Translater

12 مئی 2026

سیز فائر اور جنگ

ایک طرف تو امریکہ ایران کے درمیان کہنے کے تو سیز فائر یعنی جنگ بندی چل رہی ہے ۔وہیں دوسری طرف جنگ بھی جاری ہے ۔یہ سیز فائر اپنی سمجھ سے تو باہر ہے ۔دعویٰ کیاجارہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے بیچ اگلے ہفتے اسلام آباد میں بات چیت ہو سکتی ہے ۔ دونوں ملکوں کے درمیان 14 نکاتی معاہدے پر کام چل رہا ہے ۔جس میں نیوکلیائی پروگرام ،ہرمز کشیدگی جیسے اشوز شامل ہیں اس درمیان ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے رول کو لے کر بھی نئی جانکاری سامنے آئی ہے ۔امریکی ایجنسیاں انہیں جنگ اور بات چیت میں اہم مان رہی ہیں ۔رپورٹ کے مطابق دونوں ملکوں کے بیچ اگلے ہفتے اسلام آباد میں جو بات چیت ہونی ہے اس میں ایک اہم اشو ایک ماہ چلنے والی بات چیت کے خاکے کوتیار کرنا ہے تاکہ دونوں ملکوں کے بیچ کشیدگی اور جنگ ختم کی جاسکے ۔رپورٹ کے مطابق اس تجویز میں ایران کے نیوکلیائی پروگرام اور ایران کے پاس موجودہ ہائی اینرچ یورینیم کو کسی دوسرے دیش میں بھیجنے جیسے اشوز شامل ہیں ۔حالانکہ کئی اہم معاملوں پر ابھی بھی اتفاق رائے نہیں ہوپایا ہے ۔سب سے بڑا تنازعہ نیوکلیائی پروگرام اور امریکہ کی طرف سے ایران پر لگی پابندیوں میں راحت کو لے کر ہے ۔اس درمیان ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو لے کر جانکاری بھی سامنے آئی ہے ۔امریکی خفیہ ایجنسیوں کا خیال ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگ کی حکمت عملی طے کرنے اور امریکہ سے بات چیت کو سنبھالنے میں بڑا رول نبھا رہے ہیں ۔اہم ترین یہ ہے کہ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای ٹھیک ہیں اور انہوں نے اپنی کمان سنبھال لی ہے ۔ایک طرف تو سیز فائر جاری ہے اور ڈیل کی بات ہورہی ہے دوسری طرف ہرمز کو لے کر خطرناک جنگ چھڑی ہوئی ہے ۔مشرق وسطیٰ میں امن کی امیدوں کو ایک بار پھر جھٹکا لگا ہے۔ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کو امریکہ اور ایران کے بیچ حملے پھر شروع  ہو گئے ہیں ۔حملے کے درمیان 8 اپریل 2026 سے چلی آرہی نازک جنگ بندی ٹوٹنےکے دہانے پر پہنچ گئی ہے ۔یہ حملے ہرمز ، کیرام اور بدر عباس علاقہ میں ہوئے ہیں ۔اسٹریٹ آف ہرمز میںہوئی اس جھڑپ کے بعد پورے علاقہ میں کشیدگی پھر سے انتہا پر پہنچ چکی ہے ۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ بدتمیزی کی ہے ۔حالانکہ انہوں نے یہ بھی امید جتائی ہے کہ سمجھوتہ اب بھی ممکن ہے ۔امریکہ کے سنٹرل کمان (سنٹکام ) کے مطابق ایرانی فوج نے اسٹریٹ آف ہرمز میں تعینات تین امریکی جہازوں پر میزائلوں اور ڈرون اور چھوٹی بحری کشتیوں سے حملہ کیا ہے ۔حالانکہ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ان کے جہازوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے ۔اور جوابی کاروائی میں ایران کے ان فوجی ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا ہے جہاں سے یہ حملے شروع ہوئے تھے ۔دوسری جانب ، ایرانی میڈیا تہران ٹائمس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملے کے سبب ان کے جہازوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا ہے ۔ایرانی فوج کے ترجمان نے واشنگٹن پر سیز فائر خلاف ورزی کا سیدھا الزام لگایا ہے اور ساری دنیا کی نظریں اب مجوزہ اسلام آباد میں امن بات چیت پر ٹکی ہیں ۔تمام دنیا چاہ رہی ہے کہ یہ جنگ رکے اور خطہ میں امن چین پھر سے قائم ہو ۔
(انل نریندر)

09 مئی 2026

ایران نے خلیجی ملکوں پر حملہ کیوں کیا؟

امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران ایران کی جوابی کاروائی روایتی نشانوں سے آگے بڑھ گئی ہے ، اس نے خلیجی ملکوں میں مسلسل حملے کئے اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے ۔متحدہ عرب امارات نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اس پر میزائل اور ڈرون سے حملہ کیا ،جنہیں ایئر ڈیفنس سسٹم نے روکا۔ فوٹیج میں ایک تیل فیسلٹی پر ایک ڈرون گرنے سے آگ لگ گئی جس میں تین ہندوستانی زخمی ہو گئے ۔اس سے پہلے ٹینکر پر ڈرون حملے کی واردات سامنے آئی تھی ۔امریکہ -ایران کے درمیان سیز فائر کے بعد اس طرح کا پہلا حملہ ہے ۔الجزیرہ اخبار کی رپورٹ کے مطابق یو اے ای کے وزارت دفاع نے پیر کی شام بتایا کہ دیش کے الگ الگ حصوں میں بیلسٹک میزائل ،کروز میزائل اور ڈرون کو انٹرسیپٹ کیا جارہا ہے ۔ایران نے خلیجی ملکوں میں امریکہ سے وابستہ ڈیجیٹل ہب ، کلائیڈ انفراسٹرکچر اور ڈیٹا سنٹرس کو نشانہ بنا کر جنگ کے دائرہ کو مزید پھیلا دیا ہے ۔ایران کی اسلامک ریبولیوشنری گارڈس کارف (آئی آر جی سی ) نے کہا کہ اس نے یو اے ای اور بحرین میں ڈیٹا سنٹرس پر ڈرون حملے کئے یہ آج کی جنگ میں ایک اہم ترین واقعہ ہے جس میں صرف سائبر دراندازی کے بجائے عام لوگوں سے جڑے کلائیڈ انفراسٹرکچر پر سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت حملے کئے گئے ہیں ۔ایرانی سرکار میڈیا نے بتایا کہ اس کا مقصد ان ڈیٹا سنٹروں کی ورمن کی فوجی اور دیگر سرگرمیوں میں مدد کرنے والے رول کو سامنے لانا اور اسے روکنا ہے ۔موجودہ دور میں کلائیڈ انفراسٹرکچر اب دہرے استعمال والی حکمت عملی ہب کے طور پر ابھرا ہے ۔یہ بینکنگ ایویشن ،ہیلتھ کیئر ،کارپوریٹ کام کاج اور ای گورنمنٹ جیسے سیکٹروں میں عام لوگوں کو خدمات دیتا ہے ۔اس کے علاوہ وہ فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے کاموں میں مدد بھی کرتا ہے جس میں اے-آئی پر مبنی تجزیہ ،سیٹلائٹ تصاویر کی پروسیسنگ ،لاجسٹکس کے پلان بنانا اور کمانڈ اینڈ کنٹرول میں مدد کرنا شامل ہے ۔امریکہ خاص طور پر بڑے پیمانہ پر کلائیڈ سیوائیں دینے والی کمپنیوں پر منحصر ہے ان میں ایمازون ،مائیکروسافٹ اور گوگل جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں شامل ہیں ۔ایران کا خیال ہے کہ ان سنٹروں کو نشانہ بنانے سے جنگ کی حکمت عملیاں پوری طرح بدل جائیں گی۔ اور اس سے لڑائی کی سمت پر گہرا اثر پڑسکتا ہے ۔یو اے ای اس لئے بھی ایران کے نشانہ پر ہے کیوں کہ اس کا ماننا ہے کہ یہ امریکہ ،اسرائیل کے اشاروں پر کام کرتا ہے اور اپنی زمین کا ایران پر امریکی حملوں کے لئے استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔ریسرچ کنندہ خالد ولید نے لندن سے شائع اخبار القدوس العربی میں لکھا : یہ دکھاتا ہے کہ ان کی حکمت عملی میں بہت سی تبدیلی آئی ہے اب جگہوں کو نہیں بلکہ اس سسٹم کو نشانہ بنایاجارہا ہے جو نگرانی کا کام کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا ، اس نظریہ سے دیکھیں تو یہ کمپنیاں اب صرف تکنیکی خدمات دینے تک محدود نہیں رہ گئی ہیں بلکہ وہ ایک سیدھے یا درپردہ طور سے فوج کے فیصلے لینے کی کاروائی کی چین کا حصہ بن گئی ہے ۔
(انل نریندر)

07 مئی 2026

مناب اسکول پر حملے کیلئے پینٹاگن کی خاموشی

سابق سرکردہ فوجی وکیل سمیت امریکہ کے پانچ سابق حکام نے اس سال کی شروعات میں ایران کے ایک اسکول پر ہوئے خوفناک حملے میں امکانی امریکی رول کو تسلیم کرنے پر پینٹاگن (امریکی وزارت دفاع) کی نکتہ چینی کی ہے ۔ان میں سے کچھ نے کہا کہ اتنے لمبے عرصہ بعد بھی حملے کی بنیادی تفصیلات تک جاری نہ کرنا بے حد غیر موضوع ہے ۔ایرانی حکام کے مطابق 28 فروری کو امریکہ ،اسرائیل جنگ کی شروعاتی کاروائی کے دوران مناب میں ایک پرائمری اسکول پر میزائل گری جس میں قریب 110 بچوں سمیت 168 لوگوں کی موت ہوئی تھی ۔اس کے بعد گزرے دو ماہ میں پینٹاگن نے صرف اتنا کہا ہے کہ اس واقعہ کی جانچ جاری ہے ۔مارچ کے آغاز میں امریکی میڈیا نے خبر دی تھی کہ امریکی فوجی جانکاروں کا خیال ہے کہ شاید امریکی فورس انجانے میں اسکول پر حملے کے لئے ذمہ دار تھے لیکن آخری نتیجہ تک نہیں پہنچے تھے ۔بی بی سی نے اس حملے اور اس کی شفافیت کی کمی کے الزامات پر کئی سوال پوچھے جس پر پینٹاگن کے ایک افسر نے بتایا کہ اس واقعہ کی جانچ جاری ہے ۔لیفٹننٹ کرنل ریملائی وین لینگڈز کہتی ہیں کہ امریکہ کی موجودہ حالات عام رد عمل سے صاف طور پر الگ ہے ۔انہوں نے امریکی ایئر فورس میں جج ایڈوکیٹ جنرل رہ چکی ہیں نے بتایا کہ پچھلی حکومتوں نے کم سے کم جنگ قانون کے تئیں وفاداری اور عزم دکھائی تھی ۔موجودہ انتظامیہ کے بیانوں میں جوابدہی کے عزم غائب ہے ۔سب سے اہم یہ یقینی کرنا بھی کہ ایسا دوبارہ نہ ہو ۔امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے 7 مارچ کو کہا تھا کہ ان کے نظریہ میں مناب حملے کے لئے ایران ذمہ داری ہے لیکن انہوں نے کوئی ثبوت نہیں دیا ۔کچھ دن بعد جب ان سے مناب اسکول کے پاس فوجی اڈے پر امریکی ٹام ہاک میزائل گرنے کا ویڈیو دکھائے جانے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : میں نے یہ نہیں دیکھا ساتھ ہی ٹرمپ نے بغیر کسی ثبوت دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس بھی ٹام ہاگ میزائلیں تھیں ۔11 مارچ کو جب ان سے ان خبروں کے بارے میں پوچھا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ شروعاتی فوجی ملیٹری جانچ میں پایا گیا کہ امریکن اسکول پر حملہ کیا تھا ۔تو ٹرمپ نے کہا مجھے اس کے بارے میں نہیں پتہ ۔امریکہ کے وزیر دفاع ویٹ ہیگ سیتھ سے چار مارچ کو بی بی سی نے اس حملے پر سوال کیا تھا تو انہوں نے کہا کہ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ہم اس کی جانچ کررہے ہیں ۔یہی نہیں امریکی محکمہ دفاع نے اس حملے پر کئی سوالوں کے جواب دینے سے انکار کر دیا ۔پچھلے مہینے بی بی سی نے آزادانہ طور سے حملے کے ویڈیو کی تصدیق کی تھی جس میں اسکول کے پاس ایرانی ریوولوشنری گارڈس کور (آر آر جی سی) کے اڈے پر امریکی ٹام ہاگ میزائل گرتی نظر آرہی تھی ۔پینٹاگن کے ایک سینئرسابق مشیر ویس برانچر نے بھی بی وی سی کو بتایا تھا کہ شرعاتی فوجی جانچ عام طور پر دو باتیں طے کرنے کے لئے ہوتی ہیں ۔پہلی کہ کیا شہری نقصان حقیقت میں ہوا ؟دوسرا کیا اس وقت علاقہ میں امریکہ سرگرم تھا یا نہیں ؟ جب دونوں شرطیں پوری ہو جاتی ہیں تبھی باقاعدہ جانچ شروع کی جاتی ہے ۔پروسیس کے لحاظ سے یہ اور بھی صاف اشارہ دیتا ہے کہ وہ پہلے سے جانتے ہیں کہ یہ امریکہ کی وجہ سے ہوا نہیں تو وہ یہ جانچ نہیں کررہے ہوتے وہ بس اسے تسلیم کرنا چاہتے ہیں یا اس پر بولنا نہیں چاہتے ۔پچھلے سال امریکہ کے ڈیفنس محکمہ نے نوکریوں کی چھٹنی کی تھی اس میں فوجی عملہ بھی شامل تھے ۔امریکہ قبول کرے نہ کرے اس نے انسانیت کا قتل کیا ہے۔ جسے کبھی معاف نہیں کیاجاسکتا ۔
(انل نریندر)

05 مئی 2026

آپ اور ٹرمپ لگاتار جھوٹ بول رہے ہیں

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی ایران جنگ پر جنتا کو جھوٹ بولنے اور گمراہ کرنے و سینئر فوجی افسران کو ہٹانے کے الزامات کو لے کر نمائندہ سبھا کی مسلح سروس کمیٹی میں سماعت ہوئی ۔پہلی بار جنگ شروع ہونے کے بعد وزیر دفاع پیٹ ہیگس سیدھ کو ایران جنگ پر ڈیموکریٹک ممبران کا سامنا کرنا پڑا ۔گزشتہ بدھوار کو وہ ہاؤس آف آرمڈ سروس کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے ان کے ساتھ جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین اور وزارت دفاع کے چیف فائنانشیل افسر جولس ہسرٹ بھی موجود تھے ۔بحث کی شروعات میں ہیگ سیتھ نے ڈیموکریٹس اور کچھ رپبلکن نمائندوں کے بیان کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے تبصرے امریکہ کے سب سے بڑے دشمن ہیں ۔اس دوران ہیگس سیتھ اور ڈیموکریٹ ایم پیز سے تلخ بحث ہو گئی ۔چھ گھنٹے کی سماعت میں ماحول گرم رہا ۔پارلیمنٹ کی نچلی ایوان میں ٹرمپ انتظامیہ کے 1500 ارب ڈالر کے ڈیفنس بجٹ پر بحث کے دوران یہ نوک جھونک ہوئی ۔پینٹاگون کے ذریعے جنگ کی تخمینہ لاگت 25ارب ڈالر بتانے پر ڈیموکریٹ بھڑک گئے اور انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی دماغی صحت پر ہی سوال کھڑے کر دئیے ۔اس پر ہیتھ سیتھ نے پلٹ وار کیا کہ ٹرمپ سب سے تیز اور سوجھ بوجھ والے کمانڈر ان چیف ہیں ۔انہوں نے ڈیموکریٹ ممبر سے الٹا سوال کیا کہ کیا انہوں نے سابق صدر جوبائیڈن کی صلاحیت پر کمی کے سوال اٹھائے ۔ڈیموکریٹ ممبران نے امریکہ کے ذریعے شروع کی گئی ایران جنگ کو وار آف مائس بتایا ۔جسے کانگریس کی منظوری کے بغیر شروع کیا گیا ۔کیلکو ڈیموکریٹ ایم پی جون گرامینڈی نے کہا کہ آپ اور صدر شروع سے ہی اس جنگ کے بارے میں امریکی جنتا سے جھوٹ بول رہے ہیں ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ وسط مشرق کی ایک اور جنگ کے دلدل میں پھنس گئے ہیں ۔ہیگ سیتھ نے اس بیان کو لاپرواہی بھرا بتایا اور کہا کہ ٹرمپ کسی دلدل میں نہیں ہیں ۔انہوں نے آگے کہا کہ صدر ٹرمپ کے تئیں آپ کی نفرت آپ کو اندھا کررہی ہے ۔حالانکہ کمیٹی کے کئی رپبلکن ممبران نے پینٹاگون کی حمایت کی ہے ۔فلوریڈا کے ایم پی کارلوس جی مینیل نے کہا کہ ایران سے امریکہ کے وجود کو خطرہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی 47 سال سے کہہ رہا ہے کہ وہ ہمیں مارنا چاہتے ہیں تو میں اس کی بات کو سنجیدگی سے لوں گا ۔تیل کی قیمتوں میں اضافے اور اس کی وجہ سے چیزوں کی قیمتوں پر اثر پر ایک ایم پی نے کہا کہ آپ کو شرم آنی چاہیے کہ آپ نے مناب میں ہوئے حملے میں 168 لوگ مارے گئے جن میں قریب 110 بچے شامل تھے ۔آج ہر امریکن بڑھتی مہنگائی سے پریشان ہیں ۔تیل کی قیمتیں بے تحاشہ بڑھ رہی ہیں اور اس کے ذمہ دار آپ کے صدر اور آپ جیسے مشیر ہیں ۔کمیٹی کے سینئرڈیموکریٹ ممبر ایڈم اسمتھ نے کہا کہ ہم سے غلطی ہوئی اور جنگ میں ایسا ہوتا ہے لیکن دو ماہ تک چپ رہ کر ہم نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ہمیں پرواہ نہیں ہے ۔کیلیفورنیا کے بھارت نژاد ایم پی روکھنّا نے اس حملے کی لاگت پر سوال اٹھایا ۔اس پر ہیگ سیتھ نے کہا یہ حملہ ابھی انصاف کے دائرے میں ہے اور وہ اس کی لاگت پر رائے زنی نہیں کریں گے ۔اس کے علاوہ ڈیموکریٹ ایم پی سارا جیکس نے وزیر دفاع پیٹھ گیس سیتھ سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دماغی حالت پر بھی سوال کھڑا کیا اس سوال پر پیٹھ گیس سیتھ اور سارا جیکف کے درمیان تلخ بحث ہوئی ۔ خبر ہے کہ اپوزیشن ڈیموکریٹ ممبر نے ہیگ سیتھ کے خلاف ہاؤس آف نمائندگان میں مقدمہ چلانے کی تجویز بھی لانے کا فیصلہ کیا ہے ۔اس تجویز کے آنے کےبعد ایران جنگ معاملے میں ٹرمپ اور ہیگ سیتھ کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں ۔میگزین آؤٹ لیٹ ایکسس کے مطابق ہاؤس آف ڈیموکریٹس میں پانچ سنگین الزام لگاتے ہوئے ہیگ سیتھ کے خلاف مقدمہ چلانے کا فیصلہ دیا ۔وزیر دفاع کوکابینہ سے ہٹانے کے لئے سینٹ اور ہاؤس میں دو تہائی ممبران پارلیمنٹ کی ضرورت ہوگی ۔
(انل نریندر)

02 مئی 2026

خلیجی ممالک میں ابھرتے اختلافات



امریکہ ایران جنگ کے بعد سے خلیجی ممالک میں آپسی اختلافات تیزی سے بڑھتے نظر آنے لگے ہیں ۔ ہر مونز اسٹریٹ کے بند ہونے سے صورتحال دھما کہ خیز ہوتی جارہی ہے۔ اس راستہ کے بند ہونے سے خلیج کے وہ ملک جن کا اقتصادی نظام تیل کی درآمدات پر منحصر ہے وہ خاصے ناراض ہیں۔ اس کا ایک نتیجہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا اہم ترین تیل پروڈکشن ممالک کے گروپ او پیک اور او پیک پلس سے باہر جانے کا فیصلہ ایران جنگ کی وجہ سے تاریخی طور سے دنیا بھر میں ایندھن کو لیکر بڑا بحران پیدا ہوا ہے جس نے عالمی معیشت کو بلا کر رکھ دیا ہے۔ یو اے ای اور بدلتی انرجی پروفائل کا دکھاوا پن ہے۔ یواے ای کے وزیر توانائی سبیل الامظروئی نے کہا ہے

ان گروپوں کے تحت کسی ثالثی سے نجات ملنے پر دیش کو زیادہ لچیلا پن ملے گا۔ او پیک کو 60 سال بعد چھوڑنے کا فیصلہ یو اے ای نے اچانک نہیں لیا، بلکہ اس کے پیچھے لمبے عرصے سے پنپ رہی ناراضگی ہے۔ اب تمہی کو مسلسل یہ کھٹک رہا تھا کہ سعودی عرب او پیک کے ذریعے تیل پیداوار کو کنٹرول کرتا ہے اور یوں اے ای کو اپنی صلاحیت کے حساب سے زیادہ تیل نکالنے نہیں دیتا۔ جب یواے ای زیادہ پیداوار کرنا چاہتا تھا تب سعودی کم پیداوار پر زور دیتا رہا۔ جس سے دونوں میں کشیدگی بڑھتی چلی گئی۔ اس کشیدگی کو اور ہوا تب ملی جب پاکستان کا رول سامنے آیا۔ یو اے ای کو پاکستان کا رویہ بالکل پسند نہیں آیا۔ خاص کر تب جب امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث بننے کی کوشش کر رہا تھا۔ ایم ایس ٹی فائنشیل میں انرجی ریسرچ کی ٹیم شاؤل کو انک نے کہا کہ یہ اتحاد کے خاتمے کی شروعات ہو سکتی ہے۔ یو اے ای کے ساتھ جانے کے او پیک کے ساتھ ساتھ اس گروپ کے کرتا دھرتا مانے جانے والے سعودی عرب کے لئے جھٹکا مانا جارہا ہے۔ یو اے ای کا باہر جانا امریکہ کے صدر ڈونل ٹرمپ کے لئے ایک جیت مانا جارہا ہے جنہوں نے پہلے او پیک پر دنیا کا استحصال کرنے کا الزام لگایا تھا۔ جنوری میں انہوں نے سعودی عرب اور دیگر او پیک ملکوں سے تیل کی قیمت کم کرنے کو کہا تھا اور ٹیرف لگانے کی اپنی دھمکی کو بھی دوہرایا تھا۔ یو اے ای کا او پیک سے الگ ہونے کا فیصلہ صرف ایک ممبر ملک کی تجویز نہیں ہے بلکہ عالمی توانائی سیاست میں ایک اہم موڑ ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب مغربی ایشیا میں جغرافیائی کشیدگی ، ہرموز قبل ڈروم پر غیر یقینی اور عالمی افراط زر پہلے سے ہی تیل بازار کو کمزور بنائے ہوئے ہے۔ یو اے ای او پیک کا تیسرا بڑا تیل پیدا کرنے والا ممبر ملک تھا اور گروپ کی پیداوار میں قریب 12 فیصدی کا تعاون کرتا تھا۔ ایسے میں اس کا باہر نکلنا او پیک کی سپلائی صلاحیت کو ضرور متاثر کرے گا لیکن اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے اگر او پیک کی شرطوں سے آزاد یو اے ای عالمی تیل بازار کو مزید سپلائی کرتا ہے تو اس سے تیل کی قیمتوں میں کمی آسکتی ہے۔ یہ حالت بھارت جیسے ملکوں کے لئے خاص طور پر فائدہ مند ہے جو انرجی درآمدات پر ہی منحصر ہیں۔ غور طلب ہے کہ بھارت اپنے سکیورٹی متعلق حقائق سے نمٹنے کے لئے لمبے عرصے سے او پیک ملکوں سے تیل کی پیداوار میں اضافہ کرنے کی مانگ کرتا رہا ہے۔
بھارت کی کل تیل ضرورتوں کا تقریباً 40 فیصدی حصہ او پیک ممالک سے آتا ہے۔ حالانکہ یہ دیکھتے ہوئے عالمی انرجی مارکیٹ کبھی کمزور نہیں رہتی وہ مسلسل جغرافیائی سیاست اور اقتصادی پس منظر میں تبدیلیوں سے متاثر ہوتی رہتی ہے سعودی عرب کے لئے اب باقی او پیک کو متحد رکھنا بڑی چنوتی بن گیا ہے۔ یو اے ای نے شروعات کر دی ہے اب دیکھنا ہو گا کہ اور کون کون سادیش اس کے نقش قدم پر چلتا ہے۔
انل نریندر 

30 اپریل 2026

پاگلوں کی دنیا:مجھے مرنے کا ڈر نہیں

یہ کہنا تھا امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ۔وائٹ ہاؤس نے صحافیوں کے ایک عشائیہ میں ایک فائرنگ کے واقعہ کے بعد ٹرمپ نے بتایا کہ واردات کے بعد سی بی ایس کو دئیے گئے انٹرویو میں بتاتے ہوئے کہا کہ جب فائرنگ ہوئی تو میں زمین پر گر گیا اور فرسٹ لیڈی بھی سیکورٹی فورسز کے فوراً حرکت میں آنے پر ٹرمپ نے کہا میں دیکھنا چاہتا تھا کہ آخر ہوکیارہا ہے ۔ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کو پتہ ہے کہ آپ شوٹر کے نشانہ پر تھے ؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہا مجھے نہیں پتہ میں نے ایک مینوفیسٹو پڑھا وہ ریڈی کلائزڈ ہے وہ کرشچین باشندہ تھا ۔اور وہ پھر اینٹی کرشچن بن گیا اور اس میں بہت تبدیلی آئی ۔وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے ڈنر کے دوران ہوئی فائرنگ میں نشانہ پر ٹرمپ اور ان کے حکام تھے ۔یہ بات نگراں یو ایس اٹارنی جنرل ٹارڈ بلانشن نے کہی ۔مشتبہ کی پہچان 31 سالہ کولس ٹامس ایلن کی شکل میں کی گئی ہے ۔ادھر گولہ باری معاملے میں گرفتار مشتبہ کول ایلن نے مبینہ طور پر اعلانیہ میں کئی سنگین الزام لگائے ہیں ۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق ایلن نے واردات سے کچھ منٹ پہلے اپنے خاندان کے ایک فرد کو ایک مبینہ منشور نامہ بھیجا ۔فوکٹ خط بھیجا تھا جس میں اس نے اپنے ارادوں اور خیالات کا ذکر کیا ۔اس مبینہ دستاویز میں ایلن نے دعویٰ کیا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے وابستہ لوگوں کو نشانہ بنانے کا پلان بنارہا تھا ۔حالانکہ اس نے ایف بی آئی ڈائرکٹر مسٹر پٹیل کو چھوڑنے کی بات بھی کہی ۔اس نے لکھا کہ انتظامیہ کے حکام کو ترجیحاتی بنیاد پر ثبوت بنائے گا ۔لیکن یہ صاف نہیں ہے کہ اس کے الفاظ کا پورا مطلب کیا ہے ؟ ڈکلیریشن لیٹر میں ایلن بے حد مشکل زبان کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے لوگوں کو قبول نہیں کرسکتا جنہیں وہ مجرم یا ملک دشمن مانتا ہے ۔رپورٹوں کے مطابق اس نے کچھ ایسے لفظوں کا بھی استعمال کیا جس میں اس نے ٹرمپ انتظامیہ سے وابستہ تنازعات اور الزامات کا ذکر کیا اس نے سیکورٹی انتظام کو لے کر بھی رائے زنی کی اور دعویٰ کیا کہ ڈنر کے انعقاد کی جگہ پر سیکورٹی کی توجہ خاص طور سے مظاہرین اور دیگر مہمانوں پر تھی ناکہ کسی امکانی خطرے پر ۔اس حادثہ سے یہ تو صاف ہو جاتا ہے کہ سیکورٹی کی کمی تھی ۔کسی ہتھیار مسلحہ شخص کا صدر کے پروگرام میں اتنے قریب پہنچنا بے حد سنگین لاپرواہی ہے ۔وہاں ٹرمپ کی ہی نہیں ، ان کے انتظامیہ سے وابستہ سبھی اہم ترین لوگ موجود تھے جو نشانہ بن سکتے تھے۔ مبینہ حملہ آور بھی کوئی ان پڑ ،گنوار بھاڑے کا قاتل نہیں ہے ۔وہ مکینیکل انجینئرنگ تعلیم حاصل کر چکا ہے اور باعزت ایک بااحترام ٹیچر تھا ۔بدقسمتی یہ ہے کہ امریکی صدر عہدہ جتنا طاقتور ماناجاتا ہے اس سے وابستہ خطرے اتنے ہی بڑے ہیں ۔ابراہم لنکن سے لے کر جان ایف کینیڈی تک امریکہ کے چاروں صدور کا قتل ہو چکا ہے ۔ٹرمپ پر یہ تیسرا ناکام حملہ ہے ۔اتفاق یا کچھ اور ؟ وائٹ ہاؤس کی ترجمان لیور کے فائرشارٹ والے بیان کے بعد سے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی ہے ۔لوگ حیران ہیں کہ آخر انہوں نے ایسے لفظوں کا استعمال کیوں کیا جو بعد میں حقیقت بن گئے حالانکہ ان کے حمایتیوں کا کہنا ہے لیدر کا مطلب ٹرمپ کی تلخ بیان بازی سے تھا ناکہ اصلی غلطیوں سے ۔سوشل میڈیا میں کچھ لوگ اسے اسٹیج رچا ہوا ڈرامہ بھی بتا رہے ہیں ان کا کہنا ہے چاروں طر ف سے گھرے ٹرمپ نے امریکی عوام کی ہمدردی لینے کے لئے یہ ڈرامہ کروایا ہے ۔ممکن ہے کہ اس واقعہ کے بعد اس بار بھی مختلف امور پر چنوتی جھیل رہے ٹرمپ انتظامیہ کو تھوڑی راحت مل جائے باقی سچائی کبھی سامنے آئے گی یا نہیں یہ نہیں کہاجاسکتا ۔ایسے واقعات کو کسٹم شاید ہی سامنےآتا ہے ؟ 
(انل نریندر)

28 اپریل 2026

ڈیل ہونے کا امکان

پچھلے کچھ دنوں کے واقعات سے امید کی جاتی ہے کہ اگلے کچھ دنوں میں امریکہ ایران میں کوئی ڈیل ہو جائے اور جنگ مستقبل میں ہونے سے ٹل جائے ۔جس طرح سے ایران کے وزیرخارجہ عباس عراغچی 48 گھنٹے میں دو مرتبہ اسلام آباد گئے وہاں سے مسقط (عمان) گئے اور وہاں سے ماسکو چلے گئے اس سے لگتا ہے ایران نے ڈیل کی شرطیں طے کر لی ہیں اور ایران بھی امریکہ سے بات چیت کو تیار ہے ۔دوسری جانب امریکی صدر نے بھی تھوڑی نرمی دکھائی اور جنگ بندی کو بے میعاد تک بڑھا دیا ہے اور ایران کے نمائندہ وفد سے اسلام آباد میں اپنے نمائندہ وفد کو بھیجنے کی اجازت دی ۔اس سے صاف ہے کہ ٹرمپ اس جنگ سے ہر حالت میں باہر نکلنا چاہتے ہیں ۔وہ جانتے ہیں کہ وہ یہ جنگ ہار چکے ہیں ۔آگے لڑنے کے لئے نہ تو ان میں مادہ ہے اور نہ ہی جنگ لڑنے کے وسائل ہیں ؟ ٹرمپ کی ایک بڑی مجبوری یہ بھی ہے کہ انہیں دو مئی تک امریکی کانگریس ( پارلیمنٹ ) سے ایران جنگ کو جاری رکھنے کے لئے منظوری بھی لینی ہوگی جو کہ شاید مشکل ہو کیوں کہ امریکہ کے 63 فیصدی شہری ٹرمپ کے اس جنگ کے خلاف ہیں او ر وہ نہیں چاہتے امریکہ اسرائیل جنگ لڑیں ۔اس کے علاوہ امریکی فوج نے صاف کر دیا ہے اس کے پاس اب ہتھیاروں کا ذخیرہ آدھا رہ گیا ہے اور یہ وہ کسی مستقبل کی ایمرجنسی کے لئے رکھنا چاہتاہے اس لئے مجھے نہیں لگ رہا کہ ٹرمپ میں اب مادہ ہے ۔کہ یہ جنگ جاری رکھیں ۔دیکھاجائے تو عد م رضامندی کے بھی دو تین اشوز بچے ہیں ۔ہرمز اسٹیٹ کو کھولنا ،ایران کے نیوکلیئرپروگرام پر کنٹرول اور میزائلوں کو محدود کرنا ،ہرمز پر ٹول لینا ؟ وغیرہ وغیرہ ۔یہی اہم اشو بچے ہیں ۔ایران کے وزیرخارجہ کے اتنی بار اسلام آباد کے چکرلگانا یہ پیغام دے رہا ہے کہ ایران بھی اب کوئی سمجھوتہ چاہتا ہے۔ ٹرمپ کو اپنے اکساوے والے فضول بیان بند کرنے ہوں گے ۔خامخواہ وہ الٹے سیدھے بیان دے کر ماحول خراب کرتے ہیں ۔دو دن پہلے بھی ہوئے جان لیو احملے کا بھی ٹرمپ پر ضروری اثر ہوگا ۔فوجی ٹکراؤ سے دونوں فریق جتنا حاصل کر سکتے تھے وہ کر لیا ہے ۔امریکہ نے جن مقاصد کو لے کر یہ جنگ چھیڑی تھی وہ اب بھی دور ہے اور پتہ نہیں وہ لڑائی سے انہیں پورا کر بھی سکتے ہیں یا نہیں ؟ اسی طرح ایران کو بھی اندازہ ہوگا کہ وہ ٹرمپ کی ضد پر ایک حد تک ہی جھک سکتا ہے ۔ایسے میں ایک ہی راستہ بچا ہے امن ۔تیل اور نیچر ل گیس کو لے کر انٹرنیشنل اینرجی ایجنسی کی بھی وارننگ ان کی سپلائی 2027 تک بھی پوری طرح بحال نہ ہو پائے گی۔ جنگ کے سنگین نتائج کا بس ایک ہی پہلو ہے ۔تعطل لمبا کھچنے سے عالمی مندی آسکتی ہے اور اس کی سب سے زیادہ قیمت عام آدمی کو چکانی پڑتی ہے ویسے بھی جنگ میں بھی مرتا تو عام آدمی ہی ہے چاہے وہ کس بھی دیش کا ہو اس لئے کل ملا کر ڈیل ہو جائے تو اس کا ساری دنیا خیر مقدم کرے گی۔ دیکھیں یہ معجزہ کیا اسلام آباد کر دکھائے گا؟ 
(انل نریندر)

25 اپریل 2026

ہارا ہوا کیس طے کرسکتا ہے جنگ کی شرائط

سیز فائر کی میعاد وقت غیر یقینی وقت بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے صاف کیا ہے کہ امریکی فوج پوری طرح سے تیار ہے ، اور جنگ بندی صرف تب تک ہے جب تک بات چیت کسی ٹھوس نتیجے پر نہیں پہنچ جاتی اسے ایران نے نہ صرف مسترد کر دیا ،بلکہ اسے امریکہ کی کمزور ی بتایا ۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر مشیر محبی محمد ی نے سخت الفاظ میں کہا کہ جنگ کے میدان میں ہارا دیش اپنی شرائط نہیں تھوپ سکتا ۔پچھڑنے والادیش کیسے شرائط طے کرسکتا ہے؟ انہوں نے لکھا ٹرمپ کے جنگ بندی توسیع کا کوئی مطلب نہیں ہے ۔بندرگاہوں کی گھیرا بندی جاری رکھنا بم باری کرنے سے الگ نہیں ہے ۔تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ایران جنگ میں امریکہ کو بری طرح سے فلاپ ہونے کے ثبوت سامنے آنے لگے ہیں ۔جنگ میں کامیابی نہ دلانے کی وجہ سے امریکہ میں پچھلے 25 دنوں سے فوج کے 4 بڑے افسروں کو برخواست کر دیا گیا ہے ۔لسٹ میں تازہ نام نیول سیکریٹری جان فیلن کا ہے۔ ہرمز میں ایرانی ناکہ بندی کو ختم نہ کر پانے کی وجہ سے پینٹاگون نے صرف فیلن کو برخواست ہی نہیں کیا بلکہ فیلن سے پہلے آرمی چیف جنرل ٹے ڈی جارج ،میجر جنرل ڈیوڈ ہانڈلے اور میجر جنرل ولیم گرین جونیئر کو برخواست کیاجاچکا ہے ۔تینوں کو ہی جنگ میں کامیابی نہ دلانے کے سبب برخواست کیا گیا ہے ۔فیلن صدر ٹرمپ کے بے حد قریبی افسر مانے جاتے ہیں ۔فیلن پر کمانڈ کو درکنار کرنے اور جنگ میں متوقع کامیابی نہ دلانے کا الزام ہے حالانکہ سرکار بیان میں کہا گیا ہے کہ فیلن نے خود ہی استعفیٰ کی پیشکش کی ہے ۔اُدھر فائنانشیل ٹائمس کے مطابق ہرمز کے باہر امریکی ناکابندی کرنے میں پوری طرح ناکام ثابت ہوا ہے ۔سیٹکام کے بیان کے اُلٹ 22 اپریل کو 34 ایرانی جہاز ہرمز سے گزر گئے ۔ان جہازوں کو امریکہ روک نہیں پایا ۔اُدھر سیٹکام کا کہنا ہے کہ اس نے ہرمز میں 10 ہزار فوجی لگا رکھے ہیں ۔اور اس کے علاوہ 21 اپریل کو اسلام آباد میں ایران امریکہ کے بیچ امن مذاکرات کو لے کر مجوزہ میٹنگ میں ایران نے شامل ہونے سے منع کر دیا ہے ۔سی این این کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ ایران جنگ سے باہر نکلنا چاہتے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ امکانی مڈٹرم الیکشن ہے ۔ٹرمپ کو لگتا ہے کہ مڈ ٹرم الیکشن تک اگر جنگ جاری رہتی ہے تو ان کی پارٹی کو کافی زیادہ نقصان ہوسکتا ہے اس لئے ٹرمپ نےایران سے بغیر بات کئے جنگ بندی کو بے میعادی بڑھا دیا ہے۔ ہرمز ابھی جلد کھلنے والابھی نہیں ہے ۔بے شک ٹرمپ کتنا بھی چاہیں امریکی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ہرمز اسٹریٹ میں بچھی مائنس ہٹانے میں چھ مہینے تک کا وقت لگ سکتا ہے اس سے تیل سپلائی ،عالمی تجارت طویل عرصہ تک متاثر رہے گی ۔امریکہ ایران کے بیچ کشیدگی کم نہیں ہوئی ہے امریکہ چاہتا ہے کہ ایران اپنا نیوکلیائی پروگرام بند کرے اور افزودگی یرونیم سونپ دے اور ہرمز کو پوری طرح کھول دے ۔دوسری طرف ایران نے کہا ہے کہ جب تک امریکہ اس کی ناکابندی ختم نہیں کرے گا ،وہ بات چیت نہیں کرے گا جیسا مہدی محمد نے کہا کہ ہرمز جنگ میں بری طرح فلاپ ہوئے امریکی جنگ کی شرطیں کیسے طے کرسکتا ہے ؟ 
(انل نریندر)

23 اپریل 2026

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگی کے سبب امن بات چیت کھٹائی میں پڑتی نظر آرہی ہے اس پورے واقعہ میں پاکستان ثالث کے رول میں سرگرم ہے ۔ہرمز کو تازہ ٹکراؤ کو دیکھتے ہوئے پاکستانی ثالثی ٹیم واپس اسلام آباد لوٹ چکی ہے ۔پاکستان میں پہلے دور کی امن بات چیت کے بعد امریکہ نے ہرمز بلاکڈ لاگو کر دیا ہے۔ وہیں ایران نے اسے اپنی سرداری پر حملہ بتایا ہے ۔سمندر میں ایرانی جہازوں تک کو بھی روکا اور نشانہ بنایاجارہا ہے ۔تیل مارکیٹ میں عدم استحکام بڑھ گیاہے ۔دنیا کی نظر اب اس پر لگی ہے کہ اس ٹکراؤ کا اگلا قدم کیا ہوگا؟ سال یہ بھی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تقریبا 40 دنوں تک زبردست جنگ چلی ۔اس کے بعد بڑی مشکل سے سیز فائر کا اعلان کیا گیا اور اسلام آباد میں امن بات چیت کے لئے میٹنگ بلائی گئی لیکن یہ بات چیت بے نتیجہ رہی۔ بات چیت ناکام ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہرمز رہا ۔ہرمز پر کس کا دبدبہ رہے گا اس کا فیصلہ نہیں ہو پایا ۔فی الحال تو امن بات چیت کے بعد ایران اور امریکہ کے بیچ ہرمز پر قبضہ کو لے کر سسپنس کی آگ دہک رہی ہے ۔ امریکہ اور ایران نے اپنےہاتھ کھڑے کر دئیے ہیں ۔دنیا میں تیل کے اس اہم راستے پر کس کا قبضہ ہے کس کے ہاتھ میں ہے ؟ سوال ہر کسی کو پریشان کررہا ہے ۔دونوں خیمے اپنے اپنے دعووں پراڑیل ہیں ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سختی نے ماحول کو اور خراب کر دیا ہے کئی ملکوں کی معیشت اسی راستے پر ٹکی ہوئی ہے ۔بتادیں کہ دنیا کی آدھی سے زیادہ تیل کی سپلائی اسی راستے پر منحصر ہے ۔ایک چھوٹی سی غلطی بھی عالمی معیشت کو ہلا سکتی ہے ۔امریکہ کی ناکے بندی کتنی کارگر ثابت ہورہی ہے؟ یا ایران کی دھمکی میں دم ہے ؟ سسپنس ہر گھنٹے بڑھتا جارہا ہے ۔جمعرات کو ایرانی جہاز کو امریکہ نے ہرمز واپس لوٹا دیا ہے اس کے بعد کشیدگی انتہا پر پہنچ گئی ہے ۔سیز فائر کے باوجود امریکہ کی اس حرکت سے ایران کا غصہ ساتویں آسمان پر ہے ۔ایران نے امریکہ کو جوابی کاروائی کی سخت وارننگ دے دی ہے ۔ڈر اس کا ہے کہ جنگ بندی جو 23 اپریل کو ختم ہونے جارہی ہے یعنی آج وہ آگے بڑھے گی یا نہیں ؟ ہرمز کے بندہونے سے اب  یہ ٹکراؤ صرف دو ملکوں تک محدود نہیں رہا اس کا اثر پوری دنیا کی معیشت پر نظر آنے لگا ہے ۔تیل بازار میں کھلبلی مچی ہوئی ہے ۔جہاز رانی کمپنیاں چوکس ہو گئی ہیں ۔ہر دیش چاہتا ہے کہ یہ اہم راستہ کھلا رہے لیکن زمین اور سمندر پر چل رہی حکمت عملی چالیں اس راستے کو سب سے بڑا فلیگ پوائنٹ بنارہا ہے ۔ٹرمپ نے رائٹرس کو دئیے ایک اور یبان میں دعویٰ کیا کہ بلاکیڈ پوری طرح لاگو ہے اور ایران اب کھلے طور پر تجارت نہیں کرپارہا ہے۔ سیٹکام کے مطابق اب تک 10 جہازوں کو واپس بھیجاجاچکا ہے اس بیچ خبر یہ بھی آئی ہے کہ پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر نے ٹرمپ کو تجویز بھیجی ہے کہ اگر امن بات چیت آگے بڑھانی ہے تو ہرمز سے بلاکیڈ ختم کرنا ہوگا ۔کہاجارہا ہے ٹرمپ نے کہا میں اس پر غور کروں گا ۔
(انل نریندر)

21 اپریل 2026

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران میں ہیں اور پاک وزیراعظم شہباز ریاض میں چکر لگا رہے ہیں ۔ادھر اسرائیل لبنان جنگ میں ٹرمپ کی بدولت 10 دن کا سیز فائر چل رہا ہے۔امید کی جارہی ہے کہ پاکستان میں دوسرے دور کی بات چیت بھی ممکن ہے لیکن اس میں ابھی کئی پیج پھنسے ہوئے ہیں ۔دونوں فریق اپنی اپنی کہی شرطوں پر اڑے ہوئے ہیں ۔اب سوال اٹھتا ہے کہ آگے کیا کیا ہوسکتا ہے ؟ ہمیں تو چار امکانی پش منظر دکھائی دے رہے ہیں ۔حکمت عملی بریک کی شکل میں جنگ بندی ۔کئی ہفتوں کی لڑائی کے بعد امریکہ ایران جنگ بندی کرائسس کو محدود کرنے کی خواہش اچھا اشارہ دیتا نظر آرہی ہے ۔حالانکہ شرعات ہی سے اس کے ساتھ کئی طرح کی باتیں جڑی ہیں ۔جنگ بندی کے تقاضوں کی تشریح کو لے کر اختلافات سامنے آئے ہیں ان اختلافات کے سبب کچھ مبصرین نے اسے ایک مستقل اسٹرکچر کے بجائے حکمت عملی بریک کی شکل میں دیکھنا شروع کر دیا ہے ۔ایک امریکی تجزیہ نگار کے مطابق لڑائی شروع ہونے کے بعد سے ہی سمجھوتہ تک پہنچنے کا امکان تقریباً زیرو تھا ۔یہ اصولوں ،حالات اور پالیسیوں کا ایک ایسا گروپ ہے جن پر امریکہ اور ایران سالوں سے غیر متفق رہے ہیںاور جنگ ان اختلافات کو کم کرنے میں ناکام رہی ہے ۔دونوں فریقین مسلسل متضاد بیانوں سے حالات اور بگڑ گئے ہیں ۔ٹرمپ کی جانب سے اسٹریٹ آف ہرمز کی ناکابندی کا اعلان سے ٹکراؤ اور بڑھ گیا ہے ۔حالانکہ کشیدگی بڑھنے کے امکان سے انکار نہیں کیاجاسکتا ۔دعوے سے کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ جنگ رکے گی یا نہیں ؟ ایک پش منظر جو شاید سب سے زیادہ ممکن ہے وہ ہےٹکراؤ کا بے کنٹرول کشیدگی کی شکل میں واپسی کا اس کا مطلب ہوگا لڑائی کھلی جنگ کی سطح تک نہیں پہنچے گی اور نہ ہی دونوں فریق پوری طرح سے فوجی کاروائی سے پرہیز کریں گے اس میں بنیادی ڈھانچے فوجی اڈوں یاسپلائی لائنوں پر محدود حملے جاری رہ سکتے ہیں اس کے بعد پراکسی گروپوں کا رول زیادہ اہم ہوجائے گا کچھ تجزیہ نگار اس حالت کو شیڈو وار کہتے ہیں جیسے جیسے ٹکراؤ بڑھتا ہے ، غلط تجزیہ کا خطرہ بڑھتا ہے اور بھلے ہی کوئی فریق کی کشیدگی بڑھانا نہ چاہتا ہو ایک چھوٹی سی غلطی بھی لڑائی کو بے قابو سطح تک پہنچا سکتی ہے ۔پاکستان میں بات چیت فیل ہونے کے باوجود یہ نتیجہ نکالنا ابھی ممکن نہیں ہےکہ ڈپلومیسی ختم ہو چکی ہے یا بات چیت پوری طرح ٹوٹ چکی ہے ۔امریکہ کی 15 نکاتی تجویز اور ایران کا 10 نکاتی جوابی پرستاؤ یہ ضرور دکھاتا ہے کہ دونوں فریق بجائے کسی درمیانی راہ پر پہنچنے کے ابھی بھی اپنی اپنی شرطوں کو ترجیح دے رہے ہیں اس لئے بھلے ہی بات چیت کا نیا دور ممکن ہولیکن جلدی اور وسیع معاہدہ کی امید رکھنا صحیح نہیں لگتا ۔اگر امریکی ناکابندی جاری رہتی ہے تو ایرانی فوج نے خلیج اور لال ساگر اور عمان کی خلیج فارس میں شپنگ کے خطرے کی وارننگ دے دی ہے ۔ٹرمپ نے اعلان کیا ہے دیش کی بحریہ ایران پر سمندری ناکابندی جاری رکھے گی جس سے ہر گزرتے جہاز کو روکا جاسکتا ہے اور یہ ایران کو کسی حالت میں قبول نہیں ہے ۔ایرا ن نے یہ دھمکی دی ہے بین الاقوامی آبی راستے میں ان جہازوں کو روکا جائے گا جو ہرمز سے گزرنے کے لئے ایران کو ٹرانزٹ ٹیکس نہیں دیں گے تو نتیجہ اچھا نہیں ہوگا ۔ٹرمپ چاہتے ہیں ایران کی تیل آمدنی کو روکنا ۔اس کی معیشت کو کمزور کرنا اور ایران کو مجبور کرنا کہ وہ امریکہ کی شرطوں کو مانے لیکن دیگر تجزیہ نگاروں نے اس حکمت عملی سے امریکہ کو ہونے والی بھاری لاگت کی جانب اشارہ کیا ہے کیوں کہ اس سے اس کی فوجی طاقت جغرافیائی طور سے ایران کے قریب آجاتی ہے اور حملے کے تئیں زیادہ حساس ترین ہو جائے گا ۔موجودہ ماحول میں حکمت عملی فیصلے اور سیکورٹی سے جڑے سوال اور زمینی سطح پر چھوٹے واقعات بھی بحران کی سمت پر بڑا اثر ڈال سکتے ہیں ۔
(انل نریندر)

18 اپریل 2026

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ۔ٹرمپ منیر پر اتنا بھروسہ کرتے ہیں کہ انہیں وائٹ ہاؤس میں لنچ پر بلاتے ہیں اور ون ٹو ون میٹنگ کرتے ہیں ۔شاید اس وقت عاصم منیر دنیا کے ایک واحد فوجی کے سربراہ ہوں گے جنہیں وائٹ ہاؤس میں بلا کر ان کے ساتھ باقاعدہ لنچ کرتے ہیں ۔ان حالات میں ہمیں کوئی تعجب نہیں ہوا جب اسلام آباد میں پہلے دور کی بات چیت فیل ہو گئی تو دوبارہ بات چیت کرنے کے لئے ٹرمپ نے منیر کو اپنا ڈاکیہ چنا اور انہیں ایرانی لیڈر شپ سے بات چیت کرنے اور دوبارہ اسلام آباد میں امن مذاکرات میں شامل ہونے کے لئے خاص طور پر بھیجا ۔مزیدار بات یہ بھی ہے کہ عاصم منیر ،جہاں ٹرمپ کے بھروسہ مند شخص ہیں وہیں چینی صدر شی جنپنگ کے بھی بھروسہ مند ہیں ۔خیر ہم بات کررہے تھے عاصم منیر کے ایران پہنچنے کی ۔ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کو لے کر دو ہفتے کی جنگ بندی جاری ہے ۔دونوں ملکوں کے بیچ جاری جنگ کو ختم کرنے کے لئے پہلا دور اسلام آباد میں منعقد کیا گیا۔ لیکن یہ میٹنگ کامیاب نہیں رہی تھی ۔اب دونوں پھر سے بات چیت کی میز پر کوشش میں لگے ہیں ۔بات چیت کو آگے بڑھانے کے لئے پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پیغام لے کر ایران گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران امریکہ کی اگلی میٹنگ پر فیصلہ عاصم منیر کی رپورٹ کے بعد ہی ٹرمپ کریں گے ۔تحریم نیوز ایجنسی کےمطابق پاکستانی فوج کے سربراہ منیر کی رہنمائی والے نمائندہ پاکستانی وفد کی ایرانی حکام کے ساتھ ملاقات کے بعد ، ایرانی فریق معاملے پر ضروری جائزہ لے گا ۔اور پھر وہ امریکہ کے درمیان بات چیت کے اگلے دور کو لے کر کوئی فیصلہ کرے گا ۔ٹرمپ اس دورہ کو اتنی اہمیت دے رہے ہیں کہ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ اگلے دور کے امن مذاکرات کے لئے میں خود بھی اسلام آباد جا سکتا ہوں ۔منیر کے اس دورہ کا مقصد ایرانی لیڈر شپ تک امریکہ کا پیغام پہنچانا اور بات چیت کے اگلے دور کے منصوبہ بنانا ہے ۔سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ جنرل منیر کے اس دورہ کے پیچھے اصلی مقصد کیا ہے ؟ کہا جاتا ہے کہ ٹرمپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ایران کی حکومت آخر چلاکون رہا ہے ؟ کیا آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای چلا رہے ہین ؟ ان کی حالت کیسی ہے ؟ کیا وہ زخمی ہیں اور فیصلہ لینے میں لاچار ہیں ؟ ٹرمپ جاننا چاہتے ہیں کہ امن مذاکرات آخر ایران میں کس سے کررہے ہیں ؟ منیر نے ایران کے سبھی سرکردہ لیڈروں سے بات چیت کی ہے ۔وہ آئی آر جی سی کے سینئرحکام سے بھی ملے ہیں ۔تہران پہنچنے پر پاکستانی وفدکا ہوائی اڈے پر خود وزیرخارجہ عباس عراقچی پہنچے تھے اس سے پتہ چلتا ہے کہ ایران بھی اس پاکستانی نمائندے وفد کے دورہ کو کتنی اہمیت دیتا ہے ۔عاصم منیر ٹرمپ کا پیغام لے کرگئے ہیں ساتھ ہی یہ بھی ممکن ہے کہ وہ چینی صدر شی جنپنگ کا بھی کوئی پیغام لے کر گئے ہوں ۔ابھی تفصیل نہیں آپائی ہے جلد پتہ چل جائے گا کہ عاصم منیر کا دورہ کامیاب رہا یا ناکام رہا ۔
(انل نریندر)

16 اپریل 2026

میلانیا نے امریکہ میں یہ نئی جنگ چھیڑ دی

ایران جنگ میں سیز فائر ہوتے ہی امریکہ کے اندر ایک اور جنگ شروع ہو گئی ہے ۔آپ حیران ہوں گے کہ یہ کون سی جنگ ہے ؟ بتادیں کہ ایپسٹین فائلس کی یہ جنگ پھر شروع ہو گئی ہے ۔ایپسٹین فائلس کا جن پھربوتل سے باہر آگیا ہے اور اسے باہر نکالاہے (چونکہ مت ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ نے امریکہ کی فرسٹ لیڈی میلانیا نے ایپسٹین فائلس پر دھماکہ دار خلاصہ کیا ہے جس سے وائٹ ہاؤس میں کھلبلی مچنا فطری ہی ہے ۔جیفری ایپسٹین سے جڑی افواہوں پر تنقید کرتے ہوئے میلانیا نے متاثرین کی سماعت کی مانگ کر ڈالی ہے ۔میلانیا نے 9 اپریل 2026 کے وائٹ ہاؤس سے اچانک ایک سنسنی خیز بیان جاری کیا گیا انہوں نے جیفری ایپسٹین سے وابستہ سبھی جھوٹی خبروں ،افواہوں کو صاف طور پر مسترد کر دیا ۔ایپسٹین ایک قصوروار جنسی کرمنل تھا ۔میلانیا نے کہا کہ میں ان افواہوں کو صاف طور پر مسترد کرتی ہوں ۔یہ افواہیں مجھے بدنام کرنے کی کوشش ہیں ۔اور انہیں اب فوراً روکا جاناجاہیے ۔میلانیا نے صاف الفاظ میں کہا کہ جیفری ایپسٹین کے نام سے میرے نام کو جوڑنے والی جھوٹی باتیں آج ہی ختم ہونی چاہیے ۔میں ایپسٹین کی دوست کبھی نہیں رہی ۔ڈونلڈ اور میں کبھی کبھی کسی پارٹی میں جاتے تھے جہاں ایپسٹین بھی ہوا کرتا تھا کیوں کہ نیویارک اور پام بیچ کے سوشل سرکل میں ایسا عام ہے ۔لیکن میں نے ایپسٹین یا اس کی ساتھی فسلین میکسوئیل کے ساتھ کبھی کوئی رشتہ نہیں رکھا ۔انہوں نے کہا: میں کانگریس سے کہتی ہوں کہ ان متاثرہ خواتین کو ساتھ لے کر اپنی کہانی باتوں کا موقع دیں ۔ہر عورت کو اگر وہ چاہے اپنی بات پبلک طورسے کہنے کا حق رکھتی ہے ۔جیفری ایپسٹین پر میلانیا کی پریس کانفرنس سے بحث پھر تیز ہوگئی ہے ۔جیولیٹ برائٹ نے میلانیا کو سیدھا چیلنج کرتے ہوئے کہا : میں حلف لے کر سچ بولنے کو تیارہوں ۔جیولیٹ برائٹ کے ویڈیو میسج سے امریکہ میں کھلبلی مچ گئی ہے ۔خطرناک جنسی کرمنل جیفری ایپسٹین سے جڑا معاملہ ایک بار پھر عالمی سیاست اور انصاف نظام کے مرکز میں آگیا ہے ۔میلانیاکے تبصرے کے بعد سروائیورس نے اسے متاثرین پر ذمہ داری ڈالنے کی کوشش بتاتے ہوئے اپنی ناراضگی جتائی ۔ایپسٹین سیویور جیولیٹ برائٹ کا ایک ویڈیو میسج تیزی سے وائرل ہورہا ہے ۔انہوں نے میلانیا ٹرمپ کو سیدھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر قسم کے تحت گواہی دینے کی بات ہے تو میں خود اس کے لئے تیار ہوں اور جو کچھ انہوں نے کہا ہے کہ وہ سچ ہے۔ یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب امریکہ میں اس معاملے پر امکانی سماعت کا تذکرہ بھی جاری ہے ۔جولیٹ برائٹ پہلے بھی سنگین الزام لگا چکی ہیں ۔ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں ماڈلنگ کے جھانسے میں بیرون ملک لے جایا گیا جہاں ان سے جنسی چھیڑ چھاڑ کی گئی ۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ انہیں ایپسٹین کے پرائیویٹ جزیریے پر لے جایا گیا اور ان کا پاسپورٹ چھین لیا گیا ۔ویڈیو میں برائٹ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس معاملے میں گواہی دینے والی کئی لڑکیاں اب بھی زندہ ہیں ۔ویڈیو کے آخر میں برائٹ نے ٹرمپ اور میلانیا سے نہ صرف حلف کے تحت گواہی ہونے کی مانگ کی ان کا کہنا ہے دیش کے سامنے بااثر لوگوں کے اصلی چہرے سامنے آئیں ۔
(انل نریندر)

14 اپریل 2026

جس کا ڈر تھا وہی ہوا

امریکہ -ایران کے درمیان امن مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں بات چیت بے نتیجہ ہی ختم ہو گئی ہے ۔پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان پہلے دو راؤنڈ میں 21 گھنٹے سے زیادہ قیام امن کو لے کر بات چیت چلی ،لیکن یہ بے نتیجہ ہی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اپنی ٹیم کے ساتھ امریکہ کے لئے روانہ بھی ہو گئے ۔وینس نے جانے سے پہلے کہا: معاہدہ نہ ہونے کے لئے بری خبر : وینس ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ سمجھوتہ نہ ہونا امریکہ سے زیادہ ایران کے لئے بری خبر ہے ۔انہوں نے صاف کہا کہ امریکہ بغیر کسی سمجھوتہ کے ہی لوٹ رہا ہے ۔کسی بھی سمجھوتہ کے لئے ضروری ہے کہ ایران یہ وعدہ کرے کہ وہ نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنائےگا ۔سیز فائر ڈیل میں امریکہ کی جانب سے جے ڈی وینس (نائب صدر) اسٹیو وٹکاف (خصوصی نمائندے، زیروڈ کشنر سینئرایڈوائرزاور ٹرمپ کے داماد) اور بریڈ کوپر (ملیٹری افسر شامل ہوئے ۔ایرا ن کی جانب سے محمد وقار غالب (سینٹ اسپیکر ) عباس عراقچی (وزیرخارجہ ) اور مجید تخت خوانچی ( نائب وزیرخارجہ ) شامل ہوئے ۔بات چیت میں پاکستان کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف فوج کے چیف عاصم منیر ،وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور قومی سیکورٹی ایڈوائزرعاصم ملک شامل ہوئے۔ ایران سے 71نفری وفد پاکستان پہنچا تھا ۔اس ٹیم میں صرف بات چیت کرنے والے لوگ ہی نہیں تھے بلکہ ماہرین مشیر ، میڈیا نمائندے ،ڈپلومیٹ اور سیکورٹی سے وابستہ حکام بھی شامل تھے ۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باگر غالب جس جہاز سے آئے وہ بہت خاص تھا ۔وہ پوری دنیا کو امریکہ کو سسٹم دکھانے کے لئے پاکستان ثبوت لے کر آئے تھے ۔ان کے ساتھ ایسے مسافر بھی آئے جو اس دنیا میں اب نہیں ہیں ۔دراصل اس جہاز میں باگر غالیباف کے ساتھ پاکستان انے والے دو بچے تھے جو امریکہ اسرائیل ہوائی حملے میں اپنی جان گنوا چکے ہیں ۔پلین کی سیٹوں پر ان ننے بچوں کی تصویر رکھی ہوئی تھی۔ غالیباف نے بات چیت سے پہلے تصویر شیئر کی جس میں جہاز کی سیٹوں پر چار بچوں کی تصاویر دکھائی دیتی تھیں جن کے ساتھ ایک ایک اسکول بیگ اور پھول بھی رکھا گیا تھا ۔ایرانی شہر مناب کے اسکول میں 28 فروری کو ایک پرائمری اسکول پر حملہ ہوا تھا اس میں 168 بچوں سمیت لوگوں کی موت ہوئی تھی جس میں 108 اسکولی لڑکیاں تھیں ۔غالیباف نے بات چیت سے پہلے بیان میں کہا تھا کہ ان کا دیش بات چیت اور معاہدے کے لئے تیار ہے لیکن اس کے لئے امریکہ کو ایمانداری سے معاہدہ کی پیشکش کرنی ہوگی اور ان کے حقوق کو قبول کرنا ہوگا ۔انہوں نے صاف کہا کہ ایران کے پاس بھائی چارہ ہے لیکن امریکہ پر بھروسہ نہیں ۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بات چیت شروع ہونے سے پہلے ہی کہا واشنگٹن ایران کو ہرمز اسٹریٹ سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول لگانے کی اجازت نہیں دے گا ۔ٹرمپ نے آگے کہا کہ ہرمز جل ڈروم جلد ہی پھر سے کھل جائے گا چاہے ایران تعاون کرے یا نہ کرے ۔ٹرمپ نے آگے کہا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں ان کا اہم بیان تہران کی نیوکلیائی صلاحیتوں کو محدود کرنے پر ہوگا ۔انہوں نے کہا کوئی نیوکلیائی ہتھیار نہیں ۔یہی 99 فیصد بات ہے ۔مذاکرت تو فیل ہونے ہی تھے دونوں فریقین کی مانگوں میں بہت بڑا فاصلہ تھا جسے بھرنا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا ۔
(انل نریندر)

11 اپریل 2026

مٹ جائیں گے ،پر جھکیں گے نہیں!

جنگیں ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں یہ جذباتوں سے جیتی جاتی ہیں۔ ایرانی عوام نے یہ ثابت کر دکھا دیا ۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ آج رات ہم ایران کی تہذیب کو ہی مٹادیں گے ۔اس کے جواب میں ایرانی عوام سڑکوں پر اتر آئی ۔اپنے دیش کے وجود اور ٹرمپ کی دھمکی کے جواب میں ایرانی عوام اپنے دیش کے پلوں ،بجلی گھروں کو بچانے کے لئے امریکہ کے سامنے سینہ تان کر کھڑی ہو گئی ۔ایران کے ایوان تبریض اور دیگر کئی شہروں میں ہزاروں لوگوں نے بجلی گھروں اور اہم ترین بنیادی اداروں کو چاروں طرف لمبی انسانی سریز بنا لی ۔ایرانی سماچار ایجنسی ترمیم کے مطابق مردوں ،خواتین اور یہاں تک کہ بچوں سمیت بڑی تعداد میں لوگ اکٹھا ہوئے اور ہیومن چین بنا کر ڈٹ گئے ۔مظاہروں میں شامل لوگوں کے ہاتھوں میں ایرانی جھنڈے اور قومی لیڈروں کی تصاویر والے پوسٹر تھے ۔اور کئی لوگ مین شاہراہ پر ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر لمبی قطار میں کھڑے تھے ۔ایران کے احوال میں وائٹ برج میں پاور پلانٹ سمیت کئی جگہوں پر ہیومن چین بنائی گئی یہ ہیومن چین سریزواشنگٹن کی جانب سے بڑھتی جارحانہ بیان بازی کا سیدھا جواب تھا ۔ایران کے لوگوں نے دیش کو نشانہ بنانے والی کسی بھی فوجی کاروائی کی مزاہمت کرنے کے لئے ا س انسانی چین کا سہارا لیا ۔مظاہرین نے قومی اتحاد دکھانے کے لئے حب الوطنی کا یہ زبردست مظاہرہ کیا ۔اس کا سیدھا اثر واشنگٹن پر پڑا ۔شاید اس کو عقل آئی ہو کہ ہم ایرانی عوام جو سڑکوں پر انسانی چین بنا کر کھڑے ہیں اس پر حملہ کریں گے تو ساری دنیا میں ہماری تھو تھو ہو جائے گی اس لئے ایران کی تہذیب کو ختم کرنے کی دھمکی دینے والے ڈونلڈ ٹرمپ آخری لمحوں میں پیچھے ہٹ گئے ایران کا موجودہ فوجی رخ صاف اشارہ دیتا ہے کہ اس کی ترجیح اپنی حکومت اور فوجی انسٹرکچر کو بچائے رکھنا ہے ۔اسلامی رپبلک کی قیادت اور فوجی کمانڈروں نے پچھے 3-4 دہائیوں سے ایسے ہی امکانی ٹکراؤ کی تیاری کی ہے۔ شہید آیت اللہ علی خامنہ ای نے کئی برسوں پہلے ہی یہ دیکھ لیا تھا کسی نہ کسی دن یہ حالات آئیں گے اور امریکہ اسرائیل ہم پر حملہ کرے گا ۔آج اگر ایران کی اس جنگ میں جیت ہوئی ہے تو اس کا اصل حقدار شہید آیت اللہ علی خامنہ ای ہی ہیں ۔دراصل موساد اور نیتن یاہو نے ٹرمپ کو یہ بھروسہ دیا تھا کہ اگر ہم آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کے سب سے سینئر ملیٹری کمانڈروں کو مار دیں گے تو ایران میں اندرونی بغاوت ہو جائے گی اور ہمارے حمایتیوں کو اقتدار میں بٹھا دیں گے لیکن انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کا ایران کی عوام پر کیا اثر ہوگا ۔لیکن اثر الٹا ہوا جو ایرانی اسلامی اقتدار کے خلاف بھی تھے وہ بھی آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد سرکار کی حمایت میں آگئے ۔اس جنگ میں ایران کا پلڑا بھاری ہوگیا ۔جیسے میں نے کہا کہ غیر نیوکلیائی جنگ میں جیت ہتھیاروں سے نہیں ہوتی ، جیت جذبہ سے ہوتی ہے ۔جس کا مظاہرہ ایرانی عوام نے بخوبی کیا ۔دراصل ایران اپنے وجود کی لڑائی لڑ رہا تھا ۔
(انل نریندر)

09 اپریل 2026

ایٹمی پلانٹ پر چوتھا حملہ کتنا خطرناک ہے !

ایران کے بشر نیوکلیئر سنٹر کے پاس چوتھی بار امریکی -اسرائیلی حملہ ہوا ہے ۔اس حملے میں ایک شخص کی موت ہو گئی ۔سنیچر کو ایران کے بے حد اہم ترین بشر نیوکلیائی مرکز پر سے جان لیوا یورینیم کا سیدھا خطرہ تو نہیں ہے لیکن ہواؤ ں کے ذریعے ریڈیوکرنیں دھول میں مل کر ریاستوں اور یہاں تک کہ بھارت کی مغربی ریاستوں تک پہنچنے کا خطرہ ہے ۔مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی نے دنیا کو ایک ایسے موڑ پر لاکھڑا کر دیا ہے جہاں نیوکلیائی ہتھیاروں کے استعمال کی بحث ہونے لگی ہے ۔اگر ایران اسرائیل کے درمیان جنگ خطرناک سطح تک پہنچتی ہے اور ایران کی سرزمین پر نیوکلیائی دھماکہ ہوتا ہے ،تو سب سے بڑا سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اس کا اثر بھارت پر بھی پڑ سکتا ہے ؟ کیا ایران سے اڑنے والی ریڈیو ایکٹو دھول ہمارے شہروں تک پہنچ کر تباہی مچا سکتی ہے ؟ آئینی اورحکمت عملی نظریہ سے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہوا کا رخ اور دوری اس خطرے کو کیسے طے کرتی ہے ؟ ایران میں اگر کوئی نیوکلیائی واقعہ ہوتا ہے ، تو سب سے زیادہ تباہی اس کے پڑوسی ملکوں میں دیکھنے کو ملے گی۔ ایران کے 500 سے 1000 کلو میٹرک کے دائرے میں آنے والے دیش عراق،ترکیہ ،ارمینیا،آذر بائیجان ،افغانستان اور پاکستان جیسے ملکوں کو بے حد خطرناک ریڈ یشن کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ریڈیو کچرا (فال آؤٹ ) سیدھے طور پر لوگوں کی صحت اور ماحولیات کو بھی بربادکر سکتی ہے ۔ہوا کے بہاؤ کی بنیاد پر ان ملکوں کی سیکورٹی پوری طرح داؤ پر لگی ہوگی ۔ایران کے جنوب میں واقع خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب ،کویت، بحرین ،قطر ،یو اے ای بھی اس خطرے کی زد میں ہیں ۔اگرایران کے بشر شہر جیسے ساحلی نیوکلیائی بجلی کفیل ملکوں کو نشانہ بنایاگیا تو ریڈیو ایکٹو اخراج کی سیدھی دھار خلیج اور عرب ساگر کے پانی کو زہریلا بناسکتا ہے ۔اس سے سمندری چرند وپرند کے ساتھ ساتھ ان ملکوں کی پانی نظام اور معیشت پر بھی گہرا اثر پڑے گا ۔سمندری لہریں اس آلودگی کو ہندوستانی ساحلوں تک بھی پہنچا سکتی ہیں ۔سائنس کے مطابق کسی بھی نیوکلیائی دھماکہ کے بعد نکلنے والے سب سے خطرناک اور بھاری ریڈیو کرنیں دھماکہ والی جگہ سے کچھ سو کلو میٹر کے دائرے می ہی زمین پر گر جاتی ہیں ۔ان اتنی لمبی دوری طرے کرتے وقت ریڈیشن کا اثر کافی حد تک کم ہوجاتا ہے اس لئے تکنیکی طور سے بھارت میں فوری طور پر ایکیوٹ ریڈیشن سکنس سے ہونے والی سنگین بیماری کا سیدھا خطرہ بڑھتا نظر آتا ہے بھلے ہی بھارت ایران سے کافی دور ہے لیکن ایئر زون میں گھلی ریڈیو کرنوں وذرات کو ہوا تک لے جاسکتی ہے ۔اگر ہوا کا رخ مغرب سے مشرق کی جانب رہتا ہے تو نیوکلیائی بادل 48 سے 72 گھنٹوں کے اندر ہندوستانی آسمان تک پہنچ سکتے ہیں ۔ایسی صورت میں گجرات ،راجستھان ،پنجاب ،دہلی جیسی ریاستوں میں ریڈیو ٹک ذرات کی موجودگی درج کی جاسکتی ہے ۔حالانکہ بھارت تک پہنچتے پہنچتے یہ ذرات اتنے فیل اور ہلکے ہوجائیں گے کہ اس سے جان لیوا خطرہ بڑھنے کا اندیشہ بہت کم رہتا ہے ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ خلیجی ممالک اور ایران کے آس پاس بڑی تعداد میں ہندوستانی تارکین وطن رہتے ہیں ۔ہم اوپر والے سے پرارتھنا کرتے ہیں کہ ایران -امریکہ دوسری جنگ میں نیوکلیائی مراکز پر سیدھے حملے سے بچین ۔اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا سیدھا اثر پوری کائنات پر پڑے گا۔ (انل نریندر)

07 اپریل 2026

فائٹر جیٹ گرنے سے تلملائے ٹرمپ!

ایران جنگ میں اپنے فائٹر جیٹ گنوانے کے بعد تلملائے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نیا الٹی میٹم دے دیا ہے ۔ٹرمپ نے سنیچر کو کہا کہ ایران نے 48 گھنٹے مین ہرمز کو نہیں کھولاتو تباہی جھیلنے کے لئے تیار رہے ۔اب آر پار ہوگا انہوں نے کہا کہ ایران کے لئے وقت تیزی سے نکل رہا ہے اسے پیس ڈیل پر ستخط کر دینا چاہیے ۔ایران نے اس دھمکی کا جواب امریکہ کے بہت ہی ایم ترین ایف -15 ای جنگی جہاز کو مار گرا کر کیا ۔ایران نے جمعہ کے روز دو امریکہ کے ایک اور جہاز ایف -35 کو مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا ۔وہیں دو امریکی حکام کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا دو سیٹر جنگی جہاز ای-15 ای ایران میں گرا ہے ۔ایک پائلٹ مل گیا ہے جبکہ ایران دعویٰ کررہا ہے کہ دوسرا پائلٹ اس کے قبضہ میں ہے ۔حالانکہ امریکہ نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے ۔پنٹاگن اینڈ سنٹرل کمان نے اس پر کوئی سرکاری بیان نہیں دیا ہے ۔وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری کیرولن لیور نے بیان جاری کربتایا کہ جنگی جہاز گرنے کی جانکاری صدر ٹرمپ کو دے دی گئی ہے ایران کی آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا ایف -35 جنگی جہاز کو جنوب مغربی ایران میں مار گرایا ہے ۔ادھر امریکی نیوز پورٹل کی موس کا دعویٰ ہے کہ ایران نے مار گرائے جنگی جہاز کی جو تصویر شیئر کی ہے وہ ایک ایف زیڈ ای جہاز کی ہے ۔ایس ای -15 اسٹرائک ایگل ایف ڈولپ کٹیگری کا امریکی جنگی جہاز ہے جسے خاص طور پر لمبی دور ی تک گہرائی میں جاکر (دشمن کے ٹھکانوں ) پر بالکل پختہ حملے کرنے کے لئے بنایا گیا ہے ۔اس جہاز کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ہر موسم میں مشن پورا کرسکتا ہے ۔امریکہ کے چیف میڈیا آؤٹ لیٹس میں سے ایک سی این این نے اس واقعہ پر لکھا ہے ایران کے ساتھ چل رہی جنگ جو پہلے سے ہی امریکی عوام کے بیچ کافی غیر مقبول ثابت ہورہی تھی ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ مرحلے میں پہنچ گیا ہے ۔چینل نے بتایا کہ پہلے خبر آئی کہ ایران کے اوپر ایک امریکی جنگی جہاز کو گراد یا گیا ہے اس کے بعد جمعہ کو خبر آئی کہ ایران نے دوسرے امریکی جنگی جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔جبکہ سی این این نے لکھا ہے ،لیکن ایک ایسی لڑائی جس میں فوجی بالادستی امریکہ کے حق میں ہو ،یہ واقعہ ایک پیچیدہ جنگ کے خطرون کو دکھاتا ہے ۔اس کی لاگت کو امریکہ جنتا پہلے سے نامنظور کرتی آرہی ہے ۔سی این این آگے لکھتا ہے کہ ان واقعات سے ایران کے آسمان پر پوری بالادستی کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کے دعووں کے ساتھ ساتھ پچھلے مہینے سے بنائے جارہے ہوے کو دکھاوے کی بھی دھجیاں اڑ رہی ہیں ۔ایم بی سی نیوز نے ایران کی جانب سے جنگی جہاز گرانے کے دعوے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے -یہ پہلی بار ہے کہ جب اس تازہ لڑائی کے تحت ایران کے اندر امریکی جہاز تباہ ہوا ہے ۔جس سے یہ تصور غلط ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ کا ایرانی ہوائی زون پر پورا کنٹرول ہے ۔این بی سی لکھتا ہے کہ ٹرمپ نے اس جنگ میں جیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایران پر جنگ ختم کرنے پر رضامند ہونے کے لئے دباؤ ڈالا ہے وہین اب ایران کی جانب سے جو دعوے کئے جارہے ہیں اس سے امریکہ -اسرائیل کے ایرانی ہوائی پٹی کےبالادستی کے دعووں پر شبہ پیدا ہوتا ہے ۔اسرائیل امریکہ کی مشترکہ کاروائی کا اہم مقصد ایران کے میزائل ڈیفنس سسٹم کو تباہ کرنا اور کمزو ر کرنا رہا ہے لیکن ایران نے پورے خطہ میں جوابی حملہ کرنے کی صلاحیت کو بنائے رکھا ہے امریکہ کی جانب سے چھیڑی گئی جنگ کے دوران امریکی صدر ٹرمپ اور ڈیفنس سیکریٹری پیٹر ہیگس نے بار بار کہا ہے کہ ایران کی صلاحیتوں کو پوری طرح تباہ کر دیا گیا ہے ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے جہاز انسداد سسٹم کو بھی ختم کر دیا گیا ہے ۔لیکن جمعہ کو اس دعوے پر سوال اٹھنے لگے جب ایران نے اپنے علاقہ میں امریکی جنگی جہاز ،ایف -15 ای کو مار گرایا ۔ایک جھٹکے میں ایران نے ٹرمپ کی ساری ہیکڑی نکال دی ۔ (انل نریندر)

04 اپریل 2026

ٹرمپ نکلنے کی کوشش میں پھنس گئے ہیں!

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہندوستانی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح 6.30بجے وائٹ ہاؤس میں ایران جنگ پر ایڈریس کیا ۔ٹرمپ نے پھر دھمکی دی ہے کہ امریکہ آنے والے ہفتوں پر ایران پر اتنی بمباری کرے گا اسے دورہ قدیم میں پہنچا دے گا ۔20 منٹ کی اس پرائم ٹائم ایڈریس میں زیادہ تر وہی باتیں دہرائیں جو وہ کئی بار پہلے بھی کہہ چکے تھے ۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہم اگلے دو سے تین ہفتوں میں ان (ایران پر)بہت بڑا حملہ کرنے جارہے ہیں ۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ،اسرائیل فوجی آپریشن خاص حکمت عملی مقاصد کو لے کر تقریباً پورا ہونے کے قریب ہے۔ انہوں نے اندازہ لگایا کہ یہ جنگ ابھی 2 سے 3 ہفتے مزید چل سکتی ہے اگر آپ پچھلے ایک ہفتے میں ٹرمپ کے ٹوتھ سوشل پر ڈالی گئی پوسٹ کو جائزہ لیں  تو وہ اس اپنے دیش کے نام ان کی تقریر سے کافی کچھ ملتی جلتی پائیں گے ۔ صدر ٹرمپ نے اس جنگ کے فائدے امریکی عوام کے سامنے رکھنے کی کوشش بھی کی ۔اس کی وجہ بھی ہے ، چونکہ امریکہ کے کئی سروے بتاتے ہیں کہ 28 فروری کو شروع کی گئی اس فوجی کاروائی کو لے کر زیادہ تر ووٹروں نے عدم اتفاق جتایا ہے ۔ٹرمپ نے امریکی عوام سے اس جنگ کو اپنے مستقبل میں ایک سرمایہ کی شکل میں دیکھنے کی اپیل کی اور کہا یہ پچھلی ایک صدی یا اس سے زیادہ وقت سے ہوئی فوجی لڑائی کے موازنے میں کچھ بھی نہیں ہے جن میں امریکہ کے کہیں زیادہ لمبے عرصے تک شامل رہا ہے لیکن ٹرمپ کی تقریر سے امریکی عوام ناراض ہوئی ۔وہ جاننا چاہتی تھی کہ یہ جنگ کس سمت میں جارہی ہے ۔یا امریکہ کے لئے اس سے باہر نکلنے کے امکانی راستے کیا ہوسکتے ہیں ۔اس میں کئی سوالوں کے جواب نہیں مل پائے پہلا : اسرائیل ابھی بھی ایران پر حملے کررہا ہے ؟ ساتھ ہی اسرائیل کو ایران کے ڈرون اور میزائل حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑرہا ہے ۔جس میں بدھوار کو تل ابیب کے پاس کچھ حملے بھی شامل ہیں ۔ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کی سرکار ٹرمپ کے بتائے گئے کچھ حملوں کی وقت میعاد سے متفق ہیں ۔فی الحال اس بارے میں کوئی واضح معلومات نہیں ہے کم سے کم موجودہ حالات میں تو اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے ۔پھر اس 15 نکاتی امن پلان کا کیا ہوا؟جسے وائٹ ہاؤس کچھ دن پہلے ایران سے تسلیم کرنے کے لئے کہہ رہا تھا ؟ اپنے خطاب میں ٹرمپ نے اس کا کوئی ذکر نہیں کیا ۔کیا اب امریکہ اپنی مانگوں سے پیچھے ہٹ رہا ہے ، جس میں مکمل یورینیم کے ذخیرے کو واپس لینے کی مانگ بھی شامل تھی ؟ اسرائیل نے ابھی ایران پر حملے نہیں روکے ہیں ۔اب دنیا کے سب سے تیل شپنگ راستون میں اسے ایک ہرمز اسٹریٹ اس لڑائی کا فوکس بن گیا ہے ۔ایران نے اس تیل راستہ کو بند کر رکھا ہے ۔حالانکہ صدر کا اس پر کوئی ٹھوس اور طے رخ سامنے نہیں آتا ۔کبھی وہ ایران سے ٹینکروں کو راستہ دینے کی مانگ کرتے ہیں اور اگلے پل ہی ساتھی ملکوں سے کہتے ہیں کہ وہ خود جاکر اسے سنبھالیں ۔بدھوار کو انہوں نے کہا کہ ہرمز پر جاؤ اور بس اسے اپنے کنٹرول میں لے لو ۔اس کی حفاظت کرو اور اپنے استعمال کے لئے اسے کھولو ۔ مشکل حصہ پورا ہو چکا ہے اس لئے یہ آسان ہونا چاہیے ۔انہوں نے برطانیہ اور فرانس جیسے اپنے ساتھیوں کو ہرمز جاکر خود تیل حاصل کرنے کی نصیحت دے ڈالی ہے ۔اس کے بعد انہوں نے بغیر زیادہ تصویر بتائے صرف اتنا کہا کہ جنگ ختم ہونے پر ہرمز فطری طور سے پھر سے کھل جائے گا ۔تیل کی قیمتوں کو لے کر فکرمندلوگوں کے لئے یہ بات شاید زیادہ بھروسہ دینے والی نہیں ہوگی ۔وائٹ ہاؤس میں دئیے گئے تازہ بیان میں ٹرمپ کا وہ تیور پوری طرح غائب تھا ، جب بریفنگ میں اشارے دئیے گئے تھے یہ ان کے خطاب کا ایک اہم حصہ ہوگا۔ ایک طرف بڑا سلجھا سوال میدان میں فوجیوں کی موجودگی کو لے کر ہے ۔خطہ میں لگاتار پہنچ رہے ہزاروں مرین اور پیرا ٹروپس وہان کیا کررہی ہیں یا کرنے والی ہیں ؟ٹرمپ کے بیان ہر اگلے دن بدل رہے ہیں یا یوں کہیں صبح کچھ کہتے ہیں اور شام کو کچھ کہتے ہیں ۔اس درمیان امریکہ میں گیس کی اوسط قیمت تقریباً 4 سال میں پہلی بار 4 ڈالر فی گیلن سے پار کر گئی ہے ۔اور اسے مفاد عامہ کی ریٹنگ تیزی سے گررہی ہے ۔ (انل نریندر)

02 اپریل 2026

دبئی کو چکانی پڑی سب سے بڑی قیمت !

یو اے ای یعنی متحدہ عرب امارات کو بنانے میں 40 سال لگے اور تباہ ہونے میں مشکل سے 10 دن لگے ۔دبئی جو دنیا کے سب سے جدید ترین شہروں میں سے ایک ماناجاتا تھا ،محفوظ ماناجاتا تھا جو دنیا نیا ہب بن گیا تھا اس کو ایران نے ایسا تباہ کیا کہ وہ اتنے پیچھے چلا گیا کہ اب اسے برسوں لگیں گے اسی حالت میں پہنچنے پر ۔امریکہ اسرائیل کے ساتھ جنگ کے درمیان ایران مسلسل خلیجی ممالک پر حملہ کررہا ہے ایک خاص بات سامنے آئی ہے کہ ایران سب سے زیادہ یو اے ای کو نشانہ بنا رہا ہے ۔جس دن سے (28 فروری )جنگ شروع ہوئی تب ایرا ن نے 1714 ڈرون 334 بیلسٹک میزائل داغ کر تباہی کی عبارت لکھ دی ہے ۔آخر ایران دبئی ،ابو ظہبی پر مسلسل حملے کیوں کررہا ہے ۔امریکہ،اسرائیل -ایران کی اس جنگ میں ایران نے ان حملوں میں دبئی کے عالیشان ہوٹل ریفائنری ،ایئر پورٹ اور اہم کمرشیل زون کو کافی متاثر کیا ہے ۔ آخر دبئی کو تباہ کرنے کے پیچھے ایران کی حکمت عملی کیا ہے ؟ کیا اس کی وجہ صرف اتنی ہے کہ امریکہ وہاں سے اپنے فوجی اڈے چلاتا ہے ؟ یا ان حملوں کے پیچھے ایران کے کچھ اور ارادے ہیں؟ تو اس کا جواب ہتھیاروں سے زیادہ اکونامکس اور انویسٹمنٹ کے آس پاس گھومتی ہے۔ دہشت ، وائٹ ہاؤس میں بیٹھے ہونے کی لگتی ہے ۔میگا (میک امریکہ گریٹ یگن) کے نعروں کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی اقتدار میں دوسری مرتبہ واپسی ہوئی جب سے وہ اقتدار میں لوٹے ہیں ، ان کا پورا فوکس امریکہ کی معیشت کومضبوط کرنے اور بڑے پیمانہ پر غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے پر ہورہا ہے ۔وائٹ ہاؤس کے اعدادشمار کے مطابق 2025 میں امریکہ کو اگلے 10 برسوں میں سرمایہ کاری کے لئے 5.2 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری عہد میں ملی ہے تو اس 5.2ٹریلین ڈالر میں سے سب سے بڑا حصہ یو اے ای لگارہا ہے ۔اکیلے یو اے ای 1.4ٹریلین ڈالر یعنی کل سرمایہ کا 27 فیصد) صرف یو اے ای نے وعدہ کیا ہے ۔سیدھے الفاظ میں کہا جائے تو یو اے ای امریکہ کے لئے انکلیس ہیل بنا گیا ہے جس کا مطلب امریکہ کی کمزور کڑی بن گیا ہے۔ ایران اچھی طرح جانتا ہے کہ اگر دبئی پر میزائلیں گریں گی تو وہاں کی معیشت ڈگمگائے گی اور اگر دبئی کی معیشت ہلی تو امریکہ میں آنے والے 1.4ٹریلین کا وہ سرمایہ سیدھے طور پر خطرے میں پڑ جائے گا ۔جس پر ٹرمپ اپنی سیاسی روٹیاں سینک رہا ہے ۔ایران کا نشانہ صرف امریکہ میں جانے والاہے۔دبئی کا پیسہ نہیں ہے بلکہ گلوبل انویسٹمنٹ ہب کی شکل میں دبئی اور یو اے ای کی پہچان کو تباہ کرنا ہے۔دبئی جو خطہ کا زون تھا اقتصادی ،ڈیجیٹل اور میڈیا ہب رہا ہے ۔اس جنگ میں بری طرح متاثر ہوا ہے ۔اہم شیئر انڈیکس ایڈکز جنرل میں پچھلے مہینے میں 11.42 فیصد کی گراوٹ آئی ہے ۔ہوائی سیکٹربند ہونے لگے اور پروازیں منسوخ ہونے سے سیاحت اور ایویشن سیکٹر میں دبئی کو قریب کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے ۔یو اے ای سرکار اور میڈیا نے دیش کو محفوظ جگہ والی ساکھ بنائے رکھنی کی کوشش کی تھی ۔ صدر محمد زائد نے لوگوں کو بھروسہ دلایا کہ سب کچھ کنٹرول میں ہے اور دیش ہر خطرے سے نمٹنے کے لئے تیار ہے ۔ساتھ ہی اٹارنی جنرل حمد شیخ الشمسی نے حملوں کی تصویریں اور ویڈیو شیئر کرنے پر سخت وارننگ دی ۔اس حکم کے تحت کئی غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا گیا جن پر کم سے کم ایک سال کی سزا اور بھاری جرمانہ کی سہولت ہے ۔ایران دنیا کو یہ بڑا سندیش دے رہا ہے کہ جنگ کے میدان سے ہزاروں کلو میٹر دور بیٹھ کر بھی وہ امریکہ کی دکھتی معاشی نس کو کاٹ سکتا ہے ۔ہر ڈرون حملہ،میزائل اسٹرائک دبئی اور یو اے ای اور خلیجی ملکوں کی اس محفوظ اور مضبوط سسٹم پر ایک زبردست حملہ ہے جسے انہوں نے سالوں سے ریفارم اور شاندار ڈھانچہ بندی کے دم پر بنایا ہے ۔ (انل نریندر)

31 مارچ 2026

زمینی جنگ کی تیاری کررہا ہےامریکہ؟

مغربی ایشیا میں جنگ بندی کی کوششیں کمزور پڑتی جارہی ہیں امریکہ اور ایران کی جنگ بندی کی شرائط ایسی ہیں کہ ہمیں نہیں لگتا کہ ان پر کوئی بھی جھکنے کو تیار ہوگا ۔تو کیاا ب امریکہ منھ چھپانے کے لئے کوئی امریکی جنتاکو اس حماقت جنگ کو جسٹیفائی کرنے کے لئے زمینی جنگ پر اتر سکتا ہے ؟امریکہ اور ایران دونوں نے ہی اپنے رخ مزید سخت کر لئے ہیں ۔امریکہ مغربی ایشیا میں مزید فوج بھیج کر فوجی تعیناتی بڑھاتا چلاجارہا ہے ۔قریب 2500 مرین کمانڈو کے ساتھ امریکی وار شپ یو ایس ایس ٹریپولی مغربی ایشیا کے قریب پہنچ چکا ہے ۔اسی طرح 82V ایئر بارن ڈویژن کے 2000 پیرائی پر بھیج رہے ہیں ۔دوسرا وارشپ یو ایس ایس باکسر بھی 2300 مرین کمانڈو کے ساتھ اپریل میں پہنچ رہا ہے اس طرح قریب 7000 امریکی فوجی علاقہ میں پہنچ جائیں گے۔ اس کے علاوہ 50000 فوجی پہلے سے ہی وسط مشرق میں موجود ہیں اس سے اشارے مل رہے ہیں کہ امریکی ڈپلومیسی کے ساتھ زمینی حملے سمیت سبھی متبادل کھلے رکھنا چاہتا ہے ۔واقف کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکمت عملی ناکام رہتی ہے تو ان امریکی فوجیوں کا استعمال خاص طور سے 4 مقاصد کی تکمیل ہو سکتی ہے ۔پہلا ایران کے اہم تیل ایکسپورٹ سنٹرکھرگ جزیرہ پر قبضہ یا اس کی ناکابندی اس جزیرہ پر حال میں امریکی فوج نے 90 سے زیادہ ٹارگیٹ پر حملے کئے دوسرا ہرمز جل ڈروم وسط کو محفوظ رکھنا اور اس راستے میں جہازوںکی آمد ورفت کو پھر سے شروع کرنا ۔نمبر 3 ایران کے ساحلی علاقوں پر کاروائی چوتھا : اس کے ایٹمی ٹھکانوں کو محفوظ کرنا اور ایران کے یورینیم زخیرہ پر قبضہ کر لینا ۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زمینی جنگ کے منصوبوں کے جواب میں ایران نے بڑی تیاری کر لی ہے ۔ایران نے 10 لاکھ جوانوںکی فوج اکٹھی کی ہے ساتھ ہی ایران نے قسم کھائی ہے کہ اگر امریکی فوجی ایران کی سرزمین پر جنگ کے لئے اترتے ہیں تو ان کے لئے ہم یہ فیصلہ تاریخی جہنم تیار کر دیں گے۔ چلیے ایک نظر اس بات پر ڈالتے ہیں کہ اگر امریکہ ایران پر اپنے فوجی اتاردیتا ہے اور خلیجی جزیرہ اور ایران کے ساؤتھ تیل ذخیرہ پر قبضہ کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے تو اس سے ایران کے تیل ایکسپورٹ کو تقریباً پوری طرح الگ تھلگ کیاجاسکتا ہے شاید اس سے ہرمز جل ڈروم وسط کا ایشو پوری طرح حل نہیں ہو پایا ۔امریکہ اس کے کچھ حصوں پر قبضہ کر سکتا ہے لیکن ایران اچانک جنگ کی حکمت عملی (جیسے گوریلا وار) کا استعمال کرکے اس کے کچھ حصوں پر کنٹرول بنائے رکھ سکتا ہے ۔دونوں فریقین میں بھاری فوجی مریں گے یا زخمی ہوتے ہیں اور ایران میں شہری زخمی یا مرتے ہیں تو اس کے خطرناک نتیجے ہوں گے ۔یہ امکان ہے کہ امریکی فوج محدود یا وسیع پیمانہ پر ایران میں پھنس سکتی ہے۔ مثال کے لئے ویتنام اور افغانستان ہمارے سامنے ہیں فوجی کاروائی آسان راستہ نہیں ہوسکتا ہے یہ کبھی بھی صاف ستھری مہم نہیں ہوسکتی ایسی مہم کبھی پوری طرح کامیاب نہیں ہوتی اوریہی اس جنگ کی سچائی ہے ۔ (انل نریندر)

28 مارچ 2026

نہ ٹرمپ پر بھروسہ ہے اور نہ ہی پاکستان کی ثالثی منظور

مغربی ایشیا میں لڑائی کے خاتمے کے لیے امریکا کی 15 نکاتی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے ایران نے الٹا اپنی 5 شرائط رکھی ہیں۔ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 15 نکاتی امن تجویز کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے یکطرفہ طور پر مستر د کر دیا ہے اور جنگ کے خاتمے کے لیے پانچ بڑی شرائط رکھی ہیں۔ ایران نے واضحطور پر کہا ہے کہ وہ جنگ اسی وقت ختم کرے گا جب اس کے مطالبات پورے ہوں گے۔ امریکہ نے اپنی تجویز پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچائی۔ ایران نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وہ نہ تو ٹرمپ پر اعتماد کرتا ہے اور نہ ہی پاکستان کی ثالثی کو قبول کرتا ہے۔ ایران کی پانچ شرائط میں جنگی نقصانات کا خاطر خواہ معاوضہ، ٹارگٹ کلنگ پر پابندی ، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ آبنائے ہرمز پر سابقہ خود مختاری شامل ہے۔ تہران کا واضح موقف ہے کہ امن صرف اسی صورت میں ممکن ہو گا جب امریکہ اس کی شرائط مان لے اور مخطے کے تمام مزاحمتی گروپوں پر حملے بند کر دے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان اس شدید جنگ میں تہران نے بھی اپنا موقف سخت کر لیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 15 نکاتی تجویز پیش کی تھی ۔ ان مطالبات میں شامل ہیں : ایران اپنی تینوں بڑی ایٹمی سائٹس کو بند کر دے۔ اسے یورینیم کی افزودگی کو مکمل طور پر روک دینا چاہیے۔ اسے اپنا بیلسٹک میزائل پروگرام معطل کر دینا چاہیے۔ اسے حماس ، حزب اللہ اور حوثیوں جیسے باغی گروپوں کی حمایت ختم کرنی چاہیے۔ اسے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنا چاہیے۔ اسے یہ وعدہ بھی کرنا چاہیے کہ وہ کبھی بھی جو ہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ ایک اہم مطالبہ یہ تھا کہ موجودہ افزودہ یورینیم کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے حوالے کیا جائے ۔ اس کے علاوہ اور بھی مطالبات تھے۔ میں نے امریکہ کے اہم مطالبات کا ذکر کیا ہے۔ مجھے اس بات پر سمجھوتہ کرنا مشکل ہے کہ ایران اور امریکہ ایک دوسرے سے کیا چاہتے ہیں۔ کم و بیش درست مسائل پر بات چیت فروری میں ہوئی تھی۔ ان نکات کو سرخ لکیریں کہا جا سکتا ہے، جن پر ممالک متفق نہیں ہو سکتے ۔ دریں اثناء ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کا ملک تنازع کا مستقل خاتمہ چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے تاہم ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی خواہش نہیں رکھتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات بھیج رہا ہے۔ ایسے پیغامات کے تبادلے کا مطلب مذاکرات نہیں ہوتا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ جنگ چھیڑنے کے اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ امریکہ ایران میں جنگ اور حکومت کی تبدیلی میں فتح چاہتا تھا، دونوں ناکام رہے۔ دریں اثناء ایران کی مشترکہ فوجی کمان کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے جس امریکی سٹریٹجک طاقت پر فخر کیا تھا وہ اب تزویراتی شکست میں تبدیل ہو گئی ہے ۔... ہم امریکہ کے جھوٹے پروپیگنڈے سے گمراہ نہیں ہوں گے ۔ اس سے قبل امریکا نے پاکستان کے ذریعے بھیجی گئی ایک تجویز میں ایران کو جنگ بندی کے لیے پاکستان یا ترکی میں مذاکرات کرنے کی تجویز دی تھی جسے ایران نے صاف طور پر مسترد کر دیا تھا۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بیضائی نے کہا ہے کہ امریکہ نے گزشتہ سال جو ہری مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کیا تھا۔ انہوں نے اسے سفارتی غداری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں امریکہ پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ ٹرمپ نے ہمیں دو بار دھوکہ دیا ہے، اور ہم دوبارہ اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہماری رائے میں طاقت حل نہیں ہے ۔ مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ پہلے ایران پر حملے بند ہوں۔ یہ ناممکن ہے کہ آپ ایک طرف امن کی تجویز بھیجیں پھر یکطرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کریں اور حملے جاری رکھیں۔ یہی نہیں بلکہ امریکہ بھی یہ کر رہا ہے۔ وہ اپنی زمینی افواج میں اضافہ کر رہا ہے۔ یہ ایک طرف نئے جنگی جہاز اور لڑاکا طیارے بھیج رہا ہے اور دوسری طرف امن کی بات کرتا ہے۔ یہ دوغلا پن نہیں تو اور کیا ہے؟ مجھے ٹرمپ پر بالکل بھروسہ نہیں ہے۔
ائل نریندر

26 مارچ 2026

ڈیمونا:اسرائیل کا سیکریٹ نیوکلیئر ری ایکٹر!



ایران۔ اسرائیل جنگ کاایک دوسرے کے نیوکلیائی اسٹیشنوں پر پہنچ جانا بیحد خطرناک ہے۔سنیچر کی صبح امریکہ۔ اسرائیل نے مشترکہ کارروائی میں ایران کو نتانگ نیوکلیئر مرکز کو نشانہ بنایا تو ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اراد کے ساتھ ساتھ ڈیمونا شہر پر بھی میزائلیں داغیں۔ڈیمونا اسرائیل کا وہ جنوبی حصہ ہےجہاں سے محض 13 کلو میٹر دور اہم نیوکلیائی مرکز ہے۔تل ا بیب کی مانیں تو یہ حملہ دراصل اس کے نیوکلیائی سینٹر کو مرکز میں رکھ کر ہی کیا گیا تھا۔ اس حملے میں 180 سے زیادہ لوگ زخمی ہونے کی بات کی جارہی ہے۔ اسرائیل فوج نے بتایا کہ وہ اس بات کی بھی جانچ کررہی ہے کہ ایرانی بیلسٹک میزائل کو روکا کیوں نہیں جاسکا۔ اس سے اس بات کو بھی تقویت ملتی ہے کہ ایران کے دعوے میں کچھ سچائی ہے۔ اس کی میزائلوں نے اسرائیلی ایئر ڈیفنس سسٹم کو تباہ کردیاہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ایئر ڈیفنس سسٹم نے میزائل کو روکنے کی کوشش کی لیکن انٹرسپٹر اسے مار گرانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔انٹر نیشنل نیوکلیائی انرجی ایجنسی نے ان حملوں کے سبب شکر ہے کہ کسی طرح کی ریڈی ایشن یعنی کرنیں نکلنے سے انکار کیا ہے جو یقیناً اچھی بات ہے، لیکن دونوں جگہوں پر جان مال کا بھاری نقصان ہوا ہے۔ ڈیمونا سائوتھ اسرائیل کے نیگرو ریگستان میں واقع ہے ۔یہ ایک اہم نیوکلیائی پلانٹ ہے۔ اسرائیل کی اپنے نیوکلیائی پروگرام کو لیکر کوئی صاف پالیسی نہیں ہے۔ سرکاری طورپر اس کا کہنا ہے کہ ڈیمونا ری ایکٹر صرف ریسرچ کے لئے ہے۔ حالانکہ اسٹاک ہوم انٹر نیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق اس کے پاس تقریباً 90 نیوکلیائی جنگی جہاز ہیں جس سے وہ مشرقی وسطیٰ کا ایک واحد نیوکلیائی پاور کفیل دیش بن جاتا ہے۔ ڈیمونا ری ایکٹر کو شیمون پیریس میگو نیوکلیئر ریسرچ سینٹر کہا جاتا ہے۔ یہ اسرائیل کے نیوکلیائی پروگرام کی ریڑھ مانا جاتا ہے۔ دراصل قریب36 مربع کلو میٹر کیمپس میں پھیلا ہوا ہے۔ قریب2700 سائنسداں اور تکنیکی ماہرین یہاں کام کرتے ہیں۔ ڈیمونگ کو اسرائیل کےلئے لٹل انڈیا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں ہندوستانی یہودی فرقہ رہتا ہے۔ قریب30 فیصد آبادی ہندوستانی نژاد کی ہے اور مراٹھی زبان بولتے ہیں۔ دوکانوں میں سوہن پاپڑی، گلاب جامن،پاپڑی چاٹ بھیل پوری ملتی ہے۔ امریکہ۔ ایران ۔ اسرائیل کی یہ جنگ جتنی خطرناک شکل اختیار کررہی ہے وہ نہ صرف مغربی ایشیا بلکہ پوری دنیا کے لئے سنگین تشویش کا باعث ہونا چاہئے۔ ڈیمونگ اور ایرانی نیوکلیائی مراکز میں یورینیم اور پلوٹینیم کے ذخیرے ہیں۔اگر ان میں اخراج ہوا تو نہ صرف آس پاس کے لوگ شکار ہوں گے بلکہ پورا مشرقی وسطیٰ اس سے متاثر ہوسکتا ہے۔ نیوکلیائی مادہ کس حد تک خطرناک ہوتے ہیں اس کی تکلیف دہ نظیر موجود ہیں۔ جب دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی شر ہیروشیما و ناگاساکی پر امریکہ نے نیوکلیائی بم گرائے تھے تو لٹل بام (یورینیم) اور فیٹ مین نامی ان بموں نے 2 لاکھ لوگوں کی زندگی ختم کردی تھی اور جاپان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کردیا تھا۔آج ان کے مقابلے میں کہیں زیادہ تباہ کن بم کئی ملکوں کے پاس ہیں۔ ایران ۔ امریکہ۔ اسرائیل جنگ کو اور پھیلنے سے روکنے کے لئے دنیا کو سامنے آنا پڑے گا۔یہ اچانک نہیں عالمی مفاد کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ بھارت اس پر مسلسل زور دیتا رہا ہے اور کہتا رہا ہے کہ مسئلہ کا حل جنگ نہیں۔ ٹیبل پر بیٹھ کر سمجھوتہ کرنا ہوگا۔اس کا حل جنگ نہیں بات چیت سے تلاشنا ہوگا۔یہ کام جتنی جلدی ہو اس جنگ کو رکنا چاہئے۔دنیا کی اسی میں بھلائی ہے۔
(انل نریندر)

24 مارچ 2026

چار ہزار کلو میٹر دور ایران کے حملے نے چونکا دیا!

ایران اور امریکہ -اسرائیل جنگ خطرناک موڑ پر پہچ گئی ہے امریکہ اسرائیل کی ایئر فورس نے سنیچر کی صبح ایرانی نیوکلیئر ہارڈ نتاج نیوکلیئر پروسیسنگ سنٹر پر خوفناک حملہ کیا ۔ایرانی نیوکلیائی اینرجی آرگنائزیشن نے اسے مجرمانہ حملوں سے تعبیر کیا ہے ۔حالانکہ پلانٹ سے کسی ریڈیو کرنیں رساؤ کی خبر نہیں ہے ۔امریکہ -اسرائیل کے اس حملے کا اثر اب عالمی جنگ پھیلنے کی سطح تک پیدا ہوگیا ہے ۔نتانج پر حملے کے کچھ ہی گھنٹوں کے بعد ایران نے جوابی کاروائی (آپریشن -2 پرسیسٹنس ) ہند مہاساگر میں موجود امریکہ برٹین کے ایئر بیس ڈی اے گے گراسیا پر دو بیلسٹک میزائل داغے اور دنیا کو چونکا دیا۔ ایران نے پہلی بار غیر اعلانیہ 2000 کلو میٹر کی لمٹ توڑ کر 4000 کلو میٹر دور تک حملے کی صلاحیت دکھائی ۔رپورٹ کے مطابق ایک میزائل اڑنے کے دوران ناکام ہو گئی ۔جبکہ دوسری کو روکنے کے لئے امریکی جنگی بیڑے نے ایس ایم -3 انٹر سپٹر کا استعمال کیا ۔حالانکہ اس کی کامیابی کی تصدیق نہیں ہوئی ہے ۔یہ حملہ اس لئے اہم ماناجارہا ہے کیوں کہ ڈی اے گو گراسیا ایران سے قریب 4000 کلو میٹر دوری پر واقع ہے جو ایران کی اعلان کردہ 2000 کلو میٹر رینج سے دگنی ہے ۔اگر یہ رپورٹ صحیح ہے تو ایران کی میزائل صلاحیت کو لے کر بنی پرانی کہانیاں ٹوٹ گئی ہیں ۔ایران کو لے کر خیال تھا کہ اس کے پاس 2000 کلو میٹر تک رینج کی صلاحیت ہے لیکن اس حملے سے دنیا حیران رہ گئی ہے ۔ماہرین کے مطابق 4000 کلو میٹر تک کی رینج ایران کو ایٹر میڈیٹ رینج میزائل صلاحیت کے قریب لے جاتی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اب یوروپ کے کئی بڑے شہر جیسے پیرس ،برلن اور روم بھی ممکنہ دائرے میں آسکتے ہیں ۔جبکہ لندن بھی خطرے سے باہر نہیں ہے ۔یہ تبدیلی بتاتی ہے کہ خطرہ اب صرف خلیجی ممالک یا اسرائیل تک محدود نہیں رہا۔اگر اس کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ حملہ صرف فوجی کاروائی نہیں بلکہ ایک بڑا حکمت عملی پیغام بھی ماناجائے گا ۔سنٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹیڈیز کے مطابق ایران کے پاس مغربی ایشیا میں سب سے بڑے اور سب سے کارگر میزائل ذخیرہ ہے اس ذخیرے میں کئی لمبی دوری کی میزائلیں شامل ہیں جو اسرائیل میں پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ان میں اینجل ، خورم شہر اور قدرشامل ہیں ۔ایک رپورٹ کے مطابق ایرانی میزائلیں اسرائیل تک تو تباہی مچا ہی رہی ہیں ۔لیکن اب یہ دائرہ بھی بڑھ سکتا ہے ایران کے پاس الگ الگ صوبوں میں کم سے کم پانچ گھات حملہ آور زیر زمین میزائل شٹیز بھی ہیں ۔ایران کے میزائل ذخیرہ میں موٹار ،راکیٹ ،ڈرون اور بیلسٹک اور کروز میزائلیں شامل ہیں ۔بتادیں کہ ڈی اے گو گراسیا ایران سے تقریباً 4000 کلو میٹر تک دور وسط ہند مہاساگر میں بھارت کے ساؤتھ اور سری لنکا کے ساؤتھ ویسٹ میں واقع ہے ۔ یہ یاگوس ذخیرہ گروپ کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور ہند پرشانت سیکٹر خطہ میں واقع دو اہم ترین امریکی بم برسانے والے جنگی جہازوں کے بیس میں سے ایک ہے ۔دوسرا اڈہ ،گوام میں واقع اینڈر سین ایئر فورس اڈہ ہے ۔امریکہ -برطانیہ کے ذریعے چلائے جانے والاسب سے زیادہ حکمت عملی اہمیت والے بے حد خفیہ ملیٹری بیسس میں سے ایک ہے۔ ایران اگر یہاں تک پہنچا ہے تو یہ ایک بہت اہم ترین واقعہ ہے ۔ (انل نریندر)

21 مارچ 2026

نیتن یاہو کی سازشوں کا نتیجہ !

اگر ایران اسرائیل امریکہ جنگ پھیلتی جارہی ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ نتین یاہو کی سازشیں ہیں ۔یہ ساری کری کرائی نتین یاہو کی ہے ۔28 فروری کو سب سے پہلا کام نیتن یاہو نے یہ کیا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور سپریم فوجی کمانڈر و خفیہ چیف وغیرہ کو شہید کر دیا ۔نیتن یاہو یہیں نہیں رکے انہوں نے اگلا نشانہ بنایا ایران کے سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کو مارڈالایہ اس لئے بھی کیا کہ تاکہ اس لیڈر کو راستے سے ہٹاد یاجائے جو ایک اصلاح پسند ،لائق اور بیچ بچاؤ کرکے اس جنگ کو کسی طرح روکنے میں مدد کر سکتا تھا اور یہی نیتن یاہو نہیں چاہتے تھے ۔لاریجانی ایران کے نمبر 2 کے لیڈر تھے ۔یہ ٹرانزیشنل کونسل کے ذریعے دیش چلارہے تھے ۔ایران کے آئین کی آرٹیکل 111 کے مطابق سپریم لیڈر کی موت یا نااہلیت کی صورت میں ایک کونسل دیش چلاتی ہے لیکن لاریجانی ان سب کے اوپر تھے ۔ایران کی ریوولیوشنری گارڈ کور یعنی فوج بھی ان کے حکم کو مانتی تھی ۔پارلیمنٹ کے سابق چیئرمین اور سینئرپالیسی مشیر کےطور پر علی لاریجانی کو ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ نیوکلیائی مذاکرات حکمت عملی پر سورگیہ مرحمو آیت اللہ علی خامنہ ای کو صلاح دینے کے لئے معمول کیا گیا تھا۔علی لاریجانی کے قتل کے ساتھ ساتھ نیتن یاہو نے جنرل غلام رضا سلیمانی کو بھی مار ڈالا۔ریولیوشنری گارڈ کی بسیط فوج کےوہ چیف تھے ۔دراصل نیتن یاہو نے سوچا تھا اگر وہ ایران کی ٹاپ لیڈر شپ کو ختم کر دیں گے تو جنگ جیتنے میں آسانی ہو جائے گی ۔ایران بکھر جائے گا لیکن اس کا ہوا الٹا ۔ایرانی عوام ہمدردی میں سڑکوں پر اتر آئی جو آیت اللہ نظام سے ناراض تھی وہ ہی نظام کی حمایت میں اتر گئی ۔نیتن یاہو کو شاید اس کا اندازہ بھی نہیں تھا کہ ایران کی ٹاپ لیڈر شپ اگر ختم ہو جائے گی تو اتنی جلدی اس کا متبادل سامنےآکر مورچہ سنبھال لے گاجب اسرائیل نے دیکھا کہ یہ تو معاملہ الٹا ہو گیا تو اس نے نئی سازش رچی ۔اس درمیان یہ اشارے بھی آنے لگے کہ امریکی صدر گھریلو دباؤ کے سبب اس جنگ سے ہٹنے کی تیاری کررہا ہے تو نیتن یاہو پریشان ہو گئے۔ یاد رہے کہ جب پچھلے سال جب 12 دن جنگ چلی تھی تو سب سے پہلے اسرائیل نے حملہ کیا تھا بعد میں اس نے امریکہ کو زبردستی اس جنگ میں شامل ہونے پر مجبور کیا تھا ۔اب بازی ہاتھ سے نکلتے دیکھ نیتن یاہو نے ایک نئی اور نہایت خطرناک چال چلی اس نے بغیر امریکہ سے پوچھےا یران کے سب سے بڑے اینرجی اداروں میں سے ایک بشر میں واقع اصلومیہ گیس پلانٹ (ساؤتھ پارس )پر حملہ کر دیا ۔اس ہوئے واقعہ سے ایران کو بھڑکنا فطری ہی تھا اس نے خلیج میں موجود تیل اور گیس کے کارخانوں کی سیٹلائٹ فوٹیج جاری کر زون بنا دئیے کہ ان علاقوں کو فوراً خالی کریں اسرائیلی حملے کے جواب میں قطر کے راس لافان کی ایل این جی پی گیس فیلڈ پر حملہ کر دیا یہ قطر کی اہم ایل این جی پروسیسنگ کارخانہ ہے ۔اور دیش کا اینرجی نیٹورک کا اہم مرکز ہے ۔سعودی عرب نے کہا کہ حالانکہ انہوں نے کئی ایرانی میزائلوں کو تباہ کر دیا لیکن اس کے تیل بھنڈار کے اسٹوریج پر بھی کچھ نقصان ہوا ہے ۔ رہی سہی کسر ایران کے ذریعے ہرمز اسٹیج کوبند کرکے پوری کر دی ۔ہرمز اسٹریٹ دنیا کے سب سے اہم سمندری کمرشیل راستوں میں سے ایک ہے ۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ماناہے اور لکھا کہ اسرائیل اس بات کو ضروری اور قیمتی ساؤتھ پارس فیلڈ پر کوئی اور حملہ نہیں کرے گا ۔کیا یہ بیان ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو سنانے کے لئے دیا تھا ؟ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جنگ کو آگے بڑھانے کے لئے نیتن یاہو اپنی سازشوں سے باز نہیں آرہے ہیں ۔

17 مارچ 2026

جنگ کے لمبا کھچنے کا امکان

ایران -امریکہ اور اسرائیل کی جنگ 28 فروری کو ایران پر حملے سے شروع ہوئی تھی ۔امریکہ اسرائیل کو امید تھی کہ یہ جنگ چند دن چلے گی اور ایران اپنے گھٹنوں پر آجائے گا ۔انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایران اتنا جوابی حملہ کرے گا اور یہ جنگ اتنی لمبی کھچے گی ۔ایران امریکہ -اسرائیل کو منھ توڑ جواب دے رہا ہے ۔ایران کے نئے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے پیغام میں ہی صاف کر دیا کہ ایران جھکنے والانہیں ہے ۔خامنہ ای کا پہلا پیغام ایرانی ٹی وی پر نشر ہوکرتے ہوئے اینکر نے پڑھ کر سنایا ۔خامنہ ای نے پیغام میں اسٹریٹ آف ہرمز کی ناکابندی جاری رکھنے اور کناب اسکول کے بچوں سمیت شہید ہوئے لوگوں کے خون کا بدلالینے پر زور دیا ۔امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ چل رہی جنگ کاذکر کرتے ہوئے خامنہ ای نے مسلسل حملے جار ی رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے آگے کہا کہ دیگر مورچوں کو کھولنے پر بھی غور کیاجارہا ہے ۔اس کے علاوہ انہوں نے یمن میں ایران کے ساتھیوں لبنان میں حزب اللہ اور عراق میں مزاہمت کاروں کی تعریف کی ہے ۔خامنہ ای کا یہ پیغام ان کی صحت اور جسمانی حالت کو دیکھ کر چل رہی قیاس آرائیوں کے درمیان آیا ہے ۔ادھر امریکہ نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور ان سے وابستہ کئی سینئرحکام کے بارے میں جانکاری دینے پر بڑی حمایت کا اعلان کیا ہے ۔امریکی خارجہ محکمہ کے روارڈ فار جسٹس کے تحت ان لوگوں کے بارے میں ٹھوس جانکاری دینے والوں کوزیادہ سے زیادہ ایک کروڑ ڈالر تک کا انعام دیاجاسکتا ہے ۔یہ قدم ایران کی فوجی اور سیکورٹی ڈھانچہ سے جڑے نیٹورک پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی شکل میں دیکھاجارہا ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے کہا کہ ایران کے لیڈروں کو مارنا سمان کی بات ہے۔ انہوں نے جمعہ کو کہا کہ ہم ایران کے دہشت گردانہ حکومت کو فوجی ،اقتصادی او ر د یگر طور سے پوری طرح تباہ کررہے ہیں ۔وہ 47 برسوں سے بے قصوروں کو مارررہے ہیں اور اب میں انہیں ماررہاہوں۔ ایسا کرنا سمان کی بات ہے ۔امریکی صدر نے ادھر دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے کھرک آئی لینڈ پر بڑے حملے کئے اور فوجی اڈوں کو تباہ کر دیا ۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا یہ امریکہ -اسرائیل کا ایران پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ ہے ۔ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کے اس حکمت عملی جزیرہ پر بڑے ہوائی حملے میں فوجی اڈوں کو پوری طرح تباہ کر دیا ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اب پوری طرح کمزورہوچکا ہے اور سمجھوتہ چاہتا ہے لیکن ایسے سمجھوتہ نہیں ہوگاجسے وہ قبول کریں ۔ساتھ ہی ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ہرمز آبی بندرگاہ میں جہازوں کی آمد ورفت روکنے کی کوشش کی گئی تو امریکہ تیل اسٹرکچر پر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ بدل سکتا ہے ۔افواہیں تو یہ بھی ہیں کہ ٹرمپ اب امریکی بری سینا کو بھی ایران میں اتارنے کی کوشش کررہے ہیں ۔بتادیں کہ کھرگ آئی لینڈ سے ایران کا بہت بڑا حصہ دوسرے دیشوں پر تھوپاجاتا ہے ۔امریکہ اپنی مرین کارپ کے ذریعے کھرگ آئی لینڈ رپ زبردستی قبضہ کرنے کا پلان بنارہا ہے خبر تو یہ بھی ہے کہ اس کی تکمیل کے لئے امریکہ نے 2500 مرین ایران کی طرف روانہ بھی کر دئیے ہیں ادھر ایران نے بھی اپنے حملے تیز کر دئیے ہیں لبنان سے حزب اللہ نے نارتھ اسرائیل پر تابڑ توڑ حملے شروع کر دئیے ہین اور اسرائیل نے بھی زبردست جوابی کاروائی کی ہے ۔اسرائیل نے لبنان میں بھاری تباہی مچائی ہے ۔اس بڑھتی جنگ سے عالمی تیل مارکیٹ کو بھی لے کر تشویش بڑھ گئی ہے ۔اینرجی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھلے ہی تیل سہولیات کو سیدھا نشانہ نہیں بنایاگیا ہو لیکن فوجی حملوں کا اثر ایکسپورٹ سسٹم پر پڑ سکتا ہے ۔جنگ لمبی کھچنے کی امریکہ نے خلیجی سیکٹر میں تو بے چینی بڑھائی ہی ہے ۔ساتھ ہی پورے دیش میں اس کو لے کر ٹنشن بڑھا دی ہے ۔ (انل نریندر)

14 مارچ 2026

نیتن یاہو نے ٹرمپ کو برا پھنسایا!

ایران جنگ کے بعد دنیا بھر میں ماہرین اب یہ بات کرنے لگے ہیں کہ اصل میں اسرائیل نے اپنے مفادات کے لئے امریکہ کو بری طرح پھنسا دیا ہے یعنی کہ نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایسا پھنسایا ہے کہ اب انہیں پیچھے ہٹنے کا بہانہ مل رہا ہے ۔نہ صرف امریکہ کو ہی پھنسایا ہے بلکہ خلیجی ممالک کے دیگر عرب ملکوں کو بھی پھنسا دیا ہے ۔اس سے آہستہ آہستہ خلیج میں امریکہ کے معاون ساتھی دیش بھی اس سے ناراض ہو رہے ہیں ۔امریکہ میں ہوئے حالات کہہ رہے ہیں کہ امریکی عوام اس ایران جنگ کو غیر ضروری مان رہی ہے ،جو امریکہ پر بری طرح سے مالی بوجھ بڑھائے گی ۔امریکہ اور اسرائیل کے ذریعے مل کر ایران کے خلاف چھیڑی گئی جنگ کو لے کر کئی تجزیے سامنے آرہے ہیں ۔جنگ اب 15ویں دن میں داخل ہو چکی ہے اسرائیل نے امریکہ کو ایسا پھنسایا ہے کہ ٹرمپ کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ آگے کیا کریں؟ تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے امریکی مفادات کے بجائے اسرائیل کے مخصوص مقاصد کو پورا کرنے کے لئے امریکہ کو جنگ میں کھینچ لیا ۔کئی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اسرائیل نے ایران کے نیوکلیائی پروگرام کو خطرے کی شکل میں پیش کر ٹرمپ کو جنگ میں الجھا دیا ہے ۔حقیقت میں اسرائیل کے مفادات کہیں اور ہیں ۔وہ اس جنگ کے ذریعے سب کو دھمکانا چاہتا ہے ۔حقیقت میں اسرائیل کا اس حملے کے ذریعے اہم مقصد ایران کے ساتھ امریکی حکمت عملی میں رخنہ ڈالنا اور غزہ میں اسرائیلی کاروائیوں سے عالمی توجہ بھٹکانا تھا ۔نیتن یاہو کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ان پر چل رہے کرپشن کے مقدموں سے اسرائیلی عوام کی توجہ بھی ہٹانا ۔امریکی صدر ٹرمپ کو اسرائیل کی کاروائی میں کریڈٹ لینے کی چاہت نے پھنسایا ہے ۔شروع میں الگ تھلگ رہنے والے ٹرمپ ایران پر حملے سے بچتے رہے لیکن نیتن یاہو کے پاس پتہ نہیں ٹرمپ کی کون سی خفیہ کنجی ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی ٹرمپ نے ایران جنگ چھیڑ دی ۔مجبوری میں ٹرمپ اب دعوے کررہے ہیں کہ ہم ایران کے آسمان پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں ایسے دعوے کررہے ہیں کہ جو اسرائیل کی جارحانہ جارحیت کو بڑھاوا دے رہاہے وہ زبردستی امریکہ کے ساتھ لمبی کروائی میں جھونک رہا ہے ۔جو امریکی مفادات کو نقصان پہنچائیں گے ۔دراصل امریکہ ایران کا صحیح تجزیہ نہیں کرپایا ۔اسرائیل اور امریکہ نے سوچا تھا کہ ایران جلد ی ٹوٹ جائے گا لیکن ایرانی میزائلوں کے حملوں اور درپردہ گروپوں کی سرگرمی نے لڑائی کو زونل بنا دیا۔ سپریم لیڈر اور ایران کے رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل جیسے قدموں نے نہ صرف دنیا کے شیعہ مسلمانوں کو متحد کیا بلکہ تمام سنی بھی امریکہ اسرائیل کے خلاف ہو گئے ہیں ۔امریکی ٹھکانوں پر یہ پورے وسطی ایشیا میں عرب ملکون کے اوپر ایران تابڑ توڑ حملے کررہا ہے ۔امریکہ کے 17 فوجی اڈوں کو تباہ کر دیا ہے اور اسرائیل کا تو یہ حال ہے کہ وہاں کے اخبار یروشلم پوسٹ نے اعتراف کیا ہے کہ 11 دن کی لڑائی میں اسرائیل پر 9115 میزائل ،راکٹ حملے ہوئے ہیں اور وہاں کی انشورنش کمپنیوں پر جو معاوضہ کے دعوے ہوئے ہیں ان میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی حزب اللہ حملوں سے 6586 عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں اب آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایک عمارت میں کتنے لوگ رہتے ہوں گے جو یاتو مارے گئے یا پھر زخمی ہوئے ۔اسرائیل میں 1485 گھروں کو تباہ کر دیا گیا ہے ۔1044 کارخانے بھی تباہ ہو گئے ہیں بتادیں کہ اسرائیل میں نقصان کی خبروں پر سنسر لگا ہوا ہے اس لئے صحیح پتہ نہیں چل پارہا ہے کہ اصل میں کتنا نقصان ہوا ہے ۔یہ تو یروشلم پوسٹ کے دعووں کا حوالہ ہے ۔ٹرمپ اب باہر نکلنے کے راستے تلاش رہے ہیں ۔ (انل نریندر)

12 مارچ 2026

خامنہ ای کبھی مرتے نہیں ہیں!

ایران نے اپنا سپریم لیڈر چن لیا ہے ۔آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر چنے گئے ہیں ۔دنیا کے خود ساختہ بادشاہ سلامت ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کا اگلا سپریم لیڈر کون ہوگا ؟ یہ میں ان ۔۔۔۔ایران نے ٹرمپ کو منہ توڑ جواب دیا ہے اور صاف بتادیا ہے کہ ایران ٹرمپ ،نیتن یاہو کے سامنے جھکنے والانہیں ہے ۔ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ اسمبلی آف ایکسپرٹس 88 ممبری دھارمک ادارہ ہے جس کی ذمہ داری سپریم لیڈر کو چننے کے ادارے کے ایک بیان کو ایرانی ٹی وی پر اینکر نے پڑھ کر سنایا ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ میں بےحد سنگین حالات اور ہمارے ادارے کے خلاف دشمنوں کی سیدھی دھمکیوں کے باوجود اور اسمبلی آف ایکسپرٹس کے سچیوالے کے دفاتر پر بم باری سے اس کے کئی ملازمین اور سیکورٹی ٹیم کے ممبران شہید ہو جانے کے باوجود اسلامی نظام کی قیادت کے انتخاب اور اس کے اعلان کی کاروائی ایک پل کے لئے بھی نہیں رکی ۔اس کے بعد اینکر نے ایک نعرہ لگایا -اللہ اکبر ،اللہ اکبر خامنہ ای ہی رہبر ۔امریکی اسرائیل ہوائی حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد کئی لوگوں کو اندیشہ تھا کہ ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای بھی مارے گئے ہیں ۔کئی دنوں تک مجتبیٰ کے بارے میں کوئی خبر نہیں آئی لیکن تین مارچ کو ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا مجتبیٰ زندہ ہیں اور انہیں ایران کا سپریم لیڈر چن لیا گیا ہے ۔ بتادیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے تو کبھی کوئی پبلک بیان دیا کوئی سرکاری عہدہ سنبھالانہ کوئی انٹرویود یا ان کی بہت کم تصویریں اور ویڈیو نشر ہوئے ہیں۔ امریکی سفارتی دستاویز میں انہیں پردے کے پیچھے اصلی طاقت بتایا گیا تھا۔ ان کو حکومت کے اندر ایک اہل اور مضبوط لیڈر ماناجاتا ہے ۔8 ستمبر 1969 کو ایران کے نارتھ ایسٹ شہر یشہد میں پیدا مجتبیٰ ، امام علی خامنہ ای کے چھ بچوں میں دوسرے مقام پر ہیں ۔میڈیا کے مطابق 17 سال کی عمر میں مجتبیٰ نے ایران -عراق جنگ کے دوران فوج میں خدمات انجام دی تھیں ۔مدرسوں کے انتظام میں آیت اللہ کی ڈگری ہونا اور مذہبی اسلامی کلاسز کو پڑھانا کسی شخص کی کافی صلاحیت اور علم کا ثبوت ماناجاتا ہے ۔یہ مستقبل میں نیتا چنے جانے کی ضروری شرطوں میں سے ایک ہے ۔الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جیسے ہی نام کا اعلان ہوا ،ایران کی فوج ،اسلامی ریبولیوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی )اور سیاسی لیڈروں نے فوراً مجتبیٰ خامنہ ای کے تئیں وفاداری کا حلف لیا ۔آئی آر جی سی نے بیا ن جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہم نئے لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے حکم کی تعمیل کرنے خود کو قربان کرنے کے لئے تیار ہیں ۔فوج کی سرکردہ لیڈر شپ نے بھی اپنی پوری وفاداری کا وعدہ کیا ہے ۔ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے سب سے طاقتور عہدہ سنبھالتے ہی ایران نے اسرائیل پر میزائلوں سے حملہ کیا ۔مانا یہ پہلے سے طے تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے بھی اس کی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ یوں کہیں کہ ایران اب اور طاقت سے حملہ کرے گا ۔یہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں اس جنگ کی زبردست نئی میزائلوں سے حملہ کیا ۔دیکھنا یہ ہے کہ کیا آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کے اس فتویٰ کو بدلیں گے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کوئی نیوکلیائی ہتھیار نہیں بنائے گا؟ (انل نریندر)

10 مارچ 2026

ایران حملے کی قیمت ؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف تو نیتن یاہو کے اکسانے پر جنگ شروع تو کر دی لیکن انہیں شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ لڑائی لمبی اور مہنگی پڑ سکتی ہے ۔جو لڑائی چار دن میں ختم ہونے کی پیشگوئی کی جارہی تھی وہ آج دسویں دن بھی ختم ہونا تو دور کی بات ہے یہ بڑھتی جارہی ہے ۔یہ امریکہ کو دونوں فوجیوں کی موت اور مالی تنگی کی مار جھیلنی پڑرہی ہے جس کا اس نے کبھی اندازہ نہیں لگایا ہوگا ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اب اشارہ دیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی یہ لڑائی چار پانچ ہفتے تک چل سکتی ہے ۔واشنگٹن میں موجود تھنک ٹینک سی ایس آئی ایس اور کرسپارک کے ذریعے کئے گئے تجزیہ کے مطابق ایران کے خلاف آپریشن ایپک تھیوری کے تحت جنگ کے پہلے 100 گھنٹوں میں امریکہ کو تقریباً 3.7 ارب ڈالر (قریب 31 ہزار کروڑ روپے ) خرچ اٹھانا پڑرہا ہے ۔رپورٹ کے مطابق جنگ کے شروعاتی 100 گھنٹوں میں امریکہ کا اوسط خرچ تقریباً 891 ملین ڈالر یومیہ یعنی قریب 90 کروڑ ڈالر روز رہا ہے ۔شروعاتی مرحلے میں سب سے زیادہ خرچ مہنگی میزائلوں ، ہتھیاروں اور بموں کے استعمال پر ہوا ہے ۔اس لئے شروعاتی دنوں میں لاگت سب سے زیادہ ہے ۔تھنک ٹینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1.7 ارب ڈالر جیسے ایئر ڈیفنس انٹرسپٹرس سسٹم پر خرچ کئے گئے ہیں جبکہ 1.5 ارب ڈالر میزائلوں اور دیگر جارحانہ ہتھیاروں پر خرچ کئے گئے ہیں اس کے علاوہ 125 ملین ڈالر جنگی جہازوں اور ہوائی آپریشن کے چلانے پر خرچ کئے گئے ہیں ۔سی ایس آئی ایس کے مطابق خرچ میں سے صرف تقریبا200 ملین ڈالر ہی پہلے سے امریکی ڈیفنس بجٹ میں شامل تھے جبکہ قریب 3.5ارب ڈالر کا خرچ فاضل ہوا ہے ۔جس کے لئے الگ سے فنڈ کی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی ڈیفنس وزارت کو جلد ہی جنگ جاری رکھنے کے لئے مزید بجٹ کی مانگ کرنی پڑ سکتی ہے ۔اس کے علاوہ قطر ،جارڈن ،یو اے ای میں جو ایئر ڈیفنس کے راڈار اور دیگر مشینری جو تباہ ہوئی ہے جن کی قیمت اربوں ڈالر میں ہے کا تو حساب ہی نہیں ہے ۔رپورٹوں کے مطابق اندازہ کے مطابق جنگ کے پہلے 100 گھنٹوں میں امریکہ نے 2000 سے زیادہ طرح کے ہتھیار اور میزائلوں کا استعمال کیا ہے ۔ان ہتھیاروں کے اسٹاک کو 2 بار بھرنے میں تقریباً 3.1 ارب ڈالر خرچ ہو سکتے ہیں ۔تھنک ٹینک نے اپنے تجزیہ میں کہا ہے کہ جنگ کا انسانی نقصان بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ایران میں ہی تقریباً 1500 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوچکی ہے ۔ان میں 180 چھوٹی بچیاں بھی شامل ہیں جن کے اسکول پر امریکہ نے بحرین سے بم مارا ۔امریکہ کے کتنے فوجی مرے ہیں یہ تعداد بہت زیادہ ہوسکتی ہے ۔امریکہ نے فی الحال 6-7 فوجیوں کے مرنے کی تصدیق کی ہے ۔لیکن ایرانی دعویٰ کررہے ہیں یہ تعداد سینکڑوں میں ہے ۔خرچ کے علاوہ ، کویت میں فرینڈلی فائر کے واقعہ میں 3 امریکی اور 1 ایف -15 امریکی جنگی جہاز گر گئے ۔ بتادیں کہ ایک ایف -15 جو انتہائی جدید اس فائٹر جیٹ کی قیمت تقریباً 800 کروڑ روپے ہے ۔ایران پر حملہ کرتے وقت امریکہ اور ڈونلڈ ٹرمپ نے شاید یہ سوچا بھی نہیں ہوگاکہ یہ جنگ اسے کتنی مہنگی پڑے گی ۔ لڑائی لمبی کھچنے سے اور ایرانی جوابی کاروائی سے ٹرمپ کی نیند اڑی ہوئی ہے ۔آئے دن وہ دھمکیوں پر اتر آتے ہیں ۔ٹرمپ تو پھنس گئے ہیں لیکن باہر کیسے نکلیں انہیں سمجھ نہیں آرہا ہے۔خرچ کےعلاوہ اندرونی سیاسی دباؤ ،ایپسٹین فائل ، ساتھ ہی عرب ممالک کا دباؤ یہ سب امریکہ ٹرمپ پر بھاری پڑرہا ہے۔ پریشان ہو کر ٹرمپ کوئی ایسا قدم نہ اٹھا لیں جس سے پوری دنیا سکتے میں آئے؟ (انل نریندر)

06 مارچ 2026

جنگ تم شروع کرو گے ختم ہم کریں گے!

یہ وارننگ دی تھی آیت اللہ علی خامنہ ای نے شہید ہونے سے پہلے ۔انہوں نے ایک بار نہیں بار بار یہ خبردار کیا تھا اور ساتھ ہی کہا تھا کہ اگر امریکہ -اسرائیل ایران پر حملہ کرتا ہے تو ہم منھ توڑ جواب دیں گے ۔ایسا جواب دیں گے جس کا امریکہ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا ۔اتنا ہی نہیں آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی آگاہ کیا تھا کہ اگر ایران پر حملہ ہوگا تو جوابی کاروائی پورے مشرقی وسطیٰ کے ملکوںمیں امریکی فوجی اڈوں پر بھی ہوگی ۔اور یہ علاقائی جنگ میں بدل جائے گی اس کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہم چار دن میں ایران کو گھٹنوں پر لادیں گے ۔اور نیا اقتدار قائم کردیں گے اب جنگ کے 7-8 دن گزر چکے ہیں اب وہی ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ یہ جنگ 4-5 ہفتے کھچ سکتی ہے ۔دراصل امریکہ پھنس گیا ہے طالبان اگر 20 سال بعد بھی لڑائی کے بعد بھی زندہ رہا تو اس کے پیچھے اس کی حکمت عملی اور افغانستان کے جغرافیائی حالات تھے ۔ایران بھی امریکہ کے لئے ایسی ہی چیلنج پیش کرنے والاہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں اپنی فوج بھیجنے سے انکار نہیں کیا ہے لیکن یقینی جانیے اگر امریکی فوجی ایران میں داخل ہوتے ہیں تو ویتنام اور افغانستان کی طرح اسے ذلیل ہو کر بھاگنا پڑ سکتا ہے ۔دہائیوں سے خلیجی ملکوں کو امریکی سیکورٹی کو لے کر بھرم بنا ہوا تھا لیکن آسمان سے برستی ایرانی میزائلوں نے اس بھروسہ کو توڑ دیا ہے ۔ایران نے خلیج کے ملکوں ، یو اے ای ،سعودی عرب اور کویت بحرین میں جم کر میزائلیں برسائی ہیں اور امریکی اڈوں کو تباہ کیا ہے ۔ایرانی حملوں کا مقصد اور پیغام صاف تھا کہ جو دیش امریکی فوج کو حملے کے لئے اپنی زمین دے رہے ہیں انہیں بخشا نہیں جائے گا۔ایران کے وزیرخارجہ عباس افراہیمی نے کہا کہ تہران نے اس علاقہ میں دشمنوں کے فوجی اڈوں پر حملے کرکے شروعات کی ہے وہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ اگلے 4-5 ہفتوں تک اور چل سکتی ہے ۔جس سے مشرقی وسطیٰ میں اور تباہی پھیلنے کے اندیشات بڑھ گئے ہیں ۔آیت اللہ علی خامنہ کے قتل کے بعد مشرقی وسطیٰ کے کئی ملکوں میں صورتحال امریکی ٹھکانوں پر تابڑ توڑ ایرانی حملے ہورہے ہیں اس میں سعودی عرب میں امریکی سفارتخانوں قطر کے العدید ایئر بیس ،بحرین میں امریکی ایئر فورس کے پانچوے بیڑے کے ہیڈ کوارٹر اور دبئی کے کئی ہوٹلوں اور اہم ترین فوجی عمارتوں پر حملے ظاہر کرتے ہیں کہ اب جنگ پورے مشرقی وسطیٰ میں پھیل چکی ہے ۔امریکی سعودیہ کے اکنامک مفادات کو نقصان پہنچانے کے لئے وہاں کی سب سے بڑی آرامکو ریفائنری پر بم برسائے ہیں۔ یہ حملے اتنے خطرناک ہیں کہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے سفارتخانوں کو بند کر دیا ہے ۔اس کے علاوہ امریکہ نے اسرائیل سے اپنے شہریوں کو نکالنے کو لے کر ہاتھ کھڑے کر دئیے ہیں ۔امریکہ اور اسرائیل نے پہلے ہی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہلاک کر دیا تھا اور ٹرمپ کو امید تھی کہ سر کاٹنے سے سسٹم گر جائے گا لیکن ہوا الٹا ۔سڑکوں پر بغاوت نہیں ،خامنہ ای کے لئے لاکھوں لوگ ماتم کرتے نظر آئے ۔سڑکوں پر بغاوت نہیں بلکہ ایرانی سرکار کی حمایت کرتے نظر آئے اور انتقام لینے کے ارادے دکھائی دئیے ۔اقتدار ڈہا نہیں بلکہ ایران نے پورے مشرقی وسطیٰ کو ہلا دیا ۔اب ٹرمپ بھی سمجھ گئے ہیں کہ جنگ لمبی چلے گی ۔کچھ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اس جنگ کی تیاری ایران پچھلے 40 سال سے کررہا تھا ۔اور وہ لمبی لڑائی لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہیں دوسری طر ف امریکی فوجیوں کے باڈ ونگ امریکہ پہنچنے لگے ہیں ۔دیکھنا یہ ہوگا کہ اب یہ جنگ کیا رخ اختیار کرتی ہے ؟ اشارہ صاف ہے کہ یہ آگ اور پھیلنے والی ہے اور تباہی ہوگی ۔ (انل نریندر)

03 مارچ 2026

آیت علی خامنہ ای کی شہادت!

میں سب سے پہلے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو اپنی شردھانجلی پیش کرنا چاہتا ہوں ۔دنیا آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کو یاد رکھے گی ۔ان کی بہادری کی مثال شہادت کو ہر ذکر میں چھائی رہے گی ۔وہ یہ جانتے تھے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے نشانہ پر ہیں اور ان پر کسی بھی لمحے حملہ ہوسکتا ہے پھر بھی وہ تہران چھوڑ کر نہیں بھاگے نہ تو کسی بنکر بین شیلٹر میں گئے اور نہ ہی کسی خفیہ جگہ پر ۔وہ اپنے دفتر میں کا م کرتے ہوئے انہوں نے شہادت کو گلے لگانا چنا۔وہ اپنے دیش کے لئے قربان ہو گئے لیکن دشمن کے سامنے پیٹھ نہیں چھپائی ۔بیشک ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو خامنہ ای کو مار کر وینر ہونے کا دعویٰ کررہے ہوں لیکن انہوں نے خامنہ ای کا قتل کرکےبڑا خطرہ مول لے لیا ہے ۔خامنہ ای کی شہادت نے سارے ایران و اسلامی دنیا کو امریکہ اور اسرائیل کے خلا ف کھڑا کر دیا ہے اس کے نتیجے سامنے آنے بھی لگے ہیں ۔کویت یو اے ای ،قطر، بحرین پر ایرانی میزائلیں گررہی ہیں ۔یو اے ای تو اس آرٹیکل لکھنے تک 167 میزائلیں برسا چکا تھا ۔ایرانی پلٹوار کا قہر سب سے زیادہ یو اے ای پر ٹوٹا ۔یو اے ای کے وزارت دفاع نے کہا ایران کی جانب سے دیش کے کئی حصوں میں اب تک 165 بیلسٹک میزائل ،کروز میزائل اور 541 ایرانی ڈرون سے حملہ کیا جاچکا ہے ان میں سے 506 کو ہوا میں ہی روک کر تباہ کر دیا گیا جبکہ 35 دیش کے علاقہ میں گری ۔دبئی خاص طور پر نشانہ پر ہے کیوں کہ یہاں امریکی کمپنیوں کے ہیڈ کوارٹر ہیں اور ایران امریکہ کی اقتصادی طاقت کو بھاری نقصان پہنچاتا ہے ۔اس لئے وہ ایسی جگہوں پر حملہ کررہا ہے جہاں امریکہ کی سب سے بڑی کمپنیاں موجود ہیں ۔آیت اللہ علی خامنہ ای کی جانب کیسے گئے ؟ یہ سوال سب پوچھ رہے ہیں کیا کوئی موساد - سی آئی اے کا سلیپر ایجنٹ تھا جس نے پختہ جانکاری تھی کہ خامنہ ای اس وقت کہاں ہوں گے اور میٹنگ میں کون کون ہوگا ؟ بغیر کسی پختہ جانکاری کے یہ حملہ ممکن نہیں تھا ۔پھر سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ ایران کے ایئر ڈیفنس سسٹم کیا کررہے تھے ۔وہ اس میزائل یا کروز بموں کو انٹڑ سیپٹ کیوں نہیں کرسکا ۔کیا امریکہ نے ایران کے راڈار حملے سے پہلے ہی جام کر دئیے تھے ۔اسرائیل کے ایک ایف -35 فائٹر جیٹس نے ایران ایئر ڈیفنس کو ٹوہ لیتے ہوئے تہران میں اڈے بیت رہبری پیلیس پر 2000 کلو کے 40 بنکر بسر بم گرائے ۔یہ لیزر - گائیڈ دی ٹرینر ہیں یعنی پیلس کے اندر گراؤنڈ میں بھی چھپے خامنہ ای کو مار گرایاجاسکا ۔اسرائیلی فوج نے ریم پیج ڈیلیزا کروز میزائلوں سے بھی حملہ کیا ۔حملے میں وزیر دفاع عامر ناصر زادہ ،آرمی چیف عامر اور ریویوشنری گارڈس کے چیف محمد پاک پور سمیت تقریباً 40 اعلیٰ افسر اور مذہبی پیشوا مارے گئے ۔ذرائع کے مطابق ان سے تقریباً 15 لوگ خامنہ ای کے پیلیس میں ایک میٹنگ کے لئے جمع ہوئے تھے ۔امریکہ اور اسرائیل چاہتا ہے کہ ایران میں نظام یعنی عہد بدلے ۔دیکھنا یہ ہوگا کہ وہ اپنے اس مقصد میں کتنا کامیاب رہتا ہے ۔فی الحال تو ایران کی بدلے کی کاروائی سے بچنے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ایران تہران نے بڑی جوابی کاروائی میں کویت، قطر ،بحرین میں امریکہ کے کئی بڑے ملیٹری اڈوں پر بیلسٹک میزائل داغی ہیں ان میں بھاری نقصان کی خبر آئی ہے۔ سعودی عرب جارڈن میں بھی حملے کی خبر ہے ۔آیت اللہ علی خامنہ ای نے مرنے سے پہلے ہی دوسری لائن کھڑی کرکے گئے تھے ۔ایران میں حملے کے فوراً بعد ہی جوابی کاروائی شروع کر دی ہے ۔دیکھیں یہ جنگ آگے کتنی بڑھتی ہے ۔کہیں یہ تیسری جنگ عظیم کی شکل تو نہیں لیتی ؟ (انل نریندر)

28 فروری 2026

مودی کا اسرائیل دورہ اور عرب میڈیا!

وزیراعظم نریندرمودی کا اسرائیل دورہ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کے ساتھ ان کے رشتے اور اسرائیلی پارلیمنٹ میں دیا گیا ان کی تقریر ان سب کا تذکرہ عرب میڈیا میں خوب ہورہا ہے ۔عر ب میڈیا اس دورہ کو صرف بھارت -اسرائیل رشتوں کے طور پر نہیں بلکہ بڑے علاقائی سبھی اسباب کے طور پر پیش کررہے ہیں ۔کئی عرب تبصرہ نگاروں نے ذکر کیا ہے کہ یہاں تاریخی طور سے بھارت ٹو نیشن تھیوری کی بات کہتا ہے اور فلسطینی خطہ میں امن کی کوششوں کی حمایت کرتی ہے وہیں مودی کی لیڈر شپ میں وہ اسرائیل کے بےحد قریب آچکا ہے ۔عرب میڈیا اس بات پر بھی توجہ دے رہا ہے کہ بھارت کا موجودہ موقف اسرائیل اور فلسطینیوں کے رشتوں میں اس کے روایتی موقف سے الگ سمت میں جارہا ہے ۔جہاں پہلے بھارت کی خارجہ پالیسی میں اس بات پر زور تھا کہ اسرائیل اور فلسطینی اہمیت اور دونوں سے ہی برابر دوری بنائے رکھے گا ۔وہیں اب بھارت کی خارجہ پالیسی کے مرکز میں مفاد پر مبنی رشتے زیادہ اہم ہو گئے ہیں ۔عرب میڈیا کے مطابق بھارت اپنے پڑوسیوں سے کشیدگی بھرے رشتوں اور اپنی فوجی ضرورتوں کے پیش نظر اب وہ اسرائیل کے زیادہ نزدیک جارہا ہے ۔عرب میڈیا نے وزیراعظم مودی کے اس دورہ کا ذکر کے ساتھ ساتھ غزا میں اسرائیل پر لگے قتل عام کے الزامات کو بھی ہائی لائٹ کیا ہے ساتھ ہی بھارت کے اپوزیشن لیڈروں کی ان تبصروں کو بھی اپنی کوریج میں شامل کیا ہے جن میں وہ اسرائیل پر لگے ان الزامات کے مد نظر پی ایم مودی کے دورہ کی مخالفت کررہے ہیں ۔الجزیرہ کے اسرائیل -فلسطین معاملوں کے واقف کار اعظم عبدالادس کہتے ہیں کہ ہندوستانی وزیراعظم کا یہ دورہ گہرے حکمت عملی تبدیلی کی علامت ہیں ۔بھارت اسرائیل ساجھیداری اس خطہ میں ایک نئے علاقائی پولورائزیشن کو جنم دے گی ۔آنے والے وقت میں مشرقی وسطیٰ اور ایشیا کی سیاست میں بھارت اسرائیل کا اہم رول ہوگا ۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی اپنی تقریر میں بھارت کے ساتھ فوجی ساجھیداری کا اشارہ دیا ۔اس سے صاف ہے کہ اس سیکٹر میں پاکستان ،ترکی وسعودی عرب کے امکانی اتحاد کو چنوتی دینے کے لئے بھارت اور اسرائیل اتحادی ملکوں کے ان میں نزدیک آرہے ہیں ۔بھارت اسرائیل کے ساتھ اس گٹھ بندھن کو پاکستان کے ساتھ اپنے علاقائی رشتوں اور ایشیا میں اپنی فوجی ،ڈپلومیسی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔وہیں اخبار الجزیزہ نے مودی کے اسرائیلی پارلیمنٹ سینٹ میں دئیے گئے خطاب پر لکھا : غزہ میں اسرائیل پر قتل عام کے سنگین الزام کے باوجود بھارت نے اسرائیل سے یکجہتی دکھائی اور پی ایم مودی نے غزہ میں اسرائیل کے تباہ کن جنگ کا بچاؤ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے ۔بھارت نے اپنی سیاسی طاقت بڑھانے کے لئے مودی سرکار ہندو راشٹر واد کا سہارا لے رہی ہے ۔پی ایم مودی نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کا درد محسوس کرتے ہیں ۔آپ کا دکھ سمجھتے ہیں وجہ کوئی بھی ہو شہریوں کے قتل کو جائز نہیں ٹھہرایاجاسکتا ۔خلیجی جنگ میں بھارت میں نریندر مودی کے اس دورہ کا جن اپوزیشن لیڈروں نے مخالفت کی ہے اسے بھی کور کیا ہے اور کانگریس نیتا پرینکا گاندھی کے اس بیان کو جگہ دی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ پی ایم مودی اسرائیلی پارلیمنٹ میں اسرائیل کے غزہ میں کئے گئے قتل عام کا بھی ذکر کریں گے ۔لندن ویسٹ اینڈ دی عرب لکھتا ہے کہ مودی ایک کٹر ہندو راشٹر وادی نیتا ہے وہ دنیا میں ان چند لیڈروں میں شمار ہے جنہوں نے 7 اکتوبر کے حملے کے بعد سب سے پہلے اسرائیل کے ساتھ اتحاد دکھایا تھا لیکن بھارت ان 100 سے زیادہ ملکوں میں بھی شامل ہے جنہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے محدود اختیارات کو کمزور کرنے کے اسرائیل کی کوششوں کی مذمت کی ہے ۔اسرائیل جنگ کے وقت دورہ کا کیا یہ مطلب نکالاجائے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں بھاری تبدیلی آرہی ہے ۔بھارت کو اب عرب ملکوں کے رد عمل کی کوئی فکر نہیں ہے ؟ (انل نریندر)

26 فروری 2026

ٹرمپ کی دھمکی ،رمضان کی رونق !

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حملے کی مسلسل دھمکیوں کے درمیان ایران میں رمضان کو لے کر جوش میں کوئی کمی نہیں نظر آرہی ہے ۔مقامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق ایران کے اندر عام زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے ۔ادھر ایران سے ملحق علاقے میں امریکی فوج کی مسلسل بڑھتی تعیناتی اب صرف اشارہ دینے تک محدود نہیں لگتی بلکہ یہ حقیقت میں جنگ کے واضح اشارے ہیں ۔امریکی جنگی بیڑا یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس زیرلڈ فورڈ کے ایرانی آبی خطہ کے پاس پہنچنے سے حالات سنگین بنے ہوئے ہیں اس کے علاوہ سینکڑوں امریکی فائٹر جیٹ و دیگر ساز وسامان بھی اس علاقہ میں پچھلے کچھ دنوں سے لائے گئے ہیں ۔اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ امریکہ -اسرائیل یہاں کئی سطحوں پر فوجی کاروائی کے لئے متبادل تیار کررہا ہے ۔ایران میں یہ نظریہ مضبوطی ہوتا جارہا ہے کہ ٹرمپ اپنی بات منوانے کے لئے فوجی دباؤ بنا رہا ہے ۔جنگ کی آہٹ کے باوجود ایران میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نظر آرہا ہے ۔مساجد میں خصوصی نماز و افتار پارٹیاں ، تراویح صدقہ و فطرہ اہمیت سے بٹ رہا ہے ۔اسلای رپبلکن نیوز ایجنسی نے رمضان کے موقع پر صدر مسعود زیششکین کا پیغام نشر کیا ہے ۔انہوں نے اس مہینے کو آتم چنتن اور اتحاد کا وقت بتایا ۔انہوں نے کہا کہ دنیا کی طاقتیں ہمیں اپنا سر جھکانے کے لئے سازش کررہی ہیں ۔۔لیکن وہ ہمارے لئے جو بھی پریشانیاں پیدا کریں ، ہم اپنا سر نہیں جھکائیں گے ۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکہ کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ حملہ کرتا ہے تو اس سے مغربی ایشیا میں ایک علاقائی جنگ چھڑسکتی ہے۔ ساری کشیدگی اور زیادہ بڑھ سکتی ہے ۔خامنہ ای نے کہا کہ ایران اکسانے کی پالیسی نہیں اپناتا لیکن انہوں نے صاف کیا کہ ایرانی ملک پر اگر کوئی حملہ یا اذیت پہنچائی گئی تو ایران ایسا سخت جواب دے گا جس کا امریکہ -اسرائیل کو اندازہ نہیں ۔ہم پر کوئی بھی شرارت ہو چاہے وہ لمٹڈ اسٹرائک ہی کیوں نہ لیکن اس کا پوری طاقت سے جواب دیں گے ۔وسطی مشرق کی تمام امریکی فوجی ساز وسامان سمیت ان کے جنگی بیڑے بھی محفوظ نہیں رہیں گے ۔اُدھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار اپنی شرطیں بدل رہے ہیں پہلے انہوں نے تین شرطیں رکھی تھیں : ایران اپنا نیوکلیائی پروگرام ختم کرے ، اپنی میزائلوں کی پروڈکشن اور صلاحیت کم کرے اور تمام اپنے پروکسیوں کی حمایت بند کرے ۔ایران سے امریکہ کی اس سلسلے میں دو بار جین ورب والی بات چیت ناکام ہو چکی ہے ۔اب تیسری اور آخری دور کی بات ہورہی ہے ۔ا س درمیان ڈونلڈ ٹرمپ نے اب کہا ہے کہ ایران میں اقتدار تبدیل سے بہتر کچھ ہو ہی نہیں سکتا ۔امریکہ ان چاروں طریقوں سے ایران کو گھیرنے کی جنگی پالیسی پر کام کررہا ہے ۔جنگی جہازوں کی تعیناتی بحر عرب میں تعینات امریکہ کے بڑے جنگی بردار بیڑوں کو گھیرنے کی ہے ۔پہلے بڑی تعداد میں ڈریکس سے جہازوں کی حفاظت سسٹم کو الجھائیں گے ، تاکہ میزائل کو روکنے میں کامیاب رہیں : دوسری خلیج کے ملکوں میں موجود امریکی 19 اڈوں پر قریب 50 ہزار فوجی کسی بھی وقت حملے میں حصہ لے سکتے ہیں ۔ حالانکہ یہی فوجی ایران کے نشانہ پر بھی ہوں گے ۔تیسرا تیل سپلائی روکنا امریکہ اس کوشش میں ہے کہ ایران کسی بھی دیش کو اپنے یہاں سے تیل کی سپلائی نہ کر سکے تاکہ اس کی مالی حالت بگڑے ۔اس نے بھارت پر بھی دباؤ ڈالا ہے کہ بھارت ایران سے تیل لینا بند کرے ۔اس درمیان اسرائیل سے ایک غیر مصدقہ خبر سوشل میڈیا میں چل رہی ہے کہ اسرائیل نے اب وارننگ دی ہے کہ اگر اس کے وجود پر خطرہ ہوا تو وہ ایسے ہتھیار چلائے گا جو ابھی تک استعمال نہیں ہوئے ۔اشارہ صاف ہے کہ نیوکلیائی بم کا استعمال بھی کر سکتا ہے۔ کل ملا کر بڑی دھماکہ خیز حالت بنی ہوئی ہے ۔امید کی جاتی ہے کہ جنگ ٹلے کیوں کہ یہ اگر ہوتی ہے تو اس کا اثر پوری دنیا پر پڑ سکتا ہے ۔ (انل نریندر)

24 فروری 2026

فیصلہ ٹرمپ کےٹیرف منسوخ کرنے کا !

ماننا پڑے گا کہ امریکہ میں آج بھی جمہوریت زندہ ہے ۔آئین بالاتر ہے ۔امریکہ کی سپریم کورٹ نے دکھا دیا کہ وہ آئین کی حفاظت کرنے میں کسی کے سامنے نہ تو جھکنے کو تیار ہے اور نہ ہی کسی دباؤ میں آئے گی چاہے وہ امریکہ کے صدر کیوں نہ ہوں ۔امریکی سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز فیصلہ سنایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ورلڈ ٹیرف غیر آئینی ہے۔ امریکہ کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جون رابرٹرس نے فیصلہ 6/3کی اکثریت سے دیا یعنی 6 ججوں نے ٹیرف کو ناجائز بتایا اور 3 اس سے غیر متفق تھے ۔ٹرمپ امریکی ٹریڈ معاہدوں کو نئے سرے سے کرنے کے لئے دنیا بھر میں ٹیرف کا دباؤ بنانے کے لئے استعمال کررہے تھے۔ یہ پہلی بار ہے جب سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے دوسرے عہد کی کسی پالیسی کو فیصلہ کن طور سے منسوخ کیا ہے ۔دیگر سیکٹروں میں عدالت کے کنزرویٹو اکثریت نے اب تک ٹرمپ کو نگراں پاور س کے وسیع استعمال کی چھوٹ دی تھی ۔اس بار سپریم کورٹ میں چھ ججوں کی اکثریت تین کنزرویٹو اور تین لبرل نے کہا کہ بغیر کانگریس (امریکی پارلیمنٹ ) کی واضح اجازت کے اتنے وسیع ٹیرف لاگو کر ٹرمپ نے حد پار کی ہے۔ عدالت نے ٹرمپ کی اس دلیل کو مسترد کر دیا کہ 1977 کا قانون انٹرچنجنل ایمرجنسی اکنامک پاور س ایکٹ ، درپردہ طور سے ٹیرف کی اجازت دیتا ہے ۔جسٹس رابرٹس نے کہا کہ صدر جس اختیار کا دعویٰ کررہے ہیں وہ کسی بھی پیمانہ پر حد سے باہر کا تھا ۔چیف جسٹس نے فیصلے میں لکھا ہے ،اگر کانگریس ٹیر ف لگانے جیسی غیر معمولی اختیار دینا چاہتی ہے تو وہ صاف طور سے کر سکتی ہے ۔انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کو قانونی دلیلوں کو قبول کرنا اور ٹریڈ پالیسی پر ایگزیکٹو اور آئین سازیہ کے لمبے اشتراک کو ختم کر صدر کو بے کنٹرول طاقت دینا ہوگا ۔ٹرمپ کے ٹیرف کو ناجاز بتانے کے فیصلے سے تین کنزرویٹو جج کلیرش تھامس ،سیموئل الیٹو اور بریٹ کیدنو نے رضامندی جتائی ۔ٹرمپ نے ان تینوں ججوں کی تعریف بھی کی ہے ۔کیدنونے کہا کہ کئی قانون صدور کے ٹیرف اور درآمدات پر پابندی لگانے کی اجازت دیتے ہیں ۔ان کے مطابق 1977 کا قانون نیشنل ایمرجنسی کے دوران غیر ملکی خطروں سے نمٹنے کے لئے صدر کو اجازت دیتے ہیں ۔اِدھر ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس میں فیصلے کو خطرناک اور مضحکہ خیز بتایا اور کہا کہ وہ عدالت کے کچھ ممبران سے شرمندہ ہیں ۔انہوں نے کہا یہ فیصلہ غلط ہے ۔لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، کیوں کہ ہمارے پاس بہت طاقتور متبادل موجود ہے ۔ٹرمپ کے پاس دو بڑے متبادل ہیں ۔پہلا: ٹرمپ امریکی کانگریس یعنی نمائندہ ہاؤس اور سینٹ میں ٹیرف کی تجویز کو پاس کرانے کے لئے رکھ سکتے ہیں ۔435 ممبری ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کی رپبلکن 218 جبکہ اپوزیشن ڈیموکریٹ 213 ممبران ہیں جبکہ 100 کی سینٹ میں رپبلکن 53 اور ڈیموکریٹ 47 ہیں ۔ٹیرف کے خلاف سینٹ میں دیکھا جائے تو ٹرمپ کو پارلیمنٹ میں اکثریت ہے اور ٹیرف کو رکھنے سے شاید پرہیز کریں ۔دیگر تقاضے لاگو کر سکتے ہیں ۔لیکن لمبی کاروائی ہوگی ۔ٹرمپ امریکی آئین کی دفعہ 301 کے تحت ٹیرف قانون کو لاگو کر سکتے ہیں ۔صدر سیکورٹی کے تحت ٹیرف کو جائز ٹھہرایاجاتا ہے ۔ٹرمپ نے چین اور کنیڈا اور میکسیکو پر انہیں تقاضوں کے تحت ٹیرف لگایا تھا حالانکہ انہیں تقاضوں کو بھی کورٹ میں چنوتی دی جاسکتی ہے ۔ٹرمپ نے بھی اعلان کر دیا ہے کہ وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔جمعہ کی رات انہوں نے کہا دیگر قانونی اختیارات کی بنیاد پر کیا 10 فیصد ورلڈ ٹیرف لگانے کے حکم پر دستخط کر دئیے ہیں ۔ٹرمپ نے کہا ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے ہم اور زیادہ پونجی اکٹھا کریں گے دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے ۔ساری دنیا میں اب ریفنڈ کی مانگ اٹھنی شروع ہو گئی ہے ۔آگے آگے دیکھتے ہیں ہوتا ہے کیا ؟ (انل نریندر)

21 فروری 2026

اجیت پوار طیارہ حادثہ!

مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ اجیت دادا پوار کے طیارہ حادثہ کے قریب 20 دن بعد ان کے بیٹےنے چُپّی توڑی ۔چھوٹے بیٹےجے پوار نے ایک بے حد جذباتی پوسٹ کے ذریعے جانچ پر سنگین سوال کھڑے کئے ہیں ۔انہوں نے سیدھے طور پر کہا کہ طیارہ کا بلیک باکس اتنی آسانی سے ضائع ہونے والی چیز نہیں ہے ۔بتادیں کہ کسی بھی طیارہ حادثہ میں جب سب کچھ ضائع ہوجاتا ہے تو اس کے اندر بلیک باکس نہ تو آگ سے اور نہ پانی سے زمین پر گرنے سے ،دھماکہ سے ضائع نہیںہوتا ۔20 برسوں تک وہ محفوظ رہتا ہے ۔جے پوار نے صاف طور پر کہا ہے کہ بلیک باکس اتنی آسانی سے ضائع ہونے والی چیز نہیں ہے۔ جیسا کہ دعویٰ کیاجارہا ہے ۔جنتا کو سچ جاننے کاحق ہے ۔جے پوار نے سسٹم کو کٹھ گھرے میں کھڑا کیا ہے۔انہوں نے لکھا کہ طیارہ حادثہ میں بلیک باکس آسانی سے ضائع نہیں ہوسکتے۔مہاراشٹر کی عوام کو اس دل دہلا دینے والے حادثہ کا پورا اور صاف ستھرا اور بلا تنازعہ سچائی جاننے کا حق ہے ۔جے پوار نے جہاز کی کمپنی وی ایس آر کے خلاف فوراً سخت قدم اٹھانے کی مانگ کی ہے ۔اس کمپنی کے اڑانے اور کنٹرول کرنے پر فوری پابندی لگائی جانی چاہیے ۔اگر جہازوں کے دیکھ بھال میں ہوئی متعلقہ بے ضابطگیوں کی آزادانہ جانچ ہونی چاہیے ۔پوسٹ کے آخر میں انہوں نے بے حد جذباتی ہو کر لکھا : مس یو ڈیڈ ۔ادھر اجیت پوار کے بھتیجے اور ممبر اسمبلی روہت پوار نے کہا کہ اجیت دادا پوار کی اچانک موت میں سازش کا اندیشہ ہے ۔روہت پوار نے ممبئی میں دعویٰ کیا کہ کئی ذرائع سے مفصل معلومات اکٹھی کرنے کے بعد وہ پریس کانفرنس کررہے ہیں اس میں روہت پوار نے کہا کہ انہیں ایئر لائنس کمپنی وی ایس آر بکنگ سنبھالنے والی کمپنی ایرو اور پائلٹ سمت کپور پر شبہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ انہیں اس معاملے میں جانکاری اس لئے اکٹھی کرنی پڑی کیوں کہ جانچ ایجنسیاں بہت دھیمی رفتار سے کام کررہی ہیں ۔اجیت دادا پوار کے پریوار اور این سی پی نے اب اس معاملے کی سی بی آئی جانچ کی مانگ تیزکر دی ہے نائب وزیراعلیٰ سمترا پوار نے وزیراعلیٰ دیوندر فڑنویس سے مل کر اس معاملے میں اعلیٰ سطحی جانچ کی درخواست دی ہے ۔پرفل پٹیل، سنل تٹکرے اور پارتھ پوار جیسی ہستیوں کی موجودگی میں سرکار سے مانگ کی ہے ۔اس حادثہ کے پیچھے کی ہر سازش یا لاپرواہی کا پردہ فاش ہونا چاہیے ۔ان کا سیدھا نشانہ اس جہاز رانی کمپنی پر ہے جس کا طیارہ اس حادثہ کا شکار ہوا ۔الزام لگ رہا ہے کہ کیا جہاز کی سروسنگ او ر سیکورٹی پیمانوں میں کوئی کمی برتی گئی تھی ؟ 28 جنوری کو ہوئے اس حادثہ میں اجیت پوار سمیت پانچ لوگوں نے اپنی جان گنوائی ۔اس واقعہ کے بعد سے ہی یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ عام ایک حادثہ یا کوئی گہری سازش ؟ محترم اجیت دادا پوار کی اچانک موت سے پورے مہاراشٹر کو گہرا دھکا لگا ہے یہ کہنا ہے ایم پی سپریہ سلے کا این سی پی گروپ نے مانگ کی ہے کہ اس حادثہ کی جانچ پوری ہونے تک وزیر جہاز رانی کے رام موہن نائیڈو کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا جائے ۔ہمارا بھی یہی خیال ہے کہ ا س معاملے کی منصفانہ آزادانہ جانچ ضروری ہے تاکہ حادثہ کے اسباب کا صاف پتہ چلے لیکن ایسا ہوگا کیا ؟  (انل نریندر)

19 فروری 2026

نکھل گپتا کو ہوسکتی ہے 40 سال کی جیل!


ایک ہندوستانی شخص نے جمعہ کو نیویارک میں علیحدگی پسند لیڈر گرو پنتھ سنگھ پنو ںکے 2023 میں قتل کی ناکام سازش رچنے کے الزام میں قصور قبول کر لیا ہے ۔پتہ نہیں پچھلے کچھ دنوں سے بھارت اور امریکہ کے ستارے ٹکرا رہے ہیں ۔ایک کے بعدا یک نئی پریشانی کھڑی ہوتی جارہی ہے ، پہلے گوتم اڈانی کا معاملہ پھنسا پھر بھارت -امریکہ ٹریڈ ڈیل پر تنازعہ کھڑا ہوگیا اور اب پنوں کے قتل کی سازش میں معاملہ پھنس گیا ہے ۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمس نے لکھا ہے کہ یہ اس معاملے میں پہلا جرم قبول کیا گیا ہے جسے کنیڈا اور امریکہ کے حکام نے بھارت سرکار کی جانب سے حریفوں کے قتل کی مہم سے جڑابتایا تھا ۔امریکہ میں ہندوستانی نژاد کے نکھل گپتا ، علیحدگی پسند لیڈر گروپنتھ سنگھ پنوں کے قتل کی مبینہ سازش تیار معاملے میں اپنا جرم قبول کرلیا ہے۔ اس معاملے کی سماعت نیویار ک کی ایک عدالت میں ہورہی ہے ۔اٹارنی جنرل کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق نکھل گپتا نے قتل کے لئے سپاری دینے ،قتل کی سازش تیاری کے ساتھ ہی منی لانڈرنگ کی سازش سے جڑے تینوں الزامات کو بھی قبول کر لیا ہے ۔گپتا کو 26 مئی کو سزا سنائی جائے گی ۔ امریکہ میں ان تینوں الزامات میں ملوث طور پر 40 سال کی سزا ہوسکتی ہے۔ گپتا کو 30 جون 2023 کو چیک رپبلک سے گرفتار کیا گیا تھا ۔بعد میں اس کی حوالگی کرائی گئی ۔الزام ہے کہ نکھل گپتا نے سازش ہندوستانی سرکاری ملازم رہے وکاس یادو کے کہنے پر رچی تھی اس سلسلے میں وکاس یادو کو سی سی کہہ کر مخاطب کیا گیا ۔اس سلسلے میں مارچ 2025 میں ہی وزارت خارجہ سے کہا تھا کہ وہ( وکاس یادو )اب بھارت سرکار کے ملازم نہیں ہیں ۔ چارج شیٹ کے مطابق ، 2023 میں یادو نے گپتا کو قتل کا کام سونپا تھا ۔یادو کے کہنے پر گپتا نے ایک ایسے شخص سے رابطہ قائم کیا جو اصلیت میں امریکی جانچ ایجنسی سی آئی اے کا ہی انڈر کور ایجنٹ تھا ۔وکاس یادو نے ایک ساتھی کے ذریعے اس ہٹ مین کو ایڈوانس کے طور پر 15 ہزار ڈالر دیے ۔2023 میں ہی وزارت خارجہ نے کہا تھا نکھل گپتا کو تین بار چیک جمہوریہ میں کونسلیٹ مدد دی گئی ۔یوں تو معاملہ امریکہ میں 2023 سے چھایا ہوا ہے، لیکن اس معاملے میں اس حالیہ واردات کی ٹائمنگ کو بھی اہم ماناجارہا ہے ۔جب بھار ت اور امریکہ کے تعلقات بہت صحیح نہیں ہیںاور دونوں دیشوں کے درمیان ٹریڈ ڈیل کو لے کر ایک تجارتی انترم سمجھوتہ کو اگلے مہینے تک قطعی شکل دینے کی امید ہے ۔ایسے میں بھارت کے لئے آگے کی راہ آسان نہیں نظر آتی ۔محکمہ انصاف نے پنوں کے قتل کو سازش اور 18 جولائی کو کنیڈا میں خالصتانی شخص نجر کے قتل سے بیچ میں لنک جوڑے ۔ایف بی آئی کے ڈائرکٹر رومن روز ہارٹ سونی نے کہا کہ امریکی شہری صرف بولنے کی آزادی کا سوال کرنے کے لئے ٹرانس نیشنل ریپریشن نشانہ بنا ۔یعنی اذیت کے لئے کسی دوسرے دیش کی سرزمین کا استعمال کی سازش ہے ۔اس لفظ کا استعمال کنیڈائی حکام نے کنیڈا میں نجر کے قتل پر کیا تھا ۔بھار ت سرکار کے اشارے پر کی گئی بتایا گیاہے ۔جسے بھار ت سرے سے خارج کر چکا ہے۔ بھارت میں پچھلے 7 نومبرمیں امریکہ کی جانب سے اٹھائی گئی سیکورٹی تشویشات پر غور کرنے کے لئے ایک اعلیٰ سطحی جانچ ایجنسی تشکیل دی گئی تھی ۔اکتوبر 2024 میں ہندوستانی وزارت خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ پنوں کے خلاف ناکام قتل کی سازش سے جڑے محکمہ انصاف کے مقدمہ میں جس شخص (وکاس یادو) کا نام سامنے آیاتھا ۔وہ اب بھارت سرکار کا ملازم نہیں ہے ۔بنیادی طور سے کمیشن میں سرکاری افسر کو سی سی کہا گیا ۔اکتوبر 2024 میں ہی امریکی حکام نے دوسرا ترمیم مقدمہ سامنے پیش کیا ۔جس میں سی سی کی پہچان وکاس یادو کے طور پر کی گئی ۔بعد میں وزارت خارجہ نے کہا کہ ہمیں مطلع کیا گیا مقدمہ میں تذکرہ شدہ شخص اب بھارت میں کام نہیں کرتا ہے ۔ ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ اب وہ بھارت سرکار کے ملازم نہیں ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ نکھل گپتا کے خلاف امریکی عدالت میں کیس آگے کیسے بڑھتا ہے ۔یہ دیکھنا ہوگا کہ وکاس یادو کو لے کر امریکہ بھارت پر کتنا دباؤ بناتا ہے اور بھار ت سرکار آگے کیا کرے گی؟ 
(انل نریندر)

سیز فائر اور جنگ

ایک طرف تو امریکہ ایران کے درمیان کہنے کے تو سیز فائر یعنی جنگ بندی چل رہی ہے ۔وہیں دوسری طرف جنگ بھی جاری ہے ۔یہ سیز فائر اپنی سمجھ سے تو ب...