Translater

25 مئی 2024

جہاں حادثہ ،وہ موساد کا گڑھ رہا ہے !

ایران کے صدر ابراہیم رئیسی اور ان کے وزیر خارجہ سمیت 9 حکام کی ہیلی کاپٹر حادثہ میں موت تہران کے لئے ایک زبردست جھٹکا ہے ۔ابھی اس کے پیچھے کوئی سازش نہیں بتائی گئی ہے ۔لیکن غیر سرکار ی طورپر اسے اسرائیل اور امریکی سازش ہی بتایا جارہا ہے ۔ایران میں بھی کچھ لوگ رئیسی کے ایسے اچانک ہیلی کاپٹر حادثہ میں مارے جانے پر سوال اٹھ رہے ہیں ۔گزشتہ دنوں ایران اور اسرائیل کے درمیان لڑائی دیکھنے کو ملی تھی ۔پہلے سیریا میں ایران کے کمرشیل قونصل خانے پر ہوئے حملے کا الزام اسرائیل پر آیا ۔پھر جوابی کاروائی میں اپریل 2024 میں ایران نے اسرائیل پر ڈرون اور میزائل حملہ کیا ۔اس لڑائی کے درمیان جب رئیسی اور ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبدالحمید کی اچانک موت ہوئی تو کچھ لوگوں نے اسے عراق کی نگاہوں سے دیکھا ۔اور اس کے ساتھ اسرائیل کی طرف بھی اشارہ کیا۔اسرائیل نے اس کی تردید کی ہے ۔امریکہ کے وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا کہ اس ہیلی کاپٹر کریش میں امریکہ کا کوئی رول نہیں تھا۔اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ رئیسی ایک کٹر قسم کے آدمی تھے ۔وہیں چائی نیٹ نیوز ویب سائٹ میں ابراہیم رئیسی کے رویہ کی کہانی بیان کی گئی ہے ۔اور اس رپورٹ کو تہران کا قصائی عنوان نام دیا گیا ہے ۔ایک دوسری ویب سائٹ نے عنوان دیا ہے کہ” ایران کے سب سے بڑے نفرتی آدمی کی موت“اس اوپینین کے درمیان یہ لکھا گیا ہے کہ رئیسی کی موت پر کوئی سچا آنسو آنکھ سے نہیں گرے گا ۔حجاب کو لیکر کی گئی سختی کے سبب عورتیں رئیسی سے نفرت کرتی تھیں ۔رئیسی سال 1988 میں صدر بنے تھے اور اس خفیہ ٹرائیبنل میں شامل ہوئے جنہیں ڈیتھ کمیٹی کے نام سے جانا جاتا ہے ۔اس ٹریبونل نے کل کتنے سیاسی قیدیوں کو موت کی سزا دی اس کی تعداد تقریباً پانچ ہزار ہے جن میں مجموعی طور پر مرداور عورتیں شامل تھیں ۔پھانسی کے بعد سبھی کو نامعلوم جگہ پر خبروں میں مجموعی طور پر دفنا دیا گیا ۔صدر رئیسی کی موت کی جانچ کے نتیجے آنے باقی ہیں لیکن بڑا سوال حادثہ کی جگہ آذر بائیجان کو لیکر ہے ۔ایران کے پڑوسی دیش آذر بائیجان سے کشیدہ رشتے رہے ہیں ۔آذر بائیجان وسطی ایشیا کا واحد ایک مسلم دیش ہے جس کے اسرائیل کے ساتھ دوستانہ رشتے ہیں ۔رئیسی کا ہیلی کاپٹر آذر بائیجان میں جہاں کریش ہوا وہ پہاڑی والا گنجان علاقہ ہے ۔اسرائیل خفیہ ایجنسی نوشاد کا گڑھ ماناجاتا ہے یہاں پر موساد کے کئی خفیہ ایجنٹ سرگرم ہیں ۔پچھلے سال ایران نے آذر بائیجان میں رہ کر اسرائیل کے لئے جاسوسی کرنے کے الزام میں ایک خاتون سمیت 4 لوگوں کو پھانسی دی تھی ۔پھر رئیسی کے ہیلی کاپٹر کے علاوہ دو اور ہیلی کاپٹر تھے یعنی تین ہیلی کاپٹروں نے اڑان بھری تھی یہ کیسے ہوا یہ تین میں سے صرف ایک ہی ہیلی کاپٹر کریش ہوا اور باقی دونوں صحیح سلامت اتر گئے ؟ ایران میں جہاز رانی سیکٹر کا ریکارڈ خراب رہا ہے اس کے باوجود صدر رئیسی نے امریکہ کے 45 سال پرانے ویل ہیلی کاپٹر میں اڑان بھری ۔پابندیوں کے سبب ایران کو کل پرزے نہیں مل رہے تھے ۔سوال اٹھتا ہے کہ موجودہ موسم کے خراب ہونے کے باوجود پائلٹ نے پرانے ہیلی کاپٹر کیساتھ خطرہ مو ل لیکر اڑان بھری تھی ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے رئیسی کو 150 کلو میٹر لمبی شاہراہ سے لے جایا بھی جاسکتا تھا۔رئیسی کی موت بھارت کے ناقابل فراموش نقصان ہے ۔ (انل نریندر)

شوشل میڈیا کی بڑھتی طاقت!

ایسے میں جب مین اسٹریم میڈیا سوالوں کے گھیرے میں ہے ،شوشل میڈیا چناو¿ میں ایک اہم ترین ہتھیار بن گیا ہے ۔خاص کر اپوزیشن کے لئے ۔دیش کے ایک بہت بڑے طبقے تک پہونچ ہونے کے چلتے سیاسی پارٹی اس پر پیسہ پانی کی طرح بہا رہے ہیں ۔بھارت میں جس طرح سے گاو¿ں گاو¿ں لوگوں کے پاس اسمارٹ فون ہے اور انٹرنیٹ کی سہولت ہے ایسے میں یہ کمپین کا ایک مضبوط ذریعہ بن کر ابھرا ہے ۔چاہے ایک منٹ کی ریل ہو یا پھر ایکس یا یوٹیوب و فیس بک سے لیکر انسٹاگرام ، نیتا اپنی بات کو بڑے ڈھنگ سے دیش کے بڑے طبقے تک پہونچانے میں کامیاب رہے ہیں ۔دیکھا جائے تو اس بار چناو¿ نریٹو مین اسٹریم میڈیا سے نہیں بلکہ شوشل میڈیا سے طے کیا جارہا ہے ۔اس کام میں پی ایم مودی کا سیدھا مقابلہ اگر کوئی کررہا ہے تو وہ کانگریس کے نیتا راہل گاندھی ہیں ۔شوشل میڈیا کی طاقت سمجھنے کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ دیش میں یوٹیوب کے 46 کروڑ ناظرین ہیں تو انسٹاگرام پر 36 کروڑ ہندوستانی سرگرم ہیں ۔فیس بک پر یہ تعداد 38 کروڑ کے قر یب ہے اور ایکس پر 2.71 کروڑ لوگ ایکٹو ہین ۔ان میں سب سے زیادہ مقبول ریلس کا بازار ہے ۔شارٹ ویڈیو بیس کا چلن کتنا ہے اسے اعداد شمار سے سمجھا جا سکتا ہے ۔اوسطاً ایک ہندوستانی ریل پر 38 منٹ کا وقت بتاتا ہے ۔ریلس کو دیکھنے والے 64 فیصد لوگ چھوٹے چھوٹے شہروں کے ہیں تو گاو¿ ں میں رہنے والے 45 فیصد لوگ دیکھتے ہیں ۔25 سال کی عمر والے لڑکوں کی تعداد 65 فیصد ہے ۔شوشل میڈیا کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پی ایم مودی کے ایکس پر 6 کروڑ فالوور ہیں تو وہیں انسٹاگرام پر انہیں 8.91 ملین لوگ فالو کرتے ہیں ۔شوشل میڈیا پر جو دو بڑے چہرے چھائے ہوئے ہیں وہ ہیں نریندر مودی اور راہل گاندھی ہیں ۔راہل گاندھی کے یوٹیوب پر پچھلے ماہ 35 کروڑ لوگوں کے بیوز آئے ۔اس وقت راہل گاندھی کا یوٹیوب چینل نمبر 1 پر ہے ۔ان کے چینل کو 5.55 ملین لوگوں نے سبسکرائب کیا ہے ۔ان کے انسٹاگرام اکاو¿نٹ پر 7.9 ملین سبسکرائبر ہیں ۔ایکس پر ان کے 2.5 ملین فیس بک پر 70 لاکھ اور واٹس ایپ پر 6.3 ملین لوگ فالو کرتے ہیں ۔شوشل میڈیا کی سرگرمی کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب پی ایم مودی نے کانگریس کے چناو¿ منشور پر سوال اٹھایا اس کے بعد کانگریس کے چناو¿ منشورکو 88 لاکھ بار ڈاو¿ن لوڈ کیا گیا ۔کانگریس نے 20 ہزار رضاکاروں کی فوج بنا رکھی ہے جو واٹس ایپ کے ذریعے پانچ لاکھ لوگوں کے سیدھے رابطے میں ہے ۔اس معاملے میں بھاجپا کانگریس سے آگے ہے ۔پی ایم مود ی خود شوشل میڈیا کو لیکر بے حد ایکٹو رہتے ہیں اور اسی کے چلتے بھاجپا کے آئی ٹی سیل کے پاس لاکھوں لوگوں کی ٹیم ہے جو بھاجپا اور سرکار تک مودی و دیگر لیڈروں کے لنک کو ہر منٹ شیئر کرتے ہیں ۔شوشل میڈیا کی طاقت کو سمجھتے ہوئے ہی سیاسی پارٹیوں نے اپنے چناوی کمپین کا بہت بڑا فنڈ شوشل میڈیا پر خرچ کیا ہے ۔شوشل میڈیا کے بڑے پلیٹ فارم ہزاروں کروڑ روپے کی چاندی بھارت کے لوگ لوک سبھا چناو¿ میں چھائے ہوئے ہیں ۔ (انل نریندر)

23 مئی 2024

پنجاب میں پہلی بار چار پارٹیوں میں ٹکر!

سرحدی صوبہ پنجاب میں پہلی بار بڑی سیاسی پارٹیوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے اس کے علاوہ ایک غیر اعلانیہ پارٹی کسان بھی ہے جنہوں نے چناو¿ کو گرمایا ہوا ہے ۔خاص کر بھاجپا کو خاصہ پریشان کررکھا ہے ۔سرحد سے لگتی حضور صاحب سیٹ پر آسام کی ڈبروہ گڑھ جیل میں بند خیالی امرت پال میں اب تال ٹھوک کر کشیدگی بڑھا دی ہے ۔اسی مزاج کے سمرن جیت سنگھ مان نے بھی 1989 میں جیل میں رہتے ہوئے اس علاقہ میں چناو¿ لڑ کر 93.92 فیصد ووٹوں کیساتھ ایک طرفہ جیت درج کی تھی اس جیت کو امرت پال سے جوڑ کر متاثر کیا جارہا ہے ۔اس پنتھک سیٹ پر امرت پال کی نامزدگی بھرنے سے زیادہ بے چینی پنتھک ووٹ والے اکالی دل میں ہے ۔سکھبیر سنگھ بادل کو بیان دینا پڑا کہ امرت پال سنگھ سنگھوں کی رہائی کے لئے نہیں بلکہ خود کی رہائی کے لئے چناو¿ لڑرہا ہے ۔ان کا اشارہ صاف ہے کہ قید سنگھوں کی رہائی کی لڑائی اکالی دل لڑرہا ہے ۔موجودہ تجزیو ں میں کل 13 لوک سبھا سیٹوں میں سے 5-6 سیٹوں پر کانگریس اور 4-5 سیٹوں پر عآپ مضبوط دکھائی پڑتی ہے ۔بھاجپا کو اپنی روایتی سیٹیں گورداس پور اور ہوشیار پور میں بھی سخت ٹکر مل رہی ہے ۔ان دو سیٹوں کے علاوہ لدھیانہ ،پٹیالہ میں کانگریس سے عآپ چہروں اور فرید کورٹ سے ڈیرے کے ووٹوں کے سہارے بھاجپا مقابلہ میں ہے ۔لیکن جیت سے ابھی دور ہے ۔اکالی دل بھٹنڈہ سیٹ کو ایک وقاری سوال بناکر لڑرہی ہے ۔گہما گہمی اس قدر ہے کہ کون کتنے ووٹ لے رہا ہے اس سے زیادہ زور آج مائننگ کو لیکر ہے ۔کون کس کو کتنے ووٹ کررہا ہے نتیجے بھی اسی پر ٹکے ہیں ۔اکیلے چناو¿ لڑرہی چاروں پارٹیاں ،عآپ ،کانگریس،اکالی دل اور بھاجپا کو چہروں کی تلاش میں خاصی مشقت کرنی پڑی ابھی تک چناوی ہوا میں ووٹوں کے رخ میں بڑی تبدیلی دکھائی دے رہی ہے ۔پچھلے اسمبلی چنا و¿ میں تبدیلی کے نام پر ایک ہی پارٹی آپ کے پاس اکٹھا ووٹ لوک سبھا چناو¿ میں اپنی اپنی پارٹیوں کی طرف لوٹتا دکھائی پڑرہا ہے ۔اس کا زیادہ فائدہ کانگریس کو ہونے والا ہے ۔کانگریس اور اکالیوں سے ناراض ہو کر جو ووٹ عام آدمی پارٹی کو چلا گیا تھا وہ انکے پاس لوٹتا دکھائی دے رہا ہے ۔عآپ سرکار کی فری بجلی ،کا لالچ مل رہا ہے ۔لیکن مقامی ناراضگی کا نقصان بھی اسے ہو رہا ہے ۔اس کے زیادہ تر ممبران اسمبلی ناراض ہیں اس لئے لوک سبھا چناو¿ لڑرہے ہیں ۔اس کے پانچ وزیر بھی پھنسے ہوئے ہیں ۔عآپ کو ہندو چہرے کی کمی کھل رہی تھی ۔اروند کیجریوال انترم ضمانت ملنے سے اس کی بھرپائی ہوتی دکھائی دے رہی ہے ۔انہوں نے پنجاب سے کمپین شروع کر دی ہے اور 2019 میں 8 ایم پی والی کانگریس مضبوط چہروں اور کیڈر کے سبب آگے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے ۔بھاجپا ہندو اور اکالی دیہات میں اپنے پنتھی ووٹوں کے سہارے ہے لیکن اس کے سامنے مشکل یہ ہے کہ ایک سیٹ بھی ایسی نہیں ہے جو پوری شہری یا دیہات کی ہو۔اب تک یہ ہندو ،سکھ مشترکہ طاقت پر لڑتے تھے ۔الگ ہونے سے ایک دوسرے کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔فی الحال پہلے ،دوسرے مقام کے لئے لگاتار ہوا کا رخ بدل رہا ہے ۔دس سیٹوں پر کئی رخی اور تین سیٹوں پر بسپا کا اثر ہونے سے یہ چار کونی مقابلہ ہونے جا رہا ہے یہاں پولنگ 1جون کو ہونی ہے ۔اس روز پتہ چل جائے گا کہ کون سی پارٹی کتنے پانی میں ہے ۔ (انل نریندر)

ہریانہ میں غیر جاٹوں کے بھروسے بھاجپا!

ہریانہ میں اس بار بھاجپا کی دس لوک سبھا سیٹیں مشکل میں ہیں۔وزیراعلیٰ بدلنے کے بعد بھی جاٹ اور کسانوں کا قصہ ٹھنڈا نہیں پڑا ہے ۔جاٹ دیہات میں بھاجپا امیدواروں کے لئے کمپین کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے ۔کئی دیہات میں تو اتنا احتجاج ہو رہا ہے کہ بھاجپا امیدوار گاو¿ں میں بھی داخل نہیں ہو پار ہے ہیں ۔جاٹ لڑکوں نے وزیراعلیٰ نائب سینی کی ریلی کے لئے لگایا گیا ٹرینڈ تک اکھاڑ ڈالا۔اب بھاجپا کی امیدیں غیر جاٹ ووٹوں پر ٹکی ہیں ۔صحافیوں نے گروگرام ،جھجر اور روہتک کے کچھ دیہی غیر جاٹ ووٹوں پر ٹکی ہیں ۔صحافیوں نے گروگرام ،جھجر اور روہتک کے کچھ دیہاتی علاقوں کا دورہ کر لوگوں سے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی ۔جاٹ اکثریتی گاو¿ں میں بھاجپا اور جے جے پی سے لوگ ناراض ہیں ۔لیکن غیر جاٹ اکثریتی گاو¿ں والے بھاجپا کے تئیں تھوڑا سا متوازن دکھائی پڑتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ جاٹ فرقہ کی آبادی اتنی زیادہ نہیں ہے کہ وہ چناو¿ ہرا سکیں ۔2019 کے چناو¿ میں بھی جاٹ اکثریتی روہتک سے غیر جاٹ بھاجپا کے اروند شرما چناو¿ جیت گئے تھے ۔بھاجپا نے قریب دس سال پہلے غیر جاٹ لیڈر منوہر لال کھٹر کو وزیراعلیٰ بنا کر جاٹوں کے سمان کو ٹھیس پہونچائی تھی تب سے جاٹ ناراض چل رہے تھے ۔کسان آندولن نے اس غصہ میں آگ میں گھی کا کام کر دیا ۔2019 کے اسمبلی چناو¿ میں جاٹ ووٹ جن نائک جنتا پارٹی کی طرف چلا گیا اور بھاجپا کی سیٹیں 47 سے گھٹ کر 40ر ہ گئیں ۔کانگریس کی سیٹیں 15 سے بڑھ کر 31 ہو گئیں تھیں لیکن وہ سرکار بنانے سے دور رہ گئیں ۔جاٹ فرقہ کا سارا ووٹ جے جے پی لیڈر دشینت چوٹالہ کو مل گیا۔چناو¿ کے بعد دشینت چوٹالہ نے بھاجپا سے تال میل کیا اور پردیش کے نائب وزیراعلیٰ بن گئے اس سے جاٹ ووٹر دشینت چوٹالہ سے ناراض ہو گیا۔آج حالت یہ ہے کہ دشینت چوٹالہ جہاں بھی چناو¿ پرچار کے لئے جاتے ہیں جاٹ فرقہ ان کی مخالفت کرنے لگتا ہے ۔حالانکہ جاٹوں کی ناراضگی دور کرنے کے لئے بھاجپااور دشینت چوٹالہ نے دوستانہ تعلقات توڑ لئے لیکن جاٹ فرقہ ان دونوں پارٹیوں کی اس منشاءکو سمجھتے ہیں ۔جاٹوں کا بھاجپا - ججپا امیدواروں کا کہنا ہے کہ آپ نے ہمیں دہلی جانے سے روکا ہم آپ کو بھی دہلی جانے سے روکیں گے۔جاٹوں کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے بھاجپا نے 2024 کے چناو¿ میں بھی غیر جاٹ ووٹوں پر فوکس کرتے ہوئے شوشل انجینئرنگ کی ہے ۔پارٹی نے پچھلی بار غیر جاٹوں کو متحد کرتے ہوئے جاٹ لینڈ یعنی روہتک سے دیپندر ہڈا اور سونی پت سے بھوپندر سنگھ ہڈا جیسے کانگریس کے سرکردہ لیڈروں کو چناو¿ ہرا دیا تھا ۔اس بار بی جے پی نے روہتک اور سونی پت سے برہمن امیدواروں کو اتارا ہے ۔فرید آباد سے کرشن پال گوجر او ر گوروگرام سے راو¿ اندر جیت سنگھ کو دوبارہ ٹکٹ دے کر او بی سی فرقہ کو جوڑنے کی کوشش کی ہے ۔جاٹ فرقہ کو خود گھیرنے کے لئے حکمت عملی ،چوٹالہ کو حصار ،اور دھرم ویر سنگھ کو مہندر گڑھ بھیوانی سے چناو¿ میدان میںاتارا ہے ۔بھاجپا نے منوہر لال کھٹر کی جگہ پھر سے غیر جاٹ نیتا نائب سنگھ سینی کو وزیراعلیٰ بنایا ہے ۔منوہر لال کھٹر کرنال سے پارٹی کی طرف سے امیدوار ہیں ۔بیشک کانگریس کے اندر بھی ٹکٹ تقسیم میں ناراضگی چل رہی ہے لیکن ہواکا رخ انڈیا گٹھبندھن کی طرف بڑھ رہا ہے ۔حالانکہ بھاجپا کے ایک نیتا کا کہنا ہے بھلے ہی جاٹ فرقہ بھاجپا کی مخالفت کررہے ہیں لیکن صرف کچھ دیہاتوں تک محدود ہین ۔جاٹوں کی آبادی بھی 15 سے 20 فیصد ہے باقی غیر جاٹ ہیں ۔ (انل نریندر)

21 مئی 2024

کیا رنکو کے پاپا ہیٹ ٹرک لگا سکیں گے!

راجدھانی کی نارتھ ایسٹ لوک سبھا سیٹ ان دنوں سب سے ہاٹ سیٹ بن گئی ہے ۔ترقی کے تقاضوں میں ابھی بھی دہلی کی سب سے پچھڑی لوک سبھا سیٹ کے شمار میں نارتھ ایسٹ پارلیمانی سیٹ ہے اس پر دو پروانچلی لیڈر وں میں زبردست سیاسی جنگ چھڑی ہوئی ہے ۔الزام تراشیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔آہستہ آہستہ کلائمکس پر پہونچ رہا ہے ۔اس سیاسی جنگ کے چلتے دہلی ہی نہیں دیش کی نظریں اس سیٹ پر لگی ہیں ۔یہاں سے رنکو کے پاپا یعنی منوج تیواری اور کنہیا کمارکا مقابلہ ہے ۔جمعہ کو کانگریس کے امیدوار کنہیا کمار پر چناو¿ کمپین کے دوران حملہ بھی ہوا تھا ۔وہ نارتھ ایسٹ دہلی کے علاقہ عثمان پور میں عام آدمی پارٹی کے مقامی دفتر کے باہر کمپین کے دوران ان پر پہلے کچھ لوگوں نے سیاہی پھینکی پھر انہیں چانٹا مارا ۔کنہیا کمار نے جواب دیا کہ صاحب غنڈئی مت کیجئے ۔ہم نے تو آپ کی پولیس دیکھی ہے آپ کی جیل دیکھی ہے ہماری رگوں میں آزادی کے مجاہدین کا خون بہہ رہا ہے ۔ہم کانگریس کے ورکر ہیں جب انگریز سے نہیںہارے تو انگریز کے چاپلوسوں سے کیا ڈریں گے ۔نارتھ ایسٹ سیٹ پر سیاسی پارٹی جہاں اپنے سینا پتیوں کی جیت کا دعویٰ کررہے ہیں وہیں جنتا پرانے وکاس کاموں اور دونوں امیدواروں کے دعووں اور وعدوں کو کسوٹی پر پرکھ رہی ہے ۔اس سیٹ پر لڑائی سیدھے بھاجپا اور انڈیا اتحادکے امیدواروں کے درمیان ہے ۔بھاجپا نے یہاں سے منوج تیواری کو تیسری بار امیدوار بنایا ہے جو کہ اس بار جیت سے ہیٹ ٹرک لگانے کے چکر میں ہے ۔یہاں سے تیسری بار ہیٹ ٹرک کی تیاری میں لگے منوج تیواری نارتھ ایسٹ ضلع میں ہزاروں کروڑ روپے کے وکاس کے کاموں کو لیکر ووٹ مانگ رہے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میرے عہد میں یہاں دہلی میٹرو کا چلن شروع ہوا ۔جام ختم کرنے کے لئے فلائی اوور بنائے گئے ۔بھجن پورہ چوک پر فلائی اوور بن رہا ہے ۔ایک نیا ہائی وے شروع ہوگا جو دہلی سے باراستہ سہارنپور و دہرادون تک جائے گا ۔کنہیا کمار نے 2019 میں بھی بیگو سرائے سے لوک سبھا چناو¿ لڑا تھا وہ دوسری بار لوک سبھا چناو¿ لڑرہے ہیں لیکن اس بار بہار کی سرزمین کی جگہ وہ دہلی کی سرزمین سے چناو¿ میدان میں ہیں ۔ساتھ ہی دونوں ہی امیدواروں کا تعلق پروانچل سے ہے اس لوک سبھا حلقہ میں پروانچلی کافی تعداد میں رہتے ہیں ۔ذرائع کی مانیں تو کنہیا کمار کواپنے مقابلے میں کم سمجھنا منوج تیواری کے لئے گھاٹے کا سودہ ثابت ہوسکتا ہے ۔بیشک کنہیا کمار کو ٹکٹ دینے پر کانگریس کے کنبہ میں ناراض گی پائی جاتی ہے لیکن اب کنہیا کماری منوج تیواری کو سخت ٹکر دے رہے ہیں ۔بھاجپا کے لئے دوہری چنوتی ہے ۔دہلی میں کانگریس اور عام آدمی پارٹی صحیح معنوں میں مل کر یہ چناو¿ لڑ رہی ہے ۔سنیچر کو کنہیا کمار کےلئے ووٹ مانگنے کے لئے ایک بڑی ریلی ہوئی اس کو راہل گاندھی نے خطاب کیا ۔انہوں نے اپنی تقریر میں بار بار عام آدمی پارٹی کے نیتاو¿ں اور وکرروں کو ذکر کیا ۔انہوں نے دہلی کی ساتون سیٹوں پر کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے امیدواروں کا بھی تعارف کرایا اور اپیل کی کہ کانگریس اور عام آدمی پارٹی کو صحیح معنون میں مل کر ایک دوسرے کو جتانا ہے ۔معاملہ زبردست ہے دیکھیں رنکو کے پاپا اپنی ہیٹ ٹرک لگا سکتے ہیں؟ (انل نریندر)

کورٹ کی منطوری کے بغیر ای ڈی گرفتار نہیں کرسکتی!

سپریم کورٹ نے ایک بار پھر انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ یعنی ای ڈی کو سخت نصیحت دی ہے ۔دراصل پچھلے کچھ برسوں سے منی لانڈرنگ معاملوں یعنی پی ایم ایل اے نے جس طرح ای ڈی سرگرم نظر آرہی ہے اور اپوزیشن کے بہت سے لیڈروں اور ان سے متعلق لوگوں کو لاکھوں سلاخوں کے پیچھے ڈال رہی ہے اسے لیکر لگاتار اعتراض درج کرایا جاتا ہے ۔ایک برس پہلے بھی سپریم کورٹ نے صاف ہدایت دی تھی کہ ای ڈی کی سرگرمیوں کا ماحول پیدا نا کرے مگر اس نصیحت کا ای ڈی پر کوئی اثر نہیں ہوا ۔اپوزیشن لیڈروں کی گرفتاریاں جاری ہیں ۔سپریم کورٹ نے جمعرات کو اپنے تاریخی اور دوررس فیصلے میں کہا کہ منی لانڈرنگ سے جڑے معاملے میں مخصوص عدالت کے ذریعے شکایت پر نوٹس لینے کے بعد ہی ای ڈی پی ایم ایل کی دفعہ 19- کے تحت کسی ملزم کو گرفتار نہیں کرسکتی ۔بڑی عدالت نے کہا کہ اگر کسی ملزم کو گرفتار کرنا ضروری ہے تو ای ڈی کو مخصوص عدالت سے پہلے اجازت لینی ہوگی ۔جسٹس ابھے ایس اوکا اور جسٹس اجل موئیاکی بنچ نے اپنے فیصلے میں صاف کیا ہے کہ اگر منی لانڈرنگ معاملے میں ملزم کسی شخص کو ای ڈی نے جانچ کے دوران گرفتار نہیں کیا ہے اور پی ایم ایل کی اسپیشل عدالت چارج شیٹ پر نوٹس لے کر اسے سمن جاری کرتی ہے تو اسے عدالت میں پیش ہونے کے بعد ہی پی ایم ایل اے کے تحت ضمانتی دوری شرط کو پورا کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔بنچ نے کہا جب کوئی ملزم سمن کی تعمیل میں عدالت کے سامنے پیش ہوتا ہے تو ایجنسی اس کی حراست پانے کے لئے متعلقہ عدالت میں درخواست دینی ہوگی ۔اگر ملزم سمن (عدالت کے زیر جاری) کے ذریعے اسپیشل عدالت میں پیش ہوتا ہے تو یہ مانا جا سکتا ہے کہ وہ حراست میں ہے ۔ایسی صورت میں تو ایجنسی کو اس کی حراست پانے کے لئے سے متعلق عدالت میں درخواست دینی ہوگی ۔بنچ نے مزید اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزم سمن کے بعد عدالت میں پیش ہوئے اور انہیں ضمانت کے لئے درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہے اور اس طرح پی ایم ایل اے کی دفعہ 43- سے وابسطہ شرطیں لاگو نہیں ہوتی ہیں ۔منی لانڈرنگ قانون کی دفعہ 45- کے تحت اس قانون کے تحت سرکاری وکیل کو اختیار ہے کہ وہ ملزم کی ضمانت عرضی کی مخالفت کر سکے ۔ماناجاتا تھا کہ چناو¿ ضابطہ لاگو ہونے کے بعد اس طرح کے چھاپے اور گرفتاریوں پر روک لگے گی تاکہ سیاست داں چناو¿ میں برابر حق سے چناو¿ میںاتر سکیں ۔مگر اس دوران بھی نہ تو چھانپے رکے اور نہ ہی گرفتاریاں ۔ای ڈی کی اس سرگرمی کے خلاف اپوزیشن پارٹیوں نے اب کورٹ میں درخواست لگائی تھی ۔مگر منی لانڈرنگ معاملہ حساس ہونے کی وجہ سے عدالت نے کوئی حکم نہیں دیا ہے ۔مگر سپریم کورٹ اسے لیکر سنجیدہ اور سخت رخ اپنائے ہوئے ہے تو ای ڈی کو اپنے دائرے اختیار کا احساس ہو جانا چاہیے ۔منی لانڈرنگ معاملے میں سخت کاروائی سے ا نکار نہیں کیا جاسکتا ۔یہ دیش کی سیکورٹی سے وابسطہ ہے ۔اس نظریہ سے منی لانڈرنگ اژانہ قانون کو سخت بنایا گیا تھا ۔مگر اس قانون کو مگر ای ڈی سیاسی حریفوں کو سبق سکھانے اور چناو¿ سے دو ررکھنے کے لئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے تو اس قانون کا اثر مشتبہ ہو جاتا ہے ۔کئی معاملوں میں یہ فیصلہ تاریخی اور دور رش ماناجائے گا۔ (انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...