Translater
13 مارچ 2021
برطانوی پارلیمنٹ میں کسانوں کے اشو گونج!
لندن میں قائم انڈین ہائی کمیشن نے بھارت میں تین زرعی قوانین کے خلاف چل رہے کسانوں کے آندولن کے درمیان پر امن طریقے سے احتجاج کرنے کے حق اور پریس کی آزادی کے اشو کو لیکر برطانوی ممبران پارلیمنٹ کے درمیان مسئلہ اٹھانے کی مذمت کی ہے ہائی کمیشن نے پیر کو برطانیہ کی پارلیمنٹ میں کسانوں کے مسئلے پر ہوئی بحث پر ملامت کرتے ہوئے کہا کہ بحث میں جھوٹے دعوے اٹھائے گئے ہندوستان نے برطانوی میڈیا سمیت غیر ملکی میڈیا میں جاری کسان آندولن کا خو د گواہ بن کر خبریں دینے کا ذکر کیا گیا ہے اور کہا کہ بھارت میں پریس کی آزادی میں کبھی کوئی سوال نہیں اٹھا ہائی کمیشن جاری بیان میں کہا بے حد افسوس ہے کہ ایک متوازن بحث کے بجائے بنا ٹھوس ثبوت کے جھوٹے دعوے کئے گئے ہم دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں سے ایک ہیں اس کے اداروں پر سوال کھڑے کئے گئے ۔ یہ بھی بحث چھڑی ہے ایک لاکھ سے زیادہ سے لوگوں کی دستخط والی ای عرضی دائر کی گئی ہے ہندوستانی ہائی کمیشن نے اس پر اپنی ناراضگی ظاہرکی ہے اس کا کہنا ہے عام طور پر یہ بحث ایک چھوٹے سے گروپ کے درمیان ہوئی انہوںنے کہا لیکن جب بھارت پر کسی بھی طرح کے خدشات ظاہر کئے جاتے ہیں وہ دوستی اور بھارت کیلئے پیار یا گھریول سیاسی دباو¿ کے کسی بھی دعوے سے پرے اپنا رخ واضح کرنا ضروری ہوجاتا ہے کیونکہ مظاہرے کو لیکر غلط فہمیاں پیدا کی جاری ہیں جبکہ ہندوستانی ہائی کمیشن عرضی میں اٹھائے ہر مسئلے کو لیکر متعلقہ لوگوں کو جانکاری دیتا رہا ہے ۔
(انل نریندر)
سویڈن کی کمپنی نے بس سودے کیلئے دی تھی رشوت ؟
سویڈن کی مشہور کمپنی جو بس،ٹرک بناتی ہے اسکینا نے بھارت میں سات ریاستوں میں بسیں فروخت کرنے کیلئے 2013-2016کے درمیان افسروں کی موٹی رشوت دی تھی سویڈس نیوز چینل ایس وی ٹی سمیت تین میڈیا اداروں نے ایک خفیہ جانچ کے بعد یہ دعویٰ کیا ہے اسکینا نے 2007بھارت میں کام شروع کیا تھا اور 2011میں بس بنانے والی بس بنانے کی یونٹ کے کارخانہ قائم ہوا تھا وہیں کمپنی کے ترجمان نے بتایا 2017میں کمپنی کو ملازمین و سینئر مینجمنٹ کے کام کاج میں سنگین گڑبڑیاںدکھائیں دی اس کے چلتے جانچ کرانی پڑی تب جاکر پتہ چلا کہ یہ لوگ رشوت خور ی میں ملوث تھے اسے کچھ کاروباری ساجھیدار بھی شامل تھے اس کے بعد اسکیما نے ہندوستانی بازار میں بسوں کی فروخت پر روک لگا دی تھی کمپنی کے سی ای او ہنرکسن نے بتایا نقصان ضرور ہوا لیکن ہم نے اپنی بسیں بنانے والے کارخانے کو بند کر دیا اور جو لوگ بھار ت میں رشوت خوری میں ملوث تھے انہیں کمپنی نے نکال دیا گیا ہمارے بزنس پاٹنرس کے معاہدے بھی منسوخ کر دیئے گیئے غور طلب ہے کہ اس سے پہلے 1986میں بو فورس گھوٹالے میں شامل کمپنی بھی سویڈین کی تھی تب سویڈن پولس نے ہی بو فورس گھوٹالے کا پتہ لگایا تھا ایس وی ٹی چینل نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا بھارت سرکار کے ایک وزیر کو بھی رشوت دی گئی تھی اور یہ کمپنی ایک وزیر سے جڑی ہوئی تھی ایک کمپنی کو خاص لگزری بسیں دی تھی اس کا استعمال ان کی بیٹی کی شادی میں کیا گیا تھا بس کے پورے پیسے کمپنی کو نہیں ملے وہیں اسکینیا کمپنی کے ترجمان نے بتایا وزیر کو کوئی بس نہیں بیچے گئی تنازع کے بعد مرکزی وزیر شاہ راہ و ٹرانسپورٹ نتن گڈکری کی طرف سے بیان جاری کرتے ہوئے کہا گیا ایک میڈیا رپورٹ میں مرکزی وزیر کے بیٹے کے قریبی کی کمپنی کو نومبر 2016میں اسکینیا کی کمپنی کی طرف سے لگزری بس تحفے میں دینے کی بات بتائی گئی جو افسوس ناک ہے اور الزام بے بنیاد اور میڈیا کا تصور ہے ۔
(انل نریندر)
حملہ ہے یا نوٹنکی ؟
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اپنے اسمبلی حلقے نندی گرام میں جمعہ کے روز چوٹل ہوگئیں ۔ ان کا الزام ہے کہ بی جے پی نے ان کے خلاف سازش کی ہے وہیں بھاجپا کا کہنا ہے کہ ممتا جھوٹ بو ل رہی ہے بہر حال سچ اور جھوٹ پر دونوں پارٹیاں ایک بار پھر سے بھڑ گئیں ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے خلاف چناو¿ کمیشن نے شکایت درج کی ہے بھاجپا نیتا روپا گانگولی نے بتایا کہ ممتا بنرجی کو چوٹ لگی ہے ہمیں اس کیلئے دکھ ہے لیکن یہ ایک حادثہ ممکن ہے گاڑی کا بیلنس بگڑنے سے ان کو چوٹ لگی ہو اور ممتا کو سیاست نہیں کرنی چاہئے بی جے پی نیتاو¿ںکا ایک نمائندہ وفد ممتا کی شکایت کرنے چناو¿ کمیشنر سے ملا بی جے پی نے ممتا پر نندی گرام میں جھوٹی خبر پھیلانے کا الزام بھی لگایا دوسری طرف کانگریس کے لیڈروں کانمائندہ وفد چناو¿ کمیشن بھی جانے کی تیاری میں وہیں ٹی ایم سی کا الزام ہے کی ممتا پر جان بوجھ کر حملہ کرایا گیا ہے ٹی ایم سی ایم پی ڈیریک اوبرائن نے کہا اس گھناونے واقعے کیلئے ذمہ دار لوگوں کے خلاف کیس درج ہونا چاہئے اس واقعہ 30 منٹ کے اندر ہی لوگوں نے بے حد خراب بیان دیئے ہیں ہم ان کے بیانوں کی ملامت کرتے ہیں ڈاکٹروں سے بات کریں گے اور پوچھیں گے آخر ہوا کیا ہے ڈیریک کے بیان کے حوالے سے ایک ایجنسی نے لکھا ہے کہ 9مارچ کو الیکشن کمشنر اور ڈی جی پی بدلا 10مارچ کو ایک بی جے پی ایم پی نے شوشل میڈیا پر پوسٹ ڈال دیا ہے آپ سمجھ جائے گیں کہ شام پانچ بجے کے بعد کیا ہونے والا ہے کل 6بجے نندی گرام میں ممتا دیدی کے ساتھ یہ حادثہ ہوا ہم اس واقعے کی مذمت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کی سچائی سامنے آئے اور پارتھ چٹرجی نے کہا چناو¿ کمیشن کو ممتا بنرجی پر حملے کی ذمہ داری لینی پڑے گی جو بی جے پی کے حکم پر کام کر رہا ہے مغربی بنگال کے بھاجپا انچارج کیلاش وجے ورگیہ نے ممتا بنرجی پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے حادثہ اور نوٹنکی بتایا اور چناو¿ کمیشن کو امیدوار کے پیچھے چل رہے ویڈیو میں جو کچھ آیا ہے اسے سامنے لانا چاہئے تعجب کی بات ہے کی ممتا بنرجی کے ساتھ اتنی پولس چلتی ہے اسکے باوجود چارلوگ واردات کر کے بھاگ گئے یہ بہت تعجب اور دکھ کی بات ہے وہیں کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے ممتا حملے کا بہانا بنا کر چناو جیتنے کی کوشش کر رہی ہیں اگر یہ ساز ش ہے تو سی بی آئی ، سی آئی ڈی کو بلاو¿ صرف سازش کا بہانہ بنا کر لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچنا چاہتی ہے سی سی ٹی وی فوٹیج میں سارا سچ سامنے آئے گا ممتا بنرجی کا علاج کر رہے ڈاکٹروں کا کہنا ہے ان کے بائیں پیر اور ٹخنے کی ہڈی میں چوٹیں آئیں ہیں اور دائیں بازو اور کندھے میں بھی چوٹ لگی ہے کولکاتہ کے سرکار اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر ایم بندھو اپادھیا نے بیان جاری کرکے بتایا وزیر اعلیٰ کا علاج گہری نگرانی میں چل رہا ہے اور اس کی جانچ جاری ہے وہیں ریاستی حکومت نے ممتا کے علاج کیلئے کمیٹی بنائی گئی ہے اپوزیشن نے ممتا کی سازش کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے پوچھا ہے آخر جیڈ پلس سیکورٹی گھیرے میں کیسے باہری لوگ گھس گئے یہ نوٹنکی ہے اور بلکل صاف صاف ہے لوگوں کی ہمدردی لینے کیلئے ایک ڈراما ہے ادھر دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار لوگوں کو فوراً گرفتار کرنا چاہئے ۔
(انل نریندر)
12 مارچ 2021
کٹر نکسلی سے اب ساو ¿تھ پنتھی خیمہ !
کبھی ترنمول کانگریس سے ایم پی رہے فلم اداکار متھن چکرورتی نے کولکتہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کی چناوی ریلی میں بھاجپا کا دامن تھامنے کے بعد اپنے تنقیدی انداز میں اشارہ دے دیا کہ وہ بھاجپا کی طرف سے بنگال کے سیاسی میدان میں وہ اہم رول نبھانے کو تیار ہیں بنگلہ فلموں میں مہا گرو مانے جانے والے متھن چکرورتی کے ممبئی کے گھر پر آرایس ایس چیف موہن بھاگوت نے ان سے ملاقات کی تھی اس کے بعد ان کے بھاجپا میں شامل ہونے کی قیاش آرائیاں طول پکڑنی ہی تھیں ترنمول کانگریس سے راجیہ سبھا کے ممبر رہ چکے اداکار نے شاردہ پونجی گھوٹالے میں نام آنے کے بعد2016میں ایوان بالا کی ممبری چھوڑ دی تھی حالانکہ ا س کی لئے صحت ٹھیک نہ ہونے کا حوالہ دیا تھا انہوں نے میرے نال سین کی 1976میں آئی فلم مگما میں ایک قبائلی تیر انداز کا رول نبھایا تھا جس کے لئے انہیں بہترین اداکار قومی ایوارڈ ملا تھا وہ کولکتہ کے اسکارٹس چرچ کالج کے طالب علم رہے جہاں سے شبھاش چند بوس اور نیپا کے پہلے وزیر اعظم بی پی اورآسام کے پہلے وزیر اعلیٰ باردا لوئی نے تعلیم حاصل کی تھی متھن نے فلموںمیں ایک اچھے ڈانسر والے اداکار کو سیاسی طور ایک لیڈر بنا دیا اور وہ غیر ملکی فلم بازار میں مقبول شخصیت بن گئے وہ بنگالی فلم صنعت میں بھی اسٹار بنے اپنے لمبے فلم کیریئر میں راج نیتا کا رول درجنوں بار نبھایا مغربی بنگال میں لائٹ مورچہ کی سرکار کی دور میں متھن کی گنتی کمیونسٹ پارٹی اور خاص کر اس وقت کے وزیر اعلیٰ جوتی بشو اور اس وقت کے وزیر ٹرانسپورٹ رہے شبھاش چکروتی کی لوگوں میں گنتی رہتی تھی متھن کئی بار خو دکو لیفٹ نظریئے کا بتاتے رہے ہیں 2011میں کمیونسٹ حکومت ختم ہونے کے بعد وہ آہستہ آہستہ ترنمول کانگریس کے پاس آئے اور رشتے مضبوط ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ان کو راجیہ سبھا بھیج دیا حالانکہ کچھ وقت بعد ہی شاردہ چٹ فنڈ گھوٹالے میں نام آیا قریب تین سال تک راجیہ سبھا ممبر رہنے کے دوران وہ محض تین بار پارلیمنٹ میں گئے وہ کٹر نکسلی رہے متھن چکرورتی کو اب راس آرہا ہے کہ ساو¿تھ پنتھی خیمہ اتوار کو کولکتہ میں برگریڈ پریڈ میدان میں وزیر اعظم نریندر مودی کی چناو¿ی ریلی سے پہلے متھن چکرورتی باقاعدہ بھاجپا میں شامل ہوگئے ۔
(انل نریندر)
20سال میں بدلنے پڑے10 وزیر اعلیٰ!
پہاڑی ریاست اتراکھنڈ کے وجودمیں آنے کے 20سال پورے ہوچکے ہیں لیکن یہ سوال بنا ہوا ہے کہ ریاست کو مضبوط لیڈر شپ کیوں نہیں ملتی؟ منگل کو وزیرا علیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے والے 10ویں وزیر اعلیٰ شمار ہوگئے ہیں ان کے استعفیٰ کے بعد خود انہوں نے میڈیا سے کہا مرکزی لیڈر شپ کی منشا ے مطابق عہدہ چھوڑ اہے پارٹی کے ممبران اسمبلی نے نئے وزیر اعلیٰ کی شکل میں تیرتھ سنگھ راوت کو نئے وزیر اعلیٰ چنا ہے ریاست میں چار دنوں کی اتھل پتھل کے بعد تیرتھ سنگھ راوت نے ایک سادا تقریب میں وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا اتراکھنڈ کی 70سیٹوں پر مبنی اسمبلی میں 57ممبران اسمبلی بھیج کر زبردست اکثریت کے باوجود تروندر سنگھ راوت کو کرسی چھوڑنی پڑی اور وہ اپنی کرسی نہیں بچا پائے اور وہ پارٹی کے ممبران اسمبلی کی ناراضگی کو بھانپنے میں ناکام رہے نتیجتا! انہیں کرسی گنوانی پڑی پارٹی کے اندر اور باہر خبریں گاہے بگاہے سننے کو ملتی رہیں لیکن وزیر اعلیٰ خیمہ ناراض ممبران کو نہیں منا پایا ممبران کی ناراضگی کبھی افسروں پر کبھی من مانی کے خلاف احتجاج میں تو کبھی اسمبلی حلقوں ترقیاتی اسکیموں پرعمل نہ ہونے کی وجہ سے نظر آئی ان کی یہ ناراضگی کئی مرتبہ اسمبلی میں بھی اپنے سرکار کے خلاف تلخ سوالوں کی شکل میں دیکھنے کو ملی لوہا گھاٹ کے ممبرا سمبلی پورن سنگھ کی سب سے بڑی مثال ہے انہوں نے اپنی سرکار کے کرپشن پر عدم برداشت کی پالیسی پر سوال کھڑے کردیئے ایوان میں تحریک التوا کے ذریعے اس مسئلے کو اٹھانے کی کوشش پر سرکار کی خوب کرکری ہوئی اسے وزیر اعلیٰ کے سیدھے مورچے کھولنے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیارائے پور کے ممبر اسمبلی امیش شرما تاو¿کی ناراضگی کو کئی بار سامنے آئی انہوں نے اپنے حلقے میں ترقیاتی کاموں کو لیکر بھاجپا کے قومی صدر جے پی نڈا تک سے شکایت کی ڈی ڈی ہات کے ممبر اسمبلی کشن سنگھ نے مجہال لوہا گھاٹ کے ممبر اسمبلی پورن سنگھ چھتر مال کی ناراضگی بھی کئی موقعوں پر دکھائی دی لیکن وزیر اعلیٰ نے ممبران کے اس ناراضگی کو ہلکے سے لیا جو اس بار ان کی کرسی پر بھاری پڑا وزیر اعلیٰ کے طریقے کار سے صرف ممبر اسمبلی ہی پریشان نہیں تھے بلکہ وزراءکے ناراضگی کھل کر سامنے آتی رہی اپنے وزارتوں میں کیبنٹ وزیر ستپال مہاراج افسر کی من مانی سے اس قدر خفا تھے کہ ان کی یہ ناراضگی بھاجپا تنظیم سے لیکر آر ایس ایس کے ہیڈ کوارٹر ناک پور تک پہونچ گئی کابینہ وزیر ڈاکٹر ہرک سنگھ راوت کئی بار گھوٹالوں کی جانچ کو لیکر خاصے ناراض تھے ایک نے جے پی نڈا سے شکایت کی تھی وہیں خاتون و اطفال ترقی وزیر ریکھا شرما آئی ایس افسر ڈاکٹر بن مگم سے ٹکراو¿ میں سرکار کے رول سے ناراض تھیں وزیر تعلیم اروند پانڈے بھی افسر شاہی کی من مانی سے بہت ناراض تھے راوت نے کیبنٹ میں دو خالی جگہوں کو بھی نہیں بھرا جس سے ممبران اسمبلی میں ناراضگی بڑھ رہی تھی بہر حال بھاجپا کے اعلیٰ کمان نے پارٹی کے اند ر پنپ رہی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے تروندر راوت کو باہر کا رواستہ دکھا دیا لیکن ان کی جگہ کمان سنبھالنے والے نیتا کے سامنے بھی چنوتی ہوگی وہ کماون اگروال علاقے توازن کے ساتھ ہی ذات پات کے تجززیوں کو کیسے سمجھتے ہیں ممبران اسمبلی میں بڑھتی ناراضگی کو کیسے قابو پاتے ہیں بے لگا م افسروں کو کیسے لائن پر لاتے ہیں یہ وقت ہی بتائے گا۔
(انل نریندر)
11 مارچ 2021
سرکار خون مانگتی ہے میںشہادت دے رہا ہوں!
تین زرعی قوانین کے خلاف احتجاج میں مسلسل سو دن سے زیادہ جاری کسان آندولن میں ٹکری بارڈر دھرنے میں شامل رہے حصار کے ایک کسان نے بائی پاس کے پاس کھیت میں پیڑ سے رسی کے سہارے پھندا لگا کر اپنی جان دے دی ہے متوفی کسان کے پاس ایک دوصفحوں کا سوسائیڈ نوٹ ملا ہے اس میں اپنی موت کا ذمہ دار سرکار کو ٹھہرایا ہے اس نے لکھا ہے کہ سرکار مرنے والے کی آخری خواہش پوچھتی ہے اور پوراکرتی ہے اور میری خواہش یہ ہے کہ تینوں زرعی قانون کو منسوخ کردیا جائے مرنے والا راجبیر کسان آندولن سے شروع سے ہی جڑا ہوا تھا پچھلے دس دنوں سے یہ ٹکری بارڈر پر ہی تھا سنیچر کے رات وہ گاو¿ں کے جتھے سے الگ ہوگیا اور کھیتوں میں جاکر پھانسی لگا لگی اور اس کے دو بچے ہیں ۔ اس کے پاس سے ملے سوسائیڈ نوٹ میں اپنا غصہ ظاہر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ سرکا رخون مانگتی ہے اور میں اپنی شہادت دے رہا ہوں اور میری شہادت ضائع نہیں ہونی چاہئے چاہے میری لاش کو سڑک پر ہی رکھنا پڑے اس میں لکھا ہوا ہے کہ بھگت سنگھ نے دیش کے کیلئے جان دی تھی اورمیں کسانوں کےلئے جان دے رہا ہوں انہوں نے اپنے گاو¿ں کے کسانوں سے اپیل کی ہے کہ اپنا حق گھر واپس لیکر ہی جائیں سوسائیڈ نوٹ میں ایم پی دپیندر سنگھ ہڈا ور ممبر اسمبلی بلراج کا بھی ذکر کیا ہے اور کہا کہ بھائی دپیندر ہوڈا اور بھائی بلراج کنڈو کسانوں کی حق کیلئے لڑائی لڑ رہے ہیں ۔
(انل نریندر)
ریاست میں سی بی آئی کو اختیار ہے یا نہیں ؟
ریاست میں اسمبلی انتخابات کو لیکر مغربی بنگال اور مرکزی سرکار کے درمیان لڑائی صرف چناوی اکھاڑے تک محدود نہیں ہے سپریم کورٹ میں سی بی آئی اورمغربی بنگال سرکار کے درمیان قانونی جنگ کی بسات بچھ گئی ہے معاملہ یہاں پھنسا ہے کہ ریاست میں جانچ کیلئے سی بی آئی کو اختیار ہے یا نہیں سپریم کورٹ نے داخل ایک عرضی مغربی بنگال سرکار نے کوئلہ اسملنگ معاملہ درج کرنے کیلے سی بی آئی کے اختیار کو درج کیا ہے یہ وہی معاملہ جس میں سی بی آئی کے ذریعے ٹی ایم سی ایم پی ابھیشیک بنرجی کی بیوی سے پوچھ تاچھ کی گئی ہے وہ وزیر اعلییٰ ممتا بنرجی کے بھتیجے ہیں بنگا ل حکومت نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے جب تک سی بی آئی کی ایف آئی آر کے جواز کا فیصلہ نہیں آجاتا تب تک ان معاملوں کی جانچ پر روک لگائی جائے سرکار نے کہا سی بی آئی ، ریاستی پولس کے ذریعے ان الزامات کی جانچ کو باہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ سال 2018میں ریاستی حکومت نے مرکزی جانچ ایجنسی کو جانچ کیلئے کہ عام رضا مندی کو منسوخ کردیا تھا اور کہاگیا تھا کہ سی بی آئی یہ مان کر نہیں چل سکتی ہے کہ معاملہ مشرقی کوئلہ سیکٹر لمیٹڈ کے لیج ہولڈ زون اور کچھ ریلوے زونوں میںکوئلے کی ناجائز کھدائی کی ہے اس لئے جانچ اس کے دائرے اختیار میں ہے جبکہ ریلوے پولس کے ذریعے ریاستی سرکار کی عام پولسنگ کا اختیا رہے 12فروری کو کوکلکتہ ہائی کورٹ نے سی بی آئی کو جانچ جاری رکھنے کی ہدایت دی تھی اس پر ریاستی حکومت نے عدالت کے فیصلے کو غلط بتاتے ہوئے اسے صحیح کرنے کو کہا پیر کو جسٹس وائی چندر چور اور جسٹس ایم آر شاہ کی بنچ کے سامنے معاملے کو بند کیا گیا تھا لیکن اب معاملہ ریاست میں سی بی آئی کو جانچ کا اختیار ہے یا نہیں ۔ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے۔
(انل نریندر)
13سال بعد جاں باز انسپیکٹر موہن چند شرما کو انصاف ملا!
دہلی کے ساتھ پورے دیش کو ہلا دینے والے بٹلہ ہاو¿س منڈ بھیڑ کے دوران دہلی پولس کے جاںباز انسپیکٹر کے کی شہادت کا سبب بنے عاریض خان کو قصور وار قرار کئے جانے کے محض کئی خطرناک دہشت گر د کو ہی اس کئے کی سزا ملنا یقینی نہیں ہوا بلکہ ہندوستانی سیاست کا گھناونا چہرہ بھی نئے سرے سے سامنے آگیا بٹلہ ہاو¿س انکاو¿نٹر میں پولس نے جن دہشت گردوں کو مار گرایا تھا اس کو لیکر دیش میں سیاست زوروںپر رہی یہ مونڈ بھیڑ 2009کے لوک سبھا چناو¿ اور اسی کے بعد ااسمبلی انتخابات کا اشو بنا تھا 13دسمبر2008کے سلسلے وار دھماکے سے جڑے دہشت گردوں کے بٹلہ ہاو¿س میں چھپے ہونے کی خفیہ جانکاری ملی تھی 19ستمبر 2008کو انکاو¿نٹر میں دو دہشت گرد تو مارے گئے لیکن تین فرار ہوگئے اسی مونڈ بھیڑ میں دہلی پولس کے اسپیشل سیل کے انسپکٹر موہن چند شرما شہید ہوگئے دہلی میں ہوئے بم دھماکوں میں شامل عاریض خان کو قصور وار قرار دیئے جانے کے ساتھ یہ صاف ہوگیا کہ دہلی پولس کی جانچ اور کاروائی صحیح تھی۔ اڈیشنل شیشن جج سندیپ یادو نے عاریض خان کو آئی پی سی کی دفعہ 186اور 133اور 353,302,307وغیرہ دفعات کا قصور وار پایا عدالت نے صاف کہا یہ ثابت ہوگیاہے کہ قصور وار عاریض خان نے اپنے ساتھی کے ساتھ ملکر پولس کو چونٹ پہونچائی ملزم نے جان بوجھ کر اور اپنی مرضی سے بندوق کی گولی سے انسپیکٹر کومار ڈالا عاریض بگھوڑا قرار دیئے جانے کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوا مارے گئے دہشت گرد انڈین مجاہدین کے گرگے تھے اور وہ دیش کے مختلف حصوں میں دھماکے کرنے کیلئے ذمہ دار لیکن انہیں ٹھکانے لگائے جانے پر اور پولس انسپیکٹر کو سپریم قربانی ایوارڈ دیئے جانے کے بجائے رونا دھون شروع کر دیا آتنکیون کیلئے آنسو بہانے میں آگے آگے کانگریس اور اس کے ساتھ دیگر سیاسی پارٹی بھیاں اس مونڈ بھیڑ کو فرضی قرار دے رہیں تھی دکھ کی بات تو یہ کہ کچھ لوگ یہاں تک الزام لگانے لگے انسپیکٹر شرما انہیں کی ملنے والوں نے مارا ہے حالانکہ اس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ ان مونڈ بھیڑ کو صحیح بتا رہے تھے لیکن کانگریس کے کئی لیڈر ان کی سننے کو تیار نہیں تھے عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ثبوتوںمیں کوئی شبہہ نہیں ہے اور سرکاری فریق نے سبھی مناسب شبہے سے پرے سازسوں کو ثابت کر دیا اور ملزم کو قصور پایا جاتا ہے ۔ یہ بھی ثابت ہوگیا ہے کہ ملزم عاریض فائرنگ کے دوران بھاگنے میں کامیاب رہا اور بھگوڑا ہونے کے باوجود کے عدالت میں پیش نہیں ہوا آخر کار انسپیکٹر من موہن چند شرما کی آتمہ کو شانتی ضرور ملی ہوگی اور ان کے ساتھ جو کچھ ہوا اور سارے بے فضول الزام غلط ثابت ہوئے ۔
(انل نریندر)
10 مارچ 2021
گوپال گنج شراب کانڈ میں 9افراد کو پھانسی کی سزا!
بہار کے گوپال گنج ضلع کے سنسنی خیز زہریلی شراب کانڈ میں ایڈیشنل شیشن جج ایکسائز لوکش کمار کی عدالت نے جمع کو 13میں سے 9قصورواروں کو اور چار عورتوں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے ۔کورٹ کے فیصلے کے بعد سبھی قصورواروں کو جیل بھیج دیا گیا ۔قریب ساڑے چار سال تک چلے مقدمہ میں بچاو¿ اور مخالف فریق کی طرف سے ایک اغوائی ہوئی ۔26فروری کو 14میں سے 13کو قصوروار پایا گیا تھا ۔ایک ملزم کی موت پہلے ہی ہو چکی ہے ۔چاروں عورتوں کو عمر قید کے ساتھ ساتھ 10لاکھ روپے کا جرمانہ بھی کیاگیا تھا ۔ان دونوں نے کورٹ میں سرنڈر کر دیا ۔واضح ہو کہ 15/16اگست 2016کو گوپال گنج کے نگر تھانہ کی گاو¿ں میں زہریلی شراب پینے سے نو لوگوں کی موت ہو گئی اور 12کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی تھی ۔اور کھجور سنی کانڈ کے بعد تھانہ کے سبھی پولیس والوں کو معطل کر دیا گیا تھا بعد میں ریاستی حکومت نے انہیں سروس سے برخواست کر دیا حالانکہ پولیس کی برخواستگی کے ان کو 4فروری 2021میں منسوخ کر دیا تھا ۔
(انل نریندر)
نوجوانوں ،اقلیتوں اور خواتین پر ممتا نے لگایا داو ¿!
مغربی بنگال اسمبلی چناو¿ کیلئے ترنمول کانگریس نے 291شیٹوں کے لئے اپنے امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے ترنمول کانگریس نے نوجوانوں اقلیتوں عورتوں اور پسماندہ طبقات کو ٹکٹ الارٹ مینٹ میں ترجیح دی ہے ۔وہیں بزرگ لیڈروں کو ودھان کونسل میں ایڈجسٹ کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے ۔شیٹوں کے اعلان کے بعد ممتا نے کہا میں اپنے وعدوں سے پیچھے نہیں ہٹتی میں نے کولکاتہ کی بھوانی پور شیٹ چھوڑ دی ہے ۔اور میں مشرقی مدنا پور کی رندیگرام حلقہ سے چناو¿ لڑوں گی وزیر بجلی شومنت دیو بھوانی پور سے پارٹی کے امیدوار ہوں گے وہ یہیں کے باشندے ہیں ممتا نے دسمبر 2020میں ترنمول لیڈر شوبھیندر ادھیکاری کے بھاجپا میں شامل ہونے کے بعد انہیں نندی گرام میں چنوتی دینے کا اعلان کیا تھا ۔2011اور 2016 میں بھوانی پور چناو¿ جیت کر اسمبلی پہونچی تھی ۔نندی گرام ترنمول کانگریس کے لئے مضبوط شیٹ مانی جاتی ہے ۔2016میں پارٹی کے سابق لیڈر شوبھیندر ادھیکاری یہاں سے ممبر اسمبلی چنے گئے تھے اوروہیں 2011میں فروزا بیوی نے ترنمول کو نندی گرام سے جیت دلائی تھی ۔ترنمول کانگریس نے بنگال کی 294شیٹوں پر آٹھ مرحلوں میں ہونے والے چناو¿ کیلئے 291امیدواروں کی فہرست جاری کر دی ہے ممتا نے کہا کہ میں ماں ، ماٹی ، مانوش سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ مجھ پر بھروسہ جتائیں میں بنگال کی حفاظت کرتے ہوئے راجیہ کو نئی اونچائیوں پر لے جاو¿ں گی ۔دراصل ممتا بینرجی کے سیاسی جد و جہد نے ان کا قد بڑھایا ہے ۔وزیراعلیٰ ہوتے ہوئے بھی ریاست میں ایک بڑی لیڈر کی شکل میں دیکھا جا رہا ہے ۔پارلیمنٹ میں بھی ان کی پارٹی حکمراں فریق سے لڑتی نظر آئی ہے ۔مغربی بنگال چناو¿ میں ہندو مسلم سیاست کا کتنا اثر ہوگا یہ ابھی کہنا مشکل ہے لیکن غیر سیاسی واقف کاروں کا خیال ہے کہ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی شخصی شاخ اور ان کے سیاسی سنگھرش کا اثر ابھی ختم نہیں ہوا ہے ۔پچھلے دو چناو¿ طرح اس میں بھی اثر ضرور دکھائی دے گا ۔بھاجپا کے ہونے والے وزیراعلیٰ کے لئے کوئی ایسا چہرہ پیش نہیں کر پائی ہے جو ممتا کی برابری کرتا ہواتنا ہی نہیں ریاست میں جتنے بھی بڑے بھاجپا نیتا ہیں کوئی بھی ایسا چہرہ نہیں جس مین ترنمول چیف جیسا کرشما ہو ممتا کا دس سالہ عہد اور ان کی اچھائیاں و خامیاں ایک طرف اور وزیراعلیٰ کی ایمانداری اور جد جہد سیاسی زندگی دوسری طرف ہے یہ دونوں الگ الگ ہیں اس لئے لمبی سیاسی جد جہد کے بعد ان کی جو شاخ بنی اور دس سال کے بعد بھی ان پر کوئی داغ نہیں ہے اس کا اثر یقینی طور سے اس پر پڑے گا ۔پھر وزیر اعظم نریندر مودی سے ٹکر لینے کی ہمت ممتا نے خود دکھائی ہے بھاجپا نے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے ۔وزیر اعظم سے لیکر وزیر داخلہ بھاجپا صدر ایم پی ترنمول میں توڑ پھوڑ کر سبھی ہتھکنڈے اپنائے ہیں دیکھیں کو جیتتا ہے ؟
(انل نریندر)
سوپنا کے سنسنی بیان سے پی ویجین مشکل میں !
سونا اسمگلنگ معاملے کی اہم ملزم سوپنا شریش کے انکشاف سے چناوی ریاست کیرل میں سیاسی طوفان آگیا ہے ۔سوپنا سریش نے وزیراعلیٰ پن رائی وجین اسمبلی اسپیکر وی شری رام کرشن اور کچھ وزراءکے خلاف ڈالر اسمگلنگ معاملے میں سنسنی انکشافات کئے ہیں یہ دعویٰ جمع کو کیرل ہائی کورٹ میں معاملے کی جانچ کررہے ایکسائز محکمہ نے کیا ہے ۔ریاست میں اسمبلی انتخابات سے کچھ ہفتہ پہلے عدالت میں حلف نامہ دائر کر محکمہ ایکسائز نے کہا سریش نے ایجنسی کو سی آر پی سی کی دفع 108 اور 164 کے تحت دئیے گئے بیان میں انکشاف کئے ہیں ۔ایکسائز کمشنر سمت کمار کی طرف سے دائر حلف نامہ میں دعویٰ کیا گیا ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ دفع 108اور دفع 164 کے تحت دئیے گئے بیان میں سوپنا سریش نے وزیراعلیٰ کیرل اسمبلی کے اسپیکر اور ریاست کے کابینہ وزیر کے خلاف حیرت انگیز انکشاف کئے ہیں ۔جن میں بتایا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے جوائنٹ سکریٹر ی کے کمرشل نمائندے کے ساتھ مل کر کے ساتھ قریبی تعلقات تھے اور بیان دیا ہے کہ ناجائز طور سے پیسہ کا لین دین ہوا حلف نامہ میں دعویٰ کیا گیا ہے ۔کہ اس نے صاف طور سے کہا ہے کہ کونسل کھانہ کی مدد سے وزیراعلیٰ اور اسمبلی اسپیکر کے اشارہ پر غیر ملکی کرنسی کی اسمگلنگ ہوئی ڈالر معاملہ ترو اننت پور م میں یو اے ای تجارتی کونسل خانہ کے سابق چیف کے ذریعے امان کے مسکت میں 1.90.000 ڈالر (قریب 1.30کروڑ روپے کی مبینہ اسمگلنگ سے جڑا ہوا ہے ۔سونا اسمگلنگ معاملے میں ملزم سریش اور معاون ملزم ایرت پی ایس ،ڈالر معاملے میں بھی مبینہ طور پر ملوث ہے ۔محکمہ ایکسائز نے انہیں گرفتار کر لیا ہے کانگریس نے کیرل کے وزیراعلیٰ پن رائی وجین اور اسمبلی اسپیکر پی شری رام کرشن کے اسمگلنگ معاملے میں ملزمہ سوپنا سریش کے حیران کر دینے والے خلاصہ مین بتایا حکمراں بھارتی کمیونشٹ پارٹی نے این ڈی اے سرکار پر حملہ کرتے ہوئے اسمبلی چناو¿ کے پیش نظر مرکز کی منشا پر سوال اٹھائے ۔پارٹی کی طرف سے کہاگیا ہے کہ ہم پھر اقتدار میں لوٹ رہے ہیں ۔کانگریس لیڈر رمیشن چنی تھلا نے کہا کہ اس انکشاف کے بعد وجین نے وزیراعلیٰ کی کرسی پر رہنے کا حق کھو دیا ہے ۔پردیش بھاجپا صدر کے سرندر نے کہا کہ وجین کا جیل جانا طے ہے ۔معلوم تھا کہ جانچ کی آنچ وزیراعلیٰ تک پہونچے گی اسی لئے معاملے کو ٹھنڈے بستہ میں ڈال دیاگیا ہے ۔
(انل نریندر)
09 مارچ 2021
اتراکھنڈ میں سیاسی اتھل پتھل !
بھاجپ کور گروپ کی اچانک بلائی گئی میٹنگ سے دہرا دون سے لیکر موسم سرما کی راجدھانی میں سیاسی پارہ چڑھ گیا ہے ۔گورسینگ اسمبلی شیشن می آنا فانا میں مالی بل پاس کر ایوان کو بے میعاد ملتوی کر دیا گیا ہے اس پورے واقعہ سے لیڈر شپ تبدیلی کی قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں حالانکہ سرکار اور تنظیم نے اس سے انکار کیا ہے ۔کور کمیٹی کے ممبروں و آر ایس ایس کے بڑے نیتاو¿ں سے اجازت لینے کے بعد مرکزی وزیرماحولیات رمن سنگھ دہلی چلے گئے ۔مانا جا رہا ہے گورسینگ کمشنری میں الموڑا ضلع شامل کرنے اور عہدیداران کی تازہ تقرری کے بعد بھاجپا نیتاو¿ں کا گروپ گھٹنے کے خطرے کے امکان کو بھانپتے ہوئے ہائی الرٹ ہو گیا ہے اور انہوں نے وزیر اعلیٰ راوت اور آر ایس ایس کے لیڈروں سے بات کر مورچہ سنبھال لیا ہے ۔گورسنن کمشنری میں شامل کرنے سے بھاجپا کے کچھ نیتا پریشان ہو گئے ذرائع نے بتایا میٹنگ میں رمن سنگھ نے کورکمیٹی کے ممبروں سے الگ الگ بات کی اور میٹنگ کے ختم ہونے کے بعد وزیراعلیٰ رمن سنگھ کی رہائش گاہ میں وزیراعلیٰ تریوندر سے ملنے پہونچے اس کے بعد آر ایس ایس کے ہیڈ کوارٹر میں نیتاو¿ں سے بات چیت اور اس کے بعد دہلی آگئے ۔بتایا جاتا ہے رپورٹ سونپنے کے بعد بھی ہائی کمان خود فیصلہ کرے گا وزیر اعلیٰ ترویندر سنگھ جب میٹنگ سے نکلے تو میڈیا والوں نے ان سے بات کرنے کی کوشش کی ۔اور لیکن کوئی کمنٹس کئے بغیر چلے گئے یہ میٹنگ 34منٹ تک چلی ۔
(انل نریندر)
منسکھ موت :سچائی کا خلاصہ ضروری ہے !
ریلائنس گروپ کے مالک مکیش امبانی کے گھر انٹالیا کے باہر دھماکوں چیزوں سے بھری کار کے مالک کی لاش اتوار کو مشتبہ حالت میں ایک سمندری بیچ پر پائی گئی اس کے بعد سے اس معاملے کا معمہ اور سنگین ہوگیا ۔اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈردیوندر فڑنویس نے معاملے کی جانچ این آئی اے کو سونپنے کی مانگ کی ہے ۔ریاست کے وزیر داخلہ نے یہ جانچ مہاراشٹر اے ٹی ایس کو سونپنے کا اعلان کیا ہے ۔یہ کار 25فروری کو گھر سے 62سو کلو میٹر دور کھڑی ملی تھی اور بدھوار کو اس گاڑی کے مالک منسکھ ہیرن نے بھی ٹی وی چینلوں پر کہا تھا کہ اسکارپیو سے تھانہ سے ممبئی کی طرف جارہے تھے ۔لیکن اسکارپیو لاک ہو جانے کے سبب وہ گاڑی کو ایرولا برج کے پاس چھوڑ کر چلے گئے تھے ۔وہاں سے گاڑی چوری ہو گئی تھی ۔اسکارپیو میں دھماکوں چیزوں کی برآمدگی کی بات چل رہی تھی اسی دوران جمع کو قریب 10:30بجے مندرا کی سمندری بیچ میں منسک ہیران کی لاش پائی گئی ان کے منھ میں پانچ رومال ٹھونسے ہوئے تھے یہ مقام ان کے ناو¿ پاڑا میں گرھ سے قریب 7کلو میٹر دور ہے وہ اپنے گھر سے ساڑے آٹھ بجے آتو سے نکلے تھے اور دوپہر تک نا لوٹنے پر ان کے گھر والوں نے گمشدگی کی رپورٹ لکھوا دی کافی جانچ پڑتال کے بعد ان کی لاش سمندری کھائی میں پڑی ملی ان کی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل پایا ۔فی الحال یہ صاف نہیں ہو پایا کہ منسکھ کی موت کس وجہ سے ہوئی تھی ابتدائی جانچ میں پولیس کو لگ رہا ہے منسکھ نے خودکشی کرلی ہے ۔مہاراشٹر کے وزیر داخلہ انل دیشمکھ کا اسمبلی میں دیا گیا بیان بھی اسی کی طرف اشارہ کررہا ہے جس حالت میں لاش برآمد ہوئی وہ تو کہانی اور ہی کچھ بیان کررہی ہے خودکشی کرنے والے کے منھ میں پانچ رومال کیسے ٹھونسے جا سکتے ہیں ۔ان کے پڑوسیوں کا بھی کہنا ہے کہ اگر کوئی خودکشی کرے گا تو وہ چہرے پر پانچ رومال کیوں باندھے گا ۔شیو سینا نیتا سنجے راوت نے کے مہارشٹر سرکار کے ساتھ اور وقار کے لئے ضروری ہے کہ منسکھ کی پور اثرار موت سے پردہ اٹھے اور ان کی موت مایوس کن اور افسوسناک ہے ۔ان کی اسکارپیو گاڑی کا استعمال امبانی کے گھر کے بارہ دھماکو سامان رکھنے میں کیا گیا تھا ان کی موت کو سیاسی رنگ دینا اور سرکار کو غلط ہے ۔منسکھ کی موت خودکشی یا قتل سے ہوئی معاملے کے وہ گواہ اہم تھے یہ مہاوکاس ادھاڑی سرکار کی ساک اور ایمیج کے لئے اہم ہے کہ پورے معاملے سے پردہ اٹھے ادھر تھانہ پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ ہیرن کے چیزوں کو ممبئی کی ایک لیبورٹری میں بھیجا گیا ہے ۔وہاں سے ملی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہرین کے جسم پر چوٹ کے نشان نہیں ہیں ۔دیکھیں اس کیس میں پوری سچائی سامنے آپائے گی ؟ منسکھ کیس کو ختم کرنے کیلئے کہانی کی پوری سچائی سامنے آپائے گی ؟
(انل نریندر)
ڈرگس سنڈیکیٹ کی ممبر تھی ریا چکرورتی!
بالی ووڈ میں ڈرگس معاملے کی جانچ کررہی نارکوٹک کنٹرول بیورو (این سی بی )نے جمع کو ریا چکرورتی ، اس کے بھائی شووک سمیت 35ملزمان کے خلاف 52ہزار صفحات کی چارشیٹ کورٹ میں داخل کی اس میں چالیس ہزار پیج ڈیجیٹل فارمیٹ میں کورٹ کو دئیے گئے ہیں جبکہ 11ہزار 700صفحات ہارڈ کاپی کی شکل میں عدالت کو سونپے گئے ہیں چارشیٹ کی ایک ایک کاپی ملزمان کو بھی سونپی گئی ہے ۔قریب دو سو لوگوں کو گواہ بنایا گیا ہے ۔ریا شووک سمیت 25ملزمان کو ضمانت مل چکی ہے جبکہ ابھی بھی 8جیل میں بند ہیں ۔اگر این سی بی 80دن میں چارشیٹ داخل نہیں کرتی تو ان آٹھ ملزمان کو بھی ضمانت مل جاتی ریا چکرورتی کے علاوہ سیمول مرنڈا دیپیش ساوتن ،انوج کیسوانی ،باست پریہر وغیرہ کے نام بھی بطور ملزم چارشیٹ میں شامل کئے گئے ہیں ۔این سی بی جانچ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے ۔ایجنسی کے زونل ڈائرکٹر ثمیر وانکھیڑے نے بتایا کہ اس کیس میں ضمنی چارشیٹ بھی بعد میں دائر کی جائے گی ۔این سی بی نے ریا چکرورتی کے پاس سے کوئی ڈرگس ثبوت نا ملنے پر اسے ڈرگس سنڈیکیٹ کا حصہ بتایا تھا این سی بی کا کہنا تھا کہ ریا چکرورتی سوشانت سنگھ راجپوت کا کک دیپیش ساونت اور مینیجر سیموئل مرنڈا شوشانت کے کہنے پر ڈرگس منگواتے تھے لیکن ممبئی ہائی کورٹ نے این سی بی کی ریا کے ڈرگس سنڈیکیٹ کہانی کو قبول نہیں کیا تھا راجپوت کی موت سے وابسطہ ڈرگس معاملے میں این سی بی نے نو مہینے بعد چارشیٹ داخل کی اس کے مطابق این سی بی نے اس معاملے میں دوسو سے زیادہ لوگوں کے بیان درج کئے ہیں ۔چارشیٹ کے مطابق ریا نے اپنے بیان میں ڈرگس سنڈیکیٹ کا سرگرم ممبر ہونے کی بات قبولی ہے ۔این سی بی کے ذرائع کے مطابق ریا کو اپنے شووک کی مدد سے ڈرگس سپلائی چینل چلانے کا ملزم بتایا گیا ہے ۔ریا نے شوشانت کو اپنے گھر پر ڈرگس لینے کی اجازت دی تھی اور اسے ڈرگس خریدنے کے لئے پیسہ بھی دئیے تھے ۔ساتھ ہی اس نے گانجا اور مالی جوانا بڑ کی خرید کرنے اپنے پاس رکھنے اور بیچنے اور دوسری ریاستوں میں ٹرانسپورٹ کرنے کی بات تسلیم کی ہے ملزمان میں سے 8ابھی تک جوڈیشیل حراست میں ہیں جبکہ ریا سووک سمیت دیگر کو ضمانت مل چکی ہے ۔چارشیٹ میں ڈرگس خریدی اور پیسہ کے لین دین میں ریا چکرورتی نے اہم کرداربتایا تھا اداکارہ دیپیکا پاڈوکون اور سارہ علی اور شردھا کپورکے بیانات بھی شامل ہیں ۔اور چارشیٹ میں پچاس ہزار صفحات کو ڈیجیٹل ثبوت بھی پیش کئے گئے ہیں ان میں ملزمان کے درمیان واٹس ایپ چیٹ فون کال اور ڈیٹا ریکارڈ دستاوزی سمیت دیگر ثبوت شامل ہیں ۔عدالت میں اب معاملہ ہے این سی بی نے چارشیٹ میں جو سنگین الزام لگائے ہیں اب انہیں عدالت میں ثابت بھی کرنا ہوگا دیکھیں کیس کیسے آگے بڑھتا ہے ؟
(انل نریندر)
07 مارچ 2021
رام مندر کمپلیکس اب 107ایکڑ زمین کا ہوگا !
رام مندر کمپلیکش 70ایکڑ سے بڑھا کر 107 ایکڑ میں کرنے کے منصوبہ کے تحت رام جنم بھومی کمپلیکس کے پاس 7.205مربع گز زمین خریدی گئی ہے ۔ٹرسٹ کے دوسرے افسر نے بتایا کہ یہ زمین 1373روپے فی مربع فٹ کی شرح سے ایک کروڑ روپے میں خریدی گئی ہے ۔نیاسی انل مشرا نے بتایا کہ فیض آباد کے نائب رجسٹرار ایس وی سنگھ کے دفتر میں یہ رجسٹری کرائی گئی ہے ۔ذرائع نے بتایا توسیع شدہ عظیم الشان مندر کمپلیکش کی تعمیر 107ایکڑ میں کرنا چاہتا ہے ۔اس کے لئے 1430 مربع فٹ زمین خریدنی ہوگی ۔رام مندر کے پاس واقع مندروں مکانوں اور میدانوں کے مالکوں سے اس سلسلے میں بات چیت جاری ہے ملک گیر چندہ اکٹھا کرنے کی مہم پوری ہونے کے بعد رام جنم بھومی ٹرشٹ فنڈ بھی اچھا جمع ہو سکے گا ۔ایسے میں ٹرسٹ کی توسیع کی کاروائی بھی شروع ہوگئی ہے ۔پہلے مرحلے می جنم استھان سیتا رسوئی کے پیچھے پولیس کنٹرول روم اور دیگر ضروری اداروں کے لئے 11ہزار مربع میٹر زمین کا الاٹمنٹ پولیس محکمہ کو کرنے کے لئے نشاندھی کرائی جا چکی ہے ۔ضلع انتظامیہ کے ذریعے سے اس تجویز کو انتظامیہ کو پچھلے دنوں اے ڈی جے قانون ونظام وی کے سنگھ کی سربراہی میں ہوئی میٹنگ کے بعد بھیجا گیا ہے ۔اور اس تجویز کی کیبنیٹ سے منظوری ضروری ہے ۔جے شری رام!
(انل نریندر)
پاکستان میں عمران خاں کی سرکار بچ گئی !
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے سنیچروار کو اپوزیشن پارٹیوں کے بائیکاٹ کی اپیل کے درمیان نیشنل اسمبلی (پارلیمنٹ میں اعتماد حاصل کر لیا ہے حال میں قریبی مقابلے والے سینٹ چناو¿ میں وزیرمالیات کی ہار کے بعد ان کی سرکار پر سنکٹ آگیا تھا ۔وزیراعظم عمران خاں کو پارلیمنٹ کے نچلے ایوان میں 342ممبروں میں سے 178ووٹ ملے ۔جبکہ عام اکثریت کے لئے 172ووٹ کی ضرورت تھی صدر عارف الوی کی ہدایت پر قومی اسمبلی کا اس سے پہلے پاک وزیراعظم عمران خاں نے دیش کے نام خطاب میں اقتدار چھوڑنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اپوزیشن پارٹیاں دیش میں کرپشن مچا رہی ہیں ۔سینٹ میں اپنے وزیر مالیات عبدالحفیظ کی ہار کے بعد وہ پریشان نظر آئے انہوں نے کہا اگر کرپشن کے الزامات میں میری سرکار بھلے ہی چلی جائے لیکن ہم نے کوئی کرپشن نہیں کیا ۔اس لئے انہوں نے دلیری کے ساتھ قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔عمران خاں کے قریبی ساتھی وزیرمالیات عبدالحفیظ شیخ بدھ کو سینٹ کے چناو¿ میں سابق وزیراعظم یوسف رجا گیلانی سے ہار گئے تھے ۔خان پاکستان تحریک انصاف پارٹی کے چیئرمین بھی ہیں اس لئے انہوں نے کیب نیٹ ساتھی کی جیت کے لئے شخصی طور پر ایڑھی چوٹی کا دم لگایا تھا ۔عمران خاں نے قوم کے نام اپنے خطاب میں کہا تھا کہ اپوزیشن مجھے بلیک میل کررہی ہے اس لئے وہ چاہتے ہین کہ میرے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے اور مجھے ہٹا دیں ۔اس کے بعد ہی انہوں نے قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کافیصلہ کیا ۔اس لئے 6مارچ سنیچر کو قومی اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا گیا ۔ادھر عمران خاں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید واجبا اور آئی ایس آئی کے جنرل ڈائرکٹر سے بھی ملاقات کی انہوں نے کہا کہ اپوزیشن مجھ سے اپنے کرپشن کے کیس بند کرانا چاہتی ہے انہوں نے پارٹی کے ممبران سے کہا کہ اگر عآپ میرے خلاف ووٹ دیں گے تو چلا جاو¿ں گا اور اپوزیشن میں بیٹھوں گا عمران نے کہا کہ جب میں پہلے بھارت سے پاکستان آتا تھا تو لگتا تھا کہ کسی غریب ملک سے امیر ملک آگیا انہوں نے سیدھے سیدھے کہا اعتماد کے ووٹ کے دوران میری سرکار چلی بھی جاتی ہے تو مجھے کوئی غم نہیں ہوگا ۔پاکستان پیوپلس پارٹی کے سینئر لیڈر پارٹی کے چیف لیڈر گیلانی اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومینٹ کے اتفاق رائے مشترکہ امید وار تھے ۔اور گیلانی کی جیت کے بعد کئی اپوزیشن لیڈروں نے عمران خاں کی زبردست نکتہ چینی کی اور مانگ کی تھی کہ انہیوں وزیراعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے ۔نتیجہ اعلان ہونے کے بعد وزیرخارجہ شیاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ وزیراعظم نے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے پاکستان پیوپلس پارٹی کے چیئرمین بلاو ل بھٹو نے کہا کہ گیلانی کی جیت یہ عمران خاں سرکار کے خاتمہ کی شروعات ہے اب یہ کٹپتلی تماشہ جاری نہیں رہے گا ۔یہ ڈرامہ بھی جاری نہیں رہے گا اصل میں یہ خاتمہ کی شروعات ہے اب کوئی بھی اس سرکار کو بچانہین سکتے ۔اپوزیشن نے پہلے ہی عمران خاں کے استعفیٰ کو لیکر 26مارچ کو اسلام آباد میں مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔صاف ہے عمران خاں نے قومی اسمبلی میں اکثریت تو حاصل کر لی ہے لیکن اب ان کی پوزیشن پہلے سے کمزور ہو چکی ہے ۔
(انل نریندر)
بالی وڈ ہستیوں پر انکم ٹیکس کے چھاپے!
انکم ٹیکس محکمہ نے فلم ساز انوراگ گشیپ ادکارہ تاپسی پنوں اور فلم پروڈوسر وکاس بہل کے دفاتر پر چھاپہ مارے تینوں بالی وڈ ہستیاں وقتاً فوقتاً سرکار کے خلاف بیان دیتی رہی ہیں ۔انہوں نے تینوں زرعی قوانین کے لئے چل رہے آندولن کی بھی حمایت کی ہے ان چھاپوں کو لیکر سیاسی بیان بازی تیز ہو گئی ہے ۔مہاراشٹر میں حکمراں سرکار کی اتحادی کانگریس اور این سی پی نے کاروائی کی نکتہ چینی کی ہے ۔اور اسے مرکزی سرکار کے خلاف بولنے والون کی آواز دبانے کی کوشش بتایا ہے وہیں بھاجپا نے کہا کہ ہر کسی معاملے کو سیاست سے جوڑ کر دیکھنا غلط ہے جانچ ایجنسیاں اپنا کا م کرتی ہیں مہاراشٹر سرکار کے وزیر اور این سی پی کے چیف ترجمان نواب ملک نے الزام لگایا کہ بھاجپا کی مرکزی سرکار اپنے خلاف آواز اٹھانے والوں کے خلاف مرکزی ایجنسیوں کا غلط استعمال کررہی ہے کانگریس نیتا اور وزیراشوک چوہان نے کہا مرکزی سرکار تمام سچائی رکھنے والوں کو دباو¿ بنا رہی ہے ۔تاکہ یہ چپ ہو جائیں ۔اور ان کے خلاف ای ڈی سی بی آئی انکم ٹیکس جیسی ایجنسیوں کا استعمال کیا جارہا ہے ۔انوراگ اور تاپسی کے دفتروں پر چھاپہ ماری اس لئے کی گئی کیوں کہ دونوں نریندر مودی کی سرکار کے خلاف آوازاٹھارہے تھے ۔انہوں نے کہا کسانوں نے کہا کہ ہماری تحریک کی حمایت کرنے والوں چھاپہ ماری سے پریشان کیا جا رہا ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس
ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...