Translater

25 اپریل 2026

ہارا ہوا کیس طے کرسکتا ہے جنگ کی شرائط

سیز فائر کی میعاد وقت غیر یقینی وقت بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے صاف کیا ہے کہ امریکی فوج پوری طرح سے تیار ہے ، اور جنگ بندی صرف تب تک ہے جب تک بات چیت کسی ٹھوس نتیجے پر نہیں پہنچ جاتی اسے ایران نے نہ صرف مسترد کر دیا ،بلکہ اسے امریکہ کی کمزور ی بتایا ۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر مشیر محبی محمد ی نے سخت الفاظ میں کہا کہ جنگ کے میدان میں ہارا دیش اپنی شرائط نہیں تھوپ سکتا ۔پچھڑنے والادیش کیسے شرائط طے کرسکتا ہے؟ انہوں نے لکھا ٹرمپ کے جنگ بندی توسیع کا کوئی مطلب نہیں ہے ۔بندرگاہوں کی گھیرا بندی جاری رکھنا بم باری کرنے سے الگ نہیں ہے ۔تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ایران جنگ میں امریکہ کو بری طرح سے فلاپ ہونے کے ثبوت سامنے آنے لگے ہیں ۔جنگ میں کامیابی نہ دلانے کی وجہ سے امریکہ میں پچھلے 25 دنوں سے فوج کے 4 بڑے افسروں کو برخواست کر دیا گیا ہے ۔لسٹ میں تازہ نام نیول سیکریٹری جان فیلن کا ہے۔ ہرمز میں ایرانی ناکہ بندی کو ختم نہ کر پانے کی وجہ سے پینٹاگون نے صرف فیلن کو برخواست ہی نہیں کیا بلکہ فیلن سے پہلے آرمی چیف جنرل ٹے ڈی جارج ،میجر جنرل ڈیوڈ ہانڈلے اور میجر جنرل ولیم گرین جونیئر کو برخواست کیاجاچکا ہے ۔تینوں کو ہی جنگ میں کامیابی نہ دلانے کے سبب برخواست کیا گیا ہے ۔فیلن صدر ٹرمپ کے بے حد قریبی افسر مانے جاتے ہیں ۔فیلن پر کمانڈ کو درکنار کرنے اور جنگ میں متوقع کامیابی نہ دلانے کا الزام ہے حالانکہ سرکار بیان میں کہا گیا ہے کہ فیلن نے خود ہی استعفیٰ کی پیشکش کی ہے ۔اُدھر فائنانشیل ٹائمس کے مطابق ہرمز کے باہر امریکی ناکابندی کرنے میں پوری طرح ناکام ثابت ہوا ہے ۔سیٹکام کے بیان کے اُلٹ 22 اپریل کو 34 ایرانی جہاز ہرمز سے گزر گئے ۔ان جہازوں کو امریکہ روک نہیں پایا ۔اُدھر سیٹکام کا کہنا ہے کہ اس نے ہرمز میں 10 ہزار فوجی لگا رکھے ہیں ۔اور اس کے علاوہ 21 اپریل کو اسلام آباد میں ایران امریکہ کے بیچ امن مذاکرات کو لے کر مجوزہ میٹنگ میں ایران نے شامل ہونے سے منع کر دیا ہے ۔سی این این کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ ایران جنگ سے باہر نکلنا چاہتے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ امکانی مڈٹرم الیکشن ہے ۔ٹرمپ کو لگتا ہے کہ مڈ ٹرم الیکشن تک اگر جنگ جاری رہتی ہے تو ان کی پارٹی کو کافی زیادہ نقصان ہوسکتا ہے اس لئے ٹرمپ نےایران سے بغیر بات کئے جنگ بندی کو بے میعادی بڑھا دیا ہے۔ ہرمز ابھی جلد کھلنے والابھی نہیں ہے ۔بے شک ٹرمپ کتنا بھی چاہیں امریکی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ہرمز اسٹریٹ میں بچھی مائنس ہٹانے میں چھ مہینے تک کا وقت لگ سکتا ہے اس سے تیل سپلائی ،عالمی تجارت طویل عرصہ تک متاثر رہے گی ۔امریکہ ایران کے بیچ کشیدگی کم نہیں ہوئی ہے امریکہ چاہتا ہے کہ ایران اپنا نیوکلیائی پروگرام بند کرے اور افزودگی یرونیم سونپ دے اور ہرمز کو پوری طرح کھول دے ۔دوسری طرف ایران نے کہا ہے کہ جب تک امریکہ اس کی ناکابندی ختم نہیں کرے گا ،وہ بات چیت نہیں کرے گا جیسا مہدی محمد نے کہا کہ ہرمز جنگ میں بری طرح فلاپ ہوئے امریکی جنگ کی شرطیں کیسے طے کرسکتا ہے ؟ 
(انل نریندر)

23 اپریل 2026

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگی کے سبب امن بات چیت کھٹائی میں پڑتی نظر آرہی ہے اس پورے واقعہ میں پاکستان ثالث کے رول میں سرگرم ہے ۔ہرمز کو تازہ ٹکراؤ کو دیکھتے ہوئے پاکستانی ثالثی ٹیم واپس اسلام آباد لوٹ چکی ہے ۔پاکستان میں پہلے دور کی امن بات چیت کے بعد امریکہ نے ہرمز بلاکڈ لاگو کر دیا ہے۔ وہیں ایران نے اسے اپنی سرداری پر حملہ بتایا ہے ۔سمندر میں ایرانی جہازوں تک کو بھی روکا اور نشانہ بنایاجارہا ہے ۔تیل مارکیٹ میں عدم استحکام بڑھ گیاہے ۔دنیا کی نظر اب اس پر لگی ہے کہ اس ٹکراؤ کا اگلا قدم کیا ہوگا؟ سال یہ بھی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تقریبا 40 دنوں تک زبردست جنگ چلی ۔اس کے بعد بڑی مشکل سے سیز فائر کا اعلان کیا گیا اور اسلام آباد میں امن بات چیت کے لئے میٹنگ بلائی گئی لیکن یہ بات چیت بے نتیجہ رہی۔ بات چیت ناکام ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہرمز رہا ۔ہرمز پر کس کا دبدبہ رہے گا اس کا فیصلہ نہیں ہو پایا ۔فی الحال تو امن بات چیت کے بعد ایران اور امریکہ کے بیچ ہرمز پر قبضہ کو لے کر سسپنس کی آگ دہک رہی ہے ۔ امریکہ اور ایران نے اپنےہاتھ کھڑے کر دئیے ہیں ۔دنیا میں تیل کے اس اہم راستے پر کس کا قبضہ ہے کس کے ہاتھ میں ہے ؟ سوال ہر کسی کو پریشان کررہا ہے ۔دونوں خیمے اپنے اپنے دعووں پراڑیل ہیں ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سختی نے ماحول کو اور خراب کر دیا ہے کئی ملکوں کی معیشت اسی راستے پر ٹکی ہوئی ہے ۔بتادیں کہ دنیا کی آدھی سے زیادہ تیل کی سپلائی اسی راستے پر منحصر ہے ۔ایک چھوٹی سی غلطی بھی عالمی معیشت کو ہلا سکتی ہے ۔امریکہ کی ناکے بندی کتنی کارگر ثابت ہورہی ہے؟ یا ایران کی دھمکی میں دم ہے ؟ سسپنس ہر گھنٹے بڑھتا جارہا ہے ۔جمعرات کو ایرانی جہاز کو امریکہ نے ہرمز واپس لوٹا دیا ہے اس کے بعد کشیدگی انتہا پر پہنچ گئی ہے ۔سیز فائر کے باوجود امریکہ کی اس حرکت سے ایران کا غصہ ساتویں آسمان پر ہے ۔ایران نے امریکہ کو جوابی کاروائی کی سخت وارننگ دے دی ہے ۔ڈر اس کا ہے کہ جنگ بندی جو 23 اپریل کو ختم ہونے جارہی ہے یعنی آج وہ آگے بڑھے گی یا نہیں ؟ ہرمز کے بندہونے سے اب  یہ ٹکراؤ صرف دو ملکوں تک محدود نہیں رہا اس کا اثر پوری دنیا کی معیشت پر نظر آنے لگا ہے ۔تیل بازار میں کھلبلی مچی ہوئی ہے ۔جہاز رانی کمپنیاں چوکس ہو گئی ہیں ۔ہر دیش چاہتا ہے کہ یہ اہم راستہ کھلا رہے لیکن زمین اور سمندر پر چل رہی حکمت عملی چالیں اس راستے کو سب سے بڑا فلیگ پوائنٹ بنارہا ہے ۔ٹرمپ نے رائٹرس کو دئیے ایک اور یبان میں دعویٰ کیا کہ بلاکیڈ پوری طرح لاگو ہے اور ایران اب کھلے طور پر تجارت نہیں کرپارہا ہے۔ سیٹکام کے مطابق اب تک 10 جہازوں کو واپس بھیجاجاچکا ہے اس بیچ خبر یہ بھی آئی ہے کہ پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر نے ٹرمپ کو تجویز بھیجی ہے کہ اگر امن بات چیت آگے بڑھانی ہے تو ہرمز سے بلاکیڈ ختم کرنا ہوگا ۔کہاجارہا ہے ٹرمپ نے کہا میں اس پر غور کروں گا ۔
(انل نریندر)

21 اپریل 2026

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران میں ہیں اور پاک وزیراعظم شہباز ریاض میں چکر لگا رہے ہیں ۔ادھر اسرائیل لبنان جنگ میں ٹرمپ کی بدولت 10 دن کا سیز فائر چل رہا ہے۔امید کی جارہی ہے کہ پاکستان میں دوسرے دور کی بات چیت بھی ممکن ہے لیکن اس میں ابھی کئی پیج پھنسے ہوئے ہیں ۔دونوں فریق اپنی اپنی کہی شرطوں پر اڑے ہوئے ہیں ۔اب سوال اٹھتا ہے کہ آگے کیا کیا ہوسکتا ہے ؟ ہمیں تو چار امکانی پش منظر دکھائی دے رہے ہیں ۔حکمت عملی بریک کی شکل میں جنگ بندی ۔کئی ہفتوں کی لڑائی کے بعد امریکہ ایران جنگ بندی کرائسس کو محدود کرنے کی خواہش اچھا اشارہ دیتا نظر آرہی ہے ۔حالانکہ شرعات ہی سے اس کے ساتھ کئی طرح کی باتیں جڑی ہیں ۔جنگ بندی کے تقاضوں کی تشریح کو لے کر اختلافات سامنے آئے ہیں ان اختلافات کے سبب کچھ مبصرین نے اسے ایک مستقل اسٹرکچر کے بجائے حکمت عملی بریک کی شکل میں دیکھنا شروع کر دیا ہے ۔ایک امریکی تجزیہ نگار کے مطابق لڑائی شروع ہونے کے بعد سے ہی سمجھوتہ تک پہنچنے کا امکان تقریباً زیرو تھا ۔یہ اصولوں ،حالات اور پالیسیوں کا ایک ایسا گروپ ہے جن پر امریکہ اور ایران سالوں سے غیر متفق رہے ہیںاور جنگ ان اختلافات کو کم کرنے میں ناکام رہی ہے ۔دونوں فریقین مسلسل متضاد بیانوں سے حالات اور بگڑ گئے ہیں ۔ٹرمپ کی جانب سے اسٹریٹ آف ہرمز کی ناکابندی کا اعلان سے ٹکراؤ اور بڑھ گیا ہے ۔حالانکہ کشیدگی بڑھنے کے امکان سے انکار نہیں کیاجاسکتا ۔دعوے سے کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ جنگ رکے گی یا نہیں ؟ ایک پش منظر جو شاید سب سے زیادہ ممکن ہے وہ ہےٹکراؤ کا بے کنٹرول کشیدگی کی شکل میں واپسی کا اس کا مطلب ہوگا لڑائی کھلی جنگ کی سطح تک نہیں پہنچے گی اور نہ ہی دونوں فریق پوری طرح سے فوجی کاروائی سے پرہیز کریں گے اس میں بنیادی ڈھانچے فوجی اڈوں یاسپلائی لائنوں پر محدود حملے جاری رہ سکتے ہیں اس کے بعد پراکسی گروپوں کا رول زیادہ اہم ہوجائے گا کچھ تجزیہ نگار اس حالت کو شیڈو وار کہتے ہیں جیسے جیسے ٹکراؤ بڑھتا ہے ، غلط تجزیہ کا خطرہ بڑھتا ہے اور بھلے ہی کوئی فریق کی کشیدگی بڑھانا نہ چاہتا ہو ایک چھوٹی سی غلطی بھی لڑائی کو بے قابو سطح تک پہنچا سکتی ہے ۔پاکستان میں بات چیت فیل ہونے کے باوجود یہ نتیجہ نکالنا ابھی ممکن نہیں ہےکہ ڈپلومیسی ختم ہو چکی ہے یا بات چیت پوری طرح ٹوٹ چکی ہے ۔امریکہ کی 15 نکاتی تجویز اور ایران کا 10 نکاتی جوابی پرستاؤ یہ ضرور دکھاتا ہے کہ دونوں فریق بجائے کسی درمیانی راہ پر پہنچنے کے ابھی بھی اپنی اپنی شرطوں کو ترجیح دے رہے ہیں اس لئے بھلے ہی بات چیت کا نیا دور ممکن ہولیکن جلدی اور وسیع معاہدہ کی امید رکھنا صحیح نہیں لگتا ۔اگر امریکی ناکابندی جاری رہتی ہے تو ایرانی فوج نے خلیج اور لال ساگر اور عمان کی خلیج فارس میں شپنگ کے خطرے کی وارننگ دے دی ہے ۔ٹرمپ نے اعلان کیا ہے دیش کی بحریہ ایران پر سمندری ناکابندی جاری رکھے گی جس سے ہر گزرتے جہاز کو روکا جاسکتا ہے اور یہ ایران کو کسی حالت میں قبول نہیں ہے ۔ایرا ن نے یہ دھمکی دی ہے بین الاقوامی آبی راستے میں ان جہازوں کو روکا جائے گا جو ہرمز سے گزرنے کے لئے ایران کو ٹرانزٹ ٹیکس نہیں دیں گے تو نتیجہ اچھا نہیں ہوگا ۔ٹرمپ چاہتے ہیں ایران کی تیل آمدنی کو روکنا ۔اس کی معیشت کو کمزور کرنا اور ایران کو مجبور کرنا کہ وہ امریکہ کی شرطوں کو مانے لیکن دیگر تجزیہ نگاروں نے اس حکمت عملی سے امریکہ کو ہونے والی بھاری لاگت کی جانب اشارہ کیا ہے کیوں کہ اس سے اس کی فوجی طاقت جغرافیائی طور سے ایران کے قریب آجاتی ہے اور حملے کے تئیں زیادہ حساس ترین ہو جائے گا ۔موجودہ ماحول میں حکمت عملی فیصلے اور سیکورٹی سے جڑے سوال اور زمینی سطح پر چھوٹے واقعات بھی بحران کی سمت پر بڑا اثر ڈال سکتے ہیں ۔
(انل نریندر)

ایران نے خلیجی ملکوں پر حملہ کیوں کیا؟

امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران ایران کی جوابی کاروائی روایتی نشانوں سے آگے بڑھ گئی ہے ، اس نے خلیجی ملکوں میں مسلسل حملے کئے اور ی...