Translater

P. Chidambaram لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
P. Chidambaram لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

18 مئی 2012

2جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں آخری ملزم اے راجہ کی ضمانت

حالیہ برسوں میں دیش کی سیاست میں بھونچال لانے والے 1لاکھ 76 ہزار کروڑ روپے کے 2 جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں گرفتار اہم ملزم اور جیل میں بند آخری ملزم سابق مرکزی ٹیلی کام منسٹر اے راجہ کو آخر کار عدالت سے ضمانت مل گئی۔ دہلی کی تہاڑ جیل میں سوا سال گزارنے کے بعد اے راجہ باہر آکر اگلے دن ہی پارلیمنٹ میں بھی پہنچ گئے۔49 سالہ راجہ کافی خوش دکھ رہے تھے لیکن انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں کھڑے نامہ نگاروں سے کوئی بات چیت نہیں کی۔ اے راجہ کو 2 فروری 2011 ء کو گرفتار کیا گیا تھا۔عدالت نے اے راجہ کو 20 لاکھ روپے کے نجی مچلکہ اور اتنی ہی رقم کے دو بونڈ پر ضمانت دینے کا حکم دیا۔ 
ضمانت ملنے کے بعد راجہ نے کہا کہ ان کے خلاف معاملہ جھوٹا اور من گھرنٹ ہے اور قانون کی بنیاد پر ٹکنے والا نہیں ہے۔2 جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں گرفتاری کے بعد ضمانت کے لئے درخواست نہ کرنا اے راجہ کی ایک سوچی سمجھی چال تھی۔ انہوں نے اس معاملے میں ملزم کم بلکہ ایک پیشہ ور وکیل کی طرح زیادہ کام کیا۔معاملے کی نزاکت اور میڈیا کے اٹینشن کو دیکھتے ہوئے انہوں نے ضمانت کی عرضی نہیں دی اور پورے15 مہینے جیل میں رہے۔ راجہ کو معلوم تھا کہ سی بی آئی نے انہیں پورے کیس کی بنیاد بنا رکھا ہے اور جب بھی ضمانت کے لئے وہ درخواست کریں گے سی بی آئی یہ ہی دلیل پیش کرے گی۔ اس لئے انہوں نے سی بی آئی کو چارج شیٹ داخل کرنے دی۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے چارج شیٹ پر نوٹس لینے اور ٹرائل شروع ہونے کے بعد بھی ضمانت کی عرضی نہیں دی۔ یہاں تک کہ ڈی ایم کے ممبر پارلیمنٹ اور پارٹی سربراہ کی بیٹی کنی موجھی کی ضمانت کے بعد بھی انہوں نے درخواست نہیں دی جبکہ ممبر پارلیمنٹ کو ملی ضمانت ان کی درخواست کی ٹھونس بنیاد بن سکتی تھی۔ انہیں درخواست تب کی جب گذشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے معاملے کے آخری ملزم سابق ٹیلی کوم سکریٹری سدھارتھ بہرا اور پرائیویٹ سکریٹری آر کے بدھولیا کو ضمانت دے دی۔ اس پالیسی کا فائدہ یہ ہے کہ راجہ کے خلاف عدالتوں نے تبصرہ نہیں کیا۔ یہاں تک کہ ضمانت دیتے ہوئے سی بی آئی کورٹ نے کہا کہ راجہ ثبوتوں سے چھیڑ چھاڑ نہیں کرسکتے کیونکہ سبھی ثبوت دستاویزوں کی شکل میں ہیں۔ راجہ کے لئے کورٹ کا یہ مثبت رویہ ہے جو ٹرائل کے دوران ان کے حق میں جائے گا۔ ویسے اے راجہ ضمانت پر ایسے وقت باہر آئے ہیں جب اسپیکٹرم گھوٹالے سے اٹھتی آنچ نے ان کے سابق ٹیلی کوم منسٹر دیاندھی مارن اور وزیر خزانہ پی چدمبرم تک کو اپنی زد میں لے لیا ہے۔مارن پر الزام ہے کہ ٹیلی کوم منسٹر رہتے انہوں نے ایک دیشی ٹیلی کوم کمپنی ایئرسیل کو ملیشیا کی ایک کمپنی کے ہاتھوں بکنے پر مجبور کیا اور اس کے عوض میں اس ودیشی کمپنی سے قریب 600 کروڑ روپے رشوت کی شکل میں بٹورے۔ لیکن حال کے خلاصے تو اور بھی سنگین ہیں جن میں چدمبرم کے ساتھ ان کے بیٹے کارت چدمبرم کا بھی نام اچھلا ہے اور پتہ چلا ہے کہ اس غیر ملکی کمپنی کو فائدہ پہنچانے کیلئے ملک کے سخت قانونوں کو کیسے طاق پر رکھ دیا گیا۔
پارلیمنٹ میں چدمبرم جب اپنی صفائی میں کہتے ہیں کہ' چاہے میری چھاتی میں خنجر گھونپ دو لیکن ایمانداری پر شک مت کرو' تب انہیں یہ بھی بتانا چاہئے کہ ان کے وزیر خزانہ رہتے ایک غیر ملکی کمپنی دیش کے قانون سے کیسے کھیل گئی؟ بھارت کے قانون سے کھلواڑ کرنے اور سرکار سے دھوکہ دھڑی کرنے کے واضح ثبوتوں کے باوجود کیوں مکسنز کا لائسنس کینسل کردیا۔ اس کے خلاف مقدمہ کیوں نہیں چلایا گیا؟ چدمبرم نے پارلیمنٹ میں صاف انکار کردیا کہ ان کے یا پریوار کے کسی ممبر کے پاس کسی بھی ٹیلی کام کمپنی کے شیئر رہے ہیں۔تب انہیں یہ بھی بتانا چاہئے کہ ایئر سیل ،میکسنز سودے میں ان کے بیٹے کارتک چدمبرم کا نام کن حالات میں اچھلا ہے؟ اے راجہ کی ضمانت پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ملزموں کے وکیل ماجد مینن کا کہنا ہے کہ سی بی آئی کے کیس میں دم نہیں ہے اور وہ عدالت کی سخت جانچ جھیل نہیں پائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جانچ ایجنسی کہہ رہی ہے کہ 2 جی اسپیکٹرم کو بیچنے میں 1.75 لاکھ کروڑ کا گھوٹالہ ہوا ہے لیکن کیا اس کے پاس اس کا کوئی دستاویزی ثبوت ہے۔ ابھی تک کی کارروائی میں سی بی آئی نے اس کا ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔اس سے مجھے ایک راج نیتا کی ایک بات یاد آگئی۔ نیتا نے کہا کہ اگر کوئی سیاستداں کسی بھی الزام میں جیل جانے کو تیار ہے تو وہ صاف بچ سکتا ہے۔ کہیں اے راجہ کا یہی قصہ نہ ہو۔ جیل تو وہ ہو آئے لیکن دیش کو 1.75 لاکھ کروڑ کی ریکوری میں بھی اتنی دلچسپی ہے جتنی سزا کاٹنے میں۔ کیا سی بی آئی اس رقم کو کبھی ریکور کر سکے گی؟
2G, A Raja, Anil Narendra, Daily Pratap, P. Chidambaram, Vir Arjun

22 فروری 2012

ایسی حالت میں تو ہم لڑ چکے آتنک واد کی چنوتی سے



Published On 22nd February 2012
انل نریندر

یہ دکھ کی بات ہے کہ دہشت گردی سے موثر ڈھنگ سے لڑنے کے لئے تیار کئے جارہے نیشنل کاؤنٹر ٹیریرزم سینٹر (این سی ٹی سی) پر سیاسی گرہن لگ گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سلامتی کی کیبنٹ کمیٹی (سی سی اے) نے اس سال11 جنوری کو دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے طاقتور قومی انسداد دہشت گردی سینٹر کی تشکیل کا اعلان کیا تھا۔ یہ ایجنسی یکم مارچ2012ء کو وجود میں آجائے گی۔ یہ دہشت گردی کے خطروں کا پتہ لگانے کے علاوہ تلاشی آپریشن شبے کی بنیادپر لوگوں کو گرفتار کرسکے گی۔ اس کو یہ اختیارات غیر قانونی سرگرمی انسداد قانون کے تحت حاصل ہوں گے۔ دہشت گردی کی سازش کا پتہ لگانا، دہشت گردوں اور ان کے ساتھیوں کا پتہ لگانا اس کا مقصد ہے۔ یہ سی بی آئی ، این آئی اے نیٹ گریٹ سمیت ساتوں سینٹرل مسلح فورسز سے اطلاعات حاصل کرسکے گی۔ اس کا سربراہ ڈائریکٹر کہہ لائے گا جو انٹیلی جنس بیورو ایڈیشنل ڈائریکٹر کے مساوی عہدے کا ہوگا۔ این سی ٹی سی اطلاع اکٹھا کرنے کے لئے دوسری ایجنسی پر منحصر کرے گا۔ آدھے درجن سے زیادہ غیر کانگریسی وزرائے اعلی نے اس مرکز کے قیام پر اعتراض ظاہر کیا ہے اور اندیشہ جتایا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کھڑے کئے جارہے اس یونیفائڈ کمان کا کہیں قتل نہ ہوجائے۔ اس مجوزہ دہشت گردی انسداد مرکز کو ریاستوں کے معاملوں میں مداخلت اور آئین کی مریادا کی خلاف ورزی بتایا جارہا ہے اس پر بھی غور کیا جانا چاہئے کہ این سی ٹی سی نام سے بحث میں آئے اس قومی آتنک واد انسداد مرکز کے خلاف ٹھیک اس وقت آواز بلند ہورہی ہے جب اس کے باقاعدہ کام کرنے کا وقت قریب آگیا ہے۔ کیا یہ محض ایک اتفاق ہے۔ یکم مارچ سے سرگرم ہونے جارہے این سی ٹی سی کے خلاف ریاستی حکومتوں کی سرگرمی یکایک بڑھ گئی ہے۔ چند دن پہلے تک صرف ممتا بنرجی، نوین پٹنائک کو ہی یہ مرکز راس نہیں آرہا تھا لیکن اب سارے بھاجپا حکمراں وزرائے اعلی اور تملناڈو کی وزیر اعلی کو بھی یہ لگنے لگا ہے کہ ریاستوں کے اختیارات پر قبضہ ہونے جارہا ہے۔ ہماری رائے میں اس مرکز کا احتجاج کرنے والوں کی دلیلوں میں بھی دم ہے۔ کچھ معنوں میں تو یہ پوٹا سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ 
بغیر ریاستوں کو اطلاع دئے اس میں کسی کو بھی گرفتار کرنے کی سہولت ہے۔ اس سے ریاستوں کا خوفزدہ ہونا سمجھ میں آتا ہے۔ اس یوپی اے سرکار اور خاص کر وزیر داخلہ پی چدمبرم کی ساکھ اتنی گر چکی ہے کہ ان پر اب کوئی بھروسہ کرنے کو تیار نہیں۔ اگر یہ کرنا ہی تھا تو پوٹا کیوں ہٹایا؟ 26/11 حملوں کے بعد دیش میں ایک ماحول ایسا بنا تھا کہ اگر اسی وقت اس مرکز کو قائم کرلیا جاتا تو شاید اتنا احتجاج نہ ہوتا۔ ادھر یوپی اے سرکار سوتی رہی اور اتنے سال گزر گئے اب آکر اسے ہوش آیا ہے۔ اس احتجاج کی اصلیت میں ریاستوں کی یہ مشکل ہے کہ مرکزی حکومت اس قانون کے تحت اپنا سیاسی ایجنڈا ان پر ٹھونپ سکتی ہے۔ یہ دہشت گردی انسداد نظام مرکز کے خفیہ محکمے انٹیلی جنس بیورو کے تحت چلے گا۔ ان ریاستوں کو اندیشہ ہے کہ سی بی آئی کی طرح اسے بھی کہیں مرکز کی اقتدار پر قابض پارٹی کے مفاد کا ذریعہ نہ بنا دیا جائے۔ ایسی حالت میں تو ہم لڑ چکے آتنک واد سے۔
Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, Mamta Banerjee, NCTC, P. Chidambaram, Terrorist, Vir Arjun

04 فروری 2012

سپریم کورٹ نے سنائے دوررس اہم فیصلے



Published On 4th February 2012
انل نریندر
یقیناًجمعرات کا دن سپریم کورٹ کے لئے بہت اہمیت کا حامل تھا۔ عدالت کو تین معاملوں پر اپنا فیصلہ دینا تھا۔ یہ تینوں ہی بہت اہم تھے جن کے دوررس اثر ہونے والے ہیں۔ جمعرات کو سب سے اہم فیصلہ ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے کا تھا۔ جس پر ملک بیرون ملک کی نگاہیں لگی ہوئی تھیں۔ اس گھوٹالے میں وزیر داخلہ پی چدمبرم کے مبینہ کردار کی سی بی آئی جانچ ، ٹیلی کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کرنے اور ٹو جی معاملے کی نگرانی کے لئے ایس آئی ٹی تشکیل کرنے کے مطالبے پر فیصلہ آنا تھا۔ ان سب کو چھوڑ کر ایک اور اہم واقعہ تھا اس دن اس جج کے ریٹائر ہونے کا آخری دن تھا جنہوں نے 15 مہینوں میں سپریم کورٹ کی اس بینچ کی شوبھا بڑھائی جس نے ہر اس رسوخ دار کو جیل کی ہوا کھلوائی جس کے بارے میں عام آدمی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ میں بات کررہا ہوں جسٹس اے کے گانگولی کی، جن کا اپنے عہد کا آخری دن تھا۔ جمعرات کو جسٹس گانگولی کے بیباک ریمارکس تاریخ میں درج ہوگئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے تینوں اشوز پر اپنا فیصلہ سنا دیا۔ پہلا کمپنیوں کے 122 لائسنس منسوخ کرنا،7 کمپنیوں پر بھاری جرمانہ۔ دوسرا چدمبرم کے معاملے میں فیصلہ نچلی عدالت پر چھوڑنا۔ تیسرا سی بی آئی جانچ کی نگرانی کا کام سی بی آئی کی دیکھ ریکھ میں برقرار رکھنا۔ تینوں فیصلوں کے دور رس اثر ہونا لازمی ہیں۔ بڑی عدالت میں تین کمپنیوں پر پانچ پانچ کروڑ روپے کا جرمانہ تھونکا ہے۔چار کمپنیوں پر 50-50 لاکھ روپے کا جرمانہ لگایا گیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر سرکار کی پالیسی عوامی مفاد کے خلاف ہے تو عدالت اسے منسوخ کرسکتی ہے۔ اپنے دائرہ اختیارکا استعمال کر کورٹ کے اس فیصلے کا مقصد ہے کے اس وقت کے وزیر مواصلات اے۔ راجہ کے وقت میں لائسنس حاصل کرنے والی کمپنیاں متاثر ہوں گی۔ کورٹ نے کہا 10 جنوری2008 ء کو لائسنس منمانے اور غیر آئینی طریقے سے جاری کئے گئے تھے، جنہیں جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ وہیں بڑی عدالت نے پی چدمبرم کے مبینہ کردار کی جانچ کی مانگ پر فیصلہ نچلی عدالت پر چھوڑدیا ہے۔ پٹیالہ ہاؤس میں واقع اسپیشل عدالت کودودن میں فیصلہ سنانے کوکہا گیا ہے ممکن ہے خصوصی عدالت اپنا فیصلہ سنیچر4 فروری یعنی آج سنادے۔بڑی عدالت نے ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی یعنی ٹرائی کو ہدایت دی ہے کہ وہ دو ماہ میں ٹوجی لائسنس الاٹ کرنے کے لئے نئی سفارشیں دے۔ جسٹس جی ۔ایس سنگھوی، جسٹس اے۔ کے گانگولی کی بنچ نے سرکار سے ٹرائی کی سفارشوں پر ایک ماہ کے اندر عمل کرنے کوکہا ہے۔ فیصلے پر اپنی رائے دیتے ہوئے عرضی گذار جنتا پارٹی کے صدر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے کہا یہ سرکار کی اجتماعی ناکامی ہے۔ اس نے وارننگ کو نظرانداز کیا۔ بھاجپا نیتا ارون جیٹلی کا کہنا ہے کہ یہ ایک شخص کا نہیں بلکہ پوری یوپی اے سرکار کا فیصلہ تھا۔ٹرائی کے چیئرمین جے ایم شرما نے کہا اس فیصلے سے پانچ فیصدی لیڈروں پر اثر پڑے گا۔ یعنی اب موبائل کالیں مہنگی ہوجائیں گی یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب اترپردیش اسمبلی چناؤ سر پر ہیں۔ یقینی طور سے اپوزیشن اسے بھنانے کی کوشش کرے گی اور اسے ایک ایسا نیا اشو مل گیا ہے جس سے یوپی اے سرکار کی پریشانی بڑھ جائے گی کیونکہ یہ دور رس فیصلے ہیں ان کے اثر کو سمجھنے میں بھی ٹائم لگے گا۔ لیکن فیصلے سے صنعتی دنیا میں زلزلہ آگیا ہے۔ انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ اتنی بااثر صنعتی کمپنیوں کو یہ دن بھی دیکھنا پڑے گا۔ اس درمیان ایک ٹی وی چینل کے ساتھ بات چیت میں ڈاکٹر سوامی نے کانگریس صدر سونیا گاندھی پر سنگین الزام لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا ٹو جی معاملے میں60 فیصدی رقم سونیا گاندھی نے لی ہے اور اس کا ثبوت ان کے پاس ہے۔ اب سب کی نظریں 4 فروری کو پٹیالہ ہاؤس میں واقع خصوصی عدالت پر ٹکی ہوئی ہیں جس میں پی چدمبرم کی قسمت کا فیصلہ آئے گا۔ چدمبرم کی نجی سیاست اس فیصلے پر ٹکی ہے کچھ حد تک یوپی اے سرکار کا مستقبل بھی اس پر منحصرہے۔ اگر چدمبرم پر مقدمہ چلتا ہے تو یقینی طور سے اس کا اثر منموہن سرکار پر پڑے گا۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ سپریم کورٹ کے ان فیصلوں سے سرکار کیسے لڑتی ہے؟
2G, A Raja, Anil Narendra, Daily Pratap, P. Chidambaram, Sonia Gandhi, Subramaniam Swamy, Supreme Court, Vir Arjun

03 فروری 2012

کرپٹ جن سیوکوں کے خلاف راستہ کھلا


Published On 3rd February 2012
انل نریندر
سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ میں صاف کردیا ہے کہ کرپشن کے الزامات سے گھرے وزراء اور ایم پی و ممبراسمبلی واعلی حکام اب کارروائی کی منظوری لمبی ہونے کی آڑ میں زیادہ دن تک بچ نہیں پائیں گے۔ سپریم کورٹ نے اپنے یہ دوررس فیصلہ جنتا پارٹی کے صدر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی ایک عرضی پر دیا جس میں بتایاگیا تھا کہ کس طرح سے پی ایم او نے اے راجہ کے خلاف کرپشن کامقدمہ مہینوں لٹکا کر رکھا۔ اور کوئی جواب نہیں دیا لوک سیوکوں پر مقدمہ درج کرنے کے لئے میعاد مقرر کرنے سے متعلق ڈاکٹر سوامی کی اس عرضی کو قبول کرلیا اور عدالت نے جہاں مرکزی سرکار کو جھٹکا دیا وہیں اس کے رخ کی دوررس اہمیت یہ ہے کہ اس سے عام آدمی کو کسی بھی عوامی نمائندے کے خلاف وزیراعظم یا عدالت کے پاس جانے کا راستہ کھل گیا ہے۔ بڑی عدالت نے صاف صاف کہا ہے کہ کرپشن انسداد قانون کے کسی بھی عوامی نمائندے کے خلاف شکایت درج عام آدمی کا آئینی حق ہے درصل وزیراعظم دفتر نے سپریم کورٹ میں دائر حلف نامہ میں کہاتھا کہ سوامی کا خط صحیح نہیں تھا کیونکہ سوامی کو طویل عرصے کے بعد پی ایم او سے ملے جواب پر اعتراض تھا۔ اس لئے عزت مآب عدالت نے یہ بھی کہا تھاکہ اگر چار مہینے کے اندر ملزم شخص کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں ملتی تو مان لیا جانا چاہئے کہ متعلقہ اتھارٹی نے اجازت دے دی ہے۔ یہ معاملہ ماہ نومبر 2008کا ہے جب ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں اس وقت کے وزیرمواصلات کے کردار کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے وزیراعظم کو خط لکھ کراے راجہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بارے میں کہاتھا وزیراعظم کے دفتر سے اس کا جواب قریب سولہ مہینے کے بعد مارچ 2010کوملاتھا۔ جس میں کہاگیا تھا کہ ان کی عرضی قبل ازوقت ہے۔ یعنی تب حکومت معاملے کی تہہ میں جانے کی خواہش مند نہیں تھی۔ صرف یہی نہیں ٹوجی گھوٹالے کے متعلق اہم مقدموں کو سوامی عدالت میں لے گئے ہیں۔ یہ بھی کہ سوامی کی پہل کے بعد اے راجہ کو وزارت چھوڑنی پڑی تھی۔ اور ان کی گرفتاری ہوئی سپریم کورٹ اس فیصلے سے وزراء واعلی افسروں کی ایک بڑی سیکورٹی دیوار ضرور ٹوٹ گئی ہے جس کی آڑ میں وہ عام طور پر کرپٹ جن سیوک کرپشن کامعاملہ ہوتے ہوئے بھی بچ نکلتے تھے اب تک ہوتا یہ تھا کہ کسی سرکاری افسر یا عوامی نمائندے کے خلاف کرپشن کا معاملہ درج کرنے سے پہلے سرکار سے اجازت لینی پڑتی ہے اور اکثر ایسی اجازت کی عرضیوں پر یاتو کوئی فیصلہ نہیں ہوتا تھا یا اجازت نہیں دی جاتی ہے اگر اجازت نہ ہونے کی کوئی ٹھوس وجہ نہ ہوتو آسان طریقہ کوئی فیصلہ نہ لیناہوتا تھا۔ تازہ فیصلے نے دوبڑے پیمانے رائج کردیئے ہیں پہلا یہ کرپشن کامعاملہ چلانے کی عرضی کو حکومت یقینی لمبی میعاد تک نہیں ٹال سکتی اور دوسرا ہمارے جمہوریت میں ہر شہری کو یہ حق ہے وہ سرکار پر کرپشن کے معاملوں میں کارروائی کے لئے دباؤ ڈالے یہ ایک دوررس اثر ڈالنے والے اہم فیصلہ ہے۔
 Anil Narendra, Corruption, Daily Pratap, P. Chidambaram, Subramaniam Swamy, Supreme Court, Vir Arjun

23 دسمبر 2011

لوکپال بل پر ٹکراؤ کا پورا امکان ہے


Published On 23rd December 2011
انل نریندر
حکومت اور انا ہزارے کا ٹکراؤ اب ہونا یقینی ہے۔ کیونکہ حکومت نے واضح کردیا ہے کہ نہ تو اسے ٹیم انا سے کوئی ڈر ہے اور نہ ہی اب وہ اس کے سامنے جھکنے کو تیار ہے۔ وہ ٹیم انا سے لمبی لڑائی لڑنے کو بھی تیار ہے۔ یہ وارننگ کانگریس صدر سونیا گاندھی بھی دے کر میدان میں آگئی ہیں۔ انہوں نے معاملے میں پوری کمان سنبھال لی ہے۔ سونیا گاندھی نے لوکپال کو بنیاد بناتے ہوئے انا ہزارے اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کو سیدھا چیلنج کردیا ہے کہ سرکاری لوکپال بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اب انا اور اپوزیشن کو مان لینا چاہئے اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو کانگریس پانچ ریاستوں کے آنے والے چناؤ میں ان دونوں کی چنوتیوں سے نمٹنے اور لمبی لڑائی کے لئے تیار ہے۔ کانگریس پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں جارحانہ تیور دکھاتے ہوئے سونیا گاندھی نے پہلی بار لوکپال پر اپنے نظریات رکھے۔ حکومت اور تنظیم کے درمیان کسی بھی اختلافات کو درکنار کرتے ہوئے صاف کہا یہ بل بہت اچھا بنا ہے اور اسے پاس کرانے میں اپوزیشن کو اڑچن نہیں پیدا کرنی چاہئے اور انا ہزارے کو بھی قبول کرلینا چاہئے۔ لیکن انا ہزارے کو موجودہ شکل میں لوکپال بل منظور نہیں ہے۔ سب سے بڑا اختلاف سی بی آئی اور گروپ سی کے افسر شاہوں کو لوکپال کے دائرے سے باہر رکھنے کو لیکر ہے۔ انا نے اپنی مہم تیز کرتے ہوئے کہا کہ سی بی آئی کو لوکپال کے دائرے سے باہررکھنے کیلئے سرکار کی منشانیتاؤں کو بچانے کی ہے۔ اگر سی بی آئی لوکپال سے باہر رہے گی تو لوکپال کیسے مضبوط ہوگا؟اگر سی بی آئی لوکپال کے ماتحت آجاتی ہے تو وزیرداخلہ پی چدمبرم جیل کے اندر ہوں گے۔ آپ کرپٹ نیتاؤں کو بچا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یہ مضبوط لوکپال ہے۔ ان کا کہنا ہے یہ سرکار لوگوں کو دھوکہ دے رہی ہے۔ جنتا اسے سبق سکھا دے گی۔ انا کا کہنا ہے اگلے سال اترپردیش اور دیگر چارریاستوں میں اسمبلی چناؤ ہونے جارہے ہیں وہاں یوپی اے سرکار کے خلاف مہم چلائی جائے گی۔ بل کو مسترد کرتے ہوئے انا نے کہا الگ سے سٹیزن چارٹر بل لانے کے لئے بھی سرکار نے جنتا کے مفادات کو نظرانداز کیا ہے۔
عام آدمی کو اپنی شکایت کے ازالے کے لئے مجوزہ مشینری کے تحت بے مطلب یہاں وہاں دوڑنا پڑے گا، یہ لوگوں سے دھوکہ ہے۔ ادھر سرکار نے منگلوار کو کرپشن پر روک لگانے کے لئے اپنی حکمت عملی کے تحت لوک سبھا میں سٹیزن چارٹر بل پیش کردیا۔ بل میں ہر شہری کو طے میعاد طریقے سے یکساں خدمات دستیاب تھیں ساتھ ساتھ شکایتوں کے ازالے کا بھی اختیار دیا گیا ہے۔ یعنی سرکاری محکموں میں کونسے کام کتنے دنوں میں ہوں گے ، اس کے لئے کون ذمہ دار ہے یہ پہلے سے بتانا ہوگا۔ ایسا نہ ہونے پرمتعلقہ افسر کے خلاف شکایت کی جاسکے گی۔ ہمیں نہیں لگتا لوک سبھا میں اسی اجلاس میں یہ بل پاس ہوسکے گا؟ کرسمس کی چھٹی کے بعد ایوان کی کارروائی 27،28 اور29 دسمبر تک بڑھانے کو لیکر ممبران میں بھاری اختلاف پایا جاتا ہے۔ کرسمس کے بعد ایوان چلنے کو لیکر خاص طور سے کیرل، اروناچل پردیش کے ممبران کا احتجاج اس لئے ہے کہ انہوں نے پہلے ہی سے سال کے آخر میں گھروالوں کے ساتھ چھٹی منانے اور دیگر پروگرام بنا رکھے ہیں۔ ان میں بیرونی ملک کے دورے بھی شامل ہیں۔
ادھر بھاجپا سمیت دیگر اپوزیشن پارٹیوں کا بھی لوکپال بل پر موقف واضح نہیں ہے۔لوکپال کی کئی شقوں پر اب بھی اتفاق رائے نہیں ہے۔سرکاری ترجمان کہہ رہے ہیں کہ صرف دو دن میں ہی لوکپال پاس ہوسکتا ہے بشرطیکہ اپوزیشن ساتھ دے اور پاس کرانے میں تعاون دے۔ لیکن سرکاری مسودے کو دیکھنے سے پہلے اپوزیشن خاص طور سے بھاجپا کوئی بھی یقین دہانی کرانے کو تیار نہیں تھی۔ دوسری اپوزیشن پارٹیاں بھی اپنے سخت تیور بنائے ہوئے ہیں ایسے میں23 دسمبر تک مفصل بحث کے بعد لوکپال بل پاس کرانا ممکن نہیں لگتا۔ اگر پارلیمنٹ میں بل کو لیکر اتفاق رائے نہیں بنا تو آگے کیا ہوگا؟ ممکن ہے کہ بل کو سلیکٹ کمیٹی کو سونپ دیا جائے۔ اس سے سبھی فریقین کا موقف درکار رہے گا۔
Anil Narendra, Anna Hazare, BJP, CBI, Daily Pratap, Lokpal Bill, P. Chidambaram, Sonia Gandhi, Vir Arjun

17 دسمبر 2011

چوطرفہ گھرتے وزیر داخلہ پی چدمبرم


Published On 17th December 2011
انل نریندر
وزیر داخلہ پی چدمبرم کو گھرینے کے لئے ٹو جی گھوٹالے کے بعداپوزیشن کے ہاتھ ایک بڑا اشو لگ گیا ہے۔ایک ٹی وی چینل آئی بی این 7 نے انکشاف کیا ہے کہ دہلی کے ایک ہوٹل کاروباری کے خلاف تین ایف آئی آر واپس لینے کے معاملے میں اپنے عہدے کا بیجا استعمال کیا۔ الزام یہ ہے کہ ہوٹل کاروباری چدمبرم کا موکل رہ چکا ہے۔ میڈیا میں آئی رپورٹوں کے مطابق ایس پی گپتا چیئرمین سن ایئر ہوٹل ، نئی دہلی پر الزام ہے کہ انہوں نے وی ایل ایس فائننس کو کروڑوں روپے کا چونا لگایا۔
انہوں نے راجیو گاندھی کے نام پر ایک چیریٹیبل ٹرسٹ بنایا جس کی پیٹنٹ سونیا گاندھی کو بنایا تھا۔ کچھ ممبران کے فرضی لیٹر ہیڈ کا استعمال کیا گیا۔ وزارت داخلہ نے9 مئی کو یہ ہدایت دینے کا فیصلہ کیا کہ داخلہ سکریٹری کو دی گئی گپتا کی عرضی کی بنیاد پر ایک ایف آئی آر منسوخ کی جائے۔ سن ایئر ہوٹل کے مالک ایس پی گپتا کے خلاف سابقہ فیصلے کو واپس لینے کا فیصلہ لیفٹیننٹ گورنر تیجندر کھنہ نے کیا تھا۔ دہلی سرکار کی ریلیز کے مطابق محکمہ قانون کے ڈائریکٹر کی سفارشوں کے مواد میں اس معاملے کو پھر سے لیفٹیننٹ گورنر کے پاس بھیجا گیا جس میں یہ سفارش کی گئی تھی کہ معاملے کو آگے نہیں بڑھانے سے پہلے فیصلے پر زور نہیں ڈالا جائے گا اور سماعت کے معاملے میں دوش گن کی بنیاد پر فیصلہ لیا جائے گا۔ دہلی سرکار کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر نے15 دسمبر 2011 کو اس سفارش کو منظوری دے دی۔ سرکار کے ذریعے فیصلے کو منسوخ کرنے کا مطلب صاف ہے،الزام صحیح ہے۔
چدمبرم نے ایس پی گپتا کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کے لئے دباؤ ڈالا۔ اس طرح انہوں نے اپنے عہدے کا بیجا استعمال کیا۔معاملہ اس لئے بھی زیادہ سنگین بن جاتا ہے جو فرضی ٹرسٹ بنایا گیا تھا وہ سورگیہ راجیو کے نام کا تھا اور سرپرست میں سونیا گاندھی جی کا نام دیا گیا۔ ایسے آدمی کی سفارش کرنے سے پہلے خود چدمبرم کوسوچنا چاہئے تھا وہ کیا کرنے جارہے ہیں۔پی چدمبرم ایک کے بعد ایک تنازعے میں پھنستے جارہے ہیں۔ آخر سرکار اور پارٹی کب تک ان کا بچاؤ کرے گی۔ اگر کسی عدالت نے چدمبرم کے خلاف کوئی تبصرہ کیا تو کیا حالت بنے گی۔ ویسے بھی سرکار بہت کمزور حالت میں ہے چوطرفہ دباؤ میں ہے۔ایسے میں ایک اور سردرد؟ سرکار کو چاہئے کہ چدمبرم کو اپنے آپ خود کو دفاع کرنے دیں۔ سرکار کے اوپر اور بہت پریشانیاں ہیں۔ان پر زیادہ توجہ دیں۔ بہرحال اپوزیشن کے ہاتھ ایک نیا اشو ضرور لگ گیا ہے اور ایسا نہیں لگتا کہ وہ شری پی چدمبرم کو اب آسانی سے چھوڑے گی۔
2G, Anil Narendra, Daily Pratap, P. Chidambaram, Sonia Gandhi, Subramaniam Swamy, Vir Arjun

10 دسمبر 2011

۲جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں پھنستے پی چدمبرم


Published On 11th December 2011
انل نریندر
مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم کے ستارے آج کل گردش میں چل رہے ہیں۔ ان کی وجہ سے یوپی اے سرکار اور کانگریس پارٹی کی فضیحت مسلسل جاری ہے۔سی بی آئی کی عدالت نے نامور وکیل ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی اس عرضی کو منظور کرلیا جس میں چدمبرم کے خلاف ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں دو گواہوں سے پوچھ تاچھ کے لئے مانگ کی گئی تھی۔ عدالت نے دونوں گواہوں کو پیش کرنے کی اجازت دے دی لیکن یہ بھی کہا پہلے ڈاکٹر سوامی خود گواہی دیں گے اگر ان کی گواہی میں دم ہوا تو آگے کی کارروائی ہوگی۔ سوامی کی تسلی بخش گواہی کے بعد ہی دونوں گواہوں کی پیشی ہوگی۔ ایک گواہ شری کھلر جو وزارت خزانہ میں جوائنٹ سکریٹری ہیں اور دوسرے گواہ ایس سی اوستھی جو سی بی آئی میں جوائنٹ ڈائریکٹر ہیں۔ قابل غور ہے کہ وزیر داخلہ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کے وقت وزیر خزانہ تھے۔ سوامی کے مطابق ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ میں ہوئی بے قاعدگیوں کی پوری واقفیت چدمبرم کو تھی۔ وہ چاہتے تو گھوٹالہ رک سکتا تھا۔ دراصل اس وقت کے مالیات سکریٹری ڈاکٹر ڈی سبا راؤ کی جانب سے 6 جولائی 2008 ء کو لکھے ایک خط کے آؤٹ ہونے کے بعدہی سے چدمبرم پر سیاسی حملے تیز ہوگئے ہیں۔سبا راؤ کے خط سے چدمبرم اور سابق ٹیلی کمیونی کیشن وزیر اے راجہ کی اسپیکٹرم الاٹمنٹ اور اسپیکٹرم استعمال چارج ، قیمت کا تعین سمیت تمام پہلوؤں پر بحث کی تصدیق ہوتی ہے۔ خط میں وزیر اعظم منموہن سنگھ اور اس وقت کے وزیر خزانہ کے درمیان تفصیل سے ہوئی بات چیت کا بھی ذکر ہے۔ ڈاکٹر سوامی کا دعوی ہے کہ چدمبرم پر عائد الزامات کے بارے میں ان کے پاس کافی ثبوت ہیں اور وہ عدالت میں انہیں ثابت کرسکتے ہیں۔ اس وقت کے وزیر خزانہ چاہتے تو ٹوجی اسپیکٹرم لائسنس پانے والی کمپنیوں کی اکویٹی فروخت کئے جانے کو روک سکتے تھے لیکن انہوں نے اس کی رضامندی دے دی تھی۔ یہ بات 5 نومبر 2008ء کو اے راجہ کو لکھے خط سے پتہ چلتی ہے۔ راجہ کا یہ نوٹ سوامی کو سونپے گئے 400 دستاویزات کا حصہ ہے۔ ظاہر ہے کہ اس نوٹ کے سامنے آنے سے چدمبرم کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں۔ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں چدمبرم کے کردار کو لیکر یہ دوسرا بڑا سنسنی خیز انکشاف ہے۔ اس سے پہلے کیبنٹ سکریٹریٹ کو وزارت مالیات کی جانب سے بھیجے گئے اس نوٹ سے واویلا کھڑا ہوچکا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ چدمبرم وزیر مالیات رہتے ہوئے چاہتے تواس گھوٹالے کوروک سکتے تھے۔ عدالت کے حکم کے بعد وزیر داخلہ پی چدمبرم ایک بار پھر نشانے پر آگئے ہیں اور ان کے استعفے کی مانگ کو لیکر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ہنگامہ ہوا جس سے کارروائی ٹھپ رہی۔ اپوزیشن کا کہنا ہے ان کے عہدے پر رہتے ٹوجی اسپیکٹرم جانچ متاثر ہوگی۔ اپوزیشن کے مطالبہ کو درکنار کرتے ہوئے وزیر قانون سلمان خورشید نے کہا دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات میں چدمبرم یا سرکار کے خلاف کوئی بات نہیں ہے۔
پارلیمنٹ کی کارروائی ٹھپ کرنے کے لئے اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے خورشید نے کہا اپوزیشن نہیں چاہتی کہ سرکار مہنگائی کے مورچہ پر اپنے کارناموں کو بتائے۔ خود پی چدمبرم نے جمعرات کو کسی بھی طرح کا رد عمل دینے سے انکارکردیا۔ اخبارنویسوں کے ذریعے بار بار پوچھے جانے پر بھی وہ خاموش رہے۔ جہاں تک کانگریس پارٹی کا سوال ہے بیشک جنتا میں تو پارٹی چدمبرم کا ساتھ دے رہی ہے لیکن اندر خانے وہ سمجھ رہی ہے کہ چدمبرم پھنستے جارہے ہیں۔ ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے میں پھنسنے کے علاوہ ان کے چناؤ کو بھی چیلنج کا ایک معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ اس کا فیصلہ بھی جلد آسکتا ہے۔ اگر 17 دسمبر کو سی بی آئی عدالت میں جج او پی سینی سوامی کی دلیلوں سے متفق ہوگئی تو دونوں گواہوں کو پیش ہونے کا حکم دیا جائے گا۔ ڈاکٹر سوامی کے پاس چدمبرم کو پھنسا نے کے دستاویز ہونے کا دعوی پختہ ہوسکتا ہے اگر چدمبرم کے خلاف کوئی بھی کارروائی ہوئی تو سرکار اور پارٹی کو انہیں بچانا مشکل ہوسکتا ہے۔ اگلے کچھ دن نہ صرف چدمبرم کیلئے مشکل بھرے ہیں بلکہ وزیراعظم منموہن سنگھ اور کانگریس پارٹی کے لئے بھی یہ چیلنج بھرے ثابت ہوسکتے ہیں۔
2G, A Raja, Anil Narendra, Daily Pratap, Manmohan Singh, P. Chidambaram, Subramaniam Swamy, Vir Arjun

25 نومبر 2011

چدمبرم کا بائیکاٹ سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ہے


Published On 25th November 2011
انل نریندر
پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس شروع ہوتے ہی پہلے ہی دن سے سیاسی سرگرمی کی آنچ تیزی دکھانے لگی ہے۔ اجلاس کے آغاز میں اور وزیر داخلہ پی چدمبرم کے بائیکاٹ سے لوک سبھا میں لیفٹ پارٹیوں کے نوٹس پر مہنگائی پر ہونے والی بحث میں بھی ایوان کا پارہ گرم ہوگیا۔ بڑھتی مہنگائی کے مسئلے پر اپوزیشن پارٹیوں کے تحریک التوا کے نوٹس پر بحث کے درمیان وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے اعتراف کیا کہ امید کے مطابق نتیجے حاصل نہیں ہوسکے۔ انہوں نے جیسا کہ اب ان کی عادت سی بن گئی ہے مہنگائی کا ٹھیکرہ ڈیمانڈ اور سپلائی میں عدم توازن، ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت میں گراوٹ اور دیگر بین الاقوامی اسباب پر پھوڑدیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے افراط زر شرح مارچ2012ء کے آخر تک 6.7 فیصد تک آجائے گی۔ پرنب دا کے بیان سے اپوزیشن بھڑک اٹھا۔ سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا نے پرنب مکھرجی کے بیان کو نمبروں کا کھیل اور جنتا کو مایوس کرنے والا بتاتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر مہنگائی کا یہی حال رہا تو لوگ جلد ہی تشدد پر اتر آئیں گے۔ این ڈی اے ایوان کے پہلے ہی دن یہ اشارہ دے چکا ہے ۔وزیر داخلہ پی چدمبرم کے بائیکاٹ کے اپنے فیصلے پر پوری طرح عمل کریں گے۔ حالانکہ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اپنے وزیر داخلہ کو بچانے کی پوری کوشش کی۔ انہوں نے کہا جہاں تک وزیر داخلہ کے بائیکاٹ کی بات ہے مجھے امید ہے سیاسی پارٹیاں اس طرح کے کسی قدم سے بچیں گی۔ کیونکہ وزیر داخلہ کے بائیکاٹ کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ دوسری طرف این ڈی اے کی جانب سے چدمبرم کے بائیکاٹ کو پوری طرح سے واجب قراردیتے ہوئے بھاجپا نے کہا یہ اپوزیشن کا جمہوری حق ہے۔ ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں وزیر اعظم کے نام لکھے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کے پرچے کو عام ہونے کے پیش نظرایسا کیا جانا فطری قدم ہے۔ بھاجپا کے سینئر لیڈر وینکیانائیڈو نے اخبار نویسوں سے کہا کانگریس ماضی گذشتہ میں جارج فرنانڈیز کے ساتھ ایسا کرچکی ہے جب بے قصور جارج فرنانڈیز کو انہوں نے چھ مہینے تک بولنے نہیں دیا تھا۔ اب یہ ایک اتفاق ہی ہے کہ اگر چدمبرم نے پہل کی ہوتی تو یہ گھوٹالہ روکا جاسکتا تھا۔چدمبر کو بھاجپا ٹوجی گھوٹالے میں اتنا ہی ذمہ دار مانتی ہے جتنا اے راجہ کو۔ اس کا کہنا ہے جب چدمبرم وزیر خزانہ ہوا کرتے تھے اس وقت راجہ جی جو بھی کررہے تھے ۔اس سبھی کے بارے میں نہ صرف چدمبرم کو واقفیت تھی بلکہ انہوں نے راجہ کی حمایت بھی کی تھی۔ انہوں نے راجہ کے اٹھائے گئے اقدامات کو اپنی رضامندی دی اگر وہ چاہتے تو اسی وقت اس گھوٹالے کو ہونے سے روک سکتے تھے۔ بھاجپا نے اپنے الزامات کی بنیاد پر وزارت مالیات کے پچھلے سال وزیر اعظم کے دفتر کو بھیجے گئے اس نوٹ کو بھی جواز بنایا جو اس سال 25 مارچ کو بھیجا گیا تھا۔ اس نوٹ سے صاف ہوجاتا ہے کہ ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ کی نیلامی کے بجائے ''پہلے آؤ پہلے پاؤ'' کی پالیسی بنانے کے لئے بھی وزیر خزانہ کی شکل میں چدمبرم نے اپنی منظوری دی تھی۔ یہ ہی نہیں راجہ نے باقاعدہ چدمبرم کو اس بارے میں خط بھی لکھا اور میٹنگ بھی کی تھی۔ ایسے میں چدمبرم اس گھوٹالے کیلئے اتنے ہی ذمہ دار ہیں جتنے راجہ۔ دراصل چدمبرم کا بائیکاٹ کرکے این ڈی اے ایک تیر سے کئی نشانے لگانے کی کوشش کی ہے۔ حکومت اور چدمبرم کے لئے ایک عجیب و غریب صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ وہیں چدمبرم کو پسند نہ کرنے والے ٹیم انا کے لوگ بابا رام دیو اور تاملناڈو کی چیف منسٹر جے للتا تک نے بھی ایک میسج بھیجا ہے۔ بائیکاٹ کا وقت ماننا پڑے گا کہ اچھا ہے جنتا پارٹی کے صدر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی اپیل پر یہ معاملہ عدالت میں ہے۔ چدمبرم کی لوک سبھا سیٹ بھی خطرے میں ہے کیونکہ ان کے چناؤ کے خلاف ایک عرضی کا فیصلہ کبھی بھی آسکتا ہے۔ ڈاکٹر سوامی کی ڈیمانڈ پر سی بی آئی کو ٹی جی سے وابستہ کاغذات دینے پڑے ہیں۔ سوامی دعوی کررہے ہیں کہ چدمبرم کو پوری جانکاری تھی اور وہ اسے دستاویزات کے ساتھ ثابت بھی کرسکتے ہیں۔ این ڈی اے نے نہ صرف دباؤ بنایا بلکہ ایک سیاسی پیغام بھی دے دیا ہے۔ بابا رام دیو اور ان کے ساتھ رام لیلا میدان میں بیٹھے لوگوں پر پولیس کارروائی کے پیچھے بھی وزیر داخلہ کا حکم مانا جارہا تھا۔ بابا رام دیو کے حمایتیوں کی طرح ٹیم انا کے بھی کافی لوگ مانتے ہیں کہ انا اور ساتھیوں کی گرفتاری اور اس کے بعد معاملے کو الجھانے میں وزیر داخلہ اور وزیر انسانی وسائل کپل سبل کا خاص رول رہا۔ ادھر تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا کو اپنی ہی ریاست کے چدمبرم کو ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔یہ بھی غور طلب ہے کہ گذشتہ ایتوار کو جے للتا کی پہل پر انا ڈی ایم کے کے تھمبی دورئی رام لیلا میدان میں ایل کے اڈوانی کی ریلی میں آئے تھے۔ اس کے ایک دن بعد چدمبرم کے بائیکاٹ کا فیصلہ ہوگیا۔ جے للتا ممکن ہے مستقبل میں این ڈی اے سے جڑ جائیں۔ کل ملاکر بھاجپا کو لگتا ہے ان کے بائیکاٹ کی پالیسی صحیح سمت میں صحیح قدم ہے۔
2G, A Raja, Anil Narendra, BJP, CBI, Congress, Daily Pratap, Jayalalitha, L K Advani, P. Chidambaram, Rath Yatra, Vir Arjun

09 اکتوبر 2011

آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ ہیرو یا ولین


Published On 9th October 2011
انل نریندر
گجرات کے آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ پچھلے کچھ دنوں سے بحث کے موضوع بنے ہوئے ہیں۔گجرات کے یہ متنازعہ پولیس افسر جو آج کل معطل ہے دراصل ایک ہیرو ہے یا ایک ولین ۔ کانگریس کی نظروں میں تووہ ہیرو ہے سنجیو بھٹ کانگریس کے پسندیدہ بنتے جارہے ہیں۔ کانگریس کاایک طبقہ یہاں تک کہنے لگاہے کہ سنجیو بھٹ کی گرفتاری مودی حکومت کے زوال کی شروعات مانی جاسکتی ہے۔ اس طبقہ کاکہناہے کہ بدلے کے جذبہ سے بھٹ کے خلاف کی جارہی انتقامی کارروائی مودی حکومت کو بھاری پڑے گی۔ دراصل نریندرمودی کانگریس کی آنکھ میں کانٹا بنے ہوئے ہیں اور کانگریس کو ہمیشہ کوئی ایسا اشو ضرور چاہئے ہوتا ہے جس سے وہ مودی پر حملہ کرسکیں۔ کبھی مودی کے اپواس میں ایڈوانی سمیت دوسرے بڑے بھاجپا نیتاؤں کی غیرموجودگی کو ہوا دی جاتی ہے تو کبھی ایڈوانی کی گجرات سے اپنی یاترا شروع نہ کرنے کو اشو بنایا جاتا ہے۔ وزیراعظم کے عہدے کی دعوی داری کو لے کر بھاجپا میں جاری گھمسان لڑائی کوا چھالا جاتا ہے اب سنجیو بھٹ معاملے کو طول دیاجارہا ہے ۔ کہاں جارہا ہے کہ مودی حکومت کے بدلے کے جذبے سے کام کررہی ہے اور سنجیو بھٹ کو اس لئے نشانہ بنایاجارہا ہے کیونکہ وہ مودی کے خلاف کھل کر الزام لگارہے ہیں۔ بھٹ کی اہلیہ کے وزیرداخلہ پی چدمبرم کو ایک خط لکھ کرکہاہے کہ گجرات پولیس ان کے شوہر کے ساتھ دہشت گردوں کے ساتھ برتاؤ کررہی ہے۔ اپنے خط میں انہوں نے ریاستی حکومت پر یہ بھی الزام لگایا ہے کہ وہ بھٹ کی ضمانت نہ ملنے پانے کے لئے طر ح طرح کے ہتھکنڈے اپنارہی ہے کچھ دن پہلے بھٹ کی بیوی نے شویتا نے چدمبرم کو ایک اور خط لکھا تھا جس میں اپنے شوہر کی جان کو خطرہ بتایا تھا۔
سوال یہ ہے کہ سنجیو بھٹ کیا ایک وفادار ایمان دار اور صاف ستھری ساکھ کے افسر ہے جنہیں مودی سرکار جان بوجھ کر نشانہ بنارہی ہے اور بدلہ لے رہی ہے کیونکہ انہوں نے مودی کے خلاف مہم چھیڑی ہوئی ہے یا پھر وہ ایک داغ دار افسر ہے جو اپنی سرگرمیوں کے پردہ فاش ہونے سے اس لئے حملہ کررہے ہیں تاکہ ان کے خلاف لگے الزامات سے بچا سکے۔ سنجیو بھٹ کے پولیس ریکارڈ پر اگر ہم نظر ڈالے تو پائیں گے ان پر وقتا فوقتا سنگین الزام لگتے رہے ہیں 30 اکتوبر 1990 جام نگر ضلع کے جمود پور تعلقہ میں ایک فرقہ وارانہ فساد ہوا اس میں 133 لوگوں کو گرفتارکیا گیا۔ وشنو ہندو پریشدکے پریم بربھو داس ویش نانی پکڑے جانے کے 11دن بعد پولیس حراست میں مرگئے۔ کیونکہ پولیس ان کی ضرورت سے زیادہ پٹائی کردی تھی۔ ان کے بڑے بھائی امرت لال ویش نانی نے حراست میں موت سے متعلق جو مقدمہ کیا اس میں وہ اس وقت کے بنیادی ملزم ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ سنجیو بھٹ کوبنایا گیا تھا۔ جام نگر کے اس وقت کے ایڈیشنل سیشن جج این ٹی سولنکی نے بھٹ کے خلاف ایک گرفتاری وارنٹ جاری کیا تھا۔
بھٹ کے خلاف گجرات سی آئی ڈی نے سی آر پی سی کی دفعہ (9) کے تحت مقدمہ چلانے کے لئے باقاعدہ ریاستی حکومت سے اجازت مانگی تھی لیکن 1995میں مودی حکومت نے عدالت میں بھٹ کابچاؤ کیا عدالت نے یہ کیس بند کرنے کی حکومت کی عرضی کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ معاملہ چلانے لائق ہے اس لئے اسے بند نہیں کیاجاسکتا ہے لیکن مودی سرکارنے 1996 کی اس عرضی کو واپس لے لیا۔ اب بھی عدالتی کارروائی بھٹ کے خلاف جاری ہے سنجیو بھٹ ایک اور داغی چہرہ ہے 1995 میں وہ احمد آباد ضلع پولیس کے ایس پی تھے وہیں ایک سیشن جج آر کے جین تھے ان کی بہن کے ایک کرایہ دار تھے جن کے خلاف مقدمہ چل رہاتھا۔ لیکن کرایہ دار مقدمہ جیت گئے اور گھر خالی کرانے کے لئے سبھی قانونی راستے بند ہوگئے۔ جسٹس جین نے سنجیو بھٹ سے پھر سے گھر کسی بھی طریقے سے خالی کروانے کی اپیل کی۔ بھٹ نے کرایہ دار کوبلایا اور گھر خالی کرنے کو کہا اس نے کہاکہ اگر اس نے گھر خالی نہیں کیاتو اسے نتیجہ بھگتنے ہوں گے پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ سنجیو بھٹ نے کرایہ دار کے گھر پر منشیات رکھوا کر اسے گرفتار کروادیا او رگرفتار ہوتے ہی زبردستی گھر خالی کرالیا بعد میں یہ ضلع جج کی عدالت میں کرایہ دار نے دعوی پیش کیا تو اس میں سنجیو بھٹ کو پارٹی بنایا گیا۔سنجیو بھٹ کے خلاف ایک لاکھ پچاس ہزار کا جرمانہ لگا جس کی ادائیگی آپ کو سن کر تعجب ہوگا کہ ریاستی حکومت نے کی اور وہ پیسہ ان کی تنخواہ قسطوں میں کٹتا رہا۔ اس معطل آئی پی ایس افسر کی مودی سرکار سے دشمنی اور اسکے مخالفوں سے سانٹھ کانٹھ پرانی ہے ایسی کئی مثالیں ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کانگریس سنجیو بھٹ کو مودی سرکار اور وہ خود وزیراعلی کے خلاف اکساتی رہی ہے اور اکساتی رہے ہیں سنجیو بھٹ کاریکارڈ عدالتوں کے سامنے ہے اور ہوسکتاہے کہ اگلی اسمبلی چناؤ وہ امیدوار بنے اور اب آپ خودفیصلہ کرلیں۔ سنجیو بھٹ ایک ایماندار اور صاف ستھری ساکھ کے شخص ہے جسے مودی سرکار جان بوجھ کر نشانہ بنارہے ہیں یا پھر وہ کانگریسی شطرنجی چال میں ایک مہرہ بنے ہوئے ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Gujarat, L K Advani, Narender Modi, P. Chidambaram, Sajeev Bhatt, Vir Arjun

02 اکتوبر 2011

سونیا گاندھی کی پہل پر پرنب چدمبرم میں جنگ بندی



Published On 2nd October 2011
انل نریندر
منموہن سنگھ سرکار میں جاری اتھل پتھل کو روکنے کے لئے آخر کار پارٹی صدر سونیا گاندھی کو مورچہ سنبھالنا پڑا۔ سنکٹ موچک کے طور پر سامنے آئیں محترمہ سونیا گاندھی فوری طور پر موجودہ بحران کو ٹالنے میں کامیاب ہوگئی ہیں لیکن یہ صرف سرسری طور پر ہے ۔کیونکہ ایک ساتھ فوٹو کھنچوانے سے پرنب مکرجی اور پی چدمبرم کے درمیان اختلافات ختم ہونے سے رہے۔ پرنب دادا ان دنوں بہت ناراض چل رہے ہیں۔ اتنے غصے میں کیوں ہے کہ نیویارک میں انہوں نے وزیر اعظم سے استعفیٰ تک دینے کی دھمکی دے ڈالی تھی؟ اس کے بعد اسکے جواب میں دادا حمایتی کہہ رہے ہیں کہ ان پر شبہ ظاہر کیا گیا۔ نوٹ کے معاملے کو جس طرح سے پیش کیا گیا ہے یعنی انہوں نے وہ جان بوجھ کر دستاویز بنایا تھا اور پھر اسے افشاء کروادیا۔ پارٹی اور حکومت کے اندر یہ سوال کھڑا ہوا ہے کہ نوٹ بننے کی کیا ضرورت تھی جب دستاویز بن رہا تھا تو اسی وقت اس کی زبان پر غور کیوں نہیں کیا گیا۔ اس دستاویز کو آگے وزیر اعظم تک کیوں بھیجا گیا اور اسی وقت پارٹی لیڈر شپ کو کیوں نہیں بتایا گیا؟اندرونی مباحثوں کے درمیان یہ سوال پوچھے جارہے ہیں اور یہ پرنب دا کے حق میں جا رہے ہیں۔ یہ نوٹ پرنب دا کی پہل پر نہیں بنا۔ کیبنٹ سکریٹریٹ، پی ایم او، ٹیلی کام اور وزارت قانون کے افسروں کی پہل پر یہ جائزہ لیا گیا اور اس کے بعد نوٹ تیار ہوا۔ اتنے محکموں کے افسر جس معاملوں میں شامل ہوں اسے کوئی بھی وزیر کیسے روک سکتا ہے اور کیوں روکنا چاہئے؟ اگر پرنب دا اس نوٹ کو روکتے یا دباتے تو آج خود بھی سوالوں کے گھیرے میں آجاتے؟ یہ بھی ایک آر ٹی آئی کے جواب میں اس نوٹ کی کاپی پردھان منتری وزارت کے ایک بڑے افسر کی اجازت دی گئی۔ کاپی دینے سے پہلے وزارت مالیات سے پوچھا تک نہیں گیا اور اب جب سب کچھ ہوچکا ہے پرنب مکرجی پر سارا گناہ تھونپا جارہا ہے۔ اس حالت میں انہیں غصہ کیوں نہ آئے؟
اپنا خیال ہے کہ یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ چدمبرم کی مشکلوں کا خاتمہ نہیں ہوا ہے۔ سونیا گاندھی کی کوششوں سے مسئلہ رکا ہے ،ختم نہیں ہوا۔ پرنب مکرجی نے نوٹ کیسے تیار ہوا اور کس کس وزارت سے گذرا اس کی تفصیل پیش کی ہے۔ لیکن جو نوٹ میں لکھا گیا ہے وہ تو جھوٹ نہیں ہے۔ نوٹ میں جو تحریر ہے اس سے چدمبرم کٹہرے میں ضرور کھڑے ہیں۔ معاملہ سپریم کورٹ میں جاری ہے۔ جے پی سی میں بھی الگ سے چل رہا ہے۔ وہاں بھی تو اس نوٹ کا نوٹس لیا جائے گا۔ آج چدمبرم پارٹی کے اندر الگ تھلگ پڑے ہیں ان کی حمایت کانگریس پارٹی میں اتنا شاید ذکر نہیں ہے جتنا ڈی ایم کے سے انہیں مل رہا ہے۔ وہ کروناندھی کے خاص نمائندے ہیں اس وقت کانگریس میں کام کررہے ہیں اور ڈی ایم کے کی مشکلیں کم ہونے والی نہیں ہیں۔ نہ صرف دیاندھی مارن کے خلاف سی بی آئی نیا معاملہ درج کرنے کی تیاری کررہی ہے بلکہ ٹو جی کیس میں سی بی آئی نے تہاڑ جیل میں بند اے راجہ اور ان کے سابق سکریٹری چندولیہ اور اس وقت کے ٹیلی کام سکریٹری سدھارتھ بیہورہ کے خلاف آئی پی ایس کی دفعہ409 کے تحت معاملہ چلانے کی دلیل کورٹ میں پیش کی ہے۔ سی بی آئی کا الزام ہے کہ اس معاملے میں اے راجہ اور دیگر کے خلاف جنتا کے ساتھ دھوکہ کرنے کا مجرمانہ معاملہ بنتا ہے۔ اگر یہ الزام ثابت ہوا تو عمر قید تک کی سزا ہوسکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے ڈی ایم کے خوش تو ہونے سے رہی۔ ادھر راجہ نے کورٹ میں چدمبرم سے بطور گواہ پوچھ تاچھ کرنے کی مانگ کی ہے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ معاملہ ختم نہیں ہوا ہے اور پارٹی میں مسلسل یہ کہا جارہا ہے کہ چدمبرم کے کردار پر کوئی فیصلہ سپریم کورٹ کا موقف ہی طے کرے گا۔ وزیر اعظم اور سونیا گاندھی کی ہدایت پر سرکار کی ساکھ بچانے کیلئے بھلے ہی پرنب چدمبرم ایک ساتھ کھڑے ہونے پر راضی ہوگئے ہیں لیکن ایسا کرنے میں دونوں کی ہچک باقی تھی اور اب بھی ہے۔ پرنب چدمبرم سے تب سے ناراض چل رہے ہیں جب سے انہوں نے وزارت مالیات کی جاسوسی کروائی تھی۔ وہ قصہ پرنب مکرجی بھولے نہیں ہیں۔ اب بھی چدمبرم وزارت مالیات میں دخل اندازی سے باز نہیں آرہے ہیں۔ دو دن پہلے ہی انہوں نے ایک پروگرام میں یہ کہا کہ امیر زیادہ ٹیکس بھرنے کے لئے تیار رہے ہیں۔ سوال اٹھتا ہے کیا یہ معاملہ وزارت داخلہ سے وابستہ ہے؟ کیا یہ وزارت مالیات کے اختیارات میں مداخلت تو نہیں ہے؟
2G, Anil Narendra, Daily Pratap, Manmohan Singh, P. Chidambaram, Pranab Mukherjee, Sonia Gandhi, Vir Arjun

30 ستمبر 2011

آفینس از دی بیسٹ ڈیفنس

 

Published On 30th September 2011
انل نریندر
انگریزی میں یہ ایک کہاوت ہے ’’آفینس از دی بیسٹ ڈیفنس‘‘ یعنی حملہ کرنا سب سے اچھا بچاؤ ہے۔وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اسی تکنیک کو اپنایا ہے۔ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے کی آنچ سے جھلس رہے مرکز میں یوپی اے حکومت کے حکمت عملی ساز جہاں ڈیمیج کنٹرول میں جٹے ہوئے ہیں وہیں امریکہ سے وطن لوٹتے ہوئے ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اپوزیشن پر جم کر حملہ بولا اور اپوزیشن کے منصوبوں اور ارادوں کی ہوا نکالنے کی کوشش کی ہے۔ اپوزیشن پر حکومت کو کمزور کرنے، زبردستی ملک کو وسط مدتی چناؤ کی طرف دھکیلنے کا الزام وزیر اعظم نے لگا کر پورے معاملے کو ایک نئی سمت دینے کی کوشش کی ہے۔ وزیر اعظم نے یہ جوابی حملہ ہوا میں ایئر انڈیا کے طیارے سے ہی شروع کردیا۔ انہوں نے کہا ہم پانچ سال کی میعاد پوری کریں گے اور وسط مدتی چناؤ نہیں ہوگا۔ کیبنٹ کے ممبران میں ٹکراؤ کی باتیں میڈیا کا اپنا تصور ہے۔ وزیر داخلہ پی چدمبرم پر مجھے پہلے بھی بھروسہ تھا اور اب بھی ہے۔ نیویارک میں اقوام متحدہ سے لوٹتے ہوئے فرینک فرٹ سے نئی دہلی آ رہے طیارے میں صحافیوں سے بات چیت میں ڈاکٹر منموہن سنگھ نے مانا کہ بگڑتی معیشت کا اثر ہندوستان پر بھی ہوا ہے۔افراط زر ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے لیکن ہم حالات کو کنٹرول میں رکھنے کیلئے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔ ڈاکٹر سنگھ نے تسلیم کیا ہے کہ ان کی حکومت کی ساکھ کے بارے میں جنتا کے درمیان کوئی پریشانی ہوسکتی ہے جسے صحیح کرنا ضروری ہے۔
حکومت کو کمزور کر ملک کو وسط مدتی چناؤ کی طرف جھونکنے کی کوشش کیلئے اپوزیشن پر لگائے گئے وزیر اعظم کے الزام پر بھاجپا نے جوابی تیر چھوڑتے ہوئے کہا اگر حکومت گرے گی تو وہ اپنے کرموں سے ہی گرے گی۔ ہمیں سازش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی ایسا کرنے کے لئے ہمارے پاس درکار ممبروں کی تعداد ہے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر اعظم نے وطن لوٹتے ہی الزام لگایا ہے کہ اپوزیشن حکومت کو کمزور کرنے میں لگی ہے۔سشما نے کہا کہ حکومت کو کمزور کرنے کا ٹھیکرا اپوزیشن کے سر پھوڑنے کے بجائے بہتر یہ ہوتا کہ وزیر اعظم اپنے گھر کو درست کرنے کی فکر کرتے۔ محترمہ سشما نے کہا کہ حکومت اور ان کے وزرا کو لیکر جو کرپشن کے نئے نئے انکشافات ہورہے ہیں انہیں اپوزیشن نے نہیں گڑھا ہے بلکہ خود ان کے ہی لوگ ان کے ذریعے چلائی جارہی سرکار کی ایجنسیوں نے اجاگر کئے ہیں۔ ارون جیٹلی نے کہا ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالہ، کامن ویلتھ گھوٹالہ یہ اپوزیشن نے نہیں کیا۔ نوٹ کے بدلے ووٹ کانڈ سے اپوزیشن کوکوئی فائدہ نہیں ہوا۔ حکومت کی کمزور حالات کی وجہ سے سرکار میں لیڈر شپ کا سنگین بحران ہے۔ یہ سرکار خود ہی گرنے کے موڑ پر ہے۔ بھاجپا کے دونوں لیڈروں نے دعوی کیا وزارت مالیات کے نوٹ سے ثابت ہوچکا ہے کہ ٹوجی اسپیکٹرم الاٹمنٹ گھوٹالے میں جو گھوٹالہ اس وقت کے وزیر مواصلات اے راجہ نے کیا وہی جرم ہو بہو پی چدمبرم نے بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہا اس گھوٹالے میں وزیر اعظم کو کہیں بھی اندھیرے میں نہیں رکھا گیا بلکہ انہیں راجہ نے اور چدمبرم نے ہر قدم کے بارے میں باقاعدہ جانکاری دی۔ وزیر اعظم کی یہ حکمت عملی کتنی مثبت ثابت ہوگی یہ تو آنے والے دن ہی بتائیں گے لیکن ایک طرح سے انہوں نے یہ بیان دے کر خود اپنی حکومت کی عمر پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ جب وزیر اعظم خود ہی وسط مدتی چناؤ کی بات کرنے لگے تو اس کا جنتا جناردن میں کیا پیغام جائے گا آپ خود ہی سمجھدار ہیں۔
2G, Anil Narendra, Arun Jaitli, Daily Pratap, Inflation, Manmohan Singh, P. Chidambaram, Sushma Swaraj, Vir Arjun

28 ستمبر 2011

اب کیا ہوگا آگے: نظریں سپریم کورٹ پر لگیں



Published On 28th September 2011
انل نریندر
دیش کے لئے کتنے دکھ کی بات ہے کہ امریکہ میں وزیراعظم اور وزیر مالیات سے ٹو جی گھوٹالے پر سوال پوچھے جارہے تھے ۔ ساری دنیا میں گھوٹالوں کی اس حکومت نے پورے دیش کی عزت مٹی میں ملا دی ہے۔ پتہ نہیں دنیا بھارت کے بارے میں کیا سوچتی ہوگی؟ ادھر دیش میں اس حکومت کی مشکلیں بڑھتی جارہی ہیں۔ ٹوجی گھوٹالے میں روز نئی پرتیں کھل رہی ہیں جیسے جیسے نئے نئے معاملے سامنے آرہے ہیں پتہ چل رہا ہے کہ اس گھوٹالے کی اوپر سے نیچے تک سب کو خبر تھی لیکن کسی نے بھی اس کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ بیشک وزیر اعظم ، وزیر خزانہ بھلے ہی خود گھوٹالے میں شامل نہ رہے ہوں لیکن اس سے تو اب وہ انکار نہیں کرسکتے کہ سب کچھ ان کی جانکاری میں اور کچھ حد تک ان کی رضا مندی سے ہوا ، بیشک وزیر اعظم اس وقت کے وزیر خزانہ کو کلین چٹ دے رہے ہوں اور کہہ رہے ہوں کہ انہیں وزیر داخلہ پر پورا بھروسہ ہے لیکن اس سے اب تک بات بننے والی نہیں۔ٹوجی گھوٹالے پر پوری طرح سے گھر چکی حکومت کے سنکٹ موچکوں کے قدم اب ختم ہونے لگے ہیں۔ سرکار کی سینئر لیڈر شپ کو اب اس گھوٹالے کے جال سے بچانے کیلئے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ سابق وزیر مواصلات اے راجہ کے فیصلے سے دیش کے خزانے کو کسی طرح کا نقصان نہیں ہوا ہے۔ گذشتہ ہفتے عدالت کے سامنے پیش ٹی آر اے آئی کی رپورٹ اسی کوشش کا حصہ تھی جو اوندھے منہ گر پڑی۔ گھوٹالے کی جانچ کررہی جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی اس نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کررہی ہے۔ راجہ کے فیصلوں میں سرکار کی سینئر لیڈر شپ کی رضامندی کو ثابت کرنے والے تمام دستاویزی ثبوت دیش اور عدالت کے سامنے ہیں۔اے راجہ کے فیصلوں سے جو محصول کو نقصان ہوا اس کے بارے میں پہلے اگر قانونی طور پرثابت ہوجاتا تو پھر وزیر اعظم اور اس وقت کے وزیر خزانہ اس نقصان کی درپردہ ذمہ داری سے بچ سکیں۔ لائسنس لینے والی ایک کمپنی ایئر ٹیل کی ایک چٹھی سرکار کے لئے مصیبت بنے گی۔ وزیر اعظم کو معلوم تھا کہ کمپنیاں ٹوجی اسپیکٹرم کی اونچی قیمت دینے کو تیار تھیں۔ نومبر 2007 میں سیدھی منموہن سنگھ کو لکھی چٹھی میں ایئرٹیل نے اسپیکٹرم کے لئے 6 ہزار کروڑ روپے دینے کی پیشکش کی تھی۔ کمپنی نے بعد میں اسے بڑھا کر13752 کروڑ روپے تک کردیا تھا۔ بازار میں ان اشاروں کے باوجود راجہ نے اسپیکٹرم کو کم قیمت پر فروخت کردیا اور پی ایم او اس فیصلے میں راجہ کے ساتھ کھڑا رہا۔ اسپیکٹرم میں کل کتنا خسارہ ہوا یا گھوٹالہ ہوا اس نقصان کے اندازہ میں کیگ نے ایئر ٹیل کی چٹھی میں مجوزہ قیمت کو ہی اہمیت اشو بنایا ہے۔ راجہ کے فیصلے سے وزیر اعظم اور اس وقت کے وزیر خزانہ کی بے توجہی کی دلیل سامنے آگئی۔ راجہ کے فیصلوں سے بدعنوانی تو صاف ہے البتہ اس فیصلے سے محصول کو نقصان کی دلیل ابھی تنازعات میں ہے۔ کیگ 1 لاکھ76 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا اندازہ لگا چکی ہے جس کو سرکار نے مسترد کردیا ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں تازہ جانکاری کے بعد یہ ثابت کرنے کی آخری کوشش ہوگی کہ 2001 کی قیمتوں پر2008 میں اسپیکٹرم بیچنے سے خزانے کو کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔ یہ ہی آخری راستہ ہے جس سے بدعنوانی کا ٹھیکرا اے راجہ کے سر پھوٹے گا اور سرکار کی لیڈر شپ دیش کا نقصان کرنے کے الزام سے بچ سکے گی۔ ویسے سی بی آئی نے اے راجہ پر کرپشن کا جو مقدمہ چلایا اس میں یہ درج ہے کہ وزیر مواصلات کے فیصلوں سے دیش کو قریب 30 ہزار کروڑروپے کا نقصان ہوا۔ سی بی آئی کو سابق وزیر مواصلات یا بے ضابطگی پر مقدمے کے لئے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ راجہ کے فیصلے سے خزانے کو بھاری چپت لگی ہے۔ اب سب کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہیں ۔دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ آج وزیر داخلہ پی چدمبرم کی اسپیکٹرم میں کردار کی جانچ کو لیکر کیا فیصلہ لیتی ہے۔ یوپی اے اور کانگریس ایک ناگزیں بحران میں پھنس گئی ہیں۔ جس کا فی الحال توکوئی توڑ نہیں نکل پارہا ہے۔ کانگریس صرف اس بات سے فکر مند نہیں چدمبرم پر حملہ کیا جارہا ہے بلکہ اس کی اصلی پریشانی بھاجپا کی وزیر اعظم کو لپیٹنے کی اسکیم سے ہے۔ اگر بھاجپا ایک بار پھر چدمبرم کے خلاف جانچ شروع کرانے میں کامیاب ہوگئی تو اس جانچ کی آنچ اپنے آپ وزیر اعظم تک پہنچ جائے گی۔منگلوارکو سپریم کورٹ میں اس معاملے کی سماعت ہوئی ہے۔ لیکن تازہ اطلاع کے مطابق یہ معاملہ آج تک یعنی بدھوار تک کے لئے ملتوی ہوگیا ہے۔ دیکھیں عدالت میں آج کیا ہوتا ہے؟
2G, A Raja, Anil Narendra, CAG, Corruption, Daily Pratap, Manmohan Singh, P. Chidambaram, Pranab Mukherjee, Prime Minister, Scams, Supreme Court, Vir Arjun

بابا رام دیو حمایتیوں پر لاٹھی چارج کی شکار راج بالا چل بسی




Published On 28th September 2011
انل نریندر
کالی کمائی کے اشو پر بابا رام دیو کے انشن کے دوران رام لیلا میدان میں دہلی پولیس کے ذریعے 4 جون کو کی گئی کارروائی میں شدید زحمی ان کی ایک حمایتی 57 سالہ خاتون راج بالا آخر کار پیر کے روز چلی گئیں۔ راج بالا کی ریڑھ کی ہڈی میں شدید چوٹیں آئیں تھیں تبھی سے وہ یہاں جی بی پنت ہسپتال میں زیر علاج تھیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق راج بالا کی موت صبح 10 بجکر25 منٹ پر ہوئی۔ راج بالا ان بدقسمتوں میں تھیں جو 4 جون کو رام لیلا میدان میں بابا رام دیو کی حمایت میں بیٹھی تھیں۔ پولیس کارروائی میں بری طرح زخمی ہونے کے بعد انہیں4 جون کو ہی ہسپتال میں بھرتی کروایا تھا۔ ان کا آپریشن بھی ہوا تھا اور وہ وینٹی لیٹر پر تھیں۔ راج بالا کے خاندان اور بابا رام دیو کا الزام ہے کہ راج بالا پولیس لاٹھی چارج کے سبب زخمی ہوئی تھی حالانکہ پولیس ان الزامات کی تردید کرچکی ہے۔ رام لیلا میدان پر کوئی لاٹھی چارج نہیں ہوا تھا اور مظاہرین کے درمیان مچی بھگدڑ کے سبب راج بالا زخمی ہوئی تھیں۔ ہسپتال میں راج بالا کی موت کی اطلاع ملتے ہیں پنت ہسپتال پہنچے بابا رام دیو نے کہا راج بالا کی قربانی بیکار نہیں جانے دی جائے گی۔ جن اشوز کی لڑائی میں انہوں نے قربانی دی وہ آگے جاری رہے گی۔ بابا نے کہا راج بالا کی موت کرپشن کے خلاف لڑائی میں شہادت ہے ان کی موت کے لئے وزیر داخلہ سیدھے طور پر ذمہ دار ہیں کیونکہ انہی کے کہنے پر پولیس نے میرے حمایتیوں پر بے رحمانہ طریقے سے کارروائی کی تھی۔ رام دیو کے بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ سینئر وکیل رام جیٹھ ملانی نے اس اشو پر حمایت دی ہے اور کہا ہے کہ دہلی پولیس اور اسے ہدایت دینے والے وزیر داخلہ کو معاملے میں ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔ موقعے پر سول سوسائٹی کے ممبر منیش سسودیا اور راج بالا کی بہو راکیش کماری ملک نے اخبار نویسوں کے سامنے الزام لگایا کہ راج بالا کی موت پولیس کارروائی کے سبب ہوئی۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ پولیس نے یہ کارروائی کی تھی۔ ہمیں ہماری ماں واپس چاہئے۔ کیا ہمیں ہماری ماں واپس دے سکتے ہیں؟ ہمیں کوئی معاوضہ نہیں چاہئے۔ آپ ایسی سرکار سے کیا امید رکھیں گے جس کے وزیر اعظم یا کسی سینئر وزیر نے اس معاملے میں ایک لفظ تک نہیں بولا۔ راکیش کماری نے یہ بھی الزام لگایا راج بالا کو جو چوٹیں آئیں تھیں ان کا ایم ایل سی میں ذکر بھی نہیں کیا گیا ہے۔ بھاجپا کے سینئر لیڈر راجناتھ سنگھ نے کہا اس سے پولیس کے سپریم کورٹ کے سامنے کئے گئے اس دعوے کی پول کھل گئی ہے کہ مظاہرین پر کوئی لاٹھی چارج نہیں ہوا تھا۔ڈاکٹروں نے بتایا کہ پہلے دن سے ہی راج بالا کی حالت نازک بنی ہوئی تھی اور انہیں دوائیوں اور لائف سپورٹ سسٹم پر ہی زندہ رکھا گیا تھا۔ بابا رام دیو اور ان کے حمایتیوں پر مبینہ پولیس کارروائی کے الزام کے بعد قومی انسانی حقوق کمیشن نے 6 جون کو مرکزی وزیر داخلہ دہلی سرکار اور دہلی پولیس سے رپورٹ مانگی تھی۔ اس پولیس کارروائی میں بچوں ،خواتین، بزرگوں سمیت بہت سے لوگ زخمی ہوئے تھے۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ انہیں یقین ہے بصد احترام جج راج بالا کی موت کا نوٹس لیں گے اور ان کے قتل کے لئے ذمہ دار لوگوں پرضرور کارروائی کریں گے۔ہم راج بالا کے خاندان والوں کو بتانا چاہیں گے کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ اکیلے نہیں ہیں۔
Anil Narendra, Baba Ram Dev, Daily Pratap, delhi Police, Human Rights Commission, P. Chidambaram, Raj Bala, Ram Lila Maidan, Supreme Court, Vir Arjun

24 ستمبر 2011

چدمبرم حکومت اور پارٹی دونوں کے لئے لائبلٹی بن گئے ہیں



Published On 24th September 2011
انل نریندر
پونے دو لاکھ کروڑ روپے کے ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں ایک اہم موڑ آگیا ہے۔ اب اس گھوٹالے کے گھیرے میں اس وقت کے وزیر مالیات اور موجودہ وزیر داخلہ پی چدمبرم آگئے ہیں۔ ان پرالزام اپوزیشن یا جانچ ایجنسی سی بی آئی نے نہیں بلکہ موجودہ وزیر پرنب مکھرجی کی جانب سے لگائے گئے ہیں۔ پرنب مکھرجی کی جانب سے25 مارچ2011 کو وزیر اعظم کے دفتر کو لکھے خط میں کہا گیا ہے کہ اگر چدمبرم چاہتے تو ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالہ روک سکتے تھے لیکن انہوں نے 30 جنوری 2008 کو اے راجہ سے ملاقات میں انہیں پرانی شرحوں پر اسپیکٹرم کرنیں بیچنے کی اجازت دے دی۔ انہوں نے کہا میں اب اینٹری فیس یا ریوینیو شیرینگ کی شرحوں کو ریوزٹ یعنی جائزہ نہیں لینا چاہتا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اگر چدمبرم چاہتے تو اسپیکٹرم کی پہلے آؤ اور پہلے پاؤں کی جگہ مناسب قیمت پر نیلامی کی جاسکتی تھی۔ گیارہ صفحات پر مبنی یہ خط آنے والے وقت میں چدمبرم کے لئے مصیبت کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ خط آر ٹی آئی کے تحت وویک گرگ نے حاصل کی ہے۔ جنتا پارٹی کے صدر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے یہ خط سپریم کورٹ میں جسٹس جی ایس سنگھوی اور جسٹس اے کے گانگولی کی بنچ کے سامنے دستاویز کے طور پر پیش کیا ہے۔ وزارت مالیات میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر مامور ڈاکٹر پی جی ایس راؤ نے وزیر اعظم کے دفتر میں جوائنٹ سکریٹری ونی مہاجن کو25 مارچ 2011 کو یہ خط بھیجا تھا۔ اس خط سے صاف ہے کہ پرنب مکھرجی یہ اشارہ دینا چاہ رہے ہیں کہ اگر پی چدمبرم اڑ جاتے تو شاید ٹیلی کام گھوٹالے کے چلتے دیش کو لاکھوں کروڑوں روپے کا نقصان نہ ہوتا۔ وزارت پی ایم او کو بھیجے ہوئے خط میں کہتی ہے کہ وزارت مالیات 31 دسمبر2008 تک کے لائسنس 2001 کے دام پر بیچنے کے لئے تیار ہوگئی۔
چدمبرم پر سیدھا الزام لگتا ہے کہ اے راجہ جو کچھ کررہے تھے ان کو وزیر داخلہ کی رضامندی حاصل تھی۔ یہ ہی نہیں 30 جنوری2008 کو انہوں نے اے راجہ سے میٹنگ کرکے انہیں پرانی شرحوں پر اسپیکٹرم بیچنے کی اجازت دی۔ اے راجہ بھی شروع سے یہ ہی کہہ رہے ہیں کہ میں نے جو کچھ بھی کیا وہ پی ایم او اور وزارت داخلہ کی منظوری اور علم میں لاکر کیا۔ اب یہ الزام تو کچھ سرکاری دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے۔ پہلے آؤ پہلے پاؤ کی جگہ زیادہ قیمت پر اسپیکٹرم کی نیلامی کی جاسکتی تھی لیکن پی چدمبرم نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ کمپنیوں کو دئے گئے یو اے ایس لائسنس کی سہولیت 5.1 سرکار کو لائسنس کی شرائط کو کسی بھی وقت بدلنے کی اجازت دیتا ہے بشرطیکہ یہ مفاد عامہ میں ہو یا سلامتی کے لئے ضروری ہو لیکن چدمبرم نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ وزارت مالیات نے ٹیلی کام سیکٹر میں پیداوار کی تناسب فیس طے کرنے کی بات کی تھی۔ راجہ اس سے متفق نہیں تھے۔ چدمبرم نے اس کی بھی مخالفت نہیں کی۔ وزارت مالیات 4.4 میگا ہارٹس سے اوپر کی اسپیکٹرم کرنوں کو بازار کے بھاؤ بیچنا چاہتی تھی۔ راجہ نے یہ حد 6.2 میگا ہارٹس کردی۔ چدمبرم اسی پر مان گئے لیکن کسی بھی کمپنی کو6.2 میگاہارٹس سے اوپر اسپیکٹرم کرنیں نہیں دی گئیں۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ سرکار4.4 میگاہارٹس سے اوپر کی نیلامی والے موقف پر قائم رہتی اور کمپنیوں سے نئے داموں پر پیسہ وصولتی لیکن یہ بھی نہیں ہوا۔ یوپی اے کے اندر ایک طرح سے چھڑی خانہ جنگی سے وزیر اعظم کا پریشان ہونا فطری ہی ہے۔ وزیراعظم آج کل امریکہ میں کار فرماں ہیں۔ منموہن سنگھ نے پرنب مکھرجی اور چدمبرم دونوں سے فون پر بات چیت کی ہے۔ جمعرات کی شام وزیر داخلہ پی چدمبرم نے ایک بیان جاری کر دونوں لیڈروں سے بات ہونے کی جانکاری دی۔ انہوں نے کہا میں نے وزیر اعظم کو پورے معاملے سے باآور کیا ہے کہ جب تک وہ غیر ملکی دورے سے لوٹتے ہیں میں اس موضوع پر کوئی بیان نہیں دوں گا۔ وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ 27 ستمبر کو نیویارک سے بھارت واپس آئیں گے۔ ادھر وزیر خزانہ نے بھی نیویارک سے میڈیا سے کہا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اس لئے میں کچھ نہیں کہوں گا۔ وزیر مرکزی وزیر قانون سلمان خورشید نے کہا کہ چدمبرم پر سوال نہیں کھڑے کئے جاسکتے ہیں۔ وہ سرکار کی حمایت کے حقدار ہیں۔ مرکزی وزیر اطلاعات امبیکا سونی نے بھی سرکار میں دراڑ کے پیدا ہونے کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا جو بھی رپورٹیں آرہی ہیں ان میں سچائی نہیں ہے۔ ٹوجی اسپیکٹرم معاملے کی جانچ کرنے والی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین اور بھاجپا کے سینئر لیڈر ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی نے کہا کہ چدمبرم فوراً استعفیٰ دیں یا انہیں برخاست کیا جائے۔ سی پی ایم نے چدمبرم کے کردار کی سی بی آئی جانچ کی مانگ کی ہے۔ ادھر تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا نے کہا کہ چدمبرم ٹو جی کیس میں ملوث ہیں اور یہ صاف ہوچکا ہے۔ نیویارک سے وزیر اعظم نے کہا انہیں چدمبرم پر پورا بھروسہ ہے۔ چوطرفہ پریشانیوں سے گھری یہ یوپی اے حکومت کے لئے وقت دن بدن مشکلوں بھرا ہوتا جارہا ہے کیونکہ اس مرتبہ سارے الزام ایک سرکاری دستاویز کی بنیاد پر لگ رہے ہیں۔ اس لئے اس سرکار کے لئے اس سے نکلنا آسان نہ ہوگا ۔ رہا سوال پی چدمبرم کا وہ تو اب سرکار اور کانگریس پارٹی کیلئے ایک لائبلٹی بنتے جارہے ہیں۔
2G, A Raja, Anil Narendra, Daily Pratap, Manmohan Singh, P. Chidambaram, Pranab Mukherjee, Salman Khursheed, UPA, Vir Arjun,

23 ستمبر 2011

اگر آپ 25 روپے روز خرچ کرتے ہیں تو آپ غریب نہیں ہیں



Published On 23rd September 2011
انل نریندر
منگلوار کو بھارت کی پلاننگ کمیشن نے ایک حلف نامہ دائر کیا ہے۔ مجھے اس کو پڑھ کر دکھ بھی ہوا اور غصہ بھی آیا۔ پتہ نہیں یہ پلاننگ کمیشن والے کون سی دنیا میں رہ رہے ہیں۔ اگر ان کی سوچ اس طرح کی ہی ہے تو اوپر والا ہی بچائے اس دیش کو۔ حلف نامے میں پلاننگ کمیشن فرماتا ہے کہ غریبی ریکھا سے نیچے (BPL) کا درجہ پانے کے لئے ایک عام شرط یہ ہے کہ ایک پریوار کی کم سے کم انکم 125 روپے روزانہ ہو۔عام طور پر ایک پریوار میں اوسطاً پانچ لوگ مانے جاتے ہیں اس طرح فی شخص کی روزانہ انکم25 روپے ہے۔ غور طلب ہے کہ زیادہ تر سرکاری یوجناؤں کا فائدہ صرف غریبی ریکھا سے نیچے کے لوگ ہی اٹھا سکتے ہیں۔ کمیشن نے یہ حلف نامہ عدالت کے کئی بار کہنے کے بعد دائر کیا ہے۔ کمیشن کے مطابق پردھان منتری دفتر بھی اس حلف نامے پر غور کرچکا ہے۔ حلف نامہ سریش تندولکر سمیتی کی رپورٹ پر منحصر ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ غریبی کھانا، تعلیم اور صحت پر فی شخص خرچ کے حقیقی آنکڑے پر زندگی گذارنے پر منحصر ہے۔ پلاننگ کمیشن کے مطابق گرامین حلقے میں 26 روپے اور شہری حلقے میں 32 روپے کمانے والا اب غریب نہیں مانا جائے گا اور اتنے روپے میں صرف کھانے کا خرچہ نہیں بلکہ کرایہ، کپڑا، صحت، تعلیم،تفریح وغیرہ سب کچھ شامل ہے۔یعنی مہینے میں شہروں میں965 روپے اور گاؤں میں 781 روپے خرچ کرنے والا سرکار کی نظر میں غریب نہیں ہے۔ سرکار اسے اپنی فلاحی اسکیموں کا فائدہ نہیں دے گی۔ ظاہرہے کہ غریبی کے نئے پیمانے کو مضحکہ خیز کہا جارہا ہے لیکن ان سب سے بے فکر عام آدمی کی اس یوپی اے سرکار کے پلاننگ کمیشن کے اس نئے پیمانے پر غریبی ریکھا سے اوپر رہنے والا شہری اناج پر پانچ روپے، سبزیوں پر 1.80 پیسے، دال پر 1 روپیہ اور دودھ پر 2.30 پیسے خرچ کرتا ہے۔ تیل اور رسوئی گیس ملا کر مہینے میں112 روپے خرچ کرنے والا بھی غریب نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دہلی میں پانچ روپے میں آپ 136 گرام چاول یا 166 گرام گیہوں ہی خرید سکتے ہیں۔ 1.80 پیسے میں 180 گرام آلو یا 90 گرام پیاز،90 گرام ٹماٹر یا پھر 180 گرام لوکی خرید سکتے ہیں۔ ایسے ہی 1 روپے میں 20 گرام دال ہی مل پائے گی۔ڈھائی روپے سے کم میں دودھ ملے گا صرف85 ملی لیٹر اور 112 روپے میں آپ ڈیڑھ کلو رسوئی گیس سے زیادہ نہیں خرید سکتے۔ ظاہر ہے اتنے راشن میں ایک وقت کا بھر پیٹ کھانا بھی نہیں ہوسکتا۔
عام آدمی سرکار کے اس آنکڑے سے شاید دکھی ہولیکن حیرانی بالکل نہیں ہوئی، یہ سرکار غریب آدمی سے کتنی کٹ چکی ہے اسی حلف نامے سے پتہ چلتا ہے۔ اقتصادی ماہر پردھان منتری منموہن سنگھ ان کے سپہ سالار مونٹیک سنگھ آہلووالیہ، پرنب مکھرجی، پی چدمبرم جیسے لوگوں سے آپ کیا امید کرسکتے ہیں۔ ان میں سے کسی نے بھی کھلے بازار میں سبزی ، آٹا، دال ، چاول، تیل، دودھ، دوائی ، ڈاکٹر کی فیس، اسکول کی فیس، میٹرو یا بس کے کرائے کا پتہ کیا ہے،یا تجربہ کیا ہو تو زمینی حقیقت کا پتہ چلے۔ ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر اپنے کمپیوٹر میں انگریزی زبان میں گوگل پرسرچ کرکے یہ حلف نامہ تیار ہو تو ہوجاتا ہے لیکن زمینی حقیقت سے یہ کوسوں دور ہوتا ہے۔ اتنا دور کے عام آدمی کو غصہ اور دکھ ہوتا ہے۔
Anil Narendra, daily, Inflation, Manmohan Singh, Montek Singh Ahluwalia, P. Chidambaram, Planning Commission, Poverty, Pranab Mukherjee, Vir Arjun,

02 اگست 2011

چندولیہ نے نیرا راڈیا اور رتن ٹاٹا کو گھسیٹا

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 2nd August 2011
انل نریندر
ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ گھوٹالے میں ملزم سابق وزیر مواصلات اے راجہ کے پرائیویٹ سکریٹری رہے آر کے چندولیہ نے خصوصی عدالت میں سی بی آئی پر الزام لگایا ہے کہ جانچ ایجنسی ان کے خلاف گواہی دینے کیلئے گواہوں پر ناجائز دباؤ بنا رہی ہے۔ سی بی آئی انہیں جھوٹے معاملے میں پھنسانے کی کوشش کررہی ہے۔ سنیچر کے روز پٹیالہ ہاؤس میں سی بی آئی کی او پی سینی کی اسپیشل عدالت میں چندولیہ کی جانب سے جرح پوری کر لی ہے۔ آج سوان ٹیلی کام کے پرموٹر شاہد عثمان بلوا نے اپنے بچاؤ میں دلیلیں دی ہوں گی۔ چندولیہ کے وکیل وجے اگروال نے کہا کہ چندولیہ کی گرفتاری کے وقت سی بی آئی کے پاس ان کے خلاف کوئی چشم دید گواہ نہ تھا اور نہ ہی جانچ ایجنسی نے کسی بھی گواہ کو پیش کیا۔ اس طرح اس سال 2 فروری کو ہوئی ان کی گرفتاری دراصل غیر قانونی تھی۔ اگروال نے کہا کہ جن لوگوں کو چھوڑا گیا یا جنہیں گواہ بنایا جارہا ہے انہیں خصوصی عدالت میں ملزم کے طور پر کھڑا ہونا چاہئے تھا۔ جمعہ کے روز اسپیکٹرم معاملے میں چندولیہ نے اپنی دلیل میں خود کو بے قصور بتایا اور کہا کہ انہوں نے تو صرف اپنے باس کی ہدایات پر عمل کیا تھا۔ ساتھ ہی نیرا راڈیا اوررتن ٹاٹا کو بھی معاملے میں گھسیٹ لیا۔ چندولیہ کے وکیل نے سی بی آئی کے اسپیشل جج جسٹس اوپی سینی نے کہا کہ راجہ کے مبینہ ساتھی اسیر ودرم اچاری نے مبینہ طور پر کلیگنر ٹی وی کو ٹاٹا اسکائی، ڈی ٹی ایس میں لانے کی سازش رچی تھی اور اس کے لئے راجہ اور نیرا راڈیا کے بیچ رابطے کا کام کیا۔ اس میں نیرا راڈیا کوملزم بنایا جانا چاہئے۔ دلیل کے دوران چندولیہ کے وکیل نے کہا کہ بات چیت کے دوران نیرا نے جب سمجھوتے کے سلسلے میں بات کی تو آچاریہ نے ان سے کہیں بھی نہیں پوچھا کہ وہ کس بارے میں بات کررہی ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اچاری کو راجہ کی طرف سے کئے جارہے کلیگنر ٹی وی اور ٹاٹا کے بیچ سمجھوتے کے بارے میں جانکاری تھی ۔ اس کو دیکھتے ہوئے ٹاٹا نیرا اور اچاری سمیت کلیگنر ٹی وی کو اس معاملے میں ملزم بنایا جانا چاہئے۔ ٹا ٹا اور نیرا راڈیا بڑے لوگ ہیں اور سی بی آئی انہیں چھو تک نہیں پارہی ہے لیکن اچاری کو کیوں نہیں؟ چندولیہ نے کہا کہ وہ تو روز مرہ کے کام کاج میں اے راجہ کی مدد کرنے والے افسر تھے۔ ان کے وکیل نے کہا کہ میرے موکل کے باس اے راجہ تھے اور چندولیہ نے تو صرف ان کی ہدایات کی تعمیل کی۔ باس کی ہدایات کی تعمیل کرنے کے لئے ایک معاون مانے جاتے تھے کیا وہ چندولیہ اپنی باس سے سوال کر سکتے تھے؟ چندولیہ نے کہا کہ وہ ڈی ایم کے کلیگنر ٹی وی یا کسی ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی سے وابستہ شخص نہیں ہیں۔ انہوں نے سی بی آئی کو چنوتی دی بھی وہ بھی ثبوت کی شکل میں کوئی دستاویز پیش کریں جس پر انہوں نے دستخط کئے ہوں۔
اب تک مختلف گواہوں پر نظر ڈالیں تو ایک الگ تصویر سامنے آتی ہے۔ پہلے بات کرتے ہیں خود اے راجہ کی۔ راجہ نے 25-7-2011 کو وزیر اعظم منموہن سنگھ اور وزیر داخلہ پی چدمبرم کا نام گھسیٹا۔ اور ملزم سوان، یونیٹیک کی حصے داری کم کئے جانے کے بارے میں جانتے تھے۔ 26-7-11 کو اٹارنی جنرل جی ای واہن وتی( اس وقت کے سالیسٹر جنرل) پر راجہ نے الزام لگایا کہ ’پہلے آؤ پہلے پاؤ‘ کی پالیسی میں راجہ کی تبدیلیوں کو منظوری دی۔ نیرا راڈیا کے ٹیپ آؤٹ ہونے سے ٹو جی گھوٹالے میں نیتاؤں، صنعت کاروں، صحافیوں کے کھیل کی ڈراؤنی تصویر سامنے آگئی۔ ان ٹیپوں سے پتہ چلا کہ وہ ٹاٹا اور امبانی جیسی کمپنیوں کے لئے لابنگ کا کام کیا کرتی تھی۔ ٹاٹا گروپ کی سبھی 90 کمپنیوں کا اشتہار اور پبلک رلیشن کا کام نیرا راڈیا کی کمپنی ویشنوی کمیونی کیشن کے پاس تھا۔ 27-7-11 سدھارتھ بہورا نے بھارتیہ ریزرو بینک کے گورنر ڈی سبا راؤ پر الزام لگایا کہ انہوں نے اسپیکٹرم لائسنس فیس کا جائزہ نہیں لیا اور معاملہ پیچیدہ ہوتا جارہا ہے۔ سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے جج او پی سینی اس معاملے سے کیسے نمٹتے ہیں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔
Tags: 2G, A Raja, Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, Manmohan Singh, Neera Radia, P. Chidambaram, Swan Telecom, Tata Teleservices, Unitech Wireless, Vir Arjun

22 جولائی 2011

گورکھا مسئلے کا حل ایک نئی سمت فراہم کر سکتا ہے


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 22th July 2011
انل نریندر
مغربی بنگال حکومت، مرکزی حکومت اور گورکھا جن مکتی مورچہ کے درمیان ہوا سمجھوتہ دارجلنگ علاقے میں بحالی امن کا ایک تاریخی قدم ہے۔ لیفٹ فرنٹ نے اس علاقے سے کبھی انصاف نہیں کیا اور ہمیشہ اسے کچلنے کی ہی کوشش کی لیکن ممتا بنرجی نے اقتدار سنبھالتے ہی پہاڑی خطے کے اس پیچیدہ مسئلے کو سلجھا دیا ہے۔ یقینی طور سے یہ ان کا لائق تحسین کارنامہ ہے۔ وزیر اعلی ممتا بنرجی نے مشکل سیاسی چیلنج کا فوری طور پرحل نکالنے میں جو کامیابی حاصل کرکے اپنی سیاسی قابلیت کا ایک ثبوت دیا ہے۔ گورکھا لوگوں کے لئے الگ ریاست کی مانگ تین دہائیوں سے مغربی بنگال کی سیاست میں اتھل پتھل مچاتی رہی ہے لیکن الگ ریاست کے لئے مغربی بنگال کا بٹوارہ ایسا حساس مسئلہ تھا جسے کسی میں چھونے کی ہمت نہیں تھی۔ 23 سال پہلے ایسا ہی ایک سمجھوتہ اس وقت کے گورکھا مکتی مورچہ کے ساتھ ہوا تھا جس میں دارجلنگ گورکھا پہاڑی کونسل بنائی گئی تھی اور سبھاش گھیشنگ کو اس کا لیڈر بنایا گیا تھا۔ حالانکہ یہ بھی ایک مختار کونسل تھی اور اس میں دارجلنگ ،کلنگ پونگ اور کرسیانگ کے علاقے شامل کئے گئے تھے لیکن اس کے اختیارات محدود تھے۔ لیفٹ فرنٹ نے اس 42 نفری کونسل میں ایک تہائی ممبروں کو نامزد کرنے کا حق اپنے پاس رکھ لیا تھا جسے لیکر کھینچ تان رہتی تھی۔ ممتا بنرجی نے نئے سسٹم کو گورکھا لینڈ علاقائی انتظامیہ کا نام دیکر گورکھالوگوں کے جذبات کو کافی حد تک مطمئن کیا ہے۔ اس وقت عارضی طور پر اس میں وہی علاقے رکھے گئے ہیں جو سبھاش گھیشنگ کی پہلی کونسل میں تھے۔ تازہ سہ فریقی سمجھوتے کے بعد کونسل کی بہ نسبت جی ٹی اے کے پاس زیادہ اختیار ہوں گے۔ پریشد کے ممبران کی تعداد 50 کرنے کی سہولت رکھی گئی ہے اور نامزد کئے جانے والے ممبروں کی تعداد گھٹا کر پانچ کردی گئی ہے۔مختاریت کی کنجی سے کسی علاقائی یا سالمیت کے معاملے کے حل کی یہ دیش میں پہلی مثال نہیں ہے۔ اس میں بوڈولینڈ علاقائی کونسل کو اس سے زیادہ مختاری حاصل ہے۔
یہ بات صاف ہے کہ تین قومیں یعنی کھاسی، جیوتیا اور گورا کونسل کے بارے میں بھی یہ ہی کہا جاسکتا ہے کہ ان بلدیاتی اداروں کو انتظامی کاموں کے علاوہ کچھ حد تک عدلیہ اختیار بھی حاصل ہیں لیکن ممتا کے فارمولے میں بھی ایک پیچ پھنس سکتا ہے۔ بیشک ایک کمیٹی ضرور بنائی گئی ہے جو تراہی اور سلی گوڑی کے گورکھا اکثریتی حصوں کو نئے سسٹم کا حصہ بنانے کی مانگ کرے گی۔ لیکن یہ پیچ یہیں پھنس سکتا ہے۔ ان علاقوں کے بنگالی، قبائلی اور دیگر گورکھا فرقے کے لوگ اس سسٹم کے ساتھ جانے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جہاں نئے سسٹم کو لیکر گورکھا فرقہ کے لوگ آتش بازیاں چھوڑ رہے تھے اسی وقت سلی گوری اور تراہی علاقوں کے حصوں میں ہڑتال اور بند کیا جارہا تھا۔ چناؤ میں منہ کی کھانے کے بعد لیفٹ فرنٹ سیاسی روٹیاں سینکنے کے فراق میں ہیں اور اسے بنگال کا بٹوارہ بتا رہی ہیں۔ حالانکہ ممتا بنرجی نے گورکھا لینڈ انتظامیہ کے اعلان کے وقت صاف طور پر کہہ دیا تھا کہ ریاست کی تقسیم کسی بھی حالت میں نہیں کی جائے گی۔ گورکھا علاقائی انتظامیہ ایسی درمیانی راہ نکالنے کا تجربہ ہے جسے الگ ریاست کی مانگ اٹھا رہے تلنگانہ، ودربھ جیسی تحریکوں کا حل نکل سکتا ہے۔ ویسے بھی دیکھا جائے الگ ریاست بنانے سے اور ریاستوں کا بٹوارہ کرنے سے تو یہ راستہ کہیں بہتر ہے۔
Tags: Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Mamta Banerjee, P. Chidambaram, West Bengal, Gorkhaland,

17 جولائی 2011

حکومت ہند کو دہشت گردی پر ’زیرو ٹالرینس ‘پالیسی اپنانی ہوگی

Published On 17th July 2011
 انل نریندر
وزیر اعظم منموہن سنگھ اوروزیرداخلہ چدمبرم جب یہ کہتے ہیں کہ ممبئی بم دھماکوں کے قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔ تو عوام کو اب برا سا لگنے لگا ہے اور ایسی کوری تسلیاں سن کر اب عوام اکھڑنے لگی ہے۔منموہن سنگھ نے یہ ہی لفظ 26 نومبر 2008 ء کو بھی ممبئی کے شہریوں سے کہے تھے۔ تب سے لیکر اس حکومت نے کیا کیا ہے؟ کچھ نہیں صرف کورے وعدے۔ ممبئی کے باشندے اب ان کوری تسلیوں سے اکتا چکے ہیں۔ وہ کینڈل مورچہ، امن مورچہ سے ہیومن چین بنا بنا کر عاجز آچکے ہیں۔ عوام کہتی ہے کہ کچھ کرکے دکھاؤ۔ امریکہ سے کچھ تو سبق لو۔ القاعدہ نے 26/11 کو امریکہ پر حملہ کیا تھا اسی وقت امریکہ نے اعلان کردیا تھا کہ وہ تب تک دم نہیں لیں گے جب تک وہ اسامہ بن لادن اور القاعدہ کو ختم نہیں کردیں گے۔ بیشک اس کام میں امریکہ کو دس سال لگے لیکن انہوں نے یہ دکھا دیا کہ وہ اپنے ارادے کے پکے ہیں، جو کہتے ہیں اسے پورا کرنے کی قوت ارادی بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے دشمن کے گھر میں گھس کر دشمن کو تہس نہس کر کے ہی دم لیا۔ آدمی تجربے سے ہی سیکھتا ہے اور مستقبل میں اپنے میں بہتری لاتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ برطانیہ ، اسپین اور دوسرے مغربی دیش ہر دم چوکنے رہ کر دہشت گردوں کے منصوبے کو فیل کرتے آرہے ہیں۔ یہ اس لئے کامیاب ہورہے ہیں کیونکہ انہوں نے ’زیرو ٹالرینس‘ کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ یعنی ایک بھی حملہ ہم برداشت نہیں کریں گے۔ اور ہمارے یہاں حملے پر حملے ہوتے جاتے ہیں اور ہم کوری دھمکیاں دینے سے باز نہیں آتے۔ عزت مآب وزیر داخلہ جی 12 مارچ1993ء سے جولائی 2011ء کے درمیان اکیلے ممبئی میں 8 بم دھماکے ہو چکے ہیں۔ جن میں 682 جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ کیا آپ کو یہ معلوم ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں مرنے والوں کی تعداداب کراچی اور کابل میں مرنے والوں کی تعداد تقریباً برابر پہنچ چکی ہے۔ اکیلے ممبئی 2005ء میں تقریباً394 لوگ مارے جا چکے ہیں جبکہ اسی وقفے میں کراچی میں500 اور کابل میں 520 لوگ مرے۔ اگر پورے مہاراشٹر کی تعداد جوڑی جائے تو یہ تعداد506 بن جاتی ہے۔ ممبئی کو اب دنیا میں سب سے خطرناک شہروں میں شمار کیا جانے لگا ہے اور اس کو آپ کی لچر پالیسی نے بنا دیا ہے۔ چدمبرم نے بڑے زور شور سے این آئی اے یعنی قومی جانچ ایجنسی کا اعلان کیا تھا۔ کیا کیا آپ کی اس این آئی اے نے؟ اگر 26/11 کے بعد میں ہوئے پانچ دیگر حملوں کی بات کریں تو لگتا ہے کہ آپ کی این آئی اے کچھ نہیں کرپائی۔ 26/11 کو ممبئی میں ہوئے آتنکی حملے کے بعد دیش کے الگ الگ حصوں میں ہوئے واقعات کا سراغ ابھی تک نہیں لگایا جاسکا۔ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ ان میں سے تین معاملوں کی جانچ این آئی اے کے ہاتھوں میں ہے۔ 13 فروری کو پنے کی جرمن بیکری، 17 اپریل کو چنئی کے چنا سوامی اسٹیڈیم میں آئی پی ایل میچ سے ٹھیک پہلے دھماکہ، پچھلے سال ستمبر کی آخر میں جامع مسجد دہلی میں گولہ باری، دہلی ہائی کورٹ میں دھماکہ اور وارانسی میں ہوئے بم دھماکوں کا معمہ ابھی تک سلجھ نہیں پایا۔ یاد کرانا چاہیں گے کہ چدمبرم صاحب آپ نے بڑے زور شور سے اعلان کیا تھا کہ این آئی اے کی تکیل وزارت داخلہ نے اس لئے کی ہے تاکہ دیش بھر میں دہشت گردی سے متعلق معاملے سلجھائے جا سکیں۔ اس ایجنسی نے جامع مسجد، وارانسی اور چنا سوامی اسٹیڈیم میں ہوئے واقعات کی گتھی سلجھانے کا بیڑا اٹھایا تھا لیکن ابھی تک کامیابی دور دور تک دکھائی نہیں دیتی۔ وہیں ہائی کورٹ اور جرمن بیکری دھماکوں کو لیکر مقامی پولیس کے ذریعے چھان بین جاری ہے مگر حالات ٹھیک نہیں ہو پارہے ہیں۔اس معاملے میں ایک شخص کی گرفتاری ہوئی ہے لیکن اے ٹی ایس واردات میں اس کے ملوث ہونے کے بارے میں مضبوطی سے ثابت نہیں کرپائی ہے۔ ان معاملوں میں جانچ کی سوئی آتنکی تنظیم انڈین مجاہدین پر گھومتی رہی ہے لیکن ابھی تک ایجنسی کو اس کے ملوث ہونے کے پختہ ثبوت ابھی تک حاصل نہیں کرپائی ہے۔ ایک آدھ معاملے میں اگر کوئی معاملہ عدالت جاتا ہے تو وہ بھی ثبوتوں کی کمی کی وجہ سے ٹھپ ہوجاتا ہے۔ بم دھماکوں کے مجرم اکثر معاملوں میں بری ہوجاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جانچ ایجنسی لچر طریقے سے ثبوت اکٹھا کرتی ہیں اور ایسے ثبوت عدالت میں پختہ طور پر ٹھہر نہیں پاتے۔ دیش میں بم دھماکوں کے مقدمے سے وابستہ وکیل بھی تصدیق کرتے ہیں کہ جانچ ایجنسیاں ثبوت حاصل کرنے کے معاملے میں اکثر ڈھیلا ڈھالا غیر پیشہ ور رویہ اختیار کرتی ہیں جس سے ملزم چھوٹ جاتے ہیں اور جانچ ایجنسیوں کو کورٹ کی لتاڑ جھیلنی پڑتی ہے اور وہ پہلے کی طرح ٹال مٹول کے رویئے پر چلنے لگتی ہیں۔ ایسے بھی معاملے سامنے آئے ہیں جب زبردستی قبول نامے کی بنیاد پر جھوٹا مقدمہ بنا دیا گیا ہو۔ یوپی اے سرکار نے ٹاڈا ہٹانے میں بہت جلد بازی کی لیکن آج تک اس کی جگہ ایسا کوئی موثر قانون نہیں بنایا گیا جس سے دہشت گردوں کو سزا دلوا سکیں۔ دیش کی سکیورٹی ایجنسیوں کے لئے خطرہ بنے آتنک واد سے نمٹنے کے لئے آج بھی کوئی موزوں قانون دیش میں موجود نہیں ہے۔ اب تک 2005 ء سے لیکر7 دسمبر 2010ء تک چھوٹے بڑے کل ملا کر 21 آتنکی حملے ہوچکے ہیں۔
ممبئی میں تازہ بم دھماکوں کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ کہیں نہ کہیں ضرور ہے۔ امریکی میڈیا میں بھی یہ ہی کہا جارہا ہے۔ امریکی میڈیا نے ان دھماکوں پر لکھا ہے کہ ان دھماکوں نے پاکستان کی جانب سے آتنکیوں کے خلاف کی جارہی کارروائی کے اثر پر پھر سے سوالیہ نشان لگا دئے ہیں اور اس کے پیچھے لشکر کا ہاتھ ہونے کا شبہ ہے جس نے 2008 میں بھی ممبئی میں آتنکی حملہ کروایا تھا۔ جانچ سے چاہے جو بھی پتہ چلے لیکن ایک چیز صاف ہے کہ پاکستان پر بین الاقوامی برادری کے بھاری دباؤ کے باوجود یہ سبھی گروپ ابھی بھی وہاں سے اپنی سرگرمیوں کو چلا رہے ہیں اور حکومت ہند کوئی سخت قدم اٹھانے کی جگہ دوستی کا ہاتھ بڑھا رہی ہے۔ بھارت سرکار اب تک ممبئی کے پچھلے حملوں میں پاکستان میں جاری مقدمے کو آگے نہیں بڑھواسکے اور قصورواروں کو سزا دلوانا تو دور رہا ،پاکستان سے بات چیت کا کیا تک ہے، یہ اپنی سمجھ سے باہر ہے۔ پاکستان کے چال چلن میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔ آج بھی اس کی ٹیرر اسٹیٹ پالیسی ہے ۔ پاک نواز آتنکی تنظیموں کے نشانے پر آج بھی ممبئی ،دہلی اور بنگلورو جیسے بڑے شہر ہیں۔ ہم جب تک ’زیرو ٹالرینس‘ کی پالیسی پر نہیں چلتے تب تک ان دھماکوں کا سلسلہ رکنے والا نہیں ہے۔ ایک بھی حملہ ہم اب برداشت نہیں کریں گے۔ ہمارے وزیر اعظم یا وزیر داخلہ میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ لشکر یا انڈین مجاہدین کا اس حملے کے پیچھے ہونے کی بات کہہ سکے یا اشارہ تک کر سکے؟ انڈین مجاہدین اور پاکستان کی لشکر طیبہ کے درمیان رشتے رہے ہیں۔ سرکار آج تک پاکستان سے ممبئی حملوں کے پیچھے ماسٹر مائنڈ سے پوچھ تاچھ کرنے کی اجازت تک نہیں لے سکی ہے جبکہ واحد زندہ بچے دہشت گرد عامر اجمل قصاب کو سینے سے چپکائے ہوئے ہے اور افضل گورو کو بھی شوپیس بنا کر رکھا ہوا ہے۔ کیوں نہیں اب افضل گورو کو پھانسی پر لٹکا دیتی تاکہ ان آتنکیوں کو ایک صاف اشارہ دیا جائے؟ آج ان جلاسوں ،ریبیٹی، گل کی یاد آتی ہے جب انہو ں نے پنجاب میں آتنکیوں کو یہ سندیش دیا تھا کہ تم ایک مارو تو ہم دس ماریں گے، گولی کا جواب گولی سے دیا جائے گا۔ یوں ہی پنجاب میں آتنک واد ختم نہیں ہوا تھا۔ اس کے پیچھے ٹھوس حکمت عملی تھی۔ سرکار کی قوت ارادی تھی اور سکیورٹی فورس کو اپنے حساب سے کارروائی کرنے کی کھلی چھوٹ تھی۔
دیش کی جنتا اس سرکار کی آتنک واد سے نمٹنے کی ٹال مٹول کی پالیسی سے تنگ آچکی ہے۔ اگر یہ کہیں کہ جنتا ’زیرو ٹالرینس‘ پر آچکی ہے تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ممبئی کے شہریوں کو آخر کب تک اسی طرح دہشت کے سائے میں جینا پڑے گا؟ ایک بھی دہشت گرد حملہ آخر کیوں برداشت کیا جائے؟ لوگ یہ سنتے سنتے عاجز آچکے ہیں کہ ہم ایک خطرناک پڑوس میں رہتے ہیں ان کے کان یہ سن کرپک چکے ہیں کہ ہم ان قصورواروں کو نہیں بخشیں گے۔ جنتا کو سکیورٹی کی گارنٹی چاہئے تاکہ وہ بے خوف زندگی جی سکیں۔ بیشک ان کے روٹین پر لوٹنا کچھ حد تک ضروری ہے لیکن اس کا مطلب سرکار کو یہ نہیں نکالنا چاہئے کہ وہ سب طرح کی کوری بکواس ہضم کرنے کو تیار ہے۔ اگر کوئی لیڈر آتنکی حملے کا شکار ہوتا ہے تو بھی کیا سرکار کا یہ ہی رخ ہوتا؟ یہ تو بیچارے بھولے بھالے معمولی عوام ہیں جو مارے جاتے ہیں لیکن سرکار کو جنتا کے موڈ کو سمجھنا ہوگا۔ جنتا چیخ چیخ کر پکار رہی ہے ’’بس اب اور نہیں‘‘۔
Tags: 13/7, 26/11, Afzal Guru, Anil Narendra, Bomb Blast, Daily Pratap, Indian Mujahideen, Kasab, Lashkar e Toeba, Manmohan Singh, NIA, P. Chidambaram, Pakistan, Politician, Terrorist, Vir Arjun

16 جولائی 2011

خون سے لہولہان ممبئی اور مرکزی وزارت داخلہ


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 16th July 2011
انل نریندر
ممبئی میں ہوئے سلسلے وار دھماکوں نے مرکزی وزارت داخلہ ،انٹلی جینس بیورو اور دہشت گرد معاملوں کی بڑی دھوم دھام سے بنائی گئی قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے)کی چوکسی اور باخبر رہنے کے سارے دعوؤں کی پول کھول کر رکھ دی ہے وزارت داخلہ اور وزیر داخلہ پی چدمبرم کا اچھا ریکارڈ چل رہا تھا جنتا کو ان میں بھروسہ ہونے لگاتھا کہ آخر کار ایسا وزیر آیا ہے جس نے دھماکو ں کا سلسلہ تھوڑا ضرور روکا ہے 26نومبر 2008ممبئی حملوں کے بعد سے کوئی دھماکہ نہیں ہوا تھا چھوٹے چھوٹے بم دھماکوں کا سلسلہ تو چلتا ہی رہا لیکن جس طرح سے پارلیمنٹ ہاؤس یا اکشر دھام مندر یا ممبئی میں بڑے حملے ہوئے تھے ویسا کوئی نہیں ہوا تھا۔ مرکزی وزارت داخلہ کیلئے یہ دھماکے اس لئے بھی بڑی شرمندگی نظر آرہے ہیں کیوں کہ یہ ٹھیک اس وقت ہوئے ہیں جب آتنکی حملوں کے لئے خاص طور سے تشکیل این آئی اے کی ٹیم پہلے سے ہی ممبئی میں موجود تھی۔پیر کے روز داخلہ سکریٹری بھی ممبئی کے دورے پر بھی حالانکہ ان کا یہ دورہ ذاتی تھا لیکن وہ این آئی اے ٹیم ممکنہ خطرے کو کیسے نہیں بھانپ پائی، خاص طور پر جب پچھلے کچھ دنوں سے الرٹ پر تھی تمام سوالوں کے باوجود مرکزی وزارت میں ہوئی ردوبدل کی آنچ سے اپنی کرسی بچانے میں کامیاب رہے تھے مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم کی شان میں آتنکیوں نے گستاخی کردی مرکزی وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق جنوری سے اب تک تقریباً آدھا درجن خفیہ وارننگ کے بعد بھی دہشت گرد بدھو وار کو ممبئی میں 11منٹ کے فرق سے تین دھماکے کرنے میں کامیاب رہے جبکہ اس سلسلے وار دھماکوں سے کچھ گھنٹے پہلے ہی امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے ہندوستان کو ممبئی سمیت کچھ شہروں میں ممکنہ آتنکی حملوں کی وارننگ دے دی تھی۔ اتنا ہی ممبئی میں 26نومبر2008کو ہوئے آتنکی حملے کے بنیادی ملزم عامراجمل قصاب کا 24واں جنم دن بھی بدھوار کو تھا ان سب کے باوجود سیکورٹی اور خفیہ ایجنسیوں کی چوکسی دھری کی دھری رہ گئی وزارت آتنکی حملوں کے اندیشہ کو لے کر کس قدر لاپرواہ بنی ہوئی تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جولائی کے پہلے ہفتے میں وزارت نے جب اپنی ماہانہ رپورٹ پیش کی تھی اس وقت اس بات کو لے کر اپنی پیٹھ تھپتھپائی تھی پچھلے 6مہینوں میں کوئی آتنکی حملہ نہیں ہوا شاید وزارت اس ممکنہ خطرے کو بھانپ نہیں سکی تھی مرکزی وزیر داخلہ کے طو رپر پی چدمبرم کے وزارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ پہلی بار ہے جب کسی دہشت گرد تنظیموں نے ایک ساتھ تین دھماکے کئے دھماکے کرکے سیدھی چنوتی دی ہے اس سے پہلے ہوئے پُنے کے جرمن بیکری اور بنارس گھاٹ پر ہوئے دھماکے میں بھی وزارت کے ہاتھ ابھی تک خالی ہیں۔ اس کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جرمن بیکری دھماکے میں وزارت ایک بار معاملے کو تقریباً کھولنے کا دعوی کرچکی تھی لیکن بعد میں اس معاملے کو غیر سلجھا قرار دے دیا گیا۔
بے شک بدھ کے روز ممبئی دھماکوں میں ممبئی کی عوام نے ہمیشہ کی طرح واردات کا مقابلہ حوصلہ صبر سے کیا لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ ممبئی اب ویسی نہیں رہی جیسی ہوا کرتی تھی ممبئی پر 1993سے اب تک آدھے درجن سے زائد آتنکی حملے ہوچکے ہیں جن میں 2008کا حملہ بھی شامل ہے اس سبھی حملوں میں کم ازکم 700لوگ مارے گئے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب بھی تشدد رکنا کا نام نہیں لے رہا عام طو رپر ممبئی پر ہوئے حملوں کے پیچھے دلیل ہوتی ہے اگر بھارت کی مالیاتی راجدھانی اور تفریحی سرگرمیوں کے خاص مرکز پر حملہ ہوتا ہے تو وہ دیش کے لئے زبردست دھچکا ہوسکتا ہے ساتھ ہی ان حملوں سے دہشت گرد گروپ دنیا کی نظر اپنی طرف راغب کرسکتے ہیں لیکن اب لگتا ہے کہ یہ کہانی کا محض ایک سرا ہے ممبئی میں رہنے والے کئی لوگ آپ کو بتائیں گے کہ شہر 1993سے ڈھلان پر لڑکھڑانے لگا تھا جب بابری مسجد مسماری کے بعد پورا شہر دوہفتے تک فرقہ وارانہ فسادات میں جھلستا رہا فسادات کے دو مہینوں کے بعد انڈرورلڈ نے بدلہ لینے کی کارروائی کے طو رپر سلسلہ وار بم دھماکہ کئے جن میں 250سے زیادہ لوگوں کی جانیں گئیں ،جن میں کئی مسلمان بھی تھے۔کئی لوگ مانتے ہیں کہ قانون کا سایہ اس دن سے اٹھنے لگا 1998میں دو جلدومیں فرقہ وارانہ فسادات پر آئی رپورٹ کو ہر حکومت نے نظر انداز کیا اور فسادات میں مبینہ طور سے شامل لیڈروں اور پولیس ملازمین پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی لیکن اسی وقت انتظامیہ نے ان کے خلاف ضروری کارروائی کی جو بم دھماکوں میں شامل تھے اس سے سرکار پر الزام لگا کہ وہ مسلم مخالف ممبئی شہر میں رہ رہے دو بڑے فرقوں کے درمیان اعتماد ختم ہونے لگا۔ ممبئی شہر پر کافی سراہی گئی کتاب ’’ممبئی فیبلس‘‘کے منصف کا کہنا ہے ممبئی کو اب تک ایک قانون پسند اور روشن خیال شہر کی شکل میں جانا جاتا رہا ہے لیکن اب تک تصوارات تصویر بن چکا ہے۔ 1990کے درمیان سے ہی سیاست دانوں بلڈروں،جرائم پیشہ ہندو کٹر پسند ،مسلم کٹر پسندوں کی سازش اب شہر کی رگوں میں دوڑتی ہے اب بھی تصویر کچھ بدلی بدلی دکھائی نہیں دیتا شہر ان سازشوں سے چرمرا گیا ہے اسی لئے اس پر حملہ کرنا مشکل نہیں لگتا۔اس کی راتوں کی چمک ،فلمی ستارو ں کے بنگلہ ، ہندوستان کے سب سے امیرشخص کی سب سے مہنگی عمارت ،اور ان سب پرتوں کے نیچے ممبئی شہر ایک تھکا ہوا کڑواہٹ سے بھرا ہوا شہر بن کر رہ گیا ہے۔اس کی بڑی آبادی جھونپڑپٹیوں میں رہتی ہے ۔ہزاروں لوگ آج بھی سڑکو ں پر رات گزارتے ہیں ۔ ان سب کے چلتے شہر خوش نما نہیں ہوسکتا ہر دھماکہ یا آفت کے بعد ممبئی اسپرٹ کا حوالہ اب بوسیدہ ہوگیا ہے۔
Tags: Anil Narendra, Bomb Blast, Congress, Daily Pratap, Mumbai, NIA, P. Chidambaram, Vir Arjun

15 جولائی 2011

ایک بار پھر ممبئی شہر بنا آتنکیوں کا نشانہ


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 15th July 2011
انل نریندر
پچھلے کافی عرصے سے ہندوستان پرکوئی دہشت گردانہ حملہ نہیں ہوا تھا۔ حملے تو ہوتے رہے ہیں لیکن کوئی سلسلہ وار ٹائم بلاسٹ نہیں ہوئے تھے۔ یوں تو تین دن پہلے آسام کے کام روپ دیہات ضلع کے رانگیا کے پاس ایک دھماکے کے بعد گوہاٹی پوری حادثے کا شکار ہوگئی تھی۔ لیکن اس کے پیچھے مقامی شرپسندوں کا ہاتھ تھا۔ اس حادثے میں 50 سے زیادہ مسافر زخمی ہوئے تھے۔ بدھ کے روز ممبئی میں جیسا دہشت گرد حملہ ہوا ، ایسا حملہ کافی دنوں کے بعد ہوا ہے۔ ہم بھول گئے تھے کہ ایسے حملے پھر ہوسکتے ہیں۔ شاید یہ ہی وجہ تھی کہ ہماری خفیہ ایجنسیوں کو اس سلسلہ وار دھماکے کے بارے میں کوئی بھنک تک نہ لگ سکی۔ وزارت داخلہ نے مانا ہے کہ ممبئی میں ہوئے سلسلہ وار دھماکوں کے بارے میں مرکز یا ریاستی حکومت کی خفیہ مشینری کو ذرا بھی بھنک نہ لگ سکی اور بدھ کی شام بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر ہوئے ان تین دھماکوں نے یہ واضح کردیا ہے کہ پچھلے چھ مہینے کے دوران دہشت میں کوئی دہشت گردی کی واردات نہیں ہونے کے بعد سکیورٹی و خفیہ مشینری کافی حد تک بے پرواہ ہوگئی تھی۔ دیش کی اقتصادی راجدھانی ممبئی میں سلسلہ وار دھماکے تین مقامات پر 10 منٹ کے اندر ہوئے جس میں21 لوگ مارے گئے، 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ سانتاکروز میں ایک غیر استعمال شدہ بم ملا جو نہیں پھٹا تھا۔ پچھلے 18 سال میں بدھوار کو 14 ویں مرتبہ ممبئی آتنکی حملے کا شکار ہوئی۔ قریب 6.15 بجے جھاویری بازار میں واقع چاندی و زیورات کے کاروباری دیپک سین نے اپنے نوکر سے میل منگوائی۔ وہ میل کی پڑیا کھول رہا تھا کہ ایک زور دار دھماکے نے اس کی دوکان کی ٹیوب لائٹیں، شوکیس کے کانچ توڑ دیا۔ سین نے آگ کا ایک بڑا گولہ سا اوپر کی طرف جاتا دیکھا۔ سامنے کی کھانے پینے کی دوکانیں آگ پکڑ چکی تھیں۔ سامنے سڑک پر کھڑے پاپڑ بیچ رہے خوانچے والے کے پرخچے اڑ گئے تھے۔ تین درجن سے زیادہ لوگ بری طرح جھلس کر زمین پر گر پڑے اور لوگ ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ لیکن کچھ ہی پلوں میں لوگ پھر چوکس ہوگئے اور زمین پرپڑے بے سہارا زخمیو ں کو لیکر مطلوبہ گاڑیوں سے کے کے جی ٹی ہسپتال کی طرف جانے لگے۔ چشم دید گواہوں کے مطابق جھاویری بازار میں کچھ لمحوں میں دو دھماکے ہوئے۔ بتایا جاتا ہے یہ دونوں دھماکے ایک موٹر سائیکل و ایک اسکوٹر میں رکھے گئے آتشی سامان سے ہوئے۔ تقریباً یہ ہی منظر کچھ منٹ کے اندر پہلے اوپرا ہاؤس پر پھر دادر ریلوے اسٹیشن کے پاس دوہرایا گیا۔ اوپرا ہاؤس ہیروں کے کاروبار کانہ صرف ہندوستان میں بلکہ پوری دنیا میں بڑا مرکز ہے۔یہاں ہوا دھماکہ پنچ رتن بلڈنگ و پرساد چیمبر کے درمیان ٹاٹا روڈ کی کھاؤ گلی میں ہوا جبکہ دادر کا دھماکہ بیسٹ کے ایک بس اسٹاپ کی چھت پر کیا گیا۔ جھاویری بازار کو پچھلے 18 برسوں میں تیسری مرتبہ آتنکی حملے کا شکار ہونا پڑا ہے جبکہ دادر اور اوپرا ہاؤس میں پہلی بار دھماکہ کیا گیا ہے۔ بدھوار کو جھاویری بازار میں ہوئے دھماکے میں سب سے زیادہ لوگ مارے گئے اور زخمی ہوئے ہیں۔ ایسے موقعوں پر جب ایک شہر میں دھماکے ہوں تو دوسرے بڑے شہروں میں دہشت پھیل جاتی ہے۔ میرے پاس کئی ایس ایم ایس آئے کہ دہلی کے ساکیت اور ڈیفنس کالونی میں بھی بم ملے ہیں۔ یہ سب ایک افواہ تھی اور دہلی میں اوپر والے کے رحم و کرم سے کوئی بم نہیں ملا۔
سوال یہ اٹھتا ہے یہ دھماکے کس نے کروائے اور کیوں؟ جہاں تک یہ کس نے کروائے اس کی صحیح معلومات تو بعد میں حاصل ہوگی شاید کبھی یقینی طور سے نہ مل سکے لیکن مقصد کا تھوڑا اندازہ ضرور ہوسکتا ہے۔ جس طرح سے بار بار جھاویری بازار کو نشانہ بنایا جارہا ہے اس سے تو لگتا ہے کہ بزنس کو متاثر کرنا مقصد ہے۔ اوپرا ہاؤس بھی ایک ایسا ہی بزنس سینٹر ہے۔ دونوں ہی مقامات پر بھیڑ ہوتی ہے۔ دھماکوں سے زیادہ لوگوں کو نقصان پہنچانے کا ارادہ صاف جھلکتا ہے۔ ممبئی میں سیریل دھماکوں میں جیسی تباہی پہلے مچتی رہی ہے ویسی اس بار نہیں ہوسکی، اس کی وجہ دھماکوں کا اتنا طاقتور نہ ہونا ہے۔ اس میں خراب پلاننگ بھی ہوسکتی ہے لیکن کیونکہ ان دھماکو ں میں آئی ڈی تکنیک کا استعمال ہوا ہے اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کے پیچھے کسی بڑی دہشت گرد تنظیم کا ہاتھ ہے۔ یہ مقامی انڈر ورلڈ کا کھیل نہیں ہے۔ہو سکتا ہے اس کے پیچھے آئی ایس آئی، لشکر طیبہ، داؤد ابراہیم گروہ کا ہاتھ ہو؟ یہ کسی ایسی تنظیم نے بھی کروائے ہوں جو ہند۔ پاک مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنا چاہتی ہو۔ پاکستان سے رشتے بہتر بنانے کے لئے بات چیت کا دور طویل عرصے کے بعد شروع ہوا ہے۔ یہ حملہ اسے توڑنے کی سازش بھی ہوسکتی ہے۔
اخباروں میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ان کے پیچھے داؤد ابراہیم کا ہاتھ بھی ہوسکتا ہے۔ آئی ایس آئی کے اشارے پر ہوئے اس دھماکے میں انڈر ورلڈ ڈان داؤد نے اس کام کو انجام دینے کا بیڑا اٹھایا۔ اس میں حزب المجاہدین، انڈین مجاہدین نے ساتھ دیا۔ ذرائع کے مطابق بدھوار کو ممبئی میں ہوئے آتنکی حملے اسامہ بن لادن کی موت کے بعد بھارت میں کچھ کرنے کے لئے آئی ایس آئی نے داؤد سے کہا ۔آئی ایس آئی کی پہل پر داؤد اپنے گرگوں کے ساتھ چار ماہ پہلے ہی لشکر طیبہ میں شامل ہوگیا تھا۔ ذرائع کے مطابق آئی ایس آئی نے داؤد کے کئی لوگوں کو لاہور کے بہاولپور میں ہتھیار چلانے اور کمانڈو ٹریننگ بھی دلوائی اور جو ابھی بھی جاری ہے۔جس طرح ممبئی میں دھماکہ ہوا ہے اس میں کم اور درمیانی صلاحیت والے بم کا استعمال کیا گیا۔ اس میں آئی ای ڈی کا بھی استعمال ہوا ہے۔ اس طرح کے بم کا استعمال انڈین مجاہدین کرتے ہیں۔ حزب کی عادت ہے کہ بم دھماکے میں کسی ہندومذہبی مقام پر درمیانی صلاحیت کے بم کا استعمال کرتا ہے۔ ممبئی میں جھاویری بازار میں ممبا دیوی مندر کے پاس بم پھٹا ہے۔ اس کے علاوہ حزب المجاہدین بھی بم میں گاڑی کا استعمال کرتا ہے جو ممبئی میں ہوا۔انڈین مجاہدین ایک طرح سے لشکر کی سلیپر سیل کی طرح کام کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں شاید اس پر اور مزید معلومات ملیں۔ بھارت کی خفیہ اور سکیورٹی مشینری کو چست درست کرنا ہوگا۔ ورنہ ایسے حملے اور بھی ہوسکتے ہیں۔ ہمیں پوری طرح سے تیار رہنا ہوگا۔
Tags: 13/7, Anil Narendra, Bomb Blast, Daily Pratap, Dawood Ibrahim, Hizbul Mujahid, India, Indian Mujahideen, ISI, Lashkar e Toeba, Mumbai, Osama Bin Ladin, P. Chidambaram, Terrorist, Vir Arjun

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...