Translater

01 ستمبر 2022

اتھارٹیوں و بلڈروں کا غرور بھی تباہ ہوا !

گھر خریدنے والوں کی انجمن فورم فار پیپلس کلیکٹیو ایکٹر س نے نوئیڈا میںسپرٹیک ٹوئن ٹاوروں کو گرائے جانے کو فلیٹ خریداروں کیلئے ایک بڑی کامیابی بتایا ۔ انجمن کے مطابق یہ صرف عمارت کا گرانا نہیں ہے بلکہ بلڈروں اور اتھارٹیوں کے غرور اور ان کے اس نظریے کاڈھنا ہے ۔ بد نام ٹوئن ٹاور تو گرانا دئے گئے لیکن ایک سوال ابھی بھی باقی ہے جس کرپشن کی تال میل کی وجہ سے یہ ٹاور بنے اور ان میں ذمہ دار لوگوں کو سزا کب ملے گی ۔ نوئیڈا اتھارٹی میں بیٹھے جن حکام تمام قواعد کو درکنار کر نقشے پاس کئے اور بلڈروں کو این اوسی بھی دئے جب تک ان کے خلاف کوئی سخت کاروائی نہیں ہوگی تب تک لوگوں میں یہ بھروسہ جگانا مشکل ہے کہ اب آگے ایسا نہیں ہوگا ۔ یہی وجہ کہ زیادہ تر لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ کرپشن کا یہ کھیل ایساہی چلتا رہے گا۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ بلڈرلابی کے دل میں کوئی ڈر پیدا ہوگا کہ وہ ایسی من مانی کرنے سے پہلے دس بار سوچیں گے ۔ کیا کوئی سسٹم تیار کر لیا گیا ہے کہ جہاں گھر خریداروں کے مفاد کا خیال رکھا گیا ہے؟ گھر خریداروں کیلئے آواز اٹھانے والوں کا کہنا ہے کہ ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کے بعد خریداروں کے حقوق کافی حد تک محفوظ ہوئے لیکن اس میں کہیں ناجائز تعمیر پر شکایت کو لیکر کوئی سہولت نہیں ہے ۔ایسی شکایتوں کیلئے خریداروں کے پاس متعلقہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے پاس جانے کا ہی متبادل ہے جہان ایک انفورسمنٹ ٹیم اس کی جانچ کرتی ہے لیکن جو افسر اس ملی بھگت میں شامل ہوں ان کی شکایت انہیں کی دفتر میں کریں گے اور جانچ وہیں کریں گے تو انصاف کیسے ملے گا۔ ضروری ہے کہ اتھارٹی سے الگ ایک باڈی بنائی جائے جہاں لوگ اپنے شکایت لیکر جا سکیں ۔کیوں کہ اگر کوئی اتھارٹی سماعت نہیں کرتی تو صرف ہائی کورٹ جانے کا متبادل بچا ہے ۔ لمبی قانونی لڑائی کی وجہ سے بہت سے لوگ عدالت نہیں جاتے اور اسی کا فائدہ بلڈر اور اتھارٹی اٹھا تی ہے ۔ قوانین میں جو خامیاں ہیں ان کو دور کیا جا سکتا ہے ۔ یعنی ایک بار جو پلان منظور ہو وہیں فائنل ہو اس میں بار بار تبدیلی کی اجازت نہیں دی جائے آگے کیلئے کیا سبق ہو اور کیسے اس کا جواب ہے کہ جلد سے جلد ذمہ دار لوگوں پر کاروائی ہو تبھی لوگ ڈریں گے ورنہ نہیں ۔ اس کھیل کوئی نچلے سطح کے افسر شامل نہیں ہوتے ان پر اوپر تک ملی بھگت ہوتی ہے ان سب کو قانونی کٹگھرے میں کھڑا کرکے جلد سے جلد سزا دلانا ضروری ہے ۔ (انل نریندر)

اب تک 277ممبر اسمبلی خریدے جا چکے ہیں !

پچھلے کچھ دنوں سے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے بھاجپا پر زبردست حملہ بول رکھا ہے ۔ آئے دن وہ نئے نئے الزام لگا کرہے ہیں ۔ حال ہی میں کیجریوال نے بی جے پی پر دیش بھر میں ممبران اسمبلی کے خرید وفروخت کرکے منتخب سرکاروں کو گرانے کا الزام لگا یا ہے ۔ دہلی اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں اپنے بات رکھتے ہوئے کیجریوال نے بی جے پی اور وزیر اعظم کا نام لئے بغیر کہا کہ ان لوگوں کی لڑائی کرپشن کے خلا ف نہیں بلکہ اقتداراور مفاد کی لڑائی ہے ۔ صرف ایک آدمی کی اقتدار کی ہوس پوری کرنے کیلئے یہ پوری لڑائی لڑی جا رہی ہے ۔ کیجریوال نے بی جے پی پر دیش کی کئی ریاستوں میں ممبراسمبلی خرید کر چنی ہوئی سرکاروں کو گرانے کا الزام لگا تے ہوئے کہا کہ یہ لوگ ابھی تک دیش بھر میں 277ایم ایل اے خریدچکے ہیں ۔ اور اس کے لئے 5500کروڑ روپے خرچ کر چکی ہے اس کے علاوہ 800کروڑ روپے انہوں نے دہلی کے 40ممبر اسمبلی کو خرید نے کیلئے رکھے ہوئے ہیں ۔ ایسے میں سوال اٹھ رہا ہے کہ آخر یہ 6300کروڑ روپے ان کے پاس کہاں سے آئے اور یہ کس کا پیسہ ہے ؟ کیجریوال نے کہا کہ میں اس کا انکشاف کروں گا ۔ اصل میں جب بھی ان لوگوں کو کہیں ممبر اسمبلی خریدنے ہوتے ہیں یا اپنے دوستوں کے قرض معاف کرنے ہوتے ہیں تو یہ لوگ ڈیزل ،پیٹرول اور سی این جی ایل پی جی کے دام بڑھادیتے ہیں اور کھانے پینے کی چیزوں پر جی ایس ٹی لگا دیتے ہیں اور اس سے پیسے آنے پر یہ سب کام کرتے ہیں۔ اب اگلے دس دن میں جھا رکھنڈ سرکار گرانے کیلئے بھی یہ سب کیا جائےگا ۔ انہوں نے دیش جنتا کے سامنے سوال اٹھایا کہ کیا آ پ کو یہ منظور ہے کہ اپنا پیسہ ان کاموں پر خرچ ہو؟ کیجریوال نے ایک دن پہلے بی جے پی کو سیرئل کیلر کہا تھا ۔انہوں نے ٹویٹ کر کے کہا کہ دہی، چھاچھ دودھ ،گیہوں ،چاول ،پر جو جی ایس ٹی لگایا گیا ہے اس سے مرکزی حکومت کے پاس سالانہ 7500کروڑروپے آئیں گے ۔ سرکار یں گرانے پر ابھی تک انہوں نے 6300کروڑ روپے خرچ کئے ہیں ۔اگر یہ سرکار یں نہ گرتیں تو گیہوں ،چاول چھاچھ وغیر ہ پرجی ایس ٹی نہ لگانا پڑتا اور لوگوں کو مہنگائی کا سامنا نہ کرنا پڑتا ۔ وزیر اعلی نے بتایا کہ یہ سب گجرات چناو¿ تک چلنے والا ہے کیوں گجرات میں اب ان کا قلعہ ڈھنے جا رہا ہے ۔ وہاں کے لوگ اب ان سے پریشان ہو چکے ہیں اور عام آدمی پارٹی کی سرکار بننے کا انتظار کر رہے ہیں۔ (انل نریندر)

30 اگست 2022

سونالی فوگٹ کا قتل کیا سیاسی سازش ہے ؟

بھاجپا نے اداکارہ سونالی فوگٹ کی موت کا معاملہ الجھتا رہا ہے ۔رشتہ داروں نے ان کے پی اے سدھیر سانگوان و ان کے دوست سکھوندر سانگوان پر جائداد ہڑپنے اور سیاسی سازش رچتے ہوئے قتل کرنے کا الزام لگایا ہے ۔ سونالی کے بھائی رنکو نے سدھیر پر کھانے میں نشیلی چیز دیکر بد فعلی کر نے اور ویڈیو بناکر بلیک میل کرنے جیسے سنگین الزام لگائے ہیں ۔ اس بارے میں انہوں نے گوا پولیس میں چار صفحات پر مشتمل شکایت درج کرائی اور کاروائی کی مانگ کی تھی ۔تازہ خبر کے مطابق پی اے سدھیر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔اس درمیان اپوزیشن پارٹیوں نے سونالی کی موت کی سی بی آئی جانچ کی مانگ کی ہے ۔ دوسری طرف گوا کے وزیر اعلیٰ ایم پرمود ساونت نے کہا کہ ابتدائی جانچ رپورٹ میں موت کی وجہ دل کا دورہ پڑنے بتائی جا رہی ہے اور پولیس نے اسے غیر فطری موت کا کیس درج کیا ہے ۔ سونالی فوگٹ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں لاش پر کئی چوٹ کے نشان کا سامنے آنے کے بعد گوا پولیس نے جمعرات کے روز ان کے دونوں معاونین کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا ہے ۔ایک سینئر پولیس افسر نے راجدھانی پنجی میں بتایا کہ اداکارہ سونالی کی موت سے جڑے معاملے میں آئی پی سی کی دفعہ 302( قتل ) جوڑی گئی ہے ۔فوگٹ کے ساتھ سدھیر سانگوان اور سکھوندر کو معاملے میں ملزم بنا یا گیا ہے ۔پوسٹ مارٹم رپورٹ سے اس بات کا اندیشہ ہوتا ہے کہ ان کا قتل کیا گیا ہے؟ کیوں کہ ان کے جسم پر کئی جگہ چوٹ کے نشان ہیں ۔ ادھر ان کے گھر والے پہلے ہی دن سے کہہ رہے تھے کہ انہیں سدھیر اور سکھوندر پر شبہ ہے ۔ سونالی کے بہنوئی امن پونیا کا الزام ہے کہ قتل سیاسی سازش کے تحت کیا گیا ہے ۔ سدھیر اس میں مہرا ہے ادھر انجنا ناتھ انچارج پیرل دسائی ملزمان سے سختی سے پوچھ تاچھ کر رہے ہیں ۔ کیا سونالی فوگٹ کی موت کا معمہ کبھی کھلے گا؟ یا پھر اس ٹائپ کے مقدموں کی طرح دبا دیا جائے گا؟ (انل نریندر)

کنیا کماری سے کشمیر تک بھارت جوڑو یاترا!

بھارت جوڑو یاترا کی پوری تیاریاں ہو گئیں ہیں ۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی 7ستمبر کو کنیا کماری سے اس یاترا کی شروعات کریں گے ۔ پارٹی نے بھارت جوڑو یاترا سے متعلق لوگوں کو ٹیگ لائن ،ویب سائٹ اور بک لیٹ بھی جاری کر دی ہے ۔ یہ یاترا 12ریاستوں اور دو مرکزی حکمراں ریاستوں سے ہوتے ہوئے قریب پانچ ماہ میں کنیا کماری سے کشمیر تک کا سفر طے کرے گی ۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش اور دگ وجے سنگھ نے منگل کے روز مشترکہ طور پر پارٹی ہیڈ کوارٹر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دیش میں اقتصادی بحرانوں اور سماجی پولرائزیشن و سیاسی بٹوارے کے پیش نظر یہ یاترا ضروری ہے ۔یہ یاترا ملک کے مفاد میں ہے ۔ ہم اس یاترا کو پارٹی لائن نہیں بننا دینا چاہتے اسلئے یاترا میں کانگریس کے بجائے ترنگا جھنڈا ہوگا ۔ دگ وجے سنگھ نے کہا کہ 3570کلو میٹر لمبی اس یاترا کی ٹیگ لائن ’ملے قدم ،جڑے وطن ‘ہوگی ۔ 100لوگ شروع کے آخر تک پد یاترا کریں گے ۔ یہ سوال کئے جانے پر کہ کیا راہل گاندھی پوری یاترا میں حصہ لیں گے؟ رمیش نے کہا کہ 7ستمبر کی شروعات کے وقت راہل گاندھی موجود رہیںگے باقی جانکاری بعد میں دی جائے گی۔دگ وجے سنگھ نے بتایا کہ اس دیش میں نفرت کا ماحول بنا ہوا ہے ، سسٹم ہندوستانی آئین کے بر عکس کام کر رہا ہے، مہنگائی ،بے روزگاری بڑھ رہی ہے ۔اقتصادی وسماجی دوریاں بڑھتی جا رہی ہے ،مذہبی نفرت پھیلائی جا رہی ہے ۔ ایک دوسرے کی عقیدت پر سوالیہ نشان لگا یا جا رہا ہے ۔ایسے ماحول میں بھارت جوڑو یاترا کیلئے ضروری ہے ۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کانگریس کی نظر 2024کے لوک سبھا چناو¿ پر ہے ۔بھارت جوڑو یاتر اکو پارٹی لوک سبھا چناو¿ سے پہلے بڑے رابطہ عامہ مہم کے طور پر دیکھ رہی ہے ۔یاترا کا راستہ بھی چنا و¿ کو دھیان میں رکھتے ہوئے طے کیا گیا ہے ۔پارٹی کو نارتھ انڈیا کے مقابلے چناو¿ میں ساو¿تھ انڈیا کی ریاستوں سے زیادہ امید ہے ۔ یاترا میں نامل ناڈو، کیرل ، کرناٹک ،آندھرا پردیش اور تلنگانہ شامل ہے ۔ بھارت جوڑو یاتراکو سب سے زیادہ وقت جنوبی ریاستوں میں لگے گا۔ پوری یاترا کے دوران کل 22اہم ترین مقام چنے گئے ہیں ان میں 9مقام ساو¿تھ انڈیا میں ہیں ۔ اس کے ساتھ مدھیہ پردیش اور راجستھان میں بھی یاترا کا لمبا سفر طے کرے گی ۔ مدھیہ پردیشن ، راجستھان و کرناٹک میں اگلے برس اسمبلی چناو¿ ہے ۔حالاںکہ یہ یاترا گجرات ،ہماچل سے ہوکر نہیں گذرے گی۔ ساو¿تھ انڈیا خاص کر تامل ناڈو ، کیرل ،کرناٹک ،آندھراپردیش اور تنلگانہ میں لوک سبھا کی 129سیٹیں ہیں ۔سال 2019کے چناو¿ میں کانگریس ان میں سے صر ف 28سیٹیں ہی جیت سکی ۔جبکہ بھاجپا 29سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی ۔ بھاجپا نے اکیلے کرناٹک میں 25سیٹیں جیتی تھی ایسے میں کرناٹک میں کانگریس پارٹی کیلئے یہ یاترا اہم ہے ۔ ویسے بھی بھارت جوڑو یاترا سے کانگریس کو مضبوط ہونے کی امید ہے ۔ اگر ورکروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تو یقینی طور سے یہ پارٹی کیلئے ایک بوسٹر ڈوز ہوگی ۔ اس سے راہل گاندھی کو بھی ذاتی فائدہ ہو سکتاہے۔ (انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...