Translater

23 جون 2026

شانتی و امن کا دشمن :نیتن یاہو

جب بھی پچھلے 80 برسوں کی تاریخ لکھی جائے گی اس میں دو ناموں کا خاص تذکرہ ہوگا جب بھی انسانیت کے قتل عام کا ذکر آئے گا اس میں پہلا نام جرمنی کے تاناشاہ ڈولف ہٹلر کا ہوگا اور دوسرا نام اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کا ہوگا ۔نتین یاہو اس صدی کے نمبر 1 ولن بن کر ابھرے ہیں ۔جب بھی مشرق وسطیٰ میں امن کی بات ہوتی ہے تو اس میں نیتن یاہو کوئی نہ کوئی اڑنگا لگا دیتے ہیں۔ آپ تازہ مثال ہی دیکھ لیں امریکہ اور ایران کے بیچ امن بات چیت چل رہی ہے ۔ایم او یو پر بھی دستخط ہوگئے ہیں لیکن نیتن یاہو اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہے ہیں اور اب تو وہ کھل کر اپنے اکلوتے دوست دیش امریکہ کو بھی کھل کر گالیاں دے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کہنا پڑا کہ تم پاگل ہو چکے ہو اور میں اگر تمہیں نہ بچاتا تو آج تم جیل میں ہوتے ۔نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی کابینہ کے وزراء کو طنز کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس طاقتور ساتھی پر حملہ نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ امریکہ کے علاوہ اس کے ساتھ آج کوئی نہیں ہے ۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر شخصی تنقیدوں سے پریشان ہیں۔انہوں نے ٹرمپ کو پوری دنیا میں اسرائیل کے تئیں ہمدردی رکھنے والے ایک واحد سربراہ مملکت ہے ۔انہیں یہ نہیں بھولنا چاہیے ۔آخر نیتن یاہو کیوں کسی بھی امن معاہدے کی مخالفت کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے نیتن یاہو کے سیاسی وجود اور سروائیول اہم وجہ ہیں ۔نیتن یاہو اپنی گدی محفوظ رکھنے کے لئے کبھی غزہ پر حملے کررہے ہیں کبھی لبنان پر تو کبھی ایران پر ۔ان کے اس برتا ؤ پر ٹرمپ سختی سے بولتے بھی نہیں اس کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے ،۔ایپسٹین فائل ! دنیا جانتی ہے کہ اسرائیل کے پاس وہ بدنام بلیک میل کرنے والی ایپسٹین فائل ہے جس میں ٹرمپ سمیت درجنوں سربراہ مملکت پھنسے ہوئے ہیں ۔یہ بات ٹرمپ سمجھتے ہیںتبھی تو اسرائیل کو روک نہیں پارہے ہیں ۔نیتن یاہو کی ایک مجبوری ہے وہ ہے ان کے خلاف چل رہے کرپشن کے کیس۔ نیتن یاہو کے خلاف مجرمانہ اور دیوانی مقدموں کے ساتھ باقاعدہ عدالتی کاروائی چل رہی ہے ۔نیتن یاہو نے اسے آگے بڑھنے سے یہ کہہ کر روک رکھا ہے کہ اسرائیل اس وقت جنگ لڑرہا ہے اور یہ پہلی ترجیح ہے اس لئے اسے فی الحال ٹالاجائے ۔نیتن یاہو اس سے اتنے پریشان ہیں کہ انہوں نے صدر ٹرمپ سے باقاعدہ اسرائیل کے صدر سے گزارش کی تھی کہ نیتن یاہو کے خلاف کیسوں کو ختم کردیں ، وہ معافی دے دیں لیکن اسرائیلی صدر نہیں مانے ۔ان مقدموں سے بچنے کے لئے اور امکانی جیل کی سزا سے بھی بچنے کے لئے نیتن یاہو کہیں نہ کہیں لڑائی جار ی رکھتے ہیں اب جب امریکہ ایران امن بات چیت جینیوا میں چل رہی ہے اور ایم او یو پر آگے مذاکرات جاری ہیں نتین یاہو نے اس میں بھانجی مارنے کے لئے لبنان پر جنگ چھیڑ دی ہے ۔نیتن یاہو کی تو اب اسرائیل کے اندر بھی مخالف شروع ہو گئی ہے ۔اسی سال کے آخر میںاسرائیل میں عام چناؤ ہونے ہیں جس میں نیتن یاہو کی سرکار جاسکتی ہے۔ بنجامن نیتن یاہو پر پچھلے کئی برسوں سے رشوت خوری ،جعلسازی ،بے اعتمادی کے سنگین الزام لگے ہیں ۔اسرائیل کی تاریخ میں نیتن یاہو پہلے ایسے وزیراعظم ہیں جو عہدے پر رہتے ہوئے عدالتی کاروائی کا سامنا کررہے ہیں ۔فروری کے آخر میں ایران کے ساتھ لڑائی زوروں پر تھی ۔اسرائیل ،امریکہ ایئر اسٹرائک کے بعد نیتن یاہو نے دیش میں ایمرجنسی لگا دی تھی اس دوران سیکورٹی وجوہات سے عدالتی کاروائی کو بھی ٹال دیا گیا تھا ۔اور یہ اب بھی ٹالی جارہی ہے ۔جب تک اسرائیل کسی سے لڑائی بند نہیں کرتا نیتن یاہو اسی بہانے عدالتی کاروائی ٹالتے رہیں گے جیسے میں نے کہا کہ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اسرائیلی صدر ہائجیک ہرگوس سے نیتن یاہو کو معافی دینے کی وکالت کی تھی ۔ ہرگوس نے صاف کیا کہ اسرائیل ایک قانون سے چلنے والامتحدہ ملک ہے او ر وہ بغیر کسی بھاری دباؤ کے اپنے جوڈیشیل فیصلے خود لے گا ۔
(انل نریندر)

18 جون 2026

کاغذوں پر دستخط:زمین پر دھواں

دنیا نے راحت کی سانس لی جب یہ اعلان ہوا کہ امریکہ ایران جنگ میں سیز فائر ہوگیا ہے ۔لیکن میں اسے صرف جنگ بندی ہی کہتا ہوں ، یہ جنگ کا خاتمہ نہیں ماناجاسکتا کیوں کہ ابھی صحیح معنوں میں دونوں طرف کی شرائط تسلیم کرنا بچی ہیں ۔فی الحال تو اس سے صرف امریکہ اور ایران کے درمیان بم باری ہی رکی ہے جنگ روکنے کے لئے ابھی بہت سے پینچ پھنسے ہیں۔ میں سب سے پہلے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای ،صدر مسعود پزیشکیان ،وزیرخارجہ عباس عراغچی اور اسپیکر بانگر غالیباف کو مبارکباد دینا چاہتاہوں کہ جنگ میں بھاری پڑنے کے باوجود انہوں نے اس جنگ بندی ( سیز فائر ) روکنے میں قابل قدر کرادر نبھایا ۔میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس کے لئے بدھائی نہیں دینا چاہتا کیوں کہ انہوں نے ہی یہ جنگ شروع کی تھی ۔جسے بلاوجہ جنگ شروع کی تھی اس میں جنگ بندی کرکے انہوں نے اپنی جان ہی چھڑائی ہے ۔کسی پر احسان نہیں کیا ۔ان کے حامی امریکی نائب صدر جے ڈی وانس کہہ رہے ہیں ٹرمپ اب نوبل ایوارڈ کے حقدار ہیں ؟ کیوں بھئی کیسے ہوئے حقدار ؟ پہلے شروع کرو اور پھر پیٹو اور اب بنا شرائط کے بم باری روکنے کا اعلان کرو ؟ یہ جو ایم او یو پر دستخط ہونے جارہے ہیں وہ کتنا کارگر ثابت ہوتا ہے ۔یہ دیکھنا باقی ہے کیوں کہ سب سے بڑا پینچ تو نیتن یاہو بنے ہوئے ہیں ۔اسرائیل نے صاف اعلان کر دیا ہے کہ وہ اس سمجھوتہ کو نہیں مانتا اور نہ ہی وہ لبنان پر حملے بند کرے گا جبکہ ایران کی شرطوں میں یہ شامل ہے ۔ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود گالی گلوج کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اسرائیل اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہا ہے اور اس پوری کوشش میں لگا ہوا ہے کہ یہ معاہدہ نہ ہو ۔ایران نے 14 نکاتی شرائط رکھی ہیں ۔ٹرمپ نے بھی دو بہت بڑی شرائط رکھیں ہیں ایران نے مانگ کی ہے کہ امن معاہدہ سے پہلے 24 ارب ڈالر کی ضبط پراپرٹی امریکہ ایران کو دے اس کا آدھا حصہ یعنی 12 ارب ڈالر بات چیت شروع ہونے سے پہلے ایران کو دیے جائیں وہیں امریکہ نے اس دعوے پر الگ رخ اپنایا ہے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کو کسی بھی طرح کی مالی راحت تبھی ملے گی جب وہ سمجھوتہ کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے گا۔ہرمز جل ڈروم پر بھی ابھی تنازعہ ہے ۔بیشک ایران نے ہرمز کو کھول دیا ہے لیکن ابھی صرف طے راستے سے ہی سمندر میں جہازوں کا آنا جانا شروع ہوا ہے ۔ہرمز کو پوری طرح سے کھولنے میں وقت لگے گا کیوں کہ اس نے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں جنہیں ہٹانے میں وقت لگ سکتا ہے ۔ایران ہر جہاز سے ٹول بھی وصول رہا ہے ۔جسے کٹ سروس چارج کہاجارہا ہے ۔امریکہ ایسا کرنے پر اعتراض کررہا ہے ۔خیر ، ہرمز کھولنے سے پوری دنیا نے راحت کی سانس ضرور لی ہے ۔ایران کے نیوکلیائی پروگرام اور افزودگی یورینیم کے مسئلے پر بھی ابھی رضامندی باقی ہے۔ ایران کے ذریعے اس کے میزائل پروگرام پر بھی امریکہ اور اسرائیل کو اعتراض ہے ۔اس مسئلے پر دونوں فریق 60 دنوں کی بات چیت میں کوئی فیصلہ کریں گے ایران کے نائب وزیرخارجہ قزام نے تحران نیوز ایجنسی سے بات میں کہا آخری سمجھوتے کو لے کر اگلے 60 دنوں میں بات چیت ہوگی۔ اور انہوں نے کہا یہ پروسیس اس بات پر منحصر کرے گا کہ امریکہ اپنے وعدوں پر کس حد تک ٹکا  رہتا ہے اور پورا کرتا ہے ؟ ایران کے اہم شرائط میں فوجی سرگرمیوں کو روکنا یعنی ہر جنگ کو پوری طرح سے روکنا ، اقتصادی ناکابندی ختم کرنا ،بیرون ممالک میں جمع ہوئے ایرانی فنڈس کو بحال کرنا شامل ہے ۔سمجھوتے میں لبنان میں جنگ بندی کی سہولت بھی شامل ہے۔ ونٹیج مسائل پر اختلافات کے باوجود کمرشیل سمجھوتے کو بین الاقوامی سطح پر مثبت رد عمل ملا ہے ۔برطانیہ ،جرمنی ،اسرائیل ،فرانس اور بھارت نے اس کا خیر مقدم کیا ہے ۔اس سمجھوتے کا اہم مقصد وسط مشرق میں مستقل امن قائم کرنا ہے ایسے میں اگر سمجھوتہ کامیاب رہتا ہے تو عالمی بازاروں کو بھی بڑی راحت مل سکتی ہے ۔تاوقت یہ ٹکا رہے ۔آخر میں اسرائیل -موساد کچھ بھی کرسکتا ہے۔ اسرائیل لیڈر شپ کا قتل بھی کروا سکتا ہے تاکہ یہ جنگ بندی ٹوٹ جائے ۔
(انل نریندر)

16 جون 2026

اب فٹبال کا جادو

ایسے وقت پر جب مغربی ایشیا میں امریکہ اسرائیل بنام خطرناک جنگ چھڑی ہوئی ہے اور عالمی سطح پر ایندھن سپلائی کا مسئلہ بنا ہوا ہے ۔ساری دنیا کی معیشت اتھل پتھل ہو رہی ہے اسی وقت کھیل شائقین کے لئے زبردست راحت کا انعقاد ہورہا ہے ۔میں ورلڈ کپ فٹبال 2026 کی بات کررہا ہوں۔ امریکہ ،کنیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں منعقدہ اب تک سب سے بڑا فٹبال کپ چل رہا ہے ۔فیفا ورلڈ کپ 2026 کے پہلے افتتاحی تقریب نے جمعرات کو ایز ٹیکا اسٹیڈیم میں 85 ہزار فٹبال شائقین کے سامنے انوکھا سما باندھ دیا ۔اس بارے میں تین افتتاحی تقریب ہوئیں جن میں دو تقریب جمعہ کے روز کنیڈا کے ٹورنٹو اور امریکہ کے لاس اینجلس میں منعقدہوئی ۔39 دن تک جاری رہنے والے اس سب سے لمبے فٹبال مہا کمبھ میں ریکارڈ میچوں کے ساتھ ریکارڈ سامعین کے آنے سے فٹبال کی بڑی انجمن کو عالمی سطح پر بھاری منافع ہونے والاہے ۔فیفا کی کمائی کئی طریقوں سے ہوگی جس میں سب سے بڑا حصہ ٹیلی کاسٹ رائٹس کا ہوگا ۔اس کے علاوہ اسپانسر اور ٹکٹوں کی بکری اور اشتہارات ،سیاحت وغیرہ سے بھاری کمائی ہوگی ۔اس بار 48 ٹیموں کے دنیا بھر سے حصہ لینے سے کمائی امید سے زیادہ ہو سکتی ہے ۔ اور یہ تعداد شمار 76 ہزار کروڑ روپے ( 8.9ارب ڈالر سے بھی زیادہ پہنچ سکتی ہے۔ اصل میں 104 مقابلے تین دیشوں کے 16 شہروں میں ہونے سے کمائی میں کئی طرح کی اضافہ ہوگا۔بتادیں کہ 3 بار ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والامیکسیکو دنیا کا پہلا دیش ہے ۔میکسیکو نے اپنے یہاں افتتاح کرانے میں اپنی دیسی تہذیب کی جھلک دکھانے کا کوئی موقع نہیں گنوایا ۔ فیفا نے اس تقریب کے لئے دنیا بھر سے فنکار بلائے تھے ۔لیکن اصلی سما شکیرا کے دائی دائی گانے سے بندھا جس پر ناظرین جھوم اٹھے ۔سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ کھیل کی اس طاقت کو ثابت کر پائے گا جو اختلافات کے بیچ بات چیت و کشیدگی کے بیچ امید کی گنجائش پیش کرتی ہے ۔فٹبال ورلڈ کپ کی تاریخ دیکھیں تو امید کی جاسکتی ہے ۔بتادیں کہ اٹلی کے ڈکٹیٹر یونی سولونی کے عہدمیں 1934 میں اٹلی میں ہوا ورلڈ کپ رہا ۔یا پھر 1938 کئی مقابلے ، جب زمینی اور آسٹریا پر قبضہ کر چکا تھا ۔اس کھیل نے درد سے کراہتے ہوئے دیشوں کو ضرور کچھ تو راحت دی تھی ۔ہٹلر نے بھی ورلڈ کپ ہاکی کا انعقاد کرایا تھا جس میں بھارت کے میجر دھیان چند سب سے بڑے ستارے کی شکل میں ابھرے تھے ۔ دلچسپ یہ ہے کہ ایران کی ٹیم کو بھی میزبان امریکہ میں کھیلنے کا موقع ملے گا ۔حالانکہ ایران کو ویزا دینے میں بھی تنازعہ کھڑا ہوا تھا ۔قابل ذکر ہے کہ ایرانی کھلاڑی جب میکسیکو پہنچے تو انہوں نے وہ علامتی نشان پہنچا تھا جو مناب کی بچیوں کے اسکول پر امریکہ نے میزائل مارا تھا اور 138 چھوٹی بچیاں شہید ہو گئی تھیں ۔توقع کی جاتی ہے کہ اس انعقاد سے دیشوں میں محبت اور ایک دوسرے کی عزت بڑھے گی ۔اور بھائی چارہ بڑھے گا ۔دنیا میں شورش کے ماحول میں بھی کمی آئے گی۔
(انل نریندر)

13 جون 2026

کیوبا ہے ٹرمپ کا اگلا نشانہ؟

بھارت میں ایک کہاوت ہے’ وناش کالے وپریت بدھی ‘یعنی جب آپ کا دماغ خراب ہوتا ہے تو آپ کی سب سے پہلے بدھی بھرشٹ ہوتی ہے ۔ یہی حال ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کے وزیر دفاع پیٹر ہیگسیتھ کا ۔ انہوں نے تازہ بیان دیا ہے جس سے لگتاہے کہ ٹرمپ کا اگلانشانہ کیوبا ہے ۔ پیٹر ہیگسیتھ نے حال ہی میں گوانتا ناموبے کا دورہ کیا اور کیوبا کو سخت الفاظ میں وارننگ دے ڈالی ۔ہیگسیتھ نے کیوبا کو صاف کر دیا کہ امریکہ کے خلاف کسی بھی طرح کی دھمکی برداشت نہیں کی جائے گی ۔انہوں نے مزید صاف کیا کہ تحران کے بعد یا ساتھ ساتھ کیوبا بھی ٹرمپ کے نشانہ پر ہیں ۔لگتا ہے کہ ٹرمپ اپنے پڑوسی ملک کیوبا کے خلاف جنگ چھیڑنے کے موڈ میں ہیں۔ ایران جنگ میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں اور باہر نکلنے کے لئے بے تاب ہیں اور اب کیوبا کو قبضانے کی دھمکی دے رہے ہیں ۔انہوں نے کیوبا کی اینرجی سپلائی کاٹنے کے بعد اب ایئر کرافٹ کیریئر یو ایس ایس نمیٹیج کو پورے کیریئر گروپ کے ساتھ تعینات کر دیا ہے ۔یہ تعیناتی ٹھیک اسی طرح کی ہے جسے انہوں نے وینزویلا پر حملہ کرنے سے پہلے وہاں کے صدر نکولس مادورو کو ہٹانے کے لئے چاروں جانب تعینات کیا تھا ۔کیوبا پر حملے کی تیاری میں امریکہ نے کیوبا کے 94 سالہ سابق صدر رائل کاسترو پر قتل کا الزام بھی لگایاہے اس کے بعد قیاس آرائیاں بھی تیز ہو گئی ہیں کہ امریکہ کی تختہ پلٹ فہرست میں اگلانام کیوبا کا ہوسکتا ہے ۔امریکہ میں کسی وقت پریشر پالیسی کی وجہ سے کیوبا دہائیوں کا سب سے بڑا ایندھن اور بجلی بحران پیدا کرنے والا ہوگیا ہے ۔اسی درمیان ٹرمپ اور ان کے افسران مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ 66 سال سے اقتدار میں موجود کمیونسٹ سرکار کا خاتمہ ہونا چاہیے ۔ وائٹ ہاؤس نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساحل سے 144 کلو میٹر دوری پر کسی باغی دیش کو برداشت نہیں کرے گا ۔اب یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ رائل کاسترو کو کوئی فوجی کاروائی چلاکر مادورو کی طرح گرفتار کرکے امریکہ لاسکتا ہے ۔انہیں امریکہ لاکر ان پر مقدمہ چلا سکتا ہے ۔اس سال کے آغاز میں ایک ایگزیکٹو حکم میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ کیوبا میں روس کا سب سے بڑا غیر ملکی جاسوسی سنٹر موجود ہے ۔بائیڈن انتظامیہ نے چین پر بھی الزام لگایا تھا کہ اس نے امریکہ کے ساحلوں سے صرف 90 میل دوری پر واقع اس کمیونسٹ جزیرہ پر جاسوسی سنٹر کھول رکھا ہے ۔یہی نہیں ٹرمپ انتظامیہ نے قریب 30 سال پرانے ایک معاملے کو اچانک تازہ کرکے کیوبا کے سابق صدر رائل کاسترو پر سنگین الزام لگا دیا ۔اصل میں 1996 میں سمندر میں پھنسے لوگ اور کیوبا سے بھاگ کر امریکہ آنے والے پناہ گزینوں کی مدد کرنے والی ایک آرگنائزیشن چھوٹے شہری ریگولیشن کے ذریعے ریسکیو مشن چلارہا تھا اس کے دو شہری جہازوں کو کیوبا سے فوجی جہازوں نے مار گرایا اس میں 4 امریکی شہریوں کی موت ہو گئی تھی اس واردات کے بعد دونوں ملکوں کے رشتوں میں مزید کشیدگی بڑھ گئی تھی ۔اب تین دہائی بعد امریکی افسران نے سابق کیوبائی صدر رائل کاسترو پر قتل ،سازش رچنے اور جہاز گرانے سے وابستہ الزامات لگائے ہیں ۔رائل کاسترو کیوبا کی سیاست کے سب سے طاقتور چہروں میں سے ایک ہیں ۔انہوں نے اپنے بھائی فیدل کاسترو کے بعد دیش کی سیاست سنبھالی تھی ۔اب سوال ہے کہ آخر 30 سال بعدا س معاملے کو کیوں اٹھانا چاہتا ہے ؟ 
(انل نریندر)

11 جون 2026

کیا اسرائیل امریکہ کی جاسوسی کررہا ہے ؟

ایران جنگ کو لے کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کے درمیان ٹکراؤ بڑھتا حکمت عملی نظریہ نے پینٹاگن کی پریشانی بڑھا دی ہے ۔امریکی وزارت دفاع کو اسرائیلی جاسوسی کا خوف لگنے لگا ہے ۔اس نے خبردار کیا ہے کہ سینئر امریکی افسران سخت اسرائیلی نگرانی کا نشانہ بن سکتے ہیں ؟ این بی سی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کے دوموجود و ایک سابق افسر نے بتایا کہ پینٹاگن کی ڈیفنس انٹیلی جینس ایجنسی ڈی آئی اے نے حال ہی میں اسرائیل کے لئے کاؤنٹر انٹیلی جینس خطرے کے سطح کو کریٹیکل یعنی سنگین قرار دیا ۔یہ ان کا سب سے اونچا اندرونی تجزیاتی معیار ہے ۔ایک موجودہ افسر نے امریکی صحافی کو بتایا کہ امریکہ پہلے ہی سے اسرائیل کا سرکاری دوروں کے دوران سیکورٹی اقدامات کرتا ہے کیوں کہ اسرائیلی جاسوسی ایجنسیوں کو معلومات اکٹھاکرنے کے معاملے میں بہت ہی جارحانہ اور چالاک ماناجاتا ہے ۔پینٹاگن کی نئی تشویشات سے پتہ چلتا ہے کہ ا سرائیل مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے سلسلے میں امریکی حکمت عملی مباحثوں فیصلوں کی جانکاری حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اسرائیلی جاسوسی نیٹورک خاص کر ان کی خفیہ ایجنسی ایسے کاموں کے لئے دنیا میں بدنام ہے ۔چونکانے والی بات یہ ہے کہ اسرائیلی جاسوسی ایجنسی موساد نے اپنے سب سے بھروسہ مند ساتھی امریکہ کو بھی نہیں بخشا ہے ۔
(انل نریندر)

صحافی بولا:بے ایمان اور بے وقوف!

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سربراہ مملکت سے تو بے عزتی سے پیش آتے ہی ہیں لیکن اپنے دیش کے صحافیوں خاص کر خاتون صحافیوں سے کیسے پیش آتے ہیں تازہ واقعہ سے پتہ چلتا ہے ۔ ٹرمپ نے این بی سی جیسے بڑے ٹی وی نیٹور ک سے ایک انٹرویو کے دوران اچانک بات چیت درمیان میں ہی ختم کر دی ۔پروگرام کی میزبان ترشٹن ویلکر بار بار ان کے (ٹرمپ ) کے دعووں پر سوال اٹھارہی تھیں ۔اتوار کو ٹیلی کاسٹ ہوئے پروگرام ’’ میٹ دی پریس‘‘ میںٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ کیلیفورنیا میں چل رہے پرائمری چناؤ سال 2020 کا امریکی صدارتی چناؤ دونوں ہی دھاندلی بھرے تھے ۔جب ویلکر نے چناؤ میں دھاندلی کے دعوے کی حمایت میں ثبوت مانگے تو ٹرمپ نے کہا ’’ مجھے بس دیکھنا اور سننا ‘‘ بھر ہے ۔اس پر ویلکر نے کہا یہ ثبوت نہیں ہے ۔اس کے بعد ٹرمپ نے میڈیا کو بے ایمان ہونے کا الزام لگایا اور انٹرویو ختم کرتے ہوئے کہا ،معاف کیجئے ،اب اسے یہیں ختم کرتے ہیں ۔معاف کیجئے اب اسے یہیں ختم کرتے ہیں ۔میرے لئے بہت ہو گیا اب انٹرویو ختم ہے ۔انٹرویو شروع ہونے کے تقریباً 50 منٹ بعداسے چھوڑ دیا ۔ویلکر کے سوالوں کے جواب میں ٹرمپ نے کہا امریکہ کو ایران کے نیوکلیائی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لئے کاروائی کرنی ضروری تھی اور یہ آخر جنگ نہیں ہوگی ۔ہم وہاں کچھ ماہ کے لئے رہیں گے اور اس کے بعد خطرہ کافی حد تک ختم ہو جائے گا ۔اس کے بعد بات چیت ان دنگوں پر پہنچی اور جب ٹرمپ نے سال 2020 کے چناؤ میں دھاندلی کا اپنا پرانا بغیر ثبوت والاوعدہ دہرایا تو ترسٹن ویلکر نے انہیں چیلنج کیا ۔ٹرمپ نے پھر کیلیفورنیا کے بلدیاتی چناؤ کا ذکر کیا جہاں گورنر سمیت کئی عہدوں کے لئے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی چناؤ میں کون سے دو امیدوار ہوں گے ، یہ طے کرنے کے لئے ووٹوں کی گنتی جاری تھی ۔پھر انہوں نے الزام لگایا کہ وہ چناؤ میں دھاندلی کررہے ہیں ۔پلٹ کر ویلکر نے پوچھا کیا آپ کے پاس اس کی حمایت میں کوئی ثبوت ہے ؟ ٹرمپ : مجھے صرف دیکھنا اور سننا ہے ۔ویلکر نے بیچ میں ٹوکا ، لیکن یہ کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ ٹرمپ نے ناراضگی سے کہا کہ وہ بے ایمان ہے بالکل آپ کی طرح اس پر ویلکر نے جواب دیا منصفانہ بات کریں تو میں بے ایمان نہیں ہوں لیکن بات چیت جاری رکھیں ۔اس پر ٹرمپ نے کہا یا تو آپ بے ایمان ہیں یا پھر بے وقوف اور یہ کہتے ہوئے ٹرمپ اٹھ گئے اور کہا اسے یہیں ختم کرتے ہیں میرے لئے بہت ہوگیا۔ شکریہ ڈارلنگ ۔آپ کو اپنے پریس کو سدھارنا چاہیے کیوں کہ ایک دیش کبھی مہان نہیں بن سکتا اگر اس کی پریس بے ایما ن ہو ۔ہم اس مہان پترکار کو سلام کرتے ہیں جنہوں نے اپنی بے عزتی کے باوجود ڈٹی رہیں ۔
(انل نریندر)

09 جون 2026

جنگ بندی کے نام پر دھوکہ؟

کیا امریکہ ایران پر زمینی حملے کی تیاری کررہا ہے اور سیز فائر کے نام پر ایران کو بے وقوف بنارہا ہے ؟ امریکی وارشپ یو ایس ایس تریپولی بیڑے کی تعیناتی کے بعد یہ سوال پھر اٹھ گیا ہے کہ امریکہ کی اصل نیت کیا ہے ؟ تریپولی کی تعیناتی کے بعد یہ سوال بھی اٹھنا لازمی ہے ۔امریکی فوجی نے سنیچر کو اس نے ایران کی جانب سے لانچ کئے گئے ڈرون کو تباہ کر دینے کا دعویٰ کیا ۔وہیں اب ہرمز میں یو ایس ایس تریپولی کی تعیناتی کی تازہ خبر آئی ہے ۔سوال اٹھتا ہے کہ اب ایران پر زمینی حملہ ہونے جارہا ہے ؟ امریکہ اور ایران کے بیچ امن مذاکرات کہنے کو تو ابھی جاری ہیں لیکن زمین اور سمندر پر جو حالات نظر آرہے ہیں وہ کچھ اور ہی کہانی کی جانب اشارہ کررہے ہیں ۔پچھلے 72 گھنٹوں میں ہوئی کئی فوجی کاروائیوں نے مغربی ایشیا میں نئے سوال کھڑے کر دئیے ہیں ۔سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ صرف ایران پر دباؤ بنارہا ہے یا پھر ہرمز جل ڈروم وسط پر بالادستی حاصل کرنے کی تیاری کررہا ہے ؟ کیوں کہ جو تیاری امریکہ کررہا ہے اسے دیکھ کر تو ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ اب ایران کے آئی لینڈ پر قبضہ کرنے جارہا ہے ؟ ان واقعات کی شروعات اس خبر سے ہوئی جس میں بتایاگیا کہ ایرانی جھنڈے والے چار تیل ٹینکر ہرمز پار کرنے میں کامیاب رہے ہیں ۔یہ جہاز مبینہ طور پر قریب 70 لاکھ بیرل تیل لے کر نکلے تھے اور بندشوں کے باوجود آگے بڑھ گئے ۔لیکن اس کے کچھ ہی گھنٹوں بعدا مریکی انڈو پیسفک کمانڈ نے اعلان کیا کہ اس نے بحر ہند میں ممنوعہ تیل ٹینکر ، ڈیبینا کو روک کر اس پر قبضہ کر لیا ہے ۔فی الحال یہ صاف نہیں ہے کہ قبضہ میں لیا گیا جہاز انہیں 4 ٹینکروں میں سے ایک تھا یا نہیں ۔لیکن ٹائمنگ نے کئی قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے ۔اس مسئلے پر سنبھل ہی رہا تھا کہ اس پر امریکہ نے حملہ کر دیا ۔سنیچر کو ہی امریکی سنٹرل کمان نے دعویٰ کیا کہ اس نے ہرمز کی جانب بڑھ رہے 4 ایرانی حملہ آور ڈرون مار گرائے ۔اس کے فوراً بعد امریکی فوج نے ایران کے گوشک اور کیشم جزیرہ پر موجود ساحلی راہار ٹھکانوں پر حملے کئے ۔یہ پہلی بار نہیں ہے جب کیشم کو نشانہ بنایاگیا ہے ۔لیکن موجودہ حالات میں اس جزیرہ کا نام بار بار سامنے آنا فوجی تجزیہ کاروں کی توجہ کھینچ رہا ہے ۔جواب میں ایران نے بھی کویت اور بحرین کی جانب سات میزائلیں داغی اس میں سے چھ کو امریکہ نے روکنے کا دعویٰ کیا ۔اسی بیچ امریکہ نے یو ایس ایس تریپولی کی بحر عرب اور ہرمز خطہ میں تعیناتی کی ہے۔ یو ایس ایس تریپولی کوئی عام جنگی بیڑا نہیں ہے یہ ایک عمار حملہ آور جہاز ہے ، جس کا مطلب ہے کہ یہ جہاز پانی سے تو حملہ کر ہی سکتا ہے ضرورت پڑنے پر زمین کے بے حد قریب جاکر فوجیوں کو اتار بھی سکتا ہے ۔ایسے جہاز سمندر سے سیدھے فوجی آپریشن چلائے جانے کے لئے بنائے جاتے ہیں ۔ اِدھر کیشم ایران کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اوریہ ہرمز کے مہانے پر موجود ہے ۔اسے نہ ڈوبنے والاایئر کرافٹ کیریئر بھی کہاجاتا ہے ۔ایران نے یہ برسوں سے راڈار سسٹم ، ڈرون بیس ، اینٹی شپ میزائلیں ، انڈر گراؤنڈ سرنگیں اور بحری اڈے بنائے ہوئے ہیں اگر امریکہ اس جزیرہ پر قبضہ کر لیتا ہے تو اسے کئی اسٹریٹجک فائدے مل سکتے ہیں ویسے امریکہ کے لئے کیشم پر قبضہ بالکل بھی آسان نہیں ہونے والاہے ۔اس کا مطلب ہوگا کہ سیدھے انگاروں کو ہاتھ میں لینا ہے ۔کیشم ایرانی زمین سے بے حد قریب ہے اگر امریکہ اپنے فوجیوں کو یہاں اتارتا ہے تو اسے ایران کی میزائلیں، ڈرون اور بحری حملوں اور امکانی گوریلا جنگ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ یو ایس ایس تریپولی کی موجودگی کیشم پر مسلسل حملے اور تیاریوں کو روکنے جیسی کاروائیوں نے یہ بحث تیز کر دی ہے کہ امریکہ ہرمز پر حکمت عملی بڑھت لینے کی کوشش کررہا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ امن بات چیت کرنے کے باوجود مغربی ایشیا میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی دکھائی دے رہی ہے ۔
(انل نریندر)

06 جون 2026

آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسوم

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے لئے تین دن کے سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے ۔تین ماہ بعد آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسوم اداکی جائیں گی ۔مشہد قبرستان میں سپرد خاک کئے جائیں گے۔ ایران کی سرکار نے سابق لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے لئے تین دن کےسرکاری سوگ اور آخری رسوم ادائیگی کا اعلان کیا ہے ۔فی الحال تاریخ اعلان نہیں ہوئی ہے ۔آخری رسوم اور خراج عقیدت پروگرام اسلامی کلینڈر کے آخری ماہ ذی الحجہ کے آخر میں ہو سکتی ہے ۔یعنی 15 جون کے آس پاس ۔حکام نے بتایا خامنہ ای کی خواہش کے مطابق انہیں مشہد کے امام رضادرگاہ میں دفنایاجائےگا ۔تہران ، قوم اور مشہد میں پروگرام ہوں گے ۔ان شہروں میں وسیع پیمانہ پر آزادانہ جلوس نکالے جائیں گے اور خراج عقیدت محفلیں منعقد کی جائیں گی ۔ایران کے سرکاری ٹی وی چینل آئی آر آئی بی سی بات چیت میں توکل علی جاوید نے کہا کہ تینوں شہروں میں کروڑ وں لوگوں کے شامل ہونے کی امید ہے ۔تہران کے ڈپٹی میئر محمد امین توکلی جاوید نے کہا کہ ایران کے کئی دیگر صوبے بھی تعزیتی پروگرام منعقد کرنا چاہتے ہیں ۔بتایاجارہا ہے تہران میں ہونے والے بڑے پروگرام کم سے کم 24 گھنٹے چلے گا پھر تہران میں ہی 1.5 کروڑ سے دو کروڑ لوگ اپنے شہید سپریم لیڈر کو آخری خراج عقیدت دینے پہنچ سکتے ہیں ۔اتنی بڑی بھیڑ کو سنبھالنے کے لئے انتظامیہ حفاظت اور ٹریفک اور دیگر ضروری انتظامات کی تیاری کررہا ہے ۔یہ فیصلہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے تین ماہ بعد لیا گیا ہے ۔عام طور پر اسلامی روایت کے مطابق کسی شخص کی آخری رسوم موت کے کچھ دنوں کے اندر ہی اداکر دی جاتی ہیں لیکن ایرانی حکام نے پہلے اس پروگرام کو ٹال دیا تھا پھر پہلے کیوں نہیں ادا کی گئی آخری رسوم؟ آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکی اسرائیلی حملے میں وفات پا گئے تھے ۔ان کی شہادت کے بعد مارچ میں ایران کے حکام نے بیان دیا تھا کہ امکانی بھاری بھیڑ اور انتظامات کو لے کر آرہی دشواریوں سے آخری رسوم فوری ادا کرنا ممکن نہیں ہے ۔ ایران کی سرکاری ایجنسی ارنا کے مطابق سرکاری آخری رسوم جون کے وسط میں ادا کی جائے گی ۔حالانکہ اس کی کوئی پختہ تاریخ اور وقت ابھی حکام نے اعلان نہیں کیا ہے ۔آخری رسوم بہت بڑے پیمانہ پر ہوگی اور اس میں ایران کے ساتھ ساتھ کئی مسلم ممالک سے بھی بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوں گے ۔پاکستان ،افغانستان ،بھارت ،بنگلہ دیش سے بھی بڑی تعداد میں لوگوں کے مشہد پہنچنے کی امید ہے ۔آیت اللہ علی خامنہ ای کی رسوم میں کروڑوں لوگ ایک ساتھ اکٹھے ہوں گے ۔یہ بھی خطرہ ہے موقع کا فائدہ اٹھا کر کہیں اسرائیل کوئی الٹی سیدھی حرکت نہ کر دے ۔امریکہ بھی اس موقع کا فائدہ اٹھاسکتا ہے ۔اوپر والاایسے ہونے سے بچائے ۔امید کرتے ہیں اس مقدس موقع کا اسرائیل امریکہ کوئی ناجائز فائدہ نہ اٹھائے گا اور آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسوم میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گا ۔خامنہ ای نے 86 سال عمر پائی ہے ۔وہ تین دہائی سے زیادہ عرصہ تک ایران کے سپریم لیڈر رہے ۔آج جو ایران ہے اس کے پیچھے آیت اللہ خامنہ ای کی دور اندیشی اور ان کی پلاننگ یہ تھیں کہ ہم آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔
(انل نریندر)

04 جون 2026

امریکی ایف -15 گرانے میں چینی میزائل

پچھلے ماہ ساؤتھ مغربی ایران کے اوپر مار گرائے امریکی ایف -15 ای اسٹرائک ایگل کو چین میں بنے میزائل سے نشانہ بنایا گیا تھا ۔امریکہ کی نیوز ایجنسی این بی سی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ ابھی صاف نہیں ہو پایا کہ ایران نے جس میزائل سے ایف -15 میزائل کو گرایا وہ حال ہی میں ملی تھی یا ایران کے پرانے ذخیرے میں شامل تھی ۔امریکی افسر اپریل میں ہوئے اس واقعہ کی ابھی جانچ کررہے ہیں ۔دہائیوں میں پہلی بار کسی امریکی جنگی جہا ز کو دشمن کی گولاباری سے مار گرایا اس وقت ٹرمپ نے کہا تھا کہ جہاز کندھے پر رکھ کر داغی جانے والی میزائل سے حملہ کیا گیا ۔ان ہتھیاروں کو عام طور پر مین -پورٹیبل ایئر ڈیفنس سسٹم کے نام سے جاناجاتا ہے ۔یہ قریب 3 فٹ لمبی اور 40 پاؤنڈ وزن کی ہوتی ہے ایران کے چین سے بنے فوجی ساز وسامان کے استعمال سے امریکہ -چین رشتوں میں ایک نیا باب جڑ گیا ہے ۔
(انل نریندر)

کویت پر کیوں کہرام مچارہا ہے ایران!

ایران نے امریکہ کے جوابی حملے کے احتجاج میں کویت کو نشانہ پر لے لیا ہے ۔کویت پر 72 گھنٹے میں دوبڑے حملے کئے گئے ۔کویت میں امریکہ کے کم سے کم 7 بڑے اڈے ہیں وہیں قریب 13 ہزار امریکی جوانوں کو کویت میں رکھا گیا ہے۔یو اے ای کو چھوڑ کر کویت کیوں ایران کے نشانہ پر آگیا اس کے پیچھے بھی وجہ ہے ۔ایران اس قدر کویت سے ناراض ہے کہ محض 72 گھنٹوں میں اس نےکویت پر ڈرون اورمیزائلوں سے بڑے حملے کئے۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ حملے بدلالینے کے لئے کئے گئے ہیں ۔ایران نے صاف کیا کہ یہ حملے کویت کے رہائشی علاقوں پر نہیں بلکہ کویت میں امریکی فوجی اڈوں پر کئے جارہے ہیں ۔بتادیں کہ اب تک امریکہ سے بدلالینے کے لئے یو اے ای ایران کے نشانہ پر تھا اور ایران نے یو اے ای پر سب سے زیادہ حملے کئے ۔اخبار فائنانشیل ٹائمس کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران جنگ کے دوران تہران نے یو اے ای پر قریب 2400 حملے کئے تھے ۔ایران حالانکہ حال ہی میں ایران کویت کے ٹھکانوں پر حملہ کررہا ہے ۔ایسے میں سوال اٹھ رہا ہے کہ یو اے ای کو چھوڑ کر ایران کویت کو کیوں نشانہ پر لے رہا ہے ۔اس کے پیچھے کئی وجوہات نظر آتی ہیں ۔کویت خلیج فارس کے ایک محاذ پر واقع ہے ۔یہ ایران کے پڑوس میں ہے جو امریکہ کا ساتھی ملک ہے ۔یہاں پر امریکہ کے کئی بڑے فوجی اڈے ہیں ، ان میں کیمپ اور ریفجان کیمپ اور بوہرنگ ارسلم ایئر بیس اہم ہے ۔دی ہل کی رپورٹ کے مطابق کویت میں امریکہ کے 13000 جوان تعینات ہیں ۔یو اے ای کے مقابلے کویت سفارتی طور پر کافی کمزور ہے ۔مئی کے وسط میں ایران نے کویت کے ایک جزیرہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی ۔حالانکہ تہران کو ناکامی ملی تھی ۔یو اے ای ایران پر حملہ کرنے میں اہل ہے اگر امریکہ کے بدلے ایران یو اے ای پر حملہ کرتا ہے تو ابوظہبی پلٹ وار کرسکتا ہے اس سے خیلجی جنگ میں تیزی آسکتی ہے ۔بات چیت کے درمیان ایران نے نورسک موڈمیں ہے ۔جب سب سے بڑی وجہ ہے کہ حال ہی میں ایران پر جو حملے ہوئے وہ کویت کے امریکی ڈرون سے ہی ہوسکے ۔اس لئے جوابی کاروائی میں ایران نے کویت کو نشانہ پر لے لیا ہے۔
(انل نریندر)

02 جون 2026

اگر روبیو تاریخ جانتے تو فوٹو نہیں کھچواتے ؟

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیوجب بھارت کے چار روزہ دورہ پر آئے تھے تو بھارت کے وزیراعظم و سرکردہ سفارتکاروں سے تو ملے ہی تھے۔ ساتھ ہی کئی ہندوستانی مشہور سیاحتی مقامات پر بھی گئے ۔انہیں میں سے ایک آگرہ کے تاج محل کا دورہ سوشل میڈیا میں موضوع بحث بنا ۔امریکی وزیرخارجہ نے تاج محل کے سامنے اپنی اہلیہ کے ساتھ یادگاری فوٹو سوشل میڈیا پر شیئر کی ۔یہ فوٹو جلد ہی سوشل میڈیا پر بحث کا مرکز بن گئی ۔اس معاملے نے اس وقت ایک الگ موڑ لے لیا جب حیدر آباد میں قائم ایرانی سفارتخانہ نے روبیو کے تاج محل دورہ پر کھلے طور پر طنز کیا ۔ایرانی قونصل خانہ نے اپنے بیان میں یاد دلایا کہ ان کے مطابق تاج محل مغل بادشاہ (شاہ جہاں) کی ایرانی نژاد بیگم ممتاز محل کی محبت کی نشانی ہے اوراس کی تعمیر میں فارسی فنکاروں کی صلاحیت شامل تھی ۔بیان میں امریکہ کی بھی تنقید کی گئی اور امریکی سرکار پر دہرے اسٹنڈرڈ اپنانے کا الزام لگایا گیا ۔سفارتخانہ نے لکھا : اگر مارکو روبیو کو تاریخ اور فن کی سمجھ ہوتی تو وہ یہاں تصویر کھچوانے کے لئے کھڑے نہیں ہوتے یہ یادگار ایک بادشاہ کی ایرانی اہلیہ کی محبت میں بنایا گیا تھا اور اسے ایرانی آرٹسٹوں کے ٹیلنٹ نے گھڑا تھا آج ان کی سرکار ایرانی تہذیب کو مٹانے کی دھمکی دے رہی ہے ۔اور دوسری تہذیبوں کی بے عزتی کرتی ہے ۔ایرانی طنز کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا میں تیزی سے وائرل ہوگیا ۔کچھ ماہرین فن نے روبیو کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تاریخ کے پش منظر کو سمجھے بنا ایسے مقامات پر تصویریں کھچوانا مناسب نہیں ہے۔ کچھ رائے زنی اس سے بھی آگے بڑھ گئی اور امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے سلسلے میں دیکھاجانے لگا ہے ۔ایک ماہر آثار قدیمہ نے کہا کہ یہ عمارت ایک ایرانی ملکا کے لئے فارسی فنکاروں نے بنائی تھی ۔اور یہ ایک ایسی تہذیب کی علامت ہے جسے ان کی سرکار اس وقت میں خطرے میں ڈال رہی ہے اور ان کا احترام نہیں کررہی ہے ۔بتادیں سنگ مرمر ( جو راجستھان کے مکرانے سے آیا تھا) سے بنا ۔تاج محل دنیا کے سات عجائبوں میں سے ایک ہے ۔جسے مغل بادشاہ شاہ جہاں نے اپنی اہلیہ ممتاز محل کی پیار کی یاد میں 1632 عیسوی میں بنوانا شروع کیا تھا جو 1653 عیسوی صدی میں بن کر تیار ہوا تھا ۔اس کے بنانے والے ہندواسلامی ،مغل سمیت کئی آرٹسٹوں کا فن شامل ہے ۔اس وسیع اور شاندار عمارت کو قریب 20 ہزار مزدوروں نے مغل فنکار استاذ احمد لاہوری کی رہنمائی میں بنایا تھا ۔اس مقبرے کو بنانے میں اس وقت قریب 20 لاکھ روپے خرچ آیا تھا ۔آج کے حساب سے یہ لاگت قریب 827 ملین ڈالر تقریباً 52 عشاریہ 8 ارب روپے ہے ۔اس عمارت کی تعمیر میں تقریباً 28 لاگ الگ طرح کے پتھروں کا استعمال کیا گیا جو ہمیشہ چمکتے رہتے ہیں ۔اس کی دیواروں پر بے حد خوبصورت نقاشی کی گئی ہے ۔تاج محل کو 1983 میں یونیسکو نے عالمی وراثت مقام ڈکلیئر کیا تھا ۔
(انل نریندر)

30 مئی 2026

ابراہم سمجھوتے پر پھنسےعرب ممالک



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ وہ ایران پر جو جنگ کررہا ہے وہ دراصل اس کی اپنی جنگ نہیں ہے۔ یہ سب کچھ ٹرمپ اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو کہ کہنے پر کررہا ہے۔ یہ جنگ ٹرمپ نے امریکی مفادات کےلئے نہیں کی ہےبلکہ اسرائیل کے مفادات کے تحفظ کےلئے ہے۔ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ٹرمپ کو نتن یاہو بلیک میل کر رہا ہے اور وہ سب کچھ کہنے اور کرنے پر کروا رہے ہیںجو وہ اور طاقتور یہودی لابی کروا رہی ہے۔سبھی جانتے ہیں کہ ٹرمپ ایسا کیوں کررہے ہیں؟ اس کے پیچھے ایپسٹن فائل کا بھوت ہے۔اگر ایسا نہیں ہوتا تو ٹرمپ یہ نئی شرط کو کیوں ڈالتے؟ ٹرمپ نے حال ہی میں پاکستان ، سعودی عرب،قطر ، ترکی، مصر، جارڈن سے امریکی امن سمجھوتے میں شامل ہونے کی اپیل کرتے ہوئے ان عرب ممالک سے کہا کہ ایران سے سمجھوتہ تبھی پورا ما نا جائے گا ، جب سعودی، قطر، پاکستان، ترکی، مصر، جارڈن، بحرین جیسے عرب مسلم دیش ابراہم سمجھوتہ میں شامل ہوں۔ یعنی اسرائیل کو تسلیم کریں اور اس سے رشتے جوڑیں۔ ٹرمپ نے آگے خبردار کیا جو دیش ایسا نہیں کریںگے انہیں امریکہ ۔ایران ڈیل کا حصہ نہیں ہونا چاہئے۔ٹرمپ نے سعودی عرب، قطر سے فوراً اسرائیل سے رشتے جوڑنے کو کہا۔ انہوں نے آگے کہا سمجھوتے کے بعد ایران کو بھی ابراہم معاہدے میں شامل کرنا عزت کی بات ہوگی۔ ابراہم سمجھوتے کی شروعات ستمبر2020 میں ٹرمپ کے پہلے عہد کے دوران ہوئی تھی۔ یہ ایک ڈپلومیسی سمجھوتہ تھا جس کے تحت متحدہ عرب امارات بحرین نے سرکاری طور پر اسرائیل کے ساتھ رشتے بہتر بنائے تھے ۔ بعد میں مراقش اور سوڈان بھی اس خاکہ میں شامل ہوگئے۔ دہائیوں تک زیادہ تر عرب ملکوں کا رخ یہ تھا کہ جب تک فلسطین مسئلہ کا حل نہیں ہوگا ، تب تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کریںگے۔ لیکن اس سمجھوتے نے اس پالیسی کو بدلنے کی کوشش کی تھی۔ اس سمجھوتے کی سب سے بڑی نکتہ چینی یہ ہورہی ہے کہ اس میں فلسطین مسئلہ کو نظرانداز کردیا گیا۔ نہ تو فلسطین ملک کو لیکر کوئی واضح روڈ میپ دیا گیا اور نہ ہی اسرائیلی بستیوں پر روک کی بات ہوئی۔اسے سبھی جانتے ہیں اسرائیل ایک گریٹر اسرائیل کی امید لگائے بیٹھا ہے جس میں وہ کچھ عرب ملکوں کی زمین لیکر ایک بڑا اسرائیل بنانا چاہتا ہے اور اس میں اب ٹرمپ کھل کر بے شرمی سے مدد کررہے ہیں۔ پاکستان نے اس تجویز کو فوراً مسترد کردیا۔ پاکستان نے آج تک اسرائیل کو کوئی سرکاری منظوری نہیں دی ہے۔حالانکہ یہ بات پاکستان کیلئے اتنا آسان نہیں ہے کیونکہ ٹرمپ جس طرح کے انسان ہیں اور اپنی بات منوانے کیلئے جس طرح ہو سکے پاکستان خارجہ پالیسی کے سامنے آنے والے وقت میں یہ اشو بڑا چیلنج بن کر سامنے آئے۔ سعودی عرب نے بھی اس تجویز کو یہ کہہ کر مسترد کردیا ہے کہ پہلے وہ 1967 کی پوزیشن بحال کرے۔جب اسرائیل ز بردستی فسلطین کی زمین کاٹ کر بنایا گیا تھا ترکی نے تو صاف کہا تھا کہ ہماری تو پالیسی صاف ہے ، ہمیں تو اسرائیل کی موجودگی ناپسند ہے اس لئے ہمارا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ ٹرمپ نے آخر میں یہ دائو کیوں چلا؟ ٹرمپ ایران ڈیل کو صرف جنگ روکنے والاسمجھوتہ نہیں رکھنا چاہتا۔ وہ اسے مغربی ایشیا کے نئے سیاسی نظام قائم کرنا چاہتا ہے اس لئے سعودی عرب ، قطر، پاکستان، ترکی جیسے ملکوں پرجڑنے کا دبائو دے رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو سب سے بڑی کامیابی اسرائیل کو ملے گی۔ اسرائیل کو خلیج میں مانیتا مل جائے گا۔
(انل نریندر)

28 مئی 2026

ایران کی فریز پڑی جائیداد

پاکستان میں امریکہ ایران کے درمیان باہمی بات چیت میں تہران کی فریز پڑے 6 ارب ڈالر کی جائیداد کو جاری کرنا ایک اہم اشو ہے یہ پیسہ ابھی قطر میں جمع ہے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک ایرانی ذرائع نے بتایا کہ قطر سمیت بیرون ممالک میں ضبط اثاثوں کو جاری کرنا اور محفوظ تبادلہ لین دین طے کرنے سے سیدھے طور سے وابستہ ہے ۔6 ارب ڈالر کی یہ رقم پہلے 218 میں روکی گئی تھی ۔واشنگٹن و تہران کے درمیان قیدیوں کی ادلابدلی کے معاہدے کے تحت اسے 2023 میں فریز کیا گیا تھا ۔لیکن 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد بائیڈن انتظامیہ نے اثاثوں کو پھر سے فریز کر دیا تھا ۔ادھر امریکہ نے ایران کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اسلا م آباد مذاکرات میں ضبط اثاثوں کو چھوڑے گا ۔امریکہ نے صاف کہا کہ وہ ایرانی اثاثوں کو واپس نہیں کرے گا اس  سے پہلے ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اس بات پر راضی ہو گیا ہے کہ ضبط اثاثوں کو چھوڑے گا ۔پچھلے کچھ دنوں سے ایک بار پھر جنگ بندی اور امن مذاکرات کی بات ہو رہی ہے ۔دیکھیں امریکہ اور ایران میں کن کن مسئلوں پر سمجھوتہ ہوتا ہے ۔اگر ہوتا بھی ہے ؟ 
(انل نریندر)

ٹرمپ کے پاس تیسری بار فائرنگ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرکاری مکان و دفتر وائٹ ہاؤس کی سیکورٹی جانچ چوکی کے پاس ایک شخص نے فائرنگ کر دی ۔سیکورٹی ملازمین نے جوابی کاروائی میں مشتبہ حملہ آور کو ڈھیر کر دیا ۔پچھلے ایک ماہ میں یہ صدر ٹرمپ کے آس پاس فائرنگ کا یہ تیسرا واقعہ تھا اس سے پہلے اپریل میں وائٹ ہاؤس رپورٹرس فیڈریشن کے عشائیہ اور مئی کی شروعات میں واشنگٹن مونومنٹ کے پاس ایسے واقعات ہوئے ۔ قانون انفورسمنٹ ایجنسی نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں بتایا کہ 17ویں اسٹریٹ اور پین سروینیا ایونیو میں موجود حملہ آور نے سنیچر کی شام چھ بجے اپنے بیگ سے ہتھیار نکالااور فائرنگ شروع کر دی ۔سیکریٹ سروس جوانوں نے جوابی کاروائی میں وہ زخمی ہو گیا ۔اور بعد میں اس کی موت ہو گئی ۔بتایاجاتا ہے کہ حملہ آور نے 30 راؤنڈ گولیاںچلائیں سنیچر کو ہوئی واردات کے دوران ایک راہگیر کو بھی گولی لگی ہے لیکن یہ صاف نہیں ہو پایا کہ وہ مشتبہ حملہ آور کے ذریعے شروع میں چلائی گئی گولیوں سے زخمی ہوا یاافسران کے ذریعے جوابی کاروائی میں اسے گولی لگی ؟ ٹرمپ واردات کے وقت وائٹ ہاؤس میں ہی موجود تھے ایک لاء انفورسمنٹ افسر نے اپنی پہچان پوشیدہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ مشتبہ کی پہچان 21 سالہ ناسر بیسٹ کی شکل میں ہوئی ۔بیسٹ کو پہلے بھی گرفتار کیا گیا تھا ۔جانچ میں جب اس نے بغیر اجازت کے وائٹ ہاؤس کی ایک دیگر چیک پوسٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی تب بیسٹ کو جولائی 2025 میں اس سلسلے میں گرفتار کیاگیا تھا ۔حملہ آور بیسٹ خود کو عیسٰی مسیح مانتا تھا ۔ڈونلڈ ٹرمپ پر تیسری مرتبہ فائرنگ ہو چکی ہے ۔اور وہ ایک مرتبہ تو بال بال بچے جب گولی ان کے کان کے پاس سے جاتی ہوئی نکل گئی اور کچھ نکتہ چینی کرنے والوں کا خیال ہے کہ ان حملوں کے پیچھے ہمدردی بٹورنے اور امریکی عوام کو برننگ اشوز سے توجہ ہٹانے کا ناٹک شامل ہے ۔خیر جوبھی ہو ایک بات تو صاف لگتی ہے کہ ٹرمپ کی جان کو خطرہ ہے اور انہیں اپنی سیکورٹی میں کسی طرح کی ڈھیل نہیں دینی چاہیے ۔
(انل نریندر)

26 مئی 2026

ٹرمپ پر آگ بگولہ ہوئے نیتن یاہو

امریکہ اسرائیل نے مل کر ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی لیکن اب اس جنگ کو روکنے کے لئے دونوں دیش آپس میں متفق نہیں ہوپارہے ہیں ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو میں بھاری اختلافات سامنے آرہے ہیں ۔نیتن یاہو ایک بار پھر سے ایران پر ہوائی حملے شروع کرنا چاہتے ہیں ۔وہیں ٹرمپ ہتھیار سے پہلے ڈپلومیسی کے ذریعے معاملے کو ٹھنڈا کررہے ہیں اور امریکہ کو اس جنگ سے باہر نکلنے کے لئے ایران سے کوئی ڈیل کرنے کے چکر میں ہے ۔بتایاجارہا ہے کہ اس جنگ پر دونوں لیڈروں کے درمیان تقریباً ایک گھنٹے تک بات چیت ہوئی لیکن دونوں میں ایک رائے نہیں بن پائی ۔نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ایران کی فوجی صلاحیت جب تک پوری طرح برباد نہ ہو جائے ان کے یورینیم پر قبضہ نہ ہو جائے حملے جاری رہنے چاہیے ۔امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے کہا کہ ثالث قطر اور پاکستان ایک لیٹر آف انٹینٹ پر کام کررہے ہیں تاکہ جنگ کو باقاعدہ طور سے ختم کیاجاسکے ۔اس پر دستخط ہونے کے بعد 30 دنوں کی بات چیت کا دور شروع ہوگا ۔نیتن یاہو ٹرمپ کی اس پالیسی سے متفق نہیں تھے ۔اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا ایران جنگ روکے گا اور کیا نیتن یاہو اکیلے ہی ایران جنگ کو اپنے آپ بڑھائیں گے یا پھر جنگ چلتی رہے گی ۔
(انل نریندر)

پارلیمنٹ میں ہی اپنوں نے ٹرمپ کو گھیرا

امریکی کانگریس (پارلیمنٹ) میں ایران جنگ کے دوران امریکی فوج و دیش کو ہوئے بھاری نقصان پر ایک مفصل رپورٹ جاری کی ہے ۔جس میں کہا گیا ہے لڑائی کے دوران 42 امریکی جہاز تباہ ہوئے یا ضائع ہوئے ۔ایسی خبریں پہلے بھی میڈیا میں آئی تھیں لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے کبھی اس کی تصدیق نہیں کی تھی یہ رپورٹ امریکی کانگریس کی کانگریشنل ریسرچ سروس ( سی آر ایس) نے مرتب کی ہے اور یہ امریکی کانگریس کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے ۔سی آر ایس کسی بھی سیاسی پارٹی سے تعلق کی پرواہ کئے بنا امریکی کانگریس کے دونوں ایوان کو پالیسی ساز اشوز پر تجزیہ مہیا کراتا ہے ۔رپورٹ میں امریکی ڈیفنس محکمہ پنٹاگون سنٹرل کمان ( سیٹکام ) اور سماچار آرٹیکلس کا حوالہ دیا گیا ہے جن کے مطابق تباہ یا ضائع ہوئے جہازوں میں غیر انسانی ہوائی گاڑی یا جنگی جیٹ اور ڈرون شامل تھے ۔ایران سے جنگ امریکہ کے لئے کافی بھاری پڑرہی ہے تجزیہ نگاروں کا دعویٰ ہے کہ اس جنگ میں امریکہ ایک لاکھ کروڑ (ایک ٹریلین ڈٓالر ) کے قریب پھونک چکا ہے حالانکہ سرکار نے اسے کافی کم کرکے دکھایا ہے ۔پنٹاگون کے ایک سینئر بجٹ آفیسر نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ اس جنگ میں امریکہ کو اب تک 29 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے جبکہ بجٹ 25 ارب ڈالر کا تھا ۔ ایران جنگ کے سبب بھاری خرچ اور ہتھیاروں کے ذخیرے میں آئی کمی کے مسئلے پر ٹرمپ کو اپوزیشن کے ساتھ ساتھ اپنی ہی پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ کی بھی بھاری مخالفت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ دوسری جانب ، ایران نے ابھی تک جنگ میں ہوئے نقصان کی تفصیل نہیں بتائی ہے اور اب بھی دعویٰ کرتا ہے کہ وہ امریکہ کے خلاف جنگ جاری رکھنے میں اہل ہے ۔صدر ٹرمپ اب ایران جنگ کو لے کر گھر کے اندرہی بری طرح گھرتے جارہے ہیں ۔ جہاں ایک طرف امریکی عوام سڑکوں پر اتر آئی ہے وہیں امریکی فوج اور ایم پیز سبھی جگہ ٹرمپ کو اپنے ہی گھیر رہے ہیں۔
(انل نریندر)

23 مئی 2026

ٹرمپ نے کیسے ایران جنگ میں کمائے پیسے ؟

ڈونلڈ ٹرمپ پر پہلی بار کسی امریکی صدر پر جنگ سے کمائی کرنے پر سوال اٹھنے لگے ہیں ۔اب ٹرمپ ٹریڈنگ وار میں گھر گئے ہیں ۔نئے مالی انکشافات کے مطابق سال 2026 کی پہلی سہ ماہی یعنی جنوری سے مارچ 2026 کے درمیان ٹرمپ یا ان کے مشیروں کی منڈلی نے 3700 سے زیادہ شیئر سودے کئے ۔روز تقریباً 40 شیئر سودے ہوئے ہیں ان میں ٹرمپ کو تقریباً 800 کروڑ روپے یعنی تقریباً 83 ملین ڈالر سے زیادہ کی کمائی ہوئی ۔یہ شیئر این ویڈیا ، بوئنگ ،مائیکروسوفٹ ،میٹا ،ایمازون اور اوریبل و کاسٹیکو جیسی کمپنیوں کے تھے ۔ٹرمپ تنازعوں میں اس لئے ہیں چونکہ کمپنیاں ، ڈیفنس سودے ، اے آئی قواعد اور چپ وسیمی کنڈکٹر درآمدات یا پھر ایکسپورٹ سے وابستہ ہیں ۔وال اسٹریٹ کی کمپنی ایرک ڈیٹن کے مطابق امریکہ کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہے جب کوئی امریکی صدر مالی لین دین اور مفادات کے ٹکراؤ کے اشو پر سوالوں کے گھیرے میں ہے ۔ ادھر وائٹ ہاؤس نے ایک بیان جاری کر شیئر ٹریڈنگ کو لے کر صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر لگے الزامات سے انکار کیا ہے ۔ٹرمپ مازو نائز یرن پورے کاروبار کو سنبھالتا ہے ۔بیٹے جونیئر ٹرمپ کے پاس امریکہ اور یوروپ سے سرمایہ لانے کی ذمہ داری ہے جبکہ داماد زیروڈ کشنر کی کمپنی ایفنٹی پارٹنرس ، سعودیہ عرب اور دیگر خلیجی ملکوں کے سرکاری ویلتھ فنڈ سے ملے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو سنبھالتی ہے ۔اس رقم کو شیئروں میں ڈائیورٹ کرتے ہیں۔ ٹرمپ کے پورٹ فولیو میں پچھلے سال کے آخری تین مہینوں میں 380 شیئر ٹریڈنگ کے ریکارڈ ہیں جبکہ اس سال 10 فروری کو ہی ٹرمپ نے مائیکروسافٹ ،میٹا اور ایمازون میں اپنے شئروں کی حصہ داری کو بیچ کر تقریباً 350 کروڑ روپے کی کمائی کی تھی ۔اس سے کچھ دن پہلے ہی ٹرمپ نے اینٹی ٹرسٹ اور اے آئی ریگولیشن و ڈیٹا پالیسیوں سے متعلق بڑے فیصلے کئے ۔ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے کبھی جنگ تو کبھی بات چیت کے بیانوں سے تیل اور اسٹاک وعدہ بازاروں میں بھاری اتھل پتھل رہی جب بھی ٹرمپ جنگ سے متعلق بیان دیتے تو تیل کے دام میں اچھال آجاتے جبکہ بات چیت والے بیان سے شیئر بازار میں تیزی آجاتی ۔
(انل نریندر)

عمران کا تختہ پلٹ امریکہ کی سازش تھی

پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی سرکار گرنے کو لے کر بڑا انکشاف ہو ا ہے ۔افشاں دستاویزوں کی بنیاد پر دوعویٰ کیا گیا ہے کہ عمران کی کرسی صرف عدم اعتماد تحریک سے نہیں گری تھی بلکہ اس کے پیچھے امریکی سازش اور پاک فوج کا رول تھا ۔دراصل عمران نے 24 فروری 2022 کو روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ماسکو میں ملاقات کی تھی ۔ٹھیک اسی دن روس نے یوکرین پر حملے شروع کئے تھے ۔رپورٹ کے مطابق امریکہ عمران کے اس دورہ سے ناراض تھا ۔وہ چاہتا تھا کہ پاکستان یوکرین جنگ پر روس کی کھل کر نکتہ چینی کرے ، لیکن عمران سرکار نے غیر جانبدار رخ اپنایا ۔ 7 مارچ 2022 کو واشنگٹن میں پاکستان کے اس وقت کے سفیر اسد ماجد خان اور امریکی معاون وزیرخارجہ زونالڈ لو کے درمیان بات چیت ہوئی ۔لو نے ماجد سے کہا کہ اگر عمران عدم اعتماد کی تجویز میں ہار جاتے ہیں تو امریکہ سب معاف کر دے گا ۔اس کے 33 دن بعد 9 اپریل 2022 کو عمران سرکار گر گئی ۔واشنگٹن کے ایک ہوٹل میں لو نے ماجد کو لنچ پر عمران کو ہٹانے کا دباؤ دیا تھا ۔عمران کے ہٹنے کے اگلے دن ہی شہباز شریف نے اقتدار سنبھال لیا ۔نومبر 2022 میں جنرل باجوا عہدے سے ریٹائر ہوئے ۔اور آرمی چیف عاصم منیر کا عروج ہوا ۔عمران نے الزام لگایا تھا کہ منیر کی تقرری سابق وزیراعظم نواز شریف کے مشورے کے بعد ہوئی تھی ۔باقی تو تاریخ ہے امریکہ کسی بھی ایسی سرکار کو برداشت نہیں کرتا جو اس کی مخالفت کرے اور روس سے نزدیکی بنائے ۔
(انل نریندر)

21 مئی 2026

یو اے ای کے براقح نیوکلیئر پلانٹ پر حملہ

متحدہ عرب امارات (یو اے ای ) کے القفرہ علاقہ میں قائم براقح نیوکلیئر پاور پلانٹ کے کمپلیکس میں پیر کے روز ایک ڈرون حملہ ہوا ۔ اور اس کے بعد اس میں آگ لگ گئی حالانکہ کسی کے زخمی یا مرنے کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ایران اور یو اے ای اب لگتا ہے کہ جانی دشمن بن چکے ہیں ۔ڈرون سے براقح نیوکلیئر پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا ۔اس حملے کو یو اے ای نے بغیر کسی وجہ کے دہشت گردانہ حملہ قرار دیا ۔دراصل اس حملے کی ذمہ داری فی الحال کسی بھی گروپ نے نہیں لی ہے مگر یو اے ای کا الزام ایران کی طر ف ہے ۔یو اے ای کا خیال ہے کہ یہ حملہ ایرا ن نے ہی ڈرون کے ذریعے کیا ہے ۔پچھلے کئی دنوں سے ایرا ن اور یو اے ای میں ٹکراؤ جاری ہے ۔ایران کا خیال ہے کہ یو اے ای کھل کر امریکہ اور اسرائیل کی مدد کررہا ہے اور اس کی سرزمین سے ہی امریکی حملے ہورہے ہیں ۔خبر تو یہاں تک ہے کہ موجودہ جنگ کے دوران ہی اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو اور ان کے موساد چیف نے یو اے ای کا خفیہ دورہ کیا تھا ۔ڈرون حملے سے براقح پلانٹ کے باہری زون میں واقع ایک الیکٹرک جنریٹر میں آگ لگ گئی یہ آگ پلانٹ کے اندرونی احاطہ کے باہر لگی تھی ۔فیڈرل نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی نے بھی اس حملے کی تصدیق کی ہے کہ آگ سے پلانٹ کی حفاظت یا اس کے ضروری سسٹم پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے اور سبھی یونٹ ٹھیک ٹھاک کام کررہے ہیں ۔سبھی ضروری احتیاطی قدم اٹھا لئے گئے ہیں اور لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے ہی جانکاری لیں اور افواہوں سے بچیں ۔بیان میں ڈرون حملے کے ذرائع کے بارے میں کوئی بھی جانکاری نہیں دی گئی ہے ۔ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہم نے کوئی حملہ نہیں ہے تو پھر حملہ کس نے کیا ؟ کیا کوئی تیسری طاقت اپنا کھیل تو نہیں کھیل رہی ہے ۔دونوں ملکوں کو لڑوا کر اپنا اللو سیدھا کرے اس سے پہلے بھی پانچ مئی کو یو اے ای نے کہا تھا کہ اس کے کچھ زونوں پر ایران سے داغی گئی میزائلیں اور ڈرون سے حملہ کیا گیا ۔لیکن ایران کی فوجی کمان نے اس الزام سے انکار کیا تھا ۔ایرانی حکام نے یو اے ای کے ان الزمات کو بھی مسترد کر دیا تھا جس میں ایران پر حملہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا ۔دراصل یو اے ای کو ایران اس لئے اپنا دشمن مان رہا ہے ،کیوں کہ اسے لگتا ہے کہ یو اے ای کی سرزمین کا استعمال کرکے ہی امریکہ نے اس پر حملے کئے ہیں ۔بہرحال اس حملے نے اسرائیل -ایران اور امریکہ کے درمیان چل رہی نازک جنگ بندی کو لے کر تشویشات کو اور بڑھا دیا ہے ۔ایسا لگ رہا ہے کہ ڈپلومیٹک کوشش بھی اب کافی کشیدہ ہوتی جارہی ہیں ۔یو اے ای نے اس حملے کے پیچھے کے لوگوں پر بغیر کسی اکساوے کے دہشت گردانہ حملہ کرنے کا الزام لگایا اور خبردار کیا کہ وہ اپنے ملک کی سرداری پر کسی بھی طرح کے خطرے کو برداشت نہیں کرے گا۔ ساؤتھ کوریا کی مدد سے بنے اور 2020 سے چالو براقح نیوکلیئر پلانٹ اب دنیا کا ایک واحد نیوکلیائی اینرجی پلانٹ ہے ۔20 ارب ڈالر کی لاگت سے بنا یہ پلانٹ یو اے ای کی تقریباً ایک چوتھائی اینرجی ضروریات کو پورا کرتا ہے ۔
(انل نریندر)

19 مئی 2026

چین سے کیا لے کر لوٹے ٹرمپ

2025 میں امریکہ کے اقتدار میں واپس لوٹے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پوری دنیا کے ساتھ رنگ باز کی طرح پیش آرہے تھے ۔ایک سال میں کئی ملکوں نے ٹرمپ کی داداگیری کے تیور دکھانے والے ٹرمپ بیجنگ بھی انہیں تیوروں کے ساتھ پہنچے تھے لیکن جب لوٹے یہ تیور ٹھنڈے پڑ گئے ۔ان کا بھروسہ کچھ یوں غائب ہوا جیسے فری کے وائی فائی کا نیٹورک ۔ایسے میں جاننا ضروری ہو جاتا ہے کہ چین گئے ٹرمپ کیا دے کر آئے ہیں اور کیا لے کر لوٹے ہیں ؟ باہر سے چہرے پر مسکان کے پیچھے نقصان ہے یا فائدہ ؟ جتنی بڑی باتیں اتنی بڑی ڈیل ہمیں تو یہ نظر نہیں آئی ۔بیجنگ چھوڑنے سے پہلے ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ہوئے معاہدے کو شاندار ٹریڈ سودہ بتایا ۔انہوں نے کہا کہ ان معاہدوں سے دونوں ملکوں کو بڑا فائدہ ہوگا ۔ساتھ ہی ٹرمپ نے اسٹریٹ آف ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لئے چین کی مدد قبول کرنے کی بھی بات کہی ۔ٹرمپ نے کہا : ہم نے کچھ شاندار ڈیل کی ہیں جو دونوں ملکوں کے لئے بہت اچھی ہیں ۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس بات چیت کے دوران کئی مسائل بھی سلجھائے گئے ہیں ۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ چین نے 200 بوئنگ طیاروں کی ڈیل پر بھی حامی جتائی ہے ۔یہ ایک محض ٹھوس ڈیل کہی جاسکتی ہے جو اس دورہ پر ہوئی لیکن اس پر ہی چین نے کوئی جواب نہیں دیا ہے ۔اس دورہ میں ٹرمپ کا کیا رویہ پوری طرح بدلا ہوا تھا ۔عام طور پر جارحانہ اور ٹکراؤ والی سیاست کے لئے جانے جاتے ٹرمپ اس دورہ میں کافی نرم گو اور صبر وتحمل میں نظر آئے ۔انہوں نے شی جن پنگ کی تعریف میں اتنے قصیدے پڑھے جتنے شاید کسی اور وزیراعظم ،صدر کے لئے پڑھے ہوں ۔جن پنگ کی تعریف میں چند پڑھے قصیدے زیلنسکی ہوں یا سابق صدر جوبائیڈن ، 1 سال میں ٹرمپ نے کئی ملکی ،غیر ملکی لیڈروں کی بے عزتی کرنے اور ان کا مذاق اڑانے میں کوئی قصر نہیں چھوڑی ۔ٹرمپ نے کہا -اگر آپ ہالی ووڈ جائیں اور چین کے لیڈروں کے کردار نبھانے کے لئے کسی اداکار کو ڈھونڈیں تو شی جن پنگ بالکل اسی طرح فٹ بیٹھیں گے ۔ٹرمپ کے چین دورہ میں ایک اہم ترین اشو تھا تائیوان وہاں بیجنگ اسے اپنا حصہ مانتا ہے جبکہ امریکہ لمبے عرصے سے تائیوان کی حمایت کرتا رہا ہے ۔لیکن حیرانی کی بات یہ رہی کہ پورے دورہ میں ٹرمپ نے تائیوان کا نام تک نہیں لیا ۔الٹا شی جن پنگ نے ٹرمپ کے منہ پر سنا دیا کہ آج تائیوان کی مدد کرنا بند کریں ۔اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو ہم آپ سے جنگ تک کرنے پر مجبور ہوں گے ۔اس پر بھی ٹرمپ نے کوئی رد عمل نہیں دیا ۔شی جن پنگ نے خبردار کیا کہ تائیوان کا اشو چین ،امریکہ رشتوں میں سب سے حساس ترین ، اہم ترین اشو ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسے صحیح طریقہ سے نہیں سنبھالاگیا تو دونوں ملکوں کے درمیان ٹکراؤ اور یہاں تک کہ جنگ بھی ہوسکتی ہے ۔ٹرمپ نے اپنے شوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوتھ سوشل پر بھی ایسا ہی بیان دیا جس نے لوگوں کو چونکا دیا ۔انہوں نے امریکہ کو گرتا ہوا ملک کہنے والی شی جن پنگ کی بات سے عدم اتفاق جتایا ۔حالانکہ ٹرمپ نے کہا کہ شی کا اشارہ بائیڈن انتظامیہ کے چار سالوں کے بھاری نقصان کی طرف تھا ۔ایک برطانوی تجزیہ نگار نے اپنے کالم میں ٹرمپ کے رویہ پر تلخ نکتہ چینی کی تھی ۔انہوں نے لکھا سودے کی کلا اب اس وقت چاپلوسی کی کلا جیسی لگتی ہے ۔جب دوسرے آدمی کے پاس سارے پتے ہوں انہوں نے کہا شی جن پنگ یہ بات جانتے تھے کہ دنیا کا سب سے بڑا تاجر بھی جانتا تھا لیکن شاید کمرے میں موجود ایک مسافر شخص جسے اس کا احسا س نہیں ہوا ، وہ خود ٹرمپ تھے ۔
(انل نریندر)

16 مئی 2026

ایران کی نیوکلیئر دھمکی

امریک کی طرف سے امن تجویز پر ایران کے جواب کو مسترد کئے جانے کے بعد مغربی ایشیا میں پھر سے جنگ کی آہٹ سنائی دینے لگی ہے ۔امریکہ کی تجاویز کا ایران کی جانب سے دیے گئے جواب سے صدر ٹرمپ بوکھلا گئے ہیں ۔انہیں ایران کا جواب بالکل پسند نہیں آیا ۔اُدھر ایران نے امریکہ کو ایسی دھمکی دے دی ہے جو ٹرمپ کے لئے کسی بڑے کرائسس سے کم نہیں ہے۔ پہلے سے ہی جو امن مذاکرات وینٹی لیٹر پر تھے ، وہ اب اور نازک حالات میں پہنچ سکتے ہیں اس بار ایران نے صاف کر دیا ہے کہ وہ ویپنس گریڈ نیوکلیئر بم بنانے سے صرف ایک قدم دور ہے اور اسے حاصل کرنے کا حکم قریب ہی دے سکتا ہے ۔نیوکلیائی حملے کو لےکرایران نے سخت وارننگ دیتے ہوئے لحظہ میں 90 فیصد تک افزودگی یورینیم کو صاف کرنے کی بات کہی ہے ۔ایران کی پارلیمنٹ کے ترجمان ابراہیم رضائی نے منگلوار کو کہا ہے کہ ا گر ایران پر پھر حملہ ہوا تو وہ یورینیم کو 90 فیصد صاف کرسکتا ہے ۔ایسے میں یہ یورینیم نیوکلیئر ہتھار کے لئے کارگر ہوگا ۔یہ وارننگ انہوں نے ایکس کے ذریعے سے دی ہے ۔پچھلے جون 2025 میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اسرائیل اور امریکہ کے حملے کی وجہ سے ایران کے یورینیم افزودگی کی صلاحیت کو نقصان پہنچا تھا ۔فی الحال جو متعلقہ یورینیم 60 فیصد ایران کے پاس ہے جس کی مقدار تقریباً 400 کلو ہے ۔فی الحال اس کے بارے میں کسی طرح کی جانکاری نہیں ہے ۔امریکہ مسلسل ایران سے نیوکلیائی پروگرام ترک کرنے کی مانگ کررہا ہے ۔ادھر امریکی خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ جب تک ایران کے اس یورینیم افزودگی کو نہیں ہٹایاجاتا تب تک کسی طرح کا اثر ایران نیوکلیائی پروگرام پر نہیں پڑے گا ۔28 فروری سے جاری جنگ میں فی الحال سیز فائر چل رہا ہے لیکن یہ بے حد ہی حساس ترین سیز فائر ماناجارہا ہے ۔ایسے میں دونوں فریق کسی بھی ٹھوس نتیجہ پر نہیں پہنچے ہیں ۔امریکہ لگاتار مانگ کررہا ہے کہ ایران اپنے نیوکلیائی پروگرا م کو چھوڑ دے ۔لیکن ایران بھی اپنی شرطوں پر اڑا ہوا ہے ۔ایران بولا -امریکہ کے پاس تجویز تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے ۔وہیں امریکہ کے پاس ایران کی طرف سے بتائے گئے 14 نکاتی تجویز کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے ایسا ایران کے اسپیکر محمد باقر غالیباف نے کہا جتنا امریکہ دیر کرے گا وہاں کے ٹیکس دہندگان کو اتنی ہی بڑی قیمت چکانی پڑے گا ۔انہوں نے ساتھ کہا ہے کہ ایران ہر متبادل کے لئے راضی ہے ۔پلٹوار کرنے کو تیار ہے ۔ایسا حملہ کرے گا کہ امریکہ بھی چونک جائے گا ۔ایران اور جھکنے کے موڈ میں نہیں نظر آرہا ہے ۔سابق صدر حسن روحانی نے بھی کہا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم 90 فیصد تک جائیں گے اب جب ٹرمپ دوبارہ اقتدار میں ہیں اور تہران کے خلاف سخت رخ اپنا رہے ہیں تو میں نیوکلیئر کانڈ کی پوری دنیا کو ایک ایسی جنگ میں جھو نک سکتا ہے ۔اسے روکنا شاید کسی کے بس میں نہیں ہوگا ۔
(انل نریندر)

14 مئی 2026

نیتن یاہو کی کھلی وارننگ: ابھی جنگ ہو سکتی ہے

ایران او ر امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے باوجود مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی کی لپٹیں ایک بار پھر تیز ہو گئی ہیں ۔اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے ایک امریکی ٹی وی چینل پر ایک دھمکاکو انٹرویو دیتے ہوئے صاف کر دیا ہے کہ ایران کا نیوکلیائی خطرہ ٹلا نہیں ہے ۔نیتن یاہو کا یہ پیغام نہ صرف ایران بلکہ ٹرمپ انتظامیہ اور پوری بین الاقوامی برادری کے لئے ایک بڑی وارننگ ہے ۔وزیراعظم نیتن یاہو نے سی بی ایس کے صحافی اسکارٹ پیلی کو دیے 18 منٹ کے انٹرویو میں پہلی بار ایران کے نیوکلیائی ذخیرے کی تفصیلات پیش کیں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس ابھی بھی 440 کلو گرام 60 فیصد افزودگی یورینیم کا ذخیرہ ہے ۔نیتن یاہو نے سخت لحظہ میں کہا جنگ بندی اپنی مرضی ہے لیکن نیوکلیائی خطرہ ختم نہیں ہوا ہے ۔آپ وہاں جائیں گے اور اسے ہٹا دیتے ہیں ابھی کام پورا ہونا باقی ہے ۔نیتن یاہو نے ایک اہم ترین بیان دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اب امریکہ کی فوجی مدد 3.8  بلین ڈالر سالانہ پر اپنی ایکسپورٹ میں کمی کرنی چاہیے انہوںنے اشارہ دیا کہ اسرائیل اپنی حفاظت کے لئے پوری طرح آزاد ہونے کا پلان بنارہا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر بغیر کسی باہری دباؤ کے کاروائی کر سکے ۔ اس انٹرویو کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ٹوٹھ سوشل پر لکھا : ہم اسرائیل کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں ۔بنجامن ایک بڑے ایک مہان لیڈر ہیں اور ہم دونوں ایک پیج پر ہیں ۔اس سے صاف ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران پالیسی اور بھی جارحانہ ہوسکتی ہے ۔ایران نے پاکستان کے ذریعے جو امن تجویز بھیجی تھی اسے اسرائیل نے بھی ایک خانہ پوری قرار دیا ہے ۔اسرائیل کا ایک ہی موقف ہے جب تک سارا افزودگی یورینیم دیش سے باہر نہیں جاتا تو کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ۔نیتن یاہو کے اس موقف نے صاف کر دیا ہے کہ اسرائیل ایک طرفہ کاروائی سے پیچھے نہیں ہٹے گا ۔یہاں ایک طرف دنیا امن کی امید لگائے بیٹھی ہے ،وہی نیتن یاہو یہ بیان دے کر یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں مغربی ایشیا کی سیاست اور سیکورٹی کے لئے فیصلہ کن ہونے والی ہوسکتی ہے ۔کیا یہ محض ایک ڈپلومیٹک دباؤ ہے یا اسرائیل سچ میں کسی بڑی فوجی کاروائی کی تیاری میں ہے ؟ امریکہ جہاں ایران کے ساتھ امن چاہتا ہے وہیں اسرائیل اس سمت میں بڑا روڑا بنتا دکھائی دے رہا ہے ۔امریکہ بیشک ایران سے جنگ ختم کرنا چاہتا ہو لیکن اسرائیل ہے کہ اسے یہ کرنے نہیں دے رہا ہے ۔امریکہ ایک طرفہ چاہتا ہے کہ ایران کے ساتھ اس کی صلح ہو جائے ، وہیں اسرائیل ایسا ہونے نہیں دے گا اور لڑائی جاری رکھنے میں بنجامن نیتن یاہو کے ذاتی مفاد بھی ہیں اس پر کرپشن کے الزام لگے ہوئے ہیں اور اسرائیلی عدالتوں میں ان کے خلاف مقدمے چل رہے ہیں ان سے بچنے کے لئے نیتن یاہو کہیں نہ کہیں جنگ کو بڑھاوا دیتا ہے اور اس کی آڑ میں عدالتوں سے بچتا رہتا ہے اس لئے اگر ایران سے جنگ بندی ہو تو وہ لبنان میں جنگ شروع کر دیتا ہے ۔جب ایران اور امریکہ کی سیز فائر کی بات ہوئی تب بھی نیتن یاہو نے صاف کہا کہ اس میں اسرائیل-لبنان جنگ شامل نہیں ہے ۔وہ مشرقی وسطیٰ میں کسی بھی سمجھوتہ کو توڑنے میں لگا رہتا ہے۔ اصل جنگ کا قصوروار نیتن یاہو ہے ۔
(انل نریندر)

12 مئی 2026

سیز فائر اور جنگ

ایک طرف تو امریکہ ایران کے درمیان کہنے کے تو سیز فائر یعنی جنگ بندی چل رہی ہے ۔وہیں دوسری طرف جنگ بھی جاری ہے ۔یہ سیز فائر اپنی سمجھ سے تو باہر ہے ۔دعویٰ کیاجارہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے بیچ اگلے ہفتے اسلام آباد میں بات چیت ہو سکتی ہے ۔ دونوں ملکوں کے درمیان 14 نکاتی معاہدے پر کام چل رہا ہے ۔جس میں نیوکلیائی پروگرام ،ہرمز کشیدگی جیسے اشوز شامل ہیں اس درمیان ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے رول کو لے کر بھی نئی جانکاری سامنے آئی ہے ۔امریکی ایجنسیاں انہیں جنگ اور بات چیت میں اہم مان رہی ہیں ۔رپورٹ کے مطابق دونوں ملکوں کے بیچ اگلے ہفتے اسلام آباد میں جو بات چیت ہونی ہے اس میں ایک اہم اشو ایک ماہ چلنے والی بات چیت کے خاکے کوتیار کرنا ہے تاکہ دونوں ملکوں کے بیچ کشیدگی اور جنگ ختم کی جاسکے ۔رپورٹ کے مطابق اس تجویز میں ایران کے نیوکلیائی پروگرام اور ایران کے پاس موجودہ ہائی اینرچ یورینیم کو کسی دوسرے دیش میں بھیجنے جیسے اشوز شامل ہیں ۔حالانکہ کئی اہم معاملوں پر ابھی بھی اتفاق رائے نہیں ہوپایا ہے ۔سب سے بڑا تنازعہ نیوکلیائی پروگرام اور امریکہ کی طرف سے ایران پر لگی پابندیوں میں راحت کو لے کر ہے ۔اس درمیان ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو لے کر جانکاری بھی سامنے آئی ہے ۔امریکی خفیہ ایجنسیوں کا خیال ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگ کی حکمت عملی طے کرنے اور امریکہ سے بات چیت کو سنبھالنے میں بڑا رول نبھا رہے ہیں ۔اہم ترین یہ ہے کہ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای ٹھیک ہیں اور انہوں نے اپنی کمان سنبھال لی ہے ۔ایک طرف تو سیز فائر جاری ہے اور ڈیل کی بات ہورہی ہے دوسری طرف ہرمز کو لے کر خطرناک جنگ چھڑی ہوئی ہے ۔مشرق وسطیٰ میں امن کی امیدوں کو ایک بار پھر جھٹکا لگا ہے۔ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کو امریکہ اور ایران کے بیچ حملے پھر شروع  ہو گئے ہیں ۔حملے کے درمیان 8 اپریل 2026 سے چلی آرہی نازک جنگ بندی ٹوٹنےکے دہانے پر پہنچ گئی ہے ۔یہ حملے ہرمز ، کیرام اور بدر عباس علاقہ میں ہوئے ہیں ۔اسٹریٹ آف ہرمز میںہوئی اس جھڑپ کے بعد پورے علاقہ میں کشیدگی پھر سے انتہا پر پہنچ چکی ہے ۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ بدتمیزی کی ہے ۔حالانکہ انہوں نے یہ بھی امید جتائی ہے کہ سمجھوتہ اب بھی ممکن ہے ۔امریکہ کے سنٹرل کمان (سنٹکام ) کے مطابق ایرانی فوج نے اسٹریٹ آف ہرمز میں تعینات تین امریکی جہازوں پر میزائلوں اور ڈرون اور چھوٹی بحری کشتیوں سے حملہ کیا ہے ۔حالانکہ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ان کے جہازوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے ۔اور جوابی کاروائی میں ایران کے ان فوجی ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا ہے جہاں سے یہ حملے شروع ہوئے تھے ۔دوسری جانب ، ایرانی میڈیا تہران ٹائمس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملے کے سبب ان کے جہازوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا ہے ۔ایرانی فوج کے ترجمان نے واشنگٹن پر سیز فائر خلاف ورزی کا سیدھا الزام لگایا ہے اور ساری دنیا کی نظریں اب مجوزہ اسلام آباد میں امن بات چیت پر ٹکی ہیں ۔تمام دنیا چاہ رہی ہے کہ یہ جنگ رکے اور خطہ میں امن چین پھر سے قائم ہو ۔
(انل نریندر)

09 مئی 2026

ایران نے خلیجی ملکوں پر حملہ کیوں کیا؟

امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران ایران کی جوابی کاروائی روایتی نشانوں سے آگے بڑھ گئی ہے ، اس نے خلیجی ملکوں میں مسلسل حملے کئے اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے ۔متحدہ عرب امارات نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اس پر میزائل اور ڈرون سے حملہ کیا ،جنہیں ایئر ڈیفنس سسٹم نے روکا۔ فوٹیج میں ایک تیل فیسلٹی پر ایک ڈرون گرنے سے آگ لگ گئی جس میں تین ہندوستانی زخمی ہو گئے ۔اس سے پہلے ٹینکر پر ڈرون حملے کی واردات سامنے آئی تھی ۔امریکہ -ایران کے درمیان سیز فائر کے بعد اس طرح کا پہلا حملہ ہے ۔الجزیرہ اخبار کی رپورٹ کے مطابق یو اے ای کے وزارت دفاع نے پیر کی شام بتایا کہ دیش کے الگ الگ حصوں میں بیلسٹک میزائل ،کروز میزائل اور ڈرون کو انٹرسیپٹ کیا جارہا ہے ۔ایران نے خلیجی ملکوں میں امریکہ سے وابستہ ڈیجیٹل ہب ، کلائیڈ انفراسٹرکچر اور ڈیٹا سنٹرس کو نشانہ بنا کر جنگ کے دائرہ کو مزید پھیلا دیا ہے ۔ایران کی اسلامک ریبولیوشنری گارڈس کارف (آئی آر جی سی ) نے کہا کہ اس نے یو اے ای اور بحرین میں ڈیٹا سنٹرس پر ڈرون حملے کئے یہ آج کی جنگ میں ایک اہم ترین واقعہ ہے جس میں صرف سائبر دراندازی کے بجائے عام لوگوں سے جڑے کلائیڈ انفراسٹرکچر پر سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت حملے کئے گئے ہیں ۔ایرانی سرکار میڈیا نے بتایا کہ اس کا مقصد ان ڈیٹا سنٹروں کی ورمن کی فوجی اور دیگر سرگرمیوں میں مدد کرنے والے رول کو سامنے لانا اور اسے روکنا ہے ۔موجودہ دور میں کلائیڈ انفراسٹرکچر اب دہرے استعمال والی حکمت عملی ہب کے طور پر ابھرا ہے ۔یہ بینکنگ ایویشن ،ہیلتھ کیئر ،کارپوریٹ کام کاج اور ای گورنمنٹ جیسے سیکٹروں میں عام لوگوں کو خدمات دیتا ہے ۔اس کے علاوہ وہ فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے کاموں میں مدد بھی کرتا ہے جس میں اے-آئی پر مبنی تجزیہ ،سیٹلائٹ تصاویر کی پروسیسنگ ،لاجسٹکس کے پلان بنانا اور کمانڈ اینڈ کنٹرول میں مدد کرنا شامل ہے ۔امریکہ خاص طور پر بڑے پیمانہ پر کلائیڈ سیوائیں دینے والی کمپنیوں پر منحصر ہے ان میں ایمازون ،مائیکروسافٹ اور گوگل جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں شامل ہیں ۔ایران کا خیال ہے کہ ان سنٹروں کو نشانہ بنانے سے جنگ کی حکمت عملیاں پوری طرح بدل جائیں گی۔ اور اس سے لڑائی کی سمت پر گہرا اثر پڑسکتا ہے ۔یو اے ای اس لئے بھی ایران کے نشانہ پر ہے کیوں کہ اس کا ماننا ہے کہ یہ امریکہ ،اسرائیل کے اشاروں پر کام کرتا ہے اور اپنی زمین کا ایران پر امریکی حملوں کے لئے استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔ریسرچ کنندہ خالد ولید نے لندن سے شائع اخبار القدوس العربی میں لکھا : یہ دکھاتا ہے کہ ان کی حکمت عملی میں بہت سی تبدیلی آئی ہے اب جگہوں کو نہیں بلکہ اس سسٹم کو نشانہ بنایاجارہا ہے جو نگرانی کا کام کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا ، اس نظریہ سے دیکھیں تو یہ کمپنیاں اب صرف تکنیکی خدمات دینے تک محدود نہیں رہ گئی ہیں بلکہ وہ ایک سیدھے یا درپردہ طور سے فوج کے فیصلے لینے کی کاروائی کی چین کا حصہ بن گئی ہے ۔
(انل نریندر)

07 مئی 2026

مناب اسکول پر حملے کیلئے پینٹاگن کی خاموشی

سابق سرکردہ فوجی وکیل سمیت امریکہ کے پانچ سابق حکام نے اس سال کی شروعات میں ایران کے ایک اسکول پر ہوئے خوفناک حملے میں امکانی امریکی رول کو تسلیم کرنے پر پینٹاگن (امریکی وزارت دفاع) کی نکتہ چینی کی ہے ۔ان میں سے کچھ نے کہا کہ اتنے لمبے عرصہ بعد بھی حملے کی بنیادی تفصیلات تک جاری نہ کرنا بے حد غیر موضوع ہے ۔ایرانی حکام کے مطابق 28 فروری کو امریکہ ،اسرائیل جنگ کی شروعاتی کاروائی کے دوران مناب میں ایک پرائمری اسکول پر میزائل گری جس میں قریب 110 بچوں سمیت 168 لوگوں کی موت ہوئی تھی ۔اس کے بعد گزرے دو ماہ میں پینٹاگن نے صرف اتنا کہا ہے کہ اس واقعہ کی جانچ جاری ہے ۔مارچ کے آغاز میں امریکی میڈیا نے خبر دی تھی کہ امریکی فوجی جانکاروں کا خیال ہے کہ شاید امریکی فورس انجانے میں اسکول پر حملے کے لئے ذمہ دار تھے لیکن آخری نتیجہ تک نہیں پہنچے تھے ۔بی بی سی نے اس حملے اور اس کی شفافیت کی کمی کے الزامات پر کئی سوال پوچھے جس پر پینٹاگن کے ایک افسر نے بتایا کہ اس واقعہ کی جانچ جاری ہے ۔لیفٹننٹ کرنل ریملائی وین لینگڈز کہتی ہیں کہ امریکہ کی موجودہ حالات عام رد عمل سے صاف طور پر الگ ہے ۔انہوں نے امریکی ایئر فورس میں جج ایڈوکیٹ جنرل رہ چکی ہیں نے بتایا کہ پچھلی حکومتوں نے کم سے کم جنگ قانون کے تئیں وفاداری اور عزم دکھائی تھی ۔موجودہ انتظامیہ کے بیانوں میں جوابدہی کے عزم غائب ہے ۔سب سے اہم یہ یقینی کرنا بھی کہ ایسا دوبارہ نہ ہو ۔امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے 7 مارچ کو کہا تھا کہ ان کے نظریہ میں مناب حملے کے لئے ایران ذمہ داری ہے لیکن انہوں نے کوئی ثبوت نہیں دیا ۔کچھ دن بعد جب ان سے مناب اسکول کے پاس فوجی اڈے پر امریکی ٹام ہاک میزائل گرنے کا ویڈیو دکھائے جانے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : میں نے یہ نہیں دیکھا ساتھ ہی ٹرمپ نے بغیر کسی ثبوت دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس بھی ٹام ہاگ میزائلیں تھیں ۔11 مارچ کو جب ان سے ان خبروں کے بارے میں پوچھا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ شروعاتی فوجی ملیٹری جانچ میں پایا گیا کہ امریکن اسکول پر حملہ کیا تھا ۔تو ٹرمپ نے کہا مجھے اس کے بارے میں نہیں پتہ ۔امریکہ کے وزیر دفاع ویٹ ہیگ سیتھ سے چار مارچ کو بی بی سی نے اس حملے پر سوال کیا تھا تو انہوں نے کہا کہ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ہم اس کی جانچ کررہے ہیں ۔یہی نہیں امریکی محکمہ دفاع نے اس حملے پر کئی سوالوں کے جواب دینے سے انکار کر دیا ۔پچھلے مہینے بی بی سی نے آزادانہ طور سے حملے کے ویڈیو کی تصدیق کی تھی جس میں اسکول کے پاس ایرانی ریوولوشنری گارڈس کور (آر آر جی سی) کے اڈے پر امریکی ٹام ہاگ میزائل گرتی نظر آرہی تھی ۔پینٹاگن کے ایک سینئرسابق مشیر ویس برانچر نے بھی بی وی سی کو بتایا تھا کہ شرعاتی فوجی جانچ عام طور پر دو باتیں طے کرنے کے لئے ہوتی ہیں ۔پہلی کہ کیا شہری نقصان حقیقت میں ہوا ؟دوسرا کیا اس وقت علاقہ میں امریکہ سرگرم تھا یا نہیں ؟ جب دونوں شرطیں پوری ہو جاتی ہیں تبھی باقاعدہ جانچ شروع کی جاتی ہے ۔پروسیس کے لحاظ سے یہ اور بھی صاف اشارہ دیتا ہے کہ وہ پہلے سے جانتے ہیں کہ یہ امریکہ کی وجہ سے ہوا نہیں تو وہ یہ جانچ نہیں کررہے ہوتے وہ بس اسے تسلیم کرنا چاہتے ہیں یا اس پر بولنا نہیں چاہتے ۔پچھلے سال امریکہ کے ڈیفنس محکمہ نے نوکریوں کی چھٹنی کی تھی اس میں فوجی عملہ بھی شامل تھے ۔امریکہ قبول کرے نہ کرے اس نے انسانیت کا قتل کیا ہے۔ جسے کبھی معاف نہیں کیاجاسکتا ۔
(انل نریندر)

05 مئی 2026

آپ اور ٹرمپ لگاتار جھوٹ بول رہے ہیں

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی ایران جنگ پر جنتا کو جھوٹ بولنے اور گمراہ کرنے و سینئر فوجی افسران کو ہٹانے کے الزامات کو لے کر نمائندہ سبھا کی مسلح سروس کمیٹی میں سماعت ہوئی ۔پہلی بار جنگ شروع ہونے کے بعد وزیر دفاع پیٹ ہیگس سیدھ کو ایران جنگ پر ڈیموکریٹک ممبران کا سامنا کرنا پڑا ۔گزشتہ بدھوار کو وہ ہاؤس آف آرمڈ سروس کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے ان کے ساتھ جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین اور وزارت دفاع کے چیف فائنانشیل افسر جولس ہسرٹ بھی موجود تھے ۔بحث کی شروعات میں ہیگ سیتھ نے ڈیموکریٹس اور کچھ رپبلکن نمائندوں کے بیان کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے تبصرے امریکہ کے سب سے بڑے دشمن ہیں ۔اس دوران ہیگس سیتھ اور ڈیموکریٹ ایم پیز سے تلخ بحث ہو گئی ۔چھ گھنٹے کی سماعت میں ماحول گرم رہا ۔پارلیمنٹ کی نچلی ایوان میں ٹرمپ انتظامیہ کے 1500 ارب ڈالر کے ڈیفنس بجٹ پر بحث کے دوران یہ نوک جھونک ہوئی ۔پینٹاگون کے ذریعے جنگ کی تخمینہ لاگت 25ارب ڈالر بتانے پر ڈیموکریٹ بھڑک گئے اور انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی دماغی صحت پر ہی سوال کھڑے کر دئیے ۔اس پر ہیتھ سیتھ نے پلٹ وار کیا کہ ٹرمپ سب سے تیز اور سوجھ بوجھ والے کمانڈر ان چیف ہیں ۔انہوں نے ڈیموکریٹ ممبر سے الٹا سوال کیا کہ کیا انہوں نے سابق صدر جوبائیڈن کی صلاحیت پر کمی کے سوال اٹھائے ۔ڈیموکریٹ ممبران نے امریکہ کے ذریعے شروع کی گئی ایران جنگ کو وار آف مائس بتایا ۔جسے کانگریس کی منظوری کے بغیر شروع کیا گیا ۔کیلکو ڈیموکریٹ ایم پی جون گرامینڈی نے کہا کہ آپ اور صدر شروع سے ہی اس جنگ کے بارے میں امریکی جنتا سے جھوٹ بول رہے ہیں ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ وسط مشرق کی ایک اور جنگ کے دلدل میں پھنس گئے ہیں ۔ہیگ سیتھ نے اس بیان کو لاپرواہی بھرا بتایا اور کہا کہ ٹرمپ کسی دلدل میں نہیں ہیں ۔انہوں نے آگے کہا کہ صدر ٹرمپ کے تئیں آپ کی نفرت آپ کو اندھا کررہی ہے ۔حالانکہ کمیٹی کے کئی رپبلکن ممبران نے پینٹاگون کی حمایت کی ہے ۔فلوریڈا کے ایم پی کارلوس جی مینیل نے کہا کہ ایران سے امریکہ کے وجود کو خطرہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی 47 سال سے کہہ رہا ہے کہ وہ ہمیں مارنا چاہتے ہیں تو میں اس کی بات کو سنجیدگی سے لوں گا ۔تیل کی قیمتوں میں اضافے اور اس کی وجہ سے چیزوں کی قیمتوں پر اثر پر ایک ایم پی نے کہا کہ آپ کو شرم آنی چاہیے کہ آپ نے مناب میں ہوئے حملے میں 168 لوگ مارے گئے جن میں قریب 110 بچے شامل تھے ۔آج ہر امریکن بڑھتی مہنگائی سے پریشان ہیں ۔تیل کی قیمتیں بے تحاشہ بڑھ رہی ہیں اور اس کے ذمہ دار آپ کے صدر اور آپ جیسے مشیر ہیں ۔کمیٹی کے سینئرڈیموکریٹ ممبر ایڈم اسمتھ نے کہا کہ ہم سے غلطی ہوئی اور جنگ میں ایسا ہوتا ہے لیکن دو ماہ تک چپ رہ کر ہم نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ہمیں پرواہ نہیں ہے ۔کیلیفورنیا کے بھارت نژاد ایم پی روکھنّا نے اس حملے کی لاگت پر سوال اٹھایا ۔اس پر ہیگ سیتھ نے کہا یہ حملہ ابھی انصاف کے دائرے میں ہے اور وہ اس کی لاگت پر رائے زنی نہیں کریں گے ۔اس کے علاوہ ڈیموکریٹ ایم پی سارا جیکس نے وزیر دفاع پیٹھ گیس سیتھ سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دماغی حالت پر بھی سوال کھڑا کیا اس سوال پر پیٹھ گیس سیتھ اور سارا جیکف کے درمیان تلخ بحث ہوئی ۔ خبر ہے کہ اپوزیشن ڈیموکریٹ ممبر نے ہیگ سیتھ کے خلاف ہاؤس آف نمائندگان میں مقدمہ چلانے کی تجویز بھی لانے کا فیصلہ کیا ہے ۔اس تجویز کے آنے کےبعد ایران جنگ معاملے میں ٹرمپ اور ہیگ سیتھ کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں ۔میگزین آؤٹ لیٹ ایکسس کے مطابق ہاؤس آف ڈیموکریٹس میں پانچ سنگین الزام لگاتے ہوئے ہیگ سیتھ کے خلاف مقدمہ چلانے کا فیصلہ دیا ۔وزیر دفاع کوکابینہ سے ہٹانے کے لئے سینٹ اور ہاؤس میں دو تہائی ممبران پارلیمنٹ کی ضرورت ہوگی ۔
(انل نریندر)

02 مئی 2026

خلیجی ممالک میں ابھرتے اختلافات



امریکہ ایران جنگ کے بعد سے خلیجی ممالک میں آپسی اختلافات تیزی سے بڑھتے نظر آنے لگے ہیں ۔ ہر مونز اسٹریٹ کے بند ہونے سے صورتحال دھما کہ خیز ہوتی جارہی ہے۔ اس راستہ کے بند ہونے سے خلیج کے وہ ملک جن کا اقتصادی نظام تیل کی درآمدات پر منحصر ہے وہ خاصے ناراض ہیں۔ اس کا ایک نتیجہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا اہم ترین تیل پروڈکشن ممالک کے گروپ او پیک اور او پیک پلس سے باہر جانے کا فیصلہ ایران جنگ کی وجہ سے تاریخی طور سے دنیا بھر میں ایندھن کو لیکر بڑا بحران پیدا ہوا ہے جس نے عالمی معیشت کو بلا کر رکھ دیا ہے۔ یو اے ای اور بدلتی انرجی پروفائل کا دکھاوا پن ہے۔ یواے ای کے وزیر توانائی سبیل الامظروئی نے کہا ہے

ان گروپوں کے تحت کسی ثالثی سے نجات ملنے پر دیش کو زیادہ لچیلا پن ملے گا۔ او پیک کو 60 سال بعد چھوڑنے کا فیصلہ یو اے ای نے اچانک نہیں لیا، بلکہ اس کے پیچھے لمبے عرصے سے پنپ رہی ناراضگی ہے۔ اب تمہی کو مسلسل یہ کھٹک رہا تھا کہ سعودی عرب او پیک کے ذریعے تیل پیداوار کو کنٹرول کرتا ہے اور یوں اے ای کو اپنی صلاحیت کے حساب سے زیادہ تیل نکالنے نہیں دیتا۔ جب یواے ای زیادہ پیداوار کرنا چاہتا تھا تب سعودی کم پیداوار پر زور دیتا رہا۔ جس سے دونوں میں کشیدگی بڑھتی چلی گئی۔ اس کشیدگی کو اور ہوا تب ملی جب پاکستان کا رول سامنے آیا۔ یو اے ای کو پاکستان کا رویہ بالکل پسند نہیں آیا۔ خاص کر تب جب امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث بننے کی کوشش کر رہا تھا۔ ایم ایس ٹی فائنشیل میں انرجی ریسرچ کی ٹیم شاؤل کو انک نے کہا کہ یہ اتحاد کے خاتمے کی شروعات ہو سکتی ہے۔ یو اے ای کے ساتھ جانے کے او پیک کے ساتھ ساتھ اس گروپ کے کرتا دھرتا مانے جانے والے سعودی عرب کے لئے جھٹکا مانا جارہا ہے۔ یو اے ای کا باہر جانا امریکہ کے صدر ڈونل ٹرمپ کے لئے ایک جیت مانا جارہا ہے جنہوں نے پہلے او پیک پر دنیا کا استحصال کرنے کا الزام لگایا تھا۔ جنوری میں انہوں نے سعودی عرب اور دیگر او پیک ملکوں سے تیل کی قیمت کم کرنے کو کہا تھا اور ٹیرف لگانے کی اپنی دھمکی کو بھی دوہرایا تھا۔ یو اے ای کا او پیک سے الگ ہونے کا فیصلہ صرف ایک ممبر ملک کی تجویز نہیں ہے بلکہ عالمی توانائی سیاست میں ایک اہم موڑ ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب مغربی ایشیا میں جغرافیائی کشیدگی ، ہرموز قبل ڈروم پر غیر یقینی اور عالمی افراط زر پہلے سے ہی تیل بازار کو کمزور بنائے ہوئے ہے۔ یو اے ای او پیک کا تیسرا بڑا تیل پیدا کرنے والا ممبر ملک تھا اور گروپ کی پیداوار میں قریب 12 فیصدی کا تعاون کرتا تھا۔ ایسے میں اس کا باہر نکلنا او پیک کی سپلائی صلاحیت کو ضرور متاثر کرے گا لیکن اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے اگر او پیک کی شرطوں سے آزاد یو اے ای عالمی تیل بازار کو مزید سپلائی کرتا ہے تو اس سے تیل کی قیمتوں میں کمی آسکتی ہے۔ یہ حالت بھارت جیسے ملکوں کے لئے خاص طور پر فائدہ مند ہے جو انرجی درآمدات پر ہی منحصر ہیں۔ غور طلب ہے کہ بھارت اپنے سکیورٹی متعلق حقائق سے نمٹنے کے لئے لمبے عرصے سے او پیک ملکوں سے تیل کی پیداوار میں اضافہ کرنے کی مانگ کرتا رہا ہے۔
بھارت کی کل تیل ضرورتوں کا تقریباً 40 فیصدی حصہ او پیک ممالک سے آتا ہے۔ حالانکہ یہ دیکھتے ہوئے عالمی انرجی مارکیٹ کبھی کمزور نہیں رہتی وہ مسلسل جغرافیائی سیاست اور اقتصادی پس منظر میں تبدیلیوں سے متاثر ہوتی رہتی ہے سعودی عرب کے لئے اب باقی او پیک کو متحد رکھنا بڑی چنوتی بن گیا ہے۔ یو اے ای نے شروعات کر دی ہے اب دیکھنا ہو گا کہ اور کون کون سادیش اس کے نقش قدم پر چلتا ہے۔
انل نریندر 

30 اپریل 2026

پاگلوں کی دنیا:مجھے مرنے کا ڈر نہیں

یہ کہنا تھا امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ۔وائٹ ہاؤس نے صحافیوں کے ایک عشائیہ میں ایک فائرنگ کے واقعہ کے بعد ٹرمپ نے بتایا کہ واردات کے بعد سی بی ایس کو دئیے گئے انٹرویو میں بتاتے ہوئے کہا کہ جب فائرنگ ہوئی تو میں زمین پر گر گیا اور فرسٹ لیڈی بھی سیکورٹی فورسز کے فوراً حرکت میں آنے پر ٹرمپ نے کہا میں دیکھنا چاہتا تھا کہ آخر ہوکیارہا ہے ۔ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کو پتہ ہے کہ آپ شوٹر کے نشانہ پر تھے ؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہا مجھے نہیں پتہ میں نے ایک مینوفیسٹو پڑھا وہ ریڈی کلائزڈ ہے وہ کرشچین باشندہ تھا ۔اور وہ پھر اینٹی کرشچن بن گیا اور اس میں بہت تبدیلی آئی ۔وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے ڈنر کے دوران ہوئی فائرنگ میں نشانہ پر ٹرمپ اور ان کے حکام تھے ۔یہ بات نگراں یو ایس اٹارنی جنرل ٹارڈ بلانشن نے کہی ۔مشتبہ کی پہچان 31 سالہ کولس ٹامس ایلن کی شکل میں کی گئی ہے ۔ادھر گولہ باری معاملے میں گرفتار مشتبہ کول ایلن نے مبینہ طور پر اعلانیہ میں کئی سنگین الزام لگائے ہیں ۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق ایلن نے واردات سے کچھ منٹ پہلے اپنے خاندان کے ایک فرد کو ایک مبینہ منشور نامہ بھیجا ۔فوکٹ خط بھیجا تھا جس میں اس نے اپنے ارادوں اور خیالات کا ذکر کیا ۔اس مبینہ دستاویز میں ایلن نے دعویٰ کیا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے وابستہ لوگوں کو نشانہ بنانے کا پلان بنارہا تھا ۔حالانکہ اس نے ایف بی آئی ڈائرکٹر مسٹر پٹیل کو چھوڑنے کی بات بھی کہی ۔اس نے لکھا کہ انتظامیہ کے حکام کو ترجیحاتی بنیاد پر ثبوت بنائے گا ۔لیکن یہ صاف نہیں ہے کہ اس کے الفاظ کا پورا مطلب کیا ہے ؟ ڈکلیریشن لیٹر میں ایلن بے حد مشکل زبان کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے لوگوں کو قبول نہیں کرسکتا جنہیں وہ مجرم یا ملک دشمن مانتا ہے ۔رپورٹوں کے مطابق اس نے کچھ ایسے لفظوں کا بھی استعمال کیا جس میں اس نے ٹرمپ انتظامیہ سے وابستہ تنازعات اور الزامات کا ذکر کیا اس نے سیکورٹی انتظام کو لے کر بھی رائے زنی کی اور دعویٰ کیا کہ ڈنر کے انعقاد کی جگہ پر سیکورٹی کی توجہ خاص طور سے مظاہرین اور دیگر مہمانوں پر تھی ناکہ کسی امکانی خطرے پر ۔اس حادثہ سے یہ تو صاف ہو جاتا ہے کہ سیکورٹی کی کمی تھی ۔کسی ہتھیار مسلحہ شخص کا صدر کے پروگرام میں اتنے قریب پہنچنا بے حد سنگین لاپرواہی ہے ۔وہاں ٹرمپ کی ہی نہیں ، ان کے انتظامیہ سے وابستہ سبھی اہم ترین لوگ موجود تھے جو نشانہ بن سکتے تھے۔ مبینہ حملہ آور بھی کوئی ان پڑ ،گنوار بھاڑے کا قاتل نہیں ہے ۔وہ مکینیکل انجینئرنگ تعلیم حاصل کر چکا ہے اور باعزت ایک بااحترام ٹیچر تھا ۔بدقسمتی یہ ہے کہ امریکی صدر عہدہ جتنا طاقتور ماناجاتا ہے اس سے وابستہ خطرے اتنے ہی بڑے ہیں ۔ابراہم لنکن سے لے کر جان ایف کینیڈی تک امریکہ کے چاروں صدور کا قتل ہو چکا ہے ۔ٹرمپ پر یہ تیسرا ناکام حملہ ہے ۔اتفاق یا کچھ اور ؟ وائٹ ہاؤس کی ترجمان لیور کے فائرشارٹ والے بیان کے بعد سے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی ہے ۔لوگ حیران ہیں کہ آخر انہوں نے ایسے لفظوں کا استعمال کیوں کیا جو بعد میں حقیقت بن گئے حالانکہ ان کے حمایتیوں کا کہنا ہے لیدر کا مطلب ٹرمپ کی تلخ بیان بازی سے تھا ناکہ اصلی غلطیوں سے ۔سوشل میڈیا میں کچھ لوگ اسے اسٹیج رچا ہوا ڈرامہ بھی بتا رہے ہیں ان کا کہنا ہے چاروں طر ف سے گھرے ٹرمپ نے امریکی عوام کی ہمدردی لینے کے لئے یہ ڈرامہ کروایا ہے ۔ممکن ہے کہ اس واقعہ کے بعد اس بار بھی مختلف امور پر چنوتی جھیل رہے ٹرمپ انتظامیہ کو تھوڑی راحت مل جائے باقی سچائی کبھی سامنے آئے گی یا نہیں یہ نہیں کہاجاسکتا ۔ایسے واقعات کو کسٹم شاید ہی سامنےآتا ہے ؟ 
(انل نریندر)

28 اپریل 2026

ڈیل ہونے کا امکان

پچھلے کچھ دنوں کے واقعات سے امید کی جاتی ہے کہ اگلے کچھ دنوں میں امریکہ ایران میں کوئی ڈیل ہو جائے اور جنگ مستقبل میں ہونے سے ٹل جائے ۔جس طرح سے ایران کے وزیرخارجہ عباس عراغچی 48 گھنٹے میں دو مرتبہ اسلام آباد گئے وہاں سے مسقط (عمان) گئے اور وہاں سے ماسکو چلے گئے اس سے لگتا ہے ایران نے ڈیل کی شرطیں طے کر لی ہیں اور ایران بھی امریکہ سے بات چیت کو تیار ہے ۔دوسری جانب امریکی صدر نے بھی تھوڑی نرمی دکھائی اور جنگ بندی کو بے میعاد تک بڑھا دیا ہے اور ایران کے نمائندہ وفد سے اسلام آباد میں اپنے نمائندہ وفد کو بھیجنے کی اجازت دی ۔اس سے صاف ہے کہ ٹرمپ اس جنگ سے ہر حالت میں باہر نکلنا چاہتے ہیں ۔وہ جانتے ہیں کہ وہ یہ جنگ ہار چکے ہیں ۔آگے لڑنے کے لئے نہ تو ان میں مادہ ہے اور نہ ہی جنگ لڑنے کے وسائل ہیں ؟ ٹرمپ کی ایک بڑی مجبوری یہ بھی ہے کہ انہیں دو مئی تک امریکی کانگریس ( پارلیمنٹ ) سے ایران جنگ کو جاری رکھنے کے لئے منظوری بھی لینی ہوگی جو کہ شاید مشکل ہو کیوں کہ امریکہ کے 63 فیصدی شہری ٹرمپ کے اس جنگ کے خلاف ہیں او ر وہ نہیں چاہتے امریکہ اسرائیل جنگ لڑیں ۔اس کے علاوہ امریکی فوج نے صاف کر دیا ہے اس کے پاس اب ہتھیاروں کا ذخیرہ آدھا رہ گیا ہے اور یہ وہ کسی مستقبل کی ایمرجنسی کے لئے رکھنا چاہتاہے اس لئے مجھے نہیں لگ رہا کہ ٹرمپ میں اب مادہ ہے ۔کہ یہ جنگ جاری رکھیں ۔دیکھاجائے تو عد م رضامندی کے بھی دو تین اشوز بچے ہیں ۔ہرمز اسٹیٹ کو کھولنا ،ایران کے نیوکلیئرپروگرام پر کنٹرول اور میزائلوں کو محدود کرنا ،ہرمز پر ٹول لینا ؟ وغیرہ وغیرہ ۔یہی اہم اشو بچے ہیں ۔ایران کے وزیرخارجہ کے اتنی بار اسلام آباد کے چکرلگانا یہ پیغام دے رہا ہے کہ ایران بھی اب کوئی سمجھوتہ چاہتا ہے۔ ٹرمپ کو اپنے اکساوے والے فضول بیان بند کرنے ہوں گے ۔خامخواہ وہ الٹے سیدھے بیان دے کر ماحول خراب کرتے ہیں ۔دو دن پہلے بھی ہوئے جان لیو احملے کا بھی ٹرمپ پر ضروری اثر ہوگا ۔فوجی ٹکراؤ سے دونوں فریق جتنا حاصل کر سکتے تھے وہ کر لیا ہے ۔امریکہ نے جن مقاصد کو لے کر یہ جنگ چھیڑی تھی وہ اب بھی دور ہے اور پتہ نہیں وہ لڑائی سے انہیں پورا کر بھی سکتے ہیں یا نہیں ؟ اسی طرح ایران کو بھی اندازہ ہوگا کہ وہ ٹرمپ کی ضد پر ایک حد تک ہی جھک سکتا ہے ۔ایسے میں ایک ہی راستہ بچا ہے امن ۔تیل اور نیچر ل گیس کو لے کر انٹرنیشنل اینرجی ایجنسی کی بھی وارننگ ان کی سپلائی 2027 تک بھی پوری طرح بحال نہ ہو پائے گی۔ جنگ کے سنگین نتائج کا بس ایک ہی پہلو ہے ۔تعطل لمبا کھچنے سے عالمی مندی آسکتی ہے اور اس کی سب سے زیادہ قیمت عام آدمی کو چکانی پڑتی ہے ویسے بھی جنگ میں بھی مرتا تو عام آدمی ہی ہے چاہے وہ کس بھی دیش کا ہو اس لئے کل ملا کر ڈیل ہو جائے تو اس کا ساری دنیا خیر مقدم کرے گی۔ دیکھیں یہ معجزہ کیا اسلام آباد کر دکھائے گا؟ 
(انل نریندر)

25 اپریل 2026

ہارا ہوا کیس طے کرسکتا ہے جنگ کی شرائط

سیز فائر کی میعاد وقت غیر یقینی وقت بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے صاف کیا ہے کہ امریکی فوج پوری طرح سے تیار ہے ، اور جنگ بندی صرف تب تک ہے جب تک بات چیت کسی ٹھوس نتیجے پر نہیں پہنچ جاتی اسے ایران نے نہ صرف مسترد کر دیا ،بلکہ اسے امریکہ کی کمزور ی بتایا ۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر مشیر محبی محمد ی نے سخت الفاظ میں کہا کہ جنگ کے میدان میں ہارا دیش اپنی شرائط نہیں تھوپ سکتا ۔پچھڑنے والادیش کیسے شرائط طے کرسکتا ہے؟ انہوں نے لکھا ٹرمپ کے جنگ بندی توسیع کا کوئی مطلب نہیں ہے ۔بندرگاہوں کی گھیرا بندی جاری رکھنا بم باری کرنے سے الگ نہیں ہے ۔تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ایران جنگ میں امریکہ کو بری طرح سے فلاپ ہونے کے ثبوت سامنے آنے لگے ہیں ۔جنگ میں کامیابی نہ دلانے کی وجہ سے امریکہ میں پچھلے 25 دنوں سے فوج کے 4 بڑے افسروں کو برخواست کر دیا گیا ہے ۔لسٹ میں تازہ نام نیول سیکریٹری جان فیلن کا ہے۔ ہرمز میں ایرانی ناکہ بندی کو ختم نہ کر پانے کی وجہ سے پینٹاگون نے صرف فیلن کو برخواست ہی نہیں کیا بلکہ فیلن سے پہلے آرمی چیف جنرل ٹے ڈی جارج ،میجر جنرل ڈیوڈ ہانڈلے اور میجر جنرل ولیم گرین جونیئر کو برخواست کیاجاچکا ہے ۔تینوں کو ہی جنگ میں کامیابی نہ دلانے کے سبب برخواست کیا گیا ہے ۔فیلن صدر ٹرمپ کے بے حد قریبی افسر مانے جاتے ہیں ۔فیلن پر کمانڈ کو درکنار کرنے اور جنگ میں متوقع کامیابی نہ دلانے کا الزام ہے حالانکہ سرکار بیان میں کہا گیا ہے کہ فیلن نے خود ہی استعفیٰ کی پیشکش کی ہے ۔اُدھر فائنانشیل ٹائمس کے مطابق ہرمز کے باہر امریکی ناکابندی کرنے میں پوری طرح ناکام ثابت ہوا ہے ۔سیٹکام کے بیان کے اُلٹ 22 اپریل کو 34 ایرانی جہاز ہرمز سے گزر گئے ۔ان جہازوں کو امریکہ روک نہیں پایا ۔اُدھر سیٹکام کا کہنا ہے کہ اس نے ہرمز میں 10 ہزار فوجی لگا رکھے ہیں ۔اور اس کے علاوہ 21 اپریل کو اسلام آباد میں ایران امریکہ کے بیچ امن مذاکرات کو لے کر مجوزہ میٹنگ میں ایران نے شامل ہونے سے منع کر دیا ہے ۔سی این این کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ ایران جنگ سے باہر نکلنا چاہتے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ امکانی مڈٹرم الیکشن ہے ۔ٹرمپ کو لگتا ہے کہ مڈ ٹرم الیکشن تک اگر جنگ جاری رہتی ہے تو ان کی پارٹی کو کافی زیادہ نقصان ہوسکتا ہے اس لئے ٹرمپ نےایران سے بغیر بات کئے جنگ بندی کو بے میعادی بڑھا دیا ہے۔ ہرمز ابھی جلد کھلنے والابھی نہیں ہے ۔بے شک ٹرمپ کتنا بھی چاہیں امریکی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ہرمز اسٹریٹ میں بچھی مائنس ہٹانے میں چھ مہینے تک کا وقت لگ سکتا ہے اس سے تیل سپلائی ،عالمی تجارت طویل عرصہ تک متاثر رہے گی ۔امریکہ ایران کے بیچ کشیدگی کم نہیں ہوئی ہے امریکہ چاہتا ہے کہ ایران اپنا نیوکلیائی پروگرام بند کرے اور افزودگی یرونیم سونپ دے اور ہرمز کو پوری طرح کھول دے ۔دوسری طرف ایران نے کہا ہے کہ جب تک امریکہ اس کی ناکابندی ختم نہیں کرے گا ،وہ بات چیت نہیں کرے گا جیسا مہدی محمد نے کہا کہ ہرمز جنگ میں بری طرح فلاپ ہوئے امریکی جنگ کی شرطیں کیسے طے کرسکتا ہے ؟ 
(انل نریندر)

23 اپریل 2026

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگی کے سبب امن بات چیت کھٹائی میں پڑتی نظر آرہی ہے اس پورے واقعہ میں پاکستان ثالث کے رول میں سرگرم ہے ۔ہرمز کو تازہ ٹکراؤ کو دیکھتے ہوئے پاکستانی ثالثی ٹیم واپس اسلام آباد لوٹ چکی ہے ۔پاکستان میں پہلے دور کی امن بات چیت کے بعد امریکہ نے ہرمز بلاکڈ لاگو کر دیا ہے۔ وہیں ایران نے اسے اپنی سرداری پر حملہ بتایا ہے ۔سمندر میں ایرانی جہازوں تک کو بھی روکا اور نشانہ بنایاجارہا ہے ۔تیل مارکیٹ میں عدم استحکام بڑھ گیاہے ۔دنیا کی نظر اب اس پر لگی ہے کہ اس ٹکراؤ کا اگلا قدم کیا ہوگا؟ سال یہ بھی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تقریبا 40 دنوں تک زبردست جنگ چلی ۔اس کے بعد بڑی مشکل سے سیز فائر کا اعلان کیا گیا اور اسلام آباد میں امن بات چیت کے لئے میٹنگ بلائی گئی لیکن یہ بات چیت بے نتیجہ رہی۔ بات چیت ناکام ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہرمز رہا ۔ہرمز پر کس کا دبدبہ رہے گا اس کا فیصلہ نہیں ہو پایا ۔فی الحال تو امن بات چیت کے بعد ایران اور امریکہ کے بیچ ہرمز پر قبضہ کو لے کر سسپنس کی آگ دہک رہی ہے ۔ امریکہ اور ایران نے اپنےہاتھ کھڑے کر دئیے ہیں ۔دنیا میں تیل کے اس اہم راستے پر کس کا قبضہ ہے کس کے ہاتھ میں ہے ؟ سوال ہر کسی کو پریشان کررہا ہے ۔دونوں خیمے اپنے اپنے دعووں پراڑیل ہیں ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سختی نے ماحول کو اور خراب کر دیا ہے کئی ملکوں کی معیشت اسی راستے پر ٹکی ہوئی ہے ۔بتادیں کہ دنیا کی آدھی سے زیادہ تیل کی سپلائی اسی راستے پر منحصر ہے ۔ایک چھوٹی سی غلطی بھی عالمی معیشت کو ہلا سکتی ہے ۔امریکہ کی ناکے بندی کتنی کارگر ثابت ہورہی ہے؟ یا ایران کی دھمکی میں دم ہے ؟ سسپنس ہر گھنٹے بڑھتا جارہا ہے ۔جمعرات کو ایرانی جہاز کو امریکہ نے ہرمز واپس لوٹا دیا ہے اس کے بعد کشیدگی انتہا پر پہنچ گئی ہے ۔سیز فائر کے باوجود امریکہ کی اس حرکت سے ایران کا غصہ ساتویں آسمان پر ہے ۔ایران نے امریکہ کو جوابی کاروائی کی سخت وارننگ دے دی ہے ۔ڈر اس کا ہے کہ جنگ بندی جو 23 اپریل کو ختم ہونے جارہی ہے یعنی آج وہ آگے بڑھے گی یا نہیں ؟ ہرمز کے بندہونے سے اب  یہ ٹکراؤ صرف دو ملکوں تک محدود نہیں رہا اس کا اثر پوری دنیا کی معیشت پر نظر آنے لگا ہے ۔تیل بازار میں کھلبلی مچی ہوئی ہے ۔جہاز رانی کمپنیاں چوکس ہو گئی ہیں ۔ہر دیش چاہتا ہے کہ یہ اہم راستہ کھلا رہے لیکن زمین اور سمندر پر چل رہی حکمت عملی چالیں اس راستے کو سب سے بڑا فلیگ پوائنٹ بنارہا ہے ۔ٹرمپ نے رائٹرس کو دئیے ایک اور یبان میں دعویٰ کیا کہ بلاکیڈ پوری طرح لاگو ہے اور ایران اب کھلے طور پر تجارت نہیں کرپارہا ہے۔ سیٹکام کے مطابق اب تک 10 جہازوں کو واپس بھیجاجاچکا ہے اس بیچ خبر یہ بھی آئی ہے کہ پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر نے ٹرمپ کو تجویز بھیجی ہے کہ اگر امن بات چیت آگے بڑھانی ہے تو ہرمز سے بلاکیڈ ختم کرنا ہوگا ۔کہاجارہا ہے ٹرمپ نے کہا میں اس پر غور کروں گا ۔
(انل نریندر)

21 اپریل 2026

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران میں ہیں اور پاک وزیراعظم شہباز ریاض میں چکر لگا رہے ہیں ۔ادھر اسرائیل لبنان جنگ میں ٹرمپ کی بدولت 10 دن کا سیز فائر چل رہا ہے۔امید کی جارہی ہے کہ پاکستان میں دوسرے دور کی بات چیت بھی ممکن ہے لیکن اس میں ابھی کئی پیج پھنسے ہوئے ہیں ۔دونوں فریق اپنی اپنی کہی شرطوں پر اڑے ہوئے ہیں ۔اب سوال اٹھتا ہے کہ آگے کیا کیا ہوسکتا ہے ؟ ہمیں تو چار امکانی پش منظر دکھائی دے رہے ہیں ۔حکمت عملی بریک کی شکل میں جنگ بندی ۔کئی ہفتوں کی لڑائی کے بعد امریکہ ایران جنگ بندی کرائسس کو محدود کرنے کی خواہش اچھا اشارہ دیتا نظر آرہی ہے ۔حالانکہ شرعات ہی سے اس کے ساتھ کئی طرح کی باتیں جڑی ہیں ۔جنگ بندی کے تقاضوں کی تشریح کو لے کر اختلافات سامنے آئے ہیں ان اختلافات کے سبب کچھ مبصرین نے اسے ایک مستقل اسٹرکچر کے بجائے حکمت عملی بریک کی شکل میں دیکھنا شروع کر دیا ہے ۔ایک امریکی تجزیہ نگار کے مطابق لڑائی شروع ہونے کے بعد سے ہی سمجھوتہ تک پہنچنے کا امکان تقریباً زیرو تھا ۔یہ اصولوں ،حالات اور پالیسیوں کا ایک ایسا گروپ ہے جن پر امریکہ اور ایران سالوں سے غیر متفق رہے ہیںاور جنگ ان اختلافات کو کم کرنے میں ناکام رہی ہے ۔دونوں فریقین مسلسل متضاد بیانوں سے حالات اور بگڑ گئے ہیں ۔ٹرمپ کی جانب سے اسٹریٹ آف ہرمز کی ناکابندی کا اعلان سے ٹکراؤ اور بڑھ گیا ہے ۔حالانکہ کشیدگی بڑھنے کے امکان سے انکار نہیں کیاجاسکتا ۔دعوے سے کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ جنگ رکے گی یا نہیں ؟ ایک پش منظر جو شاید سب سے زیادہ ممکن ہے وہ ہےٹکراؤ کا بے کنٹرول کشیدگی کی شکل میں واپسی کا اس کا مطلب ہوگا لڑائی کھلی جنگ کی سطح تک نہیں پہنچے گی اور نہ ہی دونوں فریق پوری طرح سے فوجی کاروائی سے پرہیز کریں گے اس میں بنیادی ڈھانچے فوجی اڈوں یاسپلائی لائنوں پر محدود حملے جاری رہ سکتے ہیں اس کے بعد پراکسی گروپوں کا رول زیادہ اہم ہوجائے گا کچھ تجزیہ نگار اس حالت کو شیڈو وار کہتے ہیں جیسے جیسے ٹکراؤ بڑھتا ہے ، غلط تجزیہ کا خطرہ بڑھتا ہے اور بھلے ہی کوئی فریق کی کشیدگی بڑھانا نہ چاہتا ہو ایک چھوٹی سی غلطی بھی لڑائی کو بے قابو سطح تک پہنچا سکتی ہے ۔پاکستان میں بات چیت فیل ہونے کے باوجود یہ نتیجہ نکالنا ابھی ممکن نہیں ہےکہ ڈپلومیسی ختم ہو چکی ہے یا بات چیت پوری طرح ٹوٹ چکی ہے ۔امریکہ کی 15 نکاتی تجویز اور ایران کا 10 نکاتی جوابی پرستاؤ یہ ضرور دکھاتا ہے کہ دونوں فریق بجائے کسی درمیانی راہ پر پہنچنے کے ابھی بھی اپنی اپنی شرطوں کو ترجیح دے رہے ہیں اس لئے بھلے ہی بات چیت کا نیا دور ممکن ہولیکن جلدی اور وسیع معاہدہ کی امید رکھنا صحیح نہیں لگتا ۔اگر امریکی ناکابندی جاری رہتی ہے تو ایرانی فوج نے خلیج اور لال ساگر اور عمان کی خلیج فارس میں شپنگ کے خطرے کی وارننگ دے دی ہے ۔ٹرمپ نے اعلان کیا ہے دیش کی بحریہ ایران پر سمندری ناکابندی جاری رکھے گی جس سے ہر گزرتے جہاز کو روکا جاسکتا ہے اور یہ ایران کو کسی حالت میں قبول نہیں ہے ۔ایرا ن نے یہ دھمکی دی ہے بین الاقوامی آبی راستے میں ان جہازوں کو روکا جائے گا جو ہرمز سے گزرنے کے لئے ایران کو ٹرانزٹ ٹیکس نہیں دیں گے تو نتیجہ اچھا نہیں ہوگا ۔ٹرمپ چاہتے ہیں ایران کی تیل آمدنی کو روکنا ۔اس کی معیشت کو کمزور کرنا اور ایران کو مجبور کرنا کہ وہ امریکہ کی شرطوں کو مانے لیکن دیگر تجزیہ نگاروں نے اس حکمت عملی سے امریکہ کو ہونے والی بھاری لاگت کی جانب اشارہ کیا ہے کیوں کہ اس سے اس کی فوجی طاقت جغرافیائی طور سے ایران کے قریب آجاتی ہے اور حملے کے تئیں زیادہ حساس ترین ہو جائے گا ۔موجودہ ماحول میں حکمت عملی فیصلے اور سیکورٹی سے جڑے سوال اور زمینی سطح پر چھوٹے واقعات بھی بحران کی سمت پر بڑا اثر ڈال سکتے ہیں ۔
(انل نریندر)

18 اپریل 2026

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ۔ٹرمپ منیر پر اتنا بھروسہ کرتے ہیں کہ انہیں وائٹ ہاؤس میں لنچ پر بلاتے ہیں اور ون ٹو ون میٹنگ کرتے ہیں ۔شاید اس وقت عاصم منیر دنیا کے ایک واحد فوجی کے سربراہ ہوں گے جنہیں وائٹ ہاؤس میں بلا کر ان کے ساتھ باقاعدہ لنچ کرتے ہیں ۔ان حالات میں ہمیں کوئی تعجب نہیں ہوا جب اسلام آباد میں پہلے دور کی بات چیت فیل ہو گئی تو دوبارہ بات چیت کرنے کے لئے ٹرمپ نے منیر کو اپنا ڈاکیہ چنا اور انہیں ایرانی لیڈر شپ سے بات چیت کرنے اور دوبارہ اسلام آباد میں امن مذاکرات میں شامل ہونے کے لئے خاص طور پر بھیجا ۔مزیدار بات یہ بھی ہے کہ عاصم منیر ،جہاں ٹرمپ کے بھروسہ مند شخص ہیں وہیں چینی صدر شی جنپنگ کے بھی بھروسہ مند ہیں ۔خیر ہم بات کررہے تھے عاصم منیر کے ایران پہنچنے کی ۔ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کو لے کر دو ہفتے کی جنگ بندی جاری ہے ۔دونوں ملکوں کے بیچ جاری جنگ کو ختم کرنے کے لئے پہلا دور اسلام آباد میں منعقد کیا گیا۔ لیکن یہ میٹنگ کامیاب نہیں رہی تھی ۔اب دونوں پھر سے بات چیت کی میز پر کوشش میں لگے ہیں ۔بات چیت کو آگے بڑھانے کے لئے پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پیغام لے کر ایران گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران امریکہ کی اگلی میٹنگ پر فیصلہ عاصم منیر کی رپورٹ کے بعد ہی ٹرمپ کریں گے ۔تحریم نیوز ایجنسی کےمطابق پاکستانی فوج کے سربراہ منیر کی رہنمائی والے نمائندہ پاکستانی وفد کی ایرانی حکام کے ساتھ ملاقات کے بعد ، ایرانی فریق معاملے پر ضروری جائزہ لے گا ۔اور پھر وہ امریکہ کے درمیان بات چیت کے اگلے دور کو لے کر کوئی فیصلہ کرے گا ۔ٹرمپ اس دورہ کو اتنی اہمیت دے رہے ہیں کہ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ اگلے دور کے امن مذاکرات کے لئے میں خود بھی اسلام آباد جا سکتا ہوں ۔منیر کے اس دورہ کا مقصد ایرانی لیڈر شپ تک امریکہ کا پیغام پہنچانا اور بات چیت کے اگلے دور کے منصوبہ بنانا ہے ۔سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ جنرل منیر کے اس دورہ کے پیچھے اصلی مقصد کیا ہے ؟ کہا جاتا ہے کہ ٹرمپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ایران کی حکومت آخر چلاکون رہا ہے ؟ کیا آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای چلا رہے ہین ؟ ان کی حالت کیسی ہے ؟ کیا وہ زخمی ہیں اور فیصلہ لینے میں لاچار ہیں ؟ ٹرمپ جاننا چاہتے ہیں کہ امن مذاکرات آخر ایران میں کس سے کررہے ہیں ؟ منیر نے ایران کے سبھی سرکردہ لیڈروں سے بات چیت کی ہے ۔وہ آئی آر جی سی کے سینئرحکام سے بھی ملے ہیں ۔تہران پہنچنے پر پاکستانی وفدکا ہوائی اڈے پر خود وزیرخارجہ عباس عراقچی پہنچے تھے اس سے پتہ چلتا ہے کہ ایران بھی اس پاکستانی نمائندے وفد کے دورہ کو کتنی اہمیت دیتا ہے ۔عاصم منیر ٹرمپ کا پیغام لے کرگئے ہیں ساتھ ہی یہ بھی ممکن ہے کہ وہ چینی صدر شی جنپنگ کا بھی کوئی پیغام لے کر گئے ہوں ۔ابھی تفصیل نہیں آپائی ہے جلد پتہ چل جائے گا کہ عاصم منیر کا دورہ کامیاب رہا یا ناکام رہا ۔
(انل نریندر)

16 اپریل 2026

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی یہ جنگ پھر شروع ہو گئی ہے ۔ایپسٹین فائلس کا جن پھربوتل سے باہر آگیا ہے اور اسے باہر نکالاہے (چونکہ مت ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ نے امریکہ کی فرسٹ لیڈی میلانیا نے ایپسٹین فائلس پر دھماکہ دار خلاصہ کیا ہے جس سے وائٹ ہاؤس میں کھلبلی مچنا فطری ہی ہے ۔جیفری ایپسٹین سے جڑی افواہوں پر تنقید کرتے ہوئے میلانیا نے متاثرین کی سماعت کی مانگ کر ڈالی ہے ۔میلانیا نے 9 اپریل 2026 کے وائٹ ہاؤس سے اچانک ایک سنسنی خیز بیان جاری کیا گیا انہوں نے جیفری ایپسٹین سے وابستہ سبھی جھوٹی خبروں ،افواہوں کو صاف طور پر مسترد کر دیا ۔ایپسٹین ایک قصوروار جنسی کرمنل تھا ۔میلانیا نے کہا کہ میں ان افواہوں کو صاف طور پر مسترد کرتی ہوں ۔یہ افواہیں مجھے بدنام کرنے کی کوشش ہیں ۔اور انہیں اب فوراً روکا جاناجاہیے ۔میلانیا نے صاف الفاظ میں کہا کہ جیفری ایپسٹین کے نام سے میرے نام کو جوڑنے والی جھوٹی باتیں آج ہی ختم ہونی چاہیے ۔میں ایپسٹین کی دوست کبھی نہیں رہی ۔ڈونلڈ اور میں کبھی کبھی کسی پارٹی میں جاتے تھے جہاں ایپسٹین بھی ہوا کرتا تھا کیوں کہ نیویارک اور پام بیچ کے سوشل سرکل میں ایسا عام ہے ۔لیکن میں نے ایپسٹین یا اس کی ساتھی فسلین میکسوئیل کے ساتھ کبھی کوئی رشتہ نہیں رکھا ۔انہوں نے کہا: میں کانگریس سے کہتی ہوں کہ ان متاثرہ خواتین کو ساتھ لے کر اپنی کہانی باتوں کا موقع دیں ۔ہر عورت کو اگر وہ چاہے اپنی بات پبلک طورسے کہنے کا حق رکھتی ہے ۔جیفری ایپسٹین پر میلانیا کی پریس کانفرنس سے بحث پھر تیز ہوگئی ہے ۔جیولیٹ برائٹ نے میلانیا کو سیدھا چیلنج کرتے ہوئے کہا : میں حلف لے کر سچ بولنے کو تیارہوں ۔جیولیٹ برائٹ کے ویڈیو میسج سے امریکہ میں کھلبلی مچ گئی ہے ۔خطرناک جنسی کرمنل جیفری ایپسٹین سے جڑا معاملہ ایک بار پھر عالمی سیاست اور انصاف نظام کے مرکز میں آگیا ہے ۔میلانیاکے تبصرے کے بعد سروائیورس نے اسے متاثرین پر ذمہ داری ڈالنے کی کوشش بتاتے ہوئے اپنی ناراضگی جتائی ۔ایپسٹین سیویور جیولیٹ برائٹ کا ایک ویڈیو میسج تیزی سے وائرل ہورہا ہے ۔انہوں نے میلانیا ٹرمپ کو سیدھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر قسم کے تحت گواہی دینے کی بات ہے تو میں خود اس کے لئے تیار ہوں اور جو کچھ انہوں نے کہا ہے کہ وہ سچ ہے۔ یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب امریکہ میں اس معاملے پر امکانی سماعت کا تذکرہ بھی جاری ہے ۔جولیٹ برائٹ پہلے بھی سنگین الزام لگا چکی ہیں ۔ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں ماڈلنگ کے جھانسے میں بیرون ملک لے جایا گیا جہاں ان سے جنسی چھیڑ چھاڑ کی گئی ۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ انہیں ایپسٹین کے پرائیویٹ جزیریے پر لے جایا گیا اور ان کا پاسپورٹ چھین لیا گیا ۔ویڈیو میں برائٹ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس معاملے میں گواہی دینے والی کئی لڑکیاں اب بھی زندہ ہیں ۔ویڈیو کے آخر میں برائٹ نے ٹرمپ اور میلانیا سے نہ صرف حلف کے تحت گواہی ہونے کی مانگ کی ان کا کہنا ہے دیش کے سامنے بااثر لوگوں کے اصلی چہرے سامنے آئیں ۔
(انل نریندر)

14 اپریل 2026

جس کا ڈر تھا وہی ہوا

امریکہ -ایران کے درمیان امن مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں بات چیت بے نتیجہ ہی ختم ہو گئی ہے ۔پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان پہلے دو راؤنڈ میں 21 گھنٹے سے زیادہ قیام امن کو لے کر بات چیت چلی ،لیکن یہ بے نتیجہ ہی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اپنی ٹیم کے ساتھ امریکہ کے لئے روانہ بھی ہو گئے ۔وینس نے جانے سے پہلے کہا: معاہدہ نہ ہونے کے لئے بری خبر : وینس ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ سمجھوتہ نہ ہونا امریکہ سے زیادہ ایران کے لئے بری خبر ہے ۔انہوں نے صاف کہا کہ امریکہ بغیر کسی سمجھوتہ کے ہی لوٹ رہا ہے ۔کسی بھی سمجھوتہ کے لئے ضروری ہے کہ ایران یہ وعدہ کرے کہ وہ نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنائےگا ۔سیز فائر ڈیل میں امریکہ کی جانب سے جے ڈی وینس (نائب صدر) اسٹیو وٹکاف (خصوصی نمائندے، زیروڈ کشنر سینئرایڈوائرزاور ٹرمپ کے داماد) اور بریڈ کوپر (ملیٹری افسر شامل ہوئے ۔ایرا ن کی جانب سے محمد وقار غالب (سینٹ اسپیکر ) عباس عراقچی (وزیرخارجہ ) اور مجید تخت خوانچی ( نائب وزیرخارجہ ) شامل ہوئے ۔بات چیت میں پاکستان کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف فوج کے چیف عاصم منیر ،وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور قومی سیکورٹی ایڈوائزرعاصم ملک شامل ہوئے۔ ایران سے 71نفری وفد پاکستان پہنچا تھا ۔اس ٹیم میں صرف بات چیت کرنے والے لوگ ہی نہیں تھے بلکہ ماہرین مشیر ، میڈیا نمائندے ،ڈپلومیٹ اور سیکورٹی سے وابستہ حکام بھی شامل تھے ۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باگر غالب جس جہاز سے آئے وہ بہت خاص تھا ۔وہ پوری دنیا کو امریکہ کو سسٹم دکھانے کے لئے پاکستان ثبوت لے کر آئے تھے ۔ان کے ساتھ ایسے مسافر بھی آئے جو اس دنیا میں اب نہیں ہیں ۔دراصل اس جہاز میں باگر غالیباف کے ساتھ پاکستان انے والے دو بچے تھے جو امریکہ اسرائیل ہوائی حملے میں اپنی جان گنوا چکے ہیں ۔پلین کی سیٹوں پر ان ننے بچوں کی تصویر رکھی ہوئی تھی۔ غالیباف نے بات چیت سے پہلے تصویر شیئر کی جس میں جہاز کی سیٹوں پر چار بچوں کی تصاویر دکھائی دیتی تھیں جن کے ساتھ ایک ایک اسکول بیگ اور پھول بھی رکھا گیا تھا ۔ایرانی شہر مناب کے اسکول میں 28 فروری کو ایک پرائمری اسکول پر حملہ ہوا تھا اس میں 168 بچوں سمیت لوگوں کی موت ہوئی تھی جس میں 108 اسکولی لڑکیاں تھیں ۔غالیباف نے بات چیت سے پہلے بیان میں کہا تھا کہ ان کا دیش بات چیت اور معاہدے کے لئے تیار ہے لیکن اس کے لئے امریکہ کو ایمانداری سے معاہدہ کی پیشکش کرنی ہوگی اور ان کے حقوق کو قبول کرنا ہوگا ۔انہوں نے صاف کہا کہ ایران کے پاس بھائی چارہ ہے لیکن امریکہ پر بھروسہ نہیں ۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بات چیت شروع ہونے سے پہلے ہی کہا واشنگٹن ایران کو ہرمز اسٹریٹ سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول لگانے کی اجازت نہیں دے گا ۔ٹرمپ نے آگے کہا کہ ہرمز جل ڈروم جلد ہی پھر سے کھل جائے گا چاہے ایران تعاون کرے یا نہ کرے ۔ٹرمپ نے آگے کہا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں ان کا اہم بیان تہران کی نیوکلیائی صلاحیتوں کو محدود کرنے پر ہوگا ۔انہوں نے کہا کوئی نیوکلیائی ہتھیار نہیں ۔یہی 99 فیصد بات ہے ۔مذاکرت تو فیل ہونے ہی تھے دونوں فریقین کی مانگوں میں بہت بڑا فاصلہ تھا جسے بھرنا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا ۔
(انل نریندر)

11 اپریل 2026

مٹ جائیں گے ،پر جھکیں گے نہیں!

جنگیں ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں یہ جذباتوں سے جیتی جاتی ہیں۔ ایرانی عوام نے یہ ثابت کر دکھا دیا ۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ آج رات ہم ایران کی تہذیب کو ہی مٹادیں گے ۔اس کے جواب میں ایرانی عوام سڑکوں پر اتر آئی ۔اپنے دیش کے وجود اور ٹرمپ کی دھمکی کے جواب میں ایرانی عوام اپنے دیش کے پلوں ،بجلی گھروں کو بچانے کے لئے امریکہ کے سامنے سینہ تان کر کھڑی ہو گئی ۔ایران کے ایوان تبریض اور دیگر کئی شہروں میں ہزاروں لوگوں نے بجلی گھروں اور اہم ترین بنیادی اداروں کو چاروں طرف لمبی انسانی سریز بنا لی ۔ایرانی سماچار ایجنسی ترمیم کے مطابق مردوں ،خواتین اور یہاں تک کہ بچوں سمیت بڑی تعداد میں لوگ اکٹھا ہوئے اور ہیومن چین بنا کر ڈٹ گئے ۔مظاہروں میں شامل لوگوں کے ہاتھوں میں ایرانی جھنڈے اور قومی لیڈروں کی تصاویر والے پوسٹر تھے ۔اور کئی لوگ مین شاہراہ پر ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر لمبی قطار میں کھڑے تھے ۔ایران کے احوال میں وائٹ برج میں پاور پلانٹ سمیت کئی جگہوں پر ہیومن چین بنائی گئی یہ ہیومن چین سریزواشنگٹن کی جانب سے بڑھتی جارحانہ بیان بازی کا سیدھا جواب تھا ۔ایران کے لوگوں نے دیش کو نشانہ بنانے والی کسی بھی فوجی کاروائی کی مزاہمت کرنے کے لئے ا س انسانی چین کا سہارا لیا ۔مظاہرین نے قومی اتحاد دکھانے کے لئے حب الوطنی کا یہ زبردست مظاہرہ کیا ۔اس کا سیدھا اثر واشنگٹن پر پڑا ۔شاید اس کو عقل آئی ہو کہ ہم ایرانی عوام جو سڑکوں پر انسانی چین بنا کر کھڑے ہیں اس پر حملہ کریں گے تو ساری دنیا میں ہماری تھو تھو ہو جائے گی اس لئے ایران کی تہذیب کو ختم کرنے کی دھمکی دینے والے ڈونلڈ ٹرمپ آخری لمحوں میں پیچھے ہٹ گئے ایران کا موجودہ فوجی رخ صاف اشارہ دیتا ہے کہ اس کی ترجیح اپنی حکومت اور فوجی انسٹرکچر کو بچائے رکھنا ہے ۔اسلامی رپبلک کی قیادت اور فوجی کمانڈروں نے پچھے 3-4 دہائیوں سے ایسے ہی امکانی ٹکراؤ کی تیاری کی ہے۔ شہید آیت اللہ علی خامنہ ای نے کئی برسوں پہلے ہی یہ دیکھ لیا تھا کسی نہ کسی دن یہ حالات آئیں گے اور امریکہ اسرائیل ہم پر حملہ کرے گا ۔آج اگر ایران کی اس جنگ میں جیت ہوئی ہے تو اس کا اصل حقدار شہید آیت اللہ علی خامنہ ای ہی ہیں ۔دراصل موساد اور نیتن یاہو نے ٹرمپ کو یہ بھروسہ دیا تھا کہ اگر ہم آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کے سب سے سینئر ملیٹری کمانڈروں کو مار دیں گے تو ایران میں اندرونی بغاوت ہو جائے گی اور ہمارے حمایتیوں کو اقتدار میں بٹھا دیں گے لیکن انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کا ایران کی عوام پر کیا اثر ہوگا ۔لیکن اثر الٹا ہوا جو ایرانی اسلامی اقتدار کے خلاف بھی تھے وہ بھی آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد سرکار کی حمایت میں آگئے ۔اس جنگ میں ایران کا پلڑا بھاری ہوگیا ۔جیسے میں نے کہا کہ غیر نیوکلیائی جنگ میں جیت ہتھیاروں سے نہیں ہوتی ، جیت جذبہ سے ہوتی ہے ۔جس کا مظاہرہ ایرانی عوام نے بخوبی کیا ۔دراصل ایران اپنے وجود کی لڑائی لڑ رہا تھا ۔
(انل نریندر)

09 اپریل 2026

ایٹمی پلانٹ پر چوتھا حملہ کتنا خطرناک ہے !

ایران کے بشر نیوکلیئر سنٹر کے پاس چوتھی بار امریکی -اسرائیلی حملہ ہوا ہے ۔اس حملے میں ایک شخص کی موت ہو گئی ۔سنیچر کو ایران کے بے حد اہم ترین بشر نیوکلیائی مرکز پر سے جان لیوا یورینیم کا سیدھا خطرہ تو نہیں ہے لیکن ہواؤ ں کے ذریعے ریڈیوکرنیں دھول میں مل کر ریاستوں اور یہاں تک کہ بھارت کی مغربی ریاستوں تک پہنچنے کا خطرہ ہے ۔مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی نے دنیا کو ایک ایسے موڑ پر لاکھڑا کر دیا ہے جہاں نیوکلیائی ہتھیاروں کے استعمال کی بحث ہونے لگی ہے ۔اگر ایران اسرائیل کے درمیان جنگ خطرناک سطح تک پہنچتی ہے اور ایران کی سرزمین پر نیوکلیائی دھماکہ ہوتا ہے ،تو سب سے بڑا سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اس کا اثر بھارت پر بھی پڑ سکتا ہے ؟ کیا ایران سے اڑنے والی ریڈیو ایکٹو دھول ہمارے شہروں تک پہنچ کر تباہی مچا سکتی ہے ؟ آئینی اورحکمت عملی نظریہ سے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہوا کا رخ اور دوری اس خطرے کو کیسے طے کرتی ہے ؟ ایران میں اگر کوئی نیوکلیائی واقعہ ہوتا ہے ، تو سب سے زیادہ تباہی اس کے پڑوسی ملکوں میں دیکھنے کو ملے گی۔ ایران کے 500 سے 1000 کلو میٹرک کے دائرے میں آنے والے دیش عراق،ترکیہ ،ارمینیا،آذر بائیجان ،افغانستان اور پاکستان جیسے ملکوں کو بے حد خطرناک ریڈ یشن کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ریڈیو کچرا (فال آؤٹ ) سیدھے طور پر لوگوں کی صحت اور ماحولیات کو بھی بربادکر سکتی ہے ۔ہوا کے بہاؤ کی بنیاد پر ان ملکوں کی سیکورٹی پوری طرح داؤ پر لگی ہوگی ۔ایران کے جنوب میں واقع خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب ،کویت، بحرین ،قطر ،یو اے ای بھی اس خطرے کی زد میں ہیں ۔اگرایران کے بشر شہر جیسے ساحلی نیوکلیائی بجلی کفیل ملکوں کو نشانہ بنایاگیا تو ریڈیو ایکٹو اخراج کی سیدھی دھار خلیج اور عرب ساگر کے پانی کو زہریلا بناسکتا ہے ۔اس سے سمندری چرند وپرند کے ساتھ ساتھ ان ملکوں کی پانی نظام اور معیشت پر بھی گہرا اثر پڑے گا ۔سمندری لہریں اس آلودگی کو ہندوستانی ساحلوں تک بھی پہنچا سکتی ہیں ۔سائنس کے مطابق کسی بھی نیوکلیائی دھماکہ کے بعد نکلنے والے سب سے خطرناک اور بھاری ریڈیو کرنیں دھماکہ والی جگہ سے کچھ سو کلو میٹر کے دائرے می ہی زمین پر گر جاتی ہیں ۔ان اتنی لمبی دوری طرے کرتے وقت ریڈیشن کا اثر کافی حد تک کم ہوجاتا ہے اس لئے تکنیکی طور سے بھارت میں فوری طور پر ایکیوٹ ریڈیشن سکنس سے ہونے والی سنگین بیماری کا سیدھا خطرہ بڑھتا نظر آتا ہے بھلے ہی بھارت ایران سے کافی دور ہے لیکن ایئر زون میں گھلی ریڈیو کرنوں وذرات کو ہوا تک لے جاسکتی ہے ۔اگر ہوا کا رخ مغرب سے مشرق کی جانب رہتا ہے تو نیوکلیائی بادل 48 سے 72 گھنٹوں کے اندر ہندوستانی آسمان تک پہنچ سکتے ہیں ۔ایسی صورت میں گجرات ،راجستھان ،پنجاب ،دہلی جیسی ریاستوں میں ریڈیو ٹک ذرات کی موجودگی درج کی جاسکتی ہے ۔حالانکہ بھارت تک پہنچتے پہنچتے یہ ذرات اتنے فیل اور ہلکے ہوجائیں گے کہ اس سے جان لیوا خطرہ بڑھنے کا اندیشہ بہت کم رہتا ہے ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ خلیجی ممالک اور ایران کے آس پاس بڑی تعداد میں ہندوستانی تارکین وطن رہتے ہیں ۔ہم اوپر والے سے پرارتھنا کرتے ہیں کہ ایران -امریکہ دوسری جنگ میں نیوکلیائی مراکز پر سیدھے حملے سے بچین ۔اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا سیدھا اثر پوری کائنات پر پڑے گا۔ (انل نریندر)

07 اپریل 2026

فائٹر جیٹ گرنے سے تلملائے ٹرمپ!

ایران جنگ میں اپنے فائٹر جیٹ گنوانے کے بعد تلملائے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نیا الٹی میٹم دے دیا ہے ۔ٹرمپ نے سنیچر کو کہا کہ ایران نے 48 گھنٹے مین ہرمز کو نہیں کھولاتو تباہی جھیلنے کے لئے تیار رہے ۔اب آر پار ہوگا انہوں نے کہا کہ ایران کے لئے وقت تیزی سے نکل رہا ہے اسے پیس ڈیل پر ستخط کر دینا چاہیے ۔ایران نے اس دھمکی کا جواب امریکہ کے بہت ہی ایم ترین ایف -15 ای جنگی جہاز کو مار گرا کر کیا ۔ایران نے جمعہ کے روز دو امریکہ کے ایک اور جہاز ایف -35 کو مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا ۔وہیں دو امریکی حکام کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا دو سیٹر جنگی جہاز ای-15 ای ایران میں گرا ہے ۔ایک پائلٹ مل گیا ہے جبکہ ایران دعویٰ کررہا ہے کہ دوسرا پائلٹ اس کے قبضہ میں ہے ۔حالانکہ امریکہ نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے ۔پنٹاگن اینڈ سنٹرل کمان نے اس پر کوئی سرکاری بیان نہیں دیا ہے ۔وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری کیرولن لیور نے بیان جاری کربتایا کہ جنگی جہاز گرنے کی جانکاری صدر ٹرمپ کو دے دی گئی ہے ایران کی آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا ایف -35 جنگی جہاز کو جنوب مغربی ایران میں مار گرایا ہے ۔ادھر امریکی نیوز پورٹل کی موس کا دعویٰ ہے کہ ایران نے مار گرائے جنگی جہاز کی جو تصویر شیئر کی ہے وہ ایک ایف زیڈ ای جہاز کی ہے ۔ایس ای -15 اسٹرائک ایگل ایف ڈولپ کٹیگری کا امریکی جنگی جہاز ہے جسے خاص طور پر لمبی دور ی تک گہرائی میں جاکر (دشمن کے ٹھکانوں ) پر بالکل پختہ حملے کرنے کے لئے بنایا گیا ہے ۔اس جہاز کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ہر موسم میں مشن پورا کرسکتا ہے ۔امریکہ کے چیف میڈیا آؤٹ لیٹس میں سے ایک سی این این نے اس واقعہ پر لکھا ہے ایران کے ساتھ چل رہی جنگ جو پہلے سے ہی امریکی عوام کے بیچ کافی غیر مقبول ثابت ہورہی تھی ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ مرحلے میں پہنچ گیا ہے ۔چینل نے بتایا کہ پہلے خبر آئی کہ ایران کے اوپر ایک امریکی جنگی جہاز کو گراد یا گیا ہے اس کے بعد جمعہ کو خبر آئی کہ ایران نے دوسرے امریکی جنگی جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔جبکہ سی این این نے لکھا ہے ،لیکن ایک ایسی لڑائی جس میں فوجی بالادستی امریکہ کے حق میں ہو ،یہ واقعہ ایک پیچیدہ جنگ کے خطرون کو دکھاتا ہے ۔اس کی لاگت کو امریکہ جنتا پہلے سے نامنظور کرتی آرہی ہے ۔سی این این آگے لکھتا ہے کہ ان واقعات سے ایران کے آسمان پر پوری بالادستی کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کے دعووں کے ساتھ ساتھ پچھلے مہینے سے بنائے جارہے ہوے کو دکھاوے کی بھی دھجیاں اڑ رہی ہیں ۔ایم بی سی نیوز نے ایران کی جانب سے جنگی جہاز گرانے کے دعوے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے -یہ پہلی بار ہے کہ جب اس تازہ لڑائی کے تحت ایران کے اندر امریکی جہاز تباہ ہوا ہے ۔جس سے یہ تصور غلط ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ کا ایرانی ہوائی زون پر پورا کنٹرول ہے ۔این بی سی لکھتا ہے کہ ٹرمپ نے اس جنگ میں جیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایران پر جنگ ختم کرنے پر رضامند ہونے کے لئے دباؤ ڈالا ہے وہین اب ایران کی جانب سے جو دعوے کئے جارہے ہیں اس سے امریکہ -اسرائیل کے ایرانی ہوائی پٹی کےبالادستی کے دعووں پر شبہ پیدا ہوتا ہے ۔اسرائیل امریکہ کی مشترکہ کاروائی کا اہم مقصد ایران کے میزائل ڈیفنس سسٹم کو تباہ کرنا اور کمزو ر کرنا رہا ہے لیکن ایران نے پورے خطہ میں جوابی حملہ کرنے کی صلاحیت کو بنائے رکھا ہے امریکہ کی جانب سے چھیڑی گئی جنگ کے دوران امریکی صدر ٹرمپ اور ڈیفنس سیکریٹری پیٹر ہیگس نے بار بار کہا ہے کہ ایران کی صلاحیتوں کو پوری طرح تباہ کر دیا گیا ہے ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے جہاز انسداد سسٹم کو بھی ختم کر دیا گیا ہے ۔لیکن جمعہ کو اس دعوے پر سوال اٹھنے لگے جب ایران نے اپنے علاقہ میں امریکی جنگی جہاز ،ایف -15 ای کو مار گرایا ۔ایک جھٹکے میں ایران نے ٹرمپ کی ساری ہیکڑی نکال دی ۔ (انل نریندر)

04 اپریل 2026

ٹرمپ نکلنے کی کوشش میں پھنس گئے ہیں!

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہندوستانی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح 6.30بجے وائٹ ہاؤس میں ایران جنگ پر ایڈریس کیا ۔ٹرمپ نے پھر دھمکی دی ہے کہ امریکہ آنے والے ہفتوں پر ایران پر اتنی بمباری کرے گا اسے دورہ قدیم میں پہنچا دے گا ۔20 منٹ کی اس پرائم ٹائم ایڈریس میں زیادہ تر وہی باتیں دہرائیں جو وہ کئی بار پہلے بھی کہہ چکے تھے ۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہم اگلے دو سے تین ہفتوں میں ان (ایران پر)بہت بڑا حملہ کرنے جارہے ہیں ۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ،اسرائیل فوجی آپریشن خاص حکمت عملی مقاصد کو لے کر تقریباً پورا ہونے کے قریب ہے۔ انہوں نے اندازہ لگایا کہ یہ جنگ ابھی 2 سے 3 ہفتے مزید چل سکتی ہے اگر آپ پچھلے ایک ہفتے میں ٹرمپ کے ٹوتھ سوشل پر ڈالی گئی پوسٹ کو جائزہ لیں  تو وہ اس اپنے دیش کے نام ان کی تقریر سے کافی کچھ ملتی جلتی پائیں گے ۔ صدر ٹرمپ نے اس جنگ کے فائدے امریکی عوام کے سامنے رکھنے کی کوشش بھی کی ۔اس کی وجہ بھی ہے ، چونکہ امریکہ کے کئی سروے بتاتے ہیں کہ 28 فروری کو شروع کی گئی اس فوجی کاروائی کو لے کر زیادہ تر ووٹروں نے عدم اتفاق جتایا ہے ۔ٹرمپ نے امریکی عوام سے اس جنگ کو اپنے مستقبل میں ایک سرمایہ کی شکل میں دیکھنے کی اپیل کی اور کہا یہ پچھلی ایک صدی یا اس سے زیادہ وقت سے ہوئی فوجی لڑائی کے موازنے میں کچھ بھی نہیں ہے جن میں امریکہ کے کہیں زیادہ لمبے عرصے تک شامل رہا ہے لیکن ٹرمپ کی تقریر سے امریکی عوام ناراض ہوئی ۔وہ جاننا چاہتی تھی کہ یہ جنگ کس سمت میں جارہی ہے ۔یا امریکہ کے لئے اس سے باہر نکلنے کے امکانی راستے کیا ہوسکتے ہیں ۔اس میں کئی سوالوں کے جواب نہیں مل پائے پہلا : اسرائیل ابھی بھی ایران پر حملے کررہا ہے ؟ ساتھ ہی اسرائیل کو ایران کے ڈرون اور میزائل حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑرہا ہے ۔جس میں بدھوار کو تل ابیب کے پاس کچھ حملے بھی شامل ہیں ۔ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کی سرکار ٹرمپ کے بتائے گئے کچھ حملوں کی وقت میعاد سے متفق ہیں ۔فی الحال اس بارے میں کوئی واضح معلومات نہیں ہے کم سے کم موجودہ حالات میں تو اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے ۔پھر اس 15 نکاتی امن پلان کا کیا ہوا؟جسے وائٹ ہاؤس کچھ دن پہلے ایران سے تسلیم کرنے کے لئے کہہ رہا تھا ؟ اپنے خطاب میں ٹرمپ نے اس کا کوئی ذکر نہیں کیا ۔کیا اب امریکہ اپنی مانگوں سے پیچھے ہٹ رہا ہے ، جس میں مکمل یورینیم کے ذخیرے کو واپس لینے کی مانگ بھی شامل تھی ؟ اسرائیل نے ابھی ایران پر حملے نہیں روکے ہیں ۔اب دنیا کے سب سے تیل شپنگ راستون میں اسے ایک ہرمز اسٹریٹ اس لڑائی کا فوکس بن گیا ہے ۔ایران نے اس تیل راستہ کو بند کر رکھا ہے ۔حالانکہ صدر کا اس پر کوئی ٹھوس اور طے رخ سامنے نہیں آتا ۔کبھی وہ ایران سے ٹینکروں کو راستہ دینے کی مانگ کرتے ہیں اور اگلے پل ہی ساتھی ملکوں سے کہتے ہیں کہ وہ خود جاکر اسے سنبھالیں ۔بدھوار کو انہوں نے کہا کہ ہرمز پر جاؤ اور بس اسے اپنے کنٹرول میں لے لو ۔اس کی حفاظت کرو اور اپنے استعمال کے لئے اسے کھولو ۔ مشکل حصہ پورا ہو چکا ہے اس لئے یہ آسان ہونا چاہیے ۔انہوں نے برطانیہ اور فرانس جیسے اپنے ساتھیوں کو ہرمز جاکر خود تیل حاصل کرنے کی نصیحت دے ڈالی ہے ۔اس کے بعد انہوں نے بغیر زیادہ تصویر بتائے صرف اتنا کہا کہ جنگ ختم ہونے پر ہرمز فطری طور سے پھر سے کھل جائے گا ۔تیل کی قیمتوں کو لے کر فکرمندلوگوں کے لئے یہ بات شاید زیادہ بھروسہ دینے والی نہیں ہوگی ۔وائٹ ہاؤس میں دئیے گئے تازہ بیان میں ٹرمپ کا وہ تیور پوری طرح غائب تھا ، جب بریفنگ میں اشارے دئیے گئے تھے یہ ان کے خطاب کا ایک اہم حصہ ہوگا۔ ایک طرف بڑا سلجھا سوال میدان میں فوجیوں کی موجودگی کو لے کر ہے ۔خطہ میں لگاتار پہنچ رہے ہزاروں مرین اور پیرا ٹروپس وہان کیا کررہی ہیں یا کرنے والی ہیں ؟ٹرمپ کے بیان ہر اگلے دن بدل رہے ہیں یا یوں کہیں صبح کچھ کہتے ہیں اور شام کو کچھ کہتے ہیں ۔اس درمیان امریکہ میں گیس کی اوسط قیمت تقریباً 4 سال میں پہلی بار 4 ڈالر فی گیلن سے پار کر گئی ہے ۔اور اسے مفاد عامہ کی ریٹنگ تیزی سے گررہی ہے ۔ (انل نریندر)

شانتی و امن کا دشمن :نیتن یاہو

جب بھی پچھلے 80 برسوں کی تاریخ لکھی جائے گی اس میں دو ناموں کا خاص تذکرہ ہوگا جب بھی انسانیت کے قتل عام کا ذکر آئے گا اس میں پہلا نام جرمنی...