Translater

07 فروری 2015

ای وی ایم مشینوں پر نظر رکھنے کیلئے 3 ہزاراسپائی کیمرے

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ہندوستان کی جمہوریت اب ان الیکٹرونک ووٹنگ مشین پر بہت کچھ ٹکی ہوئی ہے۔ ووٹنگ اب ان مشینوں کے ذریعے ہی ہوتی ہے اور یہ ای وی ایم صحیح نتائج دیں یہ انتہائی اہمیت کاحامل ہے۔ عام آدمی پارٹی نے ان ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کا الزام لگانا انتہائی افسوسناک ہے۔ عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال نے بدھوار کو پھر سے ای وی ایم میں گڑبڑی کے اندیشے کو لیکر چناؤ کمیشن سے شکایت درج کرائی ہے۔ انہوں نے پولنگ کے لئے استعمال میں لائی جانے والی الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے چھیڑ چھاڑ ہونے کا اندیشہ بھی ظاہر کیا ہے۔ ’آپ‘ کے ترجمان آشیش کھیتان نے کہا کہ ان کی شکایت پر چناؤ کمیشن نے ای وی ایم کے معاملے میں بہت ہی چوکسی برتنے کی یقین دہانی کرائی ہے وہیں ’آپ‘ کی مانگ پر سبھی پولنگ مرکزوں پر ووٹرو ں کی بیداری کے لئے بینر لگائے جانے کی بات بھی مان لی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے چناؤ کمیشن نے کیجریوال سے پوچھا ہے کہ اگر ان کے پاس ای وی ایم میں گڑ بڑی ہونے کے بارے میں کوئی ثبوت ہے تو دیں۔ اس طرح کی بات اٹھانے سے لوگوں میں غلط فہمی پھیل سکتی ہے جو پولنگ کی شرح فیصد کو متاثر کرسکتی ہے۔ خیال رہے کہ کیجریوال نے منگلوار کو پھر سے الزام لگایا کہ بھاجپا کو فائدہ پہنچانے کیلئے ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کی جارہی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا پیر کو دہلی چھاؤنی علاقے میں کئے گئے معائنے کے دوران ایسی گڑ بڑی پائی گئی ہے۔ دہلی کے چیف الیکٹرول آفیسر چندر بھوشن کمار کا کہنا ہے چناؤ سسٹم میں کسی طرح کی گڑ بڑی کی بات کرنا بے بنیاد ہے۔ پورا سسٹم لگا ہوا ہے ای وی ایم کو لیکر کسی طرح کا اندیشہ نہیں رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا ای وی ایم کو لیکر کئی سطح کی جانچ کی جاتی ہے۔ چھاؤنی علاقے میں جانچ کے دوران 7مشینوں میں ہارڈ ویئر کی دقت پیش آئی تھی جس کے بعد سبھی مشینوں کو بدل دیا گیا ہے۔ اس بار چناؤ مشینوں میں 20 ہزار بیلٹ یونٹ اور 15 ہزار کنٹرول یونٹ استعمال کی جائیں گی۔7 فروری یعنی آج70 اسمبلی سیٹوں پر پولنگ میں 36 ہزار ای وی ایم مشینوں کا استعمال کیا جائے گا۔ اس کے لئے دہلی چناؤ کمیشن نے پوری تیاری کرلی ہے۔ چناؤ کمیشن کی تمام یقین دہانیوں کے باوجود عام آدمی پارٹی نے اسپائی کیم سینا تیار کی ہے جو چناؤ سے پہلے اور چناؤ کے دن سبھی اسمبلی سیٹوں پر نظر رکھے گی اور کسی گڑ بڑی کی شکایت چناؤ کمیشن اور پولیس کو دے گی۔ ’آپ‘ کے سینئر لیڈر سنجے سنگھ کا کہنا ہے کہ سبھی70 سیٹوں میں3 ہزار والنٹیئرز کو اسپائی کیمرے دئے گئے ہیں۔ سبھی والنٹیئر کو ہدایت دی گئی ہے کہ کوئی بھی گڑ بڑی دکھائی دینے پر اس کی شکایت فوراً پولیس کودیں۔ غور طلب ہے کہ عام آدمی پارٹی نے پچھلے چناؤ میں بھی اس طرح کی سینا تیار کی تھی۔ بھارت میں منصفانہ آزادانہ چناؤ ہوتے ہیں اور یہ بات ساری دنیا مانتی ہے۔ ہم نہیں مانتے کہ ای وی ایم مشین میں یوں ہی کوئی چھیڑ چھاڑ ہوسکتی ہے۔
(انل نریندر)

آتنکی ہے یا جہادی شیطان بربریت کی حد ہی توڑ دی ہے

عراق اور شام میں سرگرم دہشت گرد تنظیم آئی ایس یعنی اسلامک اسٹیٹ نے اردن کے نوجوان پائلٹ کو زندہ آگ کے حوالے کردیا اور اس گھناؤنے معاملے میں خود شیطان ان سے شرما رہا ہوگا۔ اردن کی ایئر فورس کے پائلٹ موازالقساوہ کو جس طرح سے زندہ جلا کر مارا گیا ہے وہ بربریت کی انتہاہی مانا جائے گا۔ ویسے تو آئی ایس آتنکی تنظیم اپنی بربریت کیلئے بدنام ہے لیکن اب تک اس نے کسی غیر ملکی یرغمال کو اس طرح نہیں مارا تھا۔ اس سے ٹھیک پہلے انہی کے شیطانوں نے جاپان کے دودبنگ صحافیوں کا گلا کاٹ کر دنیا کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ دراصل اس ظلم سے قتل کرنے کے پیچھے کئی وجہ ہیں۔ پہلی یہ کہ سرقلم کرکے اس نے جو قتل عام کیا ہے ان کے سنسنی خیز ہونے اور اس خطرناک تنظیم کو پروپگنڈہ دلوانے کی ہمت کم ہوتی چلی گئی۔ ایسے ابتدائی قتل عام کو جتنا پروپگنڈہ ملا اتنا بعد میں نہیں ملا۔ پھر تمام ملکوں نے زرفدیہ دینے کے معاملے میں سختی برتنی شروع کردی تھی۔ امریکہ اور کچھ دیشوں کی شکایت یہ تھی کہ آسانی سے زر فدیہ دینے والے دیش اس وقت آئی ایس اور ایسی دیگر تنظیموں کی آمدنی بڑھانے کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ ایسے میں زیادہ کٹرتا اور سنسنی خیز طریقے سے قتل کرکے آئی ایس نے زیادہ سے زیادہ پبلسٹی پانے اور زر فدیہ کے لئے زیادہ دباؤ بنانے کی کوشش کی ہے۔ ایک طرف وجہ یہ ہے کہ آئی ایس غیر ملکی یرغمالوں سے بھی خاص طور سے ارب ملکوں کے یرغمالوں کے تئیں زیادہ سختی برتتا ہے۔ جواب میں اردن نے اسلامک اسٹیٹ کے ذریعے سال2005 میں بم دھماکوں کی قصور وار ساجدہ الرساوی سمیت دو دہشت گردوں کو پھانسی پر لٹکا دیا تھا۔ اس نے یہ قدم آئی ایس کے ذریعے بنائے گئے اپنے پائلٹ مواز القساوہ کو زندہ جلانے کے بعد بدلے کی کارروائی کے تحت اٹھایا ہے۔ اسی کے ساتھ اردن کی جیلوں میں بند 6 اور آئی ایس کے دہشت گردوں کو بھی پھانسی دینے کی تیاری کی جارہی ہے۔ قطر میں واقع انٹر نیشنل ایسوسی ایشن آف مسلم اسکالرس نے قساوہ کے قتل کو مجرمانہ حرکت قراردیا ہے۔ تنظیم کے چیف مذہبی پیشوا یوسف القدراوی نے کہا یہ انتہا پسند تنظیم اسلام کی نمائندہ نہیں ہوسکتی۔ اس کی حرکتیں اسلام کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ اردن کے پائلٹ کے بے رحمانہ قتل پر پوری دنیا میں مذمت ہورہی ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بانکیمون نے بھی سبھی حکومتوں سے دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کی کوششوں کو اور تیز کرنے کی اپیل کی ہے۔ دارالعلوم دیوبند نے بھی قساوہ کے قتل کی مذمت کی ہے۔ادارے کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ اردن کے واقعے کی باریکی سے جانچ ہونی چاہئے۔ کہیں ایسا تو نہیں اسلام کو بدنام کرنے کے ارادے سے کوئی تنظیم اسلامی چولا پہن کر ایسے بے رحمانہ قتل عام کو انجام دے رہی ہے۔ اسلام میں جسم کو جلانے کی اجازت نہیں ہے۔ اس قتل کا نتیجہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو عرب دیش ابھی تک آئی ایس کے خلاف کارروائی کرنے میں ڈھیل برت رہے تھے انہیں بھی یہ سمجھ میں آجائے کہ خطرہ صرف ان کے پڑوسی پر نہیں ان پر بھی آ سکتا ہے۔ ہندوستانی نوجوانوں کو بہکا کر آئی ایس بھرتی کررہا ہے اور انہیں بے رحمانہ آتنکیوں میں بدلا جارہا ہے۔ اس گروہ نے ہمارے دیش کو بھی نشانے پر لیا ہے اور اسے خوراساں کا نام دیا ہے۔ اس گروہ میں ٹریننگ کو لیکر لوٹے عارف مجید نام کے لڑکے کا کہنا ہے وہاں درجن بھر سے زیادہ ہندوستانی نوجوان ٹریننگ لیتے دکھائی دئے۔ آئی ایس کے خلاف پوری دنیا کو ایک ہونا پڑے گا اور اسے ختم کرنے کی مشترکہ کوشش ہونی چاہئے۔ صرف متاثرہ دیش ہی نہیں بلکہ سبھی دیشوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
(انل نریندر)

06 فروری 2015

دہلی کے نتائج پر سرکردہ ہستیوں کا مستقبل داؤ پر لگا

کل یعنی7 فروری کو دہلی اسمبلی چناؤکیلئے پولنگ ہونی ہے۔ میں دہلی کے سبھی رائے دہندگان سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ ووٹ ضرور ڈالیں چاہے آپ کسی بھی پارٹی کے امیدوار کو دیں لیکن ووٹ ضرور ڈالنے جائیں۔ یہ ہی ہماری جمہوریت کی سب سے بڑی مضبوطی ہے۔ دوسری اپیل میں یہ بھی کرنا چاہتا ہوں کہ آپ جس پارٹی کو چاہیں اس پارٹی کو واضح اکثریت دیں کہ ہمیں ایک پائیدار اور مضبوط حکومت ملے۔ ایک سال ہم نے دیکھ لیا ہے ایک چنی ہوئی سرکار کا نہ ہونا کتنا نقصاندہ ہوتا ہے ، اس سے سبق لیں اور جس کسی بھی پارٹی کو سرکار میں لائیں لیکن بھرپور اکثریت سے لائیں۔ ویسے دہلی اسمبلی چناؤ محض70 سیٹوں والی اسمبلی کا بن کر نہیں رہ گیا ہے بلکہ دہلی کا جو بھی چناؤ نتیجہ 10 فروری کو ملے گا اس کا بڑا سیاسی اثر پورے دیش میں ہوگا۔ دونوں بڑی سیاسی پارٹیاں بھاجپا اور ’آپ‘ پر بھی ہوگا۔ اگر بھاجپا چناؤ ہار جاتی ہے تو یہ مودی ۔امت شاہ جوڑی کی ہار ہوگی۔ اس سے یہ ظاہر ہوگا کہ مودی کی لہر تقریباً ختم ہوگئی ہے۔ مودی کی مقبولیت سے دہلی چناؤ جیتنے کی حکمت عملی فیل ہوگئی ہے۔ ساتھ ہی بھاجپا کے چانکیہ مانے جانے والے امت شاہ کی خود اعتمادی ٹوٹے گی۔ جہاں تک عام آدمی پارٹی کا سوال ہے اگر کیجریوال اپنی پارٹی کو جتا کر لے جاتے ہیں تو وہ قومی سطح کے لیڈر بن جائیں گے۔ پورا دیش ان کے سکے کو سلام کرے گا۔ انہوں نے وزیر اعظم سمیت پوری بھارت سرکار اور وزرا کو شکست دے دی ہے لیکن اگر وہ چناؤ ہار جاتے ہیں تو ان کے سیاسی کیریئر کو دھکا لگے گا اور ان کو اپنی پارٹی میں بغاوت کا سامنا نئے سرے سے کرنا پڑسکتا ہے۔ آج پورے دیش کی نظر دہلی چناؤ پر کی ہے۔ الگ الگ ریاستوں میں دہلی چناؤ کو کتنے قریب سے دیکھا جارہا ہے اس کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کچھ بڑے فیصلے نتیجے دیکھنے کے بعد ہی لئے جائیں گے۔ کیونکہ چناؤ کے فوراً بعد کوئی دوسرا چناؤ نہیں ہے اس لئے سبھی پارٹیاں اپنی حکمت عملی کا جائزہ لیں گی۔ دہلی کے فوراً بعد بہار میں چناؤ سال کے آخر میں ہونے ہیں۔ ذرائع کی مانیں تو بہار میں جنتا پریوار کے انضمام کو لیکر لیڈر شپ تبدیلی تک کا معاملہ دہلی چناؤ سے متاثر ہوگا۔ جنتا دل (یو) کے ترجمان کے ۔ سی تیاگی نے کہا کہ دہلی میں اگر مودی کا وجے رتھ رکا تو اس کا اثر بہار سمیت پورے دیش پر ہوگا۔ پارٹی کے ایک نیتا نے کہا اگر بھاجپا دہلی جیت گئی تو پھر اس کے لئے بہار کا چناؤ آسان ہوجائے گا۔ اس کے بعد مغربی بنگال میں چناؤ ہونے ہیں ۔ اس ریاست میں بھی دہلی کی طرح پارٹی کے پاس فی الحال کوئی چہرہ نہیں ہے۔ اگر کیرن بیدی کا فارمولہ کامیاب ہوجاتا ہے تو پھر وہاں بھی پارٹی ایک نیا چہرہ پیش کرسکتی ہے۔ دہلی سے ٹھیک بغل میں اترپردیش میں بھی دہلی چناؤ کو قریب سے دیکھا جارہا ہے۔ اترپردیش میں 2017ء میں چناؤ ہونے ہیں۔ سپا اور بسپا کی سب سے بڑی چنتا یہ ہے کہ اگر دہلی میں بھاجپا کامیاب ہوتی ہے تو پھر امت شاہ کی نظر اسی ریاست پر ہوگی لیکن ہارنے کے فوراً بعد راحت مل سکتی ہے۔ کل ملا کر دوررس اثر ہوگا دہلی اسمبلی چناؤ نتیجوں کا۔بہتوں کا مستقبل اس چناؤ پر ٹکا ہوا ہے دیکھیں اونٹ کس کرونٹ بیٹھتا ہے۔ حالانکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھوار کو ایک عظیم الشان ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنتا ان سرووں کے جھانسے میں نہ آئے ، یہ سروے تو مجھے بھی وارانسی میں ہرا رہے تھے۔ انہوں نے اعتماد سے کہا کہ بھاجپا کو ہی مکمل اکثریت ملے گی۔
(انل نریندر)

چناوی فنڈ میں جعلسازی کرنے والی ’آپ‘ پارٹی

دہلی اسمبلی چناؤ سے 4 دن پہلے پیر کو عام آدمی پارٹی ایک بار پھر چناوی چندے کو لیکر سوالوں کے گھیرے میں پھنس گئی۔ عام آدمی پارٹی پر چناوی چندے میں حوالے سے پیسے کے الزام لگے ہیں۔ ویسے چناوی چندے کے معاملے میں سبھی پارٹیاں گناہگار ہیں لیکن عام آدمی پارٹی اور اس کے چیف اروند کیجریوال تو صاف ستھری و ایماندار سیاست کا ڈھنڈورا پیٹتے نہیں تھکتے اس لئے ان پر حوالے سے پیسہ لینے کا سنگین معاملہ بنتا ہے۔ جن کمپنیوں نے انہیں چندے کی موٹی رقم دی ہے ان نہ تو پتے اور نہ دفتر ملے ہیں اور نہ ہی ان کی کوئی حیثیت تھی کہ وہ اتنی بڑی رقم دینے لائق ہوں۔ پھر اس کا انکشاف کسی اپوزیشن پارٹی یا شخص نے نہیں کیا بلکہ ’آپ‘ پارٹی کے رضاکاروں کی بنی جماعت ’عوام‘ نے ہی کیا ہے۔ لہٰذا الزام سچ ہونے کے آثار زیادہ ہے۔ رضاکار تنظیم ’عوام‘ کے مطابق کیجریوال کی عام آدمی پارٹی نے پچھلے سال4 فرضی کمپنیوں سے 2 کروڑ روپے کا چندہ لیا تھا۔ یہ کمپنیاں جھگیوں کے پتوں پر رجسٹرڈ ہیں۔ ان کی کمائی کا کوئی ذریعے پتہ نہیں ہے۔ ’آپ‘ سے الگ ہوئے این جی او آپ والنٹیئر ایکشن منچ (عوام) کے لیڈروں کرن سنگھ اور گوپال گوئل نے ’آپ‘ پارٹی پر سنگین الزام لگائے ہیں۔ دعوی کیا ہے کہ 5 اپریل 2014ء کی رات ’آپ ‘ کھاتے میں چار مشتبہ کمپنیوں نے 50-50 لاکھ روپے ڈالے۔ ان کا کہنا ہے ہیمش پرکاش نامی شخص نے ہی ان چاروں کمپنیوں کے ذریعے چندہ دیا۔ یہ پیسہ لوک سبھا چناؤ میں بیٹے گئے ٹکٹوں کا ہے۔ یہ معاملہ تفصیلی جانچ کا ہے اور دیکھئے دونوں فریقوں نے اس کی مانگ اعلی سطحی طریقے سے کرانے کی کی ہے۔ اس کے بعد پتہ چلے گا کہ اس معاملے میں کتنی سچائی ہے یا بغاوت ہے۔ ’آپ‘ کو اس کے ہی پھندے میں پھنسادینے کی سازش ہے؟ مشکل یہ ہے کہ چناوی چندے کے معاملے میں کوئی بھی سیاسی پارٹی شفافیت کا ثبوت دینے کو تیار نہیں ہے۔ اگر عام آدمی پارٹی کا چندہ لینے کا طور طریقہ شفاف نہیں ہے تو اسے لیکر سوال اٹھیں گے اور اس پارٹی کو ان کا تشفی بخش جواب دینا چاہئے۔ اگر عام آدمی پارٹی چندے کے اس مشتبہ معاملے کا تشفی بخش جواب نہیں دیتی تو اس سے عام جنتا کو یہ ہی پیغام جائے گا کہ وہ جان بوجھ کر کالی کمائی کی سیاست کو چلانا چاہتے ہیں اور ایمانداری اور صاف ستھری سیاست کا ڈھکوسلہ کرتی ہے۔
یہ معاملہ دہائیوں پرانا ہے۔ کب سے یہ مطالبہ ہورہا ہے کہ چناؤ کمیشن پارٹیوں کو ایک اسٹیج پر لاکر ان سے یہ طے کرانے کی کوشش کرے کہ وہ فرضی چندے پر روک لگائیں۔ ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ امیدواروں کے چناؤ لڑنے کا خرچ سرکار برداشت کرتے۔ عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال نے اس الزام کے جواب میں کہا بھاجپا پہلے ہی چناؤ ہار چکی ہے میرے اور ’آپ‘ کے خلاف سازش رچی جارہی ہے۔ اس چناؤ میں دہلی کے لوگوں کا امتحان ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ سچائی کا ساتھ دیں گے اور ’آپ‘ پر زبردست حملہ کرتے ہوئے وزیر مالیات ارون جیٹلی نے الزام لگایا کہ یہ پارٹی ایسی کمپنیوں سے پیسہ لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑی گئی ہے جن کا کوئی کاروبار نہیں تھا۔ جیسا میں نے کہا کہ صاف ستھری شفاف سیاست کرنے کا دعوی کرنے والے کیجریوال بے نقاب ہوگئے ہیں۔
(انل نریندر)

05 فروری 2015

کیا بھاجپاکے سپنوں پر ’آپ‘ پھیرے گی جھاڑو؟

حالانکہ دہلی اسمبلی چناؤ میں ووٹ پڑنے میں مشکل سے دو دن بچے ہیں لیکن پھر بھی کون جیت رہا ہے یہ واضح نہیں ہے۔ اگر مختلف چناوی جائزوں کی بات کریں تو عام آدمی پارٹی دہلی کا چناؤ جیتنے جارہی ہے ہندوستان ٹائمس اور سی فور کے سروے میں آپ کو واضح اکثریت ملنے کے آثار ہیں جبکہ بھاجپا کو ان میں پچھڑتا دکھایا گیا ہے۔27دسمبر سے1 جنوری کے درمیان کرائے گئے سروے میں راجدھانی کی سبھی 70 سیٹوں کے 3578 ووٹروں کو شامل کیا گیا۔ اس کے مطابق عام آدمی پارٹی کو36 سے41 سیٹیں ، بی جے پی کو27سے32 سیٹیں ملنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ ووٹ فیصد کے حساب سے بھی عام آدمی پارٹی بھاجپا سے تین فیصدی آگے ہے۔ ایک انگریزی اخبار دی اکنومک ٹائمس کے لئے پولنگ فرم ٹی این ایس نے جو اوپینین پول کرایا ہے اس سے پتہ چل رہا ہے ’آپ‘ کو اکثریت مل رہی ہے۔ جنوری کے آخری ہفتے میں کرائے گئے اس سروے کے مطابق ’آپ‘ 70 اسمبلی سیٹوں میں سے36 سے40 سیٹیں مل سکتی ہیں اسے49 فیصد ووٹ ملیں گے۔ وہیں بھاجپا کو28 سے32 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ کانگریس کو 2سے4 سیٹوں پر سمٹنا پڑسکتا ہے۔ یہ سروے 16 اسمبلی حلقوں میں3260 ووٹروں کے درمیان کیا گیا ہے۔ نومبر ۔ دسمبر میں کرائے گئے ای ٹی ٹی این ایس پول میں بھاجپا کو 43سے47 سیٹیں ملنے کا اندازہ دکھایا گیا تھا تب ’آپ‘ کو 22-25 سیٹیں ملتی دکھائیں پڑ رہی تھیں۔ اگر ایک منٹ کیلئے ان سرووں کو صحیح مان بھی لیا جائے تو اس سے دو باتیں سامنے آتی ہیں پہلی کہ بھاجپا نے دہلی میں چناؤ کرانے میں دیر کردی۔ انہیں لوک سبھا چناؤ کے فوراً بعد ہی دہلی اسمبلی چناؤ کروا لینا چاہئے تھا۔ جب ہوا مودی اور بی جے پی کے حق میں تھی۔ 9 مہینوں کے صدر راج میں بھاجپا نے جنتا کے لئے کچھ بھی نہیں کیا اور یہ ہی سوچا وزیر اعظم مودی کی مقبولیت پر چناؤ جیت لیں گے۔ مودی کی لہر گھٹتی گئی اور آج بی جے پی کو اتنی مشقت کرنی پڑ رہی ہے کہ وزیر اعظم 19 کیبنٹ وزیر، 150 ایم پی اور3 وزیر اعلی، آر ایس ایس کی پوری فورس اور نہ جانے کتنے اور لوگ دہلی اسمبلی چناؤ میں لگے ہوئے ہیں۔ دوسری بات جو سامنے آتی ہے وہ ہے دہلی میں بھاجپا لیڈر شپ کی ۔ پہلے وجے گوئل کو سائڈ لائن کیا گیا، پھر ڈاکٹر ہرش وردھن کو اس کے بعد ستیش اپادھیائے کو۔ مجبوری میں آخری وقت میں کیرن بیدی کو لانا پڑا۔ لوک سبھا چناؤ کے بعد سے جہاں بی جے پی کمزور پڑتی چلی گئی وہیں اروند کیجریوال اور ان کی پارٹی مضبوط ہوتی چلی گئی لیکن بھاجپا نے ہار نہیں مانی اور آج بھی امت شاہ کہہ رہے ہیں کہ ہم دہلی میں دو تہائی اکثریت سے چناؤ جیت رہے ہیں۔ دہلی میں بھاجپا کی اصلی طاقت تنظیمی ہے ۔ ہاں بیدی کے آنے سے مزید فائدہ ملے گا۔ بھاجپا آخری دور میں اور فائنل سروے کا سہارا لیکر دہلی کے ووٹروں کو لبھانے کی پر زور کوشش میں لگی ہے۔ بھاجپا لگاتار دوڑ دھوپ میں لگی ہے کہ اس کے فائنل سروے میں اسے44 سیٹوں سے زیادہ ملیں گی۔ پہلے بھاجپا نے مشن60 بنایا تھا لیکن جیسے جیسے چناؤ میں عام آدمی پارٹی اور کانگریس کی طرف سے چیلنج ملنے لگا اس کو دیکھتے ہوئیحکمت عملی کے ساتھ ہی سیٹوں کی تعداد میں بھی کمی ہوتی چلی گئی۔ مقابلہ اب سیدھے بھاجپا اور ’آپ‘ کے درمیان ہے۔ وزیر اعظم جہاں ’آپ‘ کے لیڈروں کو اشاروں اشاروں میں نشانہ بنا رہے ہیں وہیں امت شاہ اور سبھی بڑے لیڈر ’آپ‘ کے چیف اروند کیجریوال پر کھل کر تنقید کررہے ہیں۔ بھاجپا مسلسل حکمت عملی میں تبدیلی کرنے پر مجبور ہورہی ہے۔ ریاستی سطح کے لیڈروں کو پیچھے چھوڑ کر چناؤ کے دوران کرن بیدی کو وزیر اعلی کا امیدوار بنایا حالانکہ ہریانہ اور مہاراشٹر میں چناؤ میں بھاجپا نے کسی لیڈر کو بطور وزیر اعلی پروجیکٹ نہیں کیا تھا۔ حکمت عملی کے تحت ہی بھاجپا نے تمام وزرائے اعلی اور ممبران پارلیمنٹ کی فوج اتار دی ہے۔ ذرائع کی مانیں تو وزیر مالیات ارون جیٹلی صبح سے شام و دیر رات تک دہلی بھاجپا کے دفتر میں بیٹھ کر پارلیمانی حلقہ وار اسمبلی سیٹوں کے لئے حکمت عملی بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ بھاجپا جیتے یا عام آدمی پارٹی جیتے ہم تو بس اتنا ہی چاہتے ہیں کہ دہلی میں واضح اکثریت کے ساتھ پائیدار حکومت بنے۔ معلق اسمبلی نہیں چاہئے۔
(انل نریندر)

اوبامہ کے دورہ سے ناخوش چین اور روس کو منانا ضروری ہے

امریکہ کے صدر براک اوبامہ کے دورۂ ہند سے پڑوسی ملکوں کے منہ لٹکے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ ساتھ چین ۔ روس بھی اوبامہ اور مودی کے درمیان بنی کیمسٹری سے پریشان ہیں۔ چین کے سرکاری میڈیا نے لکھا ہے کہ اوبامہ اور مودی کے درمیان کے رومانس کو زیادہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔کیونکہ دونوں ملکوں کی امیدوں کے پورا ہونے سے پہلے ہی کئی مشکل دور کی بات چیت لٹکی ہوئی ہیں۔ چین کے سرکاری اخبار ’گلوبل ٹائمس‘ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ امریکہ اور بھارت میں جوش بھرے ماحول کے درمیان جو رومانس نظر آرہا ہے اس سے دونوں ملکوں کے باہمی رشتوں میں کسی بڑی پیش رفت کی امید نہیں ملتی۔ مضمون میں مزید لکھا ہے کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان اعلی سطح کے دوروں کے دوران اکثر بڑی بڑی باتیں اور معاہدے ہوتے ہیں لیکن دورہ کے ختم ہونے کے بعد ان پر عمل نہیں ہوا ہے اور یہ معاہدے بیانات سے میل نہیں کھاتے۔ اس دورے کے ایسے ہی انجام کی امید ہے۔ اوبامہ کے دورے کو لیکر روس اور چین کی نظریں تھوڑی ترچھی ہونے کی بھنک ہندوستان کو پہلے ہی سے تھی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اوبامہ کے دورہ سے پہلے سشما سوراج کے دورۂ چین کا پروگرام تیار کردیا گیا تھا ساتھ ہی وزیر اعظم مودی کے چین اور روس دورہ کے پروگرام کو بھی بنایا گیا ہے ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق وزیر اعظم مودی مئی کے تیسرے ہفتے میں چین جائیں گے۔ اس کے بعد ان کا پلان روس کا دورہ کرنے کا ہے۔ وزیر اعظم مودی سشما کی تیار کردہ بنیاد پر ہی ان دونوں ملکوں کی حکمت عملی کی کوششوں کو آگے بڑھائیں گے۔ بھارت۔ امریکہ کے مضبوط ہوتے رشتوں سے ناخوش چین نے ایک طرف جہاں اسے سطحی تعلق قراردیا وہیں اس نے اقوام متحدہ میں ہندوستان کی مستقل رکنیت اور نیوکلیائی کلب میں بھارت کی اینٹری میں رکاوٹ ڈالنے کا بھی اشارہ کردیا ہے۔ ساتھ ہی ناخوش چین کنٹرول لائن پر نئے سرے سے تنازعہ کھڑا کرسکتا ہے۔ حالانکہ روس نے اس دوستی پر کھل کر کوئی رائے زنی تو نہیں کی مگر یوکرین کے معاملے میں ہندوستانی اسٹیج سے اوبامہ کی وانی اسے پسند نہیں آئی۔ سابق خارجہ سکریٹری سلمان حیدر نے کہا کہ ڈپلومیسی میں ایک ساتھ آنے اور دو کو ناراض ہونے کا خطرہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔ بھارت کو چین اور روس دونوں کو پیغام دینا ہوگا۔ اس کا اور امریکہ کا رشتہ دونوں ملکوں کی مخالفت پر نہیں ٹکا ہے کیونکہ آنے والے وقت میں بھارت کو اقوام متحدہ میں مستقل رکنیت کے ساتھ ساتھ نیوکلیائی کلب میں اینٹری کیلئے ان دونوں ملکوں کی مدد کی ضرورت پڑے گی۔ ایسے میں اوبامہ کے دورہ کے بعد بھارت کیلئے چین اور روس کو بھی منانے میں معاملے میں ڈپلومیٹک امتحان سے گزرنا ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیسے مودی اس میں کامیابی حاصل کرپاتے ہیں؟ بھارت کے سامنے اس وقت اوبامہ کے دورہ سے چین اور روس کی ناراضگی دور کرنے کی بڑی چنوتی ہے۔ وزیر اعظم نے کیونکہ عرصے تک چین کے سفیر کے کردار اور روس میں واقع بھارت کے سفارتخانے میں کام کرنے کے تجربوں کی وجہ سے جے شنکر کو ان دونوں ہی ملکوں میں ہی کام کرنے کا تجربہ ہے اس لئے جے شنکر کے نام پر پوری طرح ان رشتوں کو بہتر کرانے میں داؤ لگایا ہے۔ امریکہ کی طرح روس بھی بھارت کا اچھا دوست ہے۔
(انل نریندر)

04 فروری 2015

دہلی میں شباب پر پہنچتا سیاسی درجہ حرارت

جیسے جیسے دہلی کے چناؤ قریب آتے جارہے ہیں راجدھانی کا سیاسی درجہ حرارت شباب کو پہنچتا جارہا ہے۔ایتوار کو تینوں سیاسی سرکردہ پارٹیوں نے دہلی میں ریلی کی، اگر وزیراعظم نریندر مودی دوارکا میں تو کانگریس صدر سونیا گاندھی نے بدرپور کے میٹھا پور گاؤں میں گرجیں۔اروند کیجریوال نے ایک پریس کانفرس کر بھاجپا پر تلخ نکتہ چینی کی ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے دوارکا میں ’آپ‘ اور کانگریس پر جم کر نکتہ چینی کی۔ مودی کا کہنا تھا کہ پیٹرول ۔ڈیزل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں اور جنتا کے پیسے اب بچنے لگے ہیں۔ میرے مخالفین کہتے ہیں مودی نصیب والا ہے اس لئے ایسا ہوا ہے۔ مان لیجئے اگر میرے نصیب میں دم ہے تو بدنصیب کو لانے کی کیا ضرورت ہے۔مودی نے کیجریوال کا نام لئے بغیر کہا سرکار چلانا ایک سنجیدہ ذمہ داری ہوتی ہے، بھاگنے سے کام نہیں چلتا۔ ایک سال کے صدر راج میں دہلی 25 سال پیچھے چلی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہلی والوں سے پرارتھنا ہے کہ غلطی سے بھی آدھا ادھورا ووٹ نہ کرنہ۔ ان کا صاف اشارہ 2013ء کے چناؤ کی طرف تھا جہاں اکثریت نہ ملنے سے بھاجپا سرکار نہیں بنا سکی۔ ادھر کانگریس صدر سونیا گاندھی نے بدرپور کے میٹھا گاؤں میں پارٹی کی ریلی میں کہا کہ دیش نعروں سے نہیں چلتا بلکہ اس کیلئے وقف اور جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اپنی پہلی چناؤ ریلی میں انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ 15 سال کے کانگریس عہد میں دہلی کو عالمی شہر بنانے کا حوالہ دیکر مخالفین پر خوب نشانہ لگایا۔ سونیا نے ترلوک پوری میں بھی ایک ریلی کو خطاب کیا۔انہوں نے فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا آج ہم جس مقام پر ہیں اس کی وجہ یہاں کی گنگا جمنی تہذیب ہے لیکن کچھ طاقتیں ہیں جو ترلوک پوری اور دلشاد گارڈن جیسے واقعات کو انجام دیتی ہیں۔ ایسی طاقتوں کو شکست دینی ہوگی۔ سونیا نے دونوں وزیر اعظم مودی اور کیجریوال کا نام لئے بغیر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ایک تو کمپینر ہے دوسرا دھرنے باز ہے
۔ خاص بات یہ بھی تھی کہ ریلی میں پہلی بار دہلی کی سابق وزیر اعلی شیلا دیکشت پر سونیا گاندھی کے ساتھ اسٹیج پر موجود تھیں۔ ’آپ‘ پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال کو اس بات کی تو داد دینی ہوگی کہ اکیلے سرکردہ سیاستدانوں کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں اور اکیلے ہی الزاموں کی بوچھار جھیل رہے ہیں۔ ایتوار کو عورتوں کی سکیورٹی کے معاملے پر مرکزی سرکار اور بھاجپا پر تلخ کٹاش کرتے ہوئے کہا مرکز میں بھاجپا سرکار بننے کے بعد راجدھانی میں عورتوں کے خلاف جرائم بڑھے ہیں۔ خاص طور سے آبروریزی کے واقعات میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے اور چھیڑ خانی کے معاملے بھی بڑھے ہیں۔ عورتوں کو سکیورٹی دلانے کا بھاجپا کا دعوی پوری طرح کھوکھلا ہے۔ مرکزی وزیر کیمیاوی و کھاد نیہال سنگھ پر بدفعلی کا الزام ہے۔ دہلی کے وزیر اعلی کی حیثیت سے پچھلے سال اپنے 49دنوں کے عہد کو یاد کرتے ہوئے کیجریوال نے کہا کہ وہ خود اپنی غلطی کو مانتے ہیں اب کبھی استعفیٰ نہیں دوں گا۔
(انل نریندر)

دنیا میں سب سے زیادہ سرکاری چھٹیاں بھارت میں ہوتی ہیں

اگر ہمیں دیش میں پیداوار بڑھانی ہے جیسا کہ وزیر اعظم نریندر مودی فرماتے ہیں، تو سرکاری چھٹیوں پر کنٹرول کرنا ہوگا۔بھلے ہی یہ سوچا جاتا ہو کہ ترقی پذیر ملکوں میں کام کرنے والے لوگ چھٹیوں سے زیادہ محروم رہ جاتے ہیں لیکن وہاں کے ہالی ڈے کلنڈر الگ ہی کہانی بیان کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہر سال بھارت میں سب سے زیادہ سرکاری چھٹیاں ہوتی ہیں۔ بھارت کے پڑوسی ملک بھی پیچھے نہیں ہیں۔ چین سے لیکر فلپین ،ہانگ کانگ، ملیشیا وغیرہ میں بھی جم کر چھٹیاں ہوتی ہیں۔ 21 سرکاری چھٹیوں کے ساتھ بھارت اس لسٹ میں پہلے نمبر پر ہے۔ اتنا ہی نہیں الگ الگ ریاستوں میں چھٹیوں کی تعداد اور بھی زیادہ ہوتی ہے۔ ایک ٹریول پورٹل کے مطالعہ میں کئی ملکوں کی سرکاری چھٹیوں پر تیار کی گئی ’ووگو‘ نام کے اس پورٹل کے مطابق چھٹیوں کا مزہ لینے میں دوسرا نمبر فلپین کا ہے جہاں سال میں 18 سرکاری چھٹیاں ہوتی ہیں۔ اس طرح چین ،ہانگ کانگ میں17،تھائی لینڈ میں16، ملیشیا ۔ ویتنام میں15، انڈونیشیا میں14، تائیوان اور ساؤتھ کوریا میں13 ، سنگاپور میں 11 ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں10 سرکاری چھٹیاں ہوتی ہیں۔ یوروپی ممالک میں چھٹیوں کا برا حال نہیں مانا جاسکتا۔سوئڈن اور لتھوانیا میں15چھٹیاں دی جاتی ہیں۔ اس کے بعد سلواکیہ میں14 ،آسٹریا ۔بلجیم اور ناروے میں13، فن لینڈ اور روس میں12 چھٹیاں ملتی ہیں۔ حالانکہ اسپین اور انگلینڈ میں زیادہ چھٹیاں نہیں دی جاتیں۔ دونوں ہی دیشوں میں محض18 سرکاری چھٹیاں ہیں۔ اسی طرح امریکہ میں بھی اس سال محض11 چھٹیاں دی جائیں گی۔ اگر بھارت کو صحیح معنوں میں ترقی کرنی ہے تو ان چھٹیوں پر کنٹرول کرنا ہوگا۔ ایک ترقی پذیر ملک اتنی چھٹیاں نہیں کرسکتا۔ چھٹیوں کے علاوہ ہڑتالیں، کام روکو تحریک بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ صرف قومی چھٹیاں ہونی چاہئیں جیسے 26 جنوری،15 اگست وغیرہ۔ مذہب پر مبنی چھٹیاں بندشی ہونی چاہئیں۔اتنی چھٹیوں کے ساتھ جب زیادہ سردی پڑے تو مجبوراً بچوں کے اسکولوں کی چھٹیاں بھی کرنی پڑتی ہیں۔ دیش کے وزیر اعظم خود بھی اتنی چھٹیاں نہیں کرتے۔ صبح8 بجے دفتر میں پہنچ جاتے ہیں اور دیر رات تک کام کرتے ہیں۔ وہ اتنی چھٹیاں نہیں کرتے جتنی بابو کرتے ہیں، منتری بھی نہیں کرتے۔ دنیا کے باقی ملکوں کو دیکھئے کہ 8سے12 چھٹیاں زیادہ سے زیادہ ہوتی ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی اس مسئلے پر توجہ دیں گے اور مناسب فیصلہ کریں گے۔
(انل نریندر)

03 فروری 2015

سٹہ بازار میں اسمبلی چناؤ کو لیکر کنفیوژن

عام آدمی پارٹی کی دھڑا دھڑ ہورہی ریلیوں میں بھیڑ اور بی جے پی کے قریب150 بڑے لیڈروں کی فوج اترنے کے بعد بھی سٹہ بازار شش و پنج میں ہے۔ میں بات کررہا ہوں31 جنوری تک کی اس کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے تابڑ توڑ دو ریلیاں کی ہیں اس سے ماحول بدلا ہے لیکن پی ایم کی ریلیوں سے پہلے سٹہ بازار میں یہ کنفیوژن کے معلق اسمبلی کے اشارے دے رہا ہے۔ دو بڑی وجہ ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق عام آدمی پارٹی پچھلی بار کی طرح قریب آدھی سیٹیں ہار رہی ہے، دوسری کیرن بیدی کو سی ایم امیدوار بنانے اور ٹکٹوں کے غلط بٹوارے کی وجہ سے بی جے پی کے ہی لوگوں نے 18 سیٹوں پر اپنی ہار کی سپاری دے رکھی ہے۔ یعنی اکثریت کے لالے پڑ سکتے ہیں۔ اس حالت میں تین چیزیں بڑا اثر ڈال سکتی ہیں اور پوری تصویر بدل سکتی ہے۔ ایک پی ایم نریندر مودی کی ریلیاں دوسرے مسلم پیشواؤں کے ذریعے کسی ایک پارٹی کے حق میں ووٹ کی اپیل، تین معلق اسمبلی کی امکان سے بچنے کے لئے ایک طبقہ (کانگریس حمایتیوں سمیت) آخر میں بی جے پی کے حق میں ووٹ ۔ بھاجپا کو یہ ڈر ہے کہ قریب 12 فیصدی مسلم ووٹوں کے ایکطرفہ ’آپ‘ کوجانے پر انہیں نقصان ہو سکتا ہے جبکہ کانگریس بھی پچھلے چناؤ میں ملی8 سیٹوں میں سے زیادہ تر مسلم ووٹروں کے ٹوٹنے کی صورت میں اپنے لئے خطرے کی گھنٹی مان رہی ہے۔ دوسری طرف ’آپ‘ فائدے کے لئے مسلم ووٹوں کو ایک طرفہ لانے کی کوشش میں ہے۔ دہلی اسمبلی چناؤ میں مسلم ووٹوں کا پولرائزیشن نہ ہونے پر بھی اقتدار کے قریب اور دور ہونے کا تجزیہ ہوتا رہا ہے۔ 2013 کے چناؤ میں پہلے مسلم ووٹر کانگریس کی طرف اپنی حمایت دکھاتے رہے ہیں 2013 میں چناؤ میں آپ کی طرف بھی تھوڑا مسلم ووٹر گیا تھا تبھی تو کانگریس کونقصان اٹھانا پڑا۔ اب بھاجپا کو ڈر ستا رہا ہے کہ کانگریس اقتدار سے دور رہنے کے امکان کے بیچ کہیں مسلم ووٹر ’آپ‘ کی طرف نہ مڑ جائے۔ ایسا ہونے پر قریب ایک درجن سیٹوں پر ان کا فیصلہ کن ہوگا جبکہ دیگر تین درجن سے زیادہ سیٹوں پر 10-10 ہزار ووٹوں کے ساتھ وہ اثر ڈایں گے۔ دوسری طرف کیرن بیدی کی ایماندار ساکھ اور خاتون ہونے کا بھاجپا کو فائدہ ملے گے21 سیٹوں پر اس کا سیدھا اثر دکھائی دے گا۔ یہ ہی نہیں کیرن بیدی سمیت 7 خاتون امیدواروں کی ہار جیت سے بھی بیدی کے اثر کا جائزہ لیا جائے گا۔ مہلا کارڈ کھیلتے ہوئے بھاجپا نے بیدی سمیت7 عورتوں پر اپنا داؤ لگایا ہے، دیکھنا ہوگا کہ ان 7 سیٹوں میں بھاجپا کتنی سیٹیں جیت پاتی ہے۔ پچھلے اسمبلی چناؤ میں بھاجپا کو ان 7 سیٹوں میں سے محض مہرولی اور کرشنا نگر سیٹ پر ہی کامیابی ملی تھی۔ ڈاکٹر ہرش وردھن ،پرویش ورما جیتے تھے۔ کیرن بیدی کے بارے میں بیشک گمراہ کن پروپگنڈہ ہورہا ہے لیکن ان کے مخالف مانیں گے کہ وہ ایک اچھی و ہونہار لیڈر ہیں جو آسانی سے دباؤ کے آگے نہیں جھکتیں۔ کیرن کے بارے میں گمراہ کن پروپگنڈہ کیا جارہا ہے کہ انہوں نے سورگیہ وزیر اعظم اندرا گاندھی کی گاڑی کا چالان کیا تھا۔ اب ریٹائرڈ اے سی پی نرمل سنگھ نے انکشاف کرتے ہوئے اس داستان کو بیان کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کیرن بیدی اس وقت ڈی سی پی ٹریفک ہوا کرتی تھیں۔ میں نے انہیں پی ایم کی گاڑی کے چالان کے بارے میں بتایا تو انہوں نے مجھے شاباشی دی۔ ایک ہفتے بعد سزا کے طور پر میرا ٹرانسفر ایئر پورٹ پر کردیا گیا لیکن کیرن بیدی نے انہیں چھوڑا نہیں۔ واقعہ اگست 1982ء کا ہے۔ کناٹ پلیس میں میونسپل مارکیٹ کے سامنے جام لگا رہتا تھا، گاڑیوں کے چالان سے دوکاندار پریشان تھے، یہ واقعہ اتفاقی نہیں تھا بلکہ اس مارکیٹ ایسوسی ایشن کے ایک عہدیدار نے مجھے میسج بھیجا کے آج پی ایم او کی گاڑی آئی ہے، چالان کرکے دکھادو۔ گاڑی نمبر تھاDHD1817 ۔ یہ امبیسیڈر کار تھی اور یہ گاڑی اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی استعمال کیا کرتی تھیں لیکن اس وقت وہ بیرون ملک میں گئی ہوئیں تھیں۔دوکاندار نے چیلنج کیا گاڑی اٹھاؤ، میں نے گاڑی اٹھوالی۔ تبھی دوکاندار نے اپنے نام سے چالان کٹوایا اور گاڑی کا نمبر وہی لکھا۔ کیرن نے اپنے ملازم کو نیچا نہیں دکھایا اور اپنی پوری ڈیوٹی ایمانداری سے نبھانے کیلئے پیٹ تھپتھپائی۔
(انل نریندر)

مسلح باغی طالبان کے تئیں امریکہ کے دوہرے پیمانے بے نقاب

پوری دنیا کیلئے دہشت گردی بہت بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ شاید ہی کوئی دیش اس سے بچا رہا ہو۔ دنیا کے ٹھیکیدار امریکہ سے پوری دنیا امید کرتی ہے کہ وہ اس دہشت گردی کے مسئلے سے لڑنے میں اہم کردار نبھائے گا۔ لیکن دکھ سے کہنا پڑتا ہے امریکہ دہشت گردی پر دوہرے موقف اپنائے ہوئے ہے اور ملے جلے اشارے دیتا ہے۔ دہشت گردی کا خاتمہ اگر برسوں سے جاری جنگ کے باوجود نہیں ہو پایا ہے اور حالات بہتر ہونے کے بجائے ٹھنڈے پڑگئے ہیں تو اس کی ایک بڑی وجہ اس کے فوجی کمانڈر امریکہ کا دوہرہ رویہ بھی ہے۔زبانی طور پر بھلے ہی امریکہ دہشت گردی کو نیست و نابود کرنے کا اعلان کرتا رہتا ہے لیکن اس مورچے پر اس کی دورنگی چالوں کی وجہ سے ان کی ایمانداری پر شبہ پیدا ہوتا ہے۔ اس کا تازہ ثبوت امریکہ آئی ایس کو ایک دہشت گرد تنظیم مانتا ہے لیکن افغانستان طالبان اس کی نظر میں معصوم دکھائی پڑتے ہیں اور وہ مسلح لڑاکا مانتا ہے۔ امریکہ افغانستان ۔طالبان کو ایک دہشت گرد گروپ نہیں مانتا۔ واشنگٹن اسلامک اسٹیٹ۔ یعنی آئی ایس کو دہشت گرد گروپ مانتا ہے لیکن طالبان کے بارے میں اس کی یہ رائے نہیں ہے۔ وائٹ ہاؤس کے نائب ترجمان ایرک اسکلوز نے ان دو تنظیموں کے درمیان متنازعہ فرق پیش کیا ہے۔ انہوں نے سوالوں کے جواب میں اخبار نویسوں کو بتایا طالبان ایک مسلح لڑاکا گروہ ہے۔یہ دہشت گردی میں فرق کرنے کی ویسی ہی مثال ہے جس کو امریکہ پہلے بھی پیش کرتا رہا ہے اور دہشت گردی کی فیکٹری پاکستان اب بھی کہہ رہا ہے کہ طالبان کو محض مسلح لڑاکا کہنے کے پیچھے امریکہ کے دو مقصد ہیں۔ پہلا کہ وہ افغانستان سے بھاگنا چاہتا ہے اور ان میں اسے طالبان کی تھوڑی مہربانی درکار ہوگی، دوسرا مقصد شاید یہ رہا ہوگا کہ جب وہ افغانستان سے نکل جائیں طالبان افغانستان کی اشرف غنی سرکار کو کمزور کرنے کی کوشش نہ کرے۔ جو بات امریکہ کو سمجھ میں نہیں آرہی ہے یا اسے سوچ سمجھ کر نظر انداز کررہا ہے کہ طالبان کو ایک مسلح لڑاکا کہنے سے آپ طالبان کو جائز مان رہے ہیں۔ بدقسمتی تویہ ہے کہ اسی القاعدہ اور طالبان کی وجہ سے امریکہ پر اس کا سب سے بڑا آتنکی حملہ ہوا تھا۔ اس بات کو سبھی جانتے ہیں چاہے وہ طالبان ہوں ، القاعدہ ہو یا آئی ایس ہو ، یہ سبھی امریکہ کے سیاسی مقاصد کی پیدائش ہے۔ حیرت یہ ہے کہ جس طالبان کے عہد میں اوسامہ بن لادن کو پناہ ملی تھی 9/11 حملے کی سازش رچی گئی، بامیان میں امن کی سب سے بڑی علامت بودھ کی مورتیوں کو اڑایا گیا اور جس کے ذریعے ہندوستانی طیارے کا اغوا کرنے والوں کو بھرپور درپردہ مدد دی گئی امریکہ کی نظر میں آج وہ صرف لڑاکا تنظیم ہے۔ امریکہ یہ کیوں نہیں سمجھ پا رہا ہے کہ آئی ایس ہو یا القاعدہ ہو یا بوکوحرام ان کی سرگرمی بھلے ہی الگ الگ ملکوں میں جاری ہے لیکن ان کا اہم مقصد تو امریکہ کو نقصان پہنچانا ہے۔ امریکہ ان میں فرق کر ان کی کرتوت کو بھول رہا ہے۔
(انل نریندر)

01 فروری 2015

دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے

دہلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی پوزیشن پر یہ کہاوت کھری اترتی ہے۔ پچھلے سال دہلی اسمبلی چناؤ میں بھاجپا اکثریت سے کچھ سیٹوں سے پیچھے رہ گئی تھی اور نتیجہ یہ ہوا وہ سرکار نہیں بنا سکی۔ایک سال کیلئے دہلی کے شہریوں کو صدر راج جھیلنا پڑا۔ لگتا ہے کہ بھاجپا پردھان امت شاہ کو یہ سمجھ میں آگیا ہے کہ کہیں 7 فروری کو پھر پرانی تاریخ نہ دہرانی پڑجائے اس لئے بھاجپا نے باقی بچے7 دنوں میں اپنی پوری طاقت جھونکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عام آدمی پارٹی سے اس کو زبردست ٹکر ہے اور آج کی تاریخ میں ’آپ‘ کا پلڑا بھاری دکھائی دے رہا ہے۔ بھاجپا پردھان امت شاہ دہلی کی چناوی تیاریوں کو لیکر بیحد ناراض ہیں۔ انہوں نے جمعرات کے روز چناؤ میں اہم ذمہ داری سنبھال رہے پردیش اور مرکزی لیڈروں کی کلاس لے لی اور دو ٹوک کہا جس کے پاس جو ذمہ داری ہے وہ اسی تک محدود رہے۔ چناؤ کے بعد سبھی کے کام کا جائزہ لیا جائے گا۔ 
دہلی پردیش دفتر میں محض15 منٹ کا جائزہ لینے آئے شاہ نے تقریباً2 گھنٹے تک سبھی لیڈروں کی جم کر کلاس لی۔ انہوں نے پردیش کے نیتاؤں کو پھول مالائیں پہننے اور ورکروں کی نمستے لینے میں مصروف رہنے پر بھی ناراضگی جتائی اور کہا کہ ہوا میں اڑنے کے بجائے زمین پر کام کریں۔
اس میٹنگ کے بعد مرکزی وزیر اننت کمار نے کہا کہ دہلی میں دو تہائی اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے لئے ہم نے پوری طاقت جھونکنے کا فیصلہ کیا ہے باقی بچے وقت میں وزیر اعظم مودی کی چار ریلیوں سمیت بی جے پی کی چھوٹی بڑی 250 ریلیاں ہوں گی۔ ان کا کہنا ہے دہلی میں بی جے پی کا چناؤ منشور نہیں جاری کیا جائے گا بلکہ پارٹی کا ویژن ڈاکومینٹ پیش کرے گی۔ بی جے پی دہلی چناؤ کو لیکر کتنی سنجیدہ ہے اس کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ کمپین کی کمان مرکزی وزیر ارون جیٹلی کو سونپ دی گئی ہے۔اس کے علاوہ پارٹی نے دہلی میں کمپین کیلئے بچے ایک ہفتے کے لئے مختلف ریاستوں سے وابستہ 120 ممبران پارلیمنٹ کو اتار کر طوفانی کمپین چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کیرن بیدی کو وزیر اعلی کا امیدوار بنا کر بھاجپا نے اپنی حکمت عملی بدل لی ہے۔
عام آدمی پارٹی کے ساتھ کانٹے کے مقابلے میں ایک بار پھر وزیر اعظم مودی کے نام پر ووٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حالانکہ کیرن بیدی پہلے کی طرح دھواں دھار کمپین کرتی رہیں گی مگر پارٹی لیڈر شپ نے چناؤ کمپین کیلئے اتارے گئے دیش بھر کے لیڈروں کو مودی کے نام پر ووٹ مانگنے کی ہدایت دی ہے۔ 
یہ ہی نہیں اگر مودی کی چار ریلیوں میں توقع کے مطابق بھیڑ اکھٹی ہوئی تو پارٹی ان کی ریلیوں کی تعداد بڑھا سکتی ہے۔ اندرونی سروے میں اقلیتیں ،دلت، سکھ طبقے کے ووٹروں کا عام آدمی پارٹی کے تئیں گہرا جھکاؤ قائم رہنے کے متعلق اعدادو شمار نے پارٹی لیڈر شپ کی تشویش بڑھا دی ہے۔ پارٹی صدر امت شاہ نے نہ صرف محض مرکزی وزرا بلکہ مرکزی لیڈروں کو ایک ایک کرکے اسمبلی سیٹ کی ذمہ داری سونپی ہے بلکہ یہ بھی کہا کہ متعلقہ سیٹ پر ہار جیت کی ذمہ داری طے کی جائے گی۔ بدقسمتی دیکھئے دہلی کے ووٹروں کی نبض ٹٹولنے میں لگے بھاجپا کے حکمت عملی سازوں کی نگاہیں اب کانگریس پر ٹکی ہیں کیونکہ عام آدمی پارٹی اور کانگریس کا ووٹ بینک تقریباً ایک ہے اس لئے اس کی تقسیم کا سیدھا فائدہ بھاجپا کو ملے گا۔ ایسے میں دہلی اسمبلی چناؤ میں بھاجپا کا مستقبل کچھ حد تک کانگریس کی کارکردگی پر ٹکا ہے۔
راہل گاندھی کے روڈ شو اور دہلی میں ہوئی ریلیوں میں بھاری بھیڑ اکھٹی ہونے سے جہاں کانگریسی حکمت عملی ساز گد گد ہیں وہیں بھاجپا امید کررہی ہے کہ دلت مسلم ووٹ کانگریس کی طرف جا سکتے ہیں اس لئے راہل گاندھی کے روڈ شو میں بھاری بھیڑ سے کانگریس کے ساتھ بھاجپا نیتا بھی خوش ہیں۔ دہلی کا درمیانہ طبقے کا کنبہ بھاجپا کے نزدیک مانا جاتا ہے جس میں پچھلے اسمبلی چناؤ میں کیجریوال نے سیند لگادی تھی۔جس کی وجہ سے بھاجپا سرکار بننے سے چوک گئی تھی۔ 
بھاجپا کے تجزیئے کے مطابق تقریباً پانچ فیصد درمیانی کنبے کا ووٹ اس سے دور ہوکر ’آپ‘ کے ساتھ جڑ گیالیکن جلد ہی اروند کیجریوال کا کریز ختم ہوگیا اور چار ماہ بعد ہوئے لوک سبھا چناؤ میں بھاجپا میں لوٹ آیا۔ اس چناؤ میں بھی اس طبقے کی حمایت بھاجپا کو ملنے کی امید ہے اور اس کیلئے بوتھ سطح پر کام کیا جارہا ہے۔ بھاجپا کے ایک لیڈر کا کہنا ہے لوک سبھا چناؤ میں کانگریس کو تقریباً 15 فیصد ووٹ ملا اور بھاجپا کو60 اسمبلی سیٹوں پر بڑھت رہی اگر کانگریس اس بار15 سے18 فیصد ووٹ حاصل کرلیتی ہے تو بھاجپا کو فائدہ ہوگا اور اسے زیادہ سیٹیں ملیں گی لیکن اگر کانگریس کے ووٹ فیصد میں کمی آئے گی تو بھاجپا کو نقصان ہوگاعام آدمی پارٹی کو فائدہ ملے گا۔ 
عورتوں کی حمایت کو لیکر بھی بھاجپا کے حکمت عملی ساز گد گد ہیں۔ ان کا کہنا ہے دیش کی پہلی سابق آئی پی ایس افسر کیرن بیدی کو وزیر اعلی عہدے کا امیدوار بنائے جانے سے مہلاؤں کی حفاظت کے لئے بیدی بہتر طریقے سے کام کریں گی۔ اسی طرح اکالیوں کے ساتھ معاہدہ برقرار رہنے اور سکھ دنگا متاثرین کو معاوضہ رقم بڑھانے اور دہلی کے کئی سکھ لیڈروں کے بھاجپا میں شامل ہونے سے پارٹی کو سکھوں کی حمایت ملنے کی امید ہے۔ جیسا میں نے کہا کہ آج تقریباً مقابلہ کانٹے کا ہے اور عام آدمی پارٹی کا پلڑا بھاری دکھائی دے رہا ہے۔ ایک ہفتے میں امت شاہ کیا پاسہ پلٹ سکتے ہیں؟ دہلی کی عوام کو ایک مکمل اکثریت والی مضبوط سرکار چاہئے،یہ بھاجپا ہی دے سکتی ہے۔ اروند کیجریوال کا بھروسہ زیرو ہے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...