Translater

Taliban لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Taliban لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

18 اپریل 2012

طالبانی حملے سے کانپ گیا افغانستان



Published On 18 March 2012
انل نریندر
طالبان نے کابل میں افغانستانی پارلیمنٹ اور کئی ممالک کے سفارتخانے پر حملہ کرکے یہ اشارہ دیا ہے کہ طالبان پہلے سے زیادہ مضبوط ہوچکا ہے۔ یہ حملہ طالبان کی طاقت کا احساس تو کراتا ہی ہے لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی بتاتا ہے کہ افغانستان کا مستقبل اندھیرے میں ہے۔ طالبان کے ارادے نہایت خطرناک ہیں۔ اسامہ بن لادن کی برسی سے17 دن پہلے طالبان نے دنیا کو چیلنج کیا ہے۔ خودکش حملہ آوروں نے ایتوار کو افغانستان کی راجدھانی کابل میں امریکہ، برطانیہ ، جرمنی اور روس کے سفارتخانوں پرحملے کئے اور ساتھ ہی نیشنل اسمبلی میں گھسنے کی بھی کوشش کی۔ اس کے علاوہ تین شہروں میں بھی حملے ہوئے۔ کل 11 مقامات پرحملے کئے گئے ان میں48 لوگ مارے گئے جن میں19 آتنک وادی بھی شامل ہیں۔ آتنک وادیوں میں راکٹ ،دستی بم ، مشینی بندوقوں سے فائرنگ کی۔ دن کے تین بجے شروع ہوئی یہ گولہ باری کچھ جگہوں پر شام تک چلتی رہی۔ 2001 کے بعد اسے کابل میں اب تک کا سب سے بڑا حملہ بتایا جارہا ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملوں کی ذمہ داری لیتے ہوئے کہا یہ آغاز ہے حملے کی تیاری ایک ماہ سے جاری تھی۔ آنے والے وقت میں اور حملے ہوں گے۔ان حملوں کے پیچھے حقانی گروپ کا ہاتھ ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ 1994ء میں سرگرم اس گروپ کو پاکستان سے چلایا جاتا تھا۔ امریکہ کئی بار پاکستان کو حقانی نیٹ ورک پر لگام دینے کی ہدایت دے چکا ہے۔ گروپ کی کمان مولوی ذکاء الدین حقانی اور اس کے بیٹے سراج الدین حقانی کے ہاتھوں میں ہے۔ تنظیم طالبان سے ملی ہوئی ہے۔حقانی گروپ پر اس لئے شبہ کیا جاتا ہے کیونکہ گذشتہ ستمبر میں امریکی سفارتخانے کو اسی نے نشانہ بنایا تھا۔ دراصل پچھلے دنوں امریکی حکام کی طالبان کے ساتھ بات چیت پٹری سے اترجانے کے بعد سے ہی افغانستان میں حملوں کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا تھا۔ 2014ء میں امریکہ اور اس کی ساتھی فورسز افغانستان سے کوچ کرنے کی تیار میں ہیں۔تشویش کا موضوع یہ ہے کہ تقریباً 1 لاکھ25 ہزار نیٹو فوجیوں کی موجودگی کے باوجود حامد کرزئی حکومت راجدھانی کابل کی سلامتی میں اہل نہیں نظر آتی۔
ظاہر ہے کہ طالبان کا حوصلہ اس لئے بھی بڑھا ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ امریکہ اور اس کی ساتھی ممالک کی فوجیں افغانستان میں چند دنوں کی مہمان ہیں۔ جاتے جاتے امریکی فوجی بھی ایسی حرکتیں کررہے ہیں جس سے آگ اور زیادہ بھڑکے۔ قرآن شریف کو جلانا، ایک امریکی فوجی کے ذریعے 16 بے قصور افغانیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے سے بھی طالبان کو تقویت اور عوامی حمایت ملی ہے۔ پچھلے دنوں حامد کرزئی نے غیر ملکی فوجیوں کو دیہی علاقوں کو خالی کرشہر میں اپنے کیمپوں میں لوٹ جانے کو کہا تھا۔ کابل کی مانگ اب یہ بھی ہے کہ امریکی فوجی افغانستان سے واپسی کی تیاری پہلے ہی شروع کردیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کرزئی کس وجہ سے ایسا کررہے ہیں۔ افغانستان کے موجودہ پس منظر سے ہمیں تشویش ہونی چاہئے کہ یہ راحت رسانی کی تازہ کارروائی سے ہندوستانی سفارتخانہ اچھوتا رہا ہے لیکن یہ صحیح وقت ہے جب بھارت حکومت اس پر سنجیدگی سے غور کرے کے افغانستان کی باز آبادکاری میں وہ جو اربوں روپے خرچ کررہا ہے اس سے بھارت کو کیا ہاتھ لگنے والا ہے؟
Afghanistan, Anil Narendra, Daily Pratap, Taliban, Vir Arjun

25 نومبر 2011

شرابیوں کوکھمبے سے باندھ کر پیٹا جانا چاہئے:انا


Published On 25th November 2011
انل نریندر
انا ہزارے کا ایک تازہ بیان تنازعات میں آگیا ہے۔ سماجی اصلاحات کے اپنے ایجنڈے کے تحت گاندھی وادی نیتا انا ہزارے نے شرابیوں کی شراب کی لت چھڑانے کے لئے ان کی پٹائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ایک ٹی وی چینل سے بات چیت میں انہوں نے حالانکہ پٹائی کو آخری قدم بتایا ہے۔ انا سے جب پوچھا گیا شرابیوں کی لت چھڑانے کے لئے وہ کیا طریقہ اختیار کرنے کی صلاح دیتے ہیں تو انہوں نے کہا پہلے شرابیوں کو تین بار بات چیت سے سمجھاؤ ،اگر نہیں مانتے تو اسے مندر لے جاکر شراب نہ پینے کی قسم دلاؤ،اس کے بعد بھی نہیں سدھرے تو مندر کے سامنے کھمبے سے باندھ کر اس کی کھلے عام پٹائی کرو۔ یہ پوچھے جانے پر کیا انہوں نے یہ طریقہ اپنے گاؤں میں آزمایا ہے تو انہوں نے کہا ہاں کبھی کبھی ایسا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے گاؤں کے کچھ لوگ جو اب شراب چھوڑ چکے ہیں اب بھی ان سے کہتے ہیں اگر انہیں کھمبے سے نہیں باندھا گیا ہوتا تو وہ برباد ہوچکے ہوتے۔ انا ہزارے کے اس بیان پر تلخ نکتہ چینی ہورہی ہے۔ اس بارے میں ردعمل جاننے پر کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے کہا انا ہزارے کی تجویز طالبان کے فرمان کی طرح ہے۔ یہ طالبانی طریقے سے میل کھاتا ہے جو شرعی قانون کی تعمیل نہیں کرتے تو ان کو سزا دینے کے لئے کرتے تھے۔ کانگریس نیتا ستیہ برت چترویدی فرماتے ہیں ہزارے کا نظریہ اس معاملے میں بیحد پاکیزہ ہے مگر طریقہ غلط ہے۔ بھاجپا کی ترجمان نرملا سیتا رمن اور شاہنواز حسین نے بھی انا کے تبصرے کو صحیح نہیں مانا اور کہا ان کی پارٹی انا کے اس طریقے سے شراب چھڑانے کی حمایت نہیں کرتی۔ شراب نوشی سے لڑنے کے لئے 74 سالہ گاندھی وادی رضاکار کے اس نظریئے سے سائبر دنیا میں بھی ایک بحث شروع کردی ہے۔ بلاگ پر انا کے تبصرے کی مذمت کی گئی ہے حالانکہ کچھ بلاگر انا کے نظریئے کو صحیح مانتے ہیں کچھ نے کہا کہ گاندھی وادی انا ہزارے اپنی حدیں پار کررہے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ شراب پینا یا نہ پینا آدمی کا اپنا شخصی فیصلہ ہے۔ آپ شراب پینے والوں کو اس سے پیدا ہونے والی پریشانیوں سے واقف کراسکتے ہیں لیکن اسے مجبور کرنا شاید ٹھیک نہیں ہوگا۔ حکومتوں نے ممانعت کرکے بھی دیکھ لیا الٹا جتنا پابندی لگاؤگے اتنی ہی اس کی مان بڑھے گی۔ انا کی تجویز ان کے گاؤں میں تو چل سکتی ہے لیکن باقی دنیا میں شاید ہی یہ تجربہ مانا جائے۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Daily Pratap, Mahatma Gandhi, Taliban, Vir Arjun

27 ستمبر 2011

پاکستان کی امریکہ کو دھمکی و چیلنج



Published On 27th September 2011
انل نریندر
 پاکستان اور امریکہ کے درمیان تلخی بڑھتی جارہی ہے اور اب تک جاری زبانی جنگ اب سفارتی رشتوں میں دراڑ کی شکل میں سامنے آنے لگی ہے۔ اقوام متحدہ میں شرکت کرنے آئیں پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی نے اپنی تقریر میں کہا کہ امریکہ پاکستان یا پاکستانی عوام کو الگ تھلگ کرنے کا خطرہ نہیں اٹھا سکتا۔ پاک وزیر خارجہ کے مطابق اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اس کی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔ ربانی کا یہ بیان امریکہ کے اعلی فوجی افسر ایڈمرل مائک مولن کے اس الزام کے بعد آیا جس میں انہوں نے گذشتہ ہفتے کابل میں امریکی سفارتخانے پر ہوئے حملے کے پیچھے آئی ایس آئی کو ذمہ دار مانا تھا۔ مائک مولن کا کہنا ہے کہ حملے کے پیچھے حقانی نیٹورک کو آئی ایس آئی کی شہ حاصل ہے۔ ویسے امریکہ طویل عرصے سے مانتا رہا ہے کہ افغانستان میں اپنی پیٹ مضبوط کرنے کے لئے پاکستانی حقانی نیٹ ورک کا سہارا لے رہا ہے۔ افغانستان سے 2014 تک فوجیوں کی واپسی اور وہاں ایک پائیدار اور جمہوری حکومت کے قیام کے امریکی خواب میں حقانی نیٹ ورک سب سے بڑا روڑا بنا ہوا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان وسیع اور ٹرینگ یافتہ نیٹ ورک کے خاتمے میں امریکہ کو دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں اسے اپنے سب سے مضبوط ساتھی پاکستان کی طرف سے کوئی مدد نہیں ملنے والی ہے۔ حقانی نیٹ ورک کو پاکستان اپنی طالبان اور اپنی سیاسی حکمت عملی کے وراثت مانتے ہیں جو امریکہ کے افغانستان سے ہٹنے کے بعد وہاں پاکستانی مفادات کی حفاظت کرے گا۔ امریکہ کی مشکل یہ ہے کہ وہ تمام کوششوں کے باوجود القاعدہ کو اس نے جس طرح سے نیست و نابود کیا تھا ویسے ہی حقانی نیٹ ورک کو وہ نہیں کرسکا۔ القاعدہ سرغنہ جہاں ڈرون حملوں سے اپنی جان بچا رہے ہیں وہیں حقانی نیٹ ورک ایک بعد ایک تابڑ توڑ حملوں کو انجام دے رہا ہے۔ ایسے میں آخر کار امریکہ اب جلال الدین و سراج الدین حقانی کو اسامہ بن لادن و القاعدہ جتنا ہی خطرناک ماننے لگا ہے۔ امریکہ حقانی نیٹ ورک کا ہر قیمت پر صفایا چاہتا ہے۔ دراصل اوبامہ انتظامیہ کابل میں امریکی سفارتخانے پر ہوئے دہشت گردانہ حملے سے بوکھلا گیا ہے۔ 12 ستمبر کو اس حملے میں جلال الدین حقانی کے بیٹے سراج الدین حقانی کا ہاتھ تھا۔ اس حملے میں چار پولیس ملازمین اور چار شہری مارے گئے تھے۔19 گھنٹے تک چلی اس لڑائی میں 11 آتنک وادیوں کو بھی اپنی جان گنوانی پڑی تھی۔ اس سے دو دن پہلے ہی حقانی کے آتنک وادیوں نے ورداگ ریاست میں واقع نیٹو کے ٹھکانے پر حملے کیا تھا جن میں چار افغانی شہری مارے گئے تھے اور 77 امریکی زخمی ہوئے تھے۔
آخر کار امریکہ کو وہ سچائی سمجھ میں آنے لگی ہے کہ پاکستان ان آتنکی تنظیموں سے نہ صرف ملا ہوا ہے بلکہ ان کی ہر طرح سے مدد کرتا رہتا ہے انہیں سرپردستی دیتا ہے۔ بھارت نے یہ بات اجمریکہ کو کئی بار سمجھانے کی کوشش کی لیکن امریکہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی انجام بنا رہا یا شاید اس نے اس میں دلچسپی نہیں لی۔ کیونکہ پاک اسپانسر آتنک واد کا شکار بھارت تھا۔ اب جب خود امریکہ اس کا نشانہ بن رہا ہے، امریکہ کو کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگا ہے۔ حالانکہ بھارت کے ساتھ ساتھ کئی امریکی ماہرین بھی بار بار یہ کہہ رہے تھے کہ پاکستان نے دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کو اپنی قومی پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے لیکن امریکی سینئر لیڈر شپ اسی جان بوجھ کر نظر انداز کرتی رہی ہے۔ امریکہ کی مشکل اور کمزوری کا پاکستان پورا فائدہ اٹھا رہا ہے اور اٹھائے گا۔ انہیں معلوم ہے کہ امریکہ 2014 تک افغانستان سے ہٹنا چاہتا ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان میں امریکہ کے ہٹنے کے بعد بھی اس کی بالادستی قائم رہے۔ پاکستان ہمیشہ امریکہ کو بلیک میل کرتا رہا ہے اور اب بھی کررہا ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ سے لیکر وزیر اعظم، صدر تک یہ ظاہر کرنے میں لگے ہوئے ہیں کہ اسلام آباد سے زیادہ واشنگٹن کو ان کی حمایت کی ضرورت ہے۔ ان بیانات میں ایک طرح کی دھمکی بھی چھپی ہوئی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ پاکستان کی اس چال بازی کو بھانپ پاتا ہے یا نہیں اور اس کے سلسلے میں اپنی حکمت عملی میں کوئی ٹھوس تبدیلی کرتا ہے یانہیں؟ پاکستان کے سلسلے میں امریکی امکانی پالیسی بھلے ہی کچھ بھی ہو، اوبامہ انتظامیہ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ اور طویل عرصے تک بغیر اپنے مفادات سے سمجھوتہ کئے پاکستان سے سب سے مضبوط اتحادی ماننے والی پالیسی پر چل نہیں سکتا۔ امریکہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کی پوری مدد اور حمایت چین بھی کررہا ہے۔ معاملہ صرف امریکہ۔ پاکستان کا نہیں رہ جاتا، چین کے بھی بیچ میں آنے سے سارے تجزیئے بدل جاتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ پاکستان سے زیادہ آج امریکہ مشکل میں ہیں۔ دیکھیں آگے کیا ہوتاہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Haqqani Network, Afghanistan, Pakistan, USA, America, Taliban,

24 ستمبر 2011

سابق افغان صدر ربانی کے قتل نے سبھی کی تشویشات بڑھائیں



Published On 24th September 2011
انل نریندر
افغانستان میں امریکہ کے ذریعے جاری قیام امن کی کوششوں کو زبردست دھکا لگا ہے۔ افغانستان کے سابق صدر برہان الدین ربانی کا ایک فدائی حملہ آور نے قتل کردیا ہے۔ اس حملہ آور نے اپنی پگڑی میں دھماکہ خیز مادہ چھپایا ہوا تھا۔ ربانی کا قتل کرنے والے حملہ آور کے اس واقعہ میں ربانی کے چار محافظ بھی مارے گئے۔71 سالہ ربانی کا قتل شورش کے حالات سے گذر رہے افغانستان میں جاری قیام امن کی کوششوں کو ایک زبردست جھٹکا مانا جارہا ہے۔ ان کے قتل کے بعد صدر حامد کرزئی اپنا دورہ امریکہ بیچ میں چھوڑ کر وطن واپس لوٹ گئے ہیں۔ کابل پولیس کے مطابق حملہ آور کو ربانی کے کابل میں واقع مکان میں شام کوبلایا گیا تھا۔ خیال کیا جارہا تھا کہ وہ ایک غیر ملکی ڈپلومیٹ ہے جو طالبان کا خاص پیغام لیکر آیا ہے۔ ربانی سے گلے ملتے ہی حملہ آور نے پگڑی میں رکھے بم سے دھماکہ کردیا۔
مسٹر ربانی کے قتل سے صاف ہے کہ امریکہ کی قیادت والی نیٹو افواج کے افغانستان سے رخصت ہونے کے بعد طالبانی اور کتنی بڑی چنوتی پیدا کرسکتے ہیں۔ ربانی راجدھانی کابل کے انتہائی سکیورٹی زون میں علاقے میں رہتے تھے جہاں امریکہ کا سفارتخانہ بھی قائم ہے۔ ربانی کو حامد کرزئی سرکار نے پچھلے قریب ایک سال سے اپنی ہائی پاور امن کونسل کا سربراہ بنایا تھا۔ انہیں امن کی کوششوں میں کوئی خاص کامیابی تو نہیں ملی۔ اب ان کے قتل سے تو میل ملاپ کے رہے سہے امکانات بھی مدھم ہونے لگے ہیں۔ جس طرح طالبان نے گھر میں گھس کر ربانی کا قتل کیا تھا اسی طرح کچھ مہینے پہلے حامد کرزئی کے سوتیلے بھائی ولی کرزئی کو ان کے ہی ایک ساتھی سے ملنے پر قتل کردیا گیا تھا ۔ اس کے بعد طالبانی بندوقچیوں نے ایک سابق گورنر جان محمد خاں کو مار ڈالا تھا۔ جب سے امریکہ اورمغربی ممالک کی بالا دستی والی کرزئی سرکار بنی ہے طالبان اس پر حملے کررہے ہیں۔ ایک کے بعد ایک قتل سے صاف ہے کہ طالبان مصالحت کے حق میں نہیں ہے۔ طالبان کی تربیت کبھی پاکستانی مدرسے میں ہوئی تھی اور آج بھی پاکستان کی فوج اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا طالبان کے مختلف گروپوں پر دبدبہ ہے۔ افغانستان میں طالبانی حکومت ہونے سے پاکستان کو بھارت کے ساتھ جنگ کی صورت میں کافی مدد ملتی اس لئے پاکستان نہیں چاہتا کہ افغانستان میں ایسی کوئی سرکار ہو جو بھارت کی دوست بنے۔ ربانی کو ہندوستان کا دوست مانا جاتا تھا۔ طالبان کو ایسا بھی کوئی شخص پسند نہیں ہے جو امریکہ، ہندوستان اور مغربی ممالک کا دوست ہو۔
مسٹر ربانی کے قتل کے ساتھ ناگزیں حالات سے گذر رہے پڑوسی ملک افغانستان کے حالات کو لیکر بھارت کی تشویشات کا بڑھنا فطری ہے۔ نئی دہلی کی تشویش افغانستان میں امن اور بحالی اعتماد کا پرچم اٹھانے والے نیتاؤں کو ٹھکانے لگانے کی کوششوں کو لیکر ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ اس واقعے سے گہرا دھکا پہنچا ہے اور بھارت مشکل کی اس گھڑی میں افغانستان کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ کرزئی کو لکھے خط میں وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان میں مختلف گروپوں کے درمیان جاری امن عمل کی رہنمائی کررہے ربانی کو یاد رکھنے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہی ہوگا کہ ہم ان کے کام کو آگے بڑھائیں۔ ربانی کے قتل نے امریکہ اور نیٹو فوج کی پریشانی بڑھا دی ہے۔ امریکہ کے صدر براک اوبامہ نے ربانی کے قتل پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امن عمل جاری رہے گا۔ افغانستان کے سابق صدر ربانی کا قتل کرنے والے حملہ آور کی پہچان عصمت اللہ کی شکل میں کر لی گئی ہے۔ وہ طویل عرصے سے ربانی کو قتل کرنے کے موقعے کی تلاش میں تھا۔ طالبان کے اس فدائی حملے سے ایک بات توصاف ہے کہ اگر امریکہ و نیٹو اتحادیوں کو افغانستان سے باہر نکالنا ہے تو انہیں افغانستان سے سیدھی بات چیت کرنی ہوگی لیکن مشکل یہ بھی ہے کہ طالبان کے اندر کئی گروپ ہیں اور بات کس کے ذریعے سے ہو؟ پھر آئی ایس آئی بھی ہے ان کے اپنے مفاد بھی ہیں ، وہ افغانستان میں ایسی سرکار چاہئیں گے جو پاکستان کی پٹھو بننے کو تیار ہو۔ اوبامہ کا آگے کا راستہ کانٹوں بھرا ہے لیکن پھر بھی امریکہ تو بری طرح سے پھنس گیا ہے۔ اس کے لئے ادھر کنواں تو ادھر کھائی۔
Afghanistan, America, Anil Narendra, Daily Pratap, Taliban, Vir Arjun,

09 اگست 2011

طالبان نے لادن کے قتل کا بدلہ لیا


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 9th August 2011
انل نریندر
افغانستان میں طالبان نے امریکہ سے اسامہ بن لادن کی موت کا بدلہ لے لیا ہے۔ گذشتہ جمعہ کو طالبان نے ایک امریکی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا ہے۔ اس کارروائی میں 31 امریکی فوجی مارے گئے ہیں۔
یہ عام فوجی نہیں تھے۔ اس ہیلی کاپٹر میں 31 امریکی فوجیوں میں نیوی سیل کے کمانڈو، تین ایئرفورس کے کنٹرول، 7 افغان فوجی موجود تھے جو 22 نیوی سیل کمانڈو ہیں جو اس تباہ ہیلی کاپٹر میں مارے گئے ہیں یہ اس سیل ٹیم کا دستہ تھا جو160 ویں اسپیشل آپریشن ایوی ایشن ریجمنٹ کا تھا جس نے پاکستان میں ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو مارنے کی کارروائی میں حصہ لیا تھا۔ اسامہ کو مارنے کے بعد سے ہی امریکی فورسز کا یہ یونٹ طالبان کے نشانے پر تھا۔ سال 2001 ء میں افغانستان میں جنگ شروع ہوجانے کے بعد غیر ملکی فوجیوں کے لئے یہ سب سے بڑا نقصان تھا۔ اس ہیلی کاپٹر کو افغانستان کے مشرقی وارداک صوبے کے دہشت گردی سے متاثرہ ایک ضلع میں طالبان مخالف کارروائی کے دوران نشانہ بنا یا گیا۔ وار داک صوبے کے گورنر کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ طالبان کی جانب سے داغے گئے راکٹ نے ہیلی کاپٹر کو پوری طرح سے تباہ کردیا۔ اس واقعہ کے بعد ہیلی کاپٹر کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے اور وہ پوری طرح تباہ ہوگیا۔
امریکی صدر براک اوبامہ نے اپنے فوجیوں کی موت پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری سکیورٹی فورسز کی بڑی قربانی کی ایک اور مثال ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے بھی اوبامہ کو فون کر اس واقعہ پر افسوس ظاہر کیا۔ اس کارروائی کے ایک چشم دید گواہ محمد صابر نے بتایا کہ اس کے گاؤں میں دیر شام ہوئی کارروائی کے دوران ایک ہیلی کاپٹر اچانک گر گیا۔ اس نے قریب رات 10 بجے اڑتے دیکھا تھا۔ ہم گھر میں تھے، ایک ہیلی کاپٹر ایک طالبان کمانڈر کے گھر پر اترا اور تابڑ توڑ گولی باری شروع ہوگئی۔ ہیلی کاپٹر نے پھر اڑان بھری لیکن اڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد وہ گر گیا۔ وہیں دوسرے ہیلی کاپٹر بھی اڑ رہے تھے۔ اس درمیان نیٹو کے ایک ترجمان نے بتایا کہ دراصل ہوا کیا ہے اس سلسلے میں وہ موزوں بیان وقت آنے پر دیں گے۔
ادھر طالبان کے ترجمان نجیب اللہ مجاہد نے کہا کہ اس کی تنظیم ہیلی کاپٹر کو مار گرانے کیلئے ذمہ دار ہے۔ اس نے کہا کہ یہ امریکی یونک (ہیلی کاپٹر) تھا ۔ اس نے امریکی کارروائی میں آٹھ دہشت گردوں کے مرنے کی بات کہی ہے۔ حالانکہ مغربی فوج کے ایک ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ ایک مخصوص قسم کا ہیلی کاپٹر ہے جس کا استعمال افغانستان میں نیٹو فوجیوں کو لانے اور مال لیجانے کے لئے کیا جاتا ہے۔
طالبان نے اسامہ بن لادن کی 2 مئی کو پاکستان کے ایبٹ آباد شہر میں کئے گئے قتل کا ایک طرح سے بدلہ لے لیا ہے۔ اس 160 ویں اسپیشل آپریش ایوی ایشن ریجمنٹ کے نیوی سیل کے فوجیوں نے لادن کو مار گرایا تھا۔ اسامہ کو مارنے والے اسکواڈرن کا نام گولڈ اسکواڈرن اور سیل ٹیم 6 بھی رکھا ہوا تھا۔ کہا جارہا تھا کہ یہ ہیلی کاپٹر کسی مخصوص مشن پر گیا تھا اس لئے اس میں امریکی فوج کے سب سے بڑے فوجی یونٹ کے نیوی سیل شامل تھے۔ طالبان نے اسے راکٹوں سے اڑایا۔ امریکہ کے لئے یہ بہت بڑا نقصان ہے۔ 2001ء سے اب تک یہ واحد سب سے بڑی ٹریجڈی مانی جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔
Tags: America, Anil Narendra, Daily Pratap, Osama Bin Ladin, Taliban, Vir Arjun

12 جولائی 2011

کراچی میں دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم



Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 12th July 2011
انل نریندر
پاکستان کے شہر کراچی میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ پاکستان کی کاروباری مانے جانے والی راجدھانی کراچی میں پچھلے پانچ چھ روز سے جاری تشدد میں ہزاروں خاندان پھنس گئے ہیں۔ کئی مقامات پر پھنسے لوگوں کو نیم فوجی فورس کی مدد سے علاقوں سے نکالا گیا ہے۔ حالات اتنے خراب ہوگئے ہیں کہ جمعہ کے روز حکومت نے دیکھتے ہی گولی مارنے کا فرمان جاری کردیا ہے۔ اس کے باوجود تشدد رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اب تک مرنے والوں کی تعداد100 کے پار ہوچکی ہے۔ تشدد زدہ علاقوں میں ہزاروں لوگ اپنے گھروں میں بند ہیں اور وہ محفوظ مقامات کے لئے باہر نہیں نکل پا رہے ہیں۔ فسادیوں کے ذریعے راکٹ داغنے اور گولہ باری سے ملک کی کمرشل راجدھانی میں پانچ دن سے تمام کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہیں۔ کئی مقامات پر پھنسے ہوئے لوگوں نے مقامی ٹی وی چینلوں کو بتایا کہ انہوں نے چار دنوں سے کچھ کھایا پیا نہیں اور سڑکیں بند ہونے سے مسلسل گولیاں چل رہی ہیں جس وجہ سے وہ محفوظ مقامات کی طرف نہیں جا پارہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے ایم کیو ایم (مہاجر قومی موومنٹ) نے تشدد کے خلاف ایک دن کا ’یوم ماتم‘ کا اعلان کیا تھا۔ اس کے باوجود زیادہ تر دکانیں بند رہیں اور لوگ گھروں سے نہیں نکلے۔ پاکستان انسانی حقوق کمیشن کی حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس برس جون تک کراچی میں1138 لوگ مارے گئے ۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے تشدد کو کنٹرول کرپانے میں ناکام رہنے کیلئے پاکستان حکومت کی مذمت کی ہے۔
کراچی میں تازہ تشدد کے کئی اسباب ہیں۔ ایم کیو ایم کی جانب سے حکمراں محاذ چھوڑنے کے بعد حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی ) کے ساتھ ٹکڑاؤ بڑھ گیا ہے۔ اس کے بعد اقتدار میں شامل پشتو زبان بولنے والی اے ایم پی حمایتیوں اور اردو زبان بولنے والے ایم کیو ایم حمایتیوں میں نسلی جھگڑا شروع ہوگیا ہے۔ 1947ء میں بھارت سے مہاجرین کی شکل میں پاکستان آئے تھے۔ اردو بولنے والے مسلمانوں کو پاکستان میں اتنے برس گذرنے کے باوجود آج بھی مہاجر کہا جاتا ہے۔ مہاجروں کی قیادت ایم کیوایم کرتا ہے۔ مہاجر اپنے ساتھ دوہرے برتاؤ کے سبب شروع سے ہی پشتونوں اور پنجابیوں کے ساتھ لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ادھر پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے پچھلے پانچ دنوں سے کراچی کو دہلادینے والے تشدد کے واقعات کے لئے طالبان کو ذمہ دار قراردیا ہے۔ ان واردات میں کم سے کم اب تک 100 لوگوں کی جانیں تلخ ہو چکی ہیں۔ رحمان ملک نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کہا کہ لوگوں کو دہشت اور کشیدگی میں پہنچانے کیلئے پاکستان میں سرگرم طالبانی لوگ بھی ذمہ دار ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’’طالبان نے اپنے خلاف سکیورٹی فورس کے آپریشن کے دوران کچھ مقامات کو خالی کردیا لیکن پولیس اور قانون پر تعمیل کرنے والی ایجنسیاں ان کی تلاش کررہی ہیں۔ ‘‘ ملک نے دعوی کیا کہ کراچی کے شمالی حصے میں طالبان کا نیٹ ورک سرگرم ہے۔ وہ دیش کے سب سے بڑے شہر میں آتنک واد کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ آج اگر کراچی جل رہا ہے تو اس کے لئے پاکستان حکومت اور ان کی پالیسیاں ذمہ دار ہیں۔ تشدد کے چلتے پاکستان کے سب سے بڑے کاروباری شہر کراچی کو زبردست اقتصادی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ جیو نیوز نے خبردی ہے کہ کراچی میں کاروباری ادارے بند رہنے سے ہر روز 10 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے۔جیسے بیج بوؤ گے ویسی ہی فصل کاٹو گے۔ اگر کراچی کا حال بد سے بدتر ہوتا جارہا ہے تو اس کے لئے خود پاکستان ذمہ دار ہے۔
Tags: Amnesty International, Anil Narendra, Daily Pratap, Karachi, MQM, Pakistan, Taliban, Terrorist, Vir Arjun

24 جون 2011

پاکستانی فوج میں انتہا پسندوں کے حمایتی افسر

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
24جون 2011 کو شائع
انل نریندر
حال ہی میں جب کراچی کے مہران ایئر فورس کے بیس پر حملہ ہوا تھا تبھی میں نے اسی کالم میں لکھا تھا کہ ضرور پاکستانی فوج کے کچھ آدمی دہشت گردوں سے ملے ہوئے ہیں۔ دراصل پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی میں ایک گروپ آتنکیوں کا حمایتی ہے۔ اس کے کئی ثبوت پہلے بھی مل چکے ہیں۔ آئی ایس آئی، پولیس ہیڈ کوارٹر، فوج کے کیمپوں پر حملے یہاں تک کہ سابق صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے یہ سبھی ثابت کرتے ہیں کہ پاکستانی فوج کے افسر ان دہشت گرد تنظیموں کے رابطے میں ہیں جو انہیں اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔ تازہ ثبوت اب خود پاکستانی فوج نے دے دیا ہے۔ فوج کے ایک برگیڈیئر رینک کے سینئر افسر کو آتنکی تنظیم سے تعلق رکھنے کے شبے میں گرفتار کیا جاچکا ہے۔ گرفتار برگیڈیئر اب تک کے سب سے سینئر افسر ہیں جنہیں آتنکیوں سے سانٹھ گانٹھ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے کئی چھوٹے رینک کے افسروں کو پکڑا جا چکا ہے۔ گرفتار برگیڈیئر علی خان راولپنڈی میں واقع فوج کے ہیڈ کوارٹر میں تعینات تھا۔ فوج کے چیف ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے منگلوار کو بتایا کہ برگیڈیئر خان کو ممنوعہ کٹر پسند اسلامی تنظیم حزب التحریر(آزادی کی جماعت) کے ساتھ رابطہ رکھنے کے سبب حراست میں لیا گیا ہے۔ برگیڈیئر خان آتنکیوں سے رابطہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کئے گئے اب تک کے سب سے بڑے افسر بتائے جاتے ہیں۔ بی بی سی نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے فوج کے چیف جنرل اشفاق کیانی نے خود خان کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔ عباس نے بتایا کہ فی الحال خان سے فوج پوچھ گچھ کررہی ہے حالانکہ ابھی تک خان کے خلاف کوئی باقاعدہ چارج شیٹ تیار نہیں کی گئی ہے لیکن فوج کی اسپیشل برانچ اس معاملے کی تفتیش کررہی ہے۔ غور طلب ہے کہ صحافی سلیم شہزاد نے مہران بحری اڈے پر آتنکی حملے کے بعد انکشاف کیا تھا کہ پاکستانی فوج میں آتنکی طاقتیں سرگرم ہیں۔ بعد میں شہزاد کا قتل ہوگیا۔
قابل ذکر ہے کہ حزب التحریر نے مسلم دنیا میں خلیفہ شاہی کے قیام کے لئے ایک مہم چلا رکھی ہے۔ وہ پاکستان اور افغانستان میں امریکہ کی لیڈر شپ والی غیر ملکی فوجوں کی کارروائی کے بھی خلاف ہیں۔ تنظیم کی جانب سے پاکستانی فوج میں دراندازی کرنے کی بھی کوششیں کی جارہی ہیں۔ بلوچستان کے امسی ہوائی ٹھکانے پر حملے کے لئے بھی اسی تنظیم کو ذمہ دار مانا جاتا ہے۔ پچھلے سال دو افسروں کا کورٹ مارشل اس لئے بھی کیا گیا تھا کیونکہ ان کی اس تنظیم سے وابستگی تھی۔ 2004 ء میں کئی چھوٹے عہدوں کے افسروں کو پرویز مشرف پر حملے میں شامل ہونے کے الزام میں سزا دی گئی تھی۔ برگیڈیئر خان کی گرفتاری سے ثابت ہوتا ہے کہ آتنکیوں نے کس حد تک پاکستانی فوج و آئی ایس آئی میں گھس پیٹھ قائم کرلی ہے۔
Tags: Al Qaida, Anil Narendra, Daily Pratap, ISI, Islamabad, Karachi, Mehran Aira Base, Pakistan, Parvez Musharraf, Taliban, Terrorist, Vir Arjun

22 جون 2011

افغانستان میں 10 سال پہلے امریکہ گھسا کیوں تھا؟

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
22جون 2011 کو شائع
انل نریندر
افغانستان میں تیزی سے سیاسی حالات بدل رہے ہیں۔ امریکہ نے اب وہاں سے بھاگنے کے اقدامات پر عمل کرنا شروع کردیا ہے۔ حالیہ دنوں میں دو خبریں ایسی آئی ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ وہاں کچھ کھیل چل رہا ہے۔ پہلی خبر جو آئی تھی وہ یہ کہ بھارت سمیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سبھی 15 ممبردیشوں میں پابندیوں کے لحاظ سے ایک ایسی فہرست کو منظوری دی ہے جس میں طالبان اور القاعدہ کو الگ الگ نظریئے سے دیکھا جائے گا۔ اس کا مقصد طالبان اور افغانستان میں صلاح کرانے کی کوششیں بتائی جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں سکیورٹی کونسل نے گذشتہ جمعرات کی رات مکمل اکثریت سے ریزولیشن پاس کئے ہیں۔ ان میں پابندیوں کو لیکر طالبان کے لئے القاعدہ سے الگ فہرست بنانے کی بات کہی گئی ہے۔ اس اہم قدم کے بعد القاعدہ اور طالبان آتنکیوں کو الگ الگ پیمانوں میں تولا جائے گا۔ دوسرا واقعہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی کا یہ کہنا کہ امریکہ طالبان سے بات چیت کررہا ہے، اس بارے میں پہلی بار سرکاری طور پر توثیق ہوئی ہے۔ کرزئی نے کابل میں ایک کانفرنس میں کہا طالبان کے ساتھ بات چیت شروع ہوگئی ہے اور اچھی پیشرفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی فوجیں خاص کر امریکہ خود ہی بات چیت کرارہا ہے۔ امریکہ میں لیڈر شپ میں افغانستان میں جاری جنگ10 ویں سال میں داخل ہوگئی ہے اور وہاں پر لڑائی کے سیاسی حل کی آوازیں بھی تیز ہونے لگی ہیں۔
افغان صدر حامد کرزئی نے جو انکشاف کیا ہے وہ افغانستان کے لئے جتنا خطرناک ہے اتنا ہی امریکہ کے مفاد پرمبنی ہے اور یہ دوہرے پن کا ایک ثبوت بھی ہے۔ افغانستان کے خلاف امریکہ نے آخر جنگ کیوں چھیڑی تھی؟ جہاں تک ہم سمجھ سکے ہیں 9/11 حملے کے لئے القاعدہ اور طالبان کو ذمہ دار مانتے ہوئے انہیں سبق سکھانے کے لئے یہ جنگ چھیڑی گئی تھی۔ پچھلے10 برسوں میں پہلے تو امریکہ نے اسی طالبان حکومت کو اقتدار سے معذول کیا تھا اور اب وہی طالبان اسے اچھے لگنے لگے ہیں اور ان سے دوبارہ اقتدار سنبھلوانے کی تیاری ہورہی ہے۔ ہم صدر براک اوبامہ اور امریکہ کی مجبوری کو سمجھ سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ اعلان کررکھا ہے کہ 2014 ء ادطعرتتک افغانستان سے امریکی فوج کی پوری واپسی ہونی ہے اس لئے اناً فاناً میں مسئلے کا حل نکالنا چاہتے ہیں۔ اسی کے تحت طالبان سے بات چیت شروع کی ہے جو حالانکہ ابھی ابتدائی دور میں ہے۔ امریکہ کے کٹھ پتلی ادارے اقوام متحدہ نے طالبان اور القاعدہ پر اس لئے پرانا سسٹم روکتے ہوئے جو پیغام دیا ہے اس کا لب لباب یہ ہی ہے کہ اگر القاعدہ کا ساتھ چھوڑ کر طالبان افغانستان کا دوبارہ تعمیر نو میں معاون بنتا ہے تو اسے معافی دے دی جائے گی۔ ہمیں تھوڑا تعجب اس بات پر بھی ہوا ہے کہ آخر بھارت نے کیا سوچ کر سلامتی کونسل کے ریزولیشن پر اپنی مہر لگائی تھی۔ بھارت کی نظروں میں یہ طالبان ایک اچھی تنظیم بن گئی ہے جس سے بھارت کو اب کوئی خطرہ نہیں ہے؟ سوال یہ نہیں کہ طالبان کیسا ہے، سوال یہ ہے ایک آتنکی تنظیم جس نے اپنا ایجنڈا عام کردیا ہو، ا س سے آپ سمجھوتے کی بات کررہے ہوں وہ بھی بکواس شرطوں پر؟ معاملہ تو یہ ایک آتنکی تنظیم سے بات چیت کر امریکہ نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے اس کے تمام فیصلوں کے پیچھے صرف اسکا اپنا مفاد ہوتا ہے۔ اسے اس بات کی قطعی پرواہ نہیں کہ اس گھوٹالے کا بھارت، پاکستان، ایران ملکوں پر کیا اثر پڑنے والا ہے؟ نہ ہی اسے اب عالمی آتنک واد سے کوئی لینا دینا ہے اور نہ ہی کوئی سروکار۔ اس لئے بات چیت میں افغان سرکار کو شامل نہیں کیا گیا۔ خود افغانی مانتے ہیں کہ یہ انتہائی خطرناک قدم ہوگا اور ملک پھر2001 ء سے پہلے کے حالات میں چلا جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا سیدھا نقصان بھارت کو بھی ہوگا۔ بھارت کے ذریعے افغانستان میں جاری مختلف تعمیراتی اسکیموں کو جھٹکا لگے گا۔ اس سے کرزئی حکومت کی ساکھ اور طریقہ کار اور مستقبل پر نامناسب اثر پڑے گا۔ لیکن امریکہ کو ان سب سے کیا لینا دینا۔ اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہوگی کہ ایک دہائی پہلے جو امریکہ ’وار آن ٹیرر‘ کا نعرہ دیکر افغانستان میں اس لئے داخل ہوا تھا کہ القاعدہ اور طالبان کو وہ ختم کرسکے، آج وہ اسے نہیں آتنکیوں کے حوالے کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے تاکہ افغانستان سے اسے بھاگنے کا راستہ مل جائے؟
Tag: 9/11, Afghanistan, Al Qaida, America, Anil Narendra, Daily Pratap, India, Iran, Osama Bin Ladin, Pakistan, Security Council, Taliban, UNO, USA, Vir Arjun

01 جون 2011

پاکستان کا تو وجود ہی خطرے میں پڑنے لگا


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

1جون 2011 کو شائع
انل نریندر
پاکستان کا تو وجود ہی خطرے میں پڑنے لگا ہے کیونکہ طالبان نے خبردار کردیا ہے کہ پاکستان کے نیوکلیائی ٹھکانوں پر حملے کرنے کاکوئی منصوبہ نہیں ہے ان کا تو مقصد پاکستان کے نیوکلیائی ہتھیاروں سمیت ملک پر قبضہ کرنے کا ہے۔ طالبان نے اسامہ بن لادن کے مارے جانے کا بدلہ لینے کیلئے پاکستان میں تشدد پر مبنی مہم چھیڑ رکھی ہے۔ طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کہا کہ طالبان کا اب مقصد پاکستان اور اس کے ہتھیاروں پر قبضہ کرنا ہے۔ کراچی کے بحریہ کے بڑے اڈے پر طالبان نے پورے تال میل کے ساتھ حملہ کیا تھا۔ ایک انگریزی جریدے ’دی وال اسٹریٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق جب اس مسئلے پر میگزین کے نمائندے نیطالبان کے ترجمان سے ٹیلی فون پر بات کی تو احسان نے کہا پاکستان نیوکلیائی اہلیت رکھنے والا واحد مسلم ملک ہے اور طالبان کا ارادہ ہتھیاروں کو تباہ کرنے کا نہیں بلکہ پورے ملک اور نیوکلیائی ہتھیاروں کو اپنے قبضے میں لینے کا ہے۔
طالبان کی دھمکی کو معمولی طریقے سے نہیں لیا جاسکتا۔ پچھلے دنوں کراچی کے بحری اڈے مہران پر مٹھی بھر آتنک وادیوں کو کامیابی اس لئے ملی کیونکہ پاکستانی فوج میں طالبان نواز افسران بیٹھے ہوئے ہیں۔ پاکستانی بحریہ کے ساتھ غیر فوجی مبصر عائشہ صدیقی نے ڈان اخبار کے ساتھ ایک بات چیت میں کہا کہ بحریہ کا یہ اڈہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ بحریہ اور ایئر فورس دونوں میں انتہا پسندوں کی پوری طرح گھس پیٹھ ہے۔ وہ کہتی ہیں بحریہ میں آتنک وادیوں کی گھس پیٹھ ایک پرانی داستان ہے۔ عائشہ کا یہ تبصرہ ایسے وقت آیا جب ڈیفنس ماہرین کا تجزیہ ہے کہ پاکستانی بحریہ و ایئر فورس اور بری فوج تینوں میں طالبان داخل ہوچکے ہیں تو مہران ہوائی اڈے پر ان کی مدد سے ہی طالبان کویہ حملہ کرنے میں مدد ملی۔ جس جگہ حملہ ہوا تھا اس سے مشکل سے 24 کلو میٹر دور نیوکلیائی ہتھیاروں کا ڈپو تھا۔ پی این ایس مہران پاکستان کے سب سے اہم بحری ایئر بیس میں سے ایک ہے۔ بغیر اندرونی شخص کی مدد کے آتنک وادیوں کو اس اڈے میں ایئر کرافٹ کی موجودگی کا پتہ نہیں لگ سکتا تھا۔ جس طرح سے وہ دو گھنٹے ڈٹے رہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پختہ معلومات کے ساتھ آئے تھے۔
آج جب پاکستان خانہ جنگی جیسے حالات سے لڑ رہا ہے تو طالبان کی دھمکی ایک ڈراؤنی حقیقت میں نہ بدل جائے؟ پردے کے پیچھے پاکستان میں اصل اقتدار چل رہا ہے۔ پاک فوج آتنکیوں کے مقابلے پست نظر آرہی ہے۔ عام پاکستانی نہ توفوج پر اب یقین رکھتا ہے اور نہ ہی پاکستانی سیاستدانوں پر۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سرکاراسلام آباد سمیت مٹھی بھر بڑے شہروں تک محدود رہ گئی ہے۔حالات اتنے خراب ہیں اس کا اندازہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی وارننگ سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ ہمیشہ بات چیت سے مسائل کو سلجھانے کی پہل کرنے والے منموہن سنگھ کو پڑوسی دیش کو سنبھل کر چلنے کی وارننگ دینی پڑی۔ پاکستان کو طالبانی ہاتھوں میں جانے سے فی الحال صرف امریکہ ہی روک سکتا ہے۔ امریکہ کی دونوں پاکستان اور افغانستان میں موجودگی ہے اس سے پہلے کے طالبان کے ہاتھ پاکستانی ایٹمی ہتھیار لگیں امریکہ کو بلا تاخیر ان ہتھیاروں کو اپنے قبضے میں لے لینا چاہئے۔ ایسا کرنے کے بعد کم سے کم ایک بہت بڑا خطرہ تو ٹلے گا اور بعد میں دیکھا جائے گا۔
Tags: Anil Narendra, Asif Ali Zardari, Daily Pratap, ISI, Manmohan Singh, Nuclear Arms, Osama Bin Ladin, Pakistan, Taliban, Vir Arjun, Yousuf Raza Gilani

25 مئی 2011

جیسے بیج بوؤگے ویسی ہی فصل کاٹوگے!

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

25مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
پاکستان کے اندرونی حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں، شاید ہی اب کوئی دن ایسا جاتا ہو جب وہاں دہشت گردانہ واقعات نہ ہوتے ہوں۔ ایتوار کی رات کو پاکستانی ساحلی شہر کراچی میں انتہائی محفوظ مانا جانے والا ایک بحریہ کا ایئر بیس مہران ہوائی اڈے پر دہشت گردوں سے زبردست حملہ کیا۔ سکیورٹی فورس سے16 گھنٹے مڈ بھیڑ چلی اور تب جاکر پاکستانی کمانڈو نے ان دہشت گردوں پر قابو پایا اور اس ہوائی اڈے کو آزاد کرالیا۔ اس حملے میں 10 سکیورٹی جوان اور4 آتنکی مارے گئے۔ مڈ بھیڑ کے درمیان چار دہشت گردوں نے خود کو اڑالیا۔ کراچی کا یہ حملہ ممبئی میں26/11 حملے جیسا ہی تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ وہ حملہ بہت بڑا تھا اور طویل چلا تھا، لیکن یہ حملہ چھوٹا اور جلد ختم ہوگیا۔ یہ حملہ اس لئے بھی زیادہ سنگین ہے کیونکہ ایک فوجی ایئر بیس پر حملہ ہوا ہے اور یہاں گھس کر تقریباً15 گھنٹے تک سکیورٹی فورس کا مقابلہ کرکے طالبان نے پاکستانی اقتدار اور فوج کو سنگین چیلنج کیا ہے۔ پاکستان میں فوج ، آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر، پولیس عمارتیں، ملٹری کالج تقریباً سبھی محفوظ ٹھکانے آتنک وادی حملوں کا شکار ہوچکے ہیں۔ راولپنڈی میں واقع فوج کے ہیڈ کوارٹر پر اکتوبر2009 میں ہوئے حملے کے بعد یہ سب سے خطرناک حملہ تھا۔
یہ حملہ اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ ٹھکانا ان چنندہ اہم ٹھکانوں میں سے ایک ہے جہاں سکیورٹی انتظام ہمیشہ چاق چوبند رہتے ہیں کیونکہ یہاں پاک فوج سے وابستہ کچھ اہم ادارے ہیں۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پی ایم ایس مہران جہاں آتنکوادیوں نے حملے کو انجام دیا وہ پاکستانی بحریہ اور ایئر فورس کا مضبوط اڈہ ہے۔ یہ پاک بحریہ کا پہلا بحری ایئر اسٹیشن ہے۔یعنی یہ پاکستانی بحریہ کے ہوائی دستوں کا اڑان بھرنے کا ٹھکانا ہے۔ یہ ہی نہیں اس سے بالکل پاس میں واقع پاکستان فیضل ایئر بیس ہے، یہیں پر پاکستانی ایئر فورس کی ساؤتھ کمان موجود ہے۔ اس حملے نے امریکہ کوبھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پاکستان میں سب سے محفوظ مانے جانے والے کراچی کے مہران بحری اڈے کی سلامتی کے انتظام کو بھانپتے ہوئے آتنک وادیوں نے جس طرح سے یہ واردات کی اس سے امریکہ و مغربی ممالک میں یہ خدشہ زیادہ پیدا ہوگیا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار محفوظ نہیں ہیں۔ اور ان ہتھیاروں کا سب سے بڑا حصہ کراچی کے ان ٹھکانوں میں ہی محفوظ رکھا گیا ہے۔ امریکہ کو اب یہ ڈر لگنے لگا ہے کہیں پاکستان کے ایٹمی ہتھیار آتنکوادیوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔ کراچی کا یہ حملہ پاک ایٹمی ہتھیاروں کو اپنے قبضے میں لینے کیلئے طالبان کی یہ ڈریس ریہرسل ہوسکتی ہے۔ آتنکیوں نے سوچا ہو کہ کیوں نہ ہم اس بیس پر حملہ کرکے تجربہ کریں کہ کیا اگلی بار ہم ایٹمی ہتھیاروں کو اپنے قبضے میں لے سکتے ہیں؟
ہمارے بڑے بوڑھے کہتے ہیں جیسا بیج بوؤگے ویسی ہی فصل کاٹو گے۔ پاکستان آج دنیا کی سب سے بڑی ٹیرر فیکٹری بن چکا ہے۔ یہاں بچوں تک کو جہادی بنایا جارہا ہے اور اس کام کے لئے پیسہ دے رہے ہیں سعودی عرب اور متحدہ ارب عمارات۔ پاکستان کے بڑے اخبار ڈان نے وکی لکس کے حوالے سے ایتوار کو یہ خبر دی کہ خلیجی ممالک سے ان تنظیموں کو ہر سال تقریباً10 کروڑ ڈالر کی رقم مل رہی ہے۔ اس رقسم سے پاکستان کی جہادی تنظیمیں اپنے کیمپ چلا رہی ہیں۔ آج پاکستان اپنے بنے ہی جال میں پھنس گیا ہے۔ اسے سمجھ نہیں آرہا ہے کہ وہ کرے تو کیا کرے؟ ادھر کنواں تو ادھر کھائی ہے۔
 Tags: Pakistan, Anil Narendra, Vir Arjun, Terrorist, 26/11, Taliban, ISI, Daily Pratap,

اور اب سعودی حوثیوں میں جنگ

مشرقی وسطیٰ میں ایک طرف امریکہ ایران کی جنگ تھم نہیں رہی ہے وہیں اب نیا مورچہ کھلتا نظر آرہا ہے ۔یہ ہے سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیا...