Translater

10 فروری 2024

کیوں بھائی چاچا ہاں بھتیجہ !

چاچا کو جھٹکا ،بھتیجا ہی اصلی ،ہندوستانی الیکشن کمیشن نے منگل کو فیصلہ دیا کہ اجیت پوار کی قیادت والا گروپ ہی اصلی نیشنل کانگریس پارٹی ہے ۔اس کے ساتھ ہی اجیت پوار اور این سی پی کے بانی شردپوار گروپ کے درمیان پارٹی پر دعوے کو لیکر جاری تنازعہ بھی ختم ہوگیا ہے ۔الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو اجیت کے چاچا شردپوار کیلئے ایک بڑے جھٹکے کی شکل میں دیکھا جا رہا ہے ۔مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ ان کی قیادت والی این سی پی کو ریاست کے ممبران کے ساتھ ساتھ ضلع صدور کی بھی حمایت حاصل ہے ۔50 ممبران اسمبلی ہمارے ساتھ ہیں ۔جموریت میں اکثریت معنی رکھتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے ہم پارٹی کا نام اور نشان الاٹ کردیا ہے ۔وہیں این سی پی کے شردپوار خیمہ کی ایم پی سپریہ سلح نے چناو¿ کمیشن کے فیصلے کو ایک بڑی طاقت کی جیت اور مہاراشٹر و مراٹھی لوگوں کے خلاف ایک سازش قرار دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا قتل ہے ۔چناو¿ کمیشن نے اپنے حکم میں کہا کہ اجیت پوار کی قیادت والے گروپ کو این سی پی کا چناو¿ نشان دیوار گھڑی الاٹ کیا گیا ہے اس لئے ان کے گروپ کو پارٹی کا نام اور اس سے جڑا چناو¿ نشان استعمال کرنے کا حق ہے ۔چھ مہینہ میں دس سے زیادہ مرتبہ سماعت کے بعد الیکشن کمیشن نے شردپوار کو بھی پارٹی کے نام کی تین ترجیحات پیش کرنے کیلئے بدھوار دوپہر 3.00 بجے تک کا وقت یا ہے ۔الیکشن کمیشن نے پایا کہ ممبران اسمبلی کی اکثریت اجیت کے حق میں ہے ۔حالانکہ دونوں گروپ پارٹی آئیں اور تنظیمی چناو¿ کے باہر کرتے ہوئے ملے ۔الیکشن کمیشن نے یہ بھی پایا کہ دونوں گروپوں میں عہدوں پر تقرری،چناو¿ کاروائی اپنانے کے بجائے اپنے ممبروں کو نامزد کردیا گیا ۔جو پارٹی کی اندرونی جمہوریت کے خلاف ہے ۔شرد کے تنظیمی اکثریت کے دعوے میں سنگین تضادات کے سبب اسے بھروسہ مند نہیں مانا گیا اور اجیت گروپ کے حق میں فیصلہ سنا دیا گیا ۔الیکشن کمیشن نے مہاراشٹر میں راجیہ سبھا کی 6 سیٹوں کیلئے چناو¿ کی میعاد کو ذہن میں رکھتے ہوئے شرد گروپ سے نئی پارٹی کے لئے تین نام مانگے ہیں ۔ادھر سپریہ سلح نے کہا کہ پارٹی ورکر شردپوار کے ساتھ ہیں ۔اور پوار پھر سے پارٹی بنائیں گے ۔شرد پوار گروپ کے ایک اور لیڈر جین پاٹل نے کہا پارٹی سپریم کورٹ کا رخ کرے گی ۔این سی پی نیتا نے چنڈی گڑھ میئر چناو¿ میں سپریم کورٹ کے ذریعے کئے گئے تبصرہ کا بھی ذکر کیا ۔انہوں نے کہا سپریم کورٹ نے پیر کو کہا تھا کہ وہ چنڈی گڑھ میئر چناو¿ کے سلسلے میں جمہوریت کے قتل کی اجازت نہیں دے سکتا ۔چناو¿ کمیشن نے یہ بھی کہا کہ سیاسی پارٹیوں کو اندرونی معاملوں میں شفافیت رکھنے کی ضرورت ہے ۔الیکشن کمیشن امید کرتا ہے کہ پارٹی اور تنظیمی چناو¿ واندرونی جمہوریت کی جائز کاروائی اپنائیں گے ۔وقت آگیا ہے کہ پارٹی آئیں کو سامنے لائیں ۔کسی بھی طرح کی تبدیلی اندرونی چناو¿ میں اترے امیدواروں کی تفصیل مناسب طریقہ وقت اور جگہ کے بارے میں بتائیں ۔ (انل نریندر)

جمہوریت کا قتل ، قبول نہیں!

سپریم کورٹ نے پیر کو چنڈی گڑھ میئر چناو¿ میں مبینہ دھاندلی کی وجہ سے دوبارہ چناو¿ کرانے کی مانگ کرنے والی عرضی پر سماعت کی ۔چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ نے کہا اس نے ویڈیو بھی دیکھا ہے جس میں مبینہ طور پر الیکٹرول افسر انل مسیح ووٹوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے نظر آرہے ہیں ۔ویڈیو دیکھ کر کورٹ نے بے حد سخت لہجہ میں کہا کہ یہ صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ الیکٹرول افسر ووٹوں کو خراب کررہے ہیں ۔کوئی ایسا کیسے کر سکتا ہے ؟ ہم یہ دیکھ کر حیران ہیں یہ جمہوریت کا مزاق ہے ۔جمہوریت کاقتل ہے ۔کورٹ نے الیکٹرول آفیسر کمرے کی طرف کیوں دیکھ رہے ہیں اور بھگوڑے کی طرح کیوں بھاگ رہے ہیں ؟ انہیں بتائیں کہ اب سپریم کورٹ ان پر نظر رکھ رہا ہے ۔معاملے کی اگلی سماعت 12 فروری کو ہوگی ۔سی جے آئی چندر چوڑ جسٹس جے بی پاردیوالہ ،جسٹس منوج مشرا کی بنچ عآپ کے میئر عہدے کے امیدوار کلدیپ کمار کی عرضی پر سماعت کررہی ہے ۔سپریم کورٹ نے چنڈی گڑھ میئر چناو¿ سے جڑے دستاویز ہریانہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار کے پاس جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔بیلٹ ویڈیو گرافی کی محفوظ رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کہا میئر چناو¿ کی پوری کاروائی کا ویڈیو پیش کیا جائے ۔چیف جسٹس نے ہائی کورٹ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ معاملے میں انترم آدیش کی ضرورت تھی جسے دینے میں ہائی کورٹ ناکام رہا ۔ہائی کورٹ نے بیلٹ پیپر محفوظ رکھنے کا حکم نہیں دیا تھا ۔سپریم کورٹ نے نگر نگم کی کسی بھی کاروائی پر روک لگا دی ہے ۔سپریم کورٹ نے کہا ہم اس طرح سے جمہوریت کا قتل نہیں ہونے دیں گے ۔دیش میں مضبوطی لانے والی سب سے بڑی طاقت چناو¿ عمل کی پاکیزگی ہے ۔اگر ضرورت پڑی تو ہم چنڈی گڑھ میئر چناو¿ دوبارہ کروانے پر غور کریں گے ۔کورٹ نے چنڈی گڑھ انتظامیہ کی طرف سے پیش سولی شیٹر جنرل تشار مہتا سے کہا کہ الیکٹرول آفیسر سے کہیے کہ ہمیں بتائیں کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا ہم انہیں نوٹس جاری کررہے ہیں ۔ان کو اگلی سماعت کے دوران کورٹ میں موجود رہنا ہوگا۔چناو¿ عآپ کانگریس نے مل کر لڑا تھا ان کے میئر امیدوار کو 20 اور بھاجپا کو 16 ووٹ ملے ۔لیکن الیکٹرول آفیسر نے عآپ اور کانگریس کے مجموعی 8 ووٹوں کو منسوخ کر بھاجپا کو کامیاب ڈکلیئر کردیا ۔شولی سیٹر تشار مہتا کا کہنا تھا کہ ویڈیو میں یکطرفہ تصویر دکھائی گئی ہے ۔اور درخواست ہے کہ کورٹ پورے ریکارڈ دیکھنے کے بعد ہی اپنا وسیع نظریہ اپنا کر فیصلہ دینا چاہیے ۔چناو¿ میں بیلٹ پیپر کی کاپی اور نتیجوں میں گڑبڑی کی شکایتیں لمبے عرصے سے آتی رہی ہیں ۔آج کل ای وی ایم کو لیکر بھی بھاری تنازعہ چھڑا ہوا ہے ۔ماضی گزشتہ میں بیلٹ کے ذریعے ہونے والے انتخابات میں گھوٹالے کو دیکھتے ہوئے ای وی ایم سے پولنگ کرانے کا انتظام کیا گیا ۔مگر جب ان ای وی ایم میں دھاندلی ہونے کی شکایت آنے لگیں تو اس کو بین کرنے کی مانگ زوروں پر اٹھ رہی ہے ۔اگر چناو¿ کاروائی میں شفافیت اور صاف ستھرا پن یقینی نہیں کیا جائے گا تو اس کے نتیجوں کی بنیاد بنے حکمرانی کے مراکز کو کیسے جمہوریت اور ایماندارانہ کیسے کہا جا سکتا ہے ؟اس لئے سپریم کورٹ کی اس رائے زنی کی اپنی اہمیت ہے کہ دیش میں پائیداری لانے کی سب سے بڑی اہم طاقت چناوی عمل ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ اس معاملے میں آخری حکم کیا دیتا ہے ؟ کیوں کہ حال ہی میں دیکھا گیا ہے کہ رائے زنیا ں تو بہت سخت ہوتی ہیں لیکن فیصلہ اس کے برعکس ہی آتا ہے ۔امید کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ اس معاملے سے سختی سے نمٹے گا اور چناو¿ کو منصفانہ آزادانہ اور شفاف بنانے کا فیصلہ دے گی ۔ (انل نریندر)

08 فروری 2024

عراق اور شام پر امریکی حملے !

امریکہ اور برطانیہ نے یمن میں 13 جگہوں پر حوثی باغیوں کے 36 ٹھکانوں پر مشترکہ حملے کئے ہیں ۔امریکہ کی جانب سے جمعہ کے دن شام اور عراق میں 85 نشانوں پر حملے کئے اورا ن کی جانب سے پلٹوار امریکی فوجی اڈے پر خطرناک ڈرون حملے کے بعد کیا گیا ۔برطانیہ کے وزیر دفاع گرائنڈ شائپس نے کہا کہ حال ہی میں حملے کے بعد لال ساغر میں حوثی باغی منمانی نہیں کر سکے ۔انہوں نے کہا یہ حملہ حفاظت کیلئے ہے نا کہ کشیدگی بڑھانے کیلئے یمن کے حوثی باغیوں نے نومبر میں لال ساغر میں کمرشل سمندری جہازوں کو نشانہ بنانا شرو ع کر دیا تھا جس سے بین الاقوامی سپلائی چین ٹھپ ہوئی تھی ۔حوثی باغیوں کو ایران کی حمایت حاصل ہے ۔شپنگ کمپنیوں نے لال ساغر کا استعمال بند کر دیا ہے ۔یہاں سے عام طور پر تقریباً 15 فیصدی بین الاقوامی سمندری تجارت ہوتی ہے ۔یہ شپنگ کمپنیاں اب لال ساغر کے بدلے جنوبی افریقہ کے آس پاس کے ایک لمبے راستے کا ستعمال کررہی ہیں ۔حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی جتانے کیلئے اسرائیل سے رابسطہ سمندری جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں لیکن ایسے بہت سے سمندر جہازوں کا اسرائیل سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔حالانکہ یہ ایران پر سیدھا حملہ نہیں تھا۔واشنگٹن کا کہنا ہے مشرقی وسطیٰ میں حالیہ عدم استحکا م کے پیچھے زیادہ ایران کی طاقت شامل رہی ہے ۔عراق اور شام میں سات جگہوں پر 85 جگہوں کو نشانہ بنایا گیا ۔یہ حملے نہیں کررہا بلکہ ایران حمایتی ملیشیا اور ایرانی حمایتی کویت فورسز (طاقتور ایرانی ریوولوشنری گارڈ کی صلاحیتوں کو کم کرنے کے مقصدسے حملے کئے گئے تھے ۔واشنگٹن اس جنگ میں ہونے والے اپنے نقصان کا اندازہ خود لگائے گا لیکن یہ ممکنہ طور پر لڑاکوں کی موت سے زیادہ انہیں منتشر کرنے کیلئے تھا ۔کئی دنوں تک اپنے ارادوں کو ٹیلی گرام کے ذریعے اجاگر کرتے ہوئے واشنگٹن نے کپرس فورسز اور ان کے مقامی ممبروں کو نقصان پہونچانے والے علاقوں سے نکلنے کا وقت دیا گیا تھا ۔واشنگٹن نے یہ صاف کیا کہ وہ ایران کے ساتھ سیدھا ٹکراو¿ نہیں چاہتا ہے ۔جمعہ کی کاروائی 28 جنوری کو اردن میں 3 امریکی فوجیوں کی موت کے بعد اس لئے ہوئی کہ آگے پھر امریکیوں کو نشانہ نہ بنایا جا ئے ۔بہرحال ان حملوں کا مقصد خاص طور سے فوجی کاروائی تک محدود نہیں تھا اپنے عراق کی بیلسٹک میزائل و ڈرون پروگرام سے مبینہ طور پر شامل کمپنیوں کے ساتھ ایرانی ریولوشنری گارڈ کی سائبر الیکٹرونک کمانڈ کے چھ حکام پر بھی پابندی لگائی تھی ۔تین دن پہلے ایرانی حمایت یافتہ عراقی ملیشیا میں سے ایک خطرناک تنظیم حزب اللہ کے نیتا نے کہا تھا کہ اس نے امریکی فوجیوں کے خلاف کاروائی ملتوی کردی ہے ۔جو اس بات کا ممکنہ اشارہ ہے کہ ایران پہلے ہی کشیدگی سے بچنے کیلئے کوشش کررہا ہے ۔لیکن اب جبکہ امریکہ نے جوابی حملہ کیا ہے تو یا تو تہران اپنی حکمت عملی بدل سکتا ہے ؟ ایران نے کہا کہ وہ امریکہ سے جنگ نہیں چاہتا لیکن مشرقی وسطیٰ میں اپنے ساتھیوں حزب اللہ سے لیکن یمن میں حوثی باغیوں کے ذریعے جواب دینے کیلئے اس کے پاس کئی متبادل ہیں ۔ (انل نریندر)

مہاراشٹر سرکار کے گروہوں میں لڑائی!

مہاراشٹر کے ٹھانے ضلع میں زمینی جھگڑے کے سبب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا کے ایک لیڈر کو گولی مار کر زخمی کرنے کے الزام میں بھارتی جنتا پارٹی کے ایک ممبر اسمبلی کو گرفتار کیا گیاہے ۔شیو سینا کے ایک لیڈر کی حالت نازک بتائی جاتی ہے ۔حکام نے سنیچر کو یہ جانکاری دی ۔ادھر عدالت میں گرفتار بھاجپا ممبر اسمبلی گنپتھ گیکواڈ کو 14 دن کی پولیس حراست میں بھیج دیا ہے ۔وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے نے مہیش گائکواڑ کی صحت کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کیلئے ہسپتال گئے ۔اور واردات کو بہت افسوسناک قرار دیا ۔وہیں نائب وزیراعلیٰ دیوندر فڑنویش نے فائرنگ کے واقعہ کو سنگین بتاتے ہوئے اس کی اعلیٰ سطحی جانچ کے احکامات دئیے ہیں ۔وہیں شیو سینا (ادھو ٹھاکرے) نے اتوار کو الزام لگایا کہ مہاراشٹر کی اتحادی سرکار میں گروہوں کے درمیان لڑائی چھڑ گئی ہے ۔انہوں نے کہا وزیراعظم نریندرمودی کو سمجھنا چاہیے کہ بھاجپا کی ریاستی یونٹ دیگر پارٹیوں کو توڑ کر ان کے لیڈروں کو اس میں شامل کرنے کے سبب کمزور ہو گئی ہے ۔ادھو ٹھاکرے کے لڑکے و خود شیو سینا ادھو کے نیتا آدتیہ ٹھاکرے نے الزام لگایا کہ مہاراشٹر میں گروہوں کے درمیان لڑائی کی قیادت وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کررہے ہیں ۔بھاجپا ممبر اسمبلی گنپتھ گائکواڑ کے ذریعے شیو سینا (شیو سندے گروپ ) کے نیتا مہیش گائکواڑ پر پولیس تھانہ کے اندر کی گئی گولا باری دونوں کے بیچ لمبے عرصے سے جاری پراپرٹی تنازعہ کے ساتھ بڑھتی سیاسی رسا کشی کا نتیجہ تھا ۔اس فائرنگ میں زخمی گائکواڑ کا علاج چل رہا ہے ۔گولی چلانے والا گنپتھ گائکواڑ گرفتار ہو چکا ہے ۔ایڈیشنل پولیس کمشنر دتاترے شندے نے میڈیا کو بتایا کہ کلیان سے بھاجپا کے ممبراسمبلی گنپتھ گائکواڑ نے جمعرات الہاش نگر علاقہ میں ہل لائن پولیس تھانہ کے سینئر انسپکٹر کے کمرے کے اندر شیو سینا کی کلیان یونٹ کے چیف مہیش گائکواڈ پر گولیاں چلائیں ۔انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے مہاراشٹر میں جرائم پیشہ کا سامراج قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں مہییش گائکواڈ کو پہلے ایک مقامی اسپتال میں لے جایا گیا جہاں سے انہیں تھانہ کے پرائیویٹ نرسنگ ہوم لے جایا گیا ۔ایڈیشنل پولیس کمشنر دتاترے شندے کے مطابق گنپتھ گائکواڈ کا بیٹا زمینی جھگڑے کے سلسلے میں شکایت درج کرانے پولیس تھانے آیا تھا ۔تبھی مہیش گائکواڈ اپنے لوگوں کے ساتھ وہاں پہونچا ۔بعد میں گنپتھ گائکواڈ پہونچے ۔ممبرا سمبلی اور شیو سینا نیتا جھگڑے کے درمیان گنپتھ گائکواڈ نے سینئر انسپکٹر کے کمرے کے اندر مہیش گائکواڈ پر گولیاں چلا دیں ۔گنپتھ گائکواڈ نے ایک نیوز چینل سے کہا کہ ہاں میں نے خود انہیں گولی ماری ۔مجھے پچھتاوہ نہیں ہے ۔اگر میرے بیٹے کو تھانے کے اندر پولیس کے سامنے پیٹا جا رہا ہے تو میں کیا کروں گا ؟ میں نے گولیاں ہی چلا دیں ۔گنپتھ گائکواڈ نے کہا کہ اگر ایکناتھ شندے مکھیہ منتری ہیں تو مہاراشٹر میں صرف جرائم پیشہ ہی پیدا ہوں گے ۔آج انہوں نے مجھ جیسے بھلے آدمی کو جرائم پیشہ بنا دیا ۔انہوں نے حملہ اپنی حفاظت میں اٹھایا گیا قدم بتایا گیا ۔ایکناتھ شندے کی قیادت والی سرکار کے کسی ساتھی کا نام لئے بغیر کہا کہ موجودہ سرکار میں گروہوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی ہے ۔1990 کی دہائی میں پچھلی شیو سینا بھاجپا سرکار نے ممبئی انڈر ورلڈ گروہ کی کمر توڑ دی تھی ۔ (انل نریندر)

06 فروری 2024

تیجسوی بولے کھیلا ابھی باقی ہے !

راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر اور بہار کے سابق نائب وزیراعلیٰ تیجسوی یادو نے نتیش کمار کے ایک بار پھر بہار کے وزیراعلیٰ کے حلف لینے کے کچھ منٹ پہلے ریاست کے بندھے سیاسی واقعات پر پہلا رد عمل ظاہر کیا اور کہا کہ ابھی کھیل شروع ہوا ہے ابھی کھیلا ہونا باقی ہے ۔بہار میں گزشتہ کئی دن سے سیاسی ماحول گرمایا ہوا تھا ۔نتیش کمار کے پالا بدلنے کی قیاس آرائیاں لگائی جا رہی تھیں لیکن اس درمیان نا تو لالو کچھ بولے اور نا ہی تیجسوی نے اپنی خاموشی توڑی ،دونوں کھلے عام بیان دینے سے بچ رہے ہیں ایک ٹی وی اینکر نے تیجسوی سے انٹر ویو کے لئے وقت مانگا تو انہوں نے کہا اعتماد کا ووٹ ہونے کے بعد ہی ان سے بات کریں گے ۔نئی سرکار کے حلف برداری تقریب کے ٹھیک پہلے بہرحال تیجسوی یادو نے کہا کہ اتحاد سے باہر نکلی نتیش کمار کی پارتی جنتا دل یونائیٹڈ کو لیکر بڑا دعویٰ کیا ۔تیجسوی یادو نے کہا میں جو کہتا ہوں وہ کرتاہوں ۔آپ لکھ کے لے لیجئے جنتا دل یونائیٹڈ جو پارٹی 2024 سے پہلے ختم ہو جائے گی ۔تیجسوی یادو کی پارٹی راشٹریہ جنتا دل بہار اسمبلی میں سب سے بڑی پارٹی ہے ۔243 سیٹوں والی اسمبلی میں آر جے ڈی کے 79 ممبر ہیں ۔کانگریس کے 19 کمیونسٹ پارٹی کے 16 ممبران اسمبلی کی حمایت بھی ان کے ساتھ ہے ۔بہار میں اکثریت کیلئے 122 ممبران کی حمایت درکار ہوتی ہے ۔نتیش کمار کی پارٹی جے ڈی یو کے پاس 45 اور بھاجپا کے پاس 78 ممبر ہیں ۔ہندوستانی آدیواسی مورچہ سیکولر کے 4 ممبران اسمبلی کی حمایت ان کے پا س ہے ۔یعنی اکثریت کا لکی نمبر بہت قریب ہے ۔اس بار نتیش کمار اور تیجسوی یادو کی پارٹی سال 2022 میں اقتدار میں آئی تھی ۔یہ قریب 17 مہینے چلی ۔تیجسوی یادو نے کہا اب 17 سال نتیش کمار سے جب سے سی ایم ہیں محض 17 مہینے کا موازنہ ہوگا ۔تیجسوی نے نتیش کمار کو تھکا ہوا وزیراعلیٰ بتایا ۔نتیش کمار کی قیادت میں حال ہی میں بنی سرکار میں کھینچ تان شروع ہو گئی ہے ۔اب بہار کے سابق وزیراعلیٰ اور ہندوستانی عوامی مورچہ کے لیڈر جتن رام مانجھی نے اپنی پارتی کے لئے زیادہ حصہ داری کی مانگ اٹھا دی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ سورن ذاتی کے امیدوار کیلئے ایک اور وزیر چاہتے ہیں ۔ان کے بیٹے سنتوش سمن نے اتوار کو ریاست میں بنی این ڈی اے سرکار میں وزارت کا حلف لیا ۔سابق وزیر اعلیٰ نے اخبار نمائندوں سے کہا کہ ریاست میں این ڈی اے سرکار بننے سے پہلے میں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر مملکت داخلہ نتیا نند رائے سے کہا تھا کہ ہم 2 وزیر چاہتے ہیں اور درج فہرست سے ہمارا ایک وزیر ہے اب ہم چاہتے ہیں کہ ہماری پارٹی سے ایک سورن ذاتی کے ممبر کو کیبنیٹ میں لیا جائے ۔بہار میں نتیش کمار کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں مسئلہ کھڑا ہو سکتا ہے ۔خود ان کی پارٹی جنتا دل یونائیٹڈ کے کچھ ممبرا سمبلی ان کے بی جے پی کے ساتھ جانے سے خوش نہیں ہیں ۔ایک دو نے تو کھل کر بیان بھی دیا ہے ۔سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ جنتا دل یونائیٹڈ میں کچھ اسمبلی پالا بدل سکتے ہیں ۔اس لئے شاید تیجسوی یادو کہتے ہیں کہ کھیلا تو ابھی شروع ہوا ہے اصل کھیلا تو ہونا باقی ہے ۔ (انل نریندر)

جھارکھنڈ کے فقیرانہ انداز والا وزیراعلیٰ!

پیروں میں چپل ،ڈھیلی شرٹ ، پینٹ اور سر کے بالوں پر پھیلی سفیدی چمپائی شورین کی پہچان ہے ۔وہ سادگی کی زندگی بسر کررہے ہیں ۔چمپائی سورین نے جمعہ کے روز جھارکھنڈ کے بارہویں وزیراعلیٰ کی شکل میں حلف لیا ۔گورنر سی پی رادھا کرشن نے چمپائی کو سی ایم ، کانگریس اسمبلی پارٹی کے نیتا عالم گیر عالم اور آر جے ڈی ممبر اسمبلی کے لیڈر ستیا نند موختا کو وزارت کی حلف دلائی ۔ چمپائی نے آج اسمبلی میں اپنا اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا ،چونکہ 5 فروری کو گورنر ہاو¿س میں ثابت کرنے کی مہلت دی تھی اس کے لئے اسمبلی کا دو روزہ اسپیشل اجلاس بلایا گیا ۔دوسری جانب اتحاد نے ممبر ان اسمبلی کو توڑ پھوڑ سے بچانے کیلئے حیدر آباد بھیج دیا تھا ۔اتحاد نے جمعرات کو جاری ویڈیو میں 43 ممبران اسمبلی کی حمایت دکھائی گئی تھی ۔ہیمنت سورین سے انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی پوچھ تاچھ کو لیکر یہ اشارے ملنے لگے تھے کہ وہ وزیراعلیٰ کا عہدہ چھوڑ سکتے ہیں ۔ویڈیو رپورٹ میں منگلوار سے نئے وزیراعلیٰ کے طور پر ہیمنت سورین کی بیوی کلپنا سورین کے نام کی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھی لیکن بدھوار کی شام نئے وزیراعلیٰ کے طور پر چمپائی سورین کا نام سامنے آیا ۔پچھلے بدھوار کو ہیمنت سورین کی گرفتاری اور استعفیٰ کے بعد چمپائی کو اسمبلی پارٹی کا لیڈر چن لیا گیا تھا اور وہ 43 ممبران اسمبلی کی حمایت کا خط گورنر کو سونپ چکے تھے ۔لیکن راج بھون سے نئی سرکار کی تشکیل کا وقت نا ملنے سے غیر یقینی ماحول بنا ہوا تھا ۔جھارکھنڈ مکتی مورچہ اور اتحاد کی دیگر پارٹیوں میں ٹوٹ کا اندیشہ ظاہر دے رہا تھا ۔گورنر کے ذریعے حلف دلانے کو لیکر طرح طرح کی افواہیں اڑنے لگی تھیں ۔گورنر کی طرف سے ملاقات کا ٹائم دینے میں تاخیر ہوئی جس وجہ سے وزیراعلیٰ کو تھوڑا وقفہ کا انتظار کرنا پڑا لیکن جمعہ کو لوک سبھا میں اپوزیشن پارٹیوں نے کافی ہنگامہ کیا ۔اپوزیشن کا کہنا تھا کہ بہار میں نتیش کمار کو استعفیٰ دینے کے فوراً بعد نئی سرکار کی تشکیل کیلئے دعوت دے دی گئی تھی لیکن جھارکھنڈ میں ایسا کیوں نہیں ہوا؟ چمپائی سرین جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے 67 سالہ نیتا ،پارٹی کے چیف سیبو سورین اور ان کے بیٹے ہیمنت سورین دونوں کے بھروسہ مند رہے ہیں ۔ہیمنت سورین کی وزارت میں وہ ٹرانسپورٹ و غذائی سپلائی محکمہ دیکھ رہے تھے ۔جھارکھنڈ ریاست کے قیام کے آندولن میں سیبو سورین کے قریبی ساتھی رہے ہیں ۔اسمبلی میں وہ بسرا کیلا سیٹ پر سات بار ممبر اسمبلی رہے ہیں ۔11 نومبر 1956 کو پیدا ہوئے چمپائی سورین نے 10 ویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے ۔قابل ذکر ہے کہ ہیمنت سورین پر قبائلی علاقہ میں زمین خرید میں مبینہ جعلسازی کا الزام لگایا گیا ۔کسی ریاست کے چنے ہوئے وزیراعلیٰ پر ایسے الزام لگانا واقعی سنگین معاملہ ہے ۔اور اس میں قطعی شبہ نہیں ہے کہ اس کی سخت جانچ ہونی چاہیے ۔اور اگر وہ کرپشن میں ملوث پائے جاتے ہیں تو قانون اپنا کام کرے ۔گرفتاری تبھی ہونی چاہیے جب الزام ثابت ہو جائے ۔جنتا کے ذریعے چنے ہوئے سرکار کے چیف کی گرفتاری کوئی عام معاملہ نہیں ہے اور اس کی بنیاد صاف ہونی چاہیے ۔ویسے بھی منی لانڈرنگ ایکٹ میں ضمانت مشکل سے ملتی ہے ۔ہیمنت سورین کو گرفتار کرنے کے ارادہ جھارکھنڈ سرکار کو گرانے کا تھا یا صدر راج لگانے پر تھا تو یہ چال فیل ہو گئی ۔جھارکھنڈ میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ اتحادی سرکار برقرار ہے شاید یہ سوچا گیا ہو کہ پورے دیش کے قبائلی بھاجپا کے خلاف نہ ہو جائین جس کا سیدھا اثر 2024 کے لوک سبھا چناو¿ پر پڑتا ۔اس لئے چمپائی سورین و ایک دن انتظار کے بعد ان کو حلف دلایا گیا ۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...