Translater

Libya لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Libya لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

23 اکتوبر 2011

ہیرو سے ولن تک کاقذافی کا طویل سفر




Published On 23rd October 2011
انل نریندر
لیبیا میں 22 سال تک حکومت کرنے والا 69 سالہ ڈکٹیٹر معمر قذافی آخر کار جمعرات کو مارا ہی گیا۔ اس کی موت اس کے آبائی شہر مسراتا میں سر اور پیر میں گولیاں لگنے سے ہوئی۔ حملے میں اس کے بیٹے متصم اور فوج کے سربراہ ابوبکر یوسف زبر تک سمیت کئی ساتھی بھی مارے گئے۔ قذافی کے گڑھ پر باغی فوجیوں نے قبضہ کرلیا تھا اور اس پر ناٹو حملے بھی ہورہے تھے۔ قدافی ہوائی حملے میں پہلے ہی بری طرح زخمی ہو چکا تھا۔ باقی فوجیوں کے مطابق وہ ایک پائپ لائن میں چھپ کر بیٹھا تھا۔ فوجیوں کو بڑھتے دیکھ کر وہ گڑ گڑانے لگا' مجھے مت مارو ،مجھے مت مارو۔۔۔'' لیکن فوجیوں نے ایک نہ سنی اور اس کے سر اور دونوں پیروں میں گولی ماردی جس سے اس کی موت ہوگئی۔ باغیوں کے مطابق اس کے پاس سے ایک سونے پستول ملی۔ وہ فوجی وردی میں تھا۔ قذافی ہمیشہ سے ہی متنازعہ شخصیت رہے۔ کچھ لوگوں کی نظروں میں جب42 سال قبل انہوں نے شاہ ادریس کا تختہ پلٹا اور اقتدار حاصل کیا تو ابتدائی برسوں میں انہوں نے کئی اچھے کام کئے۔ انہوں نے اپنا ایک سیاسی نظریہ قائم کیا جس پر انہوں نے ایک کتاب بھی لکھی جو ان کی نظر میں اس خطے میں پلیٹولاک اور مارکس کی طرز فکر سے بھی کہیں آگے تھی۔ کئی عرب اور عالمی میٹنگوں میں وہ نہ صرف اپنے الگ قسم کے لباس کی وجہ سے بلکہ دھنواں دھار تقاریر اور اپنے وراثتی رنگ ڈھنگ سے بھی الگ نظر آئے۔ سال1969 میں جب انہوں نے فوجی تختہ پلٹ کر اقتدار حاصل کیا تھا تو معمر قذافی ایک خوبصورت اور کرشمائی نوجوان فوجی افسر تھے۔خود کو مصر کے جمال عبدالناصر کا شاگرد بتانے والے قذافی نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد خود کو کرنل کے خطاب سے نوازا اور دیش کی اقتصادی اصلاحات کی طرف توجہ دی، جو برسوں کی غیر ملکی وابستگی کے چلتے خستہ حالت میں تھی۔ اگر ناصر نے سوئز نہر کو مصر کی بہتری کا راستہ بنایا تھا تو کرنل قذافی نے تیل کے ذخائر کو اس کے لئے چنا۔ لیبیا میں 1950 کی دہائی میں تیل کے بڑے ذخیروں کو پتہ چلا تھا لیکن اس کی تلاش کا کام پوری طرح سے غیر ملکی کمپنیوں کے ہاتھ میں تھا جو اس کی ایسی قیمت طے کرتے تھے جو لیبیا کیلئے نہیں بلکہ خریداروں کو فائدہ پہنچاتی تھی۔ قذافی نے تیل کمپنیوں سے کہا کہ یا تو وہ پرانے معاہدے پر نظرثانی کرتے یا ان کے ہاتھ سے کھوج کا کام واپس لے لیا جائے گا۔
لیبیا وہ پہلا ترقی پذیر ملک تھا جس نے تیل کی کھدائی سے ملنے والی آمدنی میں بڑا حصہ حاصل کیا۔ دوسرے عرب ممالک نے بھی اس پر عمل کیا ۔ عرب دیشوں میں 1970ء کی دہائی میں پیٹروبوم یعنی تیل کی بہتر قیمتوں سے شروع ہوا خوشحالی کا دور۔ قذافی نے اپنے ابتدائی دور میں لیبیائی شہریوں کے لئے کئی اسکیمیں شروع کیں کہ وہ ہیرو بن گئے۔ لیکن پھر انہوں نے دہشت گرد عناصر کی حمایت کرنا شروع کردی اور آہستہ آہستہ وہ ایک ڈکٹیٹر بن گئے جو اپنے کسی بھی مخالف کو برداشت کرنے کو تیار نہیں تھا۔ جو بھی اس کے خلاف آواز اٹھاتا اسے گولی ماردی جاتی۔ برلنگ میں ایک نائٹ کلب پر سال1986 میں ہوا حملہ قذافی کی مدد سے کٹر پنتھیوں نے کیا تھا۔ اس کلب میں اکثر امریکی فوجی آیا کرتے تھے۔ واقعی سے ناراض امریکی صدر رونالڈ ریگن نے ترپولی اور بین غازی پر ہوائی حملے کئے۔
دوسری واردات جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا وہ تھا لاکربی شہر کے پاس امریکی ایئر لائنس جہاز میں بم دھماکہ جس میں270 لوگ مارے گئے تھے۔ کرنل قذافی نے حملے کے مشتبہ کو اسکاٹ لینڈ کے حوالے کرنے سے منع کردیا۔ اس کے بعد لیبیا کے خلاف اقوام متحدہ نے اقتصادی پابندی لگادی جو دونوں لوگوں کو سرنڈر کرنے کے بعد 1999ء میں ہٹا دی گئی۔ 2010 ء میں تیونس میں عرب دنیا میں تبدیلی کا انقلاب شروع ہوا تو اس سلسلے میں جن ملکوں کا نام لیا گیا اس میں لیبیا پہلی فہرست میں نہیں تھا۔ کیونکہ قذافی مغربی دیشوں کا پٹھوں نہیں سمجھا جاتا تھا جو علاقے میں جنتا کی ناراضگی کا سب سے بڑا سبب مانا جاتا تھا۔ انہوں نے تیل سے ملنے والی دولت کو بھی دل کھول کر بانٹا۔ یہ بات الگ ہے کہ آخری کچھ برسوں میں اس کی توجہ اپنے اور اپنے خاندان کو امیر بنانے میں مرکوزہوگئی۔ ایک اندازے کے مطابق قذافی کے پاس 7 بلین ڈالر (یعنی 3.5 کھرب روپے) کی مالیت کا سونا تھا۔ کینیڈا میں 2.4 بلین ڈالر یعنی1.19 کھرب روپے، آسٹریلیا میں1.7 بلین ڈالر یعنی 84 ارب روپے، برطانیہ میں 1 بلین ڈالر یعنی 49 ارب روپے جو لیبیا انقلاب شروع ہونے کے بعد ضبط کئے گئے ہیں۔دنیا بھر کے بینکوں میں لیبیا کی168 ارب ڈالر جمع ہیں۔ چھ ماہ چلی بغاوت میں لیبیا کو 15 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔
معمر قذافی اپنی طرز زندگی جینے کے طور طریقوں اور خاص طور پر امریکہ کے ساتھ رشتوں کو لیکر ہمیشہ سرخیوں میں رہے۔ اکثر خبریں آتی تھیں کہ ان کی سکیورٹی گارڈ خواتین تھیں۔ ایک بار جب وہ امریکہ گئے تو کسی عمارت میں نہ ٹھہر کر اپنا کیمپ الگ لگا کر رہتے تھے۔ 1942ء میں قذافی کی پیدائش ایک خانہ بدوش خاندان میں ہوئی تھی۔ 1961ء میں لیبیا کی یونیورسٹی میں تاریخ کی طالب حاصل کرنے گئے تھے اس کے بعد وہ بین غازی فوجی اکیڈمی میں شامل ہوگئے۔1965 گریجویٹ ہونے کے بعد قذافی لیبیا فوج میں سروس کرنے لگے۔ انہیں 1966 میں ٹریننگ دینے کے لئے برٹین کی رائل فوجی اکیڈمی سنفورت بھیجا گیا۔ یکم اگست1969 ء کو قذافی کی لیڈر شپ میں فوجی افسران کے ایک دستے نے فری آفیسر مومنٹ نے خونی انقلاب کے ذریعے اس وقت کے حکمراں شاہ ادریس کو مار گرایا اور لیبیا میں عرب جمہوریت قائم کی۔ قذافی کبھی بھی بھارت کا دوست نہیں رہا۔
1971 کی جنگ کے بعد وہ کھلے طور سے پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ماتم میں شامل ہوا تھا۔ یہ ہی نہیں انہوں نے مسلم ممالک سے اسلامی بینک اور اسلامی بن بنانے کی اپیل کی تھی تو ڈکٹیٹر قذافی نے جنگوں کو سب سے زیادہ فروغ دیا تھا۔ بھٹو بھی قذافی سے اتنے متاثر تھے کہ ان کے نام پر اپنے دیش میں ایک اچھا اسٹیڈیم بھی لاہور میں بنا دیا۔ قذافی نے ایک بار بھارت کو اس وقت بھی سفارتی الجھن میں ڈال دیا تھا جب انہوں نے کشمیر کو ایک آزاد ملک بنانے کی حمایت کی تھی اور کہا کہ یہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک پل ہونا چاہئے۔ سال2009ء میں اقوام متحدہ میں اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ بھارت ان دیشوں میں شامل ہے جو سکیورٹی کونسل میں مستقل سیٹ کے لئے کوشش میں لگا ہوا ہے۔ کشمیر آزاد دیش ہونا چاہئے نہ ہندوستانی نہ پاکستانی۔ ہمیں اس لڑائی کو ختم کرنا چاہئے۔ یہ پہلی بار تھا جب ہندوستانی برصغیر سے باہر کسی اسلامی لیڈر نے بھارت اور پاکستان سے کشمیر کی آزادی کی وکالت کی تھی۔
معمرقذافی نے صدام حسین کے شکنجے میں پھنسنے کے بعد مغربی ممالک کے سامنے ہتھیار ڈالے اور امریکہ کا وست بن گیا لیکن جب عرب انقلاب شروع ہوتے ہی ان کے اندر کی تاناشاہی جاگ گئی۔ اس دوران جمہوریت تحریک کو دبانے کے لئے انہوں نے اجتماعی آبروریزی جیسے جدید ہتھیار کو اپنانے سے پرہیز نہیں کیا۔ کرنل قذافی کی اس حرکت سے نہ صرف مغرب کی دوہری پالیسی کی ہی ایک مثال ہے یوروپ۔ امریکہ نے عرب ممالک کو زیادہ سے زیادہ لوٹا کھسوٹا اور انہیں ان کے حال پر چھوڑدیا۔
ظاہر ہے مغرب کی حمایت کے بغیر قذافی چار دہائی تک اپنا نکمی حکومت نہیں چلا سکتا تھا اور اب ان کی موت کے بعد لیبیا کو جمہوریت کے راستے پر لے جانے کا راستہ نہ تو قومی انترم کونسل کے پاس ہے اور نہ ہی ان کے آقا یوروپ امریکہ کے پاس ہے۔ جب افغانستان اور عراق میں امن اور استحکام کا مقصد پورا نہیں ہو پایا تو لیبیا کے حالات تو جرمنی سے بھی پیچیدہ ہیں۔ آخری لمحوں تک قذافی نے ہتھیار نہیں ڈالے۔ غیر ملکی فوج نئی سرکار کے لڑاکو کے خلاف گھنٹوں مورچہ سنبھالے رکھا۔ فوج نے جس بربریت سے لاتوں اور گھونسوں سے پٹائی کی اور پیر اور پیٹھ میں گولی مارہے یہ ایک طرح سے انسانیت کے خلاف ہے۔
A K Antony, America, Anil Narendra, Daily Pratap, Gaddafi, Libya, USA, Vir Arjun

07 ستمبر 2011

ہیرو سے ویلن بنے کرنل معمر قذافی


Published On 7th September 2011
انل نریندر
لیبیا میں باغیوں کو اب تک نہ تو کرنل معمر قذافی کو پکڑنے میں کامیابی ملی ہے اور نہ ہی وہ ان کے آبائی شہر سرتے پر قبضہ کرپائے۔ پچھلے تقریباً چھ مہینے سے باغیوں اور قذافی حمایتیوں میں جنگ جاری ہے۔ قذافی کی ہمت اور حمایت کی داد دینی ہوگی کہ ایک طرف تو ان کے مٹھی بھر حمایتی فوجی ہیں دوسری طرف مغربی ممالک کی پوری مدد سے لڑ رہے باغی۔ مغربی ممالک خاص کر فرانس، امریکہ ہیں جو ہر ممکن طریقے سے ان باغیوں کی مدد کررہے ہیں۔ امریکہ کا دوہرہ چہرہ ایک بار پھر لیبیا میں بے نقاب ہوا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے ترپولی میں لیبیائی سکیورٹی ایجنسیوں کی ایک عمارت میں پائے گئے دستاویزوں سے انکشاف کیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ سی آئی اے نے قریب سے معمر قذافی کی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ انہوں نے لیبیا کے لئے مشتبہ دہشت گردوں سے پوچھ تاچھ میں مدد کی۔ اس واقع سے واشنگٹن اور لیبیا کے حکمرانوں کے درمیان کشیدگی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
معمر قذافی ایک انقلابی سے ولن کیسے بن گیا؟ سال1969 ء میں جب انہوں نے فوجی تختہ پلٹ کر اقتدار حاصل کیا تھا تو معمر قذافی ایک خوبصورت اور کرشمائی فوجی افسر تھا۔ خود کو مصر کے جمال عبدالناصر کا شاگرد بتانے والے قذافی نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد خود کو کرنل کے خطاب سے نوازا اور دیش میں اقتصادی اصلاحات کی طرف توجہ دی۔ جو برسوں کی غیر ملکی بالادستی کے چلتے خستہ حالت میں تھی۔ اقتدار کا تختہ پلٹ سے پہلے کیپٹن کے عہدے پر ہوا کرتے تھے اگر ناصر نے سوئزنگر کو مصر کی بہتری کا راستہ بنایا تھا تو کرنل قذافی نے تیل کے ذخائر کو اس کے لئے چنا۔ لیبیا میں 1950 کی دہائی میں تیل کے بڑے ذخیرے کا پتہ چلا تھا لیکن اس کی کانکنی کا کام پوری طرح سے بیرونی کمپنیوں کے ہاتھ میں تھا جو اس کی قیمت طے کیا کرتی تھیں۔ جو لیبیا کے لئے نہیں بلکہ خریداروں کو فائدہ پہنچاتی تھیں۔ قذافی پہلے عرب حکمراں تھے جنہوں نے تیل کی پیداوار سے ہوئی آمدنی کا بڑا حصہ اپنے ملک کی ترقی میں لگایا اور غیر ملکی کمپنیوں کو پہلی بار یہ سمجھ میں آگیا کہ اب وہ عرب ممالک کا استحصال نہیں کرسکیں گی۔ لیبیا وہ پہلا ترقی پذیر ملک تھا جس نے تیل کی کھدائی سے ملنے والی آمدنی میں بڑا حصہ حاصل کیا۔ دوسرے عرب ممالک نے بھی وہ ہی راستہ اپنایا اور عرب ممالک میں 1970 کی دہائی کی پیٹرو بوم یعنی تیل کی بہتر قیمتوں سے آغاز ہوا۔ اور اس سے ان ملکوں میں خوشحالی کا دور آیا۔
کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ لیبیا میں قذافی نے اپنے شہریوں کو جو سہولیات دی تھیں ان کا موازنہ کرنا مشکل ہے۔ ہر لیبیائی شہری کو بغیر سود کے قرض مل سکتا ہے۔ طلبا کو پڑھائی کے دوران جس کام کیلئے وہ پڑھ رہے ہیں ، اس کی ان کو تنخواہ دی جاتی ہے۔ یہ تنخواہ اتنی ہی ہوتی ہے جتنا وہ نوکری کرنے پر کما سکتے ہیں۔ یہ انہیں پڑھائی کے دوران دے دی جاتی تھی۔ اگر آپ کو نوکری نہیں مل رہی تو آپ کو سرکار نوکری کی پوری تنخواہ تب تک دیتی رہے گی جب تک آپ کو ملازمت نہیں مل جاتی۔ جب لیبیائی شہری شادی کرتا ہے تو اسے حکومت کی طرف سے ایک گھر مفت دیا جاتا ہے۔ طلبا دنیا میں کہیں بھی پڑھائی کرسکتے ہیں سرکار اس دوران انہیں 2500 امریکی ڈالر کے ساتھ ساتھ رہنے کھانے و کارالاؤنس تک دیتی ہے۔ لیبیا میں گاڑی لاگت قیمت پر ملتی ہے۔ ہر شہری کے لئے مفت تعلیم ، میڈیکل سروس دستیاب ہے۔ کل آبادی میں سے 25 فیصدی لوگ یونیورسٹی کی ڈگری حاصل کئے ہوئے ہیں۔ آپ کو سڑکوں پر کوئی بھکاری نہیں ملے گا، نہ ہی کوئی ایسا شخص ملے گا جو بے گھر ہو، یہ ہی وجہ تھی قذافی امریکہ، فرانس جیسے ملکوں کی آنکھوں میں کانٹا دکھائی دینے لگے۔ قذافی سے امریکہ کئی وجوہات سے ناراض تھا۔ دراصل قذافی نے کچھ برسوں تک حکومت کرنے کے بعد اسلامی کٹر پسند تنظیموں کی حمایت شروع کردی۔ برلنگ میں ایک نائٹ کلب پر سال 1986 میں ہوا حملہ اسی کیٹگری میں تھا جہاں امریکی فوجی جایا کرتے تھے اور جس پر حملے کا الزام قذافی کے سر منڈ دیا گیا۔ حالانکہ اس کے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھے۔ واقعہ سے ناراض امریکی صدر رونالڈ ریگن نے ترپولی اور بین غازی ہوائی اڈوں پر حملوں کی جھڑی لگادی تھی۔ حالانکہ حملے میں قذافی تو بچ گئے لیکن کہا گیا کہ ان کی گود لی ہوئی بیٹی ہوائی حملوں میں ماری گئی۔ دوسرا واقعہ جس نے دنیا کو ہلا دیا تھا وہ تھا لاکربی شہر کے پاس پین این ہوائی جہاز کو بم دھماکے سے اڑانا۔ جس میں 270 لوگ مارے گئے تھے۔ کرنل قذافی نے بھاری دباؤ کے باوجود حملے کے دو مشتبہ لیبیائی شہریوں کو اسکاٹ لینڈ کے حوالے کرنے سے منع کردیا۔ جس کے بعد لیبیا کے خلاف اقوام متحدہ نے اقتصادی پابندیاں لگادیں ، جو دونوں افسران کے خود سپردگی کے بعد 1999 میں ہٹائی گئیں۔ان میں سے ایک میگھراہی نام کے افسر کو عمر قید ہوئی ہے۔ جب10 دسمبر 2010 میں تیونس سے عرب دنیا میں تبدیلی کا انقلاب شروع ہوا تو اس سلسلے میں جن ملکوں کا نام لیا گیا اس میں لیبیا کو پہلی لائن میں رکھا گیا تھا لیکن کیونکہ کرنل قذافی مغربی ممالک کے پٹھو بننے سے انکارکرتے تھے اس لئے انہیں زبردستی نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے تیل سے ملے پیسے کو بھی دل کھول کر بانٹا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس عمل میں ان کا خاندان بھی بہت امیر ہوگیا۔ اس لئے جب انقلاب کی بات شروع ہوئی تو انہوں نے کہا اقتدار ان کے پاس نہیں ہے اور دیش میں جمہوریت ہے لیکن بعد میں لوگوں کی ناراضگی سامنے آئی اور ظاہر ہے کرنل قذافی ان کا پوری طاقت سے مقابلہ کررہے ہیں۔ دیر سویر کرنل قذافی کا پتا صاف ہوگا کیونکہ ان کے خلاف بہت بڑی طاقتیں کام کررہی ہیں اور یہ ہے کرنل قذافی کی ہیرو سے ویلن بننے تک کی ایک مختصر کہانی۔

25 اگست 2011

ایک اور عرب ڈکٹیٹر کی بدائی


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily 
Published On 25th August 2011
انل نریندر
مصر کے تحریر چوک سے شروع ہوئی عوامی آندھی اب لیبیا تک پوری طرح پہنچ چکی ہے۔ تقریباً 42 سال تک لیبیا میں راج کرنے والے کرنل معمر قذافی کاوقت قریب آگیا ہے۔ پیر کو راجدھانی ترپولی کے زیادہ تر حصے پر لیبیائی باغیوں کا قبضہ ہوگیا ہے۔ باغی لڑاکوں نے قذافی کے بیٹے اور ایک طرف ان کے جانشین رہے سیف علی اسلام کو پکڑ لیا ہے۔ سیف اپنے والد کے ساتھ عالمی کرمنل عدالت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات کا سامنا کررہا ہے۔ نیٹو کی ترپولی اور آس پاس کے علاقوں میں بمباری جاری ہے۔ اس نے کہا ہے کہ جب تک قذافی حمایتی فوجی خود سپردگی نہیں کردیتے یا اپنے بیرک میں نہیں لوٹ جاتے تب تک بمباری جاری رکھی جائے گی۔قذافی لا پتہ ہیں کچھ کا کہنا ہے کہ وہ پڑوسی ملک الجزائر فرار ہوگئے ہیں یا ہوسکتا ہے کہ وہ کسی بنکر میں چھپے بیٹھے ہوں۔ قذافی کے اقتدار کی علامت ترپولی کے گرین چوک میں شہریوں کی خوشی منانے کے درمیان عالمی برادری نے لیبیائی لیڈرسے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقتدار چھوڑدیں۔ امریکی صدر براک اوبامہ سمیت کئی دنیا کے لیڈروں نے پیر کے روز کہا کہ لیبیا میں مستقبل کی شکل میں معمر قذافی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا تشدد کے خاتمے کا یہ طریقہ کافی آسان ہے۔ کرنل قذافی اور ان کے عہد کو یہ بات قبول کرلینی چاہئے کہ ان کے اقتدار کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ قذافی اب میدان چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ قذافی کے پاس اقتدار میں بنے رہنے کا اب کوئی جواز باقی نہیں ہے۔
اس میں کوئی شبہ اب نہیں لگتا کہ پچھلے42 سالوں سے لیبیا کے اقتدار پر قابض قذافی کی حکومت اب ڈھے جانے کے دہانے پر کھڑی ہے۔ جہاں باغیوں کا یہ کہنا کہ اگر قذافی اقتدار چھوڑنے کا اعلان کردیں تو وہ اپنی کارروائی روک سکتے ہیں۔ وہیں قذافی ان کی پیشکش کو قبول کرنے سے پہلے ریڈیو پیغام کے ذریعے قبائلی لوگوں سے اپیل کررہے ہیں کہ وہ ترپولی آکر باغیوں سے جنگ کریں۔ ورنہ وہ فرانسیسی فوج کے خادم بن جائیں گے۔ ان کے اس قدم سے صاف ہے کہ وہ اب سمجھ چکے ہیں کہ ان کے دن گنے چنے رہ گئے ہیں۔ پچھلے برس دسمبر میں تیونس کے جیسمین انقلاب اور پھر مصر میں حسنی مبارک کے عدم تشدد تختہ پلٹ کے بعد لیبیا میں قذافی کے خلاف بغاوت غیرمتوقع نہیں تھی۔ دراصل ان کے خلاف باغی تو فروری میں ہی اپنی تحریک چھیڑ چکے تھے جسے انجام تک پہنچنے میں اتنا وقت لگا ہے کہ اس کے پیچھے لیبیا کی فوجی مشینری پر قذافی کی پکڑ کار پتہ چلتا ہے۔ محض27 سال کی عمر میں قذافی نے1969 میں راجہ ادیس کو بے دخل کرکے لیبیا کے اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب دنیا میں سوویت روس کی رہنمائی میں سامراج اور امریکہ کے سرمایہ داری نظام کے درمیان لڑائی چل رہی تھی تب نوجوان قذافی نے اپنی گرین بک کے ذریعے اقتدار کا نیا خاکہ پیش کیاتھا اور اسے نام دیا تھا ’’جمہاریہ‘‘ مگرصحیح معنوں میں لیبیا میں جمہوریت کبھی نہیں آئی۔ کیونکہ وہاں سیاسی پارٹیوں پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ جس نوجوان نے جمہوریت کا خواب دکھایاتھا وہ بعد میں برسوں تک اپنی تاریکیوں میں غرق ہوتا چلا گیا۔ یہ ہی نہیں ایک وقت تو ایسا بھی آیا جب قذافی نے امریکہ، فرانس وغیرہ ملکوں پر اسلامی جہادیوں کو حیران کرکھلی حمایت دی تھی۔ تبھی سے قذافی امریکہ اور مغربی ممالک کی آنکھ میں کانٹا بنا ہوا ہے۔آج اگر لیبیا میں باغی حاوی ہوگئے ہیں تو اس کے مغربی ممالک کو حمایت بھی ایک وجہ ہے۔ اس لئے اوبامہ نے قذافی سے کہا ہے کہ اب لیبیا میں ان کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ سوال یہ ہے قذافی کے بعد کیا ہوگا؟ لیبیا کے لئے یہ امتحان کی گھڑی ہے۔ اگر موجودہ حکومت چلی بھی گئی تو کیا نئے قانون سسٹم وہاں نافذ ہوپائیں گے یا پھر بدامنی کا ماحول پیدا ہوگا۔ سوال یہ بھی ہے کہ وہاں ایک نئے سرے سے حکومت قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی یا بدلہ لینے پر زور دیا جائے گا؟ اس بات کی بھی کوئی گارنٹی نہیں کہ نئے سسٹم میں اسلامی کٹر پنتھی پوری طرح سے حاوی ہوجائے۔ جیسے دیگر عرب ممالک میں ہوا ہے۔ اتنا ہی نہیں یہ ڈر بھی موجود ہے کہ کہیں کرنل معمر قذافی کے ہٹنے کے بعد لیبیائی سماج بکھر نہ جائے۔ آنے والے کچھ مہینے لیبیا کے لئے کافی چیلنج بھرے ثابت ہوسکتے ہیں۔
America, Anil Narendra, Daily Pratap, Libya, Obama, USA, Vir Arjun

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...