Translater

27 جولائی 2013

کیا راہل کی جی توڑ محنت ان کانگریسیوں کو سدھار پائے گی؟

اس میں کوئی دورائے نہیں ہو سکتی کہ کانگریس کے قومی نائب صدر راہل گاندھی آج کل جی جان سے دن رات پارٹی کو منظم کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ راہل نے اپنے نیتاؤں کو جو نصیحت دی ہے وہ بہت ضروری ہے۔ آئے دن پارٹی کے بڑے نیتا اپنی ہی سرکار اور پارٹی کی پالیسیوں کے خلاف بیان بازی کرکے فالتو کے تنازعے کھڑے کرتے ہیں۔ اعلی کمان کو الجھن میں ڈال دیتے ہیں۔ پارٹی کے ترجمان یہ کہہ کراپنی جان چھڑا لیتا ہے کہ یہ بیان اس نیتا کا اپنا بیان ہے۔ راہل نے بدھوار کو پارٹی عہدیداران کو ٹیم جذبے سے کام کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا تھا کہ گروپ بندی سے تنظیم کمزور ہوتی ہے اس لئے کانگریس عہدیدار اور ورکر ٹیم کے جذبے سے کام کریں۔ راہل نے کہا کہ ہمیں وقت کے ساتھ چلنا پڑے گا کیونکہ ہم اپنی تیاری میں دیری کرتے ہیں تو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ راہل نے دو دن پہلے یوپی کے ورکروں اور لیڈروں کو خبردار کیا کہ یوپی میں ہم گروپ بندی کے سبب ہارے۔ لیکن دکھ کا باعث تویہ ہے کہ راہل کی اتنی سخت محنت کا جتنا فائدہ پارٹی کو ہونا چاہئے وہ شایدنہیں ہوپارہا ہے۔ مشن2014ء کی تیاری میں لگے راہل گاندھی کو زبردست جھٹکا لگا ہے۔ کانگریس کی ہی اپنی ایک خفیہ رپورٹ میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ یوپی کوٹے کے مرکزی وزیر دراصل ہیرو نہیں زیرو ہیں۔ اترپردیش کے انچارج جنرل سکریٹری مدھوسودن مستری نے پردیش کا وسیع دورہ کرنے کے بعد جو رپورٹ تیار کی ہے اس میں کئی انکشاف ہوئے ہیں۔ مستری نے پیر کو پارٹی ہائی کمان کو یہ رپورٹ سونپی ہے۔ جن وزرا کے کام کاج پر انگلیاں اٹھائی گئی ہیں وہ سبھی راہل کے قریبی مانے جاتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے ان وزراء کا عام آدمی سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے۔ بھلے ہی پارٹی کی اندرونی رپورٹ کی بنیاد پر وزراء کی کرسی خطرے میں نہیں ہے لیکن رپورٹ میں اٹھے سوال کے بعد راہل گاندھی کا ناراض ہونا فطری ہے۔ مستری نے تو اپنی رپورٹ میں منتریوں کے آنے والے چناؤ میں جیتنے پر بھی سوالیہ نشان لگا دئے ہیں۔ یوپی سے مرکزمیں تین کیبنٹ منتری کے طور پر سلمان خورشید، بینی پرسادورما، سری پرکاش جیسوال ہیں جبکہ راجیہ منتری کے طور پر آر پی این سنگھ، جتن پرساد اور پردیپ جین ہیں۔ مستری نے اپنی رپورٹ تیار کرنے سے پہلے دو بار ریاست کا دورہ کیا اور اس دوران وہ پردیش ضلع بلاک کمیٹی کے ممبروں اور ورکروں سے ملے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سورج کنڈ مباحثہ میٹنگ ہو یا جے پور کی چنتن میٹنگ ورکروں سے وزرا تک سیدھے پہنچ کا جو سسٹم بنانے کی بات تھی وہ اترپردیش میں ختم ہوتی نظر آرہی ہے۔ ورکر ہی نہیں بلکہ پردیش کانگریس یونٹ کے عہدیداران تک بھی وزراء کی بے رخی سے پریشان ہیں۔ وزیر اپنی من مرضی سے علاقے کا دورہ کرتے ہیں۔ راہل نے حالانکہ سبھی وزراء کو دو ٹوک کہہ دیا ہے کہ چناؤ کا ایک سال بھی نہیں بچا اس لئے انہیں دہلی چھوڑ کر اپنے حلقے میں کام کرنا ہوگا۔ راہل نے یہ بھی کہا کہ سبھی وزراء کو پردیش کانگریس یونٹ کو ساتھ لیکر چلنا پڑے گا لیکن کچھ کانگریسی ایسی ہیکڑی جماتے ہیں کہ وہ کسی کی بھی نہیں سنتے۔ راہل اکیلے تو چناؤ نہیں جتا سکتے۔ سرکار اور تنظیم دونوں کو مل کر لیڈر شپ کا ساتھ دینا ہی ہوگا۔
(انل نریندر)

گردش میں کچھ اداکاروں کے ستارے: سنجے کے بعد اب سلمان

بالی ووڈ کے بڑے اداکاروں کے ستارے آج کل گردش میں چل رہے ہیں۔ پہلے سنجے دت جیل گئے اب سلمان مشکل میں پڑ گئے ہیں۔ 11 سال پرانے ایک کار حادثے کے مقدمے میں ممبئی کے سیشن جج یو بی جند نے انہیں ’ہٹ اینڈ رن‘ کے مقدمے میں غیر ارادتاً قتل کا قصوروار مانا ہے۔ 28 ستمبر 2002ء کو سلمان نے اپنی لینڈ کروزر کار سے باندرہ امریکن ایکسپریس بیکری کے سامنے فٹ پاتھ پر سو رہے چار لوگوں پر گاڑی چڑھا دی تھی۔ اس میں ایک شخص کی موت ہوگئی تھی اور دیگر چار زخمی ہوگئے تھے۔ واردات والے دن سلمان کے خون میں شراب کی مقدار پائی گئی۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق اداکار کے خون میں 62 ملی گرام الکوحل تھا جو مطلوب حد سے زیادہ ہے۔ اداکار کے باڈی گارڈ روندر پاٹل نے کورٹ میں کہا تھا کہ حادثے کے وقت سلمان ہی گاڑی چلا رہے تھے۔ پاٹل کی 2007ء میں موت ہوچکی ہے مگر اس کا یہ ریکارڈ بیان اہم کردار نبھا رہا ہے۔ اگر یہ غیرارادتاً قتل کا الزام ثابت ہوجاتا ہے تو سلمان کو زیادہ سے زیادہ10 سال کی سزا ہوسکتی ہے۔ الزام طے کرنے کے بعد جج نے سلمان سے پوچھا کیا آپ کو الزام قبو ل ہے؟ تو سلمان نے کہا میں الزام قبول نہیں کرتا۔ عدالت نے اگلی سماعت کے لئے19 اگست کی تاریخ طے کی ہے۔ اب ان پر مقدمہ چلے گا۔ گواہوں کے بیان درج ہوں گے، وکیل بیانوں پر بحث کریں گے۔ آخر میں 313 کا بیان ہوگا۔ اس میں کورٹ سیدھے سلمان سے پوچھے گی کے وہ اس کیس میں کوئی اور ثبوت یا جانکاری دینا چاہتے ہیں یا نہیں ۔ قصور ثابت ہوا تو سزا ۔ ویسے سلمان کے پاس ابھی بچاؤ کے راستے ہیں۔ کیس میں کئی سال لگ سکتے ہیں اور اگر فیصلہ ان کے خلاف آتا ہے تو وہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ جا سکتے ہیں۔ ہٹ اینڈ رن کے کئی اور قصے اخباروں کی سرخیاں بن چکے ہیں۔ 2011ء میں اداکار رونت رائے نے اپنی مرسڈیز کار کو ٹکر ماردی جس میں تین لوگ زخمی ہوئے۔ تیز گاڑی چلانے کے الزام میں اداکار جان ابراہم 15 دن کی سزا کاٹ چکے ہیں۔1999 ء میں مشہور اداکارسنجیو نندا کی کہانی تو بچہ بچہ جانتا ہے۔ نندا کی بی ایم ڈبلیو کار نے تین پولیس والوں سمیت 6 لوگوں کو کچل دیا تھا۔ انہیں 2 سال کی سزا ہوئی تھی۔ دہلی میں پچھلے 15 سالوں میں 340 ہٹ اینڈ رن معاملوں میں 347 لوگوں کی جان گئی۔ فلم اداکار سلمان خاں پر الزام لگنے سے بالی ووڈ میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ سلمان خاں پر بالی ووڈ کے تقریباً 700 کروڑ روپے لگے ہیں۔ فی الحال تو وہ اپنے بھائی سہیل خاں کی 130 کروڑ کی لاگت سے بن رہی فلم ’مینٹل‘ پوری کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ فلم ڈائریکٹر کے ۔ بی ۔شومین ، سبھاش گھئی کی فلم پروڈیوسر بونی کپور کی فلم ’اینٹری‘ میں کام کرنے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ لیلا بھنسالی کے فلم ’گبر‘ کے علاوہ فلم’پھٹا پوسٹر نکلا ہیرو‘ اور فلم ’او ہ تیری‘ میں بھی بطور مہمان اداکار کام کررہے ہیں۔ کلرس چینل کے رئلٹی شو بگ باس کے نئے سیزن میں بھی وہ نظر آنے والے ہیں۔ اس شو کی فی قسط کے لئے وہ تقریباً8 کروڑ روپے لیتے ہیں۔انڈسٹری کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ایک پروڈکٹ کے اشتہار کے لئے کم سے کم 7 کروڑ روپے لیتے ہیں۔ بھورے رنگ کی شرٹ اور کالی پینٹ فورمل ڈریس میں سلمان بدھوار کی صبح کالا گھوڑا کی سیشن کورٹ کمپلیکس میں وقت سے کافی پہلے پہنچ گئے تھے۔ ان کے ساتھ ان کی دونوں بہنیں اور ان کے وکیلوں کی ٹیم بھی تھی۔
(انل نریندر)

26 جولائی 2013

ملائم پر سی بی آئی کا پھندہ ہٹانے کی سرکاری تیاری!

کانگریس کے لئے غذائی گارنٹی قانون اتنا اہم بن گیا ہے کہ اسے پاس کروانے کے لئے وہ کچھ بھی کرنے کوتیار ہے ۔چاہے اس چکر میں کیوں نہ معاملے سے پہلے ہی سی بی آئی پر سرکاری طوطے ہونے کا الزام ثابت ہوجائے؟ اشاروں سے پتہ چلتا ہے کہ یوپی اے سرکار سماجوادی پارٹی چیف ملائم سنگھ پر مہربانی کی تیاری کررہی ہے اور ان کے خاندان کے خلاف اثاثے سے زیادہ جائیداد کی سی بی آئی جانچ بند کی جاسکتی ہے۔ یہ ہی نہیں ڈی ایم کے راجیہ سبھا ممبر اور ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں ملزمہ کنی موجھی کے خلاف بھی انفورسمنٹ ڈائریکٹریٹ کی پکڑ ڈھیلی ہونے جارہی ہے۔ دراصل غذائی گارنٹی جیسے اہم آرڈیننس کو مانسون کے اجلاس میں پاس کرانے کے لئے سرکار کو سپا اور ڈی ایم کے جیسی پارٹیوں کی ضرورت ہوگی۔ ایسے میں جانچ ایجنسیوں کے ان دونوں کے خلاف ڈھیلے ہوتے شکنجے کو اسی سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے۔ ذرائع کی مانیں تو ملائم سنگھ یادو اور ان کے خاندان کو آمدنی سے زیادہ پراپرٹی کے معاملے میں مانسون اجلاس سے پہلے ہی کلین چٹ مل سکتی ہے۔ دسمبر میں سپریم کورٹ نے سی بی آئی کو یہ فیصلہ لینے کے لئے آزادکردیا تھا کہ ملائم کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے یا نہیں۔ ساتھ ہی عدالتنے ملائم کی بہو اور اترپردیش وزیر اعلی اکھلیش یادو کی بیوی ڈمپل یادو کی پراپرٹی کو اس سے جوڑنے سے منع کردیا تھا۔ سی بی آئی کے ایک افسر نے بتایا ڈمپل یادو کی پراپرٹی کو مقدمے سے باہر نکالنے کے بعد سپا چیف کے خلاف آمدنی سے زیادہ اثاثے کا معاملہ نہیں بنتا۔ ٹھوس ثبوت نہ ملنے کے چلتے سی بی آئی ملائم و ان کے خاندان کے خلاف جانچ کی فائل بند کرنے کی تیاری میں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے ابتدائی رپورٹ میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ ملائم اور اکھلیش یادو کی پراپرٹی میں اضافہ رشتے داروں سے لئے گئے لون کے چلتے ہوا ، جسے بعد میں تحفے کی شکل میں دکھا دیا گیا۔ اس کے علاوہ ایجنسی نے باپ بیٹے کی پراپرٹیوں میں کوئی ایسا اضافہ نہیں پایا جس کی سرکاری وضاحت ہوسکے۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ 1993ء سے 2005ء کے دوران ملائم اور اکھلیش کی سرمایہ کاری میں کئی گنا اضافہ ہوا جس سے مبینہ طور پر آمدنی سے زیادہ پراپرٹی کا تعین کرنا مشکل ہوگیا۔ معلوم ہو کہ سپریم کورٹ نے مارچ2007ء میں سرکاری وکیل وشوناتھ چترویدی کی مفاد عامہ کی عرضی پر ملائم اور اکھلیش یادو کے خلاف معاملے کی جانچ کے احکامات دئے تھے۔ اسی درمیان عرضی گذار وشوناتھ چترویدی نے الزام لگایا ہے کہ یوپی اے سرکار غذائی سکیورٹی بل پر حمایت حاصل کرنے کے لئے جان بوجھ کر سپا چیف کو بچا رہی ہے۔ انہوں نے بغیر نام لئے ایک وزیر پر دھمکی دینے کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے کہا کہ جب میں نے کیس کی فائل بندکرنے کے لئے احتجاج کیا تو ایک وزیر نے مجھے فون کیا اور دھمکی دی کہ جو کام میں نے 2008 ء میں کیا تھا وہ دوبارہ نہ کریں۔ چترویدی نے کہا کانگریس کی ملائم سے ڈیل ہوگئی ہے اور ایجنسی سرکار کے کہنے پر کام کررہی ہے۔ ملائم سے ہوئی ڈیل کسی بھی طرح سے میڈیا میں لیک ہوگئی اور اس سے سی بی آئی میں کھلبلی مچ گئی۔ سی بی آئی کے ڈائریکٹررنجیت سنہا نے اس سنسنی خیز جانچ کی جانکاری میڈیا میں لیک کرنے والے اپنے افسروں کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے افسر کو تفتیش کرنے کا بھی حکم دیا ہے اور ایک اندرونی جانچ ٹیم بھی بنا دی ہے۔ سنہا کا کہنا ہے قصوروار پائے جانے پر افسر کو فوراً معطل کردیا جائے گا۔ سنہا کے مطابق اکھلیش۔ ملائم ڈی اے کیس میں انہوں نے اب تک کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے۔ ان کے خلاف اکٹھے ثبوتوں کا جائزہ لینا باقی ہے لیکن اخباروں میں غلط خبر دے کر جانچ کو متاثر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سپریم کورٹ کے پچھلے حکم کے مطابق اکھلیش کی بیوی ڈمپل یادو کا نام مقدمے سے ہٹانے لینے کے بعد جانچ کا ٹرینڈ بدل گیا۔ ڈمپل یادو کا نام اس لئے ہٹایا گیا کیونکہ وہ ایک غیر سرکاری شخص ہے۔ سنہا کے مطابق اس خاندان کی زیادہ تر پراپرٹی ڈمپل یادو کے نام پر ہے لہٰذا ان کے ہٹنے کے بعد باپ بیٹوں کے خلاف ثبوتوں میں فرق آگیا۔
(انل نریندر)

خطرناک ابوغریب جیل پر القاعدہ کا بڑا حملہ!

عراق میں واقع ابو غریب جیل دنیا کی بدنام ترین جیلوں میں ہے۔ جب امریکہ کی فوج عراق میں تھی تو بغداد کے مغرب میں واقع ابو غریب جیل میں مبینہ آتنکیوں کو اس طرح سے ٹارچر کیا جاتا تھا کہ ساری دنیا میںیہ جیل اور افسر بدنام ہوگئے تھے۔ بغداد سے 12 کلو میٹر دور ایک اور جیل ہے وہاں بھی دہشت گردبند ہیں۔ ایتوار کو ان دونوں جیلوں پر زبردست حملہ کیاگیا اور بندوقچی سنی دہشت گردوں اور سکیورٹی گارڈ میں 10 گھنٹے تک فائرنگ ہوتی رہی۔آخر میں حملہ آور دونوں جیلوں سے500 قیدیوں کو چھڑا کر لے جانے میں کامیاب رہے۔ رات بھر چلی مڈبھیڑ میں کم سے کم41 لوگ مارے گئے۔ پولیس کے کرنل کا کہنا ہے کہ جھڑپ کے دوران ابو غریب جیل سے7 قیدی بھاگ نکلنے میں کامیاب رہے لیکن بعد میں سبھی کو گرفتار کر لیا گیا۔ دوسری طرف جہادیوں نے انٹرنیٹ پر دعوی کیا ہے کہ انہوں نے ہزاروں قیدیوں کو چھڑالیا ہے۔
افسروں نے بتایا جھڑپ میں سکیورٹی فورس کے کم سے کم20 لوگ مارے گئے اور40 زخمی ہوگئے۔ تاہم سرکاری ترجمان نے کہا کہ دونوں جیلوں میں جھڑپوں میں 21 قیدی بھی مرے اور 25 زخمی ہوئے اس سلسلے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی کے مارے گئے قیدی جھڑپ میں شامل تھے یا نہیں۔ ابھی یہ بھی صاف نہیں ہے کہ جیلوں پر حملہ کرنے والے بندوقچیوں میں سے کتنے زخمی ہوئے۔ پولیس کے کرنل نے بتایا کہ حملہ آوروں نے ایتوار کی رات ساڑھے نو بجے جیلوں پر مارٹروں سے حملہ کردیا۔ جیلوں کے بڑے دروازوں کے پاس 4 کاربم لگا کر کھڑی کی گئی تھیں جبکہ تاجی جیل پر تین فدائی حملے ہوئے۔جیل کے پاس سڑک کے کنارے پانچ بم برآمد ہوئے۔ پوری رات چلی مڈبھیڑ میں سکیورٹی فورس نے ہیلی کاپٹروں اور فوجیوں کا بھی استعمال کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے فدائی حملوں سے مغربی جانب واقع جیل کے دروازے کوپہلے دھماکوں سامان سے لدی گاڑیوں سے اڑاگیا۔ پھر وہ جیل کے احاطے کی سکیورٹی توڑ کر اندرگھس گئے اور مارٹراور راکٹ اور دستی بموں کی مددسے جیل سکیورٹی ملازمین کو قتل کردیا گیا۔ ان کے ساتھ آئے دوسرے دہشت گردوں نے بڑی سڑک پر مورچہ جما لیا اور بغداد سے روانہ کئے گئے سکیورٹی ملازمین کو جیل تک پہنچنے سے روک دیا۔ اس درمیان دھماکوں سامان سے لیس جیکٹ پہنے کئی آتنکی جیل کے اندرگھس گئے اور اپنے ساتھیوں کو چھڑا لے گئے۔ فرار ہوئے قیدیوں میں زیادہ تر القاعدہ کے سینئر ممبر ہیں۔ سنی مسلم دہشت گردوں کے ذریعے جیل توڑنے سے شیعہ قیادت والی عراق کی حکومت کی کرکری ہوئی ہے۔ ایک سکیورٹی افسر نے نام نہ شائع کرنے کی شرط پر ایک ایجنسی کوبتایا کہ یہ سزا یافتہ القاعدہ کے آتنکیوں کو چھوڑانے کے لئے اس تنظیم نے کیا۔ عراق میں شیعہ سرکار اور سنی بندوقیوں میں ہر روز جھڑپیں چل رہی ہیں ، آئے دن دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔ صرف اسی مہینے تقریباً600 عراقی مارے جاچکے ہیں۔ رمضان میں بھی روزہ کھولنے کے بعد اکھٹے ہوئے لوگوں اور مسجدوں اور شوقیہ فٹ بال میچوں و بازاروں ،کیفے کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے۔ بلا شبہ جیل توڑنا تاریخ میں یہ ایک سب سے بڑا حملہ ہوگا۔ یہ حملہ عراق و افغانستان دونوں پر اہم اثر ڈال سکتا ہے۔ رہا ہوئے شیعہ اور سینئر القاعدہ قیدی امن سے تو بیٹھنے سے رہے۔
(انل نریندر)

25 جولائی 2013

وجے بہوگنانے کیدارناتھ دھام میں پوجا ارچنا و جل ابھیشیک کیا!

دیش کے مختلف شیو مندروں میں بھگوان شیو کے بھکتوں کا سیلاب امڑنے لگا۔شیو بھکتوں کے حوصلے سے مندرشلوکوں سے گونج رہے ہیں۔ بڑی تعداد میں کانوڑ یاترا شروع ہوچکی ہے۔پورے ماہ چلنے والی اس یاترا کے لئے مختلف مقامات پر سکیورٹی کا سخت انتظام کیا گیا ہے۔ ہری دوار میں اس ماہ 3 سے5 کروڑ لوگوں کے پہنچنے کا امکان ہے جو وہاں سے گنگا جل لے کر شیو مندر میں چڑھائیں گے۔ دیش کے سبھی12 جوتی لنگوں کے درشن کے لئے بڑی تعداد میں لوگ پہنچ رہے ہیں۔ کیدارناتھ دھام کا بھلے ہی ابھی شدھی کرن نہیں ہوا، سینکڑوں لاشیں ابھی بھی ملبے کے نیچے دبی ہوں اور ماحول غمگین ہو اور جہاں تہاں آواز سنائی دے رہی ہو لیکن نیتا ہیں کے وہ ساون کے پہلی پیر کو کیدارناتھ دھام پہنچے۔ وزیر اعلی وجے بہوگنا، بھاجپا نیتا اوما بھارتی نے بھگوان کیدارناتھ کی پوجا ارچنا کے ساتھ جوتی لنگم کا جل ابھیشیک کیا۔ کیدارناتھ مندر کمپلیکس میں پڑے ملبے کی صفائی کا کام شروع ہونے کے بعد وزیر اعلی وجے گہوگنا پہنچے۔ ان کے ہمراہ چیف سکریٹری سبھاش کمار ،انجینئرس انڈیا پروجیکٹس لمیٹڈ کے ماہرین کے ساتھ ساتھ وزیراعلی نے مندر کا دورہ کیا۔ ای آئی پی ایل کے 500 لوگوں کی ٹیم مندر سے ملبہ ہٹانے کے کام میں لگی ہوئی ہے۔ ملبے کے نیچے سے لاشیں بھی نکل رہی ہیں۔ ٹیم کو امیدہے جلد ہی اس کی صفائی کراکر یہاں حسب معمول پوجا ارچنا شروع کی جاسکے گی۔ مندر کے آس پاس کم سے کم چھوٹی بڑی عمارتیں تباہ ہیں۔ انہیں ہٹانے اور مرمت کا کام چیلنج بھرا ہے۔ اس سے پہلے سی ایم نے یہ اعلان کیا کے مندر کے 500 میٹر کے دائرے میں کسی بھی طرح کی تعمیر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہاں تباہ ہوئی باقی املاک کی باقاعدہ ویڈیو ریکارڈنگ اور نمبرنگ کی جائے گی تاکہ یہاں دوبارہ بسنے میں لوگوں کو ترجیح دی جاسکے۔ کیدارناتھ میں مندر کا ملبہ ہٹانے کے کام میں تیزی آگئی ہے اور مندر کے گربھ گرہ کو پوری طرح صاف کردیا گیا ہے۔ منڈپ سے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔ اس میں دوچار دن لگ سکتے ہیں۔ کیدارناتھ پہنچے وزیر اعلی وجے بہوگنا نے مندر میں پوجا ارچنا کے بعد صفائی کے کام میں ہاتھ بٹایا۔ انہوں نے کہا مندر کے تقدس کو بنائے رکھتے ہوئے یہاں قدرتی آفت کی زد میں آئے لوگوں کی یاد میں ایک یادگار بنائی جائے گی۔جس پتھر سے مندر کی حفاظت ہوئی وہ پوجنیے ہے۔ اس شیلا کو بچائے رکھنے کے لئے آثار قدیمہ ہند کے حکام نے اسکیم بنانے کو بھی کہا ہے۔ قدرتی آفت کے بعد پہلی بار کیدارناتھ آئے وزیر اعلی نے راحت رسانی کے کام کا بھی جائزہ لیا اور پورے کیدارناتھ علاق میں پینے کے پانی، بجلی سپلائی وغیرہ بحال کرنے کے احکامات دئے۔ وزیر اعلی کی کیدارناتھ یاترا دھام کے پروہتوں کو پسند نہیں آئی۔ سری نواس پوستی جو کیدارناتھ دھام کے بڑے پروہت ہیں نے کہا جب سرکار مندر کے شدھی کرن کی بات کررہی ہے تو پھر وہاں پوجا ارچنا کیسے کردی گئی، یہ غلط ہے۔ وہیں دوسرے پروہت مہیش باگواڑی نے کہا بغیر شدھی کرن کے مندر میں پوجا ارچنا کیسے کی جاسکتی ہے؟ جو کچھ ہوا اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ جے بابا کیدارناتھ۔
(انل نریندر)

آئی پی ایل کی طرز پر آئی بی ایل ایک لائق تحسین کوشش!

یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ بھارت میں اب کرکٹ کے علاوہ دوسرے کھیلوں پر بھی توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔ کرکٹ کے بعد ہاکی کا نمبر آیا ہے اور بیٹ منٹن کا وقت بھی آگیا ہے۔ بیٹ منٹن میں بھی لیگ شروع ہونے کی بات ہورہی ہے۔ آئی پی ایل کی طرز پر ہونے والی بھارتیہ بیٹ منٹن فیڈریشن کی مقبول انڈیا بیٹ منٹن لیگ (آئی بی ایل) کی پیرکو ہوئی نیلامی میں کھلاڑیوں پر جم کر پیسہ برسا۔ سب سے مہنگے غیر ملکی کھلاڑی لی چیونگ وئی رہے جبکہ ہندوستانی کھلاڑیوں میں پیسہ کمانے کے معاملے میں سائنہ نہوال اول رہیں۔ دنیا کے نمبرون کھلاڑی وئی کو ممبئی ماسٹرز سے دگنے سے بھی زیادہ قیمت پر خریدہ گیا۔ قریب80.29 لاکھ روپے میں جبکہ سائنہ کے لئے ان کی گھریلو ٹیم حیدر آبا د نے سب سے زیادہ بولی لگائی اور 71 لاکھ میں وہ بکی۔ حیدر آبادکھلاڑی پی وی سندھو کے لئے لکھنؤ کی اودویریرس نے اچھی رقم لگائی۔ بھارت کے واحد مرد آئیکون کھلاڑی اور مہاراشٹر کھیلوں میں تانبے کا میڈیل جیتنے والے پی کمپے کو بینگلور کی بنگا بیٹس نے قریب45 لاکھ روپے میں خریدہ۔ اس نیلامی میں چھ ٹیموں نے حصہ لیا۔ چین کا کوئی بھی کھلاڑی اس نیلا می میں شامل نہیں ہوا تھا۔ دو آئیکون کھلاڑی جوالا گٹا اور اشونی پونپا کا کوئی خریدار نہیں ملا جس کے بعد منتظمین کو مجبوراً قانون میں ترمیم کرتے ہوئے بھارت کی اسٹار ڈبلز ماہرین کھلاڑیوں کی بنیاد پر قیمت ویز پرائز آدھاکرنا پڑا۔ دراصل آئی بی ایل میں مہلا ڈبلز میچ نہیں ہونے ہیں۔ اس کو دیکھتے ہوئے ویز پرائز دینے کو کوئی تیار نہیں ہوا۔ اس کے بعد جوالا کو دہلی اسمیچرز نے قریب18 لاکھ 41 ہزار روپے میں خرید لیاجبکہ پونپا کو پنے پکسن نے قریب14لاکھ 87 ہزار میں خریدہ۔آئی پی ایل کی طرز پر ہونے جارہی آئی بی ایل 14 سے 31 اگست کے درمیان دیش کے 6 الگ الگ شہروں میں کھیلی جائے گی۔ اس لیگ میں کل 6 ٹیمیں ہوں گی۔ ہر ٹیم میں6 دیشی، 4 ودیشی اور ایک جونیئرکھلاڑی ہوگا۔حیدرآباد، بنگلور ،پنے ، دہلی، لکھنؤ کے علاوہ ممبئی کی ٹیمیں آئی بی ایل کے پہلے سیزن میں حصہ لیں گی۔ نیلامی کے بعد دیکھنا ہوگا کہ شائقین میں بیٹ منٹن کے تئیں کتنی دلچسپی بڑھتی ہے،اسی پر منحصر ہوگی اس لیگ کی کامیابی۔ ناظرین کی دلچسپی بڑھانے کے لئے عالمی کھیل کے قواعد میں کچھ تبدیلی کی گئی ہے۔ دہلی میں کھلاڑیوں کی بولی کے دوران ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا ، اولمپک کانسہ میڈلسٹ گگن نارائن کی موجودی بتاتی ہے کہ منتظمین نے دوسرے کھیلوں کے کھلاڑیوں کے اسٹار کی ویلیو کو بھی استعمال کرنے سے پرہیز نہیں کیا۔ سنیل گواسکر جیسے کرکٹ اور ساؤتھ انڈیا کے اسٹار ناگ ارجن کا ٹیم کے مالکوں میں شامل ہونا بھی ان کی اسٹار ویلیو کو استعمال کرنے میں شمار ہے۔ دراصل اب ہر کھیل کے اسٹار کھلاڑی کو برانڈ بنا کر مارکیٹ میں پیش کرنے کا رواج شروع ہوچکا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بیٹ منٹن کو بڑھاوا دینے میں ثانیہ کا لندن اولمپکس میں میڈل جیتنے نے اہم رول نبھایا۔ اب دیکھنا ہے کہ کرکٹ ، ہاکی کی طرز پر دیش میں بیٹ منٹن کھیل کتنا مقبول ہوسکتا ہے۔ بیشک اس میں وقت لگے گا لیکن ہمارا خیال ہے کہ یہ صحیح سمت میں صحیح قدم ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ دیگر کھیلوں میں بھی توجہ بڑھے گی اور ایسے ہی کھلاڑیوں اور کھیل دونوں کو حوصلہ ملے گا۔

 (انل نریندر)

24 جولائی 2013

میڈیکل کے مشترکہ امتحان پر سپریم کورٹ کا متنازعہ فیصلہ!

ڈاکٹر بننے کی چاہت رکھنے والے لڑکوں کو سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے سے زبردست جھٹکا لگنا فطری ہے۔ اب انہیں پھر سے دیش میں گھوم گھوم کر مختلف میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحان دینے پڑیں گے۔ کالجوں کے مہنگے پروسپیکٹس خریدنے میں ان کو اپنی جیبیں خالی کرنی پڑیں گے اور لاکھوں کروڑوں روپے کے ڈونیشن بازار پھرسے گرم ہوجائیں گے۔ سپریم کورٹ نے میڈیکل اور ڈینٹل کورسز میں داخلے کے لئے نیٹ یعنی قومی اہلیت ایڈمیشن ٹیسٹ کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے منسوخ کردیا ہے۔ غور طلب ہے کہ معاملے کی سماعت کررہی تین نفری بنچ کے ایک جج نے اس سے نا اتفاقی ظاہر کی ہے لیکن اکثریت سے آئے فیصلے کے پیچھے دلیل یہ ہے کہ این سی آئی یعنی بھارتیہ میڈیکل کونسل کو یہ امتحان کرانے کااختیار نہیں ہے۔ اس کا کام میڈیکل کاروبار سے متعلق گائڈلائنس اور پیمانے طے کرنے تک محدود ہے۔ عدالت کا کہنا ہے بھارتیہ میڈیکل یا ڈینٹل کونسل کو ایسا ٹیسٹ لینے کا اختیار ہی نہیں ہے جس سے ریاستوں کے پرائیویٹ یا اقلیتی اداروں کے ذریعے چلائے جانے والے میڈیکل کالجوں کے اختیارات کی عدولی ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے میڈیکل تعلیم اور غیر برابری کے اس چوراہے پر لاکر کھڑا کردیا ہے جہاں سے چار سال پہلے عدالت عظمیٰ نے ایک امتحان لینے کی راہ دکھائی تھی اور داخلے کے لئے 40-40 لاکھ روپے لیکر 1 کروڑ روپے تک وصولے جاتے تھے جس سے غریب اور پسماندہ طبقے کے بچوں کے لئے میڈیکل تعلیم کا حصول مشکل ہوگیا تھا۔ نیٹ سسٹم لاگو ہونے سے ایسے نجی میڈیکل کالجوں پر روک لگی تھی مگر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب وہ پھر سے اپنے یہاں داخلے شروع کرسکیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عدالت نے یہ فیصلہ نفع نقصان کو ذہن میں رکھ کر کیا ہے؟ این آئی ٹی کی ضرورت اس لئے پڑی کے میڈیکل اور ڈینٹل کورسز میں داخلے کے خواہشمند طلبہ کو نجی میڈیکل کالجوں سے لیکر سینٹرل اور ریاستی سطح کے اداروں تک الگ الگ درجنوں امتحانات میں بیٹھنا پڑتا تھا اس سے وہ برابر الجھن اور کشیدگی میں رہتے تھے۔ اور بہت سارے امتحانات کے لئے تیاری اور دوروں کے سلسلے میں ان کا کافی پیسہ بھی خرچ ہوتا تھا۔پرائیویٹ کالجوں کے علاوہ بہت سی ریاستوں نے بھی مشترکہ داخلہ ٹیسٹ پر اعتراض جتایا تھا۔ ان کی پریشانی اس بات کو لیکر تھی کہ ریاستیں اپنے کوٹے کو کیسے نافذ کر پائیں گی۔ مگر چاہے سرکاری اداروں میں ریزرویشن کا سوال ہو یا پرائیویٹ کالجوں میں مینجمنٹ کے کوٹے کا ،یہ سوال سلجھا لئے گئے تھے۔ اس طرح این ای ٹی نے ساری رکاوٹیں ختم کردی تھیں جنہیں اس کی ایک عام مشکل کہا جاتا تھا۔سال کے لئے مشترکہ ایڈمیشن ٹیسٹ منعقد ہوچکا تھا۔ایسے مقام پر پہنچ کر اس پر روک لگانا مایوس کن ہے۔ اس فیصلے سے بہت سے سوال بے جواب رہ گئے ہیں جن کی طرف سے فیصلے پر نااتفاقی ظاہر کرنے والے جسٹس اے ۔ آر۔دوے نے اشارہ دیا ہے کہ نیٹ سسٹم ختم ہونے پر مختلف کالجوں میں داخلے سے متعلق داخلہ امتحانات کے سبب غریب اور ٹیلنٹڈ طلبہ کو جسمانی اور اقتصادی مشکلات سے دوچار ہونا پڑے گا۔ جسٹس التمش کبیر اور ان کے ساتھ اتفاق جتانے والے جسٹس وکرم جیت سین نے اپنے فیصلے میں اس کو منسوخ کردیا ہے لیکن اس بات پر روشنی نہیں ڈالی کہ آخر چار برس پہلے اسی عدالت کی ایک دو نفری بنچ نے سبھی میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کا یکساں نظام رائج کرنے کا قدم کیوں اٹھایا تھا؟ این سی آئی کا جواز تو اپنی جگہ پر ہے لیکن پرانا سسٹم لاگو ہونے کے بعد دیش بھر کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں اب 50 سے زیادہ ایڈمیشن امتحانات میں بیٹھنا ہوگا ،جس میں وہ ہی طالبعلم شامل ہوسکیں گے جن کے پاس پیسہ اور وسائل ہوں گے۔ اس راستے سے کن کن کو داخلہ ملے گا یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ اس سال دیش کے 271 میڈیکل ڈینٹل کالجوں کے 30 ہزار گریجویٹ اور 11 ہزار پوسٹ گریجویٹ سیٹوں کے لئے ہوئے امتحان میں 7 لاکھ سے زیادہ لڑکے بیٹھے تھے۔ شکر ہے کے عدالت نے اس امتحان کو منسوخ نہیں کیا۔ پورا امکان ہے کے مرکزی سرکار اوروزارت صحت اس فیصلے کے خلاف نظرثانی عرضی کی مانگ کو لیکر سپریم کورٹ پہنچیں۔ بنیادی اصول ہے کہ انصاف صرف ہونا نہیں بلکہ انصاف ہوتا دکھائی بھی دینا چاہئے۔
(انل نریندر)

سی جی ایم کی بیوی گیتانجلی کا قتل یا خودکشی؟

گوڑ گاؤں کے سی جی ایم رونیت گرگ کی اہلیہ گیتانجلی کی موت کا معاملہ الجھتا جارہا ہے۔ وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا نے پولیس ڈائریکٹر جنرل کو سخت کارروائی کے احکامات دئے ہیں لیکن گیتانجلی کے رشتے دار اسے لیکرمطمئن نہیں لگتے اور وہ اس معاملے کی سی بی آئی جانچ کی مانگ کررہے ہیں۔ سی جی ایم کی بیوی گیتانجلی کی لاش 16 جولائی کو ان کے گھر کے پاس ملی تھی۔ پنچکولہ کے باشندے گیتانجلی کے والد اوم پرکاش اگروال اور ماں شیلاوتی، بہن گارگی نے گیتانجلی کے قتل کی سازش کا الزام لگایا ہے۔ اوم پرکاش اگروال نے بھی الزام لگایا کے چنڈی گڑھ کے ریٹائرڈ سیشن جج و گیتانجلی کے سسر کے ۔کے۔ گرگ نے سب سے زیادہ ان کی بیٹی کو پریشان کیا ہے۔ انہوں نے کہا میں نے تقریباً ساڑھے تین بجے گیتانجلی سے ٹیلیفون پر بات کی تھی۔ تب ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا جس سے لگے کے وہ خودکشی کر لے گی۔ اگروال کا کہنا ہے کہ پولیس نے اسے خودکشی کا معاملہ بنانے کی کوشش کی تھی لیکن دباؤکے چلتے قتل کا کیس درج کرلیا گیا۔انہوں نے کہا رونیت گرگ و اس کے خاندان کے لوگ بااثر ہیں اور وہ مقامی پولیس کی جانچ کومتاثر کرسکتے ہیں۔ ایک رشتے دار نے بتایا گیتانجلی نے واردات والے دن شام 7 بجے گھر فون کیاتھا۔ رونیت گرگ کی چچیری بہن نے فون اٹھا کر کہا تھا کہ مامی ابھی مارکیٹ گئی ہے جبکہ اس سے کافی پہلے گیتانجلی کی موت ہوچکی تھی۔ گیتانجلی کی ماں شیلا وتی ، مامی سریتا اگروال کا کہنا ہے گیتانجلی کی موت سے پہلے جس طرح گڑ گاؤں والے گھر میں نوکروں کو چھٹی پر بھیجا گیا ، وہ بھی شک پیدا کرتا ہے۔ گیتانجلی کے پھوپھی زاد بھائی راکیش گرگ نے میڈیا کو بتایا کہ سی جی ایم رونیت گرگ کے کسی لڑکی کے ساتھ ناجائز رشتے تھے اسی کے چلتے گیتانجلی کو پریشان کیا جارہا تھا۔ ادھر سنیچر کی شام سوا سات بجے سے رات سوا گیارہ بجے تک سی جی ایم سے ایس آئی ٹی نے پالم وہار میں واقع دفتر میں پوچھ تاچھ کی۔ اس دوران اسے اپنے 20 سوالوں کے پختہ جواب نہیں مل پائے۔ سی جی ایم نے واردات کے وقت کورٹ میں ہونے کی بات کہی ہے۔ بیوی سے کسی طرح کی لڑائی سے رونیت نے صاف انکارکیا ہے ساتھ ہی گیتانجلی کے رشتے داروں کے الزامات کو سرے سے مسترد کردیا۔ ایس آئی ٹی نے سی جی ایم کے ڈرائیور اوربندوقچی سے الگ الگ بات چیت کی ہے۔ بدھوار کی شام پانچ بجے پولیس لائن میں گیتانجلی کی لاش ملی تھی جس کی شناخت کافی دیر بعد سی جی ایم رونیت گرگ نے اپنی بیوی گیتانجلی کی شکل میں کی تھی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گیتانجلی کو تین گولیاں لگنے اور سر کے پیچھے زخم ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ ایس آئی ٹی کو ریوالور سے فائر کی گئی گولی کے خول ابھی تک نہیں ملے ہیں حالانکہ پولیس نے تین لیپ ٹاپ ریوالور کا لائسنس اور گیتانجلی کا موبائل قبضے میں لے لیا ہے۔ رشتے داروں اور سی جی ایم کی ماں سے بھی پولیس نے پوچھ تاچھ کی ہے۔تازہ خبر کے مطابق پولیس کو شبہ ہے جانچ رونیت گرگ کی چچیری بہن حنا کے اردگرد گھوم رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے اس نے بیان میں غلط جانکاری دی تھی اس سے لگتا ہے کہ وہ کچھ چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔ غور طلب ہے کہ گیتانجلی کے رشتے داروں کے ساتھ چنڈی گڑھ کے سیکٹر 25 میں واقع 63 نمبر کی کوٹھی میں رہتی تھی۔ واردات کے تین دن پہلے ہی وہ گوڑ گاؤں آئی تھی۔ رونیت پر اس کی زیادتیوں کے الزام گیتانجلی کے رشتے دار پہلے ہی لگا چکے ہیں۔ معاملہ قتل کا ہے یا خودکشی کا یہ تو آنے والے دنوں میں پتہ چل جائے گا۔
(انل نریندر)

23 جولائی 2013

ان علیحدگی پسندوں کا مقصد صاف ہے امرناتھ یاترا میں رکاوٹ ڈالنا!

کشمیر میں حالات پھر سے بگاڑنے کی کوشش ہورہی ہے۔ ایک چھوٹے سے واقعہ کا بہانہ بنا کر حالات کو 1990ء کی دہائی میں پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔معمولی بات پر ہوئے جھگڑے کے بعد رام بن کے گل علاقے میں بی ایس ایف پر مشتعل بھیڑ نے حملہ بول دیا۔ اس پر قابو پانے کے لئے سکیورٹی فورسز نے فائرننگ کی جس میں کم سے کم 4 لوگوں کی موت ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ بی ایس ایف نے اپنی حفاظت میں مجبوری میں اٹھایاگیا قدم بتایا۔ پورے واقعے پر اپنا پہلو رکھتے ہوئے بی ایس ایف کا کہنا ہے کہ سینکڑوں لوگوں کی بھیڑ جب بے قابو ہوکر کیمپ میں گھسنے لگی تب اس کے پاس طاقت کا استعمال کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں بچا تھا۔ سمجھانے اور معاملے کو خاموش کرنے کی سبھی کوششیں ناکام ہونے کے بعد ہی مشتعل بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لئے اس کے جوانوں کو مجبوری میں گولیاں چلانی پڑیں۔ بیان میں بی ایس ایف نے واقعہ کے اسباب کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ بتایا کہ جمعرات کی صبح سویرے تقریباً5 بجے بی ایس ایف کی ایک گشتی ٹیم نے 25 سالہ محمد لطیف کو روکا اور اس سے شناختی کارڈ دکھانے کے لئے کہا۔ لطیف واپس چلاگیا اور اس نے15-20 لوگوں کو اکٹھا کر گشتی ٹیم کو روک لیا۔اس دوران انہوں نے لڑکوں نے گشتی ٹیم کے ممبروں پربدتمیزی کرنے کا الزام لگایا ۔ اسی درمیان مقامی مسجد سے اعلان کرکے گشتی ٹیم پرالزام لگایا کے قرآن شریف کی بے حرمتی کی گئی۔ بس پھر کیا تھا مقامی لوگوں نے بی ایس ایف لوگوں کو گھیر کر پتھر بازی شروع کردی۔ جب بھیڑ نے کیمپ کے اندر گھسنے کی کوشش کی تو بی ایس ایف نے اپنی حفاظت کے لئے فائرننگ کی جس میں6 لوگوں کی موت ہوگئی۔ اس واقعے سے کشمیر کٹرپنتھی علیحدگی پسندوں کو حالات خراب کرنے کا موقعہ مل گیا۔ یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ واقعہ سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے۔ کٹرپسند لیڈر علی شاہ گیلانی نے اپنے ہڑتال کے کلینڈرکو تھیلے سے باہر نکالنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی۔ دراصل وہ اپنے حریف علیحدگی پسند لیڈر میر واعظ عمر فاروق سے کچھ قدم آگے نکل پڑے اور اپنا الگ پرچم لہرانا چاہتے ہیں۔یہ ہی وجہ تھی کہ دیگر علیحدگی پسندوں نے وادی میں تین دن کی ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کا اعلان کرتے ہوئے کہاسکیورٹی فورسز کشمیریوں کو ختم کرنا چاہتی ہے اور ان کے اعلان کا خاتمہ یہیں نہیں ہوتا بلکہ کہتے ہیں کہ تین دنوں میں ہڑتال اور مظاہروں کے بعد ایتوار کو آگے کی حکمت عملی بتائی جائے گی۔ ایسے وقت میں جب کشمیر میں سیاحوں کی آمد تیزی سے بڑھ رہی ہے اور امرناتھ یاترا کے سبب عام کشمیری اپنی روزی روٹی پیدا کرنے میں لگا ہوا ہے، سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں کئی سالوں کے بعد ان موتوں کو بھنانے کی علیحدگی پسندکوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ حقیقت میں کشمیر کو 1990ء کی دہائی میں اس واقعے نے پہنچادیا ہے۔ ان علیحدگی پسندوں اور کٹرپسندوں کا ایک پوشیدہ مقصد نظر آرہا ہے یہ ہے امرناتھ یاترا میں رکاوٹ ڈالنا۔ اس مظاہرے اور واقعے کے پیچھے کٹرپسندوں کی سازش کی بو آرہی ہے۔ یہ جان بوجھ کر فائرننگ پر دہشت پھیلا رہے ہیں تاکہ کسی طرح امرناتھ یاترا میں رکاوٹ کھڑی ہوسکے۔ ہر برس کروڑوں ہندوؤں کی شردھا کا مرکز برفانی بابا کے درشن کے لئے یاترا شروع ہوتی ہے۔ ہر برس دہشت گرد اور علیحدگی پسند طاقتیں یاترا میں رکاوٹ ڈالنے کی ناکام کوشش کرتی رہتی ہیں۔ آتنک وادیوں کے ذریعے ہندوؤں کی عقیدت سے کھلواڑ کا یہ سلسلہ 1993ء سے شروع ہوا ہے۔ 1992ء میں بابری مسجد مسماری کے بعد یاترا روکنے کے لئے حملہ کیا گیاتھا، جس میں تین لوگ مارے گئے تھے۔ اس کے بعد1994ء میں پھر سے حرکت الانصار نے یاترا پر حملہ کیا جس میں2 شردھالوؤں کی موت ہوگئی تھی۔ اسی طرح 1995ء میں اسی تنظیم نے پھر حملہ کیا لیکن اس بار وہ کسی کی جان نہیں لے پائے۔ سال2000ء میں آتنکیوں نے پھر بڑا حملہ کر پہلگام میں 32 شردھالوؤں سمیت35 لوگوں کو موت کی نیندسلا دیا تھا۔ 2001ء میں 3 پولیس افسران سمیت 12 شردھالوؤں کو نشانہ بنایاگیا۔ 2002 ء میں بھی الگ الگ حملوں میں کل 10 شردھالو مارے گئے تھے۔ دہشت گردوں کے ذریعے مسلسل شرمناک وارداتوں کے بعد بھی ہندوؤں کا حوصلہ امرناتھ یاترا کے لئے بڑھ رہا ہے اور ہر برس امرناتھ یاترا کے لئے رجسٹریشن کرانے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ ہر ہر مہادیو ،برفانی بابا کی جے۔
(انل نریندر)

ایک بار پھر اٹھا تہاڑ جیل میں سکیورٹی کا معاملہ!

اگر دیش کی راجدھانی میں بدمعاشوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں تو دیش کے دیگر شہروں میں کیا حال ہوگا، اس کا اندازہ آسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔ دہلی کے ایک بزنس مین اور اس کا خاندان کافی عرصے سے دہشت کے سائے میں جینے کومجبور ہے۔ قتل کے معاملے میں تہاڑ جیل میں بندایک قیدی بزنس مین پر منتھلی دینے کا دباؤ بنا رہا ہے اور مانگ پوری نہ ہونے پر سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے سنگم وہار کے باشندے بجندر سنگھ اپنی ماں، بیوی اور دو بیٹیوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کا کیبل کا کاروبار ہے۔ کچھ سال پہلے بجندر نے قتل کے معامل میں شامل چندرپرکاش کو جیل پہنچانے میں اہم رول نبھایا تھا یہ ہی بات اس قیدی کو ناگوار گزری۔ اس کے بعد شروع ہوا تہاڑ جیل سے بزنس مین کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ۔ بجندر کا الزام ہے کے چندر پرکاش تہاڑ جیل سے ہی فون کرکے اس پر منتھلی دینے کا مسلسل دباؤ بنائے ہوئے ہے۔ بار بار مل رہی دھمکیوں سے پریشان شخص نے ملزم سے موبائل پر ہوئی بات چیت کی ریکارڈنگ بھی کر رکھی ہے۔ اس کے پاس دھمکی بھرے ٹیلی فون 2009ء سے آرہے ہیں۔ دو بار جان لیوا حملہ بھی ہوچکا ہے۔ حالانکہ بجندر سنگھ سبھی پولیس افسروں سے مل چکا ہے لیکن ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ بیشک ایشیا کی سب سے بڑی تہاڑ ماڈل جیل میں شمار ہوتی ہے لیکن انتظامی طورپر یہاں حالات بیحد تشویش کا باعث ہیں۔ تہاڑ جیل میں خودکشی، مارپیٹ اور چاقو ماری ،منشیات کی اسمگلنگ، موبائل فون کی برآمدگی نے سکیورٹی سسٹم پر سوالیہ نشان کھڑے کردئے ہیں۔ تہاڑ میں صلاحیت سے زیادہ دو گنا قیدی ہیں اور ضرورت سے کم ایک تہائی جیل ملازم ہیں۔ وہ تنخواہ دیرسے ملنے اور اپنی ترقی کو لیکر لاچار دکھائی پڑتے ہیں۔ ملازم ہرسال نوکری چھوڑکر جارہے ہیں۔ پچھلے کچھ ماہ کے اندر تہاڑ جیل میں 2 قیدیوں نے خودکشی کرلی اور ایک قیدی کو دوسرے قیدی نے مارکر موت کی نیند سلا دیا۔ چھوٹے موٹے واقعات تو اس جیل میں عام ہیں۔ جیل میں قیدیوں کی تعداد 6250 ہونی چاہئے لیکن یہاں 12113 قیدی رکھے ہوئے ہیں۔ جیل مینول کے حساب سے یہاں پر 6250 قیدیوں کے لئے 1300 جیل سکیورٹی گارڈ منظور ہیں۔قاعدے کے مطابق یہ منظور عہدوں سے 10 فیصدی زیادہ بھرتی ہونی چاہئے لیکن ہنگامی حالات میں ملازمین کی کمی محسوس نہ ہو لیکن اس میں تقریباً900 سکیورٹی جوان تعینات ہیں۔ موجودہ قیدیوں کی تعداد کے حساب سے 3 ہزار جوانوں کو تعینات کیا جانا چاہئے۔ اس سال 50 جیل کرمچاری نوکری چھوڑ چکے ہیں۔ 2007ء بیج کے کل 18 معاون سپرنٹنڈنٹ میں سے12 نے نوکری چھوڑدی ہے۔ تنخواہ میں دیری اور ترقی میں امتیاز کو لیکر تہاڑ جیل کے ملازمین میں کامی کشیدگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ چوتھے تنخواہ کمیشن کی رپورٹ سے پہلے تہاڑ جیل کے سکیورٹی جوان اور پولیس کی تنخواہ یکساں ہوا کرتی تھی لیکن پانچویں اور چھٹے ویج کمیشن میں پولیس کی تنخواہ بڑھادی گئی اور جیل کرمچاریوں کی جوں کی توں رہ گئی۔ تہاڑ جیل کی سابق انسپکٹرجنرل کرن بیدی ، اجے کمار، بی کے گپتا، نیرج کمار سبھی نے اپنی اپنی میعاد میں سفارش بنا کر پیسہ بڑھانے کیلئے محکمہ داخلہ سے سفارش کی ہے لیکن ابھی تک ان پر کچھ نہیں ہوا۔ تہاڑ جیل میں سکیورٹی کا معاملہ یوں ہی چلتا رہے گا جب تک اس معاملے کے پہلوؤں پر سنجیدگی سے غور نہیں ہوتاایسی خبریں آتی رہیں گی۔
(انل نریندر)

21 جولائی 2013

کیا ممبئی کے ڈانس بار اب پھر گلزار ہوں گے؟

اگر ممبئی بلڈروں ،زمین مافیہ، سیاسی دبنگوں اور بالی ووڈ اور جھونپڑپٹیوں کا شہر بنا تو ممبئی بار بالاؤں کے لئے بھی مشہور ہوا۔ کئی فلموں میں بار ڈانسر کے سین دکھائے گئے۔اس ڈانس بار کی غضب کی کشش تھی۔ دنیا بھر میں یہ مقبول تھا۔ بار میں گھومنے آنے والے لوگوں کے لئے بار میں جانا شان مانا جاتا تھا اور یہ ٹورازم صنعت ہوا کرتی تھی۔ یہاں کی فلموں میں ڈانس بار کا سیٹ لگا کر فلمایا جاتا رہا ہے لیکن مدھر بھنڈارکر کے لئے یہ ایک موضوع بن گیا۔ اس میں بار کی اصلیت اور کشش دونوں کو اجاگر کیاگیا۔ ایک لڑکی تبو کیسے بار ڈانسر بنتی ہے ، اس کی کہانی دکھائی گئی جو کافی حساس ترین تھی۔ فلم اپنے محدود دائرے میں ہٹ ہوئی۔ بار ڈانسر شگفتہ رفیق ایک مثال ہے، جس نے ممبئی اور دوبئی کے باروں میں کام کرنے سے لیکر فلمیں لکھنے تک کا سفر طے کیا۔ شگفتہ اس وقت مہیش بھٹ کی خصوصی فلم کہانی رائٹر ہے۔ شگفتہ ’وہ لمحے‘ 2004 ء سے لیکر حال ہی میں آئی ’عاشقی 2-‘ تک ایک درجن فلموں کی کہانی لکھ چکی ہے۔ کئی بار ڈانسروں کی کہانی مافیہ ڈان تک سے جڑی ہوئی ہے۔ دراصل ڈان ان کی خوبصورتی پر فدا ہوجاتے تھے۔ کہتے ہیں کہ سپنا نام کی ایک ڈانسر پر داؤد فدا ہوگیا تھا۔ اس کے بعد پولیس کی ڈائریری میں آرزو نام کی ڈانسر کا بھی ریکارڈ تیار ہوا مگر سب سے زیادہ نام ترنم کا ہوا ۔جوہو کے دیپا بار میں ڈانسر کرنے والی ترنم کو دیکھنے کے لئے ملک و بیرون ملک سے لوگ آیا کرتے تھے۔2005ء میں پولیس نے اسے کرکٹ سٹے بازی کے معاملے میں گرفتار کیا تھا۔ اس کے پاس سے کافی پراپرٹی پائی گئی تھی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ڈانس بار ایک منظم صنعت بن چکا تھا۔ اس میں کالا اور سفید دونوں پیسے آیا کرتے تھے۔ ان باروں کا استعمال اپنے مفادات کے لئے کرتاتھا۔ ممبئی میں قریب 43 سال پہلے ڈانسر بار کا چلن شروع ہوا۔1976ء کے قریب مہاراشٹر کے غریب کھیتی ہار علاقوں سے آنے والی لڑکیوں پر بار مالکوں کی نظر پڑی ۔ انہوں نے ان لڑکیوں کو بار میں شراب پلانے کے لئے رکھ لیا۔ بعد میں سنگیت بھی جڑ گیا اور ڈانس بھی۔ 1984ء میں ماراشٹر میں رجسٹرڈ بار کی تعداد 24 ہوا کرتی تھی۔ 2005ء میں جب مہاراشٹر میں ڈانس بار پرروک لگی تو پردیش میں 2500 ڈانس باروں میں ایک لاکھ لڑکیاں کام کررہی تھیں۔ پابندی لگنے سے یہ 1 لاکھ ڈانسر بے روزگار ہوگئیں۔ مہاراشٹر سرکار کا کہنا ہے کہ ڈانس بار کی آر میں جسم فروشی کی شکایتیں بڑھیں۔ پورے پردیش میں فحاشیت کا ماحول بن گیا۔ اس کا نوجوانوں پر خاص طور سے برا اثر پڑ رہا تھا۔ محض347 ڈانسر باروں کے لائسنس تھے جبکہ چل رہے تھے 2500 ۔ ان ڈانس باروں کی وجہ سے قانون و نظام ٹھپ ہورہا تھا۔ دوسری طرف ڈانسروں کا کہنا ہے کہ تفریح کے لئے رقص کرنا جرم نہیں ہے۔ رقص ایک طرح سے اظہار آزادی ہے اس سے کسی طرح کا شک کرنا غیر قانونی ہے۔ اپنے طریقے سے زندگی گزر بسر کرنے کا اختیار سب کو ہے۔ اگر ڈانس باروں سے فحاشیت پھیل رہی تھی تو پابندی کے بعد صوبے میں فحاشیت اور دیگر جرائم میں کمی کیوں نہیں آئی؟ قریب68 فیصدی بار بالائیں ایسی تھیں جو پورے خاندان کے گزر بسر کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھیں۔ بے روزگاری کے سبب کئی بار بالاؤں نے خودکشی تک کر لی ہے۔ ریاست میں 1 لاکھ کے قریب بار ڈانسروں اور ان کی باز آبادکاری کے لئے کوئی متبادل حل نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے ڈانس باروں پر پابندی ہٹاتے ہوئے اپنے فیصلے میں یہ اہم رائے زنی کی جو معنی رکھتی ہے ،بھلا آپ کسی کی روزی روٹی کا حق کیسے چھین سکتے ہیں؟ اگر بار ڈانسر غلط ہے تو انہیں فائیو اسٹارہوٹلوں میں چلانے کی اجازت کس بنیاد پر دی گئی۔ آئین نے تو سب کو برابر کا حق دیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے پولیس قانون میں تبدیلی کرڈانس بار پر روک سرکار کا فیصلہ غلط تھا۔ بہتر ہو کے سرکار قانون و نظام کی صورتحال ٹھیک کرنے کے قدم اٹھائے۔ فحاشیت پر روک کے لئے سرکارہر سیکٹر میں الگ سے پہل کرے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے باروں کی بالاؤں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ وہ جشن منا رہی ہیں، مٹھائیاں بانٹ رہی ہیں لیکن مہاراشٹر سرکار سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کی سوچ رہی ہے۔ دیکھیں ممبئی کے ڈانس بار کیا پھرسے گلزار ہوں گے؟
(انل نریندر)

لکشمی کی مہم رنگ لائی: تیزاب کی کھلی فروخت پر پابندی

کچھ دن پہلے مجھے فیس بک پر ایک انتہائی دکھی والد کی ایک پٹیشن آئی تھی۔ جس میں انہوں نے اپنی بیٹی کے منہ پر کسی بدمعاش کے ذریعے تیزاب پھینکنے کی داستان بیان کی تھی۔ اور انہوں نے مجھے ان کی پٹیشن پر دستخط کرنے کو کہا تھا کہ تیزاب کی یوں کھلی بکری پر پابندی لگنی چاہئے۔ میں نے اس پٹیشن پر نہ صرف دستخط کردئے بلکہ اپنے درجنوں دوستوں سے بھی فیس بک پر اس پٹیشن پر دستخط کرنے کوکہا۔ لڑکی کے والد کی جیت ہوئی۔ ہم سب کی جیت ہوئی۔ اس پٹیشن پر ہزاروں دستخط ہوئے اور وہ بدقسمت لڑکی کے والد نے صدر کو بھیج دی اور صدر محترم نے سرکار کو اس پٹیشن اور درجنوں ایسے معاملوں کے سبب سپریم کورٹ نے جمعرات کو اپنا تاریخی فیصلہ سنایا۔ اس نے اپنے انترم حکم میں تیزاب بیچنے اور خریدنے سے وابستہ سبھی قاعدے قوانین جمعرات سے ہی لاگو کردئے۔ عورتوں پر تیزابی حملے کی بڑھتی واردات کے پیش نظر واضح اور سخت قانون بنانے کی مانگ کئی بار پہلے بھی ہوچکی ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی سرکار کو اس بارے میں ہدایت دی تھی۔ مگر ٹال مٹول کا عالم یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے ایک بار پھر سرکارکو پھٹکارلگاتے ہوئے یہ کہنا پڑا کہ تیزاب کی کھلی فروخت روکنے کے معاملے میں کبھی بھی سنجیدہ نہیں ہے۔ دیش بھر میں روزانہ لڑکیوں پر تیزابی حملے ہورہے ہیں اور وہ مررہی ہیں۔ مگر مرکزی حکومت نے اب اس سلسلے میں کارگر قدم نہیں اٹھایا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا اگر بغیر شناختی کارڈ دیکھنے تیزاب بکا تو زہر ایکٹ 1919ء کے تحت مقدمہ چلے گا، سزا ہوگی۔ اب کھلے بازار میں وہ ہی تیزاب بیچا جائے گا جو جسم پر بے اثر ہو۔ دراصل ہو یہ رہا کہ لیباریٹریوں اور صنعتی کارخانوں میں کیمیکل کے طورپر استعمال ہونے والا تیزاب کافی عرصے سے عورتوں پر حملے کا ہتھیار بن چکا ہے۔ کسی لڑکی یا عورت کے چہرے کوبگاڑنے اور اس کی زندگی برباد ہوجائے اسی منشا سے اس پر تیزاب پھینکا جاتا ہے ۔ اس لحاظ سے کسی عورت پرتیزاب ڈالنا آبروریزی جیسا سنگین جرم ہے اور اسے روکنے کے لئے سخت قانون بنانا ضروری ہے۔ آسانی سے دستیابی کے چلتے تیزاب پی کر خودکشی کرنے کی خبریں بھی آتی رہتی ہیں۔ مگر اتنے خطرناک اثر کے باوجود اس کی پیداوار اور تقسیم پر نگرانی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ جسٹس آئی ایم لودھا اور جسٹس فقیر محمد کی بنچ نے ریاستی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ تیزابی حملوں کو غیر ضمانتی جرم بنائیں۔ کورٹ نے سرکاروں کو تین مہینے کے اندر اس بارے میں واضح پالیسی لانے کی ہدایت دی۔ عرضی پر اگلی سماعت چار مہینے بعد ہونی ہے۔ جب ریاستی سرکاریں تیزاب پر کنٹرول اور متاثرین کی بازآبادکاری کو لیکر پوری پالیسی لاکر کورٹ میں رکھیں گی۔ تیزابی حملے کی شکار لکشمی کی 2006ء میں دائر عرضی پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ انترم حکم ایک ہفتے کے اندر سبھی ریاستوں تک پہنچایا جائے جہاں ہمیں خوشی ہے کہ ہم سب کی مہم رنگ لائی ہے اور سرکاریں اب تیزاب کی کھلی بکری پر روک لگانے کی غرض سے قدم اٹھائیں گی وہیں یہ بھی کہنا چاہیں گے کے بہت کچھ ان پابندیوں کی تعمیل پر منحصرہوگا۔ دیکھنا یہ ہوگاکہ سرکاریں کتنی ایمانداری سے پابندیا ں نافذ کرتی ہیں اور سرکاری مشینری کتنے موثر ڈھنگ سے پابندیوں پر عمل کراتی ہیں۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...