Translater

31 اگست 2019

ہائی کورٹ کے جج نے اپنی عدالتی انتظامیہ پر لگائے سنگین الزام

ہماری عدلیہ میں ایسا کم ہوا ہے کہ جب ایک جج نے عدلیہ نظام پر ہی تلخ نکتہ چینی کی ہو ۔پٹنہ ہائی کورٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے پٹنہ ہائی کورٹ کے سب سے سینر جج جسٹس راکیش کمار نے کہا کہ لگتا ہے کہ ہائی کورٹ انتظامیہ ہی کرپٹ عدلیہ کام کو سرپرستی دیتا ہے ۔میں نے جب حلف لیا تب سے دیکھ رہا ہوں کہ جج ،چیف جسٹس کو مکھن لگاتے رہتے ہیں ۔تاکہ کرپٹ حکام کی طرف داری کی جا سکے ۔پٹنہ کے جس ایڈیشن جج کے خلاف کرپشن کا معاملہ ثابت ہوا ان کو برخواست کرنے کے بجائے معمولی سزا کیوں دی گئی ؟انہوںنے نچلی عدالت میں ہوئے اسٹنگ آپریشن معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے اس کی جانچ کی ذمہ داری سی بی آئی کو سونپ دی ۔اس آپریشن میں نچلی عدالت کے ملازمین کو رشوت لیتے ہوئے دکھایا گیا تھا ۔وہ بدھوار کو سابق آئی ایس افسر کے پی رمیہ کے معاملے کی سماعت کر رہے تھے ۔اسی دوران اپنے حکم میں یہ سخت تبصرہ کیا جسٹس راکیش کمار نے رمیہ کی پیشگی ضمانت عرضی بھی خارج کر دی تھی ۔اور تعجب ظاہر کیا تھا کہ ہائی کورٹ سے پیشگی ضمانت کی عرضی خارج ہونے اور سپریم کورٹ سے راحت نہ ملنے کے باوجود وہ کھلے عام گھومتے رہے ۔اور اتنا ہی نہیں وہ نچلی عدالت سے با قاعدہ ضمانت لینے میں بھی کامیاب رہے ۔انہوںنے اس پورے معاملے کی جانچ کرنے کے احکامات پٹنہ ضلع و سیشن جج کو دیا ہے ۔جسٹس راکیش کمار نے صوبے کی نچلی عدالتوں اور ہائی کورٹ کے طریقہ کار نظام پر بھی سوال اُٹھایا ہے ۔کرپٹ افسران کے خلاف الزام کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ڈسپی پلن شکنی کی کارروائی میں جس عدلیہ افسر کے خلاف الزام ثابت ہو جاتا ہے اسے میر ی غیر موجودگی میں مکمل عدلیہ میٹنگ میں برخواست کرنے کے بجائے معمولی سزا دے کر چھوڑ دیا جاتا ہے ۔لگتا ہے کرپٹ عدلیہ حکام کو سرپرستی دینے کی ایک طرح کی روایت عدالت ہائی کورٹ کی بنتی جا رہی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ نچلی عدالت کے جج رمیہ جیسے افسر کو ضمانت دینے کی جلدی دکھاتے ہیں ۔جبکہ ہائی کورٹ نے انہیں پیشکی ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا ۔انہوںنے ججوں کے سرکاری بنگلوں میں غیر ضروری خرچ پر بھی سوال کھڑے کئے اور ٹیکس دہندہ کے کروڑوں روپئے بنگلے کی شان و شوکت بنائے رکھنے کے لئے کئے جاتے ہیں ۔جسٹس کمار نے اپنے اس حکم کی کاپی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور کورٹ کے لیگل سیل اور پی ایم او مرکزی وزارت قانون کے ساتھ سی بی آئی ڈائریکٹر کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے ۔

(انل نریندر)

پریس کی آزادی ون وے ٹریفک نہیں ہو سکتی!

سپریم کورٹ نے نیوز پورٹل دی وائر کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے پریس کی آزادی کو لے کر تلخ اور سخت رائے زنی کی ہے ۔عدالت نے کہا ہے کہ پریس کی آزادی سپریم ہے ۔لیکن یہ ون وے ٹریفک نہیں ہو سکتی اس لئے گھٹیا صحافت کو جگہ نہیں ملنی چاہیے عدالت کی بنچ نے یہ تلخ تبصرہ اس وقت کیا جب وائر کی طرف سے دائر عرضی واپس لینے کے لئے داخل درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے بیٹے جے شاہ کی طرف سے داخل ہتھک عزت معاملے میں گجرات ہائی کورٹ کی طرف سے نیوز پورٹل پر مقدمہ چلانے کے لئے دئے گئے حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی گئی تھی ۔ڈیڑھ برس سے التوا میں پڑی عرضی واپس لینے کی اجازت نیوز پورٹل نے دی تھی جج نے توہین کی عرضی دی وائر میں لکھے ایک آرٹیکل پر داخل کی تھی ۔جسٹس ارون مشرا کی بنچ نے عرضی واپس لینے کی اجازت تو دے دی لیکن سخت نارضگی جتانے سے وہ نہیں چوکی بنچ میں جسٹس بی آر شاہ اور جسٹس گوئی بھی شامل تھے جے شاہ کو وضاحت کے لئے صرف چار پانچ گھنٹے کا وقت دینے اور بغیر وضاحت کے ہی خبر جاری کرنے پر سوال اُٹھاتے ہوئے عدالت نے پوچھا کہ یہ کس طرح کی صحافت ہے ؟عدلیہ کے بارے میں کچھ نیوز پورٹل پر جاری ہونے والی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ اس سے ہم بھی متاثر ہو رہے ہیں ۔اس معاملے میں وہ خود نوٹس لے سکتی ہے ۔لیکن اس لئے عرضی واپس لینے کی اجازت دی کہ عرضی گزار کے وکیل کپل سبل اور سرکاری وکیل کے درمیان تلخ بحث پر سپریم کورٹ نے کہا کہ اس طرح کی صحافت سے پیدا مسائل سے بہت زیادہ نقصان کر چکی ہے ۔سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں پہلے ہی کافی وقت گزر چکا ہے ا س لئے نچلی کورٹ کو جلد سے جلد معاملے کی سماعت پوری کرنی چاہیے ۔غور طلب ہے کہ وائر نے 2014میں مودی سرکار بننے کے بعد گجرات اسمبلی چناﺅ سے پہلے جے شاہ کی ایک کمپنی میں کئی گنا لین دین کی خبر چھاپی تھی اور اس کو اس طرح پیش کیا گیا تھا کہ جے شاہ کی کمپنی کو غیر مناسب فائدہ ملا ہو جے شاہ نے خبر چھاپنے والے نیوز پورٹل اور اس کے بانی مدیروں اور منیجنگ ایڈیٹر وغیرہ صحافیوں کے خلاف کورٹ میں ہتھک عزت کا کیس دائر کیا تھا ۔ابتدائی سماعت میں الزامات کو صحیح پاتے ہوئے مقدمہ چلانے کا فیصلہ لیا مگر اس سے بچنے کے لئے سبھی ملزمان نے گجرات ہائی کورٹ سے مقدمہ منسوخ کرانے کی عرضی داخل کی تھی عدالت نے ہتھک عزت کے الزمات کو صحیح مانتے ہوئے مقدمہ چلانے کی اجازت دی تھی ۔ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف پورٹل کے سبھی ذمہ دار سپریم کورٹ پہنچے تھے۔

(انل نریندر)

30 اگست 2019

مودی سے لڑنے کے طریقہ پر کانگریس میں اختلافات

وزیر اعظم نریندر مودی کی ہر بات پر مخالفت کرنا کیا کانگریس کو مہنگا پڑ رہا ہے کیونکہ کانگریس کے بڑے نیتا اب اس بات کو مان رہے ہیں کہ مودی کو کھلنایک کی طرح پیش کرنا ملک کے مفاد میں نہیں ہے ایسا کر کے اپوزیشن ایک طرح سے مودی کی مدد کر رہی ہے ۔کانگریس کے سینر لیڈر جے رام رمیش کے بعد منو سنگھوی نے بھی ٹوئٹ کر کے کہا کہ پی ایم مودی کو کھلنائک کی طرح پیش کرنا غلط ہے اپوزیشن طرف ان کی مخالفت کا راستہ اپنائے ہوئے ہے اس سے صحیح معنوں میں وزیر اعظم کو ہی فائدہ پہنچ رہا ہے کسی بھی شخص کے کام اچھے برے اور کچھ الگ ہو سکتے ہیں ان کی شخصیت نہیں بلکہ مسئلوں کی بنیاد پر تجزیہ کیا جانا چاہیے ۔یقینی طور سے اجوالا اسکیم ان کے کئی اچھے کاموں میں سے ایک ہے اس سے پہلے جے رام رمیش نے کہا تھا کہ اگر مودی کو ہمیشہ کھلنائک بتاتا جاتا رہے گا تو آپ ان کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں کر پائیں گے وہ ایسی زبان بولتے ہیں جس سے لوگ جڑتے دراصل لوک سبھا چناﺅ میں شرمناک ہار کے بعد کانگریس میں شش و پنج کی اور عدم فیصلے لینے کی حالت بنی ہوئی ہے ۔دفعہ370کا معاملہ ہو یا پھر چدمبرم کی گرفتاری یا پھر کانگریس صدر چننے کا پارٹی کا موقوف ہر مسئلہ پر پارٹی کا موقوف بٹا ہوا نظر آتا ہے ۔فیصلے نہ لینے کی ان سارے معاملوں سے غلط ساکھ پیش کر دی ہے ۔کانگریس کے زیادہ تر نتیا مانتے ہیں ہر بات کے لئے سیدھے مودی پر حملہ کرنے کی حکمت عملی ناکام ہونے کے باوجود پارٹی اسی رخ پر قائم ہے جس وجہ سے وہ عام آدمی سے نہیں جڑ پار رہی ہے ۔پارٹی کے نیتا ششی تھرور بھی کچھ ایسی ہی رائے دے رہے ہیں ۔حال ہی میں ان کا بیان آیا تھا کہ چھ سال سے یہی کہتا آرہا ہوں کہ پردھان منتری مودی اگر اچھا کام کرتے ہیں تو ان کی تعریف بھی ہونی چاہیے ۔کانگریس پارٹی میں ان کے ان بیانوں کی مخالفت بھی ہو رہی ہے ۔کانگریس کے سنیر لیڈروں نے سابق صدر راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی سے بھی کہا ہے کہ وہ جب پارٹی کے ورکروں کا حوصلہ گرا ہوا ہے تب سینر لیڈروں کے ایسے بیان پارٹی کو نقصان پہنچاتے ہیں بتایا جا رہا ہے کہ غلام نبی آزاد ،احمد پٹیل ،آنند شرما ،اور شیلجا کماری ،جیسے سنجیدہ نیتاﺅں نے کانگریس ہائی کمان سے کہا ہے کہ پارٹی میں ڈسیپلین قائم کرنے کی ضرورت ہے ۔سونیا سے کہا ہے کہ وہ شخصی طور پر رائے بتا کر پارٹی لائن کے خلاف بولنے والے لیڈروں کو فورا نصیحت کریں ممکن ہے کہ کانگریس صدر ان نیتاﺅں پر لگام لگائیں گی ۔

(انل نریندر)

1.76لاکھ کروڑ روپئے کا صحیح استعمال ہونا چاہیے

آخر کار آر بی آئی نے اپنے جمع سرمایہ سے حکومت کو رواں مالی سال کے لئے ایک لاکھ 76ہزار کروڑ روپئے دینے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ریزرو بینک کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ جب آر بی آئی سرکار کو اپنی محفوظ جمع رقم میں سے اتنے پیسے دینے جا رہا ہے ،یہ رقم اتنی بڑی ہے کہ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جی ایس ٹی سے جمع ہر ماہ قریب ایک لاکھ کروڑ روپئے کا ہو رہا ہے غور طلب ہے کہ جمع کو وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے اقتصادی سستی سے نمٹنے کے لئے کچھ قدموں کا اعلان کیا تھا ان میں سے ایک سرکاری بینکوں کو ستر ہزار کروڑ روپئے کا سرمایہ فوراََ دیا جائے گا آر بی آئی نے یہ تاریخی فیصلہ جالان کمیٹی کی سفارش پر کیا ہے ۔آر بی آئی کے گورنر شکتی کانت داس کی سربراہی میں آر بی آئی نے پیر کو 176051کروڑ روپئے سرکار کو دینے کی منظوری دی تھی ۔یہ سفارش سابق گورنر بمل جالان کی سربراہی والی کمیٹی نے سفارش کی تھی آر بی آئی کے سابق گورنر ارجت پٹیل اس کے خلاف تھے اسی وجہ سے انہوںنے اور ڈپٹی گورنر ورل آچاریہ نے بھی استعفہ دیا تھا انہوںنے سرکار کے اس قدم کی مخالفت کرتے وقت ارجنٹینا کی مثال دی تھی 66ملین ڈالر سرکار کو دینے کے دباﺅ میں ارجنٹینا سینٹرل بینک کے گورنر مارٹن ریڈریڈو نے استعفیٰ دیا تھا بعد میں سرکار کو فنڈ مل گیا تھا ۔اس کے کچھ مہینے بعد ہی ارجنٹینا کی بانڈ کرنسی اور اسٹاک مارکیٹ تباہ ہو گئی سوال یہ ہے کہ سرکار آر بی آئی سے ملنے والی اس رقم کا کیسے استعمال کرئے گی جب وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن سے یہ سوال پوچھا گیا تو انہوںنے کہا کہ سرکار نے آر بی آئی سے ملے فنڈ کا استعمال کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ۔سیتارمن نے آر بی آئی سے پیسہ لینے کے کانگریس کے الزامات پر سخت اعتراض جتایا اور بولی کہ وہ ایسی الزامات کی پرواہ نہیں کرتیں ۔اور ایسے اپوزیشن لیڈر الزمات لگاتے ہی رہتے ہیں ۔کانگریس نیتا راہل گاندھی نے بینک سے رقم منتقلی کرنے کے فیصلے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کو خود پیدا کردہ اقتصادی بحران کے حل کا راستہ پتہ نہیں ہے اسی سلسلہ میں کانگریس نیتا نے سرکار پر مرکزی بینک سے پیسہ چوری کا الزام لگایا ہے پیسہ سرکار کو ملنے والا ہے اس کا وہ کیسے استعمال کرئے گی یہ اہم ترین ہے ۔یہ بات اس لئے بھی اہم ہے کہ مرکزی بینک ماضی میں اس طرح پیسے دینے کے حق میں نہیں رہا ہے ظاہر ہے آر بی آئی کو کہیں نہ کہیں اسے لے کر کچھ اندیشات رہے ہوں گے مسئلہ یہ نہیں ہے کہ پیسے مانگے جا رہے ہیں بلکہ ان پیسوں کا کن کن مدوں میں استعمال ہوگا اس میں سرکار اور بینک کے درمیان صاف ستھر ا پن ہونا چاہیے حالانکہ مرکزی بینک سرکار کو ہر سال فاضل پیسہ دیتا رہا ہے جو ایک طرح سے اتنی ہی رقم ہوتی ہے ۔فوری طور پر تو مندی کہا جا رہا ہے لیکن اس پیسے کا استعمال دیش کو مالی بحران سے نکالنے کے لئے ہوگا بینک آف بڑودا کے چیف اقتصادی ماہریات سمیر نارائن اور انڈین اوور سیز بینک کے سابق سی ایم ڈی نریندر نے بتایا کہ سرکار بجٹ سے پہلے بتا چکی تھی کہ آر بی آئی سے ملنے والے فنڈ کو ملک کی ڈھانچہ بندی ،ہاﺅسنگ ،ریلوئے ،اور سڑک بنانے کے استعمال میں کیا جائے گا دوسری اس فنڈ سے بازار میں بھی پیسہ ڈالا جائے گا جس سے معیشت کو تیزی مل سکتی ہے چونکہ اس وقت ہندوستان کی معیشت گہرے بحران میں ہے اور جی ڈی پی بھی لگاتار گر رہی ہے اور اقتصادی انڈیکس کے سبھی ٹیلی نمبر نیچے ہیں ۔اور روپیہ بھی مسلسل گر رہا ہے ۔آر بی آئی کو یہ رقم ایک لاکھ چھتر ہزار کروڑ بجٹ میں کمی کے لئے استعمال کی جائے گی اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا معیشت کی بری حالت میں اسے نئی طاقت کی ضرورت ہے ۔بینکوں کی حالت خستہ ہے ۔نوٹ بندی کی وجہ سے چھوٹے اور درمیانی صنعتیں سست پڑی ہیں ۔آٹو موبائل سیکٹر بھی سب سے برے دور سے گزر رہا ہے اس کے ساتھ ہی سرکاری خسارے کو کنٹرول میں رکھنا ایک بڑی چنوتی ہے بکری گھٹنے کے ساتھ روزگار بھی ختم ہو رہے ہیں اور آر بی آئی نے تو اپنا کام کر دیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ سرکار اس سرمایہ کا صحیح استعمال کرتی ہے یا نہیں ۔

(انل نریندر)

29 اگست 2019

پہلو کے ہتیاروں کو بچانے میں جٹی تھی پولیس

غورطلب ہے کہ ایک اپیل 2017 کو ہریانہ کے نوہں نواسی پہلو خان کو بیہروڈ میں ہائی وے پر بھیڑ نے گھیر لیا اور جم کر پٹائی کی۔ علاج کے دوران اسکی موت ہو گئی تھی۔ عدالت نے 6 آروپیوں کو ثبوتوں کے ابھاو? میں بری کر دیا تھا۔ اس ماب لچنگ کی پورے دیش میں چرچا ہوئی اور سرخیاں بنی۔ آروپیوں کے بری ہونے کے بعد راجستھان کے مکھیہ منتری اشوک گہلوت کے نردیش پر معاملے کی پھر سے جانچ کرنے ہیتو ایس ا?ئی ٹی کو گٹھت کرنے کا نردیش دیا۔ معاملے کی جانچ میں جٹی ایس ا?ئی ٹی (سپیشل انویسٹگیشن ٹیم) کے سامنے پولیس کی کئی خامیاں نظر آئی ہے۔ پولیس کی آروپیوں سے ملی بھگت نظر آئی ہے، وہ اس اور اشارہ کرتی ہے ک? پولیس ہتیاروپیوں کو سجا دلانے کی بجائے انہیں بچانے میں جٹی تھی۔ پارمبھک جانچ میں سامنے آیا ک? پولیس کے سسٹم نے پہلو خان کو ایک بار نہیں بلکہ کئی بار مارا۔ دودن کی پارمبھک جانچ میں ایس ا?ئی ٹی ادھیکاریوں نے مانا ک? یدی پولیس ادھیکاری صحیح طریقے سے جانچ کرتے تو الور ایڈیجے سے کورٹ میں چھہ آروپی بری نہیں ہو سکتے تھے۔ بتا دیں ک? معاملے میں یہ پانچویں بار جانچ ہو رہی ہے۔ سوتروں کے انوسار ایس ا?ئی ٹی کو کچھ ویڈیو ملے ہیں جسمیں صاف دکھ رہا ہے ک? ستھانیہ پولیس کی موجودگی میں کس طرح سے لوگوں نے پہلو خان کی بےرحمی سے پٹائی کی۔ وہ گھائل ہو گیا، تب پولیس نے اسے بچایا۔ اسکے بعد پہلو خان چار گھنٹے تک سڑک کے کنارے پڑا رہا۔ اسکے بعد رات کے 11 بجے اسے بیہروڈ کے ایک نجی اسپتال میں بھیجا گیا۔ ایس ا?ئی ٹی کی جانچ میں سامنے آیا ہے ک? پہلو خان نے جن چھہ لوگوں کو آروپت بتایا تھا وہ ہندوادی سنگٹھنوں سے جڑے تھے۔ جیسے ہی انکے نام سامنے آئے، تتکالین بھاجپا ودھایک گیاندیو آہوجا نے انکی پیروی کی۔ تتکالین گرہ منتری گلاب چند کٹاریہ نے بھی آہوجا کو صحیح مانتے ہوئے آروپیوں کا بچاو کیا۔ اسکے بعد پولیس نے جانچ میں چھہ آروپیوں کو نردوش مانتے ہوئے بری کر دیا۔ پولیس نے ایک ویڈیو پھٹیج کے آدھار پر نو آروپیوں کی پہچان کا دعویٰ کیا، لیکن جب کیس کا کورٹ میں ٹرائل شروع ہوا تو چارج شیٹ داخل کرتے وقت جانچ ادھیکاری نے ویڈیو بنانے والے روند یادو کو کورٹ میں پیش تک نہیں کیا۔ ویڈیو کو ایپھئیمئیل جانچ کے لئے بھی نہیں بھیجا۔ نہ ہی پہلو خان کے دونوں بیٹوں سے آروپیوں کی شناخت کرائی۔ امید کی جاتی ہے ک? ایس آئی ٹی بنا بھید بھاو کے اسگھناونی طریقے سے ہتیا کو انجام دینے والے قصوروار ہتیاروں کو سلاخوں تک پہنچائیگی اور پہلو خان کی آتما کو شانتی ملے گی، انصاف ہوگا۔

(انل نریندر)

بین الاقوامی اسٹیج پر مودی کی کشمیری مسئلہ پر بڑی سفارتی جیت

انتراشٹریہ منچ پر مودی نے کشمیر مدعے پر بھاری سپھلتا حاصل کی ہے۔ پھانس کے بیارتج میں جی 7 کی بیٹھک میں مودی کی بھری بھاوبھنگما سے واضح ہو گیا کہ وہ کشمیر یدھ پر امریکہ سہت انتراشٹریہ برادری کا سمرتھن حاصل کرنے میں سپھل رہے۔ خاص طور پر امر کی راشٹرپتی ڈونالڈ ٹرمپ کی موجدوگی میں مودی کا یہ کہنا کہ دوباہمی مسئلہ پرپر وہ کسی تیسرے دیش کو کشٹ نہیں دینا چاہتے، بھارت کا کشمیر مدعے پر کڑا روکھ ظاہر کرتا ہے۔ بھارت نے باربار سپشٹ کیا ہے کہ کشمیر میں انوچھید 370 سماپت کرنا بھارت کا انترک معاملہ ہے۔ اس میں تیسرے دیش کے دخل کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ مودی کی دنیا کے تمام دیشیں کے ساتھ نجی کیمسٹری کوٹنیتک روپ سے بھارت کے لئے مددگار ہو رہی ہے۔ وہ ڈونالڈ ٹرمپ کو یہ جتانے میں کامیاب رہے ک? دونوں دیشوں کے مضبوط سامرک اور ویوپارک رشتوں میں پاکستان سے نورا کشتی آڑے نہیں آنی چاہئیے۔ پاکستان آوشیک روپ سے کشمیر میں دخل کی کوشش کر رہا ہے، بھارت کے اس فیصلے سے بھوگولک سیما میں کوئی بدلاو? نہیں ہوا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ اور نریند مودی کی ملاقات میں بےfپھکی بھی دکھی اور ٹھہاکے بھی۔ انکی انگریزی بہت اچھی ہے، لیکن یہ بات کرنا ہی نہیں چاہتے ٹرمپ نے ہنستے ہوئے کہا۔ ایک دوست کے اتنا کہتے ہی دوسرے دوست (مودی) زور سے ہنس پڑے، دونوں نے ایک دوسرے کے ہاتھوں کو گرم جوشی سے پکڑ لیا۔ ایک نے دوسرے کے ہاتھوں پر دوستی میں رچی بسی ہلکی سی چپت بھی لگا دی اور کچھ دیر تک ہنسی گونجتی رہی۔ ایک دوست دنیا کے سب سے بڑے لوکتنتر بھارت کا پدھانمنتری اور دوسرا سب سے پرانے لوکتنتر امریکہ کا راشٹرپتی۔ پھانس کے خوبصورت شہر بیارتج میں سوموار کو بھارت کے پدھانمنتری نریندر مودی اور امریکہ کے راشٹرپتی ڈونالڈ ٹرمپ کی جی 7 سمیلن میں یہ ملاقات ہوئی۔ جی 7 سمیلن میں حصہ لینے پہنچے نریندر مودی نے یہاں کئی دیشوں کے پمکھوں سے ملاقات کی۔ اس دوران ٹرمپ اور مودی کی ملاقات کا انتظار سب کو تھا۔ یہ ملاقات اسلئے بھی اہم ہو گئی تھی، کیونکہ پچھلے مہینے پاکستان کے پدھانمنتری عمران خان سے ملاقات کے دوران کشمیر مسئلے پر ٹرمپ کے بیان سے حالات کچھ تلخ ہو گئے تھے۔ لیکن جیسے ہی پھانس میں مودی اور ٹرمپ کی ملاقات آگے بڑھی، ٹرمپ کو لیکر کچھ دنوں میں بنی اوشواس کی چھوی بھی صاف ہوتی دکھی۔ ملاقات میں دونوں نیتاو ¿ں کا سہج انداز سے لگا معنوں پرانے دوست کئی دن بعد ملے ہوں۔ ایسے سمیہ جب بیارتج میں دنیا کے دگج نیتا جٹے ہوئے ہوں اور سب کی نجرے وہاں ٹکی ہوں، پدھانمنتری کے اس سپشٹ رخ سے بھارت کی کوٹنیتک جیت کی طرح دیکھا جا سکتا ہے۔ الیکھنیہ ہے ک? جموں کشمیر پر اٹھائے گئے مودی سرکار کے قدموں کا پھانس، روس جیسے دیش پہلے ہی سمرتھن کر چکے ہوں اور سویکار کرنے ک? یہ پوری طرح سے انکا ا?نترک معاملہ ہے اسکی پشٹی کرتی ہیں ک? تمام دیشوں نے اسے مان لیا ہے۔ ٹرمپ کے تازہ رخ سے بھارت کی ستھتی اور مضبوط ہوئی ہے اور ایک طرح سے پاکستان کے لئے بھی سندیش ہے ک? وہ آتنکواد کے مدعے پر اپنا رخ بدلے ورنہ اسکی مشکلیں اور بڑھ سکتی ہیں۔ آخر تین دن پہلے ہی آتنکی فنڈنگ کی نگرانی کرنے والے فائنینشیل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان پر کڑی کارروائی کی ہے اور اب اسکے پاس اسکی کالی سوچی سے بچنے کے لئے محض اکتوبر تک کا سمیہ ہے۔ یہ آوشیک ہے کہ بھارت سبھی آوشیک منچوں پر یہ سپشٹ کرے ک? وہ کشمیر میں مدھیہ ستھتا کا راگ سننے کو اسلئے تیار نہیں، کیونکہ یہ اسکا اپنا ا?نترک معاملہ ہے اور پاکستان سے کوئی بات ہوتی ہے تو وہ اسکے قبضے والے بھارتیہ بھو بھاگ کو لیکر ہی ہوگی۔

(انل نریندر)

28 اگست 2019

دنیا کا پھیپھڑا مانے جانے والے امیزن جنگل میں خوفناک ترین آگ

دوہفتے سے زیادہ کے عرصہ سے برازیل میں دنیا کے سب سے بڑے رین فاریسٹ امیزن جنگل آگ کے شعلوں میں جل رہے ہیں ۔برازیل کے اس جنگل میں لگی آگ بڑھتی ہی جا رہی ہے آگ ہر منٹ تین فٹبال میدان جتنے علاقوں میں پھیل گئی برازیل سمیت کل نو دیشوں تک پھیلے ان گنجان جنگلوں کو دنیا کا پھیپھڑا مانا جاتا ہے ۔دنیا اسے لے کر فکر مند کیوں ہے اور اس آگ میں ہمار ا کیا کیا جل کر خاک ہو گیا ہے آئیے اس پر نظر ڈالتے ہیں ۔بتایا جاتا ہے جنگل ہے تو جل ہے جنگل سے زمین کی آمد پر سب سے اچھا اثر پڑتا ہے دنیا کے دس فیصدی رین فاریسٹ امیزن کے زمینی حصہ پر ہے یہ جنگل جل گئے تو زمین بارش کے لئے ترس جائے گی انسانی سانس چلانے والی آکسیجن میں امیزن کے جنگلوں کی حصہ داری 20فیصدی بتائی جاتی ہے ۔یہ جنگل جلے تو کاربن ڈائی آکسائیڑ کافی بڑھ جائے گی امیزن کی آگ سے صرف اس سال 228میگا ٹن کاربن ہوائی زون میں گشت کر رہا ہے ۔ماحولیات پر یہ سب سے بے رحم مار ہے ۔دہکتے سورج کے سامنے جنگل انسان کے ماتھے پر شکن آنا فطری ہے وہ سورج کی تیز کرنوں کو تھامتے ہیں امیزن جنگل جس رفتار سے جل رہے ہیں اس حساب سے زمین پر بے تحاشہ گرمی بڑھنے کا اندیشہ ہے ۔آب و ہوا کی تبدیلی پر اس کا بے حد برا اثر پڑئے گا بتا دیں کہ امیزن کے جنگل کی بہت اہمیت ہے دنیا کی ایک تہائی پرند چرند کا گھر ہے امیزن کے جنگل زمین پر نایاب توازن قائم رکھتے ہیں اس میں 16ہزار سے زیادہ پیڑ پودھوں کی قسمیں ہیں 39ہزار کروڑ پیڑ آباد ہیں پانچ ہزار سے نایاب چیزیں ان جنگلوں کی مدد سے بنتی ہیں ان میں لکڑیاں ،ایندھن کے علاوہ دوائیوں کی نایا ب جڑیں بوٹیاں سب سے اہم ہیں ۔چار سو زیادہ زمین پر آباد پچاس فیصدی آبادی میں قبائلیوں کے گھر ہیں ۔جنگلوں میں زبردست آگ سے جلنے یا بٹنے سے اچانک لوگ بے گھر ہو جائیں گے ۔برازیل کے صدر بولسو نارو نے کہا کہ فوج آگ پر قابو پا لے گی دوسری ساﺅتھ امریکہ کے ملکوں کے سربراہ اس کے لئے دنیا میں بڑھتی آبادی کے دباﺅ پر رائے زنی کر رہے ہیں ۔اقوام امتحدہ ،فرانس امریکہ،جرمنی سمیت ،تمام دیشوں نے آگ سے رین فاریسٹ پر منڈرا رہے خطرے کی تشیویش جتائی اور ساتھ آگ بجھانے کے لئے بھی کئی ملکوں سے مدد کی اپیل کی ہے ۔ماہر ماحولیات اور فلمی ہستیاں امیزن کو بچانے کی اپیل کر رہی ہیں فرانس کے صدر امینویل میکرو اس آگ کو عالمی بحران بتایا ہے اور جی 7سمٹ میں امیزن آگ سانحے کا معاملہ ٹاپ ایجنڈے پر ہوگا۔

(انل نریندر)

پی وی سندھو نے رقم کی تاریخ

کھیلوں میں اتوار کا دن ہندوستان کی بیٹیوں کے لئے سنہرا رہا پی وی سندھو نے پی ڈبلیو ایف ورلڈ بیڈ منٹن چمپئن شپ میں ومین سنگل خطاب جیت کر تاریخ رقم کر ڈالی وہ اس اہم ترین چمپین شپ میں گولڈ میڈیل جیتنے والی پہلی ہندوستانی شٹلر بن گئی ہیں ۔اس سے پہلے کوئی بھی مرد یا عورت ہندوستانی شٹلر یہ کارنامہ انجام نہیں دے سکا تھا ۔پانچویں سنگل یافتہ کھلاڑی پی وی سندھو نے اپنی بالا دستی ثابت کرتے ہوئے صرف 38منٹ چلے یک طرفہ فائنل مقابلے میں جاپان کی کھلاڑی نیزومی اوکو کو 21-7سے روند کر سوئزرلینڈ کے باسیل شہر میں ورلڈ چمپین بن گئیں ۔2017میں فائنل میں اکوہارا سے ملیں ہار کا حساب بھی برابر کر لیا سندھو نے تیسری کوشش میں یہ کامیابی حاصل کی اس سے پہلے انہیں دو مرتبہ سلور میڈیل پر ہی تشفی کرنا پڑی تھی کتنا فخر ہوگا اس خاندان کو جس کی اولاد نے دنیا کی بیڈ منٹن تاریخ میں ومین ورلڈ چمپینوں کی بھارت کا نام آخر کار درج کرا کر ہی دم لیا بنا شور و غل کے ایک ہلکی سی آہٹ کے درمیان پانچ فٹ دس انچ کی اس لڑکی نے اپنی محنت سے بیڈ منٹن کی دنیا میں اپنے قد کو آسمان کی بلندیوں تو پہنچا تک دم لیا ۔اپنی والدہ کی سالگرہ کے دن ہی گولڈ خطاب کو جیت کر گھر خاندان سمیت دیش کی جھولی میں خوشیاں بھر کر اس اہم ترین ٹورنامینٹ میں گولڈ جتانے والی پہلی شٹلر بن گئیں ۔بیڈ منٹن ورلڈ چمپین بنتے ہیں پی وی سندھو کی تمام خوبیاں ہر کسی کی زبان پر آگئیں ۔پورے بھارت اور دنیا بھر میں رہ رہے ہندوستانیوں کے بے حد فخٰر کی بات ہے بیڈ منٹن میں بھارت کی اس ابھرتی کھلاڑی نے اپنے پرفارمینس کو مزید بہتر بناتے ہوئے کئی خطاب جیتے ہیں ۔پیشہ ور سابق والی وال کھلاڑی میاں بیوی پی وی رمن اور شرمتی پی وی وجیہ کے گھر پر پانچ جولائی 1995کو پیدا ہوئی پی وی سندھو کے والد کو والی بال میں شاندار اشتراک کے لئے سال 2000میں بھارت سرکار کا اہم ترین کھیل ایوارڈ ارجن پرسکار بھی مل چکا ہے لیکن پی وی سندھو کا رجحان بیڈ منٹن میں محض چھ سال کی عمر میں اس وقت ہو گیا تھا جب وہ گوپی چند آل انگلینڈ اوپین بیڈ منٹن چمپین بنے تھے ۔8سال کی ہوتے ہوتے سندھو بیڈ منٹن کے کھیل میں ایسی رنگ گئیں کہ پھر کبھی پیچھے ہٹ کر نہیں دیکھا ۔انڈین ریلوئے سگنل انجئیرنگ اور ٹیلی کمیونیکیشن کے بیڈ منٹن کوڈ میں اپنے پہلے گرو محبوب علی سے بیڈ منٹن کھیل کی شروعات کی اور باریکیوں کو سمجھا بعد میں پہلے سے ہی متاثر دلیلا گوپی چند کی بیڈ منٹن اکیڈمی چلی گئیں جو ان کے گھر سے 56کلو میٹر دور تھی پی وی سندھو پر ہر ہندوستانی کو فخر ہے ہو بھی کیوں نہ کیونکہ وہ خود آئی کون ہیں جن کی ڈکشنری میں نا ممکن لفظ نہیں ہے ۔یقینی طور سے سندھو نوجوانوں کے لئے نئی مشعل راہ ہیں اور بیڈ منٹن کے تئیں کشش بڑھاتی ہیں ۔

(انل نریندر)

پاک پی او کے میں بھارت سے جنگ کی تیاریوں میں لگا

جی7-سمٹ کے موقع پر وزیر اعظم نریندر نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات سے بوکھلائے پاکستان نے کچھ دیر بعد عمران خان نے اپنے سرکاری ٹی وی پر اپنے عوام کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر پر دنیا میں کوئی ہمارا ساتھ نہیں دے رہا ہے ۔دونوں طرف نیوکلیائی ہتھیار ہیں اگر جنگ ہوئی تو دونوں ملکوں کے ساتھ پوری دنیا کی تباہی ہوگی ہم کشمیر کے لئے کسی بھی حد تک جائیں گے ۔جموں و کشمیر میں دفعہ370ہٹنے کے بعد بھارت پاکستان کے رشتوں میں تلخی آگئی ہے ایک طرف وزیر اعظم عمران خان دنیا سے کشمیر مسئلہ پر سفارتی مدد کی اپیل کر رہے ہیں تو دوسری طرف پاکستانی فوج نے چپ چاپ پی او کے میں اپنی سرگرمی بڑھا دی ہے ۔بالا کوٹ حملے سے سبق لیتے ہوئے فوج اس مرتبہ پہلے سے کہیں زیادہ سوچ سمجھ کر حکمت عملی بنا رہی ہے اس لئے وادی سے 370ہٹنے کے اگلے دن سے ہی فوج کنٹرول لائن پر سرگرم ہوگئی ہے ۔پاک فوج کے ذرائع کے مطابق فوج بھارت کے ساتھ ایک چھوٹے جنگ کی تیاری میں لگی ہے فوج کے افسر کشمیر میں اسٹیٹس کو بدلنے کے بعد فوجی جواب دینے کی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں ۔پاک ملیٹری کے ایک کمانڈنگ افسر جو کہ پی او کے کے دانا سیکٹر میں تعینات ہیں بتایا کہ موجودہ حالات کسی جنگ کی تیاری سے کم نہیں ہیں ۔کنٹرول لائن کے قریب جس طرح گولا بارود اور سازو سامان لایا جا رہا ہے وہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے ۔حالات سے تو یہی لگتا ہے کہ جنگ کبھی بھی چھڑ سکتی ہے ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ کنٹرول لائن کے ہر علاقہ میں فوج کی چھ برگیڈ لگائی جا رہی ہیں ۔فوج کا اہم فوکس دانا اور باگ سیکٹر میں ہے کیونکہ لاجسٹک اور حکمت عملی کی شکل میں علاقہ بہت اہم ہے ۔ان برگیڈوں کے ساتھ ہی گولا بارود بھی پہنچایا جا رہا ہے ۔اور یہ سب سے زیادہ واگ ،لیپا اور چمبا سیکٹر میں ہی جمع کی جا رہی ہے ۔اسلام آباد اور سیاسی گلیاروں میں بھی ہلچل ہے کہ پاکستان جنگ کی تیاری میں لگ گیا ہے ۔پاک فوج کے اعلیٰ سطحی افسر نے بتایا کہ کب جنگ شروع ہو جائے گی یہ کہنا مشکل ہے لیکن یہ طے ہے کہ بھارت پاکستان کی فوجیں جنگ کے لئے تیار ہیں یہ بھی طے ہونا ہے جو بھی کچھ ہو وہ ستمبر سے اکتوبر کے درمیان ہو کیونکہ پھر برف پڑنی شروع ہو جائے گی اور جنگ لڑنا مشکل ہو جائے گا۔پاک فوج کا خیال ہے برف پڑنے سے پہلے بھارت انہیں نیلم ندی سے پیچھے ڈھکیلنا چاہتی ہے پھر اگلی گرمی تک کے لئے دونوں افواج کا یہ اسٹینڈ اسٹل پوزیشن بن جائے گی ۔اگر ایسا ہوتا ہے تو فوج ہر حالت میں اسے روکے گی اکیس اگست کو نیویارک ٹائمس کو دئے گئے انٹریو میں پاک وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ اب بھارت سے بات کرنے کا کوئی تک نہیں بنتا جس طرح کا ماحول چل رہا ہے اس سے ایک محدود جنگ کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے ۔

(انل نریندر)

27 اگست 2019

مان نہ مان میں تیرا مہمان

جموں کشمیر میں دفعہ370 ہٹنے کے بعد کشمیر مدعے پر تیسری بار ثالثی کی پیشکش کر امریکی راشٹرپتی ڈونالڈ ٹرمپ نے عادتاً خود کی مضبوط ساخت پیش کرنے کی کوشش بھلے ہی کی ہو، لیکن اس پرکارروائی میں انہوں نے اپنی ہی ساخ کو دھکا پہنچایا ہے۔ پتہ نہیں، یہ انکی افغانستان میں فوری فرطی سے کچھ کر دکھانے کی تمنا ہے یا کوئی بے صبری، ٹرمپ آج کل آئے دن کوئی نہ کوئی نیا شگوفہ چھوڑ رہے ہیں۔ ایک دن وہ کہتے ہیں کہ بھارت نے ان سے کشمیر پر مدھیہ ستھتا کے لئے کہا ہے اور دوسرے دن ہی اس سے پلٹ جاتے ہیں۔ دو دن بعد پھر دوہرا دیتے ہیں کہ وہ مدھیہ ستھتا کے لئے تیار ہیں۔ اتنے پر ہی نہیں رکے ٹرمپ، انہوں نے کشمیر کو سامپردائک رنگ دینے کی کوشش بھی کر ڈالی، جسکی نہ تو کم سے کم امریکی راشٹرپتی سے امید تھی اور نہ ہی اسکی ضرورت تھی۔ اب انہوں نے تازہ شگوفہ چھوڑا ہے کہ بھارت کو افغانستان میں آ کر آتنکواد سے لڑنے کا کام کرنا چاہئیے۔ یہ بھی کہا کہ بھارت نے افغانستان میں کچھ نہیں کیا۔ شائد انکی سوچ یہ ہو کہ امریکہ سات ہزار کلومیٹر کی دوری سے کام کر رہا ہے اور بھارت، پاکستان و روس آس پاس ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر رہے۔ افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی کو لیکر انکے دیش پر جو دباو ¿ ہے، اسے سمجھا جا سکتا ہے، لیکن بیانوں کی بے صبری ڈونالڈ ٹرمپ دکھا رہے ہیں وہ قطعی قابل قبول نہیں ہے۔ انہیں پتہ ہونا چاہئیے کہ جموں کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور پاکستان کےبرعکس بھارت سرکار کشمیر مدعے پر کسی تیسرے پکش کی مدھیہ ستھتا کبھی سویکار نہیں کریگی۔ صرف یہی نہیں کہ فرانس، برٹین اور بنگلہ دیش، افغانستان جیسے دیشوں نے دفعہ370 پر فیصلے کو بھارت کا اندرونی معاملہ بتاتے ہوئے کشمیر کو بھارت اور پاکستان کے بیچ کا باہمی ایشوبتا چکے ہیں، بلکہ حد تو یہ ہے کہ ٹرمپ نے پچھلے ہفتہ آئی مریکی ودیش منترالیہ کی اس رد عمل کی ان دیکھی کر دی، جسمیں کہا گیا تھا کہ کشمیر مدعا بھارت اور پاکستان کو ہی سلجھانا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں جب ٹرمپ نے بھارت کی بھومکا کو لیکر طنزکسے ہوں۔ کچھ وقت پہلے بھی انہوں نے وہاں لائبریری بنوانے کو لیکر بھارت کا مذاق اڑایا تھا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پوری دنیا اور خود افغانستان نے کئی موقعوں پر بھارت کی اہم رول کو قبول کیا ہے۔ بھارت اب تک افغانستان میں تین عرب ڈالر سے زیادہ کی رقم خرچ کر چکا ہے۔ یہ امید ہے کہ فرانس میں جو جی 7 کی بیٹھک میں کشمیر پر اپنا موقف بھارت سے رکھتے ہوئے پردھان منتری نریندر مودی پوزیشن کو صاف کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر مسئلہ پر بھارت کو کسی تیسرے فریق کی مداخلت منظور نہیں ہے۔ اس طرح انہوں نے ٹرمپ کی پیشکش کی ہوا نکال دی ہے ۔اتنا طے کہ ایک بار پھر بتاتا ہے کہ ٹرمپ کسی کے دوست یا ہتیشی نہیں ہو سکتے۔

-انل نریندر

بھاجپا کے سنکٹ موچک اور چانکیہ جیٹلی کا جانا

 جب بھی بھاجپا کسی سمسیا میں پھنستی تھی ارون جیٹلی ہی اسے باہر نکالتے تھے۔ بھاجپا کے راشٹریہ صدر لکشمن تہلکہ معاملے میں پھنسے تو اٹل جی کو صلاح دی کہ پارٹی کے ٹاپ نیتا چندہ نہ لیں۔ اٹل جی مان گئے۔ خرانچی ہی چندہ لیگا، ایسی سسٹم ارون جیٹلی کی ہی صلاح پر عمل ہوا۔ 2002 کے گجرات دنگوں کے بعد مودی کی قانونی دقتیں دور کرنے کی ذمیداری جیٹلی نے ہی اٹھائی۔ لوگ اسلئے انہیں مودی کا چانکیہ بھی مانتے تھے۔ جیٹلی نے بھاجپا میں جونیئر اور سینیئر نیتاو ¿ں کو پردھان منتری پد کے لئے مودی کے نام پر راضی کیا۔ 2010 میں سحرب الدین اینکاو ¿نٹر معاملے میں کورٹ نے امت شاہ کے گجرات میں پرویش پر روک لگائی تھی۔ تب شاہ مدد مانگنے جیٹلی کے گھر پہنچے۔ انہوں نے شاہ کے وکیلوں کو گائڈ کیا اور تب جاکر امت شاہ پر روک ہٹی۔ ارون جیٹلی ایک نیک، دریا دل انسان تھے۔ کچھ باتیں اب پتہ لگتی ہیں۔ جہاں ارون جیٹلی کے بچے پڑھے انہوں نے اپنے ڈرائیور اور باورچی کے بچوں کو بھی وہیں پڑھایا۔ دان وہی جو گپت دان ہو اور مدد وہی جو دوسرے ہاتھ کو بھی پتہ نہ چلے۔سابق وزیر ارون جیٹلی بھی کچھ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ جیٹلی اپنے نجی سٹاف کے زندگی کے معیار کو اونچا اٹھانے کے لئے کئی اہم ذمہ داریاں نبھاتے تھے۔ انکے پریوار کی دیکھ ریکھ بھی اپنے پریوار کی دیکھ ریکھ کی طرح کرتے تھے، کیونکہ وہ انہیں اپنے پریوار کا حصہ مانتے تھے۔ دوسری اور کرمچاری بھی پریوار کے سدسیہ کی طرح جیٹلی کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ انہیں وقت پر دوا دینی ہو یا ڈائٹ، سب کا خوب خیال رکھتے تھے۔ جیٹلی نے ایک غیر اعلانیہ پالیسی بنا رکھی تھی جسکے تحت انکے کرمچاریوں کے بچے چانکیہ پوری اسینوینٹ سکول میں پڑھتے تھے، جہاں جیٹلی کے بچے پڑھے ہیں۔ اگر کرمچاری کا کوئی پرتبھاوان بچہ ودیش میں پڑھنے کا اچھک ہوتا تھا تو اسے ودیش میں وہیں پڑھنے بھیجا جاتا تھا، جہاں جیٹلی کے بچے پڑھے ہیں۔ ڈرائیور جگن اور سہایک پدم سہت قریب 10 کرمچاری جیٹلی کے پریوار کے ساتھ پچھلے دو تین دہائیوںسے جڑے ہوئے ہیں۔ ان میں سے تین کے بچے ابھی بھی ودیش میں پڑھ رہے ہیں۔ معاون کا ایک بیٹا ڈاکٹر، دوسرا بیٹا انجینئر، جیٹلی پریوار کے کھانے پینے کا پورا انتظام دیکھنے والا دیکھنے والا جوگیندر کی دو بیٹیوں میں سے ایک لندن میں پڑھ رہی ہیں۔ سنسد میں سائے کی طرح جیٹلی کے ساتھ رہنے والے سہیوگی گوپال بھنڈاری کا ایک بیٹا ڈاکٹر اور دوسرا انجینئر بن چکا ہے۔ آج کے یگ میں ایسا کون کرتا ہے؟ جیٹلی کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ بھاجپا نے تو اپنا سرکردہ وجنری نیتا کھویا ہے اور دیش نے ایک نیک انسان۔ ہم انہیں اپنی شردھانجلی دیتے ہیں اور انکے پریوار کو اس بھاری نقصان برداشت کرنے کے لئے بھگوان سے پرارتھنا کرتے ہیں کہ انہیں شکتی دے، دھیریہ دے۔ انہیں اتنا سنتوش تو ہوگا کہ ارون جی کے جانے سے صرف انہوں نے نہیں پورے دیش نے ایک مہان، نیک سپوت کھو دیا جسکی کمی پوری ہونا مشکل لگتی ہے۔

۔ انل نریندر

25 اگست 2019

بسکٹ کمپنی پارلے جی پر جی ایس ٹی کی مار

ہندوستانی معیشت کی مندی کا اثر دیش کی سب سے بڑی بسکٹ بنانے والی کمپنی پارلے جی پر دیکھنے کو مل رہا ہے اس لئے آنے والے دنوں میں بسکٹ کمپنی کے د س ہزار ملازمین کی نوکری پر سنکٹ کے بادل مڈرا رہے ہیں ۔ایک رپورٹ کے مطابق پارلے جی اپنے پروڈکٹس کی بکری میں سست روی کی وجہ سے ہزاروں ملازمین کی چھٹنی کر سکتی ہے ۔بتا دیں کہ پورے دیش میں مشہور پارلے جی بسکٹ بنانے والی کمپنی ہے اور یہ گھر گھر کی پسند بن چکا ہے اور اس پر اثر پڑا تو اس کا بہت برا اثر پڑئے گا ۔کمپنی کے کنٹری ہیڈ مینک شاہ کے مطابق یہ سستی جی ایس ٹی کی وجہ سے آئی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ ہم مسلسل سرکار سے بسکٹ پر جی ایس ٹی گھٹانے کی بات کر رہے ہیں اگر سرکار نے ہماری بات نہیں مانی یا کوئی متابادل نہیں بتایا تو ہمیں مجبوراََ آٹھ سے دس ہزار لوگوں کی چھٹنی کرنی پڑ سکتی ہے ہم نے حکومت نے سو روپئے کلو یا اس سے کم قیمت والے بسکٹ پر جی ایس ٹی گھٹانے کی بات کی ہے جی ایس ٹی لاگو ہونے سے پہلے سستے بسکٹ پر بارہ فیصدی ٹیکس لگایا جاتا تھا لیکن اب تو سبھی بسکٹوں کو اٹھارہ فیصدی جی ایس سلیب میں ڈال دیا ۔بسکٹ کے دام بڑھنے سے بکری میں گراوٹ آگئی کمپنی کے سربراہ کے مطابق پارلے نے بسکٹ پر پانچ فیصدی قیمت بڑھائی ہے جس وجہ سے اس کی فروخت میں بھاری گراوٹ آئی ہے قیمتوں کو لے کر بہت زیادہ نارض ہوتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ انہیں کتنے بسکٹ مل رہے ہیں اور اس فرق کو سمجھنے کے بعد گراہک چوکس ہو جاتے ہیں 90سال پرانی بسکٹ کمپنی پارلے کے دس پلانٹ اور اپنے 125کنٹریکٹ والے پلانٹ ہیں ان میں ایک لاکھ کرمچاری کام میں لگے ہوئے ہیں ۔کمپنی کی سالانہ محصول آمدنی 99.40کروڑ روپئے ہے ۔پچھلے دنوں پارلے کی بڑی مخالف کمپنی برطانیہ انڈسٹریز کے مینجنگ ڈائیرکٹر ورون بیری نے بھی بسکٹ کی بکری میں بھاری گراوٹ کا تذکرہ کیا تھا ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے بڑھنے سے گاہک پانچ روپئے کے بسکٹ بھی خریدنے سے کترا رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ہماری پیداوار صرف چھ فیصدی ہوئی ہے ۔مارکیٹ کروتھ ہم سے بھی سست ہے ۔اس سے پہلے مارکیٹ ریسرچ فرم میلسن نے کہا تھا کہ اکنومک گراوٹ کی وجہ سے کنزیومر گڈس انڈسٹری ٹھنڈی پڑی ہے ۔کیونکہ دیہی علاقوں میں کھپت گھٹ گئی ہے ان کی رپورٹ کے مطابق نمکین بسکٹ،مسالے،صابن کی فروخت میں کافی سستی دکھائی دے رہی ہے ۔اگر سرکار نے پارلے جی کمپنی کی جی ایس ٹی گھٹانے کی مانگ پر فوری توجہ نہ دی تو کمپنی کے ملازمین کو چھٹنی کی شکل میں خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے اس لئے سرکار کو غور کرنے کی ضرورت ہے ۔

(انل نریندر)

جج کو ہار کی عدالت میں چلا کورٹ روم لائیو

سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم کو سی بی آئی نے جمعرات کو لنچ کے بعد سخت حفاظت کے درمیان سوا تین بجے راﺅز ائیونو میں واقع جج اجے کمار کوہار کی عدالت میں پیش کیا چدمبرم پر سنگین الزام لگاتے ہوئے سرکار کے وکیل تشار مہتا نے سی بی آئی عدالت کو بتایا کہ وہ تفتیش میں تعاون نہیں دے رہے ہیں اور نہ ہی کچھ بتا رہے ہیں ۔ان کے پاس آئی این ایکس میڈیا معاملے سے وابسطہ کئی دستاویز ہیں انہوںنے پہلے ہامی بھری اور بعد میں مکر گئے دہلی ہائی کورٹ نے بھی ان کی پیشگی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے انہیں حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کرنے کی بات کہی جانچ ابھی چل رہی ہے اور ان سے مزید پوچھ تاچھ کرنی ہے ۔ان کےخلاف قابل اعتراض دستاویز ملے ہیں ۔کئی دستاویز چدمبرم کے نام ہیں وہ اسے نہیں دے رہے ہیں ۔ان کے غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت دینے سے پہلے اور بعد میں بھی سازش کی بات سامنے آئی ہے ابھی تک چارج شیٹ داخل نہیں ہوئی ہے اس لئے انہیں حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کرنے کی ضرورت ہے انہیں پانچ دنوں کی سی بی آئی حراست میں سونپا جائے کیونکہ سارے کام ان کے عہد میں ہوئے اس طرح معاملے میں سپریم کورٹ نے بھی حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کرنے کی بات کہی ہے ۔چدمبرم کی طرف سے سینر وکیل کپل سبل نے کہا کہ سی بی آئی ان سے 22مرتبہ پوچھ تاچھ کر چکی ہے۔ اور انہوںنے ہمیشہ تعاون دیا ہے ۔اس معاملے میں ان کے لڑکے کارتی چدمبرم کو باقاعدہ ضمانت و بھاسکر کو پیشگی ضمانت مل چکی ہے غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت دینے والے چھ افسران میں سے ابھی تک کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ۔اس معاملے میں اندرانی مکھرجی بھی ضمانت پر ہیں ۔اس لئے چدمبرم کو حراست میں دینے کی ضروت نہیں ہے یہ درخواست ان کی طرف سے وکیل کپل سبل نے عدالت سے کی تھی ان کا کہنا تھا کہ اگر سی بی آئی کو پھر سے پوچھ تاچھ کرنی ہے تو انہیں وہ پھر بلا سکتی ہے ۔سی بی آئی سبھی سوالوں کی فہرست دے دے اور اس کا جواب دیا جائے گا ۔اس معاملے میں چارج شیٹ کا مسودہ بھی تیار ہو چکا ہے ۔سرکاری وکیل نے کہا کہ انہیں ضمانت کا حق ہے اور حراست مخصوص حالات میں دی جاتی ہے ۔اس لئے انہیں ضمانت پر چھوڑ دیا جائے ۔کیس کی ڈائری کو ثبوت نہیں مانا جا سکتا ۔ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے ۔ثالٹ شیٹر جنرل نے جواب دیا کہ ڈائری بھلے ہی مکمل نہ ہو لیکن ابھی جانچ کا وقت ہے اور سی بی آئی سبھی باتوں کا خلاصہ نہیں کر سکتی یہ سی بی آئی افسر پر منحصر ہے کہ وہ کون سے سوال اور کیسے پوچھے اس کے لئے اس پر دباﺅ نہیں بنایا جا سکتا ۔سی بی آئی نے ہائی کورٹ میں بھی کیس کی ڈائری سونپی ہے ۔اور وہاں بھی کہا ہے کہ اس کی جانچ جاری ہے ۔اس لئے جانچ ختم ہونے کی بات نہیں کی جا سکتی ۔اور نہ ہی چارج شیٹ تیار ہونے کی بات ۔دوسرے وکیل ابھیشک منو سنگھوی نے چدمبرم کی طرف سے عدالت میں کہا کہ کیس ڈائری ثبوت نہیں ہوتی اس میں صرف افسر کے ذریعہ لکھی باتیں ہوتی ہیں پورا معاملہ اندرانی مکھرجی کے بیان پر منحصر ہے ۔اس کے چار مہینے بعد پی چدمبر م سے تفتیش ہوئی سی بی آئی اس لئے حراست مانگ رہی ہے کیونکہ اس کے من کے مطابق جواب نہیں ملا وہ چدمبر م سے کیا پوچھنا چاہتی ہے ۔سوال کورٹ بتائے ۔مہتا :کورٹ میں کیسے بتا دیں آپ میرے سے پوچھ تاچھ کا حق نہیں چھین سکے ہم ملک کے مفاد میں کام کر رہے ہیں ۔شاطر لوگوں سے نمٹ رہے ہیں ۔سنگھوی :جون 2018میں اس معاملے میں سی بی آئی نے ایک نیا لفظ گھڑا ہے ۔گریوٹی۔اس کا قانون میں کوئی مطلب نہیں ہے ۔ضمانت خارج کرنے کی تین بنیاد ہو سکتی ہے ۔جانچ میں تعاون نہ دینے سے بھاگنا قانون سے بھاگنے کا خطرہ اور ثبوتوں سے چھیڑ چھاڑ ۔ان میں سے کوئی بھی اس کیس میں چدمبرم پر لاگو نہیں ہوتی اسپیشل جج اجے کمار کوہار نے سی بی آئی سے یہ جاننا چاہا کہ اس نے چدمبرم کی پیشگی ضمانت پر سماعت کے دوران ہائی کورٹ میں کیا حلف نامہ دیا ہے ۔اس کا جواب دیتے ہوئے مہتا نے کہا کہ بڑی عدالت میں بھی حلف نامہ داخل کر چدمبرم کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کرنے کی اجازت مانگی تھی ۔عدالت نے اس معاملے میں قریب پونے دو گھنٹے زور دار بحث ہوئی اس درمیان چدمبرم کٹھرے میں کھڑے رہے ۔چدمبرم نے کہا کہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں جس پر سرکاری وکیل توشار مہتا نے اعتراض جتایا اور ان کا کہنا تھا کہ ان کی طرف سے دو سینر وکیل ان کا موقوف رکھ رہے ہیں اس لئے انہیں بولنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی لیکن عدالت نے اجازت دے دی ۔چدمبرم نے عدالت کو بتایا کہ جب انہیں بلایا گیا تھا تو اس معاملے سے وابسطہ کوئی سوال نہیں پوچھا گیا سی بی آئی نے صرف اتنا پوچھا تھا کہ آپ کے بیرون ملک میں کتنے بینک کھاتے ہیں ۔قریب 4.55بجے عدالت نے سبھی فریقوں کی بات سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا اور قریب چھ بج کر 35منٹ پر عدالت نے چدمبرم کو پانچ دن کے لئے پولس حراست میں بھیجنے کا حکم دے دیا ۔26اگست کو انہیں دوبارہ پیش کیا جائے گا ۔لیکن سی بی آئی حراست میں رہنے کے دوران وکیل اور گھر والے آدھا آدھا گھنٹا ملزم سے مل سکیں گے ۔جج اجے کمار کا کہنا تھا کہ ثبوتوں اور حالات کو دیکھتے ہوئے سی بی آئی کی حراست مامول سے مطابق ہے اور الزام بے حد سنگین ہے اس لئے لین دین کی تہہ تک پہنچنا ضروری ہے ۔لیکن ملزم کے وقار کو ٹھیس نہیں پہنچنی چاہیے عدالت نے سارا وقت چدمبرم کی بیوی اور بیٹے کارتک موجود رہے ۔

(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...