Translater

24 مارچ 2018

ووٹر فکسنگ والا فیس بک

قریب پانچ کروڑ فیس بک یوزرس کا ڈاٹا چرا کر امریکی صدارتی چناؤ میں بیجا استعمال کے انکشاف کے بعد امریکہ کی سیاست میں آیا طوفان بھارت بھی پہنچ گیا ہے۔ وزیر قانون روی شنکر پرساد نے بدھوار کو الزام لگایا کہ 2019 کا چناؤ جیتنے کیلئے کانگریس ڈٹا چوری کی ملزم ریسرچ فرم کیمبرج انالٹیکا کی خدمات لے رہی ہے۔ بھارت میں 20 کروڑ فیس بک یوزرس ہیں۔ چناوی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش برداشت نہیں کریں گے۔ ضرورت پڑی تو فیس بک کے پی ای او مارک جگربرگ بھی طلب ہوں گے۔ بھاجپااور کانگریس کے درمیان چناؤ ڈاٹا فراہم کرنے والی ایک کمپنی کی سیوا کو لیکر جو الزام در الزام ثابت ہورہے ہیں ان کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دنیا میں چناؤ کو متاثر کرنے کے لئے کمپنی نے ڈاٹا چوری کیا ہے۔ ادھر کانگریس کا کہنا ہے بھاجپا فیک یوز فیکٹری چلا رہی ہے۔ ترجمان رندیپ سرجے والا نے کہا کہ بھاجپا نے 2014 کے چناؤ میں اس فرم کی خدمات لی تھیں۔ دراصل امریکی اور برطانوی میڈیا نے دعوی کیا ہے کیمبرج انالٹیکا نے 5 کروڑ فیس بک یوزرس کے ڈاٹا کا غلط استعمال کر ٹرمپ کو جتانے میں مدد کی تھی۔ الزام لگا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی صدر چناؤ جتانے کے لئے روسی دخل اندازی تھی۔ ہلیری کی حکمت عملیاں ہیک کرکے ٹرمپ کو بھیجی گئیں اور سوشل میڈیا ڈاٹا کا غلط استعمال ہوا۔ ایک ایف بی آئی نے روس کے13 لوگوں اور تین کمپنیوں پر الزامات طے کردئے ہیں۔ بتادیں کہ ڈاٹا کا غلط استعمال کیسے ہوتا ہے؟ انالٹیکا کے سی ای او نے بتایا کہ کمپنی فیس بک یوزرس کے سائیکولوجیکل پروفائل کے ساتھ اپنے کلائنٹ کے حمایت میں اور حریفوں کے خلاف اطلاعات اکٹھی کرتی ہے۔ اس سے رائے عامہ بدلتی ہے۔ گارجن اور نیویارک ٹائمس نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ٹرمپ کی کمپین سے جڑی برطانوی فرم کیمبرج انالٹیکا نے 2014 میں پانچ کروڑ فیس بک یوزرس کا ڈاٹا غلط طریقے سے حاصل کیا تھا۔ فیس بک کو اس کا پتہ تھا لیکن اس نے یوزرس کو چوکس نہیں کیا۔ اس اسکینڈل پر فیس بک کے سی ای او مارک جکربرگ سیدھے طورپر کمپنی کی غلطی مانتے ہوئے ڈاٹا کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری کے بارے میں کہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اعتماد میں سیند لگانے جیسا ہے۔ سوشل میڈیا سائٹ کے ساتھ اپنی جانکاری شیئرکرنے والے لوگ یہ امید کرتے ہیں کہ ہم ان کی سکیورٹی کریں گے۔ انالٹیکا پر امریکی صدارتی چناؤ کے علاوہ کینیا ، نائیجریا اور دیگر ملکوں کے چناؤ کو متاثر کرنے کا بھی الزام ہے۔ سوال یہ ہے کیا فیس بک کے ساتھ انالٹیکا کا کوئی کاروباری معاہدہ ہے یا اس نے فیس بک کو بھی اندھیرے میں رکھا ہے؟ بھارت نے دو ٹوک خبردار کیا ہے کہ اس کے پلیٹ فارم کا بیجا استعمال کی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
(انل نریندر)

ایس سی- ایس ٹی ایکٹ کا بیجا استعمال

کافی عرصہ سے یہ محسوس کیا جارہا تھا کہ درج فہرست ذاتوں و قبائلیوں اذیت ازالہ ایکٹ یعنی ایس سی؍ ایس ٹی ایکٹ کابیجا استعمال کیا جارہا ہے۔ جس مقصد سے یہ بنایا گیا تھا وہ پورا نہیں ہو پارہا ہے اس لئے عزت مآب عدالت نے مداخلت کرکے اس ایکٹ کا بیجا استعمال روکنے کی پہل کی ہے۔ سپریم کورٹ نے درج فہرست ذاتوں اور قبائلی ایکٹ 1989 کے بیجا استعمال کو روکنے کو لیکر فیصلہ کیا ہے۔ مہاراشٹر کے ایک معاملہ میں منگلوار کو فیصلہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے اس پر گائڈ لائن جاری کی ہے اس کے تحت ایس سی؍ ایس ٹی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج ہونے پر ملزم کی فوری گرفتاری سے پہلے الزامات کی ڈی ایس پی سطح کا افسر ابتدائی جانچ کرے گا۔ اس میں الزامات کی تصدیق کے بعد ہی آگے کی کارروائی ہوگی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اس ایکٹ کے تحت درج ایف آئی آر یا شکایت میں ملزم سرکاری ملازم ہے تو اس کی گرفتاری کے لئے شعبہ جاتی افسر کی اجازت ضروری ہوگی۔ دیگر ملزمان کی گرفتاری جیل کے سینئر پولیس افسر کی تحریری اجازت کے بعد ہی ہوگی۔ یہ اچھا ہوا کہ سپریم کورٹ نے یہ ہدایت دی ہے کہ ٹارچر کی شکایت ملتے ہی نہ تو فوری اسے ایف آئی آر میں تبدیل کیا جائے گا اور نہ ہی ملزم کو فوراً گرفتار کیا جائے گا۔ ا س ایکٹ کا کس طرح بیجا استعمال ہورہا تھا یہ اس طرح سمجھ میں آرسکتا ہے کہ اکیلے 2016 میں دلت ٹارچر کے 5347 معاملے جھوٹے پائے گئے۔ اس کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ ایس سی؍ ایس ٹی ایکٹ کا بیجا استعمال ذات برادری نفرت بڑھانے کا کام کررہا تھا۔ قانون کی حکمرانی کی ساکھ کے لئے جہاں یہ ضروری ہے کہ ملزم بچ نہ پائے وہیں یہ بھی ہے کہ بے قصور ستائے نہ جائیں۔ یہ بھی صحیح ہوا کہ سپریم کورٹ نے یہ صاف کردیا کہ ایس سی ؍ایس ٹی ایکٹ کے تحت ملزم کو ضمانت دیا جانا بھی ممکن ہے۔ ضمانت پانے کی راہ صاف کرنے کی ضرورت اس لئے تھی کیونکہ اپنے دیش میں پولیس کی جانچ اور عدالتی کارروائی میں دیری کسی سے پوشیدہ نہیں۔ کئی بار یہ دیری ملزم افراد کو بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے۔ بنچ نے کہا کہ کسی معاملہ میں گرفتاری کے اگلے دن ہی ضمانت نہیں دی جاسکتی ۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ نے قانون بناتے وقت یہ نہیں سوچا تھا کہ اس کا بیجا استعمال کیا جائے گا۔ بنچ نے گائیڈ لائنس میں دیری کی سبھی نچلی عدالتوں کے مجسٹریٹ سے کہا گیا کہ اس ایکٹ کے تحت ملزم کو جب پیش کیا جاتا ہے تو اس وقت انہیں ملزم کی حراست بڑھانے کے فیصلہ لینے سے پہلے گرفتاری کے اسباب کا جائزہ بھی لینا چاہئے اور اس میں اپنے ضمیر پر فیصلہ کرنا چاہئے۔
(انل نریندر)

23 مارچ 2018

لنگایت الگ دھرم کے اشو پر سیاسی گھمسان

کرناٹک اسمبلی چناؤ سے ٹھیک پہلے ایک بڑا سیاسی داؤ چلتے ہوئے کانگریس کی سدارمیا حکومت نے لنگایت اور ویر شید فرقہ کو الگ مذہب کی مانیتا دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتادیں لنگایت فرقہ کو الگ مذہب کا درجہ دینے کی مانگ اس کے دھرم گورو کررہے تھے۔ اب چناؤ سے پہلے اس پر مہر لگاتے ہوئے کانگریس نے ناموہن داس کمیٹی کی سفارشیں ماننے کا فیصلہ کیا ہے۔ کرناٹک میں چناؤ کے پیش نظر اس فیصلہ کو کافی اہم ترین مانا جارہا ہے۔ بتادیں کہ کرناٹک خاص کرریاست کے شمالی حصہ میں لنگایت فرقہ کا کافی اثر ہے۔ ریاست میں لنگایت فرقہ کی 18 فیصدی آبادی ہے۔ یہ کرناٹک کی اگڑی برادریوں میں شامل ہے۔ 224 ممبروں والی کرناٹک اسمبلی میں اس فرقہ کے 52 ممبر ہیں۔ ریاست میں بھاجپا کے وزیر اعلی کے عہدے کے دعویدار وائی ایس یدی یرپا بھی اسی فرقہ سے آتے ہیں۔ ایسے میں یہ خیمہ بی جے پی کے حق میں تھا لیکن کانگریس سرکار کے اس قدم کے بعد بی جے پی کے لئے ریاست میں بڑی مشکل کھڑی ہوسکتی ہے۔ سدارمیا کا مقصد صاف ہے کہ کانگریس یدی یرپا کے مینڈینڈ کو کمزور کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس فیصلہ سے سیاسی طوفان کھڑا ہونا ہی تھا۔ مرکزی وزیر اننت کمار نے وزیر اعلی سدارمیا کا موازانہ 1760 کی ایسٹ انڈیا کمپنی کے رابرٹ کلائب سے کیا ہے جنہوں نے بھارت میں ’پھوٹ ڈالو راج کرو‘ کی پالیسی اپنائی تھی۔بھاجپا نے اسے ہندوؤں کو باٹنے والی بیحد خطرناک سیاست بتاتے ہوئے کہا کہ الگ دھرم کا درجہ دینے سے ویر شیولنگایت کے تحت آنے والے درج فہرست ذاتوں کے لوگ اپنا ریزرویشن کا آئینی حق کھو دیں گے۔ ادھر آر ایس ایس اور بی ایچ پی کا کہنا ہے کانگریس چناوی فائدہ کے لئے مرکز کی مودی سرکار کو بدنام کرنے کے لئے یہ سازش رچ رہی ہے۔ یہ ہندو دھرم کو توڑنے کی سازش ہے۔ بھاجپا نے کہا کہ کرناٹک سرکار کو14 نومبر2017 کو لکھے گئے ایک خط میں ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ بھارت کے رجسٹرار جنرل نے اس میں کہا تھا کہ ویرشیولنگایت ہندو دھرم کے ہی لوگ ہیں۔یہ آزاد دھرم نہیں ہے اس لئے 2011 کی مردم شماری کے دوران ویرشیولنگایت کو اپنا مذہب بتانے والے لوگوں کے لئے الگ کالم کی کوئی تجویز نہیں دی گئی تھی۔ مرکزی وزیر ارجن رام مگھوال نے کہا کہ ویر شیولنگایت مذہب کے ماننے والوں کو ہندو دھرم سے الگ کرنے کی کرناٹک سرکار کی سفارش کو مرکز منظور نہیں کرے گا۔ یہ معاملہ یوپی اے سرکارکی دوسری میعاد میں رجسٹرار جنرل کے سامنے آیا تھا اوراس نے 14 نومبر 2013 کو وزارت داخلہ کو بھیجی گئی اپنی سفارش میں کہا تھا کہ وزیر شیولنگایت ہندو دھرم سے اور اس وقت کی منموہن سرکار نے اسے منظور کیا تھا۔
(انل نریندر)

پھر تیز ہوئی تیسرے مورچہ کی کوشش

جب بھی دیش میں سیاسی اتھل پتھل ہوتی ہے تیسرے مورچہ کی حسرت پھر جواں ہوجاتی ہے۔ 2019 کے عام چناؤ سے پہلے اتحادیوں کا بی جے پی سے الگ ہونا اور کانگریس کو کمزور پڑنے کے درمیان تیسرے مورچہ کی ایک بار پھر آہٹ ہونے لگی ہے۔ تمام علاقائی پارٹیوں میں غیر کانگریسی ،غیر بھاجپا مورچہ بنا کر اگلے چناؤ میں متبادل دینے کی بات اٹھ رہی ہے۔ اس کی شروعات مغربی بنگال کی وزیر اعلی نے کی تھی اور خود کو قومی متبادل کی شکل میں پیش کیا۔ دو دن پہلے ہی وہ تلنگانہ کے وزیر اعلی چندرشیکھر راؤ بھی نئے سیاسی تجزیئے بنانے میں لگ گئے ہیں۔ بھاجپااور کانگریس کی یکساں آئیڈیالوجی والی پارٹیوں کو لیکر تیسرا مورچہ بنانے کی قواعد میں لگے نیتاؤں کی نظر کانگریس اور بھاجپا سے جڑی پارٹیوں پر ہے۔ اس کا اندازہ خود کانگریس کو بھی نہ رہا ہوگا اس کے ڈنر پر آئی پارٹیاں فیڈرل فرنٹ کی کوشش کے ساتھ اس کے ہی خلاف مورچہ کھول دیں گی۔ دراصل یہ پارٹیاں غیر کانگریس ،غیر بھاجپا پارٹیوں کو ساتھ لیکر ایک تیسرا فرنٹ بنانے کے امکانات تلاش رہی ہیں۔ اس کے تعبیر ہونے کا اعتماد بڑا آسان ہے۔ یوپی اے 1-2 کے دوران کئے گئے گناہوں کے بوجھ سے کانگریس ابھی تک دبی پڑی ہے۔ اترپردیش اور بہار میں ہوئے تازہ ضمنی چناؤ میں وہ صفر پر رہی ہے۔ وہیں نریندر مودی سرکار کی کمیوں کے چلتے اس کے ساتھی کھسکنے لگے ہیں۔ پچھلے دنوں یوپی اے چیئرپرسن سونیا گاندھی کے ذریعے یوپی اے۔3 بنانے کی کوششوں کو لیکر سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ علاقائی پارٹیوں کی یہ کوشش اس سیاست کا حصہ ہے جس میں ان کا خیال ہے کہ موجودہ وقت میں بھاجپا کو روکنے میں کانگریس بے جان ہوچکی ہے۔ تیسرے مورچہ کی کوشش میں وہی نیتا لگے ہیں جنہیں یہ منظور نہیں کہ بھاجپا کے خلاف بننے والے کسی بھی مورچہ کی رہنمائی کانگریس کرے۔ سونیا گاندھی کے ڈنر میں کانگریس نے یہ صاف پیغام دینے کی کوشش کی تھی ۔ بھاجپا کو روکنے کے لئے یکساں نظریئے والی پارٹیوں کے اتحاد کی قیادت کانگریس کرنے کو تیار ہے لیکن تیسرے مورچہ کی تشکیل میں لگے نیتاؤں کو لگتا ہے کہ موجودہ سیاسی ماحول میں سونیا گاندھی کا یوپی اے کا فارمولہ اب صحیح نہیں ہے کیونکہ ریاستوں میں مسلسل سیاسی حریفوں کو ایک ساتھ آنے میں سیاسی دقتیں ہیں۔ اس کے علاوہ کانگریس کے ساتھ آنے سے این ڈی اے سے وابستہ کچھ سیکولر پارٹیوں کو بھی پرہیز ہوسکتا ہے۔ اب یہ تو وقت بتائے گا کہ تیسرے مورچہ کا مستقبل کیا ہوتا ہے لیکن اس کوشش نے کانگریس اور بھاجپا دونوں کے لئے خطرہ کی گھنٹی ضرور بجا دی ہے۔
(انل نریندر)

22 مارچ 2018

پوتن نہیں تو روس بھی نہیں

پوتن نہیں تو روس بھی نہیں یہ خیال ہے کریملن کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف کا۔ ولادیمیر پوتن کو روس کی جنتا نے چوتھی بار دیش کا اقتدار سنبھالنے کے لئے زبردست مینڈینڈ دیکر یہ اشارہ دیا ہے کہ ان کی لیڈر شپ کولیکر روسی جنتا کے دل و دماغ میں کوئی غلط فہمی نہیں ہے۔ پوتن نے لوگوں کو یقین دلا دیا ہے کہ ان کی جگہ کوئی اور نہیں لے سکتا۔ سرکاری نتیجوں کے مطابق انہیں 76 فیصدی سے زیادہ ووٹ ملے ہیں اور یہ فیصد سال 2012 کے چناؤ سے بھی زیادہ ہے۔ پوتن ایک ایسا شخص ہے جو کسی سے ڈرتا نہیں۔ پوتن نے صدارتی چناؤ ایسے وقت میں جیتا ہے جب بین الاقوامی سطح پر امریکہ سمیت مغربی ملکوں کے ساتھ ان کی ایک طرح سے واضح طور پر زبردست ٹکراؤ کی صورتحال چل رہی ہے لیکن ان کے رخ سے صاف ہے کہ وہ کسی بھی طاقت کے سامنے نہیں جھکے۔ نہ ہی کوئی ایسا سمجھوتہ کیا ہے جو دنیا میں روس کے کمزور پڑنے کا اشارہ دیتا ہے۔ اسی سے پوتن کی ساکھ اور مضبوط اور پختہ ارادہ والے عالمی لیڈر کی بنی ہے۔ ایسے وقت میں پوتن چناؤ جیتے ہیں جب روس اور مغربی دیشوں کے رشتہ خراب دور سے گزر رہے ہیں۔ روس کی جنتا نے پوتن کو ہی اگلے چھ برسوں کے لئے صدر چنا ہے۔ اب وہ 2024 تک اس عہدے پر رہیں گے۔ پوتن 2024 میں اپنی میعاد ختم ہونے کے وقت 71 سال کے ہوجائیں گے۔ اس وقت سوویت حکمراں جوزف اسٹالن کے بعد سب سے لمبے عرصے تک نیتا رہنے والے شخص بھی ہوں گے۔ سن2000 میں جب پوتن پہلی بار دیش کے صدر بنے تھے تب انہیں 53 فیصد ووٹ ملے تھے۔ ظاہرہے روس میں پوتن کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ سوویت یونین کی تقسیم کے بعد لمبے عرصے تک روس میں جو اتھل پتھل کی پوزیشن رہی اس سے روس کو باہر نکالنے میں پوتن کا بڑا اشتراک مانا جاتا ہے۔ اس درمیان پوتن نے صرف گھریلو محاذ نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی دھاک قائم کی ہے اس لئے وہ روسی جنتا کے لئے ایک بار پھر ہیرو بنے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ صدر کے طور پر چوتھی میعاد پوتن کے لئے چیلنج بھری ہوگی۔ اس وقت شام اور امریکہ اور روس کے درمیان مقابلہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ شام کو لیکر کوئی بھی فریق جھکنے کو تیار نہیں ہے۔ امریکہ کو لگ رہا ہے کہ اگر شام معاملہ میں وہ روس کے سامنے کمزور پڑا تو ساری دنیا کی نظر میں روس پھر سے طاقتور درجہ حاصل کرسکتا ہے۔ پھر پوتن ایسے وقت چوتھی بار صدر چنے گئے ہیں جب پڑوسی دیش چین میں صدر شی جن پنگ کی زندگی بھر کے لئے اپنے عہدے پر بنے رہنے کا راستہ صاف کردیا گیا ہے۔ روس کے درمیان بڑھتی نزدیکی سے سب سے زیادہ فکر مند امریکہ ہے۔ 2014 میں کروسیا کے انضمام کے ذریعے پوتن نے مغرب سے لوہا لیا تھا اور اس کے بعد لگی اقتصادی پابندیوں کو انہوں نے دیش میں مینوفیکچرنگ فیکٹر کو مضبوط کرنے کے موقعہ میں بدل دیا۔ ان کی جیت کا عالمی سیاست پر اثر پڑنا طے ہے۔ خاص طور پر اس لئے بھی کیونکہ مغربی دیشوں کے ساتھ روس کے رشتے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد آج سب سے نچلی سطح پرہیں۔ جہاں تک بھارت سے رشتوں کی بات ہے تو اس کے مضبوط ہونے کے ہی آثار ہیں۔ البتہ یہ دیکھنا ہوگا کہ پوتن فوجی اور سیاسی رشتے کو مضبوطی دیتے ہوئے باہمی تجارت کو کس اونچائی تک لے جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ بھی سچ ہے کہ پچھلے سال روس نے پاکستان کے ساتھ فوجی مشقیں کی تھیں ۔ ایسے میں پوتن ایشیا میں علاقائی توازن بنائے رکھتے ہوئے روس کو پھر سے بڑی طاقت کی شکل میں کیسے قائم کر پاتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ صدر پوتن کو اس شاندار جیت پر مبارکباد۔
(انل نریندر)

رام سیتو کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا

لاکھوں ہندوؤں کی عقیدت سے جڑے رام سیتو کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں ہے۔ سمندر میں جہازوں کی آمدورفت کو ٹھیک ٹھاک بنانے کے لئے مجوزہ سیتو سمندرم پروجیکٹ کے لئے رام سیتو کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں جمعہ کو حلف نامہ دے کر بتایا کہ دیش کے مفاد کو دھیان میں رکھتے ہوئے قدیمی رام سیتو کو کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ سرکار سیتو سمندرم پروجیکٹ کے لئے پہلے طے کئے گئے الائمنٹ کا متبادل تلاش کرے گی۔ سرکار میں یہ حلف نامہ بھاجپا نیتا ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی عرضی پر داخل کیا ہے۔ پچھلے سال نومبر میں سپریم کورٹ نے مرکزی سرکار کو اپنا موقف رکھنے کے لئے آخری موقعہ دیا تھا۔ سرکار کی طرف سے پیش ایڈیشنل سالیسٹر جنرل پنک آنند نے چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی والی بنچ سے کہا کہ کیونکہ اب وزارت کی طرف سے حلف نامہ داخل کیا جاچکا ہے ایسے میں سوامی کی عرضی کا نپٹارہ کردینا چاہئے۔ اپنی مفاد عامہ کی عرضی میں سوامی نے اپیل کی تھی کہ مرکز کو یہ ہدایت دی جائے کہ وہ اس پروجیکٹ کے لئے قدیمی رام سیتو کو نہ چھوئے۔ اس پروجیکٹ کا سیاسی پارٹیوں نے ماحولیاتی نقطہ سمیت کئی ہندو تنظیموں کی مسلسل مخالفت کی وجہ سے فیصلہ لیا ہے۔ بتادیں کانگریس کی لیڈر شپ والی یوپی اے سرکار کے وقت سال 2005 میں سیتو سمندرم پروجیکٹ کا اعلان ہوا تھا۔ اس وقت اس کی لاگت قریب 2500 کروڑ تھی جو کہ اب بڑھ کر 4000 کروڑ ہوگئی ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت بڑے جہازوں کے ٹرانسپورٹ کے لئے قریب 84 کلو میٹر لمبے دو چینل بنائے جانے تھے۔ ان کے بن جانے سے جہازوں کے آنے جانے میں لگنے والے وقت میں 30 گھنٹے کی کمی آئے گی۔ اس چینل سے ایک رام سیتو سے بھی گزرناہے۔ اسے ایڈمس برج بھی کہا جاتا ہے۔ سری لنکا اور بھارت کے درمیان اس راستے پر سمندر کی گہرائی کم ہونے سے جہازوں کو لمبے راستے سے ہوکر گزرنا پڑتا ہے۔ یوپی اے سرکار نے اس رام سیتو کو توڑنے کو صحیح قدم ٹھہرانے کے لئے باقاعدہ حلف نامہ دائرکر کہا تھا کہ بالمیکی رامائن اور رام چرترمانس قدیم بھارت کی اہم ترین ادبی وزاثت ہے لیکن انہیں تاریخی ریکارڈ نہیں مانا جاسکتا۔ جو بغیر شبہ کے اس کے کرداروں اور دکھائے گئے واقعات کو ثابت کرے۔ مرکز میں تبدیلی اقتدار کے بعد آئی بھاجپا کی رہنمائی والی این ڈی اے حکومت نے شروع میں ہی صاف کردیا تھا کہ لوگوں کی عقیدت کو دھیان میں رکھتے ہوئے پروجیکٹ کے لئے رام سیتو نہیں توڑا جائے گا لیکن جمعہ کو پہلی بار سرکار نے کھل کر تحریری طور پر سپریم کورٹ میں اس بارے میں اپنا رخ صاف کردیا ہے۔ مرکزی سرکار کے اس فیصلہ کا خیرمقدم ہے۔ 
(انل نریندر)

21 مارچ 2018

بیشک عدم اعتماد سے نمٹنے میں سرکار اہل ہے تب بھی۔۔۔

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں جاری تعطل12 ویں دن بھی برقرار رہا۔ اس کے چلتے تیلگودیشم پارٹی اور وائی ایس آر کانگریس کے ذریعے سرکار کے خلاف لائے گئے تحریک عدم اعتماد کے پرستاؤ پر ایوان میں ہنگامہ کے چلتے کوئی کام نہ ہوسکا۔ حالانکہ سرکار کی طرف سے صاف طور پر کہا گیا کہ اسے تحریک عدم اعتماد کے پرستاؤ سمیت کسی بھی اشو پر بحث سے کوئی پرہیز نہیں ہے یہ بات شیشے کی طرح صاف ہے۔ تیلگودیشم، وائی ایس آر کے پروستاؤ سے نریندرمودی کی حکومت گرنے والی نہیں ہے لیکن اس سے این ڈی اے میں دراڑ ضرور اجاگر ہوگی اور اپوزیشن اتحاد کا ماحول ضرور بنے گا۔ تیلگودیشم پارٹی کے این ڈی اے سے ناطہ توڑ لینے کے باوجود ابھی بھاجپا کے بھی 274 ایم پی ہیں۔ این ڈی اے سرکار کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا کوئی اثربھلے ہی نہ پڑے لیکن حالیہ ضمنی چناؤ کے نتیجوں خاص کر اترپردیش کے گورکھپور اور پھولپور و بہار کے ارریہ میں بھاجپا کی کراری ہار کے بعد آنے والے انتخابات کے پیش نظر اس نے اپوزیشن کو ماحول گرمانے کا یکساں موقعہ تو دے دیا ہے۔ آندھرا پردیش کے وزیر اعلی چندرابابو نائیڈو خاصی جلدبازی میں ہیں اور ریاست کو اسپیشل درجہ کے معاملہ میں کسی کو اور کوئی موقعہ نہیں دینا چاہتے۔ تب تو اور بھی نہیں جب وائی ایس آر کانگریس کی شکل میں ایک مضبوط حریف سامنے ہو۔ جس کے نیتا جگموہن ریڈی سے ناراض ریاست کی جنتا کو یہ بتانے میں سرگرم ہوں کے چار سال تک مرکز اور ریاست دونوں میں اقتدار میں رہنے کے باوجود چندرابابو نائیڈو ریاست کو کچھ نہیں دلا سکے۔ ریڈی کی یہ سرگرمی نائیڈو کے گلے کی پھانس بن گئی ہے۔ پچھلے لوک سبھا چناؤ میں ان کے اتحاد کے ووٹ شیئر اور وائی ایس آر کانگریس کے ووٹ شیئر میں محض ڈھائی فیصدی کا فرق انہیں بے چین کررہا ہے۔ ظاہر ہے نائیڈو نہ تو وائی ایس آر کانگریس کو کوئی موقعہ دینا چاہتے ہیں اور نہ ہی جنتا کو یہ سوال پوچھنے کا موقعہ مرکز کا پچھل پنگو بننے کے باوجود وہ ریاست کو کچھ نہیں دلا سکے؟ ایسے میں سرکاراور اتحاد سے ناطہ توڑنا ہی سب سے آسان طریقہ تھا۔ ادھرترنمول کانگریس اور مارکسوادی پارٹی نے بھی تحریک عدم اعتماد کی حمایت کا وعدہ کرکے مغربی بنال کی اپنی سیاسی دشمنی کو کنارے کردیا ہے۔ دیکھنا ہے کہ سماجوادی پارٹی جس کے لوک سبھا ممبران کی تعداد اب7 ہوگئی ہے وہ کیا فیصلہ لیتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ شرومنی اکالی دل اور اپیندر کشواہا کی پارٹی آر ایل ایس پی کا موقف کیا ہے؟ وہ پارٹیاں این ڈی اے کا حصہ ہوتے ہوئے بھی وزیر اعظم نریندر مودی کے رویئے سے ناراض ہیں۔ اس درمیان انا ڈی ایم کے نے کاویری مینجمنٹ بورڈ کی مانگ اچھالتے ہوئے سرکار کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے بورڈ نہیں بنایا تو احتجاج میں ووٹ کرے گی۔ دیکھا جائے تو ٹی ڈی پی، وائی ایس آر،سی پی آئی اور انا ڈی ایم کے کی مانگیں ایک طرح سے چناوی موقعہ پر کی جانے والی سودے بازی کی حکمت عملی ہیں۔ دوسری طرف مرکزی سرکار کا یہ کہنا اصولی طور سے ٹھیک ہوسکتا ہے کہ 14 ویں مالیاتی کمیشن میں مخصوص ریاست کا درجہ جیسی کوئی سہولت نہیں ہے لہٰذا تیلگودیشم پارٹی کی مانگ پوری نہیں ہوسکتی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ریاست اتنے اہل اور خود کفیل بنے کے انہیں مرکز کی بیساکھی کی ضرورت نہ ہو۔ اس کے لئے مرکز اور ریاست دونوں کے درمیان بہتر تال میل ضروری ہے۔ تبھی بات چیت مثبت طور سے ہوسکے گی۔ وزیر پارلیمانی امور مختار عباس نقوی نے ٹھیک ہی کہا کہ چناوی سال ہے اور ایسا احتجاج اور عدم اعتماد ریزولوشن کی روایت کا ایک حصہ ہے۔ ظاہر ہے بھاجپا اپنی نمبروں کی طاقت اور تنظیم کے ذریعے سے ایسی چنوتیوں سے نمٹنے میں اہل ہے۔ یہ این ڈی اے کی اتحادی پارٹیوں کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات اور مودی سرکار کی ساکھ زیادہ تیزی سے بگاڑیں گے۔ موجودہ سرکار کے چار سال کی میعاد پوری ہونے سے پہلے عدم اعتماد پرستاؤ سے کئی پارٹیوں کی جھجھک ٹوٹے گی اور وہ آنے والے چناؤ کے لئے اپنے دوست اور دشمن کا فیصلہ کرسکیں گی۔ یہ سب اس لئے بھی ہورہا ہے کیونکہ اپنے چار سال کی میعاد میں ضمنی چناؤ میں بھاجپا کی ہار سے سبھی کو اچھلنے کا موقعہ مل گیا ہے۔
(انل نریندر)

سکما حملہ منظم تھا

چھتیس گڑھ کے سکما ضلع میں حال ہی میں سکیورٹی فورسز پر بڑا حملہ کر ماؤ وادیوں نے ایک بار پھر اپنی موجودگی کا پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔ اس حملہ میں سی آر پی ایف یعنی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی کوبرا بٹالین کے 9 کمانڈو شہید ہوگئے۔ دھماکہ کے لئے 75 کلو گرام دھماکو استعمال کیا گیا۔ دھماکو مواد اتنا طاقتور تھا کہ گاڑی ہوا میں 40 فٹ اونچے اڑ گئی اور گرنے کے بعد اس کے پرخچے اڑ گئے۔ سکما کے وستارم میں جس منظم طریقہ سے اینٹی مائن وہیکل (اے ایم وی) یعنی بارودی سرنگ تلاش کرنے والی گاڑی کو اڑاگیا۔ یہ ان کے منظم ہونے کا ہی نتیجہ مانا جارہا ہے۔ اس حملہ میں قریب 100 نکسلی ماؤ وادی شامل تھے۔ سی آر پی ایف چیف آر آر بھٹناگر نے کہا کہ یہ نکسل حملہ ٹالا جاسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم معاملہ کی تفصیل میں نہیں جانا چاہئیں گے۔ ان علاقوں میں پیرا ملٹری فورسز سے کہا گیا ہے کہ وہ احتیاط برتیں اور اپنی کارروائی جاری رکھیں۔ بھٹناگر کا کہنا ہے بیحد افسوسناک واقعہ تھا، اسے ٹالا جاسکتا تھا۔ ہم اب ان حالات کی جانچ کررہے ہیں کیسے کارروائی کو چلایا جائے۔ انہوں نے کہا وستارم اورپلوڑی کے درمیان پانچ کلو میٹر لمبی زیرتعمیر سڑک پر گاڑی اڑانے کے بعد دوسرے ایم پی وی میں سوار جوانوں نے نکسلی دستے کو منہ توڑ جواب دیا۔ نکسلیوں کا یہ دستہ پھنسے ہوئے یا زخمی جوانوں کو اور نقصان پہنچانے کے لئے جنگل میں موجود تھے۔ اس سال کی شروعات میں چھتیس گڑھ میں کارروائی کی کمان سنبھالنے والے پولیس ڈائریکٹر جنرل بستر کو جلدہی نکسلیوں سے آزاد کرانے کی بات کہی تھی لیکن 24 جنوری کو نکسلیوں نے نارائن پور میں حملہ کرکے چار جوانوں کو مار ڈالا تھا۔ اس کے بعد دتے واڑہ میں وزیر اعلی نے اگلے پانچ سال میں پردیش کو نکسل سے نجات دلانے کا وعدہ کیا تھا۔ اب سکما حملہنے ان کے اس دعوے پر سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ ایک سال میں یہ پانچواں بڑا حملہ ہے۔ پچھلے سال سکما ضلع میں ہیں ایک مہینے کے اندر دو بڑے حملہ کر نکسلیوں نے 36 جوانوں کو مار ڈالا تھا۔ سکما حملہ کے بعد مرکزی وزیر مملکت داخلہ ہنسراج اہیر نے مانا کہ نکسلیوں سے نمٹنے کے لئے ہمارے جوانوں کو جدیدترین ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔ سرکار سکیورٹی فورسز کو نئے سازو سامان سے لیس کرنا چاہتی ہے۔ ظاہر ہے کہیں نہ کہیں ہماری سکیورٹی فورسز کے پاس ضروری ہتھیار اور ٹریننگ کی کمی ہے جس کی وجہ سے نکسلی آسانی سے حملہ انجام دیتے ہیں۔
(انل نریندر)

20 مارچ 2018

نتیش بنام تیجسوی: پہلا راؤنڈتیجسوی کے نام

بہار میں ارریہ لوک سبھا سیٹ اور جہان آباد اسمبلی سیٹ کا نتیجہ جو آیا ہے وہ جولائی میں اقتدار کا تجزیہ بدلنے کے 8 ماہ بعد پہلے چناؤ کا ہے۔ بڑی جیت حاصل کر آر جے ڈی نیتا اور بہار کے سابق نائب وزیراعلی تیجسوی یادو نے نہ صرف ریاست کی سیاست میں بہت بڑی کامیابی حاصل کی بلکہ نتیش کمار سے اتحادٹوٹنے کے بعد دونوں کے درمیان سیدھی لڑائی کے پہلے راؤنڈ میں بھی کامیابی حاصل کرلی ہے۔ اب تیجسوی کی قیادت پر شبہ نہیں ہوگا اور 2019 سے پہلے آر جے ڈی کے لئے یہ ایک بڑی راحت کی بات ہے۔ پچھلے چناؤ میں جہان آباد اسمبلی اور ارریہ لوک سبھا سیٹ پر آر جے ڈی کا قبضہ تھا۔ اس بار کے ضمنی چناؤ میں وہ اپنی دونوں سیٹیں بچانے میں کامیاب رہا۔ اسی طرح بھگوا اسمبلی سیٹ بھی پھر بھاجپا کی جھولی میں آگئی۔ اس طرح پارٹی وار دیکھیں تو آر جے ڈی ۔بھاجپا اپنی اپنی سیٹیں بچانے میں کامیاب رہے۔ ہاں سیاسی گٹھ جوڑ کے لحاظ سے دیکھیں توضمنی چناؤ کمپین کے محاذپرایک طر ف جہاں این ڈی اے کی طرف سے وزیر اعلی نتیش کمارتھے تو دوسری طرف مہا گٹھ بندھن کی طرف سے چارہ گھوٹالہ کے معاملہ میں جیل میں ہونے کے باوجودآرجے ڈی صدر لالو پرساد یادو کی ساکھ داؤ پر تھی۔ سامنے سے لالو پرساد یادو کے لڑکے تیجسوی یادو کمپین کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے تھے۔ اس میں ارریہ لوک سبھا سیٹ پر ساکھ کی لڑائی تھی۔ کہنے کو آر جے ڈی کے لیڈر سرفراز عالم اور بھاجپا کے پردیپ سنگھ میدان میں تھے لیکن وہاں وزیر اعلی نتیش کمار اور نائب وزیر اعلی سنیل کمار مودی نے کافی زور لگایا۔ بہار کے اس ضمنی چناؤ کو تیجسوی کے لئے میک یا بریک مانا گیاتھا۔ انہوں نے لالو پرساد یادو کے جیل جانے کے بعد پورے چناؤ کو اپنے دم خم پر لڑا۔ دونوں سیٹوں پر ڈیرا ڈال کر چناؤ کمپین کو لیڈ کیا۔ ان کے سامنے بی جے پی اور جے ڈی یو کا مضبوط اتحاد تھا اور نتیش کمار اور سشیل کمار مودی کے علاوہ تمام وزرا دونوں سیٹوں پراین ڈی اے کو جتانے کیلئے جی توڑ محنت کررہے تھے۔این ڈی اے کا خیال تھا کہ اس ضمنی چناؤ میں آر جے ڈی کو ہرانے کے بعد 2019 کی چنوتی بہت آسان ہوجائے گی لیکن نتیجہ ٹھیک الٹ ہوگیا۔ یہ نتیجہ صرف آرجے ڈی کے لئے آکسیجن کا کام کرے گا بلکہ این ڈی اے کے لئے بھی کئی چنوتیاں سامنے لائے گا۔ تیجسوی نے اس ضمنی چناؤ کا استعمال آرجے ڈی کیلئے سوشیل انجینئرنگ کو درست کرنے کے لئے کیا تھا۔ مسلم یادو کی پارٹی کے بیکریٹ سے نکلنے کے لئے تیجسوی اس بار نتیش کی دلت اور انتہائی پسماندہ ووٹ بینک میں سیند لگانے کے لئے کئی داؤ کھیلے تھے۔ پہلا راؤنڈ تیجسوی کے نام رہا۔
(انل نریندر)

کیجریوال کی معافی پر مچا واویلا

عام آدمی پارٹی اور اس کے سینئر لیڈر اروند کیجریوال کو اس لئے دہلی کی جنتا نے بھاری اکثریت سے اسمبلی چناؤ میں جتایا تھا کیونکہ وہ ایمانداری اور شفافیت کے نئے تجربہ کے دعوی اور وعدے کے ساتھ سیاست میں اترے تھے۔ جنتا کو یہ امیدنہیں تھی کیجریوال کسی جھوٹ یا افواہ کے سہارے اپنی سیاست چمکانے میں یقین رکھتے ہیں لیکن کیجریوال نے اقتدار میں آتے ہی آناًفاناً میں دوسرے لیڈروں پر الزام لگانے شروع کردئے۔ اروند کیجریوال نے پارٹی کے قیام کے پہلے دن سے ہی اس وقت کی وزیر اعلی شیلا دیکشت پر بڑا زبانی حملہ کیا تھا وہیں بعد میں رابرٹ واڈرہ ،بھاجپا نیتا نتن گڈکری جیسے بڑے نیتاؤں و صنعت کاروں پر الزام لگادئے۔ میڈیا نے بھی کیجریوال کے سنسنی خیز الزامات کو توجہ دی تھی۔ اس کا نتیجہ ہتک عزت کے مقدموں کے طور پر سامنے آیا۔ پنجاب اور دہلی اسمبلی کے لئے چناؤکمپین کے دوران کیجریوال نے اس حکمت عملی پر کام کیا۔ تازہ معاملہ پنجاب میں شرومنی اکالی دل لیڈر اور سابق ریاستی وزیر بکرم سنگھ مجیٹھیا سے اروند کیجریوال کے معافی مانگنے سے وابستہ ہے۔ غور طلب ہے کہ انہوں نے پنجاب اسمبلی چناؤ کے دوران مجیٹھیا کو منشیاتی چیزوں کے اسمگلروں کا سرغنہ کہا تھا۔ حالانکہ اس وقت ان کے پاس اس الزام کی کیا بنیاد تھی یہ صاف نہیں۔ اب کیجریوال نے مجیٹھیا سے جمعرات کے روز باقاعدہ تحریر میں معامی مانگ لی ہے۔ اپنے معامی نامے میں کیجریوال نے مجیٹھیا سے کہا ہے کہ وہ سبھی الزام بے بنیاد نکلے اس لئے وہ معافی مانگتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں غلطی کا احساس ہونے پر معافی مانگ لینا سنجیدگی اور سادگی کا ثبوت ہے لیکن اگر کیجریوال کو دیگر نیتاؤں سے معافی مانگی پڑے تو یہ فہرست لمبی ہے۔ ابھی ابھی خبر ملی ہے کہ انہوں نے مرکزی وزیرنتن گڈکری اور کانگریسی نیتا کپل سبل سے بھی معافی مانگی ہے۔معافی ناموں کی شروعات ہے ۔ اب آگے وہ کس سے معافی مانگتے ہیں یہ دیکھنے کی بات ہے۔ فی الحال کیجریوال کے خلاف مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی اور نتن گڈکری اور سابق وزیر اعلی شیلا دیکشت سمیت36 لوگوں نے ان پر ہتک عزت کے مقدمے ڈال رکھے ہیں۔ اس میں سے کئی معاملوں میں کیجریوال کو اپنی بات ثابت کرنے کے لئے ثبوت دینا ہوگا۔ مجیٹھیا سے معافی مانگنے کے بعد ان کی اپنی پارٹی میں بغاوت جیسی حالت بن گئی ہے۔ پارٹی کے باغیوں میں شمارکئے جانے والے کمار وشواس اور کپل مشرا کے علاوہ پارٹی ایم پی سنجے سنگھ نے بھی کیجریوال کی معافی کی مخالفت کی ہے۔ عاپ ایم پی بھگونت مان نے جمعہ کو پنجاب یونٹ کے صدر کے عہدے اور اسمبلی پارٹی کے لیڈر اروڑہ نے بھی نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ لوک انصاف پارٹی نے بھی عام آدمی پارٹی کے ساتھ پنجاب میں اتحاد توڑلیا ہے ۔ غور طلب ہے کہ عام آدمی پارٹی کے کئی نیتاؤں پر ہتک عزت سمیت کئی طرح کے معاملہ چل رہے ہیں۔ ان میں کیجریوال سمیت کئی نیتاؤں کو ان مقدموں میں کافی وقت برباد کرنا پڑ رہا ہے اس لئے پارٹی نے ان معاملوں کو نپٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سوال یہ ہے متبادل سیاست کی دہائی دے کر جنتا کے درمیان مقبول ہونے والے اروند کیجریوال یا ان کے ساتھی اگر اپنے ہی الزامات کو لیکر واضح اور ٹھوس نہیں ہوتے تب انہیں ایسے الزام لگانے کی ہڑبڑی کیوں ہوتی۔ شاید یہ پہلا موقعہ ہے جب کسی ریاست کے وزیر اعلی نے اس طرح غیر ضروری الزام لگا کر پبلک طور سے معافی مانگی ہو؟ ابھی تو معافی ناموں کی شروعات ہے۔
(انل نریندر)

18 مارچ 2018

اپنے ہی گھر میں گھرتی جارہی ہے بھاجپا

لوک سبھا ضمنی چناؤ میں ملی کامیابی کے بعد اپوزیشن اب مودی سرکار کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تیاری میں ہے۔ وائی ایس آر کانگریس نے سرکار کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا نوٹس دیا ہے۔ ادھر تیلگودیشم پارٹی نے جمعہ کو بھاجپا کے ساتھ اپنے چار سال پرانے اتحاد کو ختم کرلیا ہے۔ این ڈی اے سے الگ ہوگئی ہے۔ وزیر اعلی چندرابابو نائیڈو کے ذریعے بھاجپا این ڈی اے سے الگ ہونے کا اعلان کرنے کے کچھ گھنٹے کے بعد ہی پی ڈی پی نے لوک سبھا میں مودی سرکار کے خلاف عدم اعتماد کی تجویز پیش کی ہے۔ این ڈی اے سرکار سے تیلگودیشم پارٹی کا ناطہ توڑ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کیا بھاجپا اتحادیوں میں بڑھ رہی بے چینی کا یہ پیغام ہے؟ بھاجپا کی ایک سب سے پرانی ساتھی پارٹی شیو سینا تو یہی مانتی ہے کہ آنے والے عام چناؤ میں مہاراشٹر میں بھاجپانے تال میل سے انکار کردیا ہے۔ یہ ہی نہیں شیو سینا اب گووا کے آر ایس ایس کے چیف رہے سیمادیو ولیگرکر کے ساتھ دونوں سیٹوں پر چناؤ لڑنے کا ارادہ جتایا ہے۔ بہار میں حال تک بھاجپا کے اتحادی رہے جیتن رام مانجھی نے تین دن پہلے ہی اپنی پارٹی ’ہم‘ کاانضمام آرجے ڈی میں کر لیا ہے۔ اسی ریاست میں بھاجپا کی ایک اور اتحادی رالوکپا بھی ان سے ناراض چل رہی ہے۔ ایسی حالت یوپی میں سہلدیو بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہے۔ جس کے صدر اوم پرکاش راجبھر ہیں۔ پہلے انہوں نے گجرات اسمبلی چناؤ میں 8 سیٹوں پر چناؤ لڑنے کا اعلان کیا تھا۔ پھر انہوں نے یوپی سرکار پر نقلی مڈبھیڑ کرانے کا الزام لگایا ۔ حال ہی میں انہوں نے 2019 چناؤ بھاجپا سے الگ ہوکر لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ آج این ڈی اے کی کل48 پارٹیاں ہیں جن میں سے صرف13 پارٹیوں کی لوک سبھا میں نمائندگی ہے۔ لوک سبھا ممبران پارلیمنٹ کی تعداد 331 ہوگئی۔ یعنی 35 ایسی پارٹیاں ہیں جن کا ایک بھی ایم پی نہیں ہے۔ ناراض شیو سینا اور ٹی ڈی پی کو ہٹا دیا جائے تو این ڈی اے میں شامل بی جے پی کے علاوہ دیگر کسی پارٹی کے لوک سبھا ایم پی کی تعداد دہائی میں بھی نہیں ہے۔ مسلسل ضمنی چناؤ ہارتی بھاجپا کے لئے اب یہ بھی مشکل ہورہی ہے کہ پارٹی کے اندر بھی ناراضگی بڑھتی جارہی ہے۔ بھاجپا کے اندر مخالفانہ آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ نیتاؤں کا کہنا ہے کہ پارٹی بڑبولے پن کا شکار ہوگئی ہے۔ ضمنی حقیقت سے دور ہوتی جارہی ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر و اعظم گڑھ سے سابق ایم پی رماکانت یادو نے کہا کہ ضمنی چناؤ میں ہار کے لئے دلت اور پسماندہ کو نظرانداز کرنے کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے خبردار کیا کہ پارٹی اگر وقت رہتے نہیں سنبھلی تو 2019 میں بھی پارٹی کو کراری ہار ملے گی۔ بھاجپا کے ممبران پارلیمنٹ نے بھی سرکار اور پارٹی کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے ایم پی برجبھوشن شرن سنگھ نے کہا کہ ہار پر وہ زیادہ کچھ نہیں کہیں گے مگر نیتاؤں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ہار سے ورکر خوش کیوں ہے؟ اڑیسہ کے وزیر اعلی نوین پٹنائک نے کہا کہ بھاجپا بہت تیزی سے فرش پر آنے لگی ہے۔ مستقبل میں ہمارے کسی مورچہ میں شامل ہونے کے امکان سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ضمنی چناؤ میں کرارے ہار کے بعد شیو سینا نے پھر بھاجپا پر طنز کسااور کہا یہ تو صرف ٹریلر ہے فلم ابھی باقی ہے۔ تیجسوی یادو کا کہنا ہے جنتا نے مرکز اور بہارمیں دو انجن والی این ڈی اے سرکار کو مسترد کردیا ہے۔ نتیش کمار کو وزیر اعلی کے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ بھاجپا ایم پی شتروگھن سنہا نے کہا غرور، غصہ اور زیادہ خوداعتمادی جمہوری سیاست کے قاتل ہے۔ چاہے وہ حکمراں دوست یا اپوزیشن کے نیتا ہی کیوں نہ ہوں۔ شیو سینا نے تو اگلے عام چناؤ کے بعد لوک سبھا میں بھاجپا کانگریس کی تعداد کی بھی پیشگوئی کردی ہے۔ پارٹی نے کہا کہ اترپردیش اور بہار ضمنی چناؤ کے نتیجے اپوزیشن میں جوش پیدا کریں گے۔ حالانکہ بھاجپا کو ٹکر دینے کے لئے اپوزیشن کے پاس کوئی اہل شخص نہیں ہے۔
(انل نریندر)

1765 ایم پی اور ایم ایل اے پر 3045مقدمہ التوا میں

ہندوستانی سیاست کا آئینہ دکھاتے ہوئے ہمارے نمائندہ کتنے صاف ہیں ان اعدادو شمار سے پتہ چلتا ہے۔ محترم صاحبان کے جرائم کا لیکھا جوکھا سیاست کو جرائم سے پاک بنانے کی امید کو دھاراشاہی کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ دیش بھر میں 1765 ایم پی اور ممبران اسمبلی کے خلاف3045 مجرمانہ مقدمہ التوا میں ہیں۔ اس تعداد سے زیادہ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ ان سبھی پر درج معاملہ 3045 ہیں۔ اس کا سیدھا مطلب ہے کہ ان میں کئی ایم پی اور ممبران اسمبلی ایسے ہیں جن پرایک سے زیادہ معاملہ درج ہیں۔ سرکار نے ان اعدادو شمار کے ساتھ سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کر ان کا ازالہ فاسٹ ٹریک عدالتوں میں ایک سال کے اندر کرنے کا عزم دوہرایا ہے۔ اس معاملہ میں اترپردیش پہلے اور تامل ناڈو دوسرے ،بہارتیسرے، مغربی بنگال چوتھے، آندھرا پانچویں نمبر پر ہے۔ ویسے کل مجرمانہ معاملہ 3816 تھے جن میں سے 771 نمٹ چکے ہیں۔ کورٹ نے مرکز سے 2014 میں نامزدگی بھرتے وقت مجرمانہ مقدمہ التواہونے کا اعلان کرنے والے ممبران اسمبلی اور ایم پی کے مقدمات کی پوزیشن پوچھی تھی۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ میں 10 مارچ 2018 کے حکم کے مطابق ایک سال میں نپٹائے گئے مقدموں کی جانکاری مانگی تھی۔ کورٹ نے یہ ہدایت بھاجپا نیتا اور وکیل اشونی اپادھیائے کی عرضی پر دی تھی۔ جس میں سزا یافتہ عوام کے نمائندوں کے چناؤ لڑنے پر تاحیات روک لگانے کی مانگ کی گئی تھی۔ ابھی سزا کے بعد جیل سے چھوٹنے کے 6 سال تک چناؤ لڑنے کے نا اہل ہیں۔ پچھلے چار سالوں میں ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کی تعداد کچھ اور بڑھی ہوگی جن کے خلاف مجرمانہ معاملہ درج ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ اس طرح کے معاملہ نپٹانے کے لئے کچھ راستوں میں مخصوص عدالتوں کی تشکیل ہوگئی ہے۔ کچھ ریاستوں میں ہونا باقی ہے لیکن بات تب بنے گی جب ایک یقینی میعاد میں ان معاملوں کا نپٹارہ کیا جاسکے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے انتظامیہ مشینری کی باگ ڈور جن جن نمائندوں کے ہاتھ میں ہے ان کا انتخاب اہلیت پرنہیں بلکہ ذات و طبقہ ودھن بل اور دبنگی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ جیل جانے اور ضمانت پر باہر آنے پر جشن منتا ہے۔ جو جتنا بڑا پیسہ والا اور دبنگی ہو اتنا ہی بڑا جشن، یہ ہی اس کی طاقت کا پیمانہ بنتا ہے۔ کبھی سیاست کی پاکیزگی کا خواب پورا ہوگا اس میں شبہ ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ محض قانون سے ہی ختم ہوگا؟ یہ کام دراصل سیاسی پارٹیوں کا ہے۔ انہیں سوچنا ہوگا کہ کیا وہ صحیح معنوں میں دیش کی سیاست کو صاف ستھرا کرنا چاہتی ہیں؟ لیکن جب تک امیدوار کا انتخاب اس کی دیدہ دانستہ دھن بل اور دبنگی پر ہوتا رہے گا یہ سلسلہ رکنے والا نہیں۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...