Translater

05 اگست 2016

آنندی بین کے استعفیٰ سے اٹھے سوال

گجرات کی وزیراعلی آنندی بین پٹیل نے بدھوار کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے جو گورنر او پی کوہلی نے منظور بھی کرلیا ہے۔ گجرات بھاجپا اسمبلی پارٹی کی میٹنگ میں ان کے جانشین کا انتخاب ہونے کا امکان ہے۔ آنندی بین نے استعفیٰ کیوں دیا ہے یہ سوال سیاسی گلیاروں میں پوچھا جارہا ہے۔ اس کی وجہ ان کی عمر75 سال ہونا بتایا جاتا ہے۔ وہ 21 نومبر کو پارٹی کے ذریعے مقرر عمر حد میں داخل ہورہی ہیں یا پھرسیاسی حالات اور دلتوں کی ناراضگی اور پٹیلوں میں بھاری غصہ رہا؟ دلت ناراضگی کا اثر بھاجپا کو اترپردیش اور پنجاب میں بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے جہاں چناؤ گجرات اسمبلی سے پہلے ہونا ہیں۔ دراصل جب نریندر مودی بھارت کے وزیر اعظم بنے تو انہوں نے اپنے جانشین کے طور پر آنندی بین کو سب سے موضوع مانا تھا لیکن پہلے پارٹی دار آندولن اور بعد میں گؤ رکشا کے دلتوں پر مبینہ مظالم سے جیسے ردعمل سامنے آئے ہیں اس سے یہ پیغام گیا ہے کہ وہ حالات سنبھالنے میں اہل نہیں ہیں، اسی سے مبینہ طور پر بھاجپا لیڈرشپ بھی چناؤسے پہلے ان کے بدلے کسی اور کو ذمہ داری دینے کے حق میں تھی۔ ویسے آنندی بین خیمے کے مطابق تو ریاست کے وزیر اور افسر پچھلے کچھ عرصے سے سیدھے امت شاہ سے ہدایت لینے میں لگے تھے۔ اس لئے ان کا راج کاج چلانا مشکل ہوگیا تھا۔یہ ہی نہیں ان کے خیمے میں یہی مانا جارہا ہے کہ پاٹی دار آندولن اور دلت ناراضگی کو ہوا دینے میں بھی پارٹی کی اندرونی رسہ کشی ایک بڑی وجہ تھی۔ دراصل آر ایس ایس بھی آنندی بین اس تجربے سے اکتا گئی تھیں۔گجرات میں آج بھاجپا کی حالت انتہائی خراب ہے۔آر ایس ایس کا کہنا ہے کہ اگر اس وقت گجرات میں اسمبلی چناؤ ہوتے ہیں تو بی جے پی کو 182 میں سے 60-65 سیٹیں ہی ملیں گی۔ یہ بات بی جے پی اور آر ایس ایس کے سروے سے نکل کر سامنے آئی ہے۔ یہ سروے گجرات میں پھیلے دلت آندولن کے بعد کیا گیا ہے۔ اونا میں مری گائے کی کھال اتارنے پر دلت لڑکوں کی پٹائی کے خلاف گجرات میں دو ہفتوں سے دلت مظاہرے کررہے ہیں۔ سروے کو سنگھ کے ان بنیادی کمپینروں نے انجام دیا ہے جن لوگوں سے فیڈ بیک لینے کی ٹریننگ دی گئی اس میں ہندو ووٹوں کا پولارائزیشن بی جے پی کی طرف بتایا گیا ہے تو کہا گیا ہے کہ دلت ان سے دور جارہے ہیں۔ آج کے گجرات کے حالات بھاجپا کے لئے انتہائی باعث تشویش بنے ہوئے ہیں۔ گجرات دونوں وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ آبائی ریاست ہونے کے ناطے دونوں ہی اس پر اپنی مضبوط پکڑ بنائے رکھنا چاہتے ہیں اور آنندی بین نے انہیں مایوسی کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کا جانشین پارٹی کو کتنا ابھارسکتا ہے۔ نئے وزیر اعلی کو ریاست میں مختلف طبقات کی ناراضگی دور کرنے کے ساتھ ساتھ پارٹی میں نئے سرے سے روح پھونکنی ہوگی۔
(انل نریندر)

سرکاری بنگلے خالی کریں لیڈر صاحبان

سپریم کورٹ نے پیر کے روز ایک اور تاریخی اور دور اندیش اثر ڈالنے والا فیصلہ لیا ہے۔ عدالت نے ہذا نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ریاستوں کے سابق وزرائے اعلی کو سرکاری مکان میں جمے رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے اترپردیش سرکار کے ذریعے بنائے گئے اس قاعدے کو بھی منسوخ کردیا جس میں ریاست کے سابق وزرائے اعلی کو تاعمر سرکاری مکان دینے کی سہولت دی گئی تھی۔ اس فہرست میں کلیان سنگھ، نارائن دت تیواری اور رام نریش یادو بھی شامل ہیں۔ بڑی عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ کسی ادارے یا ٹرسٹ کو اگر ٹوکن کرایہ یعنی (ایک روپیہ) سرکاری پراپرٹی دی گئی ہو تو اسے بھی انصاف پر مبنی نہیں مانا جاسکتا۔ صدر ، نائب صدر، وزیر اعظم کو ہی عہد کے بعد بھی سرکاری رہائش دینے کی سہولت ہے۔ جسٹس انل آر دوے اور جسٹس این ۔وی رمن اور جسٹس بھانومتی کی بنچ نے یوپی سرکار کے سابق وزیر اعلی رہائش الاٹمنٹ قاعدہ1997 کو قانون کے مطابق غلط بتایا ہے۔ عدالت نے ان سبھی کو نہ صرف دو ماہ کے اندر سرکاری مکان خالی کرنے کا حکم دیا ہے بلکہ جتنے وقت تک ان لوگوں نے ناجائز طریقے سے سرکاری رہائشگاہ پر قبضہ بنائے رکھا تھا اس کا کرایہ بھی وصولہ جائے گا۔ فیصلے کی زبان سے صاف ہے اس کا اثر صرف یوپی تک محدود نہیں رہے گا۔ بھلے ہی عدالت نے اپنے فیصلے میں دیگر ریاستوں کا کوئی ذکر نہ کیا ہو لیکن کیونکہ اس نے ایک فیصلہ دیا ہے اس لئے کسی بھی ریاست کے سابق وزیر اعلی اب سرکاری رہائشگاہ کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ اپنے دیش میں اس طرح کے فیصلے بڑی عدالتوں کو کرنے پڑتے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہماری سیاست کیسے اپنی آنکھ کان کھوچکی ہے۔ بہار میں نتیش کمار کے پاس ایک بنگلہ وزیر اعلی کی حیثیت ہے تو دوسرا سابق وزیر اعلی کی حیثیت سے ہے۔ اسی طرح چھتیس گڑھ میں اجیت جوگی بھی سابق وزیر اعلی کی حیثیت سے سرکاری بنگلہ میں برسوں سے رہ رہے ہیں۔ مدھیہ پردیش میں تو سابق وزیر اعلی نہ صرف سرکاری بنگلوں کا آرام اٹھا رہے ہیں بلکہ کیبنٹ وزیر کا درجہ حاصل کئے گئے لوگ بھی اس کا فائدہ اٹھانے میں لگے ہیں۔ دہلی میں ایسے نیتاؤں اور افسروں کی بھرمار ہے جو ایک بار کسی اہم عہدے پر پہنچ جانے کے بعد سرکاری بنگلوں کو چھوڑنا کا نام نہیں لیتے۔ ان کی موت کے بعد بھی ان کے رشتے دار کسی نہ کسی بہانے ان پر قابض ہیں۔ یہ سیاستداں سرکاری بنگلوں و دیگر سہولیات اور خاص طور پر سکیورٹی صرف اس لئے برقرار رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ان کا رتبہ بنا رہے۔ اس رتبے کی بھاری قیمت سرکاری خزاے کو بھگتنی پڑتی ہے۔ اچھا تو یہ ہوگا کہ سپریم کورٹ کے اس حکم کے بعد نیتاؤں کی وہ سبھی سہولیات چھینی جائیں جن کے وہ حقدار نہیں ہیں۔ یہ بھی یقینی کرنا ہوگا کہ قاعدوں میں چھچھوندر نہ تلاش کئے جائیں۔
(انل نریندر)

04 اگست 2016

ہائی وے پر وحشی واردات ودرندگی

قومی شاہراہ 91 پر بلند شہر کے قریب کارسوار خاندان کو یرغمال بنا کر ماں بیٹی کے ساتھ اجتماعی بدفعلی کے واقعہ کو کیا کہا جائے؟ شرمناک، مذمت یا درندگی یا رقابت، درندگی کی حد، رونگٹے کھڑے کرنے والی یہ واردات جنگل راج نہیں، بلکہ بربریت آمیز جنگل راج جیسے حالات پیدا کرتی ہے۔ حیرت میں ڈالنے والی یہ واردات اترپردیش میں لاء اینڈ آرڈر کے شرمناک صورتحال کو بیان کرتی ہے۔ یہ واردات بتاتی ہے کہ صوبے میں درندے کرتنے بے خوف ہیں کہ وہ غمزہ خاندان کے ساتھ بربریت کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ جس خاندان کے ساتھ یہ واردات ہوئی وہ اپنے رشتے دار کی تیرہویں میں شامل ہونے کے لئے شاہجہان پور جا رہا تھا لیکن بلندشہرضلع ہیڈ کوارٹر سے محض کچھ کلو میٹر دوری پر ہی کچھ بدمعاشوں نے لوہے کا ایک ٹکڑا پھینک کر ان کی گاڑی کو روک لیا اور پھر مردوں کو یرغمال بنا کر ماں بیٹی کے ساتھ بربریت کی یہ واردات انجام دی۔ یہ واردات اس ریاست کی ہے جہاں کچھ مہینوں بعد اسمبلی چناؤ ہونے والے ہیں۔ یہ معاملہ لاپرواہی سے زیادہ لاپرواہ پولیس مشینری اور جان بوجھ کر بے سمت سرکار کا ہے۔ اترپردیش میں تقریباً ہر مہینے ہونے والے ریپ کی وارداتیں یہ ظاہرکرتی ہیں کہ یہاں کے جرائم پیشہ کو نہ تو پولیس کا کوئی ڈر ہے اور نہ ہی انتظامیہ کا۔ دوہرائی جانی والی وارداتیں یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ ان جرائم پیشہ کے حوصلہ پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا ہے۔ بیشک وزیر اعلی اکھلیش یادو نے پولیس کو سخت کارروائی کرنے کے احکامات دئے ہیں لیکن یہ بات کئی بار دوہرائی جا چکی ہے کہ ان کی سرکار لا اینڈ آرڈر کے معاملے میں لچر ثابت ہوئی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ایسے گھناؤنے جرائم صرف اترپردیش میں ہی ہوتے ہیں دہلی اور بہار سمیت دیگر ریاستوں میں بھی ہوتے ہیں لیکن اترپردیش میں ہو رہے جرائم کا گراف بڑھتا جارہا ہے۔ ہر واردات جرائم پیشہ کی دبنگی اور ذہنیت اور پولیس کی لاچاری زیادہ بتاتی ہے۔ مخالف اس کی دو وجہ بتاتے ہیں۔ سرکار میں ایک خاص ذات کی بالادستی ہونے کے بعد اس ذات کے جرائم پیشہ کے حوصلے بڑھ جاتے ہیں۔ پولیس بھی ان کے ذریعے ان کے آقاؤں کو ساتھ لیکر نوکری بچانے اور پرموشن پانے تو کبھی ذاتی فائدے کے لئے ساتھی بن جاتی ہے۔ سپا حکومت کو اس پر ضرور غور کرنا چاہئے۔ ان کے عہد میں پولیس پر سوال کیوں اٹھتے ہیں؟ آخر ایسا کیسے ممکن ہے کہ بدمعاشوں کا ایک گروہ قومی شاہراہ سے ایک خاندان کو بندوق کی نوک پر یرغمال بنالے اور ناپاک منصوبوں کو انجام دیتا رہے اور پولیس کو کئی گھنٹوں تو خبر نہ لگے؟ صوبے کے چیف سکریٹری انل کمار گپتا کے اس تبصرہ پرغور کرنا چاہئے۔ پولیس جب صرف کاغذوں پر مستعد یا گشت کرتی رہے گی تو ایسی وارداتوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ وارداتیں بتاتی ہیں کہ اترپردیش میں جرائم پیشہ میں نہ توپولیس کا ڈر ہے اور نہ انتظامیہ کا اور نہ ہی قانون کا۔ جب نیشنل ہائی وے پر یہ حال ہے تو صوبے کے دور دراز علاقوں میں کیا حال ہوگااس کا تصور کرنا مشکل نہیں۔
(انل نریندر)

بارش نہ ہو تو مصیبت ہو توتباہی

عجیب مسئلہ ہے بارش نہ ہو تو مصیبت اور ہو تو مصیبت۔ مسلسل خوشک سالی سے پریشان دیش بارش کے لئے نگاہ لگائے ہوئے تھے، لیکن بارش ہوئی بھی توشہروں سے لیکر دور دراز گاؤں میں ہائے توبہ مچ گئی۔ بہار ، آسام جیسی ریاستی سیلاب سے عموماً متاثر ہونے والے علاقے تو پریشان ہیں وہیں جو ہمارے پلانروں کی ترجیحات میں شاید ہی کبھی آ پائیں۔ تمام طرح کی اسکیموں کے مرکز میں رہنے والے ، ترقی کی آہٹ سے چمکتے شہروں میں بھی ہائے توبہ مچی ہوئی ہے۔ ممبئی ، چنئی، بنگلورو بارش سے بے حال ہیں تو گوڑ گاؤں و دہلی بھی سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے پست ہوجاتی ہے۔ سب سے برا حال تو ملینیم سٹی نام سے مشہور نئے ڈیولپمنٹ یافتہ شہر گوڑ گاؤں کا ہوا ہے جسے حال ہی میں ہریانہ سرکار نے گورو گرام کا نام دیا ہے۔ وہاں دو گھنٹے جم کر بارش کیا ہوئی کہ 10 گھنٹے تک گاڑیوں کا جام لگ گیا۔ لوگ شام 4 بجے دہلی کے لئے روانہ ہوئے اور پہنچے اگلے دن صبح۔ سارے کام دھندے ٹھپ ہوگئے لیکن جو ہوا وہ ایک دم حیرانی کا باعث نہیں ہے۔ جس طرح سے شہر بن رہا ہے اس میں بنیادی ڈھانچے سے وابستہ کئی اہم باتوں کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ مثلاً پانی کی نکاسی، اس لئے مانسون کے دنوں میں سڑکوں پر اکثر پانی بھر جاتا ہے اور اس کے چلتے آمدورفت رک جاتی ہے۔ گوڑ گاؤں میں بھی جام لگنے کی بنیادی وجہ یہی تھی لیکن یہ کوئی عام جام نہیں تھا۔ یہ ایسا جام تھا جو اس میں پھنسے لوگوں کیلئے کسی قہر سے کم نہیں تھا۔ کہتے ہیں کہ آؤٹ سورسنگ، آٹو اور میڈیکل صنعت کو کروڑوں روپے کی چپت لگ گئی۔ اصل میں ممبئی ۔ چنئی کے بعد بنگلورو اور گوروگرام کی اس طرح کی تباہی کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ ہمارے مستقبل بھی ترقی کے پیمانے اور اسمارٹ شہر بتائے جارہے ہیں۔ انہی کی نقل پر دیش میں 100 اسمارٹ شہر بنانے کی اسکیم ہے۔ ظاہر ہے ان کی اسکیموں میں بنیادی ڈھانچے کا شایدکم از کم خیال رکھا گیا ہے نہ یہ ڈھنگ سے سوچا گیا کہ پانی کی نکاسی کا سسٹم کیسا ہو اور نہ یہ دیکھا گیا کہ ان کی سڑکیں کتنی گاڑیاں گزارنے لائق ہیں۔ وہاں پانی کی نکاسی کے جو قدرتی اور پرانے آبی سیکٹر کے ہیں انہیں بلڈروں کے لالچ نے ہڑپ لیا ہے۔ محض فوری راحت دینے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ آسام کے دورہ پر گئے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سیلاب متاثرین کو معاوضے کا اعلان تو کر آئے لیکن کیا وہ اپنی سرکار کے ذریعے کسی مستقل حل کی سمت میں کوئی قدم اٹھائیں گے۔ اس غیر متوقع صورتحال کو آئی گئی بات مان لینے کے بجائے ا س پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس ٹریجڈی سے کیا سبق لیا گیا ہے۔
(انل نریندر)

03 اگست 2016

کانگریس اور نوازشریف کے ملتے سر

یہ عجب اتفاق ہے کہ ادھر کانگریس پارٹی کشمیر میں ریفرنڈم کی بات کررہی ہے ادھر پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ہے۔ اسے کشمیریوں کے حقوق کا احترام کرتے ہوئے وہاں پبلک ریفرنڈم کرانا چاہئے۔ لوک سبھا کے مانسون اجلاس کے تیسرے دن قائدہ193 کے تحت کشمیر کے حالات پر بحث شروع کرتے ہوئے کانگریس کے لیڈر جوتر ادتیہ سندھیا نے کہا کہ کشمیر میں آج رائے شماری کی ضرورت ہے۔ سرحد پار نواز شریف نے کشمیروادی کے لوگوں کے ساتھ اتحاد دکھانے کے نام پر منعقدہ بلیک ڈے کے موقعہ پر کہا کہ آج ہم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی دکھانے کے لئے’ یوم سیاہ‘ منا رہے ہیں۔ اس سے دنیا کو سخت سندیش دینا چاہتے ہیں کہ پاکستانی لوگ ان کے (کشمیریوں) حقوق کی لڑائی میں ہمیشہ ساتھ ہیں۔ اگر کشمیریوں کے حقوق کی بات نواز شریف کررہے ہیں تو پہلے اپنے قبضے میں جو کشمیری ہیں ان کو تو ان کا حق دے دیں۔ پاکستان کے قبضے والے کشمیر میں چناوی دھاندلی کو لیکر مقامی لوگوں کا غصہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ پاکستان میں 21 جولائی کو اپنے قبضے والے کشمیر میں چناؤ کروایا تھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چناؤ میں آئی ایس آئی نے نواز شریف کی پارٹی پاکستان مسلم لیگ نواز کے حق میں کھل کر دھاندلی کی ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ اسے 41 سیٹوں میں سے 32 سیٹوں پر کامیابی ملی۔ نتیجے آنے کے بعد مقامی لوگ سڑک پر اتر آئے۔ نیلم وادی میں ناراض لوگوں نے پاکستانی جھنڈے جلائے۔ الیکشن سے وابستہ پوسٹروں پر لوگوں نے سیاہی پوت دی۔ چناوی نتیجے اور کارروائی کے خلاف مظفر آباد ، کوٹلی، چناری اور میر پور میں بھاری تعدادمیں مشتعل مظاہرے ہوئے۔ 
بھارت کے کشمیریوں اور ان کے حمایتیوں (کانگریس) کے لئے اس پار کے پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں چناوی دھاندلی کے خلاف ہورہے مظاہرے آنکھیں کھولنے والے ہیں۔ادھر تحریک چلانے والوں کو دیکھ لینا چاہئے کہ اس پار کے کشمیر کو اپنے میں ملانے کا خواب دیکھ رہے نوازشریف اس حصے کو نہیں سنبھال پا رہے ہیں جو غلطی سے ان کی طرف ہے۔ بدقسمتی دیکھئے کہ حال ہی میں پی او کے میں ہوئے چناؤ میں سب سے زیادہ گڑ بڑی شریف کی پی ایم ایل نواز نے کی ہے۔ دھاندلی کا عالم یہ ہے کہ ان کی حریف پارٹیوں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم کانفرنس کو محض3-3 سیٹیں ملیں اور جب وہ لوگ احتجاج پر اتر آئے تو مسلم کانفرنس کے ورکر کو مار ڈالا گیا۔ ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے صحیح رائے زنی کی کہ پاکستان ناجائز قبضے کو صحیح ثابت کرنے کیلئے فرضی چناؤ کراتا ہے اور جب ان کی قلعی کھل جاتی ہے تو وہ لوگوں کو کچلتا ہے۔ پی او کے کے اس چناؤ پر نہ صرف بھارت نے ہی دھاندلیوں پر سوال اٹھایا ہے بلکہ وہاں کی انسانی حقوق تنظیمیں بھی یہی بات کررہی ہیں۔
(انل نریندر)

رام سیتو کو نقصان پہنچائے بغیر بنے سیتوسمندرم پروجیکٹ

یہ انتہائی خوشی کا موضوع ہے کہ مودی سرکار سیتو سمندرم پروجیکٹ کو نئی شکل میں لانے کی تیاری کررہی ہے۔ان کو اس کے تحت رام سیتو کو نقصان پہنچائے بغیر سیتو سمندرم نہر کی تعمیر ٹھیک ٹھاک ممکن ہوسکے گی۔ پروجیکٹ کے نئے ڈھانچے کو لیکر سرکار اور آر ایس ایس کے سینئر لیڈر شپ کے درمیان سیتو بننے کا کام مرکزی وزیر جہاز رانی نتن گڈکری نے کہا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ نئی تجویز پر سنگھ اور سرکار کے درمیان باقاعدہ اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ میں جلد ہی حکومت کا موقف رکھا جائے گا۔ ذرائع بتاتے ہیں پروجیکٹ کے نئے خاکے کو لیکر گڈکری کچھ ماہ سے حکومت اور آرایس ایس کے درمیان اتفاق رائے بنانے میں لگے ہوئے تھے۔ سنگھ کے ساتھ چند نکتوں پر کچھ اختلافات تھے مگر گڈکری نے ان کا بھی حل نکال لیا۔ اس سے پہلے سرکار کی سطح پر پروجیکٹ پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ چند دن پہلے ہی وزیر خارجہ سشما سوراج کی رہائش گاہ پر سرکار کے سینئر وزرا نے گڈکری کی نئی تجویز کو دھیان سے سنا اور تسلی جتائی۔ سیتو سمندرم پروجیکٹ کے نئے خاکے پر وزیر اعظم کے دفتر کی بھی پل پل نظر ہے۔ سرکار کے ایک سینئر وزیر کا کہنا ہے کہ سرکار رام سیتو کی سکیورٹی کو لیکر عہد بند ہے اور اس کی حفاظت کرتے ہوئے سیتو سمندرم پروجیکٹ کا کام ہوگا۔ یہ اشورام مندر کی طرح کی بھگوا پریوار کیلئے آئیڈیالوجی سے جڑا ہے۔ اس لئے سرکار کے حکمت عملی ساز معاملے میں پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں۔ ہندوتو کی آئیڈیا لوجی سے معاملے کو جوڑتے ہوئے یوپی اے کی اس تجویز کی بھگوان تنظیموں نے مخالفت کی تھی۔ پروجیکٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج دینے والے ڈاکٹر سبرامنیم سوامی ہی اب سنگھ کی سینئر لیڈر شپ کے درمیان اتفاق رائے بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ گڈکری نے سنگھ کی سینئرلیڈرشپ کو سمجھنے کیلئے سوامی کو میدان میں اتار دیا ہے۔ سوامی نے اس معاملے میں آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت ، بھیا جی جوشی، سریش سونی اور کرشن گوپال سے بات چیت کی۔ ان افسران نے پروجیکٹ کے نئے خاکہ کو اپنی منظوری دے دی ہے۔ رام سیتو کروڑوں ہندوؤں کی آستھا سے جڑا ہوا ہے اس کا متبادل حل نکالنا چاہئے اسی میں سبھی کی بھلائی ہے۔
(انل نریندر)

02 اگست 2016

ہلیری بنام ٹرمپ

امریکہ کی ریاست فلاڈلیفیامیں ڈیموکریٹک پارٹی کانفرنس میں ہلیری کلنٹن کا پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار بننا تاریخ رقم کرنے جیسا ہے۔ تاریخ اس لئے کہ 227 برسوں کی چناوی تاریخ میں ہلیری پہلی بار خاتون صدارتی امیدوار بنی ہیں۔ اب تک ایک بھی خاتون کسی بھی پارٹی کی امیدواری نہیں پا سکی۔ کئی مہینے کی متنازعہ مہم کے بعد اب ڈیمو کریٹک پارٹی کی ہلیری کلنٹن اور ریپبلکن پارٹی کی ڈونلڈ ٹرمپ آمنے سامنے ہوں گے۔ 70 سالہ ٹرمپ نے محض ایک سال پہلے سیاست میں قدم رکھا تھا۔ انہوں نے اپنے 16 ابتدائی حریفوں کو ہرا کر ریپبلکن پارٹی میں دبدبہ قائم کردیا۔ ہلیری ویسے 2008ء میں بھی امیدواری کی دوڑ میں تھیں لیکن براک اوبامہ کی شخصیت کے سامنے وہ شکست خوار ہوگئی تھیں۔ نائب صدارت کے عہدے کے لئے ورجینیا صوبے کے گورنر رہ چکے سینیٹر ٹم کیم ہلیری کے ساتھ ہیں۔ ٹرمپ نے نائب صدر کے عہدے کے لئے انڈیانا صوبے کے گورنر مائک فینس کو چنا ہے۔امریکی روایت کے مطابق نائب صدر کے عہدے کے لئے امیدوار چننے کا کام صدارتی عہدے کے امیدوار کے ذمہ ہوتا ہے۔ یعنی پیس کی شخصیت کا جائزہ لیکر ہلیری اور ٹرمپ کی حکمت عملی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ درحقیقت آئین میں یکسانیت کی بات کرنا اور جنس واد کو مسترد کرنے کا ٹرینڈ دکھنے بھرسے وہ زمین پر نہیں اترتا۔ جدید طریقہ کار کے جمہوریت میں سب سے پرانے مانے جانے والے امریکی جمہوری نظام پر یہ بہت بڑا سوالیہ نشان تھا جسے ہلیری کی امیدواری نے ہٹا دیا ہے۔ حالانکہ یہ تکمیل تک تبھی پہنچے گا جب کوئی خاتون منتخب ہوکر وائٹ ہاؤس تک پہنچ جائے۔ ویسے بھی امریکی خواتین نے سیاست میں مردوں کے برابر حق پانے کے لئے لمبی جدوجہد کی ہے۔ 1920ء میں آئین ترمیم کرکے انہیں ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا جیسے انہوں نے یہ رکاوٹ پار کی ویسے ہی ایک دن وائٹ ہاؤس کا دروازہ بھی ان کے لئے ضرور کھلے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور ہلیری کلنٹن کے درمیان مقابلے میں کس کی پوزیشن بہتر ہوگی ابھی یہ کہنا مشکل ہے۔ امریکہ میں ہونے والے عام طور پر جائزوں میں دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے چل رہے ہیں۔ ہلیری کو امریکہ کے لوگ سینیٹر کے طور پر خاتون اول کی شکل میں اور بطور وزیر خارجہ ذمہ داریاں نبھاتے دیکھ چکے ہیں۔ ان کی سمجھ اور کام کرنے کا طریقہ اور نظریہ سب امریکیوں کے لئے جانا ہوا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس معائنہ میں نئے ہیں۔ حالانکہ دہشت گردی اور مسلمانوں کے تئیں انہوں نے جس جارحیت کا ثبوت دیا ہے ان کے حمایتیوں کی تعداد بھی امریکہ میں کافی ہے ورنہ وہ یہاں تک نہیں پہنچ پاتے۔بڑبولے ٹرمپ کے خلاف ہلیری کو مارچ کے مہینے تک11 فیصدی ووٹ کی بڑھت حاصل تھی۔ تب سے لیکر اب تک ٹرمپ کا رویہ رتی بھر نہیں بدلا لیکن وزیر خارجہ رہتے ہلیری کے کام کاج کا کچا چٹھا سامنے آنے کے بعد دونوں میں کانٹے کی ٹکر ہونے کا امکان ہے۔
(انل نریندر)

پاک سے بات نہیں سخت جواب دینے کی ضرورت

پہلے نوید اس کے بعد پکڑا گیا سجاد احمد اور اب بہادر علی کوئی پہلا پاکستانی آتنکی نہیں ہے جو کشمیر میں زندہ پکڑا گیا ہے بلکہ جب سے کشمیر میں دہشت گردی کی شروعات ہوئی ہے بیسیوں پاکستانی اور افغان آتنکیوں کو زندہ پکڑا جا چکا ہے۔ اس سے بھی زیادہ چونکانے والا پہلو کشمیرمیں دہشت گردی کا ہے۔ ریاست میں 27 دیشوں کے آتنک وادی سرگرم ہیں جبکہ ریاست میں ابھی تک مارے گئے 25 ہزار سے زیادہ دہشت گرد غیر ملکی آتنکیوں کی تعداد آدھے سے کچھ کم ہو رہی ہے۔ کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں کنٹرول لائن کے پاس نوگام سیکٹر میں ہوئی مڈ بھیڑ میں پکڑے گئے آتنک وادی کی پہچان کرلی گئی ہے۔ اس کا نام بہادر علی ہے اور وہ پاکستان کے شہر لاہور کا رہنے والا ہے۔ 22 سالہ بہادرعلی کو دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ نے تربیت دی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جمعہ کو اس لشکر آتنک وادی کو گرفتار کیا تھا۔ اس کے پاس سے 23 ہزار روپے ہندوستانی کرنسی، 3 اے کے 47 رائفل، 2 پستول برآمد کی گئیں۔ پچھلے دو مہینے میں بہادر علی دوسرا ایسا پاکستانی دہشت گرد ہے جس کوہماری سکیورٹی فورسز نے پکڑا ہے۔ اس کا ایک ویڈیو بھی سامنے آیا ہے جس میں اس نے دہشت گردوں کے ماسٹر پلان کا خلاصہ کیا ہے۔ کشمیرمیں دہشت گرد کہاں کہاں چھپے ہیں اس کی جانکاری دی ہے۔ پاکستانی آتنکی نے بتایا پاک میں مظفر آباد میں کافی تعداد میں دہشت گردوں کو تیار کیا جارہا ہے اور مجھے ایک مہینے کی اسپیشل ٹریننگ دی گئی تھی۔ پاکستان کے لاہور ضلع کا رہنے والا ہوں۔ زندہ پکڑا گیا آتنکی اور مڈ بھیڑ میں مارے گئے اس کے چار ساتھی فدائین حملے کی تیاری میں تھے۔ اس کے علاوہ ان کو برہان جیسے پوسٹر بوائے تیار کرنے کی بھی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ لوک سبھا میں جمعہ کو بھاجپا کے ایک ممبر نے بھارت میں ہوئے آتنکی حملوں کو پاکستان اسپانسر بتاتے ہوئے کہا کہ پڑوسی دیش کے ساتھ بات چیت نہیں ہونی چاہئے بلکہ اس کی زبان میں جواب دینے کے طریقے تلاش کرنے پر غور کرنا چاہئے۔ وقفہ سوالات کے دوران آر کے سنگھ نے کہا کہ پچھلے دنوں کشمیرمیں ایک زندہ آتنک وادی کے پکڑے جانے کی خبر آئی ہے جس سے پوچھ تاچھ سے پتہ چلا کہ وہ پاکستان سے ٹریننگ لے کر وہاں کی فوج کے ذریعے سے یہاں پہنچا ہے۔ بھارت میں پاکستان اسپانسر حملے ہوتے ہیں۔ سنگھ نے پٹھانکوٹ اور کشمیر میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے بات چیت کوئی احمد نہیں ہے۔ جب بھی بات چیت ہوتی ہے تو اس کی طرف سے آتنکی حملوں کے معاملے سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا پاکستان کو سخت جواب دینے کے طریقے پر غور کرنا ہوگا۔ حکمراں پارٹی کے ہی کریٹ سولنکی نے گجرات میں پاکستان سے لگی 340 کلو میٹر سرحد پر نئے سرے سے خار دار تار لگانے کی مانگ اٹھاتے ہوئے کہا تار کئی جگہ کمزور ہوگئے ہیں اور اس راستے سے پاک درانداز ہندوستانی سرحد میں داخل ہوجاتے ہیں۔ سرحد پار سے نئے نئے دہشت گردوں کے آنے کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ویسے بھی پاکستان ان دہشت گردوں کو تو اپنے شہری مانتا ہی نہیں۔ ہر بات کو تو وہ منع کردیتا ہے۔ کوئی مختلف کوشش کرنی پڑے گی۔ یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ہماری مرکزی سرکار اب بھی ان دہشت گردوں کے تئیں نرم کیوں ہے؟ تھوڑی سختی دکھانی پڑے گی۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔
(انل نریندر)

31 جولائی 2016

آخر کیوں بند کیا جائے پیلٹ گن کا استعمال؟

جموں وکشمیر میں گزشتہ دنوں اشتعال انگیز مظاہروں اور ہمارے سکیورٹی جوانوں پر پتھر بازی پر خودساختہ لیڈروں اور ہمارے میڈیا کے ایک حصے نے بہت ہائے توبہ مچا رکھی ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ پیلٹ گن استعمال پر پابندی لگنی چاہئے؟ ہم پوچھتے ہیں کیوں لگنا چاہئے؟ کیا ہمارے سکیورٹی جوانوں کو اپنی جان بچانے کا اتنا بھی حق نہیں ہے؟ کیا آپ کو معلوم ہے کہ جموں و کشمیر میں جاری زبردست احتجاجی مظاہروں اور پتھر پھینکنے کے واقعات میں تقریباً 3500 سکیورٹی جوان زخمی ہوچکے ہیں۔ وزیر مملکت داخلہ ہنسراج اہیر نے بتایا کہ وہاں پر اس سال زبردست مظاہرے اور پتھر پھینکنے کے کل1029 واقعات ہوئے ہیں۔2015ء میں احتجاجی مظاہروں اور پتھر پھینکنے کے کل 730 واقعات ہوئے تھے۔ اس کے ساتھ ہی اہیر نے بتایا کہ 17 جولائی تک جموں و کشمیر میں 152 دہشت گردانہ واقعات ہوئے جن میں 30 جوانوں کی موت ہوئی جبکہ 2015ء میں 2008ء دہشت گردانہ واقعات میں 39 جوانوں کی موت ہوگئی تھی۔ پیلٹ گن کے استعمال پر خاصا تنازعہ کھڑا کیا جارہا ہے۔ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ہمارے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ بھی اس دباؤ کا شکار ہوتے لگ رہے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ پیلٹ گن کے متبادل کے لئے 7 رکنی ممبران کی اسپیشل کمیٹی بنائی جارہی ہے۔ یہ کمیٹی دو مہینے میں اپنی رپورٹ دے گی۔ دو روزہ دورہ پر گئے راجناتھ سنگھ کو بتایا گیا کہ پیلٹ گن کی اسٹیل کی گولی سے جوان ہی نہیں بلکہ چھوٹے بچوں کے جسم کے سافٹ ٹشو اور اعضاء کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ ایسا کونسا مشتعل تحریک ہوتی ہے جہاں بے قصور اس کی زد میں نہیں آجاتے۔ جب بھیڑ پتھروں سے مار مار کر اپنے جوانوں کو ادھ مرا کررہی ہو تو کیا انہیں سیلف ڈیفنس کا بھی حق نہیں ہے؟ بھیڑ نے ایک جوان کو پکڑ کر اس کی آنکھ کی پھوڑ دی، کیا یہ سب ہمیں برداشت ہے، قطعی نہیں؟ ہم سی آر پی ایف کے ڈی جی درگا پرساد سے پوری طرح متفق ہیں کہ جب وہ کہتے ہیں کشمیرمیں پیلٹ گن کا استعمال نہیں رکے گا۔ سالانہ پریس کانفرنس میں مسٹر پرساد نے کہا کہ ہم خود خاص حالات میں پیلٹ گن کا استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے زخمی کم سے کم ہوں۔ ہم انہیں زیادہ ضروری حالات میں استعمال کرتے ہیں جب بھیڑ قابو سے باہر ہوجاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی فورس کا اموشن نہ ہونے کیلئے ایسے حالات سے دلائل سے نمٹنے کیلئے ٹرینڈ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیلٹ گن ایک لیتھن ہتھیار (جان لیوا ) نہیں ہے۔ جموں و کشمیر محض ایک ایسی ریاست ہے جہاں جوانوں پر اس طرح کا پتھراؤ کیا جاتا ہے اور ایسے میں جب حالات قابو سے باہر ہوجاتے ہیں تو جوانوں کو اپنی جان بچانے کے لئے پیلٹ گن کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ ڈی جی نے بتایا کہ سبھی سکیورٹی فورس کو ہدایات دی جاتی ہیں کہ کشمیر میں پیلٹ گن کا استعمال کئے جانے کے دوران اسے گھٹنے کے نیچے کے حصے میں چلایا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ جوانوں کو سامنے سے گن کو تب چلانا پڑتا ہے جب مظاہرین قریب آگئے ہوں ایسے میں جان جانے کا اندیشہ بھی انہوں نے بتایا کہ ہم کم سے کم خطرناک زمرے میں آنے والے ایسے دوسرے ہتھیاروں کا بھی تجربہ کررہے ہیں۔ اس میں امریکہ میں استعمال کیا جانے والا ایک ویپن بھی شامل ہے۔ بتادیں کہ یہ پیلٹ گن کیا ہے؟ یہ پمپ کرنے والی بندوق ہوتی ہے جس میں کئی طرح کے کارتوس استعمال ہوتے ہیں۔ کارتوس 1 سے12 رینج میں ہوتے ہیں۔ ایک کو سب سے تیز اور خطرناک مانا جاتا ہے ، اس کا اثر کافی دور تک ہوتا ہے۔ پیلٹ گن سے فائر کئے گئے ایک کارتوس میں 500 تک ربڑ اور پلاسٹک کے چھرے ہو سکتے ہیں۔ فائر کرنے کے بعد کارتوس ہوا میں پھٹتے ہیں اور چھرے ایک جگہ سے چاروں سمت میں جانے لگتے ہیں۔ آخر میں یہ کارگل کے موقعہ پر دہشتگرد برہان وانی کے انکاؤنٹر پر کچھ میڈیا (خودساختہ سیکولر) میں اٹھے سوالوں پر وزیر دفاع منوہر پریکر نے سخت رد عمل ظاہر کیا۔ دہلی میں سابق صدر مرحوم ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی برسی پر انہوں نے بغیر نام لئے ایک چینل پر سوال اٹھایا آخر دیش کے خلاف بولنے کا کیا مطلب ہے؟ ایک آتنکی کے مارے جانے پر کئی چینلوں کے نشریا میں میں نے جو دیکھا وہ صحیح نہیں ہے۔ آخر کوئی کیسے یہ سوال پوچھ سکتا ہے کہ اس کو کیوں مارا؟ اب دہشت گرد کو نہیں ماریں گے تو کس کو ماریں گے؟ ٹی آر پی کے لئے دہشت گردوں کے مارے جانے پر سوال نہ اٹھائیں، دیش کے خلاف جو بھی بولیں گے اسے لوگ پسند نہیں کرتے۔
(انل نریندر)

کیا فیٹ ٹیکس جنک فوڈ کو کنٹرول کر سکے گا؟

اکثر بچوں کو اس جنک فوڈ سے بچانے کیلئے سخت قدم اٹھانے کی مانگ اٹھتی رہتی ہے لیکن کوئی کچھ نہیں کرتا۔ میں نے بھی اسی کالم میں اس بڑھتے مسئلے اور بچوں کی صحت کو بچانے کے لئے کچھ ٹھوس کرنے کی وکالت کی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ اس سمت میں کیرل حکومت نے کچھ ٹھوس قدم اٹھائے ہیں۔ کیرل سرکار نے پیزا، برگر جیسے جنک فو ڈ پر جو’’ فیٹ ٹیکس‘‘ لگایا ہے وہ صحیح سمت میں اٹھایا گیا ایک صحیح قدم مانا جائے گا۔ بچوں کا دل اب دلیا، پوہا یا بریڈ جیسے روایتی ناشتوں میں نہیں لگتا۔ ان کی دیکھا دیکھی بڑے بھی ہفتے میں ایک آدھ پیزا ، برگر کھا ہی لیتے ہیں لیکن شگر اور موٹاپا کے بڑھنے کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ بازار میں ملنے والے اس طرح کے فوری کھانے والی چیزیں بھارت کے لئے عجیب و غریب قسم کی بیماریوں کا سبب بنتے جارہے ہیں۔ نیشنل فیملی ہیلتھ کی ایک سروے رپورٹ بتاتی ہے کیرل دیش کا تیسرا اور پنجاب کا دوسرا ایسے راجیہ ہے جہاں آبادی کا ایک تہائی یا اس سے بھی بڑا حصہ موٹاپے کی مار جھیل رہا ہے۔ ویسے اس سروے کی مانیں تو ’فیٹ ٹیکس‘ سب سے پہلے دہلی میں لگنا چاہئے جہاں تقریباً آدھے لوگ موٹاپے سے پریشان ہیں۔ جنک فوڈ سے بچوں کی صحت پر پڑنے والے مضر اثرات کو دیکھتے ہوئے قومی اطفال اختیارات تحفظ کمیشن نے دیش بھر کے اسکولوں کی کینٹین میں اس طرح کی غذائی چیزوں کی دستیابی پر روک لگانے کے مقصد سے ریاستی ایجوکیشن بورڈ سے کہا ہے کہ وہ سینٹرل سیکنڈری ایجوکیشن بورڈ کی طرح صاف گائڈ لائنس طے کریں اور ان پر تعمیل یقینی کرائیں۔ کمیشن نے اسکولوں سے جنک فوڈ پر پوری طرح روک لگانے کے مقصد سے حال ہی میں سبھی ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام ریاستوں کے شکشا بورڈ و ریاستی اطفال کمیشن کو خط لکھا ہے۔ اس میں اس نے سی بی ایس ای کے تحت آنے والے اسکولوں میں اس سینٹرل بورڈ کی جانب سے طے گائڈ لائنس پر سختی سے تعمیل کرانے کو کہا ہے۔ ہیلتھ لائف طریقے کی عادت بنانا اور کہیں بھی آسانی سے خریدے جانے والے سستے ذائقے دار لیکن بیمار نہ بنانے والے کھانوں کی سمت میں ہمارے دیش میں ابھی تک کچھ نہیں کیا گیا۔ابھی تک جن دیشوں میں بھی فیٹ ٹیکس لگایا گیا ہے وہاں اس سے ہونے والی آمدنی کو کھانے پینے کی اور صحت بخش چیزوں پر خرچ کیا جاتا ہے۔ جاپان اور ڈینمارک میں کئی سال سے اسی ٹیکس کے ذریعے موٹاپے کے خلاف جنگ چھیڑی ہوئی ہے۔ کیرل میں صرف جنک فوڈ پر یہ ٹیکس لگایا گیا ہے، لیکن ڈینمارک میں تو موٹاپا بڑھانے والی ہر چیز پر فیٹ ٹیکس نافذ ہے۔ موٹاپے کے معاملے میں بھارت دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ اپنے یہاں چاہے موٹاپا ہو یا شگر ہو سب سے زیادہ مار 13سے18 سال کے بچے جھیل رہے ہیں۔ ہمیں اپنی آنے والی پیڑھی کو بچانے کے لئے فوراً قدم اٹھانے ہوں گے۔
(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...