Translater

16 دسمبر 2023

کیا وسندھرا ،شیوراج کو نظر انداز کرنا آسان ہوگا؟

مدھیہ پردیش ،راجستھان میں بی جے پی کی مرکزی لیڈر شپ نے جب وزیراعلیٰ عہدے کے لئے نئے چہروں کو چنا تو سوال یہ کھڑا ہوا تھا کہ پرانے چہروں کا اب کیا ہوگا؟ مدھیہ پردیش میں 18 سال سے وزیراعلیٰ رہے شیوراج سنگھ چوہان کے بجائے موہن یادو کو وزیراعلیٰ کے عہدے کے لئے چنا گیا ۔راجستھا ن میں دو بار وزیراعلیٰ رہ چکے وسندھرا راجے کے بجائے بھجن لال شرما کو چنا گیا ۔اس فیصلے کے بعد ان دونوں سینئر لیڈروں کا کیا ہوگا۔دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اٹل بہاری واجپائی اور لال کرشن ایڈوانی کے چنے ہوئے شیوراج اور وسندھرا کے مستقبل پر غیر یقینی بنی ہوئی ہے ۔بھاجپا کی مرکزی لیڈشپ نے فی الحال ابھی پتے نہیں کھولے ہیں کہ آخر ان دونوں سابق وزرائے اعلیٰ کے لئے کیا پلان ہے ۔64 سالہ شیوراج اور 70 سالہ وسندھرا اپنی ریاستوں میں اب بھی مقبول ہیں ۔پارٹی لیڈروں کا کہنا ہے کہ ان دونوں لیڈروں کو پارٹی کے اندر یا مرکزی سرکار میں موقع دیا جا سکتاہے۔ریاست کا اقتدار سنبھالنے سے پہلے شیوراج اور وسندھرا دونوں ہی مرکزی حکومت میں رہ چکے ہیں ۔پارٹی سے جڑے نیتاو¿ں کا کہنا ہے کہ 2014 میں جب بی جے پی اقتدار میں آئی تھی تو وسندھرا کو مرکز کی سیاست میں آنے کو کہا گیا تھا مگر انہوں نے اس سے انکارکر دیا تھا۔مودی شاہ جب پارٹی پر اپنی پکڑ مضبوط کررہے تھے تب وسندھرا راجستھان میں مقامی لیڈروں اور ممبران اسمبلی اور وفاداروں کے درمیان رہ کر ریاست میں بی جے پی کو سنبھال رہی تھی ۔اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ آج بھی راجستھان میں وسندھرا راجے بی جے پی کا سب سے بڑا چہرہ ہیں ۔حالانکہ 2018 میں اشوک گہلوت کے سامنے اقتدار کھوتی ہیں تو ا علیٰ کمان نے تبھی نئے لیڈر شپ کا آگے لانے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔وزیراعلیٰ رہنے کے دوران شیوراج نے اپنا اثر تیزی سے بڑھایا ۔جوتر آدتیہ سندھیا کو کانگریس چھوڑنے ،بی جے پی میں آنے کے بعدشیوراج کی مقبولیت کم نہیں ہوئی اور عورتوں کے لئے شروع کی گئی لاڈلی بہنا اسکیم مدھیہ پردیش میں بھاجپا کی شاندار جیت کا سبب بنی ۔اب جب دونوں ریاستوں میں بھاجپا نے لیڈر شپ بدل دی ہے تو ان لیڈروں کا کیا ہوگا ۔اسے لیکر الگ الگ رائے ہے ۔ایک پارٹی کے لیڈر کا کہنا ہے کہ یہ نا ممکن ہے کہ وسندھرا اور شیوراج کو کوئی کام نہ دیا جائے ۔ایک دوسرے سینئر لیڈر کا کہنا ہے کہ وسندھرا ،شیوراج بغیر ذمہ داری کے نہیں ہوں گے ۔ان کو کیا ذمہ داری دی جائے گی اسے یہ قبول کرتے ہیں یا نہیں یہ الگ بات ہے ۔شیوراج سنگھ چوہان عرف ماما جی نے تو صاف کر دیاہے کہ وہ مدھیہ پردیش چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے ۔کئی لوگوں کا خیال ہے کہ ریاست کے چناو¿ میں اکثریت ان دونوں لیڈروں کو ہی ملی ہے ۔حال ہی میں شیوراج سنگھ چوہان نے میڈیا سے کہا تھا کہ میں پوری ایمانداری سے کہتا ہون کہ میں اپنے لئے کچھ مانگنے سے بہتر مرنا پسند کروں گا ۔شیوراج کے اس بیان سے پارتی لیڈر شپ پریشان ہو گیا ہوگا ۔اب اس کا امکان کم ہے کہ انہیں دہلی میں کوئی ذمہ داری دی جائے گی۔بی جے پی نے ریاستی حکومتوں میں جو نئے چہرے چنے وہ اے بی وی پی سے ہیں۔وسندھرا 2003 سے 2008 اور پھر 2013 سے 2018 تک راجستھا ن کی وزیراعلیٰ رہ چکی ہں اور وہ صرف ایک ممبر اسمبلی رہ گئی ہیں ۔اور اب ماما بھی اب صرف ایم ایل اے رہ گئے ہیں۔ (انل نریندر)

نئے وزرائے اعلیٰ پر چلے کئی اور داو ¿ں!

صرف عمر اور ووٹ بینک نہیں ،بھاجپا نے تین نئے وزرائے اعلیٰ سے کئی اور داو¿ں بھی چلے ہیں ۔بھارتیہ جنتا پارٹی نے چھتیس گڑھ ،مدھیہ پردیش ،اور راجستھان میں وزرائے اعلیٰ کے انتخاب سے پہلے ماننا پڑے گا کہ اس نے سب کو چونکا دیا ہے ۔نریندر مودی امت شاہ اور جے پی نڈا کی رہنمائی میں بھاجپا پہلے بھی ایسا کرچکی ہے لیکن سوال ہے کہ آخر بھاجپا ایسا کیوں کرتی ہے ؟ اس سوال کے ساتھ ایک نہیں کئی اور جواب ہیں بھاجپا نے پھر ایم پی چھتیس گڑھ اور راجستھان میں چونکانے والے ایسے چہرے دئیے ہیں جن کے بارے میں کسی کو بھی تصور نہیں تھا اور نہ ہی ان کے ناموں کا کہیں تذکرہ تھا ۔بھاجپا درا صل ایک نہیں کئی ٹارگیٹ پر نظررکھتی ہے ۔سینئر لیڈرشپ اکثر معجزاتی طریقہ سے کام کرتی ہے ۔تین ریاستوں میں وزرائے اعلیٰ کا غیر متوقع انتخاب اس کی مثال ہے ۔چھتیس گڑھ میں ویشنو دیوسائی ،مدھیہ پردیش میں موہن یادو ،راجستھان میں بھجن لال شرما کا انتخاب ان واضح اور حیرت انگیز فیصلوں کے پیچھے ایک پیٹرن نظرآتاہے کہ کیا کسی کوپتہ تھا کہ 2001 میں کیشو بھائی پٹیل کے ممکنہ جانشین کی شکل میں کئی ناموں کا تذکرہ چل رہا تھا ۔تو نریندر مودی جیسے ایک پوشیدہ سنگھ ورکر کو گجرات کا وزیراعلیٰ بنا دیا جائے گا؟ اسی طرح ہریانہ میں منوہر لال کھٹر کے انتخاب میں بھی سب کو چونکایا تھا۔چھتیس گڑھ میں سائی ،ایم پی مین یادو ،راجستھان میں شرما کو شامل کرنے کو اسی حکمت عملی کی شکل میں دیکھا جانا چاہیے ۔ان میں یادو اور شرما کو ٹرائڈ اینڈ ٹسیٹو مقبول دعویداروں جیسے کہ شیوراج سنگھ چوہان ،وسندھرا راجے کو درکنار کرکے گدی سونپی گئی ہے ۔اگر ہم شوشل انجینئرنگ کی بات کریں تو چھتیس گڑھ میں سائی ایک قبائلی ہیں اور ان کے دو ڈپٹی او بی سی اروم ساو¿ اور برہمن وجے شرما اسی فرقہ سے ہیں ۔مدھیہ پردیش میں نائب وزیراعلیٰ راجیش شکلا ،اور جگدیپ دیوڑا بھی برہمن اور درج فہرست ذاتوں کے ہیں ۔جبکہ سی ایم موہن یادو او بی سی سے ہیں ۔مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ موہن یادو پڑوسی ریاست اتر پردیش کے لئے بھی ایک اشارہ ہو سکتے ہیں جہاںزیادہ تر یادو بھاجپا کو ووٹ نہیں کرتے ۔نریندر سنگھ تومر جو ایک راجپوت ہیں وہ بھی اسمبلی اسپیکر ہوں گے ۔راجستھا ن میں شرما ایک برہمن ہیں ان کے دو ڈپٹی راجپوت اور دلت ہیں ۔حالانکہ مختلف برادریوں کے چہروں کا توازن بٹھانے کا یہ طریقہ انوکھی بات نہیں بلکہ یہ تو منڈل کی سیاست میں شروع ہونے کے بعد شوشل انجینئرنگ کا استعمال کرنے والی پارٹی میں سے ایک ہی ہے ۔حالانکہ بھاجپا کے پاس ایک مصروف طاقت ہے اس کے پاس سرکار اور پارٹی میں عہدوں کے لئے چہروں کی کمی نہیں ہے ۔زیادہ تر پارٹیوں کے پاس امکانی لیڈروں کے تین ذرائع ہوتے ہیں کور ،اندرونی ذرائع ،باہری لوگ اور افسر شاہی یا کاپریٹ سیکٹر وغیرہ ۔ماضی گزشتہ میں سیاست سے دور رہے ہوں ایسے چہرے لئے جاتے رہے ہیں ۔بھاجپا کے پاس ایک اور ذریعہ ہے وہ ہے سنگھ پریوارہے ۔موجودہ وزرائے اعلیٰ عہدوں کے لئے امکانی سینئر دعویداروں پر نظرڈالتے ہیں ۔یوپی میں گورکھپور سے پانچ بار ایم پی رہے یوگی آدتیہ ناتھ بیشک سنگھ سے نا ہوں لیکن پارٹی کیڈر اور سنکھ دونوں میں بے حد مقبول ہیں ۔آسام میں ہیمنت بسوا شرما سبھی کانگریس سے ناراض ،کھٹر دیوندر فڑنویس سنگھ سے ہیں اکثر موجودہ لوگوں کو لانے میں خطرہ رہتا ہے ۔لیکن بھاجپا اعلیٰ کمان کاصاف طور سے ماننا ہے کہ مودی کا جادو راجستھان اور مدھیہ پردیش میں کسی نقصان کی بھرپائی کر دے گا۔ (انل نریندر)

14 دسمبر 2023

دھیرج ساہو پر کیا بولے گی کانگریس؟

دھیرج ساہو کون ہیں جن کے ٹھکانوں سے مل رہے 350 کروڑ روپے ۔انکم ٹکس محکمہ نے اڈیسہ ،جھارکھنڈ میں کئی جگہوں پر چھاپہ ماری کر کانگریس کے ایک نیتا کے یہاں سے تقریباً 350 کروڑ روپے نقد برآمد کئے ہیں ۔محکمہ انکم ٹیکس نے جھارکھنڈ سے کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی دھیرج ساہو کے یہاں سے رقم برآمد ہوئی ہے ۔اور ان نوٹوں کی مسلسل گنتی ہوتی رہی اور مشینیں بھی تھک گئیں نوٹ گنتے گنتے لیکن گنتے ختم ہونے کے بعد ایس بی آئی کے زونل مینیجر بھگت بہیرا نے اتوار کو بتایا کہ گنتی میں تین بینکوں کے افسران اور چالیس مشینوں کا استعمال کیا گیا ۔انکم ٹیکس محکمہ جلد ہی کمپنی کے پروموٹروں کے بیان درج کرنے کیلئے بلائے گا ۔محکمہ کا خیال ہے کہ بے حساب نقدی کا پورا ذخیرہ دیسی شراب کی نقد بکری سے اکھٹا کیا گیا ہے ۔ساہو کے رانچی سمیت دیگر دفتروں اور گھروں پر چھاپہ مارے گئے تھے ۔ذرائع نے بتایا کہ انکم ٹیکس کی کسی کاروائی میں اتنی بڑی برآمدگی ہے ۔2019 میں کانپور کے عطر کاروباری سے 257 کروڑ روپے کی نقدی پکڑی گئی تھی ۔جولائی 2018 میں تملناڈو اور نرمان دھن سے 163 کروڑ روپے کی نقدی پکڑی گئی تھی اور نقدی کو مختلف بینکوں میں جمع کرانے کیلئے قریب 200 بیگ اور سوٹ کیس کا استعمال کیا گیا ۔176 بیگوں میں برآمد رقم میں زیادہ تر 500 کے نوٹ ہیں ۔2 ہزار روپے کا نوٹ بند ہونے کے بعد 500 روپے کے نوٹ کا چلن سب سے بڑا ہے ۔راجیہ سبھا کی ویب سائٹ کے مطابق 23 نومبر 1955 کو رانچی میں پیدا ہوئے دھیرج ساہو کے والد کا نام رائے صاحب ولدیب ساہو ہے ۔وہ 2009 میں راجیہ سبھا کے ایم پی بنے تھے اور جولائی 2010 میں راجیہ سبھا کے لئے چنے گئے ۔تیسری مرتبہ مئی 2018 میں پھر راجیہ سبھا کیلئے چنے گئے ۔1977 میں دھیرج ساہو نے سیاست میں قدم رکھا تھا اور وہ لوہار باغ ضلع کے یوتھ کانگریس میں شامل ہوئے ۔اتنی کیس کی برآمدگی پر جنتا میں ناراضگی پیدا ہونا فطری ہے اسے دیکھ کر لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ گاندھی پریوار اور اپنے ایم پی دھیرج ساہو پر کیا کہنا چاہے گی ۔اور دیکھنا چاہتے ہیں کہ ان پر پارٹی کیا کاروائی کرتی ہے ؟ راہل گاندھی دن رات کرپشن کو ختم کرنے اور اس سے لڑنے کی بات کرتے ہیں اور یہاں تو ان کا اپنا ہی ایم پی اس کرپشن میں بری طرح ملوث ہے ۔اب راہل گاندھی کیا کہیں گے اس پر بھاجپا کا جارحانہ ہونا فطری ہے ۔بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا نے کہا کہ ہمارا شروع سے ہی خیال ہے کانگریس اور کرپشن اور جرائم کیلئے مانی جاتی ہے ۔یہ کانگریس کی ریتی رواج ہے جس پر کام کرتی ہے ۔آج راہل گاندھی سے بی جے پی پوچھنا چاہتی ہے کہ اس پر ان کا کیا کہنا ہے سونیا گاندھی ،ای ڈی ،انکم ٹیکس پر طنز کرتی رہی ہیں ۔اب وہ دھیرج ساہو پر کیا کہیں گی۔بی جے پی اس موقع کا پورا فائدہ اٹھا رہی ہے اور سبھی سطح پر مظاہرہ کررہی ہے اور کانگریس پر نشانہ لگا رہی ہے ۔ (انل نریندر)

مایاوتی نے دانش علی کو کیوں نکالا؟

بہوج سماج وادی پارٹی چیف مایاوتی نے ممبر پارلیمنٹ دانش علی کو پارٹی سے معطل کر دیا ہے ۔دانش علی امروہہ سے ایم پی ہیں لیکن ان کا سیاسی سفر کرناٹک جنتا دل سیکولر (جے ڈی ایس )سے شروع ہوا تھا۔وہ سابق وزیراعظم ایچ دیوے گوڑا کے کافی قریبی تھے ۔بسپا نے 2018 میں جے ڈی ایس کے ساتھ کرناٹک میں اتحاد کیا تھا اس کے بعد دیوے گوڑا کے کہنے پر 2019 میں دانش کو بسپا نے امروہہ سے لوک سبھا کا ٹکٹ دیا تھا اور وہ جیت بھی گئے تھے لیکن وہ سرخیوں میں اس وقت آئے جب بھاجپا ایم پی رمیش بدھوڑی نے لوک سبھا میں ان کے بارے میں غلط باتیں کہیں اس کے فوراً بعد کانگریس نیتا راہل گاندھی ان کے گھر پہونچ گئے ۔دانش نے بھی راہل گاندھی کی کھل کر تعریف کی تھی ان کے علاوہ کئی پارٹیوں کے لیڈروںنے بھی ان کے تئیں ہمدردی ظاہر کی تھی ۔بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار سے بھی ان کی ملاقات سرخیوں میں رہی ۔کانگریس کے یوپی صدر بننے کے بعد اجے رائے نے بھی دانش علی سے ملاقات کی اور حمدردی ظاہر کی تھی ۔اب ترنمول کانگریس ایم پی مہوا موئترا کی حمایت میں دانش علی کا بیان بھی سرخیوں میں آگیا ۔انہوںنے ایتھکس کمیٹی کی رپورٹ پر اعتراض جتایا اور کہا اکثریت کا مطلب یہ نہیں کہ کسی کو بھی پھانسی پر لٹکا دیا جائے ۔موجودہ لوک سبھا کے سیشن میں وہ کانگریس کے لیڈروں کے ساتھ دکھائی دئیے ۔ایسے ہی کئی وجوہات ہیں جو ان کے بسپا سے اخراج کا سبب بنیں ۔اور ایم پی تلاش رہے اور دیگر بھی تنقید کے دائرے میں رہے لیکن بات صرف دانش تک محدود نہیں ہے ۔بسپا کے کئی ایم پی 2024 کے لوک سبھا چناو¿ سے پہلے نیا ٹھکانہ تلاش رہے ہیں حال ہی مین سہارنپور سے ایم پی حاجی فضل الرحمان کی جگہ بسپا نے وہاں سے ماجد علی کو لوک سبھا حلقہ کا انچارج بنا دیا ۔مانا جارہا ہے ان کا ٹکٹ بھی کٹ سکتا ہے ۔بسپا نے ایم پی کنور دانش علی کو پارٹی سے چھ سال کیلئے معطل کرنے سے متعلق ایک خط جاری کر اس کی وجہ بتائی ہے ۔بسپا نے خط میں کہا ہے کہ امروہہ سے ایم پی دانش علی کو کئی بار زبانی طور سے اور اعلیٰ کمان نے پارٹی کی پالیسیوں اور آئیڈیا لوجی اورسرگرمیوں کے خلاف جا کر بیان بازی نہ کرنے کی نصیحت دی تھی لیکن انہوں نے نظر انداز کر دیا ۔اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2018 تک دانش علی کرناٹک جنتا دل کے بانی ایس ڈی دیوی گوڑا کے ساتھ مل کر کام کررہے تھے اور ان کے کہنے پر ہی دانش علی کو بہوجن سماج پارٹی نے 2019 میں امروہہ سے ٹکٹ دے کر لوک سبھا کا چناو¿ جتوایا تھا لیکن دانش علی مسلسل پارٹی کے احکامات کی عدولی کر پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ۔کیا بسپا ہو یا سپا یا کانگریس میں جائیں گے ؟ کنور دانش علی بسپا سے نکالے جانے کے بعد کانگریس یا سپا کا دامن تھام سکتے ہیں ۔مسلم اکثریتی علاقہ میں دانش علی کی مضبوط پکڑ مانی جاتی ہے ۔امروہہ میں قریب 30 فیصدی آبادی مسلم ہے ۔سوال ہے کہ کیا عمران مسعود کی طرح وہ بھی کانگریس میں جائیں گے یا بی جے پی کو سب سے بڑی ٹکر دینے والی سماج وادی پارٹی کے نیتا اکھلیش یادو کا دامن تھامیں گے ؟ (انل نریندر)

12 دسمبر 2023

راہل گاندھی کو کتنا بڑا جھٹکا!

میں کانگریس کی مصیبت سمجھتا ہوں ۔برسوں سے ایک ہی فیل پروڈکٹ کو بار با ر لانچ کرتے ہیں ہر بار لانچنگ فیل ہو جاتی ہے اب اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ووٹروں کے تئیں ان کی نفرت بھی ساتویں آسمان پر پہونچ گئی ہے ۔دس اگست کو وزیراعظم نریندر مودی نے اپوزیشن کی عدم اعتماد تحریک کے دوران پارلیمنٹ میں کانگریس کے نیتا راہل گاندھی کو لیکر یہ بات کہی تھی ۔دراصل ایسا اس لئے کہا جاتا رہا ہے کیوں کہ راہل گاندھی کے کانگریس صدر رہتے ہوئے پارٹی 2019 کے لوک سبھا چناو¿ میں کوئی خاص کمال نہیں دکھا پائی ۔اس کے علاوہ کئی ریاستوں میں ہوئے چناو¿ میں یا تو کانگریس سرکار جاتی رہی یا اپوزیشن میں ہوتے ہوئے کوئی خاص کمال نہیں دکھاپائی ۔اس فہرست میں شمالی ہندوستان کی کئی ریاستیں ہیں جہاں حال ہی میں ہوئے اسمبلی چناو¿ اور کانگریس سے کچھ کرشمہ کی امید کی جارہی تھی لیکن راہل گاندھی کی چناوی کمپین اور فیور میں ہوا ہونے کے باوجود کانگریس کی ڈپلومیسی ناکام ہوئی ۔کانگریس پارٹی میں اب راہل گاندھی پارٹی صدر نہیں ہیں لیکن پارٹی تو گاندھی پریوار کے ارد گرد گھومتی رہی ہے ۔راجستھان اور چھتیس گڑھ میں کانگریس اپنی سرکاریں گنوا چکی ہے ۔اور مدھیہ پردیش میں بھی اسے بی جے پی نے بری طرح ہرا دیا ہے ۔وہیں میزورم میں اسے صرف ایک شیٹ ملی ہے ۔حالانکہ تلنگانہ میں اس نے تاریخ رقم کرتے ہوئے بی آر ایس کو ہرا دیا ہے ۔تو اب سوال اٹھتا ہے کہ پانچ اسمبلی چناو¿ میں سے چار میں ملی ہار کیا گاندھی خاندان یا کہیں کہ راہل گاندھی کی ہار ہے ؟ راجستھان ،مدھیہ پردیش،چھتیس گڑھ اور تلنگانہ میں بی جے پی کے چناو¿ کی بات کریں تو اس میں وزیراعظم نریندر مودی آگے تھے جبکہ ریاست کے لیڈر اور دوسرے مرکزی لیڈر پیچھے تھے۔وہیں کانگریس کے چنا و¿ کمپین کی بات کریں تو اس میں ریاست کے مقامی لیڈر آگے تھے ۔اور راہل گاندھی بیک شیٹ پر تھے انہوںنے راجستھان میں تھوڑا کم پرچار کیا لیکن تلنگانہ میں پورا زور لگایا ۔مدھیہ پردیش ،راجستھان اور چھتیس گڑھ میں ساری کمپین کا انتظام کمل ناتھ ،اشوک گہلوت اور بگھیل پر چھوڑ دیا تھا ۔اس طرح دیکھا جائے تو الگ الگ ریاستوں میں کانگریس کے الگ الگ چہرے تھے تو کیا ان ہار کیلئے راہل گاندھی کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے ۔دوسری طرف کانگریس ہاری تو اس کا مطلب ہے کہ اس کی لیڈر شپ پر لوگوں کا بھروسہ نہیں ہے اور لیڈر شپ کا مطلب ہے گاندھی پریوار ،سبھی ریاستوں میں کانگریس مقامی لیڈر چناو¿ لڑ رہے تھے ۔راہل نے پچھلے سال ستمبر میں جنوبی ہندوستان میں کنیہ کماری سے بھارت جوڑا یاترا شروع کی تھی ۔تقریباً 4ہزار کلو میٹر لمبی 137 دن کی اس یاترا میں انہوں نے ساو¿تھ سے نارتھ انڈیا کی یاترا کی تھی ۔اس یاترا کا اثر کرناٹک اور تلنگانہ میں تو نظرآیا لیکن ہندی زبان بولنے والی ریاستون میں دکھائی نہیں دیا ۔بیشک اس یاترا سے راہل کی شخصی شاکھ بدلی ہے اور لوگ ان کو سنجیدگی سے دیکھتے ہیں اور مانتے ہیں کہ وہ ایماندار ہیں لیکن انہیں پی ایم مودی کی ٹکر نہیں مانتے ۔راہل گاندھی کے کئی اشو اڈانی ذات ،پات مردم شماری اوندھے منھ گری ۔اور راہل گاندھی کہتے ہیں کہ وہ محبت کی دوکان چلا رہے ہیں لیکن یہ دوکان مدھیہ پردیش ،چھتیس گڑھ ،راجستھا ن میں اجڑ گئی ۔اس کے لئے ان کو ہار کے اسباب پر غور کرنا ہوگا ۔اور ہار کیلئے ذمہ دار سبھی متعلقہ لوگوں پر سخت کاروائی کرنی ہوگی ۔لیکن پارٹی کیلئے یہ بھی ضروری ہے اور اس میں راہل گاندھی کیلئے بھی ۔

گوگا میڈی کا قتل !

راجپوت کرنی سینا کے چیف سکھدیو سنگھ گوگا میڈی کے قتل کے دوپہر جے پور میں گولیا ں برسا کر کر دیا گیا تھا ۔نیائے نگر علاقے میں ان کے گھر ملنے کے بہانے آئے تین حملہ آوروں نے تاوڑ توڑ فائرنگ کی اس واردات میں ایک حملہ آور بھی مارا گیا ۔سکھدیو سنگھ گوگا میڈی کو نازک حالت میں مانسور کے ایک پرائیویٹ ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کو مردہ قرار دے دیا گیا۔راجپوت کرنی سینا سے وابسطہ لوگ جے پور سے لیکر وال میڑ اور دیش کے کئی حصوں میں اس قتل کیخلاف سڑکوں پر اتر آئے ۔واردات کے تین سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئے ہیں جن میں دو حملہ آور حال میں بیٹھے سکھ دیو سنگھ پر گولیاں برساتے نظر آرہے ہیں اس وقت ہوئی تبادلہ فائرنگ میں ایک حملہ آور کی بھی موت ہو گئی ۔متوفی حملہ آور کی نوین سنگھ کے طور پر شناخت ہوئی ہے ۔وہ نزاتی طور پر شاہ پور کا باشندہ ہے اور جے پور میں رہ کر کپڑے کی دوکان چلا رہا تھا ۔جے پور پولیس کمشنر وی جو جار جوظف نے بتایا کہ پوری واردات سی سی ٹی وی میں قید ہو گئی ہے ۔ہم فوٹیج کی بنیاد پر جانچ کررہے ہیں جتنے ثبوت ہمارے پاس ہیں ان کی بنیاد پر ہم جلد ہی حملہ آوروں کو گرفتار کرلیں گے ۔لیکن تازہ اطلاعات کی بنیاد پر دونوں حملہ آور چنڈی گڑھ سے گرفتار کئے گئے ہیں اور ان کو جے پور لایا گیا ۔پنجاب سے لگے ہنومان گڑھ ضلع کے سکھدیو گوگا میڑھی راجپوت سماج کے جارحانہ لیڈر کی شکل میں جانے جاتے تھے ۔سال 2017 میں فلم پدماوت کے خلاف احتجاج کے دوران دیش بھر میں سرخیوں میں چھا گئے ۔فلم پدماوت کی جے پور میں ہو رہی شوٹنگ کے دوران راجپوت کرنی سینا نے فلم کے شیٹ پر زبردست ہنگامہ اور مظاہرہ کیا تھا ۔راجپورت کرنی سینا نے فلم میں شامل کئی مناظر پر بھی اعتراض جتایا تھا ۔اس دوران فلم ڈائرکٹر سنجے لیلا بھنشالی کو تھپڑ مارنے کے واقعات کے بعد سے شکھدیو سنگھ گوگا میڑھی سرخیوں میں چھا گیا ۔راجپوت سماج کی تنظیم کرنی سینا سے وہ کئی برس تک جڑے رہے لیکن لوکیندر سنگھ کالوی کے ساتھ جھگڑوں کے چلتے انہوں نے راجپوت کرنی سینا نام کی تنظیم بنائی ۔کالوی کی موت کے بعد سے سکھدیو سنگھ گوگامیڑی راجپوت سماج کے بڑے لیڈر کی شکل میں ابھر کر سامنتے آئے تھے ۔ان پر کئی مجرمانہ مقدمے درج تھے ۔وہ سیاست میں بھی سرگرم رہے ۔دو مرتبہ بہوجن سماج پارتی کے ٹکٹ پر چناو¿ لڑا ۔حالانکہ جیت نہیں سکے ۔فلم اداکارہ کنگنا رناوت اور شیو سینا نیتا سنجے راوت کے بیچ ہوئی زبانی جنگ کے درمیان گوگامیڑی کنگنا رناوت کی حمایت میں کھڑے نظر آئے تھے۔سکھدیو سنگھ کے قتل کے معاملے میں لگاتا ر نئی نئی جانکاریاں مل رہی ہیں ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پچھلے ڈیڑھ سال میں سکھدیو سنگھ کو کئی مرتبہ جان سے مارنے کی دھمکیاں ملی تھیں ۔سال بھر سے گوگا میڑھی کے مرڈر کی پلاننگ ہو رہی تھی ۔پنجاب پولیس نے اسے لیکر راجستھان پولیس کو الرٹ بھی کیا تھا ۔خود گوگا میڑھی نے کئی بار پریس کانفرنس کرکے اور پولیس کو خط لکھ کر اپنی سیکورٹی کی مانگ کی تھی ۔اس کے بعد بھی پولیس سے کوئی سیکورٹی نہیں دی گئی ۔ایسی اطلاع ہے کہ ایک بار پاکستان سے بھی جان سے مارنے کی دھمکی ملی تھی ۔اس کے بعد بھی پولیس حرکت میں نہیں آئی ۔لگاتار دھمکیوں کے باوجود گوگا میڑھی کو سیکورٹی مہیا کیوں نہیں کرائی گئی ۔اس کے لئے ذمہ دار افسران کا بھی رول طے ہونا چاہیے ۔سرکار نے ایس آئی ٹی جانچ بٹھا دی ہے کچھ لوگ اس معاملے کو لیکر گرفتار بھی ہوئے ہیں ۔جانچ ہونے پر پتہ چلے گا کہ یہ سازش کس نے رچی اور کیسے رچی گئی ۔ (انل نریندر)

ہارا ہوا کیس طے کرسکتا ہے جنگ کی شرائط

سیز فائر کی میعاد وقت غیر یقینی وقت بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے صاف کیا ہے کہ امریکی فوج پوری طرح سے تیار ہے ، اور جنگ بندی صرف تب تک ...