Translater
31 دسمبر 2024
اور اب ایشور اللہ تیرو نام پر ہنگامہ!
بہار میں لوک گائیکا دیوی کو بابائے قوم مہاتما گاندھی کے اس محبوب” بھجن رگھوپتی راگھو راجا رام“پر معافی مانگنی پڑی یہ واقعہ 25 دسمبر کو سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واچپئی کی جینتی پر منعقد ایک پروگرام میں ہوا ۔ماہر تعلیم مدن موہن مالویہ کی جینتی پر واچپئی کی سدی تقریبات برس پر اٹل وچار کونسل اور دنکر نیاس کمیٹی نے پٹنہ کے باپو اڈیٹوریم میں دو روزہ پروگرام کیا تھا اٹل وچار کونسل کے بانی سابق مرکزی وزیر اشونی کمار چوبے نے بتایا کے اس پروگرام میں پہلے دن گاندھی میدان میں اٹل دوڑ کا انعقاد کیا گیا تھا اور دوسرے دن دیش بھر سے آئے لوگوں کو اٹل سمان دیا جانا تھا ارجت شیخاوت بھاگل پور سے ممبر اسمبلی ہیں ان کا کہنا ہے لوک گائیکا دیوی کی فلائٹ تھی اس لئے ان کو اٹل سمان دینے کے بعد ان کا ایک گیت سن کر انہیں بدا کرنا تھا یہ ان کا گیت گاندھی اور اٹل جی دونوں کا محبوب بھجن گایا تھا جس پر پیچھے بیٹھے کچھ لوگوں نے ہنگامہ کر دیا ،دینی نے باپو کے پریہ بھجن ایشور اللہ تیروں نے گانا شروع کیا تو اڈیٹوریم میں ہنگامہ شروع کر دیا کہا گانے میں صحیح لائنوں کو نہیں پڑھا گیا اس کو لیکر اپنی بات رکھ رہیں تھی کے اتنا شور غل ہوا کے لوگ ان کی بات سننے کو تیار نہیں تھے ۔اس درمیان دیوی نے بھارت ماتا کی جے اور اٹل بہاری واچپئی امر رہے کے نارے لگائے تو لوگوں نے جے شری رام کے نارے لگانے شروع کر دئے جب یہ ہنگامہ شروع ہوا اور دیوی کو چڑایا جا رہا تھا تب ایم پی روی شنکر پرساد ،سنجے پاسوان ،سی پی ٹھاکر بھی موجود تھے اس واقعہ کے وائل ویڈیو میں رگھوپتی راجا رام گانے کے بعددیوی سب سے معافی مانگتے ہوئے کہتی ہیں تو اگر میرے سے کسی کو تکلیف ہوئی ہے تو میں سب سے معافی مانگتی ہوں۔دیوی کے یہ کہنے کے بعد وہ اسٹیج سے ہٹتی ہیں اور بی جے پی نیتا اشونی چوبے جے شری رام کا نعرہ لگواتے ہیں ۔جے ڈی یو ترجمان نول شرما کا کہنا ہے بہار مہاتما گاندھی کی کرم استھلی ہے اور بہار سرکار کے کسی بھی دفتر میں گاندھی جی کے اسول لکھے مل جائےں گے اور ہمارے نیتا میں ہماری کٹر عقیدت ہے ۔کانگریس نے اس واقعہ پر بی جے پی کو آڑے ہاتھوں لیا ۔کانگریس ایم پی پرینکا گاندھی نے ایکس پر لکھا باپو کا پریہ بھجن گانے پر بھاجپا نیتاﺅں نے لوک گائیکا دیوی جی سے برا برتاﺅ کرنے اور ان کو معافی مانگنے پر مجبور کر دیا راگھو پتی راگھو راجا رام پنڈت پون سیتا رام نہیں سنا گیا ۔انہوںنے لکھا دنیا کو دکھانے کے لئے باپو کو پھول چڑھاتے ہیں لیکن ان کی کوئی عزت نہیں کرتے دکھاوے کے لئے بابا صاحب امبیڈ کر کا نام لیتے ہیں اسل میںیہ ان کی بے عزتی کرتے ہیں وہیں لالو پرساد یادو نے کہا سنگھیوں اور بھاجپائیوں کو جے سیا رام ،جے سیتا رام کے نارے سے شروع سے ہی نفرت ہے کیوں کے اس میں ماتا سیتا کی تعریف ہے یہ لوگ شروع سے ہی خاتون مخالف ہیں اور انہوںنے گلوکارہ دیوی سے مائک پر معافی منگوائی اور ماتا سیتا کے جے سیتا رام کے بجائے جے شری رام کے نارے لگوائے۔(انل نریندر)
منموہن جن کے7 فےصلے جنہوںنے دیش کی سمت بدل دی!
جمعرات کی شام سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کے انتقال کے بعد دیش دنیا بھر میں لوگ ان کے اشتراک کی بات کر رہے ہیں۔سال 2004 سے لیکر 2014 تک بھارت کے وزیراعظم کی کرسی سنبھالنے والے منموہن سنگھ کو اقتصادی اصلاحات کے طور پر دیکھا جاتا ہے 1991 میں وزیراعظم پی وی نرسمہا راﺅ کی قیادت والی کانگریس سرکار میں منموہن سنگھ کو وزیر خزانہ بنایا گیا تھا ان کی بنائی پالیسیوں نے دیش میں لائسنس راج ختم کر اصلاحت کے ایسے دروازے کھولے جس سے بھارت کو نہ صرف سنگین اقتصادی بہران سے بچایا بلکہ دیش کی سمت بدل ڈالی ۔10 سال کے ان کے اہد میں کئی بڑے فیصلے لئے گئے جو میل کا پتھر ثابت ہوئے اطلاعات کا وقت یعنی آر ٹی آئی ڈاکٹر منموہن سنگھ کے عہد میں 12 اکتوبر 2005 کو لاگو ہوا ۔یہ قانون ہندوستانی شہریوں کو سرکاری حکام اور اداروں سے معلومات مانگنے کا حق دیتا ہے ۔یہ وہ حق ہے جس سے شہریوں کو جانکاری شئر کرنے کا فیصلہ کا موقع اور خواہش کے مطابق اقتدار کا استعمال کرنے والوں سے سوال پوجھنے کا بھی ہے اس سے نہ صرف افسر شاہی اور لال فیتا شاہی کے ٹال مٹول بھرے رویہ کو دور کرنے میں بھی مدد ملی ہے ۔منموہن کی سرکار نے5 200میں منریگا بنایا جسے 2 فروری 2006 سے لاگو کیا گیا اس اسکیم تحت دیہات میں رہنے والے ہر خاندان کو کم سے کم 100 دن مزدوری کی گارنٹی دی گئی ۔اس ہوجنا نے نہ صرف دیہی علاقوں میں غریبی بلکہ شہروں کی طرف ہجرت کو بھی کم کیا ہے ۔پہلی ہی سال اس اسکیم کے تحت 2.10 کروڑ خاندانوں کو روزگار دیا گیا ہے تب یومیہ روزگار پانے والے شخص کو روزانہ 65 روپے ملتے تھے سال 2008 میں کانگریس کی یو پی اے سرکار نے دیش بھر کے کسانوں کا قرض معاف کرنے کا فیصلہ لیا ۔اس سے اندازاً 3.69 کروڑ جھوٹے اور درمیانے کسانوں کو راحت ملی ہے ۔کانگریس نے 2009 کے عام چناﺅ میں خوب بھنایا نتیجہ یہ ہوا ایک بار پھر کانگریس کی سرکار بنی سال 2008 میں بھارت اور امریکہ کے بیچ نیوکلائی اشتراک معاملے پر معائدے پر دستخط کئے گئے ۔سرد جنگ کے بعد سے امریکہ کا جھکاﺅ پاکستان کی طرف تھا ۔لیکن اس معائدے کے بعد امریکہ اور بھارت کے رشتوں نے ایک تاریخی موڑ لے لیا ۔اس مشکل گھڑی میں صدر ڈاکٹر عبدکلام اور سپا کے تعاون سے منموہن سرکار اپنے مقصد میں کامیاب رہی ۔سال 2008 میں دنیا بھر میں معالی بہران مچا ہوا تھا اور ہر کونے سے شئیر بازار وں کے پیسہ ڈوبنے کی خبرے آ رہی تھی۔سرمایا کاروں کے لاکھوں کروڑوں روپے ہر روز ہوا ہو رہے تھے ۔جب لگا کی ہندوستانی معیشت چرمراجائے گی تبھی منموہن سنگھ کی سوچھ بوچھ نے حالات سنبھالنے شروع کئے اور یہ سلسلہ ایسا چلا بھارت اقتصادی مندی کی ذد میں آنے سے بچ گیاسال 2010 میں منموہن سرکار نے دیش میں تعلیم کا حق لاگو کیا اس کے تحت 6 سے 14 سال تک کے بچوں کو تعلیم مہیاءکرانا آئینی کرانے کا آئینی حق لاگو کیا گیا اس قانون میں تعلیم کی کوالیٹی سماجی ذمہ داری ،پرائیویٹ اسکولوں میں ریزرویشن اور اسکولوں میں بچے کے داخلے کو افسر شاہی سے آزاد کرانے کا سہولت بھی ہے ۔سال 2013 میں دیش کے غریب لوگوں کو فوڈ گارنٹی کےلئے منموہن سرکار نے نیشنل فوڈ سکیورٹی ایکٹ لاگو کیا یہ ایکٹ دیش میں 81.35 کروڑ آبادی کو کور کرتا ہے آج بھی مودی سرکار اس اسکیم کا نام بدل کر چلا رہی ہے ۔منموہن سنگھ نے جب کہا تھا کے تاریخ ان کی اندازے میں ہال کے مقابلے زیادہ بڑھےگا تو اس سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی منموہن سنگھ کے اشتراک کو بھلایا نہیں جا سکتا۔ تاریخ میں انکا اشتراک درج ہو گیا ہے ۔ہم اس مہان آتمہ کو شردھانجلی دیتے ہیں ۔(انل نریندر)
28 دسمبر 2024
بدلے قواعد سے کیا شفافیت پر اثر پڑے گا ؟
مرکز کی مودی سرکار نے چناو¿ کمیشن کی اس سفارش کو لاگو کیا اس کے بعد کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیاں اس پر سوال اٹھارہی ہیں ۔دراصل مرکزی سرکار نے چناوی قواعد میں ترمیم کرتے ہوئے دستاویزوں کے ایک حصے کو عام جنتا کی پہنچ سے روک دیا ہے ۔حکومت کے آئینی و انصاف وزارت نے گزشتہ جمعہ کو چناو¿ کمیشن کی سفارشوں کی بنیاد پر سی سی کیمرہ اور ویب کاسٹنگ فوٹیز کو جنتا کے سامنے لانے پر جنتا کے سامنے پابندی لگا دی ہے ۔کانگریس نے اس قدم کو آئین اور جمہوریت پر حملہ بتایا ہے ۔کانگریس صد ر ملکا ارجن کھڑگے نے ایکس پر لکھا مودی سرکار کے ذریعے چناو¿ کمیشن کی آزادی کو کم کرنے کی نپی تلی کوشش آئین اور جمہوریت پر سیدھا اٹیک ہے اور ہم ان کی حفاظت کے لئے ہر قدم اٹھائیں گے۔چناو¿ کرانا قاعدہ 1961 کی قواعد 93(2) (A) میں ترمیم سے پہلے لکھا تھا کہ چناو¿ سے متعلق دیگر سبھی پبلک جانچ کے لئے کھلے رہیں گے۔ترمیم کے بعد اس قواعد میں کہا گیا ہے کہ چناو¿ سے متعلق ان ضابطوں میں درج دیگر سبھی کاغذات پبلک کئے جانے کے لئے کھلے رہیں گے ۔اس تبدیلی سے چناوی قواعد کے الگ الگ سہولیات تحت چناوی پیپر (جیسے نامزدگی نامہ وغیرہ ) ہی پبلک جانچ کے لئے کھلے رہیں گے ۔امیدواروں کے لئے فارم 17-Cجیسے دستاویز دستیاب رہیں گے لیکن چناو¿ سے متعلق الیکٹرانک ریکارڈ سی سی ٹی وی فوٹیج پبلک طور سے دستیاب نہیں ہوں گے الگ الگ میڈیا رپورٹس میں چناو¿ حکام سے بات چیت کی گئی ۔انڈین ایکسپریس سے چناو¿ کمیشن کے ایک افسر نے نام نا بتانے کی شرط پر کہا کہ پولنگ مرکز کے اندر سی سی ٹی وی فوٹیج کے بیجا استعمال کو روکنے کے لئے قاعدہ میں ترمیم کی گئی ہے ۔سی ٹی وی فوٹیج شیئر کرنے سے خاص طور سے جموں کشمیر ،نکسل متاثرہ علاقوں میں سنگین نتائج ہوسکتے ہیں ۔جہاں رازداری اہم ہے۔ترمیم سے کچھ دن پہلے پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے 9 دسمبرچناو¿ کمیشن کو ہدایت دی تھی کہ وہ وکیل محمود پراچہ کو ہریانہ اسمبلی چناو¿ سے متعلق ضروری دستاویز دستیاب کرائیں۔مدعاعلیہ نے ہریانہ اسمبلی چناو¿ سے متعلق ویڈیو گرافی سی سی ٹی وی فوٹیج اور فارم 17-Cکی کاپیاں دستیاب کرانے کے لئے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا ریٹرننگ افسر کے لئے جاری بک میں یہ سہولت ہے کہ امیدوار یا کسی شخص کے ذریعے درخواست دئیے جانے پر ایسی ویڈیو دستیاب کرائی جانی چاہیے۔عرضی کی مخالفت کرتے ہوئے چناو¿ کمیشن کے وکیل نے کورٹ میں کہا کہ مدعالیہ اس نے نہ تو ہریانہ کا باشندہ ہے اور نا ہی انہوں نے کسی اسمبلی حلقہ سے چناو¿ لڑا ہے ایسے میں ان کی مانگ جائزنہیں ہے ۔مدعالیہ کی طرف سے کہا گیا تھا کہ چناو¿ منعقد قاعدہ 1961 کے مطابق امیدوار اور دوسرے شخص کے درمیان یہ فرق ہے کہ امیدوار کو دستاویز مفت دئیے جانے ہیں جبکہ کسی دوسرے شخص کو اس کے لئے مقرر فیس دینا ہوگی ۔وکیل نے کہا تھا کہ وہ مقرر فیس کی ادائیگی کرنے کے لئے تیار ہے۔خواہشمند ہے معاملے میں جسٹس ونود ایس مہاراج کہا تھا کہ چناو¿ کمیشن چھ ہفتے کے اندر ضروری دستاویز دستیاب کرائے اس حکم کو دو ہفتے کے اندر مرکزی سرکار نے چناو¿ کمیشن کی سفارشوں کو ہی لاگو کر دیا ۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے یہ ترمیم چناو¿ کمیشن کے طریقہ کار پر ایک اور سوال کھڑا کرتا ہے ۔ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ عرضی گزار کو متعلقہ ڈیٹا دے دیجئے اور اس حکم کے کچھ دن بعد یہ ترمیم کی گئی ہے تاکہ ڈیٹا دستیاب نا کرایا جاسکے۔اس کی ٹائمنگ اپنے آپ میں سوال کھڑا کرتی ہے اور یہ ترمیم پارلیمنٹ سے تو پاس نہیں ہوئی ہے لوگ لگاتار چناو¿ کمیشن کی شفافیت پر سوا ل کھڑے کررہے ہیں اور اب یہ فیصلہ آگیا ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کا الزام ہے کہ چناو¿ کمیشن شفافیت سے ڈرررہا ہے ۔کانگریس نے اس کو قانونی طور پر چنوتی دینے کی بات کہی ہے ۔دیش کا چناو¿ کمیشن آئینی ادارہ ہے اور وہ آرٹیکل 324 کے مطابق دیش بھر میں چناو¿ کرانے کے لئے قائم کیا گیا ہے ۔گزشتہ کچھ برسوں سے چناو¿ کمیشن کے طریقہ کار کو لے کر مفاد عامہ کی عرضیاں عدالتوں میں دائر کی جاتی رہی ہیں اور اس کی شفافیت کو لے کر طرح طرح کے تنازعہ کھڑے ہوتے رہے ہیں چناو¿ کمیشن پر الزام لگتے رہتے ہیں مودی سرکار کی وہ کٹھ پتلی بن کر رہ گیا ہے ۔اپوزیشن پارٹیاں تو یہاں تک الزام لگا رہی ہیں کہ چناو¿ کمیشن بھاجپا کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتا ہے ۔پچھلے سال بھی چناو¿ کمشنروں کی تقرری کو لے کر ہنگامہ کھڑا ہو گیا تھا ۔اور معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا تھا ۔چناو¿ کمیشن کی مختاری کو لے کر سمجھوتہ کرنا مناسب نہیں کہا جاسکتا ۔اگر یہ بلا شبہ مناسب بھی ہے تو شفافیت کی آڑ میں رازداری بھنگ کئے جانے کی چھوٹ جاری رہنے دی جائے ۔کمیشن کو اپنی مختاری کا بھی خیال رکھنا چاہیے ۔چناو¿ کمیشن آخر شفافیت سے اتنا کیوں ڈرتا ہے؟ کانگریسی نیتا جے رام رمیش کا کہنا ہے کہ کمیشن کے اس قدم کو جلد قانونی طور پر چنوتی دی جائے گی۔وہیں عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے لکھا اس کا مطلب ہے کچھ تو گڑ بڑی ہے۔ٹی ایس آر کے سابق ایم پی جبار نے سرکار سے پوچھا کہ مودی سرکار کا کیا چھپا رہی ہے ؟ آخر چناو¿ قواعد میں اچانک تبدیلی کرکے جنتا کو چناو¿ ریکارڈ اور ڈیٹا کے بارے میں پوچھنے اور جانچ سے کیوں روک دیا گیا ہے؟
(انل نریندر)
24 دسمبر 2024
کسانوں کی مدد کے لئے ہمیشہ چوٹالہ یاد رہیں گے!
سابق نائب وزیر اعظم چودھری دیوی لال کی وراست کو چوٹی تک لے جانے والے چودھری اوم پرکاش چوٹالہ کو زندہ جاوید ،اچھا مقرر اور کسانوں اور ورکروں پر مضبوط پکڑ کے لئے ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔ان کا شمار ان لیڈروں میں ہوتا ہے جو بنیادی ورکروں کے نام تک یاد رکھتے تھے ۔اور کئی بار تو ان کے گھر میں جاکر ٹھہرتے تھے ۔ہری پگڑی اوم پرکاش چوٹالہ کی پہچان بن گئی تھی۔ایک جنوری 1935 کو پیدا ہوئے اوم پرکاش چوٹالہ چودھری دیوی لال کے سب سے بڑے بیٹے تھے ۔ان کا سیاسی صفر کا آغاز ایک غیر متوقہ سے ہوا ۔1968 میں چھوٹے بھائی پرتاپ سنگھ کے دل بدلنے پر کانگریس نے ان کو ٹکٹ دے دیا اور اوم پرکاش چوٹالہ کو سرسہ کے اعلان آباد اسمبلی حلقہ سے چناﺅ میدان میں اتارا مگر وہ ہار گئے ۔چناﺅ میں دھاندلی کو لیکر وہ سپریم کورٹ بھی گئے اور چناﺅ منسوخ کرایا اور 1970 میں پھر وہ اعلان آباد اسمبلی حلقہ میں ضمنی چناﺅ میں کانگریس کے ٹکٹ پر پہلی بار ممبر اسمبلی بنے 1989 میں جب چودھری دیوی لال دیش کے نائب وزیر اعظم بنے تو انہوںنے اپنی سیاسی وراست کے لئے اپنے بڑے بیٹے اوم پرکاش چوٹالہ کو چنا اور وہ ہندوستانی سیاست میں ایک قد آور شخصیت اور جاٹ فرقہ کے ایک بڑے نیتا بن کر ابھرے وہ کم تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اپنی ذبردست سیاسی سوجھ بوجھ اور حاضر جوابی کے لئے جانے جاتے تھے ۔انہوںنے اپنے والد کے ذریعہ بنائے گئی انڈین نیشنل لوک دل کے چیف تھے اور چودھری دیوی لال کے وزیر اعظم رہنے کے علاوہ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ بھی رہے تھے انہیں کسانوں کا مسیحا کہا جاتا تھا۔چودھری اوم پرکاش چوٹالہ بھی اپنے والد کے نکشہ قدم پر چلے اور 1989 میں پہلی بار ہریانہ کے وزیراعلیٰ بنے ۔یکم جنوری 1935 کو پیدا اوم پرکاش چوٹالہ ریاست کے 5 بار وزیراعلیٰ رہے ۔وہ 1989 سے جولائی 1999تک بیچ بیچ میں وزیراعلیٰ بنتے رہے سن 2000 سے 2005 تک اپنا 5 سالہ میعاد پوری کی اس دوران بھاجپا انڈین نیشنل لوک دل کی ساتھی پارٹی تھی حلانکہ وہ سرکار حصہ نہیں تھی 1989 میں جب چودھری دیوی لال جنتا دل سرکار میں نائب وزیر اعلیٰ بنے تو تب اوم پرکاش چوٹالہ وزیر اعلیٰ بنے وہ 6 بار ممبر اسمبلی رہے 1970 میں پہلی بار ممبر اسمبلی بنے۔یہ چوٹالہ پریوار کا گڑ مانا جاتا تھا ۔وزیراعلیٰ کی حیثیت سے اپنے پوری میعاد میں چوٹالہ کی سرکار آپ کے دوار پروگرام میں ایک بڑی کامیابی اور پہل تھی جب وہ وزیراعلی تھے تب وہ ہر گاﺅں کا دورہ کرتے رہتے تھے اور ان کی ضرورتوں کے بارے میں پوچھتے رہتے تھے ان کی مانگوں پر عمل کرتے ہوئے انہیں کے بیچ فیصلے لیتے تھے ۔سنیچر وار کو ان کی انتم یاترہ میں لاکھوں کی بھیڑ انہیں شردھانچلی دینے پہنچی تھی ۔یہ اب کی مقبولیت کی علامت ہے ۔ہمارے پریوار کے چودھری دیوی لال کے خاندان سے قریبی تعلقات رہے ہیں ۔چودھری اوم پرکاش چوٹالہ اور چودھری دیوی لال کئی مرتبہ پرتاپ بھون آئے اور پتاجی اور چوٹالہ جی خود ملے ہمارے لئے یہ اچھے خیالات رکھتے تھے ۔دخ کی گھڑی ہے ۔بھگوان ان کی آتما کو شانتی دے ۔اور غم زدی پریوار کو صبر تحمل دے ۔
(انل نریندر)
موہن بھاگوت کا بیان قابل خیر مقدم
مندر مسجد کے روز نئے تنازع سے نکلر کوئی ہندو نیتا بننا چاہتا ہے تو ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ہمیں دنیا کو دکھانا ہے کے ہم ایک ساتھ رہہ سکتے ہیں ۔یہ باتیں آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت نے بدھوار کے روز پنے میں ہندو سیوا مہوتسو کے دوران کہیں اس کے لئے شری بھاگوت نے کئی اہم معاملوں پر اپنی بات رکھی ان کا بیان اس لئے موضوع بحث بنا ۔کیوں کے اس وقت دیش میں سنبھل ،متھرا، کاشی جیسی کئی جگہوں کی مساجد کے دورہ قدیم سے مندر ہونے کے دعویٰ کئے جا رہے ہیں ۔اور ان کے سروے کی مانگ ہو ر ہی ہے اور کچھ معاملے تو عدالتوں میں لٹکے ہوئے ہیں ۔بھاگوت نے کہا ہمارے یہاں ہماری ہی باتیں صحیح باتیں سب غلط یہ نہیں چلے گا ۔الگ الگ اشو رہے تب بھی ہم سب ملکر رہےں گے ۔ہماری وجہ سے دوسروں کو تکلیف نہ ہو اس بات کا خیال رکھےں گے۔جتنی شردھا میری خد کی باتوں میں ہے اتنی شردھا میری دوسروں کی باتوں میں بھی رہنی چاہئے۔رام کشن مشن میں 25 دسمبر کو بڑا دن بناتے ہیں کیوں کے یہ ہم کر سکتے ہیں کیوں کے ہم ہندوں ہیں اور ہم دنیا میں سب کے ساتھ مل جل کر رہہ رہے ہیں ۔یہ بھائی چارہ اگر دنیا کو چاہئے تو انہیں اپنے دیش میں یہ ماڈل اپنانا ہوگا۔انکا کہنا ہے کے مندر مسجد لڑائی ایک فرقہ وارانہ اشو ہے ۔جس طرح سے یہ مسلے اٹھ رہے ہیں کچھ لوگ نیتا بنتے جا رہے ہیں ۔اگر نیتا بننا ہی ہے اس کا مقام ہونا چاہئے اور اس طرح سے لڑائی جھگڑے مناسب نہیں ہیں ۔لوگ محض ہندو نیتا بننے کے لئے اس طرح کی تحریک چلا رہے ہیں ۔تو یہ صحیح نہیں ہے ۔آر ایس ایس چیف کے اس بیان کے مرید ہوئے مسلم مذہب کے علما اور مسلم مولانا اور لیڈروں نے بھاگوت کے بیان پر خوشی جتائی انہوںنے کہا آج کے ماحول میں ایسا بیان آنا بے حد معائنے رکھتا ہے شیعہ مسلم عالم کلب سبط نوری نے کہا بھاگوت کا بیان بہت مناسب ہے 18-20 کروڑ لوگ مسلمانوں کو الگ تھلگ کرکے بھارت ورلڈ گرو نہیں بن سکتا ۔ڈاکٹر نوری نے بھاجپا نیتاﺅ سے درخواست کی کے وہ آر ایس ایس کے چیف کے سندیش کو آگے بڑھایا جائے اور دیش کا ماحول خراب کرنے کی کوششوں کو روکیں ۔کیرانہ سے سپا ایم پی چودھری اقرا حسن نے بھی آر ایس ایس چیف کے بیان کی حمایت کی ہے انہوںنے کہا پہلی بار ان کے بیان سے اتفاق رکھتی ہوں اور ان کا بیان موجودہ حالات میں صحیح ہے ۔اور اس ضرورت بھی تھی اور مدے بند ہوں۔ دوسرے سپا ایم پی افضال انصاری نے کہا بھاگوت کا بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔کچھ نیتا مشہور ہونے کے لئے اوچھے ڈھنگ سے ایک مذہب مخالف بیان دیکر نیتا بننے کی کوشش کرتے ہیں ۔اب بھاگوت بولے ہیں ہم استقبال کرتے ہیں ۔کانگریس ایم پی ششی تھرور نے بھی بھاگوت کے بیان سے متعلق اپنے ایکس پر لکھا ہے آر ایس ایس چیف کہتے ہیں یہاں سب برابر ہے اور اس دیش کا رواج یہی ہے کے ہم سب اپنے مرضی سے عبادت کرسکتے ہیں۔اس سے بہتر بیان کیا ہو سکتا ہے ۔امید ہے کے ہر مسجد کے نیچے مندر تلاش کرنے والے بھی موہن بھاگوت جی کے بیان کو مانےں گے اور احترام کریں گے۔
(انل نریندر)
21 دسمبر 2024
اسرائیل سے لوٹے مزدوروں کا تجربہ !
کانگریس ایم پی پرینکا گاندھی پچھلے پیر کو پارلیمنٹ میں فلسطین لکھا بیگ لے کر پہنچی تھیں ۔اگلے دن منگلوار کو اس کا ذکر اترپردیش اسمبلی میں بھی ہو گیا ۔یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کل کانگریس کی ایک نیتری فلسطین کا بیگ لے کر پارلیمنٹ میں گھوم رہی تھیں اور ہم یوپی کے نوجوانوں کو اسرائیل بھیج رہے ہیں ۔پرینکا گاندھی نے وزیراعلیٰ یوگی کے اس بیان کو شرم کی بات بتایا ۔پرینکا جو ہینڈ بیگ لے کر پہنچی تھیں اس پر فلسطین لفظ کے ساتھ فلسطینی لوگوبھی بنے ہوئے تھے ۔ا س وقعہ کے بعد بی بی سی نے یوپی کے لوگوں سے بات چیت کی جو اسرائیل کا م کرنے گئے تھے زیادہ تر مزدوروں کے لئے کام کے گھنٹے اور من چاہا کام نا ملنے کی بڑی پریشانی بتائی ۔مزدوروں کے دعووں کے مطابق یوپی سرکار کا موقف جاننے کے لئے متعلقہ محکموں سے رابطہ بھی قائم کیا گیا لیکن کوئی جواب نہیں ملا ۔اتر پردیش اسمبلی کا سرمائی اجلاس چل رہا ہے اجلاس میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ کل کانگریس کی ایک نیتری فلسطین کا بیگ لے کر گھوم رہی تھیں اور ہم نوجوانوں کو اسرائیل بھیج رہے ہیں اور یوپی کے اب تک تقریباً 5600سے زیادہ لڑکے اسرائیل میں کا م کررہے ہیں ۔رہنے کے لئے فری گھر اور ڈیڑھ لاکھ روپے مل رہے ہیں ۔پوری سیکورٹی کی گارنٹی بھی ہے ۔آپ اب یہ مان کر چلئے کہ وہ نوجوان جب ڈیڑھ لاکھ روپے اپنے گھر بھیجتا ہے تو پردیش کی ترقی میں یوگدان اور اچھا کام کررہا ہے ۔حماس اسرائیل جنگ کی وجہ سے اسرائیل میں مزدوروں کی تعداد میں کمی آئی ہے ۔اس لئے اس کمی کو پورا کرنے کے لئے اسرائیل حکومت بھارت سے مزدوروں کو بھیجنے کی پہل کرنے کو کہاتھا اس کے تحت یوپی کے علاوہ ہریانہ ،تلنگانہ سے بھی مزدور اسرائیل گئے ہیں یوگی کے بیان کے بعد پرینکا گاندھی نے شوشل میڈیا ایکس پر لکھا یوپی کے نوجوانوں کو یہاں روزگار دینے کی جگہ انہیں جنگ زدہ اسرائیل بھیجنے والے اسے اپنا کارنامہ بتا رہے ہیں ۔اپنے نوجوانوں کو جنگی علاقہ میں جھونک دینا پیٹھ میں خنجر گھونپنا ہی نہیں بلکہ شرم کی بات بھی ہے۔پردیپ سنگھ یوپی کے بارہ بنکی کے دیوا شریف کے پاس ایک گاو¿ں کا رہنے والا ہے ۔4 جون 2024 کو وہ اسرائیل گئے تھے ۔اسرائیل میں تقریباً چار مہینے رہے بی بی سی سے بات چیت میں پردیپ بتاتے ہیں ہم لوگ پیرا تقویٰ شہر میں تھے او ر وہاں سہولیات بھی ٹھیک تھیں لیکن کام تھوڑا زیادہ تھا ۔میں نے پلاسٹرنگ کٹیگری میں درخواست دی تھی لیکن وہاں دوسرا کام کرنا پڑا۔ہم لوگ ایک چینی کمپنی شٹرنگ اینڈ سریا میں مزدوری کا کام کررہے تھے طے وقت سے زیادہ کام کرنا پڑتا تھا ہم لوگوں کو صبح سات بجے سے شام سات بجے تک 12 گھنٹے کام کرنا پڑا اس میں آدھا گھنٹے کا وقفہ طے تھا ۔پردیپ واپس اسرائیل جانا چاہتے ہیں لیکن ان کے ہی علاقہ کے دیواکر سنگھ واس اسرائیل نہیں جانا چاہتے دیواکر کہتے ہیں چینی کمپنیوں میں وہاں 12 گھنٹے کا م کرنا ہوتا تھا بیچ میں آرام نہیں کر سکتے تھے میں نے آئیرن ویلڈنگ کے کام کا انٹرویو دیا تھا لیکن دوسرے کام کرنے پڑتے تھے کئی بار تو صاف صفائی کا کام بھی کرنا پڑتا تھا ۔دیواکر مئی 2024 میں اسرائیل گئے تھے ۔اور دو ماہ وہاں رہے بتاتے ہیں اس دوران انہوں نے دو سے ڈھائی لاکھ روپے کی بات طے کی تھی لیکن فی الحال دیواکر اپنے گھر کے پاس ایک پرائیویٹ کمپنی میں تیس ہزار روپے کی سروس کررہے ہیں ۔
(انل نریندر)
امبیڈکر پر سیاسی بھونچال!
ابھی ایک فیشن ہو گیا ہے ۔۔۔امبیڈکر ۔امبیڈکر۔امبیڈکر ۔امبیڈکر۔امبیڈکر ۔امبیڈکر۔اتنا نام اگر بھگوان کا لیتے تو سات جنم تک سورگ مل جاتی۔پارلیمنٹ میں مرکزی وزیر امت شاہ کے آئین پر بحث کے دوران ایک لمبی تقریر اس چھوٹے سے حصے کو لے کر ہوئی اور اس میں ہنگامہ ہوا اور پارلیمنٹ کی کاروائی ملتوی کرنی پڑ گئی اس بیان میں امبیڈکر کی بے عزتی دیکھ رہی حملہ آور اپوزیشن کو جواب دینے کے لئے امت شاہ کو بدھوار کو پریس کانفرنس کرنی پڑی جنہوں نے زندگی بھر بابا صاحب کا اپمان کیا ان کے اصولوں کو درکنار کیا ۔اقتدار میں رہتے ہوئے بابا صاحب کو بھارت رتن نہیں ملنے دیا۔ریزرویشن کے اصولوں کی دھجیاں اڑائی گئیں ۔وہ لوگ آج بابا صاحب کے نام پر دنگا پھیلانا چاہتے ہیں یہی نہیں وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کر بتایا کہ ان کی سرکار نے بھارت کے آئین کے معمار بی آر امبیڈکر کے سمان میں کیا کیا کام کئے ہیں لیکن اس کے باوجود ہنگامہ نہیں رکا ۔اب معاملہ پورے دیش میں آگ کی طرح پھیل چکا ہے ۔کانگریس صدر ملکا ارجن کھڑگے نے امت شاہ پر امبیڈکر کی بے عزتی کا الزام لگاتے ہوئے ان کے استعفیٰ تک کی مانگ کر ڈالی ۔ان کا کہنا تھا بابا صاحب کا اپمان کیا ہے تو یہ آئین کا بھی اپمان ہے ۔ان کی آر ایس ایس کی آئیڈیا لوجی ظاہر کرتی ہے کہ وہ خود بابا صاحب کے آئین کا سمان نہیں کرنا چاہتے ہیں۔پوری اپوزیشن امت شاہ کا استعفیٰ مانگ رہی ہے ۔وہیں شاہ کے اس بیان کو امبیڈکر کا اپمان اس لئے مانا جارہا ہے کہ اگر ایشور شوشن سے مکتی دینے والا ہے ڈاکٹر امبیڈکر ذات پات سسٹم میں بٹے ہندوستانی سماج کے ان کروڑوں لوگوں کو متحد رکھتا ہے جنہوں نے صدیوں تک سماجی اقتصادی سیاسی ،اور تعلیمی معاملے میں امتیاز جھیلا ہے ۔بھیم راو¿ امبیڈکر نے آئین میں برابری کا حق دے کر درج فہرست اور پسماندہ فرقوں کے استحصال سے نجات دلائی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ امبیڈکر کی آئیڈیا لوجی سے جڑے اور دلت سیاست میں جڑے لوگ امت شاہ کے اس بیان کو امبیڈکر کی بے عزتی کی شکل میں دیکھ رہے ہیں لیکن تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ اس وقت سبھی سیاسی پارٹیوں میں امبیڈکر کو اپنانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے ۔سیاسی پارٹیاں امبیڈکر کے نظریات کو فالو کرکے دلت ووٹروں کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کررہے ہیں ۔امت شاہ کے اس متنازعہ بیان کے بعد سے بی جے پی بچاو¿ میں ہے ۔سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امت شاہ کے منھ سے بھلے ہی نکل گیا ہو لیکن اس بات پر حیران نہیں ہونا چاہیے انہوںنے وہی بولا ہے جو محسوس کرتے ہوں گے ۔جو آر ایس ایس بھی محسوس کرتی ہے ۔امت شاہ کے بیان پر سیاسی شوروغل کے درمیان سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ بیان بی جے پی کو سیاسی نقصان پہنچا سکتا ہے ؟ کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے اس کا بڑا سیاسی نقصان نہیں ہوگا ۔اور دوسری طرف اپوزیشن اس مسئلے کو پارلیمنٹ سے لے کر سڑکوں تک لے جارہی ہے اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔دیش میں دلتوں اور پسماندہ او بی سی اقلیتوں کا خیال ہے کہ یہ بابا صاحب امبیڈکر جی کی بدولت آج انہیں عزت ملی ہوئی ہے اورحفاظت ملی ہے ۔بابا صاحب کے آئین ہی دیش کی آزادی اور برابری کی علامت ہے ۔
(انل نریندر)
19 دسمبر 2024
مہاراشٹر کی مہایوتی سرکار میں بڑھتی ناراضگی !
باوجود اس کے مہاراشٹر اسمبلی چناو¿ میں مہایوتی اتحاد کو زبردست اکثریت ملی لیکن اتحاد میں ناراضگی رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے ۔پہلے تو بائیس نومبر کو چناو¿ نتیجے آنے کے بعد لمبی جدو جہد کے بعد 12 دن کے بعد دیوندر فڑنویس وزیراعلیٰ کی حلف لے پائے اس کے دس دن بعد کیبنٹ طے ہوئی ان کی حلف برداری ہوسکی ۔اب کیبنٹ میں محکموں کے بٹوارے کو لے کر نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے ۔راشٹر وادی کانگریس کے سینئر لیڈر چھگن بجھول نے پیر کو نئی مہایوتی سرکار میں شامل نا کئے جانے پر مایوسی ظاہر کی تھی اور کہا کہ وہ اپنے چناوی حلقہ کے لوگوں سے بات کریں پھر طے کریے گا کہ ان کی مستقبل کی راہ کیا ہوگی ۔وہیں شیو سینا ممبر اسمبلی نریندر موڈیکر نے مہاراشٹر کیبنٹ میں شامل نا کئے جانے پر ناراضگی ظاہرکرتے ہوئے پارٹی کے سبھی عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ۔دیوندر فڑنویس کی قیادت والی سرکار کے پہلے کابینہ توسیع میں اتوار کو مہایوتی کی اتحادی پارٹیوں بھاجپا ،شیو سینا ،این سی پی کے 19 ممبران اسمبلی نے حلف لیا تھا ۔کیبنٹ سے 10 سابق وزراءکو ہٹا دیا گیا ہے اور 16 نئے چہروں کو جگہ دی گئی ۔سابق وزیر چھگن بجھول اور این سی پی کے دلیپ وہاسے پاٹل و بھاجپا کے منتیور اور وجے کمار گوئل نئی کیبنٹ میں شامل نہیں کئے جانے سے نا خوش ہیں ۔اپنی مستقبل کے قدم کے بارے میں انہوںنے کہا کہ مجھے دیکھنے دیجئے اور اس پر غور کرنے دیجئے ۔سابق وزیردیپک کیسر کر کو بھی کیبنٹ میں شامل نہیں کیا گیا ہے ۔وہیں شیو سینا ممبر اسمبلی موڈیکر نے دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی کے چیف و نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے نے انہیں کیبنٹ میں جگہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔موڈیکر شیو سینا کے ڈپٹی لیڈر ہیں اور مہایوتی اتحاد میں رشہ کشی جاری ہے ۔شیو سینا ایکناتھ شندے کے لئے اتحاد میں اپنے دوسرے نمبر کی پوزیشن ہے ۔سسٹم کو پچانا اور اپنے حمایتیوں سے قبول کرانا مشکل ہورہا ہے ۔نائب وزیراعلیٰ وزارت کے لئے وہ بے شک بھلے ہی راضی تو ہوئے ہوں مگر وزراءکی کم تعداد کا سوال آڑے آرہا ہے اور اب محکموں کے بٹوارے کو لے کر بھی آخر پارٹیوں میں رسہ کشی بڑھ رہی ہے ۔تینوں پارٹیوں میں چل رہی اس وقت غیر ضروری رسہ کشی کی ایک شکل کہیے ۔ممبران اسمبل کی بڑی تعداد کا دباو¿ لیکن مہاراشٹر کے وزراءکے لئے ڈھائی سال کے عہد کا نیا فارمولہ کتنا کارگر ثابت ہوتا ہے یہ وقت ہی بتائے گا ۔دیوندر فڑنویس کو وزیراعلیٰ بنانے میں جہاں دہلی کی لیڈرشپ کوپیچھے ہٹنا پڑا وہیں آر ایس ایس کی جیت ہوئی اور انہوں نے اپنی پسند کا وزیراعلیٰ بنوایا ۔فڑنویس کے سامنے اتحاد اور انچارجی دونوں کو چلانا اور اچھی سرکار دینے کی چنوتی ہے ۔
(انل نریندر)
نئی دہلی اسمبلی سیٹ پر وراثت کی لڑائی!
نئی دہلی اسمبلی سیٹ پچھلے چھ اسمبلی چناو¿ سے دہلی کو مکھیہ منتری دیتی چلی آرہی ہے۔1998 سے لے کر 2002 تک یہاں سے کامیاب ممبر اسمبلی ہی دہلی کے وزیراعلیٰ بن رہے ہیں ۔پچھلی تین میعاد شیلاد کشت نے یہاں سے کامیابی حاصل کی تھی یہ سیٹ ان کی وراثت بن گئی تھی بعد میں یہ اروند کیجریوال کی سیٹ بن گئی وہ یہاں سے لگاتار تین چناو¿ جیت چکے ہیں لیکن اس بار 2025 اسمبلی چناو¿ میں لڑائی دلچسپ ہونے والی ہے یہاں کے ایم ایل اے اور سابق وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کے خلاف دہلی کے سابق وزرائے اعلیٰ کے بیٹوں نے تال ٹھوک رکھی ہے ۔دو سابق ایم پی میدان میں ہیں ۔دراصل نئی دہلی اسمبلی سیٹ ہمیشہ ہائی پروفائل رہی ہے ۔ 1998 سے 2008 کے درمیان تین بار شیلا دکشت یہاں سے ممبر اسمبلی رہی ہیں تینوں بار وہ وزیراعلیٰ بنیں ۔یہاں سے چھوتھے چناو¿ میں کیجریوال نے بازی پلٹی اور انہیں یہاں سے پہلی بار ہار کا سامنا کرنا پڑا ۔پھر 2013 اور 2015 اور 2020 میں ہوئے چناو¿ میں اروند کیجریوال ممبر اسمبلی بنے اور تینوں بار وزیراعلیٰ رہے ۔یہی نہیں ایک نیوز چینل میں کیجریوال نے اعلان کیا کہ نئی دہلی سیٹ سے ہی چناو¿ لڑیں گے اور جیتنے کے بعد وزیراعلیٰ بنیں گے ۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی صاف کر دیا کہ سابق وزیراعلیٰ کے سامنے اس بار دو سابق وزیراعلیٰ کے بیٹے میدان میں ہوں گے ۔ان میں شیلا دکشت کے بیٹے سندیپ دکشت کو کانگریس نے اپنا امیدوار بنایا ہے ۔سندیپ کے پاس اپنی پرانی وراثت کو پھر سے حاصل کرنے کی بھی چنوتی ہے ۔وہیں پوسٹر بازی اور شوشل میڈیا میں بی جے پی کے سابق ایم پی اور سابق وزیراعلیٰ سائب سنگھ ورما کے بیٹے پرویش ورما کو میدان میںاتارا ہے اس سے یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ نئی دہلی سے بی جے پی کے امیدوار ہوسکتے ہیں۔اس لئے ان پر بھی اپنے والد سائب سنگھ ورما کی وراثت کو آگے بڑھانے کی چنوتی ہے ۔رہی بات اگر سندیپ دکشت یا پرویش ورما میں سے کوئی کامیاب ہوتے ہیں اور ان کی پارٹی اقتدار میںآتی ہے تو کیا ان کی پارٹی انہیں وزیراعلیٰ کے طور پر پیش کررہی ہے ؟ اس بار ذرائع کا کہنا ہے کہ مستقبل میں کیا ہوگایہ کہنا فی الحال مشکل ہے لیکن جس طرح دونوں کو ان کی پارٹیاں کیجریوال کے خلاف اتارنے کا فیصلہ کررہی ہیں اس سے تو یہی اشارے ملتے ہیں کہ دونوں خود کو سی ایم امیدوار مان رہے ہیں ۔کیونکہ ویسٹ د ہلی سے ایم پی رہ چکے پرویش ورما کو اپنے علاقہ کی دس اسمبلی سیٹیں چھوڑکر نئی دہلی سے کیجریوال کے خلاف اتارنے کے پیچھے کیا حکمت عملی ہو سکتی ہے؟ اس طرح ایسٹ دہلی سے ایم پی رہے سندیپ دکشت کسی بھی اسمبلی سیٹ سے چناو¿ لڑ سکتے تھے نئی دہلی اسمبلی ہی کیوں؟ نئی دہلی اسمبلی سیٹ پر اس بار کا اسمبلی چناو¿ اس لئے دلچسپ مانا جارہا ہے کیوں کہ اروند کیجریوال کے سامنے دونوں ہی پارٹیوںنے بڑے چہرے اتار رہی ہیں دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے ۔
(انل نریندر)
17 دسمبر 2024
اسد کے پاس 200 ٹن سونا!1.80 لاکھ کروڑ روپے !
سیریا کے تاناشاہ جن کا تختہ پلٹ دیا گیا ہے ۔ان کے بارے میں چونکانے والی معلومات سامنے آرہی ہیں ۔اسٹیل کے موٹے دروازے کے پیچھے کال کوٹھریوں کی قطاریں اور ان کے ٹارمر چیمبروں کی بات تو ہوتی رہی ہے ۔لیکن ان کے اثاثہ کی تفصیل ملنے سے اب سب چونک گئے ہیں ۔ایک بار بشر الاسد نے والد سے پوچھا کہ اقتدار کو مکمل طور سے کیسے مضبوط کیاجاسکتا ہے ۔تو والد حافظ الاسد نے جواب دیا کہ اپنی جنتا کو کبھی بھی پوری طرح خوش مت رکھو جب وہ تھوڑے ناراض رہیں گے تبھی وہ تمہاری طرف دیکھیں گے اور تمہیں ضروری سمجھیں گے ۔والد کی اس صلاح کوا س نے کچھ اس طرح اپنالیا کہ ان کے 24 سال کے عہد میں سیریا کی جنتا ہمیشہ ضرورتیں پوری کرنے کے لئے جدو جہد کرتی رہی ہیں ۔سعودی اخبار الہاب نے برٹس خفیہ سروسز نے ایم آئی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ سابق صدر اسد کے پاس قریب 200 ٹن سونا ہے اس کے علاوہ 16 ارب ڈالر اور پانچ ارب یورو ہے ۔جن کی روپے میں قیمت قریب قریب 1.80 لاکھ کروڑ روپے ہے ۔حالانکہ اسد اب دیش چھوڑ کر روس میں پناہ لے چکے ہیں ایسے میں سوا ل اٹھ رہے ہیں کیا وہ سب کچھ اپنے ساتھ لے گئے ہیں اور کتنا پیسہ چھوڑ گئے ہیں اس کا خلاصہ نہیں ہو پایا ۔بشر الاسد بچپن میں بہت خاموش طبیعت ،شرمیلے شخص کی شکل میںروس میں انہیں جاناجاتا تھا ۔اسد کی سیاست میں بالکل بھی دلچسپی نہیں تھی ان کی ایمیج کو مضبوط بنانے کے لئے والد حافظ الاسد نے انہیں ایک حکمت عملی کے تحت کرپشن انسداد محکمہ کا چیف بنایا ۔اسد نے اس دوران کئی بڑے حکام کو عہدے سے ہٹایا تاکہ ان کی ساکھ دبنگ حکمراں کی شکل میں سامنے آئے ۔انہیں مہنگی گاڑیوں کا شوق ہے ان کے قافلے میں اعلیٰ معیار کی کاریں شامل تھیں ۔بہرحال اسد کی پیدائش شام کی راجدھانی دمشق میں بشر الاسد کے گھرمیں ہوئی تھی ۔حافظ 29 سال تک سیریا کے صدر رہے۔ان کی پانچ اولادوں میں بشر تیسرے نمبر پر ۔شروع میں فوج اور سیاست سے دور رہ کر میڈیکل سیکٹر میں کیریئر بنانا چاہتے تھے ۔دمشق یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کرنے کے بعد میڈیکل میں خصوصیت کے لئے 1992 میں لندن چلے گئے ۔جنوری 1994 میں کار حادچہ میں ان کے بڑے بھائی اور اس وقت کے وارث کی موت ہو گئی تو انہیں واپس بلالیا ۔اور آزاد مانیٹرنگ گروپ سیرین نیٹورک ریکارڈ کے مطابق اس کےخلاف 2011 میں شروع ہوئے تحریک کے بعد پچھلی جولائی تک دیش کی جیلوں میں ٹارچر کی وجہ سے 15,102 موتیں ہوئیں ۔اندازہ ہے اس سال اگست تک 1 لاکھ تیس ہزار لوگ گرفتار کئے جا چکے تھے یا جبراً حراست میں لئے گئے تھے ۔ان کے دیش کی خفیہ ایجنسیوں کو غیر جوابدہی بتایا گیا ہے لیکن ہر تاناشاہ کا ایسا ہی حشر ہوتا ہے ۔مشکل سے دو تین ہفتے میں ان کا کھیل ختم ہو گیا۔اور راتوں رات انہیں بھاگناپڑا ایسے میں تاناشاہ کی لسٹ بہت لمبی ہے ۔جنہوں نے دیش کولوٹ لیا اور پھر بھاگنا پڑا۔اور شیخ حسینہ بھی تازہ مثال ہیں ۔
(انل نریندر)
لمبے عرصے بعد سنجیدہ مقرر کا بھاشن!
میں بات کررہا ہوں کانگریس کی وایناڈ کی ایم پی پرینکا گاندھی واڈرا کی پہلی پارلیمانی تقریر کے بارے میں بہت عرصہ بعد ایسی زبردست تقریر سننے کو ملی ۔پرینکا کے تقریر کرنے کا اپنا ہی اسٹائل ہے ۔وہ سادہ زبان میں اور سنجیدہ ڈھنگ سے اپنی بات رکھتی ہیں ۔مدعوں کو ایسے اٹھاتی ہیں جوآسانی سے جنتا کو سمجھ میں آجائیں ۔اپنی پہلی تقریر میں پرینکانے تقریباً سبھی اہم ترین اشو اٹھائے ۔جمعہ کو انہوں نے آئین ،ریزرویشن ،ذات پات پر مبنی مردم شماری کے اشواٹھائے ۔ان کا کہنا تھا کہ آئین سیکورٹی قدم ہے لیکن حکمراں پارٹی اسے توڑنے کی کوشش کررہی ہے ۔پہل بار پارلیمنٹ آئیں پرینکا نے کہا لوک سبھا چناو¿ میں بی جے پی کم سیٹیں اگر آئین کے بارے میں بات کرنے کے لئے مجبور کر دیا۔اگر لوک سبھا چناو¿ میں بی جے پی کا یہ حال نا ہوتا تو آئین کو بدلنے کا کام سرکار شروع کر چکی ہوتی ۔قریب 32 منٹ کی تقریر میں پرینکا نے آئیں ترمیم ،جواہر لال نہرو کے اچھے کاموں اور کسانوں کے تئیں دل بدل اور اڈانی پریم وغیرہ سبھی اشو پر سرکار کو نشانہ پر لیا ۔آئین کی بات کرتے ہوئے پرینکا نے کہا کہ سرکار کی ایک طرفہ انٹری سے آئیں کو کمزور کررہی ہے ۔لوک سبھا کے نتیجے ایسے نا ہوتے تو آئین بدل جاتا آج کے راجہ بھینس کو بدلتے ہیں ۔اورشوقین بھی ہیں لیکن کسی کی نکتہ چینی نہیں سنتے ہیں ۔دیش واسی کوحق ہے کہ سرکار بنا بھی سکتے ہیں اور بدل بھی سکتا ہے ۔نہرو پر بولتے ہوئے پرینکا نے کہا حکمراں فریق ماضی کی باتیں یاد کرتا ہے اور کہتا ہے نہرو نے کیاکیا حال کی بات تو چھوڑئیے آپ کیا کررہے ہیں ؟ اچھے کام کے لئے پنڈت نہرو کا نام نہیں لیتے ۔دیش کی تعمیر میں ان کا کردار کبھی بھی بھلایا نہیں جاسکتا ۔حکمراں فریق پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ آپ چنی ہوئی سرکاروں کو پیسوں کے دم پر گرا دیتے ہیں ۔پورا دیش جانتا ہے آپ کے پاس ایک واشنگ مشین ہے جو اپوزیشن سے اقتدار کی طرف جاتی ہے اور اس کے سارے داغ دھل جاتے ہیں ۔آپ بیلٹ پیپر پر چناو¿ کرا لیجئے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔مردم شماری کو لے کر سرکار کی سنجیدگی کا ثبوت یہ ہے کہ جب چناو¿ میں پوری اپوزیشن ذات پات پر مبنی مردم شماری کی بات لائی تو پی ایم مودی کہہ رہے تھے کہ اپوزیشن والے آپ کی بھینسیں چرا لیں گے ۔منگل سوتر چرا لین گے ۔تاناشاہی پر بولتے ہوئے پرینکا نے کہا دیش کا کسان بھگوان بھروسہ ہے ۔ہماچل میں سیب کے کسان رو رہے ہیں ۔دیش دیکھ رہا ہے ایک اڈانی کو بچانے کے لئے 142 کروڑ جنتا کو نظر انداز کیاجارہا ہے ۔بندرگاہ ایئر پورٹ ،سڑکیں ،ریلوے اور معدنیات سرکاری کمپنیاں صرف ایک شخص کو جارہی ہیں ۔انہوں نے پنڈت جواہر لال نہرو کی جم کر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہندوستان ایئر ونوٹکس لمٹڈ ،بیل ایچ ایل ،سیل ،گیل او این جی سی ،ریلوے ،اینٹی پی سی ،آئی آئی ٹی اور آئل ریفائنری اور کئی پبلک سیکٹر کارخانہ لگائے ان کا نام کتابوں سے مٹایا جاسکتا ہے ۔تقریروں سے ہٹایاجاسکتا ہے لیکن دیش کی آزادی اور اس کی تعمیر میں ان کے رول کو کبھی بھلایا نہیں جاسکتا ۔پرینکا کی تقریر کے بعد بھائی راہل گاندھی نے کہا یہ تقریر میری پہلی تقریر سے کہیں زیادہ اچھی تھی۔دلچسپ بات یہ تھی کہ حکمراں فریق نے بھی بڑی توجہ سے پرینکا کی تقریر سنی اور تھوڑا ٹوکا ٹوکی کے علاوہ سبھی نے اسے بڑی توجہ سے سنا ۔شوشل میڈیا میں تو پرینکا نے تہلکا ہی مچا دیا۔کانگریس کو عرصہ کے بعد زبردست مقر رملا ہے ۔
(انل نریندر)
14 دسمبر 2024
خودکشی کیس میں انصاف مانگتا پریوار!
بنگلورو میں مبینہ خودکشی کرنے والے اے آئی انجینئر اتل سبھاش کے خاندان نے ا ن کے لئے انصاف اور ٹارچر کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی مانگ کی ہے ۔اتل کا خاندان صدمہ میں ہے ۔والد پون مودی کچھ بھی بولنے کے بجائے انصاف مانگ رہے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ بہو اور اس کے ماں باپ کی اذیت کے سبب ہم نے اپنا ہونہار بیٹا کھودیا ہے ہمیں صرف اور صرف انصاف چاہیے ۔انہوں نے بہو کی غلطیاں گناتے ہوئے اپنی سمدھن کو اس واردات کے لئے قصوروار ٹھہرایا ہے ۔کرناٹک کے بنگلورو میں ایک نامور کمپنی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئر اتل سبھاش نے ویروار کی رات پھندہ لگا کر خودکشی کرلی تھی ۔انہوں نے قریب سوا گھنٹے کا ویڈیو بنایا اور 24 پیج کا سوسائٹ نوٹ کے ساتھ اسے شوشل میڈیا کے ایک گروپ میں شیئر کر دیا ۔ویڈیو میں انہوں نے خودکشی کرنے کے پیچھے اپنی بیوی نکتا اور سسرال والوں سے ملنے والی دماغی اذیت کو وجہ بتایا ہے ۔اتل کے والد پون مودی نے فون پر بتایا کہ ہمارے گھر میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا لیکن کورونا کے دوران پورا ماحول بدل گیا ۔ 2019 میں ہم نے بیٹے کی شادی جون پور کے باشندے سنگھانیا پریوار کی بیٹی نکتا سے کی تھی اس کے بعد رخصتی کے بعد بہو صرف ایک دن ہمارے گھر سمستی پور میں رہی اس کے بعد بیٹے کے ساتھ بنگلورو چلی گئی ۔اس درمیان 2020 میں پوتا پیدا ہو گیا ۔تب تک سب ٹھیک تھا ۔2020 کووڈ آیا تو بیٹے اتل نے ساس کو بنگلورو بلا لیا اسی وقت سے ماحول بدلا اور معاملہ یہاں تک بڑھ گیا کہ ہم نے بیٹا ہی کھو دیا۔اتل سبھاش نے اپنے سوا گھنٹے کے ویڈیو میں مقدمہ کا بھی ذکر کیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ کبھی کیس واپس لینا کبھی کیس دائر کرنا بیوی کے لئے عادت بن گئی تھی۔جونپور سے لے کر ہائی کورٹ تک ایک ہی طرح کے معاملے میں کیس فائل کرکے پریشنا کیا گیا ۔اتل کی طرف سے سنگھانیہ معاملہ میں موجودہ وقت چار معاملے عدالت میں التوا میں ہیں ۔دسمبر ،جنوری میں لگاتار تین تاریخیں لگیں ۔اتل سبھاش مودی نے اپنے خودکشی نامہ میں اپنے چار سالہ بیٹے کو لکھا ہے ۔دعویٰ کیاجارہا ہے کہ اس نے یہ خط موت کو گلے لگانے سے کچھ دیر پہلے ہی لکھا تھا ۔خط کے نیچے 9 دسمبرکی تاریخ درج کرتے ہوئے دستخط بھی کئے ۔اتل بیٹے ویوگ کو خط میں لکھا ہے کہ کسی پر بھروسہ مت کرنا تمہارے لئے میں خود ایک ہزار بار قربان ہوسکتا ہوں میں کچھ کہنا چاہتا ہوں مجھے امید ہے ایک دن اسے سمجھنے کے لئے کافی سمجھدار ہو جائے گا ۔بیٹا آج میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تو سوچا کہ میں تمہارے لئے کبھی بھی جان دے سکتاہوں لیکن دکھ کی بات ہے کہ میں اب تمہاری وجہ سے جان دے رہا ہوں ۔آگے لکھا ہے کہ میرے جانے کے بعد کوئی پیسہ نہیں رہے گا ایک دن تم اپنی ماں کا اصلی چہرہ ضرور جان جاو¿گے ۔اتل کے 24 صفحے کے خودکشی نامہ میں شادی شدہ زندگی میں طویل کشیدگی اور ان کے خلاف بنائے گئے معاملے اور اپنی بیوی اور سسرال والوں اور اترپردیش کے ایک جج کے ذریعے ٹارچر کئے جانے کی تفصیل ہے ۔سبھاش کے بھائی وکاس نے کہا کہ اس دیش میں ایک ایسی قانونی چارہ جوئی ہے جس کے لئے مردوں کو بھی انصاف ملے میں ان کے خلاف سخت کاروائی چاہتاہوں جو عدلیہ کے عہدے پر بیٹھے اور کرپشن کررہے ہیں ۔مردوں کو لگنے لگا ہے کہ اگر انہوں نے شادی کر لی تو وہ اے ٹی ایم بن کر رہ جائیں گے ۔
(انل نریندر)
الہ آباد ہائی کورٹ جج کا متنازعہ تبصرہ!
جسٹس شیکھر کمار یادو الہ آباد ہائی کورٹ کے جج ہیں ۔وہ اتوار کو وی ایچ پی کے ایک پروگرام میں شامل تھے ۔انہوں نے اس موقع پر جسٹس یادو نے ایک نہیں کئی اہم ترین متنازعہ اور افسوسناک کمنٹس کئے اور کہایونیفارمس سول کوڈ کے مسئلے پرہندوستان میں رہنے والے اکثریتی لوگوں کے مطابق ہی دیش چلے گا۔یہیں نہیں رکے آگے کہا ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے ،تین طلاق اور ہلالہ کے لئے کوئی بہانہ نہیں ہے اور اب یہ دقیانوسی روایتیں نہیں چلیںگی۔دراصل 8 دسمبر کو وی ایچ پی عدلیہ سیل نے الہ آباد ہائی کورٹ کی لائبریری ہال میں ایک پروگرا م میں وقف بورڈ ایکٹ ، تبدیلی مذہب ازالہ اور یونیفارم سول کوڈ ایک ضروری مسئلے پر بولتے ہوئے جسٹس شیکھر یادو نے کہا کہنے میں بالکل پرہیز نہیں ہے کہ یہ ہندوستان ہے اور ہندوستان میں رہنے والے اکثریتی لوگوں کے مطابق ہی دیش چلے گا ۔یہی قانون ہے آپ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ہائی کورٹ جج ایسے بول رہے ہیں ۔قانون تو بھئیا اکثریت سے ہی چلتا ہے ۔جسٹس شیکھر آگے کہتے ہیں کٹ ملے دیش کے لئے خطرناک ہیں ۔جسٹس یادو کہتے ہیں جو کٹھ ملا ہے لفظ غلط ہے لیکن یہ کہنے میں گریز نہیں ہے کیوں کہ دیش کے لئے یہ خطرناک ہیں۔جنتا کو بہکانے والے لوگ ہیں اور ان سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔جسٹس شیکھر کمار یادو نے اور بھی بہت کچھ کہا ۔اگر جسٹس یادو کے بیان پر تلخ رد عمل مل رہے ہیں تو وہ فطری ہی ہیں ۔جج صاحب جس طرح کی باتیں کہتے نظر آرہے ہیں وہ دیش کے آئیں کے خلاف تو ہیں ہی ساتھ ساتھ ع دلیہ پر بھی سوال اٹھتا ہے ۔ایک موجودہ جج کے لئے اپنے سیاسی ایجنڈے پر ایک ہندو تنظیم کے ذریعے منعقدہ پروگرام میں سرگرم طریقہ سے شامل ہونا نا صرف شرم کی بات ہے بلکہ جج کے ذریعے لیے گئے حلف کی بھی خلاف ورزی ہے ۔یہ صحیح میں پریشان کرنے والی بات ہے اورحیرت کی بھی ہے کہ آئین کے سرپرست کا رول نبھانے والی عدلیہ کا سینئر ممبر ایک پبلک پروگرام میں کہتا نظرا ٓتا ہے کہ دیش (آئین قانون کے حساب سے نہیں ) اکثریتی لوگوں کی مرضی کے مطابق ہی چلے گا اور اس کا کوئی تردید بھی نہیں آتی خیال رہے یہ جوڈیشیری کے سینئر ممبروں کے ذڑیعے جانے انجانے میں آئینی ہتک سے جڑا پہلا معاملہ نہیں ہے ۔کچھ دنوں پہلے کرناٹک ہائی کورٹ کے ایک جج کے ذریعے ایک مسلم اکثریتی علاقہ کا ذکر پاکستان کی شکل میں کئے جانے کا معاملہ سامنے آیا تھا جس میں سپریم کورٹ نے کاروائی بھی شروع کی تھی ۔حالانکہ بعد میں اس جج کے معافی مانگنے پر کاروائی روک دی گئی تھی ۔یہ تسلی کی بات ہے کہ جسٹس شیکھر یادو کے بیان پر سپریم کورٹ نے سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے اور اس نے منگلوار کو ہائی کورٹ سے جسٹس یادو کے بیان پر مفصل رپورٹ دینے کو کہا ہے ۔سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے چیئرمین کپل سبل نے جسٹس یادو کے خلاف باقاعدہ مقدمہ چلانے کی مانگ کی ہے اور کہا کہ میں چاہوں گا کہ ہم ایک اکٹھے ہو کر جسٹس یادو کے خلاف مقدمہ لائیں۔سرکاری وکیل پرشانت بھوشن نے چیف جسٹس سنجیو کھنہ کو خط لکھ کر جسٹس یادو کے رویہ پر اور ان کی بیہودہ تبصروں کی جانچ کرائی جائے وہیں خبر یہ بھی ہے پارلیمنٹ کے اپوزیشن کے لیڈر اپوزیشن کے ایم پی بھی جسٹس کمار یادو کے خلاف پارلیمنٹ میں مقدمہ چلانے کی پرستاو¿ لانے کی تیاری کررہے ہیں اور اب تک 35 ایم پی نے اس پر دستخط کر دئے ہیں ۔ایک تجویز یہ بھی آئی ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شیکھر سے سارے کیس واپس لے لئے جائیں اور انہیں انصاف دیو کہنا بند کر دیں ۔
(انل نریندر)
12 دسمبر 2024
اپاسنا استھل ایکٹ کو چنوتی!
سپریم کورٹ 12 دسمبر کو پیلیسس آف ورشپ (عبادت مقام)ایکٹ 1991 کی آئینی جواز کو چنوتی دینے والی عرضیوں پر سماعت کرے گا اس پر پورے دیش کی نگاہیں ٹکی ہوئی ہے ۔پتہ چلا ہے کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سنجیو کھنا اور جسٹس سنجے کمار اور جسٹس کے وی وشوا ناتھن کی اسپیشل بینچ اس معاملے کی سماعت کریں گی ۔بتا دیں عبادت گاہ ایکٹ 1991 کا فیصلہ 5 ججوں کی بینچ نے کیا تھا اور اب اس پر سماعت 3 ججوں کی بینچ کرے گی ۔بڑی عدالت کے سامنے وکیل اشونی اپادھیائے اور دیگر نے عرضیوں میں درخواست کی ہے کے عبادت گاہ (اسپیشل سہولت)ایکٹ 1991 کی دفعہ 2,3 اور 4 کو منسوخ کر دیا جائے ۔یہ سہولت کسی شخص یا مذہبی عبادت گاہ مقام کو پھر حاصل کرنے کے لئے ادلیہ کے ضابطہ کے اختیارات چینتے ہیں ایسا دعوی کیا ہے کے عرضی گزاروں نے اس معاملے کی سماعت بنارس میں گیان واپی مسجد متھرا میں شاہی عید گاہ مسجد اور سنبھل میں شاہی مسجد سمیت مختلف عدالتوں میں دائر مقدموں کے پس منظر میں کی جائے گی ۔عرضی گزوں نے دعوی کیا ہے کے ان مسجدوں کی تعمیر گدیمی مندروں کی توڑ کر کی گئی تھی اور ہندوﺅ کو وہاں پوجا ارچنا کرنے کی اجازت دی جائے ۔ بتا دیں کے عبادت گاہ مقام ایکٹ 1991 میں سہولت ہے کے 15 اگست 1947 کو جو دھامک استھل جس صورت میں تھا اور جس فرقہ کا تھا مستقبل میں اسی کا رہے گا ۔اس سہولت کو چنوتی دی گئی ہے ۔سپریم کورٹ نے 20 مئی 2022 کو گیان واپی مسجد معاملے کی سماعت کی تھی اس کے بعد اس وقت کے چیف جسٹس چندر چوڑ نے زبانی رائے زنی کی تھی کے اپاسنا استھل ایکٹ کے تحت مذہبی کریکٹر کا پتہ لگانے پر روک نہیں ہے وہیں کمیٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کے اس ایکٹ کے تحت اس طرح کے تنازعہ کو نہیں لایا جا سکتا ہے ۔جمیعت علماءہند نے رام جنم بھومی بابری مسجد مالیکانہ حق کے معاملے میں 5 ججوں کی آئینی بینچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کے عبادت گاہ ایکٹ 1991 کے سلسلہ میں کو دھیان میں رکھتے ہوئے دلیل دی گئی تھی کے اب قانون کو درکنار نہیں کیا جا سکتا ۔1991 کا عبادت گاہ ایکٹ کا مقصد 15 اگست 1947 کے بعد کے مذہبی مقامات کی پوزیشن بنائے رکھنا تھا اور کسی بھی عبادت گاہ مقام میں تبدیلی کو روکنا تھا ۔ساتھ ہی ان کے مذہبی کردار کی حفاظت کرنا تھا ۔15 اگست 1947 بھارت کے لئے اہم ترین دن ہے ۔جب بھارت ایک آزاد جمہوری او رمختار ملک بنا تھا جس میں کوئی سرکاری مذہب نہیں ہے اور سبھی مذاہب کو برابری سے دیکھا جا سکتا ہے ۔آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت نے بھی حال میں کے اب ہمیں ہر مسجد کے نیچے مندر نہیں ڈھونڈنا چاہئے ۔اس سے دیش کا بھائی چارہ بگڑتا ہے اور یہ سلسلہ رکنا چاہئے نہیں تو یہ بہت نقصان دیگا ۔ساتھ ساتھ یہ بھی کہنا ضروری ہے کے وقف بورڈ کو ہر پراپرٹی کو وقف کی ملکیت کہنا بند کرنا ہوگا ۔اسی کا رد عمل ہے ہر مسجد کے نیچے مندر تلاشنے کا سلسلہ !
(انل نریندر)
انڈیا اتحاد ساتھیوں میں بے چینی!
پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں ہی جگہوں پر انڈیا اتحاد کی ساتھی پارٹیوں کے درمیان اختلافات دکھائی دے رہے ہیں ۔ہریانہ اور مہاراشٹر کے چناﺅ میں کانگریس کی کراری ہار کے بعد اب پارٹیاں اتحاد کے اندر اپنی آواز اٹھانے لگی ہے ساتھی ہی راہل گاندھی کے رول کو لیکر بھی سوال کھڑے کئے جا رہے ہیں ۔کوئی ان پر سیدھے سوال کھڑے کر رہا ہے تو کوئی انڈیا کا کنوینر کو لیکر اپنے مشورے دے رہا ہے۔مہامیں سپا کا شیو سینا ادھو ٹھاکرے گروپ سے ناراضگی جتاتے ہوئے ایم وی اے سے ناتہ توڑنے سے ریاست کی سیاست پر بھلے ہی اثر نہ ہو ۔لیکن اس کے گہرے معنی ہیں ۔اسی طرح ترنمول کانگریس صدر اور بنگال کے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا انڈیا اتحاد کو لیڈ کرنے کی خوائش ظاہر کرنا بھی بہت ک چھ کہتا ہے ان دونوں کی ناراضگی اتحاد کی لیڈر شپ اور اس طرح سے سیدھے کانگریس کو لیکر ہے ۔انڈیا اتحاد میں شامل پارٹیوں کے لیڈروں کے بیانوں پر غور کیا جائے تو ایسا لگتا ہے کے ان میں بھی کہیں نہ کہیں بے چینی ہے ۔تلخ حقیقت تو یہ ہے کانگریس چاہے لوک سبھا کا چناﺅ ہو ہا پھر اسمبلی چناﺅ ہو کانگریس کہیں بھی اچھی جیت نہیں حال کر پائی۔در اصل کانگریس تنظیم کمزور ہے بے شک سونیا گاندھی ،راہل گاندھی ،پرینکاکاندھی ،ملیکا ارجن کھڑگے کتنا ہی زور لگا لیں اور ہوا بنا لیں ۔لیکن تنظیم نام کی کوئی چیز کانگریس کے پاس نہیں ہے ۔خود کانگریس کے اندر راہل کو فیل کرنے میں لگے ہیں ۔جہاں کہیں بھی کانگریس اور بی جے پی کی ڈائریکٹ لڑائی ہوتی ہے کانگریس بری طرح سے ہار جاتی ہے ۔راہل بی شک جنتا سے جڑے اشو اٹھاتے ہیں لیکن ان کا پارٹی کے اندر کوئی دبدبہ نہیں ہے اور پارٹی لیڈر شپ میں بھاری رد بدل کی بھی قوت ارادی نہیں ہے ۔آج تک صحیح طرےقے سے ہریانہ اور مہاراشٹر میں بری ہار کی ذمہ داری طے نہیںہو سکی کسی پارٹی کے اندر بیٹھے جے چندوں کی چھٹی ہو سکی اس لئے اگر ان کا انڈیا اتحاد کی قیادت کرتی ہے تو اس میں برائی کیا ہے ؟ مقصد تو بی جے پی کو ہرانا ہے یہ کام کانگریس یا راہل گاندھی موجودہ حالات میں نہیں کر سکتے ہر ہار سے اپوزیشن کمزور ہوتی جا رہی ہے۔اور حکمراءفریق مضبوط ہوتا جا رہا ہے ۔راہل گاندھی کو اپنی حکمت عملی بھی بدلنی ہوگی انہیں اب گوتم اڈانی پر اتنا فوکس کرنا چاہئے یہ میری نیچی رائے ہے ۔کیوں کے اڈانی مسئلہ پر نہ تو ان کی پارٹی کے اندر انہیں حمایت مل رہی ہے اور نہ ہی اتحادی پارٹیوں سے سب اپنے مفادات کو دیکھتے ہیں۔گوتم اڈانی اب پوری طرح ایکس پوز ہو چکے ہیں ان کے کالے کارنامے پوری دنیا میں اجاگر ہو رہے ہیں اڈانی سے امریکہ ،کینیاں اور بنگلہ دیش وغیرہ دیش نمٹ لیں گے اور راہل کو دوسرے درکار اشو بے روزگاری مہنگائی کرپشن اور آئین کی حفاظت ،بھائی چارہ جیسے مسئلوں پر توجہ دینی چاہئے۔ بے شک آج ایسا لگتا ہو کے انڈیا اتحاد سے اتحاد میں درار پڑ گئی ہے ۔ایسا نہیں ہے آج بھی سب اپنے اپنے طریقہ سے حکمراءپارٹی سے نمٹنے میں لگے ہوئے ہیں ۔رہا سوال اتحاد کی لیڈر شپ کا تو سبھی پارٹیوں کو مل بیٹھ کر آپسی مشروہ کر لینا چاہئے۔
(انل نریندر)
10 دسمبر 2024
ٹرمپ کے آنے کا خوف !
امریکی صدر جو بائیڈن سنگین الزامات سے گھرے اپنے بیٹے ہنٹر بائیڈن کو مافی دینے کے بعد اب ایک اور قدم اٹھانے کی تیاری میں ہے ۔رپورٹ ہے کی نومنتخب صدر ڈونالٹ ٹرمپ کی بدلے کی کارروائی سے اپنے حکام اور ڈیمو کریٹک نیتاﺅ کو بچانے کے لئے بائیڈن اجتمائی مافی دینے پر غور کر رہے ہیں ۔واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق بائیڈن انتظامیہ نے ایسے لوگوں کی فہرست تیار کر لی ہے جو ٹرمپ کے بدلے کی کارروائی کا شکار بن سکتے ہیں ۔اب ان سبھی لوگوں کو جرائم یا پہلے مافی دے دی جائے گی ےاکے ٹرمپ ان پر کوئی کارروائی کریں تو ان کا بچاﺅ ہو سکے ۔بائیڈن انتظامیہ کو لگتا ہے کے نو منتخب صدر ٹرمپ نے بڑے قانون تبدیلی افسر کی شکل میں کاش پٹیل کا انتخاب کیا ہے اس سے صاف ہے کے ٹرمپ اپنے دشمنوں کے خلاف کارروائی کا وعدہ پورا کریں گے ۔بتا دیں کے اپنے چناﺅ مہم میں ٹرمپ نے اپنے آپ کو نشانہ بنانے والے حکام کو جیل بھیجنے کی دھمکی بھی دی تھی۔اگر بائیڈن ان پر مقدمہ لگانے سے پہلے مافی دیں دےتے ہیں تو امریکہ میں 47 سال بعد ایسی نظیر ہوگی ۔اس سے پہلے 1977 میں امریکی صدر جمنی کارٹر نے ویتنام جنگ کے ملزیمان کو مقدمہ سے پہلے ہی مافی دی تھی ۔اس کے علاوہ 1974 میں صدر گرالڈ فورٹ نے سابق صدر کو پہلے مافی دی تھی حلانکہ بعد ان پر الزام ثابت نہیں ہو پائے تھے حلانکہ بائیڈن کی مقدمہ قائم سے پہلے مافی کو لیکر ڈیموکریٹک پارٹی بھی متفق نہیں ہے ۔اس سے ان کی پارٹی کی امیج کو نقصان ہوگا ۔کپیٹل ہیل تشدد کی جانچ کرنے والے سینیٹر ایڈم فش اور لزینی کا نام سب سے اوپر ہے ۔صدر جو بائیڈن کی اتحادی اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی ایڈ انفیکشن ڈزیز محکمہ کے سابق انجاچ کا نام بھی مافی لسٹ میں شامل ہے جو کووڈ 19 وبا کے دوران جنوب نظریہ والی ریپبلکن پارٹی کی نقتہ چینی کا مرکز بن گئے تھے ۔وائٹ ہاﺅس کے وکیل جےف کو بھی کارروائی کا ڈر ہے ادھر امریکی فیڈرل فائیلنگ سے خلاصہ ہوا کے ٹیسلا کے سی ای او ایلن مسک نے ڈونلٹ ٹرمپ کے صدارتی چناﺅ کیمپئن پر 2 ہزار کروڑ سے زیادہ کی رقم دی ہے ۔بھلے ہی یہ رقم کی مسک کی اثاثہ کا ایک جھوٹا حصہ ہے لیکن پھر بھی یہ کسی سنگل عطیہ کنندہ کی جانب سے دی گئی بہت بڑی رقم ہے ۔جس میں سبھی کو چوکا دیا ہے ۔حالانکہ ٹرمپ کی جیت کا اعلان ہوتے ہی مسک کی اثاثہ میں کئی گنہ اضافہ ہو گیا اور چناﺅ میں لگائے گئے پیسے سے اس سے کئی گنا کما بھی لیا ہے اور آج ٹرمپ کا داہینہ ہاتھ بنے ہوئے ہیں۔(انل نریندر)
آسام میں بیف کھانے پر پابندی!
پچھلے ہفتے کی شروعات میں آسام میں ریسترو اور شادیوں میں گائے کا میٹ یعنی بیف کھانے پر پابندی لگا دی ہے۔مخالفین نے اس قدم کو اقلیتی مخالف قرار دیا ہے اور اس کے پیچھے آسام میں ہیمنت بسوا سرما کی بھاجپا سرکار کا مقصد فرقوں کے درمیان پولارائیزیشن کرنا بتایا ہے بھارت میں سب سے زیادہ آبادی کشمیر کے بعد مشرقی ریاستوں میں ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہا اب کسی بھی ہوٹل میں بیف نہیں کھلایا جا سکیں گا یہ فیصلہ 2021 کے اس قانون کو نافض کرنے کے لئے کیا گیا ہے ۔اس سے ان کی سرکار آسام میں مویشیوں کا کاروبار کو رگولیٹ کرنے کے لئے لیکر آئی تھی ۔آسام کیٹل روکتھام ایکٹ 2021 ،مویشیوں کے ٹرانسپورٹ پر پابندی کو سخت کرتا ہے اور مویشیوں کی قربانی کے ساتھ ساتھ ہندو دھرم کے مندروں کے 5 کلومیٹر دائرے کے میں بیف خرید وفروخت پر بھی پابندی لگاتا ہے ۔ہم 3 سال پہلے اس قانون کولائے تھے اور اب اسے کافی کارگر کہا جاتا ہے ۔مسلم مفادات نمائندوں کی کرنے والی سیول سوسائٹی انجمنوں کے ساتھ ساتھ آسام میں اپوزیشن پارٹیوں نے بھی وزیراعلیٰ کے اعلان کی مخالفت کی ہے ۔وہ اسے سال 2026 میں ہونے والے اسمبلی چناﺅ کے خاطر ہٹھایا قدم مانتی ہے کانگریس نیتا گورو گوگئی نے کہا کے وزیراعلیٰ جھارکھنڈ میں بی جے پی کی توہین آمیز ہار کے بعد اپنی ناقامی چھپانے کی کوشش کر رہے ہےں ۔وہیں آسام کانگریس صدر پھوپین نے کہا کے اس فیصلہ کا مقصد ،مالی بہران ،منگائی اور بے روزگاری جیسے اہم اشو سے دھیان ہٹانا ہے ۔آسام کانگریس کے ترجمان امن ودود نے کہا کے بی جے پی نے حالیہ چناﺅ میں جیتنے کے لئے چھوٹو ہتھکنڈے اپنائے جس میں دھاندلی اور حکام کی کوتاہیاںشامل ہیں۔اب وزیراعلیٰ بیک فٹ پر آ گئے ہیں انہوںنے کبنیٹ کے اس فیصلہ کو آگے بڑھانے کی شکل میں بیف کا حوالہ دیا ہے ۔سیاسی بیان بازیوں کو الگ بھی رکھ دیں تو مسلمانوں کے قریب 34 فیصدی آبادی آسام میں بیف کھانے پر پوری طرح پابندی سے وابستہ کئی اہم پہلوں ہیں اسے سب سے زیادہ ریاست کا بنگالی مسلم فرقہ محسوس کرتا ہے ۔جو آسام میں مسلم آبادی کا ایک اہم حصہ ہے انہیں اکثر یہ باہری بنگلہ دیسی غیر قانونی پرواسی بتایا جاتا ہے ۔اس کے علاوہ ایسے قدموں میں ریاست میں چلنے والے مدرسوں کو ختم کرنا کثیر شادی پر پابندی اور لو جہاد سے نپٹنے کے لئے قانون لانے کی اسکیم شامل ہیں۔بنگالی مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے طلبہ یونین آل اسم مائینورٹیز اسٹوڈینٹ یونین کے صدر رضاالکریم نے پابندی کو اقلیتی فرقہ کو الگ تھلگ کرنے اور انہیں نشانہ بنانے کا ایک اور قدم بتایا ہے اگر بیف کھانے والوں کی ہم بات کریں تو ایسا نہیں کے بہت سے ہندو بھی بیف کھاتے ہیں گوا ریاست میں بیف کھلے عام کھایا جاتا ہے شمال مشرق کی کئی ریاستوں میں بیف کھانے کا چلن ہے ۔بیف نہ کھانا ایک مذہبی اشو تو ہو سکتا ہے ۔لیکن کس کو کیا کھاناپہننا ہے یہ تھوپہ نہیں جا سکتا۔سب سے دلچسپ یہ پہلو یہ ہے کے بھارت سے بیف زیادہ ایکسپورٹ ہوتا ہے ۔یہاں کی 4 سب سے بڑی کمپنیاں ہندوﺅ کی ہیں ۔پے شک نام انہوںنے گمراہ کرنے کے لئے اردو اور عربی ٹائپ کے رکھے ہوئے ہیں ۔کھانہ پینا یہ شخصی فیصلہ ہے جسے قانون سے لاگو کرنا ٹھیک نہیں ہے۔
(انل نریندر)
07 دسمبر 2024
سکھبیر بادل پر جان لیوا حملہ
سری اکال تخت صاحب کے ججوں نے سکھبیر بادل کو مذہبی سزا دے کر بڑا اعلان کیا ہے، جنہیں سری اکال تخت صاحب میں تنکھیا قرار دیا گیا تھا، اور اس وقت کی کابینہ میں شامل وزراء کو۔ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور آنجہانی لیڈر پرکاش سنگھ بادل کو دیا گیا۔ نے فقرِ قوم کا اعزاز واپس لینے کا اعلان کر دیا۔ اس کے ساتھ ان کے بیٹے سکھبیر بادل کو بھی مذہبی سزا دی گئی۔ دراصل یہ معاملہ گرمیت سنگھ رام رحیم سے متعلق ہے۔ سری اکال تخت صاحب کے جتھیدار گیانی رگھوبیر سنگھ نے کہا کہ یہ شرم کی بات ہے کہ سری اکال تخت صاحب سے بننے والی پارٹی مسائل سے ہٹ کر بات کرنے لگی ہے۔ درحقیقت، جس وقت پنجاب میں گرو گرنتھ صاحب کی بے حرمتی کے واقعات ہوئے، اس وقت پنجاب کے وزیراعلیٰ پرکاش سنگھ بادل تھے۔ سری اکال تخت صاحب کے جتھیدار گیانی رگھوبیر سنگھ نے کہا، سکھبیر سنگھ بادل نے اس جرم کا اعتراف کیا ہے کہ اس نے جتھیدار صاحبان کو اپنی رہائش گاہ پر بلایا اور گرمیت رام رحیم پر معافی کے لیے دباؤ ڈالا۔ اس کام میں آنجہانی وزیر اعلیٰ پرکاش سنگھ بادل بھی شامل تھے۔ کور کمیٹی کے ارکان بشمول سکھبیر سنگھ بادل اور 2015 میں کابینہ کے رہنما 3 دسمبر کو دوپہر 12 بجے سے 1 بجے تک باتھ رومز کی صفائی کریں گے۔ اس کے بعد وہ لنگر گھر میں غسل کرے گا اور خدمت کرے گا۔ بعد ازاں سری سکھمنی صاحب کی تلاوت ہوگی۔ سکھبیر سنگھ بادل دربار صاحب کے باہر نیزہ لے کر بیٹھیں گے۔ انہیں اپنے گلے میں ایک تختی پہننا ہو گی جس میں انہیں تنخائیہ قرار دیا جائے گا۔ اسی دوران جب سکھبیر سنگھ بادل دربار صاحب کے باہر لانس لے کر بیٹھے تھے تو ان پر جان لیوا حملہ ہوا۔ بدھ کی صبح خالصتان کے حامی دہشت گرد نے سکھبیر کو مارنے کی کوشش کی۔ سادہ کپڑوں میں تعینات پولیس کے اے ایس آئی کی چوکسی کی وجہ سے وہ محفوظ رہا۔ اے ایس آئی جسبیر سنگھ نے دہشت گرد کا ہاتھ پکڑ کر پستول اٹھالیا۔ جس کی وجہ سے گولی دیوار سے ٹکرا گئی اور کوئی زخمی نہیں ہوا۔ پولیس اہلکاروں نے دہشت گرد نارائن سنگھ چوڑا کو موقع پر ہی پکڑ لیا۔ دریں اثناء سی ایم بھگونت مان نے بادل پر حملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے ڈی جی پی سے رپورٹ بھی طلب کی ہے۔ بنیاد پرست تنظیم دل خالصہ سے وابستہ چوڑا گورداسپور کے ڈیرہ بابا نانک کا رہنے والا ہے۔ اس کے ببر خالصہ انٹرنیشنل (BKI) اور خالصہ لبریشن فورس (KLF) سے بھی روابط ہیں۔ شرومنی اکالی دل کے سربراہ سکھبیر بادل دوسرے دن صبح 9 بجے گولڈن ٹیمپل کے دروازے پر وہیل چیئر پر اکال تکش کی طرف سے توہین کے الزام میں سزا کے طور پر۔ وہ بیٹھ کر پہرہ دے رہے تھے۔ دہشت گرد چودہ کئی گھنٹوں تک ادھر ادھر دندناتے رہے۔ تقریباً 9.30 بجے وہ موقع پا کر سکھبیر کے سامنے آیا اور اپنی جیب سے پستول نکال لیا۔ اس سے پہلے کہ وہ فائرنگ کرتا، اے ایس آئی جسبیر نے اسے پکڑ لیا۔ اس جھگڑے کے دوران چودہ نے ایک گولی چلائی جو دیوار میں جا لگی۔ بادل کو زیڈ پلس سیکیورٹی حاصل ہے۔ اس حملے کے پیچھے ابتدائی تحقیقات کے دوران، پولیس کو ببر خالصہ انٹرنیشنل (BKI) اور پاکستان کی خفیہ ایجنسی ISI سے معلومات ملی ہیں۔ ایک سینئر افسر نے کہا کہ سکھبیر پر یہ حملہ علیحدگی پسندی کے ارادے کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا تھا، تاکہ نہ صرف ریاست کا امن خراب ہو سکے۔ بلکہ حملے کے ذریعے بنیاد پرست خالصتانی اور علیحدگی پسند نظریہ کو غالب ظاہر کیا جا سکتا ہے۔
-انل نریندر
بیلٹ پیپر کے ذریعے انتخابات کرانے کی کوشش
مہاراشٹر کے سولاپور ضلع کے مالشیراس اسمبلی حلقہ سے تعلق رکھنے والے دیہاتیوں کا ایک گروپ بیلٹ پیپر کے ذریعے دوبارہ پولنگ پر اصرار کر رہا تھا، لیکن پولیس انتظامیہ کی مداخلت کے بعد انہوں نے منگل کو اپنا منصوبہ منسوخ کر دیا۔ اس سیٹ سے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار) کے جیتنے والے امیدوار، این سی پی-ایس پی نے یہ سنسنی خیز جانکاری دی۔ ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ انہوں نے گاؤں والوں کو خبردار کیا کہ اگر وہ ووٹ ڈالنے کے اپنے منصوبے پر آگے بڑھے تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس سے قبل، سولاپور ضلع کے مالشیرس علاقے کے مرکاڑواڑی گاؤں کے رہائشیوں نے بینر لگائے تھے جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ 3 دسمبر کو دوبارہ پولنگ ہوگی۔ اس کے لیے انہوں نے بیلٹ پیپرز بھی چھاپے تھے اور چاہتے تھے کہ بیلٹ پیپر سے دوبارہ پولنگ کرائی جائے۔ تاکہ انہیں ای وی ایم کے نتائج سے ملایا جاسکے۔ یہ گاؤں مالشیراس اسمبلی حلقہ کے تحت آتا ہے۔ یہاں سے این سی پی امیدوار اتم جانکر نے بی جے پی کے رام ستپوتے کو 13,147 ووٹوں سے شکست دی۔ الیکشن کے نتائج کا اعلان 23 نومبر کو ہوا اور جنک اس سیٹ سے جیت گئے۔ عام طور پر صرف ہارنے والا امیدوار ہی ای وی ایم کے نتائج کو چیلنج کرتا ہے۔ یہاں جیتنے والے امیدوار کے ووٹروں نے ای وی ایم کے نتائج کو چیلنج کیا؟ مارکواڑی کے باشندوں نے دعویٰ کیا کہ جانکر کو ان کے گاؤں میں ستپوتے سے کم ووٹ ملے، جو ممکن نہیں تھا۔ مقامی لوگوں نے ای وی ایم پر شک ظاہر کیا۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ مالشیرس کے سب ڈویژنل افسر (ایس ڈی ایم) نے انڈین سول ڈیفنس کوڈ کی دفعہ 163 (قبل ازیں 144) کے تحت پولیس کی گرفتاری جاری کی ہے تاکہ کچھ مقامی لوگوں کے دوبارہ پولنگ کے منصوبے کی وجہ سے کسی بھی تنازعہ یا امن و امان کی صورتحال سے بچا جا سکے۔ علاقے میں 2 سے 5 دسمبر تک امتناعی احکامات نافذ کر دیے گئے۔ منگل کی صبح گاؤں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی کیونکہ کچھ گاؤں والوں نے بیلٹ پیپر کے ساتھ دوبارہ پولنگ کے انتظامات کیے تھے۔ ڈی ایس پی نارائن شرگاؤںکر نے کہا کہ ہم نے گاؤں والوں کو قانونی طریقہ کار کی وضاحت کی اور ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ایک ووٹ بھی ڈالا گیا تو مقدمہ درج کیا جائے گا۔ ماہر نے بتایا کہ پولیس انتظامیہ کے رویہ کو دیکھتے ہوئے گاؤں والوں نے ووٹنگ کا عمل روکنے کا فیصلہ کیا۔ "تاہم، ہم دوسرے طریقوں سے اپنا احتجاج جاری رکھیں گے،" انہوں نے کہا۔ ہم سب اس معاملے کو الیکشن کمیشن اور عدلیہ تک لے جانے کی کوشش کریں گے اور جب تک ہمیں انصاف نہیں مل جاتا ہم نہیں رکیں گے۔ اس سے قبل مقامی رہائشی رنجیت نے دعویٰ کیا تھا کہ ووٹنگ کے دن گاؤں میں 2000 ووٹر تھے اور ان میں سے 1900 نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ گاؤں نے ماضی میں بھی ہمیشہ جانکر کی حمایت کی ہے، لیکن اس بار ای وی ایم کے ذریعے کی گئی گنتی کے مطابق، جانکر کو 843 ووٹ ملے، جب کہ بی جے پی کے مہیوتے کو 1003 ووٹ ملے۔ یہ ممکن نہیں ہے اور ہمیں ای وی ایم کے ان اعداد و شمار پر بھروسہ نہیں ہے، اس لیے ہم نے بیلٹ پیپرز کے ذریعے دوبارہ پولنگ کرانے کا فیصلہ کیا تاکہ ای وی ایم میں دھاندلی کو بے نقاب کیا جاسکے۔ بتایا جا رہا ہے کہ مہاراشٹر کے دیگر گاؤں میں بھی اس طرح کے ووٹنگ کے منصوبے چل رہے ہیں۔ یہ ای وی ایم کی بھروسے کو ظاہر کرتا ہے۔
05 دسمبر 2024
مہاراشٹر میں ای وی ایم پر بڑھتا واویلا !
مہاراشٹر میں ای وی ایم مشینوں اور ان کے ذریعے نکلے اسمبلی چناو¿ نتائج پر واویلا بڑھتا ہی جارہا ہے ۔اب تو مہاراشٹرکے کئی جگہوں پر جنتا اور امیدوار سڑکوں پر اتر آئے ہیں ۔راشٹر وادی کانگریس پارٹی کے چیف شردپوار نے الزام لگایا ہے کہ مہاراشٹر میں پوری چناوی مشینری کو کنٹرول کرنے کے لئے اقتدار اور پیسے کا بیجا استعمال جو ہوا ہے وہ پہلے کبھی کسی اسمبلی یا قومی چناو¿ میں نہیں دیکھا گیا ۔پوار نے یہ بیان 90 برس سے اوپر کی مدھو سماج سیوی باندہ اٹھاو¿ سے ملاقات کے دوران کیا ۔بابا اٹھاو¿ مہاراشٹر میں حال ہی میں ہوئے اسمبلی چناو¿ میں مبینہ طور سے ای وی ایم کے بیجا استعمال کے خلاف مظاہرہ کررہے ہیں ۔سما ج سدھارک جوتیوا پھولے کے گھر اپنا تین روزہ مظاہر ہ کیا ۔شردپوار نے کہا دیش میں حال ہی میں ہوئے چناو¿ ہیں اور لوگوں میں انہیں لے کر بے چینی ہے۔بابا اٹھاو¿ کا آندولن اسی بے چینی کی نمائندگی کرتا ہے ۔لوگوں میں یہ آہٹ ہے کہ مہاراشٹر میںحال ہی میں ہوئے چناو¿ میں اقتدار کا بیجا استعمال اور بھاری تعداد میں پیسے کا استعمال ہوا ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ۔مقامی سطح کے چناو¿ میں ایسی باتیں سننے کو ملتی تھیں لیکن پیسے کی مدد سے پوری چناوی مشینری پر قبضہ اور اقتدار کا بیجا استعمال پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ۔لوگ سورگیہ سماج وادی وچارک جے پرکاش نارائن کو یاد کر رہے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ کسی کو آگے آکر قدم اٹھانا چاہیے ۔قدم اٹھا لیا گیا ہے ۔مہاراشٹر میں ہار کا سامنا کرنے والے اتحاد مہاوکاس اگھاڑی کے امیدواروں نے اپنے اپنے حلقوں میں ای وی ایم اور ووٹر ویریفکیشن پیپر آڈٹ ٹول یونٹوں کے ویریفکیشن کی مانگ کا فیصلہ لیا ہے ۔کئی ہارے ہوئے امیدواروں نے سپریم کورٹ کے ای وی ایم کی ویریفکیشن کے فیصلہ کی بنیاد پر چناو¿ کمیشن میں ای وی ایم کی کنٹرول یونٹ پر پھر گنتی کرانے کی اپنی مانگ کی عرضی دائر کر دی ہے ۔شوشل میڈیا میں دعویٰ کیا جارہا ہے درجنوں ہارے ہوئے امیدواروں نے پھر سے گنتی کی اپیل دائر کر دی ہے۔اکیلے بارامتی سے ہارے ہوئے امیدوار پوار کے بھتیجے نے بھی 9 لاکھ روپے فیس جمع کر دی ہے ۔مہاراشٹر میں کئی اور دیگر درجنوں امیدواروں نے بھی ایسا ہی کیا ہے ۔جمہوریت میں شکایتوں کی ویریفکیشن ہونا ضروری ہے اور چناو¿ کمیشن کو اس میں پورا تعاون کرنا چاہیے ناکہ خانہ پوری کرکے چھٹکارہ پانے کی کوشش کرین ۔ممبئی کے شیو سینا ایک ممبر اسمبلی نے دعویٰ کیا کہ ڈالے گئے ووٹ اور ای وی ایم میں گنے گئے ووٹ کی تعداد میں غلطیاں ہیں ۔ممبر اسمبلی نے کہا کہ سبھی امیدواروںنے ای وی ایم کے طریقہ کار پر شبہ جتایا ہے ۔مراٹھی کے ایک اخبار لوک نیتی نے 95 اسمبلی حلقوں کی ایک فہرست باقاعدہ چھانپی ہے جہاں پر چناوی دھاندلی کے الزام لگ رہے ہیں ۔ووٹوں کی مش چیک کاالزام رہے ہیں ۔چناو¿ کمیشن نے ان الزامات کا انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ چناو¿ کمیشن ہر سوال کا جواب دے گا ۔دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے ۔
(انل نریندر)
کیا کانگریس سخت فیصلے لینے میںاہل ہے ؟
پہلے ہریانہ ،اب مہاراشٹر میں اسمبلی چناو¿ میںزبردست ہار کے بعد کانگریس نے اس کی وجوہات پر منتھن کیا اور مانا کہ آپسی رسہ کشی اورتنظیمی کمزوری کے ساتھ ساتھ کسی کی جوابدہی واضح نا ہونے سے پارٹی کی یہ درگتی ہوئی ہے ۔ساتھ ہی ای وی ایم پر بھی شبہ کا اشو بھی اٹھا ۔کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں پرستاو¿ پاس کر الزام لگایاگیا کہ آزاد اور منصفانہ چناو¿ آئینی مینڈیٹ ہے ۔لیکن چناو¿ کمیشن کا جانبدارانہ طریقہ پر سنگین سوال اٹھ رہے ہیں ۔پارٹی نے الزام لگایا ہے کہ سماج کے کئی طبقوں میں مایوسی اورخدشات بڑھے ہین ۔پارٹی صدر ملکا ارجن کھڑگے نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اب پرانا ڈھرا نہیں چلنے والا ہے ۔پارٹی نیتاو¿ں کو بغیر سوچے سمجھے ایک دوسرے پر نکتہ چینی کرنے سے باز آنا ہوگا ۔ہمیں فوراً چناو¿ نتیجوں سے سبق لیتے ہوئے تنظیمی سطح پر اپنی کمزوریوں اور خامیوں کا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے ۔یہ نتیجے ہمارے لئے صاف پیغام ہیں ۔کھڑگے نے لوک سبھا چناو¿ میں بہتر پرفارمنس سے کانگریس کے حق میں بنے ماحول کے باوجود ہریانہ اور مہاراشٹر میں ہار کو تعجب خیز بتایا اور کہا کہ صرف 6 مہینے پہلے نتیجے آئے تھے اس کے بعد ایسے نتیجے کیا اسباب ہیں ۔ہم ماحول کا فائدہ نہیں اٹھاپاتے؟ ملکا ارجن کھڑگے ،ہریانہ مہاراشٹر ،چھتیس گڑھ ،مدھیہ پردیش اورراجستھان سے تبدیلی کی شروعات کرسکتے ہیں۔اگر وہ صحیح معنون میں کانگریس تنظیم کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔راہل گاندھی ،پرینکا گاندھی اور خود کھڑگے بیشک ماحول تیار کریں اس کا فائدہ تبھی ملے گا جب کانگریس تنظیم اس منفی ہوا کو بھنا سکے گی۔تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ان تین نیتاو¿ں کو چھوڑ کر باقی کانگریسی اب محنت کرنے کے عادی نہیں رہے اور زمین پر اترنے کو تیارنہیں ہیں اور جنتا کے جذبات سے کٹ چکے ہیں ۔ہائی کمان کے قریبی لوگ چاہے من چاہے ٹکٹوں کا بٹوارہ کرتے ہیں یہ بھی کہا جاتا ہے ٹکٹوں کی فروختگی ہوتی ہے ۔پارٹی کو اس سے چھٹکارہ دلانا ہوگا وہ تنظیم منتری ہی کیا جو آج تک ضلع صدر بلا ک صدر ،بوتھ صدر تک نہیں بنا سکے ؟ چھتیس گڑھ اور راجستھان میںہار کے قریب چھ مہینے گزر چکے ہیں لیکن پارٹی ابھی تک ان ریاستوں میں جواب دہی طے کرتے ہوئے تبدیلی نہیں کر پائی ہے ۔دونوں ریاستوں میں پردیش کانگریس صدر اپنے اپنے عہدوں پر بنے ہوئے ہیں۔ہماچل پردیش ،اڈیشہ میں پارٹی پردیش ورکنگ کمیٹی کو بھنگ کر چکی ہے لیکن کافی کوششوں کے نام پر پردیش کانگریس کے اندر گروپوں میںرضامندی نہیں بن پارہی ہے ایسے میں پارٹی جوابدہی طے کرنے کی ہمت رکھتی ہے تو اسے پارٹی کے اندر کافی مخالفت کاسامنا کرنا پڑے گا کیوں کہ پردیش مشینری تبدیلی کے لئے تیار نہیں ہے ۔مہاراشٹر میں بھی پارٹی کے نئے پردیش کانگریس صدر کی تقرری کرتے ہوئے انچارج کو بھی بدلنا ہوگا۔پردیش صدر نانا پٹولے اور پردیش انچارج رمیش نتھلا دونوں کے خلاف اندر اندر ناراضگی ہے ۔ہریانہ چناو¿ نتائج کو دو ماہ سے زیادہ کا وقت ہو چکا ہے پارٹی نے ابھی تک ہار سے کوئی سبق نہیں لیا ہے ۔آپسی گروپ بندی کی وجہ سے پارٹی اسمبلی میں نیتا تک اتنے دنوں کے بعد طے نہیں کرپائی ۔کانگریس کا اوپر سے نیچے تک اوور ہال کرنا ضروری ہوگا لیکن سوال ہے کہ کیا ملکا ارجن کھڑگے جی ایسا کر سکتے ہیں؟
(انل نریندر)
03 دسمبر 2024
کیااسارائیل اور حزب اللہ جنگ رک گئی ہے !
7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر آتنکی حملے کے چلتے پورے مغربی ایشیا میں بے چینی پھیلانے کے بعد قریب 14 مہینے بعد امریکی صدر جو بائیڈن کی پہل پر اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا اعلان ہوا ہے۔اسرائیل حماس کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے ہی شمالی سرحد پر حملہ شروع کیا تھا ۔امریکہ اور فرانس کے مشترقہ بیان میں کہا گیا تھا کے اس سمجھوتے سے لبنان میں جار ی جنگ رکیں گی ۔اور اسرائیل پر بھی حزب اللہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے حمکے کا خطرہ ٹل جائے گا ۔جنگ بندی کے کوششیں آخر رنگ لائیں اور دنیا نے چین کا سانس لیا حالانکہ یہ جنگ بندی کتنی دیر تک چلیں گی اس پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے ویسے تو جنگ بندی کی کوشش کئی مہینے سے چل رہی تھی ۔لیکن نتن یاہو نہیں مان رہے تھے اب جب حزب اللہ نے اسرائیل کے حوش ٹھکانے لگا دئے تو نتن یاہو جنگ بندی پر مجبور ہو گئے ۔اور اس میں کئی شرطیں طے ہوئی ہیں ۔پہلی وجہ بتائی گئی ہے کے اسرائیلی کیمپ فورسیس کو حزب اللہ سے دور رکھنے اور اران کے بڑھتے خطرے کو فوکس کرنے کی ضرورت تھی ۔دوسرے اسرائیل ان کی فوجی کارروائیوں میں ہتھیار اور جنگ کی ساز سامان وصولی میں تاخیر کو مانا ہے یعنی اسرائیل کے پاس ہتھیاروں کا زخیرہ ختم ہو گیا اور پھر سے سپلائی کو پورا کرنے کے لئے وقت چاہئے ۔اسی وجہ سے جنگ کے میدان سے حزب اللہ کو کنارے کر حماس کو الگ تھلگ کرنا یہ یوں کہا جائے حزب اللہ نے اسرائیل کو ٹھکانے لگا دیا ہے اور اس نے اپنے وجود کو بچانے کے لئے گٹنے ٹیک دئے ہیں ادھر لبنان میں حزب اللہ کے چیف نعیم قاسم نے بتایا کے اس سمجھوتے سے حزب اللہ نے میدان جیت لیا ہے اور لبنان کے لوگوں نے حزب کے کام کی تعریف کی ہے انہوںنے کہا ہم جیتے کیوں کے دشمن کو حزب اللہ کو تباہ کرنے سے روک دیا ہے ۔دوسرے کیوں کے جاریت کو ختم کرنے سے نیوکلیائی ہتھیار کے استعمال سے بھی روک دیا ہے۔فلسطین کے لئے ہماری حمایت جاری رہے گی ہم نے بار بار کہا کے ہم جنگ نہیں چاہتے ہیں اور غزہ کی حمایت کرنا چاہتے ہیں اور اگر اسرائیل جنگ تھوپتا ہے تو ہم اس کے لئے تیار ہیں ۔لبنان کا کہنا ہے کے اکتوبر 2023 سے لیکر اب تک 3961 لبنانی شہری مارے گئے ہیں ۔اسرائیل کی جانب سے جاری سرکاری تعداد کے مطابق حزب اللہ کے ساتھ بھی جنگ میں اس کے 82 فوجی 47 شہری مارے گئے ہیں ۔ادھر اسرائیلی فوج نے کہا اس کی جنگی جہازوں نے ایک روکٹ زخیرہ پر حزب اللہ کی سرگرمیوں کا پتا لگانے کے بعد جنوبی لبنان پر گولہ باری کی اور یہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کے بعد پہلا حملہ تھا اس سے سوال اٹھ رہا ہے کے کیا اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ رکی ہے؟ویسے اس جنگ بندی کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے اور امید کی جانی چاہئے یہ سلسلہ آگے بڑھے اور حماس اور اسرائیل میں بھی جنگ بندی ہو جائے اور یہ جنگ رک جائے۔
(انل نریندر)
مہاراشٹر میں سرکار تشکیل میں پھنسا پینچ!
مہاراشٹر چناﺅ کے نتیجے آئے8 دن ہو چکے ہیںاور 25 نومبر تک سرکار کی تشکیل ہونا ضروری تھی ۔مگر ایسا نہیں ہوتا تو قائدے کے مطابق صدر راج لگ سکتا تھا ۔لیکن اتنے دن گزر جانے کے بعد مہایوتی اتحاد نہ تو سرکار بنانے کا دعویٰ پیش کر سکا اور نہ ہی سی ایم طے کر سکا ۔مہاراشٹر کا اگلا وزیراعلیٰ کون ہوگا؟ممکن ہے ایک دو دن میں یہ طے ہو جائے ۔پینچ کہا پھنسا ہے؟مہاراشٹر میں سرکار کے قیام سے پہلے مہایوتی میں وزیراعلیٰ اور محکموں کے بٹوارے پر رضا مندی نہیں پن پائی ۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے گھر پر جمعرات کو دیر رات 3 گھنٹے میٹنگ ہوئی لیکن کوئی فیصلہ نہیں ہو پایا ۔بتایا جاتا ہے سارا پینچ ایکناتھ شندے کو لیکر پھنسا ہے ان کے حامی کہتے ہیں کے مہاراشٹر اسمبلی چناﺅ ایکناتھ شندے کی قیادت میں لڑا گیا تھا اس لئے ان کو ہی وزیراعلیٰ کی کرسی ملنی چاہئے ۔وہیں بھاجپا نیتا کا خیال ہے مہاراشٹر اسمبلی چناﺅ میں بھاجپا سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے تو وزیراعلیٰ اسی کا ہونا چاہئے۔قائدے سے یہ بات ٹھیک ہے سب سے بڑی پارٹی کا ہی وزیراعلیٰ ہوتا ہے ۔اسمبلی چناﺅ میں ایکناتھ شندے نے محنت تو بہت کی ہے اور ان کی کئی اسکیمیں رنگ لائی ہیں ۔ان کی قیادت میں ہی چناﺅ لڑا گیا تھا تو وزیراعلیٰ کے عہدے پر ان کا حق بنتا ہے لیکن بھاجپا تیار نہیں ہے ۔ایکناتھ شندے ناراض ہوکر اپنے گاﺅں چلے گئے ۔اور وہاں بیٹھے ہوئے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ادھر بھاجپا میں بھی کس کو وزیراعلیٰ بنانا ہے اس پر الجھن کی حالت بنی ہے ۔ایک گروپ دویندر فڈنویس کو وزیراعلیٰ بنانا چاہتا ہے کیوں کے ان کو آر ایس ایس کی بھی حمایت ہے لیکن بھاجپا کے اندر ایک گروپ اس کی مخالفت کر رہا ہے اور کہنا ہے کے ایک برہمن کو وزیراعلیٰ بنایا تو او بی سی ،مراٹھا ووٹر ناراض ہو جائے گا ۔سماجی تجزیہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے ۔اس لئے کسی دیگر مراٹھا نیتا کی تلاش جاری ہے لیکن بی جے پی قیادت کی گلے کی ہڈی بنے ہوئے ہے ۔ایکناتھ شندے کو پوری طرح سے بھاجپا لیڈر شپ نظر انداز نہیں کرنا چاہتی اس کی خاص وجہ پچھلے ڈھائی سال سے ایکناتھ شندے نے مہاراشٹر کی کمان سنبھالی ہوئی ہے ان کے پاس کئی ایسی جانکاریاں ہوگی جن کے پتہ چلنے سے بھاجپا لیڈر شپ کو نقصان ہو سکتا ہے اگر شندے کے خلاف لیڈر شپ کے پاس فائل تیار ہے تو شندے کے پاس بھی سارے کارناموں کی فائل ہوگی۔ اس کے علاوہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کے مرکز میں شیو سینا (شندے گروپ)کے ساتھ ایم پی ہیں جو بھاجپا سرکار کو حمایے دیں رہے ہیں ۔کہیں اس جھگڑے میں وہ اپنی حمایت واپس نہیں لے لیں اور مرکزی حکومت کمزور ہو جائے ۔کل ملاکر ہمیں لگتا ہے ترپ کے پتے ایکناتھ شندے کے ہاتھ میں ہیں ۔دیکھیں اونٹھ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
(انل نریندر)
30 نومبر 2024
ای وی ایم سے چناو ¿ کرانے کا سوال!
کانگریس نے ایک بار پھر بیلٹ پیپر یا ووٹ پرچیوں کی واپسی کی مانگ اٹھائی ہے ۔کانگریس صدر ملکا ارجن کھڑگے نے تالکٹورہ اسٹیڈیم میں بیلٹ پیپر سے چناو¿ کے لئے بھارت جوڑو یاترا کی طرح ملک گیر مہم چلانے کا اعلان کیا ۔اس کا نام آئین رکھشک ابھیان دیا ہے انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی ذات پات مردم شماری سے ڈرتے ہیں کہ سبھی طبقہ اپنا حصہ مانگیں گے ۔کھڑگے نے کہا مہاراشٹر چناو¿ نے دکھا دیا ہے کہ ایس سی ایس ٹی اوبی سی غریب طبقہ کے لوگ اپنی پوری طاقت لگا کر ووٹ دے رہے ہیں لیکن ان کا ووٹ فضول ہورہا ہے ۔ای وی ایم مشینوں کو لے کر کھڑگے نے طنز کیا کہ مودی جی کے گھر یا امت شاہ کے گھر میں مشین رکھنے دو ۔احمد آباد کے کسی گودام میں رکھن دو ہمیں ای وی ایم نہیں چاہیے ہمیں بیلٹ پیپر چاہیے ان کی تجویز تھی کہ جیسے راہل گاندھی کی قیادت میں بھارت جوڑو یاترا نکلی ویسے ہی مت پتر چاہیے کی مہم شروع کی جائے ۔پچھلے کچھ اسمبلی انتخابات میں ای وی ایم کو لے کر بہت سی شکایتیں آئی ہیں ۔مہاراشٹر میں تو بہت ہی ہنگامہ مچا ہے ۔ووٹر سڑکوں پر اترا ٓئے ۔ہارے امیدوار ثبوت اکٹھا کرکے چناو¿ کمیشن اور عدالتوں کے دروازہ پرجارہے ہیں ۔جہاں تک عدالتوں کا سوال ہے تو کچھ دن پہلے ہی سپریم کورٹ بیلٹ پیپروں کا استعمال کرنے سے متعلق عرضیوں کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ چناو¿ جیت جائیں تو ای وی ایم صحیح اور ہار جائیں تو چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے ۔جسٹس پی وی ویرالے کی سپریم کورٹ کی بنچ نے یہ رائے زنی کی تھی ۔عرضی میں پولنگ پرچی سے کرائے جانے کے علاوہ کئی اور ہدایت دئیے جانے کی درخواست کی گئی تھی ۔جب عرضی گزار کے ایل پال نے کہا کہ مفاد عامہ کی عرضی انہوں نے دائر کی ہے تو بنچ نے کہا کہ آپ کے پاس دلچسپ مفاد عامہ کی عرضیاں ہیں ۔آپ کو یہ شاندار وچار آتے کہاں سے ہیں ؟ پال نے کہا کہ وہ ایک ایسی تنظیم کے صدر ہیں جس نے تین لاکھ سے زیادہ یتیموں اور چالیس لاکھ سے زیادہ بدواو¿ں کو بچایا ہے ۔بنچ نے اس کے جواب میں کہا آپ اس سیاسی سیکٹر میں کیوں اترے ہیں اچھا کام بہت الگ ہے ۔پال نے جب بتایا کہ وہ 150 سے زیادہ دیشوں کا دورہ کر چکے ہیں تو بنچ نے کہا کہ ان دیشوں میں پرچیوں کے ذریعے ووٹ ڈالے جاتے ہیں یا وہاں ای وی ایم کا بھی استعمال ہوتا ہے اس پر پال نے کہا کہ اب دیشوں نے پرچیوں کے ذریعے چناو¿ کا طریقہ اپنایاہے جس میں امریکہ جیسے کئی ترقی یافتہ یوروپی دیش شامل ہیں ۔بھارت کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے انہوں نے کہا گڑ بڑھ ہوئی ہے اس سال 2024 جون مین الیکشن کمیشن نے 9 ہزار کروڑ روپے ضبط کئے ہیں ۔بنچ نے کہا لیکن اس سے آپ کی بات کیسے پختہ ہو جاتی ہے اگر آپ بیلٹ پیپر کی طرف لوٹتے ہیں تو کیا کرپشن نہیں ہوگا؟چندر بابو و جگن ریڈی کا ذکر کئے جانے پر بنچ نے کہا کہ جب چندر بابو نائیڈو ہارے تھے تو انہوں نے کہا تھا ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کی جاسکتی ہے اب ا س بار جگن موہن ریڈی ہارے تو وہ کہہ رہے ہیں کہ ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کی جاسکتی ہے۔ سوال نا تو ای وی ایم کا ہے اور نا سیاسی پارٹیو ں کا ہے بلکہ اصل سوال ای وی ایم ہے ۔ووٹروں کو پتہ ہونا چاہیے کہ اس نے جس کو ووٹ دیا ہے تو کیا وہ اس کو گیا ہے ۔دیش کی جنتا کا بھروسہ سب سے زیادہ اہم ہے ۔
(انل نریندر)
سماجواد و سیکولرزم آئین کا حصہ !
سپریم کورٹ نے سماج واد اور سیکولرزم الفاظ کو آئین کے بنیادی ڈھانچہ کا حصہ بتاتے ہوئے کہا کہ انہیں آئین کی تمہید سے ہٹایانہیں جاسکتا ۔اس بارے میں دائر عرضیوں کو خارج کرتے ہوئے عدالت نے کہا آئین کا آرٹیکل 368- پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کی اجازت دیتا ہے ۔تمہید بھی آئین کاحصہ ہے اور پارلیمنٹ کی یہ پاور تمہید تک پھیلی ہوئی ہے ۔آئین سے سیکولرزم اور سماج واد لفظ ہٹانے والی مانگ کی عرضیوں کو خارج کر دیا ۔ایم پی سبرا منیم سوامی ،وکیل وشنو شنکر جین اور دیگر کے ذریعے دائر عرضی کی گئی تھیں ۔غور طلب ہے کہ سال 1976 میں پاس ہوئی آئین ترمیم کے تحت سیکولرزم اور سماج واد جیسے الفاظوں کو جوڑا گیا تھا ۔چیف جسٹس سنجیو گھنہ ،جسٹس سنجے کمار کی بنچ نے کہا سماج واد اور سیکولرزم جیسے الفاظ 1976 میں آئین ترمیم کے ذریعے جوڑے گئے ان سے 1949 اپنائے گئے آئین پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔اس ترمیم کے بعد تمہید میں بھارت کا خاکہ سرداری ،جمہوری ملک سے بدل کر سرداری ،سماج وادی اور سکولرزم سیکولر جمہوریت ہو گیا تھا ۔سماعت کے دوران اپنی دلیل دیتے ہوئے عرضی گزا ر وکیل وشنو کمار جین نے 9ججوں کی آئینی بنچ کو ایک حالیہ فیصلے کا حوالہ دیا اور آئین کی آرٹیکل 39(B) پر 9 ججوں کی بنچ کے فیصلے کا ذکرکرتے ہوئے عدالت نے سماج وادی لفظ کی تشریح پر عدم اتفاق جتایا جسے بڑی عدالت کے سابق جج جسٹس وی آر کرشنا ایئر اور چتر گندہا ریڈی نے تشریح دی تھی کہ سی جے آئی سنجیو کھنہ نے کہا ہندوستانیت کے سلسلے میں ہم سمجھتے ہیںکہ بھارت میں سماج واد دیگر دیشوں سے بہت الگ ہے ۔ہم سماج واد کا مطلب خاص طور سے ایک فلاحی اسٹیٹ فلاحی ملک سمجھتے ہیں اور اس فلاحی ملک مین اسے لوگوں کی بہبود کے لئے کھڑا ہونا چاہیے اور موقعوں میں یکسانیت برتنی چاہیے ۔بڑی عدالت نے 1994 کے ایس آر بومئی معاملے میں سیکولرزم کو آئین کی بنیادی تشبیح کاحصہ مانا یہ محض اتفاق ہے کہ سپریم کورٹ نے یوم آئین پر آئین کی تمہید میں شامل سماج واد اور سیکولرزم جیسے الفاظ کی اہمیت اس کے استعمال کی تشریح کی ہے جن کا تفصیل سے تذکرہ کیا گیا ہے ۔چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی بنچ نے سماج واد اور سیکولرزم کے بارے می کہا کہ بھارت ے شہریوں سے ان دو لفظوں کو قبول کرکے اس کو مان لیا اس لئے 44 برسوں بعد ان لفظوں کو آئین کی تمہید سے بے اثر کئے جانے کا کوئی اخلاقی بنیاد نہیں دکھائی دیتا ۔سپریم کورٹ کے فیصلے نے تشریح کی ہے کہ چاہے سیکولرزم ہو یا سماج وادی یہ لفظ ہمارے آئین کی ترقی پسندی کو بنائے رکھنے میں معاون ہیں جہاں سیکولرزم شہریوں کی برابری اور مذہبی آزادی جیسے اہم اختیارات کو یقینی کرتا ہے وہیں سماج واد کے تئیں عزم ملک کے فلاحی ڈھانچے کو بنائے رکھنے میں مدد کرتا ہے ۔آج کے ماحول میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے ۔اس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں ۔
(انل نریندر)
28 نومبر 2024
کیا شرد پوار کا سیاسی وجود ختم ؟
مہاراشٹر اسمبلی کے چناﺅ نتیجوں سے سب سے مایوس کن اشارہ اگر کسی کے لئے ہے تو وہ سیاسی چانکیہ مانے جانے والے بزرگ شرد پوار کےلئے ہیں ۔ڈھائی سال پہلے ان کی پارٹی کی ٹوٹنے نہ صرف ایم وی اے کا اقتدار چھین لیا بلکہ ان کی پارٹی ،چناﺅ نشان سے لیکر زمین تک چھین لی ۔نتیجوں نے شرد پوار کے سامنے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے ۔کیوں کے سیٹیں کام زمین سب جاتا ہوا نظر آ رہا ہے ۔84 سالہ شرد پوار کے لئے مہاراشٹر کا جن آدیش ان کے اب تک کے سیاسی سفر کے سب سے بڑے جھٹکے کی طرح ہے ۔بھلے ہی 5 سال پہلے شرد پوار نے اپنے سیاسی ٹیلنٹ سے کانگریس اور شیوسینا کو ساتھ لاکر ایم وی اے بنایا لیکن وہ اس بار بطور آرٹسٹ ناکام ہوئے زمین پر ان کی پارٹی این سی پی کی گھڑی نے جو پہچان بنائی اسے تو بھتیجے اجیت دادا پوار لے گئے لیکن اس عمر میں خطرناک بیماری کے چلتے پھر سے پارٹی کے لئے روح ڈالنا آسان نہیں ہے اس کے پیچھے کی وجہ ان کی سحت اور بڑھتی عمر جیسی چنوتیاں ہیں ۔شرد پوار نے اپنی وراست کے طور پر جہاں پردیش کے طور پر سیاست اجیت کے لئے چھوڑی تھی اور سیاست بیٹی سپریہ سلے کےلئے نئی صورت حال میں ان کی سیاسی زمین بنائے رکھنے کے لئے پھر سے بنیاد کھڑی کرنی ہوگی ۔اجیت دادا پوار نے بی جے پی کے ساتھ مل کر لکیر اتنی بڑی کرلی ہے کی اسے چھوٹا کرنا آسان نہیں ہوا۔مہاراشٹر اسمبلی چناﺅ مہم کے دوران سوشل میڈیا پر واقعہ دھوم مچا رہا تھا وہ تھا جہاں بوڑھا آدمی چلا رہا ہے وہاں اچھا ہو رہا ہے ۔۔کم سے کم شرد پوار سے پیار کرنے والے ہر شخص کو اس لائن کا مطلب پتہ تھا اور ان کے گروپ کے امیدوار یہ سوچ رہے تھے کے وہ اپنے نیتا کے جادو سے اسمبلی میں ضرور پہنچ جائےں گے ۔یہی وجہ تھی کے جہاں این سی پی کے اتحادی سپا کے امیدوار چناﺅ لڑ رہے تھے وہاں شرد پوار کی ریلیوں کی خوب مانگ تھی ۔اس مانگ کے پیش نظر ریاست بھر میں 69 ریلیاں ہوئی انہوںنے لوگوں کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش بھی کی لیکن بعد میں بھی شرد پوار کو 86 میں سے 10 سیٹیں ہی ملی ہیں۔تو کیا اندازہ کہا جائے کے شرد پوار کا کرشما ختم ہو گیا ؟ایک بار پھر سے شرد پوار کے سیاسی دبدبے پرسوال کھڑے ہو گئے ہیں ۔اور سوال پوچھا جا رہا ہے کے کیا شرد پوار پھر سیاست میں کھڑے ہو پائےں گے ؟ ساتھ میں ہی شرد پوار اور ان کی پارٹی کی مستقبل کیا ہوگا؟ اور سب سے اہم بات یہ ہے کے مہاراشٹر کی سیاست میں شردپوار کا کرشما سب کچھ ختم ہو گیا ہے؟پچھلے 4 دہائیوں میں شرد پوار نے اپنے تجربہ اور ہنر کا استعمال کرکے سیاست میں واپسی کی ہے ۔ان کے بارے میں کہا جاتا ہے وہ ہار ماننے والے نہیں ہیں ۔سپریہ سولے اور روہت پوار جیسے این سی پی (پوار گروپ)کو مستقبل میں کتنا سنبھال پائےں گے ۔اس بارے میں ایک صحافی نے کہا میں کبھی نہیں کہوں گا کے شردپوار سیاسی طور پر ختم ہو گئے ہیں ۔کیوں کے سیاست میں کچھ بھی ہو سکتا ہے کیا پتہ کوئی ایسا موقع بنے اور اشارے بنیں کے پوار صاحب پھر سے بولنگ کریں ۔
(انل نریندر)
بھاجپا ناکام،نہیں چلا گھس پیٹھ کا اشو!
مہاراشٹر اسمبلی چناﺅ میں اچھی پرفارمنس کرنے والی بھاجپا جھارکھنڈ کے چناﺅی امتحان میں بری طرح فیل ہو گئی ریاست میں مبینہ گھس پیٹھ اور قبائیلیوں سے جڑا بھاجپا کے اشو کا لوگوں پر توقع کے مطابق کوئی اثر نہیں پڑ سکا ۔جھارکھنڈ میں بھاجپا کی ہار ہوئی ہے اس نے چناﺅ کے اغاز کے ساتھ ہی بنگلہ دیسی گھس پیٹھ کا اشو بنانے کی کوشش کی ۔روٹی ،ماٹی سب گھس پیٹھئے لے جائےں گے ۔یہ کہنا تھا آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کا لیکن یہ اشو بن نہیں پایا ۔وہیں ریاست بھر میں بھاجپا کے خلاف ہی اقلیتوں اور قبائلیوں ووٹوں کے پولارایزیشن کا خامیازہ بھاجپا کو بھگتنا پڑا ۔پارٹی کے برانے قبائلی چہرے اپنی کھوئی ہوئی ساق کو پانے کے لئے وسیع ہمایت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے ۔ساتھ ہی ریاست کے وزیراعلیٰ کے لئے کوئی چہرہ پیش نہ کرنا بھی بھاجپا کے لئے نقصان دہہ ثابت ہوا ۔جھارکھنڈ میں بھاجپا کا چناﺅ پرچار مبینہ گھس پیٹھیوں اور قبائلیوں کے ارد گرد رہا ۔بھاجپا نے دعویٰ کیا تھا اگر وہ ریاست میں اقتدار میں آئی تو غیر ملکی گھس پیٹھیوں کو واپس بھیجا جائے گا ساتھ ہی ریاست کی زمین ان سے آزاد کرائیں گے ۔جب کے جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی چناﺅ کمپیئن میں مرکزی نکتہ عورتیں ،نوجوان،کسان اور قبائلی شامل رہے ۔عورتوں کے لئے شروع کردہ میہّ سمان یوجنا کے فائدہ جے ایم ایم کو ملا ۔بھاجپا نیتاﺅ کے مطابق وزیراعلیٰ ہیمنت سورین سرکار کی یہ یوجنا جو محروم خواتین کو ایک ہزار روپے دیتی ہے ۔عورتیں حکمراءاتحات کے حق میں رہیں اور ان کا رجحان جے ایم ایم کی طرف رہا۔جیت کے بعد جے ایم ایم کے سی ایم ہیمنت سورین کافی خوش نظر آئے انہوںنے پارٹی کی کامیابی کا کریڈٹ اپنی بیوی کلپنا سورین کو دیا ۔انہوںنے ایکس پر بیوی کلپنا سورین اور بچوں کے ساتھ فوٹو شئیر کرتے ہوئے لکھا کے ہمارے اسٹار کمپین کا سواگت ہے جیت کے بعد ورکروں سے خطاب میں سورین نے کہا کے اس جیت میں کلپنا سورین اور ان کی ٹیم کا بڑا اشتراک ہے ۔لوک سبھا چناﺅ میں جے ایم ایم نے 5 سیٹیں جیتیں ۔اگر میں باہر ہوتا تو اور زیادہ اچھی پرفارمنس کرتا ۔اس وقت میری پتنی کلپنا سورین نے ون مین آرمی کی طرح کام کرتے ہوئے پوری ذمہ داری سنبھالی اس چناﺅ میں ہم نے ساتھ ملکر کام کیا ۔اس کے لئے پہلے ہی پورا ہوم ورک کر لیا ۔زمین پر جڑ کر کام کیا ۔ہم وہ پیغام دینے میں کامیاب رہے جو ہم دینا چاہتے تھے اسی کے ساتھ بھاجپا کے اندر یہ سوال بھی پوچھا جا رہا ہے کے جھارکھنڈ میں چناﺅ ہروانے کے لئے ذمہ داران کون ہے؟ جواب ہے آسام کے وزیر اعلیٰ شرما جنہوںنے اتنا گھٹیا پرچار کیا کے ایسے ایسے بے توکے بھاشن دئے ۔اور ایسے ایسے اشو اٹھائے جن سے پارٹی کو بھاری نقصان ہوا ۔نارتھ ایسٹ میں آج جو حالات بنے ہیں اس کے لئے بھی ہیمنت بسوا شرما ذمہ دار ہیں ۔آج کی تاریخ میں وہ بھاجپا کے لئے ایک ذمہ داری بن گئے ہیں ۔
(انل نریندر)
26 نومبر 2024
کیا پوتن نیوکلیائی ہتھیاروں کا استعمال کریں گے ؟
وہ سال 2022 کا اکتوبر کا مہینہ تھا جب امریکہ کے خفیہ حکام کے کان اچانک کھڑے ہو گئے ۔ان حکام نے روس کے فوجی حکام کی خفیہ بات چیت سن لی تھی ۔تب یہ پریشانی سامنے آئی تھی کے روس کے صدر پوتن یوکرین کے کسی فوجی اڈے کو نیوکلیائی ہتھیاروں سے نشانہ بنا سکتے ہیں ۔لیکن ایسا ہوا نہیں ۔یوکرین پر روسی حملے کے 1000 سے زیادہ دن پورے ہو چکے ہیں ایک بار پھر نیوکلیائی ہتھیاروں کی بات چل پڑی ہے ۔پوتن نے اپنی نیوکلیائی پالیسی کو بدل دیا ہے اور ایسا اسلئے ہوا ہے کیوں کے یوکرین نے امریکہ سے ملی جدید مزائلوں کو روس پر داگا ہے روس کی نئی نیوکلیائی پالیسی میں کہا گیا ہے کے کوئی ایسا دیش جس کے پاس خود پرمانو ہتھیار نہ ہو لیکن وہ کسی دیش کے ساتھ مل کر حملہ کرتا ہے تو روس اسے مشترکہ حملہ مانے گا ۔یوکرین کے پاس تو پرمانو ہتھیار نہیں ہے لیکن امریکہ کے پاس ہے امریکہ اور برطانیہ روس کے ساتھ کھڑے ہیں ساتھ ہی ناٹو ممالک بھی یوکرین کو مدد دیں رہے ہیں ۔پرمانو پالیسی میں یہ بھی کہا گیا ہے کے اگر روس کو پتہ چلا کی دوسری طرف سے روس پر مزائیلوں اور ڈرون و ہوائی حملے ہو رہے ہیں تو وہ پرمانوں ہتھیاروں سے جواب دے سکتا ہے لیکن اب اس نے حملوں کے لئے امریکی مزائیلوں کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے ۔پرمانو پالیسی میں مزید بتایا گیا ہے کے اگر کسی نے نئی تنظیم بنائی اور روس کی سرحد کے قریب فوجی بنیادی ڈھانچے کو لگایا یا روس کی سرحد کے آس پاس کوئی فوجی سرگرمی بڑھائی تو پرمانو ہتھیاروں کا استعمال کیا جا سکتا ہے ۔دیکھا جائے تو روس کے پاس سب سے زیادہ پرمانو ہتھیار بھی ہیں ویسے کوئی دیش اپنے ہتھیاروں کے بارے میں پوری جانکاری نہیں دیتے ہیں ۔تفصیلات دوسری ایجنسیوں کے حوالے سے ملتی ہیں ۔اس کے مطابق روس کے پاس تقریبا 5977 ہتھیار ہیں یہ امریکہ برطانیہ اور فرانس کے پاس ہتھیاروں کو ملانے کے بعد بھی ان سے کچھ زیادہ ہیں۔کچھ ڈفینس ماہرین مانتے ہیں اگر روس کو بار بار جھٹکا لگتا رہا یا اپنی ہار کا ڈر ہوا تو شاید ٹیکنکل ہتھیار بھی استعمال کرے۔حالانکہ ہو سکتا ہے ایسا کرنے کے لئے چین بھی روس کا ساتھ نہ دے ۔پوتن کی اس نئی پالیسی نے پوری دنیا کو پریشانی میں ڈال دیا ہے ۔امریکہ صدر جو بائیڈن نے بھی جاتے جاتے آگ میں گھی ڈال دیا ہے اوپر والا بہتر کریں اور سبھی فریقین کو عقل دے اور یہ پوری دنیا کو کسی پرمانو جنگ میں نہ جھونکے۔
(انل نریندر)
ٹرمپ پلان:غیر قانونی تارکین وطن کو نکالو!
نو منتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ملک میں بسے تارکین وطن کو نکالنے کا اعلان کیا ہے ان میں ہندوستانی بھی شامل ہیں۔بتا دیں کے امریکہ میں ڈنکی روٹ سے ہندوستانیوں کی ناجائز آمد بڑھتی جا رہی ہے امریکی بارڈر پر اس سال 30 ستمبر تک 90415 ہندوستانی پکڑے جا چکے ہیں ۔اس حساب سے ہر گھنٹے 10 ہندوستانیوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے ۔پکڑے گئے ہندوستانیوں میں 50 فیصد گجراتی ہیں ۔دوسرے نمبر پر پنجاب کے لوگ ہیں امریکی بارڈر اینڈ کسٹم نے اندیشہ جتایا ہے کے اس سال تک ہندوستانیوں کی تعداد ایک لاکھ تک پنچ جائیں گی جبکہ پچھلے سال 93 ہزار ہندوستانی پکڑے گئے تھے اس وقت تقریبا 9 لاکھ غیر ملکی غیر قانونی لوگ ہیں ۔ٹرمپ کا کہنا ہے انہیں بھی ان کے وطن بھیجا جائے گا ۔ٹرمپ کو امریکی معیشت کے مسئلے پر بھی نمٹنا ہوگا ۔9 لاکھ ناجائز طریقے سے آئے لوگوں میں ہندوستانیوں کو واپس بھیجا جائے گا ۔لیکن یہ سب ٹرمپ کے لئے آسان نہیں ہے ۔نہ ہی یہ ہونے والا ہے ٹرمپ کو امریکہ میں مقیم تارکین وطن تقریبا 30 ہزار کروڑ روپے ٹیکس کی شکل میں ادا کرتے ہیں ۔اگر انہیں نکالا گیا تو اس سے مرکزی اور ریاستی ٹیکس محصول کا نقصان ہوگا ۔ماہر امریکن معیشت کے مطابق ناجائز ہندوستانی تارکین وطن کی خرچہ کو بھی جوڑا جائے تو انہیں واپس بھیجنے سے امریکی معیشت پر برا اثر پڑ سکتا ہے اس لئے یہ شہری تقریبا 2 لاکھ کروڑ روپے خرچ کرتے ہیں اور یہ امریکی معیشت میں بڑا نقصان دہہ ہو سکتا ہے ۔امیگریشن وکیل کلپنا پیڈی بتولے کے مطابق امریکہ میں آنے والے ہندوستانی دو طریقہ استعمال کرتے ہیں پہلا ناجائز دستاویز جیسے پاسپورٹ اور ویزا کے ساتھ امریکہ میں آتے ہیں اور پھر یہاں پر رکے رہ جاتے ہیں ۔2010 سے 2020 تک ایسے لوگوں کی تعداد 4 لاکھ ہے ناجائز پرواسی مردم شماری اور سوشل سروس نیٹ سے دور رہتے ہیں تاکی ان کی پکڑ نہ ہو پائے ۔دوسرا طریقہ بارڈر پار کر امریکہ میں داخل ہونا ۔میکسکو سے امریکہ میں گھسنا آسان ہوتا ہے لیکن پکڑے جانے کا خطرہ ذیادہ ہے ۔ککوڈا بارڈر میں جان کا ذیادہ خطرہ ہوتا ہے ۔ٹرمپ نے اپنی دوسری میعاد میں ایسے ناجائز پرواسیوں کو روکنے اور پہچان کرنے کے لئے بڑی تیاری کر رکھی ہے ۔اس میں کام کی جگہ پر اچانک چھاپوں کا بھی پلان بنایا ہے اور اس طرح کے پرائیویٹ کارکھانوں میں ناجائز پرواسی بلا تقرری کے کام کرتے ہیں ۔اور وہ ایک طے شدہ تنخواہ پر کام دیتے ہیں ٹرمپ نے بارڈر پر فوج لگانے کی بھی بات کہی ہیں ابھی ابھی وہا بارڈر سکیورٹی گشت ہے ۔ناجائز پروواسی امریکہ کے گھروں میں ایسے کام کرتے ہیں جو عام طور پر امریکن خود نہیں کرنا چاہتے ۔مثال کے طور پر باتھروم صاف کرنے،کھانا بنانا ،جھاڑو پوچا لگانا وغیرہ کام شامل ہیں ۔اس کے علاوہ مریضوں کی ریکھ بھال کرنا وغیرہ یہ ہندوستانی کرتے ہیں اگر ان کو نکالا گیا تو ان امریکیوں کو یہ کام خود کرنا پڑ سکتا ہے جن کی شاید ان کو ان کاموں کی عادت نہیں ہوگی ۔اس لئے ڈونالٹ ٹرمپ کا ملک سے غیر قانونی تاکین وطن کو واپس بھیجنا کتا کارگر ہوگا اس پر شبہ برقرار ہے دیکھیں عہدہ سنبھالنے کے بعد صدر ٹرمپ اپنے اس پلان پر کتنا عمل کر تے ہیں ۔
(انل نریندر)
23 نومبر 2024
منی پور میں این ڈی اے ممبران اسمبلی کا الٹی میٹم !
منی پور میں بگڑے حالات کے درمیان حکمراں این ڈی اے سے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی نے اپنی سرکار کو ہی الٹی میٹم دے دیا ہے ۔منی پور تشدد کی آگ میں اب وزیراعلیٰ این بیرن سنگھ کی قیادت والی بھاجپا سرکار بھی جھلستی نظر آرہی ہے ۔بھاجپا سرکار پر سنکٹ کم ہوتا نظر نہیں آرہا ہے ۔وزیراعلیٰ کی کرسی خطرے میں آرہی ہے ۔ریاست کی صورتحال کا تجزیہ کرنے کے لئے وزیراعلیٰ بیرن سنگھ کی سربراہی میں بلائی گئی اہم میٹنگ میں 37 میں سے 19 ممبر اسمبلی بی جے پی شامل نہیں ہوئے ،میتئی سماج سے آنے والے ایک کابینہ وزیر بھی میٹنگ میں شامل نہیں ہوئے ۔ممبران اسمبلی نے ایک اہم میٹنگ کرکے پرستاو¿ پاش کیا اس میں جری بام ضلع میں تین عورتوں اور تین بچوں کے قتل کے ذمہ دار کوکی علیحدگی پسندوں کے خلاف اجتماعی کاروائی کی اپیل کی گئی ہے ۔اگر ان تجاویز پر عمل نہیں کیا گیا تو این ڈی اے کے سبھی ممبران اسمبلی منی پور کے لوگوں کے مشورے کے بعد آگے کی کاروائی کریں گے ۔منی پور تشدد کا دور رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے اب تو پہلی بار وزراءایم ایل اے گروپوں کے گھروں پر بھی حملے ہوئے ہیں ۔امپھال مغرب میں بھیڑ نے ایک بھاجپا ممبر اسمبلی کا گھر پھونک دیا۔وہیں جربام میں بھاجپا کانگریس کے دفتر اور ایک آزاد ممبر اسمبلی کی بلڈنگ کو نقصان پہنچایا اور کئی وزراءاور 9 ممبران اسمبلی کے گھروں پر حملہ ہو چکاہے ۔بھیڑ نے ایم پی پی ممبر اسمبلی رامیشور سنگھ کو گھر سے نکال کر پیٹا تھا ۔دہشت کے چلتے کئی وزیر اور ممبران اسمبلی نے رشتہ داروں کو ریاست سے باہر بھیج دیاہے وہیں وزیراعلیٰ این ویرن سنگھ کی رہائش گاہ پر سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے ۔کئی ضلعون میں انٹرنیٹ سیوا بند ہے ۔اس درمیان 565 دن سے جاری تشد دکی آگ ریاست کی بھاجپا سرکار تک پہنچ گئی ہے ۔سرکارمیں شامل این پی پی نے بیرن سرکار سے اپنی حمایت واپس لے لی ہے بھاجپا صدر جے پی نڈا کو خط لکھ کر مطلع کر دیاہے ۔ریاستی اسمبلی میں این پی پی کے سات ممبر ہیں ریاست کے ایک ممبر نے بتایا کہ بھاجپا 14 اور 5 دیگر ممبر استعفیٰ دینے کی تیاری میںہیں ۔ایک دن پہلے ہی اسمبلی اسپیکر سمیت بھاجپا کے 19 ممبران کا ایک خط سامنے آیا تھا جنہوں نے بیرن سنگھ کو فوراً استعفیٰ دینے کی مانگ کی تھی ۔این پی پی کے ایک ممبر اسمبلی نے بتایا کہ ہمیں کچھ دن مرکز کے فیصلے کا انتظار کرنا ہوگا ۔بیرن سنگھ کی جگہ نیا نیتا نہیں بنا تو ہم فلور ٹیسٹ کی مانگ کریں گے کیوں کہ سرکار اقلیت میں ہے او ر دوسری طرف منی پور کانگریس کے صدر کیشو مدھے چندر نے بھی کہا ہے کہ اگر جنتا کہے گی تو ہمارے سبھی ممبر اسمبلی استعفیٰ دیں گے ۔ریاستی اسمبلی میں کانگریس کے 5 ممبر ہیں دیکھنا یہ ہے کہ اب مرکزی سرکار منی پور کو لے کر کیسا فیصلہ کرتی ہے۔
(انل نریندر)
گوتم اڈانی پر دھوکہ دھڑی ورشوت کا کیس!
گوتم اڈانی پر امریکہ میں جعلسازی کا مقدمہ قائم کیا گیا ہے ۔ان پر امریکہ میں ایک کمپنی کو کٹریکٹ د لانے کے لئے 25 کروڑ ڈالر کی رشوت دینے اور معاملے کو چھپانے کا الزام لگایا گیا ہے ۔نیویارک کی کورٹ میں دائر کیا گیا مجرمانہ معاملہ بھارت کے سب سے امیر افراد میں سے ایک 62 سال کے گوتم اڈانی کے لئے ایک بڑا جھٹکا ہے ۔اڈانی گروپ نے بیان جاری کر الزامات کی تردید کی ہے اور انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے ۔آپ کو پورا معاملہ تفصیل سے بتاتے ہیں کہ آخر دھوکہ دھڑی کے یہ الزام کس سلسلے میں ہیں؟ جانچ کے دائرے میں کون کون آئے ہیں؟ گوتم اڈانی پر کیا الزام لگے ہیں؟ امریکہ کے سیکورٹی اینڈ ایکس چنج کمیشن نے گوتم اڈانی کے بھتیجے ساگر اڈانی سمیت گرین اینرجی لمٹڈ کے حکام سمیت دیگر ملازمین اور گلوبل پاور لمٹڈ کے ایگزیکٹو سٹول کیپ نیس کے خلاف رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ گوتم اڈانی ساگر کے ساتھ دیگر افراد نے اپنے رینوبل اینرجی کمپنی کو کنٹریکٹ دلانے اور بھارت کی سب سے بڑی سولر اینرجی پلانٹ پروجیکٹ لگانے کے لئے بھارتیہ سرکاری حکام کو تقریبا 235ملین ڈالر کی رقم دینے پر رضامندی جتائی تھی ۔دراصل امریکہ کے اٹارنی جنرل امریکی قانون لاگو کرنے والی ایجنسی ہے اس کے مطابق 2020 سے 2024 کے درمیان اڈانی کو بھارت میں اپنے ہی سولر اینرجی پروجیکٹ کے لئے بھارت سرکار سے کنٹریکٹ چاہیے تھے جس کے لئے اڈانی نے ہندوستانی حکا م کو 265 ملین ڈالر کی رشوت دینے کی بات کہی تھی ۔اڈانی کو اس پروجیکٹ سے 20 سال میں تقریباً 2 بلین ڈالر سے زیادہ منافع کمانے کی امید تھی ۔الزام ہے کہ اڈانی نے اس پیسہ کو اکٹھاکرنے کے لئے امریکی سرمایہ کاروں اور بینکوں سے جھوٹ بولا اور ان سے 175 ملین ڈالر لے لئے ان پیسوں کو رشوت کے لئے استعمال کیا گیا تھا ۔امریکی جانچ ایجنسی ایف بی آئی کے پاس ان الزمات کو ثابت کرنے کے پختہ ثبوت ہیں ۔صفائی دی جارہی ہے کہ جب جرم بھارت میں ہوا ہے تو کیس امریکہ میں کیسے چل سکتا ہے ۔ہندوستانی عدالتوں میں چلنا چاہیے ۔اس کا جواب یہ ہے کہ اڈانی نے پیسے اکٹھا کرنے کے لئے امریکی سرمایہ کاروں اور امریکی بینکوں سے جھوٹ بول کر غلط تفصیل دے کر پیسہ اکٹھا کیا جو امریکہ میں ایک جرم ہے ۔امریکی محکمہ انصاف نے خود کہا ہے کہ چارج شیٹ میں لگائے گئے الزام فی الحال الزام ہیں اور جب تک قصوروار ثابت نہیں ہو جاتے تب تک شامل لوگوں کو قصوروار نہیں مانا جاسکتا۔اڈانی گروپ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ سبھی ممکنہ قانونی کاروائی کی جائے گی ۔بھارت میں لمبے عرصہ سے اپوزیشن پارٹیاں الزام لگاتی رہی ہیں کہ سیاسی تعلقات کے سبب اڈانی کو فائدہ ملتا رہا ہے ۔عام رائے یہ بنی ہوئی ہے کہ مودی جی ،امت شاہ ،گوتم اڈانی کے قریبی مانے جاتے ہیں ۔حالانکہ اڈانی نے الزامات کو مسترد کیا ہے ۔امریکہ میںصدر اٹارنی جنرل کی تقرری کرتا ہے ۔یہ معاملہ تب آیا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ ہفتے پہلے چناو¿ جیتا ہے۔ٹرمپ نے امریکی جسٹس ڈپارٹمنٹ کافی تبدیلی کی بات کہی ہے ۔پچھلے ہفتے گوتم اڈانی نے نا صرف گوتم اڈانی کو جیت کی بدھائی دی لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی یقین دلایا تھا کہ ان کا گروپ امریکہ میں دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گااور 15 ہزار نوکریاں بھی دیں گے ۔دیکھیں یہ کیس آگے کیسے بڑھتا ہے ۔
(انل نریندر)
21 نومبر 2024
فائدہ کے عہدے سے وابستہ ممبران پارلیمنٹ کی ڈسکوالی فائی
سرکار 65 سال پرانے اس قانون کو منسوخ کرنے کا پلان بنا رہی ہے جو فائدے کے عہدے پر ہونے کے سبب ممبران پارلیمنٹ کو ڈسکوالی فائی کرنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے ۔وہ ایک نیا قانون لانے کا پلان بنا رہی ہے جو حالایہ ضروریات کے مطابق ہو ۔مرکزی آئینی وزارت کے آئین ساز محکمہ نے 16 ویں لوک سبھا میں کل راج مشر کی صدارت والی فائدے کے عہدوں پر بنی جوائنٹ کمیٹی کے ذریعہ کی گئی سفارشوں کی بنیاد پر ایم پی (نہ اہلیت روک تھام)بل ، 2024 کا مسودہ پیش کیا ہے اس مجوزہ بل کا مقصد موجودہ ایم پی (نہ اہلیت روک تھام)ایکٹ 1959 کی دفعہ - 3 کو نہ قابل عمل بنانا اور آرٹیکل میں دئے گئے عہدوں کی نگیٹیو فہرست سے ہٹانا ہے جس کی وجہ سے کسی عوامی نمائندوں کو نہ اہل ٹھہرایا جا سکتا ہے اس میں موجودہ ایکٹ اور کچھ دیگر قوانین کے درمیان تضاد کو دور کرنے کی بھی تجویز ہے جس سے نہ اہل قرارنہ دئے جانے کی واضح سہولت ہے۔ ڈرافٹ بل میںجنتا کی رائے سے اس قانون کی جگہ پر مرکزی سرکار کے نوٹیفکیشن سے آرٹیکل میں ترمیم کرنے کا حق دینے کی بھی تجویز ہے ۔مسودہ بل پر جنتا سے رائے مانگتے ہوئے محکمہ نے یاد دلایا کے ایم پی (نہ اہلیت روک تھام )ایکٹ ،1959 اس لئے بنایا گیا تھا کی سرکار کے ما تحت آنے والے فائدے کے کچھ عہدے اپنے اتحادیوں کو ایم پی بننے یا چنے جانے کے لئے نہ اہل نہیں ڈھرائےں گے ۔حالانکہ ،ایکٹ میں ان عہدوں کی فہرست شامل ہے جن کے اتحادی نہ ایل نہیں ڈھرائےں جائےں گے اور ان عہدوں کا ذکر بھی ہے جن کے اتحادی نہ اہل قرار دئے جائیں گے ۔پارلیمنٹ نے وقتافوقتا اس ایکٹ میں ترامیم کی ہیں ۔16 ویں لوک سبھا کے دورنا جوانٹ پارلیمنٹری کمیٹی نے قانون منترایہ کے موجودہ قانون کی بوسیدہ تقاضوں کو دھیان میں رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ۔اس کی ایک اہم سفارش یہ تھی کے فائدے کے عہدہ لفظ کی وسیع طریقہ پر تشریح کی جائے ۔مسودہ بل میں کچھ معاملوں میں نہ اہلیت کے آرضی معطلی سے متعلق موجودہ قانون کی دفعہ - 4 کو ہٹانے کا بھی پرستاﺅ ہے ۔اس میں اس کی جگہ پر مرکزی سرکار کا نوٹیفکیشن جاری کرکے آرٹیکل میں ترمیم کرنے کا حق دینے کا بھی پرستاﺅ ہے ۔
(انل نریندر)
وقت سے پہلے ہو سکتے ہیں دہلی اسمبلی چناﺅ!
دہلی اسمبلی چناﺅ کا بگل وقت سے پہلے بج سکتا ہے ۔واضح ہو کے پچھلی مرتبہ اسمبلی چناﺅ 8 فروری کو ہوئے تھے ریاستی چناﺅ کمیشن نے ابھی سے تیاری شروع کر دی ہے راجدھانی میں فروری2025 میں نئی اسمبلی کی تشکیل ہونی ہیں اسلئے جنوری کے آخر میں یا فروری کے شروع میں چناﺅ کی امیدیں ہیں لیکن ذرایع کی مانے تو چناﺅ دسمبر میں ہو سکے ہیں اس کے لئے ووٹر فہرست میں نظر ثانی کا کام شروع ہو چکا ہے 2019 میں اسمبلی چناﺅ 8 فروری کو ہوئے تھے اور اس کے بعد 11 فروری کو ووٹوں کی گنتی ہوئی تھی ۔یہ چناﺅ پہلے ہو سکتا ہے اس کا اشارہ دہلی چیف الیکٹرول افیسر دفتر کے خط نے قیاس آرائیوں کو ہوا دے دی ہے خط میں سبھی محکموں کے سربراہو ں سے اسٹاف کی پوزیشن مانگی گئی ہے اس سے چناﺅ ڈیوٹی طے کی جائے گی 10 سال سے دہلی کے اقتدار پر قابض عام آدمی پارٹی نے قبل از وقت چناﺅ کے امکان کو دیکھتے ہوئے چناﺅ کمپین بھی شروع کر دی ہے پارٹی لیڈر پدیاترائے کر رہے ہیں ۔اور بوتھ میپنگ بھی شروع کر دی ہے ادھر بھاجپا آپ کے نیتاﺅ کو توڑ کر اپنی پارٹی میں شامل کر رہی ہے تازہ مثال اشوک گہلوت کی ہے ۔قیاس لگائے جا رہے ہیں کے عام آدمی پارٹی اور اعتماد سے لبریز کانگریس کے ساتھ جانے کے بجائے میدان میں تنہا اترے گی ۔ادھر بی جے پی بڑی تعداد میں نئے امیدواروں پر داﺅ لگانے کے چکر میں ہے یہاں تک دعویٰ کیا جا رہا ہے کے پارٹی دسمبر کی درمیان پارٹی کا چناﺅ منشور بھی جاری کر سکتی ہے اس لئے وہ دہلی چناﺅ جیتنے کے لئے کوئی کثر نہیں چھوڑنا چاہتی گزشتہ 4 اسمبلی چناﺅ کی بات کریں تو دہلی میں ایسے 24 اسمبلی حلقے ہیں جہاں ایک بار بھی بھاجپا امیدوار کامیاب نہیں ہو پائے اس لئے بھاجپا کے لئے 70 اسمبلی سیٹوں میں 36 سیٹیں جیتنے کی بڑی چنوتی ہے کیوں کے پہلے ہی 24 اسمبلی حلقوں میں پارٹی ہارتی رہی ہے ۔ایسے میں جیت کے لئے کیا حساب کتاب لگائی گی یہ بات اہم ہے جہاں مرکز میں نریندر مودی سرکار اور اس بار جیت کر آئی ہے ایسے میں وہاں 3 بار مسلسل عام آدمی پارٹی کی سرکار بھی دہلی کے اقتدار پر قابض ہے ۔ایسے میں دہلی بھاجپا کا خواب اسمبلی چناﺅ جیت کر ڈبل انجن کی سرکار بنانے کا خواب پورا ہو پائے گا یا نہیں یہ تو نتیجہ ہی طے کرے گا لیکن بھاجپا کے لئے بنیادی سطح پر اتر کر جنتا میں اپنی پکڑ بنانا بیحد ضروری ہے ۔حالانکہ دہلی اسمبلی چناﺅ کے وقت بھی بی جے پی کی جیت کے با وجود عام آدمی پارٹی نے اچھی کامیابی دہلی میں درج کی تھی لیکن اس بار سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے اپنی نیتاﺅ کو زیادہ اعتماد اور آپسی رسہ کشی سے بچنے کی صلاح دی ہے ۔اور یہ نصیحت دی ہے کے یہ چناﺅ ہلکے میں نہ لیں اس سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کے حالایہ چھٹکوں سے پارٹی کا بھروسہ کہی نہ کہیں گھٹا ہے اور وہ اپنے ورکرو ں کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے فی الحال کانگریس کا ابھیان ڈھنڈے بستے میں پڑا ہوا ہے۔
(انل نریندر)
19 نومبر 2024
جھارکھنڈ میں زیادہ پولنگ سے کس کو فائدہ ملے گا!
جھارکھنڈ میں پہلے مرحلے کی اچھی پولنگ قابل ستائش ہے اس پٹھاری ریاست میں پولنگ کے قطعی نمبر دیر سے آے جو بہت جوش بھرنے والے ہیں جھارکھنڈ کے مغربی سنگھ بھوم ضلع کے نکسلی متاثرہ علاقہ میں ماﺅ وادیوں کے چناﺅ بائیکاٹ کے با وجود پولنگ بوتھو ں پر لمبی قطاروں سے صاف ہے کے وہاں کی جنتا نے نکسلیوں کی دھمکی کی پرواہ نہیں کی اور کھل کر ووٹ ڈالا پہلے مرحلے میں 43 سیٹوں پر ہوئے پولنگ کا جائزہ سبھی پارٹیاں اس لحاظ سے کر رہی ہیں کے یہ چناﺅ 2019 کے مقابلے 20 فیصد زیادہ ہے 43 اسمبلی حلقوں میں پولنگ کا جوش نظر آیا چناﺅ کمیشن کے مطابق 66.48 فیصدی پولنگ درج کی گئی پچھلی مرتبہ ان سیٹوں پر 63.9 فیصد ووٹ پڑے تھے چناﺅ کمیشن کے مطابق نکسلی متاثرہ سیٹوں پر نکسلیوں کی دھمکیاں بے اثر رہی پہلے مرحلے میں پچھلی بار جے ایم ایم کانگریس اتحاد بی جے پی سے زیادہ سیٹیں لایا تھا لیکن اس مرتبہ 3فیصد زیادہ پولنگ کس کو جیتائے گی اس پر غور اور دعوی ہو رہے ہیں بی جے پی کا ایم ڈی اے اتحاد میں اسے اپنے لئے اور اس کا مخالف اتحاد اپنے لئے فائدے مند بتا رہا ہے ۔2019 میں پہلے فیز میں 38 سیٹ پر 63.75 پولنگ ہوئی تھی اس بار 38 اور باقی 5 سیٹوں کا اندازہ بوتھ کے حساب سے لگانے کی کوشش کر رہے ہیں اس کی بنیاد پر 20 نومبر پر 38 سیٹوں کے لئے زیادہ پولنگ کرانے کی حکمت عملی پر کام ہو رہا ہے ۔اس درمیان پہلے مرحلے کے لئے پی ایم مودی نے گوڈا اور دیو گھر ریلی میں ماٹی ،بیٹی اور روٹی بچانے کا چناﺅی وعدہ کہہ کر قبائلیوں اور دیگر ووٹروں کو راغب کرنے کی کوشش کی ہے یوگی نے بٹیں گے تو کٹیں گے اپنے الفاظ کے ساتھ ہی اب پی ایم مودی کے ایک رہیں گے تو سیف رہیں گے کو بھی بولا ادھر ہیمنٹ سورین اور کلپنا سورین بھی گرج رہی ہیں اور بی جے پی اتحاد کی قلعی کھول رہی ہیں۔قبائلی علاقوں میں بھاری پولنگ سے انڈیا اتحاد اب اپنی جیت کا دعوی کر رہے ہیں ۔آئین بجاﺅ ریزرویشن بجاﺅ ،اپنی زمین صنعت کاروں کو دینے سے بجاﺅ کے نعرے دئے جا رہے ہیں ہیمنت سورین نے جیل سے ڈالنے سے بھی قبائلیوں میں ان کے ہمدردی بڑھ رہی ہے کہا تو جا رہا ہے کے دونوں اتحادوں میں کاٹیں کی ٹکر ہے اس چناﺅ میں کس کا پلڑا بھاری ہوگا یہ کہنا سیاسی تجزیہ نگاروں کے لئے مشکل ہو رہا ہے سیاسی تجزیہ نگاروں کی مانیں تو چناﺅ میں جس طرح کی ٹکر ہے ووٹ فیصد میں ایک سے دو فیصد کا فرق کسی کے حق میں کھیل بگاڑ دیگا خاص کر جب ان چناﺅ میں این ڈی اے کئی پارٹیاں ہیں جنہوںنے 5.5 فیصد ووٹ دیکر تین سیٹیں اپنے خاتیں میں کرنے والی بھاجپا میں شامل ہو چکی ہیں دیکھیں کے پولنگ کس طرف جا رہی ہے عام طور پر مانا جا رہا ہے کے پہلا مرحلہ جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے حق میں جاتا نظر آ رہا ہے ۔باقی تو مشینیں کھلنے پر ہی پتہ چلے گا۔
(انل نریندر)
مہاراشٹر کا اقتدار کس کے ہاتھ میں؟
23 نومبر کو مہاراشٹر کے اقتدار میں کون آئے گا یہ سوال مہاراشٹر اور سیاست میں دلچسپی رکھنے والے ہر آدمی جاننا چاہتا ہے اسمبلی چناﺅ میں کیا بحث چھڑی ہے اور چناﺅ میں کونسا فیکٹر کام کرے گا ۔کن برادریوں کا حساب کتاب چلے گا ۔مہاراشٹر میں کیا ہوگا مقابلے میں کون آگے ہے وغیرہ وغیرہ سوال پوچھے جا رہے ہیں کچھ ہی مہینے پہلے لوک سبھا چناﺅ میں مہا وکاس ادھاڑی کو ملی چیت کا سلسلہ وہ برقرار رکھے گا ۔دوسری جانب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی قیادت والی مہایوتی سرکار نے ریاست بھر میں مختلف اسکیموں کو لاگو کرکے چناﺅ میں واپسی کی کوشش کی ہے ۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کے بی جے پی 2014 کے بعد مہاراشٹر میں بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے ۔اسلئے وہ اس چناﺅ میں بھی بڑی پارٹی کی شکل میں ابھرنے کی کوشش کرے گی ریاست میں کئی چھوٹی پارٹیاں بھی میدان میں ہے ۔ان کے علاوہ باغی بھی میدان میں ہیں یہ دونوں ہی اتحادیو ں کا تجزیہ بدل سکتی ہیں ۔مہایوتی (بھاجپا اتحاد)میں نظریات کی بھی تلخی بھی کھل کر سامنے آ رہی ہے ۔مہایوتی کے ساتھی اجیت دادا پوار اور ان کی پارٹی این سی پی کھل کر بی جے پی لیڈروں کے بیانوں کی مخالفت کر رہی ہے ۔شندے اور دویندر فڈنویس میں آپسی کھیچ تان ہے ۔ایسے میں سوال اٹھتا ہے کی ووٹنگ کے دن کیا یہ اتحاد کے ورکر ایک دوسرے کی پارٹی کو ووٹ ٹرانسفر کرا پائے گیں ؟چناﺅ کے دوران گوتم اڈانی کا بھی اشو بیچ میں آ گیا ہے میا وکاس ادھاڑی پارٹی جہاں ایک طرف یہ پرچار کر ہی ہے کے اب صنعت کار میز پر بیٹھ کر سرکاریں بناتے ہیں اور توڑ رہے ہیں وہیں مہاراشٹر میں لگنے والے کئی صنعتیں گجرات لے جا رہے ہیں جس سے مہاراشٹر کی ساخ کو دھکا لگا ہے ۔شرد پوار اور ادھو ٹھاکرے کی پارٹیوں کو توڑنے سے بھی جنتا کی ہمدردی ایم وی اے کے ساتھ ہے ۔دوسری طرف ایکناتھ شندے کی فلائی اسکیمیں اور یوجنائے ،تھوک بھاﺅ میں پیسوں اور طاقت کا استعمال کرنا بھی ایک چناﺅی فیکٹر ہے ۔پھر آر ایس ایس کیوں کے مہاراشٹر میں اس کا ہیڈ کواٹر ہے کئی سیکٹروں میں خاص کر ودربھ میں اہمیت رکھتا ہے اور آر ایس ایس کھل کر بھاجپا کے لئے بیٹنگ کر رہا ہے ۔حالانکہ ودربھ کی بات کریں تو نتن گڈکری کو پوری طرح سے نظر انداز کرنا مہایوتی کو بھاری پڑ سکتا ہے ہمیں لگتا ہے کے بھاجپا کی کوشش یہ بھی ہوگی کے وہ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرے تاکے گورنر میں سرکار بنانے کے لئے بلائے ۔اگر ایک بار سرکار بن گئی تو پھر کھیل کھیلنے میں بھاجپا ماحر ہے ۔دوسری طرف تجزیہ نگاروں کا یہ بھی خیال ہے کے مہاوکاس ادھاڑی کا چناﺅ کے بعد کا اتحاد ہے اور گورنر کو سب سے پہلے بات کے سب سے بڑے اتحاد کو موقع دینا چاہئے ہوا کے رخ کو مہاوکاس ادھاڑی کی طرف لگ رہا ہے لیکن ہمارے سامنے ہریانہ کا چناﺅ نتیجہ ہے جہاں دعویٰ تو کانگریس کی جیت کا کیا جا رہا تھا اور نتیجہ بھاجپا کی رکارڈ جیت کے ساتھ سامنے آیا ۔اس لئے چناﺅ میں کسی کی بھی پیش گوئی کرنا ٹھیک نہیں ہوتا ۔دیکھیں کی ای وی ایم میں کس کی قسمت کھلتی ہے ۔
(انل نریندر)
16 نومبر 2024
ضمنی چناو ¿ میں سرکردہ نیتاو ¿ں کی یوپی میں اگنی پریکشا!
اترپردیش کی 9 سیٹوں پر ہونے جا رہے ضمنی چناو¿ میں حکمراں اور اپوزیشن کے سرکردہ لیڈروں کی اگنی پریکشا ہے ۔کانگریس کے میدان سے باہر ہونے سے تو اب چناو¿ بھاجپا بنام سپا کے درمیان مانا جارہا ہے ۔حالانکہ بسپا تکونی لڑائی میںبنی ہوئی ہے بھاجپا کی طرف سے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مسلسل تین دنوں تک زبردست کمپین چلائی ۔ہر سیٹ پر ماحول بنانے کی کوشش کی ۔اکھلیش یادو بھی سیاسی رخ کو بھانپ رہے ہیں ۔سیاسی واقف کاروں کے مطابق ضمنی چناو¿ میں اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور سپا چیف اکھلیش یادو اور مایاوتی کی ساکھ داو¿ پر لگی ہے۔حالانکہ 2027 کا یوپی اسمبلی چناو¿ ابھی دور ہے لیکن اس ضمنی چناو¿ کو اسمبلی چناو¿ کا سیمی فائنل ماناجارہا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ سبھی پارٹیوں نے اسے جیتنے کے لئے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے ۔امبیڈکر نگر کی کٹیری اسمبلی کے ضمنی چناو¿ کے لئے بھاجپا نے سابق ممبر اسمبلی دھمراج نشاد کو اپنا امیدوار بنایا ہے ۔سپا نے لال جی ورما کی اہلیہ شوبھا وتی کو ٹکٹ دیاہے ۔وہیں بسپا نے امت ورما کو اپنا امیدوار بنایا ہے ۔بھاجپا کے لئے یہ سیٹ جل شکتی منتری مندیو سنگھ کو انچارج بنا کر انہیں ایک بڑی ذمہ داری سونپی ہے ۔وہ چناو¿ کے اعلان کے کئی ماہ پہلے سے یہاں پڑاو¿ ڈالے ہوئے ہیں اور پوری شدت سے یہاں بھاجپا کے حق میں ماحول بنا رہے ہیں بھاجپا کی ا تحادی پارٹی بسپا کے سابق وزیر اوم پرکاش راج بھر بھی زوروشور سے زور لگا رہے ہیں وہیں اس سیٹ سے ممبر اسمبلی رہے ایم پی لال جی ورما کی ساکھ بھی داو¿ پر لگی ہے کیوں کہ ان کی بیوی یہاں سے سپا کے امیدوار کے طور پر ضمنی چناو¿ لڑ رہی ہے ۔ضمنی چناو¿ کی سب سے ہاٹ سیٹ کرہل ہے یہاں پر ملائم سنگھ یادو کے خاندان کی ساکھ داو¿ پر لگی ہے اس سیٹ پر ملائم کے پوتے اور اکھلیش کے بھتیجے تیج پرتاپ کو سپا نے امیدوار بنایا ہے ۔وہیں صوبہ کے اقتدار پر قابض بھاجپا نے اس سیٹ سے ملائم سنگھ یادو کے بھائی ابھے رام یادو کے داماد کو میدان میں اتارا ہے ۔ملائم سنگھ یادو کے خاندان کے بیٹے ،داماد کی لڑائی نے یادو اکثریتی کرہل سیٹ کی چناوی جنگ کو دلچسپ بنا دیا ہے ۔نائب وزیراعلیٰ برجیش پاٹھک کے لئے بھی یہاں سے بھاجپا کی ہار کا سوکھا ختم کرنے کا بڑا ٹارگٹ ہے ۔اس کے ساتھ ہی یوگندر اپادھیائے ،جے ویر سنگھ ،اجیت پال جیسے وزراءکی ساکھ بھی اس چناو¿ سے جڑی ہوئی ہے ۔وہیں اس سیٹ پر ملائم خاندان کے سبھی ممبر لگاتار چناو¿ کمپین میں لگے ہیں ۔سپا ایم پی ڈمپل یادو اس سیٹ پر جم کر پرچار کررہی ہیں اس کے علاوہ شیو پال یادو ،بدائیوں سے ایم پی آدتیہ یادو واعظم گڑھ سے ایم پی دھرمندر یادو بھی اس سیٹ پر لگاتار اپنا پسینہ بہا رہے ہین ۔پریاگ راج سے پھولپور کرمی اکثریت ہونے کی وجہ سے یہاں سے بھاجپا سرکار کے وزیر راکیش میان اور سپا جنرل سکریٹری اندر جیت سروج ڈٹے ہوئے ہیں یہ سیٹ نائب وزیراعلیٰ کیشو پرساد موریہ کی ساکھ بنی ہوئی ہے۔کدر کی اسمبلی سیٹ میں بھاجپا نے راجویر کو امیدوار بنایا ہے ۔سپا نے سابق ممبر اسمبلی رضوان پر داو¿ لگایا ہے ۔بھاجپا نے یہاں سے وزیر کو آپریٹو ایس راٹھو ر اور جسونت سنگھ کو انچارج بنایاہے ۔کل ملا کر بڑے سرکردہ لیڈروں کی ساکھ اس ضمنی چناو¿ پر داو¿ میں لگی ہے ۔
(انل نریندر)
بھاجپا اور اجیت پوار میں بڑھتی دوری !
مہاراشٹر میں اتحاد میں ہوتے ہوئے بھی بھاجپا اور این سی پی (اجیت پوار) میں کئی مسئلوں پر دوری برقرار ہے ۔امیدوار طے کرنے سے لے کر چناو¿ کمپین تک میں دونوں اپنی اپنی لائن پر الگ الگ کام کررہے ہیں ۔اتحاد میں اجتماعی چناو¿ کمپین اور کمپینروں کو لے کر موٹے طور پر رضامندی تو ہے لیکن کئی مسئلوں پر اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں ۔مثال کے طور پر اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو لے کر اٹھے تنازعہ کو لے لیجئے ۔این سی پی اجیت پوار نے بھاجپا لیڈر شپ کو صاف کر دیا ہے کہ ان کے امیدواروں کے چناو¿ حلقوں میں یوگی آدتیہ ناتھ کی ریلیاں نا کروائی جائیں ۔یوگی آتیہ ناتھ کے متنازعہ بیان کٹیں گے بٹیں گے کو لے کر اقلیتی فرقہ میں تلخ رد عمل دیکھتے ہوئے اجیت پوار نہیں چاہتے کہ ان کو ملنے والی حمایت میں کوئی کمی آئے۔اجیت پوار نے بھاجپا کے احتجاج کے باوجود نواب ملک کو امیدوار بنایا ہے۔اب جبکہ پارٹی کے دو گروپ ہیں تب بھی دونوں کی مسلم فرقہ میں اچھی خاصی پکڑ ہے جبکہ نوا ب ملک کی بیٹی ثناءملک بھی چناو¿ لڑر ہی ہیں ۔بتا دیں بھاجپا نیتاو¿ں نے کھلے عام نواب ملک کو امیدوار بنانے کی مخالفت کی تھی ۔انہوں نے یہاں تک کہا تھا کہ نواب ملک کے داو¿د ابراہیم سے قریبی تعلقات رہے ہیں ۔بھاجپا نواب ملک کے پرچار بھی نہیں کرے گی ۔تمام دباو¿ کے باوجود اجیت پوار نے نواب ملک کو امیدوار بنایا بلکہ ان پر پبلسٹی کی بھی ذمہ داری ڈال دی ہے ۔چار دن پہلے اجیت پوار نے تو ایک بم چھوڑ دیا تھا ۔مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار نے دعویٰ کیا کہ پانچ سال پہلے بھاجپا کے ساتھ سرکار بنانے کے لئے ہوئی میٹنگ میں صنعت کار گوتم اڈانی بھی شامل تھے ۔ایک نیوز پورٹل کو دئیے انٹر ویو میں اجیت پوار نے کہا پانچ سال پہلے کیا ہوا سب جانتے ہیں ۔۔۔۔۔میٹنگ کہاں ہوئی ۔۔میں پھر سے بتا دیتا ہوں۔وہاں امت شاہ تھے ،گوتم اڈانی تھے ،پرفل پٹیل تھے ،دیوندر فڑنویس تھے ،میں تھا او ر پوار صاحب (شردپوار ) تھے ۔اجیت نے کہا اس کے لئے پانچ میٹنگیں ہوئی تھیں ورکر کے طور پر میں نے وہی کیا جو نیتا (شردپوار) نے کہا ،غور طلب ہے کہ اس میٹنگ کے بعد ہی 23 نومبر 2019 کی صبح فڑنویس نے وزیراعلیٰ اور اجیت نے ڈپٹی سی ایم کا حلف لیا تھا ۔حالانکہ شردپوارنے بھاجپا کے ساتھ سرکار بنانے سے انکار کر دیا۔ایسے میں قریب 80 گھنٹے بعد اجیت کو استعفیٰ دے کر واپس چاچا کے ساتھ آنا پڑا۔اس کے علاوہ 28 نومبر کو فڑنویس کو استعفیٰ دینا پڑااور کچھ دن بعد ریاست میں ادھو ٹھاکرے نے کانگریس این سی پی کے ساتھ مل کر سرکار بنائی ۔اجیت پھر ڈپٹی سی ایم بنے ۔اس سنسنی خیز کو اگر صحیح مانیں تو یہ انتہائی تشویش کا باعث ہے کہ سرکار بنانے ،اکھاڑنے میں گوتم اڈانی کا نام آیا ہے ۔اس خبر کی نا تو بھاجپا نے تردید کی ہے اور نا ہی گوتم اڈانی نے اگر یہ صحیح ہے تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ مہاراشٹر چناو¿ میں صنعت کاروں کا کتنا بڑا رول ہے ۔کہا جارہا ہے کہ اس چناو¿ میںہزاروں کروڑ روپے بانٹے جارہے ہیں ہم اس کی تصدیق نہیں کرسکتے لیکن شوشل میڈیا میں یہ خوب چل رہا ہے ۔
(انل نریندر)
14 نومبر 2024
میں کاروبار نہیں ،بالا دستی کے خلاف ہوں!
لوک سبھا چناﺅ میں اپوزیشن کے لیڈر اور کانگریس ایم پی راہل گاندھی نے حال ہی میں بھارت کے کئی بڑے اخباروں میں ایک آرٹیکل لکھا تھا جو تنازعوں میں آ گیا ہے جہاں کچھ لوگ اس پر نکتہ چینی کر رہے ہیں ۔وہیں ایسے لوگو ں کی بھی کمی نہیں کے آرٹیکل میں غلط حقائق پیش کئے گئے ہیں جبکہ کئی لوگ اس آرٹیکل کی تعریف بھی کر ہے ہیں ۔آخر اس آرٹیکل میں راہل گاندھی نے کیا لکھا تھا ؟انہوںنے کہا کے وہ کاروباریوں کے نہیں بلکہ بالا دستی کے خلاف ہیں انہوںنے ایک آرٹیکل کا حوالہ دیتے ہوئے کے یہ دعویٰ بھی کیا قاعدے ضابطے کے تحت کام کرنے والے کچھ کاروباری گروپوں کو مرکزی حکومت کے ایک سینئر وزیر ،وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی سرکار کے پروگراموں کی تعریف کرنے کے لئے مجبور کر رہے ہیں ۔ان کے اس دعویٰ پر سرکار کی جانب سے کوئی ردعمل جاری نہیں ہوا ہے ۔بھاجپا نے پی ایم مودی کے خلاف بے بنیاد الزام لگانے کے لئے بدھوار کو راہل گاندھی کی نکتہ چینی کی تھی اور ان پر نتیجے پر پہنچنے سے پہلے حقائق کی جانچ کرنے کی صلاح دی تھی ۔راہل گاندھی نے اپنے بیان کا ویڈیو جاری کر کہا تھا کے بھاجپا کے لوگ مجھے کاروباری مخالف بتانے کی کوشش کر رہے ہیں میں کاروباریوں کے خلاف نہیں ہوں لیکن میں ایک طرفہ بالادستی کے خلاف ہوں وہ ایک دو تین یا پانچ لوگوں کے ذریعہ صنعتی دنیا میں اپنی بالا دستی کے قائم کرنے کے خلاف ہیں میں نے اپنی کرئیر کی شروعات منتظم مشیر کی شکل میں کی تھی میں کاروبار کو سمجھتا ہوں اس لئے ضروری چیزوں کے بارے میں بھی جانتا ہوں بالادستی مخالف نہیں راہل گاندھی نے یہ بیان اپنے ایکس پوسٹ میں کہا کے میں نوکریوں کے زرائع بنانے کا حمائتی ہوں اور مقابلے کا حمائتی ہوں ہماری معیشت تبھی پھولے پھلے گی جب سبھی تاجروں کے لئے آزاد اور غیر جانب دارانہ مقام ہوگا انہوںنے کہا میرے آرٹیکل کے بعد قائدے سے چلنے والے کاروباری گروپوں نے مجھے بتایا کے ایک سینئر وزیر بھی کیا کہہ رہے ہیں اور انہیں وزیر اعظم مودی اور سرکار کے پروگراموں کے بارے میں سوشل میڈیا پر اوچھی بارتیں کہنے کےلئے مجبور کر رہے ہیںراہل گاندھی نے کہا اس ان کی بات صحیح ثابت ہوتی ہے انہوںنے بدھوار کو شائع آرٹیکل میں دعویٰ کیا تھا کے ایسٹ انڈیا کمپنی بھلے ہی رسوں پہلے ہی ختم ہو گئی ہو لیکن اس نے جو ڈر پیدا کیا تھا وہ آج بھی پھر سے دکھائی دینے لگا ہے اور بالا دستی والو ں کی ایک نئی پیڑھی نے لے لی ہے ان کا کہنا ہے کے وہ ایک دو تین یا پانچ لوگوں کے ذریعہ صنعتی دنیا میں بالادستی کے خلاف ہیں انہوںنے آگے آرٹیکل میں لکھا کے بھارت ماتا اپنے سبھی بچوں کی ماں ہے اور ان کے وسائل پر اقتدار پر کچھ لوگوں کا ایک طرفہ اختیار بھارت ماں کو چوٹ پہنچاتا ہے ۔میں جانتا ہوں کے بارت کے سینکڑوں ٹیلنٹ یافتہ کاروباری ہیں لیکن وہ سمجھتے ہیں کے ایک طرفہ بالادستی والوں سے ڈرتے ہیں۔
(انل نریندر)
اصلی کون نقلی کون ہے یہ نتیجے طے کریں گے
مہاراشٹر اسمبلی چناﺅ مہم آہستہ آہستہ شباب پر پہنچ رہی ہے ۔20 نومبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے اور نتیجے 23 نومبر کو پتہ چلیں گے کے سرکار مہایوتی منانے جا رہی ہے یا مہا وکاد ادھاڑی جیتے گی ۔اور مہایوتی اتحاد جیت کے لئے پوری طاقت چناﺅ مہم میں چھونک دی ہے جہاں دونوں اتحادوں کے درمیان کانٹے کے لڑائی ہے وہیں کئی چھوٹی لڑائیاں اتحاد کے اندر بھی لڑی جا رہی ہیں جیسے اصلی شیو سینا کونسی ہے اور اصلی این سی پی کونسی ہے ؟اسمبلی چناﺅ نتائج دونوں اتحاد کی ہار جیت کے ساتھ یہ بھی طے کریں گے کی شیوسینا کا کونسا گروپ ممبئی میں زیادہ اثر دار ہے ۔بتا دیں کے ممبئی غیر منقسم شیو سینا کا گڑھ رہی ہے ابھی ممبئی میں اسمبلی 36 سیٹیں ہیں سال 2019 میں بھاجپا اور شیوسینا نے ایک ساتھ چناﺅ لڑا تھا ان چناﺅ میں دونوں نے 30 سیٹیں جیتیں تھیں ان چناﺅ میں صورت حال الگ ہے شیو سینا (شندے)مہا یوتی میں شامل ہیں جبکہ شیو سینا (یو بی ٹی) ایم وی اے کا حصہ ہے ۔ایم وی اے کی اتحادی پارٹیوں میں ممبئی کی سیٹ کو لیکر کافی ٹکراﺅ تھا ۔سال 2019 میں کانگریس نے 36 میں سے 30 سیٹ پر چناﺅ لڑا تھا ۔اس بار اس کے حصہ میں صرف 11 سیٹیں آئی وہیں شیو سینا (یو بی ٹی )22سیٹوں پر چناﺅ لڑ رہی ہے باقی 3 سیٹ پر دوسری پارٹیاں ہیں وہیں مہایوتی میں شامل ایکناتھ شندے کی شیو سینا 16 بھاجپا 18اجیت پوار کی این سی پی 2 سیٹ پر چناﺅ میدان میں ہے سال 2019 میں ہوئے اسمبلی چناﺅ میں شیو سینا نے بھاجپا کے ساتھ اتحاد میں ممبئی میں 19 پر چناﺅ لڑا اور 14 سیٹیں جیتیں تھی ۔ممبئی کی 36 سیٹ چناﺅ ہار جیت میں اہم کردار نبھائیگی ۔کیوں کہ ممبئی کے ووٹر طے کریں گے کے تقسیم شدہ اصل شیو سینا کون ہے؟اسمبلی چناﺅ میں شیو سینا کے دونوں گروپ 49 سیٹ پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے چناﺅ لڑ رہے ہیں ۔ممبئی کی 14 سیٹ پر ایکناتھ شندے اور ادھوٹھاکرے کی شیو سینا آمنے سامنے ہے پردیش کانگریس کے ایک سینئر لیڈر نے کے ایم وی اے متحد ہے اور پچھلے 250برسوں میں تقسیم ہوئی شیو سینا کے دونوں گرپوں کے درمیان کون شیو سینا کا اصلی سینا پتی ہوگا ۔شیو سینا کے دونوں گروپ 49سیٹوں پر اور این سی پی کے دونوں گروپ ایک دوسرے کے سامنے میدان میں ہیں ۔یہ 87 سیٹیں بھی ادھو ٹھاکرے ،ایکناتھ شندے ،شرد پوار،اجیت پوار کی بالا دستی طے کریں گی ۔49 سیٹو ں پر سیدھا مقابلہ ایکناتھ شندے اور ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا کے بیچ اور 38 سیٹوں پر سیدھا مقابلہ شرد پوار اجیت پوار اور این سی بی کے درمیان ہو رہا ہے ۔جہاں یہ چناﺅ نتیجے یہ طے کریں گے کے اصلی این سی پی کونسی ہے شرد پوار کا گروپ 38 سیٹوں پر مقابلہ ان کے بھتیجے اجیت پوار سے ہو رہا ہے اس میں زیاتر سارے سیٹیں مغربی مہاراشٹر کی شگر بیلٹ کی ہیں ۔ان میں سے ایک سیٹ بالا متی ہے جہاں اجیت پوار کا مقابلہ بھتیجے یوگیندر پوار سے ہو رہا ہے ۔
(انل نریندر)
12 نومبر 2024
کیاصدر رہتے بھی جیل کا خطرہ بنا رہے گا؟
امریکہ میں صدارتی چناﺅ کے نتیجے آ چکے ہیں کئی ہفتوں کی چناﺅ مہم اور سخت مقابلے کے بعد پارٹی کے لیڈر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ کے صدارتی چناﺅ کے بعد ایوان صدر پہنچنے والے ایسے پہلے صدر ہوں گے جن کے خلاف کئی جرائم کے مقدموں میں فیصلہ آنا باقی ہے اس کے چلتے نہ گذیں حالات پیدا ہو گئے ہیں ۔جب ٹرمپ وائٹ ہاﺅس میں جائیں گے تو ان کے سامنے 4 چنوتیاں ہوں گی اس میں ہر پوزیشن کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے ۔اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ڈونالڈ ٹرمپ کی نیویارک میں سنگین معاملوں میں قصوروار قرار دئے چکے ہیں یہ معاملہ کاروباری ریکارڈ میں ہیر پھیر کرنے سے وابستہ ہے ماہ مئی میںنیویارک کی ایک جیوری نے ٹرمپ کو قصور پایا تھا یہ معاملہ پارن فلم اسٹار کو چپ چاپ پیسے دینے سے جڑا تھا جیوری کے مطابق ٹرمپ اس پیسہ ادائیگی میں جڑے تھے جج جوان یرمین نے ٹرمپ کی سزا کو ستمبر سے 26 نومبر تک ٹال دیا تھا یعنی چناﺅ کے بعد تک وہیں بکلین کی سابق وکیل جولیا ریڈل مین نے کہا کے ٹرمپ کے چناﺅ جیتنے کے بہ وجود جج اپنے اختیار کے مطابق سزا کو لاگو کرنے سے آگے بڑھا سکتے ہیں ۔قانونی واقف کار مانتے ہیں کے ایسے امتحانات بے حد کم ہیں کی ٹرمپ کو پہلی بار ایک کافی عمر کے مجرم کے طور پر سزا سنائی جائے گی وکیل ریڈل مین کہتی ہیں کے اگر ایسا ہوتا ہے تو ٹرمپ کے وکیل سزا کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں اگر ٹرمپ کو جیل بھیجا جاتا ہے تو وہ اپنے سرکاری کام نہیں کر پائے گے ایسے میں ان کو آزاد رکھنا چاہئے اپیل کرنے کی کارروائی کئی سال آگے بڑھائی جا سکتی ہے اسپیشل کاﺅنسل جیک سمتھ نے پچھلے سال ٹرمپ کے خلاف جرائم کے الزامات طے کئے تھے ۔یہ معاملہ جو بیڈن کے خلاف 2020 کا صدارتی چناﺅ ہارنے کے بعد نتیجوں کو پلٹنے کے لئے کی گئی کوشش اور تشدد بھڑکانے کا الزام ہے اس معاملے میں خود کو بے قصور بتایا تھایہ کیس تب سے لٹکا ہوا ہے سابق فیڈرل وکیل نعیم رحمانی کے مطابق جب سے ٹرمپ جیتے ہیں مجرمانہ مقدموں میں جڑی ان کی پریشانیاں دور ہو چکی ہیں اور وہ اب صدر بن چکے ہیں ان پر مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا ایسے میں واشنگ ٹن ڈی سی ضلع عدالت میں چل رہا چناﺅی دھوکہ دھڑی کا معاملہ خارچ ہو جائے گا ۔ٹرمپ نے ایک طرح سے کلین چٹ حاصل کر لی ہے جج نے یہ معاملہ ٹرمپ کے ذریعہ مقرر ایک عدالتی کمیٹی کے سونپا تھا انہوںنے جولائی میں اسے یہ کہہ کر خارچ کر دیا تھا کے محکمہ قانون میں اس پورے معاملے کی پیروی کرنے کے لئے جج سمتھ کی تقرری نہ مناسب طریقہ سے کی تھی اب جب ٹرمپ راشٹر پتی بن گئے ہیں تو قانونی ماہیرین کا خیال ہے کے صدارتی دفتر میں ٹرمپ کے رہتے سبھی مقدموں پر روک لگنے کا امکان ہے امریکہ کے صدر ہونے کے ناطے تب تک وہ صدر دفتر میں ہیں تب تک ان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
ایران نے خلیجی ملکوں پر حملہ کیوں کیا؟
امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران ایران کی جوابی کاروائی روایتی نشانوں سے آگے بڑھ گئی ہے ، اس نے خلیجی ملکوں میں مسلسل حملے کئے اور ی...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...