Translater

25 اگست 2026

مہنگی چینی : کیا وجہ اتھنول تو نہیں ؟

بھارت میں چینی کے دام پچھلے ماہ سے تیزی سے بڑھ رہے ہیں ۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرس کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف اسی ماہ بھارت میں چینی کی قیمتوں میں 20 فیصدی اضافہ ہوا ہے ۔بھارت سرکار کے صارفین امور محکمہ کی ایک رپورٹ کےمطابق ، 20 اگست کو بھارت کے خوردہ بازار میں چینی کی قیمت 55.7 روپے فی کلو تھی ۔ایک ماہ پہلے چینی کی قیمت 48.18  روپے فی کلو گرام تھی ۔20 اگست 2025 کو اس کی قیمت 46.3روپے فی کلو تھی ۔بازار کے واقف کاروں کا کہنا ہے کہ چینی کے دام اس سے پہلے کبھی اتنے اونچائی پر نہیں گئے ۔سوال یہ بھی پوچھا جارہا ہے کہ کیا پیٹرول میں ملائے جانے والے ایتھنول کی وجہ سے چینی مہنگی ہوئی ہے؟ کچے تیل کی کھپت کے معاملے میں امریکہ اور چین کے بعد بھارت دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے لیکن بھارت میں استعمال ہونے والے کچے تیل کا 80 فیصدی سے زیادہ حصہ بیرونی ممالک سے آتا ہے ۔اس درآمدات کو کم کرنے ، غیرملکی کرنسی بچانے ، خود انحصاری بڑھانے اور آلودگی کم کرنے کے لئے مرکزی حکومت نے 2018 میں پیٹرول میں ملائے جانے والے ایتھنول کی مقدار کو 10 فیصدی سے بڑھا کر 20 فیصدی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ بھی ٹارگیٹ 2030 میں حاصل کیاجانا تھا ، لیکن سرکارنے سے جولائی 2025 میں ہی حاصل کر لیا ۔بھارت نے چینی انڈسٹری سرکاری کنٹرول کے تحت آتی ہے ۔چینی ملوں کو کسانوں سے خریدے گئے گنے کے لئے اتنا ایم آر پی دینا ہوگا ، یہ مرکزی سرکار طے کرتی ہے ۔سرکار یہ بھی طے کرتی ہے کہ کون سی چینی مل ہر ماہ کتنی چینی بیچ سکتی ہے اور چینی کا ایکسپورٹ کیا جاسکتا ہے یا نہیں دیش میں بڑے پیمانہ پر اتھنول خریدنے والاگراہک بھی سرکار ہی ہے۔ اور اس طرح اتھنول کی قیمت بھی غیر متوقع طور سے سرکارہی طے کرتی ہے ۔رائٹرس کی رپورٹ کے مطابق سال 2025-26 کے چینی سال بھر میں 30 لاکھ ٹن چینی کا استعمال تھنول بنانے کے لئے کیا گیا ۔رپورٹ کے مطابق یہ دیش میں چینی کی کل پیداوار کا قریب 10 فیصدی ہے ۔گنے کے رس کے علاوہ چینی بنانے کے دوران تیار ہونے والے سیرپ اے ہیوی مولاسس ، بی ہیوی ملاسس اور سی ہیوی ملاسس سے بھی اتھنول بنایاجاسکتا ہے ۔ایک پورٹ کے مطابق دیش میں پیدا کل اتھنول کا قریب ایک تہائی حصہ گنے سے تیار کیاگیا تھا ۔دوسری طرف سرکار نے جمعہ کو کہا کہ چینی کے بڑھتے داموں کے لئے پیٹرول میں اتھنول ملانے کے پروگرام کو ذمہ داری نہیں ٹھہرایاجاسکتا ۔سرکار نے کہا دیش میں پیداوار اندازے سے کم رہنے اور  تہواری سیزن سے پہلے مانگ بڑھنے اور انڈسٹری کے ایک حصے کی جانب جمعہ خوری کے چلتے چینی کے دام میں اچھال آتا ہے حالانکہ مانگ پوری کرنے کے لئے درکار مقدارمیں چینی دستیاب ہے ۔وزارت نے اتھنول سلیڈنگ پروگرام کے چلتے دام بڑھنے کی بات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ اتھنول پروڈکشن کے لئے چینی کے استعمال کو قیمتوں میں حالیہ اضافہ کو ذمہ دارنہیں ٹھہرایاجاسکتا ۔اُدھر سرکار نے چینی کے داموں میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے 31 اکتوبر تک 10 لاکھ ٹن غیر پروسیس چینی کو ڈیوٹی فری (ٹیکس مستثنیٰ درآمدات کو منظوری دے دی ہے ۔یہ قدم اس لئے اٹھایا گیا ہے تاکہ تہواری سیزن میں چینی کے بڑھتے داموں کی کڑواہٹ اور نہ بڑھے ۔ایک دن پہلے سرکار نے 10 لاکھ ٹن سے زیادہ چینی خریدنے والے کاروباریوں کے لئے چینی کا اسٹاک میعاد 15 دن طے کر دی تھی ۔
(انل نریندر)

22 اگست 2026

امریکہ ایران جنگ کا نیوکلیئر ہونے کا خطرہ

امریکہ اور ایران کے درمیا ن کشیدگی اب نیوکلیائی حملے کی دھمکیوں تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے خلیجی ملکوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے ۔دراصل امریکہ کی سابق کانگریس ویمن گارجیری ٹریلر گرین نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر نیوکلیئر حملے کا پلان بنا رہے ہیں اس کے بعد ایرانی ایم پی فداحسین ملیکی نے سخت وارننگ جاری کی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے نیوکلیائی حملہ کیا تو ایران بھی اسی ہتھیار اور اسی پیمانہ میں پلٹوار کرے گا ۔امریکہ کی سابق کانگریس ویمن ٹریلر گرین نے ٹرمپ کی نیوکلیئر اٹیک والی پلاننگ کو افشاکردیا تھا ۔انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایران پر نیوکلیائی بم چھوڑنے کے بارے میں غور کررہے ہیں۔ اس درمیان ایران نے بھی ایسا ہی اعلان کر دیا ہے ۔کیا ہم یہ مانیں اس درمیان ایران نے بھی ایسا اعلان کر دیا کہ کیا ہم یہ مانیں کہ ایران نے بھی کوئی نیوکلیئر ہتھیار بنا لیا ہے جس زبان کا ایران استعمال کررہا ہے اس کا مطلب تو صاف ہے کہ اگر تم نے ہم پر نیوکلیائی حملہ کیا تو ہم بھی نیوکلیائی حملے سے ہی جواب دیں گے ۔ نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق گرین نے بھی الزام لگایا کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکی خفیہ ایجنسیوں کے ان تجزیوں کو نہیں مان رہا ہے جن کے مطابق ایران نیوکلیئر ہتھیار بنانے کے موہانے پر نہیں ہے ۔وائٹ ہاؤس نے سابق وزیر گرین کے اس دعوے پر کوئی فی الحال رد عمل نہیں ظاہر کیا ہے ۔امریکی حکومت یا سیکورٹی حکام نے بھی پبلک طور سے ایسا کوئی پلان کی توثیق نہیں کی ہے ۔امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ اس ڈراؤنے موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں نیوکلیائی حملے کی دھمکیاں کےکھلے عام دی جانے لگی ہیں اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ایٹم بم چھوڑنے کی بے وقوفی کی تو کیا ہوگا؟ اس سوال نے نہ صرف واشنگٹن اور تہران میں بلکہ پورے خلیجی ممالک میں بھی کھلبلی مچا دی ہے ۔سعودی عرب، یو اے ای اور قطر جیسے دیش اب بار بار کہہ رہے ہیں کیوں کہ ایران نے صاف کر دیا ہے کہ اگر کسی بھی خلیجی دیش نے امریکہ کی مدد کی تو اسے بھی بھسم ہونے سے کوئی نہیں بچا پائے گا ۔ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکورٹی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ممبر فدا حسین ملیکی سے سیدھا سوال پوچھا گیا کہ اگر ٹرمپ نے سچ میں نیوکلیائی بم چھوڑ دیا تو ایران کیا کرے گااس پر ملیکی نے بلا زجھک کہا کہ اگر ایسا کوئی حملہ ہوتا ہے تو ایران بھی اسی زبان اور اسی ہتھیار سے جواب دے گا ۔حالانکہ ملیکی نے کھل کر یہ نہیں مانا ہے کہ ایران کے پاس اس وقت نیوکلیائی بم تیار ہے یا نہیں ، لیکن ان کے اس بیان نے امریکہ اور اس کے ساتھی ممالک کے پسینے چھڑ ا دیے ہیں ۔انہوںنے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس کئی ایسے ہتھیار ہیں جو نہ صرف خطرناک ہیں بلکہ انتہائی جدید ہیں جو ابھی دنیا کے سامنے آئے ہی نہیں ہیں ۔اگر جنگ چھڑی تو وہ صرف مشرقی وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گی وہ پوری دنیا کو اپنی زد میں لے لے گی ۔ایران نے اب صرف اپنا بچاؤ کرنے کے بجائے جارحانہ حکمت عملی اپنا لی ہے اگر امریکہ نیوکلیائی بم جیسا فدائی قدم اٹھاتا ہے یا خلیجی دیش امریکہ کو ایسا کرنے میں مدد کرتے ہیں تو یہ جنگ صرف دو ملکوں کے درمیان نہیں رہے گی ۔خلیجی ممالک کو تباہ ہونے سے پوری دنیا میں کچے تیل کی سپلائی ٹھپ ہو جائے گی ۔پیٹرول ڈیزل کے دام آسمان چھونے لگیں گے اور عالمی معیشت پوری طرح تباہ ہو جائے گی ۔یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کے نیوکلیائی بم اور ایران کے جوابی پلٹوار کی خبروں نے دنیا بھر کے لیڈروں کے ماتھے پر تشویش کی لکیریں کھینچ دی ہیں ۔
(انل نریندر)

20 اگست 2026

زندہ پکڑو یا مار و :30000 ڈالر ملیں گے !

ایران کی حکومت نے اب اپنی عوام کو زمینی لڑائی کے لئے لگتا ہے تیار کرنا شروع کر دیا ہے ۔امریکہ اور ایران کے درمیان ہوئے امن معاہدے (پیس ڈیل ) اب تقریباً ختم ہو گئی ہے اور پھر سے پوری جنگ کی تیاری شروع ہو گئی ہے تبھی تو ایران کو اب لگتا ہے کہ امریکہ اسرائیل اگلا حملہ زمین پر ہی ہوگا۔ اسی خطرے کو دیکھتے ہوئے ایرانی حکومت نے اعلان کر دیا ہے کہ امریکی فوجیوں کو مارنے یا پکڑنے پر 30000 ڈالر ملیں گے ۔ خواتین کے لئے انعام دوگنا ہوگا ۔ایران کی فوج نے اتوار کو اعلان کیا کہ وہ امریکی فوجیوں کو مارنے یا پکڑنے کے عوض 30000 ڈالر کے برابر انعام دے گی ۔فوج کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر یہ کام کوئی خاتون کرتی ہے تو اسے دوگنا انعام دیا جائے گا ۔یہ اعلان مغربی ایشیا میں ایران اور امریکہ کے درمیان مسلسل کشیدگی کے درمیان ہوا ہے ۔جہاں دونوں ایک دوسرے پر حملہ کرتے رہے ہیں ۔28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے ہرمز اسٹریٹ کو پھر سے کھولنا کسی بھی امن معاہدے کو لگاتا ر رکوا رہا ہے ۔ایران کی سرکاری ایجنسی ارنا کی رپورٹ کے مطابق دیش کی فوجی کے سربراہ عامر ہتامی نے کہا کہ مالی مدد میں حصہ لینے کے لئے بڑی تعداد میں درخواستیں ملنے کے بعد یہ پلان بنایا گیا تھا ۔انہوں نے اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی کہ امریکی فوجیوں کو کہاں اور کب مارا یا پکڑا جائے گا ۔مغربی ایشیائی جنگ کے دوران ایران میں امریکی زمینی فورس کی فی الحال کوئی چنوتی نہیں ہے۔ سوائے اپریل میں ایک مارے گئے امریکی پائلٹ کو برآمد مشن کے ایجنسی ارنا نے ہتامی کے حوالے سے بتایاجو کوئی حملہ آور امریکی ملیٹری کے کسی بھی آدمی کو مارے گا یاپکڑ کر سونپے گا اسے اسلامک رپبلک جمہوریہ ایران کی فوج کی طرف سے 30000 ڈالر یا پانچ ملین تومن کے برابر انعام ملے گا ۔انہوں نے 10 ہزار ایرانی ریال کے برابر ایک انفارچوئل یونٹ کا بھی استعمال کیا ۔اس اعلان کو ٹرمپ کی اس وارننگ سے جوڑ کر دیکھاجارہا ہے جس میں انہوں نے امریکی فوجیوں کو ایران میں اتارنے کا امکان جتایا تھا ۔یروشلم پوسٹ کے مطابق انعام پانے والے کو صرف اتنا ہی نہیں ملے گا بلکہ ہاتمی نے کہا کہ امریکی فوجی کو مارنے کے لئے استعمال کئے گئے ہتھیار کو دوگنی قیمت پر خریدجائے گا اور اسے ایک خاص میوزیم میں بھی رکھاجائے گا ۔یہی نہیں ایران اپنے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے بے تاب ہے ۔ایران نے ایک ٹارگیٹ لسٹ بھی بنائی ہے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی پی ایم نیتن یاہو اور ایک ٹارگیٹ لسٹ وغیرہ شامل ہیں اور امریکہ کے ساتھی ملکوں کے سربراہان مملکت کے نام بھی اس میں شامل ہیں ۔ایران پر حملے کے لئے امریکہ نے سب سے زیادہ عرب ملکوں کی زمین اور ایئر اسپیس کا استعمال کیا ۔اب مانگ اٹھ رہی ہے کہ عرب دیشوں کے سربراہان مملکت کو بھی ہٹ لسٹ میں شامل کیاجائے کیوں کہ امریکہ کے مددگار بھی سابق سپریم لیڈر کے قتل میں برابر کے گناہگار ہیں ۔ایران نے اب اپنی پالیسی بدلی ہے ۔پڑوسی عرب ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو تو نشانہ بنایاہی گیا لیکن اب ان کی ٹاپ لیڈر شپ کو ختم کرنے کی قسم لے رہا ہے ۔ایران کے ایم پی عامر حسین سوبتی نے سرکار سے مانگ کی ہے ہٹ لسٹ میں خلیجی ملکوں کے حکمرانوں کو بھی جوڑاجائے ۔
(انل نریندر)

18 اگست 2026

زندہ ہیں مجتبیٰ خامنہ ای ؟

پچھلی 28 فروری سے جب سے امریکہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان والے افراد کی شہادت ہوئی تھی جس میں ایک 14 ماہ کی بچی بھی شامل تھی کہا جارہا تھا کہ اس حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای یا تو مارے گئے ہیں یا بری طرح زخمی ہوئے ہیں ۔یہ بھی کہاگیا کہ وہ ماسکو میں آئی سی یو میں ہیں ۔28 فروری کے حملے کے بعد مجتبیٰ کبھی بھی عوام کے سامنے بھی نہیں آئے تھے ۔لیکن کچھ دن پہلے ان کا ایک ویڈیو سامنے آیا ۔حال ہی میں اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حالت بے حد نازک ہے اور ان کو اسپتال میں بھرتی کرایا گیا ہے ۔وہاں کہا گیا کہ ان کی موت کی خبر سامنے آئے تو حیرانی نہیں ہوگی ۔ان دعوؤں کے بیچ ایران کی مہر نیوز ایجنسی نے مجتبیٰ خامنی ای کا 12 سکنڈ کا ویڈیو جاری کیا ہے اس میں وہ لوگوں سے بات چیت کرتے نظر آرہے ہیں حالانکہ یہ نہیں پتہ یہ ویڈیو کب کا ہے لیکن صاف نہیں کیا گیا ہے ۔اس لئے یہ سوال ابھی بھی برقرار ہے ۔ویڈیو میں بیماری کی خبروں پر اٹھائے سوال مہر نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری ویڈیو میں مجتبیٰ خامنہ ای لوگوں کے درمیان گاہے بگاہے ملتے نظر آرہے ہیں۔ اور باتیں کررہے ہیں ۔پہلی نظر میں یہ ویڈیو ان کی نازک بیماری سے وابستہ خبروں کا جواب ماناجارہا ہے ۔حالانکہ ایک بڑا سوال اس کی تاریخ کو بھی لے کر ہے ۔ایجنسی نے یہ نہیں بتایا کہ ویڈیو کب بنایا گیا تھا ایسے میں صرف 12 سکنڈ کے اس ویڈیو کی بنیاد پر ان کی موجودگی اور صحت کے بارے میں کوئی پختہ نتیجہ نکالنا مشکل ہے فروری میں سپریم لیڈر کی ذمہ داری سنبھالنے والے مجتبیٰ خامنہ ای نے اس کے بعد سے ان کی پبلک موجودگی بے حد محدود رہی ۔ان کی طرف سے زیادہ تر تحریری بیان سامنے آئے ہیں اس وجہ سے ان کی صحت اور ان کی سرگرمیوں کو لے کر مسلسل قیاس آرائیاں لگتی رہی ہیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کو لے کر بھلے ہی افواہوں کے درمیان ایران کے صدر پزشکیان نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اس وقت سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے سیدھے بات کرنا بے حد مشکل ہے ۔حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ مجتبیٰ خامنہ سے مل چکے ہیں ۔موصولہ معلومات کے مطابق ان سے ملاقات مئی کے ماہ میں ہوئی تھی ۔صدر پزشکیان نے تجارت فیڈریشن کے نمائندوں سے ایک ملاقات کے دوران یہ انکشاف کیا تھا اور وہ مجتبیٰ خامنہ ای ساتھ تھے ۔اور یہ ملاقات کافی اچھی رہی ۔ذرائع کے مطابق صدر کو خامنہ ای سے ملنے کا سنہرا موقع ایک رعایت کے طور پر ملا تھا ۔کہاجارہا ہے کہ پزشکیان با ر بار مجتبیٰ سے ملنے کی گزارش کر رہے تھے اور یہاں تک کہ دھمکی دے رہے تھے اگر ان سے ملنے نہیں دیا گیا تو وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے ۔خامنہ ای کے دفتر کو آخر میں اس ملاقات کے لئے حامی بھرنی پڑی لیکن یہ ملاقات کے بارے میں کہا جارہا ہے یہ معمولی نہیں تھی۔ امریکہ اسرائیل نے مسلسل یہ دکھانے کی کوشش کی کہ مجتبیٰ زبردست چوٹیں آئیں ہیں اور وہ بری طرح زخمی ہوئے ہیں ان کا چہرا جل گیا ہے اور پیروں میں بھی بھاری زخم ہیں جس کے بعدان کے پیر کا آپریشن بھی ہوا ہے۔ اب یہ نیا ویڈیو آیا ہے ۔
(انل نریندر)

15 اگست 2026

بھاگ ٹرمپ بھاگ !

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ پچھلے ماہ ترکیہ میں نیٹو سمٹ سے روانہ ہوتے وقت انہوں نے چپ چاپ جیمس بانڈ اسٹائل میں جہاز بدل لیا تھا ایسا امکانی خطرے کی وجہ سے کیا گیاتھا۔ ٹرمپ نے منگلوار کو اخبارنویسوں سے بات چیت میں کہا کہ میں سیکریٹ سروس اور فوج کی بات مانتا ہوں۔ وہ چاہتے تھے کہ میں دوسرے پرواز اور دوسرے جہاز سے جاؤں ۔مجھے وہی کرنا تھاجو انہوں نے کہا ۔ٹرمپ نے یہ اعتراف کیا کہ وہ چھپ کر اپنے جہاز ایئر فورس 1 سے بھاگ کر ایک دوسرے جہاز سے نکلے ۔یہ بتانا ضروری ہے کہ چھپ کر بھاگنے سے پہلے انہوں نے نہ تو مارکو روبیو ، دیگر سینئر حکام کو جہازبدلنے کا پلان بتایا اور نہ ہی ان کے ساتھ گئے اخباروں کو۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کی نظروں میں ان کی قیمت ہے ؟ خیر میں آپ کو پرانی کہانی بتاتا ہوں کہ کیا ہوا؟ ڈونلڈ ٹرمپ پچھلے ماہ ترکیہ نیٹو سمٹ میں گئے تھے ۔نیٹو سمٹ سے نکلتے وقت ایران کے امکانی خطرے کو دیکھتے ہوئے ٹرمپ نے چپ چاپ طریقہ سے جہاز بدل لیا تھا ۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ٹیلی ویژن کیمروں کی موجودگی میں ایئر فورس 1 میں سوار ہوئے پھر انہیں چپکے سے ایک اونچے ایئر پورٹ کیٹرنگ (ٹرک میں لے جایا گیا اور ایک دیگر فوجی جہاز تک پہنچایا گیا ۔اس دوران ایئر فورس 1 جہاز میں سوار اخبار نویسوں اور وائٹ ہاؤس کے کچھ ملازمین و امریکی نائب صدر مارکو روبیو کو اس کی جانکاری تک نہیں تھی ۔حکام نے سی بی ایس نیوز و وی بی سی کو بتایا کہ امریکہ نے جہاز پر میزائل داغنے کی امریکہ کی بھروسہ مند دھمکی کا پتایا لگایا تھا حالانکہ وائٹ ہاؤس نے اس خفیہ طریقہ سے جہاز بدلنے کی تصدیق نہیں کی ۔حالانکہ بعد میں خود ٹرمپ نے اس کی تصدیق کر دی۔ آخری وقت میں جہاز بدلنے کے اس فیصلے سے سوال اٹھے ہیں۔ کیا جس جہاز کو ریپلیس کے لئے استعمال کیا گیا تھااس میں موجود لوگوں کو خطرے میں ہی چھوڑ دیا گیا تھا؟ جہاز میں سوار اخبار نویسوں اور وائٹ ہاؤس کے حکام کو پتہ تک نہیں تھا کہ امکانی ایرانی خطرے کے جواب میں ایک پلان کے تحت امریکی صدر کو وہاں سے چپ چاپ نکال لیا گیا تھا ۔ٹرمپ پہلے کہہ چکے ہیں کہ انقرا میں ہوئی سمٹ کے دوران وہ ایران کے ٹارگیٹ نمبر 1 تھے ۔ٹرمپ نے منگلوارکو کہا میرا اندازہ ہے کہ کوئی خطرہ تھا میں نے اس کے بارے میں زیادہ جانکاری نہیں مانگی ۔مجھے بہت ساری دھمکیاں ملتی ہیں ۔جن کے بارے میںآپ کو شاید پتہ بھی نہیں ہے ۔پچھلے ماہ بھی یہ خفیہ کاروائی تب ہوئی جب جنگ ختم کرنے کی بات چیت ٹوٹنے کے بعدا مریکہ نے ایران پر پھر سے حملے شروع کئے تھے ۔اس کے ایک دن بعد ٹرمپ نے جہاز بدلاتھا۔ٹرمپ قطر کی طرف سے دیے گئے جہاز بوئنگ 747-8سے ترکیہ پہنچے تھے ۔لیکن انہوں نے کہا کہ وہ پرانے ایئر فورس 1 سے واپس جائیں گے ۔8 جولائی کو انہوں نے کیسے ڈر کے مارے جہاز بدلا۔یہ سب نے دیکھا ہی ہے ۔اخبار کے مطابق وزیر دفاع ہیک سیتھ بھی الگ سے باہری سیڑھیوں کے ذریعے سی -32Aمیں سوار ہوئے تھے اُدھر ایئر فورس 1 پر بیٹھے اخبار نویسوں سے کہا گیا کہ وہ کھڑکیوں کے پردے میں بند رکھیں ۔شاید اس لئے کہ وہ باہر کا منظر نہ دیکھ سکیں ۔وہ یہ نہ دیکھ سکیں کہ صدر ٹرمپ جہاز کے خفیہ دروازے سے جہاز چھوڑ چکے ہیں اس لئے کہا بھاگ ٹرمپ بھاگ ۔
(انل نریندر)

13 اگست 2026

ہرمز میں امریکی جہازوں کی تعیناتی

امریکہ نے ایران پر دبا ؤ بڑھاتے ہوئے مڈل ایسٹ میں 20 سے زیادہ جنگی بیڑے تعینات کر دیے ہیں اور ہرمز جل ڈروم سنٹرل میں ناکہ بندی سخت کر دی ہے ۔ایران نے آبی راستے کو کھولنے کے لئے معاوضہ ،پانبدی ہٹانے اور ناکہ بندی ختم کرنے جیسی شرطیں رکھی ہیں ۔عمان کے ساتھ امکانی معاہدہ آخری مرحلے میں ہے ، لیکن دونوں دیشوں کے بیچ کشیدگی ابھی بھی انتہا بنی ہوئی ہے ۔امریکہ نے مڈل ایسٹ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھاتے ہوئے 20 سے زیادہ جنگی بیڑے تعینات کر دیے ہیں ۔یہ قدم ایران پر ناکابندی کو سختی سے لاگو کرنے میں ہرمز میں بڑھتی کشیدگی کے بیچ اٹھایاگیا ہے ، جہاں کچے تیل سپلائی کی سب سے اہم لائن گزرتی ہے ۔امریکی سنٹرل کمانڈ ،سیٹکام ) نے پیر کے روز ایکس پر لوڈ کئے ایک پوسٹ میں بتایا کہ یہ جنگی بیڑا سیدھے طور پر ایران کے خلاف لگائے گئے بلاکڈ کو لاگو کرنے کے مشن میں لگے ہوئے ہیں ۔تعینات جہازوں میں امریکی بحریہ کا ڈیسٹ ٹو ڈائر یو ایس ایس راس بھی شامل ہے ۔جس کے ذریعے سعودی نگرانی اور انٹرویشن آپریشن چل رہے ہیں ۔سیٹکام نے اسی کی تصویر شیئر کی تھی ۔سنٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ 9 اگست تک 55 کمرشیل جہازوں کو راستہ بدلنے پر مجبور کیا گیا تھا ۔دو جہازوں کو روکا گیا اور اس پر چڑھ کر جانچ کی گئی یہ صاف اشارہ ہے کہ امریکہ صرف وارننگ نہیں دے رہا ہے بلکہ سیدھے سمندر میں اپنا کنٹرو ل کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔اُدھر ایران امریکی جنگ میں سب سے بڑی لیکن نظر انداز یان بیج ٹریجڈیوں میں سے ایک سمندر کے بیچ پھنسے ہزاروں ملاح ہیں ۔اقوام متحدہ کی سمندری ایجنسی(آئی ایم او) کے مطابق قریب 6 ہزار ملاح اب بھی خلیج میں جہازوں پر پھنسے ہوئے ہیں کئی ملاح تو 4 ماہ سے گھر بھی نہیں لوٹ پائے ہیں ۔میں یو ایس ابراہم لنکن کے بارے میں ایک ایسی رپورٹ پڑھ رہا تھا اس میں بتایا گیا تھا کہ پچھلے تقریباً 200 دنوں سے زیادہ عرصہ سے یہ سمندری جہاز سمندر میں ہے جہاز کے اندر اب کھانے کی قلت ہو گئی ہے ۔دوائیں کم پڑ گئی ہیں ۔ٹوائلٹ خراب ہو چکے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔جہاز کے ڈاکٹر اب کہنے لگے ہیں کہ اگر جلد یہ فوجی گھر نہیں لوٹے تو راستے میں ہی کئی ذہنی اذیت کے شکار ہو جائیں گے ۔ویسے بھی دیکھاجائے جب لنکن جہاز میں ایسی خوفناک صورتحال بنی ہوئی ہے تواس پر تعینات تقریباً پانچ ہزار فوجی جنگ کیسے لڑیں گے ؟ کئی ملاحوں کا باہری رابطہ تقریباً ٹوٹ چکا ہے ۔انہیں ہر کچھ دن میں صرف تیس منٹ انٹرنیٹ ملتا ہے ۔کچھ جہازوں پر محدود راشن ہونے سے ملاح دن میں صرف ایک بار چاول اور دال کھا رہے ہیں ۔لگاتار میزائل اورڈرون حملے کے خوف میں نیند بھی پوری طرح نہیں لے پارہے ہیں ۔کئی لوگ اس تیاری کے ساتھ سوتے ہیں کہ حملہ ہوتے ہی بھاگ سکیں ۔ماہرین کے مطابق ملاح جہاز کو نہیں چھوڑ سکتے ۔محفوظ اخراج بے حد مشکل ہے اورکئی ملاح قلیل المدتی معاہدے پر کام کررہے ہیں ۔انہیں ڈر ہے کہ اگر وہ خطرناک ڈیوٹی چھوڑنے کی مانگ کرتے ہیں تو انہیں دوبارہ نوکری نہیں ملے گی ۔جنگ کے بیچ پھنسے ملاحوں کی ذہنی صحت اور نیند اور اقتصادی حالت پر بھی برا اثر پڑا ہے ۔جنگ کی شروعات میں 36 سے 38 ہندوستانی جہازوں پر 100 ہندوستانی ملاح ہرمز کے آس پاس پھنس گئے تھے ۔بعد میں زیادہ تر جہاز نکل گئے ۔ذرائع کے مطابق 125 ہندوستانی ملاح ابھی بھی ہندوستانی جہازوں پر خلیج فارس میں موجود ہیں ۔
(انل نریندر)

11 اگست 2026

اور اب اسلامی نیٹو!

حال ہی میں پاکستان ، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ پر دستخط ہوئے ہیں جس کے تحت اگر تینوں میں سے کسی ایک دیش پر حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں پر حملہ ماناجائے گا ۔اس معاہدے کا مقصد ڈیفنس اشتراک بڑھانا ،جوائنٹ سیکورٹی حکمت عملی بنانا اور خطہ میں بڑھتی کشیدگی کے بیچ اجتماعی طاقت دکھانا ہے ۔تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ اتحاد مغربی ایشیا میں بدلتے حالات ،خاص طور پر ایران ،امریکہ اور اسرائیل کے مابین بڑھتے ٹکراؤ کے درمیان ایک نئے پاور بلاک کی شکل میں ابھر سکتا ہے ۔اسلامی نیٹو مسلم اکثریتی ملکوں کے بیچ ایک مجوزہ یا غیر خانہ پوری فوجی اتحاد کو دیا نام ہے جس کا موازنہ مغربی ممالک کی فوجی انجمن نیٹو سے کیاجاتا ہے ۔ اس معاہدے کے پیچھے اہم رول سعودی عرب کا ہے ۔وہ ایک طرف ایران کے حملوں سے پرشان ہے اور دوسری طرف یمن کے حوثیوں کا تعلق زبردست لڑائی چھڑنے سے ہے ۔ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں خلیجی سیکٹر میں جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے اور لڑائی کو پورے خلیجی خطہ میں پھیلنے کے اندیشات نے سعودی عرب کی حفاظتی تشویشات بڑھا دی ہیں ۔دہائیوں تک ریاض اپنی حفاظت کے لئے خاص طور سے امریکہ پر منحصر تھا لیکن 28 فروری کے بعداس نے دیکھ لیا کہ امریکہ تو اپنے حفاظتی اڈوں کو بھی بچا نہیں پارہا ہے وہ سعودی عرب کو کیسے بچائے گا ۔رہا سوال پاکستان کا تو سعودی عرب کا پہلے سے ہی پاکستان سے دفاعی معاہدہ ہوا ہوا ہے ۔لیکن کیا پاکستان سعودی عرب کو ایرانی میزائلوں اور ڈرون سے بچا سکا ؟ کیا پاکستان سعودی عرب پر حملہ ہونے پر ایران پر حملہ کر سکتا ہے؟ یہ سب ڈرامہ بنا ہوا ہے ۔رہا سوال اسرائیل اور امریکہ کا تو اسرائیل اس معاہدے کی جم کر مخالفت کررہا ہے اور اسے اپنے لئے خطرہ مانتا ہے ۔ سوال یہ بھی پوچھا جانا چاہیے کہ اسرائیل سعودی یا ترکیہ پر حملہ کرتا ہے تو کیا پاک فوجی چیف جنرل عاصم منیر میں اتنی ہمت ہے کہ وہ امریکہ کے خلاف جاکر اسرائیل پر حملہ کرے ؟ یہ صرف پیسے اینٹھنے کا کھیل ہے ۔پھکڑ ہوا پاکستان کہیں سے بھی بھیک مانگنے کو تیار ہے ۔اور اس کے عوض میں جو چاہے وعدہ کروا لو ؟ رہا سوال ایران کا تو صدر مسعود پزشکیا ن نے مسلم اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ شیعہ سنی کو ساتھ رہنا چاہیے ۔پزشکیا ن نے کہا امریکہ اور اسرائیل مل کر خلیج فارس کے دیشوں کو ایران کے خلاف کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔قابل غور بات یہ ہے سعودی ،ترکیہ اور پاکستان تینوں ہی ملک سنی اکثریتی ہیں ۔وہیں ایران شیعہ ملک ہے رہا یہ بھارت کے لئے تشویش کی بات ہے ؟ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اس ڈیفنس معاہدے کا بھارت پر سیدھے طور پر کوئی اثر نہیں ہوگا ۔ایسا اس لئے کیوں کہ سعودی عرب پہلے بھی کہتا رہا ہے کہ پاکستان ہمارا اہم ترین حکمت عملی ساجھیدار ہے لیکن کبھی اس نے بھارت سے جنگ کے موقع پر ساتھ نہیں دیا ۔ جہاں تک ترکیہ کا سوا ل ہے وہ تو آپریشن سندھور میں بھی کھلے عام پاکستان کے ساتھ تھا اور آگے بھی رہے گا ۔بھارت کے لئے تشویش کی بات نہیں ہے کیوںکہ بھارت ڈیفنس صلاحیت میں تینوں ملکوں سے آگے ہے ۔
(انل نریندر)

08 اگست 2026

کیا پاکستان اندر سے ٹوٹ رہا ہے ؟



پاکستان اس وقت سنگین اندرونی جدوجہد ،سیاسی عدم استحکام اور صوبوں میں مسلح بغاوت جیسی سنگین اندرونی چنوتیوں سے لڑرہا ہے ۔فوج کے بڑھتے دخل ، اقتصادی بحران اور دہشت گردوں کے تابڑتوڑ حملوں کے سبب دیش کے اندر خانہ جنگی جیسے حالات بنے ہوئے ہیں ۔پاکستان کے 4 صوبے ہیں ان میں سے بلوچستان صوبہ میں علیحدگی پسند بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے ) نے بغاوت کا جھنڈا بلند کیا ہوا ہے ۔خیبر پختونخواہ صوبہ میں افغان طالبان کا دبدبہ بڑھتا جارہا ہے ۔آئے دن طالبان کے حملوں سے یہاں پاک فوج کے پاؤں اکھڑ رہے ہیں ۔پی او کے میں پاکستانی فوج کی بربریت پر بغاوت کی صورتحال بنی ہوئی ہے ۔چلیے تفصیل سے ساری صورتحال کو بتاتے ہیں ۔بلوچستان پاک کا سب سے بڑا پھیلا ہوا تقریباً 45 فیصدی سب سے بڑا خطہ ہے ۔ایران سے اس کی سرحد لگتی ہے ۔بلوچستان کے بی ایل اے لڑاکے الگ دیش کی مانگ کررہے ہیں ۔حالت یہ ہے بلوچ لڑاکوں اور پستو (پٹھان ) باغیوں کا بلوچستان صوبہ میں تقریباً 70 فیصد حصے میں قبضہ ہوچکا ہے ۔اصلی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی سرکار پولیس اسٹیشن کھلا رخ رکھ سکتی ہے۔ سارے صوبہ پر ٹریفک چلاسکتی ہے بازار اور کاروبار بحال رکھ سکتی ہے اور لوگوں کو بغیر ڈر کے سفر کرنے کی سیکورٹی دے سکتی ہے ؟ خیبر پختونخواہ پاکستان کا سرحدی علاقہ ہے ۔ڈورنٹ لائن پاک اور افغانستان کو الگ کرتی ہے ۔ افغانستان میں طالبان سرکار کے پانچ سال میں خیبر کے زیادہ تر علاقہ میں انہیں کا دبدبہ ہے ۔خیبر میں پاک سرکار کا قانون نہیں بلکہ طالبان کا شرعی قانون چلتا ہے ۔دراصل اس علاقہ میں تقسیم کے وقت سے ہی قبائلی نظام لاگو رہا ہے ۔سوات اور سیدو چنگورا اور مردن میں لویا جرگا کے ذریعے قانون چلتا ہے ۔یہ جرگا اصل میں شرعیہ قانون کو لاگو کرتی ہے ۔افغان طالبان تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی ) تنظیم کو اپنے اڈوں میں پناہ دیتا ہے ۔عمران خان کی سرکار نے 2021 میں ٹی ٹی پی کے ساتھ صلح کی کوشش کی لیکن عمران کی گدی جاتے ہی ٹی ٹی پی نے خیبر میں اپنےدبدبہ کواور بڑھا لیا ۔خیبر کے وزیرستان میں پاکستان فوج کئی فوجی کاروائیاں کر چکی ہے ۔لیکن یہاں ابھری ٹی ٹی پی قابض ہے ۔آئے دن ٹی ٹی پی کے حملوں کے سبب اسکول اور کالج بند رہتے ہیں ۔پنجاب اور سندھ کے اصل باشندے نگراں خیسر میں اپنی پوسٹنگ نہیں چاہتے ۔پاکستان کے قبضہ والے کشمیر (پی او کے) اور دیگر علاقوں میں کچلنے والی پالیسیوں اور اختیارات کی عدولی کو لے کر جنتا میں بھاری ناراضگی اور زبردست مظاہرے دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔بڑی تعداد میں مظاہرین مارے جا چکے ہیں ۔اگر ہم سیاسی پش منظر کی بات کریں تو سرکار فوج کےبیچ اقتدار کے تجزیوں اور حالیہ آئینی ترامیم کو لے کر عدلیہ اور سیاسی گلیاروں میں تلخ کھینچ تان اور بغاوت کا ماحول ہے ۔کل ملا کر پاکستان کے اندرونی حالات بہت خراب ہو رہے ہیں ۔اگر یہی صورتحال رہی تو پاکستان کے کئی ٹکڑوں میں بٹنے کے امکان سے انکار نہیں کیاجاسکتا ۔
(انل نریندر)

06 اگست 2026

پھر پلٹے ٹرمپ : ایران میں ذہنی جنگ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر بڑے حملے کی دھمکی کےبعد ایک بار پھر پلٹ گئے ہیں ۔ٹرمپ کی یہ تو پلٹنے کی عادت بن گئی ہے ۔یہ4تھی مرتبہ بار ہے جب ٹرمپ دھمکی دے کر پلٹے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ اب ان کی دھمکی کو کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا ۔ان کا کھلے عام مذاق اڑایاجاتا ہے ۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مغربی ایشیا کے ساتھی ملکوں نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کو ختم کرنے کے لئے ایک معاہدے کی شکل میں لائن پر رضامندی بنا لی ہے۔ فی الحال وہ پانچ ماہ سے جاری اس لڑائی میں ایران پر نئے فوجی حملے کا حکم نہیں دیں گے ۔اُدھر ،ایران نے ٹرمپ کی دھمکیوں کو ذہنی جنگ بتایا ہے۔ ٹرمپ نے سنیچر کو کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے میں ہرمز جل ڈروم وسط کو فوراً پوری طرح کھولنا و اس کے نیوکلائی خطرے کا خاتمہ شامل ہوگا ۔کہاں اس درخواست کی بنیاد پر میں نے مستقبل کے مفاد میں حملوں کو روکنے کی رضامندی دی تھی بشرطیکہ جلد ہی کوئی سمجھوتہ ہو سکے ۔ٹرمپ نے سمجھوتے میں اسرائیل کی رضامندی کی بات بھی کہی ہے ۔کیا ٹرمپ ایران پر نیوکلیائی حملہ کرنے کے بارےمیں سوچ رہا ہے ؟ جب ٹرمپ یہ کہتے ہیں کہ میں نے دنیا کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے سے بچنے کے لئے فی الحال ایران پر حملے کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے تو اس کا مطلب یہ نکالیں کہ ٹرمپ ایران پر ایٹم بم مارنے کی سوچ رہے ہیں ؟ ویسے بھی ٹرمپ اتنی بار اپنے بیانوں سے پلٹے ہیں کہ اب انہیں شایدہی کوئی سنجیدگی سے لیتا ہو؟ ایران نے ٹرمپ کے حملے ٹالنے کے فیصلے کا مذاق بھی اڑایا ہے ۔ایرانی میڈیا نے ٹرمپ کے دعووں کو جھوٹ بتاتے ہوئے لکھا کہ تہران میں کبھی حملے روکنے کی اپیل نہیں کی ۔ایرانی میڈیا نے ٹرمپ کے دعوؤں کو جھوٹا بتاتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی میزائلوں کی کمی اور بڑھتے دباؤ کے سبب ٹرمپ پیچھے ہٹے ہیں ۔ٹرمپ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا امریکہ نے اپنی کمزور ی چھپانے کے لئے پوری کہانی گھڑی ہے ۔ٹرمپ کی ہوا ایک بار پھر ایران نے نکال دی ہے۔ یہ پہلی بار نہیں پہلے بھی ٹرمپ دھمکی دے کر اپنے قدم پیچھے کر چکے ہیں ۔ایران کی مرف سرکاری نیوز ایجنسی فارم نے ٹرمپ پر طنز کرتے ہوئے لکھا کے بے وقوف ٹرمپ کی ساری ہوا نکل گئی ہے ۔وہیں مہر نیوز ایجنسی نے کہا کہ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنی کھوکھلی دھمکیوں سے پیچھے ہٹ کر اسے دنیا کے سامنے احسان کی طرح پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ایجنسی مہر نے فوجی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ایرانی فوج پوری طرح چوکس ہے اور کسی بھی صورتحال کا جواب دینے کےلئے تیار ہے ۔ایجنسی نے ٹرمپ کے دعوؤں کو ایک اور جھوٹ بتایا ۔ایران نے امریکہ کو ایک بار پھر وارننگ دی ہے ایران نے کہا کہ اگر امریکی فوج نے ایرانی ٹھکانوں پر نئے حملے کئے تو وہ اس کا زوردار جواب دےگا اس سے پورے مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ جائے گی ۔یہ وارننگ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد آئی ہے ، جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ تہران کے ساتھ بات چیت سے ان کا بھروسہ کم ہورہا ہے ۔ ٹرمپ نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر امریکہ ان پر حملہ کرے گا ۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے فوجی چیف عاصم منیر وترکیہ کے وزیر خارجہ حکن فدان اور سعودی وزیر خارجہ پرنس فیصل بن فرحان کے ساتھ الگ الگ فون پر بات چیت کے ذریعے اس کی جانکاری دی ۔ٹرمپ ایک بار پھر پلٹ گئے ۔
(انل نریندر)

04 اگست 2026

امریکہ میں 7 جگہ حملے کس نے کئے ؟

امریکہ کے 7 ریاستوں میں ایک کے بعد ایک زبردست اٹیک ہوئے ہیں یہ حملے سیدھے اس لائف لائن پر ہوئے ہیں ،جس کی درد سے عام جنتا کراہ اٹھی ۔اس حملے کے بعد ٹرمپ کا ایسا حال ہو گیا ہے کہ وہ ایران کا نام بھی نہیں لے پارہے ہیں ۔ٹرمپ الٹے اپنے ہی لوگوں کو بدنام کرنے میں لگ گئے ہیں ۔لیکن اپنے سب سے بڑے دشمن کی چالاکی دنیا کے سامنے یہ قبول نہیں کر پارہے ہیں ۔ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے درمیان امریکہ میں اچانک کچھ ایسا ہوگیا ہے جس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے پسینے چھڑا دیے ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے طاقتور ملک کی چھاتی پر ایک نہیں دو بلکہ ایک کے بعد ایک پورے سات بڑے حملے ہوئے ہیں ۔یہ حملے کسی عام جگہ نہیں ہوئے بلکہ سیدھے امریکی عوام کی لائف لائن پر ہوئے ہیں ۔شبہ ہے کہ اس پورے کھیل کے پیچھے امریکہ کا سب سے بڑا دشمن ایران ہی ہے ۔لیکن ٹرمپ کھلے عام اس کا نام لے رہے ہیں ۔اگر ٹرمپ نے دنیا کے سامنے یہ مان لیا کہ حملہ ایران نے ہی کیا ہے تو ثابت ہو جائے گا کہ تکنیکی معاملے میں وہ امریکہ سے آگے نکل چکا ہے ۔دراصل یہ حملے امریکہ کی پانی سپلائی کرنے والی سب سے اہم پائپ لائن اور پلانٹس پر ہوئے ہیں ۔اس سرکاری انفراسٹرکچر پر سات جگہ سے سائبر اٹیک کئے گئے ۔حالات اتنے خراب ہو گئے ہیں کئی ریاستوں میں پانی سسٹم کو بچانے کے لئے ڈومیٹک سسٹم بند کرکے ہاتھوں سے کام سنبھالنا پڑا۔ اب اس پورے کھیل میں سب سے بڑا جھٹکا امریکی سیاست اور ڈونلڈ ٹرمپ کو لگا ہے ۔کیوں کہ جب دنیا کی نظریں ایران پر ٹکی رہی ہیں تب ٹرمپ سیدھے طور پر ایران کا نام لینے سے بچ رہے ہیں۔ اس بڑے سنسنی خیز سائبر حملے کی پہلی منیسوٹا اسٹیٹ سے لگی 26 اور 27 جولائی کے درمیان یہاں سے 30 سے زیادہ کمیونٹی واٹر سسٹم کو ہیکرس نے اپنا نشانہ بنایا ۔منے سوٹا آئی ٹی سروس نے جب آناً فاناً میں جانچ شروع کی تو پتہ چلا کہ کسی نے جان بوجھ کر پانی کی سپلائی لائن کنٹرو ل کرنے والے سسٹم کا ایکسس ہتھیا لیا تھا ۔ترجمان ایملی نیمر کا کہنا تھا کہ معاملے کی جانچ بہت تیزی سے چل رہی ہے ۔جس طریقہ سے اس معاملے کو انجام دیا گیا وہ ٹھیک ویسا ہی ہے جیسا ہمارے فیڈرل پوٹرلس نے پہلے کریٹیبل انفراسٹرکچر پر ہوئے حملوں میں دیکھا تھا ۔ہیکرس نے بہت ہی چالاکی سے پانی کے پلانٹس میں لگے پروگرام ویل لیکج کنٹرولرس کو اپنا شکا ر بنایا ۔امریکہ کی جانچ ایجنسیاں مان رہی ہیں کہ اس حملے کا پیٹرن ایران کے پرانے سائبر حملوں سے کافی ملتا جلتا ہے لیکن سب سے بڑا ڈرامہ تب شروع ہوا جب صدر ڈونلڈ  ٹرمپ کا بیان سامنے آیا ۔ٹرمپ نے اس خوفناک حملے کا قصور سیدھے ایران پر ڈالنے کے بجائے اپنے ہی سسٹم پر پھوڑ دیا ۔کابینہ میٹنگ کے دوران ٹرمپ نے ایران کا بچاؤ کرتے جیسا بیان دیا اور کہا کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ منیسوٹا کے 30 واٹر پلانٹس پر جو حملہ اس کے پیچھے ایران ہے ۔مجھے ایسا بالکل نہیں لگتا میں اس کے لئے منیسوٹا کے ناکام انتظامیہ اور وہاں کے کرپٹ گورنر کو ذمہ دار مانتاہوں ۔ایران کے پاس منیسوٹا کےبارے میں سوچنے سے بہت بڑے اشوہیں ۔ٹرمپ کے اس رویہ سے ہر کوئی حیران ہے ۔جہاں ایکسپرٹرس اسے سیدھے طور پر ایران سے جوڑ رہے ہیں وہی ٹرمپ ایران کا نام لینے سے کترا رہے ہیں ۔اور اپنے ہی حکام کو قصوروار ٹھہرا رہے ہیں اس پر منیسوٹا کے گورنر نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کو اچھی طرح پتہ ہے کہ حملہ آور کون ہے وہ سچائی سے بھاگ رہے ہیں ۔
(انل نریندر)

01 اگست 2026

اور اب ایران بنام یوکرین

مغربی ایشیا کی دو بڑی لڑائیاں اب ایک دوسرے سے وابستہ دکھائی دے رہی ہیں ۔ایک طرف پچھلے کئی ماہ سے امریکہ ایران کے درمیان کشیدگی اور فوجی کاروائی چل رہی ہے وہیں اب دوسری طرف روس اور یوکرین کے درمیان جنگ پانچویں برس میں داخل ہو چکی ہے ۔اب ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے ان دونوں لڑائیوں کو آپس میں جوڑدیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر نئی تشویشات پیدا کر دی ہیں ۔تازہ تنازعہ کیسپیئر ساگر میں ایک ایرانی جہاز پر ہوئے حملے سے شروع ہو ا ۔یوکرین پر الزام ہے کہ اس نے کیپسین ساگر میں ایک ایرانی کمرشیل جہاز کو نشانہ بنایا ۔یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا دعویٰ ہے کہ یہ جہاز روس اور ایران کے درمیان ہتھیاروں اور فوجی سامان کی سپلائی میں استعمال کیاجارہا تھا اسی وجہ سے اس جہاز پر حملہ کیا گیا ۔اس واقعہ کے بعد ایران نے سخت ناراضگی جتائی ہے۔ ایران کی راجدھانی تہران میں یوکرین کے سفیر کو طلب کیا اور سنگین نتائج بھگتنے کی وارننگ دے ڈالی ۔ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے یوروپی فیڈریشن کی خارجہ پالیسی چین کیلس سے بات کی اور اس حملے کے خلاف اپنی ناراضگی جتائی ۔انہوں نے یوکرین کے خلاف سخت کاروائی کی بھی مانگ کی ۔کیسپین ساگر میں کسی جہاز پر اس طرح کا حملہ پہلی بار ہوا ہے۔ کیسپین ساگر ایک ایسا سمندری خطہ ہے جو چاروں طرف سے زمین سے گھرا ہوا ہے ۔اس کے نارتھ ویسٹ میں روس اور ساؤتھ میں ایران ، مشرق میں قزاکستان اور ترکمانستان و مغرب میں آذر بائیجان واقع ہے ۔یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد روس اورایران کے رشتے اور مضبوط ہوئے ہیں ۔دونوں ملکوں کے درمیان تجارت ،تکنیکی اشتراک اور ڈیفنس سیکٹر میں رابطہ بڑھا ہے ۔اسی وجہ سے لمبے عرصے سے یہ بحث ہوتی رہی ہے کہ کیسپین ساگر کے راستے روس اور ایران کے درمیان فوجی سامان کا تبادلہ بھی ہوتا ہے ۔حالانکہ اس بارے میں کبھی کھلے طور سے کوئی صاف تسلیم نہیں کی گئی ۔ایران کا کہنا ہے کہ جس جہاز پر حملہ ہوا وہ ایک جنرل کمرشیل جہاز تھا ۔ایرانی حکام کے مطابق اس حملے میں ایک ملاح کی موت ہو گئی جبکہ ایک دیگر ملاح زخمی ہوگیا تھا ۔حملے کے بعد صدر زیلنسکی نے شوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جہاز روس اور ایران کے درمیان فوجی سامان پہنچانے کا کام کررہا تھا ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ روس لمبے عرصہ سے ایران کی طر ف سے دستیاب کرائے گئے شہید نامی ڈرون کا استعمال یوکرین کے خلاف کررہا تھا ۔لڑائی کے آغاز کے مرحلے میں روس نے بڑی تعداد میں ایرانی ڈرون کا استعمال کیا تھا ۔جس سے اسے جنگ میں بڑھت حاصل کرنے میں مدد ملی تھی ۔زیلنسکی نے صرف جہاز پر حملے کا بچاؤ ہی نہیں کیا بلکہ اس پر ایک اور سنگین الزام بھی لگا دیا انہوں نے دعویٰ کیاکہ روس نے ایران کو خلیج خطہ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی سیٹلائٹ تصویریں اور خفیہ جانکاری دستیاب کرائی ہے ۔ان کے مطابق ماہ جولائی میں روسی سیٹلائٹ بحرین ،جارڈن اور کویت میں قائم امریکی فوجی ٹھکانوں کی نگرانی کررہے ہیں ۔زیلنسکی کا الزام ہے کہ ایران کے ذریعے امریکی اڈوں پر کئے گئے کچھ پختہ حملوں کے پیچھے بھی روس کی طرف سے دی گئی خفیہ جانکاری کا رول ہوسکتا ہے ۔یوکرین برائے نام ہے کہ اسے صرف یوکرین نے اس میں صرف روس صرف یوکرین میں جنگ نہیں لڑرہا ہے بلکہ پورے خطہ میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش کررہا ہے ۔
انل نریندر

30 جولائی 2026

کیا ایران کے آگے جھکا ہے ٹرمپ ؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی ہو گئی ہے اور جنگ پھر تھم گئی ہے ۔13 دنوں میں امریکہ کو بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران یردن اور عراق میں بھی حملے کررہا ہے ۔چونکہ ایران یردن اور عراق میں بھی حملے کررہا ہے ۔ایران نے اس مرتبہ صرف امریکی بیس پر موجود ہی ہتھیاروں کو نشانہ بنایا ہے ۔بلکہ اگر خبر صحیح ہے تو ان حملوں میں امریکی فوجیوں کے مرنے اور زخمی ہونے کی بات ایران کررہا ہے ۔ایران کی فوج نے فی الحال حملے روک دیے ہیں نہیں تو وہ مسلسل 12-13 دن سے ہر روز ایران پر بم باری کررہا تھا ۔امریکہ نے تو ایک بار پھر بھاری بی بمباروں کا بھی استعمال کیا ۔ایران نے بھی تابڑ توڑ جوابی حملے کئے ۔جب امریکہ نے حملے روکے تو ایران نے بھی جوابی کاروائی روک دی۔ کہا جارہا ہے کہ امریکہ کے ایئر ڈیفنس میزائلوں کا اسٹاک کم ہورہا ہے جس سے عرب خطہ میں موجود امریکی اڈوں کی حفاظت کرنا مشکل ہوسکتا ہے ۔اس وجہ سے ٹرمپ کو پیچھے ہٹنا پڑاہے ۔دراصل ایران نے جنگ کی شروعات سے ہی سستے ڈرون سے لگاتارحملے کرنے کی حکومت عملی بنائی تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امریکی پیڈوایئر میزائلوں کا استعمال بہت زیادہ کرنا پڑا اور چند دنوں میں ہی میزائلوں کا اسٹاک کم ہو گیا ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ، امریکہ پچھلے 13 دنوں سے اپنے تمام اڈوں کی حفاظٹ کے لئے پیڈوایئر میزائلوں کا استعمال کررہا تھا ۔13 دنوں کی جنگ کے بعد اب کہا جارہا ہے کہ امریکی فوج کے پاس صرف 900 سے ہزار کے بیچ میزائلیں ہی بچی ہیں ۔دوسری طرف امریکی کمپنیاں ہر ماہ صرف 20 میزائل ہی بنارہی ہیں ۔دوسری طرف ایران نے اپنی میزائلیں اور ڈرون کا اسٹاک مسلسل بڑھا لیا ہے ۔اور وہ نئی میزائلوں اور ڈرونوں کو بھی بہت تیزی سے بنا رہا ہے ۔اب اگر ایران کی جانب سے اور حملے ہوتے ہیں تو امریکہ کی بچی کچی میزائلیں بھی ختم ہو جائیں گی ۔یہ وارننگ امریکہ کی سینٹکام کمپنی نے بھی ٹرمپ کو دی ہے ایسے میں امریکہ کو اپنے بیس کی حفاظت کی فکر ہے ۔ایران کے حملوں سے بھی امریکی ایئر ڈیفنس کو بھاری نقصان ہوا ہے ۔ حملوں کے دوران امریکی بیس پر 7 کمانڈ اینڈ کنٹرو ل سنٹر تباہ ہو چکے ہیں ۔اس کے علاوہ 6 پیٹیئر ایئر ڈیفنس راڈار تباہ ہو چکے ہیں ۔امریکی حملوں کی وجہ سے 3 ای پی ایس راڈار سسٹم گنوا چکا ہے ۔حملوں میں 5 لمبی دوری کے راڈار بھی تباہ ہو گئے ہیں ۔ایک طرف ہتھیاروں کی کمی ہے دوسری طر ف نقصان کی وجہ سے جنگ کا بڑھتا خرچ بھی ٹرمپ پر دباؤ بنا رہا ہے حملوں کے دوران امریکہ کا ایک ایف -15 جہاز تباہ ہو چکا ہے ایک ایف پی -8 جہاز بھی ضائع ہو چکا ہے ۔ایرانی حملوں کی وجہ سے سی -17 کارگو جہاز جل گیا ہے ۔ہوا میں تیل بھرنے والے جہاز بھی تباہ ہو گئے ہیں حملوں کے دوران 4 ہیلی کاپٹر بھی تباہ ہوئے ہیں ۔13 دنوں میں امریکہ کو اس لئے بھی بھاری نقصان ہوا ہے کیوں کہ ایران جارڈن اور عراق میں بھی حملے کرتا رہا ۔جس نے اس بار صرف امریکی بیس پر موجود ہتھیاروں جہاز وں کو نشانہ بنایا بلکہ دعویٰ کیاجارہا ہے زمین کی سیٹلائٹ کی مدد سے ایران نے پختہ نشانے سے حملہ کیا ۔کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ صرف ایئر ڈیفنس سسٹم پر ہی حملے نہیں ہوئے بلکہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے کئی اڈوں پر بھی  سیدھے حملے کئے تاکہ جو وہ خبریں دے رہے تھے ان کو روکا جاسکے ۔ایران کے حملوں میں امریکہ کے نقصان کا گراف بڑھتا گیا ۔ایران نے امریکی ایئرڈیفنس کو کھالی کرنے کی حکمت عملی کو آگے بڑھایا ایرا ن نے جہازوں کے کیمپ اور ہینگرس کو نشانہ بنایا ۔بحرین میں ہیلی کاپٹر مینٹننس سنٹر کو بھی تباہ کر دیا ۔ایران نے امریکی بیس پر 12 تیل ڈپو کو بھی تہس نہس کر دیا ۔سب سے بڑا دعویٰ تو ایران کے اربل بیس کو لے کر ہے ایرانی فوج کا دعویٰ ہے مسلسل حملوں کی وجہ سے عراق کے اربل میں امریکہ کا پورا ڈھانچہ ہی تباہ ہو چکا ہے اورا یران کے کئی جہازوں کی حملہ صلاحیت کافی حد تک ختم ہو چکی ہے ۔ یونہیں نہیں امریکہ کے صدر نے جنگ بند کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی باتوں پر اب شاید کوئی یقین کرے ؟ اس جنگ روکنے کے پیچھے بھی کوئی نیا کھیل ہوسکتا ہے ۔لیکن ایران ہر صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہے ۔
(انل نریندر)

28 جولائی 2026

اور اب سعودی حوثیوں میں جنگ

مشرقی وسطیٰ میں ایک طرف امریکہ ایران کی جنگ تھم نہیں رہی ہے وہیں اب نیا مورچہ کھلتا نظر آرہا ہے ۔یہ ہے سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان ۔سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان سیدھا ٹکراؤ شروع ہو چکا ہے جمعہ کے روز لال ساگر میں ایک سعودی مال بردار جہاز پر حملہ ہوا جس کےبعد مغربی ایشیا میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے ۔حملے کے کچھ ہی دیر بعد سعودی عرب نے حوثیوں کے کنٹرول والے یمن کے حودیدہ شہر پر جوابی حملے کئے ۔بتایاجارہا ہے کہ امریکی جنگی جہاز ایف -35 سے یہ حملے کئے گئے ۔اس کے جواب میں حوثیوں نے سعودی عرب کو بڑی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اس نے جہنم کے دروازے کھول دیے ہیں حوثی باغیوں نے حالیہ حملے میں سعودی عرب کی فوجی کاروائی اور اپنی اعلانیہ بحریہ ناکابندی کا جواب بتایا ہے ۔ان کے مطابق سعودی عرب سے جڑے جہازوں کو اس لئے نشانہ بنایاگیا کیوں کہ وہ سعودی بندرگاہوں کے لئے مال ڈھورہے تھے یا حوثیوں کی اعلانیہ ناکابندی کی خلاف ورزی کررہے تھے بتادیں کہ حوثی باغی لمبے عرصہ سے سعودی عرب کو یمن جنگ کا اہم فریق مانتے ہیں ۔ان کا الزام ہے کہ سعودی کے فوجی کاروائیوں سے یمن میں بھاری تباہی ہوئی ہے اس لئے وہ سعودی عرب کے اقتصادی اور فوجی مفادات کو نشانہ بنارہے ہیں ۔لال ساگر بتادیں کہ دنیا کے سب سے اہم ترین سمندری تجارت راہداریوں میں سے ایک ہے ۔تیل ٹینکروں پر حملوں سے نہ صرف سعودی عرب کے ایکسپورٹ پر اثر پڑتا ہےبلکہ عالمی تیل سپلائی اور قیمتوں پر بھی دباؤ بنتا ہے حالیہ حملوں کے بعد کچے تیل کےداموں میں بھی اچھال دیکھا گیا ہے ۔دراصل ، یمن میں سرگرم حوثی باغی خاص طور سے دیش کے اقلیتی شہر حسین الحوثی کے نام پر پڑا ۔حوثی خود کو انصار اللہ یعنی ایشور کے حامی کہتے ہیں ۔سال 2003 میں امریکی رہنمائی میں عراق پر حملے کے بعد حوثی تحریک نے امریکہ اور اسرائیل مخالف رخ کی جانب موڑ دیا ۔تنظیم کے حمایتیوں کے درمیان امریکہ اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے گئے جو آج بھی ان کی پہچان کا حصہ مانے جاتے ہیں حوثی تنظیم خود کو حماس اور حزب اللہ جیسے گروپوں کے ساتھ مل کر ایران حمایتی ایکسس آف رسسٹنس یعنی مذاہمت کا پہیے کا حصہ مانتے ہیں ۔اُدھر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حوثی باغیوں کو خبردار کیا کہ اگر جہازوں پر حملے جاری رہے تو ان کے خلاف بڑی  فوجی کاروائی کی جائے گی ۔حوثی باغیوں کے حملے سے مشرقی وسطیٰ میں ایک نیا مورچہ کھلنے کا امکان بڑھ گیا ہے ۔عالمی اقتصادی نظام کو پہلے ہی جھنجھوڑ کر رکھا ہے ۔اس تازہ لڑائی کے سبب دنیا بھر میں ایندھن سمیت دیگر چیزوں کی قیمتوں میں تیزی سے اُدھال آیا ہے وہیں ، خلیج فارس میں کشیدگی اور گہری ہو گئی ہے کیوں کہ امریکہ اور ایران سیاسی طور سے اہم ترین ہرمز آبی راستے پر دباؤ اور کنٹرول کو لے کر آمنے سامنے ہیں ۔اے پی کے مطابق سبا نیوز نے حوثیوں کے حوالے سے کہا کہ جمعرات کو لال ساگر میں سعودی عرب کے دو جہازوں این سیلیا اور لابھلا پر ڈرون اور میزائل سے حملے کئے گئے جس سے دونوں میں آگ لگ گئی ۔حوثی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے جوسالوں پرانی ناکابندی کر رکھی ہے اس کی مخالفت میں سعودی جہازوں کے لئے ناکابندی کر دی گئی ہے ۔اِدھر دونوں فریقین میں امن مذاکرات میں خبریں بھی آرہی ہیں ۔
(انل نریندر)

25 جولائی 2026

امریکہ -سعودی نیوکلیائی معاہدہ !

ایران امریکہ جنگ کے درمیان خلیج سے ایک ایسی خبر آئی ہے جو نہ صرف مشرقی وسطیٰ کو بلکہ پوری دنیا کو چونکا دے گی ۔جس یورینیم افزودگی کو لے کر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی سرزمین کو کپا رکھا ہے وہیں ایک ڈیل کے تحت سعودی عرب کو دینے والاہے ۔امریکہ نے بدھوار کو اعلان کیا کہ اس نے سعودی عرب کے ساتھ ایک اہم ترین معاہدہ کیا ہے اس معاہدے کے تحت سعودی عرب امریکی اشتراک سے اپنے غیر فوجی نیوکلیائی پروگرام کو ڈولپ کر سکے گا ۔امریکہ کے وزیر کرس رائٹ اور سعودی عرب کے وزیر پرنس عبدالعزیز بن سلما ن نے پر امن مقاصد کے لئے نیوکلیائی اشتراک سے وابستہ معاہدے 123 پر دستخط کئے ہیں ۔اس کے ساتھ ہی دونوں ملکوں کے درمیان نیوکلیائی سیکورٹی اقدامات سے متعلق ایک باہمی معاہدے پر بھی دستخط ہوئے ۔وائٹ ہاؤس نے کہا کہ یہ دونوں معاہدے مل کر کئی دہائیوں تک چلنے والی اور اربوں ڈالر کی ساجھیداری کے لئے قانونی بنیاد تیار کرتے ہیں۔ اس معاہدے کو اب جائزے کے لئے امریکی کانگریس کے پاس بھیجا جائے گا ۔سرکاری اعلان کے بعد امریکہ اور دنیا کے کئی ملکوں میں اس پر الگ الگ رد عمل سامنے آرہا ہے ۔اسرائیل کے اقتصادی وزیر نیر برکات نے کہا کہ اگر سعودی عرب نیوکلیائی گزر بسر کے استعمال اور پر امن مقاصد اور بجلی پروڈکشن تک محدود رکھتا ہے تو ان کے دیش کو اس میں کوئی اعتراض نہیں ہے اگر وہ اس کا استعمال نیوکلیائی ہتھیار بنانے کے لئے کرتا ہے تو اسرائیل اسے کبھی قبول نہیں کرسکتا ۔وہیں اسرائیل کے سابق وزیر دفاع اور وزیرخارجہ لبن مین نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے لکھا کہ سعودی عرب کا غیر فوجی نیوکلیائی پروگرام آخر نیوکلیائی ہتھیار پروگرام میں بدل جائے گا انہوں نے خبردار کیا کہ اس سے پورے مشرقی وسطیٰ میں نیوکلیائی ہتھیاروں کی دوڑ تیز ہوسکتی ہے جسے انہوں نے ایک پاگل پن بھری ہتھیاروں کی دوڑ قرار دیا ۔اس معاہدے کے تحت سعودی عرب میں یورینیم افزودگی کی اجازت مل سکتی ہے اور امریکی کمپنیوں کے لئے اربوں ڈالر کی کمائی ہوسکتی ہے دی وال اسٹریٹ جرنل نے مجوزہ معاہدوں کو اس طرح سے تیار کیا گیا ہے کہ امریکی کمپنیاں سعودی عرب کے ابھرتے ہوئے نیوکلیائی ڈھانچے کے مرکز میں ہے ۔اور غیر ملکی کمپنیاں اس سے باہر ہیں ۔ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ سیدھے امریکی دخل سے سعودی نیوکلیئر پروگرام پر واشنگٹن کا اثر بڑھے گا ۔دلیل ہے کہ امریکہ کی ساجھیداری سے نیوکلیائی ٹیکنالوجی کو فوجی مقاصد کے لئے استعمال ہونے سے روکنے میں بھی مدد ملے گی ۔یہ معاملہ پاکستان کی ٹنشن بھی بڑھانے والا ہے کیوں کہ اب تک مسلم ممالک میں صرف پاکستان ہی ہے جس کے پاس نیوکلیائی ہتھیار ہے اسی کے دم پر پاکستان اسلامی نیٹو بنانے کا خواب بھی دیکھتا ہے ۔سعودی عرب نے بھی اس کے ساتھ ڈیفنس ڈیل اس لئے کی تھی کہ ایسے میں اگر وہ خود ان ہتھیاروں تک پہنچ رکھ سکے گا تو اس کے لئے پاکستان کی اہمیت بھی ختم ہو جائے گی اس ڈیل کی امریکہ کے اندر بھی مخالفت ہو رہی ہے ۔امریکہ میں لوگوں کا کہنا ہے کہ کیا ٹرمپ یہ بھول گئے ہیں 9/11 حملے میں جو 19 آتنکی تھے اس میں سے 15 سعودی عرب سے آئے تھے ۔اب آپ انہیں سے اتنا خطرناک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں ۔اس سے نہ صرف مشرقی وسطیٰ میں ہی نیوکلیائی ہتھیار بنانے کی دوڑ مچے گی بلکہ پوری دنیا میں بھی ایسی کوشش ہوگی۔ ویسے ڈونلڈ ٹرمپ کب اپنی بات سے پلٹ جائیں کہا نہیں جاسکتا۔ ہم نے ایران کے ساتھ امن معاہدے کا حال دیکھا ہے سمجھوتہ ہونے کے بعد دستخط ہونے کے باوجود ٹرمپ ایسی ایسی نئی شرائط جوڑ دیتے ہیں جس سے وہ سمجھوتے کھٹائی میں پڑ جائیں ۔کل کو یہ بھی ممکن ہے کہ اسرائیل کے دباؤ میں وہ ایسی نئی شرط جوڑ دیں جس سے یہ سمجھوتہ کھٹائی میں پڑ جائے ۔
(انل نریندر)

23 جولائی 2026

کیا نیتن یاہو نیویارک میں گرفتار ہوسکتے ہیں؟

بین الاقوامی سیاست اور ڈپلومیسی کے گلیاروں میں اس وقت نیویارک سے اٹھی ایک آواز نے ہلچل مچا دی ہے ۔نیویار ک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میٹنگ میں حصہ لینے کے لئے نیویارک آتے ہیں تو ان کی گرفتاری ممکن ہے ۔لیکن ان کا دفتر اب بھی غور کررہا ہے ۔دی نیویارک ٹائمس کے پوڈکاسٹ انٹرویو میں ممدانی نے کہا کہ ان کا محکمہ قانون نیتن یاہو کی امکانی گرفتاری کے قانونی پہلوؤں پر سرگرم طریقہ سے غور کررہا ہے ممدانی نے اپنی چناؤ مہم کے دوران ایسا کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا ۔ممدانی نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو کی جگہ جیل میں ہے ۔وہ ایک جنگی مجرم ہیں جن پر بین الاقوامی کرائم عدالت (آئی سی سی ) نے الزام لگائے ہیں کہ وزیراعظم نیتن یاہو کی کئی سالوں میں ان کے اقدامات کے سبب جو حالات پیدا ہوئے ہیں ۔اسے دیکھتے ہوئے بہت سے لوگ یہی رائے رکھتے ہیں جب ممدانی سے پوچھا گیا کہ قانون اسے اس معاملے میں ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہے تو انہوں نے جوا ب دیا کہ اس پر ہمارا قانونی محکمہ میں غور وخوض چل رہا ہے لیکن ہم نے قومی سطح پر کئی بار دیکھا ہے کہ کچھ لوگ اپنے حساب سے قانون تھوپنے یا قانونی دائر ےسے باہر جانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ہماری منشا ایسا کرنا نہیں ہے ۔بتادیں کہ بین الاقوامی کرمنل کورٹ نے 2024 میں وزیراعظم بنجامن نتین یاہو اور اسرائیل کے کچھ دیگر لیڈروں کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا تھا ان پر 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد غزہ میں جنگی جرائم کے الزام لگائے گئے ہیں ۔یہ صرف ایک ساسی بیان نہیں بلکہ غزہ میں جاری انسانی ٹریجڈی سے دکھی دنیا کے ایک بڑے حصہ کے ضمیر کی آواز ہے ۔میئر ممدانی کا عزم بین الاقوامی کرمنل عدالت نے بنجامن نتین یاہو کے علاوہ سابق وزیردفاع گیلنٹ کے خلاف بھی گرفتاری وارنٹ جاری کئے ہوئے ہیں ۔ان لیڈروں پر غزہ جنگ کے ایک طریقہ کی شکل میں خطرناک ہتھیار کا استعمال کرنے ،کھاناپانی ،ایندھن اور دوائیوں جیسی ضروری چیزوں کی سپلائی کو ٹھپ کرتے ہوئے روکنے اور شہریوں پر جان بوجھ کر حملے کرنے جیسے سنگین الزامات ہیں ۔ممدانی نے اپنا ارادہ صاف کرتے ہوئے کہا کہ وہ نیویارک شہر کے شعبہ قانون کے ساتھ مسلسل رابطہ میں ہیں تاکہ یہ جانا جاسکے کہ ان کے پاس ایک غیر ملکی لیڈر و ایک سربراہ مملکت کو حراست میں لینے کا کتنا اختیار ہے ؟ انہوںنے کہا کہ نیویارک شہرمیں قانون مجھے جو کچھ بھی کرنے کی اجازت دے گا ، ہم وہی کریں گے ۔حالانکہ کچھ قانونی واقف کاروں کا خیال ہے کہ امریکی آئی سی سی کا ممبر نہیں ہے ۔اس لئے میئر کے لئے ایسا کرنا مشکل ہوسکتا ہے ۔یہ لاف لاء اسکول کے پروفیسر ہیرالڈ ہیگزو کے مطابق اقوام متحدہ ہیڈ کوارٹر کے باہر شہر کی سڑکوں پر چلتے وقت نیتن یاہو کی حالت خراب ہوسکتی ہے ۔اس امکانی قدم پر نیتن یاہو نے سخت رائے زنی کی ہے ۔انہوں نے ممدانی پر جوابی حملہ کرتے ہوئے انہیں حماس کا حمایتی اور خفیہ طور سے امریکہ سے نفرت کرنے والاتک کہہ ڈالا۔نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل امریکی اقدار کے ساتھ کھڑا رہنے والاجمہوری ملک ہے ۔اُدھر ممدانی ان الزاموں کو مسترد کرتے ہیں ۔اس درمیان ممدانی کےبیان پر شوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے ۔کئی لوگوں نے ممدانی کا اسے بڑبولاپن بتایا ہے ۔اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائک والٹ سے نے اس خبر پر پوسٹ کیا میئر ممدانی میں یہ چار وجہ ہیں کہ اقوام متحدہ اسمبلی کے دوران نیویارک میں وزیراعظم نیتن یاہو کو کیوں نہیں گرفتار کیاجاسکتا ۔پہلا امریکہ کا اس معاہدہ کا حمایتی نہیں ہے جس پر بین الاقوامی کرمنل کورٹ کی قانونی نظم پر مبنی ہے ۔دوسرا اقوام متحدہ ہیڈ کوارٹر سمجھوتہ کے مطابق میٹنگوں میں آنے والے غیر ملکی سرکاروں کے سربراہوں کو سیاسی تحفظ فراہم کرتا ہے ۔تیسرا صدر کی قانونی ایمیونٹی بھی ایسے معاملوں میں نافذ ہوتی ہے ۔چوتھا خارجہ پالیسی ایسے معاملوں میں فیڈرل سرکار کا اختیار مقامی انتظامیہ سے بالاتر ہوتا ہے اس لئے نیویار کے میئر کی خواہش یا اعلان سے ایسا کوئی بھی قدم نہیں اٹھایاجاسکتا ہے ۔
(انل نریندر)

21 جولائی 2026

ہرمز ایران کا ٹرمپ کارڈ

ایران نے ہرمز اسٹریٹ بند کر امریکہ کے سبھی حکمت عملی حساب کتاب اور عالمی مارکیٹ کو ہلادیا ہے ۔یہ ایران کا ایسا ترپ کا پتا ہے جس نے ٹرمپ کو چاروں کھانے چت کر دیا ہے۔ ایران نے بغیر کوئی بڑا نیوکلیئر قدم اٹھائے صرف ایک ہی سمندری راستے کی چابی اپنے ہاتھ میں لے کر امریکہ کی پوری جنگ کی حکمت عملی کوبدل دیا ہے ۔اب امریکہ ایران کے درمیان جنگ کا سب سے بڑا اشو ہرمز کو کھولنے ، کھلوانے کا بن گیا ہے ۔یاد رہے کہ 28 فروری سے پہلے یہ ہرمز کبھی بند نہیں ہوا تھا۔ یہ خیال تو ایران کو تب آیا جب امریکہ نے 28 فروری کو اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملے کئے ۔ایران نے ہرمز کو تالالگا کر امریکہ کے سامنے یہ صاف کر دیا ہے کہ اگر بات چیت کرنی ہے تو شرطیں ایران کی ہوں گی ۔ہرمز کا بند ہونا نہ صرف مشرق وسطیٰ میں ہی اثر ڈال رہا ہے لیکن اس کا اثر امریکہ میں بھی سیدھا پڑرہا ہے ۔میں بات کررہاہوں امریکہ میں ہونے والے مڈ ٹرم چناؤ جن میں ٹرمپ کی سیاسی قسمت بہت حد تک ٹکی ہوئی ہے۔ایران نے ٹھیک اسی وقت ہرمز پر دباؤ بنایا ہے جب امریکی ڈپلومیٹک سب سے کمزور موڑ پر ہے ۔ایرا ن سے جنگ امریکی ڈپلومیسی کے لئے ایک بڑا مس کیلکولیشن ثابت ہوا ہے ۔سیز فائر ختم ہونے کے بعد سے ہی امریکہ ایران پر میزائلیں داغ رہا ہے ۔اور ایران جوابی حملے کررہا ہے لیکن ایران نے پھر امریکہ کو جھکانے کے لئے اپنے برہماستر کا استعمال کیا ہے اور بارودی دھماکوں کے بیچ ایرا ن نے ایک بار پھر ہرمز کو بند کر دیا ہے ۔یہ ایسے وقت ہوا ہے جب امریکہ میں وسط مدتی چناؤ سر پر ہیں اور امریکہ کی عوام سے پیٹرول کے دام گرنے کا دعویٰ کررہے تھے ۔ایران نے ٹھیک اسی وقت امریکی معیشت کی سب سے کمزور نس مانی کچے تیل کی سپلائی پر پیر رکھ دیا ہے ۔امریکہ -ایران کے درمیان حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں 30 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے ہرمز اسٹریٹ میں کشیدگی بڑھنے اور کچے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کی وجہ سے نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی چناؤ پر اس کا سیدھا اثر پڑنے والاہے ۔والٹ اینڈ ووٹ سبھی تجزیے امریکی سیاست کا کڑا سچ ہیں ۔کیوں کہ امریکی سیاست میں ایک پرانی کہاوت ہے کہ راشٹر پتی چاہے کوئی بھی وعدہ کریں لیکن ووٹر اپنا فیصلہ پیٹرول پمپ پر تیل کی قیمتوں کو دیکھ کر ہی طے کر تا ہے ۔اس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کی مخالف پارٹی رپبلکن پارٹی پر بھاری سیاسی دباؤ بڑھے گا ۔صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد پیٹرول کے دام 2.5ڈالر فی گیلن تک لانے کا وعدہ کیا ہے ۔لیکن ہرمز کرائسس کے سبب کچے تیل کی قیمتیں 80 ڈال سے 100 ڈالر فی بیرل کو پار چلی گئی ہیں ۔جس سے پیٹرول کے دام گھٹنے کے بجائے بڑھ رہے ہیں ۔پیٹرول مہنگا ہونے کا مطلب کہ عام امریکی خاندان کے بجٹ پر سیدھا دباؤ پڑے گا ۔امریکی عوام کی جیب پر سیدھی مار ہوگی اس سے امریکہ میں مہنگائی بڑھے گی ، ٹرانسپوٹیشن ڈھلائی بڑھنے سے سپر مارکیٹ کے سامان کو لے کر ہوائی ٹکٹ تک سب مہنگاہو جائے گا ۔تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی چناؤ سے ٹھیک پہلے امریکہ میں ایندھن کے دام بڑھے ہیں تو حکمراں پارٹی کو چناؤ میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔جیسے 1980 میں جمی کارٹر کے ساتھ ہوا تھا ۔ہرمز بند ہوتے ہی عالمی مارکیٹ میں کچے تیل کے دام تیزی سے بڑھنے لگے ہیں ۔انٹرنیشنل بنچ مارک بریٹ کروڈ 3.92 فیصد سے بڑھ کر 78.99 فی بیرل ہو گیا ہے اور امریکی کچا تیل 3.44فیصد سے برھ کر 77.87ڈالر فی بیرل ہو گیا ہے ۔اگر ہرمز لمبے عرصہ تک یونہی بند رہتا ہے تو اس کا اثر امریکہ پر ہی نہیں بلکہ پوری دنیا پر پڑے گا اور ایسا ہونے سے روکنے کی چابی صرف ایران کے ہاتھ میں ہے ۔
(انل نریندر)

18 جولائی 2026

ٹرمپ : مجتبیٰ خامنہ ای 90 فیصدی ختم ؟

ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے والد کی آخری رسوم میں بھی نہیں نظر آئے تھے ۔اور تب سے ہی ان کی صحت کو لے کر کئی طرح کی قیاس آرائیاں جاری ہیں ۔اس درمیان امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز سے بات چیت میں کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای مارے جاچکے ہیں ۔اورا ن کے بیٹے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای بھی 90 فیصدی ختم ہو چکے ہیں ۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کے پاس اب کوئی بحری فوج نہیں بچی ہے ۔ان کی ایئر فورس بھی نہیں بچی ہے ۔سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ ان کا ایئر ڈیفنس سسٹم بھی تباہ ہو چکا ہے ۔ان کے سبھی لیڈر مارےجاچکے ہیں ۔ان کے سب سے بہترین لیڈر مارے جاچکے ہیں ۔ا س سے پہلے مجتبیٰ خامنہ ای کے نام سے سنیچر کو جاری ایک تحریری بیان میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کا بدلالینے کی کھائی قسم بیان میں کہا گیا تھا کہ ہمیں اپنے پاک خون اور ان دونوں جنگوں میں شہید ہوئے سبھی لوگوں کے خون کا بدلہ لینے کی قسم کھاتے ہیں ۔دنیا بھر میں ایسے لوگ موجود ہیں جو بدلہ لینے کو تیارہیں ۔اسی سال 23 اپریل کو امریکی اخبار نیویارک ٹائمس نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں بتایاگیا تھا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای امریکہ اسرائیل کے اس حملے میں شدید طور پر زخمی ہو گئے تھے جس میںان کے والد علی خامنہ ای کی موت ہو گئی تھی ۔حالانکہ وہ ذہنی طور سے پوری طرح سرگرم ہیں ۔اخبار نے حکام کے حوالے سے کہا کہ ان کے ایک پیر کا تین بار آپریشن کیا گیا ہے اور اب انہیں آرٹیفیشل پیر لگائے جانے کا انتظار ہے ۔ان کے ایک ہاتھ کی بھی سرجری ہوئی ہے اور اس کی کام صلاحیت آہستہ آہستہ لوٹ رہی ہے ان کے چہرے ہونٹ پوری طرح جھلس گئے ہیں جس سے انہیں بولنے میں دشواری ہوتی ہے ۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آخر کار انہیں پلاسٹک سرجری کی بھی ضرورت ہوگی بتادیں اسی سال 28فروری کو امریکی ،اسرائیل ہوائی حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کےبعد مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر بنایاگیا تھا ۔تقرری کے بعد سے ہی وہ پبلک میں سامنے نہیں آئے انہوں نے کوئی ویڈیو پیغام بھی جاری نہیں کیا ہے ۔اس سب کو لے کر سوال اٹھے ہیں کہ اسی حملے میں وہ کتنے زخمی ہوئے تھے ؟ آیت اللہ علی خامنہ ای کے دیگر تین بیٹے مسعود ،مصطفیٰ اور میسم اتوار کو منعقدہ تعزیتی مجلس میں شامل ہوئے تھے ان کے ساتھ صدر مسعود پزیشکیان اور ریبولوشنری گارڈس کے چیف احمد وحیدی سمیت کئی سینئر افسر بھی موجود تھے ۔جون میں جاری ایک بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا تھا کہ اصولی طور سے وہ امریکہ کے ساتھ ڈیل کے حق میں نہیں تھے لیکن صدر مسعود پزشکیان کی یقین دہانیوں کے بعد ہی انہوں نے اس کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ۔کویتی اخبار الجریدہ نے مارچ 2026 میں ایک رپورٹ شائع کی تھی اس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو شروعات میں علاج کے لئے ماسکولے جایا گیا تھا اس کے بعد مجتبیٰ کی صحت کو لے کرکوئی خبرنہیں آئی ۔اس وقت ماسکوخود غیر محفوظ ہے ۔وہاں لگاتار یوکرین حملے ہورہے ہیں ۔ اس لئے اس وقت چین کو مجتبیٰ کے لئے محفوظ ماناجاتا ہے ۔ایرانی عوام چاہتی ہے کہ جلد آیت اللہ مجتبیٰ عوام کے سامنے آئیں تاکہ دنیا دیکھے کہ وہ ٹھیک ہیں اورمحفوظ ہیں ۔
(انل نریندر)

16 جولائی 2026

آنکھ کے بدلے آنکھ !

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آنکھ کے بدلے آنکھ نام سے ایک فوجی آپریشن شروع کرتے ہوئے خلیجی خطہ میں موجود اڈوں پر میزائل حملے کئے ہیں ۔ایران کا کہنا ہے کہ اس نے یہ کاروائی حالیہ امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے ۔اس دعوے کے بعد پورے خطہ میں جنگ تیز ہو گئی ہے ۔امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصہ سے معاملہ چلاآرہا ہے اور کشیدگی اب ایک بار پھر کھلی جنگ کی شکل لے چکی ہے ۔یہ لڑائی اب صرف محدود علاقوں تک ہی نہیں رہی بلکہ پورے مشرقی وسطیٰ میں ، عالمی تیل مارکیٹ اور بین الاقوامی تجارت تک پھیل چکی ہے ۔یہ کہنا غلط نہیں ہوگاکہ اب یہ جنگ بڑھتی جارہی ہے اور خوفناک رخ اختیار کر سکتی ہے ۔ایران کے سرکار ی میڈیا کے مطابق اس آپریشن کے تحت خلیجی خطہ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایاگیا ہے ۔ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کا مقصد ان اڈوں پر کاروائی کرنا تھا جہاں سے اس کے خلاف فوجی کاروائی کی گئی تھی ۔ایرا ن نے اس فوجی کاروائی کو آنکھ کے بدلے آنکھ ’’آئی فار این آئی ‘‘ کا نام دیاہے۔ اس نام کا سیدھا پیغام ہے کہ وہ اپنے خلاف ہوئی ہر فوجی کاروائی کا جواب دے گا ۔ایران طویل عرصہ سے کہتاآرہا ہے کہ اگر اس کے دیش کی سلامتی یا اس کے فوجی اڈوں پر حملہ ہوگا تو وہ جوابی کاروائی کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا اسی پالیسی کے تحت اس نے پہلے بھی کئی بار جوابی کاروائی کا اعلان کیا ہے ایران کی آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آئی فار این آئی آپریشن کے تحت یردن ،بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے ۔پہلے مرحلے میں یردن کے پرنس حسن ایئربیس پر میزائل اور ڈرون سے حملے کئے گئے ہیں دوسرے مرحلے میں بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئربیس پر حملہ کر ہیلی کاپٹر اور ڈرون سہولیات کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔تیسرے مرحلے میں کویت کے علی السلیم ایئر بیس اور احمد الزبر ایئر بیس پر حملے کا دعویٰ گیا ہے ۔ایران نے کہا کہ یہ کاروائی امریکی فوجی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے ۔خلیجی خطہ دنیا کو ایندھن سپلائی کا سب سے اہم مرکز ماناجاتا ہے ۔یہیں سے دنیا کے بڑے حصے میں کچے تیل اورنیچرل گیس کی سپلائی ہوتی ہے ۔اگر امریکہ ایران کے بیچ جنگ اور تیز ی پکڑتی ہے تو اس کا سیدھا اثر ہرمز اسٹریٹ پر پڑے گا بلکہ پڑنا بھی شروع ہو گیا ہے ۔امریکہ کے لگاتار حملوں کے جوا ب میں ایران نے ہرمز بند کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے ۔اس کا سیدھا اثر بین الاقوامی بازار میں قیمتوں اور شپنگ لاگت اور عالمی سپلائی چین پر پڑے گا۔ بھارت جیسے دیش جو اپنی تیل ضرورتوں کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے پورا کرتا ہے ۔وہ بھی اس سے متاثر ہو سکتا ہے ۔یہ پہلی بار نہیں جب ایران نے بدلے کے لئے فوجی کاروائی کا وعدہ پورا کر نے کی کوشش کی ہے ۔جنوری 2020 میں جنرل قاسم سلیمانی کی موت کے بعد ایران نے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل داغی تھیں ۔اپریل 2024 میں دمشق میں قائم ایرانی سفارت خانہ پر حملے کے بعد بھی ایرا ن نے پہلی بار سیدھے اپنی زمین سے اسرائیل پر ڈرون اور میزائل حملے کئے تھے اس سے صاف ہے کہ ایران اپنی سیکورٹی پالیسی میں جوابی کاروائی کو اہم ترین حکمت عملی مانتا ہے ۔
(انل نریندر)

14 جولائی 2026

ٹرمپ کے قتل کی سازش!

اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ ایسی نئی معلومات دینے کا دعویٰ کیا ہے ، جس میں ایران پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قتل کی سازش تیار کرنے کا الزام لگایا ہے ۔امریکی میڈیا میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے ٹرمپ اس پر بھڑک گئے اور اپنا آپا کھو بیٹھے ہیں ۔امریکہ کے مشہور اخبار دی وال اسٹریٹ جنرل میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس کے مطابق ،اسرائیل نے امریکہ کو بتایاہے کہ اس کے پاس خفیہ رپورٹ ہے اور خفیہ جانکاری ہے جس کے مطابق تہران ٹرمپ کے قتل کی نئی پلاننگ بنا رہا ہے ۔موساد نے یہ انٹیل شیئر کی ہے اور ٹرمپ سے کہا ہے کہ ایران کے ٹارگیٹ نمبر 1 پر ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوا نیٹو کی سمٹ کے بعد ٹرمپ نے ڈر کر اپنا ایئرفورس وین بدل ڈالی اور امریکہ سے پرانا ایئر فورس 1 جہاز منگوایا اور اس میں واپس امریکہ پہنچے ۔اِدھر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر ایران ان کے قتل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو انہوں نے پہلے ہی ایک حکم دے رکھا ہے کہ اگر ایران امریکہ پر حملہ کرتا ہے جیسا دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا ایسا جواب دیاجائے گا ۔ٹرمپ نے کہا کہ 1000 میزائلیں ایران کو اپنے نشانہ پر لیے ہوئے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران ان کا قتل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو انہوں نے پہلے ہی ایک حکم دے رکھا ہے ۔نیویارک پوسٹ میں دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اس حکم کے مطابق ایران پر اتنا بڑا جوابی حملہ کریں جیسا دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا ۔سوال اٹھتا ہے کہ کیا ٹرمپ ایسا کوئی حکم دے بھی سکتے ہیں یا پھر تاریخ میں کسی لیڈر نے ایسا حکم دیا تھا۔امریکی آئین کے تحت کوئی بھی صدر ایسا حکم نہیں چھوڑ سکتا کہ اس کی موت کے بعد اپنے آپ کسی دیش پر حملہ کر دیاجائے ۔کسی بڑی فوجی کاروائی کا فیصلہ اس وقت جو صدر ہوتا ہے وہی تب فیصلہ کرے گا کیوں کہ کمانڈر ان چیف کے حکم پر ہی امریکی فوج ایسا کچھ کرسکتی ہے ۔ٹرمپ کا یہ بیان صرف ایران کے لئے نہیں ،بلکہ امریکی عوام کے لئے بھی ایک سیاسی پیغام ماناجارہا ہے ایک طرف وہ اپنے حمایتیوں کے سامنے یہ ایمیج بنانا چاہتے ہیں کہ وہ نڈر ہیں اور وہ سخت لیڈر ہیں جو کسی بھی دھمکی کے آگے نہیں جھکیں گے ۔دوسری طرف ایران کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اگر اس کے خلاف کوئی کاروائی ہوئی تو جواب پورے دیش کو ملے گا۔ سبھی جانتے ہیں کہ اسرائیل امریکہ ایران کے درمیان امن مذاکرات سے پریشان ہے اور اسے ہر حالت میں توڑنا چاہتا ہے۔ وہ ٹرمپ کتنے بہادر ہیں یہ بھی جانتا ہے اس سے بہتر کیا ہوسکت ہے کہ یہ خبر چلا دو کہ آپ ایران کے ٹارگیٹ نمبر 1 ہیں اس سے ٹرمپ ایران پر مجبوراً حملہ کر دیں گے اورا یک بار پھر جنگ شروع ہو جائے گی ۔ہوا بھی یہی امریکہ نے ایران پر تابڑ توڑ حملے کر دئیے اور ایران نے بھی زبردست جوابی کاروائی شروع کر دی ہے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کو جنگ کی آگ میں دھکیل دیا گیا ہے۔ ویسے ہم ٹرمپ اور نتین یاہو سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ جب آپ نے 28 فروری کو آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے تقریباً پورے خاندان کو نشانہ بنایا تھا جس میں ان کی 14 ماہ کی معصوم بچی بھی شامل تھی 40 سے زائد بڑے ملیٹری کمانڈروں کو بھی نشانہ بنایاگیا تھا تب آپ کو یہ خیال نہیں آیا تھا کہ ایران بھی ایسا کرسکتا ہے۔ اور اپنے سپریم لیڈر کے قتل کا بدلہ لے سکتا ہے ؟ اب جب اپنے اوپر پڑی تو آپ کو نانی یاد آگئی ۔ویسے بھی اسرائیل کے وزیر نے کھلے عام ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو قتل کرنے کی کھلی دھمکی دی تھی ۔شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسوم میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ کس طرح کروڑوں لوگوں نے اپنے رہبر کے قتل کا بدلہ لینے کی قسم کھائی تھی ۔ایران آپ سے بدلہ لے سکتا ہے اور لے بھی رہا ہے لیکن اس طرح نہیں جیسے نیتن یاہو اور موساد آپ کو بے وقوف بنا کر اپنے مفاد کی تکمیل کررہا ہے ۔
(انل نریندر)

11 جولائی 2026

20 دن بھی نہیں ٹک پائی جنگ بندی


امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر بنی رضامندی بنے ہوئے 20 دن بھی نہیں ہوئے کہ دونوںدیش پھر سے آمنے سامنے آگئے ہیں ،بلکہ امریکی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا کہ میرے حساب سے اب جنگ بندی ختم ہو چکی ہے ۔دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر تباہ کن حملے شروع کر دئیے ہیں ۔یہ جنگ بندی بے اعتمادی کے ساتھ ہوئی تھی کہ دونوں ہی فریق ایک دوسرے پر بھروسہ نہیںکرتے تھے ۔امریکہ یہ جنگ بندی اس لئے چاہتا تھا کہ ٹرمپ امریکی عوام کے دباؤ کو جھیلنے میں مشکل کا سامنا کررہے تھے ۔اور وہ کسی بھی حالت میں اس جنگ کو روکنا چاہتے تھے ۔ چاہتے تو وہ یہ بھی تھے کہ کسی بااعتماد طریقہ سے وہ اس سے باہر نکلیں دوسری جانب ایران اس لئے تیار ہوا کہ اس نے سوچا کہ 20 دن کی جنگ میں جو نقصان ہوا ہے اس کی بھرپائی کر سکے اور اتنا ہی دباؤ امریکہ پر بنا سکے کہ وہ اس کی شرائط پر سمجھوتہ کر لے ۔حالانکہ وہ جانتا تھا کہ ٹرمپ جنگ بندی کی شرطوں پر ٹک نہیں سکیں گے لیکن پھر بھی اس نے جوا کھیلا ۔ امریکہ اور ایران کے درمیان پھر سے جنگ چھڑ گئی ہے ۔ٹرمپ شاید اب اس نتیجہ پر پہنچ گئے ہیں کہ یہ جنگ اب ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ سکتی ہے اب وہ باامید ہوگئے ہیں اور ٹرمپ نے لمبے عرصہ کے بعد پھر سے حملے شروع کر دئیے ہیں ۔ٹرمپ کے اعلان کے بعدا مریکی فوج نے ایران پر حملے شروع کئے ہیں فوج نے خود بیان جاری کر اس کی اطلاع دی ہے ایران کے الگ الگ علاقوں میں حملے کئے جارہے ہیں ۔اب جنگ موسیٰ آئیکلینڈ ، بندرعباس جیسے ایرانی اہم ترین ٹھکانوں پر امریکہ دھماکے کررہا ہے۔ چابہار میں بھی حملے ہوئے ہیں جس کے بعد اب یہاں بجلی سپلائی ٹھپ ہو گئی ہے ۔امریکہ کا کہنا ہے اسٹریٹ آف ہرمز میں ہوئے جہازوں پر حملے کا یہ بدلاہے ۔امریکہ سینٹرل کمان نے ہرمز اسٹریٹ آبی راستے میں آمد ورفت کو خطرے میں ڈالنے کو ایران کی صلاحیت اور کمزور کرنے کے لئے اس کے خلاف مزید حملے شروع کر دیے ہیں اب امریکہ اہم ترین بین الاقوامی آبی راستے پر آزادانہ طور پر آجارہے جہازوں اور شہری ٹیم کے خلاف حال ہی میں کئے گئےحملے کے لئے ایران کو جوابدہ ٹھہرا رہا ہے ۔جواب میں ایران نے بحرین اور کویت میں 85 جگہ میزائل اور ڈرون داغے ہیں ۔زیادہ تر حملے بحرین اور کویت میں امریکی بیس پرہوئے ۔ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا کہ دھوکہ دینا امریکہ کی فطرت میں شامل ہے ۔لیکن ایران اپنا حق لے کر رہے گا ۔امریکہ کے حملوں کے بعد ایرانی صد ر اس افراتفری کے دوران عراق کے کربلا سے تحران لوٹ گئے ہیں اس درمیان دیر رات ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اگر حملہ کرتا ہے تو ہرمز کو پوری طرح سے بند کردیاجائے گا اس درمیان امریکہ نے ایران پر ایک بار پھر کچے تیل برآمدات پر روک لگا دی ہے ۔امریکہ نے معاہدے کے تحت ایران کو تیل بیچنے کی چھوٹ دی تھی ۔2019 کے بعد پہلی بار ایران کے ڈالر کے بدلے تیل بیچنے کی منظوری ملی تھی ۔ترکیہ میں ناٹو سمٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی لوگ بیمار ذہنیت کے لوگ ہیں ان کے ساتھ آگے بات چیت کرنا وقت کی بربادی ہے ۔میں نے امن لانے کی کوشش کی لیکن اب جلد ہی قہر ٹوٹے گا۔ ٹرمپ کے بیان کے فوراً بعد بدھوار کی صبح ایران کے اہم بندرگاہ عباس سمیت 80 ٹھکانوں پر تابڑتوڑ ہوائی حملے کئے گئے ۔ایران کے 8 فوجی مارے گئے ہیں جبکہ 60 بجلی گھر ت باہ ہو گئے ہیں ۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد بقر غالیباف نے ان حملوں پر رائے زنی کرتے ہوئے لکھا کہ امریکہ نے اب تک یہ نہیں سیکھا ہے کہ دھمکانے اور خود وعدے توڑنے کی قیمت اب اسے چکانی پڑے گی۔ میں صاف الفاظ میں کہتا ہوں کہ اگر آپ حملے کریں گے تو جوابی حملے بھی ہوں گے ۔یہ سنانے کے پیچھے کئی وجوہات ہیں جیسے ایران اسٹریٹ آف ہرمز پر زیادہ بالادستی جمانے کی کوشش کررہا ہے ویسے ہی امریکی صدر بھی دنیا اور اپنے دیش واسیوں کو یہ دکھانے کے لئے بے چین ہے کہ وہ ایران کو اپنی شرطوں پر جھکنے پر مجبور کرسکتے ہیں ۔اب یہ جنگ لمبی کھچنے کا پورا امکان ہے ۔شاید اسرائیل بھی یہی چاہتا ہے کہ جنگ بندی ٹوٹے اور ایک بار پھر ایران پر مکمل حملہ ہو ۔
(انل نریندر)

09 جولائی 2026

ٹرمپ کا طنز: آنسو نقلی ہیں

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ ایران میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتم سنسکار میں رو رہے تھے ۔ایکسیونس کا دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں لگا تھا کہ ایران کی عوام خامنہ ای سے نفرت کرتی ہے ۔ اس پر انہوں نے یہ بھی تبصرہ کیا کہ شاید یہ آنسو نقلی ہوں ۔جنازے میں ایران کے اعلیٰ قیادت کے موجود ہونے کے سوال پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکہ چاہے تو ایک ہی حملے میں ایران کے موجودہ قیادت کو ختم کر سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ سبھی وہاں موجود ہیں ۔ایک ہی حملے میں سبھی کو ختم کر سکتے ہیں ، لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے کیوں کہ پھر ہمارے پاس بات چیت کرنے کے لئے کوئی نہیں بچے گا ۔ایران نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ خامنہ ای کی موت کے بعد چھائے گہرے شوک کو سمجھ نہیں پائے گا ، کیوں کہ نہ تو اس کی کوئی تہذیب ہے ، نہ ہی تاریخ اور نہ ہی سمان ۔ادھر ،ٹرمپ کے بیان پر سخت رد عمل دیتے ہوئے ارمونیا میں قائم ایرانی قونصل خانہ نے سوشل میڈیا پر کہا ، لوگوں کو مارا جاسکتا ہے پر نظریات کو نہیں ۔ آپ نے آیت اللہ علی خامنہ ای کو مارڈالاپر اصل میں اپنے عطر کی ایک ایسی شیشی توڑ دی جس کی خوشبو ہر جگہ پھیل گئی ہے ۔بتادیں کہ ایران میں 36 سال تک حکومت میں رہے خامنہ ای کی 28 فروری کو امریکہ اسرائیلی حملے میں موت ہو گئی تھی ۔97 سال کے شیعہ مذہبی پیشوا آیت اللہ جعفر سومانی نے تہران کی گرینڈ مسلح میں آیت اللہ علی خامنہ ای ، و ان کے پریوار کے متوفی افراد کے لئے دعا کرائی ۔ یہاں آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مسعود ، میسام و مصطفیٰ بھی موجود تھے ۔ انہیں جنگ شروع ہونے کے بعد سے نہیں دیکھا گیا تھا ۔موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہیں دیکھے گئے ۔ ریوشنری گارڈ کے چیف جنرل احمد وحیدی بھی جنگ کے بعد پہلی بار دکھے ۔صدر مسعود پزیشکیان ، سنسد کے اسپیکر محمد باگھیر غالیباف و قدس بلوں کی قیادت کرنے والے اسماعیل تھانی بھی موجود تھے ۔ گرینڈ مسلح میں لگے پوسٹر وں و دیواروں پر لکھے پیغامات میں ٹرمپ و اسرائیل وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کو مارنے کی مانگ کی گئی ۔کوی رسولی نے دعا سے قبل پروگرام کو چلایا اور امریکہ اسرائیل مراد آباد کے نعرے لگائے ۔اُدھر ،ایران کے سینئر آرمی افسر علی شادمانی نے امریکہ اور اسرائیل کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کاروائی کا اس کی مسلح افواج سخت جواب دیں گی ۔ ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے بھی دہرایا کہ دیش کی عوام یا قیادت کسی بھی خطرے کا فوری اور مضبوط جواب دیاجائے گا ۔یہ بیان اسرائیل کے وزیر دفاع کی ایرانی سپریم لیڈر کو مارنے کی دھمکی سے جڑے تبصرے کے بعد آیا ۔بتادیں کہ شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخر ی رسوم میں ان کے آخری دیدار کرنے کروڑوں لوگ سڑکوں پر اترے ۔ ایسی انتم یاترا دنیا میں پہلے کہیں بھی نہیں دیکھی گئی ۔انتم سنسکار میں بھارت سمیت 70 سے زیادہ دیشوں کے نمائندگان شامل ہوئے ۔وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ 70 سے زائد دیشوں کے نمائندگان سپریم لیڈر گریٹ آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتم سنسکار میں شامل ہوئے ۔ان میں ہمارے وفادار عرب بھائی بھی شامل ہیں ۔
(انل نریندر)

07 جولائی 2026

خامنہ ای کی آخر ی رسوم کی رسمیں شروع

گزشتہ 28 فروری کو امریکی ،اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسوم 4 ماہ بعد جولائی سے تہران میں شروع ہو گئی ہیں ۔ایرانی حکام اسے صدی کی آخری رسوم بتارہے ہیں ۔ان کے مطابق 1.2کروڑ سے زائد لوگوں کی شرکت کی امید ہے۔ ان تیاریوں کی رہنمائی تہران میں واقع محمد رسول اللہ کور کررہا ہے ۔یہ اسلامی ریولیوشنری گارڈ کی اہم یونٹ ہے ۔قریب 800 غیر ملکی صحافی اس پروگرام کی کوریج کے لئے تہران میں موجود ہیں ۔آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسوم کئی دنوں تک چلنے والی الوداعی آخری رسوم کی رسمیں جمع کو شروع ہو گئیں ۔تہران میں جگہ جگہ بینر لگائے گئے ہیں جس میں لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس تباہ کن جنگ کے بعد اسلامی رپبلک کی حمایت میں متحد ہوں ۔ان کے جنازے کو ایرانی شہروں اور پڑوسی دیش عرا ق لے جایا جائے گا ۔خامنہ ای اور ان کے کنبہ کے افراد کے تابوت ایرانی جھنڈے میں لپیٹ کر تہران کی گرینڈ مسلح مسجد میں رکھے گئے ہیں ۔متوفین میں ان کے داماد ، ان کی سب سے بڑی بیٹی شیر ایک چھوٹا تابوت ان کی 14 ماہ کی پوتی کا ہے جسے دیکھ کر سبھی دل دہل گیا ۔تابوت میں آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی بیوی بھی شامل ہے۔ پروگرام میں شامل ہونے کے لئے تقریباً 50 ملکوں کے نمائندہ وفد تہران پہنچا ہے ۔بھارت اور سعودی عرب کا نمائندہ وفد بھی ان میں شامل ہے۔ اس درمیا ن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان سامنے آیا ہے ۔انہوں نے ایران پر تلخ طنز کسا ہے تو وہیں دوسری طرف ایرانی عوام نے امریکہ مرد ہ آباد کے نعرے لگائے اور خامنہ ای کے قاتلوں سے بدلہ لینے کی قسمیں کھائی گئیں ۔ٹرمپ نے تہران پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہاں امریکہ نے ایران کو آخری رسوم کے لئے ایک ہفتہ کا وقت اس لئے دیا کیوں کہ واشنگٹن اچھا دیش ہے ۔انہون نے امریکی انتظامیہ کی کاروائی کو صحیح ٹھہراتے ہوئے کہا جنگ میں ایران کی بری طرح ہار ہو ئی ہے ۔ایرانی حکام نے آخری رسوم کا نعرہ ’دی مسٹ رائز‘ رکھا ہے ۔جس کے ساتھ مٹھی نیچے ہوئے ہاتھ کی علامت جوڑا گیا ہے ۔حسن زادے نے کہا کہ خامنہ ای کا تابوت ایک اونچے اسٹیج پر رکھا گیا ہے ۔بھیڑ کا انتظام اس طرح سے کیا گیا ہے کہ لوگ 15 سے 20 منٹ کے اندر جاکر باہر نکل سکیں ۔بدھوار کو خامنہ ای کا جسد خاکی نجف لے جایا جائے گا ۔وہاں شیعہ اسلام کے پہلے امام علی کی درگاہ سے جلوس کا انعقاد کیاجائے گا اس کے بعد خراج عقیدت تقریب کربلا میں جاری رہے گی ، پھر جسد خاکی کو واپس ایران لایاجائے گا ۔ایک بڑا سوال یہ ہے کہ جنازے کی نما ز کون پڑھائے گا ؟ شیعہ روایت میں یہ ذمہ داری مذہبی اور سیاسی نکتہ نظر سے اہم ترین مانی جاتی ہے ۔ایران کے سپریم لیڈر بننے کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای جو کہ اب ایران کے سپریم لیڈر ہیں کو ابھی تک پبلک میں نہیں دیکھا گیا ہے ۔ابھی تک یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اپنے والد کی آخری رسوم میں شامل ہوں گے یا نہیں ؟ امریکہ اسرائیل جنگ کے درمیان یہ ایک اپنی طرح کی انوکھی آخری رسوم ہے ۔ایرانی خفیہ ایجنسیوں نے مجتبیٰ سے آخری رسوم میں شامل ہونے سے منع کیا ہے ۔کیوں کہ اسرائیل کے ایک وزیر نے کھلے عام دھمکی دی ہے کہ مجتبیٰ کو ہم مار کر رہیں گے۔ حالانکہ مجتبیٰ خامنہ ای ڈرنے والوں میں سے نہیں ہیں ۔یہ بھی ممکن ہے کہ اتنے دن چلنے والی اس آخری رسوم میں کہیں نہ کہیں بغیر شور مچائے مجتبیٰ اپنے والد کو خراج عقیدت پیش کرنے پہنچ جائیں ۔حالانکہ بھارت میں ایران کے سرکاری نمائندہ آیت اللہ حکیم الہی نے بتایا کہ مجتبیٰ خود حمایتیوں اور ملک کی عوام کے بیچ جانے کے لئے بے حد خواہشمند ہیں ۔لیکن ایران کی ٹاپ خفیہ اور سیکورٹی ایجنسیوں نے اس پر ویٹو لگا دیا ہے ۔موجودہ حالات میں مجتبیٰ کا پبلک کے سامنے آنا کسی بڑے خطرے سے خالی نہیں ماناجاسکتا ہے ۔دراصل اس وقت ایران اور اسرائیل کے درمیان دشمنی اپنی انتہا پر ہے اور خفیہ جو جانکاری ہے کہ اس بڑی بھیڑ کا فائدہ اٹھا کر دشمن دیش ایران کے بیچ نئے سینئرلیڈر شپ کو نشانہ بنا سکتا ہے ۔اسی خطرے کے ماحول کی وجہ سے مجتبیٰ خامنہ ای کو نظروں سے دور رکھنے کی حکمت عملی اپنائی جارہی ہے ۔
(انل نریندر)

04 جولائی 2026

کہاں ہے ایران کی 100 ارب ڈالر کی پراپرٹی ؟

بیرونی ممالک میں ایران کی کل ضبط ، پابندی شدہ پراپرٹی کا اندازہ تقریباً 100 ارب ڈالر ہے اس نے منجمد کھاتوں میں تیل سے ہونے والی کمائی، غیر ملکی کرنسی ذخیرہ ،بینکنگ پراپرٹی و دیگر دعوے شامل ہیں ۔پہلی بار وسیع پیمانہ پر اثاثہ تب فریز کئے گئے جب ایران میں اسلامک انقلاب آیا اور امریکی سفارتخانہ میںیرغمال بحران کھڑا ہوا ۔14 نومبر 1979 کو ایرانی انقلابیوں نے فوراً تہران میں امریکی سفارتخانہ پر قبضہ کرنے کے بعد اس وقت کے صدر جلی کوٹر نے امریکی دائرہ اختیار میں موجود ایرانی سرکار کے اثاثہ کو بلاک کر دیا ۔1980 میں ایران سرکار نقد ، سونا اور دیگر املاک شامل تھیں جن میں سے زیادہ تر پراپرٹی 198.1 الجیریس سمجھوتہ کے تحت جاری کی گئی تھی جس سے یرغمالی کا بحران ختم ہوا تھا ۔تقریبا 4 ماہ کی جنگ کے بعدا مریکہ ایران امن سمجھوتہ کی شکل میں لائن پر متفق ہوئے اور اس کے باوجود ایران کی ضبط پراپرٹیوں پر رکاوٹ بنی ہوئی ہے ۔ایک طرف ایران نے 14 نکاتی سمجھوتہ کے حوالہ سے رپورٹ دی ہے کہ امریکہ بات چیت شروع ہونے سے پہلے ضبط اثاثے جاری کرنے پر متفق ہولیکن ٹرمپ کے کئی متضاد بیانوں نے حالات کو شش وپنج میں ڈال رکھا ہے ۔
(انل نریندر)

ایران کو جلد ملیں گے 6 ارب ڈالر !

ایران -امریکہ جنگ میں کتنی تباہی ہوئی ہے بتانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن ممکن ہے کہ ایران کو اصل میں اس جنگ سے فائدہ ہوسکتا ہے ۔یہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ ایران کے صدرمسعود پزشکیان نے حال ہی میں بڑا اعلان کیا اور دعویٰ کیا گیا کہ قطر میں پھنسی ایران کی 12 ارب ڈالر کی رقم میں سے 6 ارب ڈالر جلد جاری کر دیے جائیں گے ۔قوم شہر میں ایک پروگرام کے دوران انہوں نے کہا کہ ایران امریکہ معاہدے کے تحت اثاثے ریلیز کرنے کی پہلی شرط ہوگی ۔جو اسے قطر سے ملیں گے ۔انہوں نے یہ اہم ترین اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سوئزرلینڈ میں ہوئی بات چیت اور اسلام آباد میں ہوئے معاہدے کے تحت یہ رقم جاری ہو رہی ہے ۔باقی چھ ارب ڈالر کی واپسی کے لئے بھی سرکار مسلسل کوششیں کررہی ہے ۔ایرانی صدر پزشکیان نے بتایا کہ امن معاہدے کے تحت ایران کے تیل اور پیٹرولیم سیکٹر پر لگی پابندیاں بھی ہٹا دی گئی ہیں ۔انہوں نے اسے ایرانی عوام کی بڑی جیت بتایا ۔انہوں نے کہا کہ ان پابندیوں کو ہٹنے سے دیش کی معیشت کو بڑی راحت ملے گی ۔ایران کی ارتھ سرکاری نیوز ایجنسی مہر نے صدر کے بیان کو اہمیت سے شائع کیا ہے ۔صدر نے حالیہ لڑائی کا ذکر کرتےہوئے ایرانی عوام کی تعریف کی ۔ان کا کہنا تھا کہ سپریم لیڈر ، وزراء ،فوجی کمانڈر ،دانشور اور عام شہری بھی مشکل کے وقت متحد رہے۔ صدر نے بتایا کہ لڑائی کے بعد سرکار بساست کا کام شروع کر چکی ہے ۔عام لوگوں کو راحت دینے کے لئے خوراک ،رعایت بڑھانے اور مزید مالی مدددینے کی اسکیمیں لاگو کی جارہی ہیں ۔ایران کے اس دعوے سے امید ہے کہ دیش کی معیشت کو کچھ راحت ملے گی ۔قطر میں پھنسا پیسا ریلیز ہونے سے تیل ایکسپورٹ اور دیگر سیکٹروں میں بہتری آسکتی ہے ۔یہ تازہ واقعہ میں ایران کی خارجہ پالیسی اور اقتصادی حکمت عملی میں نئی سمت دکھاتی ہے ۔حالانکہ اب تک ایران میں ہونے والے 300 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کو لے کر کوئی بات صاف نہیں ہوئی ہے ۔یہ فنڈ کہاں سے آئے گا ، کب آئے گا اس پر کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔
(انل نریندر)

02 جولائی 2026

ٹرمپ اور میلونی کے بیچ بگڑتے رشتے !

اٹیلی کی وزیراعظم جیورجیا میلونی سے وابستہ کئی پوسٹ سوشل میڈیا پر گشت کررہے ہیں ۔ان میں سے کچھ میں تو ایسا دکھایا گیا ہے جیسے وہ کسی بریک اپ کے بعد اپنی زندگی بدلنے کی کوشش کررہی ہوں ۔ایک اے آئی فوٹو میں انہیں نئے ہمسفر کے ساتھ دکھایا گیا ہے ۔ایک دوسری تصویر میں انہیں سنگل ہولی ڈے بُچ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔یہ ساری تصویریں اصلی نہیں ہیں لیکن ان کا مذاق اس لئے بنایا جاریا ہے کیونکہ میلونی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کھلے طور پر تنازعہ اب سامنے آرہا ہے ۔پچھلے کچھ ماہ میں ٹرمپ اور میلونی کا رشتہ کبھی کھلے حملوں تک کیا گیا ۔کبھی نجی طعنے کسے گئے اور پھر یا تو یہ ٹھیک ہوا لیکن اس اتھل پتھل کی وجہ سے سب سے پاپولر سیاست سیاسی دوستی ٹھنڈی پڑ گئی ۔کچھ وقت پہلے تک لوگ میلونی کوٹرمپ وسپرر کہتے تھے ۔اس کی بانگی جنوری 2025 میں دیکھنے کو ملی جب ٹرمپ کی حلف برداری تقریب میں انہیں سب سے آگے بیٹھے کی جگہ ملی ۔تقریب میں یہ اہم جگہ پانے والی وہ اکیلی یوروپی لیڈر تھیں ۔پچھلی اپریل میں میلونی وائٹ ہاؤس گئی تھیں وہاں وہ اس مقصد کے لئے گئی تھیں تاکہ یوروپی سامان پر لگی امریکی ٹریڈ ٹیرف کو لے کر کشیدگی کم ہو لیکن ٹرمپ کی جیسی عادت ہے ، ان کی بے یقینی میلونی کے لئے مشکل بھری ثابت ہوئی اور ان کی ساکھ کو ملک و بیرون ملک دونوں جگہوں پر چوٹ پہنچی ہے ۔ٹرمپ اور میلونی میں پہلی بڑی درار مارچ کے آخر میں سامنے آئی ۔اٹلی کے وزار ت دفاع نے امریکی فوجی جہازوں کو سسلی کے سنگولنیلا نیٹو ایئر بیس استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ۔انہوں نے کہا کہ اس کے لئے پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہے ۔اٹلی نے یہ قدم اس لئے اٹھایا کیوں کہ ان کاقانون اور عوام دونوں ہی ایران جنگ کے خلاف تھے ۔یہ ٹکراؤ اور بڑھ گیا اپریل میں ٹرمپ نے ٹوٹھ شوشل پر پوپ لیو مداف پر حملہ بول دیا کیوں کہ انہوں نے ایران کے خلاف جنگ کی تلخ نکتہ چینی کی تھی ۔ٹرمپ نے انہیں کمزور بتایا ۔دنیا کے دیش کی لیڈر میلونی نے ٹرمپ کے بیان کو نامنظور والاقرار دیا ۔میلونی کے سخت رد عمل ٹرمپ کو راس نہیں آیا اور انہوں نے اٹلی کے اخبار کوریٹا ڈیلا میرا سے کہا کہ میں ہوں مجھے لگا تھا کہ ان میں ہی ہمت ہے لیکن میں غلط تھا وہ اب پہلے جیسی نہیں رہیں اور اٹلی بھی پہلے جیسا دیش نہیں رہا ۔فرانس میں جی -7 سمٹ میں ٹرمپ اور میلونی کو بات چیت کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا دونوں دیشوں کے حکام نے اس بات چیت کو مثبت اور ایک عام معمولاتی بتایا لیکن کچھ ہی دن بعد ٹرمپ نے اٹلی کے چینل کو کہا کہ میلونی نے سمٹ میں ان سے فوٹو کچوانے کے لئے منت کی تھی ۔ٹرمپ نے کہا کہ وہ میرے ساتھ تصویریں چاہتی تھی ۔میں نہیں لیتا لیکن مجھے ان پر ترس آگیا ۔میلونی نے فوراً جواب دیا کہ انہوں نے ویڈیو جاری کر ٹرمپ کی بات کو پوری طرح من گھڑت بتایا انہوں نے بتایا کہ مجھے نہیں پتہ کہ امریکہ کے صدر اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایسا کیوں رویہ اپناتے ہیں ؟ میں بس اتنا کہہ سکتی ہوں کہ افسوس ہے اور وہ ایک مغرب کے دشمنوں کے خلاف ایسی مضبوطی نہیں دکھاتے لیکن ایک بات یاد رکھنی چاہیے نا میں اور نہ ہی اٹلی کسی کی منت کرتا ہے اس کے فوراً بعد اٹلی کے وزیرخارجہ اسٹونیا لایانی نے اپنا مجوزہ امریکی دورہ منسوخ کر دیا اور اٹلی کے صدر سرجیومیٹرولانے میلونی کو فون کر ان کی حمایت کی ۔سرکار کے ساتھیوں اور ممبران پارلیمنٹ بھی ٹرمپ کے تبصروں کو توہین آمیز بتایا ۔اور معافی کی مانگ کی ۔اپوزیشن نے اسے پورےدیش کی بے عزتی کہا دوسری طرف ٹرمپ نے پھر دہرایا کہ میلونی نے بار بار تصویر کھچوانے کی مانگ کی تھی ۔میلونی پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ اب دوبار ہ میزبان بننے کی کوشش کررہی ہیں کیوں کہ امریکہ نے ایران کو فوجی نظریہ سے ہرا دیا ہے ۔جیسے ہی یہ تنازعہ ٹھنڈا پڑتا نظر آیا تو فوجی اڈوں کو لے کر نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ یہ تنازعہ ایران جنگ میں آپریشن کیوری کے دوران اٹلی کے امریکی ایئربیس کو لے کر اٹھا ۔نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک روٹے نے بتایا کہ تقریباً 500 جنگی جہاز اٹلی میں امریکہ کے ٹھکانوں سے آپریشن ایپک کیوری میں اڑان بھری ۔لیکن اٹلی کو یہ بات اچھی نہیں لگی اور اس کے وزار دفاع نے اسے غلط اور گمراہ کن بتایا ۔مزیدار بات یہ بھی ہے کہ دونوں ٹرمپ اور میلونی کو جلد ہی اپنے دیش میں چناؤ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔اٹلی میں عام چناؤ ہونے ہیں تو امریکہ میں بھی مڈ ٹرم چناؤ ہیں دیکھتے ہیں کہ امریکہ اور اٹلی کے رشتے سدھرتے ہیں یا اور بگڑتے ہیں؟
(انل نریندر)

30 جون 2026

الوداع آیت اللہ علی خامنہ ای !

28 فروری اس سال امریکہ اسرائیل کی جانب سے کئے گئے حملے میں ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے تھے ۔انہوں نے کسی بنکر میں چھپنے کے بجائے اپنے دفتر میں ہی رہ کر شہید ہونا منظور کیا تاکہ ان کی قوم دشمنوں سے لوہا لے سکے ۔ان کی شہادت ہر وطن پرست کے لئے راہ عمل بنے ۔یہی ہوا ایت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے ایران کی عوام میں ایک ایسا جذبہ پیدا کیا اس نے دنیا کے سب سے طاقتور دیش امریکہ کو آخر کار :جھکنے پر مجبور کر دیا ۔ایران سے اب خبر آئی ہے کہ ان کی وفات نے 3 ماہ بعد ان کی آخری رسوم کی جائیں گی ۔یعنی 3 ماہ بعد سپرد خاک ہوں گے خامنہ ای ۔سرکار نے تین دن کے سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے ۔اور دیش کے کئی شہروں میں ان کا تعزیتی جلوس نکالاجائے گا۔ آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسوم کے لئے 3 دن کا پروگرام طے 4 جولائی ہوا ہے ۔تہران قوم اور مشہد میں ہونے والی اس تدفین میں دو کروڑ لوگوں کے آنے کی امید ہے ۔ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا سپریم لیڈر بنایا گیا ہے ۔یہ پہلی بار ہوگا جب 28 فروری کے حملے کے بعد آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای عوام کے درمیان نظر آئیں گے ۔ایرانی میڈیا کے مطابق راجدھانی تہران قوم اور مشہد میں بڑے پبلک پروگرام ہوں گے ۔اکیلئے تہران میں خاص پروگرام 24 گھنٹے چلے گا۔ انتظامیہ کے مطابق دو کروڑ لوگوں کو سنبھالنے وحفاظت کو لے کر تیاریاں کی جارہی ہیں ۔یہ اعلان خامنہ ای کی موت کے کئی دنوں بعد ہوا ۔اسلامی روایت کے مطابق دفنانے کا کام فوراً ہونا چاہیے تھا لیکن جنگ کے سبب اور حفاظت کی وجہ سے اسے ٹالنا پڑا۔آیت اللہ علی خامنہ ای 86 سال کے تھے ۔28 فروری کے حملے میں وہ شہید ہو گئے اور اس کے ساتھ ہی ایران پر ان کا 30 سال سے زیادہ پرانی حکومت ختم ہو گئی ۔وہ دیش کے سب سے طاقتور اور باعزم لیڈر تھے ۔وحکمت عملی ساز بھی تھے ۔آیت اللہ خامنہ ای بھارت کے دوست بھی تھے اور ان کے نظریات کے بہت بڑے پرستار تھے ۔ان کے بیچ کا خاص طور پر تاریخی رہا ہے ۔سورگیہ پنڈت جواہر لال نہرو کی کتاب اور اس پر تبصرہ پر نظریہ خامنہ ای نے نہرو کے ذریعے لکھی سوانح حیات یا ول میسج گلمس پیسج آف ورلڈ اس کی کھل کر تعریف کی ۔انہوں نے اپنی تقریروں میں اکثر اس بات کا ذکر کیا کہ کیسے نہرو نے اپنی کتابوں میں تفصیل لکھا کہ انگلینڈ جیسے چھوٹے دیش نے بھارت جیسے وسیع ملک کے وسائل کا جائزہ لے کر خود کو کیسے محفوظ کیا ۔خامنہ ای کے مطابق یہ صرف بھارت کی کہانی نہیں بلکہ یہ تبصرہ اور سامراجواد طاقتوں کی سچائی تھی ۔2012 میں جب تہران نے چوٹی کانفرنس (نیم سمٹ ) کے دوران ہندوستانی وزیراعظم (ڈاکٹر منموہن سنگھ نے آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی تھی تو خامنہ ای نے خود جواہر لال نہرو اور مہاتما گاندھی کو گلہائے عقیدت پیش کیا تھا ۔آیت اللہ خمینی کا ایک پرانا ویڈیو بھی دوبارہ سامنے آیا ہے جس میں وہ جنتا سے اپیل کررہے ہیں ۔: تہران کی کتاب گلمپس آف ورلڈ ہسٹری ضرور پڑھیں ۔انہوں نے تفصیل سے سمجھایا کہ انگریزوں نے بھارت میں کیا کیا کیا۔آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانے سے صرف ایران یا اسلامی دنیا کو ہی نقصان نہیں پہنچا بلکہ دنیا کو ان کے جانے و خاص کر جس طریقہ سے ان کی شہادت ہوئی بھاری نقصان ہوا ہے ۔ایک نیک بندہ چلاگیا ۔ہم شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کو اپنا خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔
(انل نریندر)

27 جون 2026

عاصم منیر کے قتل کی سازش؟

جو لوگ بھی اسرائیل اور اس کی خونخوار خفیہ ایجنسی موساد سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ موساد سیاسی قتل کروانے میں ماہر ہے ۔اسرائیل کی تاریخ میں ایسے درجنوں معاملے ہیں جہاں اس نے اپنے دشمنوں کے لیڈروں کو موت کی نیند سلایا ہے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔28 فروری کو جب امریکہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا تو سب سے پہلا کام موساد نے یہ کیا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ و ایران کے ٹاپ ملیٹری کمانڈروں کو مروا دیا تھا ۔یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اسرائیل امریکہ کی جنگ بندی سے بہت مایوس ہے اور اس ایم او یو کو تڑوانے کی پوری کوشش کررہا ہے ۔مشرق وسطیٰ میں کئی ملکوں میں حیرت انگیز حملے ہورہے ہیں ۔یہ کون کررہا ہے پتہ نہیں چلارہا ہے ۔کچھ حیرانی نہیں ہوئی جب ایک تازہ خبر آئی کہ موساد پاکستانی ملیٹری چیف عاصم منیر اور پاکستانی نمائندہ وفد کے جینوا میں قتل کا پلان بنا رہا تھا ۔میں نے اپنے 18 جون کے اداریہ میں جس کا عنوان تھا : کاغذوں پر دستخط : زمین پر دھویں کی آخری لائن میں لکھا تھا : آخر میں اسرائیل -موساد کچھ بھی کرسکتا ہے ۔سمجھوتہ تڑوانے کے لئے ایرانی لیڈر شپ کا قتل بھی کروا سکتا ہے تاکہ جنگ بندی ٹوٹ جائے۔ میری پیشگوئی اس معنی میں کامیاب ہوئی ۔حالانکہ تھوڑا ہٹ کر یہ رہا کہ موساد ایرانی لیڈروں کو تو نشانہ پر نہیں لے پایا لیکن اس نے پاکستانی نمائندہ وفد پر نشانہ لگانے کی کوشش ضرورکی ہے ۔بتادیں کہ برازیل کے ایک سینئراور جانے مانے صحافی پے پے ایسکودار کے اس سنسنی خیز دعوے نے بین الاقوامی سطح پر تنازعہ کھڑا کر دیا ہے ایسکوبار نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے پاکستانی کے فوجی چیف جنرل عاصم منیر اور سوئزرلینڈ دورہ پر گئے پاکستانی نمائندہ وفد کے قتل کی سازش رچی تھی ۔انہوںنے دعویٰ کیا کہ یہ پلان تب فیل ہو گیا جب پاکستان کی فوج کو بے حد بھروسہ مند خفیہ جانکاری ملی تھی کہ اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کی ہدایت پر موساد جنرل عاصم منیر اور پوری پاکستانی نمائندہ ٹیم کو نشانہ بنانے کی تیاری کررہا ہے ۔ایسکوبار نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاکستان نے عمان کے ذریعے سے اسرائیل کو سخت سندیش بھیجا تھا اگر پاکستانی نمائندہ وفد یا جنر ل عاصم منیر کو نقصان پہنچایا گیا تو اس کا سخت جواب دیاجائے گا ۔یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پاکستان ایک نیوکلیائی کفیل ملک ہے اس کا مطلب صاف تھا ان دعوؤں کے سامنے آتے ہی پاکستان نے انہیں سرے سے مستر دکر دیا ۔اے آر وائی نیوز کے چیئرمین کامران خاں نے ایک سینئر پاکستانی سیکورٹی افسر کے حوالے سے بتایا کہ یہ رپورٹ پوری طرح بکواس اور بے بنیاد ہے ۔افسر نے صاف کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور جنرل عاصم منیر کا سوئزرلینڈ دورہ پوری طرح محفوظ اور بغیر کسی سیکورٹی خطرے کے پورہ ہوا قتل کی سازش کا دعوے کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں رکھتا اور پوری طرح بناوٹی ہے ۔تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ کوئی بھی ملک ایسی خبروں کی کبھی بھی تصدیق نہیں کرتا اور انہیں خیالی بتاتا ہے ۔
(انل نریندر)

25 جون 2026

مذاکرات کودیامناب 168 نام

 
سوئزرلینڈ میں اتوار کوامریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کے لئے ایرانی نمائندہ وفد کو مناب 168 نام دیا گیا ہے ۔ماننا پڑے گا نریٹیو سیٹ کرنے میں ایرانیوں کا جواب نہیں ہے ۔جیسے اپنے شہیدوں کو ناتو بھولتے ہیں اور نہ ہی دنیا کو بھولنے دیتے ہیں ۔ایران چاہتا ہے کہ پوری دنیا ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مظالم داستان دیکھیں ۔اور سنیں ۔ایرانی پریس ٹی وی کے مطابق یہ نام مناب اسکول پر امریکی اسرائیلی میزائل حملے میں ماری گئی 168 اسکولی بچیوں کے احترام میں دیاگیا ۔اس اسکول (مناب) پر 28 فروری کو جنگ کے پہلے دن حملہ ہوا تھا ۔دراصل ایران پچھلے 3 ماہ سے کمپین مناب چلارہا ہے ۔اور اسے خود نشر کررہا ہے ۔ہر اسٹیج پر ایران اس کمپین کے ساتھ نظر آتا ہے ۔سوئزرلینڈر اور یہاں تک کہ فیفا ورلڈکپ فٹبال میں بھی یہ نظر آیا۔ آئیے اس کے پیچھے کی کہانی بھی جانتے ہیں ۔۔سوئزرلینڈ میں امریکہ کے ساتھ معاہدہ مذاکرات کرنے سے پہلے ایران نے فیصلہ لے کر پوری دنیا کو چونکادیا ہے ۔دراصل ، ایران اور سوئزرلینڈ میں امریکہ کے ساتھ امن معاہدہ بات چیت کو مناب 168 نام دیا گیا ہے ۔امریکہ سے بات چیت کے لئے ایران کا نمائندہ وفد اسی جہاز میں پہنچاجس پر مناب 168 لکھا تھا ۔فیفا ورلڈ کپ 2026 میں بیلجیم کے خلاف میچ کھیلنے کے لئے میدان میں اترے ایران کے فٹبال کھلاڑیوں کی جرسی پر مناب 168 لکھاتھا ۔حملے میں ماری گئیں بچیوں کے احترام میں ایران دنیا کو ان کا پیغام دینے کی کوشش کررہا ہے کہ لڑائی کے پہلے دن ہی جس طرح امریکہ اسرائیل نے انسانیت کی ساری حدیں پارکرتے ہوئے بے قصور مناب اسکول کی بچیوں کو مارڈالا اور حملے میں ماری گئی 168 اسکولی بچیوں ان کے احترام میں اورا نہیں انصاف دلانے کے لئے مناب 168 کمپین چلائی جارہی ہے ۔آئی آر جی سی کے مبینہ ٹھکانہ پر حملے کی آڑ میں میزائل گرائی گئی تھی ، لیکن میزائل گراتے وقت یہ بھی نہیں دیکھا گیا میزائل ایک بچوں کے اسکول پر جاگری ۔امریکہ اس سے انکار کرتا رہا پہلے تو اس نے کہنا شروع کردیا کہ یہ میزائل خودا یران نے غلطی سے مار دی ۔لیکن پھر امریکی میڈیا نے اس کا پردہ فاش کرتے ہوئے ثابت کیا کہ یہ میزائل امریکی میزائل لانچر سے چھوڑی گئی تھی جو بحرین ایئر بیس سے لانچ ہوئی تھی ۔ایران نےجوابی کاروائی کرتےہوئے بحرین کے اس امریکی بیس کو نشانہ بنایا ۔اور تباہ کیا ۔ایرانی نمائندہ وفد پر پہلے رائٹ میں اسلام آباد پہنچنا تھا تو جس جہاز میں وہ آئے تھے اس کی کرسیوں پر شہید ہوئی بچیوں کے اسکو ل بیگ ،کتابیں ،کھانے کے ٹفن وغیرہ رکھے تھے تاکہ ساری دنیا ہوئے اس ظلم کو دیکھ سکے ۔ایران چاہتا ہے کہ پوری دنیا ایران پر اور اسرائیل کے مظالم کی داستان سنے اوردیکھے ۔یہ دونوں دیش اپنے فائدے کے لئے کس حد تک جاسکتے ہیں ۔اس لئے فیفا ورلڈ کپ 2026 میں امریکی شہر لاس انجلس نے ایران اور بیلجیئم کے بیچ ہوئے میچ کے دوران کئی ایرانی سامعین نے مناب و حملے کے مارے گئے بچیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے والی تصویریں اورجرسی لہرائیں ۔ایران کے کھلاڑی مناب 168 اسٹیکروالی جرسی پہنے نظر آئے ۔ایک حمایتی نے ایک اسٹیکر دکھایا جس پر ایک اسکولی بیگ بنا تھا اور اس پر 168 لکھا تھا ۔ہیرائٹ اینجل گئے مینا ب اسکول کے 168 بچوں کی یاد رکھیں ۔بتادیں کہ بھارت میں اپریل میں ہوئی برکس سمٹ میں بھی ایران مناب 168 لکھے جہاز میں بھارت آیا تھا ۔امریکہ سے امن بات چیت کے لئے پاکستان کے دورہ سے پہلے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر واقر غالیباف نے ایران کے میناب کا اشارہ دیتے ہوئے ایکس پر تصویریں شیئر کیں ۔جس میں مناب حملے میں ماری گئیں اسکولی بچیوں کی ہوائی جہاز کی سیٹوں پر فوٹو چپکی ہوئی تھی ۔اور وہ ان کے سامنے کھڑے ہو کر مانو کہہ رہی ہوں اس فلائٹ میں میرے ساتھی مسافر ہیں ۔
(انل نریندر)

23 جون 2026

شانتی و امن کا دشمن :نیتن یاہو

جب بھی پچھلے 80 برسوں کی تاریخ لکھی جائے گی اس میں دو ناموں کا خاص تذکرہ ہوگا جب بھی انسانیت کے قتل عام کا ذکر آئے گا اس میں پہلا نام جرمنی کے تاناشاہ ڈولف ہٹلر کا ہوگا اور دوسرا نام اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کا ہوگا ۔نتین یاہو اس صدی کے نمبر 1 ولن بن کر ابھرے ہیں ۔جب بھی مشرق وسطیٰ میں امن کی بات ہوتی ہے تو اس میں نیتن یاہو کوئی نہ کوئی اڑنگا لگا دیتے ہیں۔ آپ تازہ مثال ہی دیکھ لیں امریکہ اور ایران کے بیچ امن بات چیت چل رہی ہے ۔ایم او یو پر بھی دستخط ہوگئے ہیں لیکن نیتن یاہو اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہے ہیں اور اب تو وہ کھل کر اپنے اکلوتے دوست دیش امریکہ کو بھی کھل کر گالیاں دے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کہنا پڑا کہ تم پاگل ہو چکے ہو اور میں اگر تمہیں نہ بچاتا تو آج تم جیل میں ہوتے ۔نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی کابینہ کے وزراء کو طنز کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس طاقتور ساتھی پر حملہ نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ امریکہ کے علاوہ اس کے ساتھ آج کوئی نہیں ہے ۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر شخصی تنقیدوں سے پریشان ہیں۔انہوں نے ٹرمپ کو پوری دنیا میں اسرائیل کے تئیں ہمدردی رکھنے والے ایک واحد سربراہ مملکت ہے ۔انہیں یہ نہیں بھولنا چاہیے ۔آخر نیتن یاہو کیوں کسی بھی امن معاہدے کی مخالفت کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے نیتن یاہو کے سیاسی وجود اور سروائیول اہم وجہ ہیں ۔نیتن یاہو اپنی گدی محفوظ رکھنے کے لئے کبھی غزہ پر حملے کررہے ہیں کبھی لبنان پر تو کبھی ایران پر ۔ان کے اس برتا ؤ پر ٹرمپ سختی سے بولتے بھی نہیں اس کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے ،۔ایپسٹین فائل ! دنیا جانتی ہے کہ اسرائیل کے پاس وہ بدنام بلیک میل کرنے والی ایپسٹین فائل ہے جس میں ٹرمپ سمیت درجنوں سربراہ مملکت پھنسے ہوئے ہیں ۔یہ بات ٹرمپ سمجھتے ہیںتبھی تو اسرائیل کو روک نہیں پارہے ہیں ۔نیتن یاہو کی ایک مجبوری ہے وہ ہے ان کے خلاف چل رہے کرپشن کے کیس۔ نیتن یاہو کے خلاف مجرمانہ اور دیوانی مقدموں کے ساتھ باقاعدہ عدالتی کاروائی چل رہی ہے ۔نیتن یاہو نے اسے آگے بڑھنے سے یہ کہہ کر روک رکھا ہے کہ اسرائیل اس وقت جنگ لڑرہا ہے اور یہ پہلی ترجیح ہے اس لئے اسے فی الحال ٹالاجائے ۔نیتن یاہو اس سے اتنے پریشان ہیں کہ انہوں نے صدر ٹرمپ سے باقاعدہ اسرائیل کے صدر سے گزارش کی تھی کہ نیتن یاہو کے خلاف کیسوں کو ختم کردیں ، وہ معافی دے دیں لیکن اسرائیلی صدر نہیں مانے ۔ان مقدموں سے بچنے کے لئے اور امکانی جیل کی سزا سے بھی بچنے کے لئے نیتن یاہو کہیں نہ کہیں لڑائی جار ی رکھتے ہیں اب جب امریکہ ایران امن بات چیت جینیوا میں چل رہی ہے اور ایم او یو پر آگے مذاکرات جاری ہیں نتین یاہو نے اس میں بھانجی مارنے کے لئے لبنان پر جنگ چھیڑ دی ہے ۔نیتن یاہو کی تو اب اسرائیل کے اندر بھی مخالف شروع ہو گئی ہے ۔اسی سال کے آخر میںاسرائیل میں عام چناؤ ہونے ہیں جس میں نیتن یاہو کی سرکار جاسکتی ہے۔ بنجامن نیتن یاہو پر پچھلے کئی برسوں سے رشوت خوری ،جعلسازی ،بے اعتمادی کے سنگین الزام لگے ہیں ۔اسرائیل کی تاریخ میں نیتن یاہو پہلے ایسے وزیراعظم ہیں جو عہدے پر رہتے ہوئے عدالتی کاروائی کا سامنا کررہے ہیں ۔فروری کے آخر میں ایران کے ساتھ لڑائی زوروں پر تھی ۔اسرائیل ،امریکہ ایئر اسٹرائک کے بعد نیتن یاہو نے دیش میں ایمرجنسی لگا دی تھی اس دوران سیکورٹی وجوہات سے عدالتی کاروائی کو بھی ٹال دیا گیا تھا ۔اور یہ اب بھی ٹالی جارہی ہے ۔جب تک اسرائیل کسی سے لڑائی بند نہیں کرتا نیتن یاہو اسی بہانے عدالتی کاروائی ٹالتے رہیں گے جیسے میں نے کہا کہ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اسرائیلی صدر ہائجیک ہرگوس سے نیتن یاہو کو معافی دینے کی وکالت کی تھی ۔ ہرگوس نے صاف کیا کہ اسرائیل ایک قانون سے چلنے والامتحدہ ملک ہے او ر وہ بغیر کسی بھاری دباؤ کے اپنے جوڈیشیل فیصلے خود لے گا ۔
(انل نریندر)

18 جون 2026

کاغذوں پر دستخط:زمین پر دھواں

دنیا نے راحت کی سانس لی جب یہ اعلان ہوا کہ امریکہ ایران جنگ میں سیز فائر ہوگیا ہے ۔لیکن میں اسے صرف جنگ بندی ہی کہتا ہوں ، یہ جنگ کا خاتمہ نہیں ماناجاسکتا کیوں کہ ابھی صحیح معنوں میں دونوں طرف کی شرائط تسلیم کرنا بچی ہیں ۔فی الحال تو اس سے صرف امریکہ اور ایران کے درمیان بم باری ہی رکی ہے جنگ روکنے کے لئے ابھی بہت سے پینچ پھنسے ہیں۔ میں سب سے پہلے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای ،صدر مسعود پزیشکیان ،وزیرخارجہ عباس عراغچی اور اسپیکر بانگر غالیباف کو مبارکباد دینا چاہتاہوں کہ جنگ میں بھاری پڑنے کے باوجود انہوں نے اس جنگ بندی ( سیز فائر ) روکنے میں قابل قدر کرادر نبھایا ۔میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس کے لئے بدھائی نہیں دینا چاہتا کیوں کہ انہوں نے ہی یہ جنگ شروع کی تھی ۔جسے بلاوجہ جنگ شروع کی تھی اس میں جنگ بندی کرکے انہوں نے اپنی جان ہی چھڑائی ہے ۔کسی پر احسان نہیں کیا ۔ان کے حامی امریکی نائب صدر جے ڈی وانس کہہ رہے ہیں ٹرمپ اب نوبل ایوارڈ کے حقدار ہیں ؟ کیوں بھئی کیسے ہوئے حقدار ؟ پہلے شروع کرو اور پھر پیٹو اور اب بنا شرائط کے بم باری روکنے کا اعلان کرو ؟ یہ جو ایم او یو پر دستخط ہونے جارہے ہیں وہ کتنا کارگر ثابت ہوتا ہے ۔یہ دیکھنا باقی ہے کیوں کہ سب سے بڑا پینچ تو نیتن یاہو بنے ہوئے ہیں ۔اسرائیل نے صاف اعلان کر دیا ہے کہ وہ اس سمجھوتہ کو نہیں مانتا اور نہ ہی وہ لبنان پر حملے بند کرے گا جبکہ ایران کی شرطوں میں یہ شامل ہے ۔ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود گالی گلوج کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اسرائیل اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہا ہے اور اس پوری کوشش میں لگا ہوا ہے کہ یہ معاہدہ نہ ہو ۔ایران نے 14 نکاتی شرائط رکھی ہیں ۔ٹرمپ نے بھی دو بہت بڑی شرائط رکھیں ہیں ایران نے مانگ کی ہے کہ امن معاہدہ سے پہلے 24 ارب ڈالر کی ضبط پراپرٹی امریکہ ایران کو دے اس کا آدھا حصہ یعنی 12 ارب ڈالر بات چیت شروع ہونے سے پہلے ایران کو دیے جائیں وہیں امریکہ نے اس دعوے پر الگ رخ اپنایا ہے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کو کسی بھی طرح کی مالی راحت تبھی ملے گی جب وہ سمجھوتہ کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے گا۔ہرمز جل ڈروم پر بھی ابھی تنازعہ ہے ۔بیشک ایران نے ہرمز کو کھول دیا ہے لیکن ابھی صرف طے راستے سے ہی سمندر میں جہازوں کا آنا جانا شروع ہوا ہے ۔ہرمز کو پوری طرح سے کھولنے میں وقت لگے گا کیوں کہ اس نے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں جنہیں ہٹانے میں وقت لگ سکتا ہے ۔ایران ہر جہاز سے ٹول بھی وصول رہا ہے ۔جسے کٹ سروس چارج کہاجارہا ہے ۔امریکہ ایسا کرنے پر اعتراض کررہا ہے ۔خیر ، ہرمز کھولنے سے پوری دنیا نے راحت کی سانس ضرور لی ہے ۔ایران کے نیوکلیائی پروگرام اور افزودگی یورینیم کے مسئلے پر بھی ابھی رضامندی باقی ہے۔ ایران کے ذریعے اس کے میزائل پروگرام پر بھی امریکہ اور اسرائیل کو اعتراض ہے ۔اس مسئلے پر دونوں فریق 60 دنوں کی بات چیت میں کوئی فیصلہ کریں گے ایران کے نائب وزیرخارجہ قزام نے تحران نیوز ایجنسی سے بات میں کہا آخری سمجھوتے کو لے کر اگلے 60 دنوں میں بات چیت ہوگی۔ اور انہوں نے کہا یہ پروسیس اس بات پر منحصر کرے گا کہ امریکہ اپنے وعدوں پر کس حد تک ٹکا  رہتا ہے اور پورا کرتا ہے ؟ ایران کے اہم شرائط میں فوجی سرگرمیوں کو روکنا یعنی ہر جنگ کو پوری طرح سے روکنا ، اقتصادی ناکابندی ختم کرنا ،بیرون ممالک میں جمع ہوئے ایرانی فنڈس کو بحال کرنا شامل ہے ۔سمجھوتے میں لبنان میں جنگ بندی کی سہولت بھی شامل ہے۔ ونٹیج مسائل پر اختلافات کے باوجود کمرشیل سمجھوتے کو بین الاقوامی سطح پر مثبت رد عمل ملا ہے ۔برطانیہ ،جرمنی ،اسرائیل ،فرانس اور بھارت نے اس کا خیر مقدم کیا ہے ۔اس سمجھوتے کا اہم مقصد وسط مشرق میں مستقل امن قائم کرنا ہے ایسے میں اگر سمجھوتہ کامیاب رہتا ہے تو عالمی بازاروں کو بھی بڑی راحت مل سکتی ہے ۔تاوقت یہ ٹکا رہے ۔آخر میں اسرائیل -موساد کچھ بھی کرسکتا ہے۔ اسرائیل لیڈر شپ کا قتل بھی کروا سکتا ہے تاکہ یہ جنگ بندی ٹوٹ جائے ۔
(انل نریندر)

16 جون 2026

اب فٹبال کا جادو

ایسے وقت پر جب مغربی ایشیا میں امریکہ اسرائیل بنام خطرناک جنگ چھڑی ہوئی ہے اور عالمی سطح پر ایندھن سپلائی کا مسئلہ بنا ہوا ہے ۔ساری دنیا کی معیشت اتھل پتھل ہو رہی ہے اسی وقت کھیل شائقین کے لئے زبردست راحت کا انعقاد ہورہا ہے ۔میں ورلڈ کپ فٹبال 2026 کی بات کررہا ہوں۔ امریکہ ،کنیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں منعقدہ اب تک سب سے بڑا فٹبال کپ چل رہا ہے ۔فیفا ورلڈ کپ 2026 کے پہلے افتتاحی تقریب نے جمعرات کو ایز ٹیکا اسٹیڈیم میں 85 ہزار فٹبال شائقین کے سامنے انوکھا سما باندھ دیا ۔اس بارے میں تین افتتاحی تقریب ہوئیں جن میں دو تقریب جمعہ کے روز کنیڈا کے ٹورنٹو اور امریکہ کے لاس اینجلس میں منعقدہوئی ۔39 دن تک جاری رہنے والے اس سب سے لمبے فٹبال مہا کمبھ میں ریکارڈ میچوں کے ساتھ ریکارڈ سامعین کے آنے سے فٹبال کی بڑی انجمن کو عالمی سطح پر بھاری منافع ہونے والاہے ۔فیفا کی کمائی کئی طریقوں سے ہوگی جس میں سب سے بڑا حصہ ٹیلی کاسٹ رائٹس کا ہوگا ۔اس کے علاوہ اسپانسر اور ٹکٹوں کی بکری اور اشتہارات ،سیاحت وغیرہ سے بھاری کمائی ہوگی ۔اس بار 48 ٹیموں کے دنیا بھر سے حصہ لینے سے کمائی امید سے زیادہ ہو سکتی ہے ۔ اور یہ تعداد شمار 76 ہزار کروڑ روپے ( 8.9ارب ڈالر سے بھی زیادہ پہنچ سکتی ہے۔ اصل میں 104 مقابلے تین دیشوں کے 16 شہروں میں ہونے سے کمائی میں کئی طرح کی اضافہ ہوگا۔بتادیں کہ 3 بار ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والامیکسیکو دنیا کا پہلا دیش ہے ۔میکسیکو نے اپنے یہاں افتتاح کرانے میں اپنی دیسی تہذیب کی جھلک دکھانے کا کوئی موقع نہیں گنوایا ۔ فیفا نے اس تقریب کے لئے دنیا بھر سے فنکار بلائے تھے ۔لیکن اصلی سما شکیرا کے دائی دائی گانے سے بندھا جس پر ناظرین جھوم اٹھے ۔سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ کھیل کی اس طاقت کو ثابت کر پائے گا جو اختلافات کے بیچ بات چیت و کشیدگی کے بیچ امید کی گنجائش پیش کرتی ہے ۔فٹبال ورلڈ کپ کی تاریخ دیکھیں تو امید کی جاسکتی ہے ۔بتادیں کہ اٹلی کے ڈکٹیٹر یونی سولونی کے عہدمیں 1934 میں اٹلی میں ہوا ورلڈ کپ رہا ۔یا پھر 1938 کئی مقابلے ، جب زمینی اور آسٹریا پر قبضہ کر چکا تھا ۔اس کھیل نے درد سے کراہتے ہوئے دیشوں کو ضرور کچھ تو راحت دی تھی ۔ہٹلر نے بھی ورلڈ کپ ہاکی کا انعقاد کرایا تھا جس میں بھارت کے میجر دھیان چند سب سے بڑے ستارے کی شکل میں ابھرے تھے ۔ دلچسپ یہ ہے کہ ایران کی ٹیم کو بھی میزبان امریکہ میں کھیلنے کا موقع ملے گا ۔حالانکہ ایران کو ویزا دینے میں بھی تنازعہ کھڑا ہوا تھا ۔قابل ذکر ہے کہ ایرانی کھلاڑی جب میکسیکو پہنچے تو انہوں نے وہ علامتی نشان پہنچا تھا جو مناب کی بچیوں کے اسکول پر امریکہ نے میزائل مارا تھا اور 138 چھوٹی بچیاں شہید ہو گئی تھیں ۔توقع کی جاتی ہے کہ اس انعقاد سے دیشوں میں محبت اور ایک دوسرے کی عزت بڑھے گی ۔اور بھائی چارہ بڑھے گا ۔دنیا میں شورش کے ماحول میں بھی کمی آئے گی۔
(انل نریندر)

13 جون 2026

کیوبا ہے ٹرمپ کا اگلا نشانہ؟

بھارت میں ایک کہاوت ہے’ وناش کالے وپریت بدھی ‘یعنی جب آپ کا دماغ خراب ہوتا ہے تو آپ کی سب سے پہلے بدھی بھرشٹ ہوتی ہے ۔ یہی حال ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کے وزیر دفاع پیٹر ہیگسیتھ کا ۔ انہوں نے تازہ بیان دیا ہے جس سے لگتاہے کہ ٹرمپ کا اگلانشانہ کیوبا ہے ۔ پیٹر ہیگسیتھ نے حال ہی میں گوانتا ناموبے کا دورہ کیا اور کیوبا کو سخت الفاظ میں وارننگ دے ڈالی ۔ہیگسیتھ نے کیوبا کو صاف کر دیا کہ امریکہ کے خلاف کسی بھی طرح کی دھمکی برداشت نہیں کی جائے گی ۔انہوں نے مزید صاف کیا کہ تحران کے بعد یا ساتھ ساتھ کیوبا بھی ٹرمپ کے نشانہ پر ہیں ۔لگتا ہے کہ ٹرمپ اپنے پڑوسی ملک کیوبا کے خلاف جنگ چھیڑنے کے موڈ میں ہیں۔ ایران جنگ میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں اور باہر نکلنے کے لئے بے تاب ہیں اور اب کیوبا کو قبضانے کی دھمکی دے رہے ہیں ۔انہوں نے کیوبا کی اینرجی سپلائی کاٹنے کے بعد اب ایئر کرافٹ کیریئر یو ایس ایس نمیٹیج کو پورے کیریئر گروپ کے ساتھ تعینات کر دیا ہے ۔یہ تعیناتی ٹھیک اسی طرح کی ہے جسے انہوں نے وینزویلا پر حملہ کرنے سے پہلے وہاں کے صدر نکولس مادورو کو ہٹانے کے لئے چاروں جانب تعینات کیا تھا ۔کیوبا پر حملے کی تیاری میں امریکہ نے کیوبا کے 94 سالہ سابق صدر رائل کاسترو پر قتل کا الزام بھی لگایاہے اس کے بعد قیاس آرائیاں بھی تیز ہو گئی ہیں کہ امریکہ کی تختہ پلٹ فہرست میں اگلانام کیوبا کا ہوسکتا ہے ۔امریکہ میں کسی وقت پریشر پالیسی کی وجہ سے کیوبا دہائیوں کا سب سے بڑا ایندھن اور بجلی بحران پیدا کرنے والا ہوگیا ہے ۔اسی درمیان ٹرمپ اور ان کے افسران مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ 66 سال سے اقتدار میں موجود کمیونسٹ سرکار کا خاتمہ ہونا چاہیے ۔ وائٹ ہاؤس نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساحل سے 144 کلو میٹر دوری پر کسی باغی دیش کو برداشت نہیں کرے گا ۔اب یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ رائل کاسترو کو کوئی فوجی کاروائی چلاکر مادورو کی طرح گرفتار کرکے امریکہ لاسکتا ہے ۔انہیں امریکہ لاکر ان پر مقدمہ چلا سکتا ہے ۔اس سال کے آغاز میں ایک ایگزیکٹو حکم میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ کیوبا میں روس کا سب سے بڑا غیر ملکی جاسوسی سنٹر موجود ہے ۔بائیڈن انتظامیہ نے چین پر بھی الزام لگایا تھا کہ اس نے امریکہ کے ساحلوں سے صرف 90 میل دوری پر واقع اس کمیونسٹ جزیرہ پر جاسوسی سنٹر کھول رکھا ہے ۔یہی نہیں ٹرمپ انتظامیہ نے قریب 30 سال پرانے ایک معاملے کو اچانک تازہ کرکے کیوبا کے سابق صدر رائل کاسترو پر سنگین الزام لگا دیا ۔اصل میں 1996 میں سمندر میں پھنسے لوگ اور کیوبا سے بھاگ کر امریکہ آنے والے پناہ گزینوں کی مدد کرنے والی ایک آرگنائزیشن چھوٹے شہری ریگولیشن کے ذریعے ریسکیو مشن چلارہا تھا اس کے دو شہری جہازوں کو کیوبا سے فوجی جہازوں نے مار گرایا اس میں 4 امریکی شہریوں کی موت ہو گئی تھی اس واردات کے بعد دونوں ملکوں کے رشتوں میں مزید کشیدگی بڑھ گئی تھی ۔اب تین دہائی بعد امریکی افسران نے سابق کیوبائی صدر رائل کاسترو پر قتل ،سازش رچنے اور جہاز گرانے سے وابستہ الزامات لگائے ہیں ۔رائل کاسترو کیوبا کی سیاست کے سب سے طاقتور چہروں میں سے ایک ہیں ۔انہوں نے اپنے بھائی فیدل کاسترو کے بعد دیش کی سیاست سنبھالی تھی ۔اب سوال ہے کہ آخر 30 سال بعدا س معاملے کو کیوں اٹھانا چاہتا ہے ؟ 
(انل نریندر)

11 جون 2026

کیا اسرائیل امریکہ کی جاسوسی کررہا ہے ؟

ایران جنگ کو لے کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کے درمیان ٹکراؤ بڑھتا حکمت عملی نظریہ نے پینٹاگن کی پریشانی بڑھا دی ہے ۔امریکی وزارت دفاع کو اسرائیلی جاسوسی کا خوف لگنے لگا ہے ۔اس نے خبردار کیا ہے کہ سینئر امریکی افسران سخت اسرائیلی نگرانی کا نشانہ بن سکتے ہیں ؟ این بی سی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کے دوموجود و ایک سابق افسر نے بتایا کہ پینٹاگن کی ڈیفنس انٹیلی جینس ایجنسی ڈی آئی اے نے حال ہی میں اسرائیل کے لئے کاؤنٹر انٹیلی جینس خطرے کے سطح کو کریٹیکل یعنی سنگین قرار دیا ۔یہ ان کا سب سے اونچا اندرونی تجزیاتی معیار ہے ۔ایک موجودہ افسر نے امریکی صحافی کو بتایا کہ امریکہ پہلے ہی سے اسرائیل کا سرکاری دوروں کے دوران سیکورٹی اقدامات کرتا ہے کیوں کہ اسرائیلی جاسوسی ایجنسیوں کو معلومات اکٹھاکرنے کے معاملے میں بہت ہی جارحانہ اور چالاک ماناجاتا ہے ۔پینٹاگن کی نئی تشویشات سے پتہ چلتا ہے کہ ا سرائیل مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے سلسلے میں امریکی حکمت عملی مباحثوں فیصلوں کی جانکاری حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اسرائیلی جاسوسی نیٹورک خاص کر ان کی خفیہ ایجنسی ایسے کاموں کے لئے دنیا میں بدنام ہے ۔چونکانے والی بات یہ ہے کہ اسرائیلی جاسوسی ایجنسی موساد نے اپنے سب سے بھروسہ مند ساتھی امریکہ کو بھی نہیں بخشا ہے ۔
(انل نریندر)

صحافی بولا:بے ایمان اور بے وقوف!

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سربراہ مملکت سے تو بے عزتی سے پیش آتے ہی ہیں لیکن اپنے دیش کے صحافیوں خاص کر خاتون صحافیوں سے کیسے پیش آتے ہیں تازہ واقعہ سے پتہ چلتا ہے ۔ ٹرمپ نے این بی سی جیسے بڑے ٹی وی نیٹور ک سے ایک انٹرویو کے دوران اچانک بات چیت درمیان میں ہی ختم کر دی ۔پروگرام کی میزبان ترشٹن ویلکر بار بار ان کے (ٹرمپ ) کے دعووں پر سوال اٹھارہی تھیں ۔اتوار کو ٹیلی کاسٹ ہوئے پروگرام ’’ میٹ دی پریس‘‘ میںٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ کیلیفورنیا میں چل رہے پرائمری چناؤ سال 2020 کا امریکی صدارتی چناؤ دونوں ہی دھاندلی بھرے تھے ۔جب ویلکر نے چناؤ میں دھاندلی کے دعوے کی حمایت میں ثبوت مانگے تو ٹرمپ نے کہا ’’ مجھے بس دیکھنا اور سننا ‘‘ بھر ہے ۔اس پر ویلکر نے کہا یہ ثبوت نہیں ہے ۔اس کے بعد ٹرمپ نے میڈیا کو بے ایمان ہونے کا الزام لگایا اور انٹرویو ختم کرتے ہوئے کہا ،معاف کیجئے ،اب اسے یہیں ختم کرتے ہیں ۔معاف کیجئے اب اسے یہیں ختم کرتے ہیں ۔میرے لئے بہت ہو گیا اب انٹرویو ختم ہے ۔انٹرویو شروع ہونے کے تقریباً 50 منٹ بعداسے چھوڑ دیا ۔ویلکر کے سوالوں کے جواب میں ٹرمپ نے کہا امریکہ کو ایران کے نیوکلیائی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لئے کاروائی کرنی ضروری تھی اور یہ آخر جنگ نہیں ہوگی ۔ہم وہاں کچھ ماہ کے لئے رہیں گے اور اس کے بعد خطرہ کافی حد تک ختم ہو جائے گا ۔اس کے بعد بات چیت ان دنگوں پر پہنچی اور جب ٹرمپ نے سال 2020 کے چناؤ میں دھاندلی کا اپنا پرانا بغیر ثبوت والاوعدہ دہرایا تو ترسٹن ویلکر نے انہیں چیلنج کیا ۔ٹرمپ نے پھر کیلیفورنیا کے بلدیاتی چناؤ کا ذکر کیا جہاں گورنر سمیت کئی عہدوں کے لئے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی چناؤ میں کون سے دو امیدوار ہوں گے ، یہ طے کرنے کے لئے ووٹوں کی گنتی جاری تھی ۔پھر انہوں نے الزام لگایا کہ وہ چناؤ میں دھاندلی کررہے ہیں ۔پلٹ کر ویلکر نے پوچھا کیا آپ کے پاس اس کی حمایت میں کوئی ثبوت ہے ؟ ٹرمپ : مجھے صرف دیکھنا اور سننا ہے ۔ویلکر نے بیچ میں ٹوکا ، لیکن یہ کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ ٹرمپ نے ناراضگی سے کہا کہ وہ بے ایمان ہے بالکل آپ کی طرح اس پر ویلکر نے جواب دیا منصفانہ بات کریں تو میں بے ایمان نہیں ہوں لیکن بات چیت جاری رکھیں ۔اس پر ٹرمپ نے کہا یا تو آپ بے ایمان ہیں یا پھر بے وقوف اور یہ کہتے ہوئے ٹرمپ اٹھ گئے اور کہا اسے یہیں ختم کرتے ہیں میرے لئے بہت ہوگیا۔ شکریہ ڈارلنگ ۔آپ کو اپنے پریس کو سدھارنا چاہیے کیوں کہ ایک دیش کبھی مہان نہیں بن سکتا اگر اس کی پریس بے ایما ن ہو ۔ہم اس مہان پترکار کو سلام کرتے ہیں جنہوں نے اپنی بے عزتی کے باوجود ڈٹی رہیں ۔
(انل نریندر)

مہنگی چینی : کیا وجہ اتھنول تو نہیں ؟

بھارت میں چینی کے دام پچھلے ماہ سے تیزی سے بڑھ رہے ہیں ۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرس کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف اسی ماہ بھارت میں چینی کی قیمتوں م...