Translater
23 جون 2012
کیا نتیش بہار میں آر پار کی لڑائی چھیڑ رہے ہیں؟
صدارتی چناؤ امیدوار کو لیکراین ڈی اے میں چھڑی جنگ میں ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ یوپی اے امیدوار پرنب مکھرجی کو لیکر تو پہلے ہی این ڈی اے میں دراڑ پڑ گئی تھی لیکن اب تو لگتا ہے کہ کہیں این ڈی اے ہی نہیں ٹوٹ جائے؟ تازہ معاملہ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کے بیانات کو لیکر کھڑا ہوگیا ہے۔ نتیش کمار نے ایک اخبار میں یہ بیان دے کر ہنگامہ کھڑا کردیا کہ این ڈی اے کا وزیر اعظم کا امیدوار ایسا ہونا چاہئے جس کی ساکھ سیکولرہو۔ ان کے اس بیان کو جہاں گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کے امکانات پر پانی پھیرنی کی کوشش کہا جاسکتا ہے۔ وہیں انہوں نے صاف اشارہ دے دیا کہ نریندر مودی کو بطور وزیر اعظم امیدوار قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں اور اگر بھاجپا نے ایسا کیا تو این ڈی اے چھوڑ سکتے ہیں اور انہوں نے اس بات کی بھی پرواہ نہیں کی ہوگی کہ بہار میں ان کی بھاجپا کے ساتھ سانجھا سرکار چلتی ہے یا گرتی ہے۔ نتیش نے آخر کار بیان ایسے وقت کیوں دیا ؟انہوں نے پہلے ہی صاف کردیا تھا کہ یوپی اے امیدوار پرنب مکھرجی کی حمایت کریں گے۔ پھر یہ بیان دینے کے پیچھے کیا مقصد ہے؟ کیا وہ اپنے کو وزیراعظم کا امیدوار اعلان کررہے ہیں؟ نتیش کا بیان آنے کے بعد اور تو اور آر ایس ایس بھی سیدھے میدان میں اترگئی ہے۔ سنگھ کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے نتیش کمار پر پلٹ وار کرتے ہوئے یہ سوال کھڑا کردیا کوئی بھی ہندوتو وادی دیش کا پردھان منتری کیوں نہیں بن سکتا؟ حالانکہ بھاگوت نے کسی کا نام نہیں لیا لیکن مانا جاسکتا ہے کہ سنگھ اب نریندر مودی کے حق میں کھل کر سامنے آگیا ہے۔ ہاں چلو ایک بات اور ثابت ہوگئی ہے کہ سنگھ جو آج تک یہ کہتا آیا کہ وہ سیاست میں دخل نہیں دیتا اب کھل کر سیاسی معاملوں پر بولنے لگا ہے۔ پہلے اے پی جے عبدالکلام کو حمایت دینے کا بیان اور اب نتیش کمار کے بیان کا جواب ، ہونے والے وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ اور سیکولر ازم کو لیکر بھاجپا اور جنتا دل (یو ) کے درمیان جنگ تلخ ہوگئی ہے۔ بھاگوت کے بیان سے تلملائے نتیش بولے کہ 2002 میں گجرات دنگوں کے بعد سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی ،مودی کو ہٹانا چاہتے تھے اس لئے انہوں نے مودی کو راج دھرم اپنانے کی نصیحت دی تھی۔ نتیش کی بات میں مرچ مسالہ لگاکر جنتا دل (یو) لیڈر شیوانند تیواری تو ایک قدم آگے اور بڑھ گئے انہوں نے کہا کہ اگر مودی وزیر اعظم کے امیدوار ہوں گے تو این ڈی اے ٹوٹ جائے گا؟ جنتا دل (یو) این ڈی اے چھوڑدے گا۔ تیواری آگے بولے کے بھاجپا کوطے کرنا ہے کہ اگلے چناؤ کے بعد اسے مرکزی سرکار بنانی ہے یا اپوزیشن میں رہنا ہے۔ دیش کو وزیر اعظم کی شکل میں کوئی دھارمک چہرہ پسند نہیں ہے۔ 1996ء میں بھاجپا نے صاف کیا تھا کہ وہ کٹر ہندوتو کی بنیاد پر مرکزمیں سرکار نہیں بنا سکتی اس لئے یکساں سول کورٹ ،دفعہ370 اور رام مندر کا اشو چھوڑا گیا۔ اگر گودھرا کانڈ کے بعد واجپئی نے نریندر مودی کو برخاست کیا ہوتا تو این ڈی اے 2004ء کا چناؤ نہیں ہارتا۔ واجپئی چاہتے تھے کہ فسادات کے بعد نریندر مودی استعفیٰ دے دیں لیکن اڈوانی نے اس سے مودی کو روک دیا تھا۔ ایک سوال اب یہ اٹھ رہا ہے کہ بہار میں جنتا دل (یو) بھاجپا اتحاد سرکار کا کیا ہوگا؟ نتیش اور تیواری کے تلخ بیانوں پر بھاجپا میں زبردست رد عمل ہونا فطری ہی تھا۔ ان کے جواب میں نریندر مودی حمایتی بھاجپا کے سینئر لیڈر و نتیش سرکار میں وزیر پشوپالن گری راج سنگھ نے نتیش کمار کو چیلنج کردیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ مودی کے ساتھ ہیں اور انہیں کسی سیکولرازم کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ گری راج نے تو یہاں تک کہہ ڈالا کہ نریندر مودی کی حمایت سے وزیر اعلی نتیش کمار اگر آج اپنے آپ کو الجھن میں محسوس کرتے ہیں اور ان میں دم ہے تو انہیں برخاست کردیں۔ اس سے پہلے منگلوار کو بھی گری راج نے تلخ لہجے میں کہا تھا کہ سیکولرازم کی تشریح پھر سے طے ہونی چاہئے۔ نریندر مودی معاملے پر جنتا دل(یو) اور بھاجپا لیڈروں کی زبانی جنگ کو روکنے کے لئے نائب وزیر اعلی سشیل کمار مودی آگے آئے اور دن بھر خبریہ چینلوں میں بیانوں کی جنگ کے پیش نظر سشیل مودی نے سمجھایا کے بہار میں نریندر مودی اشو نہیں ہیں لالو اشو ہیں، سڑک بجلی جیسے اشو ہیں۔آج پارٹی وزیر اعظم امیدوار اعلان نہیں کررہی ہے کے اتحاد پر غور و خوض جیسی باتیں ہوں۔ جن اشو اور شرطوں پر اتحاد بنا تھا وہ ویسے ہی ہیں۔ لوک جن شکتی پارٹی چیف رام ولاس پاسوان نے کہا ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت گجرات اسمبلی چناؤ میں نریندر مودی کو فائدہ پہنچانے کیلئے نتیش کمار سیکولرازم کا شگوفہ چھوڑ رہے ہیں۔ بہار میں کرپشن کے اشو پر بھٹکا جارہا ہے۔ پاسوان نے نتیش کمار سے پوچھا کہ وہ بتائیں کے اڈوانی سیکولر ہیں یا فرقہ پرست؟ بہار میں جنتا دل (یو) بھاجپا اتحاد کی حکومت ہے نتیش جس طرح کی بیان بازی کرکے نورا کشتی کا کھیل کھیل رہے ہیں کانگریس کے پردیش پردھان محبوب علی کوثر نے کہا کہ وزیر اعظم کے دوڑ میں بنے رہنے کے لئے وزیر اعلی نتیش کمار نوٹنکی کررہے ہیں۔ نریندر مودی کی تنقید محض دکھاوا ہے۔ انہوں نے کہا گودھرا کانڈ کے وقت نتیش کمار مرکز میں وزیر تھے اور اس وقت مودی کے بچاؤ میں سامنے آئے تھے۔ انہوں نے کہا بہار میں کھانے پر بلاکر منع کرنا اور دہلی سے ہاتھ ملانا جنتا کے ساتھ ایک گھناؤنا مذاق ہے۔ ان کی کتھنی اور کرنی میں کافی فرق ہے۔
جہاں تک بہار میں جنتا دل (یو ) بھاجپا اتحاد کا سوال ہے نمبروں کے مطابق 243 سیٹوں والی بہار اسمبلی میں حکمراں اتحاد کا جوڑ 208 ہے۔جنتادل (یو ) کے پاس117 اور بھاجپا کے پاس 91 ہیں جبکہ اقتدار میں بنے رہنے کیلئے122 ممبران اسمبلی کی ضرورت ہے۔ ایسے میں اگر بھاجپا اقتدار سے ہٹتی ہے تو جنتادل (یو ) کے پاس سرکار کے لئے ضروری 5 ممبر اسمبلی کم ہوجائیں گے۔ دیکھنے میں یہ تعداد چھوٹی ہے لیکن اسے جٹانا اتنا آسان نہیں ہے۔ بہار میں راشٹریہ جنتادل ،لوک جن شکتی اتحاد کے پاس23 سیٹیں ہیں جبکہ کانگریس کے 4 اور آزاد6 ممبر ہیں۔ ایک امکان یہ ہے کہ نتیش کانگریس سے گٹھ بندھن کرلیں اور ایک دو آزاد ممبران اسمبلی کو شامل کرلیں اگر بہار میں نتیش کانگریس سے ہاتھ ملاتے ہیں تو مرکز میں بھی وہ یوپی اے سرکار کا حصہ بن سکتے ہیں۔ا ب بھاجپا کو یہ طے کرنا ہے کہ وہ ایسی سرکار میں بنے رہنا چاہیں گے جو آئے دن پارٹی کو کوستے رہتے ہیں۔ لگتا ہے کہ نتیش اب زیادہ دن بھاجپا کے دوست نہیں رہیں گے انہیں نے الگ ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے یہ اس کی شروعات ہے۔
(انل نریندر)
21 جون 2012
اپنی ہی بچی سے آبروریزی کرنے والا کلجگی فرانسیسی حیوان
گذشتہ دنوں ایک انتہائی تکلیف دہ اور نفرت آمیز قصہ روشنی میں آیا ہے بینگلورو سے موصولہ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ایک فرانسیسی سفارتکار پاسکل ماجوریا پر اس کی بیوی و ہندوستانی شہری سجاجونس نے اپنی ساڑھے تین سال کی بچی سے بد فعلی کرنے کا الزام لگایا ہے۔بینگلورومیں واقع فرانس کے قونصل خانے میں پاسکل ماجوریا ڈپٹی چیف ہیں۔ الزام لگنے کے بعد بینگلورو پولیس کے لئے یہ پریشانی کھڑی ہوگئی کہ ڈپلومیٹ کو گرفتار کر کیا اس پر بھارت میں مقدمہ چلایا جاسکتا ہے یا نہیں؟ کیونکہ اگر سفارکار کو ڈپلومیٹک سرپرستی حاصل ہے تو اس پربھارت میں مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا لیکن پھر یہ صاف ہوا کہ ملزم کو کوئی ڈپلومیٹک سرپرستی حاصل نہیں ہے کیونکہ وہ ایک ڈپلومیٹ نہیں ہے۔ اس کے پاس سروسز پاسپورٹ ہے ۔ ڈپلومیٹک پاسپورٹ نہیں ہے۔ اسے ڈپلومیٹک چھوٹ حاصل نہیں ہے اور اس کے خلاف بھارت میں مقدمہ چلایا جاسکتا ہے۔سفارتکار کی بیوی سجا جونس ماجوریا نے وزیر داخلہ پی چدمبرم اور وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کو ایک خط لکھ کر حکومت سے یہ یقینی بنانے کی اپیل کی ہے کہ اس کے شوہر کو تب تک دیش چھوڑنے سے روک دیا جائے جب تک سبھی قانونی تقاضے پورے نہیں ہوجاتے اور کسی بھی حالت میں اسے بچوں کی دیکھ بھال ملنی چاہئے جوکہ فرانس کے شہری ہیں۔ فرانس کے کونسل جنرل کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کمرشل سفارتخانہ پوری طرح تعاون دے رہا ہے۔ پولیس نے سفارتکار کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ37کے تحت آبروریزی کا معاملہ درج کرلیا ہے۔ اپنی ساڑھے تین سال کی بیٹی کے ساتھ بدفعلی کے ملزم فرانسیسی سفارتخانے کے افسر پاسکل کو منگل کی صبح بینگلورو میں گرفتار کیا گیا۔ ایک دن پہلے ہی وزارت داخلہ نے سٹی پولیس سے صاف طور پر کہا تھا کہ ملزم کو کسی طرح کی سفارتی رعایت حاصل نہیں ہے اور اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جاسکتی ہے۔ پولیس کے مطابق ہائی گرانڈس تھانے کی پولیس نے پاسکل کو حراست میں لیا ہے۔ یہاں فرانسیسی سفارتخانہ اسی تھانے کے تحت آتا ہے۔ کیرل کی باشندہ سجا جونس نے اپنے شوہر پر بیٹی سے بدتمیزی کا الزام لگایا تھا۔ اس کے گھر پر کام کرنے والی خاتون نے بتایا تھا کہ اس کے شوہر نے ہی اس کی بیٹی کے ساتھ بدتمیزی کی ہے۔ پولیس ڈپٹی کمشنر (لا اینڈ آرڈر) سنیل کمار نے بتایا کہ متاثرہ بچی کا میڈیکل کرایا گیا ہے اس کی رپورٹ کا انتظار ہے۔ ایسے شیطان والد کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہئے۔ اسے ایک غیر ملکی ہونے کا کوئی فائدنہ نہیں ملنا چاہئے۔ وہ ایک آبروریز ہے اور ایسی گھناؤنی حرکت کرنے والے کو بخشا نہیں جاسکتا۔
(انل نریندر)
اکثر پھسل جاتی ہے دگوجے سنگھ کی زبان
مجھے آج تک یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ کانگریس سکریٹری جنرل دگوجے سنگھ کس حیثیت سے آئے دن بیان بازی کرتے رہتے ہیں۔ باتیں بھی وہ ایسی کرتے ہیں جن کا سنگین سفارتی و سیاسی مطلب نکلتا ہے۔ اگر وہ کانگریس کے ترجمان نہیں ہیں تو کس حیثیت سے اور کس کی شے پر وہ بیان بازی کرتے ہیں؟ ان کو کسی نہ کسی کی شے تو ضرورت حاصل رہی ہوگی؟ نہیں تو وہ پالیسی ساز بیان کیسے دے سکتے ہیں۔ تازہ مثال دگوجے سنگھ کی ممتا بنرجی کے خلاف ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل پر بیان بازی کی ہے۔ انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں ترنمول کانگریس چیف ممتا بنرجی کو غیر سنجیدہ اور بددماغ بتایا تھا اور کہا کہ پارٹی کے صبر کی ایک حد ہوتی ہے۔ سنگھ نے یہ بھی کہا تھا کہ ممتا کو منانے کے لے پارٹی ایک حد سے آگے نہیں جائے گی۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ دگوجے سنگھ نے ایسا بیان کیوں دیا؟ کیا یہ کانگریس کی حکمت عملی کا حصہ ہے کہ تم بیان دے دو بعد میں ہم اس کی تردید کردیں گے۔ ممتا کو اشارہ بھی مل جائے گا اور پھر ہم پارٹی کو آپ کے بیان سے الگ کرلیں گے؟ یہ پہلی بار نہیں ہوا جب دگوجے سنگھ نے اس طرح کے متنازعہ بیان دئے ہوں۔ حال ہی میں دگوجے نے نائب صدر حامد انصاری کے بارے میں بھی رائے زنی کی تھی۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ انصاری کو دوبارہ نائب صدر بننا چاہئے۔ پارٹی کے ذرائع کی دلیل ہے کہ تب کانگریس صدر سونیا گاندھی کو اس بارے میں اختیار دے دیا گیا ہے تو پارٹی کے ذمہ دار لیڈروں خاص کر پارٹی کے سینئر عہدیدارن کو اس بارے میں بولنے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ دگوجے سنگھ نے پارٹی صدر کو بھی نہیں بخشا انہوں نے ایک ٹی وی ملاقات میں کہا تھا کہ کانگریس صدر کے نیتا لیڈر بننے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ وہ لیڈر آف دی ہاؤس بن سکتی ہیں ساتھ ہی کوئی ڈپٹی لیڈر ہوسکتا ہے۔ یوپی اسمبلی چناؤ میں کانگریس کی ہار کے بعد ان کے چناؤ کے دوران کئے گئے تبصرے پارٹی کی ہار کا سبب بنے۔ دگوجے سنگھ نے بٹلہ ہاؤس مڈ بھیڑ کو فرضی قراردے کر بھی پارٹی اور سرکار کو مشکل میں ڈال دیا تھا۔ وزیر داخلہ پی چدمبرم کی نکسل مخالف پالیسی پر بھی انہوں نے متضاد رائے زنی کی تھی۔ انا ہزارے کی تحریک کے دوران بھی آئے دن دگوجے اوٹ پٹانگ تبصرے کرتے رہے۔
آخر کار کانگریس لیڈر شپ کو دگوجے سنگھ کے بڑ بولے پن کے خلاف قدم اٹھانا پڑا۔ پارٹی نے دگوجے سنگھ کے بیانات سے اپنے کو جہاں الگ کرلیا وہیں کھلے طور پر صفائی دی کہ وہ میڈیا سے بات کرنے کے لئے سرکاری طور سے بااختیار نہیں ہیں۔ یہ پہلا موقعہ ہے جب کانگریس کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ دگوجے سنگھ کی باتوں کو پارٹی کے نظریات نہ مانیں جائیں یعنی ایک طرف تو کانگریس نے یہ صاف کرکے تاثر دیا ہے کہ میڈیا کی باتوں کو کانگریس کا نظریہ نہ مانیں وہیں دوسری طرف کانگریس نے دگوجے سنگھ کو بھی درپردہ طور پر خبر دار کردیا ہے کہ وہ میڈیا میں بیان دینے سے باز آئیں۔ دگوجے سنگھ کے متنازعہ بیانات سے ناراض پارٹی نے انہیں مختلف سیاسی اشوز پر پارٹی کی جانب سے بولنے پر روک دیا ہے۔ کانگریس میڈیا محکمے کے چیئرمین اور کانگریس سیکریٹری جنرل جناردن دویدی نے یہ بیان جاری کرکے کہا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بیان کانگریس صدر سونیا گاندھی کی ہدایت پر جناردن دویدی نے دیا ہے۔ دیکھیں کیا دگوجے سنگھ پر اس کا کوئی اثر ہوتا ہے یا نہیں؟
(انل نریندر)
20 جون 2012
صدارتی چناؤ کے دنگل کا تیسراباب
صدارتی چناؤ کے تیسرے باب کا آغاز ہوچکا ہے۔ یہ چناؤ دنوں کانگریس اتحاد اور اپوزیشن کے لئے اپنے اپنے اسباب سے ایک سیاسی چیلنج بن گیا ہے۔ پہلے بات کرتے ہیں این ڈی اے کی۔ سابق صدر اے پی جے عبدالکلام کے چناؤ لڑنے کے انکار سے این ڈی اے میں اب آپسی پھوٹ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ این ڈی اے اتحادی پارٹیوں کی دو میٹنگیں ہوچکی ہیں لیکن کوئی حکمت عملی نہیں بن پارہی ہے۔ اس کی خاص وجہ یہ سمجھی جارہی ہے کہ بھاجپا کے سرکردہ لیڈر بھی یوپی اے کے امیدوار پرنب مکھرجی کے مقابلے اپنا امیدوار اتارنے نہ اتارنے کو لیکر شش و پنج میں مبتلاہیں۔ یہ بحث بھی جاری ہے کہ اب جب ڈاکٹر کلام دوڑ سے باہر ہوگئے ہیں تو کیا ایسے میں لوک سبھا کے سابق اسپیکر پی اے سنگما کو ہی اپنی حمایت دے دی جائے؟ بھاجپا کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی صدارتی چناؤ لڑنے کے خواہش مند بتائے جارہے ہیں۔ اڈوانی جی کہتے ہیں کہ جمہوریت میں چناؤ لڑنا ضروری ہوتا ہے۔ وہ یوپی اے امیدوار کو بلامقابلہ نہیں جتانا چاہتے۔ ذرائع کے مطابق بھاجپا صدر نتن گڈکری ہار کی فضیحت سے بچنے کے لئے امیدوار اتارنے کے حق میں نہیں ہیں۔ارون جیٹلی بھی گڈکری کے ساتھ ہیں۔
سابق پردھان راجناتھ سنگھ ،وینکیا نائیڈو، مرلی منوہر جوشی نے2007ء کی تاریخ یاد کرائی۔ اس وقت نائب صدر بھیروسنگھ شیخاوت نمبروں کی طاقت نہ ہونے پربھی میدان میں کود پڑے تھے۔ امیدوار اتارنے کے لئے اڈوانی ، سشما سوراج کی ضد کے پیچھے سبرامنیم سوامی کی دلیل یہ ہے کہ ہمیں صدارتی چناؤ سے آگے کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ اگر ہم جے للتا، نوین پٹنائک اور ممتا بنرجی کو یو پی اے سے دور کرلیتے ہیں تو 2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں ہمیں این ڈی اے کو پھیلانے کا اچھا موقعہ ملے گا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اگر ہم چناؤ پر اڑے رہے تو یوپی اے ہمیں شاید نائب صدر کا عہدہ دے دے؟ پھر یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اب تک بھارت کے صدر کے لئے کوئی متفقہ طور پر نہیں چنا گیا۔ ہار جیتنے والے امیدوار کو چناؤ لڑنا پڑاہے اور چناؤ لڑنے کے بعد ہی وہ رائے سناہلز پہنچا۔ ہاں اب چناؤ میں کاکا جوگیندر سنگھ دھرتی پکڑ جیسے تماش بینوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اڈوانی بار بار 1969ء کے صدارتی چناؤ کا ذکر کررہے ہیں۔ صدارتی عہدے کے لئے1969ء کا چناؤ کئی معنوں میں انوکھا رہا ہے۔
جب وی وی گری اور نیلم سنجیوا ریڈی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوا تھا۔ اڈوانی جی نے کہا کہ 1969ء کا صدارتی چناء تاریخی تھا اور 2012 ء کا یہ چناؤ بھی اپنے آپ میں سنسنی خیز ہے۔ اس وقت کے صدارتی چناؤ نے اس وقت رہیں وزیر اعظم اندرا گاندھی نے کانگریس پارٹی کے سرکاری امیدوار کو ضمیر کی آواز پر ووٹ دینے کی اپیل کرکے ہروایا تھا۔ وہ ایک غیر معمولی چناؤ تھا یہ سنسنی خیز چناؤ ہے۔ صدارتی چناؤ کے لئے طے لگ رہا ہے مقابلے میں دوسری لائن کے ووٹوں کا حساب اہم ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر یوپی اے امیدوار پرنب مکھرجی کو دوسری طرف سے سخت ٹکر دینے والا کوئی مضبوط امیدوار میدان میں اترتا ہے تو 1969ء کی طرح صدراتی چناؤفیصلہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر تجزیئے بہت نہیں بدلتے ہیں تو پرنب دا اور سنگما میں ٹکر ہوسکی ہے۔ مکھرجی کے نام پر این ڈی اے میں اتفاق رائے نہ بننا اور سنگما کا میدان میں ڈٹے رہنے کا اعلان دوسری ترجیح کے حساب کو راستہ مل رہا ہے۔ حالانکہ ابھی تک صرف ایک بار 1969ء میں یہ چناؤ فیصلہ کن ثابت ہوا ہے۔ اس وقت وی وی گری نمبر دو کی گنتی میں چناؤ جیتے تھے۔
اپوزیشن اگر پرنب کے خلاف متحدہوجاتی ہے تو قبائلی طبقے کا ہونے کے سبب دوسری ترجیح میں پی اے سنگما کو کراس ووٹنگ مل جائے تو مقابلہ دلچسپ ہو سکتا ہے۔ مثلاً1969ء میں کانگری کے امیدوار نیلم سنجیوا ریڈی تھے اور وی وی گری آزاد امیدوار تھے۔ کانگریس دو گروپوں میں بٹ چکی تھی۔ ایک پرانی کانگریس جس کے چیف مرارجی ڈیسائی ہوا کرتے تھے اور دوسری نئی کانگریس جس کی کرتا دھرتا اندرا گاندھی ہوا کرتی تھیں۔ صدارتی چناؤ میں پارٹی وپ لاگو نہیں ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اندرا جی نے کانگریسیوں سے ضمیر کی آواز پر ووٹ دینے کی اپیل کی تھی۔ نتیجتاً وی وی گری کو دوسری ترجیح میں زیادہ ووٹ ملے اور وہ کامیاب ہوئے۔
کانگریس کے امیدوار پرنب مکھرجی کی مخالفت ٹیم انا بھی کررہی ہے۔ ٹیم کا کہنا ہے کہ صدر بننے سے پہلے ان پر لگے کرپشن کے الزامات کی آزادانہ جانچ ہونی چاہئے۔ ٹیم انا کے ممبر اروند کیجریوال نے ایتوار کو جودھپور میں کہا کہ پرنب مکھرجی دیش کے آئینی عہدے کے امیدوار ہیں اس لئے جو اس عہدے پر فائض ہو اس کی ساکھ صاف ستھری ہونی چاہئے۔ سال2005ء کے بحری وارروم افشاں معاملے میں پرنب کا کردار مشتبہ ہے۔ ان پر چاول برآمدات گھوٹالے کے بھی الزامات ہیں۔ ان معاملوں میں ان کے کردار کی جانچ ہونی چاہئے۔
سماجوادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ نے صفائی دی ہے کہ انہوں نے کانگریس سے کوئی سودے بازی نہیں کی ہے۔یہ تو دلال لوگ کرتے ہیں۔ ملائم کہتے ہیں کہ اگر ممتا سونیا گاندھی سے ملنے کے بعداعلان نہیں کرتیں کہ کانگریس دو ناموں کو آگے بڑھا رہی ہے پرنب مکھرجی اور حامد انصاری تو سونیا گاندھی کچھ اور کھیل ہی کھیل سکتی تھیں۔ اگر13 جون کو10 جن پتھ جانے سے پہلے تک ترنمول کانگریس کی لیڈر ممتا بنرجی کو یہ نہیں معلوم تھا کہ کس امیدوار پر کانگریس داؤ لگانا چاہتی ہے تو پھر کس کو پتہ تھا؟ سونیا گاندھی کی جانب سے بتائے گئے دو ناموں پرنب مکھرجی۔ حامد انصاری کو ممتا ظاہر نہیں کرتیں تو اس پر معمہ بنا ہی رہتا۔ 2007ء میں سونیا گاندھی نے آخری وقت میں پرتیبھا پاٹل کی نامزدگی کر یہ پیغام دیا تھا کہ وہ کس طرح کے شخص کو راشٹرپتی بھون میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ممکن تھا کہ اگر ممتا کانگریس کی پسند کو پبلک نہیں کرتی تو آخری وقت میں سونیا میرا کمار یا حامد انصاری کا نام اعلان کر دیتیں۔ ملائم نے کہا ہم تو ہمیشہ سے پرنب کو ہی چاہتے تھے لیکن سونیا کو پرنب پر بھروسہ نہیں تھا۔ اس بار راشٹرپتی چناؤ کو لیکر روز بروز پس منظر بدل رہا ہے۔ کچھ بھی دعوے سے کہنا مشکل ہے۔ ابھی وقت باقی ہے اور بھی باب سامنے آسکتے ہیں۔
(انل نریندر)
19 جون 2012
ضمنی چناؤ کے واضح اشارے ہوا کانگریس کے خلاف چل رہی ہے
عام طور پر ضمنی چناؤ کا دوررس اثر نہیں ہوتا لیکن تازہ ضمنی چناؤ کے نتیجے کانگریس پارٹی کے لئے گہری تشویش کا باعث ہونا چاہئے۔ یوں تو ضمنی چناؤ کئی ریاستوں میں کئی جگہ ہوئے ہیں لیکن آندھرا پردیش کے ضمنی چناؤ کی سب سے زیادہ اہمیت ہے۔ آندھرا کی 18 اسمبلی اور 1 لوک سبھا سیٹ پر ہوئے ضمنی چناؤ اس بات کا صاف اشارہ دے رہے ہیں کہ اس کانگریس کا گڑھ مانے جانے والی ریاست میں کانگریس کی ہوا خراب ہوچکی ہے۔ اس طرح کے نتیجے کی شاید کانگریس کو بھی امید نہ رہی ہو۔ بغاوت کر وائی ایس آر کانگریس کی تشکیل کرنے والے وائی۔ ایس۔ جگنموہن ریڈی کو دھول چٹانے کے ارادے سے کانگریس نے اقتدار کا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند کردیا۔تجارت میں غیر اخلاقی وسائل کے استعمال کے الزام میں سی بی آئی نے انہیں 27 مئی کو ہی گرفتار کرلیا تھا۔ یقینا12 جون کو چناؤ کو ذہن میں رکھ کر ہی ایسا کیا گیا تھا۔ جگن کو گرفتار کرنے کا الٹا اثر ہوا ہے۔ ان سے جنتا کی ہمدردی بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے 18 میں سے15 اسمبلی سیٹوں کو اپنی جھولی میں ڈال لیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک لوک سبھا سیٹ بھی جگن کی پارٹی کو مل گئی ہے اور ان کی بھاری کامیابی سے ایک طرح سے کانگریس کا صفایا ہوگیا ہے۔ لوک سبھا سیٹ تو جگن کے امیدوار نے دو لاکھ ووٹوں کے فرق سے جیتی ۔ کانگریس کو ایک زبردست جھٹکا مدھیہ پردیش میں بھی لگا ہے۔ ریزرو مہیشور سیٹ حکمراں بھاجپا نے اس سے چھین لی ہے۔ مدھیہ پردیش میں شیو راج سنگھ چوہان کے2008ء میں دوسری بار وزیر اعلی بننے کے بعد جتنی بھی سیٹوں پر ضمنی چناؤ ہوا ہے سبھی جگہ کانگریس کو بری ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کانگریس اپنا گڑھ بچا نہیں سکی ہے۔ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی نے اپنی مقبولیت برقرار رکھی ہے۔ یہاں بانکورا اور دسپور کی دونوں سیٹوں کے لئے ہوئے ضمنی چناؤ میں ترنمول نے یہ سیٹیں جیت لی ہیں۔ کانگریس کے لئے بری خبر جھارکھنڈ سے بھی آئی ہے۔ وہاں آل جھارکھنڈ اسٹوڈینٹ یونین کے نوین جیسوال کے مقابلے ہتیہ سے کانگریس کے مرکزی وزیر سبودکانت سہائے کے بھائی اور کانگریس کے امیدوار سنیل سہائے کی ضمانت تک ضبط ہوگئی۔ اترپردیش کے متھرا ضلع کی ایک سیٹ کے ضمنی چناؤ میں بھی سیدھے نہ صحیح بلکہ درپردہ طور سے کانگریس کو ضرور جھٹکا لگا ہے یہاں کانگریس اتفاق رائے سے لوک سبھا امیدوار کو ممتا بینرجی کی ترنمول کانگریس امیدوار شیام سندر شرما نے قریب پانچ ہزار ووٹ سے ہزادیا۔ اس سیٹ پر ہوئے ضمنی چناؤ مرکزی وزیر اور آر ایل ڈی کے چیف اجیت سنگھ کے بیٹھے جے انت چودھری کے سیٹ خالی کرنے کے سبب ہوا تھا۔ مارچ میں ہوئے چناؤ میں انہی جے انت چودھری نے شیام سندر شرما کو ہرایا تھا لیکن بعد میں انہوں نے لوک سبھا ممبر بنے رہنے کے چکر میں سیٹ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ قنوج لوک سبھا سیٹ سے تو وزیر اعلی اکھلیش یادو کی بیوی ڈمپل یادو کے سامنے کسی بھی پارٹی نے اپنا امیدوار تک نہیں اتارا اور وہ 22 سال بعد بلا مقابلہ لوک سبھا پہنچ گئیں۔ مہاراشٹر کی اکلوتی کین سیٹ کو راشٹروادی کانگریس پارٹی بچانے میں کامیاب رہی۔ یہاں اس کے امیدوار پرتھوی راج ساٹھے سے بھاجپا کی سنگیتا ہار گئی۔ تریپورہ میں نلہر سیٹ پر مارکسوادی پارٹی نے اپنا قبضہ برقرار رکھا ہے۔ تاملناڈو میں بھی پنڈوکوئی سیٹ حکمراں انا ڈی ایم کے نے جیت لی ہے جبکہ کیرل میں حکمراں کانگریس اتحاد نے یالیکر سیٹ پر اپنا قبضہ بنائے رکھا ہے اور کانگریس اتحاد نے لیفٹ مورچے کو جھٹکا دیا ہے اس سیٹ پر پچھلی بار مارکسوادی امیدوار کامیاب ہوا تھا۔ کل ملاکر بیشک ضمنی چناؤ کا اثر قومی اور صوبائی سیاست پر نہ پڑتا ہو پھر بھی دیش میں کانگریس کے خلاف چل رہی ہوا کا پتہ چلتا ہے۔
(انل نریندر)
احتجاج سے شروع ہوا ہے ولادیمیر پوتن کا تیسرا عہد
روس میں صدر ولادیمیر پوتن کی کیا اقتدار پر پکڑ ڈھیلی ہوتی جارہی ہے؟ پوتن نے 7 مئی کو اپنی تیسری صدارتی میعاد کا آغاز کیا ہے۔ سال2000ء میں بورس یلتسن کو ہرا کر پوتن پہلی مرتبہ روس کے صدر بنے تھے۔2004 میں انہوں نے دوبارہ چناؤ جیتا وہ2008 میں بھی صدارتی چناؤ لڑے مگر آئینی رکاوٹیں بیچ میں نہیں آتیں تو اسے دور کرنے کے لئے پتن پردھان منتری بن گئے اور اپنے بھروسے مند دیمتری میدوف کو ملک کا صدر بنوادیا۔ تیسری بار حلف لینے کے فوراً بعد پوتن نے وزیر اعظم کی شکل میں میدوف کو بٹھا دیا۔ یہ دونوں لیڈروں کے درمیان اقتدار کی سانجھے داری کے سمجھوتے کے تحت کیا گیا۔ خفیہ ایجنسی کے جی بی کے افسر کے طور پر کام کرچکے پوتن اپنی یہ میعاد پوری کرتے ہیں تو وہ اسٹالین کے بعد سوویت روس اور روس میں سب سے زیادہ مدت تک صدر کا عہدہ سنبھالنے والے لیڈر بن جائیں گے۔ لیکن گذشتہ دنوں پوتن کے خلاف ہزاروں لوگ ماسکو کی سڑکوں پر اترآئے۔ مظاہرین ’’پوتن بنا روس‘‘ اور ’’پوتن چور ہے‘‘ کے نعرے لکھے بینر لے کر سڑکوں پر اترآئے ہیں۔ یہ موجودہ عہد میں پوتن کے خلاف سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔ چشم دید گواہوں کا کہنا تھا کہ مارچ میں صدارتی چناؤ جیتنے کے لئے پوتن نے دھاندلے بازی کی اور زبردستی چناؤ جیتا۔ اس سے پہلے پولیس نے کئی اپوزیشن لیڈروں کے گھروں پر چھاپے ماری کی۔ منگل کی اس ریلی مارچ کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ تیسرے عہد کے آغاز سے ہی پوتن کی مخالفت شروع ہوگئی ہے۔ اپوزیشن تبھی سے کہہ رہی ہے کہ پوتن نے ان انتخابات میں سرکاری مشینری کا بیجا استعمال کرتے ہوئے جعلسازی کی ہے۔ پوتن نے جھگڑے کا کوئی حل تلاش کرنے کے بجائے مظاہرین کو کچلنے کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے۔ انہوں نے کئی بار یہ بھی دہرایا کہ اس تحریک کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ ہے۔ پوتن کے اس رویئے سے لوگوں کے درمیان ان کی ساکھ ایک ایسے لیڈر کی بن گئی ہے جو کسی بھی قیمت پر اقتدار ہتھیانا چاہتے ہیں۔ صدر پوتن کو اب چاہئے کہ وہ اپنے بھروسے کو بحال کرنے کیلئے بلا تاخیر چناؤ اصلاحات کریں تاکہ چناوی عمل میں شفافیت آئے۔ وہ جب تک چناؤ اصلاحات کی سمت میں کوئی کارگر قدم نہیں اٹھائیں گے مظاہروں کی آواز شاید خاموش ہوپائے۔ اگرچہ وہ ایسا کرپاتے ہیں تو یہ روس کی سیاست کی تاریخ کی بڑی تبدیلی ہوگی۔ کمزور سیاسی سسٹم کے علاوہ روس میں ایک بہت بڑا مسئلہ کرپشن بن گیا ہے خود پوتن تسلیم کرتے ہیں کہ دیش میں سسٹم کرپشن سے متاثر ہے۔ کرپشن پر نظر رکھنے والی بین الاقوامی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل نے روس کو کرپشن کے معاملے میں 178 دیشوں کی فہرست میں 154 ویں مقام پر رکھا ہے جبکہ بھا رت کا اس فہرست میں 87 واں نام ہے۔ یہ ہی نہیں ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کے بینکوں میں ابھی جتنی کالی کمائی جمع ہے، اس میں سب سے زیادہ پیسہ ہندوستانیوں کا ہے تو دوسرے نمبر پر روسی ہیں۔ روس میں بھی کرپشن عام زندگی کا ایک حصہ بن چکا ہے۔ ٹریفک پولیس، ڈاکٹروں سے لیکر اعلی سطح تک زیادہ تر ملازمین نے رشوت خوری کی روایت بنا ڈالی ہے۔ فوج تک میں اب کرپشن بڑھ چکا ہے۔ دیش کی بگڑتی معیشت کو پٹری پر واپس لانے کی چنوتی صدر پوتن کے سامنے منہ کھولے کھڑی ہے۔عالمگیر اقتصادی مندی سے بھی روس بچ نہیں سکا۔ بے روزگاری اور غریبی کی پریشانی دن بدن سنگین ہوتی جارہی ہے لیکن اس کا اچھا اشارہ یہ ہے کہ روس میں بہتری آرہی ہے۔ دیش کا غیر ملکی کرنسی ذخیرہ بڑھنے لگا ہے اور دیش کی کرنسی روبل آہستہ آہستہ مضبوط ہوتی جارہی ہے۔ اقتصادی بحران سے لڑنے کے لئے خرچ کی گئی30 کھرب روبل کی بھاری بھرکم رقم کا اثر دکھائی پڑنے لگا ہے۔ دیش نے اناج درآمدات کرنے کی صلاحیت پھر سے حاصل کرلی ہے۔ پھر بھی پوتن کو دیش کی معیشت کو پرانے مقام تک پہنچانے کیلئے بڑی مشقت کرنی ہوگی۔ صدر پوتن کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر سطح پر جوابدہی اور شفافیت کے کلچر کو رائج کرنا ہوگا۔ اگر پوتن ایسا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو انہیں سوویت یونین کے زوال کے بعد روس کو پھر سے مضبوط سے کھڑا کرنے والے پہلے لیڈر کے طور پر یاد کیا جائے گا۔ امید کی جانی چاہئے کہ ’اسٹرانگ مین‘ کہے جانے والے روس کو اس اونچائی پہنچانے میں کامیاب ہوں گے جو ایک وقت سوویت یونین تک پہنچ گئی تھی۔
(انل نریندر)
17 جون 2012
راشٹرپتی چناؤ دنگل کا دوسرا باب
اگر جمعرات کا دن ممتا بنرجی اور ملائم سنگھ یادو کے نام رہا تو جمعہ کا دن یقینی طور سے سونیا گاندھی کے نام رہا۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے ممتا کی چنوتی کو قبول کرتے ہوئے پرنب مکھرجی کو یوپی اے کا صدارتی امیدوار اعلان کردیا۔یہ ہی نہیں شام ہوتے ہوتے ملائم سنگھ یادو اپنی عادت کے مطابق پلٹی کھاگئے اور انہوں نے پرنب کو حمایت دینے کا اعلان کیا۔ بسپا چیف مایاوتی نے بھی یوپی اے امیدوارکی حمایت رسمی طور پر کردی ہے۔ نمبروں کے حساب سے پرنب مکھرجی کا پلڑا بھاری ہے۔ صدارتی چناؤ کے لئے کل ووٹ ہیں 10988821 کیلئے 549442 ووٹ درکار ہیں۔ یوپی اے+ سپا+ بسپا + آر جے ڈی اگر جڑ جائیں تو یہ 571644 ووٹ بنتے ہیں جبکہ این ڈی اے کے پاس کل304785 ووٹ ہی رہ جاتے ہیں۔ اس لئے نمبروں کے حساب سے مسٹر پرنب مکھرجی کا صدر بننا طے ہے حالانکہ ممتا بنرجی ابھی بھی کہہ رہی ہیں کہ کھیل ابھی باقی ہے آگے دیکھئے کیا ہوتا ہے؟ کیا کانگریس پارٹی کی اب بھی کوشش ہے کہ پرنب دا کا انتخاب اتفاق رائے سے ہوجائے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے پرنب دا کے نام کا اعلان ہونے کے بعد لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج کو فون کرکے بھاجپا کی حمایت مانگی۔ سونیا گاندھی نے بھی اعلان کے بعد ہی سبھی ممبران پارلیمنٹ ،ممبران اسمبلی سے اتفاق رائے سے صدر چننے کی اپیل کی۔ ویسے کہیں بہتر ہوتا کہ کانگریس پرنب دا کے نام کے اعلان سے پہلے تمام اپوزیشن کو اعتماد میں لیتی۔ اتفاق رائے کا مطلب ہوتا ہے مل کر امیدوار کا انتخاب کریں نہ کے آپ پہلے انتخاب کرلیں اور بعد میں اتفاق رائے کی بات کریں۔ کانگریس نے پورے معاملے میں گمراہ کیا ہے۔ انہوں نے صدرارتی عہدے کا مذاق بنا دیا ہے۔ آج سارا دیش، دنیا، بھارت میں ہورہے اس اعلی ترین عہدے کے چناؤ کے دنگل پر نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ کسی بھی نظام حکومت میں پالیسی ساز وقار کی تعمیل کیا جانا ضروری ہے۔ اس کی ذمہ داری زیادہ تر حکمراں فریق کی ہوتی ہے جمہوری نظاموں میں سیاسی تقاضوں کا تعین آئین میں ہیں کردیا جاتا ہے۔ بدقسمتی تو یہ ہے کہ ایسے آئینی تقاضوں کا نظام چلانے والے خود ہی اس کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ دیش کی آزادی کے بعد پہلی بار صدارتی عہدے کو لیکر اس طرح کا دنگل دیکھنے کو مل رہا ہے جیسا کہ بھانمتی کے کنبے میں زلزلہ آگیا ہو۔ دیش کے صدر جیسے عہدے کے لئے اتنی اتھل پتھل دیش کی سیاست کے لئے اچھا اشارہ نہیں مانا جاسکتا۔ جب سے سیاست میں علاقائی پارٹیوں کی سانجھے داری بڑھی ہے تب سے دیش کی عوام کے جذبات کی عدولی کے لئے بلیک میلنگ کا سسٹم چل پڑا ہے۔ آج عوام کے ذریعے چنے گئے نمائندے و پارٹیاں اپنی اپنی ریاستوں کے لئے پیکیج سسٹم ملنے پر حمایت دینے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں۔ نیتاؤں کی ذاتی خواہشات صحت مند جمہوری روایات پر بھاری پڑتی نظر آرہی ہے۔ آئینی طور پر صدر دیش کے آئین سازیہ اور انتظامیہ کا پردھان ہوتا ہے بغیر اس کے دستخط کے کوئی بھی بل قانون کی شکل نہیں لے سکتا۔جس کے نام پر مرکزی سرکار کے سارے کام کاج نمٹائے جاتے ہیں لیکن یہ صرف ایک تلخ حقیقت ہے۔ سب کچھ تو صدر پردھان منتری کے کہنے پر کرتا ہے لیکن قاعدے کے مطابق صدر کو پارٹی لائن سے اوپر ہونا چاہئے۔ سبھی پارٹیوں کا کیا فرض ہوتا ہے کے اسے سب سے اوپر دیش کے آئینی سربراہ کے طور پر دیکھیں اور احترام دیں۔ تقاضہ تو یہ کہتا ہے کہ صدر وہ شخص ہو جو سبھی پارٹیوں کو قابل تسلیم ہو جس کی غیر جانبداری عہدے کے وقار اور تقاضے سبھی مانیں اور اس کو ایک آزادانہ انداز سے دیکھا جائے تو کسی ایک نام پر اتفاق رائے ہونے میں کسی بھی پارٹی کا کوئی نفع نقصان نہیں ہے۔ لیکن سیاست کے کھیل میں سیاسی غرور اور ذاتی مفاد سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ کل ملا کر دیکھا جائے تو مسٹر پرنب مکھرجی صدر کے عہدے کے لئے موزوں شخص ہیں۔ ان کا طویل تجربہ و قابلیت خود منہ سے بولتی ہے۔ کانگریس کے سنکٹ موچک مانے جانے والے پرنب دا کی سرکار اور کانگریس پارٹی کو کبھی ضرور کھلے گی۔ ابھی2014ء عام چناؤ دور ہیں۔ پرنب دا کو صدر بنانے کے پیچھے بھی کئی وجہ ہیں۔ وزیر اعظم انہیں وزارت مالیات سے ہٹانا چاہتے تھے لیکن انہیں سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیسے ہٹائیں؟ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پرنب دا اور سونیا گاندھی میں بھی رشتے اچھے نہیں۔ سونیا گاندھی ان پر بھروسہ نہیں کرتیں، کچھ غیر ملکی طاقتیں بھی پرنب دا سے ناراض رہتی تھیں۔ صنعت کار خوش نہیں تھے ، اس لئے ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کانگریس نے کوشش کی ہے۔ پرنب دا کا انتخاب اس لئے بھی کیا گیا کیونکہ کانگریس کا اندازہ تھا کہ حامد انصاری، اے پی جے عبدالکلام سے جیت نہیں سکتے۔دوسرا باب یقینی طور سے سونیا گاندھی اور کانگریس کے نام رہا۔ دنگل جاری ہے 30 جون تک بھارت کی سیاست کئی اور کروٹیں لے سکتی ہے۔
(انل نریندر)
شیام میں حالات دھماکہ خیز ہونے لگے
مشرقی وسطیٰ میں بدامنی کا ماحول ختم ہونے کا نام نہیں لے رہاہے۔شیام میں تو حالات بیحد دھماکہ خیز ہوتے جارہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے ایک امن ٹیم شیام بھیجی ہے۔ اس امن ٹیم کے سربراہ کا کہنا ہے یہاں اب خانہ جنگی کے حالات ہیں۔ ٹیم کے افراد نے کہا جب وہ شیام کے شہر کوفہ میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے تو ان پر گولیاں چلائی گئیں اور واپس جانے کے لئے مجبور کیا گیا۔ نیویارک میں واقع اقوام متحدہ کے دفتر میں وہاں کے ترجمان ہرب لیڈآس نے بتایا کہ شیام کا بڑا حصہ اب سرکار کے کنٹرول سے باہر ہے اور وہاں کے حالات بے قابو ہوتے جارہے ہیں۔ پچھلے ہفتے تین قتل عام کے واقعات ہوئے اور تینوں میں سینکڑوں لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔ نارتھ حبا صوبے میں تو قتل و غارت گری کا ماحول بنا ہوا ہے۔ صدر بشرالاسد کی حکومت اور باغیوں کے درمیان کسی سمجھوتے کے کوئی امکان نہیں بن پارہا ہے۔ دونوں اپنی اپنی جگہ اٹل ہیں ۔سوویت یونین کے زوال کے بعد بھلے ہی دنیا کی ایک پولارائزیشن سیاسی سسٹم میں چل رہی ہے ہو لیکن شیام کی جنگ پر یہ دونوں بٹے ہوئے نظر آرہی ہیں۔ ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادی ملک ہیں تو دوسری طرف روس ،چین ،ایران ہیں۔ امریکہ اس ضد پر اڑا ہے کہ صدر اسد بلاتاخیر اقتدار اور ملک دونوں چھوڑ کر چلے جائیں۔ امریکہ کی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے تو روس پر الزام لگایا ہے کہ وہ شیام کی بشرالاسد حکومت کو حملے کے لئے ہیلی کاپٹر و دیگر ضروری فوجی سامان دستیاب کرا رہا ہے۔ امریکہ کئی بار اسد کو دھمکا چکا ہے۔ دوسری طرف روس، چین، ایران کھلے عام اسد حکومت کی مدد کررہے ہیں۔ یہ تینوں طاقتیں مل کر اسد سرکار کو بچانے میں لگی ہیں۔ اس کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ روس اور چین دونوں شیام کو ہتھیاروں کی سپلائی کرتے ہیں۔ ایک طرح سے اسد سرکار کے ساتھ ان کے اقتصادی مفادات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ایران کے لئے شیام نیو کلیائی پہلو سے بہت اہمیت کا حامل ملک ہے۔ خاص کر ایسے وقت میں جب امریکہ کی رہنمائی والی مغربی طاقتیں ایران کے خلاف جگن کرنے کی حد تک جانے کی دھمکی آئے دن دے رہی ہیں۔ روس میں بھی پوتن کے دوبارہ صدر بن جانے کے بعد روس بھی امریکہ کو آنکھیں دکھانے سے نہیں چوکتا اور امریکی دادا گری جہاں ممکن ہو وہ کرنے سے نہیں چوکتا۔ اس درمیان اقوام متحدہ کے سابق سکریٹری جنرل و یو این او و اعرب لیگ کے سفیر کوفی عنان نے شیام مسئلے کے حل کے لئے چھ نکاتی فارمولہ تیار کیا ہے۔ اس کے مطابق بین الاقوامی گروپ کا قائم ہونا۔جس میں سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ممبروں کے علاوہ ایران، ترکی، قطر کو بھی شامل کیا جائے گا۔ امریکہ برطانیہ کو اس میں شامل کرنے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے۔ ایسے میں شیام میں خون خرابہ روکنے کا راستہ نظر نہیں آرہا ہے۔ شیام میں آج خانہ جنگی جیسی صورتحال ہے۔ دونوں فریقوں کے درمیان جاری لڑائی میں عام آدمی مررہا ہے اور قتل و غارت گری جاری ہے۔ اندھیری سرنگ میں کوئی بھی روشنی کی کرن نظر نہیں آرہی ہے۔ ہم شیام کے شہریوں سے اپنی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ امید کرتے ہیں کے جلد یہاں امن قائم ہوجائے۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟
فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...