Translater

24 اکتوبر 2026

جلتا فرانس!

فرانس میں پچھلے کئی دنوں سے تشدد آمیزآندولن ہورہا ہے۔ دیش بھر میں ہوئے مظاہروں کے دوران 2300 سے زائد لوگوں کو حراست میں لیا گیا جو نوجوانوں ہیں۔ آندولن میں قریب ایک ہزار سکیورٹی جوان زخمی ہوئے ہیں۔ کئی شہروں میں دوکانوں کی لوٹ پاٹ ،آگزنی، پبلک عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔مہنگائی سے شروع ہوا یہ آندولن قریب چار ہفتے پہلے اس وقت شروع ہوا جب اسکولوں کی بدتر حالت کے خلاف طلبا نے مظاہرے شروع کئے۔یعنی فرانس میں بھی جین زی کے ذریعے آندولن شروع کیا گیابعد میں مہنگائی، ایندھن اور غذائی اجناس کے بڑھتے داموں کے خلاف جنتا کی ناراضگی بھی اس میں جڑ گئی۔سنیچر کے روز قریب پانچ لاکھ لوگ سڑکوں پر اترے تھے۔ اس درمیان مظاہرین نے پیرس کے مشہورلبرو میوزیم کے اینٹری گیٹ کو بند کردیاجس کے چلتے میوزیم نہیں کھل سکا۔ فرانس کے پیرس،مسیم اور لائوچ سمیت کئی شہروں میں رات کے کرفیو سے حالات کچھ نرم پڑے۔رات میں پولیس ہیلی کاپٹر سے گشت کرتی رہی۔ پیرس کے آندولن میںسب سے زیادہ متاثرہ پیرس۔ڈی لاریپبلکن علاقہ میں عملہ کی مددسے لگی مورتی سے پیلی جیکٹ ہٹائی گئی۔اس آندولن میں مظاہرین نے جم کر لوٹ مار کی۔لوئی ویتان، ایپل اسٹور سمیت کئی بین الاقوامی برانڈ کے شوروم لوٹ لئے گئے۔ اس سیاسی بحران سے صدر میکرو نے قریب ایک دہائی پہلے کے سیاسی سسٹم بدلنےاور مالی اصلاحات کو تیزی سے لاگو کرنے اور دیش میں انتظام ٹھیک کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن عہد کے صرف چھ مہینے باقی رہتے، مظاہرین نے انہیں کمزور صدر ثابت کردیا ہے۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے تشدد دکھاتا ہے کہ اب سرکاری مشینری کا اثر کتنا کم رہ گیا ہے۔ایک ایسے لیڈر کی لاچاری کھل کر سامنے آئی ہے جو نہ تو جنتا کے غصے کو روک پا رہا ہے ، جس کے پاس خرچ کرنے کے لئے پیسہ نہیں بچا ہے۔سیاسی حمایت کمزور ہوچکی ہےاور قانون و نظام پر گرفت لگاتار ڈھیلی ہوتی جارہی ہے۔ فرانس کے بڑھتے تشددکے درمیان امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی صدر امینول میکرو کی نکتہ چینی کی ہے۔ٹرمپ نے دعوی کیا کہ پیرس جلدہی ایک مسلم شہر بن جائے گا۔انہوں نے فرانس میں جاری تشدد کے لئے مہاجرین کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ میکرو کو کافی پہلے ہی دیش کی سرحدی بند کردینی چاہئے تھیں۔ میں نے ان سے ایسا کرنے کوکہا بھی تھا۔ نیوہسوے سینٹررپورٹ کے مطابق فرانس میں 46 فیصدی لوگ عیسائی ہیں اور قریب43 فیصدی لوگ کسی مذہب کو نہیں مانتے۔مسلم آبادی قریب9 فیصد ہے۔فوکس نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق کمیونسٹ، سماجوادی، مسلم، طلبعلم اور فلسطین حمایتی سمیت کئی گروپوں نے  مظاہروں کو بڑھاوا دیا ہے۔رپورٹ کے مطا بق ان 54 انجمنوں نے میں 16 طلبعلم یا نوجوان گروپ ہیں۔باقی میں کٹر پنتھ سیاسی پارٹی مزدور فیڈریشن ،کسان انجم، شہری حقوق گروپ اور بین الاقوامی میڈیا گروپ شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ نے مظاہروں میں حصہ لیا جبکہ دیگر نے انٹرنیٹ میڈیا یا نیوز کوریج کے ذریعے آندولن کی حمایت کی۔28 کمیونسٹ، سماجوادی، یوتھ اتحاد12 یوروپی ملکوں میں مظاہروں کی تیاری کررہے ہیں۔ فرانس کے علاوہ اٹلی و دیگر ملکوں میں بھی آندولن ہورہے ہیں۔
(انل نریندر)

22 اکتوبر 2026

نشانے پر بالی ووڈ ستارے !

بالی ووڈ کو ایک بار پھرلارینس بشنوئی گینگ نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اداکار ٹائیگر شراف پر قاتلانہ حملہ نےبالی ووڈکو ایک بار پھر یاد دلادیا ہے کہ انڈرورلڈ کی دہشت ختم نہیں ہوئی ہے۔2018 میں لارینس بشنوئی کی پہلی دھمکی کے بعد آٹھ سال سے اس کا فلمی دنیا سے وابستہ ہستیوں کے لئے خوف اور دہشت کا سبب بنا ہوا ہے۔ اداکار سلمان خان کو دھمکی سے شروع ہوا سلسلہ کئی اداکاروں اور گلوکاروں پر حملے ہوئے ہیں جبکہ سلمان کے مددگار مانےجانے والے این سی پی لیڈر بابا صدیقی کا قتل بھی ہوچکا ہے۔ ہر واردات میں بشنوئی گینگ کی وا بستگی ہونے سے بالی ووڈ ستارے خوفزدہ بتائے جارہے ہیں۔بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شراف پر ایتوار کی شام قریب 7.30 بجے بمبئی میں قاتلانہ حملہ ہوا۔ جوہو پولیس اسٹیشن سے محض350 میٹر دوری پر تین بدمعاشوں نے ان کی کار پر پانچ گولیاں چلائیں۔شکر ہے کہ گولیاں کار کے گلاس پر لگیں اس لئے ٹائیگر شراف بال بال بچ گئے۔ حالانکہ ان کے ڈرائیور فردوس کے بائیں ہاتھ میں چوٹ آئی ہے جبکہ پاس ہی ویڈیو بنا رہے ایک فین یوگیش چوہان زخمی ہوگئے۔پولیس کی 15 ٹیموں نے حملہ آوروںکی تلاش شروع کردی۔ اس معاملہ میں ایک تازہ خبر آئی کہ راجستھان پولیس کی اینٹی بدمعاش ٹاسک فورس اور کوٹہ پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے 19 اکتوبر کو تین ملزمان کو کوٹہ ریلوے اسٹیشن سے گرفتار کرلیا ہے۔ابتدائی اطلاع کے مطابق تینوں ملزم ممبئی سے دہلی جارہی ٹرین میں سوار تھےپولیس نے کوٹہ ریلوے اسٹیشن پر انہیں دبوچ لیا۔موصولہ اطلاع کے مطابق گرفتار ملزمان میں دو ہریانہ اور ایک بہار کا رہنے والاہے۔ تینوں میں سے دو حملہ آوروں کی پہچان بیگوسرائےباشندہ ملک کمار اور سونی پت کے ریحان کی شکل میں ہوئی ہے جبکہ ایک تیسرا نابالغ ملزم بھی سونی پت سے ہے۔بتادیں کہ پچھلے چار سال میں لارینس بشنوئی گینگ نے ان حملوںکی ذمہ داری لی ہے۔سدھو موسے والا، مئی 2022 سندھی اداکار گریوال نومبر2022، سلمان خان اپریل2024، اے بی ڈھلو(گلوکار) ستمبر2024، بابا صدیقی اکتوبر2024 اور روہت شیٹی(ڈائریکٹر) فروری2026۔اداکار سلمان کو دھمکی سے شروع سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔سلمان خان کے مددگار مانےجانے والے بابا صدیقی سے لیکر ٹائیگر شراف سبھی نشانہ پر رہے۔ بالی ووڈ سے لارینس بشنوئی گینگ کی عداوت کی شروعات 2018 میں تب ہوئی تھی جب لارینس نے جودھپور کورٹ میں پیشی کے دوران کھلے طور پر سلمان خان کو جان سے مارنےکی دھمکی دے ڈالی تھی۔بتایا جاتا ہے کہ اس نے تب اپنے ایک گرگے کو ممبئی بھیج دیا تھا۔ جو سلمان خان کے گھر کی ٹوہ بھی لے چکا تھا۔ اس کے بعد سلمان کے گھر پر فائرنگ سے لیکر ساری بالی ووڈ کی ہستیوں خاص طور پر سلمان خان سے وابستہ لوگوں کو دھمکیاں دینا شروع کردیں۔اپریل 2024 میں سلمان کے باندرہ میں واقع گھر گلیکسی اپارٹمنٹ کے باہر پانچ رائونڈ فائرنگ کروائی تھی۔ٹائیگر شراف پر فائرنگ کے بعداپوزیشن ریاستی حکومت پر حملہ آور ہیں۔اپوزیشن لیڈروں نے الزام لگایا کہ دوبئی اور پورے مہاراشٹر میں قانون و انتظام کے حالات بگڑ گئے ہیں۔کانگریس نیتا سچن راوت نے کہا کہ ممبئی بدامنی کی زد میںآگئی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلی ، وزیر داخلہ دیویندر فڑنویس پر الزام لگایا کہ وہ قانون و انتظام بنائے رکھنے میں پوری طرح ناکام ہوگئے ہیں۔ممبئی کانگریس صدر ورشا گائیکواڑ نے مہاراشٹر کیلئے علیحدہ وزیر داخلہ دینے کی مانگ کی اور اس صو رتحال کےلئے فڑنویس کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ این سی پی ممبر اسمبلی روہت پوار نے کہا کہ اگر وزیر اعلی حالات کو سنبھال نہیں پا رہے ہیں تو محکمہ داخلہ کسی دیگر وزیر کو سونپ دیں۔ادھر بالی ووڈ میں دہشت کا ماحول بن گیا ہے۔سب کو اب اپنی جان و مال کا خطرہ ہوگیا ہے۔ایک بار پھر ممبئی انڈر ورلڈ کے قبضے میں نہ آجائے؟
(انل نریندر)

20 اکتوبر 2026

رجیم چینج بنام تختہ پلٹ !

سپریم کورٹ کے جانے مانے وکیل پرشانت بھوشن نے جمعرات کو دہلی میں پریس کلب میں منعقدہ کاکروچ جنتا پارٹی کی پریس کانفرس میں کہا کہ وہ اب رجیم یعنی اقتدار تبدیلی چاہتے ہیں۔اس کے بعد ہنگامہ ہوگیا۔ مجھے لگتا ہے کہ پرشانت بھوشن نے دیویندر یادو کے انڈین ایکسپریس میں لکھے ایک مضمون میں تحریر کیا تھا’ہم رجیم چینج نہیں چاہتے، ہم چنائو پروسیس میں سدھار چاہتے ہیں۔‘یادو کے بیان پر مظاہرین کو بہت برا لگا اور اپنی پوزیشن صاف کرنے کے مقصد سے پرشانت بھوشن نے اقتدار تبدیلی کی بات کہی۔ اس سے پہلے کہ  بی جے پی کا اس پر کیا جواب آیا میں بتانا چاہتا ہوں کہ رجیم چینج کا مطلب کیا ہوتا ہے اور کیوںوہ جمہوریت کی ایک اہم ترین کارروائی ہے۔ میں نے الگ مطلب : حکومت تبدیلی یا اقتدار تبدیلی ہوتا ہے۔ اس کا مطلب کسی دیش کی موجودہ حکمرانی نظام، سرکار یا لیڈر شپ کو ہٹا کر اس کی جگہ نئی قیادت لانا ہے۔ اس کا مطلب قطعی تختہ پلٹنا نہیں ہوتا۔ تختہ پلٹنے کا عام طور پر مطلب ہوتا ہے جب فوج منتخب سرکار کو زبردستی ہٹا کر خود حکمرانی سنبھال لیتی ہے۔ یہ ہم نے کئی بار پاکستان میں دیکھا ہے۔افریقہ کے کئی ملکوں میں بھی دیکھا ہے۔ جمہوریت میں سرکار یا اقتدار تبدیلی جمہوریت کا بنیادی حصہ ہے۔ انا آندولن کے بعد جنتا نے اقتدار بدلہ تھا اور بی جے پی کو بعد میں حکومت ملی۔ جب رجیم چینج کی بات کرتے ہیں تو موجودہ سرکار کو چنائو میں ہراکر اقتدار تبدیلی ہوتی ہے۔اگر ایسا نہ ہوتو ایک ہی سرکار بغیر چنائو جیتے اقتدار میں سالوں سال بنی رہے تو وہ تانا شاہی ہوجائے گی۔اس لئے یہ کہنا کے رجیم میں چینج کا مطلب تختہ پلٹنا نہیںہے خیر اس پر وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی تحریک چنائو اصلاحات کے لئے نہیں ہے بلکہ ان کا مقصد بد امنی پھیلانا ہے۔ وہیں بی جے پی ترجمان سمبت پاترا نے کہا کہ پریس کانفرنس سے صاف ہوچکا ہے کہ ان لوگوں کی منشا ہے دیش میں تختہ پلٹ کرنا اور بغیر چنائو لڑے سرکار بنانا۔ اپوزیشن کا آندولن چنائو اصلاحات کے لئے نہیں ہے، بلکہ اقتدار تبدیلی کے لئے بنگلہ دیش کی طرز پر دیش میں تشدد اور بدامنی پھیلاناہے۔ اس پر کانگریس نے راجناتھ سنگھ کے بیان پر سخت اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی حقیقت صاف ہےاور ہم چنائو کے ذریعے سرکار کو ہٹانا چاہتے ہیں۔ کانگریس ایم پی پون کھیڑا بدامنی کے سہارے اقتدار تبدیلی کے راجناتھ کے الزام کو بھاجپا کا پاکھنڈ بتایا۔پریس کانفرنس میں پون کھیڑا نے وزیر دفاع کے بیان پر جوابی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سرکار کو ہٹانا ہے اور اس نظام کو بدلنا ہے۔ کھیڑا نے مزید کہا چنائو کے ذریعے سے سرکار بدلنا جمہوریت کاایک عام پروسیس ہے۔ کھیڑا نے 1977 کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو کہہ رہے ہیں کہ رجیم بدلنا ہے۔1977 میں کیاہوا تھا؟ ہر بار جب اپوزیشن سڑک پر آتی ہے اور کوئی بھی آندولن ہوتا ہے تو اقتدار تبدیلی ہوتی ہے۔ چنائو کے ذریعے ہی رجیم چینج ہوتا ہے۔ کھیڑا نے کہا بھاجپا جمہوریت کی تعمیل کرنے کی عادت بھول چکی ہے۔پرشانت بھوشن نے کہا کہ اب سرکار کہہ رہی ہے کہ یہ تو اپوزیشن کا رجیم چینج کاآپریشن ہے۔ہم تو ابھی چنائو، جمہوریت ٹھیک کرنے کی اپیل کررہے تھے لیکن سرکار اس بربریت سے چلے گی تو ضرور رجیم چینج ہوگا۔رجیم چینج کے الزامات پر انہوں نے کہا : ہاں ہم رجیم چینج کرنا چاہتے ہیں، اس میں کیا غلطی ہے؟ بی جے پی رجیم چینج کے لئے بار بار الزامات لگاتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ لوگ رجیم چینج کے نام پر سازش رچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا رجیم چینج کرنا ہر شہری کا جمہوری حق ہے۔ہمارے آئین میں سرکار کے خلاف احتجاج کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ 
(انل نریندر)

17 اکتوبر 2026

اپوزیشن کا سپریم مارچ!

لوک سبھا میںاپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی اورمختلف اپوزیشن لیڈروں نے بھارت کے چیف جسٹس، جسٹس سوریہ کانت سے ملاقات کا وقت مانگاتھا لیکن چیف جسٹس نے ملنے سے انکار کردیا۔اپوزیشن لیڈروں نے چیف جسٹس کو خط بھیج کر کہا کہ وہ ان سے مل کر چنائو کمیشن اور مبینہ ووٹ چوری سمیت کئی اشوز پر اپنی تشویشات ان کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس نے اس ملاقات کو ٹھکراتے ہوئے کہا کہ جن اشوز کو لیکر ملاقات کی درخواست کی گئی ہے ان سے جڑے معاملہ پہلے سے ہی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ایسے معاملوں پر الگ ملاقات کرنا عدلیہ تقاضوں کے مطابق نہیں ہوگا۔ چیف جسٹس نے اپوزیشن لیڈروں کو مشورہ دیا کہ وہ ایک عرضی دائر کردیںاس پروہ سماعت کریںگے۔ چیف جسٹس کی اس تجویز پر رائے زنی کرتےہوئے تمام اپوزیشن لیڈ پیر کو ایک مارچ کرتے ہوئے سپریم پہنچے۔ 12اکتوبر کو یہ مارچ کیا گیا۔اتفاق سے مجھے اس جلوس کو دیکھنے کا موقعہ ملا۔ ہوا یوں کہ میں تقریباً تین بجے اپنے دفتر پرتاپ بھون ،بہادرشاہ ظفر مارگ جا رہا تھا، جب ہم انڈیا گیٹ پر پہنچے تو تلک مارگ کا راستہ بند تھامجبوراً ہمیں وہاں سے نکل کر منڈی ہائوس مارگ کے راستے جانا پڑا۔ منڈی ہائوس پہنچنے پر میں نے دیکھا کہ وہ پوری طرح گھرا ہوا ہے۔ وہاں سینکڑوں مظاہرین پہنچے ہوئے تھے۔ وہاںسے لیڈی ارون کالج والاتلک برج تک کا روڈ بلاک تھامجبوراً ہم بارہ کھمبا روڈ سے جانے لگے۔ بارہ کھمبا روڈ پر بھی سینکڑوں لوگ سڑک پر تھے۔ ان میں زیادہ تر وکیل تھے وہ پہلے سے کھڑے تھے یا سڑک پر بیٹھے تھے۔ انہوں نے میری گاڑی کو راستہ دیا اور بھیڑ میں میں للت ہوٹل ہوتے ہوئے دفتر پہنچا۔میں نے اپنی زندگی میں اتنی بھیڑ ایک بار پہلے دیکھی تھی جب رام لیلا گرائونڈ میں انا آندولن ہوا تھا لیکن بعد میں میں نے ٹی وی پر بھیڑ دیکھی تو میں حیران ہوگیا۔ دہلی میں برسوں بعد ایسی بھیڑ دیکھی۔ یہ بھیڑ کوئی کرائے پر لائے گئے لوگ نہیں تھے، جو بسوں میں  دبائو کے چلتے آنے پر مجبور ہوئے۔بھیڑ میںبزرگ ، درمیانی عمر کے لوگ، لڑکے لڑکیاں سبھی طرح کے لوگ تھے جو اپنے پیسوں سے ، اپنی مرضی سے اس مارچ میں شامل ہوئے۔ پولیس نے بھی اس مرتبہ بہت کنٹرول، سمجھداری سے کام کیا۔انہوں نے کہیں بھی کسی طرح کی زور زبردستی نہیںکی۔ بھیڑ اتنی تھی کہ راہل گاندھی، پرینکا کی جان کو خطرہ ہوسکتا تھا۔ حالانکہ ان کو زیڈ پلس سکیورٹی ملی ہوئی ہے جس میں 41 سے 50 سکیورٹی ملازم ہوتے ہیں۔ اس دن مشکل سے چار پانچ ہی نظر آئے۔ راہل ۔ پرینکا کو تھوڑا اپنی حفاظت پر بھی دھیان دینا ضروری ہے۔ایسی بے کنٹرول بھیڑ میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ خیر! 11 اپوزیشن لیڈروں نے ایس آئی آر بڑے سطح پر نام کاٹنے اور گڑ بڑی کے الزام لگاتے ہوئے مشترکہ عرضی دائر کی۔اس میں چنائو کمیشن ، سی ای سی، گیا نیش کمار اور دونوں الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو، وویک جوشی فریق بنائے گئے ہیں۔ووٹ چوری کو لیکر دہلی کی سڑکوں پر سات دن سے مظاہرے جاری ہیں۔ اس سے پہلے بارہ کھمبا روڈ سے اپوزیشن کا سپریم کورٹ کی جانب مارچ شروع ہوا تو راہل گاندھی نےاکھلیش یادو، تیجسوی یادو، سپریا سلے سمیت کئی دوسرے لیڈروں کو بھی بلایا ۔ ایس آئی آر رضاکار نیہاوہرہ بھی ذاتی طور پر موجود تھی۔مارچ کے دوران راہل گاندھی پیدل آگے بڑھنے کے لئے نکلے تو ان کے آس پاس لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی۔ جس سے کچھ دیر تک دھکا مکی جیسی حالت بن گئی۔بھیڑ کو کنٹرول کرنا چیلنج بن گیا۔اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہوگی کہ دیش میں ایک اہم مسئلہ پر لوگوں کو سڑکوں پر آنے کے لئے مجبور ہونا پڑ رہا ہے اور کوئی جوابدہی کو تیار نہیں تو اب ایک ہی راستہ انصاف کے لئے بچتا ہے وہ ہے سپریم کورٹ کو دروازہ اور یہی اپوزیشن نے کیا۔ سپریم کورٹ میں انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
(انل نریندر)

15 اکتوبر 2026

ناراضگی کیا صرف چنائو کمیشن سے ہے یا ؟

10 اکتوبر کو جنتر منتر پر احتجاجی مظاہروں کو لیکرسرکار کی کارروائی اور مظاہرین کو جس بربریت سے روکنے کی کوشش ہوئی اس پر سوال اٹھ رہے ہیں۔2026 میں نوجوانوں سے وابستہ احتجاجی مظاہروں کا دائرہ اب صرف روزگار یا امتحان تک محدود نہیں رہا ہے۔ امتحان اور روزگار کے سوالوں سے شروع ہوا زین جی آندولن کےبعد اب ووٹر لسٹ اور چنائو کمیشن کو لیکر بھی زین جی اور اپوزیشن پارٹیوں کے مظاہرے ہو رہے ہیں۔ آج کا سوال یہ ہے کہ نوجوان کن اشوز پر سڑکوں پر اتر رہے ہیں اور کیوں؟کیا روزگار کی پریشانی آہستہ آہستہ چھوٹے اداروں پر بھروسے کی تشویش میں بدل رہی ہے؟ کیا امتحان میں غیر جانبداری کا سوال اور چنائو میں منصفانہ کا سوال، دونوں کے پیچھے سسٹم سے انصاف ملنے کے بھروسے کا سوال ہے؟ یہ کچھ سوال تھے جن کو لیکر 10 اکتوبر کو راجدھانی دہلی میں ایسا مظاہرہ ہوا جو کبھی پہلے نہیں دیکھا گیا تھا۔ جس طریقے سے انتظامیہ۔ حکومت نے اس سے نمٹنے کےلئے ہتھکنڈے اپنائے اس سے ساری دنیا میں بھارت کی ساکھ خراب ہوئی۔ غیر ملکی میڈیا نے اس واقعہ کو بڑی کوریج دی۔اور تو اور پاکستان کے اخبار ’دی ڈان‘ نے اپنی رپورٹ میں اس مظاہرے کو بھارت کے پی ایم مودی کے خلاف نوجوانوں کا ایک ودھرو قرار دیا۔ اخبار لکھتا ہے کہ یہ پہلی بار ہے جب کوئی وائرل آن لائن یوتھ مومنٹ سوشل میڈیا سے نکل کر سیدھے سڑکوں پر آگئی ہے۔ ’دی ڈان‘ نے سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے کے 2.2 کروڑ انسٹاگرام فال اوورس اور نوجوانوں کے درمیان بڑھتی مقبولیت کو بھی ہائی لائٹ کیا ہے۔امریکی اخبار ’دی نیویارک ٹائمز‘ نے لکھا ہے کہ ایک طرف دہلی کی سڑکوں پر افراتفری کا ماحول تھا دوسری طرف پارلیمنٹ میں مسکراتے ہوئے مسٹر مودی امن کی ساکھ پیش کرنے کی کوشش کررہے تھے اور انہوں نے مظاہرین کی مانگوںسے متعلق کچھ نہیں بولا۔ اخبار نے مزید لکھا ہے کہ حکمراں بی جے پی نے بھارت کے نوجوانوں کے بھاری غصے کو کمتر سمجھنے کی غلطی کی ہے۔ساتھ ہی رپورٹ میں کہا گیا ہےپی ایم مودی کی ایک مـضبوط شخصیت والی امیج میں بھی اب دراریں پڑتی نظر آرہی ہیں۔نیویارک ٹائمس نے سرکار حمایتی ٹی وی چینلوں پر بھی طنز کسا ہے جنہوں نے پہلے اس مظاہرہ کو نظر انداز کیا بعد میں پارلیمنٹ کے آس پاس دہشت کا ماحول دکھاتے نظر آئے۔بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں جنتر منتر پر ترنگا اور تختیاں لئے مظاہرین اور پارلیمنٹ کی طرف جانے والے راستوں پر سکیورٹی فورسز کی گھیرا بندی کے درمیان ٹکرائو کو دکھایا ہے۔رپورٹ میں ذکر ہے پولیس کے پیچھے دھکیلنے پر مظاہرین کے سر سے خون بہتے ہوئے یا لنگڑاتے ہوئے جنتر منتر کی طرف لوٹے۔بی بی سی کے مطابق یہ آندولن پی ایم مودی کے خلاف حالیہ برسوں میں ناراضگی کا سب سے بڑا چہرہ بن گیا ہے۔فائنینشیل ٹائمس کے مطابق پولیس نے بھیڑ پر آنسو گیس کے گولے چھوڑے ، لاٹھیاں برسائیں۔ اخبار کا خیال ہے کہ یہ مظاہرے مودی سرکار کے سامنے ایک بڑی چنوتی بن سکتے ہیں۔ رپورٹ میں مظاہرین کے اس نعرہ کا خاص طور پر ذکر ہے جس میں وہ چلا رہے تھے: ’جب بھی مودی ڈرتا ہے، پولیس کو آگے کرتا ہے۔ بزنس نیوزولمرگ کے مطابق مظاہرین نے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا ہے اس سے سرکار پر دبائو بڑھ گیا ہے۔ ولمرگ نے خبردار کیا ہے بڑھتی ناراضگی اگلے سال مئی میں ہونے والے یوپی کے اسمبلی چنائو میں بی جے پی کےلئے ایک بڑا امتحان ثابت ہوگی۔وہیں ایک جرنل والاسٹریٹ نے بھی اسے پی ایم مودی کے سامنے برسوں کی سب سے بڑی چنوتی قراردیا ہے۔برطانوی اخبار دی گارجین نے اپنی ہیڈ لائن میں لکھاہزاروں سی جے پی مظاہرین نے پولیس کو چنوتی دیتے ہوئے دہلی میں مارچ کیا۔ اس بھیڑ میں خاص طور سے طالبعلم اور زین جی لڑکے شامل تھے جو مودی سرکار سے اس بات کو لیکر بیحد ناراض ہیں کہ سرکار نے نوجوانوں کو مایوس کیا ہے۔دی گارجین نے نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ملکوں میں نوجوانوں کے ذریعے سرکاریں گرائے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ بھارت میں اس شدت کےاحتجاجی مظاہرے حال کے برسوں میں ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔سکیورٹی فورس کی بربریت اور سختی سے احتجاج کی آوازیں بیشک کچھ وقت تک خاموش کی جاسکتی ہیں لیکن اب یہ آندولن رکنے والانہیں لگتا، مسئلہ کا حل تو بات چیت سے ہی ممکن ہے جس کی پہل کرنی ہوگی۔فی الحال سرکار کی طرف سے کوئی ایسا امکان نظر نہیں آرہا ہے۔
(انل نریندر)

13 اکتوبر 2026

اپوزیشن مہامہم کی شرن میں!

اپوزیشن انڈیا اتحاد کے نمائندہ وفد نے جمعہ کی رات مہامہم صدر جمہوریہ سے ملاقات کی ہے۔ محترمہ صدر دروپتی مرمو سے ملنے والوں میں کانگرسی صدر ملیکا ارجن کھڑگے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی،ترنمول کانگریس چیف ممتا بنرجی، جموں کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ ، این سی پی (شرد پوار) ایم پی سپریہ سلے، آر جےڈی ایم پی منوج جھاو دیگر اپوزیشن لیڈر شامل تھے۔اپوزیشن نمائندہ وفد کی یہ اہم مانگیں تھیں جو انہوں نے صدر جمہوریہ کے سامنے رکھیں ۔پہلی، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ،سی ای سی کو تاحیات قانونی چھوٹ دینے والے 2023 کے قانون کو منسوخ کیا جائے۔ دوسرا، ایس آئی آر پر فوراً روک لگے اور ووٹر لسٹ سے مبینہ طور پرہٹائے گئے 3.30 کروڑ ووٹروں کے نام بحال کئے جائیں۔تیسرا، سبھی چنائو میں بیلٹ پیپر استعمال کا نظام واپس لایا جائے۔ چوتھا، پچھلے دو برسوں میں ہوئے ان سبھی انتخابات (اسمبلی) کو منسوخ کیا جائے، جس میں اپوزیشن کے مطابق ووٹ چوری کے فیصلہ کن ثبوت پیش کئے گئے ہیں۔اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ نے صدرسے ملاقات کو تسلی بخش بتایا۔ اس سے پہلے اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈرمارچ نکالتے ہوئے راشٹرپتی بھون کی طرف بڑھے توپولیس نے صرف 10 لوگوں کی اجازت ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں وجے چوک پر ہی روک دیا۔ اپوزیشن کے 158 ایم پیز کے ساتھ وفد ملنا چاہتا تھا۔اپوزیشن لیڈر مطالبات منوانے کےلئے دھرنے پربیٹھ گئے۔ بعد میں ایک نمائندہ وفد کو صدر جمہوریہ کے پاس بھیجنے پر راضی ہوگئے۔ صدر سے ملاقات کے بعد میڈیا سے مخاطب لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ ہم نے صدر جمہوریہ کو سونپے گئے میمورنڈم میں ایس آئی آر کو ملتوی کرنے اور 3.30کروڑ ووٹروں کے ناجائز طریقے سے کاٹے گئے ناموں کو پھر سےبحال کرنے کی مانگ کی۔ صدر کو سونپے گئے میمورنڈم میں صاف طور پر الزام ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ امت شاہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ہندوستانی جمہوریت کو برباد کرنے کی سازش رچی ہے۔راہل نے بعد میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے دعوی کیا کہ صدر جمہوریہ نے ہماری بات کی بالکل تردید نہیں کی۔ انہوں نے (راہل کے مطابق)چنائو میں دھاندلی کے ثبوت مانگے، جو انہیں سونپ دئے جائیںگے۔ووٹ چوری کی گئی ہے انہوں نے کہا ہریانہ ، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، بہارو دہلی اور مغربی بنگال اسمبلی چنائو میں دھاندلی کرکے جیت حاصل کی اور اب تک 24 چنائو چوری ہوئے ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا مجھے امید تھی کہ صدر جمہوریہ اس بات سے انکار کریںگی کہ ووٹ چوری ہورہی ہے لیکن میں حیران رہ گیا کہ انہوں نے ہماری بات مان لی۔ بتادیں کہ یہ نیتا اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کا کہنا ہے ،راشٹرپتی بھون سے ایسی کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔دیکھنا اب یہ ہوگاصدر جمہوریہ دروپتی مرمو کا اس پر کیا رد عمل ہوتا ہے؟ بتادیں کہ آئین کے مطابق چنائو کمیشن صدر جمہوریہ کو رپورٹ کرتا ہے۔ ممکن ہے صدر یہ میمورنڈم چنائو کمیشن کو بھیجیں اور ان سے جواب طلب کریں۔
(انل نریندر)

08 اکتوبر 2026

ووٹ چھیننا آئین کے خلاف!

پچھلے تین چار مہینے سے پورے دیش میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ان کے ذریعے ووٹ چوری کو لیکر تحریکیں چل رہی ہیں۔کاکروچ جنتا پارٹی کا آندولن جون میں نیٹ پیپر لیک اور بڑے امتحانات کے پیپر لیک ہونے سے شروع ہوا یہ آندولن اس وقت تیزی پکڑ گیا۔ اب انڈین ایکسپریس نے چنائو کمشنروں میںاختلافات کو لیکر اپنی رپورٹ شائع کی اس سے پورے دیش میں آندولن چھڑ گیا اور یہ روز بروز تیز ہوتا جارہا ہے۔اس درمیان پورے دیش کی نظریں اب سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں۔ جہاں درجنوں عرضیاں چنائو پروسیس اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کےطریقہ کار کو لیکر ٹکی ہوئی ہیں۔ اس درمیان عزت مآب سپریم کورٹ کے ایک موجودہ جج کا اس پورے معاملہ پر ردعمل آیا تو پورے دیش میں امید کی کرن جاگی ہے۔میں بات کررہا ہوں سپریم کورٹ کے عزت مآب موجودہ جج جسٹس اجول گھنیاں کی۔ حیدر آباد کی نلسار لاء یونیورسٹی کے ایک لاء پروگرام میں انہوں نے کہا کہ ہندوستانی شہری کا ووٹ ڈالنے کا حق آئین کے بنیادی ڈھانچے کا اٹوٹ حصہ ہے۔اگر کسی رد عمل کے ذریعے بڑی تعداد میں شہریوں کوووٹ کےحق سے محروم کیا جاتا ہے تو ایسا ردعمل منمانا ہوگا۔ جسٹس گھنیاں نے کہا کہ کوئی بھی بہانا، شہریوں کا ووٹ کا حق چھیننے کو مناسب نہیں کا جاسکتا۔یہ آئین کی دفعہ14-اور326 کی خلاف ورزی ہوگی۔جسٹس گھنیا نے آگے کہا 18 سال کی عمر پوری کرنے والے شہری آئین میں مقرر تقاضوں کو چھوڑ کر چنائو میں ووٹ دینے کے حقدار ہیں۔ ان آئینی حدود کی خلاف ورزی کرنے والاقانوناًغیر تسلیم ہوگا۔ جسٹس نے کہا ووٹ کا حق شہریت کی روح ہے۔ عام شہری کے لئے دیش کی حکومت میں سانجھیداری کا سب سے اہم ترین حصہ پولنگ ہی ہے۔ حالانکہ انہوں نے سیدھے طورپر چنائو کمیشن کے ووٹر لسٹ میں تبدیلی کے پروسیس۔ایس آئی آر کا ذکر نہیں ہے۔جسٹس گھنیا نے ووٹرلسٹ سے نام ہٹانے کے معاملہ میں قانونی حفاظت کا بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا ہے سپریم کورٹ کے لال بابو حسین و بنام الیکٹرولر رجسٹریشن حق معاملہ میں فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متوفی ووٹر کو چھوڑ کر کسی بھی ووٹر کا نام نوٹس اور سماعت کا مناسب موقعہ دئے بغیر ووٹر لسٹ سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔انہوں نے کہا ووٹر لسٹ میں شامل ہونے کا حق شہریت سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔اسے شہریت سے الگ کرنا ایسا ہوگا جیسے جسم سے روح نکال دینا۔ عام شہری کے لئے دیش کی حکمرانی میں سانجھہ داری کا سب سے اہم ترین ذریعہ پولنگ ہے۔ جسٹس گھنیا نے نلسار کے طالبہ سے بات چیت میں کہا آپ نے دیش اور دنیا کو دکھایا ہےکہ یونیورسٹی اور خاص کر قانون کے طالبعلم کو کیسا ہونا چاہئے۔ آپ بااثر طریقے سے اور فیصلہ کن بہادر ہیں۔ یاد رہے یہی وہ یونیورسٹی ہے جسے کے کچھ طلبا نے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کو سالانہ تقریب اسناد میں مجوزہ مہمان خصوصی بنانے کی مخالفت کی تھے۔ کانگریس نے جسٹس گھنیا کے نام پر کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان کے پاس عہدہ پر فائز رہنے کا اخلاقی حق نہیں ہے۔
(انل نریندر)

06 اکتوبر 2026

اس وقت بھی میں ہنومان چالیسا پڑھ رہا تھا!

یہ کہنا ہے ہندوستانی نژاد پائلٹ اسمت مچھارکا۔ جب وہ اپنے آپ کو اور 170 جہازی مسافروں کو بچانے کےلئےجدوجہد کررہے تھے۔پی ایم مودی نے جمعہ کو ہندوستانی پائلٹ اسمت مچھار سے نو منٹ تک ویڈیو کالنگ کی۔ پی ایم مودی نے کہا پورا دیش آپ پر فخر کرسکتا ہے کہ ہم ہندوستانی دوسروں کی جان بچانے کےلئے خود کوبھی خطرہ میں ڈالنے والے لوگ ہیں۔ اسمت نے اس پل کااحساس شیئر کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنی لائف کےلئے ءڈر رہا تھا۔ میں نیچے گر گیا تھا۔چوٹ لگ گئی تھی اور میں پھنس گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی میں درد محسوس کرتا تو میں ہنومان چالیسہ ہی بولتا ہوں اور اس وقت بھی میں  ہنومان چالیسا کاہی جاپ کررہاتھا اور مجھے پتہ ہے کہ بھگوان ہنومان نے ہی مجھے بچایا۔دوبئی سے تل ابیب (اسرائیل) جارہی دوبئی فلائٹ میں کیپٹن اسمت مچھار نے جس ہمت کا ثبوت دیا، وہ واقعی ہی بے مثال ہے، اسمت نے بتایا کہ میں 17 سال سے جہاز اڑار ہا ہوں۔ میں پچھلے11 سال سے کیپٹن ہوں اور مجھے پتہ چلتا ہے، آنکھ بند کرکے بھی جہاز میں کہا ہورہا ہے۔جب میں نیچے گرا ہوا تھا تب مجھے احساس ہورہا تھا کہ ایئرکرافٹ نیچے جارہا ہے۔ میں نے اپنے آپ سے کہا کہ اسمت بس اب ایک لاسٹ پش اور دروازہ کھول دیں، تب میں نے کسی طرح دروازہ کھولا اور باقی سب آگئے اور سب نے اپنا رول نبھایا۔مجھے پتہ تھا کہ میں ان سب کو مرنے نہیں دے سکتا۔ یو اے ای کی سرکاری نیوز ایجنسی ڈبلیو اے ایم کے مطابق متحدہ عر ب امارات کے پروسیکیوٹر جنرل نے ایتوار کو کہا کہ فلائٹ دوبئی کی اڑان ایف زیڈ 1073 کے معاون پائلٹ نے اڑان کے دوران آتنک وادی حملہ محسوس کیا اور جہاز کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا پائلٹ نے کوکپٹ کے اندر کریش ایکس سے پائلٹ پر حملہ کیا اور جہاز کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تھی۔ کریش ایکس عام طورپر کاکپٹ میں رکھا جاتا ہے اور حادثہ جیسے ناگزیر حالات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا واردات کے حالات اور حملہ کے مقصد اور اس سے وابستہ کسی بھی تعلق کا پتہ لگانے کےلئے جانچ جاری ہے۔ ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو نے کہا کہ کو۔ پائلٹ اومانی شہری ہے ۔ حالانکہ فلائی دوبئی نے ابھی سرکاری طور سے کو۔ پائلٹ کی شہریت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا لیکن بین الاقوامی میڈیا میںبھی کو۔ پائلٹ کو لیکر کئی طرح کی باتیں سامنے آرہی ہیں۔ اےوی بی پی نیوز نے لکھا ہے کہ کو۔ پائلٹ اومان کا شہری ہے۔ حکام نے بتایا کہ 2024 میں اومان ایئر میں کو۔ پائلٹ ٹرینی کے طور پر کام کرنے کے دوران کو۔ پائلٹ حمام الحمی کے پاس کٹر پسندی سے جڑا میٹر پایا گیا تھا۔ اس کے باوجود اسے ایئر لائنس میں انتظامیہ میں کام جاری رکھنے کی اجازت دی گئی۔اس واقعہ نے ایک بار پھر جہاز رانی سیکٹر کی اپنی سلامتی و انتظامات پر سنجیدگی سےنظرثانی کرنے پر مجبور کردیا ہے۔جہازی حفاظت کے سامنے ایک نیا مسئلہ کھڑا ہوتا ہے۔اب تک سکیورٹی کا بڑا حصہ باہری خطرے کولیکر و روکنے پر مرکوز رہا ہے۔ 9/11 کے بعد کوکپٹ کے دروازے مضبوط کئے گئے، مسافروں کی بڑی اسکرینگ ہوئی، سامان کی جانچ کے طریقے بہتر کئے گئے اور مشتبہ سرگرمیوں پر نگرانی بڑھی لیکن فلائی دوبئی کا واقعہ بتاتا ہے سکیورٹی کے لئے چیلنج جہاز کے اندر موجود جیسے امکانی خطروں کی پہچان کی شکل میں سامنے آیا۔ ہوسکتا ہے پائلٹ کی بھی ذہنی صحت کی مسلسل جانچ کرنے کےلئے بہتر سسٹم کی ضرورت ہے لیکن یہ  ہوکیسے ؟ یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔بھارت میں آئے دن پائلٹوں کے نشے میں ہونے کی شکایتیں آتی رہتی ہیں۔ سی ایم ایم نے لکھا کہ فلائی دوبئی کی اڑان میں کیپٹن پر حملہ کرنے والے مشتبہ پائلٹ کو اومان کی قومی ایئر لائنس کی نوکری سے ہٹا دیا گیا تھا۔ ایسااس کے شدت پسند نظریات کو لیکر کیا گیا تھا۔ پھر ا س کو فلائی دوبئی میں جہاز اڑانے کی اجازت کیوں دی گئی؟معاملہ کی جانچ ہورہی ہے۔ یو اے ای میں کئی لوگوں کو حراست میں لیکر پوچھ تاچھ جاری ہے۔ سوشل میڈیا میں ایک غلط کہانی چل رہی ہے تو یہ باریک جانچ سے ہی پتہ چلے؟ پتہ چلے بھی یا نہیں۔ ویسے کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے : سوری بولو: فلاپ اسے بینڈ ایکٹیویٹ ۔
(انل نریندر)

03 اکتوبر 2026

گیا نیش کمار کا حفاظتی کوچ؟



ووٹ چوری کے الزامات کو دوہراتے ہوئے لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیا نیش کمار کو خبر دار کیا ہے اور تجویز بھی دی۔ اپوزیشن کے لیڈر نے جنتا کے مینڈیٹ کی چوری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ وقت بھی آئے گا ہم آپ کو پکڑ لیں گے۔ اس کے بعد انہوں نے صلاح دی کہ ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلی کے معاملہ میں سرکاری گواہ بن جائیں۔ یاد رہے راہل نے سب سے پہلے پچھلے سال ہوئے لوک سبھا چناؤ میں چناؤ کمیشن کو یہ چیتا ونی دی تھی۔ نو مہینے بعد، دی انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ میں چناؤ ئیشن کے اندر اختلافات ہونے کے بعد اپنی بات صحیح ہونے کا دعوی کرتے ہوئے اپوزیشن نے صاف طور پر گیا نیش کمار کی گرفتاری کی مانگ کی ہے۔ ایک طرف بی جے پی بچاؤ کر رہی ہے تو و میں اپوزیشن گرفتاری پر اڑی ہوئی ہے لیکن گرفتاری کی مانگ پر ایک آئینی تقاضہ بکرا رہا ہے اور وہ ہے دسمبر 2023 میں پارلیمنٹ سے پاس قانون کی دفعہ 161۔ سپریم کورٹ میں دائر ایک نئی عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس تقاضہ میں ایک شرط بھی ہے۔ نیا تنازعہ 23 ستمبر کو اس وقت شروع ہوا جب اخبار کی رپورٹ میں دعوی کیا گیا کہ گیا نیش کمار کے دو ساتھی کمشنروں سکھبیر سنگھ سدھو اور و یو یک جوشی نے 10 مہینوں میں کم سے کم 14 مرتبہ اور ایک ہی دن میں 4 مرتبہ مبینہ طور سے اپنے اعتراضات درج کرائے تھے۔ یہ اعتراضات چناؤ دور لسٹ اسپیشل انٹینسو رو چون (ایس آئی آر) جیسے اشو پر تھے۔ راہل گاندھی کے علاوہ سپالیڈ را علیش یادو ، آپ نیتا اروند کیجریوال اور ٹی ایم سی لیڈرممتا بنرجی جنہوں نے بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لئے ووٹرلسٹ میں دھاندلی کا الزام لگایا ہے۔ کا کروچ جنتا پارٹی بھی اس مہم میں شامل ہو گئی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ کئی ریاستوں میں اور مرکزی حکمراں ریاستوں میں ایس آئی آر پروسیس کے تحت اب تک 13 کروڑ سے زیادہ ووٹروں کے نام ہٹائے جاچکے ہیں جو بھارت کے کل ووٹروں کا تقریباً 13 فیصد ہے۔ بات کرتے ہیں گیا نیش کمار کو بچانے والی قانونی دیوار کی۔ اس قانونی زبان کو ہٹا کر دیکھیں تو چیف الیکشن کمشنر واٹر کمشنرا یکٹ 2023 کی دفعہ 16 کہتی ہے کہ کوئی بھی عدالت موجودہ یا سابق چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمشنر کے خلاف ان کے سرکاری کام کاج کے دوران کئے گئے کسی بھی کام کے لئے دیوانی یا کرمنل کیس کی سماعت نہیں کر سکتی۔ اس میں لکھا ہے فی الحال لاگو کسی بھی دوسرے قانون میں کچھ بھی لکھا ہونے کے باوجود کوئی بھی عدالت کسی ایسے شخص کے خلاف کوئی سول یا کرمنل کارروائی نہیں جاری کبھی جاسکتی جو چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمشنر ہے یا رہا ہے ۔ اگر اس نے اپنے سرکاری کام یا ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے کوئی کام کیا ہو یا کوئی چیز کی ہو یا کوئی بات کہی ہو یہ سیکیورٹی قانون کا حصہ تھی۔ اس کے تحت کمشنروں کو چننے کے لئے ایک کیٹی بنائی گئی تھی۔ 2023 سے پہلے چلنے کا کوئی بھی خاص پروسیس نہیں تھا کیونکہ کوئی قانون بناہی نہیں تھا اس لئے صدر سر کار کی صلاح پر تقرریاں کرتے تھے اس میں عدلیہ یا اپوزیشن کا کوئی رول نہیں ہوتا تھا۔ کیا سسٹم میں کوئی کمی ہے؟ حالانکہ یہ چھوٹ صرف ڈیوٹی کے دوران کئے گئے کاموں پر ہی عائد ہوتی ہے۔ وکیل شیلیندرمینا ترپاٹھی نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے ووٹرلسٹ میں کوئی بھی ہیر پھیر کرنا کمشنر کے کام کا حصہ نہیں ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو کرمنل مقدمے سے کوئی چھوٹ نہیں ملتی ہے۔ اس میں مانگ کی گئی ہے کہ گیا نیش کمار کی جانچ ہو اور اس پر کسی بھی دوسرے کرمنل ملزم کی طرح مقدمہ چلایا جائے۔ اس میں رہ پر نیشن آف دی پیپل ایکٹ 1950 کی دفعہ 32 ریکارڈ میں ہیر پھیر سے وابستہ انڈین جوڈیشیل کورٹ کے تقاضوں کے تحت مقدمہ چلانے کی مانگ کی گئی ہے۔ عرضی میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آئین صرف صدر اور گورنروں کو ہی کھلی چھوٹ دیتا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس پورے معاملہ میں بصد احترام سپریم کورٹ کیا رخ اپناتی ہے؟

01 اکتوبر 2026

چنائو کمیشن اور وضاحت؟

چنائو کمیشن (ای سی)نے اسپیشل انٹینسورویژن (ایس آئی آر) کو لیکر اٹھے تنازع کے درمیان سنیچر کو میٹنگ بلائی۔اس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، چنائو کمشنر سکھبیر سنگھ اور ویویک جوشی شامل ہوئے۔میٹنگ کے بعد الیکشن کمشنر نے کہا کہ ایس آئی آر سے جڑے سبھی بڑے فیصلے اتفاق رائے سے لئے گئے تھے۔ چنائو کمیشن نے ایس آئی آر کی کارروائی میں کچھ تبدیلیوں کا بھی اعلان کیا ہےلیکن باوجود اس کے کانگریس اور دوسری اپوزیشن پارٹیوں کے سوال ختم نہیں ہوئے ہیں۔حالانکہ دوسری طرف بھاجپا اور اس کی ساتھی پارٹیوں نے چنائو کمیشن کی وضاحت کا خیر مقدم کیا ہے۔ایسے میں سوال ہے کہ تنازعہ اب کس سمت میں جائے گا؟ یہ میٹنگ انڈین ایکسپریس کی اس رپورٹ کے بعد ہوئی ہے جس میں چنائو کمشنروں کے درمیان ایس آئی آر ووٹر ڈاٹا اور فارم 6 سے جڑے معاملوں پر اختلافات کا دعوی کیا گیا تھا۔ چنائو کمیشن نے یہ بھی کہا کہ دو چنائو کمشنروں کی کیبنٹ سکریٹری کو بھیجے گئے خطوط چنائو کمیشن کی کسی پالیسی یا ایس آئی آر کے فیصلہ سے متعلق نہیں تھے لیکن کانگریس نے چنائو کمیشن کے بیان کو ٹال مٹولی والابتاتے ہوئے کہا کہ اس کے اٹھائے گئے بنیادی سوالوں کے جواب نہیں ملے ہیں۔ پارٹی نے ایس آئی آر روکنے اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کی مانگ دوہرائی ہے۔وہیں بی جے پی کا کہنا ہے چنائو کمیشن کے بیان سے صاف ہوگیا ہے کہ ایس آئی آر کو لیکر لگائے گئے الزامات میں کوئی دم نہیں ہے۔بی جے پی صدر نتن نبین نے اپوزیشن پر لوگوں کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا۔کانگریس نیتا پون کھیڑا نے کہا کہ چنائو کمیشن اپنے اوپر لگے الزامات کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکا۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ اگر دو چنائو کمشنروں نے فارم 6 میں تبدیلی کو غیر مجاز اور غیر قانونی کہا تھا تو اس پر کوئی وضاحتی جواب کیوں نہیں دیا گیا؟ پون کھیڑا نے اپنے ایکس پر چنائو کمیشن کے پریس نوٹس کو ڈائون لوڈ کیا اور ڈلیٹ بتایا۔کہا کہ پریس نوٹس نے تین بڑے سوالوں کے جواب نہیں دئے۔ فارم 6 میں تبدیلی، نوجوان ووٹروں کا سوال اور ای سی آئی ان ای ٹی۔ پون کھیڑا نے لکھا جب تک چنائو کمیشن خاص قانونی اعتراضات کا جواب نہیں دیتا تب تک کتنے بھی لمبے پریس نوٹس جاری کردئے جائیں، اتفاق رائے کا کتنا بھی دعوی کرلیا جائے یا اور کوئی اور تماشہ کرلیا جائےاس سے گیانتش کمار گپتا کی مشکلیں ختم نہیں ہوںگی۔ابھی بھی اس کے لئے انتظار نہیں ہوا ہے انہیں استعفیٰ دے دینا چاہئے اور سرکاری گواہ بن جانا چاہئے ورنہ جیل جانے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔سوال یہ بھی ہے کہ جن ریاستوں میں ایس آئی آر کے بعد چنائو ہو چکے ہیں وہاں نوجوان ووٹروں کا کیا ہوگا؟ پون کھیڑا نے خاص طور پر پوچھا کہ بہار اور مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے بعد بغیر ایس آئی آر چنائو ہوگئے، وہاں چھٹے نوجوان ووٹوں کا کیا ہوگا؟ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ جنوری 2024 کے بعد سے ایس آئی آر نہیں ہوا تو پرانے فارم6 کا جواز کیا ہے؟ادھر دیش کے 2 ہزار سے زیادہ شہریوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر ایس آئی آر پر روک لگانے کی مانگ کی ہے۔ساتھ ہی چنائو کمیشن سے از خود نوٹس لے کر کارروائی شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ایس آئی آر کے جواز اور پروسیس کا جائزہ لینے تک اسے روکا جائے۔ووٹر رجسٹریشن سافٹ ویئراور فارم میں مبینہ تبدیلیوں کی کورٹ کی نگرانی میں جانچ ہونی چاہئے۔چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور دیگر حکام کے خلاف قانونی کارروائی اور ای سی آئی نیٹ کا سپریم کورٹ کی مقرر آزادانہ کمیٹی سے سکیورٹی اورلیگل آڈٹ کرانے کی بھی مانگ کی گئی ہے۔خط پر دستخط کرنے والوں میں بحریہ کے سابق چیف ایڈمرل وشنو بھاگوت ، سابق آئی اے ایس افسر ادیتی مہتہ،سینئروکیل پرشانت بھوشن، تاریخ داں ادتیہ مکھرجی اور اداکار پرکاش راج سمیت کئی ماہر تعلیم وکیل ،صحافی اور سماجی رضاکار شامل ہیں۔ ویسے بھی کورٹ میں کئی عرضیاں لگی ہوئی ہیں۔ دیکھنا ہوگا اس معاملہ میں آگے کیا کیا ہوتا ہے؟ 2اکتوبر سے کاکروچ پارٹی نے آندولن کا اعلان کیا ہے۔
(انل نریندر)

29 ستمبر 2026

میڈیا میں چھائے گیانیش کمار!

الیکشن کمیشن کے اندر سے جوخبریں باہر آئی ہوئی ہیں اور انڈین ایکسپریس میں چھپی ہیں وہ تشوتشناک تو ہیں ہی لیکن اس سے کہیں زیادہ سنگین اس لئے ہیں کیونکہ وہ دیش کے اس آئینی ادارہ کے طریقہ کار پر سوال کھڑا کرتی ہیں جس پر آزادانہ منصفانہ و شفاف چنائو کرانے اور جمہوریت میں عوام کا بھروسہ بنائے رکھنے کی بھی اہم ذمہ داری ہے۔بھارت میں چنائو کمیشن کے اندر مبینہ اختلافات کی رپورٹ کا تذکرہ پورے دیش میں تو ہو ہی رہا ہے لیکن بین الاقوامی میڈیا میں بھی یہ خبریں چھائی ہوئی ہیں۔ اس رپورٹ کے بعد پورے دیش میں چیف الیکشن کمشنرگیانیش کمار سرخیوں میں آگئے ہیں۔ پورے دیش میں ان کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں۔ وہیں بین الاقوامی میڈیا میں اس پر رائے زنیاں بھی شائع ہورہی ہیں۔امریکی میڈیا آئوٹ لیٹ بلوم برگ نے اس اشو پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایس آئی آر میں جائزووٹروں کے نام ہٹانے اور اس سے چناوی نتیجوں پر اثر پڑنے کا پورا پورا اندیشہ ہے۔ بلوم برگ نے لکھاہے : ستمبر کے آخر میں اس اشو پر پھر سوال اٹھے، جب ا خبار انڈین ایکسپریس نے خبر شائع کی کہ تین چنائو کمشنروں میں سے دو نے اس مہینے میں کم سے کم 14 مرتبہ اس پروسیس کو لیکر چیف الیکشن کمشنر کے سامنے تشویش جتائی تھی۔ چنائو کمشنر نے اس خبر کی تردید کردی ہے کہ چنائو کمشنروں کے درمیان مبینہ عدم اتفاق نے چنائوکی نگرانی کرانے والے ادارہ پر اور سوال کھڑے کردئے ہیں۔ پچھلے ایک سال میں ریاستی اسمبلی انتخابات میں وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی مسلسل جیت کے بعد ووٹر لسٹ میں صفائی کا سیاسی طور پر اشو بیحد حساس ترین ہوگیا ہے۔اپریل میں مغربی بنگال چنائو سے پہلے ووٹر لسٹ سے لاکھوں نام ہٹا دئے گئے تھے۔ اس کے بعدبی جے پی نے پہلی بار یہاں بڑی جیت حاصل کی۔پچھلے سال بہار میں بھی لاکھوں لو گوں کے نام ووٹر لسٹ سے کاٹے گئے تھے اور پچھلے سال ہی اسمبلی چنائو سے پہلے اسی طرح ووٹر لسٹ کی نظرثانی کرائی گئی تھی۔ ووٹروں کے نام جوڑنے اور ہٹانے کے ساتھ ووٹ فہرست کے مینجمنٹ والے سسٹم کے بڑھتی مرکزیت کو لیکر تشویشات پر بلوم برگ نے لکھا ہے دونوں کمشنروں نے یہ بھی کہا کہ کچھ فیصلے لئے گئے اور احکامات جاری کئے گئے لیکن اس کی جانکاری انہیں نہیں دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ایس آئی آر کے دوران قریب 13 کروڑ لوگوں کے نام ابتدائی ووٹر لسٹ سے ہٹا دئے گئے۔ان میں سے کئی لوگوں کے نام ہٹائے جانے کے خلاف اپیل کی گئی جو زیادہ تر ابھی بھی التوا میں پڑی ہے۔ اخبار نے لکھا وزیر اعظم نریندر مودی کو 2029 تک لوک سبھا چنائو میں ووٹ ڈالنے والے ووٹروں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا لیکن کچھ ہی مہینے بعد بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اترپردیش میں اسمبلی چنائو ہونے والے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات میں ہونے والے اسمبلی چنائو ان کی مقبولیت کےلئے ایک اہم سیاسی امتحان ہوگا۔ قطر کے اخبار الجزیرہ نے چنائو کمیشن سے وابستہ خبر شائع ہونے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاجی مظاہروں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے نوجوان آندولن کاریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر دیش کے چیف الیکشن کمشنر سنیچروار تک استعفیٰ نہیں دیتے ہیں تو وہ دیش بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع کریں گے۔ اخبار نیویارک ٹائمس نے بھی اس مسئلہ پر بڑی اہمیت کے ساتھ خبر شائع کی ہے۔ ایس آئی آرسے لیکر اپوزیشن پارٹیوں میں تقسیم اور چناوی سمبل ضبط کرنے اور انہیں تسلیم ہونے تک کہ اشو چھائے۔ ہر جگہ اپوزیشن کو چنائو کمشنر پر سوال اٹھانے کا ایک موقعہ بیٹھے بٹھائے مل گیا ہے۔ ہمیں لگتا ہے یہ اشو رکنے والا نہیں ہے اور ابھی کئی آندولن دیکھنے کو ملیںگے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے جو الزام لگائے ہیں وہ بھی وضاحت کی مانگ کرتے ہیں۔ یہاں سپریم کورٹ کے جسٹس دیپانکردتتا کی رائے زنی بھی بیحد اہم ہے۔ ایک آئینی ادارہ پر اس طرح کے الزام بیحد تشویشناک ہیں۔جو سوال اٹھ رہے ہیں ان کا جواب ملنا ہی چاہئے۔ کیونکہ چنائو کمیشن کے بھروسے پر پوری جمہوری مشینری کے اعتماد کا سوال بھی ہے۔
(انل نریندر)

24 ستمبر 2026

دہلی میں ایس آئی آ ر کو لیکر سوال!

دہلی کی ووٹر لسٹ میں ایس آئی آر کو لیکر کئی سوال اور اعتراضات کھڑے ہو رہے ہیں۔ ایس آئی آر پروسسز میں لاکھوں ووٹروں کے ریکارڈ میں گڑ بڑیاں سامنے آئی ہیں۔ ان خامیوں نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ڈیٹا مینجمنٹ سسٹم اور اس کے طریقہ کار پر سنگین سوال کھڑے کردئے ہیں۔ ویسے تو پورے دیش میں ایس آئی آر کا پروسس کو لیکر الگ الگ سوال اٹھ رہے ہیں۔ اور اسی درمیان دہلی ڈرافٹ ووٹر لسٹ کے بعد سامنے آئے نوٹسوں نے اس بحث کو اور بھی بڑا کردیا ہے۔ دراصل دہلی میں ایس آئی آر کے تحت قریب 3.13 لاکھ ووٹروں کے ریکارڈ میں ملی الگ الگ طرح کی غلطیوں کی بنیاد پر نوٹس جاری کئے جارہے ہیں۔ نوٹس ملنے والے عام ووٹروں کے ساتھ ساتھ سابق نائب وزیر اعظم ایل کے اڈوانی، وزیر خارجہ جے شنکر و سابق نائب صدر جمہوریہ جگدیپ دھنکڑ، الیکشن کمیشنر ایس ایس سندھو، دہلی کے سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال اور دہلی کے سابق نائب وزیر اعلی منیش سسودیہ، خارجہ سکریٹری وکرم مسٹری و نامور وکیل و سابق وزیر کپل سبل بھی شامل ہیں۔ سابق فوج کے چیف اپیندر دویدی، سی بی آئی ڈائریکٹرپروین سود اور کئی سینئر افسران بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ یہ فطری طور پر سوال اٹھ رہا ہے کہ آخر ایسا کیسے ہوا؟ جیسا کہ میں نے بتایا کہ دہلی میں قریب 33.13 لاکھ ووٹروں کو نوٹس کےلئے نشا نزد کیا گیا ہے۔ ان میں زیادہ تر معاملے ایسے ہیں جہاں موجودہ ووٹر ریکارڈ کو سال2002 میں ہوئی پچھلی ایس آئی آر کی ووٹر لسٹ سے لنک نہیں کیا گیا یا تفصیل میں گڑ بڑی ملی۔ حالانکہ چنائو کمیشن نے صاف کیا ہے کہ نوٹس ملنے کا مطلب ووٹر لسٹ سے نام ہٹانا نہیں ہے۔چنائو کمیشن کے مطابق ووٹر جواب ضروری دستاویزات جمع کر سکتے ہیں اور کسی کا نام سماعت کا موقعہ دئے بغیر اور مناسب حکم کے بغیر ہٹایا نہیں جاسکتا۔ کانگریس نے ایتوار کو الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ووٹر لسٹوں میں وسیع پیمانے پر نام ہٹانے کا اشو اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ دراصل ایس آئی آر امت شاہ کے اشارے پر ووٹروں کے نام ہٹانے کی ایک بڑی منشا ہے کارروائی اورآئین پر حملہ ہے۔ اس بات کے کافی ثبوت ہیں کے مختلف ریاستوں میں وسیع پیمانے پر ہٹائے گئے ناموں میں سب سے زیادہ تعداد سماج کے غریب اور اقتصادی طور پر کمزور طبقے سے آنے والے ووٹروں کی ہے۔راجیہ سبھا ایم پی کپل سبل نے ایتوار کو سوال کیا کہ اگر الیکشن کمیشن کا ارادہ بھاجپا کو اقتدار میں بنائے رکھنا ہی ہے تو چنائو کرانے کا کیا مطلب ہے؟ کپل سبل اور ان کی بیوی کو ووٹر لسٹ کے ایس آئی آر کے دوران دی گئی تفصیل میں گڑ بڑیوں کے سبب نوٹس جاری کیا گیا ہے ۔ اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کپل سبل نے کہا یہ کس طرح کی اسپیشل نظرثانی ہے؟ یہ جائز ووٹروں کو ہٹانے اور نا جائز ووٹروں کو جوڑنے کی کوشش ہے۔ اگر آپ بھاجپا کو ہی اقتدار میں بنائے رکھنا چاہتے ہیں تو چنائو کرانے کا کیا مطلب ہے؟ امید کی جاتی ہے کہ چنائو کمیشن جلد پورے معاملہ کی جانچ کر اپنی غلطیوں کو درست کرے گا کیونکہ اس کی ساکھ دائو پر لگی ہے۔
(انل نریندر)

22 ستمبر 2026

امت شاہ کا اعلان،مچ گیا گھماسان

اپنی سمجھ میں نہیں آیا کہ وزیر داخلہ امت شاہ کے محکمہ میں کیا پلاننگ ہے جو ایسے وقت میں یو سی سی نافذ کرنے کا اعلان کیوں کیا؟ جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی اور پورا دیش کامیاب برکس سمٹ کی خوشیاں منارہا تھا اور سارے دیش میں وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کی خوشیاں منائی جارہی تھیںیہ کیا صحیح وقت تھا متنازعہ تجویز لانے کا؟عزت مآب امت شاہ جی ممبئی تو گئے تھے مودی سرکار کے 25 سالہ کارناموں کو گنانےاور وہاں پہنچ کر اچانک اعلان کردیاکہ 2029 کے لوک سبھا چنائوسے پہلے دیش کی سبھی 21 بھاجپا حکمراں (بی جے پی۔این ڈی اے) نے یکساں سول کوڈ نافذ کردیا جائے گا۔ ہمیں نہیں پتہ کہ یہ وزیر اعظم اور ان کی کیبنٹ کا اعلان ہے یا نہیں؟ امت شاہ جی کے بیان کے بعد دیش میں سیاسی ہلچل مچنا فطری ہی تھا اور ہنگامہ کھڑا بھی ہوگیا۔ایک طرف اپوزیشن پارٹیوں نے سرکار کو گھیرنا شروع کردیا تو دوسری طرف خود بی جے پی کی اتحادی پارٹی جے ڈی یو نے بھی اس کے خلاف کھل کر احتجاج شروع کردیا۔ ادھر تیلگو دیشم پارٹی اب سے نہیں اٹل جی سرکار کے وقت سے ہی اس کی کھلی مخالفت کررہی تھی۔بھاجپا پر الزام لگایا گیا کہ وہ پرسنل لاءاور یکساں اختیارات جیسے پیچیدہ اشوز کو چناوی ہتھیار بنا رہی ہے۔بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی (مارکس وادی) نے کہا کہ پرسنل لاء اور یکساں حقوق جیسے پیچیدہ اشوز کو دیش میں نافذ کرنے کی تجویز عام چنائو سے پہلے بھاجپا کے اہم ہندوتو حمایتی بنیاد کو مضبوط کرنے کی ایک واضح سیاسی حکمت عملی کو ظاہر کرتی ہے۔ پارٹی نے سرکار کے جنسی برابری اور ایک شکل پر امکانی زور کو خارج کرتے ہوئے دلیل دی کہ اس مسئلہ کو صرف الگ الگ فرقوں کو ایک مشترکہ قانونی ڈھانچے کے تحت لانے تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔اپوزیشن کا کہنا ہے ایک شکل کا مطلب یکساں نہیں۔ انہوں نے الزام لگایا بھاجپا بےروزگاری ، مہنگائی اورر زرعی بحران اور طلبہ و زین جی کی پریشانیوں جیسے مسئلوں کو حل کرنے کے بجائے ایک اور بٹوارہ مہم کی تیاری کررہی ہے۔ یہ اعلان مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے اس اعلان کے بعد آیا ہے جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔سابق ایم پی اور سینئرسی پی ایم لیڈر حنان ملا نے پیر کو ایک ٹی وی چینل سے کہا پرسنل لاء میں شادی و طلاق ، وراثت، گود لینےاور خاندانی حقوق سے وابستہ حساس ترین اشو شامل ہوتے ہیں اس لئے ان کے لئے ریاستوں یا فرقوں، قانونی ماہرین اور شہری سماج کے ساتھ ساتھ وسیع خیالات ، دماغی ضرورت سے اغراض مبنی ہوتی ہے۔ مرکز میں موجودہ بھاجپا این ڈی اے سرکار دو بیساکھیوں پر ٹکی ہوئی ہے۔ جے ڈی یو اور ٹی ڈی پی جیسی پارٹیاں قومی سطح پر ایک طرفہ یکساں سول کوڈ قانون تھونپنے کے بجائے مقامی رضامندی اور حساسیت اپنانے کے حق میں رہے ہیں جے ڈی یو نیتا اس کے جائزے کی بات کہہ چکے ہیں۔سرکاروں کے ذریعے سے قانون نافذ کرنے پر مرکزی سرکار پر اتحادی پارٹیوں کی حمایت ضروری ہے۔ اتحادی پارٹیوں کی اپنی اپنی ریاستوں میں الگ مجبوریاں ہوسکتی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ امت شاہ اسے کیسے لاگو کرتے ہیں؟
(انل نریندر)

19 ستمبر 2026

مکہ میں حملہ : پار کی لکشمن ریکھا

مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی پوری دنیا کے لئے خطرہ کا اشارہ ہے ۔ یہ جنگ اب ایسے موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں اگر اس پر روک نہیں لگی تو انہونی ہو جائے گی ۔سعودی عرب نے دعویٰ کیا کہ ہے کہ ایران حمایتی یمن کے حوثی باغیوں نے اسلام کے سب سے مقدس شہر مکہ پر حملہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔سعودی عرب نے ایران حمایتی حوثی باغیوں پر مکہ کی طرف ڈرون بھیجنے کی کوشش کا بھی الزام لگایا ہے ۔سعودی عرب نے مکہ میں حملے کو اپنی ریڈ لائن بتایا ہے ۔لیکن حوثی باغیوں نے حملے سے انکار کیا ہے کہا ہم نے کوئی ایسا حملہ نہیں کیا ہے ۔سعودی عرب وہی پرانا گھسا پٹا الزام لگارہا ہے ۔حوثی باغیوں کی نیوز ایجنسی سبا کے مطابق تنظیم سے مکہ یا دیگر کسی مقدس مقامات کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔سعودی حکام کے مطابق ڈرون کو مکہ کے ایئر اسپیس میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا ۔سعودی عرب نے منگل کے روز مکہ اور دیش کے دوسرے بڑے شہر جدہ سمیت کئی علاقوں کے لئے سیکورٹی الرٹ جاری کیا ہے ۔مکہ وہ شہر ہے جہاں مسلمانوں کے لئے مقدس کعبہ موجود ہے ۔کعبہ کی طرف ہی منہ کرکے دنیا بھرکے مسلمان روزانہ پانچ وقت کی نماز ادا کرتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ 57سے زیادہ مسلم ممالک کی نمائندگی کرنے والی آرگنائزیشن اسلام کوآردڈینیشن نے بھی مقدس مقامات کی پاکیزگی کی خلاف ورزی کی کوشش کی مذمت کی ہے ۔مکہ ڈرون تنازہ کے بیچ حوثی کے  فوجی ترجمان یحیٰ ساریا نے ایکس پر دعویٰ کیا کہ پچھلے 24 گھنٹے میں سعودی عرب کے جنگی جہازوں نے یمن کے پانچ صوبوں پر 52 ہوائی حملے کئے ہیں ۔ایف -15 اور ٹاؤفن جنگی جہازوں نے کئی شہروں الزیف ،البیدا ، سادہ اور عمران میں حملے کئے ہیں ۔اسکولوں ، پلوں ، سڑکوں اور دوسرے شہری سہولیات کو نشانہ بنایا گیا ۔حوثی گروپ نے ان حملوں کا جواب دینے کی بھی دھمکی دی ہے ۔چونکہ حوثیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے سے انکار کر دیا ہے ۔اس لئے اس واقعہ کی جانچ ضروری ہے ۔امریکہ -ایران لڑائی کے دوران بھی ایسے حالات بن چکے ہیں ۔اس پورے خطہ میں ایسی طاقت موجود ہے جو لڑائی کو بڑھائے رکھنا چاہتی ہے ۔ایسے میں کسی بھی طرح کے غلط تجزیہ کا نتیجہ خطرناک ہو سکتا ہے ۔خیال رہے کہ یمن کے قریب 20 فیصد علاقہ میں حوثیوں کا قبضہ ہے ان کی تنظیم کا نام انصار اللہ یعنی اللہ کے مددگار ہے اوریہ شیعیٰ اکثیریتی انجمن ہے اور یمن میں اپنا الگ حصہ مانگ رہا ہے ۔امریکہ اس تنظیم کو دہشت گرد تنظیم مانتا ہے لیکن بھارت سمیت زیادہ تر مسلم ممالک بھی اسے آتنکی نہیں مانتے ۔حوثیوں کو فوری طور پر قابو میں کرنے کی صلاحیت سعودی عرب میں نہیں لگتی ۔بہت سوں کو یہ غلط فہمی ہوگی لیکن تذکرہ یہ ہے کہ سعودی عرب کی مدد اسرائیل کی خفیہ ایجنسیاں اطلاعات کے ذریعے کررہی ہیں ۔ہر جنگ کی قیمت آخرکار جنتا کو ہی بھگتنی پڑتی ہے ہمارے سامنے امریکہ ایران ،اسرائیل لبنان ، جنگ ہے ۔ساڑے چھ ماہ بعد بھی کوئی صلح کی راہ نظر نہیں آرہی ہے اس سے پہلے سعودی اور حوثیوں کی جنگ نہایت خطرناک موڑ پر پہنچے اس بیچ بچاؤکرکے رکوانا ضروری ہے ۔اور کسی بھی قیمت پر مقدس مذہبی مقامات کی حفاظت ہونی چاہیے ۔
(انل نریندر)

17 ستمبر 2026

کیا بھارت کی خارجہ پالیسی بدل رہی ہے؟

نئی دہلی میںاختتام پذیر ہوئی 18ویں برکس سمٹ میں جاری مشترکہ اعلانیہ میں مڈل ایسٹ کو لیکر اپنایا گیا رخ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اس اعلانیہ میں بغیر کسی دیش کا نام لئے ایسے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے جس کی شاید امید بہت کم لوگوں کو تھی اور یہ بحث بھی شروع ہوگئی ہے کہ بھارت نے اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کرنا شروع کردی ہے۔ اس اعلانیہ دستاویز میں جس پر سبھی متعلقہ ممالک نے اپنی منظوری دی ہےاور جوائنٹ اعلانیہ پر دستخط کئے ہیں مطلب سب ممالک کی اس میں رضامندی ہے۔ اعلانیہ دستاویز میں دو تین نقطہ ایسے ہیں جو اب تک کی ہندوستان کی خارجہ پالیسی سے میل نہیں کھاتے۔ اس اعلانیہ دستاویز میں اسرائیل اور امریکہ کا نام لئے بغیر فلسطین اور لبنان کا ذکرکیا گیاہے اور مشرق وسطیٰ کے کشیدہ حالات کا پر امن حل تلاشنے کی اپیل کی گئی ہے۔ دلچسپ یہ بھی تھا کہ امریکہ کے ساتھ جنگ میں ایک دوسرے کے برعکس دونوں محاذ میں کھڑے ایران اور یو اے ای بھی مشرق وسطیٰ کے حالات پرامن طریقے سے حل کرنے کی اپیل کرنے والے ملکوں میں شامل تھا۔برکس اعلانیہ دستاویز میں ٹرمپ امریکی ٹیرف کا نام تو نہیں لیا گیا لیکن کہا گیا کہ کئی ملکوں کو نا انصافی پر مبنی ، ایک طرفہ منمانے قدموں سے نقصان ہوا ہے ۔ چونکہ اعلانیہ دستاویز میں بھارت نے بھی دستخط کئے ہیں اس کا مطلب صاف ہے کہ پہلی بار امریکہ اور ٹرمپ کا نام لئے بغیر بھارت ٹیرف کی کھل کر مخالفت کررہا ہے۔ اب اسے بھارت کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی مانا جائے؟ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ٹرمپ کا اس پر کیا اثر اور رد عمل ہوتا ہے۔ اسی طرح اعلانیہ دستاویز میں غزہ اور قبضے والے فسلطینی علاقوں انسانی حالات پر بھی توجہ گئی اور تشویش جتائ گئی۔ اس میں غزہ میں سیز فائر بنائے رکھنے اور بغیر کسی رکاوٹ کے انسانی مدد پہنچانے کی اپیل کی گئی۔اس میں فلسطینیوں کو زبردستی بے گھر کئے جانے کی بھی مخالفت کی گئی۔ اس میں بین الاقوامی انسانی حقوق قانون میں ایسے سبھی ذکر کرکے مذمت کی گئی ہے۔اعلانیہ دستاویز میں جنوبی افریقہ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف دائر معاملہ میں بین الاقوامی انصاف عدالت کے انترم احکامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اعلانیہ میں دو ملک ’ٹو نیشن تھیوری‘کی حمایت کو دوہرایا گیا ہے اس کے تحت 1967 کی سرحدوں کو یقینی بنائے رکھنا شامل ہے۔ اس میں اسرائیل سے لبنان میں جنگ بندی کی تعمیل کرنے اور لبنان میں بچے ہوئے علاقوں سے اپنی فوج واپس بلانے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔ برکس اعلانیہ دستاویز میں بیشک اسرائیل کا سیدھے طور پر نام نہیں لیا گیا لیکن فلسطین اور لبنان کا ذکر کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے مسئلہ کا پرامن حل نکالنے کی اپیل کی گئی ہے۔ ایک سفارتی ماہر نے پوچھا کے بھارت اسرائیل رشتے کتنے مضبوط ہیں یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اس اعلان کے بعد اسرائیل اور بھارت کے رشتوں پر کوئی اثر ہوگا یا نہیں یہ تو آنے والے دنوں میں ہی پتہ چلے گا۔ اسی طرح ٹرمپ کے ٹیرف اور دادا گیری پر برکس میں لئے گئے موقف پر بھارت اور امریکہ کے رشتوں پر کیا اثر ہوگا یہ بھی آنے والے دنوںمیں پتہ چلے گا۔ایران ۔ امریکہ جنگ پر صاف طور پر برکس اعلانیہ دستاویز میں ایران کی حمایت کی گئی ہے۔ بیشک اعلانیہ دستاویز میں امریکہ کا نام نہیں لیا گیا، لیکن امریکہ کی جانب سے ایک طرفہ اقتصادی پابندیوں اور پرامن نیوکلیائی اداروں پر حملوں کی نکتہ چینی کی گئی ہے۔ کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے خلاف لگائی گئی ایک طرفہ پابندیوں کی مذمت کی جاتی ہے۔ ان کا وسیع طور پر اثر ہوتا ہے اور ان میں غریب لوگوں پر عام طور پر زیادہ اثر پڑتا ہے۔ برکس کے وہ دو دلچسپ ممبر ملکوں روس اور ایران پر بھی سخت پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ ٹرمپ کی برکس مخالفت جگ ظاہر ہے ۔ وہ کئی بار برکس کو امریکہ مخالف بتا چکےہیں اور برکس کے ساتھ جڑنے والے ملکوں پر مزید ٹیکس لگانے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ سوال یہاں یہ ہے کہ اگر بھارت نے بھی اس برکس اعلانیہ پر دستخط کئے ہیں تو کیا بھارت امریکہ کے سامنے جھکنے کو تیار نہیںاور کیا ہم یہ مانیں کہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں اب زبردست تبدیلی آنے والی ہے۔ کیا محض ایک ایوینٹ تھا اور  فوٹو اپیل چنی تھی؟
(انل نریندر)

15 ستمبر 2026

ووٹ دو ڈالر لو!

بھارت میں حکومتوں کے ذریعے ریوڑیاں بانٹنے کا چلن اب امریکہ میں بھی پھیل چکا ہے۔ دنیا کے سب سے پرانے اور ترقی یافتہ جمہوری ملک امریکہ میں بھی لوگوں کو سیدھے نقلی یا مفت تحفہ دینے کی سیاست چل نکلنی ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں کہا ہے کہ اگر نومبر میں ہونے والے وسط مدتی چنائو میں ان کی ریپبلکن پارٹی جیت حاصل کرلیتی ہے تو وہ ہر بالغ امریکی شہری کو 5 ہزار ڈالر کی ادائیگی کریںگے۔ یہ ایک بہت مہنگی اسکیم ہے جس میں ایک ٹریلین ڈالر سے بھی زیادہ خرچ آئے گا۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ریپبلکن پارٹی ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھتی ہے تو ہر بالغ امریکی شہری کو 5 ہزار امریکی ڈالر دیئے جائیںگے۔ ٹرمپ نے اسے ڈیویڈینٹ کا نام دیا ہے۔انہوں نے کہا امریکہ کی مالی طاقت اور کامیابی کو دیکھتے ہوئے وہ ہر ایک بالغ شہری کو یہ ادائیگی کریںگےبشرطیکہ نومبر کےچنائو میں ریپبلکن پارٹی دونوں ایوانوںمیں جیتے۔ ٹرمپ نے ادائیگی کی ایک شرط بھی بتائی انہوں نے کہا کہ اس رقم کو امریکہ کے اندر ہی خرچ کرنا ہوگا۔ یعنی فیض یافتہ ان پیسوں کودیش کے باہر خرچ نہیں کرسکتا حالانکہ انہوں نے یہ صاف نہیں کیاکہ اسکیم کوکس طرح سے لاگو کیا جائے گا اور اس کے لئے پیسہ کہاں سے آئے گا۔امریکہ میں ماہ نومبر میںہونے والے مڈ ٹرم چنائو کے نتیجے ٹرمپ کے لئے تاریخی ہونے والے ہیں۔اس لئے اب وہ ریوڑیاں بانٹنے پر اتر آئے ہیں۔لگتا ہے کہ انہوں نے بھی بھارت میں چلی ریوڑی پراتھا کو اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔کچھ سال پہلے انہوں نے بھارت کے چناوی سسٹم کی تعریف کی تھی۔ کہیں اب یہ نہ کریںکہ بھارت کے چنائو کمیشن کو امریکہ میںچنائو کروانے کے لئے بلا لیں اور کہیں کہ یہاں بھی ایس آئی آر کروادو؟5 ہزار ڈالر دینے کی ریوڑی کے پیچھے دو اہم پہلو نظرآتے ہیں۔ پہلا ٹرمپ کی مقبولیت نچلی سطح پر آگئی ہے۔ نیوز ایجنسی رائٹرز؍ سی این این ؍ایس ایس آر ایس و انوائٹی سروے کے اوسط میں ٹرمپ کے خلاف 60 فیصد امریکیوں نے ووٹ دیا ہے۔مقبولیت کی گراوٹ کی وجہ بڑھتی مہنگائی ، گھٹتے روزگار اور ایران جنگ سے ہار ہے۔دوسرا: اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس جیتے تو دونوں ایوان میں اکثریت ملنے کے بعد وہ ٹرمپ کے خلاف مقدمہ لائیںگے ایسے میں ٹرمپ کو اقتدار گنوانے کا خطرہ ہے۔ اس سے پہلے ٹرمپ جیت کی کوشش میں ایس آئی آر کی طرز پر ووٹر لسٹ کی جانچ کروانے کا اعلان کرچکے ہیں۔سب سے بڑی جمہوریت بھارت میں مفت اسکیموں کے اعلان کی پرانی روایت ہےاگر ایسی ہی روایت امریکہ میں شروع ہورہی ہے تو اس کا اثر پوری دنیا پر ہوگا۔سوال یہ بھی ہے کیا اس کے لئے امریکی پارلیمنٹ منظوری دے گی؟ کیا یہ وہاں کی عدالتوں میں چیلنج نہیں کیا جائے گا؟ سب سے بڑی بات کے کیا ووٹر اس کے جھانسے میں آئیں گے؟ یہ رقم امریکی بجٹ کا 17 فیصدی ہے۔ بتادیں ایران جنگ کی وجہ سے پہلے ہی ہر امریکی خاندان پر 3 ہزار ڈالر کا مزید بوجھ بڑھ چکا ہے۔
(انل نریندر)

09 ستمبر 2026

طالبہ کے پتا کا حملہ آور گرفتار !

کاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کے دوران ایک دلت نابالغ طالبہ کے والد پر قاتلانہ حملہ کے الزام میں خودساختہ اپنے آپ کو ہندو وادی ورکر بتانے والےملزم سوتنتر بھاردواج کو دہلی پولیس نے جمعہ کو مغربی اترپردیش کے ضلع بلند شہر سے گرفتار کیا۔ لوک تنتر کے خلاف پاسکو ایکٹ کے تحت ایک نئی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ کچھ گھنٹے پہلے ہی ملزم کی گرفتاری کی مانگ پر کاکروچ جنتا پارٹی، یوتھ کانگریس نے دہلی کے پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے پر مظاہرہ کیا تھا۔ پولیس نے72 گھنٹے میں کارروائی کے بھروسے کے بعد یہ واردات ختم ہوئی۔ طالبہ کا الزام تھا کے 23 جون کوجنتر منتر پر مظاہرے کے دوران اس کے والد سے مار پیٹ کی گئی تھی۔ اس درمین ملزم کا ویڈیو وائرل ہوا جس میں ملزم مبینہ طور پر سر پر حملہ کی بات قبول کرتے ہوئے نظر آیا تھا۔ 7اگست کو سوتنتربھاردواج کے پوٹ کاسٹ کی کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ اس میں مبینہ طور پر ایک شخص پر حملہ کرنے کی بات کرتے ہوئے دکھائی دیا۔ اس نے دعوی کیا کہ اس نے اس شخص کے سر پر وار کیا تھا، جس کے بعد زخمی شخص کے سر پر ٹانکے لگے تھے۔زخمی شخص نے بتایا کہ اس شخص نے دعوی کیا کہ دہلی کے وزیر کپل شرما کے ایک فون پر پولیس نے اس کے خلاف ساری کارروائی روک دی اور مرکزی وزیر چراغ پاسوان ان کے بھائی کے برابر ہیں اور مودی جی ان کے بڑے بھائی ہیں۔یہ بھی دعوی کیا میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتاہے۔اپوزیشن پارٹیوں اور سی جے پی سے جڑے لوگوں نے الزام لگایا کہ سوتنتربھاردواج کو سیاسی سرپرستی ملی ہوئی ہے۔ حالانکہ چراغ پاسوان نے سوتنتر بھاردواج سے خود کو الگ کرلیا اور بھاردواج کے خلاف ان کے نام کا غلط استعمال کرنے کے الزام میں ایف آئی آر درج کروادی۔اس مبینہ ہندوتو حمایتی دعویدار نے شیخی کے چکر میں ایسا بہت کچھ کہہ دیا، جو سراسر کرائم کا اقبال کرنا ہی ہے۔ اس بارے میں وہ بولے کہ لڑکے کے خلاف اے پی ایس ٹی ایکٹ کے تحت معاملہ درج ہوگیا اور ممکن ہے اقدام قتل کا مقدمہ بھی درج ہوجائے۔ دھرم کے نام پر اپنے خیالات اپنی جگہ ہیں لیکن دھرم ایسے بے تکے الفاظ کو قبول نہیں کرتا۔یہ لڑکا جو کھل کر چینلوںمیں دعوی کرتا رہا ہے اس کی ضروری جانچ ہونی چاہئے اور قانونی کارروائی ہونی چاہئے لیکن سوال یہاں یہ اٹھتا ہے کہ اس لڑکے میں ایسی بیہودہ باتیں کرنے کی ہمت کہاں سےآئی؟ اس کو کس کی شے حاصل ہے؟20 جولائی کو جنترمنتر مظاہرے میں مبینہ غنڈے کی حرکت والے لوگ مظاہرے میں کیسے شامل ہوئے؟ انڈین ایکسپریس کی ایک سنسنی خیز رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ چہرہ پہچان سسٹم سے 25 ایسے جرائم پیشہ کے نام سامنے آئے ہیں جو اس وقت تہاڑ جیل میں بند بتائے جاتے ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو یہ کئی سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔ یہ جرائم پیشہ جنتر منتر پر مظاہرے میں کیسے پہنچے؟ سوال تو یہ بھی کیا جارہا ہے کہ سفید کپڑوں میں ہاتھ میں جھنڈے لئے وہ کون لوگ تھے جو طلبہ پر لاٹھیاں برسا رہے تھے؟ ان میں سے یہ سوتنتر بھاردواج بھی ایک تھے۔ اب قانون اپنا کام کرے گا اور امید کی جاتی ہے کہ کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہوگی۔
(انل نریندر)

05 ستمبر 2026

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور الٹانئی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں ۔جنگ سے جان ومال کا بھاری نقصان ،مالی بربادی اور بے گھری اور سماجی عدم استحکام کی شکل میں سامنے آتے ہیں ۔روس یوکرین اور مغربی ایشیا میں برادری تعلق اس کی مثالیں ہیں ۔بھارت ہمیشہ امن عالم کا حمایتی رہا ہے اور جنگ کی جگہ پر بھائی چارگی اور مہاتما گاندھی کے امن کے راستے پر چلنے کا سندیش دے رہا ہے اسی عزم کو ظاہر کرتے ہوئے کرغستان کی راجدھانی بشکیک میں شنگھائی اشتراک انجمن کی چوٹی کانفرنس کے موقع پر روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ملاقات میں وزیراعظم نریندرمودی نے ختم نہ ہونے والی جنگ کے بجائے اس کے خاتمہ کی طرف بڑھنے کی وکالت کی ہے ۔بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کو ختم کرانے کی اپیل کی ہے ۔پی ایم مودی نے پیر کو کہا کہ جنگ میں گزرا ہر دن انسانیت کو پیچھے دھکیلتا ہے اور امن کی سمت میں اٹھایاگیا ہر قدم انسانیت کو نئی امید جگانے اور حوصلہ بھردیتا ہے ۔یوکرین جنگ  ختم کرنے کے لئے پی ایم مودی کی رائے زنیاں حیران کرنے والی نہیں ہیں اور میں بھارت کی خارجہ پالیسی میں کسی بھی قسم کی فوجی تبدیلی کا اشارہ نہیں دیتی ہے ۔دراصل لڑائی شروع ہونے کے بعد سال 2022 میں ریجنل چوٹی کانفرنس کے بعد تقریر کرتے ہوئے مودی نے پوتن سے کھلے طور سے کہا تھا کہ یہ جنگ کا وقت نہیں ہے ۔لیکن یہ کہنا بہت آسان ہوگا کہ جنگ پر مودی کے ابھی یا پہلے کے بیانوں کو پوتن یا روسی حکمت عملی کو جواب دینے کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے ۔مغربی ممالک نے مودی پر واضح رخ اپنانے کے لئے کافی دبا ؤ ڈالاہے لیکن بھارت کافی حد تک وہ نیوٹرل رہا ہے ۔بھارت نے اس کے بجائے جنگ کو ختم کرنے کے لئے بات چیت کی درخواست کی ہے ۔بیشک اس موقف سے کئی مغربی دیش خوش نہیں ہیں لیکن انہوں نے بھارت کو لبھانا جاری رکھا ہے کیوں کہ بھارت اتنی بڑی اور تیزی سے بڑھتی معیشت ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیاجاسکتا ۔یہ پہلی بار نہیں جب کسی غیر ملکی لیڈر نے کھلے طور سے پوتن سے یوکرین میں جنگ ختم کرنے کی درخواست کی ہو ۔محض پانچ ہفتے پہلے قزاکستان کے صدر قاسم جویابھائی ٹوکا میف نے پوتن کو تجویز دی تھی کہ لڑائی کو روک دیں اور بات چیت پر لوٹ آئیں ۔امن کے لئے ان کھلی اپیلوں سے پوتن کی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی آنے کے اشارے نظر نہیں آتے ۔مودی کے ذریعے جنگ بندی کی اپیل پر روسی لیڈر نے جواب دیا کہ بہت بہت شکریہ ، وزیراعظم جی ہم اسی راہ پر آگے بڑھ رہے ہیں ۔روسی لیڈر کا کہنا ہے کہ یہ یہاں بھی ہوسکتا ہے سارے ثبوت بتاتے ہیں کہ روس کی لیڈرشپ کو اب یقین ہے کہ وہ جنگ میں یوکرین سے ملیٹری جیت کی راہ پر ہے اور اسے امن کے معاملے میں کہیں تو روس کی شرائط پر ملیٹری کامیابی سے طے امن کی طرف آگے بڑھنا اس لئے بڑھنا مشکل ہے اس لئے فی الحال لڑائی جاری ہے ۔اس حقیقت کے باوجود ساڑھے چار سال سے زیادہ کی جنگ اور بھاری فوجی نقصان کے باوجود کرملن یعنی روس کو ابھی تک جیت حاصل نہیں ہو پائی ہے اور یوکرین نے جنگ کو روسیوں کے گھر تک پہنچانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے ۔
(انل نریندر)

03 ستمبر 2026

نیپال ٹریجڈی کے پیچھے چین ذمہ داری

نیپال میں فیلش فلرڈ میں مرنے والوں کی تعداد 700 سے آگے بڑھ گئی ہے ،2500 سے زیادہ لاپتہ ہیں جن میں متعدد ہندوستانی بھی شامل ہیں وزیراعظم آفس کے مطابق نیپال کی فوج نے اب تک 883 لوگوں کو محفوظ طور پر بچایا ۔لاپتہ لوگوں میں 517 غیر ملکی بھی شامل ہیں ۔نیپال میں چین کے رویہ کو لے کر بھاری ناراضگی ہے اور سوال اٹھنے لگے ہیں بدھوار کو تبت میں بنی بیریئر لیک ٹوٹنے کے بعد چین نے نیپال سے اطلاع شیئر کرنے میں لاپرواہی برتی جس سے نیپالی شہریوں میں ناراضگی پھیل گئ ہے ۔تبت میں 20 لاکھ گیلن پانی ضائع ہوگیا تھا۔لیکن الرٹ تب بھیجا گیا جب جھیل پھوٹ چکی تھی ۔شہر رسوا کے چیف ضلع افسر نریندر پریار نے بتایا کہ انہیں جھیل ٹوٹنے کی جانکاری نیپالی میڈیا کے ذریعے سے ملی ۔چین کے وزارت آب نے کوئی اطلاع شیئر نہیں کی ۔جھیل بننے کے بعد اوور فلو شروع ہوا اور شام کو چین نے تبت میں بچاؤ کاروائی شروع کی ۔بدھوار کی صبح 8.40بجے بوٹو کوشی ندی میں آبی سطح کا نمبر بھیجا گیا اسی درمیان تبت میں آیا تیزی سے بہاؤ نیپال میں داخل ہوگیا ۔نیپال کو اس کی جانکاری 16 منٹ بعد اس وقت ملی جب سیلاب تباہی مچانے لگا۔ الزام لگائے جارہے ہیں کہ چین کی جانب سے نیپال میں جان و مال کے نقصان کو کم کیا جاسکتا ہے حالانکہ نیپال میں واقع چینی سفارت خانہ نے الزامات اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی خبروں کی تردید کی ۔اس درمیان بین الاقوامی میڈیامیں بھی چین کے رول کو لے کر بحث جاری ہے ۔نیپالی نیوز آؤٹ لیٹس سے لے کرچینی میڈیا نے اس مسئلے کو شائع کیا ہے ۔نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے مئی میں ہی چین سےگلیشیئر اور پانی کی سطح و دیگر امکانی خطروں کی جانکاری وقت سے پہلے ہی شیئر کرتے ہوئے اپیل کی تھی ۔ان کا خیال ہے سرحد پار سے ملنے والی مسلسل وارننگ کئی زون بچانے میں مدد کر سکتی تھی ۔اس سال 27 مئی کو کاٹھمانڈو میں نیپال اور چین کے ماحولیاتی ماہرین کی میٹنگ ہوئی تھی اس میٹنگ میں گلیشیئر جھیلوں کی فہرست تیار کرنے اور پہلے وارننگ سسٹم مضبوط کرنے پر بھی زور دیا گیا ۔حالانکہ نیپالی حکام کے مطابق میٹنگ کے بعد انہیں چین سے متوقع طور پر گلیشیئر اور آبی سطح سے متعلق کوئی معلومات نہیں مل سکی ۔چینی ورلڈ ویدر سائنس سنٹر  نے قدرتی آفت آنے سے پہلے نیپالی حکام کو ای میل سے 14 اور 19 اگست کے بیچ بھاری بارش اور چٹانیں کھسکنے کا اندیشہ بتایا تھا ۔لیکن نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی وارننگ گلیشیئر ٹوٹنے جیسے اشارے نہیں دیتی ۔نیپال کے لوگوں کا کہنا ہے موت کا یہ سیلاب چین سے آیا جہاں گلیشیئر پھٹا وہ حصہ نیپال سے 50 کلو میٹر دوری پر واقع ہے ۔باڑ کے پانی کو نیپال تک پہنچنے میں 30 سے 40 منٹ لگے اگر چین یہ اطلاع وقت رہتے نیپال کو دے دیتا تو ہزاروں لوگوں کی جان بچائی جاسکتی تھی ۔لوگوں کو محفوظ مکامات تک پہنچائے جانے کے لئے آدھا گھنٹہ کافی تھا ۔لیکن چین نے یہ اطلاع شیئر نہیں کی ۔پانی کے بہاؤ کا نتیجہ اور پانی کے ساتھ آیا ملبہ اتنا خطرناک تھا کہ راستے میں جو کچھ بھی آیا عمارتیں ، پُل ، سڑکیں سب کچھ بہا کر لے گیا ۔لیکن خطرہ ابھی بھی ٹلا نہیں ہے اگر چین کا ڈیم ٹوٹا تو وہاں سے دوسرا فلیش فلڈ آسکتا ہے ۔چین سے بھیجی گئی اس تباہی کو نیپالی کبھی نہیں بھولیں گے ۔
(انل نریندر)

01 ستمبر 2026

کاکروچ پیچھے نہیں ہٹیں گے



سرکار کی جانب سے 25 جولائی کو کئے گئے وعدوں پر کاروائی نہ ہونے پر کاکروچ پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔نیٹ پیپر لیک معاملے میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد اب کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی ) نے ایک بار پھر سڑکوں پر اترنے کا اعلان کر دیا ہے ۔سی جے پی نے بتایا کہ وہ 5 ستمبر کو انڈیا گیٹ سے دہلی پولیس ہیڈ کوارٹر تک پر امن یوتھ مارچ کرے گی ۔سی جے پی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کر مرکزی سرکار پر الزام لگایا ہے کہ اس نے طلباء اور مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر واپس لینے کے اپنے وعدے کو پورا نہیں کیا ۔25 جولائی کو دھرمیندر پردھان کے وزیرتعلیم کے عہدے سے استعفیٰ کے ساتھ ہی مرکزی حکومت نے سی جے پی کے مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر واپس لینے سمیت کئی مطالبات پر رضامندی دی تھی ۔20 جولائی کو سنسد چلو مار چ کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں جس میں کئی مظاہرین پر پولیس نے لاٹھیاں برسائیں اور دعویٰ تو یہ بھی کیاجارہا ہے کہ پیلٹ گن تک کا استعمال ہوا تھا ۔اس کے بعد مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی حالانکہ یہ معاملہ ابھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے ۔جہاں پر مرکز نے مانا ہے کہ غیر جرائم پیشہ پش منظر کے لوگوں کے خلاف درج ایف آئی آر کو واپس لیا جاسکتا ہے ۔سی جے پی ترجمان آشوتوش رانکا نے اپنے ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ سرکار 25 جولائی کو کئے گئے وعدوں پر کام کرنے میں ناکام رہی اور 25 جولائی کو سرکار نے جو سی جے پی نمائندہ وفد سے جو وعدے کئے تھے ان میں سے ایک وعدہ یہ بھی تھا کہ اس آندولن سے جڑے متوفی لوگوں کے خاندان کو ایک ایک کروڑ روپے کا معاوضہ بھی دیاجائے گا لیکن ابھی تک کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا ۔وہیں سی جے پی نے ایکس پر لکھا کہ کاکروچ جنتا پارٹی مرکزی سرکار کی 25 جولائی کو بھارت کے نوجوانوں سے کئے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے کی سخت مذمت کرتی ہے خاص کر طلباء اور مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر واپس لینے سے وابستہ وعدے بھی ہیں۔ 5 ستمبر کا مجوزہ یوتھ مارچ انڈیا گیٹ سے شروع ہوگا اور نئی دہلی پولیس ہیڈ کوارٹر تک جائے گااس میں نیٹ سے جڑے متوفی طلباء کے کنبہ کے افراد اور پولیس کاروائی کے متاثرہ طالب علم اور یوتھ تنظیمیں شامل ہوں گی ۔تنظیم نے کہا کہ مظاہرے کا مقصد کسی طرح کا تشدد کا ٹکرا ؤ نہیں ہے بلکہ سرکار سے اپنے وعدے پورے کرنے کی مانگ کرنا ہے ۔سی جے پی نے نوجوانوں اور طلباء انجمنوں سے 5 ستمبر کو انڈیا گیٹ پہنچنے اور پر امن طریقہ سے مارچ میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے ۔سی جے پی نے کہا نوجوانوں کے بھروسہ کو کمزور نہیں سمجھا جانا چاہیے ۔سی جے پی کے مطابق ایک پوری پیڑی نے سرکار کی بات پر بھروسہ کرکے آندولن کو واپس لیا تھا اور اب وہ اپنے وعدے کو پورا کرنے کی مانگ کررہی ہے ۔تنظیم کا کہنا ہے کنبوں اور نوجوانوں کی موجودگی اس آندولن کو اپنے مطالبات کے تئیں سنجیدہ بنائے گی ۔سی جے پی نے کہا کہ جن پریواروں نے اپنے بچوں کو کھویا ہے وہ مارچ کی اگلی قطار میں ہوں گے اور پولیس کاروائی کے متاثرین ان کے ساتھ چلیں گے ۔تنظیم نے نوجوانوں سے بڑی تعدادمیں پہنچنے کی اپیل کرتے ہوئے سرکار سے 25 جولائی کے اپنے وعدوں کو پوری طرح لاگو کرنے کی مانگ کی ہے ۔امید کی جاتی ہے کہ مظاہرہ پر امن طریقہ سے گزر جائے اور 20 جولائی جیسا کوئی واقعہ نہ ہو پائے۔
(انل نریندر)

29 اگست 2026

موہن بھاگوت کی مخالفت!



آر ایس ایس کےسرسنچالک موہن بھاگوت ان دنوں امریکہ کے دورہ پر ہیں۔ 29 اگست کو شری بھاگوت نے نیویارک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں ایک وسیع پبلک ریلی کو خطاب کرنا ہے۔ شری بھاگوت کا وہاں جم کر استقبال ہورہا ہے۔ وہیں کچھ مخالفتی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔ نیویارک کی سڑکوں پر ان کی ریلی کی مخالفت میں مظاہرہ ہورہے ہیں، لوگ سڑکوں پر پوسٹر ،بینروجھنڈے لیکر مظاہرے کررہے ہیں۔سب سے اہم مخالفت میں نیویارک کے نائب صدر زہران ممدانی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا وہ اس پروگرام کی حمایت نہیں کرتے، حالانکہ ممدانی نے یہ بھی کہا کہ کسی ذاتی پروگرام کو منسوخ کرنے کا اختیار میونسپل کارپوریشن کے پاس ہے یا میونسپل انتظامیہ کے پاس ہے یا نہیں، یہ انہیں نہیں پتہ۔بھاگوت آر ایس ایس کے صد سالہ کے عالمی رابطہ پروگرام کے تحت امریکہ میں ہیں۔ میڈیسن اسکوائر گارڈن میں ان کا ایک بڑا پروگرام ہونا ہے۔ نیویارک میں قیام کے دوران موہن بھاگوت یونیورسل وینیسز پروگرام میں شامل ہوںگے اور سنیچر کو مشہور میڈیسن اسکوائر گارڈن میں قریب پانچ ہزار لوگوں کی ریلی کو خطاب کریںگے۔زہران ممدانی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا میں ہمارے شہر کی تاریخ میں پہلا ہندوستانی نژاد امریکی میئر بھی ہوں۔ میری ماں کا پورا خاندان اب بھی بھارت میں رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے بارے میں جو انہیں اپنے خاندان سے وراثت ملی ہے اور جسے سمجھتے ہوئے وہ بڑے ہوئے، وہ ایک کثیر سماج اور ایسی سیکولر ملک کے ہیں جہاں بھارت کے ہر شخص کو برابری سے اپنایا جاتا ہے۔ ممدانی نے کہا اور کسی بھی دیش کو لیکر ایسے نظریہ والے تحریک کا دیکھنا بیحد پریشان کرنے والاہے جو کچھ لوگوں کو الگ رکھتا ہے میں اس کی پر زور مخالفت کرتا ہوں۔ نہ صرف ایک ہندوستانی امریکی کی حیثیت سے بلکہ ایسے شہر کے میئر کے طور پر بھی جو ہر شخص کو دل سے اپناتا ہے پھر چاہے اس کا رنگ ، نسل ، مذہب، عقیدت یا بنیادی مقام کچھ بھی ہو۔ امریکہ میںبھاگوت کا پروگرام یونیورسل مونٹیس سیلبریشن کی میزبانی کررہا اولڈ فورم میں انٹر نیشنل میڈیا کو پوسٹ میں کہا کہ آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کا دورہ بات چیت اور سب کےلئے ایک جیسا پیغام لیکر آتا ہے۔ دنیا ایک خاندان ہے سنگھ کے جنرل سکریٹری سی آر مکند نے بتایا کے بھاگوت کا غیر ملکی دورہ کا مقصد:بھارت ہندو سماج اور سنگھ پر مثبت نظریئے کو پیش کرنا ہے۔ ہاں بھاجپا نے کہا ممدانی کا رخ ان کے کثیر نسل پرستی کے مخالف ہے۔ امریکی دانشور میری ملی رین نے کہا میری صلاح ممدانی و ان کے سماجواد کے گروپ کو ہےپونجی واد بند پیسےاکٹھا کریں۔ میڈیسن گرائونڈ کرائے پر لیں اور اپنی مودی مخالف بیوقوفی کےلئے خود کی ریلی منعقد کریں۔ ملی رین نے آگے کہا ممدانی اور میں سماجوادی پاگل موہن بھاگوت کے میڈن اسکوائر گارڈن پروگرام کی مخالفت کررہے ہیں کیونکہ وہ پی ایم نریندر مودی اور بی جے پی کی مخالفت کرتے ہیں۔ دیکھیں سرسنچالک کا امریکہ دورہ جیسے جیسے آگے بڑھتا ہے انہیں کیسارسپانس ملتا ہے؟
(انل نریندر)

27 اگست 2026

نر پیندر مشر ابنام چمت رائے!


شری رام جنم بھومی ٹرسٹ میں چھڑا دے کو لیکر کی گئی چوری کے تنازعہ میں ایک نیا موڑ آگیا ہے ۔ رام مندر ٹرسٹ سے استعفی کے بعد چمت رائے کا ایک نو صفحات کا خط سامنے آیا ہے۔ اس میں انہوں نے مندر تعمیر کیٹی کے صدر نہ پیندر مشرا کے رول کو لیکر کئی دعوے کئے ہیں ۔ چمت رائے نے الزام لگایا کہ مندر تعمیر سے جڑے سخت فیصلے کمیٹی کی میٹنگ میں لئے تو جاتے لیکن بعد میں ان میں ترمیم کرنر پیندر مشرا کے فیصلوں کو ہی ترجیح دی جاتی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کئی معاملوں میں کیٹی کے دوسرے ممبروں کی تجاویز اور فیصلوں کو بحث میں اہمیت نہیں دی گئی ۔ چمت رائے نے اپنے خط میں بتایا کہ رام مندر تعمیر کے لئے بنائے گئے ٹرسٹ میں کل 15 ٹرسٹی تھے اور نر پیندر مشرا کو تعمیراتی کیٹی کا صدر بنایا گیا تھا۔ ان کے مطابق نہ پیندر مشرا کی ہی تجاویز پر ٹسٹوں کو مندر تعمیر کی ذمہ داری دی گئی ۔ مندر اور دیگر عمارتوں کے ڈیزائن سے وابستہ کام کے لئے نوئیڈا کی ڈیزائن ایسوسی ایٹ فرم کا انتخاب کیا گیا۔ حمت رائے نے نہ پیندر مشرا پرسید ھے الزام لگایا کہ تعمیر کمیٹی میں انہوں نے اپنے لوگوں کو ہی شامل کیا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ان میں سے کچھ لوگ 6 برسوں کے دوران میٹنگ میں ایک دو بار ہی ایودھیا آئے ۔ چمت رائے کے مطابق ایم بی سی کے چیئر مین انوپ مثل مسلسل نر پیندر مشرا کے ساتھ تعمیراتی کیٹی کی میٹنگوں میں شامل ہوتے تھے۔ بتادیں کہ چمت رائے نے مندر میں چڑھاوے سے وابستہ مبینہ چوری کا معاملہ سامنے آنے کے بعد 26 جون کو جنرل سکریٹری کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے بعد 6 جولائی کو ٹرسٹ کی میٹنگ میں ان کا استعفیٰ منظور ہو گیا تھا۔ اسی دن حمت رائے نے ایک خط لکھ کر دوسرے اہل مشرا کے رول پر بھی سنگین الزام لگائے تھے ۔ چمت رائے نے اپنے خط میں صاف طور پر کہا کہ مندر تعمیر کے بھی فیصلوں میں نہ پیندر مشرانے ہمیشہ اپنے کو سب سے اہم رکھا۔ انہوں نے یہ بھی بتانے کی کوشش کی کہ مندر تعمیر کی سب سے بڑے پاور فل مندرٹرسٹ سے او پر چل کر مندر تعمیر کمیٹی رہی جس کے چیئر مین نہ پیندر مشرا ہیں ۔ چمت رائے جی نے سارا چڑھاوا چوری معاملہ میں اپنے آپ کو پاک صاف ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے اور سارا قصور ائل اور نر پر بندر مشرا پر منڈھنے کی کوشش کی تھی۔ ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری تھے ان کی کیا ڈیوٹی تھی؟ نر پیندر مشرا کے مطابق شری رام جنم بھومی ٹرسٹ میں چڑھاوے کی ڈکیتی ہو رہی تھی؟ اور آپ کو پتہ نہیں چلا۔ بیشک آپ بھی اسی پوزیشن اور روابط سے فی الحال بچ جائیں لیکن بھگوان رام کے شراب کبھی بھی معاف نہیں کریں گے ۔ آپ نے اور آپ کے تمام ساتھیوں نے کروڑوں لوگوں کی عقیدت کو ٹھنس پہنچائی ہے اسے کبھی معاف نہیں کیا جا سکتا۔ رہا سوال نر پیندر مشرا کا تو انہوں نے چمت رائے کے الزامات کے جواب میں کہا میں نے چمت رائے کا کوئی خط نہیں دیکھا ہے ۔ انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ اگر ایسا کوئی خط ہے بھی تو اس میں ان کے خلاف اس طرح کی باتیں نہیں لکھی گئی ہوں گی۔ صاف ہے اب چمت رائے بدلہ لینے کے موڈ میں ہیں اور یہ تنازعہ اور آگے بڑھے گا۔
انل نریندر

25 اگست 2026

مہنگی چینی : کیا وجہ اتھنول تو نہیں ؟

بھارت میں چینی کے دام پچھلے ماہ سے تیزی سے بڑھ رہے ہیں ۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرس کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف اسی ماہ بھارت میں چینی کی قیمتوں میں 20 فیصدی اضافہ ہوا ہے ۔بھارت سرکار کے صارفین امور محکمہ کی ایک رپورٹ کےمطابق ، 20 اگست کو بھارت کے خوردہ بازار میں چینی کی قیمت 55.7 روپے فی کلو تھی ۔ایک ماہ پہلے چینی کی قیمت 48.18  روپے فی کلو گرام تھی ۔20 اگست 2025 کو اس کی قیمت 46.3روپے فی کلو تھی ۔بازار کے واقف کاروں کا کہنا ہے کہ چینی کے دام اس سے پہلے کبھی اتنے اونچائی پر نہیں گئے ۔سوال یہ بھی پوچھا جارہا ہے کہ کیا پیٹرول میں ملائے جانے والے ایتھنول کی وجہ سے چینی مہنگی ہوئی ہے؟ کچے تیل کی کھپت کے معاملے میں امریکہ اور چین کے بعد بھارت دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے لیکن بھارت میں استعمال ہونے والے کچے تیل کا 80 فیصدی سے زیادہ حصہ بیرونی ممالک سے آتا ہے ۔اس درآمدات کو کم کرنے ، غیرملکی کرنسی بچانے ، خود انحصاری بڑھانے اور آلودگی کم کرنے کے لئے مرکزی حکومت نے 2018 میں پیٹرول میں ملائے جانے والے ایتھنول کی مقدار کو 10 فیصدی سے بڑھا کر 20 فیصدی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ بھی ٹارگیٹ 2030 میں حاصل کیاجانا تھا ، لیکن سرکارنے سے جولائی 2025 میں ہی حاصل کر لیا ۔بھارت نے چینی انڈسٹری سرکاری کنٹرول کے تحت آتی ہے ۔چینی ملوں کو کسانوں سے خریدے گئے گنے کے لئے اتنا ایم آر پی دینا ہوگا ، یہ مرکزی سرکار طے کرتی ہے ۔سرکار یہ بھی طے کرتی ہے کہ کون سی چینی مل ہر ماہ کتنی چینی بیچ سکتی ہے اور چینی کا ایکسپورٹ کیا جاسکتا ہے یا نہیں دیش میں بڑے پیمانہ پر اتھنول خریدنے والاگراہک بھی سرکار ہی ہے۔ اور اس طرح اتھنول کی قیمت بھی غیر متوقع طور سے سرکارہی طے کرتی ہے ۔رائٹرس کی رپورٹ کے مطابق سال 2025-26 کے چینی سال بھر میں 30 لاکھ ٹن چینی کا استعمال تھنول بنانے کے لئے کیا گیا ۔رپورٹ کے مطابق یہ دیش میں چینی کی کل پیداوار کا قریب 10 فیصدی ہے ۔گنے کے رس کے علاوہ چینی بنانے کے دوران تیار ہونے والے سیرپ اے ہیوی مولاسس ، بی ہیوی ملاسس اور سی ہیوی ملاسس سے بھی اتھنول بنایاجاسکتا ہے ۔ایک پورٹ کے مطابق دیش میں پیدا کل اتھنول کا قریب ایک تہائی حصہ گنے سے تیار کیاگیا تھا ۔دوسری طرف سرکار نے جمعہ کو کہا کہ چینی کے بڑھتے داموں کے لئے پیٹرول میں اتھنول ملانے کے پروگرام کو ذمہ داری نہیں ٹھہرایاجاسکتا ۔سرکار نے کہا دیش میں پیداوار اندازے سے کم رہنے اور  تہواری سیزن سے پہلے مانگ بڑھنے اور انڈسٹری کے ایک حصے کی جانب جمعہ خوری کے چلتے چینی کے دام میں اچھال آتا ہے حالانکہ مانگ پوری کرنے کے لئے درکار مقدارمیں چینی دستیاب ہے ۔وزارت نے اتھنول سلیڈنگ پروگرام کے چلتے دام بڑھنے کی بات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ اتھنول پروڈکشن کے لئے چینی کے استعمال کو قیمتوں میں حالیہ اضافہ کو ذمہ دارنہیں ٹھہرایاجاسکتا ۔اُدھر سرکار نے چینی کے داموں میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے 31 اکتوبر تک 10 لاکھ ٹن غیر پروسیس چینی کو ڈیوٹی فری (ٹیکس مستثنیٰ درآمدات کو منظوری دے دی ہے ۔یہ قدم اس لئے اٹھایا گیا ہے تاکہ تہواری سیزن میں چینی کے بڑھتے داموں کی کڑواہٹ اور نہ بڑھے ۔ایک دن پہلے سرکار نے 10 لاکھ ٹن سے زیادہ چینی خریدنے والے کاروباریوں کے لئے چینی کا اسٹاک میعاد 15 دن طے کر دی تھی ۔
(انل نریندر)

22 اگست 2026

امریکہ ایران جنگ کا نیوکلیئر ہونے کا خطرہ

امریکہ اور ایران کے درمیا ن کشیدگی اب نیوکلیائی حملے کی دھمکیوں تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے خلیجی ملکوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے ۔دراصل امریکہ کی سابق کانگریس ویمن گارجیری ٹریلر گرین نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر نیوکلیئر حملے کا پلان بنا رہے ہیں اس کے بعد ایرانی ایم پی فداحسین ملیکی نے سخت وارننگ جاری کی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے نیوکلیائی حملہ کیا تو ایران بھی اسی ہتھیار اور اسی پیمانہ میں پلٹوار کرے گا ۔امریکہ کی سابق کانگریس ویمن ٹریلر گرین نے ٹرمپ کی نیوکلیئر اٹیک والی پلاننگ کو افشاکردیا تھا ۔انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایران پر نیوکلیائی بم چھوڑنے کے بارے میں غور کررہے ہیں۔ اس درمیان ایران نے بھی ایسا ہی اعلان کر دیا ہے ۔کیا ہم یہ مانیں اس درمیان ایران نے بھی ایسا اعلان کر دیا کہ کیا ہم یہ مانیں کہ ایران نے بھی کوئی نیوکلیئر ہتھیار بنا لیا ہے جس زبان کا ایران استعمال کررہا ہے اس کا مطلب تو صاف ہے کہ اگر تم نے ہم پر نیوکلیائی حملہ کیا تو ہم بھی نیوکلیائی حملے سے ہی جواب دیں گے ۔ نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق گرین نے بھی الزام لگایا کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکی خفیہ ایجنسیوں کے ان تجزیوں کو نہیں مان رہا ہے جن کے مطابق ایران نیوکلیئر ہتھیار بنانے کے موہانے پر نہیں ہے ۔وائٹ ہاؤس نے سابق وزیر گرین کے اس دعوے پر کوئی فی الحال رد عمل نہیں ظاہر کیا ہے ۔امریکی حکومت یا سیکورٹی حکام نے بھی پبلک طور سے ایسا کوئی پلان کی توثیق نہیں کی ہے ۔امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ اس ڈراؤنے موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں نیوکلیائی حملے کی دھمکیاں کےکھلے عام دی جانے لگی ہیں اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ایٹم بم چھوڑنے کی بے وقوفی کی تو کیا ہوگا؟ اس سوال نے نہ صرف واشنگٹن اور تہران میں بلکہ پورے خلیجی ممالک میں بھی کھلبلی مچا دی ہے ۔سعودی عرب، یو اے ای اور قطر جیسے دیش اب بار بار کہہ رہے ہیں کیوں کہ ایران نے صاف کر دیا ہے کہ اگر کسی بھی خلیجی دیش نے امریکہ کی مدد کی تو اسے بھی بھسم ہونے سے کوئی نہیں بچا پائے گا ۔ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکورٹی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ممبر فدا حسین ملیکی سے سیدھا سوال پوچھا گیا کہ اگر ٹرمپ نے سچ میں نیوکلیائی بم چھوڑ دیا تو ایران کیا کرے گااس پر ملیکی نے بلا زجھک کہا کہ اگر ایسا کوئی حملہ ہوتا ہے تو ایران بھی اسی زبان اور اسی ہتھیار سے جواب دے گا ۔حالانکہ ملیکی نے کھل کر یہ نہیں مانا ہے کہ ایران کے پاس اس وقت نیوکلیائی بم تیار ہے یا نہیں ، لیکن ان کے اس بیان نے امریکہ اور اس کے ساتھی ممالک کے پسینے چھڑ ا دیے ہیں ۔انہوںنے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس کئی ایسے ہتھیار ہیں جو نہ صرف خطرناک ہیں بلکہ انتہائی جدید ہیں جو ابھی دنیا کے سامنے آئے ہی نہیں ہیں ۔اگر جنگ چھڑی تو وہ صرف مشرقی وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گی وہ پوری دنیا کو اپنی زد میں لے لے گی ۔ایران نے اب صرف اپنا بچاؤ کرنے کے بجائے جارحانہ حکمت عملی اپنا لی ہے اگر امریکہ نیوکلیائی بم جیسا فدائی قدم اٹھاتا ہے یا خلیجی دیش امریکہ کو ایسا کرنے میں مدد کرتے ہیں تو یہ جنگ صرف دو ملکوں کے درمیان نہیں رہے گی ۔خلیجی ممالک کو تباہ ہونے سے پوری دنیا میں کچے تیل کی سپلائی ٹھپ ہو جائے گی ۔پیٹرول ڈیزل کے دام آسمان چھونے لگیں گے اور عالمی معیشت پوری طرح تباہ ہو جائے گی ۔یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کے نیوکلیائی بم اور ایران کے جوابی پلٹوار کی خبروں نے دنیا بھر کے لیڈروں کے ماتھے پر تشویش کی لکیریں کھینچ دی ہیں ۔
(انل نریندر)

20 اگست 2026

زندہ پکڑو یا مار و :30000 ڈالر ملیں گے !

ایران کی حکومت نے اب اپنی عوام کو زمینی لڑائی کے لئے لگتا ہے تیار کرنا شروع کر دیا ہے ۔امریکہ اور ایران کے درمیان ہوئے امن معاہدے (پیس ڈیل ) اب تقریباً ختم ہو گئی ہے اور پھر سے پوری جنگ کی تیاری شروع ہو گئی ہے تبھی تو ایران کو اب لگتا ہے کہ امریکہ اسرائیل اگلا حملہ زمین پر ہی ہوگا۔ اسی خطرے کو دیکھتے ہوئے ایرانی حکومت نے اعلان کر دیا ہے کہ امریکی فوجیوں کو مارنے یا پکڑنے پر 30000 ڈالر ملیں گے ۔ خواتین کے لئے انعام دوگنا ہوگا ۔ایران کی فوج نے اتوار کو اعلان کیا کہ وہ امریکی فوجیوں کو مارنے یا پکڑنے کے عوض 30000 ڈالر کے برابر انعام دے گی ۔فوج کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر یہ کام کوئی خاتون کرتی ہے تو اسے دوگنا انعام دیا جائے گا ۔یہ اعلان مغربی ایشیا میں ایران اور امریکہ کے درمیان مسلسل کشیدگی کے درمیان ہوا ہے ۔جہاں دونوں ایک دوسرے پر حملہ کرتے رہے ہیں ۔28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے ہرمز اسٹریٹ کو پھر سے کھولنا کسی بھی امن معاہدے کو لگاتا ر رکوا رہا ہے ۔ایران کی سرکاری ایجنسی ارنا کی رپورٹ کے مطابق دیش کی فوجی کے سربراہ عامر ہتامی نے کہا کہ مالی مدد میں حصہ لینے کے لئے بڑی تعداد میں درخواستیں ملنے کے بعد یہ پلان بنایا گیا تھا ۔انہوں نے اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی کہ امریکی فوجیوں کو کہاں اور کب مارا یا پکڑا جائے گا ۔مغربی ایشیائی جنگ کے دوران ایران میں امریکی زمینی فورس کی فی الحال کوئی چنوتی نہیں ہے۔ سوائے اپریل میں ایک مارے گئے امریکی پائلٹ کو برآمد مشن کے ایجنسی ارنا نے ہتامی کے حوالے سے بتایاجو کوئی حملہ آور امریکی ملیٹری کے کسی بھی آدمی کو مارے گا یاپکڑ کر سونپے گا اسے اسلامک رپبلک جمہوریہ ایران کی فوج کی طرف سے 30000 ڈالر یا پانچ ملین تومن کے برابر انعام ملے گا ۔انہوں نے 10 ہزار ایرانی ریال کے برابر ایک انفارچوئل یونٹ کا بھی استعمال کیا ۔اس اعلان کو ٹرمپ کی اس وارننگ سے جوڑ کر دیکھاجارہا ہے جس میں انہوں نے امریکی فوجیوں کو ایران میں اتارنے کا امکان جتایا تھا ۔یروشلم پوسٹ کے مطابق انعام پانے والے کو صرف اتنا ہی نہیں ملے گا بلکہ ہاتمی نے کہا کہ امریکی فوجی کو مارنے کے لئے استعمال کئے گئے ہتھیار کو دوگنی قیمت پر خریدجائے گا اور اسے ایک خاص میوزیم میں بھی رکھاجائے گا ۔یہی نہیں ایران اپنے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے بے تاب ہے ۔ایران نے ایک ٹارگیٹ لسٹ بھی بنائی ہے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی پی ایم نیتن یاہو اور ایک ٹارگیٹ لسٹ وغیرہ شامل ہیں اور امریکہ کے ساتھی ملکوں کے سربراہان مملکت کے نام بھی اس میں شامل ہیں ۔ایران پر حملے کے لئے امریکہ نے سب سے زیادہ عرب ملکوں کی زمین اور ایئر اسپیس کا استعمال کیا ۔اب مانگ اٹھ رہی ہے کہ عرب دیشوں کے سربراہان مملکت کو بھی ہٹ لسٹ میں شامل کیاجائے کیوں کہ امریکہ کے مددگار بھی سابق سپریم لیڈر کے قتل میں برابر کے گناہگار ہیں ۔ایران نے اب اپنی پالیسی بدلی ہے ۔پڑوسی عرب ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو تو نشانہ بنایاہی گیا لیکن اب ان کی ٹاپ لیڈر شپ کو ختم کرنے کی قسم لے رہا ہے ۔ایران کے ایم پی عامر حسین سوبتی نے سرکار سے مانگ کی ہے ہٹ لسٹ میں خلیجی ملکوں کے حکمرانوں کو بھی جوڑاجائے ۔
(انل نریندر)

18 اگست 2026

زندہ ہیں مجتبیٰ خامنہ ای ؟

پچھلی 28 فروری سے جب سے امریکہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان والے افراد کی شہادت ہوئی تھی جس میں ایک 14 ماہ کی بچی بھی شامل تھی کہا جارہا تھا کہ اس حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای یا تو مارے گئے ہیں یا بری طرح زخمی ہوئے ہیں ۔یہ بھی کہاگیا کہ وہ ماسکو میں آئی سی یو میں ہیں ۔28 فروری کے حملے کے بعد مجتبیٰ کبھی بھی عوام کے سامنے بھی نہیں آئے تھے ۔لیکن کچھ دن پہلے ان کا ایک ویڈیو سامنے آیا ۔حال ہی میں اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حالت بے حد نازک ہے اور ان کو اسپتال میں بھرتی کرایا گیا ہے ۔وہاں کہا گیا کہ ان کی موت کی خبر سامنے آئے تو حیرانی نہیں ہوگی ۔ان دعوؤں کے بیچ ایران کی مہر نیوز ایجنسی نے مجتبیٰ خامنی ای کا 12 سکنڈ کا ویڈیو جاری کیا ہے اس میں وہ لوگوں سے بات چیت کرتے نظر آرہے ہیں حالانکہ یہ نہیں پتہ یہ ویڈیو کب کا ہے لیکن صاف نہیں کیا گیا ہے ۔اس لئے یہ سوال ابھی بھی برقرار ہے ۔ویڈیو میں بیماری کی خبروں پر اٹھائے سوال مہر نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری ویڈیو میں مجتبیٰ خامنہ ای لوگوں کے درمیان گاہے بگاہے ملتے نظر آرہے ہیں۔ اور باتیں کررہے ہیں ۔پہلی نظر میں یہ ویڈیو ان کی نازک بیماری سے وابستہ خبروں کا جواب ماناجارہا ہے ۔حالانکہ ایک بڑا سوال اس کی تاریخ کو بھی لے کر ہے ۔ایجنسی نے یہ نہیں بتایا کہ ویڈیو کب بنایا گیا تھا ایسے میں صرف 12 سکنڈ کے اس ویڈیو کی بنیاد پر ان کی موجودگی اور صحت کے بارے میں کوئی پختہ نتیجہ نکالنا مشکل ہے فروری میں سپریم لیڈر کی ذمہ داری سنبھالنے والے مجتبیٰ خامنہ ای نے اس کے بعد سے ان کی پبلک موجودگی بے حد محدود رہی ۔ان کی طرف سے زیادہ تر تحریری بیان سامنے آئے ہیں اس وجہ سے ان کی صحت اور ان کی سرگرمیوں کو لے کر مسلسل قیاس آرائیاں لگتی رہی ہیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کو لے کر بھلے ہی افواہوں کے درمیان ایران کے صدر پزشکیان نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اس وقت سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے سیدھے بات کرنا بے حد مشکل ہے ۔حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ مجتبیٰ خامنہ سے مل چکے ہیں ۔موصولہ معلومات کے مطابق ان سے ملاقات مئی کے ماہ میں ہوئی تھی ۔صدر پزشکیان نے تجارت فیڈریشن کے نمائندوں سے ایک ملاقات کے دوران یہ انکشاف کیا تھا اور وہ مجتبیٰ خامنہ ای ساتھ تھے ۔اور یہ ملاقات کافی اچھی رہی ۔ذرائع کے مطابق صدر کو خامنہ ای سے ملنے کا سنہرا موقع ایک رعایت کے طور پر ملا تھا ۔کہاجارہا ہے کہ پزشکیان با ر بار مجتبیٰ سے ملنے کی گزارش کر رہے تھے اور یہاں تک کہ دھمکی دے رہے تھے اگر ان سے ملنے نہیں دیا گیا تو وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے ۔خامنہ ای کے دفتر کو آخر میں اس ملاقات کے لئے حامی بھرنی پڑی لیکن یہ ملاقات کے بارے میں کہا جارہا ہے یہ معمولی نہیں تھی۔ امریکہ اسرائیل نے مسلسل یہ دکھانے کی کوشش کی کہ مجتبیٰ زبردست چوٹیں آئیں ہیں اور وہ بری طرح زخمی ہوئے ہیں ان کا چہرا جل گیا ہے اور پیروں میں بھی بھاری زخم ہیں جس کے بعدان کے پیر کا آپریشن بھی ہوا ہے۔ اب یہ نیا ویڈیو آیا ہے ۔
(انل نریندر)

15 اگست 2026

بھاگ ٹرمپ بھاگ !

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ پچھلے ماہ ترکیہ میں نیٹو سمٹ سے روانہ ہوتے وقت انہوں نے چپ چاپ جیمس بانڈ اسٹائل میں جہاز بدل لیا تھا ایسا امکانی خطرے کی وجہ سے کیا گیاتھا۔ ٹرمپ نے منگلوار کو اخبارنویسوں سے بات چیت میں کہا کہ میں سیکریٹ سروس اور فوج کی بات مانتا ہوں۔ وہ چاہتے تھے کہ میں دوسرے پرواز اور دوسرے جہاز سے جاؤں ۔مجھے وہی کرنا تھاجو انہوں نے کہا ۔ٹرمپ نے یہ اعتراف کیا کہ وہ چھپ کر اپنے جہاز ایئر فورس 1 سے بھاگ کر ایک دوسرے جہاز سے نکلے ۔یہ بتانا ضروری ہے کہ چھپ کر بھاگنے سے پہلے انہوں نے نہ تو مارکو روبیو ، دیگر سینئر حکام کو جہازبدلنے کا پلان بتایا اور نہ ہی ان کے ساتھ گئے اخباروں کو۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کی نظروں میں ان کی قیمت ہے ؟ خیر میں آپ کو پرانی کہانی بتاتا ہوں کہ کیا ہوا؟ ڈونلڈ ٹرمپ پچھلے ماہ ترکیہ نیٹو سمٹ میں گئے تھے ۔نیٹو سمٹ سے نکلتے وقت ایران کے امکانی خطرے کو دیکھتے ہوئے ٹرمپ نے چپ چاپ طریقہ سے جہاز بدل لیا تھا ۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ٹیلی ویژن کیمروں کی موجودگی میں ایئر فورس 1 میں سوار ہوئے پھر انہیں چپکے سے ایک اونچے ایئر پورٹ کیٹرنگ (ٹرک میں لے جایا گیا اور ایک دیگر فوجی جہاز تک پہنچایا گیا ۔اس دوران ایئر فورس 1 جہاز میں سوار اخبار نویسوں اور وائٹ ہاؤس کے کچھ ملازمین و امریکی نائب صدر مارکو روبیو کو اس کی جانکاری تک نہیں تھی ۔حکام نے سی بی ایس نیوز و وی بی سی کو بتایا کہ امریکہ نے جہاز پر میزائل داغنے کی امریکہ کی بھروسہ مند دھمکی کا پتایا لگایا تھا حالانکہ وائٹ ہاؤس نے اس خفیہ طریقہ سے جہاز بدلنے کی تصدیق نہیں کی ۔حالانکہ بعد میں خود ٹرمپ نے اس کی تصدیق کر دی۔ آخری وقت میں جہاز بدلنے کے اس فیصلے سے سوال اٹھے ہیں۔ کیا جس جہاز کو ریپلیس کے لئے استعمال کیا گیا تھااس میں موجود لوگوں کو خطرے میں ہی چھوڑ دیا گیا تھا؟ جہاز میں سوار اخبار نویسوں اور وائٹ ہاؤس کے حکام کو پتہ تک نہیں تھا کہ امکانی ایرانی خطرے کے جواب میں ایک پلان کے تحت امریکی صدر کو وہاں سے چپ چاپ نکال لیا گیا تھا ۔ٹرمپ پہلے کہہ چکے ہیں کہ انقرا میں ہوئی سمٹ کے دوران وہ ایران کے ٹارگیٹ نمبر 1 تھے ۔ٹرمپ نے منگلوارکو کہا میرا اندازہ ہے کہ کوئی خطرہ تھا میں نے اس کے بارے میں زیادہ جانکاری نہیں مانگی ۔مجھے بہت ساری دھمکیاں ملتی ہیں ۔جن کے بارے میںآپ کو شاید پتہ بھی نہیں ہے ۔پچھلے ماہ بھی یہ خفیہ کاروائی تب ہوئی جب جنگ ختم کرنے کی بات چیت ٹوٹنے کے بعدا مریکہ نے ایران پر پھر سے حملے شروع کئے تھے ۔اس کے ایک دن بعد ٹرمپ نے جہاز بدلاتھا۔ٹرمپ قطر کی طرف سے دیے گئے جہاز بوئنگ 747-8سے ترکیہ پہنچے تھے ۔لیکن انہوں نے کہا کہ وہ پرانے ایئر فورس 1 سے واپس جائیں گے ۔8 جولائی کو انہوں نے کیسے ڈر کے مارے جہاز بدلا۔یہ سب نے دیکھا ہی ہے ۔اخبار کے مطابق وزیر دفاع ہیک سیتھ بھی الگ سے باہری سیڑھیوں کے ذریعے سی -32Aمیں سوار ہوئے تھے اُدھر ایئر فورس 1 پر بیٹھے اخبار نویسوں سے کہا گیا کہ وہ کھڑکیوں کے پردے میں بند رکھیں ۔شاید اس لئے کہ وہ باہر کا منظر نہ دیکھ سکیں ۔وہ یہ نہ دیکھ سکیں کہ صدر ٹرمپ جہاز کے خفیہ دروازے سے جہاز چھوڑ چکے ہیں اس لئے کہا بھاگ ٹرمپ بھاگ ۔
(انل نریندر)

13 اگست 2026

ہرمز میں امریکی جہازوں کی تعیناتی

امریکہ نے ایران پر دبا ؤ بڑھاتے ہوئے مڈل ایسٹ میں 20 سے زیادہ جنگی بیڑے تعینات کر دیے ہیں اور ہرمز جل ڈروم سنٹرل میں ناکہ بندی سخت کر دی ہے ۔ایران نے آبی راستے کو کھولنے کے لئے معاوضہ ،پانبدی ہٹانے اور ناکہ بندی ختم کرنے جیسی شرطیں رکھی ہیں ۔عمان کے ساتھ امکانی معاہدہ آخری مرحلے میں ہے ، لیکن دونوں دیشوں کے بیچ کشیدگی ابھی بھی انتہا بنی ہوئی ہے ۔امریکہ نے مڈل ایسٹ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھاتے ہوئے 20 سے زیادہ جنگی بیڑے تعینات کر دیے ہیں ۔یہ قدم ایران پر ناکابندی کو سختی سے لاگو کرنے میں ہرمز میں بڑھتی کشیدگی کے بیچ اٹھایاگیا ہے ، جہاں کچے تیل سپلائی کی سب سے اہم لائن گزرتی ہے ۔امریکی سنٹرل کمانڈ ،سیٹکام ) نے پیر کے روز ایکس پر لوڈ کئے ایک پوسٹ میں بتایا کہ یہ جنگی بیڑا سیدھے طور پر ایران کے خلاف لگائے گئے بلاکڈ کو لاگو کرنے کے مشن میں لگے ہوئے ہیں ۔تعینات جہازوں میں امریکی بحریہ کا ڈیسٹ ٹو ڈائر یو ایس ایس راس بھی شامل ہے ۔جس کے ذریعے سعودی نگرانی اور انٹرویشن آپریشن چل رہے ہیں ۔سیٹکام نے اسی کی تصویر شیئر کی تھی ۔سنٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ 9 اگست تک 55 کمرشیل جہازوں کو راستہ بدلنے پر مجبور کیا گیا تھا ۔دو جہازوں کو روکا گیا اور اس پر چڑھ کر جانچ کی گئی یہ صاف اشارہ ہے کہ امریکہ صرف وارننگ نہیں دے رہا ہے بلکہ سیدھے سمندر میں اپنا کنٹرو ل کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔اُدھر ایران امریکی جنگ میں سب سے بڑی لیکن نظر انداز یان بیج ٹریجڈیوں میں سے ایک سمندر کے بیچ پھنسے ہزاروں ملاح ہیں ۔اقوام متحدہ کی سمندری ایجنسی(آئی ایم او) کے مطابق قریب 6 ہزار ملاح اب بھی خلیج میں جہازوں پر پھنسے ہوئے ہیں کئی ملاح تو 4 ماہ سے گھر بھی نہیں لوٹ پائے ہیں ۔میں یو ایس ابراہم لنکن کے بارے میں ایک ایسی رپورٹ پڑھ رہا تھا اس میں بتایا گیا تھا کہ پچھلے تقریباً 200 دنوں سے زیادہ عرصہ سے یہ سمندری جہاز سمندر میں ہے جہاز کے اندر اب کھانے کی قلت ہو گئی ہے ۔دوائیں کم پڑ گئی ہیں ۔ٹوائلٹ خراب ہو چکے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔جہاز کے ڈاکٹر اب کہنے لگے ہیں کہ اگر جلد یہ فوجی گھر نہیں لوٹے تو راستے میں ہی کئی ذہنی اذیت کے شکار ہو جائیں گے ۔ویسے بھی دیکھاجائے جب لنکن جہاز میں ایسی خوفناک صورتحال بنی ہوئی ہے تواس پر تعینات تقریباً پانچ ہزار فوجی جنگ کیسے لڑیں گے ؟ کئی ملاحوں کا باہری رابطہ تقریباً ٹوٹ چکا ہے ۔انہیں ہر کچھ دن میں صرف تیس منٹ انٹرنیٹ ملتا ہے ۔کچھ جہازوں پر محدود راشن ہونے سے ملاح دن میں صرف ایک بار چاول اور دال کھا رہے ہیں ۔لگاتار میزائل اورڈرون حملے کے خوف میں نیند بھی پوری طرح نہیں لے پارہے ہیں ۔کئی لوگ اس تیاری کے ساتھ سوتے ہیں کہ حملہ ہوتے ہی بھاگ سکیں ۔ماہرین کے مطابق ملاح جہاز کو نہیں چھوڑ سکتے ۔محفوظ اخراج بے حد مشکل ہے اورکئی ملاح قلیل المدتی معاہدے پر کام کررہے ہیں ۔انہیں ڈر ہے کہ اگر وہ خطرناک ڈیوٹی چھوڑنے کی مانگ کرتے ہیں تو انہیں دوبارہ نوکری نہیں ملے گی ۔جنگ کے بیچ پھنسے ملاحوں کی ذہنی صحت اور نیند اور اقتصادی حالت پر بھی برا اثر پڑا ہے ۔جنگ کی شروعات میں 36 سے 38 ہندوستانی جہازوں پر 100 ہندوستانی ملاح ہرمز کے آس پاس پھنس گئے تھے ۔بعد میں زیادہ تر جہاز نکل گئے ۔ذرائع کے مطابق 125 ہندوستانی ملاح ابھی بھی ہندوستانی جہازوں پر خلیج فارس میں موجود ہیں ۔
(انل نریندر)

11 اگست 2026

اور اب اسلامی نیٹو!

حال ہی میں پاکستان ، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ پر دستخط ہوئے ہیں جس کے تحت اگر تینوں میں سے کسی ایک دیش پر حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں پر حملہ ماناجائے گا ۔اس معاہدے کا مقصد ڈیفنس اشتراک بڑھانا ،جوائنٹ سیکورٹی حکمت عملی بنانا اور خطہ میں بڑھتی کشیدگی کے بیچ اجتماعی طاقت دکھانا ہے ۔تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ اتحاد مغربی ایشیا میں بدلتے حالات ،خاص طور پر ایران ،امریکہ اور اسرائیل کے مابین بڑھتے ٹکراؤ کے درمیان ایک نئے پاور بلاک کی شکل میں ابھر سکتا ہے ۔اسلامی نیٹو مسلم اکثریتی ملکوں کے بیچ ایک مجوزہ یا غیر خانہ پوری فوجی اتحاد کو دیا نام ہے جس کا موازنہ مغربی ممالک کی فوجی انجمن نیٹو سے کیاجاتا ہے ۔ اس معاہدے کے پیچھے اہم رول سعودی عرب کا ہے ۔وہ ایک طرف ایران کے حملوں سے پرشان ہے اور دوسری طرف یمن کے حوثیوں کا تعلق زبردست لڑائی چھڑنے سے ہے ۔ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں خلیجی سیکٹر میں جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے اور لڑائی کو پورے خلیجی خطہ میں پھیلنے کے اندیشات نے سعودی عرب کی حفاظتی تشویشات بڑھا دی ہیں ۔دہائیوں تک ریاض اپنی حفاظت کے لئے خاص طور سے امریکہ پر منحصر تھا لیکن 28 فروری کے بعداس نے دیکھ لیا کہ امریکہ تو اپنے حفاظتی اڈوں کو بھی بچا نہیں پارہا ہے وہ سعودی عرب کو کیسے بچائے گا ۔رہا سوال پاکستان کا تو سعودی عرب کا پہلے سے ہی پاکستان سے دفاعی معاہدہ ہوا ہوا ہے ۔لیکن کیا پاکستان سعودی عرب کو ایرانی میزائلوں اور ڈرون سے بچا سکا ؟ کیا پاکستان سعودی عرب پر حملہ ہونے پر ایران پر حملہ کر سکتا ہے؟ یہ سب ڈرامہ بنا ہوا ہے ۔رہا سوال اسرائیل اور امریکہ کا تو اسرائیل اس معاہدے کی جم کر مخالفت کررہا ہے اور اسے اپنے لئے خطرہ مانتا ہے ۔ سوال یہ بھی پوچھا جانا چاہیے کہ اسرائیل سعودی یا ترکیہ پر حملہ کرتا ہے تو کیا پاک فوجی چیف جنرل عاصم منیر میں اتنی ہمت ہے کہ وہ امریکہ کے خلاف جاکر اسرائیل پر حملہ کرے ؟ یہ صرف پیسے اینٹھنے کا کھیل ہے ۔پھکڑ ہوا پاکستان کہیں سے بھی بھیک مانگنے کو تیار ہے ۔اور اس کے عوض میں جو چاہے وعدہ کروا لو ؟ رہا سوال ایران کا تو صدر مسعود پزشکیا ن نے مسلم اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ شیعہ سنی کو ساتھ رہنا چاہیے ۔پزشکیا ن نے کہا امریکہ اور اسرائیل مل کر خلیج فارس کے دیشوں کو ایران کے خلاف کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔قابل غور بات یہ ہے سعودی ،ترکیہ اور پاکستان تینوں ہی ملک سنی اکثریتی ہیں ۔وہیں ایران شیعہ ملک ہے رہا یہ بھارت کے لئے تشویش کی بات ہے ؟ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اس ڈیفنس معاہدے کا بھارت پر سیدھے طور پر کوئی اثر نہیں ہوگا ۔ایسا اس لئے کیوں کہ سعودی عرب پہلے بھی کہتا رہا ہے کہ پاکستان ہمارا اہم ترین حکمت عملی ساجھیدار ہے لیکن کبھی اس نے بھارت سے جنگ کے موقع پر ساتھ نہیں دیا ۔ جہاں تک ترکیہ کا سوا ل ہے وہ تو آپریشن سندھور میں بھی کھلے عام پاکستان کے ساتھ تھا اور آگے بھی رہے گا ۔بھارت کے لئے تشویش کی بات نہیں ہے کیوںکہ بھارت ڈیفنس صلاحیت میں تینوں ملکوں سے آگے ہے ۔
(انل نریندر)

08 اگست 2026

کیا پاکستان اندر سے ٹوٹ رہا ہے ؟



پاکستان اس وقت سنگین اندرونی جدوجہد ،سیاسی عدم استحکام اور صوبوں میں مسلح بغاوت جیسی سنگین اندرونی چنوتیوں سے لڑرہا ہے ۔فوج کے بڑھتے دخل ، اقتصادی بحران اور دہشت گردوں کے تابڑتوڑ حملوں کے سبب دیش کے اندر خانہ جنگی جیسے حالات بنے ہوئے ہیں ۔پاکستان کے 4 صوبے ہیں ان میں سے بلوچستان صوبہ میں علیحدگی پسند بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے ) نے بغاوت کا جھنڈا بلند کیا ہوا ہے ۔خیبر پختونخواہ صوبہ میں افغان طالبان کا دبدبہ بڑھتا جارہا ہے ۔آئے دن طالبان کے حملوں سے یہاں پاک فوج کے پاؤں اکھڑ رہے ہیں ۔پی او کے میں پاکستانی فوج کی بربریت پر بغاوت کی صورتحال بنی ہوئی ہے ۔چلیے تفصیل سے ساری صورتحال کو بتاتے ہیں ۔بلوچستان پاک کا سب سے بڑا پھیلا ہوا تقریباً 45 فیصدی سب سے بڑا خطہ ہے ۔ایران سے اس کی سرحد لگتی ہے ۔بلوچستان کے بی ایل اے لڑاکے الگ دیش کی مانگ کررہے ہیں ۔حالت یہ ہے بلوچ لڑاکوں اور پستو (پٹھان ) باغیوں کا بلوچستان صوبہ میں تقریباً 70 فیصد حصے میں قبضہ ہوچکا ہے ۔اصلی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی سرکار پولیس اسٹیشن کھلا رخ رکھ سکتی ہے۔ سارے صوبہ پر ٹریفک چلاسکتی ہے بازار اور کاروبار بحال رکھ سکتی ہے اور لوگوں کو بغیر ڈر کے سفر کرنے کی سیکورٹی دے سکتی ہے ؟ خیبر پختونخواہ پاکستان کا سرحدی علاقہ ہے ۔ڈورنٹ لائن پاک اور افغانستان کو الگ کرتی ہے ۔ افغانستان میں طالبان سرکار کے پانچ سال میں خیبر کے زیادہ تر علاقہ میں انہیں کا دبدبہ ہے ۔خیبر میں پاک سرکار کا قانون نہیں بلکہ طالبان کا شرعی قانون چلتا ہے ۔دراصل اس علاقہ میں تقسیم کے وقت سے ہی قبائلی نظام لاگو رہا ہے ۔سوات اور سیدو چنگورا اور مردن میں لویا جرگا کے ذریعے قانون چلتا ہے ۔یہ جرگا اصل میں شرعیہ قانون کو لاگو کرتی ہے ۔افغان طالبان تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی ) تنظیم کو اپنے اڈوں میں پناہ دیتا ہے ۔عمران خان کی سرکار نے 2021 میں ٹی ٹی پی کے ساتھ صلح کی کوشش کی لیکن عمران کی گدی جاتے ہی ٹی ٹی پی نے خیبر میں اپنےدبدبہ کواور بڑھا لیا ۔خیبر کے وزیرستان میں پاکستان فوج کئی فوجی کاروائیاں کر چکی ہے ۔لیکن یہاں ابھری ٹی ٹی پی قابض ہے ۔آئے دن ٹی ٹی پی کے حملوں کے سبب اسکول اور کالج بند رہتے ہیں ۔پنجاب اور سندھ کے اصل باشندے نگراں خیسر میں اپنی پوسٹنگ نہیں چاہتے ۔پاکستان کے قبضہ والے کشمیر (پی او کے) اور دیگر علاقوں میں کچلنے والی پالیسیوں اور اختیارات کی عدولی کو لے کر جنتا میں بھاری ناراضگی اور زبردست مظاہرے دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔بڑی تعداد میں مظاہرین مارے جا چکے ہیں ۔اگر ہم سیاسی پش منظر کی بات کریں تو سرکار فوج کےبیچ اقتدار کے تجزیوں اور حالیہ آئینی ترامیم کو لے کر عدلیہ اور سیاسی گلیاروں میں تلخ کھینچ تان اور بغاوت کا ماحول ہے ۔کل ملا کر پاکستان کے اندرونی حالات بہت خراب ہو رہے ہیں ۔اگر یہی صورتحال رہی تو پاکستان کے کئی ٹکڑوں میں بٹنے کے امکان سے انکار نہیں کیاجاسکتا ۔
(انل نریندر)

06 اگست 2026

پھر پلٹے ٹرمپ : ایران میں ذہنی جنگ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر بڑے حملے کی دھمکی کےبعد ایک بار پھر پلٹ گئے ہیں ۔ٹرمپ کی یہ تو پلٹنے کی عادت بن گئی ہے ۔یہ4تھی مرتبہ بار ہے جب ٹرمپ دھمکی دے کر پلٹے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ اب ان کی دھمکی کو کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا ۔ان کا کھلے عام مذاق اڑایاجاتا ہے ۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مغربی ایشیا کے ساتھی ملکوں نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کو ختم کرنے کے لئے ایک معاہدے کی شکل میں لائن پر رضامندی بنا لی ہے۔ فی الحال وہ پانچ ماہ سے جاری اس لڑائی میں ایران پر نئے فوجی حملے کا حکم نہیں دیں گے ۔اُدھر ،ایران نے ٹرمپ کی دھمکیوں کو ذہنی جنگ بتایا ہے۔ ٹرمپ نے سنیچر کو کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے میں ہرمز جل ڈروم وسط کو فوراً پوری طرح کھولنا و اس کے نیوکلائی خطرے کا خاتمہ شامل ہوگا ۔کہاں اس درخواست کی بنیاد پر میں نے مستقبل کے مفاد میں حملوں کو روکنے کی رضامندی دی تھی بشرطیکہ جلد ہی کوئی سمجھوتہ ہو سکے ۔ٹرمپ نے سمجھوتے میں اسرائیل کی رضامندی کی بات بھی کہی ہے ۔کیا ٹرمپ ایران پر نیوکلیائی حملہ کرنے کے بارےمیں سوچ رہا ہے ؟ جب ٹرمپ یہ کہتے ہیں کہ میں نے دنیا کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے سے بچنے کے لئے فی الحال ایران پر حملے کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے تو اس کا مطلب یہ نکالیں کہ ٹرمپ ایران پر ایٹم بم مارنے کی سوچ رہے ہیں ؟ ویسے بھی ٹرمپ اتنی بار اپنے بیانوں سے پلٹے ہیں کہ اب انہیں شایدہی کوئی سنجیدگی سے لیتا ہو؟ ایران نے ٹرمپ کے حملے ٹالنے کے فیصلے کا مذاق بھی اڑایا ہے ۔ایرانی میڈیا نے ٹرمپ کے دعووں کو جھوٹ بتاتے ہوئے لکھا کہ تہران میں کبھی حملے روکنے کی اپیل نہیں کی ۔ایرانی میڈیا نے ٹرمپ کے دعوؤں کو جھوٹا بتاتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی میزائلوں کی کمی اور بڑھتے دباؤ کے سبب ٹرمپ پیچھے ہٹے ہیں ۔ٹرمپ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا امریکہ نے اپنی کمزور ی چھپانے کے لئے پوری کہانی گھڑی ہے ۔ٹرمپ کی ہوا ایک بار پھر ایران نے نکال دی ہے۔ یہ پہلی بار نہیں پہلے بھی ٹرمپ دھمکی دے کر اپنے قدم پیچھے کر چکے ہیں ۔ایران کی مرف سرکاری نیوز ایجنسی فارم نے ٹرمپ پر طنز کرتے ہوئے لکھا کے بے وقوف ٹرمپ کی ساری ہوا نکل گئی ہے ۔وہیں مہر نیوز ایجنسی نے کہا کہ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنی کھوکھلی دھمکیوں سے پیچھے ہٹ کر اسے دنیا کے سامنے احسان کی طرح پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ایجنسی مہر نے فوجی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ایرانی فوج پوری طرح چوکس ہے اور کسی بھی صورتحال کا جواب دینے کےلئے تیار ہے ۔ایجنسی نے ٹرمپ کے دعوؤں کو ایک اور جھوٹ بتایا ۔ایران نے امریکہ کو ایک بار پھر وارننگ دی ہے ایران نے کہا کہ اگر امریکی فوج نے ایرانی ٹھکانوں پر نئے حملے کئے تو وہ اس کا زوردار جواب دےگا اس سے پورے مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ جائے گی ۔یہ وارننگ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد آئی ہے ، جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ تہران کے ساتھ بات چیت سے ان کا بھروسہ کم ہورہا ہے ۔ ٹرمپ نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر امریکہ ان پر حملہ کرے گا ۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے فوجی چیف عاصم منیر وترکیہ کے وزیر خارجہ حکن فدان اور سعودی وزیر خارجہ پرنس فیصل بن فرحان کے ساتھ الگ الگ فون پر بات چیت کے ذریعے اس کی جانکاری دی ۔ٹرمپ ایک بار پھر پلٹ گئے ۔
(انل نریندر)

04 اگست 2026

امریکہ میں 7 جگہ حملے کس نے کئے ؟

امریکہ کے 7 ریاستوں میں ایک کے بعد ایک زبردست اٹیک ہوئے ہیں یہ حملے سیدھے اس لائف لائن پر ہوئے ہیں ،جس کی درد سے عام جنتا کراہ اٹھی ۔اس حملے کے بعد ٹرمپ کا ایسا حال ہو گیا ہے کہ وہ ایران کا نام بھی نہیں لے پارہے ہیں ۔ٹرمپ الٹے اپنے ہی لوگوں کو بدنام کرنے میں لگ گئے ہیں ۔لیکن اپنے سب سے بڑے دشمن کی چالاکی دنیا کے سامنے یہ قبول نہیں کر پارہے ہیں ۔ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے درمیان امریکہ میں اچانک کچھ ایسا ہوگیا ہے جس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے پسینے چھڑا دیے ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے طاقتور ملک کی چھاتی پر ایک نہیں دو بلکہ ایک کے بعد ایک پورے سات بڑے حملے ہوئے ہیں ۔یہ حملے کسی عام جگہ نہیں ہوئے بلکہ سیدھے امریکی عوام کی لائف لائن پر ہوئے ہیں ۔شبہ ہے کہ اس پورے کھیل کے پیچھے امریکہ کا سب سے بڑا دشمن ایران ہی ہے ۔لیکن ٹرمپ کھلے عام اس کا نام لے رہے ہیں ۔اگر ٹرمپ نے دنیا کے سامنے یہ مان لیا کہ حملہ ایران نے ہی کیا ہے تو ثابت ہو جائے گا کہ تکنیکی معاملے میں وہ امریکہ سے آگے نکل چکا ہے ۔دراصل یہ حملے امریکہ کی پانی سپلائی کرنے والی سب سے اہم پائپ لائن اور پلانٹس پر ہوئے ہیں ۔اس سرکاری انفراسٹرکچر پر سات جگہ سے سائبر اٹیک کئے گئے ۔حالات اتنے خراب ہو گئے ہیں کئی ریاستوں میں پانی سسٹم کو بچانے کے لئے ڈومیٹک سسٹم بند کرکے ہاتھوں سے کام سنبھالنا پڑا۔ اب اس پورے کھیل میں سب سے بڑا جھٹکا امریکی سیاست اور ڈونلڈ ٹرمپ کو لگا ہے ۔کیوں کہ جب دنیا کی نظریں ایران پر ٹکی رہی ہیں تب ٹرمپ سیدھے طور پر ایران کا نام لینے سے بچ رہے ہیں۔ اس بڑے سنسنی خیز سائبر حملے کی پہلی منیسوٹا اسٹیٹ سے لگی 26 اور 27 جولائی کے درمیان یہاں سے 30 سے زیادہ کمیونٹی واٹر سسٹم کو ہیکرس نے اپنا نشانہ بنایا ۔منے سوٹا آئی ٹی سروس نے جب آناً فاناً میں جانچ شروع کی تو پتہ چلا کہ کسی نے جان بوجھ کر پانی کی سپلائی لائن کنٹرو ل کرنے والے سسٹم کا ایکسس ہتھیا لیا تھا ۔ترجمان ایملی نیمر کا کہنا تھا کہ معاملے کی جانچ بہت تیزی سے چل رہی ہے ۔جس طریقہ سے اس معاملے کو انجام دیا گیا وہ ٹھیک ویسا ہی ہے جیسا ہمارے فیڈرل پوٹرلس نے پہلے کریٹیبل انفراسٹرکچر پر ہوئے حملوں میں دیکھا تھا ۔ہیکرس نے بہت ہی چالاکی سے پانی کے پلانٹس میں لگے پروگرام ویل لیکج کنٹرولرس کو اپنا شکا ر بنایا ۔امریکہ کی جانچ ایجنسیاں مان رہی ہیں کہ اس حملے کا پیٹرن ایران کے پرانے سائبر حملوں سے کافی ملتا جلتا ہے لیکن سب سے بڑا ڈرامہ تب شروع ہوا جب صدر ڈونلڈ  ٹرمپ کا بیان سامنے آیا ۔ٹرمپ نے اس خوفناک حملے کا قصور سیدھے ایران پر ڈالنے کے بجائے اپنے ہی سسٹم پر پھوڑ دیا ۔کابینہ میٹنگ کے دوران ٹرمپ نے ایران کا بچاؤ کرتے جیسا بیان دیا اور کہا کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ منیسوٹا کے 30 واٹر پلانٹس پر جو حملہ اس کے پیچھے ایران ہے ۔مجھے ایسا بالکل نہیں لگتا میں اس کے لئے منیسوٹا کے ناکام انتظامیہ اور وہاں کے کرپٹ گورنر کو ذمہ دار مانتاہوں ۔ایران کے پاس منیسوٹا کےبارے میں سوچنے سے بہت بڑے اشوہیں ۔ٹرمپ کے اس رویہ سے ہر کوئی حیران ہے ۔جہاں ایکسپرٹرس اسے سیدھے طور پر ایران سے جوڑ رہے ہیں وہی ٹرمپ ایران کا نام لینے سے کترا رہے ہیں ۔اور اپنے ہی حکام کو قصوروار ٹھہرا رہے ہیں اس پر منیسوٹا کے گورنر نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کو اچھی طرح پتہ ہے کہ حملہ آور کون ہے وہ سچائی سے بھاگ رہے ہیں ۔
(انل نریندر)

01 اگست 2026

اور اب ایران بنام یوکرین

مغربی ایشیا کی دو بڑی لڑائیاں اب ایک دوسرے سے وابستہ دکھائی دے رہی ہیں ۔ایک طرف پچھلے کئی ماہ سے امریکہ ایران کے درمیان کشیدگی اور فوجی کاروائی چل رہی ہے وہیں اب دوسری طرف روس اور یوکرین کے درمیان جنگ پانچویں برس میں داخل ہو چکی ہے ۔اب ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے ان دونوں لڑائیوں کو آپس میں جوڑدیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر نئی تشویشات پیدا کر دی ہیں ۔تازہ تنازعہ کیسپیئر ساگر میں ایک ایرانی جہاز پر ہوئے حملے سے شروع ہو ا ۔یوکرین پر الزام ہے کہ اس نے کیپسین ساگر میں ایک ایرانی کمرشیل جہاز کو نشانہ بنایا ۔یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا دعویٰ ہے کہ یہ جہاز روس اور ایران کے درمیان ہتھیاروں اور فوجی سامان کی سپلائی میں استعمال کیاجارہا تھا اسی وجہ سے اس جہاز پر حملہ کیا گیا ۔اس واقعہ کے بعد ایران نے سخت ناراضگی جتائی ہے۔ ایران کی راجدھانی تہران میں یوکرین کے سفیر کو طلب کیا اور سنگین نتائج بھگتنے کی وارننگ دے ڈالی ۔ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے یوروپی فیڈریشن کی خارجہ پالیسی چین کیلس سے بات کی اور اس حملے کے خلاف اپنی ناراضگی جتائی ۔انہوں نے یوکرین کے خلاف سخت کاروائی کی بھی مانگ کی ۔کیسپین ساگر میں کسی جہاز پر اس طرح کا حملہ پہلی بار ہوا ہے۔ کیسپین ساگر ایک ایسا سمندری خطہ ہے جو چاروں طرف سے زمین سے گھرا ہوا ہے ۔اس کے نارتھ ویسٹ میں روس اور ساؤتھ میں ایران ، مشرق میں قزاکستان اور ترکمانستان و مغرب میں آذر بائیجان واقع ہے ۔یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد روس اورایران کے رشتے اور مضبوط ہوئے ہیں ۔دونوں ملکوں کے درمیان تجارت ،تکنیکی اشتراک اور ڈیفنس سیکٹر میں رابطہ بڑھا ہے ۔اسی وجہ سے لمبے عرصے سے یہ بحث ہوتی رہی ہے کہ کیسپین ساگر کے راستے روس اور ایران کے درمیان فوجی سامان کا تبادلہ بھی ہوتا ہے ۔حالانکہ اس بارے میں کبھی کھلے طور سے کوئی صاف تسلیم نہیں کی گئی ۔ایران کا کہنا ہے کہ جس جہاز پر حملہ ہوا وہ ایک جنرل کمرشیل جہاز تھا ۔ایرانی حکام کے مطابق اس حملے میں ایک ملاح کی موت ہو گئی جبکہ ایک دیگر ملاح زخمی ہوگیا تھا ۔حملے کے بعد صدر زیلنسکی نے شوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جہاز روس اور ایران کے درمیان فوجی سامان پہنچانے کا کام کررہا تھا ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ روس لمبے عرصہ سے ایران کی طر ف سے دستیاب کرائے گئے شہید نامی ڈرون کا استعمال یوکرین کے خلاف کررہا تھا ۔لڑائی کے آغاز کے مرحلے میں روس نے بڑی تعداد میں ایرانی ڈرون کا استعمال کیا تھا ۔جس سے اسے جنگ میں بڑھت حاصل کرنے میں مدد ملی تھی ۔زیلنسکی نے صرف جہاز پر حملے کا بچاؤ ہی نہیں کیا بلکہ اس پر ایک اور سنگین الزام بھی لگا دیا انہوں نے دعویٰ کیاکہ روس نے ایران کو خلیج خطہ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی سیٹلائٹ تصویریں اور خفیہ جانکاری دستیاب کرائی ہے ۔ان کے مطابق ماہ جولائی میں روسی سیٹلائٹ بحرین ،جارڈن اور کویت میں قائم امریکی فوجی ٹھکانوں کی نگرانی کررہے ہیں ۔زیلنسکی کا الزام ہے کہ ایران کے ذریعے امریکی اڈوں پر کئے گئے کچھ پختہ حملوں کے پیچھے بھی روس کی طرف سے دی گئی خفیہ جانکاری کا رول ہوسکتا ہے ۔یوکرین برائے نام ہے کہ اسے صرف یوکرین نے اس میں صرف روس صرف یوکرین میں جنگ نہیں لڑرہا ہے بلکہ پورے خطہ میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش کررہا ہے ۔
انل نریندر

30 جولائی 2026

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یردن اور عراق میں بھی حملے کررہا ہے ۔چونکہ ایران یردن اور عراق میں بھی حملے کررہا ہے ۔ایران نے اس مرتبہ صرف امریکی بیس پر موجود ہی ہتھیاروں کو نشانہ بنایا ہے ۔بلکہ اگر خبر صحیح ہے تو ان حملوں میں امریکی فوجیوں کے مرنے اور زخمی ہونے کی بات ایران کررہا ہے ۔ایران کی فوج نے فی الحال حملے روک دیے ہیں نہیں تو وہ مسلسل 12-13 دن سے ہر روز ایران پر بم باری کررہا تھا ۔امریکہ نے تو ایک بار پھر بھاری بی بمباروں کا بھی استعمال کیا ۔ایران نے بھی تابڑ توڑ جوابی حملے کئے ۔جب امریکہ نے حملے روکے تو ایران نے بھی جوابی کاروائی روک دی۔ کہا جارہا ہے کہ امریکہ کے ایئر ڈیفنس میزائلوں کا اسٹاک کم ہورہا ہے جس سے عرب خطہ میں موجود امریکی اڈوں کی حفاظت کرنا مشکل ہوسکتا ہے ۔اس وجہ سے ٹرمپ کو پیچھے ہٹنا پڑاہے ۔دراصل ایران نے جنگ کی شروعات سے ہی سستے ڈرون سے لگاتارحملے کرنے کی حکومت عملی بنائی تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امریکی پیڈوایئر میزائلوں کا استعمال بہت زیادہ کرنا پڑا اور چند دنوں میں ہی میزائلوں کا اسٹاک کم ہو گیا ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ، امریکہ پچھلے 13 دنوں سے اپنے تمام اڈوں کی حفاظٹ کے لئے پیڈوایئر میزائلوں کا استعمال کررہا تھا ۔13 دنوں کی جنگ کے بعد اب کہا جارہا ہے کہ امریکی فوج کے پاس صرف 900 سے ہزار کے بیچ میزائلیں ہی بچی ہیں ۔دوسری طرف امریکی کمپنیاں ہر ماہ صرف 20 میزائل ہی بنارہی ہیں ۔دوسری طرف ایران نے اپنی میزائلیں اور ڈرون کا اسٹاک مسلسل بڑھا لیا ہے ۔اور وہ نئی میزائلوں اور ڈرونوں کو بھی بہت تیزی سے بنا رہا ہے ۔اب اگر ایران کی جانب سے اور حملے ہوتے ہیں تو امریکہ کی بچی کچی میزائلیں بھی ختم ہو جائیں گی ۔یہ وارننگ امریکہ کی سینٹکام کمپنی نے بھی ٹرمپ کو دی ہے ایسے میں امریکہ کو اپنے بیس کی حفاظت کی فکر ہے ۔ایران کے حملوں سے بھی امریکی ایئر ڈیفنس کو بھاری نقصان ہوا ہے ۔ حملوں کے دوران امریکی بیس پر 7 کمانڈ اینڈ کنٹرو ل سنٹر تباہ ہو چکے ہیں ۔اس کے علاوہ 6 پیٹیئر ایئر ڈیفنس راڈار تباہ ہو چکے ہیں ۔امریکی حملوں کی وجہ سے 3 ای پی ایس راڈار سسٹم گنوا چکا ہے ۔حملوں میں 5 لمبی دوری کے راڈار بھی تباہ ہو گئے ہیں ۔ایک طرف ہتھیاروں کی کمی ہے دوسری طر ف نقصان کی وجہ سے جنگ کا بڑھتا خرچ بھی ٹرمپ پر دباؤ بنا رہا ہے حملوں کے دوران امریکہ کا ایک ایف -15 جہاز تباہ ہو چکا ہے ایک ایف پی -8 جہاز بھی ضائع ہو چکا ہے ۔ایرانی حملوں کی وجہ سے سی -17 کارگو جہاز جل گیا ہے ۔ہوا میں تیل بھرنے والے جہاز بھی تباہ ہو گئے ہیں حملوں کے دوران 4 ہیلی کاپٹر بھی تباہ ہوئے ہیں ۔13 دنوں میں امریکہ کو اس لئے بھی بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران جارڈن اور عراق میں بھی حملے کرتا رہا ۔جس نے اس بار صرف امریکی بیس پر موجود ہتھیاروں جہاز وں کو نشانہ بنایا بلکہ دعویٰ کیاجارہا ہے زمین کی سیٹلائٹ کی مدد سے ایران نے پختہ نشانے سے حملہ کیا ۔کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ صرف ایئر ڈیفنس سسٹم پر ہی حملے نہیں ہوئے بلکہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے کئی اڈوں پر بھی  سیدھے حملے کئے تاکہ جو وہ خبریں دے رہے تھے ان کو روکا جاسکے ۔ایران کے حملوں میں امریکہ کے نقصان کا گراف بڑھتا گیا ۔ایران نے امریکی ایئرڈیفنس کو کھالی کرنے کی حکمت عملی کو آگے بڑھایا ایرا ن نے جہازوں کے کیمپ اور ہینگرس کو نشانہ بنایا ۔بحرین میں ہیلی کاپٹر مینٹننس سنٹر کو بھی تباہ کر دیا ۔ایران نے امریکی بیس پر 12 تیل ڈپو کو بھی تہس نہس کر دیا ۔سب سے بڑا دعویٰ تو ایران کے اربل بیس کو لے کر ہے ایرانی فوج کا دعویٰ ہے مسلسل حملوں کی وجہ سے عراق کے اربل میں امریکہ کا پورا ڈھانچہ ہی تباہ ہو چکا ہے اورا یران کے کئی جہازوں کی حملہ صلاحیت کافی حد تک ختم ہو چکی ہے ۔ یونہیں نہیں امریکہ کے صدر نے جنگ بند کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی باتوں پر اب شاید کوئی یقین کرے ؟ اس جنگ روکنے کے پیچھے بھی کوئی نیا کھیل ہوسکتا ہے ۔لیکن ایران ہر صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہے ۔
(انل نریندر)

جلتا فرانس!

فرانس میں پچھلے کئی دنوں سے تشدد آمیزآندولن ہورہا ہے۔ دیش بھر میں ہوئے مظاہروں کے دوران 2300 سے زائد لوگوں کو حراست میں لیا گیا جو نوجوانو...