نے اب وزیر اعظم منموہن سنگھ کے لئے ایک نیا در سر کھڑا کردیا ہے۔ منموہن سنگھ پہلے ہی اے راجا، کنی موجھی تنازعے کو لیکر کٹہرے میں کھڑے ہوئے ہیں۔ اب دیاندھی نے ان کی مشکلیں بڑھا دی ہیں۔ 2004 سے2007 تک ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کو لیکر یوپی اے پہلے ہی انگلیاں جلا بیٹھی ہے۔ کیونکہ اے راجا اور سریش کلماڑی کو بچانے کا انجام وہ دیکھ چکی ہے۔ اب شاید ہی پردھان منتری دیاندھی مارن کو بچانے کی کوشش کریں۔ دیاندھی کے خلاف سنگین الزام ہے۔پرواسی بھارتی ایس ۔شیوشنکرن کو ان کی کمپنی ایئرسیل کو فروغ کرنے کیلئے مجبور کرنے کا ملزم مرکزی وزیر کپڑا دیاندھی مارن کا جانا اب طے لگتا ہے۔ مارن کے خلاف الزامات اور متعلقہ ثبوتوں کے بارے میں سی بی آئی نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو مفصل رپورٹ دے دی ہے۔ شیو شنکرن نے سوموار کو سی بی آئی کو بتایا تھا کہ کس طرح ٹیلی کمیونی کیشن وزیر رہتے ہوئے انہیں ایئر سیل بیچنے کے لئے دیاندھی مارن نے مجبور کیا تھا۔ ایئر سیل معاملے میں دیاندھی کے کردار پر وزیر اعظم کو مفصل رپورٹ دینے کی تصدیق کرتے ہوئے سی بی آئی کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ کپڑا منتری کے خلاف لگائے گئے الزام کافی سنگین ہیں اور ان کی پوری جانچ کی ضرورت ہے۔ شیو شنکرن نے جانچ ایجنسی کو ان لوگوں کے نام پتے دئے ہیں جو مارن کی ذیاتیوں کے چشم دید گواہ ہیں۔ مارن انہی لوگوں کے ذریعے سے شیو شنکرن پر ایئر سیل کو بیچنے کے لئے دباؤ بنا رہے تھے۔ان میں ایئر سیل سے جڑے وکیل اور چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ بھی شامل ہیں۔ شیو شنکرن کا کہنا تھا کہ ٹیلی کمیونی کیشن وزیر رہتے ہوئے مارن نے ان کے کاروباری اسٹیٹ کو پوری طرح سے تباہ کردیا اور انہیں دیش سے بھاگنے پر مجبور کردیا۔
آج کی تاریخ میں بدعنوانی کا اشو گھر گھر تک موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ تبھی تو بدعنوانی اور کالی کمائی کو لیکر آج کی صورتحال میں لوک آیکت کی تشکیل کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ کانگریس لیڈر شپ دیاندھی مارن سے دوریاں بڑھا رہی ہے اور سرکار یا کانگریس شاید ہی انہیں اب بچا پائے۔ دیاندھی مارن کووزیر مالیات پرنب مکھرجی سے ملاقات کے درمیان صاف اشارے دے دئے گئے ہیں کہ پردھان منتری پہلے ہی سے کہہ چکے ہیں کہ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالہ معاملے میں سبھی الزامات کی جانچ کی جائے گی جس میں مارن کے خلاف بھی الزام شامل ہے۔ ان الزامات پر سی بی آئی جانچ کی تازہ رپورٹ پردھان منتری کے دفتر کو پہنچ چکی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈی ایم کے چیف کروناندھی کا اب کیا موقف ہوتا ہے۔ دو دن پہلے کروناندھی نے پردھان منتری کو کنی موجھی کی گرفتاری کے لئے براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ اب اگر دیاندھی مارن حراست میں لئے جاتے ہیں تو کروناندھی کیا کریں گے؟ کیا وہ یوپی اے سرکار سے اپنے وزرا کو ہٹنے کا حکم دیتے ہیں؟ یا حمایت واپسی کا تو وہ پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں یہ آگے دیکھنے والی بات ہوگی۔
Tags: 2G, A Raja, Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, Dayanidhi Maran, DMK, kani Mozhi, Karunanidhi, Pranab Mukherjee, Vir Arjun

04 جون 2011

کنی موجھی ،اے راجا کے بعد دیا ندھی مارن کا نمبرآئے گا

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

4 جون 2011 کو شائع
انل نریندر
برسوں تک شری رام کو گالی دینے والے ایم کروناندھی اور ان کے خاندان نے تاملناڈو اور مرکز میں مغلوں کی طرح اقتدار کا فائدہ اٹھایا ہے اور اتنا پیسہ بنالیا ہے جس کا کوئی حساب کتاب نہیں ہے۔سر پر جب شری رام کی مار پڑتی ہے تو اچھے اچھے دھرندرچت ہوجاتے ہیں۔ کروناندھی کے خاندان کے بھی برے دن شروع ہوگئے ہیں۔ سابق وزیر مواصلات اے ۔ راجہ کے بعد ان کی ممبر پارلیمنٹ بیٹی کنی موجھی کے بدعنوانی کے الزامات میں جیل جانے کے بعد ان کے خاندان کا ایک اور فرد مرکزی وزیر کپڑا دیاندھی مارن کا اب نمبر آنے والا ہے۔ ان کے خلاف ایک غیر سرکاری تنظیم سینٹر فار پبلک لیٹی گیشن نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی ہے۔ اس عرضی میں کہا گیا ہے کہ دیاندھی مارن کی جانب سے ملیشیا کے میکسز گروپ کی حمایت لئے جانے سے متعلق دستاویز اسے عدالت میں پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس گروپ نے مئی2004 سے مئی 2007 کے درمیان مارن کے ٹیلی کمیونی کیشن وزیر رہنے کے دوران چنئی کی ٹیلی کام کمپنی ایئر سیل کو خرید لیا تھا۔ الزام ہے کہ وزیر مواصلات رہتے ہوئے شیوا گروپ کی کمپنی ایئر سیل کو امریکی لائسنس دینے کا معاملہ اٹکا دیا تھا۔ ٹیلی کمیونی کیشن وزارت کے رویئے سے ناراض ہوکر اس کمپنی کے مالک سی شیو شنکر ایئر سیل کو میکسز گروپ کو بیچنے کے لئے مجبور ہوگئے تھے۔ میکسز گروپ کے مالک ملیشیا کے بزنس ٹائیکون ٹی آنند کرشن ہیں۔ الزام ہے کہ میکسز گروپ کے ایئر ٹیل کے بعد مارن خاندان کے زیر کنٹرول سن ٹی وی نے بھاری سرمایہ کاری کرتے ہوئے اس کی20 فیصد حصے داری خرید لی۔ مارن کے عہد میں ایئرسیل کو 14 لائسنس دئے گئے۔
ادھر ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کی جانچ کررہی سی بی آئی نے قومی ٹیلی کمیونی کیشن پالیسی میں 2001 ء سے ہوئی دھاندلیوں کی پڑتال کے لئے ایک ایف آئی آر درج کی ہے۔ اس سے اے۔ راجا سے پہلے رہے ٹیلی کمیونی کیشن وزیر دیا ندھی مارن بھی جانچ کے دائرے میں آگئے ہیں۔ قابل ذکر ہے تہلکہ میگزین نے اس معاملے کا خلاصہ کیا تھا۔ حالانکہ مارن نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے میگزین کو قانونی نوٹس بھیجا ہے۔ سی بی آئی کے ترجمان دھارنی مشر نے کہا کے سی بی آئی نے 2001 سے2007 کے درمیان ٹیلی کمیونی کیشن پالیسی میں ہوئی جعلسازیوں کے تعین کے لئے نامعلوم لوگوں کے خلاف یہ جانچ رپورٹ درج کرائی گئی ہے۔ اس کا مقصد اس وقت کی اٹل بہاری واجپئی سرکار کے ذریعے پاس کردہ ’پہلے آؤ پہلے پاؤ‘ اسکیم کی سہولت کا ٹیلی کمیونی کیشن پالیسی میں تعمیل ہوئی ہے یا نہیں یہ معلوم کرنا ہے۔
2006 ء میں جب دیا ندھی مارن ٹیلی کمیونی کیشن وزیر ہوا کرتے تھے تب انہوں نے اپنے خاندان کے سن ٹی وی نیٹورک کو فائدہ پہنچانے کیلئے اسپیکٹرم الاٹمنٹ میں عہدے کا بیجا فائدہ اٹھایا تھا۔ دیا ندھی مارن کے عہد میں ٹیلی کمیونی کیشن سیکٹر میں درپردہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی حد 49 فیصدی سے بڑھا کر74 فیصدی کردی گئی تھی۔ ایئر سیل میں 74 فیصدی شیئر ہولڈر میکسز نے اپنی کمپنی ایسٹرو کے ذریعے مارن بھائیوں کے سن ٹی وی نیٹورک نے600 کروڑ روپے سے زیادہ رقم کی سرمایہ کاری کی تھی۔مارن نے ٹیلی کمیونی کیشن وزیر رہتے ایئر سیل کے لائسنس اور اسپیکٹرم سے متعلق درخواستوں کو منظوری نہیں دی تھی۔ اس کے چلتے ایئر سیل کے مالک شیو شنکر نے مارن خاندان کے قریبی میکسز کو اپنے 74 فیصدی شیئر بیچ دئے تھے۔ سی بی آئی افسران کا ماننا ہے کہ شیو شنکر پر اس سودے کو لیکر بھاری دباؤ تھا۔
Tags: 2G, A Raja, Aircel, Anil Narendra, CBI, Corruption, Daily Pratap, Dayanidhi Maran, DMK, kani Mozhi, Sun TV, Vir Arjun

02 جون 2011

ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کے 14 ویں ملزم کریم مورانی بھی تہاڑ پہنچے

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
2جون 2011 کو شائع
انل نریندر
بالی ووڈ فلموں کے پروڈیوسر اور کنگ خان عرف شاہ رخ خان کے دوست کریم مورانی بھی آخر کار شکنجے میں آہی گئے۔ سی بی آئی کی سپیشل عدالت کے جج او پی سونی نے مورانی کی ضمانت درخواست کو خارج کردیا ہے اور انہیں جیل بھیجنے کا فرمان سنا دیا۔ ضمانت کے لئے سماعت کے دوران ملزم کی جانب سے ایک مہینے سے بھی کم وقت میں 7 عرضیاں لگائے جانے پر عدالت نے سخت رویہ اپنایا ہے۔ جج موصوف نے کہا ایسا لگتا ہے جان بوجھ کر قانونی ٹال مٹول کا راستہ اپنایا گیا۔ مورانی 6 مئی سے لیکر23 مئی تک میڈیکل کے نام پر عدالت میں حاضر نہیں ہوئے جبکہ11 مئی کو سونپی گئی رپورٹ میں ان کی طبیعت بہتر بتائی گئی تھی۔ مورانی کو جیل بھیجنے کے ساتھ ہی چارج شیٹ میں شامل سبھی 14 ملزمان تہاڑ جیل پہنچ چکے ہیں۔ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کے 14 ملزم یہ ہیں اے راجہ، سدھارتھ بوہرا، سابق ٹیلی کمیونی کیشن سکریٹری، آر کے چندولیہ۔ پرائیویٹ سکریٹری اے راجہ، ونود گوئنکا،سوان ٹیلی کام پرموٹر، ڈی بی گروپ کے شاہد عثمان بلوا، سریندر تیپارہ اور ریلائنس کے گوتم دوشی، راجیو اگروال وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔
الزام کے مطابق ڈی بی ریلٹی لمیٹڈ سے 200 کروڑ روپے کسے گاؤں فروٹس اینڈ ویجیٹیبل پرائیویٹ لمیٹڈ اور وہاں سے سنے یگ میڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذریعے کلیگنر ٹیوی پرائیویٹ لمیٹڈ کو ملے۔ پیسہ سوان ٹیلی کام کو اسپیکٹرم الاٹمنٹ کے بدلے دیا گیا تھا۔ سی بی آئی کے مطابق سودے بازی میں سب سے بڑا کردار کریم مورانی کا ہی رہا جنہوں نے 6 کروڑ روپے کا فائدہ اٹھایا۔ سماعت کے دوران سی بی آئی نے کہا کہ مورانی کو معلومات تھی یہ پیسہ رشوت کا ہے۔ انہوں نے قرض لیکر کلیگنر کو قرضہ دیا جبکہ سنے یگ غیر مالیاتی کمپنی بھی نہیں ہے۔ ڈی بی ریلٹی کے اکاؤنٹینٹ ستیش اگروال نے بتایا کہ کسے گاؤں کو200 کروڑ روپے23 دسمبر 2000 ء سے لیکر 11 اگست2009ء کے درمیان بغیر کسی سمجھوتے کے ہی دے دئے گئے۔ اس کے بعد یہ پیسہ وہاں سے سنیگ میں چلا گیا۔
سی بی آئی عدالت میں ایک طرف مورانی کی ضمانت پر بحث ہورہی تھی تو دوسری طرف فلمی ہیروئنوں کی موجودگی سے عدالت میں ہلچل مچ گئی۔ آنے والی فلم ’آل ویز۔کبھی کبھی‘ کی اداکارہ زویا مورانی اس وقت جذباتی ہوگئیں جب اس کے والد کو جیل بھیج دینے کا فرمان سنا دیا گیا۔ کورٹ روم میں وہ کبھی اپنی ماں کو تاکتی رہیں تو کبھی اپنی بہن کو تو کبھی اپنے والد کو آنسو بھری آنکھوں سے دیکھتی رہیں۔ جب پولیس مورانی کو حوالات میں لے جانے لگی تو زویا زمین پر بیٹھ کر بہت دیر تک روتی رہی۔ آخر کار ایک خاتون نے آکر اس کو تسلی دلائی تب جاکر وہ اپنے آپ کو سنبھال سکی۔ عدالت میں ایک اور اداکارہ بھی آئی ہوئی تھی وہ تھی خوشبو۔ خوشبو کنی موجھی اور اے راجہ سے ملنے آئی تھیں۔ اب سب ملزمان کی تہاڑ میں محفل لگے گی۔
Tags: 2G, A Raja, Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, DB Reality, Karim Morani, Reliance Telecom, Shah Rukh Khan, Swan Telecom, Vir Arjun

22 مئی 2011

کنی موجھی بھی پہنچ گئیں تہاڑ

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
22مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
اسپیشل سی بی آئی جج نے شکروار کو ڈی ایم کے ایم پی اور کروناندھی کی بیٹی کنی موجھی اور کلیگنر ٹی وی کے ڈائریکٹر شرد کمار کی ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں ضمانت عرضی مسترد کرتے ہوئے انہیں فوراً گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ کنی موجھی تہاڑ جیل میں بیرک نمبر6 میں رکھی گئی ہیں ، جہاں پاک جاسوس کانڈ میں گرفتار مادھوری گپتا بھی ہیں، کے ساتھ رہیں گی۔ قابل ذکر ہے کہ ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں سابق ٹیلی کمیونی کیشن وزیر اے راجہ، شاہد بلوا، سدھارتھ بلوا اور سنجے چندرا اے ڈی اے جی کے دو اعلی افسر پہلے ہی سے تہاڑ جیل میں بند ہیں۔ عدالت نے ہدایت دی ہے کہ 43 سالہ کنی موجھی اور شرد کمار کوسنیچر کو 10 بجے ان کے سامنے پیش کیا جائے۔ کنی موجھی بھی عدالت کا حکم سن کر ایک دم صدمے میں آگئیں اور رونے لگیں۔ ان کے خاندان کے ممبران اور ان کے شوہر اروندر نے ان کا حوصلہ بڑھایا۔ عدلت کے حکم سنائے جانے پر ڈی ایم کے کے کچھ حمایتی رونے لگے اور چلانے لگے اور عدالت نے اپنے 144 صفحات کے حکم میں کہا کہ گواہی دینے والے زیادہ تر لوگ کلیگنر ٹی وی کے ملازم ہیں، جنہیں لالچ دیا جاسکتا ہے۔
اس سے پہلے سی بی آئی نے اپنی چارج شیٹ میں کنی موجھی پر الزام لگایا کہ انہیں غیر قانونی طریقے سے کلیگنر ٹی وی کو قریب200 کروڑ روپے کے لین دین کا پتہ تھا۔ ایک پرائیویٹ کمپنی کے ذریعے اس چینل کو200 کروڑ روپے دئے گئے جس کی واقفیت کنی موجھی کو تھی۔ قابل ذکر ہے اس گھوٹالے میں سابق وزیرمواصلات اے راجہ جوڈیشیل ریمانڈ میں ہیں۔ یہ گھوٹالہ چھوٹا موٹا نہیں1 لاکھ 76 ہزار کروڑ کا ہے۔ ادھر اے راجہ اب دنیا بھر میں مشہور ہوگئے ہیں۔ کہتے ہیں نام کمانے کا ایک طریقہ بدنام ہونا بھی ہے۔ تبھی تو تہاڑ جیل میں سابق وزیر مواصلات اے راجہ کی سیاسی گلیاروں میں کوئی خبر نہ لے رہا ہو لیکن نامور میگزین ’’ٹائم‘‘ نے انہیں یاد کیا ہے۔ اس میگزین نے انہیں دنیا کے سب سے بدنام لیڈروں کی فہرست میں اہمیت کے ساتھ جگہ دی ہے۔ ٹائم نے اقتدار کے بیجا استعمال کے دنیا کے دس بڑے معاملوں میں شامل لوگوں کی ایک فہرست بنائی ہے۔ اس میں بھارت کا نام روشن کرنے کے لئے ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالہ دوسرے نمبر پر ہے۔ سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن کے عہد کے دوران واٹر گیٹ سے جڑے معاملے کوخاص اہمیت دی گئی ہے۔بدنام نیتاؤں کے کلب میں منموہن سنگھ سرکار سے استعفیٰ دے چکے ڈی ایم کے لیڈر اے راجہ نے لیبیائی صدر معمر قذافی ، نارتھ کوریا کے لیڈر کنگ جونگ اور روشن خیالی کے لئے بدنام اٹلی کے وزیر اعظم سلوبرلسکونی کو بھی پیچھے چھوڑدیا ہے۔ ٹائم نے اسپیکٹرم گھوٹالے پر سخت تبصرہ کیا ہے۔ ’’حال کے کچھ مہینوں میں بھارت کی یو پی اے سرکار اس بڑے گھوٹالے سے ہل گئی ہے۔ اس معاملے نے اقتدار پر پکی پکڑ رکھنے والی سرکار کو چنوتی دی ہے۔‘‘ الزامات کی وجہ سے پچھلے سال راجہ کو استعفیٰ دینا پڑا۔
کروناندھی کاسامراجیہ بکھر رہا ہے۔ ان کو اسمبلی چناؤ کو بھی بھاری شکست ملی ہے۔بیٹی اور وفادار دونوں جیل میں ہیں۔ خاندان ٹوٹنے کے دہانے پر کھڑا ہے۔ دیکھتے ہیں آگے آگے ہوتا ہے کیا؟
Tags: 2G, A Raja, Anil Narendra, Corruption, DMK, Kalaignar TV, kani Mozhi, Karunanidhi, Manmohan Singh, Richard Nixon, Water Gate Scandal

چنائو کمیشن اور وضاحت؟

چنائو کمیشن (ای سی)نے اسپیشل انٹینسورویژن (ایس آئی آر) کو لیکر اٹھے تنازع کے درمیان سنیچر کو میٹنگ بلائی۔اس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کم...